Tag: children stories

  • چچا غالب طلبا کی نظر سے — عائشہ تنویر

    چچا غالب کو کون نہیں جانتا؟ ادب کا ذوق تو ہر ایک کو نہیں ہوتا، لیکن اردو لازمی پڑھنے والوں کے لئے بھی غالب وہ چچا ہیں جو ہر وقت بھتیجے، بھتیجیوں کی جان کے درپے رہتے ہیں۔
    میٹرک میں ان کے خطوط، اسلوب، شاعری کی تشریح پر جان کھپائی تو، اور آگے جا کر ان کی شاعری کے حسنِ بیان و خواص کو بھی سراہا۔ یہ غالب ہی ہیں جنہوں نے کتنے فیل ہونے والوں کو بچایا ہے اور پاس ہونے والوں کو فیل کرایا ہے۔




    سچ تو یہ ہے کہ طلبا تو پھر طلبا ہی ہوتے ہیں، لیکن اردو ادب کے نقاد بھی غالب کے لئے متضاد آرار رکھتے ہیں۔ کوئی ان کی نثر کا قائل ہے، تو کوئی ان کی شاعری کا دلدادہ ہے۔ نیرنگ خیال کے تو کیا ہی کہنے مگر کوئی ہم سے پوچھے تو ہم تو غالب کی پسند کو پسند کرتے ہیں۔ جی ہاں! آم جن کے بارے میں غالب اور ہماری رائے یکساں ہے کہ "آم ہوں اور بے حد ہوں”
    عموماً سائنس کے طلبا جو محض کسی خاص پیشے میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، چچا غالب ان کے لئے کسی خوف سے کم نہیں، قصور اس میں چچا کا بھی نہیں کہ طلبا ہی دھیان سارا اپنے ان مضامین پر دیتے ہیں جن کا امتحان ہونا ہو اور لازمی مضامین میں دلچسپی نہیں رکھتے اور یہاں غالب کی انا کے کیا کہنے، بے توجہی تو انہیں گوارا نہیں۔ اپنی ذات کا غرور تو ان کا خاصہ ہے کہ خود فرماتے ہیں:
    ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
    کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور
    جب خود شناسی کا یہ عالم ہو تو طلبا پر وہ کیوں کر رحم کریں گے؟ سو نمبر کم کروا کر طلبا کا دل دکھاتے ہیں۔ اسی لئے طلبا غالب سے خائف ہی رہتے ہیں۔
    ویسے یہ بات تو ہمارے والدین اور اساتذہ کے سوچنے کی ہے کہ ایک طرف ہمیں عاجزی کا سبق دیتے ہیں، عشق معشوقی سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں تو دوسری جانب غالب پڑھاتے ہیں جو خود فرماتے ہیں:
    عشق نے غالب نکما کر دیا
    ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
    سو اگر ہماری نئی نسل کا پسندیدہ مشغلہ عشق و عاشقی ہو، تو ان سے کیا شکوہ؟ ابھی تو یہ شکر ہے کہ غالب کے اشعار طلبہ کو من و عن سمجھ ہی نہیں آتے اور بہت سے معنی و مفہوم کے مبہم رہ جانے کے سبب وہ محبوب کے پیچھے غالب کی طرح خوار نہیں ہوتے، بلکہ "ایک جائے گا تو دوسرا آئے گا” کے قائل ہیں۔
    کچھ دن پہلے ہمارا ایک محفل میں جانا ہوا۔ وہاں چند طلبا بیٹھے خدا جانے غالب کے اشعار کی گہرائی میں اترنا چاہتے تھے یا اس سے انتقام لینا چاہتے تھے، ہم جان نہ سکے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ ان کی تشریحات اتنی "گہری” تھی کہ شعر خود اس میں ڈوب کر مر گیا۔
    چند تشریحات آپ کو بھی سناتے ہیں، کیا معلوم آپ کو امتحان میں ضرورت پڑ جائے۔
    شعر عرض کیا:
    کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
    ہائے اس زود پشیمان کا پشیمان ہونا




    اب خوب صحت کے حامل ایک طالب علم کے، جن کی جسامت دیکھ کر قتل تو دور کی بات انہیں گھورتے بھی ڈر لگے، بولنا شروع ہوئے.
    ” دراصل شاعر اس شعر میں اس بلی جیسے قاتل کی حالتِ زار پر روشنی ڈال رہے ہیں، جو نو سو چوہے کھا کر حج کو چلی تھی۔ اب قاتل صاحب بھی جب ایک بندے کو قتل کرنے پہنچے تو وہ باتوں میں ماہر تھا۔ اس نے قاتل کو سیدھی راہ دکھانے کو یوں دل پذیر تقریر کی کہ قاتل کو بھی اپنی عاقبت سنوارنے کا خیال آیا لیکن اس نے اپنے آخری شکار کو کہا:
    "جناب باتیں آپ کی ساری درست ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں تو آپ کے قتل کا ایڈوانس لے کر رنگ والے کو دے بھی چکا، نیا گھر بس تیار ہے، تھوڑی بہت آرائش باقی ہے.اب ایڈوانس واپس تو کر نہیں سکتا تو آپ کو تو مرنا پڑے گا۔ آئندہ کے لئے میں توبہ کرتا ہوں۔ پکا وعدہ کہ آپ کی آخری خواہش کا احترام کیا جائے گا۔”
    اب مقتول میاں اپنی حالت زار پر خوب روئے کہ کیا ہوتا اگر قاتل نے ایڈوانس نہ کھایا ہوتا، یا ان کے محبوب نے ہی یہ کام اس قاتل کا گھر مکمل ہونے کے بعد اسے سونپا ہوتا۔ کچھ تو بچت کی راہ نکل آتی۔ اب تو مرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ساری محنت اور تقریر رائیگاں گئی۔
    ہائے تیری پشیمانی میرے کسی کام کی نہیں۔
    ابھی ہم ان پہلوان کی تشریح کی تشریح ہی کر رہے تھے کہ ان کا دوسرا ساتھی بولا:
    "میں تو یہ کہتا ہوں کہ آخر لوگ اس طور تحقیق کیوں نہیں کرتے کہ غالب کی موت طبعی نہ تھی۔ دھمکیاں تو عرصے سے مل رہی تھیں۔ آخر ایک دن ایک با ذوق نے عقیدت رکھنے کے باوجود پاپی پیٹ کے لئے ان کی جان لے لی۔”
    ان صاحب کا تعلق یقینا کراچی سے تھا اور ارادہ بھی پولیس میں جانے کا تھا، تب ہی تو شعر سے تفتیش کا آغاز کیا۔
    ان کی بات سُن کر ہم غالب کے دور کے امن و امان کے مسائل کے بارے میں سوچ ہی رہے تھے کہ کسی ٹی وی پروگرام کے شوقین نے بروقت مداخلت کی۔
    "ارے چھوڑو یار، تم شبیر سے پوچھ لو، کوئی جانے نہ جانے شبیر تو جانتا ہو گا ناں، اس کی معلومات غضب کی ہیں، تم ذرا مجھے اس دوسرے شعر کے معنی سمجھاؤ۔
    آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہونے تک
    کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک
    "ہممم!!!”
    بہت دیر سوچ بچار کے بعد ایک عاشق گویا ہوئے:
    "دراصل تم اس بات کو یوں لو کہ اب دلی وِلّی کو تو ہم جانتے نہیں، لیکن سر نے کہا تھا غالب کی شاعری زمان ومکان سے آزاد ہے۔”




  • جِن کے تین سنہری بال | سارہ قیوم

    جِن کے تین سنہری بال | سارہ قیوم

    جِن کے تین سنہری بال
    سارہ قیوم

    کسی ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ایک مرتبہ وہ ایسا بیمار ہوا کہ کسی دوا سے ٹھیک نہ ہوا۔ حکیموں نے کہا: ”اگر بادشاہ کو جن کے تین سونے کے بال پیس کر کھلائے جائیں تو ہ ٹھیک ہو جائے گا۔” لیکن جن کے بال لائے کون؟ آخر دوردیس سے ایک شہزادہ آیا اور اس نے جن کے تین سونے کے بال لانے کا وعدہ کیا۔ جن بہت دور ایک پہاڑ پر اپنی نانی کے ساتھ رہتا۔ شہزادہ پہاڑ کی طرف چل پڑا۔ چلتے چلتے وہ ایک شہر میں پہنچا۔ اس شہر کے لوگ بہت اداس تھے۔ شہزادے نے پوچھا: ”تم لوگ اتنے اداس کیوں ہو؟
    انہوں نے جواب دیا: ”ہمارے شہر میں ایک بہت بڑا فوارہ ہے جس کا پانی شہد کی طرح میٹھا ہے۔ سارا شہر اسی فوارے سے پانی لیتا ہے۔ اب کچھ دنوں سے فوارے میں پانی آنا بند ہو گیا ہے۔ ہماری سمجھ میں نہیں آرہا کہ اس کی کیا وجہ ہے؟”
    شہزادے نے کہا: ”میں جن کے تین سنہری بال لانے جا رہا ہوں۔ اگر ہو سکا تو تمہارے اس مسئلے کا حل بھی تلاش کر لائوں گا۔”
    شہر کے لوگوں نے شہزادے کو ایک خوب صورت ہیروں کا ہار تحفے میں دیا۔ شہزادہ دوبارہ اپنے سفر پر روانہ ہو گیا۔ سفر کے دوران وہ ایک اور شہر میں پہنچا جہاں کے لوگ بہت پریشان تھے۔ شہزادے نے پوچھا ”تم لوگ پریشان کیوں ہو؟” انہوں نے جواب دیا: ”ہمارے شہر میں ایک بہت بڑا انار کا درخت ہے جس پر بے حد میٹھے اور رس دار انار لگتے ہیں۔ اب وہ درخت مرجھا رہا ہے۔ سمجھ نہیں آتی اس کو کیا ہو گیا ہے اور ہم اس کو کیسے ٹھیک کریں۔”
    شہزادے نے کہا: ”میں جن کے تین سنہری بال لانے جا رہا ہوں۔ ہو سکا تو تمہارے مسئلے کا حل بھی ڈھونڈ لائوں گا۔”
    شہر والوں نے شہزادے کو ایک خوب صورت سرخ ریشمی دوپٹہ تحفے میں دیا جس پر سونے چاندی کی تاروں سے کڑھائی بنی تھی۔ شہزادہ آگے چل پڑا۔ چلتے چلتے وہ ایک دریا کے کنارے پہنچا جہاں ایک ملاح اپنی کشتی میں بیٹھا تھا۔ شہزادہ دریا کرنے کے لیے اس کی کشتی میں بیٹھ گیا اور ملاح چپو چلانے لگا۔ جب دوسرے کنارے پر پہنچے تو ملاّح نے کہا: ”لگتا ہے آپ کسی خاص سفر پر جا رہے ہیں۔ کیا آپ میرے ایک سوال کا جواب تلاش کر لائیں گے؟”
    شہزادے نے کہا ”ضرور کیا سوال ہے؟”
    ملاح نے کہا: ”میں اس کشتی کا قیدی ہوں۔ اس سے نکل نہیں سکتا۔ دن رات اسی میں بیٹھے رہنے پر مجبور ہوں۔ کیا کوئی ایسا طریقہ ہو سکتا ہے کہ میری اس سے جان چھوٹ جائے؟”
    شہزادے نے جواب ڈھونڈنے کا وعدہ کیا۔ ملاح نے شہزادے کو سونے کی ایک انگوٹھی تحفے میں دی۔ شہزادہ کئی دن سفر کرتا رہا۔ آخر اُس پہاڑ تک پہنچا جہاں جن کا گھر تھا۔ شہزادہ پہاڑ پر چڑھا اور اس نے جن کے دروازے پر دستک دی۔ جن کی نانی نے دروازہ کھولا۔
    شہزادے نے کہا: ”السلام علیکم نانی جان۔”
    بے چاری بوڑھی نانی سارا دن اکیلی رہتی تھی۔ شہزادے کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور بولی: ”ارے کتنے اچھے لڑکے ہوتم کتنی تمیز سے سلام تم کون کرتے ہو بیٹا؟ کہاں آئے ہو؟ کیا کام ہے؟”
    شہزادے نے کہا ”نانی جان میں ایک شہزادہ ہوں۔ آپ کے پاس جو جن رہتا ہے اس کے سر میں سونے کے تین بال ہیں۔ میں وہ بال لینے آیا ہوں۔ اگر آپ وہ بال مجھے دے دیں تو میں آپ کو تین تحفے دوں گا۔”
    نانی یہ سن کر بہت خوش ہوئی اور بولی: ”آج تک کوئی میرے لیے تحفہ نہیں لایا۔ جلدی سے دکھاؤ کیا تحفے ہیں؟”
    شہزادے نے کہا: ”ہر تحفے کے ساتھ ایک سوال بھی ہے جس کا جواب آپ کو دینا ہو گا۔”
    نانی خوشی سے تالیاں بجا کر بولی ”ارے واہ! یہ تو بہت مزے کا کھیل ہے۔ تحفے کے ساتھ سوال کا جواب۔ بتاؤ کیا سوال ہیں؟”
    شہزادے نے کہا: ”پہلا سوال یہ ہے کہ ایک شہر میں ایک فوارہ ہے جس کا پانی شہد کی طرح میٹھا ہے۔ اس فوارے کا پانی بند کیوں ہو گیا ہے؟”
    یہ کہہ کر اس نے ہیروں کا ہار نکال کر نانی کی خدمت میں پیش کیا۔ نانی خوشی سے اچھل پڑی۔ جلدی سے ہار لے کر گلے میں ڈال لیا اور کہنے لگی: ”اتنا خوب صورت ہار تو میں نے زندگی میں نہیں دیکھا۔ بیٹا جلدی سے بتاؤ دوسرا سوال کیا ہے؟”
    شہزادے نے دوسرا سوال بتایا: ”ایک شہر ہے، جہاں انار کے درخت پر میٹھے انار لگتے ہیں، وہ درخت کیوں سوکھتا جا رہا ہے؟”
    یہ کہہ کر سرخ ریشمی دوپٹہ نکال کر نانی کے حوالے کیا۔ نانی نے جلدی سے دوپٹہ اوڑھ لیا اور خوشی سے بولی: ”ارے واہ کس قدر خوب صورت دوپٹہ ہے۔”
    تیسرا سوال شہزادے نے کہا: ”وہ جو دریا میں ملاح ہے، وہ اپنی کشتی کی قید سے کیسے نکل سکتا ہے؟” یہ کہہ کر سونے کی انگوٹھی نانی کو دی۔ نانی نے انگوٹھی پہن لی اور بولی: ”ان تین سوالوں کے جواب میں تمہیں تین سنہری بالوں کے ساتھ دوںگی۔ اب تم جلدی سے چھپ جاؤ جن کے آنے کا وقت ہو گیا ہے۔”
    نانی نے شہزادے کو ایک الماری میں چھپا دیا۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ جن آگیا۔

    ”آدم بو… آدم بو۔” اس نے آتے ہی شور مچا دیا ”مجھے کسی انسان کی بو آرہی ہے۔”
    نانی نے کہا: ”ارے یہ تو میں نے تمہارے لیے پراٹھے پکائے ہیں، یہ خوشبو ان پراٹھوں کی ہے۔ آجلدی سے کھانا کھا لے۔”
    جن نے ایک سو بیس پراٹھے کھائے اور بولا: ”واہ نانی! آج تو آپ نے بڑے مزے کا کھانا بنایا ہے۔ کھانے کھا کر تو اب نیند آنے لگی ہے۔”
    نانی پیار سے بولی: ”آجا میرا بچہ۔ یہاں میری گود میں سر رکھ کر سو جا۔”
    جن نانی کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔ نانی آہستہ آہستہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔ تھوڑی ہی دیر میں جن کے خراٹے گونجنے لگے۔ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے پھیرتے نانی نے ایک سنہری بال تلاش کیا اور جھٹکے سے توڑ لیا۔ جن گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔
    ”کیا ہوا نانی؟” اس نے گھبرا کر کہا ”بال کیوں کھینچ رہی ہو میرے؟”
    نانی بولی: ”ارے معاف کرنا بیٹا! وہ دراصل میں کچھ سوچ رہی تھی۔ غلطی سے تمہارے بال کھینچ لیے۔”
    جن جمائی لے کر بولا: ”کیا سوچ رہی تھی نانی؟”
    ”میں سوچ رہی تھی کہ دور وہ جو ایک شہر ہے جس میں ایک میٹھے پانی کا فوارہ ہے، وہ فوارہ کیوں بند ہو گیا ہے؟”
    جن نے قہقہہ لگایا: ”ہا ہا ہا… اس سوال کا جواب صرف مجھے معلوم ہے۔ اس فوارے کے سوراخوں میں مٹی پھنس گئی ہے۔ اگر وہ بے وقوف لوگ فوارے کو کھول کر صاف کر لیں تو پانی پھر سے چل پڑے گا۔”
    نانی نے خوش ہو کر کہا: ”ارے تم کتنے عقل مند ہو میرے بچے۔ چلو اب تم سو جاؤ۔ سو جاؤ میرے بچے۔”
    جن دوبارہ نانی کی گود میں سر رکھ کر سو گیا اور خراٹے لینے لگا۔ نانی دوبارہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔ انگلیاں پھیرتے پھیرتے اس نے دوسرا سنہری بال پکڑا اور جھٹکے سے توڑ لیا۔ جن اچھل پڑا۔
    ”نانی” اس نے غصے سے کہا: ”کیا ہو گیا آپ کو؟ پھر سے بال نوچ لیے میرے؟”
    نانی بولی: ”معاف کرنا بیٹا! اصل میں یہ سوچ رہی تھی کہ دور وہ جو ایک شہر ہے جس میں میٹھے اناروں کا درخت ہے، وہ درخت کیوں سوکھتا جا رہا ہے؟”
    جن نے کہا: ”اس سوال کا جواب صرف مجھے معلوم ہے۔ اس درخت کی جڑوں میں ایک بہت موٹا چوہا بیٹھا جڑوں کو کتر رہا ہے۔ شہر والوں کو چاہیے کہ وہاں سے کھود کر اس چوہے کو مار ڈالیں۔ درخت پھر سے ہرا بھرا ہو جائے گا۔”
    نانی خوش ہو کر بولی: ”واہ واہ! تم کتنے عقل مند ہو میرے بچے چلو اب تم پھر سے سوجاؤ۔”
    جن نے کہا: ”دیکھنا اب میرے بال نہ کھینچنا نانی ورنہ میں یہاں سے اٹھ کر چلا جائوں گا۔”
    نانی بولی: ”نہیں نہیں بیٹا! تم بے فکر ہو کر سوجاؤ… سو جاؤ میرے بچے۔”
    جن خراٹے لینے لگا۔ نانی نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے تیسرا سونے کا بال تلاش کیا اور جھٹکے سے توڑ لیا۔ جن تڑپ کر اٹھ بیٹھا۔
    ”کیا کرتی ہو نانی؟” اس نے تڑپ کر پوچھا۔
    نانی بولی: ”ارے معاف کرنا بیٹا۔ دراصل میں سوچ رہی تھی کہ بڑے دریا میں جو ملاح کشتی چلاتا ہے، وہ اپنی کشتی سے اترتا کیوں نہیں؟”
    جن بولا: ”کیا ہو گیا ہے نانی؟ آج ساری دنیا کے سوال آپ ہی کیوں سوچ رہی ہیں۔ وہ ملاح اصل میں ایک بادشاہ ہے جسے اس کے دشمن نے جادوکے زور سے ملاح بنا دیا تھا اور خود اس کے تخت پر قبضہ کر لیا تھا۔ اگر یہ ملاح اپنا چپو کسی کو پکڑا دے تو وہ آزاد ہو جائے گا اور چپو پکڑنے والا کشتی میں قید ہو جائے گا۔”
    نانی بولی: ”واہ واہ! بہت اچھی بات کی تم نے… چلو اب تم سو جاؤ میرے بچے۔”
    جن نے کہا: ”میری توبہ نانی! میں اپنے کمرے میں جا کر سوئوں گا۔ یہاں رہا تو آپ میرے سارے بال نوچ ڈالو گی۔”
    جن چلا گیا تو نانی نے شہزادے کو الماری سے نکالا اور کہا: ”یہ رہے جن کے تین سنہری بال اور سوالوں کے جواب تو تم نے سن ہی لیے ہوں گے۔”
    شہزادے نے نانی کا شکریہ ادا کیا اور واپسی کے سفر پر روانہ ہو گیا۔ سب سے پہلے وہ دریا پر پہنچا۔ ملاح نے پوچھا: ”میرے سوال کا جواب لائے؟” شہزادے نے کہا: ”ہاں مگر دوسرے کنارے پر پہنچ کر بتائوں گا۔” ملاح نے اسے کشتی میں بٹھا کر دوسرے کنارے پر پہنچا دیا۔ شہزادہ کشتی سے اتر کر کنارے پر کھڑا ہوا اور ملاح کو وہ جواب بتایا جو اس نے جن سے سنا تھا۔ ملاح نے پوچھا: ”یہ بات تم نے مجھے کشتی ہی میں کیوں نہ بتائی؟” شہزادہ مسکرایا اور وہاں سے چلا گیا ۔
    شہزادہ کئی دن چلتا رہا۔ پھر وہ انار کے درخت والے شہر میں پہنچا۔ وہاں کے لوگ اس کا انتظار کر رہے تھے۔ شہزادے نے ایک بیلچہ منگوایا اور درخت کی جڑوں کو کھودنے لگا۔ وہاں ایک واقعی موٹا تازہ چوہا بیٹھا جڑیں کتر رہا تھا۔ شہزادے نے اسے مار ڈالا۔ درخت پھر سے ہرا بھرا ہو گیا۔ شہر کے لوگ خوشی سے جھوم اٹھے۔ انہوں نے ڈھیر سارے ہیرے جواہرات شہزادے کو تحفے میں دیئے۔
    شہزادہ اپنے سفر پر چل پڑا۔ کئی دن بعد وہ فوارے والے شہر میں پہنچا۔ لوگ بے چینی سے اس کی راہ تک رہے تھے۔ شہزادے نے فوارے کو کھول کر اس کے سوراخوں میں پھنسی مٹی صااف کر دی اور فوارہ پھر سے چل پڑا۔ لوگ بے حد خوش ہوئے۔ انہوں نے بہت سا مال و دولت تحفے میں شہزادے کو دیا۔
    کئی دن کے سفر کے بعد شہزادہ بیمار بادشاہ کے پاس پہنچا اور جن کے تین سنہری بال اس کے حوالے کیے۔ جونہی وہ بال پیس کر بادشاہ کو کھلائے گئے۔ وہ اسی وقت صحت یاب ہوگیا۔ بادشاہ نے شہزادے کے پاس اتنا مال و دولت دیکھا تو اس کے دل میں لالچ آگیا۔ وہ سمجھا کہ شاید شہزادہ یہ مال و دولت جن سے لے کر آیا۔
    اس نے اسی وقت سفر کی تیاری کی اور جن کے گھر جانے کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ کئی دن چلتے رہنے کے بعد آخر وہ اس دریا پر پہنچا جہاں ملاح اپنی کشتی میں بیٹھا تھا۔ دریا پار کرنے کے لیے بادشاہ کشتی میں بیٹھا تو ملاح نے کہا: ”بھائی ذرا یہ چپو تو پکڑنا بادشاہ نے بے خیالی میں چپو پکڑ لیا۔ ملاح اسی وقت کشتی سے اتر کر دریا کے کنارے کھڑا ہو گیا۔ بادشاہ نے غصے سے کہا: ”کہاں جا رہے ہو ملاح؟ مجھے دریا پار کروائو۔” ملاح نے ہنس کرکہا ”اے دوست! ملاح اب میں نہیں تم ہو۔ مجھے غور سے دیکھو۔ میں وہی بادشاہ ہوں جسے تم نے جادو کے زور سے اسی کشتی میں قید کر دیا تھا اور خود میری جگہ بادشاہ بن بیٹھے تھے۔ اب تم اس کشتی کے قیدی ہو۔ میں اپنا تخت و تاج لینے واپس جا رہا ہوں۔”
    یوں اس ظالم شخص نے اپنے کیے کا پھل پایا اور تمام زندگی ملاح بن کر کشتی چلاتا رہا۔
    ٭…٭…٭

  • موسمِ گُل — عاصمہ عزیز

    خوب صورت شاہ ولا جس کی پیشانی پر ماشا اﷲ کی تختی سجی تھی، میں اس وقت گہرا سکوت چھایا ہوا تھا۔
    شان دار فرنیچر سے مزّین شاہ ولا کے ڈائننگ روم میں اس وقت دو لوگ دوپہر کے کھانے کے لیے غیر آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ ان میں سے ایک کے چہرے پر سوچ اور تفکر کا گہرا جال بچھا تھا جب کہ دوسرے کے دلکش نقوش سے غصہ اور جھنجھلاہٹ واضح تھی۔
    ”با باپلیز ٹرائی ٹو انڈرسٹینڈ ….میں نہیں کرسکتی ابھی شادی وادی۔” عنایہ شاہ نے پچھلے دوتین دنوں سے بار بار دہرایا جانے والا جملہ ایک دفعہ پھر دہرایا۔ بیٹی کی بات سن کر حیدر شاہ کا نوالہ پکڑے منہ کی طرف جاتا ہاتھ لمحہ بھر کے لیے ہوا میں معلق ہوا، لیکن اگلے ہی لمحے انہوں نے پلیٹ پر جھکی اپنی نظریں اٹھائیں اور سپاٹ چہرے کے ساتھ بیٹی کو گھورتے ہوئے کہا۔
    ”میں نے آپ سے آپ کی رائے نہیں پوچھی… اور نہ ہی آئندہ اس بارے میں میرا ایسا کوئی ارادہ ہے۔”




    ”لیکن بابا”….. عنایہ نے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا، لیکن حیرت اور دکھ کی شدت سے اس کی آواز حلق کے اندر ہی گھٹ کررہ گئی۔
    ”مم… میں پڑھنا چاہتی ہوں ابھی۔” کچھ دیر خود پرقابو پانے کے بعد اس نے بہ مشکل یہ الفاظ ادا کیے تھے۔ آج سے پہلے اسے اپنے باباسے بات کرنے کے لئے کبھی الفاظ نہیں سوچنا پڑے تھے۔تین سال کی عمر میں ماں کی وفات کے بعد سے انہوں نے اس کی ہر خواہش کو الفاظ میں ڈھلنے سے پہلے پورا کیا تھا۔ عنایہ شاہ کا شمار ان لوگوں میں ہوتاتھا جو منہ میں سونے کا چمچہ لے کر اس دنیا میں قدم رکھتے ہیں اور جنہیں ”انکار” اور ”نہیں” جیسے لفظوں سے بہت کم واسطہ پڑتا ہے۔
    ”جسٹ سٹاپ اٹ! کوئی لیکن ویکن نہیں چلے گا۔” انہوں نے سخت لہجے میں اسے ٹوکتے ہوئے اپنے بٹوے سے چند بڑے نوٹ نکال کر ٹیبل کی سطح پراس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا:
    ”یہ کچھ رقم رکھیں اور اپنی پسند سے شاپنگ کیجیے۔ اس جمعہ کو آپ کا نکاح ہے۔” انہوں نے یہ کہتے ہوئے اس کے حیرت سے گنگ چہرے سے نظریں چرالیں۔ عنایہ باپ کے اس رویے کی وجہ سمجھنے سے قاصر تھی۔ اس نے سامنے پڑے لوگوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ایک جھٹکے سے کرسی کھسکائی اور منہ بنائے اپنے کمرے کی طرف چل دی۔
    ”تم؟ تمہاری ہمت کیسے ہوئی؟” کمرے میں ملازمہ کی موجودگی نے اس کے غصے کی شدت سے بڑھتے پارے کو آسمان سے مزید باتیں کرنے پر مجبور کردیاتھا۔عنایہ شاہ باپ کے برعکس اپنے ملازموں کو عام انسان کے بجائے احساسات وجذبات سے عاری غلاموں کا درجہ دینا زیادہ پسند کرتی تھی۔
    ”وہ… وہ بی بی جی!” ملگجے سے کپڑے زیب تن کیے پکی عمر کی ملازمہ کے ہاتھ میں کانچ کا نفیس گل دان لرز رہا تھا۔
    ”شٹ اپ نان سنس! نکل جائو میرے کمرے سے اپنا گندہ وجود لے کر۔” وہ غراتے ہوئے جو منہ میں آیا بولتی چلی گئی تھی۔ پرُ غرور لہجے میں اپنے سے کم حیثیت ملازمہ کو برا بھلا کہتے ہوئے شاید وہ یہ بھول گئی تھی کہ انسان کو اس دنیا میںمحض اپنے برے اعمال کا ہی نہیں بلکہ اپنی زبان سے ادا کیے سخت الفاظ کابھی خمیازہ بھگتنا پڑ سکتا ہے۔
    ٭…٭…٭




    حیدر شاہ اور شاہ نواز شاہ دو ہی بھائی تھے۔حیدر شاہ فطرتاًملنسار اور نرم مزاج کے حامل تھے جب کہ شاہ نواز شاہ کی طبیعت میں غروروتکبر اور دولت کی لالچ وہوس کوٹ کوٹ کر بھری تھی۔ اسی لئے شاہ نواز شاہ نے ماں باپ کی وفات کے بعد جائیداد اور کاروبار میں سے اپنا حصہ بانٹتے ہوئے شاہ ولا سے نکل کر الگ گھر میں رہنا پسند کیا تھا۔
    گھر اور کاروبار کی علیحدگی کے بعد شاہ نواز شاہ کو اگر کوئی چیز اپنے بھائی سے جوڑے ہوئے تھی تو وہ بھائی نہیں بلکہ پیسے کی محبت تھی جس کی انہیں اپنے نئے کاروبار کو جمانے کے لئے اکثروبیشتر ضرورت پڑتی رہتی تھی۔
    حیدر شاہ ان کے لالچی پن سے آگاہ ہونے کے باوجود اپنی فطرت اور بھائی کی محبت سے مجبور ہو کر ہمیشہ ان کی مدد کے لئے تیار کھڑے رہتے تھے۔
    وقت اسی طرح سرکتا رہا۔ کئی سال کسی سمندر کی منہ زور موجوں کی طرح تندی وتیزی سے بیت گئے۔
    انسان کی فطرت کا بدلائو کبھی بھی وقت کا محتاج نہیں رہتا۔ہزار وں قیمتی لمحے اور گھڑیاں بیت جانے کے باوجود انسان اپنی فطرت کو نہیں بدل سکتا۔ اسی طرح کئی سال بیت جانے کے باوجود شاہ نواز شاہ کی فطرت میں دولت کے لیے چُھپی حرص و ہوس میں کوئی فرق نہیں آیا۔
    ورثے میں ملی جائیداد کو عیش وعشرت میں اڑانے کے بعد اب شاہ نواز شاہ کی نظر اپنے بھائی کی جائیداد پر تھی، جسے وہ ہر قیمت پر حاصل کرنا چاہتے تھے اور اس کے لیے واحد ہتھیار عنایہ شاہ تھی، جسے بہو بنا کر وہ بآسانی اپنا مقصد حاصل کرسکتے تھے۔
    لیکن حیدرشاہ کے واضح اور دوٹوک انکار کے بعد وہ دل مسوس کررہ گئے تھے۔ پھر بھی وہ ہار ماننے والوں میں سے نہ تھے کیوں کہ اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے انہوں نے پہلی سیڑھی پر قدم رکھتے ہوئے عنایہ شاہ کے سامنے محبت کا جال بچھا دیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    کمرا نیم تاریک تھا۔ وہ اس وقت بیڈ سے ٹیک لگائے اپنے بستر پر نیم دراز تھے۔اپنی بیٹی عنایہ شاہ کے مستقبل کا خوف انہیں کسی زہریلے ناگ کی طرح ڈس رہا تھا۔جس دولت اور جائیداد کو انسان اپنی خوشیوں کی ضمانت سمجھتا ہے، اس وقت وہی دولت انہیں اپنی دشمن دکھائی دے رہی تھی۔
    کاش! وہ اس دولت اور جائیداد کے عوض اپنی بیٹی کے خوش گوار مستقبل کویقینی بناسکتے ۔انہوں نے اپنی شہادت کی انگلی سے کنپٹیاں سہلاتے ہوئے سوچاتھا۔ آج سے ایک سال پہلے ہی وہ برین ٹیومر جیسی موذی بیماری کا شکار ہونے کا اور اس بات کا علم ان کے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے مرحوم دوست کے بیٹے عرشما ن کے علاوہ کسی کو نہیں تھا۔ جسے انہوں نے حال ہی میں اس کی ذہانت اور قابلیت کی بنا پر اپنے آفس میں اعلیٰ عہدے پر فائز کیا تھا۔ وہ حیدرشاہ کی بیماری کا راز اپنے سینے میں دبائے سگے بیٹوں کی طرح ڈاکٹر سے ان کا چیک اپ کرواتا اور ان کا خیال رکھتاتھا۔ حیدر شاہ کے لیے بھی وہ محض ایک تنخوار دار ملازم نہیں تھا بلکہ وہ اسے سگے بیٹے کا درجہ دیتے تھے۔ رشتے صرف خون کے نہیں ہوتے بلکہ احساس کے بھی ہوتے ہیں۔بعض دفعہ جب خونی رشتے ہمیں راستے میں پڑے بے جان پتھر کی طرح ٹھوکر مار کرچلے جاتے ہیں، تو احساس کے رشتے ہی ہماری اندھیری دنیا میں روشنی لاتے ہیں۔”
    پچھلے کئی ماہ سے ڈاکٹر انہیں سرجری کرانے کی پُر زور تاکید کر رہا تھا جسے وہ ہر بار ٹالتے رہے، لیکن اب آپریشن ان کے لئے ضروری ہوگیاتھاکیوںکہ بیماری ان کی بے پرواہی کی بنا پر اپنے پنجے گاڑ چکی تھی۔ اس لئے وہ کوئی بھی قدم اٹھانے سے پہلے اپنی بیٹی کو لالچی و خودعرض رشتے داروں سے بچاتے ہوئے اس کے مستقبل کو محفوظ بنانا چاہتے تھے۔
    وہ سوچوں کی وادی میں ڈوبے ہوئے تھے کہ دروازے پر ہونے والی دستک اور اس کے بعد عنایہ کے نمودار ہونے نے انہیں چونکادیا تھا۔
    ”آئو بیٹا بیٹھو!” رسمی علیک سلیک کرتے ہوئے بیڈ سے کچھ فاصلے پر پڑے صوفے پر وہ ٹک گئی۔
    ”اور بیٹا شاپنگ کرلی آپ نے؟” حیدر شاہ نے بیٹی کے متذبذب چہرے پر نگاہیں ٹکائے بات کا آغاز کرتے ہوئے اسے بولنے کا موقع دیا۔
    ”جب مجھے شادی ہی نہیں کرنی تو شاپنگ کیسی؟” عنایہ شاہ نے منہ بنا کے اپنی ازلی ہٹ دھرمی کو برقرار رکھتے ہوئے کہا۔ کوئی اور موقع ہوتا، تو وہ شاپنگ کرنے سے کیسے منع کرسکتی تھی۔
    ”عرشمان میری پسند ہے اور آپ کو اپنے….” حیدر شاہ نے کچھ بولنا چاہا، لیکن عنایہ ان کی بات کاٹتے ہوئے بولی:
    ”بابا جان آپ اپنے اس تنخواہ دار ملازم کو میرے لئے کیسے پسند کرسکتے ہیں؟ میں نے زندگی میں ہمیشہ بہترین اورقیمتی چیزوں کا انتخاب کیا جب کہ اب آپ…”
    ”اسٹاپ اٹ!” انہوں نے اس کی پٹرپٹر چلتی زبان کو روکنے کے لیے درشتی سے ٹوکتے ہوئے کہا۔
    ”چیزوں کو تو دولت کے ترازو میں تولا جا سکتا ہے، لیکن انسانوں کو نہیں، انسان کو اخلاق وکردار کی بنیاد پر پرکھا جاتا ہے۔”
    ”اوکے! آپ قائم رہیں اپنے فیصلے پر، تب تک میں جا رہی ہوں، چچا جان کے پاس۔ چچا جان ٹھیک کہتے ہیں آپ ہم دردی میں اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتے۔” وہ اٹھی اور دھپ دھپ کرتی کمرے سے نکل گئی۔
    حیدر شاہ اس کے باغیانہ لہجے کو محسوس کرتے اپنی خوش فہمی پر سوچتے رہ گئے کہ عرشمان کی ہم درد اور پُرخلوص شخصیت کی ضرورت ان سے زیادہ عنایہ کو ہے۔
    ٭…٭…٭




  • حوّا کی بیٹی — سارہ عمر

    ”بس یہیں روک دیں۔” وہ ڈرائیور کے پیچھے سے بولی تھی۔ پرس سنبھالتی وہ اپنے اسٹاپ پر اتر گئی۔
    ایک لمحے کے لیے نظر سڑک کے پار اُٹھی اور پلٹ کر واپس آنا بھول گئی۔
    ”یہ تو…” وہ زیر لب بَڑبَڑائی۔
    ”یہ یہاں کیسے؟یہ تو گوجرانوالہ ہے …” اس نے اپنی چادر کا پلو کھینچ کر منہ کے آگے کیا۔ سوائے ایک آنکھ کے اس کا سارا چہرا چادر میں چھپ گیا تھا۔
    ”یااللہ! بس گھر کا راستہ نظر آجائے جلدی سے۔” اس نے گھر کی طرف دوڑ لگا دی تھی جیسے کوئی بھوت نظر آگیا ہو۔
    گھر پہنچتے پہنچتے سارا جسم پسینے میں بھیگ چکا تھااور سانس بری طرح اُکھڑ رہی تھی۔
    ”آ گئی نگہت؟ جلدی سے روٹی ڈال دے۔ بچے بھی بھوکے ہیں۔” اسے ہاتھ دھوتا دیکھ کر ساس نے کہا تو وہ کچن میں چلی آئی۔
    اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے اور ہونٹ خشک تھے،اس سے روٹیاں ٹیڑھی پک رہی تھیں۔ کچھ کچی اور کچھ جل رہی تھیں۔ چولہے کے آگے پسینہ تو آتا ہی ہے مگر اس کو ٹھنڈے پسینے آرہے تھے۔
    ”اگر وہ واقعی ولید ہوا اور اس نے مجھے پہچان لیا تو کیا ہوگا؟ میں تو کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہوں گی۔”
    ٭…٭…٭




    سمندر کی لہریں بار بار اس کے پاؤں کو چھو کر جارہی تھیں۔ جب ریت پاؤں کے نیچے سے نکلتی تو ندا کھلکھلا کر ہنس پڑتی اور فرقان اسے دیکھ کر ہنس پڑتا۔
    ”ایسے پاگل ہورہی ہو جیسے پہلی بار پانی دیکھا ہے۔” اس نے ندا کا ہاتھ تھاما اور ساحل پر چلنے لگا۔
    ”ایسی بات نہیں! ہر مہینے آتے تھے ہم سمندر پہ، بس شادی کے بعد پہلی بار آئی ہوں۔”
    وہ مُسکرا کر روٹھے انداز سے بال سلجھانے لگی جو ہوا سے اڑے جارہے تھے۔
    ”تبھی اتنا مزہ آرہا ہے؟” اس نے شوخی سے کہا تو وہ پھر ہنس دی۔
    ”سچی اسی لیے اتنا مزہ آرہا ہے۔” اس نے ہاں میں ہاں ملائی تو وہ اس کا ہاتھ گرم جوشی سے دباتا مُسکرا دیا۔
    ندا نے فرقان کے کندھے پر سر رکھا اور آنکھیں بند کردیں۔
    ”کاش یہ پل اسی طرح رہیں اور فرقان ایسے ہی مجھے پیار کرتے رہیں۔” وہ دل ہی دل میں مُسکرا دی۔
    ٭…٭…٭
    ”راجو ایک اور پلیٹ لا۔” شبیر نے راجو کو آرڈر کیا اور آج کا اخبار نکال کر صفحے پلٹنے لگا۔
    ”لو یہ دیکھو۔” اسلم نے پانی کا گلاس رکھ کر اسے دیکھا۔
    ”ڈیرہ غازی خان: چار بچوں کی ماں نے زہر کھا کر خودکشی کرلی۔ وجۂ تنازع معلوم نہ ہوسکی۔” وہ خبر پڑھ کر سنا رہا تھا۔
    ”یہ اتنے چھوٹے چھوٹے شہر کی عورتیں اتنا بڑا کام کیسے کرلیتی ہیں۔ چار بچوں کا بھی خیال نہ آیا حد ہوگئی۔” اسلم بری طرح نالاں ہوا۔
    ”بھلا چار بچوں کے ساتھ ایسا کیا مسئلہ کھڑا ہوگیا جو خودکشی جیسا حرام کام کر بیٹھی؟” شبیر نے بھی لقمہ دیا۔
    ”صاحب یہ تیسری پلیٹ ہے۔” راجو نے چھولوں کی پلیٹ رکھی تھی۔
    ”ہاں ہاں آئے ہیں تو صحیح سے کھا کر جائیں گے۔ برنس روڈ کے چھولے۔ ایویں تو مشہور نہیں کیا ذائقہ ہے بھئی۔”
    شبیر پھر سے کھانے میں جت گیا تھا۔ اسلم بھی ساتھ دینے کو موجود تھا۔
    ”کیا بنا تیری والی کا؟” شبیر نے پاس آکر آنکھ مار کے سرگوشی کی۔
    ”کہتی ہے مل نہیں سکتی۔ بس فون پہ بات کرو۔ بھائی ناراض ہو جائے گا۔” اسلم نے فکر مندی سے کہا۔
    ”چل تو لگا رہ کبھی تو آئے گا اونٹ پہاڑ کے نیچے۔” وہ پانی کا گھونٹ بھر کر بولا۔
    ”سیما کو دوبارہ اس ایزی لوڈ والے نے تنگ تو نہیں کیا۔” شبیر کی بات پہ اسلم کی تیوریاں غصے سے چڑھ گئی تھیں۔
    ”آنکھ تو اٹھا کر دیکھے میری بہن کی طرف ہاتھ پاؤں توڑ کے چیل کوؤں کو ڈال دوں گا۔” وہ بھنا کر بولا۔
    ”ہاں ٹھیک ہے کھانا کھا کچھ بھی مدد چاہیے ہو یار کی تو بتانا۔”شبیر نے ٹھنڈا کیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”اُف اسے بھی ابھی خراب ہونا تھا۔” گاڑی چلتے چلتے گرم ہوگئی تھی اور اب رک گئی۔ نئی نئی گاڑی چلانی سیکھی تھی نیلم نے۔کتنا منع کیا تھا ماما بابا نے اکیلے مت نکلنا مگر نیلم بھی ضد کی پکی تھی۔
    ”اب کیا کروں؟” وہ پریشان ہوئی۔ بونٹ کھول کر ساتھ خود کھڑی ہوگئی۔
    پہلا بائیک والا ہی اسے دیکھ کر رک گیا۔
    پینٹ شرٹ پہ گلاسز لگائے۔ وہ فوراً اس کی طرف آیا۔
    ”کیا ہوگیا آپ کی گاڑی کو؟”
    ”پتا نہیں مجھے سمجھ نہیں آرہی۔”
    ”جی میں دیکھتا ہوں۔”
    سمجھ تو اسے بھی نہیں آنی تھی مگر تھوڑا ہاتھ مار کر ایکٹنگ کرنے میں کیا حرج تھا۔
    نیا شکار پھنسنے والا تھا۔
    نیلم بار بار کئی بار پریشانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔
    ”بابا کو فون کرے گی تو ڈانٹ ہی پڑے گی۔” وہ خود سے سوچنے لگی۔
    ”موبائل ہے آپ کے پاس میں گھر بھول آیا ہوں یہاں میرے دوست کی ورک شاپ ہے وہ بندہ بھیج دے گا۔”
    اندھا کیا چاہے دو آنکھیں اور انہی دو آنکھوں نے اسے دوبارہ اندھا کردینا تھا۔
    اس نے فوراً غائب دماغی سے موبائل پکڑایا۔
    ”بس ابھی آجاتا ہے۔”
    دس منٹ بعد ہی بندہ آگیا تھا۔ تھوڑی دیر بعد گاڑی سٹارٹ ہوگئی۔ قصہ ختم، مگر نہیں ابھی تو قصہ شروع ہوا تھا۔
    اگلے کئی دنوں میں نیلم کے موبائل پہ نامعلوم نمبر سے میسج آئے اور پھر اس محسن کا پتا لگا تو شناسائی دوستی اور دوستی محبت میں بدل گئی تھی اور یہ محبت جو دل لگی تھی دل کی لگی بننے والی تھی۔
    ٭…٭…٭




    ”نگہت یہ پہن کر دکھاؤ۔” اس نے کانچ کی نازک سی چوڑیاں اس کے ہاتھ پر رکھ دیں۔ نگہت کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ جگمگ جگمگ کرتی چوڑیاں اس نے اپنے نازک ہاتھوں میں پہن لیں۔
    کانچ سے دل والی لڑکیوں کو کانچ کی چوڑیاں پہنتے تو کچھ نہیں ہوتا۔ مگر جب وہ ٹوٹتی ہیں تو اس کے زخم ایک عرصے درد کرتے ہیں۔
    ”ولید بہت خوب صورت ہیں۔”
    ”تم سے زیادہ نہیں۔” وہ مُسکرایا۔
    ”کب بھیجو گے میرے گھر رشتہ؟” پھر وہی سوال لبوں پر مچل گیا۔
    ”پہلے کچھ بن تو جاؤں، کنگلے کو رشتہ کون دے گا۔” وہ اُداسی سے بولا۔
    ”تم بھیجو تو۔”
    ”گھر بھی تو گوجرانوالہ میں ہے تمہارا۔ پڑھائی ختم کرکے گھر جاؤ۔ امی کی بھی طبیعت بہتر ہوگی تو سفر کریں گی ناں۔” وہ پیروں میں پانی نہیں پڑنے دیتا تھا۔
    وہ چوڑیوں سے کھیلنے لگی۔
    ”گھر والوں کو کیا کہو گی؟ چوڑیاں کس نے دیں؟”
    ”کہہ دوں گی دوست نے۔” وہ جواب دیتے ہنس پڑی تو وہ بھی ہنس پڑا۔
    ان لڑکیوں کو بہلانا کتنا آسان ہے ناں۔” سو پچاس کا گفٹ دے کر سو سال ان کو بے وقوف بنایا جاسکتا ہے۔ وہ سوچ کر رہ گیا۔
    ٭…٭…٭
    ندا کیا کررہی ہو؟” فرقان کی آواز پہ وہ ڈر کر پیچھے ہٹی۔ ہاتھ میں پکڑا موبائل فرقان نے جھپٹ لیا تھا۔
    ”کیا دیکھ رہی تھی۔ موبائل چیک کررہی ہو؟”
    ”کال لوگ کیوں کھلی ہوئی ہے؟” وہ بری طرح دھاڑا تھا۔
    ”میں تو…” اس کی دھاڑ نے اس کے ہواس معطل کردیئے تھے۔
    ”مجھ پر شک کررہی ہو، اپنے شوہر پر ؟”وہ سخت ناراض تھا۔
    ”فرقان یقین کریں کال آرہی تھی میں نے۔”
    ”ضرورت کیا ہے تمہیں کال دیکھنے یا اٹھانے کی۔ میں تمہارا موبائل چیک کرتا ہوں۔ آئندہ اس کو ہاتھ مت لگانا سنا تم نے۔” وہ ڈر گئی تھی۔
    ٭…٭…٭
    ”ثوبیہ بہت بہت مبارک ہو۔” تانیہ نے بھی مبارک باد دی تھی۔
    وہ بھی سب کو اترا اترا کر اپنی منگنی کی انگوٹھی دکھا رہی تھی۔
    ”کون ہے کیا کرتا ہے وہ؟” سب فرداً فرداً پوچھ رہی تھیں۔
    ”اور تمہارے پرانے عاشق کا کیا ہوا ثوبیہ جو جینے مرنے کی قسمیں کھا رہا تھا۔”
    سمعینہ نے سب کے سامنے اس سے پوچھا تو اسے لگا بیچ چوراہے میں اس کا راز کھل گیا۔ حالاں کہ یہ راز تھا ہی کب۔ ہر روز کا قصہ تھا ڈیپارٹمنٹ والوں کے لیے۔
    سینئر کے ذوالفقار کے ساتھ ثوبیہ کا افیئر زد عام تھا مگر دونوں کے گھر والوں کو کچھ معلوم نہ تھا کہ یونیورسٹی میں کیا ہورہا ہے۔
    ذوالفقار گیا تو بات بھی دب گئی۔ سب کے سامنے یہ بھانڈا پھوٹے گا۔ اسے امید نہ تھی۔
    ”بھلا اس کنگلے ذوالفقار کے پاس سوائے ڈگری کے تھا ہی کیا؟ اچھے وقت پہ جان چھوٹ گئی تھی۔ ”ابو نے اپنے کزن کے بیٹے سے منگنی کیا کی کہ اب ثوبیہ ہواؤں میں تھی۔
    ”یار چھوڑ۔” تانیہ نے ثوبیہ کا منہ دیکھ کر کہا جہاں ایک رنگ آرہا تھا ایک جارہا تھا۔
    چھوڑ تو ثوبیہ نے اسے دیا تھا مگر اب ذوالفقار نے اسے نہیں چھوڑنا تھا یہ اسے نہیں پتا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”نگہت تم اتنی ڈری ڈری کیوں رہتی ہو؟” تیمور سے اب نہ رہا گیا۔ نگہت کا یہ حال دیکھ کر انہیں کچھ عجیب لگا۔
    شادی کے بعد اتنے سالوں میں کبھی وہ اتنی بدحواس نہ ہوئی۔ اب تو وہ باہر جانے سے ڈرتی، فون کی گھنٹی سے ڈرتی، دروازہ بجنے سے ڈرتی۔
    اس کی دماغی حالت کافی سنجیدہ ہوگئی تھی۔
    ”مجھے کسی ڈاکٹر سے ہی بات کرنی پڑے گی۔”
    وہ اسے سائیکاٹرسٹ کو دکھانا چاہ رہا تھا۔
    ٭…٭…٭




  • بارش کب ہوگی — مریم جہانگیر

    بارش کب ہوگی — مریم جہانگیر

    بارش کب ہو گی؟ ” عمیر نے زبیر کا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا۔
    "اگر میں ہوا کی رتھ پہ سوار ہو سکتا تو اس پہ بیٹھ کر دور آسمانوں میں چلا جاتا اور آسمان پہ بکھرے ہوئے بادلوں سے پوچھتا کیوں اے میرے بادلو! تم ہم سے کیوں روٹھ گئے ہو؟ اب ہمارے گاؤں پہ آکر کیوں نہیں برستے ؟ کڑکتی ہوئی بجلی ساتھ لاتے ہو لیکن شور مچا کر کہیں دور غائب ہو جاتے ہو۔ ہمارے نصیب میں تو شور ہی رہ گیا ہے۔بارشیں تو تم جانے کس کو دان کر چکے ہو۔ لیکن تم جانتے ہو مجھے ہوا کی رتھ پہ سوار ہونا بھی نہیں آتا "زبیر نے حسرت سے آسمان پہ نظر ٹکا کر جوا ب دیا۔
    "بھیا آپ سے بات پوچھنا ایسا ہے جیسے کسی بے سرے قوال کو چھیڑ دیا جائے۔ویسے بھی یہاں ہوا ہے ہی کہاں جس کی رتھ پہ آپ سوار ہو سکیں۔ "عمیر نے جواباً اپنے سے پانچ سال بڑے بھائی کو اس کی لن ترانیوں پہ ٹوکا۔
    "تو نہ پوچھا کرو مجھ سے۔ میں تو نہیں کہتا کہ مجھ سے پوچھو۔” زبیر نے صاف دامن بچایا۔




    "مجھے لگتا ہے ماں کی آنکھیں بھی بنجر ہوگئی ہیں۔ ان سے بھی بارش نہیں ہوتی۔ بھیا تمہیں پتا ہے ماں سے کون سا بادل روٹھا ہے؟ "عمیر اپنے فطری تجسّس پہ قابو نہ پا سکا۔
    "ہزار سوال کرو لاکھ جواب دوں گا۔ مجھ سے کچھ اور پوچھ لو یہ نہ پوچھو۔” زبیر کو اب کی بار واقعی دامن بچانا تھا۔
    وہ دونوں گھر کی کچی دیوار پہ بیٹھے تھے۔شام کے سائے آہستہ آہستہ گہرے ہونے لگے ۔دور آسمان کے آخری کونے پہ سورج اپنی الوداعی روشنی کو بہ مشکل سمیٹے دوسرے دیس کوچ کرنے کی کوشش کرنے لگا۔ان کم عمر سے لڑکوں کا روپ یوں کملایا ہوا تھا، جیسے ان کے جسم پہ درختوں کی چھال جیسی کوئی چیز چپک گئی ہو اور کلہاڑی جیسی کسی سختی کی منتظر ہو کہ آئے اور چیر دے۔ ان کی آنکھوں سے ویرانی یوں ٹپک رہی تھی جیسے شکست خوردہ قدیم کھنڈر کی دیواریں چیخ چیخ کر اپنے ہونے کا ثبوت اپنی دراڑوں سے دیتی ہیں۔ان کی گھنی پلکوں پہ گرد کی اتنی دبیز تہ تھی کہ اس ڈر سے پلک جھپکانے سے گریز کرنے کو جی چاہتا کہ کہیں یہ واحد متاع بھی ہوا کی پرواز کے ساتھ بکھر نہ جائے۔ ان کی آواز پیاس سے لڑکھڑائی ہوئی اور ہونٹ پپڑی زدہ تھے۔ ان کی آوازیں سن کر یوں لگتا کہ کہیں ٹین کے کنستر بج رہے ہیں لیکن اس سب کے باوجود ان کی نو خیز زندگیاں اس بنجر پن سے شکست کھانے کے حق میں نہیں تھیں۔
    وہ دیوار پہ ٹکے ہوئے اپنی باتوں کی پٹاری سے کچھ نہ کچھ بانٹ رہے تھے۔زندہ رہنے کو بانٹنا کتنا ضروری ہے….. ان سے بہتر کوئی نہیں سمجھ سکتا۔
    لبوں پہ پیاس پھڑپھڑا رہی تھی لیکن لفظ پر جَھٹک کر ہوا میں پرواز کرتے رہے اور پیاس وہیں پھڑپھڑاتی رہی۔
    روشنی نے اپنی چادر سمیٹی تو دور سے ایک ہیولا ڈگمگاتا ہوا چلتا آیا۔
    زبیر فورا آگے بڑھا: "ماں کتنا پانی لائی ہو؟”




    "بس یہ اتنا سا ملا۔” ماں نے کٹورا دکھایا جس کا صرف پیندا بھرا تھا۔ زبیر کا چہرہ مایوسی سے لٹک گیا۔ پیاس نے اسے بے حال کر رکھا تھا۔
    "تم لوگ یہاں بیٹھے کیا باتیں بگھار رہے ہو؟” ماں کو جیسے کسی نا خوش گوار بات کا احساس ہوا۔
    زبیر سٹپٹا کر نگاہیں جُھکا گیا۔ اس کی آنکھوں میں ماں کو دیکھ کر روشنی کی جوت جاگی تھی جیسے کھنڈرات کے اندر کوئی ہیرا جگمگا اٹھے لیکن پھر وہ یوں ماند پڑی کہ جیسے ابھی ساری دیواریں چٹخ جائیں گی۔
    اور اب یہ ماں کا سوال…. اس سوال کا سامنا کرنے کی ہمت زبیر میں نہ تھی۔ عمیر تھوڑا بے باک اور انجان تھا۔اپنی گرد آلود آنکھیں جما کر بولا: "بارش کب ہو گی؟”
    ماں نے حیرت سے اسے دیکھا۔آنکھوں میں اتنی حیرت تھی کہ ماتھے تک آئی اوڑھنی پیچھے کہیں لڑھک گئی اور بے چاری کو خبر بھی نہ ہوئی۔
    اس لمحے زبیر نے آنکھ اُٹھا کر دیکھا ماں کی آنکھوں میں بلا شبہ زیادہ گرد نظر آئی۔
    اس نے چھوٹے کو ٹہوکا دیا کہ چُپ رہ لیکن وہ بے خبر رہا اور اس نے اسی طرح اپنا سوال دہرایا۔
    "بارش کب ہوگی؟”
    "اللہ غارت کرے تجھے۔ منہ بند کر کے بیٹھ۔ بارش کی دعائیں نہ مانگ۔وہ آتی ہے تو سب بہا لے جاتی ہے۔ پیچھے ککھ نہیں چھوڑتی۔ ککھ سمجھتا ہے؟ ککھ؟ یہ تیلا؟ یہ بھی نہیں چھوڑتی۔” ماں نے زمین سے تنکا اٹھا کر دکھایا۔
    روٹھے روٹھے قدم اٹھائے وہ اپنی کچی کٹیا میں چلی گئی۔ابھی اس کے بلونگڑوں نے اس کے پیچھے ہی آجانا تھا۔
    عمیر نے گھر کے سامنے کا سپاٹ میدان دیکھا۔ اجڑے ہوئے درخت اور لُو زدہ ہوا، کچھ بھی ماں کے بیان سے میل کھاتا دکھائی نہ دیا۔یہاں تو اَبر کی ضرورت تھی۔ یہاں تو بارش کو برسنا چاہیے تھا۔ یہ مٹی پانی پانی چلاتی بھٹک رہی تھی۔ماں نے کیوں ایسی بہکی بات کی۔ماں تو سمجھ دار ہے۔اس کا ناتواں ذہن یہ بوجھ اٹھانے سے قاصر تھا۔ اس نے سوچوں کی گٹھڑی کندھے پہ ہی رکھی اور بڑے بھائی کی پیروی کرتا ہوا گھر میں داخل ہوگیا۔
    ماں نے اتنے میں پیاز توڑ کر دو حصّوں میں بانٹ دی آدھی بڑے کو تھمائی اور آدھی چھوٹے کو۔ ”اللہ غارت کرے” والی بات شاید کٹیا کے دروازے کے باہر ہی کہیں رہ گئی تھی۔وہ پیاز چبا چکے تو پچکا ہوا ایک ایک ٹماٹر بھی ملا۔ زبیر سمجھ گیا ضرور ساتھ والے گاؤں سے خیرات آئی ہوگی۔بھائیوں نے وہ بھی لے کر پیٹ کے ایندھن میں ڈالا۔




  • بس کا دروازہ — نوید اکبر

    جون کی گرمی۔۔۔ دوزخ کی گرمی۔۔۔لاہور شہر اور اُنتالیس نمبر بس۔یہ بس ائیر پورٹ سے شیرا کوٹ تک جاتی تھی، نہ جانے کتنی خاک، کتنے تنکے راستے میں بکھراتے ہوئے۔ اس کے راستے میں کینٹ بھی آتا تھا اور امراء کا گلبرگ بھی۔ یہ روڈ کلمہ چوک سے بھی گزرتا تھا اور اقبال ٹاون کی مون مارکیٹ سے بھی۔
    بس کے اندر سے باہر کی دنیا ہوا کی طرح یوں ہو کر گزرتی تھی جیسے کسی بہتی ندی کے کنارے بنے جوہڑ میں ندی کا کچھ پانی پھنس کر تھوڑی دیر کے لیے رک جائے لیکن پھر بے چین ہو کر تھوڑی ہی دیر میں ندی کے شور میں شامل ہو کر دوبارہ ندی ہو جائے۔




    بس کے دو خود کار دروازے آنے جانے والے پانی کو regulate کرنے کے لئے بنائے گئے تھے، بدلتے موسموں کو نہیں۔ سردیوں میں بس کی کھڑکیاں بند رہتی ہیں۔ اندر بھیڑ کی وجہ سے موسم گرم رہتا ہے۔ گرمیوں میں کھڑکیاں کھل جاتی ہیں پر اندر بھیڑ کی وجہ سے سب تنور ہو جاتا ہے۔ بسیں فطری طور پر گرمی پسند ہوتی ہیں لیکن انسان۔۔۔ انسان فطری طور پر اِختلاف چاہتا ہے۔ وہ گرمیوں میں سردی چاہتا ہے اور سردیوں میں گرمی۔ وہ ہر موسم میں بہار چاہتا ہے اور بہار میں بارش۔ اندر بھی ایک طرح کی بارش ہو رہی تھی۔ جلد کے پور کھل رہے تھے اور ہر طرف پسینہ بہ رہا تھا۔ قمیصیں جسم سے چپک گئیں تھیں۔ چہرے گیلے تھے اور دہشت عروج پر تھی۔ دوپہر کے تین بجے جتنے لوگ بس کی سیٹوں پر ہوتے ہیں اُس سے دُگنے سیٹوں کے بیچ چھت سے ٹنگی لوہے کی راڈوں سے لٹک رہے ہوتے ہیں۔ کچھ کے ہاتھ تو راڈ بھی نہیں آتی۔ پھر وہ ان راڈوں سے ٹنگے بھائیوں کے درمیان پھنس جاتے ہیں جیسے سانسیں جسم میں اور جسم زندگی میں پھنس جاتے ہیں۔ جسمانی نفرت اپنے عروج پر ہوتی ہے۔ جذبوں کی طرح انسان بھی عروج و زوال کا شکار ہوتے ہیں۔ بس میں موجود کچھ لوگ عروج کی طرف سفر کرنے والے ہوتے ہیں، کچھ زوال پہ آ چکے ہوتے ہیں اور کچھ عروج و زوال کے درمیان ڈائواں ڈول ہوتے ہیں۔۔۔
    فطرتاً سب مسافر اسی پانی کی تلاش میں نکلتے ہیں۔ دنیا کا ہر شخص ازل سے اس تلاش میں ہے۔ کسی کو یہ رزق علم سے ملتا ہے، کسی کو روحانیت سے، کسی کو محبت سے، کسی کو شہرت سے تو کسی کو پیسے سے۔ مختلف اقسام کے یہ رزق بانٹنے والے فرشتے بس میں جگہ جگہ پھیلے ہوئے تھے۔ کچھ مستقل طور پر یہاں ڈیرہ ڈالے ہوئے تھے تو کچھ مسافروں کے ساتھ چڑھتے اُترتے رہتے تھے۔ اس بس میں نوّے فیصد لوگ پیسہ ڈھونڈ رہے تھے۔ روٹی ڈھونڈ رہے تھے۔ ہر پیر کے نیچے گردش تھی اور نظریں آسمان کھوج رہی تھیں۔ روٹی ہر روح کو معلوم نا معلوم رستے کی طرف کھینچ رہی تھی اور کچھ کو کھینچتے کھینچتے اس بس میںلے آئی تھی۔ بہت سوں کو تو رزق اسی بس سے ملتا تھا۔
    ڈرائیور، کنڈیکٹر اور ٹکٹ چیکر کے علاوہ کئی ایسے دُکان دار تھے، جو اس بس میں دو گھڑی کے لیے چھابڑی لگاتے اور اگلے سٹاپ پہ اُتر جاتے۔
    صدر بازار کے پاس ایک سانولی سی جوان اوڈھ لڑکی مردوں کے حصے میں داخل ہوئی۔ ناک میں موٹی سی نتھ اور سر پر بڑا سا ڈوپٹہ اوڑھے۔ سارے مرد یکایک اُس کی طرف متوجہ ہو گئے۔ بسوں میں مردوں کی توجہ کئی عورتوں کے لیے پریشانی کا باعث بن جاتی ہے لیکن اُس کے لیے توجہ اک ہتھیار تھی۔ دو سیکنڈ سانس لے کر اُس نے ترنم چھیڑا۔۔۔
    شاہِ مدینہ۔۔۔ شاہِ مدینہ
    یثرب کے والی
    سارے نبی تیرے در کے سوالی
    شاہِ مدینہ۔۔۔ شاہِ مدینہ




    بس کا موسم بدلنے لگا۔ نگاہوں میں اک آواز لہرانے لگی۔ کسی کو اپنے گناہ یاد آئے تو کسی کو محرومیاں۔ اگلے سٹاپ سے پہلے پہلے نعت ختم ہو چکی تھی اور وہ گناہ گاروں اور نیکوکاروں سے اُن کی بخششں اور ثواب کے سکّے سمیٹ کر، اُنہیں اپنے حال پہ چھوڑتے ہوئے بس سے اُتر گئی۔ اُس کے اُترتے ساتھ ہی انسانیت کے اس مختصر ٹولے پر تاجروں، حکیموں اور علم فروشوں کی عنایت ہو گئی۔ خبر نامے کے مطابق آج ملک میں تجارتی سرگرمیاں اپنے عروج پر تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر کی نعمتیں آ موجود ہوئیں۔ سب کچھ بکنے لگا۔
    "بہنوں اور بھائیو۔۔۔ جی میں آپ کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ حلال رزق عین عبادت ہے جو شخص جھوٹ بیچ کر مال بیچتا ہے وہ اللہ کا نہیں شیطان کا ساتھی ہے۔”
    بیان تو جاری ہو گیا لیکن منجن نہ بکا۔۔۔ حالاں کہ ڈبیا پہ منجن بنانے والے کی فوٹو بھی تھی۔ کتنی مشابہت تھی ان دونوں میں۔ ویسے بھی جب بنانے والے اور بیچنے والے کے نظریات ایک ہوں، جذبات ایک ہوں، مقاصد ایک ہوں تو صورتیں کیوں نہ ایک ہوں؟
    "دانت سے خون آئے تو نماز نہیں ہوتی۔” منجن نہ بکا۔
    "عزیز دوست پاس آنے سے کتراتا ہے۔” نہ جی نہ۔
    "معاشرے میںسبکی ہوتی ہے۔” کوئی چکر نہیں۔
    "محبوب سے راز و نیاز کی باتیں کم ہو جاتی ہیں۔” بک گیا۔
    ایک بوڑھے بابا جی کی عنایت ہو گئی۔ بارش کی اس پہلی بوند کے بعد بارش کے دو چارقطرے اور بھی ٹپکے لیکن پھوار نہ پڑ سکی۔ منجن فروش اگلے سٹاپ پہ اُتر گیا۔ آج صفائی ، صحت اور فارماسوٹیکل فرشتے کچھ سست سست سے تھے۔
    سفر جاری رہا اورسفر کرتے کرتے سڑک سورج کے قریب چلی گئی۔ زمین کی برف زوروں سے پگھلنے لگی۔ بس کی ساری سواریاں پگھلنے لگی۔پنجاب میں سیلاب کا موسم تھا۔ ہر طرف پانی آگیا۔۔۔ اور ہر زبان سوکھنے لگی۔
    ایک چودہ پندرہ سال کا لڑکا اس سیلاب میں دھڑا دھڑ پانی کے گلاس بیچنے لگا۔ پانی نیم گرم تھا۔ شائد یہ گرمی پانی نے تار کول کی اُس سڑک سے جذب کی تھی جس پر یہ لڑکا ننگے پیر دوڑ رہا تھا۔
    ٹھنڈی گنڈیری ، میٹھی گنڈیری۔ چند سکّوں کے عوض کچھ کڑوی زبانیں بھی میٹھی ہو گئیں۔
    بھیڑ میں پرانی قمیص اور سستی جینز پہنے شخص نے آواز لگائی۔۔۔ "چائنا آگیا، چائنا چھا گیا۔ بازار جا کر پوچھو تو اس بال پوائنٹ کی قیمت بیس روپے سے کم نہیں۔ کمپنی کی پروموشن واسطے اس وقت دو بال پوائنٹ اور ایک خالص جاپانی کاغذی پنکھے کے سیٹ کی قیمت ہے۔۔۔ دس روپے، دس روپے، دس روپے۔”
    اس نوجوان کے پیچھے سفید شلوار قمیص پہنے ایک عزت دار شہری کھڑا تھا۔ نوجوان کے چُپ ہوتے ساتھ ہی اس درمیانی عمر کے پاکستانی نے تقریر شروع کر دی جس کا لبّ لباب یہ تھا کہ پاکستانی معاشرہ تنزلی اور بے راہ روی کی طرف گامزن ہے۔ دین سے دوری نے زندگی میں برکت او ر روحانیت کا خاتمہ کر دیا ہے۔ رزق میں تنگی آ گئی ہے۔ پریشانیوں اور مسائل میں اِضافہ ہو رہاہے لیکن اس سب سے نجات ممکن ہے۔ طریقہ پانچ وقت کی نماز، اور نماز کے بعد چند دعائیں۔ ان دعاوں کا جاننا زیادہ مشکل نہ تھا کیوں کہ اس کے کاندھے سے لٹکے بیگ میںایک انمول کتاب بیسیوں کی تعداد میں موجود تھی۔ فلاحی اغراض کی بنا پر کمپنی بسوں میںاس کتاب کا ہدیہ صرف دس روپے وصول کر رہی تھی اور تو اور اس کتاب میں بس پر چڑھنے اور بس سے اترنے کی بھی دو سنہری دعائیں درج تھیں۔ یہ کتاب بس میں ہٹ ہو گئی اور اس دن کی بیسٹ سیلر قرار پائی۔ پوری سات کاپیاں فروخت ہوئیں۔ شائد سات زندگیاں بدل گئیں۔ کئی اور زندگیوں میں بھی برکتوں اور روحانیت کے چراغ روشن ہو جاتے اگر ملک خوش حال ہوتا اور جیبوں میں بس کا کرایہ چھوڑ کر اضافی دس روپے ہوتے۔۔۔ لیکن نہیں۔ ایسی صورت میں شائد اس عزت دار شہری کی ایک بھی کتاب نہ بکتی۔ بھوک مٹ جائے تو دسترخوان پہ کون بیٹھتا ہے۔ حسرتیں ختم ہو جائیں تو دعا کون کرے؟




  • درخت اور آدمی — محمد جمیل اختر

    درخت کے سائے میں بیٹھے بیٹھے ایک دن وہ اُکتا گیا، یہ دنیا اتنی بڑی ہے میں کب تک یہاں پڑا رہوں گامجھے ضرور یہاں سے جانا ہوگا۔
    ”میں یہاں سے جارہاہوں ” ایک دن اُس نے درخت کو اپنا فیصلہ سُنا یا۔
    درخت جو اُسے سایہ دینے میں ایسا مگن تھا کہ اُسے یقین نہ آیا۔
    اُس نے اپنی شاخیں پھیلائیں اورکہا: ”دیکھو یہاں سے مت جائو تمہارے بغیر میرا کیا ہوگامیں اپنی شاخوں کو اور گھناکر دوں گابس تم یہیں رہو میرے پاس۔”
    ” میں نے فیصلہ کر لیا ہے میں وہاں سے تمہارے لیے کھاد اور پانی بھیجوں گا”
    ”تم پھر سوچوشاید کوئی اور حل نکلتاہو دیکھومیں تمہارے بغیرنہیں رہ سکتاتمہارے سوایہاں میرا کون ہے ؟”
    ”کئی اور مسافر آئیں گے تمہارے سائے میں بیٹھیں گے تم سے باتیں کریں گے تم پریشان نہ ہو میں لوٹ آئوں گا۔” اور وہ وہاں سے دور بہت دور جا کر آباد ہوگیادرخت ساری رات روتا رہااور بہت سی شاخیں اُسی رات ٹوٹ کے گرگئیں ۔
    مدتیں گُزریں وہ پلٹ کر نہیں آیانئے شہر کے نئے ر نگ تھے نئی مصروفیات تھیں ،ہاں لیکن شہر میں جب کبھی اُسے گائوں کا کوئی آدمی ملتا تو وہ اُس سے درخت کے بارے ضرور پوچھتا۔




    شروع شروع میں لوگوں نے اُسے بتایا کہ درخت کے پتے گر گئے ہیں اور وہ ساری رات روتا ہے شاید دیمک لگ گئی ہے اُسے۔ ”
    ”لیکن میں تو کھاد اور پانی ہر ماہ بھیجتا ہوں کیا یہ محکمے کے لوگ میرا سامان وہاں نہیں پہنچاتے؟”
    ”کھاد اور پانی پہنچ رہا ہے لیکن درخت پہ بہار نہیں آرہی ایک بار دیمک لگ جائے تو کہاں بہار آتی ہے۔”
    وہ فکر مند ہوا درخت کو دیمک لگنے کا خیال اُسے بار بار ستاتا لیکن شہرکی مصروفیات نے اُسے یہ سب آخر بھلا دیا، کچھ اور عرصہ بیت گیا اُسے لوگوں نے بتایا کہ درخت کی سب شاخیں ٹوٹ چکی ہیں اور وہ نیچے بیٹھے مسافروں میں سے کسی کو نہیں پہچانتا۔
    اُس نے درخت کو پیغام بھیجا کہ وہ شہر آجا ئے کہ یہاں پرانے درختوں کی دیکھ بھال کے لیے الگ نرسریاں آبادہیں۔
    ”میں کیسے آسکتا ہوں ، میں تو درخت ہوں زمین سے جڑا ہوادرخت۔”
    پھر وہ ایک مدت بعددرخت کے پاس لوٹ آیا ۔
    ”میں آگیا ہوں، تم خاموش ہو، مجھے پہچانو میں آگیا ہوں تمہاری شاخیں تمہارے پتے کہاں ہیں ، بولوتم بولتے کیوں نہیں۔”
    ٹنڈ مُنڈ سے درخت نے سر اُٹھا کر اُسے ایک نظر دیکھا (ایسی نظر سے کہ جس کو سمجھنے کے لیے آدمی کو کم ازکم درخت ہونا پڑے گا)۔

  • سوزِ دروں — سندس جبین

    سوزِ دروں — سندس جبین

    داستان محبت مقابلے میں شامل ”سوزِ دروں” ایک ایسی کہانی ہے جس کو لکھنے سے پہلے کئی بار میرا قلم دماغی اور ارادی طور پر ٹوٹا پھر ہمت کرکے لکھنا شروع کردیا۔ مگر ذہن میں ہر وقت ہار جیت چلتی رہی تھی۔ شاید وجہ یہ تھی کہ اس سے پہلے کبھی نہ تو رائٹنگ کمپٹیشن ہوا تھا نہ میں نے حصّہ لیا تھا۔ مگر میں اپنے بابا کی بہت شکر گذار ہوں جنہوں نے مجھے بہت سپورٹ کیا اور بار بار حوصلہ افزائی کی کہ ہار جیت چھوڑو اور کہانی لکھوں… اس لیے میں نے پھر واقعی ہار جیت کا خیال ذہن سے نکال کے اسے لکھا اور میں سمجھتی ہوں کہ اسی وجہ سے میں نے اسے مکمل بھی کر لیا۔ اللہ پاک کا کرم ہے کہ اس نے مجھے بہت سے اچھے لوگوں میں سربلند کیا۔
    الف کتاب کی ساری ٹیم اور جیوری کا شکریہ جنہوں نے اس قابل سمجھا اور سو سے زیادہ رائٹرز میں سے مجھے چنا گیا۔ محبت کا جو نظریہ میں نے اپنی داستان محبت میں چنا مجھے یقین ہے کہ آپ اس سے اتفاق کریں گے کیوں کہ محبت تب ہی خوبصورت ہے جب اس کے سوزِدروں میں پاکیزگی کا ساز ہو۔

    سندس جبیں




  • اب تو موت بھی نصیحت نہیں کرتی — اسیرِ حجاز

    میں نے جیب سے اپنا نیا آئی فون نکالا، ملیحہ کا میسج تھا "Very cute look… Jan!!!” اوپر دیکھا تو دوسری منزل پر کھڑی وہ بڑے پُر جوش انداز سے ہاتھ ہلا رہی تھی۔اُس نے سکن ٹائٹ ٹرائوزر اور بغیر بازوئوں والی شرٹ زیب تن کر رکھی تھی۔
    "You are all set to kill me… Mili” میں نے جواب دیا اور ساتھ ہی اشارہ کیا کہ وقفے میں ملتے ہیں۔ مجھے ان رنگین تتلیوں میں ہمیشہ ہی بہت کشش محسوس ہوتی تھی، جو میری طرف خود ہی کھنچی چلی آتی تھیں۔ رومانس، ڈیٹنگ سب کچھ میری زندگی کا لازمی حصہ تھے… کچھ میری وجاہت اور کچھ شاہانہ اخراجات، مہنگے ترین مالز سے ان کے لئے تحائف اور اچھے ہوٹلز میں کھانا… ان لڑکیوں کو اس سب کے علاوہ کسی چیز سے مطلب بھی کیا۔ اچانک میری نظر سامنے لگے ٹائم ٹیبل پر پڑی…
    Islamic studies: 9-11am
    ”اوہ نو!” میں نے افسوس سے سر پر ہاتھ مارا۔ پوری انجینئرنگ میں سب سے بور سبجیکٹ۔ پتا نہیں ان HEC والوں کی عقل کہاں چلی جاتی ہے؟ ہمیشہ کی طرح مجھے سلیبس طے کرنے والوں پہ غصہ آ رہا تھا، جو ایک غیر تکنیکی مضمون کو اتنی پروفیشنل پڑھائی کا حصہ بنانے پر تلے رہتے ہیں۔ ہم الحمدللہ مسلمان ہیں، نماز روزے کا پتا ہے، پھربھی نہ جانے کیوں ہمیں وہی چیزیں بار بار رٹتے رہنیپر مجبور کرتے ہیں۔ اوپر سے ڈاکٹر ذوالقرنین! قسم سے ان ڈاکٹر صاحب کو تو ایمان داری کا ایسا رو گ لگا ہے کہ بس!!! مجال ہے جو کبھی ایک لیکچر بھی کینسل کر دیں۔ دو گھنٹے تک پھر ان کا لیکچر!!!!





    پورے سمسٹر میں آج میں دوسری بار ان کی کلاس میں جا رہا تھا۔ میرے پورے تعلیمی کیرئیر میں یہ شاید واحد مضمون تھا جسے میں نے ہمیشہ "one eyed study” کے ذریعے پاس کیا تھا۔ آج تو پیچھے والی ساری نشستیں پُرہونے پر مجبوراً مجھے ڈاکٹر صاحب کے بالکل سامنے والی سیٹ پر بیٹھنا پڑا۔
    ”مر گئے۔ آج تو بچنے کا کوئی امکان بھی نہیں۔ کیسے گزریں گے یہ دو گھنٹے؟؟؟” میں نے بے بسی سے سوچا۔ ڈاکٹر صاحب نے بورڈ پر لکھنا بند کر دیا تھا۔ تختۂ سفید پہ تاریخ کے ساتھ آج کے لیکچر کا عنوان بھی خوشخط لکھا ہو اتھا…
    ”ہر ذی روح نے موت کا مزا چکھنا ہے۔”
    ”موت ایسی حقیقت ہے جس سے کوئی انسان انکار نہیں کر سکتا۔ لوگ خدا کو ماننے سے منکر ہو سکتے ہیں، رسولوں کی حقانیت کو اپنے بے بنیاد نظریات کے مقابل غلط سمجھ سکتے ہیں، آسمانی کتابوں، مر کر جی اٹھنے اور جنت و جہنم کو تو جھٹلا سکتے ہیں مگر موت… یہ ایسی ایک اٹل حقیقت ہے کہ کسی بھی مذہب یا فرقے سے تعلق رکھنے والا، چاہے تعصب کی کتنی ہی گہری عینک لگا لے، موت کو نہیں جھٹلا سکتا” ڈاکٹر صاحب کی نرم مگر مضبوط آواز گونج رہی تھی۔
    ”ان مولوی لوگوں کو بھی بس موت، جنت اور جہنم کے علاوہ کچھ نہیں سوجھتا، مغرب ترقی کی انتہائوں کو چھو رہا ہے، ہماری زندگی ان کی ایجادات کی مرہونِ منت ہیں اور یہ ہیں کہ بس اسی ”پتھر کے دور” میں جی رہے ہیں”… میں نے ناگواری سے سوچا!
    ”اسی بات کو اللہ تعالیٰ یوں فرماتے ہیں کہ اگر تم میرے وجود سے انکاری ہو اور انسان ہی کو ہر طرح کی طاقتوں کا سرچشمہ سمجھتے ہو، تو جس وقت ہم تم میں سے کسی ایک کی جان نکالتے ہیں تو تم اس کو واپس کیوں نہیں ڈال لیتے؟؟ اور سائنس کی بے پناہ ترقی کے باوجود انسان اس قابل ہو ہی نہیں سکا کہ وہ اس دعویٰ کو جھٹلا سکے۔”
    میں اپنی زندگی اور کامیابیوں کے متعلق سوچ رہا تھا۔ ابھی تو مجھے بہت کچھ کرنا ہے، یہ صدارتی ایوارڈ، بورڈ ٹاپر… یہ تو ابھی شروعات ہیں… میں سائنسدان بننا چاہتا ہوں اور میری منزل ”ناسا” ہے…
    ”(لوگو) تمہیں (مال و خواہشات کی) بہت سی طلب نے غفلت میں ڈال دیا ، یہاں تک کہ تم نے قبریں جا دیکھیں۔”
    موت کو بھول جانا بہت بڑی حماقت ہے، ہم لوگ پوری زندگی کا ٹائم ٹیبل سیٹ کرتے ہیں، پر اس میں صرف ایک چیز کبھی فٹ نہیں کرتے اور وہ ہے موت۔ دنیا کی چاہت میں انسانوں کے دل گناہوں سے زنگ آلود ہو جاتے ہیں، نصیحت اثر نہیں کرتی، الفاظ بے فائدہ ثابت ہو جاتے ہیں۔
    ”پھر اس کے بعد تمہارے دِل سخت ہو گئے گویا کہ وہ پتھر ہیں یا ان سے بھی سخت”
    اور اس سختی سے نجات کا سب سے کارگر طریقہ ہے موت کی یاد۔ جب انسان کو اس بات کا ادراک ہوتا ہے کہ جلد یا بدیر اس نے اس جہان فانی کو چھوڑ جانا ہے اور دنیاوی مال و متاع یہاں ہی رہ جانا ہے تو وہ بہت سی نفسانی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے مارا مارا نہیں پھرتا… یہی وجہ تھی کہ نبی ۖ خود بھی موت کا تذکرہ کثرت سے فرمایا کرتے اور صحابہ کوبھی اس کی تلقین فرماتے۔”
    اگر ہر وقت موت کا ہی سوچتے رہے تو پھر تو گئے کام سے۔ دنیا کا نظام ہی ختم ہو جائے گا اگر ہر کوئی یہ سوچ ہر وقت ساتھ لیے پھرے تو … اور یاروں دوستوں کے ساتھ کی جانے والی تفریح!!! ہنہ، موت جب آئے گی تو دیکھ لیں گے۔”





    ”ایک دفعہ نبی ۖ صحابہ کی مجلس میں تشریف لائے تو دیکھا کہ وہ کھلکھلا کے ہنس رہے تھے اور ہنسی کی وجہ سے ان کے دانت کھل رہے تھے۔ آپ ۖ نے فرمایا کہ اگر تم موت کو کثرت سے یاد کرو تو جو حالت میں دیکھ رہا ہوں وہ پیدا نہ ہو۔ قبر پر کوئی ایسا دن نہیں گزرتا جب وہ یہ آواز نہ دیتی ہو کہ میں تنہائی کا گھر ہوں، بیگانگی اور کیڑوں کا مسکن ہوں۔ جب کوئی صالح میت اس میں رکھی جاتی ہے تو وہ اسے کہتی ہے کہ تیرا آنا مبارک ہو، زمین پر جتنے آدمی چلتے تھے، تجھ ہی سے مجھ کو زیادہ الفت تھی آج جب تو میرے حوالے ہوا ہے تو میرے حسن سلوک کو بھی دیکھ لے گا۔ اس کے بعد وہ حدِ نگاہ تک وسیع ہو جاتی ہے اور ایک دروازہ جنت کا کھل جاتا ہے۔ اور جب کوئی بدکردار اس میں رکھا جاتا ہے تو کہتی ہے کہ تیرا آنا نامبارک ، برا کیا جو تو آیا، زمین پر جتنے آدمی چلتے تھے تجھ سے ہی مجھے سب سے زیادہ نفرت تھی۔ اس کے بعد وہ اس کو اتنا دباتی ہے کہ اس کی پسلیاں ایک دو سرے میں گھس جاتی ہیں اور جہنم کی ایک کھڑکی کھول دی جاتی ہے۔ جہاں سے جہنم کا دھواں اور بدبو اس کو آتی رہتی ہے۔”
    ”آج آنے کی غلطی ہو گئی ہے تو اب اس کی سزا اس طرح ملے گی!!!” میں نے انتہائی بے زاری سے سوچا۔
    ”صحابہ ہر وقت موت کو پیشِ نظر رکھتے تھے، اور اسی وجہ سے ان کے دل دنیا سے اچاٹ رہتے تھے۔ اس حالت میں ان کو ذرہ بھر بھی تغیر محسوس ہوتا تو فوراً سے پیشتر خود کو ملامت کرتے۔ ایک دفعہ ایک محفل میں جب نبی ۖ نے قبر کے حشر کا ذکر فرمایا تو صحابہ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ مجلس کے بعد جب حنظلہ گھر آئے اور بیوی بچوں کے ساتھہنسی مذاق میں مشغول ہوئے تو فوراً یہ خیال آیا کہ آپ ۖ کی خدمت میں تو آنسو اور یہاں یہ حال؟ خود کو منافق سمجھتے ہوئے حاضر خدمت ہوئے تو آپ ۖ نے فرمایا کہ ہر وقت میری مجلس والی کیفیت رہے تو فرشتے سرِ بازار تم سے مصافحہ کرنے لگ جائیں، لیکن ایسا تو کبھی کبھی ہوتا ہے۔”
    مجھے کسی کی موت نے کبھی نہیں رلایا تھا، حتیٰ کہ اپنی سگی ماں کی وفات پر بھی ایک آنسو تک نہیں نکلا تھا میرا، احساس تک نہیں ہوا تھا کہ کیا ہو چکا ہے… میرے سب جاننے والے میرے حوصلے کی داد دیا کرتے تھے۔ مجھے سب سے بڑی ڈرامہ باز وہ عورتیں لگتی ہیں جو مردے کے سرہانے چیخ چیخ کر آسمان سر پر اٹھا لیتی ہیں… اس پر میں ہمیشہ ایک ہی لفظ بولا کرتا تھا… "Overacting”۔
    ”حضرت عبداللہ ایک حدیث اس طرح سے بیان فرمایا کرتے تھے کہ دنیا میں اس طرح رہو جیسے کوئی مسافر اور فرماتے تھے کہ اگر صبح مل جائے تو شام کی امید مت رکھو اور شام کو پالو تو صبح کی امید نہ رکھو۔”
    ”پھر تو بندہ مصلے سے سر ہی نہ اٹھائے، اس میں دنیا داری تو کہیں نہیں بچتی”… میں نے سوچا۔
    ”حضرت عثمان قبر کے ذکر پر اتنا روتے تھے کہ بعض دفعہ داڑھی تر ہو جاتی۔ فرمایا کرتے تھے کہ یہ آخرت کی منزلوں میں سے پہلی منزل ہے، جو اس میں سرخرو ہوا وہ آگے بھی بچ جائے گا۔ حضرت عمر جن کی فراست کا ہر کوئی معترف تھا اور ہے، انہوں نے اپنی مہر ایک عبارت پر درج کروا رکھی تھی۔
    ”نصیحت کے لئے موت ہی کافی ہے”
    یہ الفاظ اچانک ہی میرے دل میں جا پیوست ہوئے اور میرے ذہن پر دستک دینے لگے… مجھے کچھ اور سجھائی دے رہا تھا نہ سنائی۔ اس ایک عبارت کے الفاظ نے مجھے کیا کر دیا تھا؟ میں سمجھنے سے قاصر تھا… میں تو بڑے بڑے علماء کی باتوں کو چٹکیوں میں اُڑا دیا کرتا تھا… اس ایک فقرے میں کیا جادو تھا… میری ساری حسیات یک دم میرا ساتھ چھوڑ گئی تھیں… میں، جسے اپنی قوتِ ارادی پر ناز تھا مجھ سے فیصلے کی ساری قوت لے لی گئی تھی… جس کو اپنی دماغ پہ غرور تھا… اس کا ذہن کام کرنا چھوڑ گیا تھا… میں تو انتہا درجے کا پریکٹیکل آدمی تھا… پھر بھی نہ جانے کون سی طاقت تھی جو مجھے ماضی کے جھروکوں میں جھانکنے پہ مجبور کر رہی تھی؟؟؟ مجھے اپنے سامنے مرنے والے سارے لوگ ایک ایک کر کے یاد آنے لگے جنہیں میں غیر سنجیدگی سے لیا کرتا تھا۔ وہ جنازے جن میں مجھے میرے گھر والے زبردستی بھیج دیا کرتے تھے، وہ ساری میتیں میرے ذہن میں دستک دینے لگیں۔ سفید کپڑوں میں ملبوس وہ چہرے ایک سلائیڈ شو میں چلنے لگے اور ہر کسی کے منہ سے بس ایک سوال نکل کر آرہا تھا کہ کیا تم نے کبھی اس دنیا کو نہیں چھوڑنا، کیا تم ہمیشہ رہنے کے لئے پیدا کئے گئے ہو؟ ابھی کل ہی دوست کی والدہ کے جنازے کے لئے گیا تھا، چوںکہ میرا ارادہ خانہ پری کا تھا اس لئے راستے میں سب دوستوں کے ساتھ ویسے ہی فحش گفت گو، کار میں انگلش دھنیں اور آنکھوں سے بد نظری… مجھے کھانا پسند نہیں آیا تھا، میں نے اپنے دوست کی خوب مٹی پلید کی، کہ اس موقع پر تو اچھا انتظام کر لیتے… اس کے بعد ہم چاروں دوست وہاں سے نکلے اور سیدھے ایک اچھے ہوٹل گئے۔ رات ہو چکی تھی اس لئے ”شیشے” کا پروگرام بنایا اور شہر کے مشہور ”حقہ بار” پہنچ گئے…
    پتا ہے کبھی کبھی آپ کی آنکھیں برس رہی ہوتی ہیں پر آپ کو پتا نہیں چلتا۔ کھلی آنکھوں سے کچھ نظر نہیں آرہا ہوتا، آوازیں آپ کی سماعت سے ٹکراتی ہیں پر آپ انہیں سمجھ نہیں پا رہے ہوتے، سب کو جانتے ہوئے بھی کسی کو پہچان نہیں پاتے… کچھ ہو گیا تھا میرے دل کو… لگتا تھا کہ پتھر بھی آخر ٹوٹ رہا تھا۔
    ”اور پتھر تو بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ پھٹ جاتے ہیں اور ان میں سے پانی ٹپکنے لگتا ہے اور بعضے ایسے ہوتے ہیں کہ خدا کے خوف سے گر پڑتے ہیں۔”
    دل میں ایک کسک سی جاگ اُٹھی تھی، شاید آگہی کی یا اپنے ماضی پہ ماتم کی!!! میں فرق کرنے سے قاصر تھا۔
    ”میرے بچے! کیا ہوا؟؟” ڈاکٹر صاحب کی مدھم سی آواز سنائی دی، اُن کے پُر نور چہرے پر میری نظر ٹھہر نہ پائی… میرے آنسو گرتے جا رہے تھے اور جسم پسینے سے شرابور… میں نے ٹوٹتی آواز سے کہا:
    ”سر!!! اب تو موت بھی نصیحت نہیں کرتی”




  • دیو اور پری — سارہ عمر

    بہت پرانی بات ہے ایک دیو کا ایک بستی پر سے گزر ہوا۔ اس کی نظر اک گھر کے باغ میں کھڑی خوب صورت لڑکی پر پڑی۔
    لڑکی کیا تھی پری تھی۔ شہزادیوں کی سی آن بان والی۔ دیو نے خوب صورت لڑکی کو پانے کا فیصلہ کر لیا۔ دیو ایک خوبصورت شہزادے کا روپ دھار کر گھوڑے پر سوار اس گھر کے آگے جا پہنچا۔
    دروازے پر دستک دی اور کہا کہ شہزادہ راستہ بھول بیٹھا ہے مسافر ہے کیا پناہ مل سکتی ہے؟
    شہزادی جیسی لڑکی اور اس کے ماں باپ تو اس شہزادے کا رنگ روپ، آن بان اور شان و شوکت دیکھ کر دنگ رہ گئے۔ انہوں نے اسے گھر آنے کی اجازت دے دی۔ وہ ان کے گھر آیا اور پھر یہیں کا ہو کر رہ گیا۔ کچھ ہی عرصے میں لڑکی کے گھر والوں کو سبز باغ دکھا کر اپنی دولت کے قصے سنا کر اور اپنی باتوں میں الجھا کر ایسا ہوش سے بے گانہ کیا کہ وہ اپنی بیٹی دینے پر راضی ہو گئے۔
    اس لڑکی کا نام پری تھا، لگتی بھی پریوں جیسی تھی۔ وہ تو خود شہزادے پر دل و جان سے گرویدہ ہو گئی لیکن مشرقی شرم و حیا کے باعث بول نہ سکی۔ دل ہی دل میں مستقبل کے خواب سجائے، وہ خاموشی سے اپنے سپنوں کے راجا کے سنگ رخصت ہو گئی۔
    اس کے ماں باپ بہت خوش تھے کہ دور دیس کا راجا صرف ان کی بیٹی کو لینے اتنی دور کا سفر کر کے آیا۔
    دیو شہزادے نے پری کو گھوڑے پر بٹھایا اور گھوڑا ہوا سے باتیں کرتا دوڑتا چلا گیا۔
    پری اپنے خیالوں میں کھوئی ہوئی تھی اچانک اسے لگا گھوڑا سچ میں آسمان سے باتیں کرتا اوپر کی طرف جا رہا ہے۔ آہستہ آہستہ گھوڑا بادلوں میں گم ہوتا گیا۔ دیو کا محل بادلوں کے اوپر تھا۔





    دیو کا محل آگیا تھا۔ دیو جو ابھی شہزادے کے ہی روپ میں تھا اپنی دلہن کا ہاتھ پکڑ ے اپنے محل لے گیا۔ وہ حیران و پریشان تھی کہ یہ کہاں آگئی؟………
    شہزادے نے کہا: ”پری میں زمین پر سیر کرنے گیا تھا جب تم پر نظر پڑی۔ مجھے لگا کہ تمہارے بغیر میری زندگی ادھوری ہے تمہارے آنے سے میرا گھر مکمل ہو گیا۔ اب یہ تمہارا گھر ہے ہمیشہ کے لئے۔”
    پری کچھ گھبرائی اور بولی: ”لیکن میر ے ماں باپ؟ کیا میں ان سے کبھی مل نہ سکوں گی۔”
    ”نہیں نہیں اب ایسا بھی نہیں کچھ سال تو انتظار کرنا پڑے گا نا… کیوںکہ بار بار زمین پر جانے کی اجازت نہیں ملتی۔”
    پری اب کیا کرتی شادی تو ہو گئی تھی۔ شہزادہ اسے لے کر بادلوں کی سیر کرتا، محل کا ایک ایک گوشہ گھماتا پھراتا رہا۔
    کئی ہفتے اسی طرح گزر گئے۔ دیو اپنی اصلیت چھپاتے چھپاتے تنگ آگیا تھا۔ دیو نے ایک دن پری سے کہا: ”بہت دن گزر گئے اب تم اپنے گھر کو سنبھالو۔ مثلاً کھانا پکانا صفائی ستھرائی وغیرہ۔ پری پریشان ہوئی اور بولی:” تم مجھے ماسی بنا کر لائے ہو کیا؟”
    دیو شہزادہ بولا: ”نہیں مجھے باورچی کے ہاتھ کے کھانے نہیں پسند۔ تم دل سے میرے لئے پکائو گی تو مجھے اچھا لگے گا۔”
    پری بولی: ”لیکن میرے ماں باپ نے مجھے کھانا بنانا نہیں سِکھایا۔ شادی بھی اتنی جلدی میں ہوئی کہ کچھ سیکھنے کا موقع ہی نہ ملا۔”
    شہزادہ بولا: ”باورچی سے سیکھ لو آہستہ آہستہ سب آجائے گا۔”
    پری شہزادے کی محبت میں راضی ہو گئی۔ باورچی محل کا ایک ہی ملازم تھا۔ وہ ایک جن تھا مگر اس نے اپنی اصلیت نہیں بتائی۔ وہ ایک عام انسان کے روپ میں تھا۔ باورچی نے اسے بتایا: ”پری بی بی! شہزادے صاحب کا کھانا بنانا آسان بات نہیں۔ دراصل ان کے نخرے بہت زیادہ ہیں۔ وہ چھوٹی چھوٹی بات کا برا مان جاتے ہیں۔ شہزادے کی پسندیدہ چیز تیار کرنا جان جوکھم کا کام ہے۔”
    پری کو لگا کہ باورچی خواہ مخواہ اپنی اہمیت جتا رہاہے۔ کچھ شادی کا نشہ تھا اور کچھ اپنے حسن کا غرور جن کا شکار تو شہزادہ ایک ہی وار میں ہو گیا تھا۔ پری دل لگا کر سیکھنے کی کوشش کرتی رہی۔ اس نے باورچی کے ساتھ مل کر بہت محنت سے کھانا بنایا۔ مصالحے وغیرہ اپنے ہاتھ سے ڈالے تا کہ اس کا شوہر اس کی محنت و محبت کا حترام کرے ۔
    کھانا میز پر لگایا گیا۔ شہزادے نے جیسے ہی کھانا چکھا اس کے غیظ و غضب کی انتہا نہ رہی۔ وہ غصے سے چلایا: ”اتنا نمک اور اتنی مرچ کتنا بد مزہ کھانا بنا کر رکھا ہے میرے آگے۔ ”
    وہ ایک شیر کی طرح دھاڑا اور اسی وقت اس کا شہزادے والا روپ ختم ہوا اور لبادہ اُتر گیا۔ اس کی جگہ ایک دیو نے لی۔ معصوم پری اس صورتِ حال سے گھبرا کر چلاتی ہوئی سیڑھوں سے اوپر کی جانب بھاگی اور اپنے کمرے میں کنڈی لگا کر بے تحاشا روئی۔ روتے روتے وہ کمرے کی واحد کھڑکی کے پاس آگئی اور باہر دیکھتے ہوئے رونے لگی اور اس کے آنسو قطار در قطار بادلوں پر گرنے لگے۔ ننھے ننھے موتیوں نے پانی کے ڈھیر سارے قطروں کی شکل اختیار کر لی اور بادل بہت زور سے کڑکے اور برش برسنے لگے گئی۔ پری روتی جاتی تھی اور بارش کی جھڑی رکنے کا نام نہ لیتی تھی۔
    پری کا دل بہت بری طرح ٹوٹا تھا۔ کہاں وہ نازک پری شیشے جیسی کانچ جیسی آبگینے کی طرح اور کہاں وہ ظالم دھاڑتا ہوا دیو۔ اوپر سے اس کے سامنے اس کی بنائی ہوئی چیز کی برائی۔ بھلا گھر میں اس کے ساتھ کبھی ایسا سلوک ہوا تھا۔ اب ماں باپ کی یاد نے اس کا دل اپنی مٹھی میں لے لیا۔ دھیان دیو سے ہٹ کر اپنے گھر کی طرف چلا گیا تھا۔ اپنے ماں باپ کے پاس۔ ناجانے کس حال میں ہوں گے۔
    موسلا دھار بارش ہو رہی تھی۔ کتنے عرصے بعد بارش ہوئی تھی۔ پری کی ماں نے ہاتھ کھڑکی سے باہر نکالا تاکہ بارش کے کچھ قطرے سمیٹ لے۔ لیکن پانی کے یہ قطرے جیسے ہی اس کے ہاتھ پر پڑے۔ اسے لگا یہ قطر ے نہیں پری کے آنسو ہیں۔
    اس کا دل بہت بری طرح بے قرار تھا۔ وہ پریشانی سے پری کے باپ سے بولی: ”کتنے دن ہو گئے پری کی کوئی خیر خبر نہیں۔ کیا تمہارے پاس اس کا پتا تک نہیں؟” پری کا باپ بھی اداس تھا۔ وہ اپنی کم عقلی پر حیران ہوا کہ واقعی مجھے اس کا پتا پوچھنے کی فرصت نہ ملی اور یوں انجان شخص کے ساتھ اپنی پھول سی بیٹی بھیج دی۔ نہ جانے کس حال میں ہو گی۔ دونوں ماں باپ اب پری کے لئے بے چین اور مضطرب سے ہو گئے۔
    پری نے آہستہ آہستہ حالات کے ساتھ سمجھوتا کر لیا تھا۔ کیا کرتی شادی جو ہو گئی تھی۔ اس نے کھانا پکانا بھی سیکھ لیا تھا۔ وہ سارا سارا دن محل کی صفائی کرتی، کھانا پکاتی ،برتن دھوتی اور کپڑے دھوتی۔ حالاںکہ دیو چاہتا تو اسے کچھ نہ کرنا پڑتا۔ لیکن وہ چاہتا تھا کہ وہ اتنا تھک جائے کہ اسے اپنے گھر کی یاد نہ ستائے۔ اپنے ماں باپ سے ملنے کی خواہش نہ ہو کیوںکہ اگر وہ زمین پر چلی گئی اور میری اصلیت بتا دی تو بھلا اس کے ماں باپ اسے دوبارہ کب آنے دیں گے۔ اس سوچ نے دیو کو خود غرض بنا دیا۔
    پری کو ہر وقت غم رہتا کہ اس کے ماں باپ نے اس کی شادی جس انسان سے کی وہ کیا نکلا؟ سب پیار، محبت، عزت واحترام کے وعدے ہوا ہو گئے اور بس کچھ ہی مہینوں میں اس کی اہمیت ختم ہو گئی۔
    پری دن رات وہاں سے نکلنے کے منصوبے بناتی۔ لیکن کیسے؟ کیا کرے؟ کھڑکی سے چھلانگ لگا دے؟ بادلوں پر گرے گی تو کہاں جائے گی؟ اسے لگتا کہ دیو اس کو قید میں ڈال کر بھول گیا ہے۔