آدمی کو بھی میسر نہیں انساں ہونا ۔ مکمل ناول

محلے کے نوجوان طارو کی دکان پر کھڑے پاکستان اور بھارت کا میچ دیکھ رہے تھے۔ میچ اپنے پورے کلائمکس پر تھا۔ جب بھی انڈیا کا کوئی کھلاڑی آٹ ہوتا تو محلے کے لڑکے خوشی سے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتے۔ گویا شور آسمان کو چھو رہا تھا۔ٹی وی کا والیم بھی زوروں پر تھا۔ اسی لمحے حیدر گھبرایا ہوا ان کے پاس آیا ۔تیز دوڑنے کی وجہ سے اس کا سانس پھول رہا تھا۔آخر وہ ہمت سمیٹتے ہوئے بولا۔

یار غضب ہو گیا۔فیصل اورحاجی رضوان صاحب کے ساتھ ساتھ محلے کے اور بھی کافی لو گ وہاں موجود تھے۔وہ سب حیدر کی طرف متوجہ ہوئے۔

کیا ہوا؟حاجی صاحب نے لمحہ بھر میں پوچھا۔

یارمیچ کو چھوڑ و۔ نیوز لگا کر دیکھو۔ ہمارے سول اسپتال میں بم دھماکا ہو ا ہے۔حیدر نے بے حد بے چینی سے کہا۔

کیا؟فیصل نے حیرانی سے پوچھا۔انہوں نے برق رفتاری سے چینل بدلا ۔نیوز چینل پے چلتی خبر نے ایک بار سب کو ساکت کر دیا تھا۔نیوز چینل پر بار بار ایک دہشت گرد کی فوٹیج دکھائی جا رہی تھی جو بم دھماکے سے کچھ منٹ پہلے سیاہ بیگ کے ساتھ کچھ فروٹس ہاتھ میں لیے سول اسپتال کے صدر دروازے سے انٹر ہوا تھا۔صدر دروازے پر لگا سی سی ٹی وی کیمرے نے اس کی فوٹیج لے لی تھی۔ٹی وی ابھی بھی فل والیم پر چل رہا تھا۔ ٹی وی چینلز بار بار وہی فوٹیج دکھا رہے تھے اور اس فوٹیج کے پیچھے سے نیوز کاسٹر کی آواز آ رہی تھی ۔

سول اسپتال میں بم دھماکا ہوا ہے۔ درجنوں لوگ زندگی کی بازی ہار گئے۔سینکڑوں زخمی ہیں۔آپ دہشت گرد کی فوٹیج سامنے اسکرین پر دیکھ سکتے ہیں جو سیاہ بیگ لیے اسپتال میں داخل ہوا تھا۔یہ ایک ہی خبر بار بار ٹی وی چینلز پر چل رہی تھی۔

یار….یہ تو اپنا بھولا ہے؟طارونے پریشان کن لہجے میں ہاتھ سے ٹی وی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔وہ سبھی ہکا بکا بھولے کی فوٹیج دیکھ رہے تھے۔ان سب کی نظریں اب نیوز چینل کی اسکرین پر نیچے چلنے والی پٹی پر مرکوز تھیں۔ 

یاربڑے بھائی بھی اسپتال میں ہیں۔ان کا تو حال پوچھو۔ “ 

بڑے بھائی جس وارڈ میں ہیں وہ محفوظ ہے۔وہاں کوئی نقصان نہیں ہوا۔حیدر نے وضاحت دی۔

یار بھولے کا کیا بنے گا؟اسی لڑکے نے بے حد بے بسی سے کہا۔

کون بھولا؟ ہم کسی بھولے کو نہیں جانتے۔فیصل نے لڑکے کو معنی خیز سے آنکھوں سے دیکھتے ہوئے کہا۔ محلے کے لوگوں نے فیصل کو چونک کر دیکھا ۔سبھی کے دماغ کی بتی جل گئی تھی۔وہ سب فیصل کی بات سمجھ رہے تھے۔

ہاں ہم کسی بھولے کو نہیں جانتے۔۔۔ سمجھے….؟ ‘ ‘حاجی رضوان نے اپنے لفظوں پر بے حد زور دیتے ہوئے کہا۔محلے کے سبھی لوگوں کی نظریں بے ساختہ ملی تھیں۔وہ اثبات میں سر ہلانے لگے۔

خون میں لت پت بھولا بے یارومددگار اسپتال کے بیڈ پے لیٹا اپنی زندگی کی آخری سانسیں گن رہا تھا ۔اور اس کی سنہری چین ابھی بھی اس کی گردن میں تھی ۔

٭….٭….٭

Loading

Read Previous

شاہ ماران ۔ افسانہ

Read Next

صحرا کی بلبل؛ ریشماں ۔ انہیں ہم یاد کرتے ہیں

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!