المیزان

مسعود خان کو گئے کم و بیش آدھا گھنٹا گزر چکا تھا ۔ وہ ابھی تک وہیں کمرے میں بیڈ کران سے ٹیک لگائے بیٹھی تھی۔ اس کی موندی ہوئی آنکھوں سے کنپٹیوں تک پانی کی لکیر سی بنی ہوئی تھی۔

یک دم ہی اس نے آنکھیں کھولیں اور انہیں رگڑتی ہوئی بیڈ سے اٹھ کھڑی ہوئی اور لمبے لمبے ڈگ بھرتی کمرے سے باہر آگئی تھی۔

باجی آپ کہاں جارہی ہیں۔اسے کوریڈور سے گزر کر باغ کی جانب بڑھتا دیکھ کر جہاں نے پوچھا۔

ماہین کے گھر۔جہاں کو شہمین کا لہجہ آج سے پہلے کبھی اتنا سخت معلوم نہیں ہوا تھا۔ جتنا اس وقت لگا، وہ سہم گئی۔

ابھی اس نے باغ میں دوسرا قدم ہی رکھا تھا جب وہ اسے گھرکا مرکزی دروازہ کھول کر اندر آتا نظر آیا تھا۔ سفیر شہمین کو بیچ راہ میں تیوری پر بل لیے کھڑا دیکھ کر لمحہ بھر کو چونکا پھر سرجھکا کر آگے بڑھنے لگا۔

کہاں سے آرہے ہو؟وہ جب اس کے بالکل باالمقابل پہنچ گیا تب شہمین سینے پر بازو لپیٹے سرد لہجے میں بولی۔

واک سے۔وہ اپنے مخصوص مدھم لہجے میں بولا۔

تم پچھلے ساڑھے پانچ گھنٹے سے واک کررہے تھے۔اس کے جواب نے شہمین کو مزید مشتعل کیا تھا۔

نہیں…. تھوڑی دیر واک کی پھر وہیں پارک میں بیٹھ گیا تھا۔وہ نیلی آنکھوں سے اسے تکتا، جینز کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے بڑی معصومیت سے بولا۔

گھر میں بیٹھنے کی جگہ نہیں ہے جو پار ک میں جاکر بیٹھ گئے۔اس کا اتنے سکون سے کہنا شہمین کا خون کھولا گیا۔

یہاں ہم سب کا پریشانی سے برا حال ہے اور صاحب پارک کی سیر سے لطف اندوز ہورہے تھے۔اس نے سوچتے ہوئے سرجھٹکا۔

ریلیکس شہمین…. میں واک پر گیا تھا ڈیٹ پر نہیں ۔ تم اتنا خفا کیوں ہورہی ہو؟وہ اپنی مسکراہٹ دبا کر سنجیدہ لہجے میں بولا۔

میری بلا سے تم ڈیٹ پر جایا جہنم میں مجھے کیا۔اب تو شہمین کی برداشت کی حد ہوگئی۔ وہ سارا لحاظ ایک طرف رکھ کر ، اسے لتاڑتی واپس اندر کی جانب بڑھ گئی۔ اسے اب یاد بھی نہیں تھا کہ وہ ماہین کے گھر جانے کے لیے کمرے سے نکلی تھی۔

سفیر بھی فوراً اس کے پیچھے لپکا۔

اچھا میں نے صبح سے کچھ نہیں کھایا…. کچھ کھانے کے لیے دے دو۔

اتنی واک کے بعد تو خوب توانائی آگئی ہوگی تم میں…. خود جاکر کچن سے لے لو۔وہ کہہ کر تیزی سے آگے بڑھنے لگی جب یک دم اُسے اپنی ریڑھ کی ہڈی میں ٹیس سی اٹھتی محسوس ہوئی۔ جس نے لمحہ بھر کو اس کا دماغ سن کردیا، مگر اگلے ہی لمحے وہ اپنے حواس میں واپس آگئی اور اس نے ایک قہر آلود نگاہ سفیر پر ڈالی جو اس کا ہاتھ پکڑے کھڑا اسے رکنے کو کہہ رہا تھا۔

چٹخ خ خ ۔سفیر بھونچکا سا اپنے دائیں گال پر ہاتھ رکھے کھڑا تھا جس پر شہمین نے ایک تھپڑ کھینچ مارا تھا۔

آئندہ اگر مجھے ہاتھ لگایا، تو تمہیں جان سے ماردوں گی ۔کوریڈور کے دروازے پر کھڑے مسعود خان اور نین، جو ابھی چند لمحے پہلے ہی گھر لوٹے تھے اور ان سے کچھ فاصلے پر کھڑے اکرم خان اور جہاں ابھی تک سکتے کے عالم میں تھے۔ پھر مسعود خان نے اشارے سے ان تینوں کو وہاں سے جانے کو کہا اور وہ خود چلتے ہوئے سفیر کے نزدیک آگئے، سفیر نے قدموں کی آواز پر مڑ کر دیکھا۔

تمہاری فکر میں ہم نے بھی کھانا نہیں کھایا تھا۔ چلو ساتھ مل کر کھائیں۔مسعود خان نے نرم لہجے میں کہا۔ تھپڑ تو اسے پہلے ہی پڑ چکا تھا اب وہ اسے مزید کیا کہتے۔ پھر وہ سفیر کے گرد بازو پھیلائے اسے اپنے ساتھ کچن میں لے آئے۔ سفیر بالکل خاموش تھا۔ پہلے انہوں نے ایک ٹرے میں کھانا سیٹ کیا اور جہاں کو آواز لگائی۔

اوپر دے آاور نین سے کہنا اسے کھلادے۔

جی صاحب۔جہاں ٹرے لیے کچن سے باہر نکل گئی۔ مسعود خان اب کچن میں رکھی میز پر اپنے اور سفیر کے لیے کھانا لگا رہے تھے۔ سفیر ابھی بھی خاموشی سے سرجھکا ئے بیٹھا تھا۔

یہ دیکھو تمہارے لیے کم مرچوں کا سالن بنوایا ہے۔ تمہیں مرچیں زیادہ لگتی ہیں نہ۔مسعود خان نے سالن کا ڈونگا اس کے آگے رکھا۔ پھر وہ کرسی کھینچ کر خود بھی بیٹھ گئے۔

چلو بچے شروع کرو۔مسعود خان نے اسے ہنوز سرجھکائے بیٹھا دیکھ کر کہا۔ سفیرنے کھانا چھوئے بغیر ایک گہرا سانس لیا پھربولا۔

میںنے ایسا کیا کیا تھا جو وہ یوں خفا ہوگئی؟

ہم اس بارے میں بعد میں بات کریںگے، لیکن پہلے تم کھانا کھا۔مسعود خان پلیٹ میں اس کے لیے کھانا نکالتے ہوئے بولے۔ سفیر اب خاموشی سے پلیٹ پر جھکا بے دلی سے کھانا کھانے لگا۔ کھانے کے بعد مسعود خان اسے اپنے کمرے میں لے آئے۔ جہاں وہ ہر ایک کو نہیں لاتے تھے اور وہ بھی رات کے اس پہر جب وہ اپنی بیگم کی تصویر کو گھنٹوں تکتے تھے۔ 

بیٹھ جا۔انہوں نے اسے بیڈ پر اپنے قریب ہی بیٹھا لیا۔

اب پوچھو کیا پوچھنا چاہتے ہو۔

میں نے ایسا کیا کیا تھا جو وہ یوں خفا ہوگئی؟اس نے اپنا سوال پھر دہرایا۔

آپ نے ایک غلط حرکت کی تھی۔مسعود خان اس کے چہرے پر پھیلے پریشانی کے تاثر دیکھ کر نرمی سے بولے تھے۔

“I just hold her hand, what;s wrong with that?”

وہ اپنے چہرے پر آتے بالوں کو کان کے پیچھے اڑستا ہوا شدید جھنجھلاہٹ سے بولا۔ مسعود خان کی مسکراہٹ مزید گہری ہوگئی۔

اُف ۔ اس بے حد فرینک لڑکے کو میں کیسے سمجھاں۔انہوں نے سوچتے ہوئے سر کو نفی میں جنبش دی۔

بالکل، لیکن کیا کسی کی اجازت کے بغیر اسے چھونا غلط نہیں؟ پھر وہ کسی بھی اندازمیں کیوں نہ ہو؟مسعود خان نے کہہ کر ابرو اچکائی اور سفیر کو سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ سفیر چند لمحے تو خاموش رہا پھر سرجھکا کر دھیما سا بولا۔

واٹ؟“ 

پھر کیا اس کی خفگی غلط تھی؟انہوں نے پھر اسی انداز میں پوچھا۔

نہیں۔وہ پھر دھیما سابولا پھر اس نے نگاہیں اٹھا کر مسعود خان کو دیکھااور پوچھا۔

مجھے اس سے معافی مانگنی چاہیے نا؟

بالکل اور آئندہ کے لیے احتیا ط کرنا۔مسعود خان نے اُسے مشورہ بھی دیا۔ سفیر سر جھکائے اپنے دائیں ہا تھ کی انگلیاں بائیں ہا تھ کی انگلیوں میں پیوست کرکے کچھ سوچنے لگا۔ مسعود خان نے شکر کا کلمہ پڑھا اور اس کے پُر فکر چہرے کو دیکھنے لگے۔

وہ سفیر کو اس وقت نہ تو دین سمجھارہے تھے نہ ہی دنیا بلکہ اس سے محض پیار بھرے لہجے میں ایک سادہ سا سوال کیا تھا، کیوں کہ وہ اس کو اتنا تو جان گئے تھے کہ وہ دین آسانی سے سمجھے گا نہ ہی دنیا۔ ہاں ایک پیار بھرا لہجہ اور نگاہ ایسی چیز ہے جسے وہ بڑی آسانی سے سمجھ لیتا تھا۔ اس لیے انہوں نے وہی راستہ چنا جو اس کے لیے آسان تھا ورنہ غصہ تو انہیں بھی آیا تھا، مگر وہ اس کی لاعلمی کا خیال کرتے ہوئے درگزر کرگئے۔

اچانک دروازے پر ہوئی سے دونوں چونکے۔ اکرم خان، مسعود خان سے کچھ پوچھنے آئے تھے اور پوچھ کر واپس پلٹ گئے۔

چلیں گڈ نائٹ انکل…. میں اب جاتا ہوں آپ بھی سوجائیں۔وہ اُٹھنے لگا، تو مسعود خان نے اس کا ہاتھ پکڑ کر روک لیا۔ وہ کچھ کہنے ہی لگے تھے کہ سفیر ان سے پہلے بول پڑا۔

آپ نے بھی تو بغیر اجازت میر ا ہاتھ پکڑا ہے، لیکن میں تو آپ سے خفا نہیں ہوا۔وہ بے حد نروٹھے پن سے بولا۔مسعود خان کو ا س پر پیار بھی آیا اور غصہ بھی۔

تم کوئی سولہ سال کی لڑکی تھوڑی ہو جس کا ہاتھ پکڑنے کی میں اجازت لوں گا۔مسعود خان نے اسے جھڑکا۔

سولہ سال کی تو شہمین بھی نہیں ہے۔وہ ابرو اچکا کر بولا۔

لیکن لڑکی تو ہے نا؟

مطلب لڑکا، لڑکی کا ہاتھ پکڑنے سے پہلے اجازت لے؟اس کی ابرو ابھی تک اچکی ہوئی تھی۔

ہاں۔مسعود خان ایک ٹھنڈا سانس بھر کر بولے۔

کیوں؟وہ اب اسی کیوں کی اُمید کررہے تھے۔

کیوں کہ یہ مذہب نے کہا ہے اور اگر اب تمہیں مزیدکیوںکا نقطہ اٹھانا ہے، تو پہلے جاکر مذہب پڑھو پھر کیوں کرنا۔مسعود خان اسے دوبارہ منہ کھولتا دیکھ کر بولے۔ سفیر نے بے زاری سے سرجھٹکا ، ساتھ بڑبڑایا بھی۔اتنا فالتو وقت نہیں ہے میرے پاس۔یہ سن کر مسعود خان افسردہ ہوگئے۔

اچھا اب ہاتھ تو چھوڑ دیں تاکہ میں جاں۔

میں نے تمہارا ہاتھ یہ کہنے کے لیے پکڑا ہے کہ آج میرے پاس ہی سوجا۔

آپ ڈسٹرب تو نہیں ہوں گے؟اس نے نگاہوں سے چھوٹی میز پر رکھے فوٹو فریم کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ مسعود خان اس کی بات کا مفہوم سمجھتے ہوئے مسکرادیے۔

نہیں۔

”She is pretty۔وہ تصویر پر نظریں جمائے بولا۔

”Yes, she is۔مسعود خان نے بھی اسے تکتے ہوئے تائید کی اور پھر دونوں رات دیر تک زاہدہ مسعود کے متعلق باتیں کرتے رہے۔

٭….٭….٭

Loading

Read Previous

گل موہر اور یوکلپٹس

Read Next

اوپرا ونفرے

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!