
الف — قسط نمبر ۱۲ (آخری قسط)
”تم اُداس کیوں ہو؟” سینما سے واپس جاتے ہوئے گاڑی میں اقصیٰ نے مومنہ سے پوچھا تھا۔ ”تمہارے لیے۔ ”اُس نے بات بدلنے کی کوشش کی اور اقصیٰ جیسے اُس کے جھانسے میں آگئی۔ اُس
![]()

”تم اُداس کیوں ہو؟” سینما سے واپس جاتے ہوئے گاڑی میں اقصیٰ نے مومنہ سے پوچھا تھا۔ ”تمہارے لیے۔ ”اُس نے بات بدلنے کی کوشش کی اور اقصیٰ جیسے اُس کے جھانسے میں آگئی۔ اُس
![]()

”مجھ سے اتنی نفرت ہوگئی ہے مومن کو اور مجھے پتہ ہی نہیں چلا۔” حسنِ جہاں نے سوئے ہوئے قلبِ مومن کو دیکھتے ہوئے جیسے بڑبڑاتے ہوئے وہ خط سلطان کی طرف بڑھایا تھا۔ مومن
![]()

شہریار کنول کی ایک پرانی ویڈیو دیکھ رہا تھا جس میں وہ بیت شرارتی سے انداز میں باتیں کررہی تھی۔وہ حسب معمو ل اپنے بیڈ پر بیٹھی ویڈیو بنا رہی تھی اور موبائل کیمرے میں
![]()

”مردوں کی طرف سے کتنا سپورٹ ملی؟” سمیع نے پوچھا۔ ”میں کہہ سکتی ہوں میرے ماں باپ نے مجھے بہت سپورٹ کیا۔ دوستوں نے خاصی طور پر ایک دوست ریحان جو پروگرام دیکھ رہا ہو
![]()

طہٰ باہر سے قلبِ مومن کو ساتھ لے گیا تو۔۔۔ وہ لے کر چلا گیا تو وہ کیا کرے گی۔ وہ یک دم روتی ہوئی حواس باختہ قلبِ مومن کا نام پکارتی باہر دوڑی تھی
![]()

وہ کہتی گئی تھی۔ سلطان پلکیں جھپکائے بغیر اسے دیکھ رہا تھا جب وہ خاموش ہوئی۔ تو سلطان نے کہا۔ ”کس شخص کی وجہ سے؟” مومنہ نے اسکرپٹ میز پر رکھتے ہوئے کہا۔ ”سلطان کی
![]()

فوزیہ کے گھر والے آج بہت دنوں بعد ایک ساتھ مل کر بیٹھے تھے۔رحیم بات توماں سے کررہا تھا لیکن اس کی نظریں فوزیہ کی طرف تھیں جیسے اس کے تاثرات جانچنے کی کوشش کررہا
![]()

ایک بہت بڑے کینوس پر ایک بوڑھا ہاتھ قرآن پاک کی ایک آیت لکھ رہا تھا اور پوری فضا میں وہی آیت کسی بہت خوب صورت آواز میں گونج رہی تھی۔ آسمان سے آنے والی
![]()