تو کیا ہوا —– فرحین اظفر

رات گہری ہو چلی تھی اور خفگی بھی۔
یہ وہی گھر تھا، یہ وہی دہلیز اور یہ وہی درودیوار تھے۔ یہ وہی چوکھٹیں تھیں، یہ وہی چوبارے تھے۔ جہاں سے ایک دن وہ بڑے فخر و غرور کے ساتھ نکلی تھی۔ یہ سوچ کر کہ شاید وہ کسی نئے جہاں کو دریافت کرنے جارہی ہے۔اپنی چھوٹی عمر کی کچی عقل پر بڑا ناز تھا اسے۔ وہ سمجھتی تھی کہ جو کچھ وہ سمجھتی ہے۔ اس کے لیے بس وہی کافی ہے۔ باقی دنیا کیا سوچتی سمجھتی ہے اس سے اسے کوئی سروکار نہیں تھا۔ اسی بے نیازی اور خود پر حد درجہ بڑھے اعتماد نے آج اسے منہ کے بل گرایا تھا۔
اسے بہت سی ایسی باتوں کی سمجھ آگئی تھی۔ جن کے بارے میں اس نے پہلے کبھی سوچنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی تھی۔
وہ فوٹوگرافر کون تھا، جو اس قدر گھٹیا علاقے میں ایک چھوٹے سی بوسیدہ عمارت کے خستہ حال فلیٹ میں فقیروں جیسی زندگی گزاررہا تھا۔جس کے پاس فقط ایک عدد کمرہ تھا۔ وہی اس کا آفس تھا وہی اس کا اسٹوڈیو۔ جس نے ایک دفعہ کے بعد دوبارہ منتشا سے کچھ پوچھے یا کہے بغیر کھٹاکھٹ اس کی تصویریں لے ڈالیں۔ اور ساتھ ہی اس کی سفارش کا وعدہ بھی کرلیا… کیوں… کیاغرض تھی اس کی ایک انجانی لڑکی کے ساتھ…. اتنا بے غرض تو آج کی دنیا میں کوئی بھی نہیں ہوتا۔ وہ کوئی دین دار آدمی نہیں تھا۔ وہ کوئی مولوی کوئی مبلغ کسی مسجد کا امام نہیں تھا۔ جو بلا تفریق و امتیاز، بے غرض سب کو دین کی باتیں بتاتے ہیں۔ وہ کوئی استاد نہیں تھا۔ جو اپنے شاگردوں کی کارکردگی بہتر کرنے کے لیے، بنا کسی غرض کے ایکسٹرا کلاسز لیتے پھرتے ہیں۔ ہر چند کہ آج کے دور میں ایسے لوگ کم ہیں۔ مگر ابھی ہیں… وہ کوئی سائنسدان نہیں تھا۔ جو ملک و قوم کے جذبے سے سرشار ہوکر تحقیق کے میدان میں دریافت کے نئے جھنڈے گاڑتے ہیں اور دشمن ملکوں کے آگے بکنے سے انکاری ہوجاتے ہیں۔
وہ تو ایک بے حد معمولی انسان تھا۔ ایک تھرڈ کلاس نچلے درجے کا گھٹیا فوٹو گرافر… تو کیا غرض تھی اس کی… جس کے ہاتھوں مغلوب ہوکر اس نے منتشا کے آگے اس کا حسن پسند دانا پھینکا اور وہ اس کے جال میں آگئی۔
اس کا ذہن تھک کر نڈھال ہوچکا تھا۔دن پردن گزرتے جارہے تھے اور اس کی تدبیروں کے گھوڑے ایک کے بعد ایک کرکے گررہے تھے۔ اس کا موبائل فون سم سے محروم اس کے بیگ میں کپڑوں کے نیچے دبا ہوا تھا۔ جس کے بار ے میں گھر میں کسی کو علم نہیں تھا پھر بھی اس نے احتیاطاً سم نکال کر اپنے گریبان میں محفوظ کرلی تھی۔ جسم بے شک ناکارہ تھا لیکن دماغ ابھی کام کررہا تھا۔
اس کے اندر سوال اٹھتے تھے۔ جن کا جواب صرف اور صرف جیز جانتی تھی۔ جاذبہ شیخ عرف جیز، اور اس سے رابطے کی صورت، فی الحال دکھائی نہیں دیتی تھی۔
******





صابرہ نے زندگی میں پہلی بار منتشا کی ماں ہونے کا ثبوت دیا تھا۔ کم از کم اسے ایسا ہی لگ رہا تھا۔ اسی نے اس کو اقبال اور نظام الدین کے چنگل سے بچوایا تھا۔ اسی نے بعد میں سب سے چوری چھپے اسے ہلدی ملا دود لاکر پلایا تھا۔ اور اب بھی وہی تھی۔ جو سب کے سوجانے کے بعد رات کا بچا سالن اور روٹی کا ٹکڑا بھگوکر اس کے کھانے کے لیے لائی تھی۔
وہ جو کئی گھنٹوں کی بھوکی تھی۔ ذرا سے کھانے پر بھوکوں ندیدوں کی طرح ٹوٹ پڑی تھی۔ اندھیرے کمرے کے کونے میں پڑے اپاہجوں کی طرح اسے کھانا کھاتے دیکھ کر وہ بری طرح سسکنے بھی لگی تھی۔ اور یہ آج زندگی میں پہلی بار ہورہا تھا۔ اس کے پاس اتنی فرصت نہیں تھی۔ کہ اس کی محبت کا یہ مظاہرہ کر کر دیکھتی۔سالن بہت تھوڑا تھا اور روٹی بہت کم۔ اس کا شکم سیر نہیں ہوپایا تھا کہ پلیٹ صاف ہوگئی۔ اس نے آستین سے اپنے پھتے کناروں والے ہونٹ صاف کرتے ہوئے پوچھا۔
”اور ہے؟”
صابرہ نے آنسو صاف کرکے اسے دیکھا اور پھر نفی میں سرہلاتے ہوئے اس کے نزدیک آگئی۔
اس کی آنسوں میں ممتا بھری محبت کا ایک جہاں آباد تھا۔
اصولاً تو اسے بھی گھر کے دیگر افراد کی طرح منتشا کو اپنی نفرت اور حقارت کا نشانہ بنانا چاہیے تھا۔ لیکن یہ ماں اور ممتا بھی نا۔ ایک ہی پھول کے رنگ اور خوشبو ہیں۔ پھول بھی وہ جو پت جھڑ میں کھل جائے، رنگ وہ جو ہزار ہا روشنیاں خود میں سمیٹے ہوئے ہو او رخوشو وہ جو گہرے سے گہرے طلسم کا حصار توڑڈالے۔وہ بھی ممتا کی ماری تھی۔ جب دنیا اس پر کیچڑ اچھال رہی تھی۔ اور کیچڑ بھی وہ جو اس نے خود اپنی مٹھیوں میں اٹھا کر لوگوں کی طرف بڑھایا تھا۔ وہ ممتا کی ماری اپنا پاک دامن لے کر اس کے داغ صاف کرنے آگئی تھی۔
”سچ مچ بتا مجھے منی… وہ جو اس رسالے میں تصویر ہے۔ وہ …. وہ تو ہے؟”
ہزارہا خدشوں میں گھرا اس کا دل کسی چڑیا کے بچے کی طرح یہ سوال کرتے ہوئے سہما ہوا تھا۔
”دیکھ مجھ سے جھوٹ نہیں بولتا۔ میں تیری ماں ہو…. میں جانتی ہوں… میری منی ایسی خراب حرکت نہیں کرسکتی… بتا مجھے وہ تو… تو نہیں ہے نا۔”
اس کا لہجہ کس قدر پچکارنے والا تھا۔ منتشا کے دل پر کوئی برف سی گری۔ یہ لہجہ، یہ منظر، یہ مان… یہ تو اس کے نصیب میں کبھی تھے ہی نہیں۔ پھر آج کیوں، اب کیوں اس کی گود میں آگرے تھے۔ وہ چند لمحے پتھر کے بے جان بت کی مانند چند لمحے اس کی انکھوں میں جھانکتی رہی۔ جھریوں بھری زندگی سے عاری آنسوں میں ایک امید زندگی بن کر آن بیٹھی تھی۔ اور وہ اس زندگی کو موت نہیں دینا چاہتی تھی۔
”نہیں۔ اس کے نیلے پڑتے ہونٹوں سے یکبارگی نکلا۔
صابرہ کچھ لمحے خود پر ضبط کرکے اسے دیکھتی۔ پھر اس کے گھٹنوں کے گرد بندھے ہاتھوں پر سر جھکاکر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
منتشا کے ہکا بکا ہونے کے لیے اتناکافی تھا۔
صابرہ زندگی میں پہلی بار اس کے لیے رورہی تھی۔ لیکن اس طرح کہ اسے نہ اپنی اونچی آواز کی پرواہ تھی نہ کسی اور کی نیند خراب ہوجانے کے ڈر… خاص طور پر خاوند اور بیٹے کی نیند بھی…
تھوڑی دیر وہ اسی طرح اونچی آواز سے روتی رہی۔ یہاں تک کہ کمرہ میں موجود دوسرے نفوس جاگ گئے۔ پہلے کنول کی آنکھ کھلی۔ اس نے ماں کو روتے دیکھا تو چہرے پر ناگوار اتر آئی۔ اس کے بعد بلو کی آنکھ کھلی بلو نے جو صابرہ کو یوں بلکتے دیکھا تو ڈر کے کنول سے لپٹ گیا۔ پے درپے شام اور پھر رات والے یہ دو ہنگامے اس کے اعصاب کو سہمانے کے لیے بہت کافی تھے۔ اور پھر وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔
اقبال آنکھیں مسلتا ہوا کمرے کی چوکھٹ تک آیا تھا۔ او رپھر ماں کو اس کے قریب سر جھکاکر روتے دیکھا۔ تو یک دم ہی تپ کر چنگھاڑا تھا ۔ ”اماں! کیوں رورہی ہے اس حرافہ کے لیے… چل اٹھ وہاں سے” اس کا انداز اس قدر حقارت بھرا تھا۔ جیسے ماں کے بجائے کسی لونڈی سے مخاطب ہو۔
”اماں… سنتی نہیں ہے… اٹھ جا اس کے پاس سے۔”
چند لمحوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا۔ وہ صابرہ کے قریب آیا اور پھر اس کا بازو تھام کر کھینچنے لگا۔ ساتھ ہی ساتھ وہ بلند آواز میں منتشا کو گالیاں دے رہا تھا۔
تقریباً نصب کا سفر طے کرتی خاموش رات میں اس کی ڈکراتی آواز سات محلوں میں بھی سنی جاتی تو کم تھا۔
”اٹھ اس کے پاس سے ہٹ… چل میں کیا کہہ رہا ہوں سنتی نہیں….” صابرہ کی آواز بھی بلند ہوگئی۔ وہ جوان بیٹے کی طاقت سے مجبور تھی۔ لیکن اس کے پاس سے ہٹنا نہیں چاہتی تھی۔





تماشہ ایک بار پھر کھڑا ہوچکا تھا۔کنول بھی اٹھ کر بیٹھی ماں کی مجبوری اور اقبال کی ہٹ دھرمی کو دیکھنے منتشا خود بھی کونے میں سمٹی فقط دیکھنے پر ہی اکتفا کیے ہوئے تھی۔بے حد مجبور ہوکر صابرہ نے جیسے ہارے ہوئے انداز میں اس کے برابر سے اٹھ کر اقبال کا سہارا لیا۔
”چل یہاں سے، باہر جاکر سو… خبردار جو اس کمینی کے قریب بھی کوئی بھٹکا۔ اس کا تو میں معاملہ نمٹاؤں گا صبح… بس یہ رات گزرجائے… کتیا کی ساری حرکتیں ایک ہی بار میں بند ہوجائیں گی۔”
کنول اور منتشا کی نظروں نے اقبال کے قدموں اور سماعتوں نے اس کے الفاظ کا پیچھا کیا۔وہ دھک سے رہ گئی۔ اقبال اس کے ساتھ صبح صبح کیا کرنے والا تھا۔ کہیں وہ اسے زندہ جلانے والا تو نہیں تھا۔ سیکنڈوں میں اخبار کی سرخیاں اور شہ سرخیاں اس کی سوجی ہوئی آنکھوں میں گھوم گئیں۔
”ہاں بھلا اب اس کے سوا اس کے ساتھ اور کیا بھی کیا جاسکتا ہے۔”
صابرہ جیسے گھسٹتی ہوئی اس کے ساتھ کمرے سے باہر نکلی تھی۔
کنول نے نظریں گھمائیں اور اسے دیکھا۔ اس کی آنکھوں میں استہزاکے ساتھ ساتھ ایک عجیب سا اطمینان چھلک رہا تھا۔
”اپنے سارے معاملات تو، تو خود ہی نمٹاتی آئی ہے اب تک منی…. بتائے گی نہیں بھائی کو۔”
چند لمحوں بعد اس کی ہلکی سی ہنسی کمرے میں گونجی۔
منتشا کو اس کی ذہنی حالت پر شبہہ ہونے لگا۔ وہ ساتھ ساتھ کچھ گنگنا بھی رہی تھی۔
وہ کمرے میں پھیلی نیم تاریکی کو دیکھتی۔ آنے والے بل اور اپنی باقی بچ جانے والی دھڑکیں گننے لگی۔
******
آنے والے دنوں میں گھر والوں نے اس کا انوکھا ہی روپ دیکھا۔
نہ کسی سے بات نہ چیت، نہ لڑنا جھگڑنا نہ شور مچانا۔ مٹی کے مادھوکی مانند وہ کمرے کے ایک کونے میں بیٹھی رہتی۔ بے لگام سوچیں صبح سے دوپہر اور دوپہر سے شام تک کے سفر طے کرتی واپس اس کی بے بس کیفیت تک آ پہنچتیں۔لیکن اس صورت حال سے نکلنے کا فی الحال اسے کوئی راستہ دکھائی نہیں دیتا۔ اور یہی اس کااصل روپ تھا۔ہفتے بھر تک اس کی خاموشی کو جو لوگ اس کا سرینڈر سمجھ رہے تھے۔ وہ غلطی پر تھے۔ حالات کے آگے سر جھکانا اس کے نزدیک بدترین بزدلی تھی۔ اور وہ بزدل نہیں تھی۔
چپ رہ کر گھر والوں کی ہمدردی جیتنے کے پیچھے اس کی شیطانی ذہنیت کار فرما تھی۔ جو اسے مستقل اس گھر اور گھر کے ماحول سے فرار حاصل کرنے کے نت نئے راستے دکھاتی رہتی تھی۔ لیکن مشکل یہ تھی کہ اس پر پہرہ بہت سخت تھا۔ وہ انتظار میں تھی کہ گھر والوں کو ایک بار پوری طرح یقین آجاتا کہ اب وہ مزید کسی قسم کی کوئی غلط حرکت نہیں کرنے والی۔ وہ اسے پہلے کی طرف گھر سے باہر آنے جانے کی آزادی دے دیتے۔ جیسے اسکول کے زمانے میں حاسل تھی۔ تب اپنے رکے ہوئے سفر کو دوبارہ جاری کیا جاسکتا تھا۔ گو کہ اس میں ٹائم لگتا لیکن اس کے اندر صبر تھا۔
اس کی تصویر پکڑے جانا اور تصویر بھی اس قدر قابل اعتراض …. کوئی معمولی بات نہیں تھی۔اقبال اور نظام الدین کی نفرت اور غصہ بجا تھا۔ کومل کی خوشی اور اطمینان کی وجہ سے بھی وہ واقف تھی۔ یہ اس کی وہی بہن تھی۔ جس کو ایک بار اس پسپا کیاتھا۔ اس وقت یقینا کنول کے دل میں بھی اسے مارنے پیٹنے کی خواہش پیدا ہوئی ہوگی۔ جو اب جاکے پوری ہوئی۔
ایک صابرہ تھی۔ جو بس ان مشکل لمحات میں اس کی ماں بن گئی۔ جو اس کے خیال میں زندگی میں کبھی نہ بن سکی وہ اب بن گئی تھی۔ اور اب اس سب کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔اس کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ سترہ اٹھارہ سال کی عمر میں چالیس سالہ عورت والی سوچ رکھتی تھی۔ اس کی زندگی میں الہڑپن، شوخی، شرارت اور معصومیت والی چیزوں کا کوئی گزر نہیں تھا۔
وہ جان گئی تھی کہ صابرہ کب اور کہاں کمزور پڑتی ہے۔ اور کس طرح اس کے کام آسکتی ہے۔
وہ زندگی کو برتنا سیکھ رہی تھی لیکن غلط انداز میں۔ کیونکہ وہ ہر شخص پر رشتے کو صرف استعمال کرنا سیکھ رہی تھی۔
فی الحال اسے انتظار تھا وقت کے گزرنے کا۔ جب وہ صابرہ کے ذریعے گھر والوں کو یقین دلادیتی کہ میگزین میں چھپنے والی تصویر میں صرف چہرہ اس کا استعمال کیا گیا ہے۔ اور ایسا کرنا اب کمپیوٹر کے ذریعے بہت آسان ہوگیا ہے اسے مناسب وقت کا انتظار تھا۔ لیکن وقت اسے گنجائش دینے کو تیار نہ تھا۔ اسی لیے اس کا انتظار طویل ہونے سے پہلے ہی گھر میں اس کے رشتے اور شادی کی باتیں ہونے لگین۔
نظام الدین اور اقبال نے اس کا رشتہ کسی کو بھی کچھ بھی بتائے اور پوچھے بغیر طے کردیا تھا۔ کنول کی شادی نزدیک تھی۔ اور وہ اس کے ساتھ ہی اسے بھیدفع کردینے کا ارادہ رکھتے تھے۔
اس نے اقبال کے بار ے میں غلط سوچا تھا۔ وہ اسے زندہ جلانے والا نہیں تھا۔ اس نے اس کو زندہ دفن کردینے کا فیصلہ کیا تھا۔
******





تمام معاملات اس تیزی اور خوبی سے انجام پائے کہ اس کو بوکھلانے تک کا وقت نہ ملا۔
ان کے اپنے علاقے سے ذرا پرے ایک دوسری ”کھڈا کالونی” کا رہائشی کوئی پینتیس یا چالیس سالہ مرد تھا۔ وہ بچے تھے اور پہلی بیوی کو طلاق دے چکا تھا۔ آمدنی سب ضرورتِ تعلیم نا معلوم اور خاندان غیر دستیاب کی بنیادوں پر طے کیے جانے والے اس رشتے نے اس کا دماغ گھماکر رکھ دیا۔
پچھلی چوٹوں کا درد اگر اب تک معدوم ہوچکا ہوتا تو وہ یقینا ایسا احتجاج کرتی کہ اس کے جوڑوں کے ساتھ ساتھ اس گھر کی اینٹ سے اینٹ بجاڈالتی۔اور اینٹ سے اینٹ تو اسے بجانی ہی تھی۔ لیکن کسی اور طرح سے۔
فی الحال تو وہ خالد کی طوطا چشمی ملاحظہ کررہی تھی۔ وہ پہلے دن سے آج تک اسے کبھی گھر میں نظر نہیں آیا تھا۔ اس سے محبت کے بلند و بانگ دعوے کرنے والا، جب ثابت کرنے کا وقت آیا تو خدا جانے کہاں جا چھپا۔اسے کسی سے کوئی امید باقی نہیں بچی تھی۔
اسے اپنے گھر پر میدان جنگ کا سا گمان ہوتا۔ اور خود پر اس جنگ کے میدان میں تن تنہا دشمن کی فوج کے آگے کھڑے سپاہی کا۔ گھر ٹھیک ہے…
اب جنگ تھی تو جنگ ہی سہی…. اسے یہ جنگ جیتنی ہی تھی۔ اپنی زندگی اپنی بقا کے لیے۔ وہ کسی دوہا جو… رنڈوے کی بچوں کی سوتیلی ماں بن کر زندگی بھر ان کو گالیاں دیتے اور ان کی کٹ لگاتے ساتھ میں اپنے جاہل شوہر کی مار کھاتے ہوئے نہیں گزارسکتی تھی۔
اسے یہ جنگ اپنی ذہانت سے جیتنی تھی۔ اپنی حکمت عملی سے جیتنی تھی۔ کسی طرح…. اور کب…. اس کا فیصلہ اس نے چند دن کی ذہنی محنت کے بعد بالآخر خود کر ہی لیا تھا۔
ایک دو دن صابرہ کے سامنے دبا دبا احتجاج کرنے کے بعد بالآخر اس نے بظاہر گھر والوں کی مرضی کے آگے سر جھکادیا۔ اور گھر والے سمجھے کہ وہ واقعی راہ راست پر آگئی ہے۔ اس کے عمل سے سب سے زیادہ خوش کنول تھی۔ وہ پہلے بھی منتشا کو اپنی دیورانی کے روپ میں دیکھتے ہوئے گھبراتی تھی۔ اب تو اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ رہا تھا۔ کیونکہ یاور شادی کے بعد سعودیہ جانے والا تھا۔ کچھ عرصے بعد وہ خالد اور کنول کو بھی اپنے پاس بلانے کا ارادہ رکھتا تھا۔ بھلا منتشا جیسی بدکردار لڑکی اس قابل تھی کہ اسے اتنے مقدس شہروں والے ملک میں رہنے کی جگہ ملتی۔ اسے جو مل رہا تھا وہ اس کے حساب سے بالکل ٹھیک تھا۔ اور وہ اسی کے قابل تھی۔ خالد جیسے جوان، قبول صورت لائق اور ملازمت یافتہ شخص کے بجائے اگر وہ کسی سلیم، امجد یا مختار نامی موٹے توند و آدمی کی دوسری بیوی بننے جارہی تھی۔ تو یہ اس کی کرنی کا پھل تھا۔
دوسری طرف وہ خود تھی۔ جس کی عمیق نگاہوں سے کنول کی خوشی چھپ نہیں سکی تھی۔ اس نے اسی دن اس کو سبق سکھانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ کیونکہ اس کے خیال میں کنول اس کا پہلا سبق بھول چکی تھی۔ وہ ان شاگردوں میں سے تھی۔ جنہیں ہر بار جب نیا چیپٹر پڑھایا جاتا ہے۔ تو پرانے کا حوالہ نہیں دیا جاتا ورنہ وہ سب گڑبڑ کردیتے ہیں۔
اسے شادی نہیں کرنی تھی یہ طے تھا۔ اسے واپس جانا تھا اس نے سوچ لیا تھا۔ چاہے اسے اس کی کوئی بھی قیمت چکانی پڑتی اور… جانے سے پہلے اسے کنول کو سبق سکھانا تھا۔ اس نے خود سے عہد کرلیا تھا۔
اور کوئی انسان نہیں جانتا تھا۔وہ جب کوئی بات طے کرلیتی تھی تو مرکر بھی اس پر عمل کرتی تھی۔ وہ جب کچھ سوچ لیتی تھی تو اسے بھول نہیں سکتی تھی۔ اور خود سے کیا گیا عہد توڑنا اس کے لیے مرجانے سے بھی مشکل تھا۔
******





لاکھ احتجاج منت … اور سماجتوں کے بعد بھی بالآخر آج وہ دن آگیا تھا۔ جب وہ کنول کی طرح ایک سادے پیلے جوڑے میں ملبوس اس کمرے کے کونے میں جلتی کڑھتی بیٹھی تھی۔
کنول کے مایوں حسب توفیق بڑے اہتمام سے منایا گیا تھا۔ اس دوران خالد اور خالد کے گھر والوں نے اسے یوں نظر انداز کیے رکھا جیسے اس نے سلیمانی ٹوپی پہنی ہوئی ہے۔ وہ نہ کسی کو دکھائی دی تھی۔ نہ اس کی موجودگی کسی کے لیے کوئی بات تھی۔
وہ اندر کمرے میں پڑی آنے والے حالات و واقعات کے مطابق اپنی حکمت عملی کے تانے بانے بنتی رہی۔ اور باہر اس کی بہن کو ہلدی تیل اور ابٹن لگایا جاتا رہا۔ اپنی زندگی، خونی اور غیر خونی تمام رشتوں سے بیزار تو وہ پہلے ہی تھی۔ اس دن کے بعد سے شدید نفرت میں مبتلا ہونے والی تھی۔ وہ جانتی تھی۔
جس وقت نظام الدین کمرے میں آکر خاص طور پر اس کے سامنے یہ اعلان کررہا تھا کہ وہ کسی رسم میں شریک ہوگی نہ کمرے سے باہر آئے گی۔ نہ کسی مہمان کو اس تک رسائی دی جائیگی۔ منتشا اپنے دل میں اس کے لیے دشمنی کا ایک عجب طوفان اٹھتا محسوس کررہی تھی۔اس کا بس نہیں چلتا تھا کہ اٹھ کر اپنے باپ کا گریبا ن جھنجھوڑ ڈالے۔ چلاچلا کر پوری دنیا کو بتادے کہ وہ اس شادی کے لیے راضی نہیں۔ لیکن وہ جانتی تھی کہ اس کا نتیجہ کیا نکلنا تھا۔ تھوڑی سی مار، لاتیں، … گھونسے اور تھپڑ اور اس کا مقدر بن جاتے۔
اسے اب مزید مار نہیں کھانی تھی۔ اسے یہاں سے نکلنا تھا۔ اس طرح کہ اس کے بعد اسے دوبارہ کبھی اس دہلیز تک نہ آنا پڑے۔
اسی دوران جب اسے کمرہ بند کرکے گھر والے باہر اسے گھر کی دوسری بیٹی کی شادی کی خوشیاں منارہے تھے۔ اس نے سات پردوں میں چھپاکر رکھی اپنی سم نکالی اور اسے خون میں لگالیا۔ فون البتہ ابھی بند ہی پڑ اتھا۔ گھر والوں کو علم نہیں تھا کہ چاچا نے اسے کوئی فون و ون بھی دلایا تھا۔ اور چاچی سے اس نے ان کے گھر سے نکلتے ہی یہ بہانہ بنایا تھا کہ اس کا فون اس کی کالج کی دوست کے پاس رہ گیا ہے۔ وہ اس بہانے ان سے کالج جانے کی اجازت مانگنا چاہتی تھی۔ اجازت تو نہ ملی۔ البتہ اس کا موبائل بچ گیا۔ اور چاچی نے غالباً اس فون پر فاتحہ پڑھ لی ہوگی۔ یہ ایک ہی بات اس کے حق میں گئی۔ اور فی الحال اسے اپنی نجات کا ذریعہ لگ رہی تھی۔
فوری طور پر اسے تبسم آفاق راؤ اور اس فوٹو گرافر سے رابطہ کرنا تھا۔ جس کا پورا نام جیز نے اسے الطاف سمراٹ بتایا تھا اور جو خود کو طیفی کہلوانا پسند کرتا تھا۔
تقریب کے اختتام تک اس کی توقع کے عین مطابق گھر والے اس قدر تھک چکے تھے کہ بستروں پر گرتے ہی انٹ غفیل ہوگئے۔
گو کہ رات گہری ہوچکی تھی لیکن اس کے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ اس وقت اس سے رابطہ کرے۔
بلی کی سی چوکنی چال چلتی وہ کمرے نکل کر سیڑھیاں پھلانگتی، جھٹ پر بنے اکلوتے کمرے کی لائٹ جلانی تھی۔
لیکن….
وہ جہاں کی تہاں کھڑی رہ گئی تھی۔
وہ کمرے جو کل تک صرف کاٹھ کباڑ کا مصرف تھا۔ اس وقت مہنگی قیمتی اور نئی نکور اشیاء سے بھرچکا تھا۔
”اتنا سامان۔”
قیمتی جگمگاتا سفید اور گلابی رنگت کا فرنیچر، ڈریسنگ، ڈیوائیڈر گو کہ ایک کونے میں گھسائے گئے تھے لیکن اس پورے مضمون کے عنوان تھے۔
وہ کس مقصد سے آئی تھی بالکل ہی بھول گئی۔
اس نے قریب جاکر ایک بے ارادہ ہاتھڈریسنگ ٹیبل کے کنارے پر پھیرا۔ پھر دوسری نگاہ کمرے کی دوسری چیزوں پر ڈالی۔
پیڈسٹل فین، ڈنرسیٹ، اور دوسری طرح کے برتن، سلائی مشین، کے ڈبے…. رضائیوں کے تھیلے اور تو اور ایک چھوٹے سائز کا ٹی وی بھی… پیٹ کاٹ کاٹ کر صابرہ نے کتنا سامان جمع کرلیا تھا۔
”یہ سب صرف کنول کے لیے… اور میرے لیے…”
ایک زہریلی سوچ نے ناگن کی طرح پھن اٹھاکر اسے ڈسا۔ وہ جیسے ہوش کی دنیا میں واپس آئی۔
”ہونہہ….” اس کے اندر کوئی الاؤ سا دہکنے لگا۔
سب چیزوں پر لعنت بھیج اس نے فون آن کیا اور لائٹ بجھاکر کونے میں جا بیٹھی۔ دو تین بار تبسم کو کال ملاتی لیکن ریسیو نہیں ہوئی۔ اسپر دو حرف میسیج کر اس نے طیفی کا نمبر دبایا۔
کافی دیر بعد فون ریسیو کیا گیا۔ طیفی سمراٹ یقینا پوری طرح نیند میں تھا۔ بے وقت اٹھائے جانے پر اس کے حواس جاگنے میں وقت لگا۔ پھر منتشا کو اسے خود کو یاد دلانے میں اس سے بھی زیادہ…. لیکن آگے سے اس نے جو بات کی۔ اس سے منتشا کے اپنے حواس جاتے رہے۔
وہ خفا تھا کہ فوٹو شوٹ ڈیٹ اور ٹائم دے کر ایڈوانس پے منٹ لے کر خود جانے کہاں غائب ہوگئی۔
”کیا …. کیا… پے منٹ کیسی۔ میں نے تو کوئی….”
وہ بھرا بیٹھا تھا۔ اس کے پاس اس کی وضاحتیں اور صفائیاں سننے کا ٹائم نہیں تھا۔ اس کا اصرار تھا کہ اس نے نہ چاہتے ہوئے بھی جیز کے کہنے اور منتیں کرنے پر اسی کے ہاتھ اسے پیسے بھجوائے تھے۔ یہی نہیں بلکہ اس نے پہلی تصاویر کے لیے بھی رقم مانگی تھی۔ اور اسی شرط پر تیار ہوئی تھی کہ اگر وہ اسے پے کرے گا تو وہ اسے اس کی مرضی کے مطابق کام کرکے دے گی۔
اس کی سماعتیں سن ہونے لگی۔ کمرے میں موجود تاریکی بڑھنے لگی تھی۔
جیز نے اس کے ساتھ کس صفائی اور چالاکی سے دھوکہ کیا تھا۔ اسے علم بھی نہیں ہوا اور وہ اس کے نام پر پتہ نہیں کتنی رقم اس فوٹو گرافر سے لے چکی تھی۔
وہ ایک تیسرے درجے کا فوٹوگرافر تھا۔ اس کا کام بھی ایسا ہی چل چلاؤ تھا۔ فقط زبانی کلامی وعدوں ارادوں اور ان ارادوں کی گندی تکمیل میں کسی کے کاغذی کارروائی، سائن انگوٹھے اور لکھا پڑھی کی ضرورت نہیں ہوتی تھی۔ اتنا تو وہ جان ہی گئی تھی۔ اور آخری دنوں میں جیز اسے دوسرے شوٹ کے لیے دھیرے دھیرے تیار بھی کرنے لگی تھی۔
اگر درمیان میں اتنا بڑا بریک نہ آجاتا تو آج یقینا ان لڑکیوں کی فہرست میں اس کا بھی نام ہوتا جو جسم فروشی کے کرکے پیسہ کماتی ہیں۔ یہی ان کا ذریعہ معاش ہوتا ہے۔ ابتداء میں زبردستی اور بعد میں یہ کام ان کی مجبوری بن جاتا ہے۔ جسے معزز دنیا والے ”دھندے” کے نام سے یاد کرتے ہیں۔
طیفی نے اسے سخت سخت سنانے آئندہ فون نہ کرنے کی ہدایت اور اپنی رقم واپس کرنے کی دھمکی دینے کے بعد، اس کی کوئی بھی بات سنے بغیر فون بند کردیا تھا۔
اس کا دماغ ماؤف ہونے لگا۔ آتے ہوئے جاڑے نے فضا میں ٹھنڈک بھر دی تھی۔ لیکن وہ اس وقت سر سے لے کر پیر تک پسینے میں نہاگئی۔ اسے لگا اس کے چاروں طرف کی زمین دلدل بن چکی ہے۔ اور اب رسمیں دھنسنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔اس نے وہیں بیٹھے بیٹھے اپنے حواس مجتمع کیے۔ خود کو یقین دلایا کہ وہ . ہیجڑا نما آدمی دھمکی سے آگے اس کا کچھ نہیں بگاڑسکتا۔لیکن اسے ہر صورت میں جیز تک رسائی چاہیے تھی۔ اور جیز….
دل ہی دل میں اسے دوچار موٹی موٹی گالیوں سے نوازنے کے بعد جب وہ اٹھ کر باہر نکلی۔ تو اس کے دل کی کیفیت بالکل بدلی ہوئی تھی۔طیفی کے انکشافات نے چند لمحوں کے لیے جس طرح گھبرایا تھا۔ اب اس گھبراہٹ کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔جیز نے یقینا اس کے اس طرح منظر سے غائب ہوجانے پر، اطمینان کا سانس لیا ہوگا۔ اس کا کام ہوگیا تھا۔ اسے چند دن عیش کرنے کے لیے مزید رقم مل گئی تھی۔ اور راستے کا کانٹا بھی ہٹ گیا تھا۔ اب طیفی جانے اور وہ گمشدہ ٹیشا….
مگر جیز ایک بات بھول گئی تھی۔ کہ ٹیشا نہ کچھ بھولتی ہے۔ نہ معاف کرتی ہے۔ اس نے شدید بے بسی کی کیفیت میں اپنی بہن کو معاف نہ کیا۔ جو اس کی حالتِ زار پر محفوظ ہوکر ہنسی تھی۔ تو پھر وہ جیز کو کیسے معاف کرسکتی تھی۔ جو اس کے غائب ہونے کے بعد سے لے کر اب تک اسے یاد کرکے ہنستی ہوگی۔موبائل کھول کر سم نکالنے سے، سیڑھیاں اترکر واپس کمرے میں آنے تک وہ طے کرچکی تھی کہ اسے کیا کرنا ہے۔ کب کرنا ہے۔ اور کیوں کرنا ہے۔
******
اگلا دن اس کی زندگی میں ایک نیا باب رقم کرنے کا تھا۔
سب گھر والے بشمول صابرہ اور نظام الدین کے پڑوس میں خالد کے گھر جارہے تھے۔ آج یاور کو مایوں بٹھا نا تھا۔ اور اس کے بارات اور ولیمے کے جوڑے تیار تھے۔ اس کے علاوہ بھی سوٹ گھڑی، شیونگ کٹ پرفیوم اور دوسرا ڈھیروں سامان تھا۔




Loading

Read Previous

باغی — قسط نمبر ۴ — شاذیہ خان

Read Next

گلّو اور لومڑ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!