دوسرا رخ — عبدالباسط ذوالفقار
رات کے دو بج رہے تھے ۔اس کی آنکھ کھلی ، کمرے میں گھپ اندھیرا، اور خاموشی کا دور دورہ تھا۔ اس نے پانی کا ایک گھونٹ بھرا اور اپنا موبائل دیکھا تو دس مسڈ
رات کے دو بج رہے تھے ۔اس کی آنکھ کھلی ، کمرے میں گھپ اندھیرا، اور خاموشی کا دور دورہ تھا۔ اس نے پانی کا ایک گھونٹ بھرا اور اپنا موبائل دیکھا تو دس مسڈ
میں ایک ایسی جگہ جہاں ہمیں زندگی کی بنیادی ضروریات سے محروم رکھا جاتاتھا، اپنے رہنے کا مقصد ڈھونڈتی رہتی تھی اور عنقریب تھا کہ میں وہاں سے بھاگنے کی کوشش کرتی۔ ایسی ایک کوشش
بارش مسلسل برس رہی تھی۔ سردی سے اس کے دانت بج رہے تھے۔ اس نے ایک بے بس سی نگاہ ساس، سسر کے کمرے پر ڈالی۔ وہ جاگے ہوتے یا انہیں پتا ہوتا تو شاید
کوپن ہیگن ائیرپورٹ پر رانیہ نے اس کا پرُتپاک استقبال کیا اور اسے لے کر ٹیکسی میں اپنے چھوٹے مگر جدید سہولتوں سے مزّین اپارٹمنٹ پہنچی جہاں خالہ اور خالو اس کے منتظر تھے۔ سرمد
بلوچستان کے بنجر پہاڑوں میں گھری چھوٹی سی ائیر بیس پر فیصل کی پوسٹنگ معمو ل سے ہٹ کر تھی۔ ایک مستقل کشمکش تھی جو علیحدگی پسندوں اور ریاست کے درمیان جاری تھی اور جس
اردو سے پرہیز کریں۔ انگریزی لکھیں، انگریزی پڑھیں۔ انگریزی سنیں، انگریزی بولیں، انگریز بنیں، ترقی کریں۔ یہ نعرہ ہے ہمارے انگلش میڈیم نجی تعلیمی اداروں کا اور غلامانہ ذہن کے پڑھے لکھے لوگوں کا اور
وہاں تو یہ لڑکے فخر نشے میں مخمور ، بوتلیں اور چپس کے پیکٹ ہاتھ میں لیے پاؤں اگلی سیٹوں کے پشت پر چڑھائے وہ بکواس فلم دیکھنے میں مگن تھے ۔ ادھر کسی بد
تو جناب جب میرم پور میں بھی میرا دھندا کسی طرح سے نہ چلا فاقے پر فاقے ہونے لگے اور جیب میں آخری اٹھنی رہ گئی تو میں اپنی بیوی سے پوچھا ’’گھر میں تھوڑا