الف کہانی

سبز اور سفید

سبز اور سفید فضہ خان تیسری انعام یافتہ داستان محبت     سبزو سفید پیش لفظ سبز و سفید دراصل وطن سے محبت کی کہانی ہے۔ سبز اور سفید کہانی ہے ارمش اور ارمینہ کی۔

داستان محبت ۲۰۱۷

تو ہی تو کا عالم

پیش لفظ ایک محبت....! محبت جس نے اپنے لیے ہمیشہ عام چہروں سے لے کر ، بہت خاص چہروں کو چنا ہے۔ ہر بار محبت کا انتخاب لاجواب رہا مگر اس بار محبت نے جس

الف کتاب پبلیتیشنز

انگار ہستی

ریڈروم میں روشنی کا انتظام خوشبو دار موم بتیوں کے ذریعے کیا گیا تھا۔ ایک سفید موم بتی عین آئینے کے سامنے رکھ کر اس نے میک اپ کرنا شروع کیا۔ نقلی پلکیں چپکانے کے

الف کہانی

عشق”لا“ – فریال سید -داستانِ محبت

داستانِ محبت عشق”لا“ فریال سید  انتساب ! ہر ذی روح کی پہلی محبت کے نام بادلوں سے ا وپر ، آسمان اتنا نزدیک ہو کے بھی خاصا دور تھا۔ نیلا آسمان پوری کائنات میں خدا

الف کہانی

جھوک عشق – ایم رضوان ملغانی – داستانِ محبت 

داستانِ محبت  جھوک عشق ایم رضوان ملغانی یہ جھوک عشق ہے یہاں عشق کا پڑاﺅ اتنی آسانی سے نہیں ہوا۔ عشق کو بے حد تکلیف سہنی پڑی، ٹھوکریں کھانا پڑیں، رُلنا پڑا، بھٹکنا پڑا، مار

الف کہانی

افسانہ

چاند مہکتا ہے — غزالہ رشید

اسلام آبادکے خوب صورت ائیر پورٹ پر ایک سال بعد بھی ویسی ہی رونق تھی۔ کچھ بھی تو نہ بدلا تھا، ہاں البتہ فریال اب پہلے جیسی نہ رہی تھی، نا صرف حلیے سے بلکہ

الف کہانی

حماقتیں — اُمِّ طیفور

''دل دار صدقے، لکھ وار صدقے دل دار صدقے، لکھ وار صدقے دل دار صدقے، لکھ وار صدقے تیرا کرم ہویا، ہویا پیارے صدقے…'' چھوٹے سے صحن میں ایف۔ ایم سی نکلتی نورجہاں کی سریلی

افسانہ

تھکن — سمیرا غزل

انسان کتنا نادان ہے....کیسے کیسے رواج ،ظالم سماج، بصیرت سے محروم، حقیقت سے انجان حقیقت، جو نہیں ہے سے ہونے تک کی گواہ ہے، جس تک پہنچنے میں انسان کی آنکھوں کے آگے ڈھٹائی کی

افسانہ

صدیاں — سائرہ اقبال

صدیاں بیتی تھیں یا لمحے کیا معلوم ؟ لمحوں کی خبر تو وہ رکھتے ہیں جن کے پاس کھونے کو بھی بہت ہو ، پانے کو بھی بہت ۔ آپا کے پاس کیا تھا ؟

افسانہ

نیلی آنکھوں والی — عائشہ احمد

مجھے کبھی لگتا نہیں تھا کہ مجھے محبت ہو گی، وہ بھی کسی لڑکی سے۔ویسے تو مجھے بہت سے لوگوں سے محبت ہے۔اپنے والدین سے،اپنے بھائی بہنوں سے،اپنے رشتے داروں سے،دوستوں سے، اپنے وطن سے،

الف کہانی

لیپ ٹاپ — ثناء سعید

اس کے ہاتھ کی بورڈ پر تیزی سے چل رہے تھے، کی بورڈ کی keys کی ٹِک ٹِک اور صفحے پلٹنے کی آوازوں کے علاوہ وہاں اگر کوئی اور آواز تھی تو اس کے زور

افسانہ

محرمِ دل — نفیسہ عبدالرزاق

چلو بھئی عینل تمھارا مسئلہ تو حل ہوگیا۔" ثنا کی چہکتی ہوئی صدا سن کر وہ فوراً کھڑی ہوگئی مگر اس کے پیچھے عماد کو آتے دیکھ کر، جو گاڑی کو چابی کی چین سمیت

افسانہ

حصار —- نورالصباء

وہ اس کا اپنے گھر میں آخری دن تھا۔ ماں باپ نے اسے اچھی طرح باور کرا دیا تھا کہ رخصتی کے بعد اسے سسرال کو ہی اپنا گھر سمجھنا ہو گا۔ وہ ان لڑکیوں

افسانہ

گردشِ طالع —- اسماء حسن

تنگ دستی انسان کو ننگے پاؤں سفر کرواتی ہے، جب تک کہ آبلوں میں سوراخ ہو کروہ پھٹ نہ جائیں۔ زخم بھر جانے کے بعد ایک نیا سفرکسی نئے آبلے کا منتظر ہوتا ہے اور

الف کہانی

مارو گولی — سارہ قیوم

اس نے برآمدے میں نکل کر اپنے پیچھے دروازہ بند کیا اور سر اٹھا کر روشن آسمان کو دیکھا۔ جاتی بہار کے چمک دار دن کی چھب ایسی تھی جیسے سونے میں جڑا کندن۔ اس

افسانہ

میں بے زباں —- رفا قریشی

کراچی شہر کی مشہور و معروف مارکیٹ میں اس وقت لوگوں کا بے تحاشا رش تھا۔ لوگ خریداری میں مصروف تھے۔ منال بھی اپنی ماں اور نانی کے ساتھ خریداری کے لئے آئی تھی۔ ''یہ

افسانہ

میری پری میری جان — اقراء عابد

کبھی پھولوں کو روتے دیکھا ہے تم نے؟ پھول نہیں روتے ۔۔ روتے بھی ہوں تو اپنا درد اپنے اندر پنہاں کسی کونے میں چھپا کر رکھتے ہیں۔ وہ ہمیشہ دوسروں کے چہروں پر مسکان

افسانہ

کردار —-ہاجرہ ریحان

''تم جیسی عورتوں کا تو طریقہ یہی ہے کہ جب اپنا شوہر سنبھالا نہیں گیا تو دوسرے مردوں پر دانت مارنے شروع کر دئیے. . . اس لئے کہ گھر کا خرچہ بھی تو چلانا

افسانہ

رحمت — شاذیہ ستار نایاب

تیتری کی کوک گائوں میں سنائی دے رہی تھی۔ روٹی پکانے کے بعد خواتین نے سردی کی شدت کو کم کرنے کے لیے کوئلے انگیٹھیوں میں ڈال کر کمروں میں لا رکھے تھے۔ احمد دین

افسانہ

خواب لے لو خواب — سائرہ اقبال

کمرے میں گھُپ اندھیرا چھایا ہوا تھا۔ وہ کھڑکیاں دروازے سب بند کئے ایک کونے میں سمٹی بال بکھیرے بیٹھی تھی ۔ اس کے کانوں میں ایک ہی صدا گونج رہی تھی، ''خواب لے لو

افسانہ

کچی کاگر — افشاں علی

اس کے ننھے ننھے سے قدم اُس کچی ٹیڑھی میڑھی پگ ڈنڈی پر دوڑ رہے تھے جس کے ایک طرف نالہ بہتا تھا تو دوسری جانب کھیت تھے، جن میں گندم کی سنہری ڈالیاں سر

افسانہ

ادھورا پن —- منیر احمد فردوس

ادھیڑ عمراجوکے لئے ستار ہوٹل اندھیرے میں جلتا ایک ایسا دیا تھا جس کی پھوٹتی روشنی میں وہ اپنے جینے کے راستے تلاش کیا کرتا تھا۔ دن بھر رکشہ ریڑھی کھینچنے کے بعد شام کو

افسانہ

نگار خانہ — مصباح علی سید

شام اداس اور ویران تھی۔ ٹھنڈا پڑتا سورج نارنجی تھال سے جھانکتا تھا۔ جیسے جیسے نیچے ہوا کے پھیکے جھونکوں میں تیرتے پنچھی اپنے اپنے آخری دانے دنکے چونچوں میں دبائے آگے بڑھ رہے تھے،

افسانہ

سال ۲۰۴۰ کی سیر —- فریحہ واحد

ہوا میں تازگی قدرے کم تھی، اب تک لوگ شاید اِس سوکھی ہوا کے عادی ہوچکے تھے ۔سورج نے بھی اپنی فوج میں چند ہزار مزید شعاعیں بھر تی کی تھیں جو کہ خاصی ماہر

افسانہ

بیلا کا ساون — عطیہ خالد

چھم چھم بادل برس رہا ہے۔ ٹین کی چھتوں پر ساز بُنتا، کہیں درختوں سے چھیڑ چھاڑ کرتا، پھولوں کے رنگ نکھارتا، دورکہیں پربتوں پر چنگھاڑتا، آج تو چھاجوں چھاج مینہ برس رہا ہے۔مینہ جو

افسانہ

ماشکی — ہما شہزاد

''فراز اُٹھ جا! پانی ختم ہو گیا ہے جا کے بالٹی بھر لا۔'' پروین نے ہاتھ میں پکڑی بالٹی زمین پر رکھی اور خود بھی فراز کے ساتھ اس چارپائی پر بیٹھ گئی جو ان

افسانہ

دیواریں — معافیہ شیخ

''پتھر کا دور واپس آگیا ہے.. اور اب کی بار سب کچھ پتھر کا بنا کر دم لے گا۔'' وہ کمرے میں بیٹھے ہم کلامی کررہے تھے جب منال کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولی:

افسانہ

اللہ کی مرضی — احسان راجہ

یہ شاید 1988ء کے آس پاس کی بات ہے، یاد نہیں کیوں میں ان دنوں گائوں گیا ہوا تھا۔ باہر زمینوں میں ہریالی تھی، یعنی برسات کے بعد کے دن تھے۔ بارانی علاقوں میں سبزہ

افسانہ

انجان راستہ — ثاقب رحیم خان

نہ جانے اس سے پہلے کا موسم کیسا تھا۔ کسی بہار کسی خزاں کا کچھ پتہ نہیں تھا آگاہی کو صرف کچھ نقوش چھوڑے تھے۔ نقوش بھی کہیں پر صاف اور واضح تھے تو کہیں

افسانہ

میں کون ہوں —- مائرہ قیصر

میں اس وقت جس جگہ پر موجود ہوں وہ میرا کمرہ ہے، جہاں فی لحال نیم تاریکی ہے۔ کمرے کا احاطہ خاصہ تنگ ہے۔ عقبی دیوار پر موجود ایک ننھے سے روشن دان سے ہلکی

افسانہ

ایک معمولی آدمی کی محبت —- محمد جمیل اختر

وہ ایک ادھوری زندگی گزار رہا تھا۔ بعض لوگ ساری عمر زندہ رہنے کے باوجود مکمل زندگی نہیں گزار پاتے۔ مکمل زندگی بہت کم لوگوں کونصیب ہوتی ہے ۔ اُس کے باپ نورزمان نے دوشادیاں

الف کہانی

آدھا سورج —- امایہ خان

تنگ گلی کے دونوں کناروں پر بنے فٹ پاتھ انہی لوگوں کے قبضے میں تھے۔ جن کی صورت بھک منگوں جیسی اور حرکتیں پاگل دیوانوں جیسی تھیں۔ دیواروں سے ٹیک لگائے، آنکھیں بند کیے چند

الف کہانی

آدھا آدھا ملے تو ہوئے پوری دنیا —- نظیر فاطمہ

اس بڑے سے شہری اور دیہاتی امتزاج سے بنے گھر کی بیرونی دیوار کے ساتھ سفیدے کے لمبے لمبے درخت ایک قطار سے کھڑے تھے۔ایک درخت کے تنے میں فاختہ کا گھونسلہ تھا۔ فاختہ کے

افسانہ

اُلو — محسن عتیق

صبح کے لگ بھگ سات بج رہے تھے جب وہ جھولا جسے میں بڑے مزے سے جھول رہا تھا، اچانک سے آنے والے زلزلے سے تھر تھر کانپنے لگا۔ اچانک سے آنے والی اس افتاد

افسانہ

قصوروار کون —- قیصر مشتاق

ربیع الاول کا مہینہ چل رہا تھا اور روز کہیں نہ کہیں محفلِ میلاد منعقد ہورہی تھی۔ کہیں صرف مرد حضرات کی محفل تو کہیں خواتین کی۔ شہر کی فضا درود و سلام سے معطر

افسانہ

چاند میری زمیں پھول میرا وطن —- زاہدہ عروج تاج

''موٹا آلو گول گول ۔۔۔۔ کر کے کھا رول رول۔۔۔'' اعتزاز جیسے ہی ناشتے کی میز پر آیاربیعہ اور فیض نے لہک لہک کر گنگنانا شروع کر دیااور سلام کے انداز میں سر کو ایک

افسانہ

ستائش —ضوفشاں قریشی

حسبِ معمول کلیسا بڑی دل جمعی سے کام چوری میں مصروف تھی، لیکن ہائی وے پر تیزی سے گزرتی گاڑیوں میں بیٹھے مسافروں کے پاس وہ ساعت نہ تھی جو کلیسا کے احتساب کا سبب

افسانہ

سائیں —- سارہ خان

سائیں! سنو تو، بہت درد ہے۔ جسم تھر کی خشک سالی سہتی ہوئی زمین کی طرح دراڑوں سے بھرا ہے سائیں۔ یہ رخنے بھی عام دراڑوں سے زیادہ پاٹ دار ہیں اور جیسے ہر پاٹ

افسانہ

محبت نام ہے جس کا —– محمد حارث بشیر

اُداس موسم کی ایک سرد شام ،اُس خزاں گزیدہ شجرکا وجوداپنی پیشانی پر کئی داستانیں رقم کیے کھڑا تھا ۔موسم ِ ِبرگ ریز کا شاخسانہ تھا کہ ایک ایک کرکے زرد پتے زندگی کے پل

افسانہ

بڑی آنٹی —– زرین جوشیل

شگفتہ نازایک نرم ونازک احساس ، جس نے 1950ء میں تقسیمِ ہند کے بعد دہلی سے لاہور منتقل ہوئے ایک متوسط گھرانے میں جنم لیا ۔ یوں تو رشید میاں کے ہاں سات بچیوں کی

الف نگر

الف نگر

اچھے بچے

آئیں مل کر سارے بچے کام کریں اب اچھے اچھے مل جل کر تم رہنا سیکھو بن جاؤ تم سچے بچے لڑنا اچھی بات نہیں

الف نگر

آؤ کتابیں کھولیں

آؤ کتابیں کھولیں آؤ کتابیں کھولیں ہم اسکول سے ہولیں بات ادب کی بولیں کرلی ہم نے بہت ہے مستی ملے گی اس سے شہرت

الف نگر

جادو کا آئینہ

جادو کا آئینہ احمد عدنان طارق سین نمبر ١ ''مجھے سمجھ نہیں آتی کہ تم ہر وقت غصّے میں رہ کر کیوں ماتھے پر تیوریاں

الف نگر

ہوا اور بادل

ہوا اور بادل سارہ قیوم ایک تھا بادل! نرم نرم، جیسے کہ روئی کا کوئی گالا، اس میں بہت سا پانی بھرا ہواتھا، اتنا کہ

الف نگر
AN Mag Cover May - June 2022

شاہین قسط ۱  ”برگد کی چڑیلیں” – عمیرہ احمد

شاہین -  ''برگد کی چڑیلیں'' - عمیرہ احمد ''میرے گھر میں ایک پرانا برگد ہے جس پر چڑیلیں رہتی ہیں جو ہمیں بہت تنگ کرتی

الف نگر

گلّو اور لومڑ

گلّو اور لومڑ عبداللہ اذفر کسی چراگاہ میں ایک چالاک لومڑ گھوم رہا تھا۔ وہ بہت بھوکا تھا لیکن اس کے پاس کھانے کو کچھ

الف نگر

گھوڑا، ہرن اورشکاری

گھوڑا، ہرن اورشکاری ضیاء الرحمن ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک ہرن اور گھوڑے میں گہری دوستی تھی۔ ایک دن کسی بات پر ان کی

الف نگر

غریب لکڑہارا

غریب لکڑہارا احمر بخاطر تہران میں حامد نامی ایک بوڑھا لکڑ ہارا اور اس کی بیوی رہتے تھے۔ ایک دن حامد نے جنگل میں پرُانا

الف نگر

گائے کے سینگ

گائے کے سینگ باذلہ سردار ایران کے کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔ اُس کے دو بچے تھے۔ بیٹی کا نام نور اور بیٹے

الف نگر

چی چی کی توبہ

چی چی کی توبہ زاہدہ عروج شہر سے بہت دور ایک باغ تھا جس میں ایک ننھی چیونٹی رہتی تھی۔ اُس کا نام چی چی

نان فکشن گفتگو فکشن سکرین پلے سکرپٹ رائٹنگ

مجوزہ تحاریر

شاعری

شاعری

چکلے – ساحر لدھیانوی

چکلے ساحر لدھیانوی     یہ کوچے یہ نیلام گھر دل کشی کے یہ لٹتے ہوئے کارواں زندگی کے کہاں ہیں کہاں ہیں محافظ خودی

شاعری

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے – فیض احمد فیض ۔ شاعری

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے - فیض احمد فیض گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے چلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار

شاعری

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ۔ احمد فراز ۔ شاعری

اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیں ۔ احمد فراز اب کے ہم بچھڑے تو شاید کبھی خوابوں میں ملیںجس طرح سوکھے

شاعری

پورا دکھ اور آدھا چاند ۔ پروین شاکر ۔ شاعری

پورا دکھ اور آدھا چاند ۔ پروین شاکر پورا دکھ اور آدھا چاند ہجر کی شب اور ایسا چاند دن میں وحشت بہل گئی رات

شاعری

گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح ۔ پروین شاکر ۔ شاعری

گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح ۔ پروین شاکر گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح دل پہ اتریں گے

شاعری

محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)

محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) خرم فاروق ضیا محبت کے دریا بہاتے محمد ہر اِک شخص کے کام آتے محمد امیروں سے ملتے، غریبوں سے

شاعری

بال کی کھال

بال کی کھال غلام رسول زاہد شیخ کریم کا شادی ہال شادی ہال میں شیخ اقبال شیخ اقبال کے ہاتھ میں تھال تھال کے اوپر

نظم

مالک اور نوکر

مالک اور نوکر ارسلا ن اللہ خان اک مالک نے رکھا نوکر دیر سے اُٹھتا تھا وہ سو کر جو چیزیں مالک منگواتا نوکر کچھ

شاہکار سے پہلے

انہیں ہم یاد کرتے ہیں

error: Content is protected !!