Tag: Alkaram

  • باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۹ (آخری قسط) ۔۔۔۔ شاذیہ خان

    باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۹ (آخری قسط) ۔۔۔۔ شاذیہ خان

    رات کو کنول اپنے کمرے میں بیٹھی ایک چینل پر اپنے سابقہ شوہر کا انٹرویو دیکھ رہی تھی۔۔عابد منہ بناتے ہوئے رپورٹر کو انٹرویو دے رہا تھا۔
    ” جی بہت بُری عورت تھی وہ۔میں نے بڑی کوشش کی کہ گھر بسا رہے،بیٹے کے واسطے دیے جی،مگر وہ تو جیسے بس شہر جا کر ٹی وی پر کام کرنے کی ٹھان چکی تھی۔”
    وہ تاسف بھرے انداز میں سر ہلاتے ہوئے جھوٹ بول رہا تھا۔”بچے کا بھی نہ سوچا اس نے،میں نے اس کی گود میں بچہ ڈال دیا کہ دیکھ اس بچے کا واسطہ تجھے، نہ جا، لیکن اس کے سر پر تو بھوت سوار تھا۔بچے کو بھی میری ماں کی گود میں پھینک کر چلی گئی۔”
    ”آپ کے پاس لوٹ کر نہیں آئی کبھی بچے کے لیے؟”رپورٹر نے پوچھا۔
    ”نہ جی، آتی تو میں بچے کی خاطر ہی اسے معاف کردیتا،لیکن وہ تو بس ٹھان چکی تھی عزت سے نہیں رہنا۔”عابد صاف جھوٹ بولتے ہوئے کیمرے کی طرف دیکھ رہا تھا۔
    ”بیٹے تم بتاؤ تمہیں اپنی ماں یاد آتی ہے؟”رپورٹر نے بچے سے پوچھا۔
    ”نہیں، میری ماں میرے پاس ہے۔”بچے نے جواب دیا اور عابد کے پیچھے چُھپ گیا۔ عابد کیمرے کی طرف دیکھ کر بولا۔”جی میری بہن نے اس کو ماں بن کر پالا ہے۔یہ اسے ہی اپنی ماں سمجھتا ہے۔وہ بہت محبت کرتی ہے اس سے،جان دیتی ہے اس پر۔ایک وہ تھی،چھوڑ کر چلی گئی میرے بیٹے کو۔”عابد یہ کہہ کرجھوٹ موٹ کے آنسو بہانے لگا۔
    ”اب اگر وہ آنا چاہے تو آپ اُسے قبول کرلیں گے؟”رپورٹر نے پوچھا۔
    ”نہ جی،ایسی بے غیرت عورت کو کون رکھے،میرا بچہ بھی نہیں چاہے گا اُسے ماں کہنا۔”عابد نے نفرت سے جواب دیا ۔یہ سب سن کر کنول پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔
    ٭…٭…٭
    کنول کا باپ بیساکھیوں کے ساتھ گلی میں نکلا ہی تھا کہ اتنے میں پہلے سے موجودایک ٹی وی چینل کی ٹیم اس کو باہر نکلتے دیکھ کر پاس آگئی اور ساتھ ہی کیمرہ مین نے اپنا کیمرہ کھول لیا۔
    ”السلام علیکم جی آپ کنول بلوچ کے باپ ہیں؟”رپورٹر نے مائیک امام بخش کے مُنہ میں گھسیڑتے ہوئے پوچھا۔
    ”جی جی جی… مگر… ”امام بخش اس نئی افتاد سے بے خبر تھا،اس سے بات بھی نہیں ہو رہی تھی۔
    ”ہم نگار نیوز سے ہیں اور آپ سے کنول بلوچ کے بارے میں چند سوالات کرنا چاہتے ہیں۔” رپورٹر نے کہا۔
    ”لیکن جی میں کچھ نہیں کہنا چاہتا،مینوں معافی دیو۔”امام بخش نے ہاتھ جوڑتے ہوئے جواب دیا۔
    ”بابا جی ! بزرگو، بس دو چار سوال ہیں۔”رپورٹر نے اصرا ر کیا۔
    ”مجھے ایک بھی جواب نہیں دینا، بھائی جاؤ اپنا کام کرو۔”امام بخش نے یہ کہا اور لڑکھڑاتا ہوا واپس مُڑا اور گھر میں گھس کر دروازہ بند کرلیا۔
    ٭…٭…٭

    سب گھر والے ایک ہی جگہ بیٹھے ہوئے تھے اور کسی نہ کسی بات پر فوزیہ کا ذکر نکل ہی آتا۔اس میں سب سے بڑھ چڑھ کراسما تھی جو حسب معمول فوزیہ کے متعلق ڈھکے چھپے انداز میں اُلٹی سیدھی باتیں کر رہی تھی۔
    ”ایسے کاموں کا نتیجہ ایسا ہی ہوتا ہے،اب بھگتو سب۔”اسما نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا۔
    ”تو تو چپ کر۔ ویسے ہی اتنی پریشانی ہے، تیری ٹرٹر ہی بند نہیںہوتی۔”ماں نے اسے ڈانٹا۔
    ”دنیا کی ٹر ٹر کیسے بند کروائے گی تو؟باہر تو نکل دنیا نے باتیں کرکرکے زندگی حرام کردینی ہے۔” اسما نے بہت روکھے انداز میں کہا۔
    ”کروا لوں گی بند،پہلے اپنے گھر والے تو چُپ ہوں۔جب گھر والے لحاظ نہ کریں تو باہر والوں کو کیا کہوں ۔”ماں نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے۔
    ”دیکھ اماں یہ سب تیری وجہ سے ہوا ہے،تو نے ہمیشہ اپنی بیٹیوں کو شہ دی ہے۔” اسما نے انگلی اُٹھا کر الزام لگایا۔
    ماں اس الزام پر بدک سی گئی اورسینہ تان کراسما کے آگے کھڑی ہوگئی”او کیا شہ دی ہے بتا ذرا؟”
    ”جب کسی نے کچھ کہنے کی کوشش کی تو دیوار کی طرح آگے آکر کھڑی ہوگئی، رحیم کو تجھ سے یہی شکایت ہے۔وہ تو بھرا بیٹھا ہے جانے پر،میں نے روکا ہے اُسے۔”اسما ساس سے لڑنے لگی۔
    ”مت کر یہ مہربانی،دفع ہو جا یہاں سے ہمیں ضرورت نہیں ہے تیری اور تیرے میاں کی۔”ماں نے بھی ہاتھ ہلاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”یہ تو وقت بتائے گا کہ جن بیٹیوں پر تو اتنا مان کرتی ہے وہ آگے کیا کیا گل کھلاتی ہیں۔”اسما نے بھی تنک کر کہا۔
    امام بخش ان دونوں کی بحث سے تنگ آچکا تھا۔اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے ان دونوں کو منع کیا۔”او بدبختو!مت لڑو ،چپ ہو جاؤ۔باہر کھڑے ہیںٹی وی والے، بو سونگھتے پھر رہے ہیں۔تمہاری یہ باتیں ان کے کانوں میں بھی پڑیں گی ،بس کرو۔”اسما نے یہ سناتوناک چڑھاتی ہوئی اندر کمرے میں چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    کیمرہ مین کنول کے گھر کی بیرونی فوٹیج بنا رہا تھا اور ساتھ ہی رپورٹر رپورٹنگ کررہا تھا۔
    ”یہ دیکھئے ناظرین شہر میں اتنے زبردست محل جیسے گھر میں رہنے والی کنول بلوچ کے والدین کیسے گھر میں رہ رہے ہیں۔یہ ہے فوزیہ بتول یا کنول بلوچ کا گھر،لیکن اُن کے والد نے کوئی بھی بات کرنے سے انکار کردیا ہے۔ وہ اس بات پر کوئی رائے نہیں دینا چاہتے کہ فوزیہ بتول نے جو کچھ کیا وہ صحیح تھا یا غلط لیکن سچ چھپ نہیں سکتا۔وہ ایک نہ ایک دن سامنے آکر رہتا ہے۔آئیے یہاں آس پاس رہنے والوں سے کنول کے بارے میں پوچھتے ہیں۔”
    ”بھائی ذرا رُکیں اور بتائیں کنول بلوچ بلکہ فوزیہ بتول کے بارے میں۔کیا آپ جانتے ہیں اُسے؟”رپورٹر نے ایک راہ گیر کو روک کر کہا۔
    راہ گیر کیمرہ میں آنے پر ہی بہت خوش تھا ۔وہ شدید جذباتی ہو کر بولا۔”جی بالکل جانتا ہوں اس کے بارے میں،پوچھیں کیا پوچھنا چاہتے ہیں آپ۔”وہ سب کچھ بتانے کو بے تاب تھااور اس نے بتا بھی دیا۔فوزیہ کے بارے میں،اس کے گھر والوں اور ماں باپ کے بارے میں۔
    ٭…٭…٭
    کنول ٹی وی پریہ لائیو فوٹیج دیکھ رہی تھی۔اس نے پریشان ہوکر باپ کو فون کیا،باپ نے فون اٹھایا۔ کنول نے چھوٹتے ہی پوچھا۔
    ”اباکیاچینل والے اس وقت گھر کے باہر ہیں؟”
    ”تجھے کیا بے غیرت؟تو نے جو ہمارا جنازہ نکالنا تھا نکال دیا۔اب تو خوش ہو جا۔”باپ نے غصے سے کہا۔
    ”ابا میں نے یہ سب…”کنول روہانسی ہو گئی ۔امام بخش نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا۔
    ”مت کہہ کچھ بھی،نہیں سننا اب تیرا کوئی اور جھوٹ۔تو نے تو ہمیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا ۔”
    ”ابامجھے معاف کردے!میں مجبور تھی۔”کنول نے روتے ہوئے کہا۔
    ”یہ کیسی مجبوری تھی فوزیہ کہ تو نے میرا اور اپنے بھائی کا نام ڈبو دیا۔ساری عمر تجھے حلال کمائی کھلائی اور تو نے یہ کیا کیا؟کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ چھوڑا۔”امام بخش نے بہت دکھی لہجے میں کہا۔
    ”نہ ابا ایسا نہ کہہ۔ میں آتی ہوں ساری بات بتاتی ہوں تجھے۔”کنول نے اپنے دفاع میں کچھ کہنے کی کوشش کی۔
    امام بخش اس کی بات کاٹتے ہوئے فوراً چِلایا۔”تو واپس مت آ۔ مر جا کہیں،ڈوب مر چلو بھر پانی میں۔”
    ”نہ ابا ایسا مت کہہ،بد دعا نہ دے۔”کنول سسکنے لگی۔
    ”تو دعا کے قابل نہیں فوزیہ اور اب تو فون نہ کرنا مر گیا تیرا ابا۔”یہ کہہ کر امام بخش نے فون رکھ فیا۔کنول فون کی طرف دیکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔
    ٭…٭…٭
    شہریار اپنی ماں کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا۔حلیمہ نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے کنول کے بارے میں پوچھا۔
    ” شہریار کیوں اُداس ہو؟”
    ”نہیں ماما اُداس تو نہیں۔”شہریار اداسی سے مسکرایا۔
    ”ماں ہوں تمہاری،میں یہ بتا سکتی ہوں کہ اس وقت تم کیا سوچ رہے ہو۔”حلیمہ نے بہت پیار سے کہا۔
    ”اچھا بتائیں میں کیا سوچ رہا ہوں؟”شہریار نے ماں کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    ”تم کنول کے بارے میں سوچ رہے ہو۔”حلیمہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بڑے مان سے کہا۔
    ”جب سب معلوم ہے تو پوچھ کیوں رہی ہیں۔”شہریار نے حیرانی سے ماں کو دیکھا۔
    ”میں تمہارے منہ سے اُس کا نام سننا چاہتی ہوں۔”حلیمہ نے محبت آمیز لہجے میں کہا۔
    ”میں اپنی زبان پر قابو کرسکتا ہوں ماما،لیکن اُسے اپنی سوچوں سے کیسے نکالوں۔”شہریار زچ ہوگیا تھا۔
    ”ضرورت بھی کیا ہے؟”حلیمہ نے بے پروائی سے کہا۔
    ”ضرورت ہے ماما، اس نے میرا اعتماد توڑا،مجھ سے اتنا بڑا جھوٹ کیوں بولا؟”شہریار نے بہت دکھی لہجے میں کہا۔
    ”پتا نہیں کیا مجبوری تھی؟”حلیمہ نے شہریار کے دُکھ کو کم کرتے ہوئے کہا۔
    ” کوئی مجبوری نہیں ماما،میں نے اس پر اعتبار کرکے غلط کیا شاید۔”شہریار نے اداسی سے کہا۔
    ”محبت کرتے ہو اس سے؟”حلیمہ شہریار کے پاس آگئی اور اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پیار سے پوچھا۔
    ”ماما یہ بھی کوئی پوچھنے کی بات ہے؟”شہریار نے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا۔
    ”یاد رکھو سچی محبت کبھی بدگمان نہیں ہوتی۔”حلیمہ نے کہا۔
    ”جانتا ہوں،محبت کی ایک روح ہے اور جب دل میں بدگمانی جگہ لے لے تو وہ روح جسم سے نکل جاتی ہے۔”شہریار نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔
    ”تم اُس سے پوچھو تو سہی ایسی کیا بات تھی جو اُسے یہ جھوٹ بولنا پڑا۔”حلیمہ نے اصرار کیا۔
    ”اُسے مجھے خود فون کرنا چاہیے تھا،میں کیوں کروں؟”شہریار نے سر جھٹکا۔
    ”اگر وہ بھی یہی سوچ رہی ہو تو؟”حلیمہ نے اسے ایک اور رخ دکھایا۔
    ”دیکھیں ماما غلطی اس سے ہوئی ہے،اب وہ فون کرے گی۔”شہریار نے قطعیت سے کہا۔
    ”جسے تم غلطی کہہ رہے ہو ہوسکتا ہے وہ کوئی مجبوری ہو۔”حلیمہ بھی اپنی بات سے پیچھے نہیں ہٹ رہی تھی۔
    ”ماما آپ بندے کو قائل کرنے کا ہنر جاتی ہیں۔”شہریار نے ہار مانتے ہوئے کہا۔
    ”یہ سب تمہارے باپ سے سیکھا ہے ۔سچی محبت قائل کرنے کا ہنر جانتی ہے شہریار ۔ پوچھو اس سے کہ کیا بات تھی جو اس نے اتنی بڑی بات تم سے چھپائی۔”حلیمہ نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے بڑے پیار سے کہا۔
    ”جی ماما!”شہریار نے سر ہلاتے ہوئے کہااورساتھ ہی ماں کو دیکھتے ہوئے مُسکرایا۔
    ٭…٭…٭
    مُناگھر جا رہا تھا کہ گلی کی نکڑ پرامام مسجد نے اسے روک لیا اورفوزیہ کے متعلق پوچھنے لگے۔
    ”سنو لڑکے!رکو۔”امام صاحب نے کڑک لہجے میں کہا۔
    ”السلام علیکم مولانا صاحب ۔”مُنا نہایت ادب سے بولا۔
    ”وعلیکم السلام!تم اس لڑکی کنول بلوچ کے بھائی ہو؟”امام صاحب نے سخت لہجے میں پوچھا۔
    ”جی۔” مُنے نے تھوک نگلتے ہوئے جواب دیا۔
    ”تمہیں معلوم تھا کہ تمہاری بہن شہر میں یہ سب کررہی ہے؟”امام صاحب نے تحکمانہ لہجے میں کہا۔
    ”وہ مولانا صاحب میں…”مُنا گڑبڑا گیا، اس سے کوئی جواب نہیں بن پڑا۔
    ” حرام کا پیسا زیادہ عرصے جیب میں نہیں رہتا،سمجھا دینا بہن کو۔بڑی بدنامی ہورہی ہے ہمارے علاقے کی۔ٹی وی پر نام چل رہا ہے،بلکہ ہمارے علاقے کا نام دنیا بھر میں اچھل رہا ہے۔کل مسجد میں سب نے فیصلہ کیا ہے کہ تم لوگوں کو زیادہ عرصے یہاں نہیں رکھا جاسکتا،دوسروں کی بہو بیٹیاں بھی بدنام ہوں گی۔”امام صاحب وعظ کرنے لگے،اردگرد لوگوں کی بھیڑ لگ گئی۔
    ”لیکن ہماری بہن کی سزا ہمیں…”مُنا نے اپنے دفاع میں کچھ کہنے کی کوشش کی ،لیکن امام صاحب نے بات مکمل نہ ہونے دی۔
    ”دیکھو یہ پورے علاقے کا فیصلہ ہے،تو تم جتنی جلدی ہو اپنا سامان اٹھاؤ اور نکلویہاں سے۔” امام صاحب گرجے۔
    ”مگر مولانا صاحب… ”مُناپھر ہکلایا۔
    ”اگر مگر کچھ نہیں،یہ نہ ہو کہ چند بدمعاشوں کو کہہ کر تمہارا سامان باہر پھنکوانا پڑے۔”امام صاحب نے پھر غصے سے کہا۔
    ”جی مولانا صاحب جو حکم تہاڈا۔”یہ کہہ کر وہ سر جھکا کر وہاں سے چلا آیا۔
    ٭…٭…٭
    مُناغصے سے بھرا گھر میں داخل ہوااور غصے سے راستے میں پڑی جھاڑو کو پاؤں سے ٹھوکر مارتے ہوئے چلایا۔
    ”اماں !اماں کہاں ہے تو؟”
    ”کیا ہوا کیوں شور مچایا ہوا ہے؟”ماں اندر سے ہاتھ پونچھتی ہوئی آئی۔
    ” شور تو باہر مچا ہوا ہے باجی کے کارناموں کاتو نکل تو پتا چلے۔باجی کی وجہ سے باہر نکلنا مشکل ہوگیا ہے۔” مُنا شدید نفرت سے فوزیہ کا ذکرکرتے بولا۔
    ”کس نے کیا کہہ دیا؟”ماں نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”مسجد والے امام صاحب ملے تھے کہہ رہے تھے نکلو یہاں سے یہ شریفوں کا محلہ ہے۔ہم جیسوں کا یہاں رہنا ٹھیک نہیں،دوسری بہو بیٹیاں بھی بگڑ جائیں گی۔”مُنے نے ناراضی سے کہا۔
    ”یہ کہا انہوں نے؟”ماں بیٹی کی حرکتوں سے سخت شرمندہ تھی۔
    ”اور کیا اماں،اتنا شرمندہ ہوا میں کہ بس۔تیری بات ہوئی باجی سے؟”مُنے نے ماں سے پوچھا۔
    ”ہاں تیرے باپ کے پاس آیا تھافون لیکن تیرے باپ نے بہت غصہ کیا اس پر اور ابھی بھی غصے میں ہے۔”ماں نے دکھی لہجے میں جواب دیا۔
    ” غصہ تو ہونا چاہیے اماں۔بات ہی ایسی ہے۔”مُنا نفرت سے بولا۔
    ”ہاں تو ٹھیک کہہ رہا ہے لیکن سوچ وہ پورے گھر کا خرچہ چلا رہی ہے،اب کیسے پورا ہوگا۔تو بھی کسی قابل نہیں۔”ماں نے کچھ سوچتے ہوئے کہا تو مُنا خلا میں گھورنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    ”آپ یہ بتائیں کہ اتنا شور صرف کنول بلوچ کے خلاف کیوں ہورہا ہے؟ آپ کا ہی فیس بک پیج کیوں بند ہوا؟”کنول ایک ٹی وی شو میں بیٹھی تھی جب اینکرنے اس سے یہ سوال پوچھا۔
    ”سچی بات تو یہ ہے کہ لوگ مجھ سے جیلس ہیں، مگر مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا۔”کنو ل نے کندھے اچکا کر بے پروائی سے جواب دیا۔
    ”پبلک ڈومین میں آکر غلط قسم کی بات کریں گی تو وہاں تو لوگ جواب بھی دیں گے۔”اینکر نے کہا۔
    ” تو پھرمیں بھی اسی طرح جواب دوں گی۔”کنول کی بے پروائی ابھی بھی قائم تھی۔
    ”اچھا یہ بتائیں کبھی آپ کو اپنا بیٹا یا فیملی یاد نہیں آتی؟”اینکر نے بات کا رُخ بدل دیا۔
    ”کیوں نہیں آتی، بہت یاد آتی ہے،لیکن… ”کنول نے کچھ سوچنے کے بعد جواب دیا۔
    ”لیکن کیا؟”اینکر نے فوراً سوال کیا۔
    ”میں بہت پیچھے چھوڑ آئی ہوں یہ سب۔”کنول کے لہجے میں اداسی تھی۔
    کیا ملا یہ سب کر کے؟”اینکر نے پوچھا۔
    ”شہرت،پیسا،دولت۔”کنول نے تھکے تھکے انداز میں جواب دیا۔
    ”اور اس سب میں کیا کھویا؟”اینکر نے سوال کیا۔
    ”فیملی، بچہ،بہت کچھ۔”کنول نے اداسی سے جواب دیا۔
    ”آپ سمجھتی ہیں آپ نے یہ سب کھو دیا؟”اینکر نے اس کے چہرے پر نظریں جماتے ہوئے پوچھا۔
    ”ہاں!دیکھیں کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔اس وقت لاکھوں لوگ میرے پیج کو لائیک کرتے ہیں۔”کنول نے کچھ سوچ کر جواب دیا۔
    ”لیکن ایک عورت کے لیے اس کی فیملی یا بچہ زیادہ اہم نہیں ہونا چاہیے تھا؟”اینکر نے طنز کا وار کیا۔
    ”بالکل ہونا چاہیے تھا لیکن جیسے مرد میری زندگی میں تھے اس کے بعد تو میں یہی سب کرتی۔میرا شوہر جو آج آکر میڈیا پر اپنی وفاکی داستانیں سنا رہا ہے۔مارتا تھا مجھے،جھوٹ بولتا تھا،بے وفائی کررہا تھا۔ میرے بھائی جنہیں میں پال رہی تھی،کبھی کسی نے مجھے نہیں کہا کہ میں کام نہ کروں،بلکہ پوچھا بھی نہیں کہ میں پیسا کہاں سے لا رہی ہوں۔”کنول نے ناراضی سے جواب دیا۔
    ”اس کا مطلب یہ تو نہیں کہ بندہ بگڑ جائے اور غلط کام کرنے لگے۔ لوگ کہتے ہیں کہ آپ نے عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لیے یہ سب کیا۔” اینکر نے پھر طنز کیا۔
    ”او مائی گاڈ!” کنول نے مصنوعی حیرانی کا مظاہر ہ کیا،پھر اینکر سے ہی سوال کر ڈالا۔” چلیں میں آپ سے ایک سوال کرتی ہوں کہ اگر میری جگہ آپ کی بیٹی یہ کام کرتی تو آپ کیا کرتے؟”
    ”ویری سمپل، سب سے پہلے میں اپنی بیٹی کی کرافٹنگ کروں گا۔اسے بتاؤں گا کہ کیا صحیح ہے کیا غلط اگر اس کے بعد بھی وہ غلط راستے پر چلے گی تو یہ اس کی اپنی چوائس ہے۔” اینکر نے مزے سے کندھے اچکا کر جواب دیا پھر اگلا سوال کیا۔
    ”چلیں چھوڑیں یہ بتائیں آپ کا فیس بک پیج بند کردیا ہے،اب آپ کیا کریں گی۔”
    ”میں گھر میں بیٹھنے والی نہیں ہوں،میں کسی اور طرح سے سامنے آؤں گی۔اتنی آسانی سے ہار نہیں مانوں گی۔” کنول نے دلیری سے جواب دیا۔
    ”آپ آخری پیغام کیا دیں گی عوام کے لیے؟”اینکر نے پوچھا۔
    ”سب لوگ سمجھتے ہیں کہ میں عوام سے لڑائی لڑ رہی ہوں،ایسا نہیں ہے۔بس ریکویسٹ ہے کہ ایک بار تو میرے لیے اچھا بولو۔دیکھو میں کیا کرتی ہوں، میرے خلاف کیوں ہو؟اک معصوم لڑکی کو کیوں ٹارگٹ کیا جارہا ہے؟میں نے کیا کیا ہے؟ اللہ کے واسطے مجھے معاف کردیں؟”کنول ہاتھ جوڑتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔
    ٭…٭…٭

  • باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۸ ۔۔۔۔ شاذیہ خان

    باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۸ ۔۔۔۔ شاذیہ خان

    پانچ سال بعد
    ٭…٭…٭
    آج شہر کی ایک بڑی پارٹی میں جانا تھا اس لیے کنول دل لگا کر تیار ہوئی۔لپ اسٹک کے آخری ٹچ پر اس نے اوپر والے ہونٹ سے نیچے والے ہونٹ کو ٹچ کیا اور شیشے میں دیکھا۔”اف کنول بلوچ! آج تو بہت سے قتل ہوں گے تمہاری نظروںسے اور اگر نہ کر سکیں تو لعنت ہو تمہاری نظروں پر۔” یہ کہہ کر وہ ہولے سے ہنسی اور بڑبڑائی۔”ویسے کنول بلوچ تم بہت بے حیا ہو،تمہاری وجہ سے شریف گھرانوں کے بچے خراب ہورہے ہیں، بلکہ تم دین دار لوگوں کو بھی خراب کر رہی ہو، بے حیا۔”
    یہ کہہ کر وہ بہت زور سے ہنسی اور شیشے میں خود کو دیکھتے ہوئے بولی۔”بس کر دو بے حیا! اور کتنی بے حیائی پھیلاؤ گی۔”اتنے میں دروازے پر دستک ہوئی اور ملازمہ نے بتایا کہ ایم این اے (MNA) تارڑ صاحب کا ڈرائیور اُسے لینے آچکا ہے۔
    ”دو منٹ میں آرہی ہوں۔”یہ کہہ کر اس نے آخری بار خود پر اسپرے کیا اور باہر نکل آئی۔
    وہ پارٹی میں پہنچی تو پارٹی اپنے عروج پر تھی۔ایم این اے نے اس کا تعارف بہت سے بڑے بڑے نام ور لوگوں سے کروایا۔وہ اُس کے لیے ایک اچھی رات کہی جا سکتی تھی کیوں کہ شہر کے بڑے نیک نام لوگوں کی آنکھوں میں اس نے اپنے لیے پسندیدگی کی جھلک دیکھی۔اکثر نے اسے اپنا کارڈ دیا جو بڑی نزاکت سے کنول نے اپنے کلچ میں رکھ لیا۔پارٹی کے اختتام پر تارڑ صاحب نے اسے گھر ڈراپ کیا۔ان کے ارادے تو کچھ اور ہی تھے جن پر کنول نے سر درد کا بہانہ بنا کر لگامیں ڈالیں۔
    ٭…٭…٭

    کنول ویلنٹائن ڈے پر فیس بک ویڈیو اپ لوڈ کر رہی تھی ۔اس کے کمرے میں غبارے، پھول ،ٹیڈی بئیراورچاکلیٹس بکھری ہوئی تھیں۔وہ موبائل ہاتھ میں لیے اپنے کمرے کی ویڈیو دکھا رہی تھی۔ساتھ ساتھ وہ فیس بک پر موجود اپنے چاہنے والوں سے بات بھی کر رہی تھی۔
    ”ہر کسی کی زندگی میں کوئی نہ کوئی ویلنٹائن ضرورہوتا ہے، میری زندگی میں بھی ہے۔دیکھیں آج کتنی ساری چیزیں بھیجی ہیں اس نے ۔”
    کنول نے دوبارہ موبائل کے ذریعے ایک ایک چیز کو فوکس کیا۔”یہ چاکلیٹس … یہ پرفیوم… غبارے… یہ ریڈ روزز، میں آج دنیا کی خوش قسمت ترین لڑکی ہوں۔دوستو بہت بے رنگ ہوتی ہے وہ زندگی جس زندگی میں کوئی محبت نہ ہو۔ آپ کتنے تنہا ہوتے ہیں۔”
    ایک دم لیٹے سے اُٹھ کر بیٹھ گئی اور بڑے جذباتی انداز میں کہنے لگی۔
    ”اگر چاہتے ہیں آپ کی زندگی میں رنگ بھر جائیں تو اپنا soulmate ڈھونڈیں وہ کہیں نہ کہیں ضرورہوگا ۔جائیں ڈھونڈیں ،مجھے تو میرا مل چکا ہے اور آج کا پورا دن میں نے اس کے ساتھ گزارا،بہت مزہ آیا۔ اب بہت تھک چکی ہوں،سب سے اجازت چاہتی ہوں،گڈ نائیٹ۔”
    یہ کہہ کر اس نے موبائل آف کر دیا ۔چہرے پر سو چ کے رنگ تھے،پھر آہستہ آہستہ اس کی آنکھوں میں آنسو بھر گئے اور وہ سسکنے لگی۔کتنا مشکل ہوتا ہے چہرے پر مسکراہٹ کا ماسک لگائے ”سب اچھا ہے” کا ڈرامہ کرنا،بہت مشکل اور وہ کتنی بڑی ڈرامہ باز تھی وہ جانتی تھی۔ ۔کبھی کبھی جھوٹ بولنا کتنا مشکل ہوتا ہے،سچ بولنے سے زیادہ تکلیف دہ مگر بولنا پڑتا ہے اور وہ بول رہی تھی۔
    اب وہ اپنے کمرے میں لیٹی ایک ایک کرکے غبارے پھاڑ رہی تھی۔ساتھ ساتھ آنکھوں میں آئے آنسوؤں کوایک ہاتھ سے صاف کررہی تھی۔
    ”لوگوں کو تو انٹرٹینمنٹ مل گئی،انہیں انجوائے کرنے کے لیے ڈرامہ دے دیا مگر مجھے کیا ملا؟لوگ مجھے کتناخوش قسمت سمجھ رہے ہوں گے کہ میرا ویلنٹائن مجھے کتنا خوش رکھتا ہے۔میری ویڈیوپر اتنی لائیکس آتی ہیں،کتنے مرد مرتے ہیں مجھ پرلیکن میں کسی پر نہیں مرتی،کسی کو نہیں چاہتی۔مرد اعتبار کے لائق ہی نہیں،اگر ہو بھی تو میرے پاس ایسی فضولیات کے لیے ٹائم ہی نہیں۔ہاہاہاکنول بلوچ…نہیں فوزیہ عظیم تو صرف ایک جوکر ہے جس کا کام لوگوں کو اینٹرٹین کرنا ہے۔”
    اب وہ بولتے بولتے کبھی ہنس رہی تھی کبھی رو رہی تھی ۔
    ”ہا ہا ہا!اپنا تماشا خود بنا کر دکھانا دنیا کا سب سے تکلیف دہ کام ہے اور میں یہ سب کررہی ہوں۔” اسی وقت اس کے فون کی بیل بج اٹھی وہ چونکی اور آنسو پونچھے ہوئے اس نے فون کال ریسیو کی۔ فون کال مُنے کی تھی۔
    ”کیسا ہے مُنا خیریت ہے سب؟”کنول نے پوچھا۔
    ”باجی تو کیسی ہے؟”مُنا نے قدرے روکھے انداز میں پوچھا۔
    ”میں تو ٹھیک ہوں تو بتا گھر پر تو سب خیریت ہے؟ابا اماں بھائی؟”کنول نے پریشانی اوربے تابی سے پوچھا۔
    ”ہاں باجی! سب ٹھیک ہے،بس بہت دنوں سے تجھ سے بات کرنا چاہ رہا تھا۔”
    ”ہاں بول۔”کنول نے بے پروائی سے کہا۔
    ”تو نے پیسے نہیں بھیجے۔”مناتھوڑا ناراضی سے بولا۔
    ”کیسے پیسے؟پچھلے مہینے تو تو نے لیے تھے پچاس ہزار۔”کنول نے حیرانی سے کہا۔
    ”تو نے پچاس ہزار اور دینے تھے۔دیکھ دکان میں اور مال ڈلوانا ہے،دکان خالی ہے اورابھی منافع نہیں مل رہا۔”منا کے لہجے میں درشتی تھی۔
    ”کیا مطلب تجھے ہر مہینے پیسے چاہئیں ؟”کنول کے لہجے میں استعجاب تھا۔
    ”دیکھ باجی دینے ہیں تو دے،ورنہ باتیں مت بنا۔”منا نے بہت روکھے انداز میں جواب دیا۔
    کنول اس کے روئیے پر جیسے ٹھٹک سی گئی۔”اچھا تو ناراض تو مت ہو۔”
    ”ناراض ہونے کی تو بات ہے ،دے کر جتاتی ہے۔سبزی کی دکان تو نہیں ڈالی، موبائل کی دکان ڈالی ہے۔پیسہ تو لگے گا،جتنا گڑ ڈالو اتنا میٹھا ہوگا۔”منا اب غصے سے بول رہا تھا۔
    ”اچھاتو فکر مت کر،بھیجتی ہوں کل ہی۔”کنول نے کچھ سوچتے ہوئے کہا ۔
    منا نے یہ سنا تو اوکے کہہ کر فون بند کردیا۔کنول جو مزید بات کرنا چاہ رہی تھی رک گئی۔”مُنے سُن… مُنے!” وہ خالی فون کان سے لگا کر رہ گئی۔وہ بہت دکھی تھی اور سوچ رہی تھی ۔
    ”اب تیرا میرا رشتہ صرف پیسے کا ہے۔ہمارے درمیان اب صرف پیسے کی بات ہوگی۔” ہولے سے تھکی تھکی سانس لیتے ہوئے بولی۔”اس میں تیرا قصور نہیں، میرا اب سب سے رشتہ ہی پیسے کا رہ گیا ہے۔”
    ٭…٭…٭
    منا اپنے دوستوں سے لیے ادھار کی وجہ سے بہت پریشان تھا اسی لیے جوا کھیل کر ادھار چکانے کی کوشش میں مصروف تھا۔دوست اسے چھیڑ رہے تھے کہ وہ ان سے جیت نہیں سکتا اس لیے فضول کوششیں چھوڑ دے۔منا نے ان کی نہیں بات نہیں مانی اور اپنے پاس موجود بچی کھچی رقم داؤ پر لگا دی اور ہار گیا۔اس کے ایک دوست نے طنزیہ انداز میں اس کی طرف دیکھا اور ساری رقم سمیٹ لی۔منا پریشانی کے عالم میں اُٹھ کر گھر کی طرف چل دیا۔
    ٭…٭…٭
    رات کووہ اپنے لیپ ٹاپ پر بیٹھی تھی اور ویلنٹائن ڈ ے کی ویڈیو پر آنے والے میسج چیک کررہی تھی۔اسی کے ساتھ اس کے موبائل پر بھی ٹکا ٹک میسج کی بپ بجنے لگی جسے اس نے نظر انداز کر دیا۔ تھوڑی دیر کے بعد فون ہی بج اُٹھا۔اُس نے فون اُٹھا کر دیکھا جہاں ایم این اے تارڑکا نام جگمگا رہا تھا۔ وہ عجیب سے طنزیہ انداز میں مُسکرائی اور فون اٹھالیا۔
    ”ہائے تارڑ صاحب کیسے ہیں؟”
    ”السلام علیکم !اللہ کا شکر ہے،آپ سنائیں۔”تارڑصاحب کا انداز خوش آمدانہ تھا۔
    ”وعلیکم السلام۔”کنول نے پرسکون انداز میں جواب دیا۔
    ”ہم تو منتظر رہے آپ کے فون کے،اب تو آپ مشکل سے ہی ملتی ہیں۔”تارڑ صاحب نے کہا۔
    ”بس مصروفیت ہی اتنی تھی۔”کنول نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔
    ”ہم چاہتے ہیں کہ آپ ہمیں بھی اپنی کسی نہ کسی مصروفیت کا حصہ بنالیں۔”تارڑ صاحب نے ایک دفعہ پھر خوشامد کی۔
    ”توبہ کریں کیوں شرمندہ کرتے ہیں،ہمارا سارا وقت آپ کا ہے۔”کنول نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا۔
    ”پھر ملاقات کا شرف تو بخشیں۔”تارڑ صاحب نے کہا۔
    ”جی ضرور تارڑ صاحب!اپنے گناہ بخشوانے تو آپ کے پاس آنا ہی پڑے گا،لیکن ابھی میں ذرا تھک گئی ہوں۔رات کا ڈیڑھ بج رہا ہے۔”کنول نے گھڑی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
    ”اوہ اچھا!چلیں آپ آرام کریں۔انشاء اللہ جلد ملاقات ہوگی۔”تارڑ صاحب کو بھی جیسے اچانک ہی وقت کا خیال آگیا تھا۔
    ”جی ضرور۔”کنول نے بے زاری سے کہا اورموبائل آف کیا اور مسکراتے ہوئے بیڈ کی ایک جانب اچھال دیا۔
    پھروہ لیپ ٹاپ پردوبارہ اپنی ویڈیو پر لائیکس چیک کرنے لگی۔ اس نے شہریار کا پروفائل چیک کیاجس پر شہریار کی تصویر لگی ہوئی تھی۔کنول نے اس کی ساری نئی پوسٹس پڑھیں اور پروفائل بند کردی۔لیپ ٹاپ بند کرنے سے پہلے اس نے ڈیسک ٹاپ پر لگی اپنے بیٹے کی تصویر کو بہت غور سے دیکھا جو اب تقریباً 8سال کا ہوچکا تھا۔
    ”تم میرے پاس ہومگر صرف تصویر میں۔تم سے کوئی بات نہیں کرسکتی، مل نہیں سکتی،تمہیں چھو نہیں سکتی۔چھوٹے سے تھے تو نہلاتی تھی ،کپڑے بدلتی تھی،کھانا کھلاتی تھی،خوب سارا پیار بھی کرتی تھی مگر اب تم بہت دور ہو۔تمہیں تو میں یاد بھی نہیں ہوں گی۔”
    اس نے لیپ ٹاپ بند کردیااور بستر پر لیٹ گئی۔اس کی آنکھ سے نکل کرایک آنسو کان کے کٹورے میں گیا۔ایک کے بعد دوسرا اور پھر جیسے ایک دھار سی بندھ گئی اوروہ کب بیٹے کو سوچتے سوچتے نیند کی مہربان وادیوں میں اتری ،اسے نہیں معلوم ہوا۔
    ٭…٭…٭
    امام بخش نے رحیم کو بجلی کا بل پکڑایا۔رحیم بل پر نظر ڈال کر بولا۔”اتنا زیادہ!یہ تو مجھے کیوں دے رہا ہے ابا؟”
    ”اور کسے دوں؟”امام بخش نے کہا۔”تواور تیرے بچے استعمال نہیں کرتے بجلی؟”
    ”لے صرف میں اور میرے بچے استعمال کرتے ہیں۔باقی تو سب بجلی بند کرکے بیٹھتے ہو۔”رحیم نے اسی انداز میں ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے جواب دیا۔
    ”لیکن میں کہاں سے دوں؟”امام بخش نے بے چارگی سے کہا۔
    ”مُنا بھی تو دکان چلا رہا ہے اس سے کہہ۔”رحیم نے روکھے انداز میں کہا۔
    ”تجھے پتا ہے کہ اس کی دکان ابھی چل نہیں رہی۔”امام بخش نے منے کی حمایت کی۔
    ”ہاں جب پتے کھیلے گا تو دکان کیسے چلے گی۔”رحیم طنزیہ انداز میں بڑبڑایا۔
    ”کیا کہہ رہا ہے تو زور سے کہہ۔”امام بخش کو اس کی بڑبڑاہٹ سمجھ میں نہیں آئی تھی۔
    ”او کچھ نہیں ابا جانے دے،تو چھوڑ سب۔یہ بتا اس مسئلے کا حل کیا ہوسکتا ہے؟”رحیم بے پروائی سے بہت روکھے انداز میں بولا۔
    ”کیا ہوسکتا ہے؟”باپ نے الٹا اسی سے سوال کیا۔
    ” فوزیہ آئے اسے دے یہ وہی بھرے۔”رحیم نے بل باپ کے آگے پھینکتے ہوئے کہا۔
    ”کیوں فوزیہ کیوں دے گی؟تو سنبھال اخراجات گھر کے۔ اس نے بہت کرلیا۔”امام بخش غصے سے بلبلایا۔
    ”اس کے پاس پیساہے اور وہ کرسکتی ہے تو کرنے دے اُسے،تجھے کیا تکلیف ہے۔”رحیم نے بدتمیزی سے کہا۔
    ”بے غیرت تو اپنے آپ کو مرد کہتا ہے۔اس گھر کا خرچہ سنبھال ،تو بھی تو کماتا ہے۔”امام بخش کو بیٹے کی باتوں پر غصہ آرہا تھا۔
    ”دیکھ ابا کہہ دیا میں نے میں کچھ نہیں کرسکتا اس بل کا،اور تو یہ بے غیرت کہنا چھوڑ دے میرے بیوی بچوں کے سامنے۔مجھے گالی مت دیا کر۔”رحیم نے امام بخش کو انگلی دکھا کر وارننگ دی۔
    ” تو غلط بات کرے گا تو دوں گا گالی۔”امام بخش نے ترکی بہ ترکی جواب دیا تو رحیم آگے بڑھ کر باپ کے سامنے تن کر کھڑا ہوگیا۔
    ”سن لے اب دے گا تو میں نہیں سنوں گا۔”
    ” کیا کرے گا تو بول؟مارے گا اپنے باپ کو؟”امام بخش نے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر پوچھا۔
    رحیم باپ کا غصہ دیکھ کرتھوڑا ٹھنڈا ہوگیا۔”ابا مجھے غصہ مت دلا۔”
    ”او بے غیرت دفع ہو جا یہاں سے۔”امام بخش نے پھر غصے سے کہا۔
    ” لیکن تو بھی سمجھ کر بولا کر اب میرے بچے بڑے ہورہے ہیں۔تو ان کے سامنے بھی بے غیرت کا طعنہ دیتا ہے۔”رحیم نے ناراضی سے کہا۔
    ”تجھے اتنا ہی خیال ہے اپنی عزت کا تو نکل جا یہاں سے۔”امام بخش زور سے چیخا۔
    ”ہاں ہاں چلا جاؤں گا۔”رحیم نے تیزی سے جواب دیا۔
    اتنے میں مُنی بھی وہاں آگئی ۔اس نے آگے بڑھ کر بھائی سے کہا۔”بھائی تو ابا سے ایسے بات نہ کر۔میں باجی کو بتاؤں گی۔”
    ”اب تو بھی بولے گی کمینی۔”رحیم نے یہ کہا اور اسے ایک زور دار تھپڑ مارا۔وہ دو جاکر گری اور رونے لگی۔
    امام بخش دونوں بہن بھائیوں کی لڑائی میں سر پکڑ کر بیٹھ گیا۔مُنی نے اسی وقت فوزیہ کو فون کیا اور سب کچھ بتا دیا۔
    ٭…٭…٭
    اگلی صبح فوزیہ مُنی کی ایک کال پراپنے گھر میں موجود بھائی کو ڈانٹ رہی تھی۔
    ” تیری ہمت کیسے ہوئی ابا سے لڑنے کی اور مُنی کو تھپڑ بھی مارا تو نے۔”وہ اونچی آواز میں بھائی پر چلائی۔
    رحیم نے گھوم کر مُنی کی طرف دیکھا اور غصے سے بولا۔
    ”اچھا تو تجھے ساری خبریں دے دیں اس چڑیل نے۔”
    ”دیکھ بھائی سدھر جا، اب میں اور تماشا میں برداشت نہیں کروں گی۔ہر وقت کی چخ چخ ہر وقت کی لڑائی، اگر رہنا ہے تو ڈھنگ سے رہ ورنہ کر لے اپنا کوئی اور انتظام۔ دکان اس لیے نہیں کروائی تھی کہ تو لڑائی جھگڑا کرتا رہے۔اگر اماں ابا کو کوئی سکھ نہیں دے سکتا تو تکلیف بھی نہ دے۔”فوزیہ نے رحیم کے خوب ہی لتے لیے۔
    ”ہاں ہاں کرلوں گا۔ تو بھی ہر بات میں احسان جتاتی رہتی ہے۔”رحیم کو بھی فوزیہ کی باتیں سن کر غصہ آ گیا تھا۔
    ”احسان کی کیا بات ہے۔کتنے سال ہوگئے تجھے دکان چلاتے ایک دھیلا تو ماں کو نہیں دیتا، اگر ابا نے تجھے بجلی کا بل جمع کروانے کا کہا تو کروا دے لڑ کیوں رہا ہے؟”فوزیہ نے تنک کر پوچھا۔
    ”میں کیوں کرواؤں یہاں سب استعمال کرتے ہیں بجلی۔”رحیم نے غصے سے کہا۔
    ”ٹھیک ہے تو پھر تو اپنا الگ انتظام کر۔”فوزیہ نے انتہائی روکھے انداز میں کہا۔
    رحیم یہ بات سن کر بیٹھے سے ایک دم کھڑا ہو گیا۔”ہاں ہاں کر لوں گا ورنہ تو ہمیشہ مجھے یہی طعنہ دیتی رہے گی کہ میں نے تیرے ساتھ اتنا کیا۔”
    ”مجھے طعنے دینے کا کوئی شوق نہیں،مگر ابا سے بدتمیزی برداشت نہیں کروں گی۔”فوزیہ نے پرسکون لہجے میں کہا۔
    ”تو تو ابا کو بھی سمجھا نا کہ وہ بھی ذرا ذرا سی بات پر گالی دیتا ہے۔”رحیم نے ہاتھ اُٹھا کراما م بخش کی طرف اشارہ کیا۔
    ”میں نے ایسا کیا کہہ دیا، بجلی کا بل دیا تھا بس۔”امام بخش نے بے پروائی سے کندھے اچکائے۔
    ”تجھے پتا تھا کہ بجلی کا بل فوزیہ نے دینا ہے تو تو نے ضرور مجھے دے کر آگ لگانی تھی، اور یہ چڑیل بھی تیری حمایت میں بولی اس لیے میں نے اس کو پیٹا۔”رحیم نے غصے سے کہا۔
    ”دیکھ بھائی اگر اس گھر میں رہنا ہے تواب تو نہ ابا سے بدتمیزی کرے گا اور نہ ہی… ”
    رحیم نے فوزیہ کی بات بیچ میں ہی کاٹ دی ۔”او تو رہنے دے اپنے مشورے اپنے پاس۔ چھوڑ دوں گا یہ گھر روز کی ذلالت مجھ سے بھی برداشت نہیں ہوتی۔ رکھ تو ابا کو، اماں کو اپنے پاس، میں نے ٹھیکا نہیں لے رکھا۔”یہ کہہ کر وہ باہر نکل گیا۔ سب ہکا بکا اس کی پشت دیکھتے رہے۔کتنا بے دید ہوگیا تھا وہ۔ اسے ذرا پروا نہ تھی کہ باپ اور ماں دونوں کو اس کی کتنی ضرورت ہے اس وقت،لیکن شاید وہ اپنی اسی ضرورت سے خائف تھا اور سب کوچھوڑ کر جانا چاہتا تھا۔اس بات کا سب سے زیادہ دکھ باپ کو ہوا۔ وہ فوزیہ کی طرف دکھی نظروں سے دیکھ کر بولا۔
    ”فوزیہ سب دیکھ کربہت دُکھ ہوتا ہے،یہ دونوں بے غیرت ہیں۔ہم سب تیری ذمہ داری بن گئے ہیں۔” امام بخش نے تاسف سے کہا۔
    ”ابا تو پریشان مت ہو،سب ٹھیک ہو جائے گا۔”فوزیہ نے امام بخش کا ہاتھ تھام لیا۔
    ”پریشانی نہیں صدمہ ہوتا ہے،تو اتنی محنت کررہی ہے، ان کو ذرا احساس نہیں۔”امام بخش دکھی لہجے میں بولا۔
    ”ابا تو بالکل پریشان نہ ہو میں کما رہی ہوں نا تو کیوں فکر کرتا ہے۔”فوزیہ ے مسکرا کر باپ کی ہمت بندھائی۔
    ”میری ٹانگ کا مسئلہ نہ ہوتا تو میں بھی کچھ نہ کچھ کرلیتا۔” امام بخش نے اپنی ٹانگ کی طرف اشارہ کیا اور پھر بولا۔”ایسی اولاد سے تو کوئی توقع رکھنا ہی فضول ہے۔ سمجھ نہیں آتا کیا کروں؟”
    ”ارے ابا تو چھوڑ ساری فکریں،بھائی جاتا ہے تو جائے۔مُنا ہے نا اس کو الگ دکان اسی لیے کروا کر دی ہے کہ وہ گھر کو سنبھال لے۔”فوزیہ نے بے پروائی سے کہا۔
    ”اس نے کیا سنبھالنا ہے،وہ تو خود سنبھل جائے بڑی بات ہے۔اس نے نشہ شروع کردیا ہے،پتے وتے بھی کھیلتا ہے۔”امام بخش کو منے کے ذکر پر غصہ آگیا تھا۔
    فوزیہ کی حیرانی سے آنکھیں پھٹ گئیں۔”ابا تو نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا۔”
    ”میں نے اور تیری ماں نے تجھے اس لیے نہیں بتایا کہ تو پریشان ہوگی۔”امام بخش شرمندگی سے بولا۔
    ” نہ ابا تو نے بہت غلط کیا،وہ بھٹک رہا تھا تو ہم کو ہی سنبھالنا تھا اسے۔”فوزیہ نے بہت تاسف سے سر ہلایا۔
    ”تو نے ان دونوں کو پیسے کی لت لگا کر غلط کیا۔میں نے اور تیری ماں نے بہت سمجھایا لیکن وہ کسی کی بات نہیں سنتا۔”امام بخش نے بے بسی سے کہا۔
    ” ابا تو ٹھہر میں خود اس سے بات کرتی ہوں۔”فوزیہ نے اٹھتے ہوئے کہا تو امام بخش نے گھبرا کر اس کا ہاتھ پکڑکر روک لیا۔
    ”ارے نہیں تو کہے گی تو وہ کہے گا کہ ابا نے شکایت کی ہے میری،پھروہ بھی مجھ سے لڑے گا۔”
    ” تو نہ ڈر میں کرتی ہوں اس سے بات۔”فوزیہ نے امام بخش کو سمجھایا اور منے کے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔
    ٭…٭…٭

  • باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۷ ۔۔۔۔ شاذیہ خان

    باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۷ ۔۔۔۔ شاذیہ خان

    کنول کوریڈور میں کھڑی ڈاکٹر سے بات کررہی تھی۔اس کے باپ کا آپریشن ہوچکا تھا۔ ڈاکٹرز اس کے ہاتھ میں آپریشن کابل تھماتے ہوئے بہت سپاٹ سے انداز میں بولا۔
    ”ہم نہیں چاہتے تھے لیکن ٹانگ کاٹنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔”
    ”ڈاکٹر صاحب میں ابا کو کسی پرائیویٹ ہاسپٹل میں شفٹ کرنا چاہتی ہوں۔”کنول نے کہا۔
    ”دیکھ لیں ان کا آپریشن تو ٹھیک ہوگیا ہے لیکن اگر آپ مطمئن نہیں تو بے شک لے جائیں۔”ڈاکٹر نے کندھے اچکاتے ہوئے جواب دیا پھر بولا۔”لیکن یہ کچھ بل ہیں پہلے انہیں پے کردیں۔”
    ”وہ تو میں کردوں گی آپ بالکل فکر مت کریں۔بس یہ بتائیں آج مزید کسی ٹریٹمنٹ کی ضرورت تو نہیں؟”کنول نے پوچھا۔
    ” نہیں ویسے تو سب ٹھیک ہے۔بس یہ احتیاط ضرور کیجئے گا کہ مریض زیادہ ہلے جلے نہیں۔”ڈاکٹر نے ہدایت دیتے ہوئے کہا۔
    ” اس کی آپ فکر نہ کریں۔”کنول نے رسان سے کہا۔
    ”بس تو یہ بل پے کریں اور اپنا مریض لے جائیں۔”ڈاکٹر نے بے پروائی سے کہا۔ کنول نے ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا اوروارڈ میں چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    ”کل صبح مجھے کچھ پیسے چاہئیں،پلیز بھجوا دو۔”کنول نے کمرے میں جا کر ریحان کو فون کیا۔
    ”کتنے پیسے؟”ریحان نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔
    ”یہی کوئی دو لاکھ۔”کنول نے کچھ سوچ کر جواب دیا۔
    ”اوکے نو پرابلم۔ مل جائیں گے۔” ریحان نے بے پروائی سے کہا پھر بولا۔”ابا کیسے ہیں؟”
    ” ٹھیک ہیں مگرڈاکٹرز نے ان کی ایک ٹانگ کاٹ دی ہے۔نقلیٹانگ لگنے تک انہیں بے ساکھیوں سے چلنا پڑے گا۔”کنول نے تھوڑا تھکے تھکے انداز میں جواب دیا۔
    ”اوہ ویری سیڈ،تم ان کا خیال رکھنا۔میں صبح ہوتے ہی پیسوں کا انتظام کردوں گا،فکر مت کرو۔”ریحان نے اسے تسلی دی۔
    ”تمہارے جیسے دوست کے ہوتے مجھے کیا فکر،چلو میں فون رکھتی ہوں،پھر ملیں گے۔”
    ابھی وہ اس سے بات ہی کرنے کے بعد فون رکھ ہی رہی تھی کہ اس کی ماں آکرپاس آکھڑی ہوئی،اس نے سوالیہ انداز میں ماں کو دیکھا۔
    ” فوزیہ !منی کہہ رہی تھی تو اس ہسپتال سے اپنے ابا کو کسی دوسرے ہسپتال لے جانا چاہتی ہے؟”
    ”ہاں اماں دیکھ تو ذرا کتنی گندگی ہے یہاں اور پھر وہ ایک بڑا اور اچھا ہسپتال ہے۔ابا کا علاج اچھا ہو جائے گا۔”فوزیہ نے ماں کو سمجھایا۔
    ”لیکن اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے۔”ماں نے پریشانی سے پوچھا۔
    فوزیہ نے ماں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دباؤ ڈالا اور سمجھانے لگی۔” تو فکر مت کر،اس کا میں نے انتظام کرلیا ہے۔ بس تو سب سامان سمیٹ،ہم صبح ہوتے ہی دوسرے ہسپتال میں شفٹ ہو جائیں گے۔”
    ”چل تو جو کررہی ہے،بہتر ہی کررہی ہوگی۔”ماں نے کندھے اُچکاتے ہو ئے کہا۔
    ٭…٭…٭

    شہریار ویک اینڈ پراسی پرانے ریسٹورنٹ میں بیٹھا کافی پی رہا تھا۔ساتھ ہی موبائل پرفوزیہ کاایک پرانامیسج پڑھتے ہوئے مسکرایا جس میں اس نے لکھا تھا کہ میں ویک اینڈ پراسی ریسٹورنٹ میں ملوں گی۔وہ وہاں شام پانچ بجے سے اس کے انتظار میں بیٹھا تھا۔اس نے ادھر ادھر دیکھا،سب مصروف تھے۔شاید بہت خوش بھی ہوں لیکن اس وقت شہریار کی خوشی کوئی اس سے پو چھتا کہ وہ کتنا خوش تھا ! کتنا خوش کُن احساس تھا کہ کچھ لمحوں ،کچھ منٹوں یا پھر کچھ گھنٹوں کے بعد وہ فوزیہ سے ملنے والا تھا۔
    تھوڑی دیر بعد اس نے گھڑی کی طرف دیکھا جہاں پہلے چھے،پھر سات اور آٹھ بجے لیکن فوزیہ کا کہیں کوئی اتا پتا نہ تھا۔ اس نے فوزیہ کو کئی بارفون ملایا مگراس کا فون مسلسل بند جارہا تھا۔وہ پریشان ہوگیا اور دوبارہ گھڑی کی طرف دیکھاجہاں اب دس بج رہے تھے۔اس کا خیال تھا کہ شاید وہ کسی کام میں مصروف ہو گئی ہو اس لیے کوئی رابطہ نہیں کیا۔بہت دیرانتظار کرنے کے بعد وہ بل کافی کپ کی ٹرے کے نیچے رکھ کر ہوٹل سے باہر نکل آیا۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ ہاسپٹل کے کوریڈور میں ایک بنچ پر مُنی اور اماں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی،پھر اس نے مُنی کو باپ کے پاس جانے کا اشارہ کیا اور اسے وہاں سے اُٹھاتے ہوئے بولی۔
    ”جا مُنی!ابا اکیلا ہے۔تو جاکر اس کے پاس بیٹھ جا۔”منی نے بہت آرام سے اس کی بات مان لی۔
    ”اور سُن بھائی کو بھی فون کرکے بتا دینا کہ ہم اس ہسپتال میں آگئے ہیں۔”فوزیہ نے پیچھے سے آواز لگائی۔
    ”آج بھائی نہیں آیا تیرا؟”ماں نے دکھی لہجے میں پوچھا۔
    ”اس نے آج نہیں آنا تھا اماں!اور تو جانتی ہے کیوں۔”منی نے طنزیہ انداز میں کہا اور اند ر کی طرف بڑھ گئی۔
    ”ہاں لوگ اس لیے بیٹوں کی دعا کرتے ہیں۔”ماں فوزیہ کو دیکھتے ہوئے شرمندگی سے بولی۔
    ”اس نے تو فون کرکے ابا کی طبیعت تک نہیں پوچھی اور تو آنے کی بات کرتی ہے۔”فوزیہ نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں مجبوریاں ہیں سب کی،اب مجبوریوں کا کیا کیا جائے؟”ماں نے ایک بار پھر بیٹے کی دبی دبی سی طر ف داری کرتے ہوئے جواب دیا۔
    ”ہاں اماں واقعی مجبوریوں کا کیا کیا جائے؟”فوزیہ نے ماں پر طنز کرتے ہوئے کہا۔
    ”اچھاسن یہ بتا تو شہر میں کیا کررہی ہے۔”ماں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔
    ”اماں بیٹا بن گئی ہوں تیرا۔اتنا کما لیتی ہوں کہ تجھے کوئی پریشانی نہ ہو۔”فوزیہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اُس پر بہت محبت سے پیار کیا اور جواب دیا۔
    ”پھر بھی،کچھ تو بتا۔”ماں نے اصرار کیا۔
    ”ایک بوتیک میں اچھی نوکری مل گئی ہے، ابا کے لیے پیسے بھی میں نے ان سے لیے ہیں۔ بہت اچھے لوگ ہیں۔”فوزیہ نے پہلے سے تیار کیا ہوا جواب ماں کو دیا۔
    ”ہاں اللہ بھلا کرے اتنے اچھے لوگوں کا۔”ماں نے دعا دی۔
    ”اماں جب کبھی کبھی اپنے کام نہیں آتے اللہ ایسے لوگوں کو ہماری طرف بھیج دیتا ہے۔”اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
    ”ہاں فوزیہ تو ٹھیک ہی کہہ رہی ہے۔”ماں نے ٹھنڈی سانس بھرکر کہا۔
    ٭…٭…٭
    شہریاربہت دیر انتظار کرنے کے بعد گھر لوٹ آیا ،پھر گھر آکر اپنے لیپ ٹاپ پر بیٹھا فوزیہ کا پیج دیکھنے لگا۔فیس بک پیج پر بھی کوئی اسٹیٹس اپ ڈیٹ نہیں تھی۔
    ”پتا نہیں کیا مسئلہ ہے، نہ ریسٹورنٹ آئی اور نہ فیس بک پر کوئی سٹیٹس اپ ڈیٹ ہے۔کہیں کوئی مسئلہ نہ ہوگیا ہو۔کیا کروں، فون بھی بند جارہا ہے۔”وہ بڑبڑایا۔ اس کے چہرے پر پریشانی تھی۔شہریار کے پاس اس کا کوئی اتا پتا بھی نہ تھا جو خود جا کر معلوم کر لیتا۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ کو دو دن کے بعد ہاسپٹل سے ڈسچارج کروا کر گھر لے جانا تھا۔ڈاکٹر اسے ہدایات دے رہا تھا۔
    ”دیکھیں زخم ابھی کچا ہے، آپ کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔”
    فوزیہ نے اسی انداز میں ان کو جواب دیا اور تسلی دی۔”ڈاکٹر صاحب آپ بالکل فکر نہ کریں۔میں ساری احتیاط کروں گی۔”
    ”گاوؑں سے یہ ہر ہفتے چیک اپ کے لیے کیسے آسکتے ہیں ؟”ڈاکٹر نے پریشانی سے پوچھا پھر مشورہ دیتے ہوئے بولا۔”ہوسکے تو ان کا یہیں اس شہر میں کم از کم کچھ عرصے کے لیے تو انتظام کریں۔”
    ”جی میں کچھ انتظام کرتی ہوں۔آ پ کی بات بھی بالکل ٹھیک ہے۔”
    ”یہاں پر ہی کوئی گھر وغیرہ لے لیں کچھ عرصہ ریگولر چیک اپ ہو تو ہی زخم جلدی اچھا ہوگا۔”ڈاکٹر نے اسے سمجھایا۔
    ”جی بہتر ہے ڈاکٹر صاحب میں کوئی انتظام کرتی ہوں۔”فوزیہ نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا۔وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ شہر میں گھر کے لیے کس کو کہے لیکن اسی وقت اسے گوہر کا خیال آیا اور اس نے فون ملا دیا۔
    ”گوہر تم سے تھوڑا کام تھا۔مجھے شہر میں کوئی ایسی جگہ چاہیے جہاں میں کچھ دن کے لیے اپنی فیملی کو رکھ سکوں۔”کنول نے جھجکتے ہوئے کہا۔
    ” ابھی تو ایسی کوئی جگہ نہیں ہے لیکن دیکھا جاسکتا ہے۔”گوہر نے کچھ سوچ کر اس کی بات کا جواب دیا۔
    ”دیکھو ابھی میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ میں فوری مکان خرید سکوں۔”کنول کے لہجے میں شرمندگی تھی۔
    ”تو پیسے کماؤ بی بی!میں تو تمہیں صرف کام دے سکتا ہوں،باقی تم خود کرو۔”گوہرنے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا۔
    ”تمہارے پاس ہے کوئی کام؟”کنول نے فوراً پوچھا۔
    ”ہاں ہے تو، لیکن اب میں تمہارے اخلاقیات کے درس سے بہت بے زار ہوں یار۔” گوہر نے منہ بنا کر جواب دیا۔
    ”نہیں نہیں۔میں ایسا کچھ نہیں کہوں گی،اگر کوئی کام ہے تو پلیز بتاؤ،میں تیار ہوں۔”کنول گڑگڑا کر بولی۔
    ”سنو!ایک سونگ کی ماڈلنگ کرنی ہے،کر لو گی؟”گوہر نے پوچھا۔
    ”اچھا کس کا ہے؟”کنول نے اشتیاق سے پوچھا۔
    ”ایک نیا لڑکا ہے ،علی۔”
    نئے لڑکے کا نام سن کر کنول تھوڑا بجھ سی گئی۔
    گوہر نے اُسے سوچتا دیکھ کر ایک وار کیا۔” سوچ میں پڑ گئیں تو کسی اور کو دے دوں؟”
    ” نہیں نہیں یہ سونگ مجھے ہی کرنا ہے۔مجھے توہر قیمت پرپیسے چاہئیں۔”کنول جلدی سے بولی۔
    ”سوچ لو۔”گوہر نے قطعیت سے کہا۔
    ”سوچ لیا!”کنول نے حتمی انداز میں جواب دیا۔
    گوہرخوش ہوتے ہوئے بولا۔”پھر کل آجاوؑ ایگریمنٹ وغیرہ کرلیتے ہیں۔”
    ”اوکے میں ضرور آجاوؑں گی، مگر یہ سونگ کسی اور کو نہ دینا اور پلیز کسی گھر کا انتظام بھی کر دو۔”کنول نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ ہاسپٹل کے کمرے میں باپ کے پاس بیٹھی اسے سیب کاٹ کر دے رہی تھی۔امام بخش نے اپنے بیٹے کے بارے میں پوچھا۔
    ”رحیم نہیں آیا؟”
    ”مصروف ہوگا۔”ماں نے بے پروائی سے جواب دیا۔
    ”ایسی بھی کیا مصروفیت بیمار باپ کے لیے ٹائم نہیں اس کے پاس۔”امام بخش نے غصے سے کہا۔
    ”وہ تھوڑا پریشان تھا،تیرے بلوں کے پیسوں کا انتظام کرنے میں لگا تھا۔”ماں نے بیٹے کی طرف داری کرتے ہوئے کہا۔
    ”اماں پیسے تو باجی نے جمع کروادیے ہیں۔”ماں کی بات سنتے ہی مُنی فوراً فوزیہ کی حمایت میں بولی۔
    ”ہاں لیکن وہ بھی کوششوں میں لگا تھا۔”ماں نے کہا۔
    ”لیکن اتنے پیسے فوزیہ کے پاس کہاں سے آئے؟”امام بخش نے تشویش سے پوچھا۔
    ”شہر میں کماتی ہے۔”ماں نے رسان سے جواب دیا۔
    ” اتنے اچھے ہسپتال کا بل بھی بہت ہوگا،ایسا کیا کماتی ہے؟”باپ نے تفتیشی انداز میں پوچھا۔ اتنے میں فوزیہ اندر داخل ہوئی،اس کے ہاتھ میں پھلوں کا لفافہ تھا جو اس نے لا کر ٹیبل پر رکھ دیااور امام بخش کے پاس جا کر پوچھا۔
    ”ابا اب تو ٹھیک ہے نا؟”
    باپ نے اسے عجیب سی نظروں سے دیکھا۔وہ خاموشی سے ماں کے ہاتھ سے چھری لے کر خود سیب کاٹنے لگی اور باپ کی طرف بڑھایا جو اس نے عجیب سی نظروں سے فوزیہ کو دیکھتے ہوئے پکڑ لیا۔
    ”ابا آج میں نے شہر میں تیرے لیے ایک مکان دیکھنے جانا ہے۔”فوزیہ نے سیب کاٹتے ہوئے گویا دھماکا کیا۔
    ”کیوں؟”امام بخش نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”تم سب کو کچھ دنوں کے لیے یہاں شفٹ ہونا پڑے گا۔ڈاکٹرز کے خیال میں تمہارا ہرہفتے ایک چیک اپ ضروری ہے، گاوؑں سے ہر ہفتے آنا بہت مشکل ہوگا۔”فوزیہ نے باپ کو سمجھاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”کیا مطلب؟اتنا سب کرلیا کافی ہے۔لوگ کیا کہیں گے کہ بیٹی کی کمائی کھا رہا ہے، بالکل نہیں۔”امام بخش کے لہجے میں ناراضی تھی۔
    ”ابا ضد نہ کر تیری ٹانگ صحیح ہونے میں ٹائم لگے گا،یہاں رہ کر ڈاکٹرز جلد ٹھیک کرسکتے ہیں۔”فوزیہ نے کہا۔
    اتنے میں فون کی گھنٹی بجنے لگی اس نے نمبر دیکھا تو شہریار کا نمبر تھا۔اس نے غصے سے فون کاٹ دیا۔
    ”اماں تو سمجھا ابا کو،بے شک ٹھیک ہو جائے تو واپس چلا جائے، میں نہیں روکوں گی۔”
    ”مان جا فوزیہ کے ابا!اتنے پیار سے کہہ رہی ہے۔”ماں نے کہا۔
    اتنے میں پھر فون بجنے لگا ،اس نے فون کی طرف دیکھا جہاں شہریار کا نام چمک رہا تھا۔وہ غصے میں کمرے سے باہر نکلی اور کوریڈور میں آکرشہریار کو فون کیا۔
    ”آپ کو کوئی اور کام نہیں؟ کیوں میرے پیچھے پڑے ہیں؟نوکر ہوں آپ کی؟ آپ کے ہر فون پر بات کرلوں گی۔ میرے اپنے بھی تو مسائل ہیں۔ہر وقت تو آپ کے فون کے جواب نہیں دے سکتی۔بندے کو خود بھی شرم ہونی چاہیے۔”کنول غصے سے بول رہی تھی۔
    شہریار شرمندہ سا ہوگیا اور تھوڑا رُک رُک کر بولا۔” آئی ایم سوری اگر آپ کو بُرا لگا۔دراصل ویک اینڈ پر آپ کا میسج ملا تھا کہ شام کو اُسی کافی شاپ پہنچ جائیں۔میں نے اس شام وہاں کافی انتظار کیا آپ کا،پھر گھر آکر فین پیج بھی دیکھا وہاں بھی کوئی اپ ڈیٹ نہ تھی تو میں پریشان ہوگیا تھا۔”
    کنول کو ایک دم شرمندگی نے آ گھیرا کیوں کہ غلطی اس کی تھی، اسی سوچ میں اس نے فون کاٹ دیا۔اُسے قطعاً یقین نہیں آرہا تھا۔کیا کوئی کسی سے اس انداز اور اتنی محبت سے بھی بات کرسکتا ہے؟ اتنی فکر بھی کر سکتا ہے؟اس نے خود سے پوچھا اور پھر خود ہی جواب دیا۔” نہیں سارے مرد پہلے ایسے ہی دانہ پھینکتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ کھلتے جاتے ہیں۔”یہ سوچتے ہوئے اس نے اپنے خیال پر لعنت بھیجی اورکمرے کی طرف بڑھ گئی۔
    ٭…٭…٭

  • میری ٹیڑھی زلفیں — غزالہ پرویز

    میری ٹیڑھی زلفیں — غزالہ پرویز

    ’’سیدھی مانگ نکالو ، سیدھا میاں ملے گا۔‘‘
    میرے گھنگھریالے بالوں میں چنبیلی کے تیل کی چمپی کرتے ہوئے میری معصوم سی ماں کی معصومانہ التجا ہوتی ۔ پلنگ پر بیٹھی میری ماں مجھے اپنے دونوں پاؤں سے جکڑ کر فرش میں بٹھا لیتیں۔ نہ چوں کرنے کی اجازت ہوتی اور نہ چاں اور سیدھی سادھی، بھولی بھالی ، نادان نادیہ سی میں سر جھکائے ’’آہ، اوہ اور آؤچ‘‘ کو حلق سے باہر نکلنے نہ دیتی۔ چنبیلی کے تیل کی چبھتی ہوئی تیز خوشبو جسے میں بدبو گردانتی تھی اس پر ناک سکیڑنے پر بھی ایک چپت پڑتی اور’’چھچھوندر‘‘سننے کو ملتا اور وہ میری ناک کے اوپر کنگھے کا آخری دندانہ رکھتیں اور پیشانی کے بیچوں بیچ کنگھا گھسیٹتی پیچ در پیچ، خم در خم زلفوں میں سے کنگھے کو کھینچتے کھانچتے ، کھوپڑی پر رگڑ ڈالتی بلکہ کھرچتی ہوئی گردن کی گدی تک پہنچ کہ دم لیتیں اور ایسے حساب کتاب سے آدھی زلفوں کو دائیں اور آدھی کو بائیں جانب کر لیتیں کہ مجال ہوتا کہ ایک بھی لٹ آوارہ گردی کی مرتکب ہو۔
    ’’جانے کِس پر گئے ہیں تمہارے بال؟ ایسے جیسے الجھا اون کا گولا۔‘‘
    وہ تیل سے چپڑے بالوں کو مزید کھینچ تان کے سیدھا کر لیتیں اور نیلے، لال ربن کو چٹیا میں لپیٹتی چھپکلی کی دم کے مانند بالوں کی نوک تک کس دیتیں اور پھر اسے بل دے کر دونوں کانوں کے اوپر ایک پھول سا بنا دیتیں اور ساتھ ہی ایک پیار بھری چپت رسید کرتے ہوئے کہتیں:
    ’’اللہ سیدھا سا شہزادہ دُلہا دے۔‘‘
    اور لفظ ’’دُلہا‘‘ پر میں دوپٹے کا کونا دانتوں تلے دبا لیتی اور آنکھیں بند کیے تصورات میں خود کوطلسماتی دنیا میں پاتی اور ریپنزل سی ٹاور کی کھڑکی میں خود کو کھڑا پاتی اور شہزادہ میرے تیل سے چپڑی چٹیا تھامے نیچے کھڑا نظر آتا اور پھر اچانک میرے اسپرنگ نما گھنگھریالے بال اوپر کے جانب آجاتے اور شہزادہ اس پر مزے سے گول جھولتا اوپر میرے پاس۔ ’’ہائے‘‘ میں ہنس پڑتی، لیکن امی کو توجیسے ستھرے ،کھینچ کے سیدھے ہوئے بالوں کی چٹیا کو دیکھ کر سکوں ہوتا کیوں کہ ستھرے بال جیسے کہ ستھرے مستقبل کے ضامن ہوں۔ اگرچہ کہ آرام سے کبھی نہ چٹیا بنی میری مگر غلطی سے ایک لٹ بھی رہ جاتی اور اسپرنگ کے مانند جھولنے لگتی، تو امی مستقبل کے اندیشوں میں غوطے کھانے لگتیں۔ ان کا خیال تھا کہ:
    اس زلف کے پھندے سے نکلنا نہیں ممکن
    ہاں مانگ کوئی راہ نکالے تو نکالے
    اور ہائے رے ہائے ایسی راہ نکالی کہ بس

    میری امی کی زندگی کے مقاصد میں سے ایک مقصد تھا میرے زلفوں کو سیدھا کرنا۔ کنگھا ہاتھ کیا لگتا کہ میں پکڑ میں آجاتی میرے بالوں سے جنگ شروع ہوجاتی۔
    ’’ہائے امی میں ایسی ہی بھلی۔‘‘اب وہ کیا سمجھتیں کہ ۔۔۔ یاں پلیتھن نکل گیا واں غیر ٭ اپنی مکی لگائے جاتا ہے ۔
    بچپن گزرا اور وقت کے ساتھ میں چلی چھٹک کے دامن ان کے دستِ ناتواں سے۔
    اور میرے گیسو امی کے ہاتھوں سے پھسلے تو بالکل ہی آوارہ ہوئے۔
    ’’اری بیٹی کیا کورا سر اور کورے بال لیے گھوم رہی ہو۔ تیل ڈالو بالوں میں، بنا تیل کے صورت سے ہی ابلا سبلا لگتی ہو۔‘‘ میں اِٹھلاتی اور انہیں کا جملہ انہیں پر ٹکا دیتی۔
    ’’چھچھوندر کے سر میں چنبیلی کا تیل، سبحان تیری قدرت، سبحان تیرے کھیل‘‘ اور وہ معصومیت سے کہتیں:
    ’’کیا بادام کے تیل کی مالش کردوں؟‘‘ اور میں کھلکھلاتی پھر اِدھر پھر ادھر اڑنچھو ہو جاتی۔ اب اماں بے چاری کیا جانیں روکھے ، پھولے، بکھرے بال فیشن ہیں۔
    ہماری اماں سدا کی سیدھی اور معصوم۔ شاید پرانے وقتوں کی عورتیں ایسی ہی ہوتی ہوں گی لکیر کی فقیر سی لیکن نہیں! پھر کٹنی کسے کہتے تھے؟ ارے بھئی میری بلا سے۔ ہاں تو میری امی کے لیے بال بنانا انتہائی اہم کام تھا جسے وہ بڑی فرصت اور فراغت اور محبت سے سر انجام دیتی تھیں۔ سکون و اطمینان سے تیل، کنگھی، سرمہ اور آئینہ لے کے بیٹھتیں اور ساتھ گنگناہٹ جاری رہتی اور وہ بھی رخصتی کے گیت گیتوں کی اور لازماً آنسو آنکھوں کے کونے بھگو دیتے۔ کنگھی چوٹی ہی ان کے لیے بال بنانا تھا اور یہی ان کا سنگار تھا۔ سیدھی مانگ، سیدھے سمٹے بال اور سیدھی چٹیا اور آخر میں اس پر گھر کے موتیے کے پھولوں کو دھاگے میں پرو کر لڑیاں بناتیں اور چوٹی میں لپیٹ لیتیں اور ساتھ گنگناتی ’’جومیں ہوتی راجا بیلا چنبیلیا ، مہک رہتی راجا تورے بنگلے پر۔‘‘اور میں مبہوت سی بیٹھی انہیں دیکھتی رہتی اورکبھی چھیڑ بھی دیتی:
    ’’کس کے بنگلے پر نظر ہے؟‘‘ اور وہ مسکرادیتیں۔ میں اکثر سوچتی اور ایک دن پوچھ ہی بیٹھی آخر منہ پھٹ جو ٹھہری یعنی گز بھر لمبی زبان جو تھی۔
    ’’امی آپ کی تو ہمیشہ سے مانگ ستھری سیدھی رہی، سجے سنورے بال تو پھر سیدھا میاں کیوں نہ ملا؟‘‘
    بس جناب چپت تو چپت تین حرف بھی سن لیے۔
    ’’زبان چلتی ہے قینچی سی تمہاری تالو سے زبان کو لگا۔ اپنے باپ کے لیے ایسا بول؟‘‘
    پھر خود ہی ذرا روہانسی سی ہوکر بولیں:
    ’’کیا پتاکس کج رو سے بچ گئی۔‘‘
    فوراً موضوع پلٹ کر کہنے لگیں:
    ’’اپنی خیر منا یوں سر جھاڑ منہ پھاڑ نہ بنی رہا کرو۔‘‘
    لیکن میں ٹھہری چکنا گھڑا سوچا سیدھی مانگ پر ایسے غصے والے جلالی شوہر سے تو میری ٹیڑھی مانگ ہی بھلی اور زلفِ پرخم کو دل کھول کہ خوب آوارہ کیا۔ چوٹی سے ربن نکال پھینکا، دو چوٹیاں بنیں ایک، پھر چٹیا کھلی تو پونی بنی، پونی کھلی تو شانوں تک چڑھ آئی اور پھر لیڈی ڈیانا کٹ اور زندگی ہوئی ڈن ڈنا ڈن ڈن اور امی بے چاری کئی وسوسوں کے فشار میں میری لٹوریوں سے الجھتی ہی رہ گئیں۔
    ’’کیا جٹا دھاری فقیرنی بنی گھومتی ہو، تیل ڈالو، سیدھی مانگ نکالو سیدھا میاں ملے گا۔‘‘
    اور میں آڑے ٹیڑھے مانگ کے ساتھ لچھے دار گیسوں کو دائیں بائیں جھلاتی گنگناتی ’’لوگ کہیں موہے باوری، میرے الجھے لمبے بال۔‘‘ امی کی نظروں سے اِدھر ادھر ہوجاتی اور وہ بے چاری بڑبڑاتی رہ جاتیں۔
    ’’مل گیا نہ لچھے دار تو نہ کہنا۔ ہنہ۔ تری مرضی ہے اگر یونہی تو لے یونہی سہی بنا لو دل کھول کر مجھے نکو۔‘‘
    جانے کیوں ایسا لگنے لگا مجھے دیکھتے ہی امی کو ڈھولک کی تھاپ، گیندے کے پھول،سہرا، ابٹن، رت جگے اور گلگلے کی کڑاہی نظر آنے لگتی ہے اور مکھ پر رمال دھرے۔ ’’امی جان سلام‘‘ کہتے دُلہا میاں نظر آنے لگتے ہیں۔
    اور پھر امی نے میری ضد بازیوں کے آگے یہ بولنا بھی چھوڑ دیا اور یوں یہ خیال بھی عین غین ہوا۔
    وقت کے ساتھ ساتھ درمیان کی سیدھی مانگ کبھی دائیں جانب جھکی تو کبھی بائیں جانب کھسکی، کبھی ننھی سی مانگ ہوئی تو کبھی سرے سے ہی غائب ہوئی اور پھر ’’زگ زیگ مانگ‘‘ فیشن میں آگئی۔ میں اور فیشن سے ایک قدم بھی پیچھے نہ نہ اللہ نہ کرے۔
    اسکول تھا یا کالج یا پھر یونیورسٹی میری زلفوں کے بل مذاق کے نشانے پر رہتے، خوب لطیفے بنتے، ٹھٹھے لگتے۔
    ’’بالوں کا گچھا‘‘، بھیڑ کی دم، برتن دھونے کا جونا، ’’جھاڑ جھنکار‘‘ الغرض جتنے منہ اتنے نام۔ کسی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ میرے ایسے آڑے ٹیڑھے بال ہوتے تو خودکشی ہی کرلیتی۔
    اور میں نے جل کر ترکی بہ ترکی جواب دیا:
    ’’شکر ہے تمہاری بچت ہوئی۔‘‘
    میں لڑکیوں کے سانپوں سے چمک دار، چکنے سیدھے بالوں کو دیکھتی رہ جاتی، نظر پھسل پھسل جاتی اور بہ ظاہر میں خوب اترا اترا کے اپنے اسپرنگ نما بالوں سے کھیلتی اب اپنی چھاچھ کو کون کھٹی کہتا ہے بھئی لیکن بال زلفوں کے میرے سب سے کجی رکھنے لگے۔ وقت گزرتا رہا اور اچانک یہ پیچ دار زلف فیشن میں آگئے۔
    ’’ہائے اللہ تم کتنی خوش قسمت ہو کہ تمہیں ’’کرل‘‘ نہیں کروانے پڑتے!‘‘
    اور میں اچانک سے اڑی اڑی طاق پر جا بیٹھی۔ اب تھوڑا سا اترانا تو بنتا تھا نا اور پھر میری سہیلیاں کالج ختم ہونے پر یادگار کے طور پر میرے بالوں کی لٹ مانگنے لگیں۔ خیر وقت آگے بڑھتا گیا۔ زلف کبھی الجھی، کبھی سلجھی، کبھی چٹیا، کبھی پونی، کبھی شانے پر لہرائی تو کبھی کمر کو چھو آئی۔ پر رہی وہی سرکش، وہی برہم وہی پیچ کہ اوپر پیچ چڑھا۔ خیال ہی رہا کہ
    مرے ہاتھ سلجھا ہی لیں گے کسی دن
    ابھی زلف ہستی میں خم ہے تو کیا غم
    ٭…٭…٭
    اور وہ وقت بھی آگیا جس کا انتظار میری ماں کو میری پیدائش کے دن سے تھا ’’ایک شہزادہ آئے گا سفید گھوڑے پہ میری شہزادی کو لینے۔‘‘
    مجھے آج تک وہ جملہ نہیں بھولتا اپنے بھائی کا جب وہ ایک تصویر لیے میرے پاس آیا۔
    ’’سچ کہوں آپی بہت سیدھے ہیں دُلہا بھائی آگے وہ کیا کہہ رہا تھا مجھے سنائی نہیں دیا بس اپنی کھوپڑی کے بیچوں بیچ کھجلی سی ہونے لگی۔ یعنی باقی زندگی اللہ میاں کی گائے کے ساتھ یعنی ’’گائے؟‘‘
    ڈھولک کی تھاپ تھی، سہاگ کے گیت تھے، سہرا تھا اور جدائی تھی اور میرا خوف۔
    ’’کہیں ایسا نہ مل جائے، کہیں ویسا نہ مل جائے۔‘‘
    میرے سیدھے میاں، میری امی کو خدا کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے کے چہیتے داماد ٹھہرے۔
    درویشِ خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربی اور دو پاٹوں میں الگ ہوئے گیسو نہ اب شرقی رہے نہ غربی۔ ایک جوڑے میں سمٹ گیا زلف کا بل۔ اب کس کو فکر کاکلِ پرخم کی کہ اب کاکلِ گیتی سنوارنا تھا۔ وہ زلف کے بل میں یوں الجھے کہ کبھی نہ سلجھے۔
    ’’ھ‘‘ میں ملا۔ ’’الف‘‘اور زیست ہوئی ھا ھا ھا۔
    پچیس سال پرخم راستوں پر ایک دوسرے کے ساتھ گزار دیے
    یہاں تک آ گئے آگے خدا کا نام ہے ساقی

    ٭…٭…٭

  • بوڑھے آدمی کا خواب — محمد جمیل اختر

    بوڑھے آدمی کا خواب — محمد جمیل اختر

    بوڑھے صادق حسین کی زندگی میں خوش گوار تبدیلی آئی تھی۔ اِس سے پہلے کہ میں آپ کو اِس تبدیلی کے بارے میں کچھ بتائوں، اِس سے پہلے صادق حسین کی سابقہ زندگی کے بارے میں بتانا ہوگا، ورنہ یہ افسانہ جھول کا شکار ہوجائے گا اور میں ایسا ہرگزنہیں چاہتا۔
    یہبتاتا چلوں کہ صادق حسین کو ریٹائر ہوئے دوسال ہوگئے ہیں۔ بیوی پانچ سال پہلے فوت ہوگئی اور دونوں بچے اپنی گوری بیویوں کے ساتھ کینیڈا مقیم ہیں اوروہ آخری بارپانچ سال پہلے آئے تھے۔ اب کبھی کبھاراُن کا فون آجاتا ہے اور صادق حسین کی زندگی دوٹیلی فونز کے درمیانی وقفے میں معلق رہتی ہے۔
    صادق حسین ریٹائر ہوئے تو پھر بھی ایک آدھ دن چھوڑ کر دفتر چلے جاتے۔ پرانے دوستوں سے ملاقات ہوجاتی اور ان کا دل بہل جاتا۔ پھر رفتہ رفتہ انہیں محسوس ہوا کہ دفترکے لوگ اب ان سے تنگ آتے جارہے ہیں، جیسے وہ دفتر جاکراُن کے کام میں مخل ہوتے ہیں تو انہوں نے دفترجانا چھوڑدیا۔ گھر کا زیادہ تر کام پرانی ملازمہ نسرین کردیتی تھی۔ صادق صاحب صبح اُٹھتے ، ناشتا کرتے، اخبار پڑھتے اور یوں ہی ٹی وی پر چینل بدلتے رہتے ایک آدھ چکر گلی کا لگا کر آجاتے اور پھر سہ پہر تک بستر پر کروٹیں بدلتے رہتے ۔ سہ پہر کو وہ گھر سے تھوڑی دور واقع پارک میں جاتے۔ وہ واک بہت کم کرتے تھے، بس ایک بنچ پر بیٹھ کر بچوںکو کھیلتے ہوئے اور باغ میں اُڑتے پرندوں کو دیکھتے ۔

    وہ اکثر سوچتے کہ کا ش وہ بھی بچے ہوتے اور بچوں کے ساتھ کھیلتے یا پھر پرندہ ہوتے اور ایک قطار میں اُڑا کرتے، لیکن وہ تو ایک تنہا اُداس بوڑھے تھے کہ جس سے سارا دن کوئی بات نہیں کرتا تھا۔ انہوں نے اپنی تنہائی کم کرنے کا یہ حل نکالا کہ اب وہ ہرشے سے باتیں کرنے لگے۔ مثلاً گھر کی دیواروں سے، برتنوں سے، کتابوں سے ،ٹی وی سے۔ غرض یہ کہ گھر کی ہر چیز سے باتیں کرنے لگے۔
    اُن کے ڈرائنگ روم کی دیوار میں دراڑ پڑتی جارہی تھی۔ وہ روز اس دیوار سے باتیں کرتے، اور اسے حوصلہ دیتے ہوئے کہتے:
    ’’پریشان نہیں ہونا! ٹوٹناہرگز نہیں۔ اِس دفعہ پنشن ملتے ہی میں مستری کو لائوں گا۔ تم بس خود کو مضبوطی سے تھامے رکھو۔‘‘
    اگر کبھی چائے کا کپ گندا پڑا رہ جاتا تو خود ہی بڑبڑاتے:
    ’’افوہ! آج نسرین نے تمہیں دھویا نہیں۔ کتنے میلے ہوگئے ہو، آئو میں تمہیں کچن میں چھوڑ آئوں،کل نسرین کو آتے ساتھ ہی کہوں گا کہ سب سے پہلے وہ تمہیں دھوئے۔‘‘ زندگی یونہی گزر رہی تھی کہ ایک دن بوڑھے صادق حسین کی زندگی میں خوش گوار تبدیلی آئی۔
    وہ ایسی ہی ایک اُداس شام کو اُسی پرانے بنچ پر بیٹھے تھے، جب ان کے ساتھ والے بنچ پر ایک تیس پینتیس سالہ ایک اُداس سی خاتون آکر بیٹھ گئی۔ صادق حسین کو اُن آنکھوں کو دیکھ کریوں لگا جیسے وہ اُداس آنکھیں اِن کی اپنی ہوں۔جیسے وہ خود کو دیکھ رہے ہوں کیوں کہ روز انہیں ایسی آنکھیں شیشے میں دکھائی دیتی تھیں۔
    ’’معلوم نہیں یہ خاتون کون ہیں اور یہ اتنی اداس کیوں ہیں۔ مجھے ضرور اِن سے پوچھنا چاہیے، لیکن نہیں۔‘‘ اور انہوں نے کچھ نہیں پوچھا۔ اُس ساری رات خواب میں وہ آنکھیں اُن کے سامنے آنسو بہاتی رہیں۔ وہ بار بار پریشان ہوکرجاگ جاتے کہ آخر یہ خواب کیا ہے اور وہ خاتون کون ہیں؟ اگلے دن وہ سہ پہر سے پہلے ہی پارک پہنچ گئے اور بے چینی سے اس خاتون کا انتظار کرنے لگے۔ وہ خاتون شام سے ذرا پہلے آئیں اور ان کے ساتھ ہی بنچ پر بیٹھ گئیں۔ صادق صاحب اس دن بھی یہی سوچتے رہے کہ آخر وہ کس طرح ان سے پوچھیں کہ وہ اتنی اُداس کیوں ہیں؟ لیکن اس دن بھی وہ ہمت نہ کرپائے۔
    ایک ہفتہ یونہی گزر گیا۔ اس دوران صادق صاحب نے درودیوار سے کوئی بات نہ کی۔ وہ انہیں حیرت سے تکتے کہ بوڑھے کو معلوم نہیں کیا ہوگیا ہے جواب ان سے بات تک نہیں کرتا۔ اس خاتون سے بات کرنے کی غرض سے کئی دنوں بعد انہوں نے تازہ شیو بنائی لیکن وہ اُس خاتون سے کچھ بھی نہ پوچھ سکے، مگر ہر رات خواب میں وہ اُسے دیکھتے۔ اُسے حوصلہ دیتے اور وہ خاتون صادق صاحب کو حوصلہ دیتیں۔
    صادق صاحب شعوری لحاظ سے عُمر کے بہت پختہ حصے میں تھے کہ جب زندگی انسان سے سب کچھ لے جاتی ہے اور انسان کے پاس سوائے تجربے کے کچھ نہیں رہتا۔ اُن کے پاس تجربہ تھا، شعور تھا۔ وہ جب اپنے اندر اِس تبدیلی کو دیکھتے تو اِس نتیجے پر پہنچتے کہ اُن کی اُس خاتون کے لیے انسیت ویسی ہی ہے جیسے شیشم کے اس درخت کی جو اسکول سے گھر جاتے ہوئے ان کے راستے میں آتا تھا۔تپتی دوپہر میں شیشم کے اس درخت کے نیچے انہیں عجیب سی انسیت محسوس ہوتی۔ اگرچہ اس درخت کے نیچے ان کا قیام بہت مختصر لیکن فرحت بخش ہوتا۔وہ اُس پیڑ کو گائوں تک ساتھ تو نہیں لے جاسکتے تھے ، مگر اُس تپتی دوپہر میں جو سایہ اُس پیڑ سے ملتا، وہ انہیں آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتا تھا۔
    صادق حسین صاحب بھی اُس اداس آنکھوں والی خاتون کو گھر لے کر نہیں جانا چاہتے تھے۔ وہ اُسے حاصل نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وہ تو صرف اس کا دکھ بانٹنا چاہتے تھے، اپنی تنہائی کا ساتھی چاہتے تھے۔ لیکن پھر یہ ہوا کہ ایک ہفتے بعد اُس خاتون نے پارک میں آنا چھوڑ دیا۔
    اِدھر صادق صاحب کا یہ حال کہ بے چارے دوپہر کو ہی بنچ پر آکر بیٹھ جاتے ، یہ سوچتے ہوئے کہ آج تو ضرور بات کروں گا، لیکن جب وہ خاتون لگاتار کئی دن تک وہاں نہ آئیں تو صادق صاحب بے حد پریشان ہوئے۔ شاید وہ خاتون پارک کا راستہ بھول گئیں تھیں۔ اب وہ خود کو دن رات کوستے کہ آخر انہوںنے اس خاتون سے اس کی پریشانی کی وجہ کیوں نہ پوچھی، شاید وہ ان کے کچھ کام آسکتے۔ وہ اپنی اِس کم ہمتی پر خود کو بہت برا بھلا کہتے۔ ایک ہفتے میں ہی ان کی شیو دوبارہ بڑھ گئی۔ درودیوار سے باتیں پھر سے معمول پر آنے لگیں۔ اب بھی وہ خاتون ان کے خواب میں آتیں اور رو رو کر کہتیں:
    ’’صادق صاحب! خدارا مجھے بچایئے، خدارا میری مدد کیجیے۔‘‘ اور صادق صاحب ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھتے اور سوچتے کاش کہ وہ اُس خاتون سے اُس کے بارے پوچھ ہی لیتے۔
    یہ خاتون کو غائب ہونے کے دس دن بعد کا واقعہ ہے۔ ایک شام صادق صاحب اپنے اُسی بنچ پر بیٹھے تھے کہ انہیں دور سے وہی خاتون آتی دکھائی دی۔ صادق صاحب کو پہلے تولگا کہ شاید اب وہ دن میں بھی خواب دیکھنے لگے ہیں، لیکن وہ خاتون اِدھر ہی چلتی آرہی تھیں۔ صادق صاحب نے چشمہ اتار کر صاف کیا، پھر لگایا اور تقریباً دوڑتے ہوئے اُس کی جانب بڑھے، لیکن قریب جاکر معلوم ہوا کہ یہ کوئی اور خاتون ہیں۔ اُس موقع پر انہیں اور تو کوئی بات نہ سوجھی کہا:
    ’’میں معذرت چاہتا ہوں، میری ایک عزیزہ گُم گئی ہیں۔ کیا آپ نے انہیں دیکھا ہے؟ یہی کوئی پینتیس سال عمر ہوگی۔ سیاہ دوپٹا اوڑھ رکھا تھا، رنگ گندمی اور آنکھیں بالکل میری آنکھوں جیسی تھیں۔‘‘خاتون قدرے گھبرائے ہوئے لہجے میں بولی:’’ نہیں انکل میں نے نہیں دیکھا۔‘‘
    ’’اوہ! اچھا شکریہ، میں تلاش کرتا ہوں، یہیں کہیں ہوں گی۔‘‘
    یہ پہلی بار تھا کہ انہوں نے اُس اُداس آنکھوں والی خاتون کے بارے میں کسی سے پوچھا تھا۔ اُس کے بعد یہ اُن کا معمول بن گیا۔ وہ روزانہ گیٹ نمبر ۲ سے پارک میں داخل ہوتے، لوگوں سے اُس خاتون کی نشانیاں بتا کر پوچھتے کہ شاید کسی نے انہیں کہیں دیکھا ہو۔ آہستہ آہستہ لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ یہ بوڑھااُن سے کیا سوال کرے گا، تو وہ نظریں چرا کرتیزی سے گزر جاتے ۔ کئی لوگ بوڑھے صادق حسین کی آواز سنی ان سنی کردیتے۔ پارک میں آنے والے کچھ نوجوانوں کے ہاتھ یہ شغل آ گیا۔ وہ صادق حسین صاحب کے پاس آتے اورکہتے:
    ’’انکل! کیا آپ اُس خاتون کو ڈھونڈ رہے ہیں جنہوں نے سیاہ دوپٹا اوڑھ رکھا ہے۔ عمر پینتیس سال ہے اور اُن کی آنکھیں بالکل آپ کی آنکھوں جیسی ہیں؟ ‘‘اور وہ امید کے دیے آنکھوں میں جلائے جھٹ سے کہتے:
    ’’ہاں ہاں! بالکل، وہ میری عزیزہ ہیں۔ کیا تم نے کہیں دیکھی ہیں؟‘‘
    ’’جی بالکل! وہ گیٹ نمبر ایک پر آپ ہی کے بارے میں پوچھ رہی تھیں۔‘‘اور صادق حسین تیزی سے گیٹ نمبر ایک کی طرف جاتے اور پیچھے لڑکے تالیاں بجاتے اور قہقہے لگاتے۔ اگلے دن کوئی اور لڑکا یہی کہہ رہا ہوتا تھا اور صادق حسین صاحب ہر بار یقین کرلیتے۔
    صادق صاحب کی شیو اب بہت بڑھ چکی ہے۔ ڈرائنگ روم کی دیوار کی دراڑ بھی مزید پھیل گئی ہے۔ وہ دیوار حیرت سے بوڑھے کو دیکھتی ہے جو اب اُس سے بات نہیں کرتا۔ وہ اب ایک ایسی خاتون کو ڈھونڈتا ہے جو شاید کبھی تھی ہی نہیں۔

    ٭…٭…٭

  • پارٹنر — بلال شیخ

    پارٹنر — بلال شیخ

    رات کے دو بج رہے تھے۔ ہر طرف سناٹا چھایاہوا تھا۔ عارف سڑک کے کنارے پیدل چل رہا تھا، پوری دنیا سے بے خبر اور تنہا ۔ وہ ہر چیز کی امید کھو بیٹھا تھا۔ گھر میں سارے پریشان تھے۔ بیمار ماں کتنی دیر سے اس کی راہ تک رہی تھی اور دو بہنیں جن کی شادی کی فکر عارف کو ستاتی رہتی تھی، وہ بھی ہاتھ اٹھائے دعائیں کر رہی تھیں مگر عارف ہر چیز سے واقف ہو کر بھی ناواقف تھا۔
    عارف وہ بدقسمت شخص تھا جو تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود بے روزگار تھا اور مقروض بھی۔ نوکری اسے ملتی نہیں تھی اور کاروبار میں وہ مکمل طور پر ناکام ہو چکا تھا ۔ بال بکھرے ہوئے، کپڑے گندے، بھوک سے بے حالمگر کھانا وہ چاہتا نہیں تھا ۔ بہنوں کی شادی نہیں ہوتی تھی اور اگر کہیں رشتہ طے ہوتا تو کسی وجہ سے وہ بھی ٹوٹ جاتا۔ ماں بیمار تھی، اس کی دوائیوں کے خرچے الگ تھے۔ وہ اپنے آپ کو دنیا کا بدقسمت شخص سمجھتا تھا ۔
    اس گہری رات کی تاریکی میں کچھ لمحے پہلے اس نے ہمت کی اور تیز رفتار گاڑی کے سامنے آکر جان دینا چاہی مگر کسی اجنبی نے دھکا دے کر اس کی جان بچا لی اور عارف کو ’’پاگل‘‘ کہتا ہوا آگے نکل گیا ۔ معلوم نہیں وہ کتنا پیدل چل چکا تھا، اس کو اندازہ بھی نہ ہوا ۔ موت اس کو گلے لگانے کو تیار نہ تھی اور زندگی سے اس نے منہ پھیر لیا تھا مگر سڑک کنارے چلتے جب اس کو کوئی خیال تنگ کرتا تو اس کے آنسو نکل آتے اور وہ عینک اتار کر آنسو صاف کرنے لگ جاتا۔
    چل چل کر جب اس کی ٹانگیں جواب دے گئیں اور ہمت مکمل طور پر ختم ہو چکی تو اس نے بیٹھنے کے لیے جگہ تلاش کرنا چاہی۔ وہ کہاں تھا اسے کچھ معلوم نہ تھا۔ سڑک کنارے ایک بس سٹاپ آیا توعارف ادھر ہی بیٹھ گیا۔ یہ جگہ بیٹھنے کے لیے مناسب تھی ۔ پاس ہی ایک شخص چادر لیے لیٹا ہوا تھا۔ سٹریٹ لائٹس جل رہی تھیں۔ عارف ادھر ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔ اس نے دور دور تک نظر دوڑائی مگر اسے کوئی نظر نہ آیا تھا۔ آج سے پہلے اس پر کبھی اتنی نا امیدی نہیں چھائی تھی ۔ بیٹھے بیٹھے اس کی آنکھ لگ گئی اور وہ سو گیا۔

    کچھ ہی لمحے گزرے ہوں گے کہ قریبی مسجد سے اذان کی آواز سنائی دی اور اس کی آنکھ کھل گئی۔ اس کے ساتھ ہی جو شخص لیٹا ہوا تھا وہ بھی حرکت کرنے لگا ۔ اس شخص نے منہ سے چادر ہٹائی اور سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ وہ نحیف سا بابا تھا۔ سفید داڑھی اور آنکھوں میں عجیب سی چمک رکھتا تھا۔ بابا جی نے جیب سے ٹوپی نکال کر سر پر پہنی اور اذان کی طرف متوجہ ہو گیا۔ جب اذان ختم ہو ئی تو اس نے دونوں ہاتھ دعا کے لیے اٹھا لیے اور دعا مانگنے لگ گیا۔ یہ سب ماجرا عارف بڑے غور سے دیکھ رہا تھا اور اندر ہی اندر اس کو عجیب سی کیفیت محسوس ہو رہی تھی ۔ بابا جی کے چہرے پر انتہا کا سکون تھا جو کہ اس وقت عارف کے پاس موجود نہیں تھا۔
    بزرگ نے جب دعا مانگ لی تو عارف کو دیکھنے لگے۔ عارف نے جب باباجی کی آنکھوں میں دیکھا تو اس کو عجیب سا سکون مل رہا تھا۔ باباجی نے عارف کو دیکھ کر کہا :
    ’’السلام علیکم میاں! خیر تو ہے اس وقت ادھر کیا کر رہے ہو؟‘‘باباجی کہتے ہوئے اپنی چادر سمیٹنے لگ گے۔
    ’’آپ بھی تو اس وقت ادھر ہیں۔‘‘ عارف نے باباجی کا سوال ان کو واپس کر دیا ۔ باباجی عارف کی بات سُن کر مُسکرا دیے۔
    ’’مگر میاں میرا ادھر ہونا اور تمہارا ادھر ہونا مختلف معنی رکھتا ہے۔‘‘ باباجی مُسکراتے ہوئے بالکل ایسے بیٹھ گئے جیسے وہ عارف سے باتیں کرنا چاہتے ہوں اور جب عارف بھی باباجی کو دیکھتا تو اس کا دل بھی بات کرنے کو کرتا تھا۔
    ’’شکل سے تو اچھے گھر کے لگتے ہو، اتنے پریشان کیوں بیٹھے ہو؟ کوئی مسئلہ ہے؟‘‘ باباجی عارف کے قریب ہو گئے۔ انہوں نے عارف کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔
    ’’میں خود ایک مسئلہ ہوں، میری ذات ایک مسئلہ ہے۔ شاید میں پیدا ہی مسائل کے لیے کیا گیا ہوں۔‘‘ عارف کی آنکھوں سے پھر آنسو ٹپکنے لگے۔
    ’’نہ بیٹا! پریشان کیوں ہوتے ہو؟ جس نے مسئلے بنائے ہیں ضرور اس نے مسئلوں کا حل بھی بنایا ہو گا اور اوپر والا تو اتنا رحیم ہے کہ وہ کسی کو اس کی ہمت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتا۔ بیٹے کسی مسئلے کا حل ناامیدی اور پریشانی ہوتا ہے؟ مجھے بتائو تمہارا مسئلہ کیا ہے؟ شاید کوئی حل نکل آئے۔‘‘باباجی نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا تو اس کا دل چاہا کہ سب کچھ کھول کر باباجی کے سامنے رکھ دے۔
    ’’میں ایک ناکام شخص ہوں باباجی! ایک بد قسمت شخص ہوں، سونے کو ہاتھ لگاتا ہوں وہ مٹی بن جاتا ہے ۔ گھر کے خرچے، ماں کی بیماری، بہنوں کے رشتے، کئی کاروبار کیے مگر کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ اُلٹا ادھار سر پر چڑھ گیا۔ کئی جگہوں پر نوکری کی درخواستیں دیں مگر کہیں منظور نہیں ہوئی۔ آپ بتائیں میں کیا کروں؟‘‘ عارف نے کہتے ہوئے عینک اتار دی اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہ نکلے۔ باباجی ساری باتیں خاموشی سے سن رہے تھے۔
    ’’ہاں تو نوکری کرنی ہے تو اللہ کی کرو اور اگر کاروبار کرنا ہے تب بھی اللہ کے ساتھ کرو۔ ہم لوگوں کا یہی تو مسئلہ ہوتا ہے جس نے ہمیں پیدا کیا ہم اس سے نہیں مانگتے۔ ہم دوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں اور بدلے میں لوگ وہی دیتے ہیں جو ان کے پاس ہوتا ہے۔ پریشانی، تنگی، فتنہ،دغا اور ایسی کئی بیماریاں۔ مگر جو اللہ سے مانگتا ہے بدلے میں اللہ اس کی جھولی بھر دیتا ہے۔ برکتوں سے، رحمتوں سے، سکون سے۔ جو کرنا ہے یا جو مانگنا ہے اللہ سے مانگو، اس کے ساتھ کرو۔‘‘ باباجی کہہ رہے تھے اور عارف سُن رہا تھا۔ اس کو سکون محسوس ہو رہا تھا۔ وہ خاموشی سے باباجی کو دیکھ رہا تھا اور اپنے اندر تبدیلی کی ایک لہر محسوس کر رہا تھا۔
    ’’مگر باباجی !شاید مجھے اللہ کے ساتھ کاروبار کرنے کا طریقہ نہیں آتا ۔‘‘ عارف نے عینک پہن لی۔ اس کے اندر تجسس پیدا ہونے لگ گیا ۔ وہ باباجی کو سوالیہ نظروں سے دیکھ رہا تھا۔
    ’’دیکھو بیٹا! جب تم اللہ کے ساتھ کاروبار شروع کرو گے اور اس کے حصے کا مال اس کی راہ میں خرچ کرو گے تو ناکامی کا خوف ختم ہو جائے گا اور تم کام یابی کی طرف نکل پڑو گے۔ تم اس کو اپنے کاروبار کا حصہ دار بنا لو، جس کو انگریزی میں کہتے ہے نا ’’پارٹنر‘‘ہاں پارٹنر بنالو۔ تم دیکھنا وہ تم پر کیسے رحمتوں کی بارش کرتا ہے۔ بھوکوں کی بھوک مٹائوگے وہ تمہاری بھوک مٹائے گا۔ لوگوں کے مسئلے حل کرو، تمہارا کوئی مسئلہ باقی نہیں رہے گا۔ میری بات کو اپنے ذہن میں بٹھا لو ان شاء اللہ وہ کسی کو مایوس نہیں کرتا۔ گھر میں تمہاری ماں تمہارا انتظار کررہی ہے ۔ماں خدا کی بہت بڑی نعمت ہے، اس کی قدرکرو۔‘‘ باباجی کہتے ہوئے اٹھے اور عارف کے سر پر ہاتھ پھیرنے لگے۔
    ’’چلو اٹھو! نماز کا وقت ہو رہا ہے، نماز پڑھ لو اور چڑھتے سورج کے ساتھ نئی زندگی کی شروعات کرو۔‘‘ باباجی کی باتیں عارف کی روح میں اتر رہی تھیں۔ اس کا جسم ایک دم ڈھیلا ہو گیا۔ باباجی مڑے اور مسجد کی طرف چل دیے، عارف ان کو جاتا دیکھ رہا تھا۔ باباجی کافی دور نکل گئے تھے، کچھ لمحے ادھر بیٹھنے کے بعد عارف اٹھا اور گھر کی طرف تیز قدموں کے ساتھ چل دیا۔
    اس بات کو دس سال گزر چکے تھے۔ عارف کی شادی ہو چکی ہے اور اس کی بہنوں کی بھی۔ جو عارف دس سال پہلے تھا آج وہ عارف نہیں رہا تھا۔ آج عارف مُلک کا ایک نام ور شخص بن چکا۔ مُلک کے کئی شہروں میں اس کے دستر خوان چلتے تھے جہاں کئی غریب لوگ مفت کھانا کھاتے اور کئی فلاحی ادارے عارف فنڈز کے نام سے چل رہے ہیں ۔ جو پارٹنرشپ عارف نے پانچ سال پہلے شروع کی تھی وہ کام یاب ہو چکی تھی۔ آج اس کے اپنے مسئلے نہ ہونے کے باوجود مسئلوں میں گھرا رہتا تھا ۔ کسی کو علاج کی ضرورت یا کسی مقروض کو پیسوں کی آج اس نے لوگوں کے مسئلوں کو اپنا مسئلہ بنا لیا تھا، اس لیے شاید اس کے سارے مسائل حل ہو گئے اور کام یابیاں اس کے قدم چوم رہی تھیں۔

    ٭…٭…٭

  • بلا عنوان — نظیر فاطمہ

    بلا عنوان — نظیر فاطمہ

    بیگم مہرین اپنے سٹنگ روم کے قالین پر بیٹھی ہوئی تھیں ۔ ان کے سامنے مختلف ڈیزائنرز کی exclusive rangeکے دس سوٹ رکھے ہوئے تھے۔ انھیں یہ سوٹ سلوانے کے لیے اپنے درزی کو دینے جانا تھا۔اتنے سارے خوب صورت اور سٹائلش سوٹ سامنے ہونے کے باوجود ان کا دل خوش نہیں تھا۔ اس کی وجہ مشہور برانڈ کا وہ جوڑا تھا جو پچھلے ہفتے وہ آئوٹ لیٹ پر دیکھ کر آئی تھیں ۔اس وقت کسی وجہ سے بیگم مہرین وہ جوڑا نہ خرید سکیں۔ دو دن بعد جب وہ جوڑا لینے متعلقہ آئوٹ لیٹ پر گئیں تو معلوم ہوا کہ وہ تو بِک چکا ہے ۔ یہ برانڈ ڈیزائن محدود پیمانے پر بناتا تھا ۔ ایک دفعہ جو ڈیزائن ختم ہو جاتا پھر دوبارہ وہ نہیں بنایا جاتا۔
    بیگم مہرین کو وہ جوڑااتنا پسند آیا کہ وہ اپنے شہر میں اس برانڈ کے ہر آئوٹ لیٹ سے معلوم کرنے گئیں مگر وہ کہیں پر دستیاب نہیں تھا ۔ وہ جوڑا ان کے دل کو اتنا بھایاتھا کہ اس کا نہ ملنا کچھ اس طرح پھانس بن کر ان کے دل میں چبھا کہ سامنے رکھے پچاس ساٹھ ہزار کے جوڑے بھی ان کو کوئی خوشی نہیں دے پائے۔ یہ سب بھی اُنھوں نے اپنی پسند سے خریدے تھے اور ہر ایک کی قیمت پانچ سے دس ہزار کے درمیان تھی۔وہ ابھی تک اسی ایک کے غم میں مبتلا تھیں۔ حالاں کہ کل ان کے شوہر مظہر نے اس بات پر ان کی اچھی خاصی کلاس لی تھی۔
    ہوا یوں کہ مظہر صاحب دفتر سے آئے تو بیگم مہرین اُداس اور دل گرفتہ سی بیٹھی تھیں۔
    ’’ کیا ہوا؟‘‘ اُنہوں نے اپنا کوٹ ہینگر میں لٹکایا۔
    ’’ کچھ نہیں۔ آپ فریش ہو کر چینج کر لیں میں چائے لگواتی ہوں۔‘‘ وہ اُٹھ کر کچن کی جانب چلی آئیں جہاں ان کی ملازمہ چائے اور دیگر لوازمات کی تیاری میں مصروف تھی۔
    ’’ثریا ! دس منٹ تک چائے باہر لان میں لگادینا۔‘‘اُنہوں نے اپنے بالوں کو دونوں ہاتھوں سے سمیٹ کر بائیں کندھے پر ڈالا۔
    ’’ جی بیگم صاحبہ!‘‘ثریا مؤدبانہ لہجے میں بولی۔
    موسم بہت خوش گوار تھا ۔ اسی لیے اُنہوں نے چائے لان میں پینے کو ترجیح دی تھی ۔ڈیفنس میں چار کنال پر بنا ان کا یہ خوب صورت گھر دور سے لوگوں کی توجہ اپنی طرف کھینچتا تھا۔گیٹ سے اندر داخل ہوتے ہی یوں لگتا جیسے انسان کسی پرستان میں آگیا ہو۔گیٹ کے ساتھ دائیں جانب دور تک وسیع و عریض لان میں امپورٹڈ گھاس کا سبز فرش بچھا ہوا تھا جس پر رکھی ہوئی سفید لان ٹیبل اور چیئرز آنکھوں کو بہت بھلی لگتی تھیں۔ لان کے ایک طرف خوب صورت پھولوں کی باڑیں تھیں اور دوسری طرف لاتعداد گملے جن میں اُگے ہوئے رنگ بہ رنگے پھول اپنی بہار دکھا رہے تھے۔ سامنے وسیع و عریض کار پورچ تھا ۔ لائونج سے اُوپر جاتی سیڑھیاں کسی حسینہ کی بل کھاتی کمر کی طرح دکھتی تھیں۔لائونج سے لے کر کچن تک پورے گھر میں ہر چیز میں نفاست اور امارت کا عکس نظر آتا تھا۔

    ’’اب بتائیے بیگم صاحبہ!آپ کو کیا ٹینشن ہے؟‘‘ مظہر صاحب نے لان چیئر پر آرام دہ انداز میں بیٹھ کر چائے کا کپ پکڑ لیا۔
    مہرین بیگم منہ بسور کر خاموش رہیں۔ مظہر صاحب نے ان کی طرف غور سے دیکھا ۔ انہیں دیکھ کر کوئی نہیں کہہ سکتا تھا کہ ان کی بیٹیاں او لیول اور اے لیول کی اسٹوڈنٹس ہیں۔ وہ آج بھی اتنی ہی سمارٹ اور خوب صورت تھیں جتنی شادی کے وقت تھیں۔ بلکہ اب ان کی خوب صورتی میں مزید کشش اور ایک وقار سا پیدا ہو گیا تھا جو مظہر صاحب کو یک ٹک انہیں دیکھنے پر مجبور کر دیتا تھا۔
    ’’بتائیے نا!‘‘ مظہر صاحب سے ان کی اُداسی برداشت نہیں ہو پا رہی تھی۔
    ’’ مظہر ! مجھے میرا پسندیدہ جوڑا کہیں سے نہیں مل رہا۔‘‘ مہرین نے منہ بنا کر کہا۔
    ’’چھوڑو مہرین! کوئی دوسرا سوٹ لے لو۔ ‘‘ مظہر صاحب نے بے پروائی سے کہا۔
    ’’لیے ہیں پورے دس سوٹ، مگر وہ سوٹ نہیں ملا تو لگ رہا ہے میرے پاس پہننے کو کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے سرد آہ بھرتے ہوئے کہا۔
    بسا اوقات ان کے اس شوق سے مظہر صاحب چڑ جاتے تھے ۔ روپے پیسے کی کوئی کمی نہیں تھی اور نہ ہی مظہر صاحب نے کبھی ان کی شاپنگ وغیرہ کے حوالے سے ٹوکا تھا ۔ ان کو نت نئے لباس سلوانے کا شوق تھا ۔ وہ ان کا یہ شوق خوشی خوشی پورا کرتے مگر جب مہرین کسی برانڈ کے کسی خاص ڈیزائن کے پیچھے پاگلوں کی طرح پڑ جاتیں تو وہ چڑ جاتے۔ کوئی مشہور برانڈ ایسا نہیں تھا جس کے کپڑے ان کے پاس نہ ہوں مگر ان کا یہ شوق جیسے ان کا نشہ بننے لگا تھا ۔ اب بھی دس سوٹ خریدنے کے باوجود ان کی تسلی نہ ہو سکنے کے بارے میں سن کر مظہر صاحب کا سارا موڈ غارت ہو گیا ۔
    ’’چھوڑ وبھی مہرین ! کیا ہے؟‘‘ مظہر صاحب نے خود پر کنٹرول کر کے کہا۔
    ’’ کیسے چھوڑ دوں؟میری راتوں کی نیند اُڑی ہوئی ہے اور آپ… ویسے میں سوچ رہی ہوں کہ مجھے یہ سوٹ کہیں سے’’ بلیک‘‘ میں مل جائے بھلے سے قیمت ڈبل ہو ۔‘‘ مہرین نے مظہر کو دیکھا۔
    ’’مہرین پلیز! خود کو کنٹرول کرو۔ تمہارا یہ شوق تمہارا جنون بنتا جارہا ہے ۔ جب کوئی چیز انسان کا جنون بن جائے تو پھر وہ انسان کو اپنے بس میں کر کے اسے خیرو شر کی تمیز بھلا دیتا ہے۔ تم بھی کہیں اپنے اس جنون کے ہاتھوں کوئی نقصان نہ اُٹھا لینا۔‘‘ مظہر صاحب نے اپنے لہجے کو حتی الامکان پر سکون رکھنے کی کوشش کی تھی مگر پھر بھی اس سے ہلکی سی ناراضی جھلک گئی۔ مہرین کو ان کا انداز بُرا لگا ۔
    ’’ مظہر ! بس کیا کریں۔ کبھی کبھی آپ جاہل مردوں کی طرح باتیں کرنے لگتے ہیں جن سے اپنی بیوی کی خوشی برداشت نہیں ہوتی۔‘‘اُنھوں نے زور سے کپ میز پر پٹخا اور ٹک ٹک کرتی اندر چلی گئیں۔مظہر صاحب سر جھٹک کر چائے پینے لگے۔
    اگلے روز مہرین بیگم نے سارے کپڑے دو تین بڑے شاپنگ بیگز میں ڈال کر پکڑے اور اپنے کمرے سے باہر نکل آئیں۔
    ’’ ثریا! میں ذرا ٹیلر تک جارہی ہوں ۔ صاحب آئیں تو انہیں چائے سرو کر دینا۔‘‘ وہ جلدی جلدی ہدایات دے کر پلٹ گئیں۔
    ماسٹر صاحب! یہ دس سوٹ ہیں ۔ ناپ وغیرہ بالکل ٹھیک رکھیے گا ۔ ہر سوٹ کے ساتھ ڈیزائن والا پوسٹر ہے اسی کے مطابق بنائیے گا۔‘‘ مہرین بیگم نے کپڑوں والے بیگز کائونٹر پر رکھ کر ٹیلر کو ہدایات دیں۔
    ’’ٹھیک ہے میڈم۔‘‘ ٹیلر نے کپڑے اُٹھا کر ریک میں رکھے۔
    ’’ اچھا اللہ حافظ۔‘‘مہرین دکان کے خارجی دروازے کی طرف بڑھ گئیں۔ٹیلر نے کسی دوسری گاہک کے کپڑے کٹنگ کے لیے نکال کر کٹنگ کائونٹر پر رکھے۔ کچھ یاد آنے پرمہرین بیگم دکان کے دروازے سے واپس پلٹیں ۔
    ’’ماسٹر صاحب! وہ بلیو والا سوٹ…‘‘ کائونٹر کے قریب آکر اُنہوں نے ٹیلر کو مخاطب کیا مگر ان کی آدھی بات منہ میں ہی رہ گئی۔ ٹیلر ہاتھ میں وہی ڈیزائنر سوٹ پکڑے کھڑا تھا جس کی تلاش میں وہ بھٹک رہی تھیں۔
    ’’ یہ کس کا سوٹ ہے؟‘‘ اُنھوں نے سوٹ کی طرف اشارہ کیا۔وہ بہت عرصے سے یہاں سے کپڑے سلوا رہی تھیں۔ مالک سے لے کر دکان کا گارڈ تک اسے اچھی طرح جانتے تھے اور بہت عزت سے پیش آتے تھے۔
    ’’ پچھلے ہفتے ایک خاتون دے کر گئی ہے۔پہلی دفعہ آئی ہے ۔ ابھی یہی سوٹ دیا ہے کہ پہلے ٹرائی کرے گی پھر اور کپڑے سلنے دے گی۔‘‘ ٹیلر نے تفصیل سے جواب دیا۔ مہرین بیگم کا ذہن تیزی سے کام کرنے لگا ۔ انہیں اپنی منزل بہت قریب نظر آرہی تھی۔
    ’’ماسٹر صاحب ! آپ میرا ایک کام کریں گے ؟‘‘ مہرین نے ٹیلر سے خوشامدانہ انداز میں کہا۔
    ’’ بتائیے میڈم۔‘‘
    ’’آپ …آپ یہ سوٹ میرے ناپ پر سی دیں۔‘‘مہرین کی بات پر ٹیلر نے انھیں یوں دیکھا جیسے ان کا دماغ چل گیا ہو۔
    ’’ کیا مطلب؟‘‘
    ’’مجھے یہ سوٹ بہت پسند ہے ۔ ہر جگہ ڈھونڈا مگر کہیں نہیں ملا۔‘‘ وہ لجاجت سے بولیں۔
    ’’مگر میں ان بی بی کو کیا جواب دوں گا؟‘‘وہ ہچکچایا۔
    ’’ دیکھو کپڑے خراب بھی تو ہو جاتے ہیں نا…تم انہیں کہہ دینا کہ غلطی سے کسی اور کے ناپ پر سل گئے ۔‘‘ اُنھوں نے راہ دکھائی۔
    ’’ مگر میں ان کا نقصان کیسے پورا کروں گا ؟ میں اس دکان پر دہاڑی پر کام کرتا ہوں ۔ میں اس قیمتی سوٹ کی قیمت کہاں سے بھروں گا؟‘‘ ٹیلر نے انھیں ڈھکے چھپے انداز میں انکار کیا۔
    ’’ آپ گھبرائیے نہیں ماسٹر صاحب! اس سوٹ کی قیمت سات ہزار روپے ہے ۔ یہ لیجیے اس کی قیمت جو آپ اُس خاتون کو واپس کریں گے اور یہ پانچ ہزار روپے آپ اپنی محنت کے رکھ لیں۔‘‘ مہرین بیگم نے بیگ کھول کر بارہ ہزار روپے کائونٹر پر رکھ دیے۔ٹیلر نے چور نگاہوں سے اِدھر اُدھر دیکھا، کوئی بھی ان دونوں کی طرف متوجہ نہیں تھا۔اُس نے وہ روپے اٹھا کر گویا مہرین بیگم کا کام کرنے کی حامی بھر لی۔مہرین کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔
    ’’شکریہ ماسٹر صاحب!‘‘
    ’’وہ تو ٹھیک ہے میڈم! مگر آپ ایک سوٹ کے لیے اتنے پیسے…‘‘ وہ آدھی بات کہہ کر خاموش ہو گیا۔
    ’’آپ آم کھائیں ماسٹر صاحب ! پیڑ نہ گنیں۔ آپ نے سنا نہیں کہ شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا۔‘‘مہرین کا لہجہ بہت ہی خوش گوار ہو گیا تھاجیسے سوٹ کی صورت میں ہفت ِ اقلیم کی دولت ان کے ہاتھ لگ گئی ہو۔ٹیلر سر جھٹک کر اپنے کام میں مصروف ہو گیا اور مہرین بیگم مطمئن سی دکان سے باہر نکل گئیں۔
    ٭…٭…٭

  • جنریٹر — یاسر شاہ

    جنریٹر — یاسر شاہ

    وہ کوئی عام ایجاد نہیں تھی۔
    منٹوں میں جہنم کو جنت میں تبدیل کرنے والا ایک جادوئی آلہ تھا۔
    ایک ہی بٹن دبانے سے انسان دوزخ کی آگ سے نجات پا کر ساتویں آسمان کے پرسکون بادلوں میں پہنچ جاتا تھا۔
    کیسی ٹھنڈی ہوا تھی۔۔۔۔
    ایسی ہوا جو گرمی سے چکرائے سر کو فوراََ آرام پہنچا دے۔ ایسی ہوا جو بدن کو چھوتے ہی سارے دن کی تھکن کو غائب کر دیتی تھی۔ محنت اور مشقت میں بہایا ہوا پسینہ جو جسم پر بدبودار کیچڑ بن کر چپک جاتا تھا وہ ایسے خشک ہوتا، کہ چِپ چِپ کرتے کپڑے تو دور کی بات ،پورا بدن روئی کی طرح ملائم محسوس ہونے لگتا۔
    یہ ہوا نہیں یہ تو ایک نعمت تھی۔ جس کو میسر ہوجائے اس کو جینے کا مزہ آجائے۔
    بس ایسی ہی ٹھنڈی ہوا میں چند گھنٹوں کے لئے آرام کرنا چاہتا تھا۔ اس ہی ٹھنڈی ہوا میں کچھ دیرسونے کی خواہش تھی۔
    مجھے اپنے کیے پر نہ کوئی رنج ہے اور نہ ہی کوئی ندامت ۔۔
    بس اب جائو۔۔مجھے کچھ اور گھنٹوں کے لئے اس نرم بستر پر اور ٹھنڈی ہوا میں کچھ دیر اور سونے دو۔
    بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی۔
    ٭٭٭٭

    میرے اندازے کے مطابق مجھے کوئی ڈیڑھ بجے نیند آئی ہوگی۔
    یہ میں یقین سے اس لئے کہہ سکتا ہوں کیوںکہ پتا نہیں کس منحوس کی بد دعا لگی جو رات ایک یا ڈیڑھ بجے سے پہلے نیند آتی ہی نہیں۔ آنکھوں میں نیند بھری ہوتی اور بدن بھی تھکن سے ٹوٹتا مگر نہ جانے کیوں؟۔۔جیسے ہی ــ’’کوارٹر‘‘ میں آکر چارپائی پر لیٹا ہوں، یہ کم بخت نیند فوراََ بھاگ جاتی ہے۔
    پوری رات کروٹیں بدل بدل کر خدا سے دعا کرتا رہتا ہوںکہ نیند آجائے۔ تھوڑی دیر کے لئے ہی آنکھ لگ جائے۔ کچھ نہیں تو ایک دو گھنٹے کی نیند ہی میسر ہوجائے بس اس کے بعد تو آگے تھکاوٹ ہی تھکاوٹ۔ صبح سویرے ، دن چڑھتے ہی اس تنور یعنی اپنے کوارٹر سے نکل کرصاحب جی اور بیگم صاحب کا ناشتہ بنانا ہوتا ہے اور یوں گرمی سے جلتے جسم اور نیند سے بھری آنکھوں کے ساتھ میں ایک اور دن گزارنے پر مجبور ہوجاتا ہوں۔
    ہمیشہ کی طرح آج رات بھی ٹھیک دو بجے مجھے بدتمیزی سے جگایا گیا۔’’انٹر کام‘‘ کی وہ منحوس ’’بیل‘‘ کانوں میں ایسے گونج رہی تھی جیسے کوئی صور پھونکا جا رہا ہو۔ اپنا سر کھجاتے اُٹھا تو فوراََ اندازہ ہوگیا کہ یہ جو آدھے گھنٹے کی نیند ملی غنیمت ہے۔ آگے کی رات اب بہت اذیت سے گزرے گی۔
    پسینہ پونچھتے ہوئے میں نے انٹرکام اُٹھایا اور فرماںبرداری سے کہا: ’’جی صاحب جی‘‘
    آگے سے وہ چلائے۔ ’’صاحب جی کا چاچا ۔۔کیا گھوڑے بیچ کر سوتے ہو تم جو تمہیں احساس نہیں کہ پچھلے بیس منٹ سے بتی گئی ہوئی ہے۔ گرمی سے براحال ہو رہا ہے ہمارا۔ جنریٹر خود آن ہوگا کیا؟‘‘
    ’’معاف کیجئے گا صاحب جی ۔۔۔پتا ہی نہیں چلا۔۔‘‘
    ’’ہاں پتا ہی نہیں چلا۔۔ہم جب پسینوں میں بھیگ بھیگ کر بیمار ہوجائیں گے تب احساس ہو گا تمہیں۔۔کیا ہم انسان نہیں۔۔ ؟ یا ہم گرمی میں پڑے پڑے مر جائیں؟ جائو فوراََ جا کر ’’جنریٹر‘‘ چلائو تاکہ ہمارا اے سی چل سکے۔ تم جانتے ہو صبح میری لاہور کی فلائٹ ہے۔ اگر میری نیند پوری نہیں ہوئی تو تمہارا وہ حشر کروں گا تم یاد رکھو گے۔‘‘
    میں نے اپنے صاحب جی سے مزید معافیاں مانگیں اور پھر اپنی ٹوٹی چپلوں میں پائوں ڈال کر ’’جنریٹر‘‘ چلانے گیا۔ صاحب کی ڈانٹ ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہی تھی۔ غصے کے ساتھ اپنی قسمت پر ہنسی بھی آرہی تھی۔ صاحب فرمارہے ہیں ’’ہم انسان نہیں‘‘۔۔؟ پھر کہتے ہیں ’’میرا وہ حشر کریں گے کہ میں یاد رکھوںگا۔‘‘ اگر وہ انسان نہیںتو میں کیا۔۔؟ وہ تو پھر اے سی کی ٹھنڈی ہوا میں آرام سے سوتے ہیں۔ بیس منٹ میں کون سا ان کا کمرہ اُبلنے لگا ہو گا، جو ان سے برداشت نہیں ہو رہا۔ اور میں۔۔؟ ایک ٹوٹے ہوئے ’’پیڈسٹل فین‘‘ کا رخ اپنی طرف کر کے پوری رات خاموشی سے گزار دیتا ہوں اور آج تک اپنی انسانیت پر کبھی شک نہیں کیا۔ آئے بڑے میرا برا حشر کرنے والے! اس گرمی میں تو رات مجھے گزارنی پڑتی ہے۔ اس سے زیادہ اور برا حشر کیا ہوسکتا ہے؟
    ویسے یہ جنریٹر چلانا بھی بہت مشکل کام ہے۔ اس کو چلانے کے لئے بڑی جان چاہئے اور کوئی دو تین بار کشتی لڑوں تب جا کر یہ ’’جنریٹر‘‘ چلنے کا نام لیتا ہے۔ جب ایک بار ’’آن‘‘ ہو کر گرجتا ہے تو اس بات سے ہی خوشی ملتی ہے کہ اب صاحب جی اور بیگم صاحبہ چین سے سو سکیں گے۔
    میں نے چہرہ اوپر کیا اور اے سی کی طرف دیکھا۔ واہ بھئی واہ۔۔جنریٹر بھی کتنی انوکھی ایجاد ہے، جو صرف امیروں کے لئے ہی بنائی گئی ہے۔ ہم جیسے غریب اسے باہر سے چلا ضرور سکتے ہیں مگر کمرے میں جا کر اس کی بدولت چلنے والے اے سی کی ٹھنڈی ہوا سے ہمیشہ محروم ہی رہ جاتے ہیں۔کبھی کبھار کھانا یا چائے پیش کرتے ہوئے یہ احساس ہوتا ہے کہ کبھی خدا نے وفات کے بعد جنت کی کھڑکیاں ہمارے لئے بھی اگر کھولیں تو ضرور جنت میں بھی ہر جگہ ــ’’جنریٹر‘‘ اور اُن کی بدولت ’’اے سی‘‘ ہی لگے ہوں گے۔ جہاں چکراتے دماغ اور جلتے ہوئے جسم کو ہمیشہ ٹھنڈی ہوا کا سکون مل سکے گا۔
    اوپر دیوارپر لگے اے سی سے دو چار پانی کے قطرے ٹپک کر میرے ہاتھ پر گرے۔ میں نے وہی قطرے اپنے منہ پر مل لئے۔ اس اے سی سے ٹپکتا ہوا پانی بھی کتنا مزے دا ر ہوتا ہے۔ چلو اگر اندر کی ٹھنڈی ہوا نہیں تو ان دو چار قطروں سے ہی سکون حاصل کرتے ہیں۔کچھ قطرے منہ پر ملے اور کچھ تو پی بھی لئے۔ واپس آکر میں نے اپنا معذور سا پنکھا چلایا اور دوبارہ آنکھ لگانے کی کوشش کی۔
    ٭٭٭٭
    ڈھائی بجے کمبخت انٹر کام پھر بجنا شروع ہوا۔ اس بار صاحب کے لئے ایک موٹی سی گالی نکلی۔
    ’’ارے خبیث آدمی کیا کھا کر سوئے ہو جو تمہیں کسی چیز کا ہوش نہیں ‘‘صاحب جی پھر ’’انٹر کام‘‘ پر غرائے۔
    آنکھیں ملتے ہوئے میں نے پہلے تو معافی مانگی پھر پوچھا ’’کیا ہوا صاحب جی۔۔؟؟‘‘
    ’’اوپر سے پوچھ رہے ہو کیا ہوا؟ ہوش نہیں تمہیں۔۔؟ پچھلے دس منٹ سے جنریٹر ٹرپ ہو چکا ہے اور اے سی بند ہے۔ جا کر دیکھو۔‘‘
    ’’جی میں ابھی دیکھتا ہوں۔۔‘‘
    ’’پٹرول کتنا ہے اُس میں ۔۔؟؟کم تو نہیں ہوگیا۔؟ کتنی مرتبہ کہا ہے کہ ہر رات جنریٹر کا پٹرول دیکھ کر سویا کرو‘‘۔
    ’’صاحب جی میں نے دیکھا تھا۔ پٹرول ختم نہیں ہوا ہوگا۔‘‘
    ’’تو پھر لوڈپڑ رہا ہوگا۔ تم نے تو اپنا پنکھا تو نہیں چلایا ہوا؟‘‘
    میں نے فوراََ جھوٹ بولا ’’نہیں سر ۔۔میں نے نہیں چلایا‘‘
    ’’بکواس کرتے ہو۔سب جانتا ہوں تم لوگوںکی چالاکیاں۔۔یہ جنریٹر ہم نے اس لئے لگوایا ہے کہ رات کو صر ف ایک کمرے کا اے سی چل سکے۔ تمہیں اگر زیادہ گرمی لگتی ہے تو باہر صحن میں جا کر سو جایا کرو۔ کسی اور کمرے کی لائٹ نہیں جلنی چاہئے ورنہ ’جنریٹر‘ پر لوڈ پڑے گا۔ اب جائو فوراََ دیکھو کیا ہوا ہے؟‘‘
    ’’جی سر۔۔‘‘
    پھر میں نے وہی کیا جس کا حکم مجھے دیا گیا۔ آنکھیں ملتے ہوئے نیند کی مد ہوشی میں جا کر ’’جنریٹر‘ ‘سے دوبارہ کشتی کی۔ جب وہ چل پڑا تو اس بار اپنا پنکھا چلائے بغیر گرمی اور پسینے میں ہی چارپائی پر لیٹ کر آنکھیں بند کر لیں۔
    ٭٭٭٭
    خدا کی شان میں گستاخی کبھی نہیں کرنی چاہئے مگر یا اللہ! یہ مچھر بھی کیا شے ہے؟ ایسی تخلیق کا مقصد ہی کیا جو آدمی کو صرف نقصان ہی پہنچاتی ہے۔ ملیریا اور ڈینگی جیسی بیماریوں کے علاوہ مچھروں نے اس دنیا کو دیا بھی کیا ہے؟ان کے وجود کا تو صرف ایک ہی مقصد ہے۔۔غریبوں کی راتیں کالی کرنا۔
    پنکھے کے بغیر یہ مچھر انسان کو ایسے کھا تے ہیں جیسے کہ کوئی پرانا دشمن حملہ کر رہا ہو۔ جگہ جگہ کاٹ کاٹ کر اس نے جسم چھلنی کر دیا ۔ باقی جو کسر بچی تھی میں نے خود کو کھجا کھجا زخمی کر لیا۔
    اگر مشکل سے کھجلی کو بھول کر ایک دو منٹ کے لئے آنکھ لگ بھی جائے تو پھر یہی مچھر کان میں بھنبھنا نا شروع ہوجاتے ہیں۔ اگر مارنے کی کوشش کروتو اپنا تھپڑ خود ہی اپنے منہ ہی پر پڑتا ہے۔ ’’واہ بھئی واہ!‘‘ ہم بے قصور اپنے آپ کو ہی مار رہے ہیں۔
    سمجھ نہیں آتاکہ اپنی بدقسمتی پر قہقہے لگائوں یا آنسو بہائوں۔۔
    ان مچھروں سے تنگ آکر میں تین بجے باہر صحن میں جاکر لیٹ گیا۔ اگر مچھروں نے کاٹنا ہی ہے تو اس گرم کمرے میں رہنے کا کیا فائدہ۔ باہرصحن میں ہی جا کر اپنے ہتھیار ڈال دوں۔ کم از کم کوئی بھولی بھٹکی ہوا کا جھونکا تو مل جائے شاید۔
    ٭٭٭٭

  • دو مسافر —- احمد سعدی (مترجم:شوکت عثمان)

    دو مسافر —- احمد سعدی (مترجم:شوکت عثمان)

    گرمی کی دوپہر ڈھلنے لگی تھی اور ارہر کے کھیت میں پڑتے ہوئے سائے آہستہ آہستہ لمبے ہوتے جا رہے تھے۔ اسی ڈھلتی دوپہر میں کشٹیا ضلع بورڈ کی سڑک پر ایک مسافر کہیں جا رہا تھا۔ اس نے گیروے رنگ کا تہ بند اور صدری پہن رکھی تھی۔ لمبوترے چہرے پر گھنی سفید ڈاڑھی اور ہاتھ میں اک تارا تھا۔ وہ بہت تھکا ہوا لگ رہا تھا، اس کی نگاہیں راستے پر نہیںبلکہ دور کہیں کھوئی ہوئی تھیں۔ گرمی کی تیز دھوپ میں ہر چیز جھلس کر رہ گئی تھی۔ اس جھلسے ہوئے رنگ کا حسن بیراگی کے دل کے رنگ سے مشابہ تھا شاید اسی لیے وہ اسے دیکھتا ہوا راستہ طے کر رہا تھا۔ گاہ بہ گاہ ان جانے میں اس کی انگلی اک تارے کی تار سے ٹکرا جاتی اور اس کی ٹنگ ٹنگ کی آواز دھوپ سے تپتی فضا میں ہلکی سی چیخ سن کر گونج اٹھتی مگر یہ گویا اس کی لاعلمی میں ہورہا تھا کیوں کہ مسافر کا دل تو اس وقت اک تارے کی موسیقی سے کہیں دور بھٹک رہا تھا، کسی دوسری دنیا کی سیر کررہا تھا۔ راستے میں سایہ دار درخت بھی تھے لیکن وہ ان درختوں کے سائے میں رکے بغیر چلا جا رہا تھا۔ وہاں سے تقریباً تین میل کی دوری پر ایک گاؤں تھا شاید وہی اُس کی منزل تھی۔
    پہلے مسافر کے پیچھے پیچھے ایک اور مسافر بھی اسی راستے پر چل رہا تھا۔ اس کے قدم تیز تیز اٹھ رہے تھے۔ لگتا تھا، وہ آگے جاتے مسافر کے قریب پہنچنا چاہتا ہے۔ پہلے مسافر کو آواز دے کر روکا جا سکتا تھا، مگر دوسرا مسافر شاید آواز دینا نہیں چاہتا تھا۔ دوسرے مسافر کا چہرہ روکھا سوکھا سا تھا اور اس کی مونچھ اور اس کے دونوں بازوؤں کے بال سیاہ تھے۔ چہرہ چوڑا اور آنکھیں گول تھیں۔ اسے دیکھنے سے ایسا لگتا تھا جیسے وہ حکم دینے کا عادی رہا ہو، حکم کی تعمیل کا نہیں۔ راستے کی تکان دور کرنے کے لیے ہم سفر سے زیادہ بہتر کوئی چیز نہیں ہوتی شاید اسی لیے وہ تیز تیز قدم اٹھا رہا تھا۔ تیز چلنے کی وجہ سے اس کے چہرے پر تھکن کے آثار ابھر آئے تھے پھر بھی اس کی رفتار میں کمی نہیں آئی، وہ تیز تیز چلتا رہا۔ ذرا قریب پہنچ کر دوسرے مسافر نے پہلے کو آواز دی:
    ’’بھائی صاحب!‘‘

    پہلے نے پیچھے مڑ کر دیکھا۔ دوسرے مسافر کو دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر استقبالیہ مسکراہٹ پھیل گئی:
    ’’کیا آپ نے مجھے آواز دی ہے؟‘‘
    ’’جی ہاں۔‘‘
    دوسرے مسافر نے جواب دیا۔
    ’’السلام علیکم۔‘‘
    ’’وعلیکم السلام۔‘‘
    پہلے مسافر نے جواب دیا۔
    ’’آپ کہاں جا رہے ہیں؟‘‘
    دوسرے مسافر نے پوچھا۔
    ’’وہ جو سامنے آبادی نظر آرہی ہے، وہیں جانا ہے مجھے۔‘‘
    ’’یہ تو بہت اچھی بات ہے۔‘‘
    دوسرے مسافر نے کہا۔
    ’’میں بھی وہی جا رہا ہوں۔‘‘
    ’’چلیے پھر ساتھ ساتھ چلتے ہیں۔‘‘
    پہلے مسافر نے خوشی کا اظہار کیا۔
    راہ میں ہم سفر مل جائے تو راستے کی طوالت کا خوف دل سے نکل جاتا ہے شاید یہی وجہ تھی کہ وہ دونوں دھیرے دھیرے قدم اٹھانے لگے۔ دونوں ساتھ ساتھ چل رہے تھے، مگر ڈاڑھی والے مسافر کی نگاہیں دور خلا میں کچھ ڈھونڈ رہی تھیں۔ مونچھوں والے مسافر کی نگاہیں بار بار اپنے ہم سفر کی طرف اٹھ رہی تھیں۔ گرمی کے دنوں میں دورافق پر بہت تیز روشنی دکھائی دیتی ہے۔ افق کا یہ حال ہمیشہ نظر نہیں آتا۔ دوسرا مسافر بار بار اپنے ہم سفر کی طرف دیکھ کر اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا کہ اس کی نگاہوں کی جستجو کیا ہے اور وہ دور افق پر نظر جمائے کیا دیکھ رہا ہے۔ دوسرے مسافر نے کئی بار دور افق کی طرف دیکھا، پھر پہلے مسافر کی نگاہوں کے تعاقب میں اپنی نظریں پھیر لیں۔
    پہلا مسافر خاموشی سے آہستہ آہستہ قدم بڑھا رہا تھا۔
    دوسرے مسافر کو اس کی خاموشی اچھی نہیں لگی۔ آپس میں باتیں ہی نہ ہوں تو ہم سفری کیسی؟ اس نے خاموشی توڑنے کے لیے بلند آواز میں پہلے مسافر سے پوچھا:
    ’’بھائی صاحب! آپ گانا گاتے ہیں کیا؟‘‘
    پہلا مسافر محویت سے چونک اٹھا: ’’آپ نے مجھ سے کچھ کہا بھائی صاحب؟‘‘
    ’’جی ہاں۔‘‘
    دوسرے مسافر نے جواب دیا۔
    پہلا مسافر دوسرے مسافر سے مخاطب ہو کر بولا: ’’کہیے؟‘‘
    ’’آپ گانا گاتے ہیں کیا؟‘‘
    اس نے دوبارہ پوچھا۔
    ’’جی ہاں۔ گانا گاتا ہوں۔‘‘
    ’’تو پھر کوئی گانا سنائیے نا؟‘‘
    دوسرا مسافر بولا۔
    ’’اگر آپ کو زحمت نہ ہو۔‘‘
    ’’زحمت کی کیا بات ہے؟‘‘
    پہلے مسافر نے کہا۔
    ’’سننا چاہتے ہیں تو سنیے۔‘‘
    گیروے لباس والے نے اک تارا سنبھال لیا اور گانے لگا۔
    میں نے دل کے دریا میں ایک عجیب تماشا دیکھا۔
    جسم کے اندر ایک گھر ہے۔
    اس گھر میں چور گھس آیا ہے۔
    چھے آدمیوں نے مل کر نقب لگائی ہے۔
    جسم کے اندر ایک باغ ہے۔
    اس میں مختلف اقسام کے پھول کھلے ہیں۔
    پھولوں کی خوشبو سے ساری خلقت دیوانی ہو گئی ہے۔
    لیکن لالن کا دل دیوانہ نہیں ہوا۔
    نغمے اور موسیقی کے آب شار سے سنسنان میدان نے ہونٹوں میں پانی بھر کر اپنی پیاس بجھالی۔ دھوپ کی حدت پرے ہٹ گئی اور سروں کے اندر ساری دنیا ملفوف ہو گئی۔ گانا کب ختم ہوا، محسوس ہی نہیں ہوا۔
    دوسرے مسافر نے اس سکوت میں اپنی آواز کا پتھر پھینکا۔
    ’’واہ واہ، آپ تو بہت اچھا گاتے ہیں۔‘‘
    ’’جی!‘‘
    پہلے مسافر نے مختصر جواب دیا۔
    ’’آپ کا نغمہ بھی خوب تھا۔‘‘
    دوسرے نے تعریفی انداز میں کہا۔
    ’’جی! بس یہی کچھ مجھے آتا ہے۔‘‘
    ’’نہیں، نہیں۔ سچ مچ آپ کی آواز میں بلاکالوچ اور درد ہے۔‘‘
    دوسرا مسافر بولا۔ ’’میں نے ایسا نغمہ پہلے کبھی نہیں سنا!‘‘
    ’’کبھی نہیں سنا؟‘‘
    پہلے مسافر نے حیرت سے پوچھا۔
    ’’جی نہیں۔‘‘ دوسرے مسافر نے جواب دیا۔
    ’’بہت خوب۔‘‘ پہلا مسافر مسکرایا۔
    دونوں کے درمیان مزید گفتگو نہیں ہوئی۔ وہ دونوں پھر تیزقدم بڑھانے لگے تاکہ جلد از جلد منزل پر پہنچ سکیں۔
    میدانی علاقہ ختم ہو گیا اور دونوں آبادی کے قریب پہنچ گئے۔ چاروں طرف درختوں کی قطاریں تھیں اور درختوں کے درمیان مکانات کھڑے تھے۔ پختہ عمارتیں اور ٹین کے گھر دکھائی دے رہے تھے۔ کچھ لوگ گھروں سے نکل کر اپنے اپنے کام پر جا رہے تھے۔ یہ دونوں آگے بڑھتے گئے مگر کسی نے ان دونوں کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھا۔
    ’’چلو، اتنی دیر بعد کچھ آدمی تو نظر آئے۔‘‘
    پہلا مسافر بڑبڑایا۔
    دونوں ایک دوراہے پر جا کر رک گئے۔ راستے کے دونوں طرف دور تک زمین خالی تھی۔ اس کے بعد متمول لوگوں کے مکانات اور تالاب تھے۔ ایک جگہ ایک ساتھ کئی عمارتیں تھیں اور پھلوں سے لدے ہوئے درختوں کا ایک بڑا سا باغ تھا۔
    اس طرف نگاہ پڑتے ہی دوسرے مسافر نے اپنے بیراگی ہم سفر کا ہاتھ پکڑ کر اپنی طرف کھینچتے ہوئے کہا:
    ’’جلدی ادھر آئیے، وہ دیکھیے، وہ میرا گھر دکھائی دے رہا ہے، وہ میرا باغ ہے اور اس کے چاروں طرف جتنی زمینیں پھیلی ہوئی ہیں، وہ سب میری کاشت کی زمینیں ہیں۔ اس طرف آئیے۔ وہ جو ناریل کے پیڑوں کی لمبی قطار دکھائی دے رہی ہے نا، آپ ان پیڑوں کے ایک ناریل کا پانی پی لیں تو سات دن تک پیاس بجھ جائے۔‘‘
    پہلے مسافر کو کوئی جواب دینے کا موقع نہیں ملا۔ اس کا ہاتھ دوسرے مسافر کی مٹھی میں تھا اور وہ اسے کھینچتے ہوئے اپنے ساتھ لے جا رہا تھا۔ دونوں ایک پختہ کنارے والے تالاب کے پاس جا کر رک گئے۔ تالاب کنارے ناریل کے سینکڑوں پیڑ تھے۔
    دوسرے مسافر نے کہا:
    ’’آپ اس پیڑ کے سائے میں بیٹھ جائیے۔ میں ناریل توڑنے کا انتظام کرتا ہوں۔ یہ سب کچھ میرا ہے۔
    یہ تالاب، یہ باغ باغیچہ، یہ پختہ عمارت اور وہ جو حد نظر تک پھیلی ہوئی کاشت کی زمینیں ہیں، وہ سب میری ہیں اور یہ گاؤں بھی میری ہی زمین پر آباد ہے اور وہ جو…‘‘
    دوسرے مسافر کی بات ختم ہونے سے پہلے ہی بڑی بڑی مونچھوں والا ایک فربہ اندام شخص آکر ان دونوں کے درمیان کھڑا ہو گیا۔ وہ تالاب کنارے دو موٹے موٹے پیڑوں کے پیچھے کھڑا دوسرے مسافر کی باتیں سن رہا تھا۔ اس نے ان دونوں کو سر سے پاؤں تک گھور کر دیکھا پھر دوسرے مسافر کو مخاطب کرتے ہوئے بولا:
    ’’آپ کیا کہہ رہے تھے؟‘‘
    ’’میں کہہ رہا تھا کہ یہ باغ، یہ تالاب، یہ عمارت سبھی کچھ میرا ہے۔‘‘
    دوسرے مسافر نے جواب دیا۔
    ’’آپ کا اسم شریف؟‘‘
    اس آدمی نے پوچھا۔
    ’’سبحان جواردار۔‘‘

  • ڈھال — نازیہ خان

    ڈھال — نازیہ خان

    ثنا بڑی بے چینی سے اپنے شوہر واصف کا انتظار کرتے ہوئے کمرے میں چکر لگا رہی تھی۔ بالآخر اُس نے گاڑی کے ہارن کی آواز سُنی اور کھڑکی کی طرف بھاگی۔
    ’’شکر ہے۔‘‘ وہ بے دھڑک بولی۔
    واصف گھر داخل ہوتے ہی اپنے کمرے کی طرف مُڑا۔
    ’’کیا ہوا واصف؟‘‘ باپ نے بیٹے کی بے چینی دیکھتے پوچھا۔
    ’’آآآ…کچھ نہیں پاپا… بس وہ ایک فائل رہ گئی تھی۔‘‘ اُس نے جھوٹ بولتے ہوئے بات سنبھالی۔
    ’’آرام سے بیٹا… تمہارے کمرے میں ہوگی۔‘‘ماں نے بھی چائے کا کپ رکھتے ہوئے دلاسا دیا۔
    وہ بھاگتے ہوئے سیڑھیاں چڑھ کر اپنے کمرے میں پہنچا۔
    ’’کیا ہوگیا ہے ثنا؟ ایسی کون سی قیامت آگئی ہے کہ تم کالز پر کالز کرتی جارہی تھی۔‘‘ اُس نے غصے سے سرگوشی کی۔
    ’’واصف آپ کو اندازہ بھی ہے، اس گھر میں کیا ہو رہا ہے؟‘‘ وہ گھورتے ہوئے بولی۔
    ’’ارے ہوا کیا ہے؟ تم سیدھی طرح کیوں نہیں بتاتی؟‘‘
    ’’ماما پاپا شاہ میر کی بات مان کر اس کی شادی اُس دو ٹکے کی لڑکی ماہرہ کے ساتھ کروانے پر راضی ہوگئے ہیں۔‘‘ وہ غصے سے چلّائی۔
    ’’کیا؟ لیکن مجھ سے تو انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کی۔‘‘ وہ حیرانگی سے بولا۔
    ’’میں آپ کو بتا رہی ہوں واصف، آپ کے بھائی شاہ میر کی شادی صرف میری بہن ماہ نور سے ہوگی ورنہ…‘‘
    ’’ورنہ کیا؟‘‘ واصف نے اُس کی بات کاٹی۔
    ’’واصف آپ سمجھ نہیں رہے، اگر شاہ میر کی شادی ماہ نور سے ہوگی، تو آپ ساری زندگی اس کاروبار کے اکیلے مالک بن کر زندگی گزاریں گے، لیکن اگر کوئی باہر کی لڑکی گھر آگئی تو یہ راج دو دنوں میں ختم ہو سکتا ہے۔‘‘
    ’’لیکن ہم شاہ میر کے ساتھ زبردستی بھی تو نہیں کرسکتے۔‘‘واصف نے کہا۔

    ’’وہ ماما اور پاپا کا بہت پیارا ہے۔ اگر وہ لوگ نہیں مانیں گے، تو وہ ماہرہ سے کسی صورت شادی نہیں کرے گا۔‘‘ اُس نے واصف کے کان بھرے۔
    ’’تو تم کیا چاہتی ہو؟‘‘ اُس نے حیرانگی سے پوچھا۔
    ’’میں چاہتی ہوں کہ آپ ماما اور پاپا کو کسی بھی طرح اس رشتے کے حق میں نہ جانے دیں۔ اُس کا گھرانہ غریب ہے، تو آپ سٹیٹس کو اپنا ہتھیار بنا سکتے ہیں۔‘‘ اُس نے آہستہ سے مشورہ دیا۔
    ’’میں بات کرتا ہوں ماما سے۔‘‘ وہ تیزی سے مُڑا۔
    ٭…٭…٭
    اُس نے بڑے ادب سے چائے پیتے ہوئے ماں باپ کو جوائن کیا۔
    ’’تمہاری فائل مل گئی بیٹا؟‘‘ ماں نے سوال کیا۔
    ’’جی ماں، وہ کمرے میں ہی تھی۔‘‘
    ’’شکر ہے۔‘‘ ماں نے تسلی سے جواب دیا اور بیٹے کو دیکھ کر مُسکرائی۔
    ’’سنو واصف… شاہ میر شادی کرنا چاہتا ہے۔‘‘ ماں نے آہستہ سے بات شروع کی۔
    ’’یہ تو اچھی بات ہے۔ دیر کس بات کی ہے کردیں اُس کی شادی۔‘‘ ماں نے واصف کی بات سُن کر اچانک اُس کے پاپا کی طرف دیکھا۔
    ’’مگر بیٹا وہ اپنی کلاس فیلو سے شادی کرنا چاہتا ہے۔‘‘
    ’’ہاں تو ٹھیک ہے اگر ان لوگوں کا سٹیٹس ہمارے ساتھ میچ کرتا ہے، تو کردیں وہاں شادی۔‘‘ اُس نے تسلی سے جواب دیا۔
    ’’یہی تو مسئلہ ہے واصف… وہ لڑکی ایک غریب پرائمری اسکول ٹیچر کی بیٹی ہے۔‘‘ باپ نے غصے کا اظہار کیا۔
    ’’کیا؟‘‘ واصف نے حیرانگی اور غصے سے چائے کا کپ میز پر رکھا۔
    ’’شاہ میر پاگل ہوچکا ہے؟ ہم بھلا شاہ میر کی شادی وہاں کیسے کرسکتے ہیں؟‘‘ اُس نے ماں کو گھورتے ہوئے کہا۔
    ’’مگر بیٹا وہ ضد کررہا ہے کہ وہ صرف اُسی سے شادی کرے گا۔‘‘
    ’’ماں پلیز… آپ اُسے سمجھائیں، شاہ میر کا اور اُس لڑکی کا کوئی جوڑ نہیں۔‘‘ وہ غصے سے کھڑا ہوگیا۔
    ’’میں کیا کروں؟ اُس کی مانوں یا تم لوگوں کی؟‘‘ ماں نے غصے سے پوچھا۔
    ’’آپ اُس کی شادی ماہ نور سے کیوں نہیں کروا دیتیں؟‘‘ اُس نے موقع سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے کان میں بات ڈالی اور پھر اپنے کمرے میں چلا گیا۔
    ’’بات تو واصف کی بھی ٹھیک ہے۔‘‘ باپ نے مشورہ دیا۔
    ماں غصے سے دوسری طرف دیکھنے لگی۔
    ٭…٭…٭
    شاہ میر یونی ورسٹی سے آتے ہی ماں کے کمرے میں سلام کرنے گیا۔
    ماں نے اُسے پیار سے دیکھا اور مُسکرائی، وہ سلام کرنے کے بعد واپس مڑا۔
    ’’رُکو شاہ میر… بیٹا مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔‘‘
    ’’جی ماما۔‘‘ اُس نے مڑ کر دیکھا۔
    ’’بیٹا ماہرہ تمہارے لائق نہیں، اُس کا اور تمہارا کوئی جوڑ نہیں۔ تم اُس سے شادی کی ضد چھوڑ دو۔‘‘ ماں نے نظریں چراتے ہوئے بیٹے کو ساری بات سمجھائی۔
    ’’لیکن ماما، وہ لڑکی پڑھی لکھی ہے، اچھی ہے، مجھے اِس کے علاوہ کچھ نہیں چاہیے۔‘‘ اُس نے بات سمجھانے کی کوشش کی۔
    ’’نہیں شاہ میر، بس اب میں دوبارہ تمہارے منہ سے یہ بات نہ سنوں۔ شادی کرنے سے صرف دو لوگ نہیں جڑتے بلکہ دو خاندان جڑتے ہیں۔‘‘
    ’’مگر میں شادی صرف ماہرہ سے کروں گا۔‘‘ وہ جوش سے بولا۔
    ’’تم ماہ نور سے شادی کیوں نہیں کرلیتے؟‘‘
    ’’ماہ نور جیسی آوارہ لڑکیوں میں مجھے کوئی دل چسپی نہیں۔‘‘ وہ چلّایا۔
    ’’بکواس بند کرو۔ وہ ثنا کی بہن ہے اور ثنا بھی تو اتنی اچھی اور فرماں بردار لڑکی ہے۔‘‘
    ’’میں آپ کو آخری دفعہ بتا رہا ہوں، میں صرف اور صرف ماہرہ سے شادی کروں گا۔‘‘ اُس نے گھورتے ہوئے اپنی بات مکمل کی اور کمرے سے چلا گیا۔
    ’’وہ میری کوئی بات سننے کو راضی نہیں ہے۔‘‘ ماں نے اُداسی سے واصف اور اُس کے باپ کو بتایا۔
    وہ دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ رہے تھے۔
    ’’بیٹے کی خوشی سے بڑھ کر آخر کیا ہوتا ہے ماں باپ کے لیے۔‘‘ ماں نے غصے سے اپنے میاں کو دیکھا۔
    واصف غصے سے ماں باپ کو گھورتے ہوئے کمرے میں چلا گیا۔
    ٭…٭…٭
    شاہ میر کی ضد کو مانتے ہوئے ماں باپ نے اُس کا نکاح ماہرہ سے کروا دیا۔
    ماہرہ نے پہلے دن ہی جانچ لیا کہ شاہ میر کے گھر والے اس رشتے پر خاص راضی نہ تھے، اُن سب کے لہجے، الفاظ کا ساتھ نہ دے رہے تھے۔ شادی کی پہلی رات ہی جب وہ کمرے میں داخل ہوا، تو ماہرہ نے اُس سے پوچھا۔
    ’’شاہ میر کیا تمہارے گھر والے اس شادی پر راضی نہیں تھے؟‘‘
    ’’نہیں ایسی کوئی بات نہیں ماہرہ۔‘‘ وہ جھجکتے ہوئے بولا۔
    ’’کیا تم نے مجھ سے جھوٹ بولا تھا کہ تمہارے گھر والے اس رشتے پر راضی ہیں۔‘‘ اُس نے آنسو بھری نگاہوں سے اُسے دیکھا۔
    ’’سب ٹھیک ہو جائے گا ماہرہ! ماما پاپا مجھ سے بہت پیار کرتے ہیں۔ وہ کچھ دنوں میں ٹھیک ہو جائیں گے۔ میں تم سے وعدہ کرتا ہوں میں سب ٹھیک کردوں گا۔‘‘
    ’’شاہ میر تم پر تمہارے والدین کا حق سب سے پہلے ہے۔ اگر وہ راضی نہیں تھے، تو تمہیں مجھ سے شادی نہیں کرنی چاہیے تھی۔‘‘ اُس نے مایوسی سے کہا۔
    ’’میں تم سے وعدہ کرتا ہوں ماہرہ، میں ماما، پاپا کو منالوں گا۔ تمہارے علاوہ میں اپنی زندگی میں کسی اور کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔‘‘ اُس نے اُس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔
    ماہرہ نے بھی شاہ میر پر بھروسا کرتے ہوئے اُسے معاف کردیا۔
    ٭…٭…٭