Tag: afsana

  • گلانے — صوفیہ بٹ (قسط نمبر ۴ — آخری قسط)

    گلانے — صوفیہ بٹ (قسط نمبر ۴ — آخری قسط)

    نورالحسن دو دن کے لیے لاہور گیا تھا ۔ ولی اپنے آپ کو آزاد محسوس کر رہاتھا ۔ آج وہ دیر رات تک دوستوں میں بیٹھ سکتا تھا ۔ وہ آدھی رات تک مغیث ، فیضان اور دانش کے ساتھ بیٹھا رہا ۔ فیضان تو نو بجے ہی اٹھ کر چلا گیا تھا ۔ اس کے جانے کے بعد دانش نے اپنے لیپ ٹاپ پر جو فلم لگائی تھی۔ اس کے بعد ولی گھر جانا بھول گیا تھا۔ حالانکہ امی کا فون دو با ر آچکا تھا ۔
    ”گُلانے ! امی کو سلا دو پلیز، مجھے دیر لگے گی ۔ ضروری اسائن منٹ بنانی ہے ۔”ولی نے جھوٹ بولتے ہوئے گُلانے سے کہا۔
    نور الحسن گھر نہیں تھا اور پھر ولی بھی گھر سے باہر امی کو نیند بھلا کب آنا تھی ؟گُلانے نے امی کو بڑی مشکل سے مطمئن کر کے سلایا اور خود کتابیں لے کر بیٹھ گئی ۔ وہ آج کل انٹری ٹیسٹ کی تیاری کرر ہی تھی ۔ گیارہ بجے نورالحسن کی کال آئی تھی ۔وہ بہت خوش تھا ،اس کا انٹر ویو بہت اچھا ہوا تھا ۔
    ”میں امی ، ولی اور تمہیں بہت خوشیاں دینا چاہتا ہوں ۔” نور الحسن کے خواب لفظ بن رہے تھے، اس کی خوشی اور طمانیت اس کے لہجے سے عیاں تھی اور گُلانے کے لیے نہال ہونے کو یہ ہی کافی تھا۔
    ”ان شا اللہ ”
    ”گُلانے ! ” کال بند کرتے کرتے اس نے دھیمے سے لہجے میں پکا ر ا ۔
    ”جی۔ ” وہ ہمہ تن گوش تھی۔
    ”لو یو یار۔” اس نے پہلی بار یوں اظہارِ محبت کیا تھا۔ گُلانے کے چہرے پر رنگ ہزار بکھرے ۔ وہ بہت کم اظہار کرتا تھا اور جب کرتا تھا تو جان لیوا کرتا تھا ۔
    اب پڑھنا کیا خاک تھا ۔ ہینڈ آؤٹ پر لکھا ہوا تھا ” Coulomb’s Law” اور اسے نظر آرہا تھا ۔” لویو یار۔”
    وہ موتیے کی کلیوں کو دیکھ دیکھ مسکاتی رہی ۔
    ڈیڑھ بجے ولی کا میسج آیا ۔
    ”دروازہ کھولو مگر آہستہ سے امی نہ جاگ جائیں ۔”
    ” امی جاگیں نہ جاگیں ، نو ر ا لحسن کو ضر و ر بتا ؤ ں گی۔ ‘ ‘ اس نے دروازہ کھولتے ہی دھمکی دی۔
    ”تمہارا اور کام ہی کیا ہے ؟ ” وہ آہستہ سے قدم بڑھانے لگا ۔
    ”کہاں تھے ؟” وہ کمر پر ہاتھ رکھ کر تفتیش کرنے لگی تھی۔
    ”کمبائن اسٹڈی کر رہے تھے۔ ” وہ آہستہ سے بتا کرڈھیلے قدموں سے اپنے کمرے کی طرف بڑھا ۔
    ”تمہیں ذرا احساس ہے ، تم امی اور نور الحسن کو کتنا پریشان کرتے ہو ۔”گُلانے نے اسے احساس دلانے کی کوشش کی۔
    ”جان مت کھاؤ اور سو جاؤ ۔”وہ الہڑ پن سے بولا۔
    و ہ اپنے کمرے میں چلا گیا ۔ گُلانے کو پتا تھا کہ کھانا تو وہ کھا کر ہی آیا ہو گا ۔ اس لیے اس کے لیے رکھے آم پلیٹ میں رکھ کر اس کے کمرے میں چلی آئی ۔ آم ولی کو اتنے پسند تھے کہ اسے کھانے کے لیے وقت دیکھناضروری نہیں تھا۔
    ”آم کھا لو ، ٹھنڈے ہیں ۔” ولی اپنے موبائل میں گم تھا جب وہ کمرے میں داخل ہوئی اور پلیٹ اس کے قریب رکھ کر مڑی اور کمرے سے باہر نکلنے لگی تھی کہ ولی نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔
    ٭٭٭٭٭

    اس کے سامنے بریانی کی پلیٹ پڑی تھی۔
    وہ کل صبح سے بھوکا تھا ۔ اس وقت کھانا اس کے سامنے پڑ ا تھامگر وہ نوالہ لینا بھولا ہواتھا ۔اس کی نگاہ کے سامنے ایک منظر بار بار آتا ۔
    ثریا مقصود اس کی طرف بڑھ رہی تھی، اس کی آنکھوں میں ہوس تھی۔ ولید کو لگ رہا تھا کہ قیامت سر پر ہے ۔ایسے ہی ڈری ہو گی وہ بھی۔ ایسی ہی قیامت محسوس ہوئی ہو گی اُسے بھی۔
    ایسے ہی اپنے آپ کو چھڑوا کر بھاگی تھی وہ بھی۔
    وہ مرد تھا ، اپنی عزت بچانے کے لیے بھاگا تھا ، وہ تو عورت تھی ،اس پر کیا بیتی ہو گی۔
    وہ رو دیا ۔ وہ میز پہ رکھے بازو پر سر ٹکا کر بچوں کی طرح رو دیا ۔ نورالحسن اور ماں کا لاڈلا ولی رو رہا تھا اورچپ کرانے والا کوئی نہ تھا ۔
    ویٹر نے ترس بھری نگاہوں سے اس کی طرف دیکھا تھا ۔
    ” آئی ایم سوری گُلانے … مجھے معاف کر دو… پلیز مجھے معاف کر دو۔ ” وہ روتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔
    ”بھائی …بھائی مجھے آپ سے بہت محبت ہے … میں آپ کو دیکھنا چاہتا ہوں … آپ کے گلے لگنا چاہتا ہو ں … آئی لو یوبھائی ۔ یو ہیٹ می ؟ آپ کا ولی بہت بُرا ہے … بہت بُرا۔ اب آپ اس کو سینے سے لگا کر اس کا سر کیسے چوم سکتے ہیں ؟پھر بھی پھر بھی میں روز خواب دیکھتا ہوں کہ آپ میرا ماتھا چوم رہے ہیں … ہا ہا ہا …” وہ ہنس دیا ۔ دوسری ٹیبل پر آرڈر لیتے ہوئے ویٹر کا دھیان پھر اس پر مبذول ہوا ۔
    ”پاگل ہوں نا میں … خواب بھی کیا دیکھتا ہوں … بھائی خواب بھی نہ دیکھوں تو کیا کروں؟ آپ نظر تو آتے ہیں خواب میں سہی۔ ” وہ وہیں سر رکھے بولتے بولتے سو گیا تھا ۔
    ہوٹل کے عملے میں سے کسی نے اسے جگایا نہیں تھا ۔انسانیت ابھی بھی دنیا میں سانس لیتی تھی۔
    ٭…٭…٭
    یہ جو ابلیس ہے نا اس نے ایک لڑکے کا پیچھا لے لیا تھا جس کو اس دنیا میں سب سے زیادہ عزیز اس کا بڑا بھائی تھا ۔ ابلیس سے بھائی بھائی کی محبت برداشت نہ ہوئی تھی ۔
    اس نے بڑی پرانی چال چلی تھی۔
    اس چال کا نام تھا … عورت
    عورت … جس کے پیچھے قابیل نے ہابیل کا خون کر ڈالا ۔
    شیطان کے حربے بدلتے ہیں’ مگر مہرے اکثر وہی رہتے ہیں ۔ا س نے جال بنا اور ولید الحسن پر پھینک دیا ۔
    وہ لڑکی جو اس کے بھائی کی ہونے والی بیوی تھی، جس کے لیے وہ بھائیوں جیسی غیرت رکھتا تھا، اگر کوئی دوست مذاق میں بھی گُلانے کا نام لے دیتا یا اس کے حسن کا قصیدہ پڑھتا’ تو اس کا چہرہ لال ہو جاتا۔ جس نے پہلے مذاق پر ہی اپنے دوستوں کو سختی سے کہہ دیا تھا کہ آئندہ وہ گُلانے کا نام بھی اپنی زبان پر نہ لائیں ، وہ اسے اپنی بہن جیسی عزیز ہے ۔ گھر آ کر اس نے تپے ہوئے چہرے کے ساتھ گُلانے سے کئی بار کہا تھا کہ وہ پردہ کیا کرے ۔ اس کے کہنے کو وہ مذاق میں ٹال جاتی تھی مگر نور الحسن نے جانے کیا کہا تھا کہ وہ پردہ کرنے لگی تھی۔ اسے اچھا محسوس ہوا تھا ، اب اس کے دوستوں کی فضول نظریں اس لڑکی پر نہیں پڑیں گی جو اسے بہن جیسی عزیز تھی۔ جس کے لیے اس نے اپنے کزن فدا کو اتنا مارا تھا کہ وہ دس دن بستر سے نہ اٹھ سکا تھا ۔ اس کی غلطی یہ تھی کہ وہ انجان نمبروں سے کال کر کے گُلانے کو تنگ کرتا تھا ۔ اسے لگتا تھا کہ وہ پکڑا نہیں جائے گا مگر ولی اس تک پہنچ گیا تھا ۔اسے مارتے ہوئے ولی بھول گیا تھا کہ وہ اس کی خالہ کا بیٹا ہے ، اس سے چار سال بڑا ہے ۔ حرکت جو اس نے چھوٹی کی تھی۔
    مگر اس نے ، ولید الحسن نے خود کیا حرکت کی تھی؟وہ بہن جیسی تھی ، بہن نہ تھی ۔تبھی تو وہ بہک گیا تھا ۔
    کالج تک وہ شرارتی مگر صاف ستھرے خیالات کا مالک تھا۔ یونیورسٹی آتے ہی دانش اور مغیث کی معیت میں جو بیٹھنے لگا تو بہک گیا ۔ فیضان اسے سمجھاتا تھا ، نور الحسن اسے سمجھاتا تھا اور ڈانٹتا بھی تھا مگر اسے بھائی کی نصیحتیں اب بری لگنے لگی تھیں، فیضان کے سمجھانے پر وہ چڑنے لگا تھا ۔د ا نش کے پا س لیپ ٹاپ تھا ا و ر لیپ ٹا پ میں ا ک دنیا تھی ۔ وہ دنیا جو سمجھاتی کم اور بہکاتی زیادہ ہے۔
    اس دن نو را لحسن گھر پر نہیں تھا ۔ اس لیے ولی کو بھی عیاشی کا موقع ملا تھا۔پڑھائی کا تو بہانہ تھا۔ رات گئے وہ لیپ ٹاپ پر شیطانی تماشے دیکھتے رہے ۔ جب وہ رات کو اُٹھ کر گھر کی طرف جا رہا تھا تو دماغ بہکا بہکا سا تھا ۔ پراگندہ سوچوں نے اس کے دماغ کو جکڑا ہوا تھا ۔ گُلانے نے دروازہ کھولا تھا اور اس سے سوال جواب کرنے لگی۔ اس کے کندھے سے دوپٹا سرکا تھا جسے اس نے درست کر لیا تھا’ مگر اس کی شفاف گردن پر سیاہ تل اس کی نگاہ میں آ گیا تھا ۔
    وہ اس کے بھائی کی ہونے والی بیوی تھی، اس کے لیے بہن جیسی تھی۔
    خود کو ڈپٹتے ہوئے وہ جلد ی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا ۔ اس نے اپنی پراگندہ سوچوں سے چھٹکارہ پانے کی کوشش کی ۔ ایسی وڈیوز دیکھنے کے بعد وہ بعد میں شرمندہ ہوتا تھا ، توبہ کرتا تھا ۔ مگر جب سے موبائل ہاتھ آیا ،وہ شرمندگی بھی بھول گیا اور توبہ بھی۔
    گُلانے اس کے کمرے میں آم لے کر آئی تھی۔ وہ جانتی تھی کہ اسے آم بہت پسند ہیں ، وہ یہ نہ جانتی تھی کہ اس وقت وہ کس قدر بہکا ہوا ہے ۔ اس کی ذہنی پراگندگی سے بے خبر وہ آم کی پلیٹ اس کے پاس رکھ کر پلٹنے لگی۔
    پتا نہیں کیا ہوا کہ ولی کو اس پل بھول گیا کہ وہ اس کی بہن جیسی ہے وہ اس کے بھائی کی ہونے والی بیوی ہے ۔گُلانے اس کو گھورتے ہوئے مڑی تھی اور پھر اس کی آنکھوں میں وحشت دیکھ کر دہشت زدہ ہو گئی ۔
    اس وقت وہ ولی نہ تھا ، اس وقت وہ شیطان کی کوئی صورت تھا ۔
    وہ لرز اُٹھی تھی۔
    ولی نے اسے کھینچ کر اپنے قریب کیا تھا ۔
    ”ولی ……”
    اس نے پھٹی آنکھوں بے یقینی کے عالم میں اس کانام لیا تھا اورولی نے اس کے منہ پہ ہاتھ رکھ کر مزید بولنے سے روک دیا تھا ۔
    اس کی آنکھوں میں شیطانیت تھی، اس کی چہرے پر مکروہ پن تھا ۔
    اس نے کبھی ولی کا یہ چہرہ نہ دیکھا تھا ۔ وہ دہل گئی تھی۔ اس نے اپنے بچاؤ کی کوشش کی ‘مگر اس کی گرفت مضبوط تھی۔
    ”اللہ … اللہ۔” ا س نے اپنے رب کو پکارا تھا ۔ کوئی نہ تھا جو اس کی مدد کو آتا۔
    اپنے آپ کو بچانے کی کوشش میں ایک انگلی ولی کی آنکھ میں بہت زور سے لگی تھی۔ وہ اسے چھوڑ کر پیچھے ہوا اور ایک ہاتھ سے اپنی آنکھ مسلنے لگا۔ اس کے دوسرے ہاتھ کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی’تو گُلانے خود کو چھڑا کر بھاگ گئی۔
    ولی ایک دم جیسے ہوش میں آیا تھا ۔اس کے اندر کے شیطان نے اس کے ا ند ر کے انسان کو مار دیا تھا ۔
    وہ اپنے ہاتھوں میں سر تھام کر بیٹھ گیا ۔ کیا ، کیا تھا اس نے … کیا کرنے جا رہا تھا وہ۔وہ آدھا گھنٹا یوں ہی بیٹھا رہا تھا ۔
    صبحہونے والی تھی۔ گُلانے امی کو بتائے گی ، بھائی کو بتائے گی اور پھر … پھر ۔
    اس سے آگے وہ سوچ نہ سکاتھا ۔ وہ تیزی سے اُٹھا اور یوں ہی اسی حال میں گھر سے نکل گیا ۔
    ٭…٭…٭
    ولی اس گھر سے نکل آیا تھا۔ اب کبھی وہ وہاں قدم نہیں رکھ سکتا تھا ۔ جو خطا اس سے ہوئی تھی وہ قابلِ معافی نہ تھی ۔ وہ خائن تھا، اس نے اپنے بھائی کی امانت میں خیانت کی تھی۔ وہ بھائی جس نے ایک باپ سے زیادہ اس کا خیال رکھا ۔ جس نے بن کہے اس کی ہر ذمے داری اُٹھائی ، جس کے فرائض اتنے نہ تھے جتنے اس نے نبھا ڈالے ۔ اس کی زندگی میں امی اور بھائی ہی تھے، ابو کی صورت تک اسے یاد نہ تھی۔وہ بہت چھوٹا تھا جب اُن کا انتقال ہو گیا ۔بھائی نے ہی باپ کا کردار ادا کیا ، اچھا برا سمجھایا، ضرورتیں پوری کیں ، فرمائشیں پوری کرنے کی کوشش کی ۔وہ امی اور بھائی سے بہت پیار کرتا تھا ۔
    وہ خطا وار تھا ۔ ابلیس کے کھاتے اپنا گناہ ڈال کر مطمئن نہیں ہو سکتا تھا ۔
    وہ دوبارہ گھر واپس نہ گیا ۔ وہ اس شہر ہی سے چلا گیا تھا، جیب میں چند ہزار تھے ۔ وہ اپنے ایک پرانے کلاس میٹ کے گھر گیا تھا ، کچھ عرصہ اس کے پاس رہا ۔ پھر احساس ہوا کہ یوں کسی پر بوجھ بن کر زندگی نہیں گزرنے والی ۔اس نے کئی چھوٹی موٹی ملازمتیں کیں اور ایک ایسے فلیٹ میں رہنے لگا تھا جہاں دوسرے شہروں سے روزی روٹی کی تلاش میں آئے لڑکے رہتے تھے ۔ ایک کمرے کا کرایہ چار لڑکے شیئر کرتے تھے۔ زمین پر سوتے ہوئے اسے اپنے گھر کے نرم گرم گدے یاد آتے ۔ بسوں پر دھکے کھاتے ہوئے وہ بائیک یاد آتی جو بھائی نے میٹرک کا اچھا رزلٹ آنے پر اسے گفٹ کی تھی۔ خود کھانا بناتے ہوئے امی کے ہاتھ کا ذائقہ یاد آتا ، گُلانے یاد آتی جو اس کی فرمائشیں پوری کرتی تھی۔

  • گلانے — صوفیہ بٹ (قسط نمبر ۳)

    گلانے — صوفیہ بٹ (قسط نمبر ۳)

    آخر ایک ماہ کی محنت کے بعدگُلانے کا مشن پایہ تکمیل کو پہنچا ۔ وہ بہت خوش تھی۔ نور الحسن کی سالگرہ کے دن وہ اسے اچھا تحفہ دے سکتی تھی۔ نور الحسن کو ن سا سالگرہ مناتا تھا ۔ جو بھی اسے وش کر تا ، وہ شکریہ ادا کر کے یہ دن بھول جاتا ۔در اصل ان کے گھرانے میں سالگرہ منانے کا رواج ہی نہ تھا ۔ اب چند سال سے ولی کیک لے آتا اور بارہ بجتے ہی ان کے کمرے میں پہنچ جاتا ۔ اس دن امی بھی جاگتی رہتیں، وہ تو شرما ہی جاتا ، اب اس عمر میں سالگرہ کیا منانا ۔ کیک بھی ولی کاٹتا ، امی اور اسے کھلاتا بھی وہی۔ ولی امی کی سالگرہ کا دن بھی یا د رکھتا اور خاص طور پر ان کے لیے پاکٹ منی سے تحفہ لے کر آتا ۔ نو ر الحسن کو لگتا تھا کہ ولی امی کا خیال رکھنے میں اس سے سبقت لے جاتا ہے ۔ اس کی ولی سے محبت اور بڑھنے لگتی۔
    اس سال جو نور الحسن کی سالگرہ کا دن آیا تو گُلانے اس کے لیے تحفہ لے کر آئی تھی۔ وہ صبح آفس جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا جب وہ شرماتی جھجکتی ہاتھ میں ایک چاندی کے ورق میں لپٹا ہوا ڈبا لیے کمرے میں د ا خل ہو ئی ۔ اسے دیکھ کر نور الحسن کے چہرے پر مسکراہٹ در آئی ۔
    اب اسے دیکھنا اور بار بار دیکھنا اسے اچھا لگتا تھا ۔
    ”یہ آپ کے لیے ۔ ” نورالحسن سے بے جھجک ہر بات کہہ دینے والی اب شرمانے لگی تھی۔
    نور الحسن نے ڈبا تھا م لیا ۔ اسے یاد آیا کہ رات جب بارہ بجے کے بعد ولی ، امی اور وہ کیک لیے اسے وش کرنے آئے تھے تب بھی ولی کسی تحفے کا ذکر کر رہا تھا ۔
    ”لوگوں نے آپ کے لیے بڑے دل سے تحفہ بنایا تھا مگر دیا نہیں … شاید ہم سے چھپ کر دینے کا ارادہ ہے ۔ ”وہ شرماتی اور ولی کو گھورتی رہی تھی۔
    رات والا منظر یاد کر کے نور الحسن مسکراتے ہوئے پیکنگ کھولنے لگا۔
    ” تو یہ ہے وہ تحفہ جس کا ذکر ہو رہا تھا رات ۔”گُلانے نے مسکرا کر سر ہلایا۔
    نورالحسن ڈبا کھول چکا تھا ۔ اس میں ایک سفید سوئیٹر تھا ۔ اسے گُلانے کے ہاتھ میں اون سلائیاں یاد آئیں ۔ تو اس کے لیے کر رہی تھی وہ اتنی محنت ۔ اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ گہری ہوگئی اور اس نے سوئیٹر کھول کر اپنے سامنے کیا ۔
    ”یہ کیا ؟”اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں ۔
    سفید سوئیٹر پر سر خ رنگ کا دل۔
    ”اچھا نہیں لگا آپ کو ؟” اسے چپ سا دیکھ کر گُلانے نے پوچھا ۔
    ”نن نہیں … اچھا ہے … شکریہ ۔” اس نے سوئیٹر کو تہ لگاتے ہوئے ہلکا سا مسکرا کر جواب دیا۔گُلانے کو محسوس ہوا کہ وہ اس کا دل رکھ رہا ہے لیکن وہم جان کر اس نے یہ خیال جھٹک دیا۔
    ٭…٭…٭

    دونوں چھوٹے بھائی آپس میں جھگڑ رہے تھے۔ امی کچن ہی سے ڈانٹ رہی تھیں ۔ نئی نویلی بھابی چائے کے کپ ٹرے میں سجاتے ہوئے مسکرا رہی تھی۔ اس سارے منظر سے بے نیاز خز یمہ داؤد وہاں بیٹھ کر بھی کہیں اور پہنچا ہوا تھا ۔وہ اس دور سے گزر رہا تھا جہاں ہر سوچ ہر خیال ایک بندے پر آ کر ٹھہر جاتا ۔
    نور نے اسے اس مقام پر لا کھڑا کیا تھا جہاں سے قدم واپس پلٹتے تھے نہ ہی آگے کی راہ ملتی تھی۔ اس نے جو کھیل چیلنج سمجھ کر شروع کیا تھا، وہ اسے روگی کر دینے والا تھا، یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔اس نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک لڑکی کا خیال اس کے حواسوں پر اتنا طاری ہو گا کہ اس کے علاوہ کچھ اور سوچنا اچھا ہی نہیں لگے گا ۔ اور وہ لڑکی تھی کہ اسے گھاس نہیں ڈالتی تھی ۔ اس کے لیے خزیمہ کی حیثیت وہی تھی جو کلاس کے باقی لڑکوں کی تھی۔ پھر وہ ہی کیوں اس کے لیے پاگل ہوا جا رہا ہے؟ کبھی کبھی جھنجھلا جاتا مگر خود کو پابندِ سلاسل پاتا تھا ۔
    ”چائے ۔” شرماتی ہوئی بھابی نے اس کے سامنے ٹرے کی تو وہ چونکا۔اور شکریہ کہہ کر مگ تھام لیا ۔ چھوٹے بھائی بھی بھابی کے سامنے شرافت کا پیکر بن کر بیٹھ گئے ۔حتیٰ کہ پکوڑا بھی ایک ایک ہی اٹھایا۔
    ”اب خزیمہ کے لیے اچھی سی لڑکی تم نے ڈھونڈنی ہے ۔” امی نے بڑی بہو پر ذمے داری ڈالی تو حنظلہ رہ نہ سکا ۔
    ”ہمارے لیے بھی۔” شرما کر نظریں جھکا کر جو اٹھائیں تو بس اٹھی رہ گئیں ۔سامنے ابو کھڑے تھے ۔
    ”خزیمہ کے لیے لڑکی میں ڈھونڈ چکا ہوں ۔”وہ اطمینان سے اعلان کرتے ہوئے صوفے پر بیٹھے جب کہ خزیمہ کا سارا اطمینان غارت ہوگیا۔
    ایک اور جنگ کا سامنا۔
    پہلے ہی جس محاذ پر لڑ رہا تھا وہ کم اعصاب شکن تو نہ تھا ۔نور تو اسے اپنی سرحد کی طرف بڑھنے نہیں دیتی تھی۔ ہانیہ بھی تو آج کل لفٹ نہیں کرو ارہی تھی۔ پہلے جب ڈھکے چھپے لفظوں میں اس نے نور کے لیے اپنے جذبات کا اظہار اس کے سامنے کیا تھا ، وہ مسکرا دی تھی اور آج کل وہ اس کے سامنے نور کا ذکر بھی کرتا تو وہ یوں ظاہر کرتی جیسے اس کی بات سنی ہی نہیں ، اگر سنی ہے تو سمجھی نہیں ۔
    اب اسے لگتا تھا کہ کھل کر اپنے جذبات کا اظہار کر نا پڑے گا اور و ہ بھی نور کے سامنے۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ اسے کیا کرنا ہے ۔ اسے ممنوعہ علاقے کی جانب قدم بڑھانے تھے، چاہے پھر سز ا وار ہی ٹھہرتا۔
    ٭٭٭٭٭
    سردی آئی ، پھر شدید سردی ۔ نور الحسن نے کوٹ پہنا ، جیکٹ پہنی اور اپنا بونینزا کا سوئیٹر بھی ۔ مگر وہ سفید سوئیٹر ابھی تک نہ پہنا تھاجس کا ایک ایک خانہ گُلانے نے دل کے ساتھ اٹھایا ،جس کی ایک ایک سلائی میں اپنے جذبات پروئے ۔
    سردیاں یہاں ویسے بھی پردیس میں رہنے والے ماہی کی طرح آتی تھیں ۔ چند د ن منہ دکھایا پھر سال بھر کے لیے غائب۔ گُلانے منتظر ہی رہی کہ اس کے ہاتھ سے بنا سوئیٹر پہن کر باہر نکلے مگر وہ دن آ ہی نہیں رہا تھا ۔اس دن نورالحسن کے کسی دوست کا ولیمہ تھا ۔ گُلانے نے الماری سے خود ہی وہ سوئیٹر نکال کر اسے پیش کیا ۔
    ” آپ یہ پہن کر جائیں ۔”
    ”اس ڈریس کے ساتھ یہ سوٹ نہیں کرتا گُلانے ۔ ” اس نے سوئیٹر پر نظر ڈال کر نرمی سے کہا ۔
    ”پہن لیں ناں ۔ وائٹ اور بلیک تو سب کے ساتھ چل جاتا ہے ۔” وہ بضد تھی۔
    ” یہ تو پرس اور جوتی کے معاملے میں عورتوں کی کفایت شعاری ہے ۔” اس نے ہنس کر جواب دیا۔
    اس نے ہمیشہ دیکھا تھا کہ امی جوتا اور پرس بلیک، براؤن یا وائٹ لیتیں تھیں کہ یہ کلرز ہر رنگ کے جوڑے کے ساتھ چل جاتے ہیں ۔ میچنگ کی عیاشی پہلے وہ افورڈ نہیں کر سکتی تھیں اور اب عادت نہیں رہی تھی۔
    ”آپ پہن کر تو دیکھیں ، اچھا لگے گا ۔” اس نے کمزور سا اصرار کیا۔
    ”گُلانے ! یہ میں پھر کسی دن پہن لوں گا ۔” اس نے ٹالنا چاہا۔
    ”نہیں آج پہنیں ۔”اس نے ایک بار پھر ضد کی۔
    ”کیا بچوں والی باتیں کرتی ہو گُلانے ۔ یہ سوئیٹر جس پر سرخ رنگ کا دل بنا رکھا ہے تم نے ، یہ میں پہنوں گا ؟اپنا مذاق بنوانا ہے میں نے ؟حلقہ ٔاحباب میں سب کا ماننا ہے کہ نور الحسن جیسا ویل ڈریسڈ کوئی نہیں ۔ اور تم چاہتی ہو کہ یہ … یہ پہنوں میں ۔ ” اس نے سوئیٹر گُلانے کی آنکھوں کے سامنے لہرایا ۔
    ” اتنی چیپ اور چھچھوری ڈریسنگ تو میں نے کبھی ٹین ایج میں نہیں کی، آج اس عمر میں اس مقام پر کروں گا ۔”
    اس کا لہجہ اونچا نہیں تھا مگر الفاظ بھاری تھے ۔خاص کر گُلانے کے نازک دل کے لیے بہت بھاری تھے۔اس کی آنکھوں میں آنسو آنے لگے تھے ۔ وہ تیزی کے ساتھ کمرے سے نکل آئی ۔حالانکہ کمرے میں آکر بہت روئی پھر بھی آنسو تھے کہ دن بھر بار بار امڈ تے رہے ۔ اسی شام نورالحسن نے معذرت بھی کی تھی کہ وہ اسے ہرٹ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا مگر اس کے اصرار پر اس کے منہ سے ایسے کلمات نکل گئے ۔ اس نے یہ بھی کہا کہ وہ اس کے جذبات کی قدر کرتا ہے ۔
    وہ ہلکا سا مسکرائی تھی۔ اسے نورالحسن کی مار بھی قبول تھی یہ تو پھر چند جملے ہی تھے ۔
    اس دن اس نے محسوس کیا تھا کہ اندرسے وہ ابھی تک دیہاتیہے ۔ ماں نے تو اپنے چاہ بیٹی پر پورے بھی نہ کیے تھے کہ قبر میں جا سوئی ۔ باپ پڑھا لکھا مگر سادہ سا بندہ، اپنی جیب کے مطابق بیٹی کو اچھا پہنانے کی کوشش کرتا مگرفیشن کے مطابق چلنے کا اسے بھی ڈھنگ نہ تھا ۔ پھر پوجی کے ساتھ رہ کر اور گاؤں رہ کر تو اسے بھول ہی گیا کہ پسند ، انتخاب اور معیار کیا ہے ۔ جو گل زمان سال میں دو سوٹ لا دیتا،پوجی اس پر کڑھائیاں کر کے ، دیہاتی انداز میں سی کر اسے پہنا دیتیں۔ یہاں آئی تو امی بھی سادہ خاتون تھیں۔ پہلے تو سلائی کرتی تھیں پھر بھی فیشن کا کچھ پتا چلتا تھا ۔ اب وہ بھی نو ر الحسن نے سختی سے منع کر دیا ۔ گُلانے کو کبھی بھی ایسا ماحول ملا ہی نہیں جہاں وہ بھی فیشن ، ٹرینڈ ، ان آؤٹ جیسی باتیں کر سکے۔ نورالحسن اور ولی کے پہناوے اسے بھاتے تھے مگر کبھی خیال ہی نہیں آیا کہ اسے بھی اپنی پسند نا پسند ، اپنی چوائس میں بہتری لانی چاہیے ۔ اس نے تو بہت محبت کے ساتھ سفید سوئیٹر بنا کر اس کے بائیں کندھے سے نیچے دل کے مقام پر سرخ رنگ کا دل کاڑھا تھا ۔وہاں پوجی کے گاؤں میں اس نے گل خانم کو دیکھ تھا جس نے اپنے منگیتر کے لیے رومال پر دل کاڑھا تھا ۔ اس کا منگیتر بہت خوش ہوا تھا اور ہر وقت وہ رومال اپنے ساتھ رکھتا تھا ۔ اسے لگا تھا کہ نو ر الحسن بھی بہت خوش ہو گا مگر…
    اس کا دل بہت دکھا تھا مگر ساتھ ساتھ یہ احساس بھی ہوگیا تھا کہ نور الحسن جیسے پڑھے لکھے ، کامیاب مرد کے ساتھ چلنے کے لیے اسے اپنے آپ کو تبدیل کرنا پڑے گا ۔اپنے آپ کونو ر ا لحسن کے معیا ر تک لانا ہو گا ۔ ایک ایسی گُلانے بننا ہوگا جسے نو ر ا لحسن اپنے ساتھ لے کر چلے تو جوڑی خراب نہ لگے ۔ اس نے نورالحسن سے محبت کی ہے تو اس کے رنگ میں تو رنگنا ہو گا ۔
    ٭…٭…٭
    نورالحسن نے اپنا شلوار قمیص نکالنے کے لیے الماری کھولی تو سامنے پڑے تہ شدہ سفید سوئیٹر پہ نظر پڑی۔ اس نے آہستہ سے اس پر ہاتھ پھیرا ۔ اسے گُلانے کا روتا ہوا چہرہ یا د آیا تواپنے کل کے رویے پر پشیمان ہوا ۔
    اس نے سوئیٹر کھول کر اپنی نگاہوں کے سامنے کیا ۔
    سفید سوئیٹر کے بائیں کندھے پہ سرخ رنگ کا دل … کتنے دل سے بنایا ہو گا اس نے ۔لیکن جب کل اس نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا تو بنا کچھ کہے کمرے سے چلی گئی۔ اور پھر جانے کتنے آنسو بہائے ہوں گے کہ جب وہ گھر آیا تو اس کی روتی ہوئی سی صورت پر نظر پڑی ۔ وہ نادم ہوا تھا ۔ شادی میں بھی اس کا دھیان اس کی طرف ہی رہا تھا ۔ اس نے پہلی بار گُلانے کے ساتھ اس لہجے میں بات کی تھی۔ شام میںجب اس کی سوجی ہوئی آنکھیں دیکھیں تو پشیمان ہوتا ہوا اس کے پاس چلا آیا ۔اور اس سے معذرت کی ۔ وہ اس کی معذرت پر شرمندہ سی ہو گئی ۔
    ” میں خفا نہیں ہوں۔ ” اس نے اپنی بھیگی آنکھیں صاف کرتے ہوئے کہا تھا ۔
    ”تو پھر رو کیوں رہی ہو ؟”نور الحسن خود اپنے کیے پر شرمندہ تھا۔
    ”نہیں … رو تو نہیں رہی ۔” اس کے صاف مکرنے پہ وہ مسکرا دیا ۔
    ”میں نے تمہیں اتنا کچھ کہا ،تمہمیں بر ا نہیں لگا ۔”اس نے نفی میں سر ہلایا ۔
    ”میں آپ سے خفا ہو ہی نہیں سکتی۔”اس کے لہجے میں بیک وقت محبت، خلوص اور تعظیم چھلک رہی تھی۔
    ”کیوں ؟”اس کے چہرے کی سرخی میں اضافہ ہوا ۔اور وہ نظریں جھکائے کھڑی رہی ۔
    ”کیوں ؟” نور الحسن نے ذرا سا جھک کر دھیرے سے پھر پوچھا ۔
    ”کیوں کہ …” جملہ ادھورا چھوڑ کر وہ اپنے دوپٹے کے پلو سے کھیلنے لگی تھی۔
    ”اب یہ مت کہنا … کیوں کہ آپ میرے مالک ہیں ۔” اس نے سیدھا ہوتے ہوئے انگلی اٹھا کر وارننگ دی۔وہ ہنس دی تھی ۔ بھیگی آنکھوں کے ساتھ ہنستا ہوا چہرہ۔ نو ر الحسن بے خود سا ہو کر اسے دیکھتا چلا گیا ۔گُلانے نے اس کا مبہوت ہونا محسوس کیا تو شرما کر وہاں سے جانے لگی ۔
    ”تم نے بتایا نہیں کہ تم مجھ سے خفا کیوں نہیں ہو سکتیں ؟” اس نے اسے گزرنے کا رستہ نہ دیا اور سوال دہرایا۔
    ”کیوں کہ … کیوں کہ آپ مجھے ۔ ۔ ۔ اچھے لگتے ہیں ۔” نظریں جھکا کر ہچکچا تے ہوئے روح افزا اقرار کیا گیاتھا ۔
    سفید سوئیٹر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے نور الحسن مسکرا دیا ۔
    وہ لکھاری نہ تھا ۔
    لکھاری ہوتا تو گُلانے پہ لکھتا۔
    گُلانے جو وفا تھی، حیا تھی، محبت تھی۔
    ٭…٭…٭
    صحن میں اِدھر سے اُدھر چکر لگاتے نور الحسن نے ایک بار پھر گھڑی دیکھی اورتشویش محسوس کی ۔
    ولی ابھی تک گھر نہیں آیا تھا ۔ اور یہ کوئی آج کی بات نہیں تھی۔ رات دیر سے گھر آنا اس کا معمول بنتا جا رہا تھا ۔امی نے ایک دو دفعہ شکایت بھی کی تھی اور وہ ولی کو ہلکی سی سر زنش کر کے بھول گیا تھا مگر جب ایک کو لیگ نے دبے دبے لفظوں میں ولی کی صحبت کا ذکر کیا تو وہ متفکر ہوا۔اور آج جلد گھر آگیا تھا ۔
    کرسی پر بیٹھی گُلانے اپنی توجہ کتاب کی طرف مبذول کرنے کی پوری کوشش کرتی مگر نگاہیں تھیں کہ بار بار نورالحسن کی طرف اٹھتیں ۔
    اس شخص کے ہوتے ہوئے بھلا توجہ کہیں اور مرکوز کرنا ممکن کب تھا ۔
    جب ولی گھر آیا تو دروازہ نور الحسن نے کھولا۔ ولی اسے دیکھ کر کچھ چوکنا سا ہوا۔نظریں جھکا کر سلام کیا اور آگے بڑھنے لگا۔
    ”کہاں سے آرہے ہو ؟” سلام کا جواب دیتے ہوئے نورالحسن نے استفسا ر کیا ۔ ولی نے دانتوں تلے زبان دبائی ۔
    ”مار ا گیا !دوستوں کے ساتھ تھا بھائی ۔”بڑبڑا کر وہ نو ر ا لحسن کی طر ف مڑ ا۔
    ”کون سے دوست ؟” نو ر ا لحسن سنجیدگی کے ساتھ سوال کر رہا تھا ۔
    ” وہی جو میرے ساتھ ہوتے ہیں ۔”اس نے ٹال مٹول سے کام لیا۔
    ”کون تمہارے ساتھ ہوتا ہے ؟”یہ بھائی آج فوجداری پر کیوں اتر آئے ؟ اس نے سوچا اور بھائی کو نام بتا ئے ۔
    ” فیضان، دانش اور مغیث ۔”
    ”فیضان تو چلو تمہارا بچپن کا دوست ہے ، مجھے پسند بھی ہے ۔ مگر یہ دانش اور مغیث مجھے پسند نہیں ولی ۔”نور الحسن نے برملا اپنی ناپسندیدیگی کا اظہار کیا۔
    ”بھائی … وہ میرے یونی فرینڈز ہیں ۔”
    ”جانتا ہوں ،مگر میں ان کے ساتھ تمہارا اٹھنا بیٹھنا پسند نہیں کرتا ۔”
    ”بھائی دوست ہیں ۔” اس نے احتجاج کیا ۔
    ”انسان کی کمپنی بہت معنی رکھتی ہے ولی۔ اسکول، کالج میں مجھے تمہاری طرف سے کبھی فکر ہوئی تھی نہ ہی کبھی شکایت ملی تھی کیوں کہ تمہارے ساتھ اچھے دوست تھے۔”
    ”اب شکایت ملی ہے کیا ؟” وہ چونکا تھا ۔
    ”مجھے تمہاری فکر ہے ولی ۔” اس کے سوال کا جواب دیے بغیر نورالحسن نے فکرمند انداز میں کہا ۔
    ” بھائی بھی ناں! ایک امی کم ہیں کیا فکر کرنے کے لیے ۔ ” وہ سر ہلاتا ہوااندر آیا ۔ گُلانے کتاب کھولے کرسی پر بیٹھی تھی۔ اس وقت امی کی نیند ڈسٹرب ہونے کے خیال سے وہ باہر ہی بیٹھ کر پڑھا کرتی تھی۔
    ”تم نے شکا یت لگائی میری بھائی سے ؟” وہ اونچی آواز میں بولتے بولتے دھیما پڑا کیوں کہ نور الحسن بھی دروازہ بند کر کے پیچھے آ رہا تھا ۔ وہ اپنے کمرے میں چلا گیا تواس نے پھر سوال دہرایا ۔
    ”میں کیوں لگاؤں گی تمہاری شکایت ۔ وہ تو بس تمہارے آنے جانے کی روٹین کچھ دنوں سے پوچھ رہے تھے ، وہ بتا دی میں نے ۔” اس نے سادگی کے ساتھ جواب دیا ۔
    ”یہ ناں … بھائی کے سامنے اپنے نمبر بنانے کے لیے میری رپورٹیں ذرا کم دیا کرو ۔ ” کرسی پر بیٹھ کر جوگرز کے تسمے کھولتے ہوئے اس نے گھور کر گُلانے سے کہا۔
    ”ان کے سامنے مجھے نمبر بنانے کی ضرورت کیا ، وہ تو ویسے ہی میرے گرویدہ ہیں ۔ ” وہ اسے چڑانے کے لیے مسکراتے ہوئے بولی ۔
    ”ہوں ! گرویدہ ہیں ۔ میں نے بتا دیا ناں بھائی کو کہ دن بھر ، رات بھر جو فون بجتا رہتا ہے ، وہ کس کے لیے آتا ہے تو پھر دیکھنا ۔ ”
    گُلانے اپنی جگہ ساکت ہوگئی ۔ولی نے پہلی بار اس لہجے اس سے بات کی تھی۔ ایک دوسرے کو چڑانے کا کام دونوں طرف سے جاری رہتا تھا مگر آج اس وقت وہ چڑا نہیں رہا تھا بلکہ اسے لگا کہ دھمکا رہا ہے ۔
    ٭…٭…٭

  • نیلی جھیل — شفیق الرحمٰن

    نیلی جھیل — شفیق الرحمٰن

    یہ ان دنوں کا ذکر ہے جب رُوفی کے دانت پر بجلی گری۔ رُوفی (جن کو بعد میں شیطان کا نام ملا)بجلی سے بہت ڈرتے تھے۔ جب بادل آتے تو وہ بستروں میں چھپتے پھرتے۔ سب کہتے کہ اگر بجلی کو گرنا ہے تو ضرور گرے گی۔ رُوفی جواب دیتے بے شک گرے، لیکن اس طرح کم از کم اسے مجھ کو ڈھونڈنا تو پڑے گا۔ ہوا یوں کہ بارش ابھی ابھی تھمی تھی۔ رُوفی صوفے کے پیچھے سے نکل کر دبے پاؤں برآمدے تک گئے۔ یہ دیکھنے کہ بادل چھنٹ گئے یا نہیں۔ اتنے میں زور سے بجلی کوندی اور ایک عظیم الشان دھماکا ہوا۔ جب وہ ہوش میں آئے تو ان کا ایک دانت ہل رہا تھا۔ انہوں نے آئینہ دیکھا تو دانت پر بجلی گری۔ وہ دو دن تک بستر پر پڑے رہے۔ لیکن اس طرح ہم اپنے آنے والے سہ ماہی امتحان سے بچ سکے۔ اس کم بخت امتحان نے ہماری نیند اُڑا رکھی تھی۔ ماسٹر صاحب نے ہمارے ساتھ خاص رعایت کی اور ازراہِ کرم امتحان چند دنوں کے لیے ملتوی کر دیا۔
    ہمارے ماسٹر صاحب بڑے خون خوار قسم کے آدمی تھے۔ یوں تو وہ بیچلر آف آرٹس تھے، لیکن ہمیں بعد میں پتا چلا کہ شادی شدہ ہیں اور کئی بچوں کے باپ ہیں۔ وہ اُن حضرات میں سے تھے، جو آپ سے سوال پوچھیں گے، آپ کی طرف سے خود جواب دیں گے اور پھر آپ کو ڈانٹیں گے بھی کہ جواب غلط تھا۔ ان کے نوکر کی زبانی معلوم ہوا کہ انہیں نیند میں بولنے اور چلنے پھرنے کی بیماری تھی اور وہ سوتے ہوئے پیدل چلا کرتے تھے، حالاںکہ ان کے پاس ایک تانگہ تھا اور ایک سائیکل۔ انہیں کھیل کود کا شوق بھی تھا، لیکن فقط اتنا کہ ریفری بن کر خوش ہو لیا کرتے۔ ایک مرتبہ وہ فٹ بال کے میچ میں ریفری تھے کہ یک لخت جوش میں آگئے اور گیند لے کر خود گول کر دیا۔ رُوفی کے ابا ہمیشہ ان سے کہا کرتے تھے کہ ماسٹر صاحب آپ اس علاقے میں فٹ بال کے نمبر دو کھلاڑی ہیں۔ ایک روز ماسٹر صاحب نے ان سے پوچھا کہ نمبر ایک کھلاڑی کون ہے؟ وہ بولے، پتہ نہیں۔
    ساری کلاس کا امتحان ہو چکا تھا۔ صرف میں اور رُوفی رہتے تھے۔ نچلی جماعتوں میں رُوفی کے چھوٹے بھائی ننھے میاں باقی تھے، کیوںکہ اس بجلی کے گرنے کے سلسلے میں وہ بھی بطور تیمار دار شریک تھے۔
    میں اور روفی مجرموں کی طرح کمرے میں داخل ہوئے۔ ماسٹر صاحب نے ہمیں بتایا کہ وہ ہمارا فقط زبانی امتحان لیں گے اور بالکل آسان سے سوال پوچھیں گے۔ گھبرانے یا ڈرنے کی کوئی بات نہیں۔
    انہوں نے رُوفی سے پوچھا۔ ”تمہیں کس نے بنایا؟”
    روفی ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے بولے: ”جناب اتناتو مجھے خدا نے بنایا تھا۔ اس کے بعد میں خود بڑھا ہوں۔”
    ”اس وقت تم ایک چھوٹے سے لڑکے ہو، جب بڑے ہو گے تو کیا بنو گے؟”
    ”میں انسان بنوں گا۔”
    ”تم نے ایسی عجیب آنکھیں کہاں سے پائیں؟”
    ”جی… یہ چہرے کے ساتھ ہی آئی تھیں۔”
    اب ماسٹر صاحب مجھ سے مخاطب ہوئے… ”بتاؤ ہاتھی کہاں پائے جاتے ہیں؟”
    ”جناب ہاتھی اتنے بڑے ہوتے ہیں کہ ان کے کھوئے جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔”
    ”میرا مطلب ہے ہاتھی ملتے کہاں ہیں؟”
    ”جہاں اور ہاتھی ہوں… وہاں۔”
    ”کیا یہ سچ ہے کہ ہاتھیوں کا حافظہ بے حد تیز ہوتا ہے اور کبھی نہیں بھولتے۔”
    ”جی ہاتھیوں کے پاس رکھنے کے لیے باتیں ہی کون سی ہوتی ہوں گی۔”
    ”اچھا!… لومڑی کی کھال کا کیا فائدہ ہے؟”
    ”لومڑی کو گرم رکھتی ہے۔”

    ماسٹر صاحب کا چہرہ رُوفی کی طرف پھر گیا۔ ”اگر ایک شخص نے ایک اُلو پندرہ روپے تین آنے ایک پائی میں خریدا اور سات روپے دس آنے ساڑھے گیارہ پائی میں بیچ دیا تو اسے کتنا نقصان ہوا؟”
    ”جناب میں نے آج تک اُلو اتنا مہنگا بکتا نہیں دیکھا۔ ” میں نے ڈرتے ڈرتے کہا۔
    ”اور تم نے؟”
    ”میں نے کبھی اُلو دیکھا ہی نہیں۔” رُوفی بولے۔
    ”غضب خدا کا۔ تو آج تک تم نے اُلو نہیں دیکھا۔ (چلا کر) میری طرف دیکھو۔ نیچے کیا دیکھ رہے ہو۔ اچھا میں سوال پھر دوہراتا ہوں۔”
    ماسٹر صاحب نے سوال دوہرایا۔ ”بتاؤ کتنا نقصان ہوا؟”
    ”جی روپوں میں نقصان ہوا اور آنے پائیوں میں نفع۔” رُوفی بولے۔
    ”اچھا، آج تم نے جو سب سے عجیب واقعہ دیکھا ہو بیان کرو۔”
    ”جناب، آج میں نے چند آدمیوں کو ایک گھوڑا بناتے دیکھا۔”
    ”لکڑی کا گھوڑا؟”
    ”جی نہیں اصلی گھوڑا، جیتا جاگتا گھوڑا۔ لیکن جب میں نے دیکھا تو وہ تقریباً اسے مکمل کر چکے تھے اور اس کے کھروں میں میخیں ٹھونک رہے تھے۔”
    ”ثابت کرو کہ قلم تلوار سے اہم ہے۔”
    ”جناب۔ تلوار سے چیک پر دستخط نہیں کیے جا سکتے۔”
    ماسٹر صاحب کچھ کچھ خفا ہو چلے تھے۔ انہوں نے میری طرف دیکھا اور بولے: ”آسٹریلیا کہاں ہے؟”
    ”جی جغرافیے کے پچاسویں صفحے پر۔”
    ”جغرافیے میں نہیں، ویسے کہاں ہے؟”
    ”جناب آسٹریلیا کرئہ ارض پر ہے۔”
    ”تربوز کے فوائد بیان کرو۔”
    ”تربوز ایک ایسا پھل ہے جسے کھا بھی سکتے ہیں… پی بھی سکتے ہیں اور اس سے ہاتھ منہ بھی دھو سکتا ہیں۔”
    ”اور ناریل؟”
    ”جی۔ ناریل پر ٹکٹ لگا کر اور پتا لکھ کر بطور پارسل کے بھیج سکتے ہیں۔”
    ”اچھا حروفِ اضافت کیا ہوتے ہیں؟”
    ”جناب حروفِ اضافت وہ ہوتے ہیں جو اضافہ کرتے ہیں اور جنہیں پڑھ کر کچھ اور حروف یاد آجاتے ہیں۔”
    ”مثلا۔”
    ”مثلاً گھڑی سازیوں معلوم ہوتا ہے جیسے زمانہ ساز ہو۔ پالتو، فالتو معلوم ہوتا ہے، مجرد، مجرب اور طبلہ نواز، بندہ نواز معلوم ہوتا ہے اور۔”
    ”بس بس۔” ماسٹر صاحب بالکل خفا ہو گئے۔
    اب ننھے میاں کو بلایا گیا۔
    ”ننھے گنتی گن کر دکھاؤ۔” ماسٹر صاحب بولے۔
    ”ایک، دو، تین، چار، پانچ، چھ، سات، آٹھ، نو، دس، غلام، بیگم اور بادشاہ۔” ننھے نے فاتحانہ انداز سے کہا۔
    اس میں غریب ننھے کا بھی قصور نہیں تھا۔ اُن دنوں گھر میں تاش خوب ہوتی تھی۔
    شام کو ماسٹر صاحب ہمارے ہاں آئے۔ رُوفی کے ابا سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ سوتے وقت ہمیں سنایا گیا کہ ہماری تعلیمی حالت بہت کمزور ہے۔ چنانچہ ماسٹر صاحب ہمیں گھر پر پڑھانے آیا کریں گے۔ اس خبر نے ہمیں اُداس کر دیا۔
    اگلے روز اتوار تھا۔ علی الصبح ہم نے مچھلیاں پکڑنے کا سامان لیا اور جھیل کا رُخ کیا۔ اس ٹیوشن کی نئی مصیبت نے ہمیں غمگین کر دیا۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ جو رہی سہی آزادی میسر تھی وہ بھی چھن گئی۔
    جھیل کے شفاف اور نیلے پانی پر ہلکی ہلکی دُھند چھائی ہوئی تھی۔ دُور بادلوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ہوا میں تیر رہے تھے۔ کناروں پر پھول دار بیلیں اور پودے جھکے ہوئے تھے اور بے شمار تتلیاں اُڑ رہی تھیں۔ جھیل کے کنارے دُور دُور تک چلے گئے تھے۔ دوسرا کنارہ بہت دُور تھا اور کبھی کبھار ہی دکھائی دیتا۔ جب بارش تھمی ہو یا دن بالکل صاف ہو تو ہر بار کسی نئی شکل میں دکھائی دیتا۔ کبھی دُور دُور تک محل اور قلعے دکھائی دیتے۔ کبھی گھنے اور سرسبز باغ، اور کبھی ریت کے ٹیلے اور نخلستان نظر آتے۔
    ہم ہر اتوار جھیل کے کنارے گزارتے۔ بڑے اہتمام سے مچھلیاں پکڑنے کا پروگرام بنتا۔ مچھلیاں بھوننے کا سامان بھی ساتھ ہوتا۔ ہمارے مچھلیاں پکڑنے کے طریقے بھی صحیح تھے، لیکن ہم نے کبھی وہاں ایک بھی مچھلی نہیں پکڑی۔ انجینئر صاحب اور ڈاکٹر صاحب کا خیال تھا کہ اس جھیل میں مچھلیاں بالکل نہیں ہیں۔ جھیل کے پانی میں کوئی خرابی تھی۔ معدنیات کے کچھ ایسے اجزاء شامل تھے جن میں مچھلیاں زندہ نہیں رہ سکتی تھیں، لیکن ہمیں اس پر بالکل یقین نہ آیا۔ ایسی خوش نما جھیل میں تو مچھلیاں دُور دُور سے آکر رہیں گی۔
    ہم اُداس ہوتے یا ہمیں دھمکایا جاتا تو ہم سیدھے جھیل کا رخ کرتے۔ بنسیاں پانی میں ڈال کر گھاس اور پھولوں میں بیٹھ جاتے۔ بادشاہوں، پریوں اور بحری ڈاکوؤں کی کہانیاں پڑھتے۔ ذرا سی دیر میں ہم بھول جاتے کہ اس خوب صورت گوشے کے علاوہ دنیا کے اور حصے بھی ہیں جہاں سکول بھی ہے، سکول کا کام ہے، ماسٹر صاحب کی ڈانٹ ہے، گھر والوں کی گھرکیاں ہیں۔
    ہم دوسرے کنارے کی باتیں کرتے جسے دیکھنے کا ہمیں بے حد شوق تھا۔ ہم قیاس آرائیاں کرتے کہ وہاں کیا کچھ ہو گا۔ شاید وہاں کسی اور قسم کی دنیا ہو گی۔ کس طرح کے لوگ ہوں گے۔ ہم نے کئی مرتبہ ارادہ کیا کہ کہیں سے ایک کشتی لے کر چپکے سے نکل جائیں اور جھیل کو عبور کر کے دوسری طرف جا پہنچیں، لیکن ہمیں کشتی نہ مل سکی۔ ہمیں تیرنا نہیں آتا تھا۔ کنارے کنارے چل کر دوسری طرف جانا ناممکن تھا، کیوںکہ راستے میں کئی رکاوٹیں تھیں۔
    جب ہم چاندنی رات میں جھیل کے کنارے بیٹھ کر ایک دوسرے کو پریوں کی کہانیاں سناتے تو جیسے سارے کردار ہماری آنکھوں کے سامنے چلنے پھرنے لگتے۔ چاندنی کچھ یوں بدل جاتی اور دوسرا کنارا ایسا پُر سحر خطہ معلوم ہونے لگتا کہ ہم سچ مچ پریوں کے ملک میں پہنچ جاتے۔
    دن میں جب سمندری لٹیروں کی کہانیاں پڑھی جاتیں تو ہمارا لباس بھی لٹیروں جیسا ہوتا۔ سر پر سیاہ رومال باندھے جاتے۔ چھوٹی چھوٹی کشتیاں بنا کر جھیل میں چھوڑی جاتیں۔ ہوائی بندوقوں اور پٹاخوں سے جھوٹ موٹ کی جنگ ہوتی۔ ایک فرضی جزیرے پر قبضہ کیا جاتا۔ وہاں سے خزانہ برآمد ہوتا۔ جب تیز دھوپ نکلتی، بھنورے گانے لگتے، ہوا رک جاتی اور طرح طرح کی خوشبوئیں فضا میں رچ جاتیں تو ہم آنکھیں بند کیے غنودگی میں رنگ برنگے خواب دیکھتے رہتے۔
    اگر وہ جھیل وہاں نہ ہوتی تو نہ جانے ہمارے دن کیوںکر گزرتے۔ کیوں کہ گھر میں ہر ایک ہم دونوں کا دشمن تھا اور ڈانٹنے پر تُلا ہوا تھا۔ان کا رویہ یہ تھا کہ اگر کچھ کیا ہے تو کیوں کیا ہے اور اگر نہیں کیا تو کیوں نہیں کیا۔ ان دنوں سب کے دل میں یہ خیال بیٹھ گیاتھا کہ ہم دونوں نہایت نالائق ہیں اور بالکل نہیں پڑھتے۔ ابا کا تبادلہ حسب معمول آبادی سے دُور کسی ویرانے میں ہوا اور مجھے رُوفی کے ہاں بھیج دیا گیا۔ گھر سے ہر خط میں تاکید آتی کہ لڑکے کی پڑھائی کا خاص خیال رکھا جائے۔ چنانچہ خاص سے بھی زیادہ خیال رکھا جاتا۔ گیہوں کے ساتھ گھن باقاعدہ پستا اور ننھے میاں کی بھی خوب تواضع ہوتی۔ ننھے میاں سونے سے پہلے بڑے خشوع و خضوع سے دُعا مانگتے کہ یا رب العالمین ہمارے کنبے والوں کو نیک ہدایت دے اور انہیں بتا کہ چھوٹے بچوں کے ساتھ کیسا سلوک کیا جاتا ہے، کیوںکہ اب تک یہ لوگ اس سے بے بہرہ ہیں۔
    گھر میں کئی نوکر تھے جن میں سب سے سینئر رستم تھا اور ادھیڑ عمر کا تھا۔ اس کا تکیہ کلام ”رکھی ہے” تھا۔ کوئی پوچھتا۔ ”میاں رستم میری عینک کہاں گئی؟” جواب ملتا ”جی فرش پر رکھی ہے۔” میرے کاغذات یہاں تھے کہاں گئے؟” جی ردی کی ٹوکری میں رکھے ہیں۔”… ”میرا بٹوہ کہاں گیا؟” ”جی حوض کی تہہ میں رکھا ہے، ننھے میاں پھینک آئے ہیں۔”
    اسے ریڈیو کا بے حد شوق تھا۔ جب دیکھو ریڈیو سے کان لگائے سن رہا ہے۔ ایک مرتبہ کھانا کھاتے وقت کسی نے رکابی کی طرف اشارہ کر کے پوچھا۔ ”یہ کیا چیز ہے؟” رستم فوراً بولا۔” بہاگ کا خیال ہے، بلمپت لے میں۔” ویسے اس وقت ریڈیو پر پکا گانا بھی ہو رہا تھا۔
    ہمیں باورچی نے بتایا کہ صبح اُٹھ کر رستم دعا مانگتا ہے… کہ اے خدا اس وقت دن کے سوا چھے بجا چاہتے ہیں۔ اب آپ اُردو میں دعا سنیے۔ یہ دعا دوپہر کو ایک بجے اور رات کو نو بجے پھر مانگی جائے گی۔ اس دعا کی خاص خاص سرخیاں یہ ہیں… (پھر دعا مانگ چکنے کے بعد) کل پھر میں اسی وقت دعا مانگوں گا… اچھا، اب اجازت دیجیے… آداب عرض۔
    اور بعض اوقات تو رستم دعا کے بعد خدا کو موسم کا حال بھی بتایا کرتا۔
    باورچی بے حد موٹا تھا۔ اتنا کہ تصویر کھینچتے وقت اس کی کئی تصویریں لینی پڑی تھیں تاکہ وہ مکمل آجائے۔ وہ ہر وقت ہنستا رہتا تھا۔ اکثر اس سے پوچھا جاتا کہ ہنستے کیوں ہو؟ جواب ملتا۔ ”جناب شکل ہی ایسی ہے۔”
    اس کی گفت گو سن کر یوں معلوم ہوتا تھا جیسے ریڈیو پر دیہاتی پروگرام ہو رہا ہو۔
    بعض اوقات وہ جان بوجھ کر بہرہ بن جاتا۔ ہم آوازیں دیتے رہتے اور وہ بالکل نہیں سنتا۔ایک مرتبہ روفی چلاتے رہے اور وہ ساتھ کے کمرے میں چپ چاپ سنتا رہا۔ ہم کھڑکی سے اسے دیکھ رہے تھے۔ اس سے جب پوچھا گیا کہ اتنی آوازیں اسے کیوں سنائی نہیں دیں؟ تو بولا۔ میں نے آپ کی پہلی آوازیں نہیں سنیں، صرف چوتھی آواز سنی تھی۔
    ایک مرتبہ ہمارا گھوڑا کھو گیا۔ سب نے باری باری ڈھونڈا، کسی کو نہ ملا۔ باورچی گیا اور گھوڑے کو پکڑ لایا۔ پوچھا کہ یہ تمہیں کس طرح مل گیا؟ بولا۔ میں نے سب سے پہلے یہ سوچا کہ اگر میں گھوڑا ہوتا اور کھوئے جانے کی نیت ہوتی تو کہاں جاتا… بس میں سیدھا اسی جگہ گیا اور گھوڑا وہیں کھڑا تھا۔
    گھر میں بہت سے پالتو جانور اور پرندے تھے۔ ایک طوطا تھا جو رُوفی کے ابا کے دفتر میں رہتا تھا۔ اسے چند فقرے یاد تھے۔ جب کوئی آتا تو ‘ہلو” کہتا۔ پھر کہتا۔ ”دروازہ بند کر دیجئے۔” وہ اندر آجاتا تو اسے رُوفی کے ابا کے متعلق بتاتا کہ باہر گئے ہوئے ہیں یا گھر میں ہیں۔ جاتے وقت پھر کہتا ”دروازہ بند کر دیجئے۔”

  • وقت کی ریت پہ — فوزیہ یاسمین

    وقت کی ریت پہ — فوزیہ یاسمین

    اگر کوئی دیکھ سکے تو گھٹا ٹوپ اندھیری رات کے بھی کئی روپ ہوتے ہیں جیسے اس وقت رات کے ساڑھے گیارہ بج رہے ہیں۔ ابھی کچھ دیر پہلے امی گھر کے سارے دروازے چیک کرکے سورہ الملک میرے اوپر پھونک کر اور جلدی سوجانے کی ہدایت کرکے اپنے کمرے میں گئی ہیں حالاں کہ وہ جانتی ہیں کہ مجھے ابھی کم از کم ڈیڑھ گھنٹا اور جاگنا ہے لیکن وہ ماں ہیں۔ میں چاہے ساری رات بیٹھ کر گزار دوں۔ انہیں تب تک نیند نہیں آئے گی جب تک وہ مجھے جلد سو جانے کی ہدایت نہیں کردیں گی۔
    چوکی دار کی سیٹی کی دور سے آتی اور دور تک جاتی تیز آواز ہمارے گھر کے سامنے سے گزرتی ہوئی نہ جانے کیوں مدہم پڑجاتی ہے۔ شاید اس لیے کہ میرے کمرے کی جلتی ہوئی روشنی باہر سڑک پر بھی نظر آتی ہے۔
    ابھی اس کا پہلا چکر ہے، اس کا مطلب ہے ابھی ساڑھے گیارہ بجے ہیں۔ دوسرا چکر ٹھیک بارہ بجے لگے گا۔ اب سے کچھ دیر بعد دیوار پار کے پڑوسیوں کا الارم پوری قوت سے بجے گا اور پانچ منٹ بعد، پندرہ منٹ بعد اور کبھی کبھی بیس منٹ بعد تھک کر خود ہی چپ ہوجائے گا۔ یہ سب ہر رات کو ہوتا ہے اور اس قدر باقاعدگی سے ہوتا ہے کہ مجھے کبھی گھڑی پاس رکھنے کی ضرورت ہی پیش نہیں آئی۔
    آج تو چاند کی چودھویں ہے۔ پورے چاند کی روشن کرنیں میرے کمرے کی کھڑکی سے لپٹ لپٹ جاتی ہیں اور پوچھتی ہیں کہ بتا وہ کون سا بندھن ہے جو اتنی رات گئے تجھے پلک بھی نہیں جھپکنے دیتا۔
    اور اب ٹھیک ایک بجے یا اس سے کچھ آگے پیچھے میرے کمرے کے ساتھ لائونج کے دروازے پر دستک ہوگی، میں اٹھ کر دروازہ کھولوں گی۔
    ”تم سے کہا نہیں تھا میرا انتظار مت کرنا۔” وہ کہے گا۔
    ”اور میں نے تم سے کہا تھا رات کو جلدی آجانا۔” میں جواب دوں گی۔
    ”میری مرضی میں جب آئوں یا جائوں، اور آئندہ تم اتنی رات گئے میرے انتظار میں نہیں جاگوگی۔”
    ”تو میری بھی مرضی، میں جب جاگوں جب سوئوں۔”
    یہ وہ ڈائیلاگ تھے جو پچھلے کئی سالوں سے روزانہ میرے اور اس کے درمیان چل رہے تھے، بلا کے ڈھیٹ جو تھے ہم دونوں۔ روز وہ باہر جاتے ہوئے دھونس جماتا۔
    ”میرے انتظار میں مت جاگنا، میں باہر گیٹ کی بیل بجالوں گا۔”
    لیکن مزے کی بات تھی نا کہ ہر روز وہ باہر کی بیل بجانے کی بجائے گیٹ پھلانگ کر اندر آتا اور لائونج کے دروازے پر آہستہ سے دستک دیتا، اس لیے کہ اسے یقین ہوتا تھا اس کی دھمکی کے باوجود اس کی بہن، اس کی ماں جائی اس کے انتظار میں اب تک جاگ رہی ہوگی۔
    سیاہ چمکیلے بالوں اور ہنستی ہوئی آنکھوں والا میرا یہ بھائی مجھ سے صرف ڈھائی برس بڑا تھا اس لیے ہم نے کبھی آپ جناب کے تکلفات نہیں پالے۔ ہم دونوں اپنے اپنے والدین کے اکلوتے اکلوتے تھے۔ وہ اکلوتا بیٹا اور میں اکلوتی بیٹی۔
    ہمارے والدین خالص والدین تھے جن کے سامنے ہم شیطان تھے اور غیر موجودگی میں فرشتے۔ ہمارے والد روایت پسند تھے۔ سونے کا نوالہ کھلا کر شیر کی آنکھ سے دیکھنے والے بہت عام قسم کے ماں باپ تھے جن کی بے حد خاص قسم کی اولاد تھی۔
    وہ بہت ذہین ہے، لوگ کہتے ہیں۔ ”وہ بہت اسمارٹ ہے، یہ بھی لوگ کہتے ہیں۔

    لو گ تو یہ بھی بتاتے ہیں کہ وہ بچپن ہی سے بے حد پرُکشش اور دلوں کو موہ لینے والا تھا۔ بھئی ہوتا ہوگا، اب میں نے تو اس کا بچپن دیکھا نہیں اور کانوں سنی باتوں کا تو ہم یقین ہی نہیں کرتے۔
    وہ بے حد ضدی، اکھڑ مزاج اور لڑاکا ہے۔ یہ میں کہتی ہوں کہ دن میں پانچ وقت لڑائی جس طرح ہم پر فرض تھی۔ بہت پرانے دن نہیں تھے جب میں اور وہ ریت کے گھروندے بناکر کھیلتے اور خوب صورت رنگ برنگی تتلیوں کے پیچھے بھاگتے تھے۔ بچپن کے دن بھی تتلیوں کے رنگ کی طرح ہوتے ہیں۔ دن پر لگا کر اڑ جاتے ہیں اور ہاتھوں پر نشان رہ جاتے ہیں۔
    جب میں اسکول میں داخل ہوئی تو وہ مجھ سے صرف دو سال آگے تھا اور جب میں اسکول سے فارغ ہوئی تو تعلیمی میدان میں وہ مجھ سے چار سال آگے نکل چکا تھا۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں کہ میں بہت زیادہ نالائق ہوں۔ اس کا صرف یہ مطلب ہے کہ وہ بہت زیادہ لائق تھا۔ نہ جانے کیا کرتا تھا کہ سال اس کے آگے مہینے بن جاتے اور وہ چند مہینوں میں کئی سال پھلانگ کر آگے نکل جاتا۔
    اس نے جب میٹرک میں پوزیشن لی تو ابو نے اس کی خوب پیٹھ ٹھونکی اور میں جل بھن گئی لیکن جب کالج میں داخلے کی باری آئی تو وہ روتی صورت بناکر میرے پاس آیا۔ ابو اسے ڈاکٹر بنانا چاہتے تھے جب کہ اس کا رجحان انجینئر نگ کی طرف تھا۔
    ”مینا میری سفارش کردو نا۔”
    ”مینا ابو سے ذرا بائیک کی چابی تو لے لینا۔”
    وہ جو ساری دنیا کو دلائل کے آگے جھکاتا پھرتا ابو کے سامنے نہ جانے کیوں گو نگا بن جاتا۔ بہرحال اس نے پری انجینئرنگ میں داخلہ لے لیا اور بے حد مصروف ہوگیا۔
    پروین شاکر نے ایک جگہ لکھا تھا۔
    ”میں ماں ہوں اور ہجر میرا مقدر ہے۔”
    شاید اسے معلوم نہیں تھا کہ ہجر مائوں ہی کا نہیں بہنوں کا بھی مقدر ہوا کرتا ہے۔ سردیوں کے دنوں میں رضائی میں گھس کر ایک دوسرے کو کہانیاں سنانے والے بہن بھائی جب عمر کی سیڑھیاں چڑھتے ہیں تو بھائی کو باہر اسٹریٹ لائٹس کی روشنی میں سڑکوں پر مٹرگشت کرتے دوست اپنی طرف کھینچ لیتے ہیں اور اب اسے لوڈشیڈنگ کے زمانے میں بہن کے ساتھ بیٹھ کر موم بتی سے ستارے بنانا بور لگتا ہے۔ سو اسے تو شاید محسوس ہوا ہو یا نہیں لیکن ہمارے درمیان گزر جانے والا وقت اب کم سے کم تر ہوتا جا رہا تھا۔ ویسے بھی جب سے اسے کالج کی ہوا لگی تھی وہ کافی انتہا پسند سا ہونے لگا تھا۔ ہنسنے پر آتا تو ہنسے ہی جاتا اور غصے میں ہوتا تو بغیر سوچے سمجھے ہاتھ میں پکڑی چیز دھم سے دے مارتا۔ اس لیے اب اس سے لڑتے وقت اس کے چہرے سے زیادہ اس کے ہاتھوں پر دھیان رکھنا پڑتا۔ امی سے بلاوجہ پیسے اڑانا، بغیر سائلنسر کے موٹر سائیکل چلانا اور رات کو دیر سے گھر آنا جیسے کسی آٹو میٹک نظام کے تحت خودبہ خود شروع ہوگیا۔
    میں اس زمانے میں کافی بے وقوف ہوا کرتی تھی۔
    ”وہ ایسا کیوں ہوگیا؟” میں سوچتی تھی مگر سمجھ نہیں پاتی تھی۔ میں تو یہ بھی نہیں سمجھ پاتی تھی کہ کبھی کبھی جب وہ موڈ میں آکر میرے ساتھ لان میں ٹینس یا بیڈ منٹن کھیلتا ہے، تو اس اچھے خاصے کھلاڑی کی بال ہمیشہ ساتھ والے انکل رضوی کے گھر ہی کیوں جاکر گرتی ہے اور اس وقت ہی کیوں گرتی ہے جب نیلی آنکھوں والی کیوٹ سی ٹینا لان میں بیٹھی رٹا لگا رہی ہوتی اور جب وہ بال اٹھا کر دیوار کے اوپر سے مجھے پکڑاتی تو اس کے ہونٹوں پر دبی دبی مسکراہٹ کیوں ہوتی۔
    ”راشد رات کو کتنے بجے گھر آتا ہے؟”
    میں ابو کو چائے دینے اسٹڈی روم میں گئی تو انہوں نے پوچھا اور میں جو سارا دن اس کی کم زوریوں کی تلاش میں رہتی تھی اور اس کی جھوٹی سچی شکایتیں امی سے لگاتے نہیں تھکتی تھی، ایک سچی شکایت پر گڑبڑاگئی۔
    ”جلدی آجاتا ہے ابو۔” میں نے جھوٹ بول کر مارے شرمندگی کے نظر نہیں اٹھائی۔ راشد اس وقت گھر پر نہیں تھا، اگر ہوتا تو شاید میں کبھی جھوٹ نہ بولتی۔
    ”بھائی بہت عجیب شے بنائی ہے اللہ میاں نے۔ نزدیک ہوتے ہیں تو تنگ کرتے ہیں اور دور ہوتے ہیں تو زیادہ تنگ کرتے ہیں۔” میں اسٹڈی روم سے نکلتے ہوئے بہت چڑ کر سوچ رہی تھی۔
    ”تم رات کو اتنی دیر تک کہاں ہوتے ہو؟” صبح ناشتے کی ٹیبل پر ابو نے اس سے پوچھ ہی لیا لیکن میں چوں کہ رات کو ہی اسے خبردار کرچکی تھی اس لیے اب وہ مکمل طور پر تیار بیٹھا تھا۔
    ”جلدی آجاتا ہوں ابو! وہ وسیم ہے نا میرا دوست، اس کے گھر پر اسٹڈی کرتے ہیں اس لیے دیر ہوجاتی ہے۔” سکرپٹ خاصا جان دار تھا۔
    ”رات کو دیر تک پڑھتے ہو؟ ہوں…” ابو نے عینک کے پیچھے سے گھورا۔
    ”تب ہی تمہارے پروموشن ایگزامز میں صرف چالیس فیصد مارکس آئے ہیں۔”
    اور وہ جیسے اپنے سارے دلائل سمیت اوندھے منہ گر پڑا۔ ابو بہ ظاہر خبر نامے اور اخبار کی سرخیوں میں گم خاموش ضرور رہتے تھے لیکن بے خبر نہیں۔ اس بات کا اندازہ ہمیں پہلی دفعہ ہوا۔ ابو مزید ایک بھی لفظ کہے بغیر ٹیبل سے اٹھ گئے لیکن ان کی تنبیہ کو راشد اپنی تمام تر حسیات کے ساتھ ریسیو کرچکا تھا۔
    اسے اکثر ہی یہ شکوہ رہتا کہ اس کے رزلٹ پر اتنی سختی سے نظر رکھنے والے پاپا میرے گزارے لائق نمبروں کو بھی اس قدر Appreciateکیوں کرتے تھے؟ حالاں کہ وجہ صرف یہ تھی کہ بیٹی اور بیٹے کی تعلیم اور تربیت میں اتنا ہی فرق ہوتا ہے جتنا ضرورت اور لگژری میں۔ بیٹا گھر کے آنگن کے بیچوں بیچ اگنے والا درخت ہوتا ہے جس نے اگلے موسم میں پھل بھی دینا ہے اور چھائوں بھی اس لیے اس کے پھلنے پھولنے کی فکر بھی زیادہ ہوتی ہے جب کہ بیٹی تو گھر کی کیاریوں میں لگی پنیری کے مانند ہوتی ہے، لگی تو ٹھیک، نہیں لگی تو نہیں لگی اس لیے میرے پچاس فیصد نمبروں پر بھی میری پیٹھ ٹھونکنے والے میرے ماں باپ اس کے ستر فیصد نمبروں پر بھی مطمئن نہ ہوتے۔
    بہر حال اس دن تو ناشتے سے رات کے کھانے تک راشد صاحب کتابوں کے ڈھیر میں غرق کمرے سے برآمد ہی نہیں ہوئے۔ میں مارے محبت کے اس کے لیے دودھ کا بڑا گلاس لے کر گئی۔
    ”ابو ٹھیک کہتے ہیں مینا۔” میرے مذاق اڑانے پر اس نے سنجیدگی سے کہا۔
    ”میں نے واقعی اپنا بہت سا وقت ضائع کردیا ہے لیکن اب انہیں مجھ سے کوئی شکایت نہیں ہوگی اور بہ راہ مہربانی یہ کلو دودھ تم اپنے خالی دماغ میں انڈیلو، میں نے دودھ پی کر سونا نہیں کافی پی کر جاگنا ہے۔”
    ”تم اس قابل ہی نہیں کہ تمہارا خیال کیا جائے۔” میں مارے غصے کے وہاں سے چلی آئی اور یہ آدھی رات تک جاگ کر کافی پینے کا ہی کرشمہ تھا کہ اسے انجینئرنگ کالج میں آرام سے داخلہ مل گیا

  • مس ظرافت کا باورچی خانہ — حرا قریشی

    مس ظرافت کا باورچی خانہ — حرا قریشی

    ”باادب! باملاحظہ! ہوشیار…مس ظرافت کچن کے ہموار پختہ فرش پر قدم دکھ چکی ہیں۔ لہٰذا کوئی بڑا یابچہ آس پاس پھٹکنے نہ پائے ورنہ جنابِ من کپ نہیں تو پلیٹ،پلیٹ نہیں تو ٹرے،ٹرے نہیں تو گلاس پر اپنا غصہ نکال دیں گی۔ سو اپنی اور کچن میں موجود اشیا کی سلامتی کے لیے، دیکھیں مگر دور سے۔ قریب آنے پر نتائج کے ذمہ دار آپ خود ہوں گے۔”
    دراصل جب مس ظرافت کچن کی عدالت میں تمام تراکیب کے شواہد کے ساتھ ایک دفعہ حاضر ہو جائیں تو اکیلے ہی مقدمہ لڑنا، یعنی”کھانا پکانا”پسند کرتی ہیں۔ اس عدالت میں جج کا خاص الخاص کردار ان کے ابا حضور ادا کرتے ہیں۔ اس لیے اولین ترجیح پسند یا ناپسند کے حوالے سے ان کی رائے کو دی جاتی ہے۔ جہاں تک غذائیت کی بات ہے تو ہم آپ سے پوچھتے ہیں …ارے بھائی!یہ ہوتی کیا ہے؟ کس چڑیا کا نام ہے؟ کبھی غذائیت سے بھرپور کچھ بنایا ہو تو پتا ہو نا۔ ازل سے نکمے اور بے کار لوگ۔ مس ظرافت جو صحت کے معاملے میں اچھی خاصی کنجوس ہیں، بھلا انہوں نے کیا کسی کی صحت کا خیال رکھنا ہے؟ نہ کھائیں گے نہ صحت بنے گی۔ لہٰذا پیسوں کی بھی بچت اور وقت کی بھی۔ پکا ولایتی ٹوٹکا ہے، بے شک زبیدہ آپا سے پوچھ لیں۔ بہرحال آزمانے سے گریز کیجیے۔
    مہمان رحمتِ خداوند یا وبال جان؟ تو جناب مہمانانِ خاص کو دیکھتے ہی کیا خوب سے خوب تر زاویے آپ کو دیکھنے کو ملیں گے۔ جناب من مس ظرافت کے رخ روشن پر۔ جناب کو ہوتی ہے اپنی اسائنمنٹ کی فکر، کھانا بے شک اچھا نہ بنے اسائنمنٹ عمدہ ہوگی۔”Lesson Plan” کی فکر جس میں سبق کے ہر نقطے پر نظر، خواہ دیگچی میں مسالے کی مقدار پوری ہو یا نہ ہو، شی ڈونٹ کئیر خواہ دم پر لگی ہنڈیا اپنے انجام تک پہنچ جائے۔ اس پر ستم بالائے ستم مہمانان خانہ بھی محترمہ کے ہاتھ کا ذائقہ چکھے بغیر نہیں جاتے۔ محترمہ کے ابا حضور جو ہیں بہت ہی مہمان نواز، ان کی جانے بلا سے۔ سو کر نہ کر تیرا درد سر۔ پھر وہ مہمانانِ خانہ خوش نصیب ہی ہوں گے نا جو مس ظرافت کی امورِ خانہ داری کے فن،ذوق اور سلیقے کی داد دیے بغیر نہیں جائیں گے۔

    ترکیب ملاحظہ کیجئے:
    اجزا آپ کے سامنے ہیں، کوفتہ ہرا مسالہ، وہ ڈش جو جلد از جلد پک جائے،وقت بچائے اپنے لیے، قوم کے لیے۔
    قیمہ: حسب ذائقہ،حسب مقدار اتنا اور اس طرح پکائیں کہ مہمانانِ خانہ کے علاوہ کوئی اور کھانے کی ہمت نہ کر سکے۔
    ہری مرچ: کم از کم اتنی مقدار میں تو ہو کہ فارغ بیٹھ کر کھانے والے ایک پلیٹ کے بعد دوسری کی فرمائش نہ کر سکیں۔
    پیاز: جتنی کم ہو اتنا اچھا کہ یہ آنکھوں میں پانی لانے کا سبب بنتی ہے۔
    لونگ: اتنی ضرور رکھیں کہ ہر پلیٹ میں پانچ سے چھے اپنی موجودگی کا احساس دلاتی رہیں کہ کھانے والے کے دل میں ان کی بہ دولت صبر کا مادہ پیدا ہوگا اور وہ کم سے کم کھائے گا۔
    کالی مرچ: اس کے ساتھ بھی ہوبہ ہو لونگ والا برتاوؑ کریں۔
    دہی: کیا کرنا ڈال کر،چھڈو جی ۔
    ادرک: پیسنے کی زحمت بالکل نہ کریں۔موٹی موٹی بڑے سائز میں کاٹ لیں تاکہ نظر تو آئے اور پتا بھی چلے کہ ادرک ڈالی گئی ہے۔ وہ شے ہی کیا جو اپنے وجود کا احساس نہ دلائے۔
    ہرا دھنیا: ہرے دھنیے کی پتیاں ہر پلیٹ کے سائڈ پر رکھیں تاکہ ڈش سمیت پلیٹ کی قدروقیمت بھی بڑھ جائے۔
    پودینہ: کیا ضرورت ہے ڈالنے کی؟ ہاں مہک کی خاطرسالن سے بھرے ڈونگے پر رکھ دیں۔
    لہسن: اتنا ڈالیں کہ جگہ جگہ اپنی باس چھوڑ جائے۔
    آدھا لیموں: ارے رے رے ! لیموں کاٹیں مت، پورا ہی رکھ دیں۔ کاٹ دیا تو ختم ہو جائے گا نا۔ سمجھا کریں بھئی۔
    ترکیب:
    کبھی بھی پہلے سے گوشت کا قیمہ نکال کر، یکساں حجم کے کوفتے بنا کر نہ رکھیں بلکہ مہمانوں کی آمد پر ہی سب کام کریں تاکہ صبروبرداشت اور حوصلے کا امتحان لیا جا سکے کہ جناب کتنی دیر تک رک سکتے ہیں۔ کتنا برداشت کرنے کی صلاحیت ہے۔ ارے بھئی! کوئی تو بہانہ ہو مہمانوں کو بھگانے کاکہ کوفتے بن ہی نہیں رہے۔ ناچاہتے ہوئے بھی تیل گرم ہو جائے تو پوری ایک عدد پیاز کے چار حصے اور لہسن ڈال دیں تاکہ تیل کی سطح پربہ خوبی تیرتی دکھائی دیں۔ مزید پالک کو موٹا موٹا کاٹ کر اجزا میں دی گئی ہدایات کے مطابق ہرا دھنیا،پودینہ،ادرک اور لہسن کے ساتھ پین میں ڈالیں۔ ساتھ ہی ہری مرچ بھی شامل کر لیں۔ پیسنے یا گرائنڈ کرنے کی زحمت نہ کریں۔ ارے بھئی تھک جائیں گے نا !ڈیپ فرائنگ پین میں تیل،زیرا،لونگ اور کالی مرچ ڈالیں پھر بنے بنائے بڑے، چھوٹے، آڑھے ترچھے کوفتے شامل کرکے ڈیڑھ پیالی پانی اور نمک ڈال کر ڈھک دیں۔ اگر نظر بچا سکیں تو مقدار بڑھا دیں تاکہ یہ کوفتے کھانے والا اگلی بار دوبارہ کوفتے کھانے کا خیال کبھی دل میں نہ لا سکے۔ کچھ دیر، بس کچھ ہی دیر بعد اس میں ہرے مسالے کا آمیزہ شامل کریں۔ اس کے بعد دہی ڈالنے کی ضرورت نہیں۔ آخر میں لیموں دور دور سے دکھا کر ڈش پیش کریں۔
    لیجیے!مزے دار گرما گرم لذیذ کوفتے نوش کیجیے جو شاید ہی کبھی آپ نے زندگی میں کھائے ہوں، اور داد دیجیے۔
    داد دو اس کی کہ ہم نے کوفتہ ہرا مسالا بنایا کیسا!
    نوٹ:
    یہ ڈش کھانے کے بعد مہمان جو تواضع کریں گے آپ کی، وہ بتانے کی ضرورت تو ہے ہی نہیں۔ سلیقہ تو سمجھ لیں کہ ختم ہے مس ظرافت پر۔ برتن دھوئیں سنک میں، تو برتن تو نہیں ہاں پیاز کے چھلکے پانی سے لبالب بھرے سنک میں مچھلی کی مانند تیرتے دکھائی دیں گے۔ ادرک کے کئی ننھے منے چھلکے سنک کی دیواروں کی سطح سے پرجوش گلے ملتے دکھائی دیں گے، گویا ایلفی لگا دی گئی ہو۔ لہسن کا بھی ایک آدھ چھلکا نظر آ ہی جائے گا۔ چاولوں کے چند ایک دانے سنک کی کسی نہ کسی کونے میں جائے پناہ تلاش کرنے پر مجبور ہوں گے۔ جو چیز استعمال کے بعد جہاں رکھی ہے وہیں، آپ کو دکھائی دے گی۔ مجال ہے جو اپنی درست جگہ پر چلی جائے۔ کوڑے کا ڈھیر کچن کے ایک پوشیدہ کونے میں لازماً جمع رہے گا کہ کہیں ڈسٹ بن جلد نہ بھر جائے۔ پھر اس سے بڑھ کر سلیقہ مندی کا ثبوت کیا ہو گا بھلا؟
    مس ظرافت ہفتے میں ایک دن کچن کی اچھی طرح صفائی کرتی ہیں کہ مہینے کے باقی دن پریشانی نہ اٹھانی پڑے اور امن و امان کی فضا قائم رہے۔ سرف کا استعمال انتہائی اشد ضرورت کے تحت کریں۔ بھئی ابا حضور کی جیب کا خیال رکھنا بھی تو ضروری ہے نا۔
    ناشتہ اور وہ بھی سویرے سویرے؟ نا جی! جناب سکون سے مس ظرافت اٹھتی ہیں۔ نماز پڑھنے کے بعد پھر سو جاتی ہیں۔ ڈیوٹی سے لیٹ ہی ہو جائیں گے نا تھوڑاتو کیا ہو گیا؟نیند بھی تو پوری کرنی ہے نا…برکت کی برکت…ثواب کا ثواب!
    جب اٹھ جاتے ہیں ہم شہنشاہوں کی طرح تو رمضان بابا کے دکان کا دہی، چنے زندہ باد اور ریاض کلچہ شاپ کے تو کلچوں کی بات ہی کیا ہے۔ تو جناب من دہی، چنا اور نان منگوائیں اور خوب مزے لے لے کر کھائیں نہ پکانے کا جھنجھٹ’نہ تھکاوٹ کا اندیشہ۔ اطمینان ہی اطمینان،سکون ہی سکون۔
    نوٹ:
    جو افراد پہلے سے رزق میں تنگ دستی کا شکار ہیں وہ ان تجاویز پر سال میں ایک دفعہ عمل کریں ورنہ۔آپ ڈر کیوں گئے؟ کچھ بھی نہیں ہو گا! روز پکنک ہو،کسی کزن کی شادی ہو،سالگرہ کی تقریب ہو، کھانا ہمیشہ باہر ہی کھائیں۔ چاہے چھپ کر جانا پڑے، کیا فرق پڑتا ہے کبھی کبھی عیش بھی کر لینی چاہیے۔
    حاصل ہونے والے نتائج کی صورت میں ابا حضور کا مولا بخش ڈنڈا اور بھاری بھرکم جوتیاں چھپانا ہر گز ہر گز نہ بھولیے۔
    گر ہو آپ کچن میں، موسم ہو بارش کا تو گھی یا تیل کی بچت کیجیے۔ پکوڑے اورسموسے گھی کی بہ جائے بارش کے صاف شفاف پانی میں شڑاپ شڑاپ تلیں۔ پکوڑیخستہ اورکرکرے کرارے بنیں گے۔ بنانے کے بعد پھر اکیلے ہی کھائیں۔ محنت تو جنابِ من مس ظرافت میں کوٹ کوٹ کر بھری ہے۔ آپ کچن میں ہوں اور آپ کو جگہ جگہ مسالے کے ڈبے، آٹا اور گھی بکھرا نہ دکھائی دے تو مان لیجیے گا کہ مس ظرافت آج کچن میں آئیں ہی نہیں۔ کنواری دوشیزائیں شادی سے پہلے ان سوالات کے جوابات ساسو ماں کو ضرور پڑھوائیں تاکہ وہ آپ کی قابلیت کے جوہر سے بروقت آگاہ ہو سکیں۔
    جاتے جاتے مس ظرافت کے آزمودہ مشوروں پر بھی نظرِثانی کرتے چلیں۔
    نمبر1:
    گھی اور آٹے کا بربادہ کریں مگر سب سے چھپا کر۔
    نمبر:2
    چھوٹے بچوں کو چینی کا لالچ دیں تاکہ وہ آپ کی شکایات پر دھیان نہ دے سکیں۔
    نمبر3 :
    نمک کی جگہ چینی اور چینی کی جگہ سرخ پسی ہوئی مرچ کا بہ کثرت استعمال کریں تاکہ چائے بنانے سے ہمیشہ کے لئے چھٹکارا نصیب ہو۔
    نمبر4 :
    ہنڈیا میں نمک ہمیشہ تیز یا پھر ڈالنا ہی بھول جائیں، ہنڈیا کبھی کبھی پکانا پڑے گی اور کھانا جو باہر سے آ جائے تو مزے ہی مزے۔
    اتنا کافی ہے یا؟
    نوٹ: مس ظرافت کے باورچی خانے کو سلیقہ مند خواتین بالکل نہ پڑھیں۔
    زندہ باشی،کامراں باشی!

    ٭…٭…٭

  • سمے کا بندھن — ممتاز مفتی

    سمے کا بندھن — ممتاز مفتی

    آپی کہا کرتی تھی،” سنہرے سمے سمے کی بات ہوتی ہے۔ ہر سمے کا اپنا رنگ، اپنا اثر ہوتا ہے۔ اپنا سمے پہچان، سنہرے۔ اپنے سمے سے باہر نہ نکل۔ جو نکلی تو بھٹک جائے گی۔”
    اب سمجھ میں آئی آپی کی بات۔ جب سمجھ لیتی تو رستے سے نہ بھٹکتی، آلنے سے نہ گرتی۔ سمجھ تو گئی۔ پر کتنی دیر پڑی سمجھن کی۔ آپی مجھے سنہرے کہہ کر بلایا کرتی تھیں ۔ کہتی تھیں ”تیرے پنڈے کی جھال سنہری ہے۔ جب رس آئے گا تو سونا بن جائے گی، کٹھالی میں پڑے بنا۔ پھر یہ جھال کپڑوں سی نکل نکل کر جھانکے گی۔”
    پتا نہیں میرا نام کیا تھا۔ پتا نہیں میں کس کی تھی، کہاں سے آئی تھی۔ کوئی لایا تھا ۔ بالپن ہی میں آپی کے ہاتھ بیچ گیا تھا۔ اِسی کی گود میں پلی، اِسی کی سرتال بھری بیٹھک کے جھولنے میں جھول جھول کر جوان ہوئی۔ پھر سنہرا امڈ امڈ آیا۔ چھپائے نہ چھپتا تھا۔ آپی بولی نہ دھیے، چھپا نہ۔ جو چھپائے نہ چھپے اِسے کیا چھپانا۔”
    کبھی کھڑکی سے جھانکتی تو آپی ٹوکتی ”یہ کیا کر رہی ہے بیٹی ؟ سیانے کہتے ہیں جس کا کام اسی کو ساجھے۔ تیرا کام نہیں۔ دکھنا ہے تو نظر نہ بن، منظر بن۔ اور جو دیکھے بھی تو تو دکھنے کا گھونگھٹ نکال ۔اِس کی اوٹ سے دیکھ، پھر سمے دیکھ سنہرے۔ ابھی تو شام ہے۔ یہ سمے تو اداسی کا سمے ہے۔ دکھ کا سمے ہے۔ شام بھئی گھن نہ آئے۔” آپی گنگنانے لگی ”یاد ہے نا یہ بول؟ شام تو نہ آنے کا سمے ہے۔ تیرا آنے کا سمے ہے۔ پگلی ذرا رک جا۔ اندھیرا گاڑھا ہونے دے۔ پھر تیرا ہی سمے ہوگا، پچھلے پہر تک۔”
    ایک دن آپی کا جی اچھا نہ تھا۔ مجھے بلایا، گئی۔ لیٹی ہوئی تھی۔ سرہانے تپائی پر سوڈے کی بوتل دھری تھی۔ ساتھ نمک دانی تھی۔ یہ ان دِنوں کی بات ہے جب سوڈے کی بوتل کے گلے میں شیشے کا گولا پھنسا ہوتا تھا، ٹھا کر کے کھلتا تھا۔
    بولی ”سنہرے، بوتل کھول گلاس میں ڈال۔ چٹکی بھر نمک گھول اور مجھے پلا دے۔”میں نے نمک ڈالا تو جھاگ اٹھا، بلبلے ہی بلبلے۔ آپی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا ۔ بولی ”دیکھ لڑکی، یہ ہمارا سمے ہے۔ ہمارا سمے وہ ہے جب جھاگ اٹھے۔ ہم میں نہیں، دوجے میں اٹھے۔ دوجے میں جھاگ اٹھانا یہی ہمارا کام ہے۔ خود شانت، دو جا بلبلے ہی بلبلے۔ جب تک جھاگ اٹھتا رہے گا، ہمارے سمے۔ جب دوجا شانت ہو جائے، سمجھ لے ہمارے سمے بیت گیا اور جب سمے بیت جائے دھیرج پاں دھرنا۔ ٹھمک نہ کرنا ۔ ٹھمک کا سمے گیا۔ چمک نہ مارنا، چمک کا سمے گیا۔ پائل نہ جھنکارنا، پائل کی جھنکاربیرن بھئی۔”
    پھر وہ لیٹ گئی اور بولی ”سنہرے،میری باتیں پھینک نہ دینا، دل میں رکھنا۔ یہ بھیتر کی باتیں ہیں، اوپر کی نہیں، سنی سنائی نہیں، پڑھی پڑھائی نہیں۔ وہ سب چھلکے ہوتی ہیں، بادام نہیں ہوتیں۔ جان لے بیٹی بات وہ جو بھیتر کی ہو۔ گری ہو، چھلکا نہ ہوا۔ جو بیتی ہو، جگ بیتی نہیں۔ آپ بیتی ہو، ہڈ بیتی۔ باقی سب جھوٹ، دِکھلاوا بہلاوا۔”
    آج مجھے باتیں یاد آ رہی ہیں۔ بیتی باتیں۔ بسری باتیں۔ سانپ گزر گئے، لکیریں رہ گئیں، لکیریں ہی لکیریں۔ سانپ تو صرف ڈراتے ہیں، پھنکارتے ہیں۔ لکیریں کاٹتی ہیں، ڈستی ہیں۔ پتا نہیں ایسا کیوں ہوتا ہے۔ لکیروں نے مجھے چھلنی کر رکھا ہے۔ چلتی ہیں، چلے جاتی ہیں جیسے دھار چلتی ہے۔ ایک ختم ہوتی ہے دوجی شروع ہو جاتی ہے ۔
    آپی کی بیٹھک میں ہم تین تھیں۔ پیلی،روپا اور میں۔ پیلی بڑی، روپا منجھلی اور میں چھوٹی۔ پیلی میں بڑی آن تھی، پر مان نہ تھا۔ اس آن میں چھب تھی۔ سندرتا بھرا ٹھہرا تھا۔ یوں رعب سے بھری رہتی جیسے مٹیار رس سے بھری رہتی ہے۔ گردن اٹھتی رہتی، مورتی سمان۔

    روپا سر ہی سر تھی۔ شدھ سر۔ تاروں سے بنی تھی۔ اس کے بند بند میں تار لگے تھے۔ سرتیاں سمرتیاں اور وہ گونجنے مدھم میں گونجتے اور پھر سننے والوں کے دلوں کو جھلا دیتے تیجی میں تھی۔ آپی کہتی تھی ”سنہرے، تجھ میں دکھ کی بھیگ ہے ۔ تو بھگو دیتی ہے۔ خود بھی ڈوب جاتی ہے ، دوجے کو بھی ڈبو دیتی ہے پگلی دوجے کو ڈبویا کر، خود نہ ڈوبا کر۔ مجھے تجھ سے ڈر آتا ہے سنہرے۔ کسی دن تو ہم سب کو نہ لے ڈوبے۔”
    آپی کی بیٹھک کوئی عام بیٹھک نہ تھی کہ جس کا جی چاہا منہ اٹھایا اور چلا آیا۔ بیٹھک پر دھن دولت کا زور تو چلتا ہی ہے ۔ وہ تو چلے گا ہی ہر بیٹھک پر۔ پر آپی نے برتا کا ایسا رنگ چلا رکھا تھا کہ خالی دھن دولت کا زور نہ چلتا تھا۔ نو دولیتے آتے تھے پر ایسے بدمزہ ہو کر جاتے کہ پھر رخ نہ کرتے۔ آپی کی بیٹھک میں نگاہیں نہیں چلتی تھیں۔اس نے ہمیں سمجھا رکھا تھا کہ لوگ نگاہوں پر اچھالیں گے تو پڑے اچھالیں۔ لڑکیو تم نہ اچھلنا۔ جو نگاہوں پر اچھل جاتی ہیں وہ منہ کے بل گرتی ہیں اور جو گر گئی وہ سمجھ لو، نظروں سے گر گئی ۔ پھر نہ اپنے جوگی رہی نہ دوسروں جوگی۔
    آپی کی بیٹھک میں نظریں نہیں چلتی تھیں۔ کان لگے رہتے تھے۔ دل دھڑکتے تھے۔ وہاں ملاپ کا رنگ نہ ہوتا تھا۔ برہا کا ہوتا۔ رنگ رلیاں نہیں ہوتی تھیں، نہ وہاں تماشا ہوتا نہ تماش بین ۔ مجھے وہ دِن یاد آتے ہیں جب ہمارے ہاں ٹھاکر کی بیٹھک لگتی تھی۔ دومہینے میں ایک بار ضرور لگتی تھی۔ ٹھاکر کی بیٹھک لگتی تو کوئی دوجا نہیں آ سکتا تھا۔ صرف ٹھا کر کے سنگی ساتھی۔
    ٹھاکر بھی تو عجب تھا۔ اوپر سے دیکھو تو ریچھ۔ طاقت سے بھرا ہوا۔ اندر جھانکو تو بچہ۔ نرم نرم، گرم گرم، ویسے تھا آن بھرا مان بھرا۔ سنگیت کا رسیا۔ یوں لگتا جیسے بھیتر کوئی لگن لگی ہو۔ دھونی رمی ہو،آرتی سجی ہو۔
    ٹھاکر کی ہمارے ہاں بڑی قدر تھی۔ آپی عزت کرتی تھی، بھروسا کرتی تھی۔ ٹھاکر نے بھی کبھی نظر اچھالی نہ تھی۔ جھکائے رکھتا۔ پیتا ضرور تھا، پر ایسی کہ جوں جوں پیتا جاتا الٹا مدھم پڑتا جاتا۔ آنکھ کی چمک گل ہو جاتی۔ آواز کی کڑک بھیگ جاتی۔ اس کا نشہ ہی انوکھا تھا۔ جیسے بوتل کا نہ ہو۔ بھیتر کا ہو۔ بوتل اِک بہانہ ۔ بوتل چابی ہو بھیتر کے پٹ کھولنے کی۔
    ڈرو سیکھو ڈرو بھیتر کے نشے سے ڈرو۔ بھیتر کے نشے کے سامنے بوتل کا نشہ یوں ہاتھ جوڑے کھڑا ہے جیسے راجہ کے روبرو نیچ کھڑا ہو۔ بوتل کا تو خالی سر چکراتا ہے۔ بھیتر کا من کا جھولنا جھلا دیتا ہے ۔ ڈرو سکھیو ڈرو بھیتر کے نشے سے ڈرو، بوتل کا تو کام کاج جوگا نہیں چھوڑتا۔ بھیتر کا کسی جوگا نہیں چھوڑتا۔ خود جوگا بھی نہیں۔ مجھے کیا پتا تھا کہ ٹھاکر کے نشے کا ریلا مجھے بھی لے ڈوبے گا۔
    ہاں تو اس روز ٹھاکر کی بیٹھک ہو رہی تھی۔ بول تھے ”گانٹھری میں کون جتن کر کھولوں۔ مورے پیا کے جیا میں پڑی رہی۔” گیت نے کچھ ایسا سماں باندھ رکھا تھا کہ ٹھاکر جھوم جھوم جا رہا تھا۔ پھر کہو، پھر بولو کا جاپ کیے جا رہا تھا۔ نہ جانے کس گرہ کو کھولن کی آرزو جاگی تھی۔ اپنے من یا محبوب کی من کی۔ سمے بیتا جا رہا تھا ۔ سمے کی سدھ بدھ نہ رہی تھی۔ کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے ۔ سمے جیون سے نکل جاتا ہے کہ کون ہیں، کیا کر رہے ہیں۔ کسی بات کی سدھ بدھ نہیں رہتی۔ اِس روز وہ سمے ایسا ہی سمے تھا۔
    دفعتاً گھڑی نے تین بجائے ۔ آپی ہاتھ جوڑے اٹھ بیٹھی۔ بولی ”شماکرو ٹھاکر جی۔ معافی مانگتی ہوں۔ ہمارا سمے بیت گیا۔ اب بیٹھک ختم کرو۔”
    ٹھاکر پہلے تو چونکا پھر مسکایا ”نہ آپی، ابھی تو رات بھیگی ہے۔” آپی بولی ”ٹھاکر ہم سوکھے پروں والے پنچھی ہیں۔ جب رات بھیگ جاتی ہے تو ہمارا سمے بیت جاتا ہے۔ جو ہمارے پر بھیگ گئے تو اڈاری نہ رہے گی۔ فنکار میں اڈاری نہ رہے تو باقی رہا کیا؟” ٹھاکر نے بڑی منتیں کیں، آپی نہ مانی۔

  • مشام — میمونہ صدف

    مشام — میمونہ صدف

    وہ شہر کے صدر بازار میں لوہے کی منڈی تھی جو ہر وضع اور ہر قماش کے لوگوں سے بھری پڑی تھی۔ وہ صومعہ نشین بھی اسی منڈی کا منتشر سا صیغہ معلوم ہو تا تھا ۔ ایک منظوم عبارت سا علیا بشر ، جو ساکن ہو کر بھی متحرک دکھتا ۔
    وہ پورے دن میں واحد کام موحد بن کر کرتا ۔ صبح سویرے جب اِکا دُکا سائیکل سوار اخبار بیچنے شہر کی سڑکیں چھاپتے ، ہر پرند اپنا گھونسلا رزق کے لیے چھوڑ کر پرواز بھرتا، تب وہ بھی ایک قوی الجثہ مقناطیس ، جسے اٹھانا صرف اسی مجاور کے بس کا کام تھا ، کو موٹی رسی سے باندھ کر تمام بند دکانوں کے باہر زمین سے انچ بھر اٹھا ئے اٹھائے پھرتا ۔ لوہے کے نادیدہ ، بیکار ٹکڑے اس مقناطیس کی طرف کھنچے آتے تھے ۔ یہ وہ پہلو تھا جو ہر صاحب ِ بصر دیکھتا تھا اور جو پہلو ہر صاحب ِ بصیرت دیکھ سکتا تھا’ وہ یہ تھا کہ دراصل وہ اس کی جانب کھنچے چلے آتے ہیں ۔پھر انہی جمع شدہ ٹکڑوں کو ایک طرف ڈھیر کرتا جاتا اور یوں اس کا کام تمام ہو جاتا ۔پھر باقی ماندہ دن وہ کسی نہ کسی دکان کے باہر پڑا جیب سے چند بوسیدہ کاغذ نکال کر ان پر لکھی آیات پڑھتا رہتا۔ کبھی وہ یوں روانی سے انہیں دہراتا جیسے سب اسے ازبر ہو اور کبھی اس د قت سے پڑھتا گویا ابھی ابھی ہجے کرنا سیکھے ہوں ۔
    اس کے بائیں ہاتھ میں ہمیشہ کستوری کی شیشی دبی ہوتی جسے وہ ہر تین چار منٹ بعد نتھنوں سے لگا کر گہرے سانس بھر کر اپنے اندر اتار لیتا اور پھر سے مٹھی میں دبا لیتا۔ وہ ہر تین چار منٹ بعد یہ عمل دہراتا، اسی لیے وہ سب کے لیے مشام تھا ۔
    حاکم کے بڑے ابا بتاتے تھے کہ وہ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا، مگر وہ کبھی پوچھنے کی جرأت نہ کر سکا کہ وہ کیسا تھا؟ حاکم نے جب جب اسے گزرتے ہوئے دور سے سلام کیا، تو سلام کے جواب سے قبل وہ لازماً اک خاطی کے مانند سارے جسم کو ٹٹول ٹٹول کر سونگھا کرتا ، پھر چشمِ زدن میں شیشی نکال کر سانس اندر کو کھینچتا، شیشی سے خود پر چھڑکاؤ کرتا اور تب کہیں جا کر سلام کا جواب دیتا ۔ اکثر سلام کرنے والا جا چکا ہوتا، تو وہ اگلی بار اس کے سامنے آنے پر اُدھار رکھا جواب لوٹا دیتا ۔
    ٭…٭…٭

    ”اس کا اصل نام عالم ہے۔ یہ سامنے کی بڑی منزل اس کی ملکیت رہی ہے ۔ پھر اس نے اسے شہر کے اندر مشہو ر ‘ پاگل کدے ‘ کے نام منتقل کر دیا اور خود ایک عرصہ غائب رہا۔جب لوٹا تو اس حال میں لوٹا۔” اکمل نے ساری کہانی ایک آنکھوں دیکھی کہانی کی مانند دہرا دی جو دراصل اس کے ابا نے اسے سنا رکھی تھی ۔
    ”کوئی حادثہ ہوا یا واقعہ ؟” حاکم نے دور نظر آتے ، جھوم جھوم جاتے ‘مشام ‘ کو دیکھتے سوال کیا ۔
    ”نہ حادثہ ، نہ واقعہ۔ عصیان تھا ۔”
    ”اسی لیے ملکیت صدقے میں دے ڈالی؟”
    ”نہیں! کفارے میں ۔”
    اور حاکم کے اندر کھوج کاٹنے لگی کہ وہ ایسا کیسے ہوا ؟”
    ”آپ کو یہ مشک پسند ہے ؟”
    اس روز وہ جسارت کر ہی بیٹھا اور تبھی اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا ۔ آدھے بازار نے اسے ایسا کرتے دیکھا ، باقیوں میں سے کسی نے اس کی شجاعت کی داد دی، تو کسی نے اسے نصیحت کی۔ کسی نے اسے ڈرایا، تو کسی نے تاسف سے سر ہلایا، مگر اسے یہ سب کرنا ہی تھا ۔
    ” میں اس سڑاند کو ناپسند کرتا ہوں ۔” وہ کس سڑاند کی بات کر رہا تھا ۔ حاکم یہ سمجھنے سے قاصر رہا۔
    ” یہاں تو ایک مشک فام کے سوا کچھ نہیں۔ ” حاکم نے گہری سانس لیتے اس خوش بو کو ہمیشہ کے لیے قید کر لینا چاہا۔
    ”یہاں لحم اور لہو کی بساند ہے، جو ہر اس وجو د سے اٹھتی ہے جو مردہ ہو ۔ کیا تم سونگھنے کی حس سے بے حس ہو ؟ ”
    اور حاکم نے غائب دماغی سے اس حاضر جواب کو دیکھا ۔ اس بھید بھرے سودائی کے ہر اس راز کو جو وہ اک عرصے سے اٹھا ئے پھر رہا تھا ۔
    ٭…٭…٭
    بڑا مُؤقرّ اور زاہدوں میں گردانا جاتا تھا وہ عالم۔” جس کا صدر بازار میں بڑا کاروبار اور بیوپاری مال تھا ۔ چالیس کے پیٹے میں بھی گھر نہ بسایا تھا ۔زندگی بس ایک ہی مدار میں گھومتی تھی ۔ ”خدمت ِ خلق۔” نہ ظلم کرو ، نہ ظلم کیے جاؤ۔ ظلم پھر ہوا بھی اور خود پر کیا بھی گیا۔
    اندرونِ شہر جس طویل گلی میں اس کی پیلی حویلی ساری عمارتوں کو ہیچ کرتی سر اٹھائے کھڑی تھی، وہیں اسی گلی کا اختتام چھوٹے سے ایک کمرے کے مکان پر ہوتا تھا جو’ ‘پاگل کدہ’ ‘ کے نام سے مشہور تھا۔ ”پاگل کدہ’ ‘ دو خواتین کی ملکیت تھا جس کے باہر دیواروں پر جا بہ جا کسی راہ چلتے منچلے نے کوئلے سے ”پاگل کدہ’ ‘ جلی حروف میں کندہ کیا اور مانو مکان کی نہیں، مکین کے دل کی دیواروں پہ کندہ ہوا کہ دل کو لگا گویا دل سے لگا۔
    دو خواتین ، دونوں بہنیں ، دونوں مطلقہ ، دونوں بے اولاد ، دونوں ہی مخبوط الحواس۔ چھوٹی اور بڑی بی بی ۔وہ بشر سے بھاگتیں تو بشر ان سے چھپتے اور اس چھپنے میں درپردہ بڑی تہمتیں تھیں جو وقت نے محذوف کر ڈالیں ۔
    اس گھر کی آبادی میں ان کی بالوں کی سیاہی اور ہاتھوں کی قوت گواہ رہی تھی۔ پھر وہی سیاہی، سفیدی میں ڈھلی اور طاقت، ضعف میں۔ یسر، عسرت میں بدلی اور صحت بیماری میں ۔
    نہ کوئی آگے نہ پیچھے۔ تو ہر کوئی ان کے آگے اور پیچھے لگ گیا۔
    ”یہ حسن کے بازار سے مفرور ہیں۔” وہ انسانوں کے بازار سے مفرور ہوتی ، محدود ہو گئیں۔
    ” ضرور ان پر سماوی سزا کا نزول ہے ۔” وہ اسی سزا کے واسطے دیتیں ، ارض و سماں والے سے جزا مانگنے لگیں۔ انہیں دیکھتے چلتے پھرتے کانوں کو ہاتھ لگاتے۔
    ”استغفار کا مقام ہے۔” تو دونوں استغفار کے مقام تک ہی جا پہنچیں ۔ وہ دونوں اپنی قسمت میں لکھے ایک مرد سے مطلقہ ہوئیں تو ہزاروں سے مقہور کردی گئیں۔ وہ انسانیت، جہاں تہمتوں کو مثلِ فن، زن کے دامن پر زینت بنا کر مُحرر کیا جائے ، ایسی انسانیت کو قابلِ مُحرق سمجھتے، دونوں نے اپنے گھر کو گور کی طرح اوڑھ لیا۔
    دوسروں کی ذات پر انگلی اٹھانا انسان خود کے لیے تفویض سمجھتا ہے۔ ایسا حق، جو وہ عہدِ الست کے بدلے خدا سے لکھوا کر لایا تھا اور اسی حق سے اس حق کو استعمال بھی کرنا جانتا ہے ۔ سو ان بیبیوں کے اس فرار ِ فرد کو اپنے قرار ِ قلب کے لیے زیر بحث لاتے ہوئے انہیں پاگل قرار دیا گیا ۔
    عالم ہر ماہ کی پہلی کو راشن کا سامان کمرے کی ڈیوڑھی میں رکھوا دیتا تھا۔سارا دن پڑے رہنے والا سامان، اندھیرا پھیلنے پر کسی آسیب کی طرح غائب ہو جاتا تھا ۔نہ کبھی جھوٹے منہ شکریہ کہا گیا، نہ کبھی ادھر سے حقِ مہربانی وصول کیا گیا۔
    ایسی ہی ایک تاریک رات کو تاریخی دن میں ڈھلنا تھا۔ تبھی جب عالم گندم کی بالیوں میں سے دانے الگ کروا رہا تھا، تو ملازمین میں سے ایک دوڑا ہوا آیا کہ ‘ ‘پاگل کدہ’ ‘ کی بڑی بی بی آئی ہیں ۔وہ سارا کام وہیں چھوڑ کر بھاگا تھا ۔ دروازے کے پٹ تھامے وہ کالی چادر میں انگارہ آنکھیں لیے یوں کھڑی تھی کہ نادانستہ اس نے جھرجھری لی۔
    ” چھوٹی کو کچھ ہو گیا ہے۔” اس نے ایک ہاتھ سے اپنے کمرے کی طرف اشارہ کیا ۔
    ” کیا ہو گیا ہے ؟” وہ سمجھ نہ سکا ۔
    ”یہی تو دیکھنا ہے کہ کیا ہو گیا ہے۔ ” اور وہ اس کے ہم راہ ہو لیا ۔” چھوٹی بی بی بیمار ہیں کیا؟”
    ”شاید! ”
    اس نے تعجب سے ساتھ چلتی کالی رات کا حصہ بنی اس بی بی کو دیکھا ۔برابر میں ایک ہیولا چلتا دکھتا تھا اور بس ۔
    ” حکیم یا طبیب کو دکھایا ہوتا۔”
    ”جسے میں نہیں جانتی ، اس تک میں نہیں جاتی۔”
    ”نہ جانے میں کچھ کر بھی پاؤں گا یا نہیں؟” وہ سوچ سوچ کر بے یقین ہو رہا تھا ۔
    ” کیا خبر اب سب تم ہی کر پاؤ۔” وہ سوچے بنا بھی پر یقین تھی

    ۔

  • دانہ پانی — قسط نمبر ۹ (آخری قسط)

    دانہ پانی — قسط نمبر ۹ (آخری قسط)

    عشق تے آتش سیک برابر
    سانوں عشق دا سیک چنگیرا
    اگ تے ساڑھے ککھ تے کانے
    عشق ساڑے تن میرا
    اگ دا دارو مینہ تے پانی
    دس عشق دا دارو کیہڑا
    (آگ اور عشق دونوں ایک طرح سے جلاتے ہیں
    لیکن ہمیں عشق سے جلنا پسند ہے
    آگ تو صرف گھاس پھوس جلاتی ہے
    مگرعشق میرا تن جلاتی ہے
    آگ تو پانی سے بجھ جاتی ہے
    مگر مجھے بتاؤ عشق کس دوا سے ختم ہوتاہے)
    اُس بُت نے دعا کی تھی کہ وہ واقعی بُت ہوتا۔ جو اُس نے سُنا، نہ سُن سکتا، جو اُس نے دیکھا، نہ دیکھ پاتا اور اگر پہلے نہیں تھا تو اب بُت بن جاتا، رہ ہی کیا گیا تھا اب دُنیا میں؟
    وہ وہاں آنے سے پہلے بھی مجرم بن کر آیا تھا مگر یہ نہیں جانتا تھا کہ بتول سیدھا اُسے پھانسی کے تختے پر لٹکادے گی۔ وہ تو اتنے لمبے عرصے کے بعد گاؤں آنے پر حویلی جانے سے بھی پہلے گامو کے گھر آیا تھا تعزیت کرنے اور موتیا کا حال جاننے۔ اُس کے ملازم نے اُسے بتایا تھا گامو کے بارے میں جب وہ اُسے سٹیشن سے لینے آیا تھا اور مراد اُسے یہ نہیں کہہ سکا کہ وہ اتنے عرصہ بعد واپس ہی اس لئے آیا تھا کہ وہ اُس کے گھر جاسکے۔
    ”اسلم! حویلی کے بجائے گامو کے گھر چلو۔”
    اُس نے گاڑی چلانے والے ملازم سے کہا تھا۔ گامو کے گھر سے بہت دور گاڑی روک کر وہ پیدل اُس کی گلی میں آیاتھا اور اُس گلی میں آتے ہوئے اُسے چند سال پہلے ایک چھت پر کھڑی وہ دلہن یاد آئی تھی۔ اُس نے بے اختیارآج بھی سر اُٹھا کر جیسے اُس گلی میں گامو کے گھر کی چھت پر اُس وجود کو ڈھونڈنا چاہا تھا، وہاں کچھ بھی نہیں تھا۔
    گامو کے گھر کا دروازہ کھلا تھا اور مراد نے دہلیز پر قدم رکھ کر اُس دروازے کو بجانا چاہا تھا، جب اُس نے اندر سے آتی بتول کی آواز سُنی تھی اور پھر وہ انسان سے بُت میں بدل گیا تھا۔ پتہ نہیں وہ کون سی ریل کی پٹڑی تھی جس پر وہ لیٹا ہوا تھا اور بتول کی آواز ریل بن کر اُس کے وجود کے پرخچے اُڑاتے ہوئے اُس پر سے گزر رہی تھی۔
    ”سازش؟ اُس کی ماں یہ سازش کیسے کرسکتی تھی؟”
    اُس نے تو صرف ”پیار ” کیا تھا۔ پیار کی یہ سزا تو کوئی اُسے نہیں دے سکتا تھا اور وہ بھی وہ جو اُس کی اپنی ماں تھی۔
    کبھی کبھی انسان روشنی میں آنا نہیں چاہتا، کبھی کبھی دُنیا اتنی بدصورت لگتی ہے کہ انسان اُسے دیکھنے کے بجائے اندھا ہوکر جینا چاہتا تھا۔ مراد کے ساتھ بھی اس وقت یہی ہورہا تھا۔ وہ کس کو بُرا کہے؟ کس سے لڑے؟ کس سے بدلہ لے؟سامنے کھڑے مہرے سے یا اُس مہرے کو چلانے والے اُس ہاتھ سے جس نے مراد کو جنم دیا تھا۔
    ” چوہدری صاحب میں۔۔۔”

    بتول نے بڑی دیر بعد کچھ کہنے کی ہمت کی تھی اور مراد نے ہاتھ اُٹھا کر جیسے اُسے خاموش ہوجانے کے لئے کہا تھا۔ وہ اب اُس سے کچھ اور بھی سننا نہیں چاہتا تھا۔ کوئی وضاحت، کوئی معافی، کچھ بھی نہیں۔ بتول نے اُس کا چہرہ دیکھا اور پھر پلٹ کر سکے چنتی موتیا کو دیکھا اور پھر وہ چپ چاپ اُس دہلیز کی طرف بڑھ گئی تھی جہاں سے مراد ہٹا تھا۔ وہ بتول کو نہیں دیکھ رہا تھا، وہ چارپائی پر بیٹھے اُس وجود کو دیکھ رہا تھا جسے اُس نے پہلی نظر میں پہچانا ہی نہیں تھا۔ وہ سر جھکائے بیٹھی سکّوں کے ساتھ کھیل رہی تھی اور اُس کے قدموں کی آواز پر اُس نے سر اُٹھا کر اُسے دیکھا تھا بالکل اُسی طرح جیسے کچھ دیر پہلے وہ بتو ل کی طرف متوجہ ہوئی تھی۔
    وہ کتنے سال بعد ایک دوسرے کے سامنے آئے تھے۔ کتنے سال بعد ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔
    اُس کے نین غزالی دلبر
    اُس کے گال گلابی
    اُس کے روپ پہ ساون برسے
    بہہ جائے مر مرکے
    اُس کا حسن کہانی جیسا
    کاغذ کتنے بھردے
    اُس کی مشک بہاروں جیسی
    اُس کی چپ میں چھاؤں
    وہ حسن پری
    وہ روپ متی
    وہ میرے جل کی ناؤ
    پہلی بار جب مراد نے اُسے دیکھا تھا تو وہ حسن کا مجسمہ تھا اور وہ اُس پر یوں مرمٹا تھا کہ پہلی نظر بھی ہٹا نہیں سکا تھا۔ موتیا نے اُسے باندھ کر رکھ دیا تھا۔ وہ آج اُس سے ملا تھا تو وہ حسن کا مجسمہ بھربھرا ہوکر اپنی ساری آب وتاب کھوچکا تھا۔ وہ پھر بھی اُس سے نظر نہیں ہٹاپایا وہ آج بھی اُس پر شعر پڑھ سکتا تھا، اُسے آج بھی ٹرین میں سُنا ہوا وہی گیت یاد آیا تھا اور اُس نے عجیب سے اندازمیں وہ سب اُس کے سامنے کہنا شروع کردیاتھا۔ اُس کی آواز امرت کی طرح موتیا کی سماعتوں میں اُتررہی تھی جیسے کسی طلسم کو توڑتے ہوئے اُسے پھر سے زندہ کررہی تھی۔ وہ سب کچھ جو بھول گیا تھا، دوبارہ یاد آنے لگا تھا۔پھر وہ سب کچھ جو یاد آرہا تھا وہ جہاں آکر ختم ہورہا تھا، وہاں وہ کھڑا تھا۔ غائب نہیں ہوا تھا۔
    مراد چند قدم چل کر آگے آیا تھا پھر اُس کے بالمقابل چارپائی پر بیٹھ گیا تھا۔ اُس کے ہاتھ سے سکّے لے کر اُس نے چارپائی پر رکھے تھے۔ اُس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے لیا تھا۔ اُس کا ہاتھ بے حد ٹھنڈا تھا۔ بہت کمزور، اُس کی ہاتھ کی رگیں اُبھری ہوئی تھیں۔گوشت نہ ہونے کے برابر تھا۔ اُس کا سرخ و سفید گلابی رنگ اب زرد تھا۔ اُس کے اتنے قریب بیٹھ کر مراد اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر نہیں دیکھ سکا۔ وہ سر جُھکائے اُس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے کسی مجرم کی طرح بیٹھا ہوا تھا اور موتیا پلکیں جھپکائے بغیر اُسے دیکھتی ہی جارہی تھی۔
    ”مجھے اتنا برا بھلا کہو موتیا کہ میں مرجاؤں یہاں بیٹھے بیٹھے۔”
    وہ عجیب مطالبہ تھا جو مراد نے بالآخر سر اُٹھا کر اُس سے کیا تھا۔
    ” میں اب تم سے اپنے لئے کوئی اچھے الفاظ نہیں چاہتا۔ کوئی اظہارِ محبت نہیں، بس تم مجھے بددعائیں دو، بُرا بھلا کہو، گالیاں دو۔ میں سب کچھ سننے آیا ہوں جو اتنے سالوں میں میری بے وفائی پر مجھے کہا ہوگا۔”
    مراد نے اُس کو دیکھتے ہوئے کہا تھا اور جواب اللہ وسائی نے دیا تھا جو ابھی ابھی گھر میں داخل ہوئی تھی اور دروازے کی طرف مراد کی پشت ہوتے ہوئے بھی وہ پہچان گئی تھی کہ وہ کون تھا جو موتیا کے سامنے بیٹھا تھا تو موتیا کی آنکھوں میں جیسے چمک لوٹ آئی تھی۔
    ” جس دن تمہاری بارات ہمارے گھر آنے کے بجائے دروازے کے سامنے سے گزر کر گئی تھی، اس دن کے بعد موتیا نہیں بولی۔ گامو کے مرنے پر بھی نہیں ۔ چھوٹے چوہدری کمّی کمین تو ہم تھے پر تم لوگوں نے کیوں بدلہ لینے کے لئے کمیّوں سے بھی بدتر کام کیا۔”
    اللہ وسائی کی آواز پر وہ کرنٹ کھا کر پلٹا تھا اور پھر بے اختیار چارپائی سے کھڑا ہوگیا۔
    ” کس کی بارات؟ میری بارات نے تو یہاں آنا نہیں تھا۔”
    ” جاکر اپنی ماں سے پوچھ، اپنے باپ سے پوچھ کہ تیری بارات نے اُس دن کہاں جانا تھا اور کہاں گئی؟ تو نے میری بیٹی کو رسوا کرنا تھا تو چھوڑدیتا، پورے گاؤں کے سامنے یوں بارات لاکر تماشا نہ بناتا۔دیکھ اب اس کا حال یہ نہ ہنستی ہے نہ روتی ہے اور نہ بولتی ہے۔ تین سال سے اسی طرح لئے بیٹھی ہوں۔ اسے دیکھتے دیکھتے گامو مرگیا۔ اکلوتی جوان بیٹی کا یہ حال ہوجائے تو کون زندہ رہے گا؟ میں بھی زندہ لاش ہوں چھوٹے چوہدری۔ صرف اس لئے چل پھررہی ہوں کیونکہ یہ زندہ ہے، اس کی سانسیں چل رہی ہیں۔ اس نے بددعا نہیں دی کبھی تجھے اور تیرے ماں باپ کو، پر میں ہر روز دیتی ہوں۔ بھٹی پر دانے بھونتے ہوئے میں سارا وقت تجھے بددعائیں دیتی ہوں کہ تیرا خاندان اس طرح اُجڑے کہ لوگ کانوں کو انگلیاں لگا لگا کر توبہ کریں۔”
    اللہ وسائی بے حد غم و غصّہ میں اُس سے کہتی جارہی تھی اور مراد دم سادھے سُن رہا تھا۔
    اولاد کے گناہ ماں باپ کے پیروں کے نیچے سے زمین نکال دیتے ہیں لیکن ماں باپ کے گناہ بھی اولاد کی جان نکال دیتے ہیں۔
    مراد نے ایک لفظ کہے بغیر وہ سب کچھ سن لیا تھا۔ اُس نے اللہ وسائی کو بولنے دیا تھا۔ رونے دیا تھا۔ وہ سارے جہاں کا کوڑا لاکر اُس پر پھینک دیتی ، تب بھی وہ وہاں سے نہ ہلتا۔ لیکن اُس کا ذہن ماؤف ہورہا تھا۔ اُس کی ماں اتنی بے رحم تو کبھی بھی نہیں تھی یا تھی اور اسے ہی اندازہ نہیں ہوا تھاکیونکہ وہ اُس کی اکلوتی اولاد تھا ۔ اُس کے لئے اُس کی ماں کے پاس مٹھاس کے علاوہ کچھ تھا ہی نہیں اور اُس مٹھاس نے اُسے بے یقین کردیا تھا کہ وہ جو کچھ سُن اور دیکھ رہا تھا، وہ تاجور کا کیا دھرا تھا۔ اتنی نفرت، اتنا زہر، اتنی بے رحمی اور اتنی بے حسی۔۔۔ کس طرح؟ وہ سمجھنے سے قاصر تھا اور وہ جیسے تڑپ رہا تھا۔
    ” تو دیکھ یہ میری بیٹی کس طرح گزارے گی ساری زندگی؟ باپ چلا گیا ، میرے بعد کون خیال رکھے گا اِس کا؟ لوگ کہتے ہیں یہ پاگل ہوگئی ہے، پر مجھے پتہ ہے یہ پاگل نہیں ہے، بس سہہ نہیں سکتی کچھ بھی۔ تو نے ٹور نہیں نبھانی تھی تو کیوں میری بیٹی کو محبت کا فریب دیا تھا؟”
    اللہ وسائی روتے ہوئے اُس سے پوچھ رہی تھی اور مراد کے پاس کوئی جواب نہیں تھا، نہ کوئی وضاحت۔ وہ اللہ وسائی سے یہ کہہ نہیں پارہا تھا کہ وہ بھی لہولہان تھا۔ اُس کی پشت میں غیروں نے نہیں اُس کی اپنی ماں نے خنجر گھونپا تھا۔
    ” سنیں چاچی! میں اس جمعے کو بارات لے کر آؤں گا اور موتیا کو بیاہ کر لے جاؤں گا۔ جو کچھ ہوا، اُس پر اپنا پچھتاوا اور رنج دکھانے کے لئے میرے پاس لفظ نہیں ہیں مگر میں موتیا کو اب لے جاؤں گا، اسی دھوم دھام سے جس دھوم دھام سے وہ پہلی بارات آپ کی گلی سے گزر کر گئی تھی۔”
    وہ فیصلہ لمحوں میں ہوا تھا اور اُس سے بھی کم وقت میں مراد نے اللہ وسائی کو سُنا دیا تھا۔ وہ گنگ رہ گئی تھی۔ وہ اُس موتیا کو بیاہنے آئے گا، سب کچھ دیکھنے اور جاننے کے بعد بھی۔ اللہ وسائی کو یقین نہیں آیا تھا۔ لیکن کہنے والا اب ایک بار پھر جُھک کر موتیا کا ہاتھ پکڑ رہا تھا اور پھر اُس نے اس ہاتھ کو اپنے ہونٹوں سے چھو کر ماتھے پر لگایا تھا۔ پھر وہ اُٹھ کر کھڑا ہوا اور کچھ بھی کہے بغیر اُن کے گھر سے نکل گیا تھا۔
    ”مراد!”
    اللہ وسائی کو لگا اُسے وہم ہوا تھا۔ اُس نے بے یقینی سے موتیا کو دیکھا۔ وہ چارپائی سے اُتر کر کھڑی تھی اور اُس دروازے کی طرف دیکھ رہی تھی جہاں سے وہ نکل کر گیا تھا۔
    ” امّاں مراد۔۔۔”
    اللہ وسائی نے اُسے ایک بار پھر کہتے سُنا تھا اور اس پر جیسے شادیٔ مرگ طاری ہوگیا تھا۔ آج اتنے سالوں بعد اُس نے موتیا کی آواز سنی تھی۔ دوپٹہ منہ پر رکھے روتے ہوئے اللہ وسائی نے موتیا کو اپنے ساتھ لپٹاتے ہوئے اُس سے کہا تھا:
    ”ماں صدقے! ماں واری! ہاں مراد ہی تھا میری دھی۔تیرے لئے آیا تھا، اب بارات لے کر آئے گا۔”
    اُس نے جیسے موتیا کو ساری خوشخبریاں اکٹھی دینا چاہیں۔
    ” تو بول بات کر موتیا! تُو کچھ کہہ۔”
    اللہ وسائی اُسے کہہ رہی تھی، وہ اللہ وسائی کا چہرہ دیکھتی رہی پھر اُس نے مدھم آواز میں کہا۔
    ”ابّا!”
    اللہ وسائی کے کلیجے پر ہاتھ پڑا۔روتے ہوئے اُس نے سوچا وہ موتیا کے لئے اب گامو کہاں سے لائے گی۔
    ”ابّا!’
    موتیا جیسے ایک بار پھر پکاررہی تھی ۔ اللہ وسائی ہنستی اور روتی جارہی تھی۔ خوشی اور غم دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر اکٹھے آگئے تھے اُس کے گھر۔
    ”تو اتنی جلدی کیوں چلاگیا گامو؟ دیکھ اچھے دن لوٹ کر آئے ہیں ہمارے گھر۔”
    اُس نے روتے اور ہنستے ہوئے گامو کو پکارا تھا اور پھر موتیا کو ایک بار پھر اپنے سینے سے لگالیا تھا۔
    …٭…

  • پاتال — حیا بخاری

    پاتال — حیا بخاری

    اس کے چاروں طرف خوبصورت سبزہ تھا۔ شیشم اور چیڑ کے درخت، نرم ملائم سر سبز گھاس…. اوپر آسمان پہ کالے بادل چھانے لگے تھے۔ اس نے ایک نظر نیچیکھڑے اس شخص کی طرف دیکھا جو اس کے لیے پوری کائنات تھا۔ لیکن اُس شخص کی آنکھوں میں اس کے لیے بے یقینی، بے اعتباری اور نفرت تھی۔ اس نے خود کو ذرا سا اوپر کھینچ کر دونوں ہاتھوں سے پہاڑی سطح سے جھانکتی اس شاخ کو اور مضبوطی سے جکڑا۔ وہ مرنا نہیں چاہتی تھی۔ اس نے ڈرتے ڈرتے ایک بار پھر مدد طلب نگاہوں سے سامنے کھڑے شخص کو دیکھا۔ وہ بے حس تھا۔
    اس نے ایک نظر نیچے دوڑائی تھی۔ کتنے ہی فٹ نیچے سنگلاخ چٹانوں کے نوکیلے پتھر، درختوں اور پودوں کی شاخیں اور جڑیں اور پوری روانی سے بہتا دریا کا پانی…. وہ کانپ گئی تھی۔
    ”لالا…..” خوف سے نیلے پڑتے لب ذرا سا وا ہوئے تھے۔
    ٭٭٭٭

    ”پلوشے۔ اُدھر دیکھو۔” چلتے چلتے اچانک زرغونہ رکی تھی۔ پلوشہ بھی اس کے ہاتھ کے اشارے کی سمت دیکھنے لگی۔ سامنے ہی مالٹوں کا باغ تھا۔ سبز پتوں میں چھپے اور کچھ جھانکتے نارنجی مالٹے دل للچائے دے رہے تھے۔
    ”لالا سے کہیں گے وہ لادے گا۔” زرغونہ نے ہمیشہ کی طرح سمجھ داری کا مظاہرہ کیا، ”تم اپنے لالا کی سنو۔ میں تو چلی” پلوشہ نے سڑک سے نیچے باغ کی طرف جاتے ہوئے کہا۔ زرغونہ اسے روکتی رہ گئی۔
    ”کیا ہو رہا ہے؟” اچانک ایک بھاری آواز نے اسے بُری طرح چونکادیا تھا۔ چادر میں لپٹے مالٹے اس کے ہاتھ سے چھوٹتے بچے۔
    ”تم کون ہو اور کیا کررہی ہو؟” آنے والے نے سوال دہرایا۔
    ”عظمت اللہ کی بیٹی ہوں۔ مالٹے دیکھے تو رہا نہیں گیا۔” وہ حسب معمول پُراعتماد لہجے میں بولی۔ اُس کے اچانک آنے پر اسے سنبھلنے میں چند پل لگے تھے۔
    ”ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔ مگر اب نکلو یہاں سے۔” وہ تپ کر بولا تھا۔ اور تب ہی اس کی نظر ذرا اوپر سڑک پر پڑی تھی۔ دوہرا ساں سبز، جھیل جیسی آنکھیں ان ہی کی طرف دیکھ رہی تھیں اور رفیق جان کو لگا اس ایک نظر نے اسے بے جان کردیا تھا تو یا روح تک اندر سے کھینچ لی۔ وہ لڑکیاں کب گئیں؟ کیا بولیں؟ کسی طرف گئیں؟ اسے کچھ خبر نہیں ہوئی تھی۔ اسے ہوش ہی کہاں رہا تھا۔
    ٭٭٭٭
    چھوٹی سی وادی تھی۔ چند دنوں کی تلاش کے بعد ہی وہ جان گیا تھا کہ وہ ساحر آنکھوں والی لڑکی کون تھی…. فرہاد آفریدی کی بہن …. زرغونہ…. اماں نے تو اتنا بھی بتادیا کہ پوری دادی میں اس سے زیادہ حسین کوئی نہیں۔ ” اس کے دل نے یہی توگواہی دی تھی۔” رفیق مسکرایا۔
    ”فیروز خاناں۔ میں اس سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔” اگلے چند ہی گھنٹوں میں وہ چوک میں بیٹھا جگری دوست سے راز و نیاز کررہا تھا۔ اس کی بات پہ فیروز خان کی آنکھوں میں عجیب سا تاثر اُبھرا ۔
    ”کیا ہوا؟” نہ وہ چونکا۔ فیروز نے نہ جانے کیوں محسوس کیا کہ اس کے دوست کے ساتھ کچھ گھمبیر ہونے والا تھا۔ یا پھر….
    ”’فیروز خاناں…. ”رفیق نے اس کا کندھا ہلایا۔
    ”وہ تو بچپن سے اپنے چچا زاد کی منگیتر ہے” اسے یہی مناسب لگا کہ رفیق جتنی جلدی اپنے سفر سے واپس لوٹ جائے اس کے لیے بہتر ہے۔ رفیق ایک جھٹکے سے اُٹھا اور تیزی سے چوک سے باہر نکل گیا۔ فیروز پکارتا رہ گیا تھا۔
    ٭٭٭٭
    ساری وادی گواہ تھی رفیق جان ایسا بالکل بھی نہ تھا۔ دراز قامت، سرخ و سپید گلابیوں میں کھلتی رنگت، لبوں پہ ہر دم دھیمی مسکراہٹ رکھنے والا رفیق جان اس رفیق جان سے بالکل الگ تھا۔ اسے دیکھ کر تو لگتا تھا کسی صحرا کا بھٹکا ہوا مسافر ہے۔ مجنوں ہے کہیں سے پتھر کھاکر آرہا ہے۔ شانوں پر بکھرے لمبے ریشمی بال اب گرد سے اَٹے رہتے تھے۔ گلابی ہونٹوں پہ پپڑیاں جمنے لگیں تھیں۔ کئی دنوں سے پہنا جوڑا میل سے اٹا تھا اور سب سے وحشت ناک اس کی مسکراتی، جھلمل، دوستی کا رنگ دیتی گہری نیلی آنکھیں…. نہ جانے اب وہاں کیسے وحشت زدہ رنگ لودینے لگے تھے۔
    ”میرے بچے کو نظر لگ گئی۔ ساری وادی میں اس جیسا جوان نہیں بس کسی بدخواہ کی نظر لگ گئی۔” اماں نے روتے ہوئے دہائی دی۔
    ”مجھے تو کالا جادو لگتا ہے۔ کسی حاسد نے جادو کروادیا ہے۔ تم مانو یا نہ مانو۔”
    کسی دوسری عورت نے اندازہ لگایا۔ اماں کو یقین آنے لگا۔ لیکن فیروز…. وہ سب جانتا تھا۔ رفیق کے بچپن کا دوست تھا۔ اس کے پل پل کا ساتھی، اس کی رگ رگ سے واقف، اس کے ہر رنگ کی پہچان تھی اسے اور وہ جان گیا تھا۔ خوب صورت سوچ کا مالک رفیق جان اب کچھ غلط سوچ رہا تھا۔ کچھ بے حد غلط۔
    ٭٭٭٭
    خاکی رجسٹر تھامے صبح سے نہ جانے وہ کون سے حساب کتاب میں مصروف تھا۔ زرغونہ نے سارے گھر کے کام نبٹالیے تھے اور اب آدھے گھنٹے سے اسے کھانے کا کہہ رہی تھی مگر فرہاد تھا کہ رجسٹر میں سردیے بس ہوں ہاں کردیتا۔ آخر اس کے صبر کا پیمانہ چھلک پڑا۔
    ”لالا… مجھے بھوک لگی ہے۔”
    ”تو تم کھالو نا پگلی۔ بس تھوڑا سا کام رہ گیا۔ ”فرہاد نے رجسٹر پر ہی نظریں جمائے اسے جواب دیا۔
    ”آپ جانتے ہیں۔ مجھے آپ کے ساتھ کھانا کھانے کی عادت ہے۔” وہ منہ بناکر بولی۔
    ”تو میں بھی کئی دنوں سے تمہیں سمجھا رہا ہوں کہ اب میرے بغیر کھانا کھانے کی عادت ڈالو۔” اب کی بار وہ مسکراتے ہوئے اس کی طرف متوجہ ہوا۔
    ”کیوں ڈالوں عادت۔ مجھے آپ کو چھوڑ کے کہیں نہیں جانا۔” وہ خفا ہوئی۔
    ”ہر بیٹی، ہر بہن یہی کہتی ہے۔ مگر اگلے گھر جا کر میکے کی یاد تک نہیں آتی۔”
    ”ایسا تو نا ممکن ہے لالا۔” وہ حیران ہوئی۔
    ”چلو دیکھ لیں گے۔” فرہاد مسکرایا۔
    ”دیکھیں گے تو تب نا جب میں یہاں سے جاوؑں گی۔”
    ”اچھا۔ میں ذرا جہیز کی ایک دو چیزیں اور یاد کرکے لکھ لوں تو پھر کھاتے ہیں کھانا۔ یہ بحث بعد میں کرلیں گے۔” فرہاد نے بحث سمیٹنی ضروری سمجھا۔
    ”ایسے ہی اتنا خرچہ بڑھارہے ہیں آپ۔ میں نے کہا نا کہ مجھے کہیں نہیں جانا۔” وہ بضد تھی، فرہاد ہنس دیا۔
    ٭٭٭٭

  • سعی — سحر ساجد

    سعی — سحر ساجد

    وہ عجیب کیفیت میں تھی ….. ناک کے نتھنوں سے، سانس کے نام پر خارج ہونے والی ہوا تپش لیے ہوئے تھی۔ وہ کہاں تھی، آسمان پر یا زمین پر؟ وہ اپنے وجود کو کسی سطح پر محسوس نہیں کرپارہی تھی۔ سر جس قدر بھاری تھا، وجود اسی قدر ہلکا۔ ذہن کسی ایک سوچ پر مرتکز نہیں ہوپارہا تھا۔ اس کے وجود پر ایک نظر ڈالو تو سانس کا اتار چڑھاوؑ واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا تھا۔ لمبے ادھ کھلے بال ، کچھ شانوں پر، کچھ سینے پر اُلجھے، پریشان اور بے ترتیب بکھرے ہوئے تھے۔ خلافِ معمول دوپٹہ گلے میں، کہ ان کے ہاں گھر میں بھی دوپٹہ سر پر لیا جاتا تھا۔ دونوں بازو سیدھے پہلو میں گرے … ہاتھ کی مٹھیاں سختی سے بند کیں۔ لاوؑنج کے کنارے پر کھڑی اک اک چیز کو دیکھے جارہی تھی لیکن نہیں جانتی تھی کہ کیوں دیکھے جارہی تھی۔
    فیصلہ سخت تھا جو اس نے کرلیا تھا اور اس فیصلے کی یاد آتے ہی اس نے دائیں ہاتھ کی مٹھی کچھ اور سختی سے بھینچی تھی۔ ہونٹ لرزے اور آنکھ کے کنارے پر اک قطرہ آکر جم سا گیا تھا۔ دل پر جیسے کسی نے خنجر کا وار کیا تھا۔ لرزتے ہونٹوں کے ساتھ اس نے حلق سے نیچے کچھ اتارا تھا اور اس کی نظر ان چیزوں پر کسی آوارہ بد روح کی طرح بھٹکتی تھی ”آپی!….”
    اچانک لاوؑنج کے کسی گوشے سے آواز ابھری تھی۔ وہ بُری طرح سے ڈری اور سہم کر آواز کی سمت دیکھا تھا لیکن اس کاارادہ دائیں ہاتھ کی مٹھی کو کمر کے پیچھے چھپانے کا تھا۔”آپی۔ دیکھیں میرا بے بلیڈ۔”

    اسے بھائی کی آواز کسی باز گشت کی طرح محسوس ہوئی تھی۔ اس نے دھندلی آنکھوں سے بھائی کو دیکھا جو لٹو سے کھیل رہا تھا۔ وہ کسی بے جان وجود کی مانند بھائی کی طرف بڑھی تھی۔ وہ نیچے قالین پر بیٹھا میز پر اپنا لٹو گھمارہا تھا اور وہ اس کے پیچھے موجود صوفے پر جاکر بیٹھی تھی۔ دونوں ہاتھوں کی بند مٹھیاں اب اس کے دائیں بائیں سختی سے صوفے پر جمی تھیں اور وہ اپنے بھائی کو دیکھے ہی چلی جا رہی تھی۔ اس کے بھائی نے بٹن دبایا، لٹو میز کی سطح سے ٹکرایا۔ وہ چونک کر آواز کی سمت متوجہ ہوئی۔ لٹو اب گھوم رہا تھا گول، گول اور تیزی سے…. اس کے بھائی نے مڑ کر اس کا گھٹنا ہلاکر اس سے کچھ کہا تھا۔ کیا؟ وہ محض آواز کااِک احساس ہی محسوس کرپائی تھی۔ لٹو گھوم رہا تھا گول گول اور پھر گھومتے گھومتے وہ یک دم بڑا ہوتا گیا۔ ہوتا گیا، ہوتا ہی چلاگیا۔ لٹو اتنا بڑا ہوگیا کہ وہاں موجود ہر چیز پر حاوی ہوچکا تھا۔ وہ ڈر کے مارے صوفے کی پشت سے ٹکرانے کے سے انداز میں جالگی تھی۔ لٹو ا س کے عین سامنے گھومے چلاجارہا تھا۔ وہ نظریں لٹو کی گھومتی دھاریوں سے ہٹانا چاہتی تھی لیکن سر کو حرکت نہیں دے پارہی تھی۔ نظر گھوم رہی تھی، سر چکرارہا تھا اور اب اسے متلی محسوس ہورہی تھی، اتنی کہ پیٹ میں شدید بل پڑا۔ وہ بے اختیار آگے کو جھکی۔ اسے زور کی ابکائی آئی تھی۔ وہ سانس لینے کو سیدھی ہوئی اور پیروں تلے سے جیسے زمینیک دم نکلی ہو۔ لٹو عین اس کی آنکھوں کے سامنے ہوا میں معلق گھومے جارہا تھا۔ گھبراہٹ کا احساس شدید تھا۔ وہ ہانپتے ہوئے، کف بہتے منہ کے ساتھ، بری طرح سے خوف زدہ ہوکر اس لٹو کو دیکھتی جارہی تھی۔
    ‘آپی۔ آپی! ” اس کا بھائی شانہ ہلارہا تھا لیکن وہ متوجہ نہ تھی۔ وہ متوجہ ہو بھی کیسے سکتی تھی۔
    تنفس کی بگڑی رفتار کے ساتھ وہ خوفزدہ سی لٹو کو دیکھے جارہی تھی۔
    ”مور، مور” اس کا بھائی ماں کو بلانے بھاگا تھا اور ماں کے آنے تک وہ بے حد گھبراچکی تھی۔ اتنی خوف زدہ ہوچکی تھی کہ اس نے دائیں ہاتھ کی مٹھی کھولی اور اس میں موجود زہریلی گولیاں پھانک لیں۔ اچانک وہاں سناٹا چھاگیا تھا، اتنا کہ جیسے کائنات کی ہر متحرک چیز حالت قرار میں آچکی ہو…. وہاں اب کوئی لٹو نہ تھا۔ وہ بے یقینی سے کھڑی ہوئی لڑکھڑائی اور پھر اوندھے منہ گرگئی اور گرتے ہی تکلیف کی اک لہر، دھماکے کی صورت اس کے وجود سے آن ٹکرائی تھی۔ شدید دباوؑ، اندھیرا ،گھٹن، پیاس، حلق سوکھ رہا تھا اور وہ تڑپ رہی تھی لیکن کمال کی بات یہ کہ وہ خود ہی اپنے تڑپتے وجود کو ذرا فاصلے پر کھڑی دیکھ رہی تھی۔ وہ محسوس کرسکتی تھی کہ اسے کتنی تکلیف ہورہی تھی۔ وہاں زمین پر اس کا تڑپتا جسم تھا اور وہ دور بس، بہتی آنکھوں کے ساتھ کھڑی خود کو بے بسی سے تڑپتا دیکھ رہی تھی اور میز پر لٹو آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ساکت ہوگیا تھا۔
    ٭٭٭٭
    یہ انگور کے باغوں کی سرزمین تھی۔ اس کے خاندان والے پتھریلے پہاڑوں کے درمیان بستے اور اک سخت زندگی گزارتے تھے۔ یہ قلعہ سیف اللہ تھا اور وہ اس کی ہونہار بیٹی جاناں کاکڑ۔ اونچی نیچی گھاٹیوں پر جب چلتی تو یوں محسوس ہوتا تھا گویا جنگل میں کسی ہرنی نے کلانچ بھری ہو۔ تعلیم حاصل کرنے کا اتنا شوق تھا کہ اس کی اماں کہتی تھیں۔ ”جاناں پاگل تو نیند میں بھی اسکول کا سبق دہراتی رہتی ہے۔”
    اور ہاں وہ اتنی ہی پاگل تھی۔ جنونی تھی۔ اسے پڑھنا تھا بہت سارا۔ ڈھیر سارا۔ اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھا دیکھنا تھا۔ ڈاکٹر جاناں کاکڑ۔ ڈاکٹر۔ ڈاکٹر جاناں کاکڑ۔ قلعہ سیف اللہ، قبائل کی آماج گاہ تھا۔ جہاں روایات کی سختی سے پابندی کی جاتی تھی۔ وہ ساتویں جماعت میں تھی تب سے برقعہ پہن کر اسکول جاتی تھی۔ برقعے کے اوپر کالی چادر کے نقاب سے محض اس کی ایک آنکھ ہی نظر آیا کرتی تھی۔ وہ قلعہ سیف اللہ کی ان چندخوش نصیب لڑکیوں میں سے تھی جو پرائمری سے اوپر تعلیم حاصل کررہی تھیں۔ جاناں وہ طالبہ تھی جس نے اپنا ہر امتحان نمایاں درجے میں پاس کیا تھا۔ وہ برف زاروں میں پل کر بڑی ہوئی تھی لیکن خواہش، اک چنگاری کی صورت، طلب بن کر سینے میں بھڑکتی تھی۔ وہ خوش تھی، مگن تھی اور سمجھتی تھی کہ زندگی کا سفر اسی طرح کامیابی و کامرانی سے طے ہوتا چلا جائے گا۔ وہ امتحان پر امتحان پاس کرتی چلی جائے گی اور پھر… پھر وہ دن ضرور آئے گا کہ جب وہ اسکالرز گاؤن پہنے اپنی Ph.D کی ڈگری وصول کرے گی۔ خوشی سے چیختے ہوئے اسکالرز کیپ کو ہوا میں اچھالے گی اور کوئی نامعلوم فوٹوگرافر اس کی آنکھ کی خوشی، اس کی ہنسی، اس کے چہرے کا جوش، طمانیت سب اک لمحے میں قید کرکے اسے زندہ جاوید بناڈالے گا۔ ہاں… وہ ایسا ہی سوچتی تھی… ایسا ہی سمجھتی تھی۔
    جب اس نے میٹرک میں پوزیشن حاصل کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ وہ اتنی خوش تھی اتنی کہ لگتا تھا کہ بس اب خوشی سے مر ہی جائے گی۔ وہ۔ وہ جاناں کاکڑ۔ اک پسماندہ علاقے کی گورنمنٹ اسکول کی طالبہ، اُسی جاناں کاکڑ نے میٹرک میں ٹاپ کیا تھا۔ ٹاپ۔ یہ پہلی بڑی کامیابی تھی۔ پہلی بڑی کامیابی اور اتنی بڑی خوشی جو اُسے مار بھی ڈالتی تو غم نہ تھا۔ لیکن اسے تو جینا تھا۔ بہت سارا ایک لمبی زندگی گزارنی تھی کیوںکہ اسے تو پڑھنا تھا۔ ڈھیر سارا۔ اتنا زیادہ کہ اس کے نام کے ساتھ لکھا جاتا… ڈاکٹر جاناں کاکڑ…
    ٭٭٭٭