سبز اور سفید

”کیوں؟” وہ اچانک پرجوش ہو”ی تھی۔

”تاکہ میں کہیں سے ارینج کر دوں۔”

”کہاں سے؟”

”دیکھوں گا۔” اس کا جوش جھاگ کی طرح بیٹھ گیا تھا۔

”مت دیکھیں۔۔۔۔۔۔ ضرورت نہیں پڑے گی انشاأ اللہ۔” وہ جانتی تھی ان کیلئے پیسے ارینج کرنا کتنا مشکل تھا۔ دس بجے کے قریب پاپا کے سونے جانے کے بعد وہ واپس اوپر اۤگئی تھی۔ تھوڑی دیر میں اسے ایئرپورٹ کیلئے نکلنا تھا۔ اس نے اپنا موباأل اٹھایا تو اس پر اب بھی ارمش کی کو”ی کال نہیں تھی۔ اسے شدید غصہ اۤیا۔۔۔۔۔۔ دس مسڈ کالز دیکھ لینے کے بعد بھی اس نے کال نہیں کی کو”ی میسج نہیں کیا۔ وہ ایک بار پھر اسے کال ملانے لگی تھی۔ اس بار اس نے فون اٹھا لیا تھا۔ پہلی گھنٹی پر فون ہاتھ میں لے کر بیٹھا ہو۔

”ہیلو۔” اس کی اۤواز سنتے ہی اس کا غصہ جھاگ بننے لگا تھا۔ پھر اس نے خود کو سنبھال لیا تھا۔

”ہیلو۔”

”کیسی ہو تم؟” اس کا لہجہ اس کی اۤواز بالکل بے نیاز تھی۔ جیسے اس نے کچھ کیا ہی نہیں تھا۔

”تم نے پیسے بھجواأے ہیں؟” وہ بغیر کسی تمہید کے وہ پوچھ رہی تھی۔

”ہاں”!”کیونکہ تمہیں ضرورت تھی۔”

”تمہارے احسان کی ضرورت نہیں میں کر لوں گی پیسے ارینج۔۔۔۔۔۔ تم یہ۔۔۔۔۔۔ واپس لے لو۔”

”تم کر دینا واپس جب کر سکو۔۔۔۔۔۔ احسان نہیں ہے یہ۔”

”ارمش مجھے نہیں پتہ یہ پیسے واپس لو تم۔” اس بار اس نے سختی سے کہا تھا۔

”ارمینہ۔۔۔۔۔۔ میں یہاں گھومنے نہیں اۤیا ہوں دیکھو وقت نہیں ہے میرے پاس تم چپ چاپ پیسے رکھو اور انکل کا اۤپریشن کرواأو۔۔۔۔۔۔ اب ذرا مجھے جانا ہے۔۔۔۔۔۔ خدا حافظ۔”

”ارمش۔۔۔۔۔۔ سنو۔”

”کیا؟”

”میں یہ پیسے نہیں لے رہی ہوں۔۔۔۔۔۔ پھر بھی تمہارا شکریہ۔۔۔۔۔۔ خدا حافظ۔” اس نے کہہ کر فون کاٹ دیا تھا۔ ارمش کچھ دیر فون ہاتھ میں لیے بیٹھا رہا تھا۔

”کتنی ضدی لڑکی ہے۔” اس نے زیرلب دہرایا تھا۔ سڈنی کے ایک بڑے سے ہوٹل میں بیٹھا وہ اپنے کلاأنٹ کا انتظار کر رہا تھا۔ اسد اس کے ساتھ ہی بیٹھا ہوا تھا۔

”کیا ہوا؟” اس نے دیکھ کر بولا تھا۔

”کچھ نہیں یار کسی کی بات نہیں مانتی یہ۔”

”تم بھی کہاں مانتے ہو۔۔۔۔۔۔ ڈیڈ بتا رہے تھے تم کل اۤرٹ ایگزیبیشن میں گھوم رہے تھے جب کہ ایک گھنٹے میں تمہیں ایئرپورٹ پہنچنا تھا۔”

ارمش نے ایپل جوس کا سپ لیتے ہو”ے لاپرواأی سے اس کی بات سنی تھی۔

”ہاں یار۔۔۔۔۔۔ بس ایسے ہی اچانک اۤرٹ سے محبت ہو گئی تھی۔”

”اۤرٹ سے یا ارمینہ سے؟” جوس پیتے ہو”ے وہ رک گیا تھا اس نے اسد کو نہیں دیکھا تھا مگر اس کا چہرہ سپاٹ تھا ہمیشہ کی طرح۔۔۔۔۔۔ ناقابل فہم۔۔۔۔۔۔ اسد کو حیرانی ہو”ی تھی۔

”محبت۔۔۔۔۔۔ نہیں کرتا میں اس سے۔”اۤہستہ اۤہستہ ہر لفظ پر ٹھہر ٹھہر کر اس نے ایک جملہ ادا کیا اور پھر جوس کی طرف متوجہ ہو گیا۔

”ہاں۔۔۔۔۔۔ ابھی صرف دوست ہو پھر شاید محبت بھی کرنے لگو۔”

”دوست بھی نہیں ہے وہ میری۔”

”تو وہ تمہاری دوست بھی نہیں۔۔۔۔۔۔ پھر کون ہے؟”

”معلوم نہیں۔۔۔۔۔۔ کچھ دنوں سے میں بھی یہی سوچ رہا ہوں کہ وہ کون ہے۔”

اسد اس کی بات پر ہنسنے لگا تھا۔۔۔۔۔۔ اسے اسد کی ہنسی اس وقت زہر لگی۔

”ارمش۔۔۔۔۔۔ محبت ان چیزوں میں سے ہے جس پر انسان کا اختیار نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ یہاں پہنچ کر بڑے بڑے چِت ہو جاتے ہیں۔ دنیا فتح کرنے والے بھی محبت کے اۤگے گھٹنے ٹیک بیٹھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ پھر تم تو ایک عام سے انسان ہو۔۔۔۔۔۔” اسد چپ ہو گیا تھا۔ وہ گہری سوچ میں تھا۔

”محبت” اس نے ارمینہ کیلئے اس ایک لفظ کے علاوہ کو”ی اور لفظ سوچا تھا۔ وہ اسے اچھی لگتی تھی کیوں کہ وہ اچھی تھی۔ وہ ہر ایک کو اچھی لگتی تھی اس میں کو”ی خاص بات تو نہیں تھی۔ مگر ارمش اس کی شخصیت کے پہلو پر غور کرنے لگا تھا اور ہر پہلو اسے خوبصورت لگتا تھا ہنسنے سے لے کر رونے تک غصے سے لے کر معصومیت تک۔۔۔۔۔۔ اس کی ضدیں بھی۔۔۔۔۔۔ وہ اس کے بارے میں سوچتا تو سوچتا ہی رہتا وہ اس کے متعلق ہر بات سے اۤشنا رہنا چاہتا تھا اس کی ہر خوشی سے ہر دکھ سے پھر اس کی ہر خوشی کی وجہ بننا چاہتا تھا اور اس کا ہر دکھ سمیٹ دینا چاہتا تھا مگر وہ اس سے محبت نہیں کرتا تھا۔۔۔۔۔۔ کم از کم اسے یہی لگتا تھا۔ وہ عجیب سی الجھن کا شکار تھا۔

”اسد یار میں باہر ہوں۔۔۔۔۔۔ ڈینیل مسٹر کلف کو لے اۤءے تو مجھے کال کر دینا۔”

”کیوں کیا ہوا؟” اسد کی تشویش پہلے سے بڑھ گئی تھی۔

”بس ایسے ہی گھبراہٹ ہو رہی ہے۔ میں اۤجاأوں گا جب وہ لوگ اۤجاأیں گے۔”

”تو تم باہر ہی تو ہو وہ دِکھ ہی جاأیں گے تمہیں اۤتے ہو”ے۔”

”نہیں اگر میں اِدھر اُدھر ہو گیا تو پتا نہیں چلے گا۔”

”ٹھیک ہے میں بتا دوں گا۔”

وہ باہر اۤگیا تھا۔ سڈنی میں سردی کراچی کی نسبت کافی زیادہ تھی۔ اس نے بلیک ہاأی نیک کے اوپر کوٹ پہن رکھا تھا۔ لیکن پھر بھی باہر اۤکر اسے ٹھنڈ کا احساس ہو رہا تھا۔ مگر اسے اچھا لگ رہا تھا۔ یہ ٹھنڈ اسے عجیب طرح سے پرسکون کر رہی تھی۔ اس نے جیب سے موباأل نکالا اور ایک فولڈر میں جا کر ”پلے” کا بٹن دبا دیا۔ ارمینہ کی اۤواز گونجنے لگی تھی۔۔۔۔۔۔ وہی کانوں میں رس گھولتی۔۔۔۔۔۔ میٹھی۔ کھنک لیے ہو”ے۔

”کافی لمبا نام نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ پورا لیتے لیتے ٹرین چھوٹ جاأے۔” وہ مسکرا دیا تھا۔ یہ اس کی پہلی ریکارڈنگ تھی۔ اس نے بعد میں بھی اس کی بہت کی باتیں ریکارڈ کر رکھی تھیں۔ اۤخری ریکارڈنگ پر اۤکر اس نے ایک بار پھر پلے کا بٹن دبایا۔

”نہیں بہت سی چیزیں وقت گزرنے کے ساتھ اچھی لگنے لگتی ہیں۔” وہ اۤرٹ ایگزیبیشن میں ادا کیے جانے والے الفاظ تھے۔

”لیکن مجھے تو تم۔۔۔۔۔۔ کبھی بری لگی ہی نہیں۔” اس نے خود سے کہا تھا۔۔۔۔۔۔ موسم نم ہونے لگا تھا۔ ہلکی ہلکی بوندیں گرنے لگی تھیں ۔ اور اس نے موباأل کی اسکرین پر گری ایک بوند کو انگلی سے صاف کیا اور موباأل اندر رکھ لیا۔

”بس مجھے وہ لڑکی اچھی نہیں لگتی۔” بابا کا جملہ یاد اۤنے پر اس نے ایک گہری سانس لی تھی۔ اسد کی کال اۤنے لگی تو وہ بغیر رکے اندر چلا گیا تھا۔

٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭

سرفراز کو اردگرد کے لوگوں نے بلایا تو وہ ہوش میں اۤیا تھا اور اس کے اۤگے چھایا ہوا اندھیرا کچھ چھٹنے لگا تھا۔ اسے رنگ نظر اۤنے شروع ہوگئے تھے مگر بس ایک رنگ وہ پہچان پایا تھا۔۔۔۔۔۔ سُرخ رنگ۔۔۔۔۔۔ وہ ایک جھٹکے سے ہوش میں اۤیا اور بھاگتا ہوا سڑک کی طرف اۤیا تھا۔ اس کی گود میں ارمینہ اب بھی رو رہی تھی۔

٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭

”انابیہ” وہ پوری قوت سے چیخا تھا اسے وہ کہیں نظر نہیں اۤءی تھی۔ پھر وہ ذرا اور اۤگے اۤیا تو سڑک کی دوسری طرف وہ اسے بے سدھ پڑی نظر اۤگئی تھی۔

اس کی اپنی گاڑی سے بہت دور خون میں نہاأی۔ اس کے اۤسمانی کپڑے اب سرخ ہو چکے تھے۔ وہ بھاگتا ہوا اس کی طرف اۤیا تھا۔

”انابیہ”

”انابیہ خدا کے لیے اۤنکھیں کھولو پلیز۔” وہ پاگلوں کی طرح چلا رہا تھا۔ ساتھ کھڑے ایک شخص نے اس کے گود سے ارمینہ کو لے لیا تھا تاکہ وہ انابیہ کو ہسپتال کے اندر لے جا سکے۔ اس نے انابیہ کو اٹھایا اور اندر لے اۤیا۔ انابیہ کو ایمرجنسی میں لے جایا گیا جب کہ ارمینہ کی بینڈیج ایک نرس نے کر دی تھی اور اسے وہیں بٹھا لیا تھا۔ اس کے حواس بحال ہونا شروع ہو”ے تو اس نے گھر پر احمد کو کال کر کے اطلاع دی تھی۔

”کیا ہوا سرفراز؟”

”احمد۔۔۔۔۔۔ انابیہ کا ایکسیڈنٹ ہو گیا ہے۔۔۔۔۔۔ تم جلدی یہاں پہنچو۔” دوسری طرف خاموشی چھا گئی تھی اور چند لمحوں بعد فون بند ہو گیا۔

”بلڈ کی ضرورت ہے اۤپ لوگ بلڈ ارینج کر لیجئے مگر بلڈ بینک یہاں سے دو سڑکیں چھوڑ کر ہے۔ اور وہاں اسٹاک کم ہے اۤپ لوگ اپنے ڈونرز کا انتظام کیجئے۔”

”میرا اور اس کا بلڈ گروپ ایک ہی ہے میں دے دوں گا۔” اس نے فوراً نرس سے کہا تھا جو ابھی ایمرجنسی سے باہر اۤءی تھی۔

”بہتر اۤپ ریسیپشن پر بتا دیں وہ اۤپ کو بتا دیں گے کہ کہاں جا کر بلڈ دینا ہو گا۔” نرس واپس مڑنے لگی تو سرفراز نے اسے روکا۔

”وہ کیسی ہے؟ ٹھیک ہو جاأے گی ناں؟”

”کچھ کہا نہیں جا سکتا۔۔۔۔۔۔ اۤپ حوصلہ کریں۔” یہ کہتی ہو”ی وہ نرس واپس اندر چلی گئی تھی۔ دروازے کی اۤڑ میں اس نے انابیہ کا چہرہ ایک پل کے لیے دیکھا تھا پھر دروازہ بند ہو گیا تھا۔۔۔۔۔۔ اس کا دل بھی بند ہو گیا تھا۔ ضبط کا ایک اۤنسو ٹپکا۔ اس نے اۤنسو پوچھا اور ریسیپشن کی طرف مڑ گیا تھا۔

”احمد رضا ابراہیم کی زندگی میں اگر کچھ بہت برا ہو سکتا تھا تو وہ ہو گیا تھا۔ سرفراز کے فون کے بعد اس نے ایک لمحہ بھی رکے بغیر ہاسپٹل کا رخ کر لیا تھا۔ اس کے ہاتھ اتنے کانپ رہے تھے کہ وہ گاڑی بھی نہیں چلاپا رہا تھا۔ نجانے کیسے وہ اور ثمینہ ڈراأیو کرتے ہسپتال پہنچے تھے۔ اُترتے ہی باہر اسے سڑک پر ایک جگہ بہت سا خون پڑا دکھاأی دیا تھا۔ احمد سے اندر نہیں جایا گیا تھا۔ ثمینہ اس کے ساتھ تھی۔ وہ جانتی تھی احمد رضا کیسے دیوانوں کی طرح انابیہ کو چاہتے تھے۔ احمد چلتے ہو”ے اس جگہ تک اۤیا تھا جہاں کچھ دیر پہلے انابیہ بے سدھ پڑی تھی۔ وہ گھٹنوں کے بل زمین پر گر گیا تھا۔ اردگرد کے لوگوں کی اۤوازیں اس کے کانوں میں پڑ رہی تھیں۔

”بچی زخمی تھی۔۔۔۔۔۔ اسے ہسپتال لاأے تھے جب بچی کی ماں کو ٹرک والا مارتا ہوا چلا گیا۔” کسی نے اس کے بہت قریب کھڑے ہو کر کہا تھا۔

”وہ جلدی کر رہی تھی بچی اس کے شوہر کی گود میں تھی۔ جلدی کے چکر میں دیکھا ہی نہیں پیچھے ٹرک اۤرہا تھا۔ خون بہت بہ گیا ہے۔۔۔۔۔۔”

اۤوازیں ان کے کانوں میں ہتھوڑوں کی طرح پڑ رہی تھیں۔ ان کی بہن سے محبت کو کسی نے بہت بے دردی سے کچل ڈالا تھا۔ وہ ایک لمحہ ضاأع کئے بغیر اندر اۤگئے تھے۔ ثمینہ ان کے پیچھے تھیں۔

”سرفراز نظر نہیں اۤرہا پتا نہیں کہاں ہے۔” ثمینہ نے راہداری کو خالی پاکر کہا تھا۔

”اپنی بیٹی کے پاس ہو گا۔” احمد نے بہت عجیب سے لہجے میں کہا تھا کہ ثمینہ نے احمد کو سر اٹھا کر دیکھا۔ اسی وقت اندر سے ڈاکٹر باہر اۤءے تھے۔

”مسز انابیہ کے ساتھ۔۔۔۔۔۔”

”جی میں ہوں۔” احمد بھاگتا ہوں ان کے پاس پہنچا تھا۔

”She is expired… We’re sorry” لفظوں کی گونج احمد کے کانوں میں بس ایک ہی بار ہو”ی تھی پھر سب کچھ تھم گیا تھا۔ اۤس پاس کی ہوا احمد کی سانسیں اس کا دل۔۔۔۔۔۔ سب کچھ۔۔۔۔۔۔ اب ماضی کی اۤوازیں ان کے کانوں سے ٹکرا رہی تھیں۔

”بھاأی سرفراز مجھ سے محبت کرتا ہے اور۔۔۔۔۔۔ میں بھی اس سے بہت محبت کرتی ہوں۔”

ان کے کانوں میں کسی کے رونے کی اۤواز بھی پڑ رہی تھی۔ شاید ارمینہ کی یا شاید ثمینہ کی۔۔۔۔۔۔ وہ فرق نہیں کر پا رہا تھا۔

”بھاأی ارمینہ کتنی پیاری ہے ناں۔۔۔۔۔۔”

”جی میں فش گرل کر رہی تھی تو میرا ہاتھ جل گیا۔”

”اۤپ کو باأیو گرافیز بہت پسند ہیں ناں اۤپ کی سلیکشن واقعی زبردست ہے۔”

”ابو نہیں تو کیا ہوا۔۔۔۔۔۔ اۤپ تو ہیں۔”

”بھاأی میں نے اۤج اۤپ کو خواب میں دیکھا۔۔۔۔۔۔ اۤپ سرفراز کے اوپر ٹھنڈے پانی کی بالٹی الٹ رہے تھے۔”

اور پھر کسی کی ہنسی کی اۤواز۔۔۔۔۔۔ وہ اس ہنسی کی اۤواز کو پہچان سکتے تھے۔۔۔۔۔۔ لاکھوں میں کروڑوں میں۔۔۔۔۔۔ انابیہ کی ہنسی کی اۤواز۔۔۔۔۔۔

”بھاأی میرے سر میں درد ہو تو میں دوا نہیں لیتی میری بیٹی کے لیے یہ نقصان دہ ہے۔ تھوڑا سا تو درد ہے۔ میں برداشت کر لیتی ہوں۔”

رونے کی اۤواز بھی بڑھ رہی تھی اور ان کے ماضی کی اۤوازیں بھی۔ وہ وہیں زمین میں دھنستے چلے گئے تھے۔ اس کی بہن کو کتنی تکلیف برداشت کرنی پڑی ہو گی اور وہ برداشت کرتے ہو”ے ایک وقت پر ہمت ہار بیٹھی تھی۔ ہسپتال کی راہداری میں احمد کا دم گھٹنے لگا تھا۔ گردن گھما کر اس نے ثمینہ کی گود میں روتی بلکتی ہو”ی ارمینہ کو دیکھا اور غصے کی ایک شدید لہر اس کے رگ و پے میں دوڑ گئی تھی۔

”چپ کرواأو” ثمینہ چونک کر احمد کا چہرہ دیکھتی رہیں۔

”یہ کیا کہہ رہے ہیں احمد اۤپ؟ معصوم بچی ہے۔” احمد خاموش ہو گیا تھا۔

وہ اس پر ایک نظر بھی نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔ باہر اۤکر اس نے ہسپتال کی سیڑھیوں پر بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا تھا۔ دکھ اور غم کی انتہا کو وہ اۤج پہنچا تھا۔ اۤنسو تھمنا مشکل تھا یا شاید یہ اۤنسو بھی کبھی نہ تھمنے والے تھے۔

ہسپتال کی سیڑھیاں چڑھتا سرفراز اسے نہیں دکھا تھامگر سرفراز نے اسے دیکھ لیا تھا۔

”احمد۔” سرفراز نے قریب اۤکر اسے پکارا تو اس نے چہرہ اٹھایا جو اۤنسو”وں سے تر تھا۔ سرفراز کی روح اندر تک کانپ گئی تھی۔

”انابیہ ٹھیک ہے ناں؟” وہ خوف کے عالم میں کہہ رہا تھا۔ اس کے اردگرد صرف اندیشے تھے۔”

”بولو وہ کیسی ہے؟” اس نے پھر پوچھا مگر احمد نے اٹھ کر ایک زوردار تھپڑ اس کے گال پر دے مارا۔

”اس کو موت کی چوکھٹ پر لا پھینکنے کے بعد۔۔۔۔۔۔ تم مجھ سے پوچھ رہے ہو وہ کیسی ہے۔ سننا ہے تمہیں تو سن لو۔۔۔۔۔۔ مر گئی ہے وہ سرفراز۔۔۔۔۔۔ تمہاری بےپرواأی کی وجہ سے مر گئی ہے وہ۔۔۔۔۔۔” اس کا گریبان پکڑے احمد چیخ رہا تھا جب کہ سرفرا ز کے ہاتھوں سے دواأوں کا وہ تھیلا چھوٹ کر زمین پر گر گیا جو منگواأی گئی تھیں۔

وہ بالکل بے سدھ تھا۔۔۔۔۔۔ جب کہ اۤنسو نہ ایک بھی سسکی نہ ایک بھی اۤہ۔۔۔۔۔۔ اس نے کچھ بھی نہیں کہا تھا۔ احمد کے تھپڑ اور الزامات کا بھی اس پر اثر نہیں ہوا۔ ”وہ مر گئی ہے۔” بس یہ ایک جملہ اس کے کانوں سے بار بار ٹکرا کر واپس پلٹ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ بار بار۔۔۔۔۔۔

”وہ مر نہیں سکتی ۔۔۔۔۔۔ وہ مر نہیں سکتی۔” وہ زیرِلب دُہرا رہا تھا۔

”ہاں وہ مر گئی ہے سرفراز تمہاری وجہ سے مر گئی وہ۔۔۔۔۔۔ تم نے صرف اپنی بیٹی سے محبت کی ہے ناں۔۔۔۔۔۔ اولاد کے اۤگے تم ہمیشہ بھول جایا کرتے تھے کہ وہ تمہاری بیوی ہے تمہاری ذمہ داری۔۔۔۔۔۔ تم نے ہمیشہ اسے اگنور کیا وہ معصوم تھی سرفراز۔۔۔۔۔۔ بہت معصوم۔۔۔۔۔۔ ساری زندگی تم جیسے ناقدرے شخص کے پیچھے خوار ہوتی رہی اور میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ میں نے تم پر بھروسہ کیا۔۔۔۔۔۔ تم کبھی اس کے لاأق نہیں تھے سرفراز تم کبھی اسے ڈیزرو نہیں کرتے تھے۔ اب تم گزارو زندگی اپنی بیٹی کے ساتھ جس کے لیے تم نے اپنے اردگرد کے انسانوں کو کم تر جانا۔۔۔۔۔۔ اللہ تمہیں اس کی سزا ضرور دے گا۔ تمہاری اس بےپرواأی کی جس نے میری بہن کی جان لی۔۔۔۔۔۔ میں اۤج کے بعد تمہارا چہرہ بھی نہیں دیکھنا چاہتا سرفراز میں اۤج کے بعد تم سے اور تمہاری بیٹی سے عمر بھر نفرت کروں گا۔ اۤج کے بعد سرفراز محمود اور ارمینہ محمود میری زندگی کا سب سے سیاہ باب ہوں گے سرفراز۔۔۔۔۔۔ سب سے سیاہ باب۔”

کہہ کر وہ جانے کہاں غاأب ہو گیا تھا اور سرفراز گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھ گیا تھا۔ اس نے احمد کا کہا ایک ایک لفظ سنا تھا مگر وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا۔”

وہ مر کیسے سکتی تھی وہ نہیں مر سکتی ابھی اۤدھے گھنٹے پہلے میرے ساتھ اۤءی تھی۔۔۔۔۔۔ بالکل ٹھیک تھی۔۔۔۔۔۔ اۤسمانی رنگ کتنا کھلتا ہے اس پر وہ اۤج کتنی حسین لگ رہی تھی۔ کتنی خوش تھی۔ اس نے میری کامیابی پر سارے خاندان کو جمع کر لیا تھا۔ ابھی صبح ہی تو اس نے اپنے ہاتھ میں پہنی وہ انگوٹھی دکھاأی تھی۔ وہ تیار ہو رہی تھی تو میں اسے دیکھ رہا تھا پھر وہ تتلی کی طرح ساری تقریب کے دوران یہاں وہاں پھر رہی تھی، کبھی اپنے بال سنبھالتے کبھی ہنستے کبھی خوشی کے مارے روتے ہو”ے پھر میں نے اسے ڈانٹا تھا۔۔۔۔۔۔ کیونکہ ارمینہ کو چوٹ لگی تھی۔۔۔۔۔۔” وہ اس سے اۤگے نہیں سوچ پایا۔ اس نے یہاں پہنچنے پر ارمینہ کو اس کی گود سے کیوں لے لیا تھااور اندر اۤگیا تھا۔ حالاںکہ اسے ٹرک کے ہارن کی اۤواز بھی اۤءی تھی مگر اس نے دھیان نہیں دیا وہ اتنی جلدی میں اندر بھاگا تھا کہ اس نے رک کر انابیہ کا انتظار بھی نہیں کیا تھا۔ نتیجتاً وہ ٹرک سے روندتا ہوا گزر گیا تھا۔

”احمد یہ میرا قصور تھا۔ کاش میں اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے روک لیتا، کاش گاڑی سڑک کے اِس پار نہیں بلکہ اُس پار لگا دیتا تو وہ نہ ہوتا جو ہوا۔۔۔۔۔۔ کاش۔۔۔۔۔۔ کاش” اس بار وہ اۤواز کے ساتھ بول رہا تھا۔ مگر اس کے اۤنسو اب بھی نہیں بہ رہے تھے۔ اۤنسو غم اور خوشی میں تو اۤتے ہیں مگر اسے نہ خوشی تھی نہ غم اسے شاک تھا، بے یقینی تھی۔ وہ یہ بات ماننے سے قاصر تھا کہ وہ اب نہیں تھی۔ کسی ایک انسان کا جانا کتنا تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔۔۔۔۔۔ کسی ایک انسان کے جانے سے کس طرح انسان بھیڑ میں تنہا ہو سکتا ہے کس طرح کسی کے جانے سے سر کے اوپر سے اۤسمان اور پیروں کے نیچے سے زمین کھسک جاتی ہے۔۔۔۔۔۔ اسے لگا وہ کسی بیابان کسی صحرا میں کھڑا تھا۔ بالکل تنہا۔۔۔۔۔۔”انابیہ” اس نے بس ایک بار بہت دھیرے سے زیرلب اس کا نام پکارا۔۔۔۔۔۔ پھر وہ رو رہا تھا۔۔۔۔۔۔ اپنے ہاتھوں میں چہرہ چھپاأے ہچکیوں کے ساتھ۔

ادراک۔۔۔۔۔۔ احساس۔۔۔۔۔۔ اقرار کبھی کبھی کتنا تکلیف دہ ہوتا ہے یہ اس نے اۤج جانا تھا۔ کاش کو”ی اسے کچھ بتاتا ہی نہ کاش وہ یونہی بے خبر رہتا۔۔۔۔۔۔ کاش وہ احمد سے کچھ بھی پوچھے بنا کہیں بہت دور چلا جاتا انابیہ سے بھی بہت دور چلا جاتا مگر کم از کم اسے یہ تو امید ہوتی کہ وہ زندہ بھی ہو سکتی ہے۔ اس نے اس پل اللہ سے ڈھیروں شکوے کیے تھے اور ان میں ایک شکوہ اپنے ہونے کا کیا تھا۔ اگر ”وہ” نہیں تھی تو وہ خود بھی کیوں تھا؟

اسے معلوم نہیں وہ کتنی دیر وہاں بیٹھا روتا رہا تھا۔ پھر کسی جاننے والے نے اسے کندھے سے اٹھایا تو وہ کسی روبوٹ کی طرح بغیر ایک بھی لفظ کہے چل دیا تھا۔ وہ گھر تک اۤیا تو اسے وہ گھر جو ہمیشہ جنت لگتا تھا اۤج جہنم لگ رہا تھا۔۔۔۔۔۔ ایک ایسی جہنم جس کی اۤگ میں اب اسے ساری عمر جلنا تھا۔۔۔۔۔۔ قطرہ قطرہ پگھلنا تھا۔ اذیت کے احساس کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ قصور وار ہونے کے احساس کے ساتھ۔۔۔۔۔۔ اس وقت اپنے گھر کی دہلیز پر کھڑے ہو کر۔۔۔۔۔۔ اس نے اپنی قسمت کے اۤگے سرتسلیم خم کیا تھا۔

٭۔۔۔۔۔۔٭۔۔۔۔۔۔٭

Loading

Read Previous

باجی ارشاد

Read Next

شکستہ خواب

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!