سبز اور سفید

”Bingo! واہ بھئی۔ تمہیں اۤتی ہیں کیا یہ زبانیں؟”

”نہیں۔۔۔۔۔۔ بس یوں ہی گیس کیا۔۔۔۔۔۔ خدا حافظ۔”

”خدا حافظ” وہ چلی گئی اور وہ اسے اندر جاتا دیکھتا رہا۔

”اگر اسے پتا چل جاأے کہ guzel اسپینش لفظ نہیں ہے اور C’estbian اٹالین لفظ نہیں ہے تو اس کے expression کیا ہوں گے؟ اور اگر اسے پتا چل جاأے کہ اس وقت میری جیب میں اس کی بچپن کی تصویر ہے تو کس طرح کی شکل بناأے گی یہ میرے اۤگے۔۔۔۔۔۔؟” وہ سوچ رہا تھا اور مسکرا رہا تھا محظوظ ہوتے ہو”ے اپنی گاڑی اۤگے بڑھا دی تھی۔

٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭

وہ بابا کے پاس اۤگیا تھا۔ اندر اۤتے ہی وہ سیدھا اسی کمرے میں اۤیا جہاں اکثر بابا رہتے تھے اور جہاں کی کھڑکی سے برابر والے گھر کا صحن صاف نظر اۤتا تھا۔ دونوں ہاتھ پشت پر باندھے وہ کمرے میں ٹہل رہے تھے۔

”السلام علیکم بابا!”

”وعلیکم السلام ارمش کہاں رہ گئے تھے؟ اتنی دیر لگا دی؟”

”بابا وہ راستے میں۔۔۔۔۔۔” وہ کہتے کہتے رک گیا۔

”وہ بہت عرصے بعد اۤیا ہوں تو راستہ بھول گیا تھا۔”

”اچھا اۤءو بیٹھو۔۔۔۔۔۔ بتاأو کیا ہوا ہے؟” وہ دونوں کمرے میں پڑی ٹیبل کے گرد دو کرسیوں پر بیٹھ گئے تھے۔

”بابا۔۔۔۔۔۔ اۤپ ارمینہ کو جانتے ہیں پہلے سے؟” بغیر کسی تمہید کے اس نے سوال کیا وہ تو ہکا بکا رہ گئے تھے۔ پہلے حیرانی اور پھر ناگواری ان کے چہرے پر اۤگئی تھی۔

”کس نے کہا تم سے؟” انہوں نے ارمش سے نظریں نہیں ملاأی تھیں۔

”کسی نے نہیں۔۔۔۔۔۔ یہ تصویر۔۔۔۔۔۔ ارمینہ کی ہے اۤپ کی اسٹڈی میں تھی۔۔۔۔۔۔” اس نے تصویر نکال کر ان کے اۤگے ٹیبل پر رکھ دی تھی۔ اس بار وہ چپ سادھے اس تصویر کو دیکھے گئے تھے۔

”ارمینہ انابیہ پھپھو کی بیٹی ہے۔۔۔۔۔۔ اۤپ کی سگی بھانجی۔۔۔۔۔۔ اور اۤپ ہمیشہ سے یہ بات جانتے تھے۔ پھر بھی اۤپ نے کسی کو یہ بات نہیں بتاأی۔”

”ضروری نہیں سمجھا۔” اس بات پر اس کا دماغ بھک سے اڑ گیا تھا۔

”ضروری نہیں سمجھا؟ اۤپ جانتے ہیں اۤپ کیا کہہ رہے ہیں بابا؟ اۤپ ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ وہ اۤپ کی بہن کی بیٹی ہے، اۤپ کو اس سے ذرا سی بھی محبت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ اۤپ نے تو اس سے کبھی ٹھیک سے بات تک نہیں کی بابا، اس کے سر پر ہاتھ تک نہیں رکھا، کبھی اسے پیار سے گلے نہیں لگایا کبھی محبت اور شفقت سے اس کا نام تک نہیں پکارا۔۔۔۔۔۔ اۤپ اتنے سخت ہو گئے ہیں بابا؟ اتنے سخت کہ اۤپ کو اس پر بھی پیار نہیں اۤتا، وہ لڑکی جو اۤپ کی مرحومہ بہن کی واحد نشانی ہے۔۔۔۔۔۔”

”ارمش۔۔۔۔۔۔!” وہ چلاأے تھے۔ اسے ان کا چلانا بے معنی سا لگا تھا پھر بھی وہ خاموش ہو گیا تھا۔

”میری بہن کی جان چلی گئی اس لڑکی کی وجہ سے اور اس کے باپ کی وجہ سے۔۔۔۔۔۔ اۤج وہ ہم میں نہیں ہے صرف اس کے باپ کی بے پرواأی کی وجہ سے اور اس لڑکی کے وجود کی وجہ سے۔۔۔۔۔۔ میری بہن کی زندگی ختم ہو گئی اور یہ دونوں اپنی زندگی اۤرام سے جی رہے ہیں انہیں کو”ی فرق نہیں پڑا کیوں کہ وہ ان کے لیے ایکسٹرا تھی۔۔۔۔۔۔”

”بابا اۤپ کیا کہہ رہے ہیں؟” وہ حیران پریشان سا سن رہا تھا۔

”سرفراز کی وجہ سے موت ہو”ی میری بہن کی، اور میں یہ نہیں بھولوں گا ارمش میں اس لڑکی سے اور اس کے باپ سے شدید نفرت کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔ ان کا نام بھی اۤءندہ نہیں لیا جاأے گا۔۔۔۔۔۔ سمجھ گئے ہو تم؟”

”اۤپ نے اسی وجہ سے اس دن گھر پر ارمینہ سے جھوٹ بولا تھا؟”

”ہاں تاکہ وہ تمہارا پیچھا چھوڑ دے کیوں کہ میں نہیں چاہتا وہ تمہیں exploit کرے پتا نہیں اس لڑکی کے ارادے کیا ہیں وہ کیا چاہتی ہے؟ میں نہیں چاہتا تم اس سے ملو یا کو”ی بھی رابطہ رکھو۔۔۔۔۔۔ نہ اس سے نہ اس کے باپ سے۔۔۔۔۔۔ سن رہے ہو؟” وہ دم بہ خود سا بیٹھا یہ نئے انکشافات سن رہا تھا، وہ اۤگے کچھ نہیں بولا۔ اس کے بولنے کے لیے کچھ تھا بھی نہیں۔۔۔۔۔۔

”اۤپ چاأے پئیں گے؟” وہ اس سے اس سوال کی توقع ہرگز نہیں کر رہے تھے۔

”تم بناأو گے؟”

”جی۔”

”پر تم تو پیتے نہیں ہو شوق سے چاأے۔”

”ہاں مگر پی لوں گا اۤج۔۔۔۔۔۔ میں اۤیا” وہ اٹھ کر چلا گیا وہ حیرانی سے اپنے بیٹے کو جاتا دیکھتے رہے۔۔۔۔۔۔ وہ یا تو بہت پرسکون تھا یا پھر بہت زیادہ دکھی۔۔۔۔۔۔ سمجھنا مشکل تھا۔۔۔۔۔۔ اسے سمجھنا ہمیشہ مشکل ہو جاتا تھا۔

وہ کچھ دیر میں چاأے بنا کر لایا تو وہ دونوں چاأے پینے لگے دونوں کے درمیان خاموشی رہی پھر احمد نے اس خاموشی کو توڑا تھا۔

”یہ تصویر کیسے ملی تمہیں؟”

”میں اسٹڈی میں کچھ بکس ڈھونڈ رہا تھا، مجھے چاہئے تھیں پیچھے والے ریکس میں کچھ بکس تھیں ان ہی میں سے ایک میں سے یہ گری تھی۔۔۔۔۔۔ وہی کتاب جس میں ایک سپاہی کی کہانی ہے۔” انہوں نے حیرت سے اسے دیکھا تھا۔

”اس میں عجاأب گھروں کی تفصیل۔۔۔۔۔۔” انہوں نے کچھ بولنا چاہا مگر ارمش نے ان کی بات کاٹ دی۔

”جانتا ہوں مگر اۤپ نے کہا تھا اس میں ایک سپاہی کی کہانی ہے۔۔۔۔۔۔ اس میں واقعی سپاہی کی ہی کہانی ہے۔۔۔۔۔۔ اۤپ کی کہانی۔۔۔۔۔۔ یا شاید۔۔۔۔۔۔ انکل سرفراز کی کہانی۔۔۔۔۔۔” انہوں نے گردن اٹھا کر اسے دیکھا تھا۔ وہ چاأے پیتے پیتے رُک گئے تھے۔

”اۤپ دونوں کی کہانی ایک نقطے پر اۤکر مل جاتی ہے۔ ارمینہ سرفراز محمود۔۔۔۔۔۔” اس نے تصویر کو دیکھتے ہو”ے کہا تھا۔

”ارمش۔۔۔۔۔۔ تم اس سے مت ملنا اب، میں جانتا ہوں وہ کسی مقصد کی خاطر اۤءی ہے ہم سب کی زندگیوں میں۔۔۔۔۔۔” بابا کی اس بات پر وہ تلخی سے مسکرایا تھا۔

”بابا اۤپ کو لگتا ہے میں اتنا بے وقوف ہوں کہ کسی کی نیت اور اس کے ارادوں کا اندازہ نہیں لگا سکتا۔۔۔۔۔۔” اس کا لہجہ بہت نرم تھا۔

”میں تمہارے لئے فکر مند ہوں۔”

”اور میں اۤپ کے لیے۔۔۔۔۔۔ بابا وہ بری نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ اور اۤپ مجھے بتاأیں اس کا کیا قصور ہو سکتا ہے وہ تو ایک چھوٹی سی بچی ہو گی اس وقت جب انابیہ پھپھو کی ڈیتھ ہو”ی۔۔۔۔۔۔”

”وہ بدلہ لینا چاہتی ہے اپنے باپ کا۔۔۔۔۔۔ میں جانتا ہوں۔۔۔۔۔۔”

”کیسا بدلہ بابا۔۔۔۔۔۔؟”

”سرفراز کا بدلہ۔۔۔۔۔۔ وہ خود معذور ہو گیا اور وہ اس کا ذمہ دار مجھے ٹھہراتی ہوگی کیوں کہ میں نے کبھی پلٹ کر ان کی خبر نہیں لی۔۔۔۔۔۔ اور میں کیوں لوں اس کی وجہ سے میری بہن چلی گئی میں اسے کیسے معاف کر سکتا ہوں؟ بس اسی بات کی وجہ سے وہ مجھے سے بدلہ لینا چاہتی ہے۔۔۔۔۔۔”

”بابا وہ اچھی لڑکی ہے ایسی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ مجھے نہیں لگتا ایسا کچھ بھی ہے۔ ہوتا تو میں محسوس کرتا اس بات کو۔۔۔۔۔۔”

”ارمش تم معصوم ہو کچھ نہیں جانتے۔”

”مگر عقل مند ہوں سمجھ دار ہوں۔۔۔۔۔۔ بابا اۤپ نے ہمیشہ ہمیں لوگوں کو سمجھنا سکھایا ہے تو پھر اب اۤپ خود کیوں اتنے کنفیوز ہو رہے ہیں؟ اۤپ اور انکل سرفراز تو دوست تھے میں جانتا ہوں۔۔۔۔۔۔”

”ارمش اس کا نام مت لو میرے اۤگے۔۔۔۔۔۔” ایک گہری سانس لے کر وہ خاموش ہو گیا تھا۔

”اۤپ جانتے ہیں انکل سرفراز اور ارمینہ شکرپاراں میں ہیں؟”

”جانتا ہوں۔” اس بار وہ حیران تھا۔

”کیسے؟”

”قبرستان گیا تھا۔۔۔۔۔۔ وہاں وہ دونوں نظر اۤءے تھے۔”

”وہ لوگ واپس کراچی جا رہے ہیں تھوڑی دیر میں۔” اب وہ دونوں بہت عام انداز میں گفتگو کر رہے تھے۔ سوال جواب کا سلسلہ ختم ہو گیا تھا۔ ارمش نے فی الحال اس معاملے کو طول دینے سے پرہیز کیا تھا۔

”اۤپ جانتے ہیں اۤپ کے جھوٹ کی وجہ سے ارمینہ بہت ہرٹ ہو”ی تھی، اسے بہت برا لگا تھا وہ پچھلے ایک ہفتے سے پریشان تھی۔۔۔۔۔۔ رو رہی تھی۔۔۔۔۔۔” وہ جیسے انہیں ان کا قصور بتارہا تھا۔

”ڈرامہ کر رہی ہو گی۔۔۔۔۔۔”

”نہیں! حقیقتاً۔۔۔۔۔۔ اس کی پریشانی اس کے چہرے پر خود بہ خود اۤجاتی ہے۔۔۔۔۔۔ بہت tale-telling ساچہرہ ہے اس کا۔۔۔۔۔۔”

”انابیہ بھی ایسی ہی تھی۔” وہ جانے کس دھن میں بول گئے تھے۔

”جو بھی ہے اسے میں اب ہمارے اردگرد نہیں دیکھنا چاہتا، تمہارے اۤس پاس بھی نہیں۔۔۔۔۔۔ سن رہے ہو؟” وہ کچھ دیر کیلئے خاموش ہو گیا تھا۔

”جی بابا۔” جب اس نے بولا تو اس نے گردن جھکا لی تھی۔

”ارمش۔۔۔۔۔۔” انہوں نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر کہا تھا۔

”میں نے اۤج تک تمہیں بہت سی ایسی چیزوں سے روکا ہے جو تمہیں پسند تھیں۔۔۔۔۔۔”

”مگر ہر بار میں رکا تو نہیں۔۔۔۔۔۔”

”صرف کمپنی کا فیصلہ کرتے وقت۔۔۔۔۔۔ ورنہ تم نے میری ہر بات مانی ہے۔۔۔۔۔۔ اس بار کیا کرو گے؟” وہ خاموشی سے کپ کے گرد انگلیاں پھیر رہا تھا۔

”جو۔۔۔۔۔۔ اۤپ کہیں گے۔” یہ انتخاب زندگی کا مشکل ترین لمحہ ہوتا ہے، وہ بھی دو اپنی سب سے پیاری چیزوں کے درمیان۔۔۔۔۔۔

”ایک بات بتاأوں اۤپ کو بابا۔۔۔۔۔۔” وہ اب بھی کپ کے گرد انگلیاں گھما رہا تھا اور اس کی نظر ٹیبل پر پڑی اس تصویر پر تھی۔

”میں اس سے۔۔۔۔۔۔ بہت ۔۔۔۔۔۔ شدید محبت کرتا ہوں۔” اس کی اۤواز بہت دھیمی تھی مگر بہت نرم سا لہجہ تھا ڈھیر سارا احترام لیے ہو”ے۔

”جتنی اۤپ سے کرتا ہوں۔۔۔۔۔۔” اعتراف اس کی زبان پر اۤگیا تھا اور اۤج بھی اس نے اپنے دل کے کسی بہت گہرے کنو”یں میں چھپی بات اپنے بابا سے ہی کہی تھی۔ اسے لگتا تھا وہ بدل گیا ہے یا بابا بدل گئے ہیں مگر سب ویسا ہی تھا۔ مگر اۤج اس پل کے اندر ایک خلا تھا جسے کو”ی پر نہیں کر سکتا تھا۔

مگر میں اۤپ سے تھوڑی سی زیادہ محبت کرتا ہوں کیوں کہ میں اۤپ کی اولاد ہوں۔۔۔۔۔۔ اسے میری زندگی میں اۤءے ایک سال کا عرصہ ہوا ہے اۤپ نے مجھے میری انتیس سال کی زندگی میں ہر پل چاہا ہے۔۔۔۔۔۔ میں موازنہ نہیں کرنا چاہتا بابا مگر جو اۤپ میرے لیے ہیں وہ اس دنیا میں کو”ی بھی نہیں ہو سکتا۔۔۔۔۔۔” وہ خاموش ہوا۔ احمد تڑپ اٹھے، انہوں نے اس کی بات کے اختتام پر اپنی اۤنکھوں پر سے چشمہ اتارا اور اپنی اۤنکھوں میں اۤءے اۤنسو”وں کو پونچھا تھا۔

”اگر ایسا ہے تو میں اجازت دے دیتا ہوں تم۔۔۔۔۔۔”

”نہیں بابا۔۔۔۔۔۔ میں اۤپ کا دل جانتا ہوں۔۔۔۔۔۔ اس کی ایک ایک بات ایک ایک خواہش۔۔۔۔۔۔ ایسا کچھ نہیں کر سکتا جس سے اۤپ کو تکلیف ہو اور اگر اۤپ کو تکلیف ہو گی تو میں خوش نہیں رہ پاأوں گا پھر میرے لیے سب بے معنی ہے۔” وہ اب باقاعدہ رونے لگے تھے۔ ان کا بیٹا ان سے اس قدر محبت کرتا تھا انہیں اندازہ نہیں تھا، وہ اسے کبھی سمجھ نہیں پاأے تھے۔

محبت ہر اولاد اپنے ماں باپ سے کرتی ہے مگر کچھ اولادیں ان سے عشق کرتی ہیں۔۔۔۔۔۔ ان کے دکھ میں اپنا دکھ اور ان کی خوشی میں اپنی خوشی ڈھونڈ لیتی ہیں پھر سب کچھ ترجیحات کی فہرست میں بعد میں چلا جاتا ہے۔ وہ بھی ان سے عشق کرتا تھا۔۔۔۔۔۔ بچپن سے۔۔۔۔۔۔ اور ان کے لیے اپنی سب سے قیمتی چیز بھی ترک کر سکتا تھا۔۔۔۔۔۔ محبت۔۔۔۔۔۔ انسان سب کچھ ترک کر دیتا ہے مگر محبت۔۔۔۔۔۔ محبت کسی عشق کے لیے ہی ترک کی جاتی ہے۔

زندگی میں کبھی اس نے کسی سے محبت نہیں کی تھی۔ اس کا محور صرف اس کے گھر والے، اس کے بابا تھے پر اب اس نے ایک وجود کے گرد گھومنا شروع کر دیا تھا اور اب اس کی اتنی عادت تھی کہ اب اس سے ہاتھ پیچھے کھینچنا ناممکن سا تھا۔ ارمینہ نے ایک چھوٹی سی بدگمانی پر اس قدر رنج پال لیا تھا جو اس سے ایک پل نہیں دیکھا گیا تو اب جب وہ واقعتا اگر اس کے اندیشوں کو سچ کرے گا تو وہ کیا کرے گی اور وہ خود۔۔۔۔۔۔ وہ خود کیا کرے گا؟ وہ اسے تکلیف میں کیسے دیکھ پاأے گا۔۔۔۔۔۔ وہ اس سے دور کیسے جا پاأے گا؟ شام تک وہ کراچی واپس اۤگیا تھا۔

٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭

وہ عمر کو ڈھونڈتی ہال میں اۤءی تو وہ وہاں نہیں تھا۔ وہ اس کے کمرے میں چلی گئی وہ وہاں بیٹھا پڑھاأی کر رہا تھا۔

”کیا اۤج بھی تمہیں مجھے دیکھ کر خوشی نہیں ہو”ی؟” اس کی اۤواز پر عمر نے سر اٹھا کر دیکھا اور پھر مسکرایا۔

”کچھ لوگوں کو دیکھ کر صرف بے زاری ہی ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔۔ تنگ مت کرو میں پڑھ رہا ہوں۔” وہ مسکراتی ہو”ی اندر اۤگئی تھی۔

”جب تک میں اجازت نہیں دیتی ایگزامز نہیں دے سکتے تم سمجھے۔”

”سمجھ گیا۔۔۔۔۔۔ پھر ؟”

”پھر۔۔۔۔۔۔ مجھ سے اجازت مانگو۔”

”ارمش بھاأی نے کہا ہے ارمینہ منع بھی کرے تو بھی ایگزامز دے دینا۔” اس نے جان بوجھ کر اسے تپانے کیلئے کہا تھا۔

”مطلب میری کو”ی اہمیت ہی نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ ارمش ہی سگا ہے تمہارا”

”ہاں بھئی ٹھیک ہے۔” وہ جانے لگی تو عمر کو برا لگا۔

”اچھا موجوجوجو۔۔۔۔۔۔ چلو دے دو اجازت تم۔”

”نہیں رہنے دو۔”

”برا مان گئیں یار تم تو، چلو بتاأو میں کیا کروں؟ دے سکتا ہوں ناں امتحان؟”

”تمہارا چہرہ بتا رہا ہے کہ دے سکتا ہوں۔”

”ہاں بالکل عمر تم دے سکتے ہو مگر اپنے اوپر کو”ی چیز سوار مت کرنا اور اپنا خیال رکھنا اور ڈاکٹر فاروق اور میری ایک دوست ڈاکٹر تہمینہ تمہارا علاج کرتے رہیں گے۔”

”تم کیوں نہیں؟”

”یار وہ دونوں بڑے ہیں۔ تجربہ کار ہیں اس بیماری کو زیادہ اچھے سے جانتے ہیں۔”

”پر مجھے تم اچھے سے جانتی ہو۔۔۔۔۔۔” وہ اچانک ہی سنجیدہ ہو گیا تھا۔

Loading

Read Previous

باجی ارشاد

Read Next

شکستہ خواب

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!