Author: misbah116@hotmail.com

  • جو ملے تھے راستے میں — سما چوہدری

    جو ملے تھے راستے میں — سما چوہدری

    ’’نایاب گوہر علی! یہ نام کتنا مکمل ہے۔‘‘
    ’’ہے نا ؟‘‘وہ نڈھال سا دیوار سے لگا کہہ رہا تھا ۔
    ’’دیکھو اسد !‘‘ اپنا ہاتھ آگے کیے وہ اسد کو دکھا رہا تھا۔ وہ نام جو مٹ چکا تھا۔ اس کی بہتی آنکھوں کی رواں لہروں سے جو بنا اجازت اُس کے وجود سے لپٹی ماتم کر رہی تھی۔
    ’’وہ بے مول تھی، پھر بھی میں مول ادا کرنے کو تیار تھا۔ اسے خبر تو تھی میں آوؑں گا۔ پھر وہ کیوں چلی گئی؟ اسد وہ کیوں چلی گئی۔‘‘
    ’’گوہر! زندگی اسی کا نام ہے۔‘‘ اسد نے اس کے ہاتھ کو تھامے حوصلہ دیتے ہوئے کہا۔
    ’’ہممم…زندگی !‘‘بڑا تمسخر آمیز لہجہ لیے وہ بآواز بلند ہنستا چلا گیا۔ اس کے قہقہے پورے کمرے میں گونج رہے تھے۔ جیسے خالی بند گھر میں اک ذرا سی آواز شور برپا کر دے۔ جیسے خاموش ویرانے میں ہوا کی ذراسی سرسراہٹ خاموشی کو چیرتی ہوئی اپنے ہونے کا احساس دلائے۔ جیسے ٹھہرے ہوئے پانی میں کوئی زور سے پتھر مار دے اور کوئی پانی کی بے چینی کا تماشا دیکھے۔
    ’’گوہر تمہیں نایاب کہاں ملی تھی ؟‘‘ اسد نے جاننے کی کوشش کی۔نایاب کا نام سن کر وہ بے ساختہ اپنے کمرے کی اس کھڑکی کی طرف لپکا جو آدھی کھلی تھی مگر چاند کی روشنی برابر آرہی تھی۔ اس نے پاس جاکر کھڑکی کا ایک پٹ پکڑ لیا۔
    ’’وہ وہاں …وہاں وہ… سڑک۔‘‘ اپنی انگلیوں سے اشارہ کرتے وہ بار بار اپنی آستین سے چہرہ صاف کر رہا تھا۔ مسلسل اپنی آنکھوں کو جھپک رہا تھا جیسے کوشش کر رہا ہو کہ منظر بالکل صاف نظر آئے۔ اس دھند کی طرح جو اگر چھا جائے تو اپنی ہی سمت کا اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ بار بار ہم اپنا ہی شیشہ صاف کرتے ہیں منظر شناسائی کے لیے۔
    گوہر بھی اپنی آنکھوں پہ پڑی دھند ہٹا رہا تھا۔
    ’’وہ مجھے سڑک کے اس کونے میں کھڑی ملی تھی۔ چپ سی اک پھٹی ہوئی چادر میں خود کو ڈھانپ رہی تھی۔ ننگے پاوؑں، چہرے پر بکھرے بال، زرد رنگ کا لباس پہن رکھا تھا جو اِس کے زرد ہوتے چہرے سے خوب مل رہا تھا۔ وہ بار بار اپنے ہونٹوں کو صاف کر رہی تھی جن سے خون رِس رہا تھا۔ سرد ہوتی زمین پر وہ کبھی اپنے دائیں پاوؑں کو اوپر کرتی تو کبھی بائیں کو۔پھر باری باری ہاتھ سے مالش کرتی۔ ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی مگر اس کی پائل کی چھن چھن کسی پرسوز ساز کی طرح میرے خالی وجود میں رچ رہی تھی۔ میرا دل مور بن ناچ رہا تھا ۔ میرا خود پر اختیار ہی نہ تھا۔‘‘ گوہر کی پلکوں پہ ٹھہرے ہزاروں آنسو اپنی باری کا شدت سے انتظار کر رہے تھے۔ مانو کب وہ آنکھیں موندے اور کب ظالم برس پڑیں۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    اسد حیران تھا کہ محض چند منٹوں میں کوئی اتنا گہرا مشاہدہ بھی کر سکتا ہے۔ وہ اپنے عزیز دوست کی حالت پر غمگین تھا اور اب حیرت کے سمندر میں غوطہ لگائے اس کی باتوں کو غور سے سن رہا تھا۔
    ’’گوہر تم اس کے پاس نہیں گئے ؟ بات نہیں کی؟‘‘اک گہری کرب سے سجی مسکان لیے وہ برملا مخاطب ہوا۔
    ’’ملا تھا نا، خودبہ خود۔ میرا دل اس کی طرف لپکا اور میرا عشق میری اس عقل کے آڑے آگیا۔ میں بھی ننگے پاوؑں بھاگا تھا۔ مجھے اس کی برابری کرنی تھی۔‘‘ اسد نے چونک کر اس کی طرف دیکھا۔
    ’’مگر گوہر تمہارے پاس تو جوتے تھے۔‘‘
    ’’ہاں تھے مگر میں کیسے برتری لیتا، کیسے اس سے مقابلہ کرتا؟ عشق کی شان میں گستاخی ہوجاتی پھر؟ تو لوگ کہتے کیسا عاشق ہے رے تو۔ محبوب سے قدم بھی نہ ملا پایا۔ دل ملانا تو دور رہا۔‘‘وہ جذب کے عالم میں بولے جارہا تھا۔
    ’’جانتے ہو جیسے میں اس کی طرف بڑھ رہا تھا۔ میرا دل میرے وجود کا ساتھ چھوڑ رہا تھا۔ دھڑکن بضد تھی جیسے مجھے پکار کر کہہ رہی ہو کہ آج تباہی ہوگی۔ آج نہ چھوڑوں گی تم کو۔ کیا یاد کروگے کس جذبے کو ہوا دی ہے میں نے۔ چند قدم پیچھے کھڑے ہو کر میں نے اسے مخاطب، کیا آپ کو کچھ چاہیے؟ تو اس کی نظریں میرے قدموں سے لگے ان لفافوں پہ تھی جو شاید چلتے چلتے میرے پاؤں سے لگ چکے تھے۔ اس نے پتا ہے کیا کہا؟‘‘ اسد پوری طرح متوجہ تھا۔
    ’’ ہمم!‘‘
    ’’اس نے کہا آپ کو بھی کسی نے لوٹ لیا؟‘‘ گوہر کا قہقہہ بلند ہوا تھا۔
    ’’میں حیران ہوا جوتے بھی کوئی لونٹے کی چیز ہے ؟‘‘
    ’’ارے صاحب! جب روح ہی لٹ جائے، جب جسم مر جائے، جذبات کچل دیے جائیں ، وجود کی بوٹی بوٹی نوچ لی جائے، تن سے لپٹا چند گز کا کپڑا تار تار ہو جائے تو پھر پاوؑں کی جوتی ہی رہ جاتی ہے۔ میرا کل اثاثہ لمبی مسافت کی نذر ہوگیا۔‘‘وہ تلخی سے اپنے ہاتھ کو ہوا میں لہراتے ہوئے بولی تھی۔ اس کے زخمی ہونٹوں کی ذرا سی جنبش سے ادا ہونے والا وہ آخری لفظ جو مجھے سمجھ آیاکہ وہ رقاصہ تھی!
    اسد جو کھڑا سن رہا تھا ایک دم زمین پر بیٹھ گیا۔
    ’’گوہر وہ…‘‘
    ’’ہاں! مجھے اس رقاصہ سے عشق ہوگیا تھا۔‘‘ اس نے بنا سوال کے جواب دیا۔ وہ سوال جو اسد کے لبوں پر مچل رہا تھا۔
    ’’میں کیوں چھپتا ؟کہ جس پر ایک نظر ڈالنے سے میرا سب کچھ لٹ گیا تھا، وہ ایک رقاصہ تھی۔‘‘
    ’’پھر کیا ہوا ؟‘‘ تجسس سے پوچھا گیا۔
    ’’میں نے اسے اپنے ساتھ آنے کی دعوت دی کہ رات بہت ہو چکی۔ سرد ہوائیں بھی اپنے عروج پر تھیں کہا، کچھ دیر قیام کر لیں پھر جہاں آپ بولیں میں چھوڑ آؤں گا۔ میری بات کے جواب میں صرف وہ ہنستی رہی۔ میں اپنی نگاہیں نیچی کیے کھڑا رہا شاید کوئی غلط بات کہہ دی۔‘‘
    اگلے ہی لمحے وہ کھانستے ہوئے بولی:
    ’’بڑے مہذب مرد نکلے آپ تو … کوئی مول نہیں لگایا، میرے ارد گرد گھوم کر نہیں دیکھا۔ مجھے چھو کر پرکھا نہیں، آیا کہ نازک ہوں، ملائم بدن ہو، رنگ گورا ہے اور ہونٹ گلابی ہیں کیا؟ کچھ بھی نہیں ؟‘‘ وہ سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
    ’’دیکھ تو لو میرا حال۔ شاید آپ کی خواہش پوری نہ کر سکوں۔‘‘ ایک زہر خند مسکراہٹ اس کے لبوں پر تھی۔
    ’’میرا پیشہ رقص ہے،مگر میں کوئی طوائف نہیں ہوں۔ میں نے اپنا فن ضرور بیچا ہے، تن کبھی نہیں۔ پھر بھی زندہ لاش ہوں۔ کمال دیکھو، اپنی ہی لاش اپنے کندھوں پر لادے کبھی اِس چوک کبھی اُس چوک۔ جہاں جاتی ہوں بس بولی لگتی ہے۔ کوئی پوچھتا نہیں۔ ننگے پیروں کے چھالے کوئی دیکھتا ہی نہیں۔ ہاں پائل پر نظر سب کی جاتی ہے۔‘‘
    گوہر اپنے آنسو صاف کررہا تھا ۔
    ’’جانتے ہو اسد؟پہلی بار مجھے مرد ہونا ایک گالی لگا۔ میں اپنی ہی نظر میں گر گیا۔ یہ مردوں کا معاشرہ، مجھے وحشت ہونے لگی اس لفظ سے۔ میں اس کے سامنے دو کوڑی کا نہیں رہا۔‘‘ اب کی بار شاید اسد بھی اپنی آنکھ سے آتے اس پانی کو نہ روک سکا جسے وہ کب سے ٹال رہا تھا۔
    ’’وہ تمہارے ساتھ آگئی تھی؟‘‘
    ’’ہاں! میں نے اپنے ہاتھ میں تھامی اس گرم شال کو اس کے سر پر ڈالا تھا اور پلٹ کر اسی سڑک کے کنارے چل دیا جب اس کی پائل کی آواز مجھے اپنے پیچھے آتی محسوس ہوئی تو میں نے اسے اپنے آگے چلنے کو کہا۔ وہ دیر تک مجھے دیکھتی رہی اور پھر چند قدم چلتی میرے آگے کھڑی ہوکر پوچھنے لگی:
    ’’مرد تو چاہتا ہے آگے ہونا، برتری حاصل کرنا عورت کو پاؤں کی جوتی بنا کر اسی کے وجود پر چلنا۔ تم کس دنیا کے ہو ؟ میرے پاس جواب ہی نہ تھے ۔ میں چپ چاپ کھڑا رہا۔ ‘‘
    ’’اسد وہ…‘‘ گوہر اب پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا جیسے بچہ کوئی من پسند چیز نہ ملنے پہ ضد میں ایک سانس چلا جائے، جس کے روتے روتے ہاتھ پاؤں برف ہو جائیں۔ آہستہ آہستہ اس کے رونے کی رفتار بڑھتی گئی۔ وہ دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا اور پھر بے ہوش ہوگیا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • بت شکن ۔۔۔ ملک حفصہ

    بت شکن ۔۔۔ ملک حفصہ

    ’’سنو! سنو،جان ڈالو نا مجھ میں۔ دیکھو دیکھو یہ ہاتھ نہیں ہل رہے۔ دیکھو یہ آنکھیں، میری آنکھیں۔ جھپکنی ہیں میں نے۔ سنو اٹھو، اٹھو نا۔‘‘
    ’’نہیں… نن نہیں۔‘‘
    چیخ کی آواز سے رضیہ بیگم دوڑتی ہوئی اُس کے کمرے میں آئیں۔
    ’’کلمہ پڑھ میرے بچے… بیٹا کچھ نہیں ہے۔ کیا ہوا اٹھ بیٹا۔‘‘فکر مندی سے اسے ہلایا، پسینے سے تر پیشانی ہتھیلی صاف کی۔ سائیڈ ٹیبل سے پانی انڈیلتے اس کے ہاتھ کو تھاما۔ جب سے گھر آیا تھا چپ چپ تھا جیسے کوئی چیز دماغ میں چل رہی ہواور میں تھکاوٹ سمجھتی رہی۔ پتا نہیں کیا ہوا ہے۔ دل ہی دل میں سوچا اور پریشانی سے اُس کی کمر سہلانے لگی۔
    یہ غالباً پہلی بار ایسا ہوا تھا کہ وہ اس طرح چیختا ہوا اٹھا تھا۔
    ٭…٭…٭
    شان سلطان اسکول، کالج اور اب یونیورسٹی کا ذہین ترین طالب علم تھا۔ شوق آرٹسٹ بننے کا تھا، لیکن ماں باپ کی سوچ تھی کہ آرٹسٹ بس صفحات بھرتے ہیں پیسے نہیں۔ اس لیے اسے آئی ٹی میں داخلہ دلوایا۔ ذہین تھا یہاں بھی ٹاپ کیا اور اب پورے ڈیپارٹمنٹ میں شان سلطان کے چرچے ہوتے تھے۔
    ذہانت اپنی جگہ وہ نہ صرف خوش شکل تھا بلکہ خوش مزاج بھی ثابت ہوا۔ یہی وجہ تھی کہ اردگرد ہجوم لیے پھرتا تھا۔ آرٹسٹ کا شوق دبایا نہیں تھا، فارغ وقت میں مزید اپنے ٹیلنٹ کو تراشنے کی کوششوں میں لگا رہتا اور آج کل میں اُس کا ایک مجسمہ تیار ہونے والا تھا جس کا اس سے زیادہ اُس کے دوستوں کو انتظار تھا۔
    شان سلطان کی دوستی حیدر سے ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی ہوئی تھی۔ پڑھائی میں مدد لینے کے لیے اس کے پاس ویسے بھی ڈیپارٹمنٹ کے لڑکے لڑکیاں جمع رہتے۔ سیمینار میں یا پھر ڈیپارٹمنٹ کے پارک میں شان کسی کو کچھ نہ کچھ سمجھا رہا ہوتا پر حیدر سے اس کی کافی اچھی دوستی کی وجہ دونوں کا آرٹ میں شوق تھا۔ جیسے پیاسے کو پانی کی تلاش ہو ویسے ہی شان کو اپنے ہی جیسے کسی کی تلاش تھی۔
    پانی اور مٹی ہر جگہ بکھری ہوئی تھی۔ آج تو باریکیوں پر کام کرنا تھا، بالوں اور چہرے پر بھی کہیں کہیں مٹی کے آثار تھے۔
    گھر میں اکیلا تھا اور اسے خاموشی ہی چاہیے تھی۔
    شاہکار مکمل ہونے کو تھا۔ اسے لگا وہ اسے دیکھنے لگا ہے۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ’’یار شان میں دو دن یونیورسٹی نہیں آؤں گا، کام زیادہ ہوا تو سمجھا دینا یار۔‘‘حیدر کی کال تھی اس نے پچھلے مہینے میں بھی دو دن ایسے ہی چھٹی کی تھی۔
    ’’اوئے یہ دو دو دن کر کے کیا کرنے جاتا ہے تو؟‘‘ شان کو اب واقعی تجسس ہوا۔
    ’’کچھ نہیں نا۔‘‘حیدر کا یہ ٹالنے کا انداز تھا۔
    ’’نہیں بتانا پڑے گا بتا۔‘‘ شان ضد پر اڑ گیا۔ حیدر جانتا تھا اب یہ جان کے ہی دم لے گا۔
    ’’یار میں دو دن جماعت کے ساتھ گزارتا ہوں۔ ہمارے محلے کی مسجد میں اگر کوئی جماعت آتی ہے تو ان کی نصرت میں یا پھر دور پرے کہیں پتا لگتا ہے تو وہاں چلا جاتا ہوں۔
    ’’سیکھنے کو ملتا ہے یار اور دین کا جتنا جانو کم ہے۔ عمل کی بھی ہمت کرتا ہوں۔ جماعت والوں کی خدمت، دور پرے کے اللہ کے مہمان مسافر اور پھر مسجد میں ٹھہرے ہوؤں کی تو بس اسی لیے۔‘‘
    ’’ماشاء اللہ ماشاء اللہ۔ یہ تو اچھی بات ہے، چل کچھ سیکھے تو مجھے بھی سکھانا۔‘‘
    ’’ہاں ہاں ضرور، تو چاہے تو آسکتا ہے۔‘‘
    ’’ارے پرفیکٹ، ویسے تو میں جاتا نہیں ہوتا۔ ایسے مطلب تم جانتے ہو نا…پر صحیح ہے یہ بھی کرلیتے ہیں۔ ہوپ اٹ وڈ بی گریٹ،کب آنا ہے؟‘‘ایکسائیٹمنٹ سے بھری آواز تھی۔
    ’’کل صبح فجر کے بعد۔‘‘ حیدر باقاعدہ طور پر اس کے نہ صرف اعتراض نہ کرنے پر بلکہ ساتھ چلنے پر حیران تھا۔ موڈ ہوتے ہوئے بھی اس کا یہ رویہ اُس کے لیے خوشی کا باعث تھا۔
    ٭…٭…٭
    ’’آنکھیں دیکھیں تو میں دیکھتا رہ گیا۔‘‘
    بیک گراؤنڈ میوزک لگا کر آج آنکھیں بنانی تھیں۔ اپنی طرح، گہری اور بولتی آنکھیں۔
    وہ جانتا تھا آج جو آنکھیں وہ بنانے لگا ہے، اگر اس میں وہ کامیاب ہوگیا تو یہ اُس کا پہلا ہی مجسمہ بہترین شاہکار ہوگا۔
    ہاتھوں پر مٹی تھی اور بال بکھرے ہوئے۔
    اسے آج آنکھوں پر محنت کرنی تھی۔ چہرے کے خدوخال میں آنکھیں ہی تھیں جو اسے ہمیشہ سے بھاتی تھیں اپنی بھی اور دوسروں کی بھی۔
    ایسی آنکھیں جو دنیا سے لمحے کے لیے بیگانا کردیں۔
    ایسی آنکھیں جو خاموش رہنا نہ جانتی ہوں۔
    ایسی آنکھیں جن پر موجود پہرے دار پلکیں، دریا میں موج مستی سے گھومتے شفاف ٹھنڈے پانی کی طرح بل کھاتی ہوں۔
    جیسے شاہی لبادہ اوڑھے کوئی سپاہی کسی بہت خوبصورت و قیمتی خزانے کی رکھوالی کے لیے کھڑا کیا گیا ہو۔
    ایسی آنکھیں جن میں سحر ہو۔ سانس روک لینے اور روح کھینچ لینے کا سحر۔ ایسی آنکھیں جو ساحر کی آنکھیں ہونے کا اعزاز رکھتی ہوں۔
    ٭…٭…٭
    ’’شان بھائی مولوی صاحب کہہ رہے تھے آج عصر کی اذان آپ دیجیے۔‘‘ چھوٹے سے بچے نے آکر شان کو کہا۔ وہ وہاں مائیک کی آواز ٹھیک کر رہا تھا جو کافی دیر سے خراب تھی۔ منٹوں میں شان نے سیٹنگ کی اور ٹھیک کردیا۔
    مولوی صاحب دور بیٹھے دیکھ رہے تھے۔ خدا کی شان ہے اور یہ بھی خدا کا شان ہے۔ مسکراتے ہوئے سوچا اور بچے کو کہہ دیا۔
    ’’ہیں لیکن میں؟ میں نے تو کبھی اذان نہیں دی۔‘‘
    شان ہکلایا۔
    ’’پر سنی تو ہے نا۔‘‘ دور سے مسکراتے مولوی صاحب قریب آئے۔
    ’’جی۔‘‘ آنکھیں بند کیے اذان دیتا شان الگ ہی دنیا میں تھا۔
    ٭…٭…٭
    وہاں ساری طرف گارا اور مٹی بکھری ہوئی تھی، وہ کچھ پریشان دکھائی دے رہا تھا۔
    باریکیوں کو غور سے دیکھتا اور ٹھیک کرتا، جیسے تنقیدی جائزہ لے رہا ہو۔
    کمرے میں آج کوئی بیک گراؤنڈ میوزک نہ تھا۔ اسے آج مکمل کر کے جانا تھا، پر وہ مکمل نہ کر سکا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • ہم زاد — سحرش رانی

    ہم زاد — سحرش رانی

    وہ تاریک راہداری سے گزرتے ہوئے خوف زدہ ہورہا تھا۔ سامنے چھوٹا سا ہال نما کمرہ تھا۔ وہاں اور بھی بہت سے لوگ بیٹھے تھے۔ وہ بھی خاموشی سے جاکر بیٹھ گیا۔ اس کا دل دھونکنی کی طرح بج رہا تھا۔ اس کی باری آئی تو وہ آہستہ سے اٹھا اور کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
    وہ کمرے میں داخل ہوا تو عجیب سی خوشبو اس کے نتھنوں سے ٹکرائی۔ سامنے ایک معتبر بزرگ سر جھکائے ہاتھ میں تسبیح لیے پرسکون بیٹھے تھے۔ وہ ان کے سامنے جاکر بیٹھ گیا۔
    ’’کیا کرنے آئے ہو بچے؟‘‘ انہوں نے مدہم آواز میں سوال کیا۔
    ’’وہ میں… میں…‘‘ اسے اپنی آواز حلق میں اٹکتی محسوس ہوئی۔
    ’’تیری کون سی خواہشات ہیں جو پوری نہیں ہوتیں؟‘‘ انہوں نے بغیر دیکھے اس سے سوال کیا۔
    ’’وہ… اصل میں… مَیں‘‘ وہ کھل کے بولنا چاہتا تھا مگر گلا خشک ہوچکا تھا۔
    ’’نام کیا ہے؟‘‘ انہوں نے اس کی حالت دیکھتے ہوئے گفتگو کا رخ موڑ دیا ’’عزیز… عزیز…‘‘ اسے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے جواب دیا۔
    ’’کیا کرتے ہو؟‘‘
    ’’جی، پڑھتا ہوں میڑک میں…‘‘
    ’’یہاں کیا کرنے آئے ہو؟ کوئی مسئلہ ہے کیا؟‘‘ انہوں نے نرم لہجے میں دریافت کیا۔
    میرے تین بڑے بھائی اور ایک بڑی بہن ہے۔ کچھ پڑھ چکے ہیں اور کچھ پڑھ رہے ہیں، اور سب بہت لائق فائق، پوزیشن ہولڈرز ہیں مگر مجھ سے پڑھا نہیں جاتا ہے۔ تو اس لیے مجھے…‘‘ وہ لمحہ بھرکورکا تھا۔
    ’’تو تمہیں تعویز چاہیے؟‘‘ بابا نے دریافت کیا۔
    ’’نہیں!‘‘ اس نے مستحکم لہجے میں جواب دیا۔
    ’’پھر؟‘‘
    ’’مجھے میرا ہمزاد قید کرنا ہے۔‘‘ بابا ہلکا سا مسکرا دیے۔
    ’’بچے جانتا ہے کہ ہمزاد کیا ہوتا ہے؟‘‘ ساری گفتگو میں انہوں نے پہلی دفعہ سر اٹھا کر عزیز کو دیکھا تھا۔ معصومیت اور کشمکش اس کے چہرے سے عیاں تھی۔
    ’’جی! جسے قید کرلینے سے ہم اپنے سارے کام اس سے کروا سکتے ہیں۔‘‘ اس نے اپنے تئیں مدلل جواب دیا۔
    ’’اچھا! تو تم اپنا کیا کام کرواؤ گے ہمزاد سے؟‘‘ انہوں نے تسبیح کا دانہ گرایا۔
    ’’میرا سارا کورس وہ رٹے گا، امتحان میں دوں گا لیکن اصل میں سب کچھ وہ لکھے گا۔اس طرح مجھے پڑھنا نہیں پڑے گا اور اس طرح میں سکول اور گھر میں ہونے والی بے عزتی سے بچ جاؤں گا۔
    ’’لیکن یہ غلط ہے‘‘
    ’’تو کیا ساری عمر میں اپنی بے عزتی کرواتا ہوں؟ کتنا ٹارچر کرتے ہیں میرے گھر والے مجھے کہ بہن بھائیوں کو دیکھو اور خود کو دیکھو۔ بہت مشکل سے آپ کے پاس آیا ہوں۔ بس اب آپ مجھے ہمزاد قید کرنے کا طریقہ بتا دیں بابا۔‘‘
    ’’لیکن بچے… انہوں نے مصلحت کی آخری کوشش کی۔
    ’’کچھ نہیں بابا! میں آپ کی نہیں سنو گا۔ بس مجھے طریقہ بتادیں ورنہ میں آپ کے آستانے سے کہیں نہیں جاؤں گا۔ یہیں بیٹھا رہوں گا۔‘‘
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    وہ ہاتھ میں مڑا ہوا کاغذ لیے اپنے کمرے سے نکلا۔ امی ابو کے بیڈروم کی طرف دیکھا تو وہاں سکوت تھا۔ سارے گھر میں خاموشی تھی۔ رات کے ڈیڑھ بج چکے تھے۔
    وہ آہستہ آہستہ سیڑھیاں چڑھ رہا تھا۔ جاڑے میں بھی اس کے ماتھے پر ننھے ننھے پسینے کے قطرے نمودار ہورہے تھے۔
    آخری زینہ عبور کرکہ وہ چھت پر آچکا تھا۔ اس نے سرد آہ بھری اور چاروں طرف نظر دوڑائی۔
    اس نے اپنی جیب سے ایک چاک نکالا اور چھت کے ایک قدرے چھپے حصّے میں ایک حصار کھینچا اور اس حصار کے اندر بیٹھ گیا۔
    اس نے وہ تہشدہ کاغذ بڑی احتیاط سے کھولا اور زیرِلب اس کاغذ کو دیکھ کر کچھ پڑھنے لگا۔ کچھ دیر تو اس پر خوف طاری رہا اور بابا کی پراسرار باتیں دماغ پر حاوی ہیں مگر کہیں کوئی آثار نہ پاکر وہ قدرے پرسکون ہوگیا۔
    ’’کہاں بابا کی باتیں کہ تمہیں جنات ڈرائیں گے، مُردے نظر آئیں گے مگر حقیقت میں ایسا کچھ نہیں ہوا۔
    منتر کوئی خاص لمبا چوڑا نہیں تھا۔ اس لیے اسے زیادہ مشقت کا سامنا نہیں کرنا پڑا بلکہ وہ اچھا خاصا بور ہورہا تھا۔ رات ڈیڑھ بجے سے تین بجے تک کا چلّہ ختم ہوا اور وہ مطمئن ہوکر خاموشی سے سیڑھیاں پھیلانگتا ہوا اپنے کمرے میں آیا۔ وہ خوش تھا کہ وہ پہلے زینے پر کامیاب رہا۔
    ٭…٭…٭
    وہ حصار میں بیٹھا تھا۔ لب تیزی سے حرکت کررہے تھے اور ہاتھ بھی سرعت سے موبائل پر حرکت کررہے تھے۔ وہ کوئی گیم کھیل رہا تھا۔ جو وہ بہت عرصے سے جیتنے کی کوشش میں تھا مگر ہمیشہ ناکام رہا تھا۔
    رات کے تین بج چکے تھے۔ اس نے کوفت سے موبائل بند کیااور اٹھ کھڑا ہوا۔ آج کی رات بھی آرام سے گزر گئی۔
    وہ نیچے کمرے میں آچکا تھا۔ اس نے پھر سے گیم کھیلنا شروع کی۔
    ننھی ننھی کرنیں کھڑکی سے اندر جھانک رہی تھیں، اس نے وال کلاک پر نظر ڈالی تو صبح کے ساتھ بج رہے تھے۔ اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر جمائی روکی اور چپل پہن کر واش روم کی طرف بڑھا۔
    آج دسواں دن تھا۔ اس کا چلہ ہنوز جاری تھا۔ وہ گیم کا پہلا راؤنڈ جیت چکا تھا۔
    سینتیس دنوں میں وہ گیم کے سارے راؤنڈز جیت چکا تھا۔ اس گیم کو جیتنے کے لیے اس نے بہت کوشش کی تھی مگر کبھی کامیابی نہیں ملی تھی لیکن ان سینتیس دنوں میں وہ گیم جیت چکا تھا اور اس کا چلہ بھی جاری تھا۔ اس کا سارا ڈر اور خوف اڑن چھو ہوگیا۔ اس نے سنا تھا کہ چلے کے دوران اپنا ہمزاد ڈراتا ہے اور لوگ اس سے ڈر کر چلّہ چھوڑ دیتے ہیں لیکن اس کے ساتھ تو ایسا کچھ نہیں ہوا تھا۔
    چالیسویں رات… اس کی کامیابی کی آخری سیڑھیتھی۔ اس کی خوشی کا ٹھکانہ نہیں تھا۔ اس نے حصار کھینچا اور جھٹ پٹ اس میں بیٹھ گیا۔ اس کے لب ہولے ہولے کانپ رہے تھے۔ آخری رات تھی۔ دل میں ڈر اور خوف کا دھاوا بیٹھ گیا تھا۔ ایک ڈر تھا، اپنے ہمزاد سے لڑنے کا۔ اسے پالینے کا۔ گیم چوں کہ وہ چیت چکا تھا اس لیے اب وہ بغیر کسی دوسری مصروفیت کے ورد کرنے میں مگن تھا۔ وقت تھا کہ رینگ رہا تھا اور گزر کر نہیں دے رہا تھا۔
    اللہ اللہ کرکے تین بجے… وصل کی طویل گھڑیاں ختم ہوئیں۔ اس نے جھٹکے سے آنکھیں بند کرلیں۔ لب ٹھہر سے گئے۔ چار سو خاموشی تھی۔ پھر آہستہ آہستہ اس نے آنکھیں کھول لیں۔ وہ یقین اور بے یقینی میں مبتلا تھا۔
    وہ منتظر تھا کہ آنکھیں کھولنے پر سامنے ہمزاد کو پائے گا۔
    اس نے آنکھیں کھولیں تو سناٹا بدستور قائم تھا۔ کسی دوسرے ذی روح کا وجود نہیں تھا۔
    وہ ایک شاک کی کیفیت میں دائیں بائیں دیکھنے لگا۔ اسے شدید حیرت ہوئی کہ اتنے دنوں کی محنت ضائع ہوگئی۔ وہ ایک غم کے عالم میں وہیں بیٹھا رہ گیا۔
    نفرت اور غصّے کے ملے جلے تاثر کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوا نیچے اپنے کمرے میں آگیا۔
    ٭…٭…٭
    وہ نظریں جھکائے بیٹھا تھا۔ دھڑا دھڑ لوگ سائیں بابا کے کمرے میں جارہے تھے۔ وہ اپنی باری کا انتظار کررہا تھا۔
    ’’عزیز حسن!‘‘ کسی نے اس کا نام پکارا تھا۔ وہ خاموشی سے اٹھ کر اندر چلا گیا۔ وہ لب بھینچے سائیں بابا کے سامنے بیٹھا زمین کو گھود رہا تھا۔ وہ چالیس دن بعد ان کے سامنے حاضر ہوا تھا… تہی دامن۔
    ’’کہاں گم ہو بچے؟‘‘ طویل تر ہوتی خاموشی ختم کرنے کے لیے انہوں نے ہی پہل کی۔ ’’آپ نے مجھ سے جھوٹ کیوں بولا؟‘‘ وہ بڑے آرام سے اتنی بڑی بات کہہ گیا تھا، حالاں کہ وہ سائیں بابا کے مرتبے اور عزت سے بے بہرہ نہ تھا۔
    ’’کیوں میرا اتنا ٹائم ضائع کیا؟ کہاں ہے وہ ہمزاد؟ آپ نے کہا تھا کہ چالیس دن بعد میں ہمزاد قید کر لوں گا لیکن مجھے تو نہیں ملا وہ۔‘‘ اس نے شدید غصّے کے عالم میں مٹھیاں بھینچ لیں۔
    ’’تو نے چلا کاٹا تھا؟‘‘ وہ بے نیازی سے پوچھ رہے تھے۔
    ’’جی… جی ہاں… پورے چالیس دن!‘‘ اس نے بے تابی سے جواب دیا۔
    ’’اور کیا کیا؟‘‘
    ’’اور؟… اور … ہاں وہ ایک گیم کھیلتا رہا تھا… اور میں نے وہ ون کر لی۔‘‘ اس کی بات پر وہ ہلکا سا مسکرائے۔
    ’’بہت محنت کی ہے تم نے گیم جیتنے میں؟‘‘ انہوں نے مشفقانہ انداز میں پوچھا۔
    ’’جی! بہت محنت کی تھی۔‘‘
    ’’اتنی محنت پڑھائی میں کی ہوتی تو ہمزاد قید کرنا نہ پڑتا۔ ابھی وقت ہے بچے! گیم جیت لی، میدان بھی جیت لو گے۔‘‘ انہوں نے نہایت نرم لہجے میں کہا تھا۔ وہ بت بنا بس انہیں دیکھے جا رہا تھا۔ دماغ ماؤف ہو رہا تھا۔ کچھ سمجھائی نہیں دے رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔ وہاں بیٹھا رہے، اٹھ جائے، کیا کہے۔
    ’’جاؤ بچے! پختہ ایمان اور ارادے کے ساتھ۔‘‘ انہوں نے اس کے کندھے کو تھپکا اور وہ خاموشی سے سلام کہتا کمرے سے نکل گیا۔
    دہلیز پر جوتے پہنتے ہوئے وہ اپنے جذبات کو سمجھنے سے عاری تھا۔ نیم غصہ، اپنے بچپنے اور پاگل پن پر اسے ہنسی بھی آرہی تھی اور وہ شرمندہ بھی ہورہا تھا۔
    وہ قدرے سنسان سڑک پر آہستہ آہستہ جارہا تھا۔ وہ خود سے عہد کر چکا تھا۔ اور وہ عہد ایک جذبے اور مسکراہٹ کی صورت اس کے چہرے سے عیاں تھا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • اب اور نہیں — ایمان عائشہ

    اب اور نہیں — ایمان عائشہ

    ان دنوں زندگی کی ٹرین بھی کیسے چھکا چھک کرتی گزرتی جارہی تھی۔ عمر رفتہ کے ڈبے بھی تیزی سے آنکھوں کے آگے سے گم ہوتے چلے جارہے تھے۔ میری عمر کی ڈور میں یکے بعد دیگرے گزرتے سالوں کی ان گنت گرہیں لگتی جارہی تھیں۔
    ارے لڑکی ذات ہوتے ہوئے کیسے کہتی اور کیوں کر کہہ سکتی تھی میں؟ ان ہی دنوں میرے لیے انجینئر کا رشتہ آیا، کیا عمر تھی میری؟صرف اٹھارہ سال۔
    ’’ارے جاؤ کیا ہم اتنی سی عمر میں اپنی بیٹی کو اتنے بڑے کنبے میں جھونک دیں۔‘‘ پاپا نے ان دنوں ممی کے مجبور کرنے پر ہاتھ جھٹک کے گویا اس رشتہ سے صاف انکار ہی تو کردیا تھا ، پھر تو جیسے بیری کے درخت پر پتھروں والی بات کے مصداق یکے بعد دیگرے رشتوں کی لائن ہی لگتی چلی گئی تھی۔
    ’’وہ لڑکا تو ایک دم چھڑا چھانٹ ہے۔ خاندان کا پتا نہیں، نہ کوئی آگے ہے نہ پیچھے، ارے ! ہم تو یہاں نہ دیں گے اپنی بیٹی۔‘‘ یوں ان ہی دنوں ایک اچھے رشتے پر پاپا کی طرف سے معاملہ ختم کردیا گیا۔
    ابھی کچھ مہینے ہی آگے سرکے ہوں گے کہ پھر کسی اور ہی رشتے کے بارے میں گھر میں چہ میگوئیاں شروع ہوگئیں۔
    ’’اے شکل تو دیکھو لڑکا آدھا تو گنجا ہے۔ ہماری بیٹی کے آگے کہاں جچے گا ، حالانکہ کاروبار تو اچھا خاصا ہے ۔‘‘
    اور پھر بات وہیں ختم۔
    ’’ان نو دولتیوں کے لچھن تو دیکھو ان کی عورتیں سونے میں نہا گئیں، پر پہننے اوڑھنے کے ڈھنگ نہیں آئے، ہونہہ ! ایسے لوگوں سے تو اللہ بچائے ۔‘‘
    یوں ان ہی دنوں پاپا کی طرف سے دبئی پلٹ رشتے سے بھی انکار کردیا گیا ۔ زندگی کے پہیے نے تو چلنا تھا وہ کہاں رکتا ہے یوں ہی عمر کا تیسواں سال شروع ہوگیا جب میری زندگی میں وہ آیا۔
    وہ بہار بن کر آیا یا خزاں بن کر، کچھ خبر نہیں، لیکن اس کے آنے سے مجھ پر یہ دو موسم آج بھی طاری ہیں۔
    بیک وقت بہار اور خزاں کے یہ دو موسم جیسے مجھ پر مرتے دم تک طاری ہی رہیں گے۔ میں ان موسموں کے حصار سے کبھی خود کو نہیں نکال سکی۔
    یہ بات بھی ان دنوں کی ہے جب خاندان میں منعقد ایک شادی کی رسم میں انہوں نے مجھے اپنی نظروں کے حصار میں قید کرلیا ، اس کی خبر تو مجھے جب ہوئی جب میرے لیے ان کا رشتہ آیا۔
    ان ہی دنوں ڈرائنگ روم میں لہراتے پردے کی اوٹ سے جب ڈرتے ڈرتے چھپ کر میں نے ممی پاپا کی باتیں سنیں، تو پاپا ممی سے کہہ رہے تھے :
    ’’یہ لڑکا فرمان مجھے بالکل پسند نہیں، مرتا مر جاؤں گا پر یہاں رشتہ نہیں کروں گا۔‘‘
    ان کی باتیں سن کر ایسا لگا جیسے میرا دل مٹھی میں لے کر بھینچ دیا گیا ہو۔ اب نہیں تو کب اور کب؟ کب ہاں کریں گے۔
    میں نے پردے کی اوٹ میں کھڑے کھڑے کرب سے آنکھیں میچتے ہوئے سوچا۔
    اب تو سہیلیوں کے سوالات بھی تیر کی طرح دل میں پیوست ہوجاتے تھے۔ جب وہ انتہائی حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر مجھے دیکھتی اور پوچھتیں۔
    ’’کیا واقعی تمہاری اب تک شادی نہیں ہوپائی؟ ‘‘
    یہ بات بھی تو ان ہی بے مقصد سے دنوں کی ہے، جب موبائل پر اجنبی نمبر سے کال آئی۔
    ’’ہیلو میں فرمان ہوں۔ پلیز فون بند مت کیجیے گا، بہت ضروری بات کرنی ہے۔ اتنی ضروری ہے کہ اگر نہ کی تو شاید میں مر ہی جاؤں۔‘‘
    کال اٹینڈ کرنے کے بعد کسی کی بھاری آواز میری سماعتوں سے ٹکرائی۔ وہ فرمان نامہ تھا یا شدتوں کی ایک داستان ، کے دل کی کشتی اسی سمت بہنے لگی ، من باغی ہوتا چلا گیا۔ ایک دن ممی سے بھی ڈرتے ڈرتے فرمان سے جڑے رشتے کا ذکر کر ہی ڈالا کہ عمر کا بھی تو اب اکتیسواں سال شروع ہوچکا تھا اور پاپا کا وہی رویہ …
    ’’تمہیں یہ قدم ضرور اٹھانا ہوگا۔‘‘ ایک دن فرمان نے جیسے بم ہی تو پھوڑ دیا تھا۔
    ’’کیا! کورٹ میرج؟‘‘
    ’’نہیں نہیں میں بہت شریف خاندان سے ہوں۔‘‘ میں نے ڈرتے ہوئے کہا۔
    ’’میں بھی شریف خاندان سے ہوں، لیکن ہمیں یہ قدم لازمی اٹھانا ہوگا۔‘‘فرمان کی طرف سے زور دیا جاتا۔
    رفتہ رفتہ عشق کا زہر رگ و پے میں سرایت کرتا جارہا تھا۔ اس کے تریاق کے لیے آخر ایک دن فرمان اور میں، ممی کو رازدان بناکر کورٹ کی طرف چل پڑے۔ ممی جوکہ پہلے ہی پاپا کے رویے سے خائف سی رہتی تھیں۔ ایک بڑے طوفان کی آمد کے خدشات سے یکدم سہم سی گئیں۔
    میری عمر کا پینتیسواں سال۔
    ان کی بیٹی بھاگ گئی۔ بیٹی بھاگ گئی؟ سنا تم نے اشرف صاحب کی بیٹی بھاگ گئی۔‘‘
    ’’ہاہ ہاہ۔‘‘
    ’’ارے ان شریفوں کا حال تو دیکھو اندر سے پھپھوند لگی ہوتی ہے ان میں، کیڑے پڑے ہوتے ہیں کیڑے۔‘‘ اشرف صاحب مسجد میں صف میں کھڑے ہوتے تو پیچھے سے کسی نمازی کی کریہہ آواز سنائی دیتی۔
    ان دنوں پاپا کو تو جیسے چپ سی لگ گئی تھی۔ گھر سے باہر نکلنا دوبھر ہوگیا تھا جہاں جاتے تمسخر شدہ نگاہیں طنز بھرے لہجے، آخر پاپا بہت جلد اس دنیا سے چلے گئے۔
    ’’میں نے غم بھی تو اتنا شدید دیا تھا نا۔ پھر کیسے جی سکتے تھے وہ۔‘‘
    آج میری پانچ بیٹیاں ہیں۔ آج بھی میں گھر سے بھاگی ہوئی عورت کہلائی جاتی ہوں، کبھی کبھی میری بڑی بیٹی بولتی ہے :
    ’’ماما میں نے ایک جگہ پڑھا تھا گھر سے بھاگی ہوئی عورت کا سر ڈھانپنے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے اس نے کئی سوراخوں والی چادر اوڑھ رکھی ہو۔‘‘
    ایسے میں میرا ہاتھ بے اختیار اپنے سر پر جمی چادر کو دوبارہ ٹھیک کرنے کے لیے اٹھ جاتا ہے۔ اس سے تو بہتر تھا میں کنواری بیٹھی رہ جاتی جہاں پینتیس کی ہوگئی تھی، وہاں چالیس کی بھی ہوجاتی۔ اکثر آنسو بہاتے ہوئے میں سوچا کرتی ہوں۔ جیسے جیسے عمر گزرتی جارہی ہے مکافات عمل کی اندیشے مجھے رات دن ڈستے رہتے ہیں کہ کل جو میرے والدین نے میری شکل میں ذلت دیکھی کہیں آج مجھے بیٹیوں کی شکل میں بھگتنی نہ پڑجائے۔
    میری بڑی بیٹی خیر سے اٹھارہ کی ہوگئی ہے۔ اچھا رشتہ آتے ہی ہاتھ پیلے کردوں گی پھر اس سے چھوٹی بیٹیاں بھی بانس کی طرح قد نکال رہی ہیں۔
    ’’نہیں نہیں ! بس اب اور نہیں میں اپنی بیٹیوں کے ساتھ ایسا ہرگز نہیں ہونے دوں گی جو کبھی میرے ساتھ ہوا۔‘‘

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • مجرم — ماہتاب خان

    مجرم — ماہتاب خان

    چودھری افضل اپنے چھوٹے بھائی چودھری انور اور اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ ڈیرے پر بیٹھا تھا۔ جب نذیرا ایک کتے کو لیے اس کے قریب آیا۔ اسی وقت ایک بوڑھا شخص جو پھٹے پرانے لباس میں ہاتھ جوڑے چودھری افضل کے قریب آیا۔
    ’’تو تو پیچھے مر۔‘‘ اس نے غصے سے اسے دیکھا۔
    ’’ہاں تو بتا وہ اس کا کیا مانگ رہے ہیں؟‘‘ چودھری افضل نے نذیرے سے پوچھا۔
    ’’دو لاکھ مانگ رہا ہے چودھری صاحب، مگر میرا خیال ہے ڈیڑھ میں سودا ہو جائے گا۔‘‘ نذیرے نے کہا۔
    ’’ٹھیک ہے ٹھیک ہے۔‘‘ وہ کچھ دیر سوچتا رہا پھر بولا۔
    ’’سن نذیرے اس کی تیاری تیری ذمہ داری ہو گی۔ اس بار ہماری ہار نہیں ہونی چاہیے۔‘‘
    ’’خوراک آپ کی، محنت میری پھر کیسے ہارے گا؟ نسل دار کتا ہے چودھری صاحب۔‘‘ نذیرے نے عاجزی سے کہا۔
    ’’کیا خیال ہے نکے؟‘‘ اس نے چھوٹے بھائی انور کی طرف دیکھا۔
    ’’لگتا تو ٹھیک ہے بھائی! میرا خیال ہے یہ آپ کو پسند آ گیا ہے۔ ایسا کر نذیرے اگر وہ ڈیڑھ میں نہ مانے تو کچھ اوپر دے دینا، مگر سودا آج ہی کر لینا۔‘‘ نذیرے نے سر ہلایا۔ بوڑھا جو پاس ہی کھڑا تھا دوبارہ چودھری افضل کے قریب آیا۔
    ’’اس کا کیا مسئلہ ہے؟‘‘افضل نے کڑے تیوروں سے ایک ملازم سے پوچھا۔
    ’’اس کی بیٹی بیمار ہے سرکار کچھ پیسے لینے آیا ہے۔‘‘ملازم نے کہا۔
    ’’منشی بابا جان کے ساتھ شہر گیا ہوا ہے۔ بغیر کھاتے میں اندراج کیے کیسے دے دیں اسے پیسے؟‘‘
    ’’چل بھئی پیچھے ہٹ آج تجھے پیسے نہیں مل سکتے۔ سنا نہیں منشی شہر گیا ہوا ہے۔‘‘ ملازم نے بوڑھے کو گریبان سے پکڑ کر گھسیٹا اور پیچھے دھکیل دیا۔
    ’’نکے ایک تو یہ کمی ہمیں سا نئیں لینے دیتے جہاں بھی دیکھو منہ اٹھائے اور جھولی پھیلائے چلے آتے ہیں۔‘‘ افضل نے ناگواری سے کہا۔
    ’’آپ کے مزارعے ہیں چودھری صاحب! آپ کے پاس نہیں آئیں تو اورکہاں جائیں؟‘‘ بوڑھا رندھی ہوئی آواز میں بولا۔
    ’’جا جا یہاں سے، جان چھوڑ ہماری۔ جگو لے کر جا اسے ۔‘‘ انور نے ایک ملازم کو اشارہ کیا۔ جگو اس کے قریب گیا اور کہا:
    ’’سنا نہیں چودھری صاحب کیا کہہ رہے ہیں؟ کملے بڑے لوگوں کے بڑے خرچے ہوتے ہیں۔ منشی آ جائے گا تو مل جائیں گے پیسے ۔ آ میرے ساتھ۔‘‘ وہ اس کا ہاتھ پکڑ کر گھسیٹتا ہوا اپنے ساتھ لے گیا۔
    افضل جو کتے کو پیار بھری نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ اس کے قریب ہی زمین پر بیٹھ گیا اور کہنے لگا۔
    ’’دیکھ نذیرے! اس کی تیاری بہت اچھی ہونی چاہے۔ سمجھ گیا نہ تو۔‘‘
    ’’آپ کا حکم سر آنکھوں پر چودھری صاحب!‘‘ نذیر نے کہا۔
    ’’چل اب لے جا اسے۔‘‘ نذیرے نے زنجیر کھینچی اور اسے لے کر چلا گیا۔ افضل دور تک اسے جاتے دیکھتا رہا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    دو تین دن گزرے تھے جب بڑے چودھری صاحب اس سہ پہر حویلی پہنچے۔ ڈرائیور نے گاڑی کا دروازہ کھولا۔ تقریباً ساٹھ سالہ چودھری غفور نے جو سفید براق شلوار قمیص اور بڑی سی اونچے شملے والی پگڑی باندھے زمین پر اس طرح قدم رکھا کہ اِن کا کرو فر ہی نرالا تھا۔ پچاس سالہ دبلا پتلا، لیکن پھرتیلا منشی بھی لپک کر پچھلی سیٹ سے اترا اور ان کے قریب آکر کھڑا ہوگیا۔
    ’’زمین کے کاغذات والا بیگ سنبھال لیا منشی؟‘‘چودھری غفور نے کہا۔
    ’’جی چودھری صاحب! یہ رہا بیگ۔‘‘ اس نے ہاتھ میں تھا ما بریف کیس دکھاتے ہوئے کہا ۔
    وہ جیسے ہی مہمان خانے میں داخل ہوئے۔ دونوں بیٹے لپک کر ان کے قریب آ گئے۔
    ’’اسلام و علیکم بابا جان!‘‘ افضل ان سے بغلگیر ہوتا ہوا بولا۔
    و علیکم السلام! سب خیریت ہے نا؟‘‘چودھری غفور ان دونوں سے مل کر صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولے۔
    ’’یہاں سب خیریت ہے۔ ہم تو آپ کی طرف سے فکر مند تھے۔ ایک ہفتہ ہو گیا آپ کو شہر گئے کچھ خیر خبر ہی نہیں تھی۔‘‘ افضل نے کہا۔
    ’’دو دن سے آپ کا فون بھی نہیں مل رہا تھا۔‘‘ انور نے کہا۔
    ’’تم دونوں کے لیے ہی تو شہر گیا تھا۔ کچہری کے معاملات آسان نہیں ہوتے۔ میں نے تمام جاگیر اور زمینیں تقسیم کر دی ہیں۔‘‘ پھر کچھ دیر ٹھہر کر انہوں نے کہا۔
    ’’تم لوگ اپنی مرضی سے اپنی بہن کا حصہ اسے دے دیتے تو اچھا تھا۔‘‘
    ’’بابا جان یہ ہماری روایت کے خلاف ہے۔ عورتوں کو جائیداد میں سے حصہ نہیں دیا جاتا پھر آپ نے بھی تو…‘‘
    ’’بس! گڑے مردے اکھاڑنے کی ضرورت نہیں ہے۔‘‘ وہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ وہی بوڑھا اندر داخل ہوا اور چودھری غفور کی جانب بڑھا۔
    ’’اوئے، تو پھر آ گیا۔ سا تو لینے دے بابا جان کو۔ جگو، شیرا کہاں مر گئے سارے ۔ نکالو اسے یہاں سے۔ کس نے اسے اندر آنے دیا؟‘‘ افضل پھرتی سے اٹھ کر بوڑھے کے قریب گیا۔
    ’’میری بات تو سنو چودھری! مجھے بڑے چودھری صاحب سے بات کرنے دو۔‘‘ وہ گھگیا تا ہوا بولا۔
    ’’سنتے ہیں، ابھی سنتے ہیں۔ کہہ دیا نا کچھ کرتے ہیں۔ اُدھر بیٹھو جا کر۔‘‘ اس نے دیوار کی طرف اشارہ کیا۔ بوڑھا مایوسی سے سر جھکائے دیوار کے سہارے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔
    ’’چمٹ ہی جاتے ہیں جان کو ۔‘‘ وہ بڑ بڑاتا ہوا بڑے چودھری صاحب کی طرف بڑھتے ہوئے بولا۔ اسی وقت اچانک حویلی کے اندر سے چیخنے چلانے کی بلند آوازیں آنے لگیں۔
    ’’اللہ خیر کرے۔‘‘ چودھری غفور مضطرب انداز میں کھڑے ہو گئے۔ وہاں موجود سب افراد ہکا بکا تھے۔ حویلی کے اندر سے ایک ملازمہ دوڑتی ہوئی آئی۔ اس کی سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی اور الفاظ صحیح طور سے اس کے منہ سے نہیں نکل رہے تھے۔ وہ پورے وجود سے کانپ رہی تھی۔
    ’’بڑے چودھری صاحب! وہاں حویلی میں میراں بی بی…‘‘
    ’’کیا ہوا میراں کو؟‘‘ وہ تیزی سے اندر بھاگے۔ ان کے پیچھے افضل اور انور بھی متوحش انداز میں لپکے۔ جوں جوں وہ حویلی کی سمت بڑھ رہے تھے۔ چیخ و پکار اور آہ و بکا کی صدائیں بلند ہوتی جا رہی تھیں۔ وہ جیسے ہی صحن میں پہنچے وہاں ایک جانب حویلی کی عورتوں اور ملازمین کا جمگھٹا نظر آیا۔ وہ تیزی سے وہاں پہنچے، تو دیکھا کہ ان کی بیٹی میراں زمین پر پڑی تھی اس طرح کہ اس کے آس پاس خون کا چھوٹا سا تالاب بن گیا تھا۔
    ’’کیا ہوا میری میراں کو؟‘‘ وہ تیورا کر وہیں گرنے والے تھے کہ افضل نے انہیں سنبھال لیا۔ انور میراں کے قریب بیٹھ گیا اور اسے ہلایا جلایا اس کی نبض چیک کی، مگر وہاں زندگی کی کوئی رمق نہیں تھی۔ میراں مر چکی تھی۔
    ’’میراں گئی بھائی، میراں مر گئی۔ سارے جھگڑے ختم ہو گئے۔‘‘ میراں کی لاش کے پاس بیٹھی ایک ادھیڑ عمرعورت چودھری غفور کی طرف دیکھ کر چلائی تھی۔ وہ سارا معاملہ سمجھ گیا۔ اس کا دل خون کے آنسو رو رہا تھا۔ میراں اس کی واحد بیٹی تھی۔
    ’’اس نے چھت سے کود کر جان دے دی۔ سارے جھگڑے مک گئے۔ ہائے میری بچی تو نے یہ کیا کیا؟‘‘ بوڑھی عورت دوبارہ بین کرنے لگی۔ وہ زا ر و قطار رو رہی تھی۔ دیگر عورتیں بھی آہ و بکا کر رہی تھیں۔ افضل اور انور کو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا۔ وہ دونوں سکتے کے عالم میں تھے۔ پھر افضل نے چونک کر بوڑھی عورت سے کہا۔
    ’’ایسی بات نہ کر پھوپھی ، وہ غلطی سے گری ہو گی۔‘‘
    ’’وہ غلطی سے نہیں گری۔‘‘ چودھری غفور نے گمبھیر مگر دھیمے لہجے میں آنسو پونچھتے ہوئے کہا۔
    ذرا سی دیر میں پوری حویلی آہوں اور سسکیوں میں ڈوب گئی اور آن کی آن میں یہ خبر پورے گاؤں میں پھیل گئی کہ چودھری غفور کی بیٹی اور چودھری افضل اور انور کی اکلوتی بہن حویلی کی چھت سے گر کر مر گئی۔ رات گئے تک اسے آہوں اور سسکیوں کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا۔ تدفین کے موقع پر میراں کا شوہر اس کی ساس اور اس کا ڈیڑھ سالہ بیٹا بھی موجود تھا۔ اس کی جوان سال موت پر ہر آنکھ اشکبار تھی۔ رات کا وہ نہ جانے کون سا پہر تھا جب چودھری غفور گاؤں کے اس واحد تھانے میں آیا تھا۔ ایک حوالدار وہاں موجود تھا جو زمین پر چادر بچھائے سو رہا تھا۔ چودھری جھکا اور اسے جگانے کے لیے اس کا کندھا ہلایا۔
    ’’کون …کون ہے رات کے اس پہر ؟‘‘وہ ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا۔
    ’’میں ہوں چودھری غفور ۔‘‘
    ’’اوہ! چودھری صاحب آپ؟‘‘ وہ پھرتی سے اٹھ کھڑا ہوا۔
    ’’آئیے آئیے سرکار۔‘‘ حوالدار نے انہیں کرسی پیش کی۔
    ’’بیٹھیے، سب خیر تو ہے نا؟‘‘

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • اچانک — عائشہ احمد

    میری زندگی میں ’’اچانک‘‘ کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔جو بھی ہوتا ہے اچانک ہی ہوتا ہے۔ میں نے ایم اے بھی اچانک کیا حالاں کہ میرا ارادہ ڈاکٹر بننے کا تھا، لیکن جس دن انٹری ٹیسٹ تھا۔ اسی دن اچانک بیمار ہو گیا اور یوں میں ڈاکٹر بننے سے رہ گیا۔ ورنہ اب تک اپنا پرائیویٹ کلینک بنا کر خلقِ خدا کی خدمت کر رہا ہوتا وہ بھی لاکھوں کما کر…نوکری بھی اچانک مل گئی اور لاہور بھی اچانک آنا پڑا۔ کبھی کبھی میں اپنی اماں سے سوال کرتا ہوں کہ کیا میں دنیا میں بھی اچانک آیا تھا جس پر وہ ہمیشہ کی طرح اچانک مجھے اپنی پشاوری چپل گھما کر مارتیں۔
    ٭…٭…٭
    میں شام کو گھر آیا تو اچانک صبا کا فون آگیااور مجھے ریستوران میں بلالیا۔ حالاں کہ آج دوپہر ہی ہم نے اکٹھے لنچ کیا تھا۔ جب وہ مجھے اس طرح بلاتی تو مجھے یقین ہوجاتا کہ کوئی اہم مسئلہ ہے۔
    ہم لڑکوں کا سب سے بڑا مسئلہ کسی لڑکی کے ساتھ ملنے کے وقت یہ ہوتا ہے کہ کون سا سوٹ پہن کر جائیں۔ کالج تو میں جینز سے گزارا کر لیتا ہوں لیکن اس طرح اگر رات کو صبا سے ملنے جاؤں تو خاص تیار ہو کر جاتا ہوں۔مسئلہ میرے ساتھ بھی یہی ہے لیکن فرق یہ ہے کہ میرے پاس کل پانچ سوٹ ہیں اور میں ہر سوٹ کو کوئی پانچ سے چھے بار پہن کر صبا سے ملنے جا چکا ہوں اور وہ مجھے ہر بار شرم دلاتی ہے کہ اب ایک نیا سوٹ خرید لو لیکن میں ہر بار بے شرم بن کر اسے ایک ہی جواب دیتا۔
    ’’ڈارلنگ اگر میں نئے سوٹ پہننے لگ گیا تو ہماری شادی کیسے ہو گی؟اور وہ میری اس بات پر ہمیشہ کی طرح شرمانے کی مصنوعی ایکٹنگ کرتی جس میں وہ ہمیشہ ناکا م رہتی۔میں نے جلدی سے اپنا نیلے رنگ کا سوٹ پہنا اور بال بنانے لگا۔میرے موبائل کی گھنٹی بج اٹھی۔صبا فون کر رہی تھی۔
    ’’ایک تو لڑکیوں کو بھی ہر کام کی جلدی ہوتی ہے۔‘‘ میں نے فون اٹھا کر کان سے لگایا۔
    ’’کہاں ہو تم؟میں کب سے تمہارا انتظا ر کر رہی ہوں۔‘‘ اس کی غصے سے بھری آواز سنائی دی۔
    ’’تم لڑکیوں کو ہر کام کی جلدی ہوتی ہے،محبت کی جلدی،شادی کی جلدی اور پھر…‘‘اس نے میری بات کاٹ دی تھی۔
    ’’اور پھر…بولو آگے۔‘‘ وہ تیز لہجے میں بولی۔
    ’’پھر کچھ بھی نہیں،تم فون رکھو اور میں آیا۔‘‘ اور جلدی سے بائیک پر بیٹھ کر صبا کی طرف روانہ ہوگیا۔
    ’’بائیک کی سپیڈ میں نے بڑھا دی تھی۔ اس لیے کہ سڑکوں پر ٹریفک کافی کم تھی۔ ویسے بھی رات کا وقت تھا،میں جلد سے جلد صبا کے پاس پہنچ جانا چاہتا تھا۔ میں جانتا تھا وہ ریستوران میں میرا انتظارکر رہی ہو گی۔چر چر چر چر…میری بائیک کے پہیے چرچرائے اور بائیک ایک جھٹکے سے رک گئی۔ وہ لڑکی میری بائیک سے ٹکرا کر دور جا گری تھی۔ وہ اچانک ہی میری بائیک کے سامنے آگئی تھی۔ میں جلدی سے اس کے پاس پہنچا ۔ اس کے سر سے خون بہ رہا تھا۔ میں نے اس کی نبض چیک کی اور اﷲ کا شکر ادا کیا کہ وہ زندہ ہے۔ پہلے میں نے سوچا کہ بھاگ جاؤں لیکن پھر میرے اندر کی انسانیت جا گ اٹھی اور میں اسے اسپتا ل لے آیا۔ اس کی حالت خطرے سے باہر تھی۔ وہ بیڈ پر لیٹی چھت کو تکے جا رہی تھی۔ میرے قدموں کی چاپ سن کر اس نے مجھے ایک نظر دیکھا اور پھر چھت کو دیکھنے لگی۔ اس سے پہلے کہ میں بولتا وہ بول پڑی۔
    ’’کیوں بچایا آپ نے مجھے؟‘‘اس کے لہجے میں دنیا جہاں کا دکھ سمٹا تھا۔
    ’’میں نے کہا ں بچایا ہے آپ کو؟ وہ تو آپ کی قسمت اچھی تھی۔‘‘ میں نے معصومیت سے کہا، تو اس کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
    ’’ہو سکتا ہے لیکن اب میں جاؤں گی کہاں؟ مرنے کے بعد تو مجھے اندازہ تھا کہ قبر میںجگہ مل جائے گی لیکن ایسا نہیں ہوا۔ آپ نے وہ سہارا بھی چھین لیا۔‘‘ وہ فلسفیانہ انداز میں بولی لیکن میری موٹی عقل میں اس کی ایک بات بھی نہ آئی۔
    ’’پتا نہیں یہ لڑکیاں ایسی باتیں کیسے کر لیتی ہیں؟‘‘میں نے دل میں سوچا۔
    ’’کوئی تو ہوگاآپ کا؟میرا مطلب ہے ،ماں ،باپ،بہن بھائی۔‘‘ میں نے پوچھا تو اس نے نفی میں سر ہلادیا، لیکن منہ سے کچھ نہیں بولی۔
    ’’نہیں … میرا اِس دنیا میں کوئی نہیں ہے۔میں اس بھری دنیا میں بالکل تنہا ہوں۔‘‘ اس نے کسی ڈرامے کی ہیروئن کی طرح ڈائیلاگ مارا۔
    ’’تو پھر آپ کہاں جائیں گی؟‘‘میں نے اس سے پوچھا۔
    ’’آپ مجھے سے شادی کرلیں۔‘‘ اس نے کہا تو مجھے لگا کہ کسی نے میرے سر پہ سو کلو وزنی بم پھوڑ دیا ہے۔
    ’’کیا…؟‘‘میں ایسے اُچھلا جیسے توے پر پاپ کارن اُچھلتے ہیں۔
    ’’م م م م مم مم۔ میں؟‘‘میں تھوک نگلتے ہوئے بولا۔
    ’’کیوں تم کیوں نہیں کر سکتے؟‘‘وہ ایک دم آپ سے تم پر آگئی۔میں منہ کھولے اسے دیکھ رہا تھا۔ روگ پیار دے دلاں نوں جناں لائے۔ تے کلے کلے رون رات نوں۔ میرے موبائل کی بیل بج اٹھی۔میں نے جیب سے موبائل نکالا تو اسکرین پر صبا کا نمبر جگمگارہا تھا۔
    ’’میں آرہا ہوں۔‘‘ میں نے اسے کہا اور جلدی سے فون بند کر دیا ۔مجھے پتا تھا اگر اس نے لڑکی کی آواز سن لی تو قیامت آجائے گی۔
    ’’میں چلتا ہوں۔‘‘میں نے اس سے کہا اور کھڑا ہو گیا۔
    ’’میں دوسری بیوی بن جاؤں گی۔‘‘وہ بولی تو میرے چودہ طبق روشن ہو گئے۔
    ’’لیکن میں…!‘‘اس نے میری بات اچک لی تھی۔
    ’’دیکھیں اب آپ کو مجھ سے شادی کرنا ہوگی۔ورنہ…؟‘‘اس نے فقرہ ادھورا چھوڑ دیا تھا۔
    ’’ورنہ کیا کریں گی آپ؟‘‘ میں نے کانپتے دل کے ساتھ کہا، حقیقت میں، میں بہت ڈرپوک ہوں،خواب میں چھپکلی سے ڈر جاتا ہوں، لیکن حقیقت میں دیکھوں تو وہاں سے بھاگ جاتا ہوں۔
    ’’ورنہ میں سارے اسپتال میں شور مچا دوں گی کہ تم مجھے اغوا کر کے لے جارہے تھے لیکن راستے میں ایکسیڈنٹ ہوگیا۔‘‘ وہ مکاری سے بولی اور میرے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ وہ میرے بارے میں جان چکی تھی کہ میں سیدھا سادہ انسان ہوں۔
    ’’صبا مجھے جان سے مار دے گی۔‘‘میں نے رو دینے والے لہجے میں کہا۔
    ’’پولیس تمہیں پھانسی کے تختے پر لٹکا دے گی۔‘‘اس نے مسکرا کر کہا، تو میرے پیروں سے زمین کھسکتی ہوئی محسوس ہوئی۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    میرا نام ابراہیم ہے اور میری پیدائش گاؤں کی ہے۔اماں ،ابا گاؤں میں رہتے ہیں۔ ایک بہن ہے جس کی شادی ہو چکی ہے۔ زمینوں سے اچھی خاصی آمدنی ہو جاتی ہے۔ اباجی نے مجھے منع کیا ہو ا ہے کہ میں ان کو پیسے نہ بھیجوں،بلکہ اپنا گھر بناؤں۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے جگہ خرید کر دو سالوں میں رہنے کے قابل ایک مکان بنا لیا ہے ۔میں نے انگلش میں ایم اے کیا ہے اور اسی بنیاد پر مجھے ایک پرائیویٹ کالج میں لیکچرر کی جاب ملی جسے میں نے بخوشی قبول کر لیا تھا۔اس کے ساتھ ساتھ میں اپنے ہی کالج کے کئی طالب علموں کو ٹیوشن بھی پڑھا رہا ہوں جس سے زندگی آسودہ گزر رہی ہے۔ صبا میرے ساتھ کالج میں ہی پڑھاتی ہے۔ بس وہیں سے ہیلو ہائے ہوئی اور پھر بات پسندیدگی تک پہنچ گئی۔وہ میری منگیتر ہے اور جلد ہی ہماری شادی ہونے والی ہے، لیکن اس بات کا اماں اور ابا کو نہیں پتا اور نہ ہی میں انہیں بتانا چاہتا ہوں۔ اس لیے کہ ابا جی اپنی اکلوتی بھتیجی پینو عرف پروین کی شادی میرے ساتھ کرنا چاہتے ہیں اور میں انہیں مسلسل ٹال رہا ہوں،اس لیے میں جلد سے جلد صبا سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔
    لیکن پھر بیچ میں سنیعہ آگئی۔بقول اس کے کہ اس کی ماں کا انتقال ہوچکا ہے اوراس کے باپ نے دوسری شادی کر لی ہے۔وہ اکلوتی اولاد ہے اپنے والدین کی۔ اس کی سوتیلی ماں اس پر ظلم کرتی ہے اس لیے وہ گھر سے بھاگ آئی اور خود کشی کاسوچا۔
    ’’تمہیں میری ہی بائیک ملی تھی خود کشی کے لیے۔‘‘میں غصے سے بولا تو وہ ڈر گئی۔
    ’’اس میں میرا کیا قصور؟ میں تو کسی گاڑی کے نیچے آنا چاہتی تھی لیکن اچانک تم آگئے۔‘‘وہ ڈرتے ڈرتے بولی۔
    ’’اچانک! یہ لفظ مجھے برباد کر کے چھوڑے گا۔‘‘ میں چیخ کر بولا۔صبا کو میں نے طبیعت خرابی کا کہہ دیا۔ وہ آنا چاہ رہی تھی لیکن میں اسے ٹال گیا۔سنیعہ میرے ساتھ میرے گھر میں موجود تھی۔میں دعا کر رہا تھا کہ کہیں وہ آہی نہ جائے۔ورنہ ہنگامہ کھڑا ہوجاتا۔
    اسی دوران باہر کا دروازہ کھلا اور فرقان اند داخل ہوا۔فرقان میرا دوست ہے،بلکہ یہ کہنا بجا ہوگا کہ میرا راز دار بھی ہے اور مجھے یقین تھا کہ وہی مجھے اس مصیبت سے نکالے گا۔‘‘ اس نے ایک نظر میری طرف اور پھر سنیعہ کی طرف دیکھا۔اس کی آنکھوں میں کئی طرح کے سوال جنم لے رہے تھے۔
    ’’یہ سنیعہ ہے!‘‘ میں نے اسے بتایا تو اس کی نظروں میں شک کے بادل ہلکورے لے رہے تھے۔میں اسے کھینچ کر ایک طرف لے گیا اور اسے ساری کہانی سنائی۔
    ’’صبا کو پتا چلے گا تو وہ تجھے جان سے مار دے گی۔‘‘ وہ غصے سے بولا۔
    ’’اگر میں نے اس سے شادی نہیں کی، تو پولیس مجھے جان سے مار دے گی۔‘‘ میں نے اسے اسی کے لہجے میں جواب دیا۔
    ’’تو کر لے اس سے شادی۔‘‘ وہ جھنجھلا کر بولا اور یوں میری ا س سے شادی ہوگئی۔
    اور اس نے مجھے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے ہی بے دخل کر دیا۔
    ’’پہلے منہ دکھائی دو پھر اندر آنے دوں گی۔‘‘ وہ شوخی سے بولی۔ وہ دروازہ روک کر کھڑی تھی،میں نے اند ر جانے کی ناکا م کوشش کی لیکن وہ مجھ سے زیادہ تیز نکلی۔دھکا دے کر پیچھے کردیا۔
    ’’یہ میرا کمرا ہے اس لیے مجھے اندر آنے کا حق ہے۔‘‘میں نے جھنجھلا کر کہا تو وہ مسکرا دی ۔
    ’’اوں ہوں…غلط ،اب اس کمرے پر میرا بھی حق ہے،بیوی ہوں تمہاری،جب منہ دکھائی دو گے تب آنے دوں گی۔‘‘ وہ میری حالت سے محظوظ ہوتے ہوئے بولی۔
    ’’دیکھو! ابھی دکانیں ساری بند ہوں گی ،صبح لا دوں گا۔‘‘ میں نے منت بھرے لہجے میں کہا۔
    ’’تو پھر اس کمرے میں صبح ہی داخل ہونا۔‘‘ اور اس نے دروازہ بند کر دیا اور میں صرف اپنا سر پیٹ کر رہ گیا۔باقی کمروں کی صفائی ہونے والی تھی۔اس لیے کہ میرے پاس بہت کم لوگ آتے تھے۔اماں ،ابا بھی بہت کم آتے اس لیے وہ کمرے استعمال میں نہیں تھے۔ مجبوراً مجھے ڈرائنگ روم میں صوفے پر سونا پڑا۔
    ’’بڑے بے آبرو ہوکر اپنے کمرے سے ہم نکلے۔‘‘ میں نے خود کو کوسا۔
    ’’کیا شادی ایسی ہوتی ہے؟‘‘ میں نے دل میں سوچا اور پھر کئی بار دانتوں سے انگلی کو کاٹ کر دیکھا کہ شاید یہ خواب ہو لیکن یہ حقیقت تھی جسے میں جھٹلا نہیں سکتا تھا۔ اس لیے چادر تان کر صوفے پر لیٹ گیا۔چادر میں نے دوسرے کمرے کی بیڈ کی اتاری تھی ،دن بھر کی تھکن نے چور کر دیا تھا اس لیے لیٹتے ہی نیند آگئی۔
    اگلے دن میں کالج چلا گیا۔سنیعہ نے مجھے روکنے کی کوشش کی تھی،لیکن میں نے اسے جھڑک دیا تھا۔
    ’’ایک تو زبردستی میری زندگی میں آئی ہو اور اوپر سے مجھ پر حکم چلاتی ہو۔‘‘ میں نے غصے سے کہا، تو وہ چپ ہو گئی۔ میں دل ہی دل میں خوش تھا کہ میرا رعب و دبدبہ اس پر پڑ گیا ہے،میں کالج پہنچا تو صبا میری منتظر تھی۔اسے دیکھ کر میری سانسیں رک گئیں تھیں۔
    ’’کہاں تھے کل سے تم؟‘‘ وہ شکی لہجے میں بولی۔
    ’’بتایا تو تھا تمہیں کہ ایک دوست کا ایکسیڈنٹ ہو گیا تھا۔ وہاں مصروف تھا۔‘‘ میں نے بات بنائی۔ وہ مسلسل شکی نگاہوں سے میرے چہرے کا ایکسرے کر رہی تھی اور میرا دل تھر تھر کانپ رہا تھا، لیکن میں نے ظاہر نہیں ہونے دیا۔
    ’’ایک بجے میں تمہارا انتظار کروں گی، لنچ اکٹھے کریں گے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ چلی گئی اور میں نے سکھ کا سانس لیا۔
    ’’یہ لڑکیاں بہت شکی ہوتی ہیں۔‘‘ پیچھے کھڑا کینٹین بوائے بولا۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا، تو اس نے میری اور صبا کی گفتگو سن لی تھی۔میں نے اسے گھوری ڈالی۔ وہ کسی کو چائے دے کر آیا تھا ا س لیے کہ اس کے ہاتھ میں خالی ٹرے تھی۔
    ’’وہ بلاوجہ شک نہیں کرتیں،مرد نہ موقع دے تو وہ شک نہ کریں۔‘‘میں نے غصے سے اسے کہا اور آگے کی طرف بڑھ گیا۔
    ٭…٭…٭
    سنیعہ میری توقع سے بھی زیادہ چالاک نکلی،اس نے آتے ہی گھر سنبھال لیا تھا۔میں گھر پہنچا تو وہ گیٹ پر کھڑی میرا انتظار کر رہی تھی۔اس نے شرمانے کی اداکاری کی۔
    ’’تمہیں کس نے کہا کہ گیٹ پر میرا انتظار کرو؟‘‘میں نے غصے سے کہا۔
    ’’ہر اچھی بیوی کا فرض ہوتا ہے کہ شوہر جب گھر آئے تو وہ مسکرا کر اس کا استقبال کرے۔‘‘ وہ ڈھٹائی سے مسکرائی۔
    ’’تم زبردستی میری زندگی میں آئی ہو،سمجھ آئی۔‘‘ اور غصے سے اپنے کمرے میں چلا گیا،جاتے ہی بستر پر گر گیا۔تھوڑی دیر بعد وہ کمرے میں آئی۔
    ’’منہ ہاتھ دھو لو،میں کھانا لگاتی ہوں۔‘‘ وہ مسکرا کر بولی،مجھے لگا وہ میری بے بسی پر مسکرا رہی ہو۔
    ’’مجھے بھوک نہیں ہے اور جاؤ یہاں سے۔‘‘میں نے غصے سے کہا، تو وہ ٹھیک ہے کہہ کر چلی گئی اور میں صرف دانت پیس کر رہ گیا تھا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • ہاں میں گواہ ہوں ۔۔۔ سلمان بشیر

    ہاں میں گواہ ہوں ۔۔۔ سلمان بشیر

    آسمان پہ کالے سیاہ بادلوں نے گھیرا تنگ کر رکھا تھا۔ بجلی کی گرج چمک وقفے وقفے سے مون سون کی بارش کی طرح جاری تھی اور آسمان کے سینے پر ایک ایسی لکیر بنا رہی تھی جیسے کسی کمسن بچے کے ہاتھ میں پنسل تھما دی جائے اور وہ ایک کورے کاغذ پر آڑھی ترچھی لکیر کھینچ دے۔
    بارش گو کہ ابھی تک جاری تھی مگر موسم کی صورتحال دیکھ کر یہی اندازہ لگایا جا سکتا تھا کہ بارش کو رفتار پکڑنے میں بہت زیادہ وقت نہیں لگے گا۔ میں نے اپنے سیاہ رنگ کے اوور کوٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے اور تیز قدموں سے گھر کی جانب دوڑنے والے انداز میں چلنے لگا۔ کچھ دیر کے بعد میں اپنے سات مرلہ ڈبل سٹوری مکان کے گیٹ کے سامنے کھڑا تھا۔
    اپنے گھر کے مین گیٹ پہ لگے سنہری رنگ کے تالے کو کھولا اور گھر کے اندر داخل ہو گیا۔ برآمدے کا بلب جلایا اور کمرے کا دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا اور کوٹ کو اتار کر صوفے پر پھیلا دیا تا کہ جلدی سوکھ سکے۔ آدھے گھنٹے بعد میں گھر کی لائٹیں بجھا کر اپنے بستر پر کمبل میں لیٹا ہوا تھا۔
    باہر گھر کے پکے صحن میں تیز بارش کے قطرے گر گر کر کسی مدھر گیت کی طرح دل کے تار چھیڑ رہے تھے۔ بارش کا شور میری نیند میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ لاکھ کوششوں کے باوجود بھی نیند نے ہاتھ نہ پکڑایا۔
    تنگ آکر میں نے کمرے کی لائٹ آن کر دی اور بے سبب ہی کمبل اتار کر بیٹھ گیا۔
    بیڈ کے دائیں جانب والی دراز کھولی۔بابو جی کی فوٹو دراز کے اندر پڑی تھی۔
    ان کی فوٹو دیکھتے ہی میری آنکھیں نم ہو گئیں۔ فوٹو اٹھا کر اپنے ہاتھوں میں پکڑی ہی تھی کہ میرے آنسو فوٹو فریم کے اوپر جا گرے۔ بابو جی کی فوٹو واپس دراز کے اندر رکھنے لگا تھا کہ دراز کے اندر پڑی ہوئی برسوں پرانی ایک ’’نشانی‘‘ پر نظر جا پڑی۔
    میں نے وہ نشانی اٹھائی اور اسے عقیدت سے دیکھنے لگا۔ دل سے دعائیں اور اخلاص پھوٹنے لگا۔ وہ سبھی دعائیں اور اخلاص ایک ایسے شخص کے لیے، جس کو میں نے کبھی دیکھا ہی نہیں تھا۔
    کب اس ہستی سے محبت ہو گئی مجھے پتا ہی نہیں چلا۔
    میں نے اپنے ہاتھوں میں پکڑی ہوئی وہ نشانی جوکہ اللہ کے نام کا ایک لاکٹ تھا اور جو میرے پاس میرے بابو جی کے توسط سے پہنچی تھی، کو واپس دراز میں رکھ دیا اور ایک بار پھر ماضی کی یادوں میں غوطے کھانے لگا۔
    ٭…٭…٭

    ’’ہاں! میں گواہ ہوں۔‘‘
    ’’ہاں !میں گواہ ہوں۔‘‘
    یہ وہ الفاظ تھے جو اکثر تنہائی میں بابو جی کے ہونٹوں پر ورد کی صورت جاری رہتے تھے۔
    یہ الفاظ ادا کرتے وقت بابو جی کے چہرے پر زردی سی چھا جاتی۔ آنکھوں میں کھولتے پانی کا سیلاب پلکوں کے مدِمقابل آجاتا۔ دھڑکن کی رفتار عام روٹین سے کہیں زیادہ تیز ہو جاتی۔
    مجھے آج بھی اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے ماں کی لوری اتنی زیادہ نہیں سنی تھی جتنی مرتبہ بابو جی کے منہ سے یہ الفاظ سنے تھے۔
    بچپن، لڑکپن،نو جوانی اور پھر جوانی۔ اس سارے عرصے میں بابو جی کے منہ سے ان الفاظ کے سوا اور کچھ نہیں سنا تھا۔ بابو جی جب اکثر تنہا بیٹھتے تو اپنے ہاتھوں میں اللہ کے نام کا لاکٹ پکڑ کر آسمان کی طرف دیکھتے ہوتے بس یہی کہا کرتے تھے:
    ’’ہاں !میں گواہ ہوں۔‘‘
    کئی بار من نے کہا کہ بابو جی سے ان الفاظ کے پس پردہ کہانی کو جانوں مگر کبھی زبان سے یہ کہہ بھی نا پایا۔
    مگر پھر ایک رات، جب باہر موسلا دھار بارش ہو رہی تھی اور میں اور بابو جی کمرے میں بیٹھے ایک دوسرے سے باتیں کر رہے تھے تو میں نے اپنے دل کی بات بابو جی سے کہہ ہی دی۔ پہلے تو وہ میرے سوال پہ حیران ہوئے۔۔۔پھر تھوڑا جذباتی ہو کر سنبھل گئے۔۔۔۔میں نے ان سے کہا کہ وہ مجھے ان الفاظ کے پیچھے چھپی اصل کہانی سے روشناس کروائیں۔۔۔۔مگر بابو جی نے بتانے سے انکار کر دیا۔۔۔۔اور اٹھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے۔۔۔۔
    میں بھی ہارے ہوئے جواری کی طرح مایوسی سے بستر پر لیٹ گیا۔۔۔۔
    کچھ دیر کے بعد بابو جی پھر میرے کمرے میں داخل ہوئے اور پاس اوپر بستر میں آکر بیٹھ گئے۔
    "وجے کمار بیٹا۔۔۔۔تمہیں جاننا ہے ناں کہ میں یہ الفاظ کیوں ادا کرتا رہتا ہوں؟”
    "جی بابو جی۔۔۔۔مجھے جاننا ہے کہ آخر ایسی کیا بات ہے ان الفاظ میں جو آپ ہر وقت ہی انہیں بولتے رہتے ہیں۔۔۔۔”
    ٹھیک ہے بیٹا تو چل سن۔۔۔۔!
    یہ بات پینسٹھ کی جنگ کے وقت کی ہے۔۔۔۔تب
    میں فوج میں حوالدار ہوتا تھا۔۔۔۔۔
    ٭…٭…٭
    جنگ 1965۔۔۔۔۔
    یہ وہ وقت تھا جب پاکستان اور ہمارے ملک کے بیچ جنگ چھڑ چکی تھی۔۔۔۔۔
    صبح سے لے کر شام تک، ہوا میں پھیلی مٹی کی خوشبو کی جگہ بارود کے دھویں اور اسکی بدبو نے لے رکھی تھی۔۔۔۔ماحول میں ہر طرف ہی مرگ کا سماں بندھا ہوا تھا۔۔۔۔۔
    زمین پر اتنے زیادہ پتے نظر نہیں آتے تھے جتنی زیادہ لاشیں سوکھے پتوں کی طرح رنگ بدلتی ہوئی نظر آتیں۔۔۔۔۔جہاں تک نظر جاتی بس دھواں ہی دھواں اور خون ہی خون نظر آتا۔۔۔۔۔
    جنگ لگے ہوئے دو دن گزر گئے تھے کہ ایک شام جیل میں ایک پاکستانی قیدی کو لایا گیا۔۔ وہ زخموں سے چور،بہت مریل نظر آ رہا تھا۔۔۔۔۔
    وہ کوئی فوجی نہیں تھا نا ہی کوئی پولیس والا۔۔۔۔۔
    وہ ایک عام سا آدمی تھا۔۔۔۔۔جسے ہمارے جوانوں نے پکڑ کر خوب مارا تھا اور گولی مارنے کی بجائے جیل لے آئے تھے۔۔۔۔۔
    میں "حوالدار چیتن کمار” ان دنوں نیا نیا فوج میں بھرتی ہوا تھا اور میری ڈیوٹی جیل کے اندر ہوتی تھی۔۔ وہاں تقریبا سبھی مختلف ممالک کے قیدی تھی۔۔ میں انکی نگرانی پر مامور کیا گیا تھا۔۔ جو بھی نیا قیدی لایا جاتا اس پہ دن کے اوقات میں تین دفعہ تشدد کی جاتا۔۔۔۔خوب مکے بازی کی جاتی۔۔۔۔اکثر فوجی جوان تو ان قیدیوں کو مار مار کر اچھی بھلی چھاتی اور ڈولے شولے بنا چکے تھے۔۔۔
    میں کمرے میں ایک جگہ کرسی پہ بیٹھا کندھے پہ رائفل لٹکائے رہتا۔۔۔۔
    ان قیدیوں کی چیخ و پکار سن کر میرا دل باہر آنے کو لپکتا۔۔۔۔مجھ سے انکا درد انکی تکلیف دیکھی نہیں جاتی تھی۔۔۔۔۔
    نیا پاکستانی قیدی جب جیل میں لایا گیا تو وہ بہت زیادہ بری حالت میں تھا۔۔۔اسکے جسم سے خون بہہ رہ تھا۔۔۔۔اس نے اپنے خون سے تر ہوئے کرتے کو اتار پھینکا۔۔۔۔۔
    میں نے دیکھا کہ اس کے گلے میں "اللہ کے نام کا لاکٹ” تھا۔۔۔۔
    اس سے میں نے کوئی بات نہیں کی۔۔۔۔وہ پاکستانی تھا اور اس سے نفرت کرنا مجھ پہ لازم تھا مگر بیٹا سچ بتاوں تو اپنی ساری زندگی کسی قیدی سے نفرت نہیں کر پایا۔۔۔۔۔۔
    میں قیدیوں سے باتیں کیا کرتا۔۔۔ان سے ان کے دل کی باتیں پوچھا کرتا۔۔۔۔
    کبھی کبھی تو مجھے یہ لگتا تھا کہ اپنے ہی وطن کا غدار بن گیا ہوں جو دشمنوں سے نفرت کرنے کی بجائے ان کے دکھ درد بانٹتا ہوں۔۔۔۔۔
    رفتہ رفتہ اس پاکستانی قیدی سے بھی جان پہچان بنا لی۔۔۔۔
    اسکا نام ” دلاور خان” تھا۔۔۔۔۔وہ ایک ڈرائیور تھا جو بد قسمتی سے جنگ کے دنوں میں دشمن فوجیوں کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔۔۔۔۔
    اس کو صبح دس بجے سے لے کر دس بج کر بیس منٹ تک پیٹا جاتا۔۔۔۔پھر اسکو مردوں کی حالت میں وہیں چھوڑ دیا جاتا۔۔۔۔پھر دو بجے اور آخری شفٹ رات کو سونے سے پہلے لگائی جاتی۔۔۔۔۔
    میں چاہ کر بھی اسکی کوئی مدد نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔اگر میرے افسران کو اس بات کا علم ہو جاتا تو نوکری کے ساتھ ساتھ جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتا۔۔۔۔۔
    ایک صبح میں دیر سے ڈیوٹی پہ پہنچا تو کیا دیکھتا ہوں کہ دو فوجی جوان اسی پاکستانی قیدی کو جیل کے باہر کھلے میدان میں مار رہے تھے۔۔۔۔۔
    ” تم چاہے مجھے جان سے ہی کیوں نا مار دو مگر میں اپنے وطن کے لیے مردہ باد کا نعرہ نہیں لگاونگا۔۔۔۔”
    دلاور خان چیخ چیخ کر اپنے عزم کا اظہار کر رہا تھا جسے دیکھ کر ہمارے فوجی جوان اور بھڑک گئے اور اسے لاتوں اور مکوں کے علاوہ لوہے کے راڈ سے مارنے لگے۔۔۔۔
    دلاور خان کی چیخیں آسمان چھو رہی تھیں۔۔۔۔اسکا جسم مار کھا کھا بہت لاغر ہو چکا تھا۔۔ خون اسکے بالوں میں بھر گیا تھا اور بال مٹی سے اٹے ہوئے اسکی حالت پر گہرے دکھ کا اظہار کر رہے تھے۔۔۔

  • آدھی روٹی — محمد طاہر رفیق

    ’’اے بنو!‘‘ اماں نے ہاتھ لہرا کر اسے پکارا۔
    ’’اب بس بھی کر دو۔ میں تو اس کایا کلپ پر حیران و پریشان ہوں۔ جانے رات کی رات کیسا درد ا ٹھا تمہارے سینے میں کہ وہی کتا جس کو تم آدھی روٹی ڈالنے کی روادار نہیں تھیں۔ اب اسی کے ساتھ کب سے بیٹھی ہو اور اپنا پراٹھا بھی اسی کو کھلا دیا۔ اب اس موئے کو اللہ جانے کون کون سی کریمیں لگائے جارہی ہو۔‘‘
    مہرو نے گردن موڑ کے اماں کو دیکھا اور رندھی ھوئی آواز سے کہا۔
    ’’آتی ہوں اماں! اب بس ذرا پٹی کر دوں۔‘‘
    ’’کیوں کیا ہو گیا ہے اسے رات تک تو ٹھیک ٹھاک تھا۔‘‘ اماں نے پان پر چونا لگاتے ہوئے پوچھا۔
    مہرو نے پٹی کوگرہ لگا کر قینچی سے کاٹا اور اماں کے تخت کے پاس آگئی جو نیم کے گھنے درخت کے نیچے بچھا تھا۔
    ’’پتا نہیں اماں کیسے زخم لگا ہے۔ ٹانگ سوجی ہوئی ہے اور خون بھی رِس رہا تھا۔‘‘ مہرو نے افسوس بھرے لہجے سے اماں کو اطلاع دی۔
    ’’اچھا اب جا کے کچن کو بھی دیکھ لے کب سے گندا پڑا ہے۔‘‘ اماں نے اس کی بات سے زیادہ پان چبانے پر دھیان دیا تھا۔
    ’’اے اب اس لڑکی سے کوئی پوچھے کہ اپنا دیسی گھی کا پراٹھا اس کتے کو ڈال دیا اور خود سوکھے منہ اِدھر اُدھر گھوم رہی ہے۔‘‘ مہرو نے کچن کی طرف جاتے جاتے اماں کی بڑبڑاہٹ سنی اور برتن دھوتے دھوتے بس یہی سوچتی رہی کہ اماں کو اگر معلوم ہو جائے کہ اس موئے کتے نے کیسے ان کے گھر کی عزت کی لاج رکھی تھی، تو وہ پراٹھا تو کیا مہرو اور اپنی بوٹیاں بھی نوچ کے اسے کھلا تیں تو وہ بھی کم تھا۔
    ٭…٭…٭
    سولہ سالہ مہرالنساء متوسط گھرانے کی لڑکی تھی۔ لاکھوں میں نہ سہی ہزاروں میں ایک تھی۔ تیکھے نین نقش اوربادامی رنگت اور اس پر اس کی معصومیت اور بے نیازی اس کو اور بھی حسین بنا دیتی تھی۔
    مہرو نے ابھی نیا نیا کالج جانا شروع کیا تھا۔ جہاں اسکول کی سختی سے پرے ایک نیا جہان آباد تھا۔
    وہ دسویں میں تھی جب اس کی کچھ دوستوں کی منگنیاں بھی ہو گئیں اور اب کچھ ماہ بعد ان کی شادیاں ہونا تھی۔ سہیلیوں سے اپنے ہونے والے دولہوں کی باتیں سنتے سنتے مہرو کی پلکوں پر بھی سات رنگ کے سپنے دستک دینے لگے اور بن بارش کے ہی قوس ِقزح دکھنے لگی۔
    اس کی سہیلیوں کے پاس روزاپنے منگیتروں اور کنزنز کے نت نئے قصے ہوتے تھے اسے سنانے کو۔
    دسویں تک تو وہ ایسی باتوں پر زیادہ دھیان نہیں دیتی تھی۔ اس کے ذہن میں تھا کہ یہ سب باتیں صرف منگیتروں کے ساتھ ہی ہو سکتی ہیں۔ لیکن اس کالج کے نئے جہان میں آکر اس پر یہ عقدہ کھلا کہ یہاں تو ہر دوسری لڑکی کسی نہ کسی کے ساتھ فون کال یا میسجز کے ذریعے ویسی ہی باتیں کرتی ہیں جیسا فلموں اور ڈراموں کی لڑکیاں کرتی ہیں۔ اس سب کے لیے منگنی شدہ ہونا اتنا بھی ضروری نہیں ہے۔
    ٭…٭…٭





    چھوٹے سے گھر کے صاف ستھرے آنگن پر نیم کے گھنے پیڑ نے اپنا سایہ کر رکھا اور رنگ برنگے پرندوں کی چہکار نے عجب ہی سماں باندھ رکھا تھا۔ پیڑ کی شاخوں پر جا بجا آبخورے اور مٹی کی مٹکیاں لٹکی ہوئی تھیں۔
    اس درخت کو آباد کرنے کے پیچھے بھی سمجھیں کہ پورا ایک قصہ ہے۔
    ہوا کچھ یوں کہ جب شادی کے کئی سال گزرنے کے بعد بھی حاجی رحمت کے گھر بچوں کی چہکار سنائی نہ دی اور دونوں میاں بیوی دوسروں کے بچوں کو دیکھ کے ایک دوسرے سے نظریں چرانے لگے تو ایک دن اچانک ہی حاجی رحمت کے دل میں خیال آیا تو اپنی بیوی بتول سے کہنے لگے۔
    ’’بھلیے لوکے تو دکھی اور پریشان نہ ہوا کر اور نہ ہی اللہ کی رحمت سے مایوس ہوا کر۔‘‘
    ’’آپ ٹھیک کہتے ہیں حاجی صاحب لیکن یہ جو دل ہے نا شیطان کے وساوس کا گھر ہے جونہی اسے موقع ملتا ہے بہکانے سے باز نہیں آتا۔‘‘
    بتول بیگم نے دوپٹے کے پلو سے آنکھیں رگڑتے ہوئے کہا۔
    ’’تو بھلیے لوکے تو اسے موقع ہی نہ دیا کر۔ اپنے اللہ کے ذکر سے دل لگا لے اور کل سے تیری تنہائی اور سونے آنگن کا بھی کچھ بندوبست کرتا ہوں۔‘‘
    حاجی صاحب نے تسلی آمیز لہجے میں کہا اور گھر سے باہر نکل گئے۔
    ٭…٭…٭
    شام کو حاجی صاحب گھر لوٹے تو اپنے ساتھ کئی طرح کے رنگ برنگے مٹی کے آبخورے اور پرندوں کو دانہ ڈالنے والے مختلف قسم کے برتن بھی لے آئے۔ پھر انہوں نے شام کی شام ہی سب کے سب درخت کی مختلف شاخوں پر باندھ دیے۔
    بتول بیگم حیران وپریشان یہ سب ہوتا دیکھتی رہیں اور جب حاجی صاحب کو کسی چیز کی ضرورت پڑی تو ان کی مدد بھی کرتی رہیں۔
    جب حاجی صاحب یہ سب کر کے فار غ ہوئے تو ان سے پوچھے بنا نہ رہ سکیں۔
    ’’ـحاجی صاحب یہ سب کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ کتنا تھک گئے ہیں۔‘‘ بتول بیگم کا انداز فکرمندی لیے ہوئے تھا۔
    ارے اللہ لوک بس تم دیکھتی جاؤ اور تم کو خود بہ خود پتا چل جائے گا کہ یہ سب کیوں کیا۔حاجی صاحب نے تھکے تھکے انداز میں جواب دیا۔
    اگلی صبح معمول کے انداز میں طلوع ہوئی۔
    اِکا دُکا معمول کے پرندے دانہ دنکا چگتے رہے۔
    دن ڈھلتے ڈھلتے پیڑ پر پرندوں کی چہکار میں اضافہ ہوتا گیا اور روز بہ روز اُن پرندوں کی تعداد اور چہکار بڑھتی ہی گئی اورپھر تو دور دراز سے بھی طرح طرح کی رنگ برنگے پکھیرو آنے لگے اور کئی نے تو اسی پیڑ پر بسیرا کر لیا۔ حاجی صاحب اور بتول بیگم نے بھی کبھی آبخوروں میں پانی اور خوراک کے برتنوں میں دانہ دنکے کی کمی نہ آنے دی بلکہ اب تو بتول بیگم رات کی بچی روٹیاں بھی پانی میں بھگو کر صحن میں جا بجا رکھ دیتی تھیں۔
    اب تو بتول بیگم ان ست رنگے پکھیروؤں کو دیکھتیں، خوش ہوتیں اور اللہ کا شکر ادا کرتیں۔
    دن پر دن گزرتے رہے اور جب دونوں میاں بیوی اولاد کی امید بھی چھوڑ چکے، تو ایک دن بتول بیگم کو اپنی کوکھ میں ایک نئی کونپل پھوٹنے کا انکشاف ہوا جس کی تصدیق محلے کی پرانی دائی نے بھی کر دی۔پہلے تو دائی کریمن حیران ہوئی اور پھر دوبارہ سے تمام نشانیاں چیک کیں تو انگشت ِبدنداں رہ گئی اور پھر بولی۔
    ’’ارے بی بتول مانو نہ مانو تم کو ضرور کسی بزرگ ہستی کی دعا لگ گئی ہے جس عمر میں عورتیں نانی اور دادی بنتی ہیں تم اس عمر میں ماں کے رتبے پر فائز ہونے والی ہو۔‘‘
    اور بتول بیگم کے چہرے پر خوشی اور شکر گزاری کے رنگ ایک ساتھ چمکنے لگے اور حاجی صاحب کے تو پاؤں ہی زمین پر نہیں پڑ رہے تھے۔ خوشی تھی کہ سنبھا لے نا سنبھل ر ہی تھی۔ پہلے تو وہ کتنی ہی دیر اللہ کے حضور سر بسجود رہے۔ بے شک اللہ بے نیاز ہے اور خلوص ِدل سے مانگی گئی تہجد کی دعاؤں کو رد نہیں کرتا۔ پھر کئی دن تک قرآن خوانی کراتے رہے اور ہر سانس کے ساتھ اللہ کریم کا شکر ادا کرتے رہے۔ ہر بار دعا کے لیے ہاتھ اٹھاتے ہی ان کی آنکھیں بھیگ جاتی تھیں۔ اللہ نے ان جیسے بندے پر اپنا بہت بڑا کرم کیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    آخر کار نیم شب کی دعائیں رنگ لائیں اور منتیں پوری ہوئیں اور امیدیں بھر آئیں۔ ایک سہانی اور خوشبو بھری صبح اللہ کریم نے انہیں اپنی رحمت سے نوازا۔
    نرم گلابی روئی جیسی رحمت کا نام حاجی صاحب نے مہرالنساء رکھا۔ ماں باپ نے مہرو کو حقیقت میں ہتھیلی کا چھالا بنا کہ رکھا۔ دونوں کا بس نہیں چلتا تھا کہ دنیا جہان کی نعمتیں مہرو کے قدموں میں ڈھیر کر دیں۔ مہرو پنچھیوں کی چہکار سنتے سنتے اور ان کے پیچھے بھاگتے دوڑتے اسکول کی عمر کو پہنچی پھر پرائمری سے مڈل اور پھر میٹرک کر کے کالج میں آپہنچی۔ لیکن اس کی معصومیت اور سادہ لوحی میں بال برابر فرق نہ آیا۔
    مہرو نے کبھی بھی اپنے والدین کے بے جا پیارومحبت کا ناجائز فائدہ نہ اٹھایا تھا۔ وہ راضی بہ رضا رہنے والی لڑکی تھی بس کبھی کبھار اماں اور ابا کی پرندوں اور جانوروں سے محبت سے بے زار ہو جاتی تو اماں سے جھنجھلا کہ کہتی۔
    ’’اماں مجھے کبھی کبھی لگتا ہے میں آپ کی سوتیلی بیٹی ہوں اور یہ پنکھ پکھیرو آپ کی سگی اولاد ہیں۔‘‘ اماں اس کی بات سن کے کھکھلا کے ہنس پڑتیں اور کہتیں۔
    ’’ارے پگلی کیسی باتیں کرتی ہو بھلا سگی اولاد کا نعم البدل بھی کوئی ہو سکتا ہے اور یہ پنکھ پکھیرو تو اداسی اور تنہائی کو کاٹنے واسطے پالے تھے اور تم بھی تو بہت دیر سے آئی ہو میری منتوں مرادوں والی پتری۔‘‘ آخری جملہ اماں نے اسے ساتھ لگاتے ہوئے کہا اور مہرو اتنے پیار پر جھینپ گئی۔
    ’’لیکن اماں آپ بھی تو انصاف کریں آپ کے یہ چہیتے پنچھی کیسے منہ اندھیرے ہی شور مچانا شروع کرتے دیتے۔ اب کوئی سوئے کہ جاگے ان کی بلا سے۔‘‘ مہرو نے پھر شکایت بھرا راگ چھیڑا ۔
    اس بار اماں نے اسے تیزنظروں سے گھوری ڈالی اور کہا۔
    ’’ارے بٹیا یہ معصوم مخلوق تو ہم انسانوں کو یہ باور کراتے ہیں کہ اب اٹھ جاؤ اے حضرت ِانسان اور اللہ کا ذکر کرو لیکن ہم بد نصیب شیطان کی بہکاوے میں آکے دھڑ مار کے سوئے رہتے ہیں۔ اب تم ہی بتاؤ ہم انسانوں سے تو یہ ہی بھلے ہیں جو نور پیر کے وقت اللہ کا ذکرکرتے ہیں۔‘‘
    مہرو تو بات کر کے پچھتائی اور کسی بہانے سے ماں کے پاس سے اٹھنے کا سوچنے لگی۔
    پھر اماں نے خود ہی اس کی مشکل آسان کر دی یہ کہہ کر کے جاؤ ذرا باورچی خانہ پر نظر ڈالو اگر کچھ برتن دھونے والے ہیں تو انہیں دھو کے رکھ دو۔
    ٭…٭…٭
    دسمبر کے دن تھے اور یوں لگ رہا تھا کہ سردی اس بار اپنے سارے ریکارڈ توڑے گی۔ مہرو تو بہت مشکل سے کالج کے لیے بستر سے اتری۔ لپ جھپ تیار ہوئی۔ جلدی جلدی انڈے پراٹھے کے کچھ نوالے چائے کے ساتھ نگلے جو اماں نے اس کے تیا ر ہوتے ہوئے کمرے میں رکھ دیے تھے۔
    جب وہ تیز تیز قدموں سے صحن میں آئی تو نیم کے پیڑ کے نیچے ابا ایک کتے کی مرہم پٹی کرنے میں مصروف تھے۔ اس نے خفا خفا انداز میں دور ہی سے سلام کیا اور پھر خفگی بھری نظر اماں پر ڈالی اور گھر کی دہلیز سے باہر آگئی۔
    اگلی گلی میں اس کی اسکول کی دوست شمع رہتی تھی جس کے ساتھ وہ کالج جایا کرتی تھی۔ آج مہرو کو دیر ہوگئی تھی تو وہ دروازے ہی میں کھڑی اس کا انتظار کررہی تھی۔ اس کو آتے دیکھا تو منہ اندر کی طرف کر کے بولی۔
    ’’حسن بھائی اب رہنے دیں مہرو آگئی ہے۔ ‘‘
    حسن نے باہر کی طرف جھانکا اور پھر دیکھتا ہی رہ گیا۔
    ’’شمع حسن بھائی کے ساتھ کہاں جانے کی تیاری تھی اور یہ تمہارے وہی کزن ہیں نا خالہ صفیہ کے بیٹے۔‘‘
    مہرو نے تیز تیز چلتے سانس کو قابو کرتے ہوئے شمع سے پوچھا۔
    ’’ہاں وہی ہیں اور میں سمجھی تھی کہ آج تم نہیں جاؤ گی بہت دیر ہوگئی تھی تمہارے آنے میں۔‘‘ شمع نے لپ سٹک لگی انگلی ہونٹوں پر پھیرتے ہوئے وضاحت کی۔
    ٭…٭…٭
    کالج سے واپسی کے وقت حسن بھائی گیٹ سے باہر کھڑے تھے۔ان دونوں کو باہر نکلتے دیکھا تو عجلت سے ان کی طرف آئے۔ شمع نے دیکھتے ہی پوچھا۔
    ’’حسن بھائی آپ یہاں، سب خیریت تو ہے نا۔ گھر میں سب ٹھیک ہیں؟‘‘ ثنا نے زور زورسے دھڑکتے دل کو قابو کرتے ہوئے پوچھا، تو حسن بھائی کھسیا نی ہنسی سے بولے۔
    ’’اوہ نہیں سب خیریت ہے تم پریشان مت ہو۔ میں تو تم کو لینے آیاتھا۔ ادھر کالج کے پاس ہی کچھ کام تھا، تو سوچا جاتے ہوئے تمہیں کو ساتھ لیتا جاؤں۔‘‘
    ’’اُف اللہ بھائی آپ بھی نہ کمال کرتے ہیں۔ میں تو روزانہ مہرو کے ساتھ آتی جاتی ہوں۔ آپ کے ساتھ کیسے جا سکتی ہوں۔ آپ جائیں ہم آ جائیں گے۔‘‘ ثنا نے مہرو کو دیکھتے ہوئے کہا۔
    جو ایک طرف کھڑی ان کی باتیں سن رہی تھی اور اس تمام عرصے میں حسن نے مہرو سے نگاہیں نہیں ہٹائیں اور مہرو کا اس کا خود کو یوں ٹکٹکی باندھ کے دیکھنا بہت برا لگ رہا تھا اورشمع کو تو شاید اپنی ہی پڑی تھی اسی لیے اس بات پر اتنا غور نہیں کیا۔
    ٭…٭…٭




  • بس عشق ہو — کشاف اقبال (دوسرا اور آخری حصّہ)

    بس عشق ہو — کشاف اقبال (دوسرا اور آخری حصّہ)

    ’’تو آج آ رہے ہو نا اپنے بھائی کی منگنی پر؟‘‘برہان نے ناشتے سے فارغ ہوتے ہی ظہیر کو فون کیا۔
    ’’مبارک ہو بھائی۔بات منگنی تک جا پہنچی،ضرور آؤں گا! ‘‘برہان کی منگنی کی خبر سن کر ظہیر کو بہت خوشی ہو ئی۔برہان اسے اپنا سگا بھائی سمجھتا تھا،کیسے وہ اسے اپنی اس خوشی میں شریک نہ کرتا۔
    ’’ہاں یار۔اس کے گھر والے بھی اس کی طرح بناوٹ سے پاک ہیں،انہیں جیسے ہی یقین ہوا کہ میں ان کی بیٹی کے لیے درست ہوں ،تو پھر انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ دیر کس بات کی۔‘‘آج اس کے گھر میںخوب چہل پہل تھی۔ نبیہہ بیگم اور ندیم صاحب یہ فیصلہ کرنے میں مصروف تھے کہ کون سی مٹھائی جائے گی ،کتنی مقدار جائے گی،انگوٹھی کس طرز کی ہوگی،وغیرہ وغیرہ۔
    برہان نے ابھی تک ممتحنہ کی تصویر اپنے گھر والوں کو نہیں دکھائی تھی۔اسے یقین تھا کہ اس کے گھر والوں کو اس کی پسند ضرور پسند آ ئے گی،وہ انہیں سرپرائز دینا چاہتا تھا۔
    ’’تم اپنے اخبار کے انٹرٹینمٹ کے صفحے پر میری منگنی کی خبر چھاپ دو۔‘‘وہ اپنی منگنی کا فنکشن بھلے سادگی سے کر رہا تھا،پر اپنی منگنی کی خبر وہ پورے پاکستان میں پھیلا دینا چاہتا تھا،وہ نہیں چاہتا تھا کہ میڈیا اسے اور ممتحنہ کو ساتھ دیکھ کر غلط باتیں اچھالتا پھرے۔
    ’’اس کی تو ٹینشن ہی مت لو۔ویسے بھی آپ تو ’’دا برہان ندیم‘ ہیں جن کا اپنی ہونے والی منگیتر کے ساتھ گھومنے جانا خبر بن گیا، تو پھر یہ تو باقاعدہ منگنی ہے۔ یہ خبر تو فرنٹ پیج کی زینت بنے گی،بولڈ لیٹرز میں۔‘‘ظہیر قہقہے مارنے لگا۔
    ’’تمہیں یہ خبر کیسے ملی کہ میں ممتحنہ کے ساتھ گھومنے گیا تھا؟‘‘ جہاں تک برہان کا خیال تھا وہاں کوئی میڈیا والا موجود نہیں تھا ۔برہان کو یہ بات بالکل بھی اچھی نہیں لگی۔
    ’’میں ایک بہت بڑے اخبار کا ایڈیٹر ہوں برہان صاحب۔میرے مخبر پاکستان کے ہر مشہور علاقے میں چھپے ہیں اور پھر آپ تو ’دا برہان ندیم ‘ ہیں۔ آپ کی خبر ملنا کوئی بڑی بات نہیں۔‘‘وہ برہان کو اپنی اور اپنے اخبار کی اہمیت جتانے لگا۔
    ’’تم میرے بھائی ہو اس لیے تم سے کہہ رہا ہوں۔برا مت ماننا،تم چاہے میری کوئی بھی خبر چھاپ لو،پر میری اور ممتحنہ کی کوئی بھی خبر مجھ سے پوچھے بغیر مت چھاپنا ،پلیز۔‘‘وہ ممتحنہ کے معاملے میں بہت سین سیٹو(Sensitive)تھا۔
    ’’آپ کا حکم سر آنکھوں پر بھائی۔میں نے بالکل برا نہیں مانا۔ایک بار پھر بہت مبارک باد اپنی منگنی پر۔‘‘اور پھر دونوں نے فون رکھ دیا۔
    ظہیر کا فون بند ہوتے ہی برہان کے موبائل پر ’محمود علی کالنگ‘ کے الفاظ جگمگانے لگے۔
    ’’سلام محمود صاحب، کیسے یاد کیا؟‘‘اس نے بڑے خوش گوار موڈ میں سلام کیا۔
    ’’وعلیکم السلام۔کیا بات ہے؟آواز بتا رہی ہے کہ آج برہان ندیم کا دل باغ باغ ہوا ہے،کیوں؟‘‘کافی عرصے سے محمود علی اس کے ساتھ کام کر رہا تھا،اسے وہ اچھی طرح پہچان گیا تھا۔
    ’’اس دل کو باغ باغ اسی نے کیا ہے جس نے آپ کے لان کو ایک حسین باغ بنا دیا تھا۔آج منگنی ہے میری ممتحنہ کے ساتھ۔‘‘وہ کھل کر اپنے دل کا حال بیان کرنے لگا۔
    ’’مبارک ہو بہت۔سن کر خوشی ہوئی۔‘‘ وہ خوشی رسمی تھی۔اصل میں تو محمود علی حیال کے ساتھ ہی برہان کو دیکھنا چاہتا تھا۔
    ’’خیرمبارک۔‘‘
    ’’میں نے تمہیں یہ بتانے کے لیے فون کیا ہے کہ ہماری فلم کی شوٹنگ اگلے ہفتے سے شروع ہے،فلم کا ایک حصہ کراچی میں شوٹ ہوگا اور دوسرا دبئی میں۔آج تمہیں بور نہیں کروں گا۔اسکرپٹ اور باقی تمام تفصیلات کل تمہارے گھر پہنچادوں گا۔Enjoy your day،اللہ حافظ۔‘‘برہان کو شوٹنگ کی تاریخ سے آگاہ کرنے کے بعد اس نے فون رکھ دیا۔
    ٭…٭…٭





    ’’یا اللہ میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے؟میری بھی تو برابر کی محنت ہوتی ہے۔ پھر میری محنت کا پھل وہ کیوں لے اڑتی ہے؟قسمت اس پر اتنی مہربان کیوں ہے؟اسے مقبولیت بھی ملی اور برہان ندیم جیسے اداکار کی سچی محبت بھی،پر میرے نصیب میں کیا آیا؟کچھ بھی تو نہیں۔‘‘وہ تیز آواز میں موسیقی لگا کر گاڑی ڈرائیو کر رہی تھی۔
    ’’مجھے محبت نہیں چاہیے تھی،مجھے صرف میری محنت کا پھل چاہیے تھا،پر و ہ مجھے جائز طریقے سے نہیں ملا۔ اس لیے میرے اللہ تو مجھے معاف کر دینا،میں کچھ غلط کرنے نہیں جا رہی،بس اپنی محنت کا پھل پانے کے لیے غلط راستے کا انتخاب کر رہی ہوں۔‘‘
    اور بالآخر وہ اس جگہ پر آپہنچی جہاں ہر وہ انسان آتا ہے جو حسد کی آگ میں جھلساہوا ہو،جہاں ہر وہ انسان آتا ہے جسے اپنا مقصد حاصل کرنا ہو،ہر ناجائز طریقے سے،جہاں ہر وہ مسلمان آتا ہے جس کا ایمان اللہ پر سے اٹھ جاتا ہے،جہاں ہر وہ مسلمان آتا ہے جو خدا سے نا امید ہو کر شیطان سے مانگنے لگتا ہے۔ہاں! وہ سفلی عامل کے پاس آ پہنچی تھی۔
    اس نے اندر داخل ہونے سے پہلے ہزار بار سوچا کہ کیا وہ غلط کر رہی ہے؟ دل اور دماغ دونوں نے کہا کہ وہ اسلام سے خارج ہونے جا رہی ہے۔ پر تھوڑی دیر بعد اسے اپنا مقصد نظر آنے لگا۔مانا کہ جائز مقصد حاصل کرنے کے لیے انسان کسی بھی حد تک چلا جاتا ہے،پر وہ ساری حدیں پار کی ہوتی ہیں،مگر وہ تو ایمان کے دائرے ہی سے خارج ہونے جا رہی تھی۔
    ’’سلام بابا جی۔‘‘ وہ چہرہ وحشت سے بھرا تھا۔کچھ اتنا کہ اس کے پاس سلام کا جواب دینے کا بھی وقت نہ تھا۔
    ’’مسئلہ بتا۔‘‘اس کے یہاں کسٹمرز کا کافی ہجوم تھا۔ غلاظت اس کے چہرے سے صاف ظاہر ہو رہی تھی۔اس نے زارا کے سلام کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔
    ’’محنت میری بھی اتنی ہی ہوتی ہے جتنی اس کی،پر ساری کی ساری تعریفیں و ہ اپنے حصے میں لے جاتی ہے۔مجھے تو وہ اپنا نوکر سمجھتی ہے۔میں بس اتنا چاہتی ہوں کہ اس کے حصے کی تعریفیں میرے حصے میں آ جائیں،اس کے ساتھ بھی وہی ہو جو میرے ساتھ ہوا ہے۔محنت وہ کرے اور پھل میں لے اڑوں۔‘‘وہ جلد بازی میں بابا کو سارا مسئلہ بتانے لگی اور اس کے ساتھ ساتھ اپنا مقصد بھی۔
    ’’کام ہو جائے گا۔اس کی ماں کے نام کی ضرورت پڑے گی۔کل بیس ہزار روپے لے کر آجانا،میں کام شروع کر دوں گا۔اگر تیرا کام نہ ہوا ،تو تیرے پیسے واپس۔‘‘وہ واقعی بہت پہنچا ہوا سفلی عامل تھا۔زارا نے انٹرنیٹ پر اس کے متعلق کافی تحقیقات کی تھیں۔
    ’’جی بابا۔‘‘اور وہ وہاں سے اٹھ کر چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    ’’میں تو آپ کا دیوانہ ہوں حیال صاحبہ۔آپ کے حسن پر تو دنیا مرتی ہے پر میں آپ کے حسن کو دیکھ کر جی اٹھتا ہوں۔‘‘محمود علی کی فلم کی شوٹنگ شروع ہونے سے پہلے نمیر علی نے حیال سے ملاقات کرنا چاہی۔
    ’’ہونہہ۔‘‘ وہ ہر ایک سے اپنی تعریفیں سن سن کر جیسے بے زار سی ہو گئی تھی۔
    ’’سنا ہے بہت خواہش ہے آپ کو میرے ساتھ کام کرنے کی؟‘‘ حیال نے کا ک ٹیل کا ایک سپ لیتے ہوئے پوچھا۔
    ’’جی! وہ تو ہے۔میں آپ کے ساتھ کام کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہوں۔بس یہی چاہتا ہوں کہ برہان ندیم کی طرح میں بھی آپ کے ہر پراجیکٹ میں آپ کے ساتھ کام کروں۔آپ کی صحبت میں رہ کر تو وہ آسمان کا سب سے زیادہ چمکتا ہوا ستارہ بن گیا،ہمیں بھی آسمان کا ستارہ بننے کا موقع دے کر دیکھیے،آپ ہمارے کام سے بہت متاثر ہوں گی۔‘‘وہ تو جیسے اس کا دیوانہ تھا،پر حیال اتنا عرصہ میڈیا میں کام کرنے کے بعد اتنا ضرور سمجھ گئی تھی کہ وہ اسے صرف اپنی کام یابی کی طرف جانے والی سیڑھی سمجھ رہا ہے۔ پر وہ بھی حیال طاہر تھی،دوسروں کو اپنے مقاصد پورے کرنے کے لیے سیڑھی بنانے کے فن میں اسے کمال حاصل تھا۔
    ’’میرے ساتھ بڑے بڑے کام کرنے کے لیے تمہیں میرے چھوٹے چھوٹے کام کرنا ہوں گے۔‘‘وہ اسے آفر دینے لگی۔
    ’’آفر منظور ہے۔‘‘نمیر نے سوچنے کے لیے ایک لمحہ بھی انتظار نہ کیا۔
    ’’ایسے بڑے بڑے ڈائریکٹرز ،بڑے بڑے پروڈکشن ہاؤسز کے ساتھ کام دلاؤں گی کہ سوچ ہے تمہاری۔کام کے بارے میں تمہیں تفصیلات فلم کی شوٹنگ کے دوران ہی پتا چل جائیں گی۔‘‘حیال نے نمیر علی کو نہال کر دیا اور ساتھ ساتھ اپنا مقصد پورا کرنے کا سامان بھی کر لیا۔
    ٭…٭…٭
    وہ پارلر تیار ہونے نہیں،صرف مہندی لگوانے گئی تھی۔عنایہ بیگم اور حار ث نے بہت اصرار کیا کہ پارلر جا ہی رہی ہو تو تھوڑا بہت تیار بھی ہو جانا پر اس نے یہ کہہ کر صاف انکار کر دیا ۔
    ’’تیار ایک ہی دن ہوں گی، وہ بھی جم کے اور وہ دن میری شادی کا ہوگا۔‘‘اسے میک اپ کرنے کا بالکل بھی شوق نہیں تھا اور اس نے یہ طے کر لیا تھا کہ اگر وہ تیار ہو گی بھی تو محض اپنی شادی والے دن۔
    وہ مہندی والے ہاتھ لیے،جن کے بازوؤں تک باریک اور نہایت نفاست کے ساتھ مہندی لگی ہوئی تھی،اپنے کمرے میں آ گئی۔
    ’’تم نے اپنے مہندی والے ہاتھوں پر میرا نام لکھوایا؟‘‘اس کے کمرے میں داخل ہوتے ہی برہان ندیم کا فون آگیا۔ پارلر سے آتے آتے اس کی مہندی خشک ہو چکی تھی،اس نے بہ آسانی برہان کا فون ریسیو کر کیا۔
    ’’نہیں۔‘‘اس نے ہوش و حواس کے ساتھ جواب دیا۔
    ’’کیوں؟‘‘برہان افسردہ ہو گیا۔
    ’’مہندی تو ہاتھوں سے مٹ ہی جاتی ہے،بہت زیادہ کتنے دن قائم رہے گی؟پانچ دن؟دس دن؟پھر اسے مٹنا ہی ہوگا۔پھر میں ایسی تختی پر کیسے آپ کا نام لکھواتی جس پر لگی سیاہی کو مٹ ہی جانا ہے؟‘‘وہ اسے اپنے ہاتھوں پر اس کا نام نہ لکھوانے کی دلیل پیش کرنے لگی۔
    ’’تو پھر کس تختی پر محبوب کا نام لکھا جاتا ہے؟‘‘وہ اس کے جواب کا منتظر تھا۔
    ’’محبوب کا نام تو اس تختی پر لکھا جاتا ہے جہاں غیروں کی نظر نہ پڑ سکے اور وہاں میں آپ کا نام بہت پہلے ہی لکھوا چکی ہوں۔‘‘ہاتھوں پر نام نہ لکھوانے کی ناراضی وقتی تھی پر دل پر نام ہمیشہ کے لیے لکھوانے کی خوشی جاوداں تھی۔
    ’’ہونہہ۔ پر اگر رسماً ہی لکھوا لیتی تو کیا ہوجاتا؟سنا ہے عاشق کا اپنے محبوب کے مہندی والے ہاتھوں میں اپنانام ڈھونڈ لینا اس کا کمال ہوتا ہے۔‘‘وہ ممتحنہ کی کہی بات سمجھ چکا تھا پھر بھی چاہتا تھا کہ وہ رسماً ہی سہی، اپنے ہاتھوں پر اس کا نام لکھوا لے۔
    ’’محبوب کے ہاتھوں میں لگی مہندی پر اپنا نام ڈھونڈناکمال نہیں ہوتا برہان،اس کے چہرے پر لکھے اپنے نام کا نظر آنا کمال ہوتا ہے۔وہ اس لیے کیوں کہ اس نام کو دیکھنے کے لیے آنکھوں کی نہیں،محبت جیسی بینائی کی ضرورت ہوتی ہے۔‘‘برہان اپنے آپ کو بہت خوش قسمت سمجھنے لگا ،اسے اتنی سمجھ دار منگیتر جو ملنے والی تھی۔
    ’’صحیح کہہ رہی ہو تم۔تو پھر تیار رہنا،میں نکل رہا ہوں۔‘‘ وہ تو ایسے بول رہا تھا جیسے برات لے کر آ رہا ہو اور وہ اپنے گھر سے رخصت ہونے لگی ہو۔
    ایک گھنٹا گزرا ہی تھا کہ ممتحنہ کو اپنے کمرے میں ہارن کی آواز سنائی دی۔لڑکے والے آ چکے تھے۔اس نے زارا کو کتنی بار فون کیا پر اس نے اس کی ایک کا ل کا بھی جواب دینا ضروری نہیں سمجھا۔اس نے زارا کی لینڈ لائن پر فون کرنے کا فیصلہ کیا۔
    ’’کوئی لینا دینا نہیں ہے میری بیٹی کا تم سے،سمجھیں! بہت اچھا کیا تم نے اس کے ساتھ۔آئندہ میری بیٹی کے موبائل پر یا لینڈ لائن پر فون مت کرنا۔خدا حافظ۔‘‘ لینڈ لائن پر فون کرتے ہی سمیہ بیگم کی جانب سے اسے بہت تلخ جواب ملا۔وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہی کہ آخر ایک دن میں ایسا کیا ہو گیا جو زارا اس سے اتنی لاتعلق ہو گئی۔اس نے سر جھٹک کر اپنی زندگی کے اہم دن کو کھل کر جی لینے کا فیصلہ کیا۔
    میرون رنگ کا ڈائینسٹی(Dynasty)کا کرتہ پہنے وہ شہزادے کے طرح اپنے گھر والوں کے ہمراہ ممتحنہ کے گھر داخل ہوا۔وہ اپنی نظریں اِدھر اُدھر دوڑانے لگاپر اسے حارث اور عنایہ بیگم کے علاوہ کوئی اور نظر نہیں آیا۔ بے چارا عاشق۔
    ایک دوسرے کے گھر والوں سے سلام دعا ہونے کے بعد حارث اور عنایہ بیگم نے مہمانوں کو لاؤنج میں بٹھایا۔
    ’’کب آؤ گی کمر ے سے باہر؟ Me waiting‘‘ براجمان ہوتے ہی برہان واٹس ایپ پر اپنی ہونے والی منگیتر کے ساتھ چیٹنگ کرنے میں مصروف ہو گیا۔ظہیر بھی ساتھ آیا تھا،وہ اسے دیکھ کر سمجھ گیا کہ برہان سے مزید انتظار نہیں ہورہا۔
    ’’آ جاؤں گی۔ Have patience۔‘‘ جتنی تیزی سے برہان نے پیغام ٹائپ کیااتنی ہی پھرتی سے ممتحنہ کا جواب موصول ہوا۔
    دونوں گھر والوں کی مفصل سی گفت گو کے بعد بالآخر نبیہہ بیگم نے عنایہ بیگم سے کہا۔
    ’’ہماری ہونے والی بہو کہاں ہے؟اسے بلائیں تو سہی۔‘‘برہان کی جان میں اس وقت تک جان نہیں آنے والی تھی جب تک کہ وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ نہ لے۔اسے خلش سی ہو رہی تھی کہ ممتحنہ اس کے آس پاس ہو کر بھی اس کی نظروں سے اوجھل ہے۔
    ’’جی میں ابھی لے کر آتی ہوں اسے۔‘‘نبیہہ بیگم کے کہتے ہی عنایہ بیگم ممتحنہ کے کمرے کی طرف چلی گئیں۔
    مسٹرڈ رنگ کی ٹخنوں کو چھوتی ڈیزائنر فراک،میرون پاجامہ،سر پر میرون دوپٹا اوڑھے،کمر تک آتے بالوں کی اسٹائلش سی چوٹی باندھے اور چوٹی کو آگے کی طرف کرتی وہ عنایہ بیگم کے ساتھ سیڑھیوں سے اترنے لگی۔سب کی نظریں اس پھول پر ٹھہر سی گئیں۔منگیتر صاحب کا تو بس نہیں چل رہاتھا کہ اپنی منگنی والی رات کو ممتحنہ کی رخصتی والی رات بنا دے،بھگا کر لے جائے اسے اپنے ساتھ۔
    ’’ماشا ء اللہ ! اللہ نظر بد سے بچائے۔میرے بیٹے کی پسند تو کافی روایتی ہے۔میں تو ابھی تک یہی سمجھ رہی تھی اس میک اپ کی دکان حیال کو ہماری بہو بنائے گا۔ پر ہمارا بیٹا تو عقل مند نکلا ندیم صاحب۔‘‘نبیہہ بیگم صاحبزادے کی پسند کی تعریف کرنے لگیں۔
    ’’حسن بے شک تمہارا ہو پر عقل تو مجھ پر گئی ہے ہمارے صاحبزادے کی۔‘‘ندیم صاحب کہہ بھلے نبیہہ بیگم سے رہے تھے پر نظریں سب ہی کی طرح ان کی بھی ممتحنہ پر ٹکی تھیں۔
    ’’ماشاء اللہ۔ یہ تو چاند کا ٹکڑا ہے۔اس کی خوب صورتی بتا رہی ہے کہ یہ کتنی خوب سیرت ہو گی۔‘‘برہان کی طرح اس کی امی بھی ممتحنہ کی سادگی پر پہلی ہی نظر میں اپنا دل ہار بیٹھیں۔
    ممتحنہ اب برہان کے ابو کو سلام کہنے لگی۔
    ’’وعلیکم السلام۔خوش رہو۔‘‘وہ اس کے سرپر ہاتھ رکھ کر اسے دعائیں دینے لگے۔سلام دعاکے بعد سب ایک بار پھر محو گفت گو ہوئے۔
    ’’بھئی مان گئی۔ ایسی شہزادی تو برہان کو شوبز کیا،پوری دنیامیں کہیں نہ ملتی۔‘‘وہ اپنے بیٹے کی پسند پر رشک کرنے لگیں۔
    ’’میرا خیال ہے ہم منگنی کی رسم شروع کر لیں؟‘‘ نبیہہ بیگم نے حارث سے انگوٹھی کی رسم شروع کرنے کی اجازت لی۔
    اب وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے ۔وہ جوڑی آسمانی لگ رہی تھی،آسمانوں پر بنائی گئی دنیا کی سب سے حسین جوڑی۔پہلے ممتحنہ نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا۔انگوٹھی انگلی میں جاتے ہی جیسے ہی تالیاں بجنا شروع ہو ئیں،برہان نے ان کی آواز کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے ممتحنہ سے کہہ دیا۔
    ’’آئی لو یو!‘‘ وہ اسے گھور کر دیکھنے لگی جیسے وہ کہنا چاہ رہی ہو۔’’سب دیکھ رہے ہیں برہان۔‘‘
    اب باری تھی ممتحنہ کی انگوٹھی پہنانے کی اور بالآخر اس نے بھی برہان کی انگلی میں اپنے نام کی انگوٹھی ڈال دی۔
    ’’آئی لو یو ٹو!‘‘اگر برہان کہہ سکتا تھا تو وہ کیوں نہیں؟ اس نے بھی شورغل کا بھرپور فائد ہ اٹھایا۔و ہ اسے آئی لو یو کہہ چکا تھا اور وہ اس کے جذبات کا جواب نہ دے کر اس کی محبت کی بے ادبی نہیں کر سکتی تھی۔
    ’’بھئی میرا خیال ہے کہ اب ہمیں دونوں کو تھوڑی دیر کے لیے اکیلا چھوڑ دینا چاہیے۔ دونوں کا حق بنتا ہے ایک دوسرے سے باتیں کرنے کا، کیوں عنایہ بھابی؟اجاز ت ہے؟‘‘نبیہہ بیگم لڑکی والوں کے جواب کی منتظر تھیں۔
    ’’جی بالکل۔کیوں نہیں!‘‘جواب دینے والی عنایہ بیگم نے حارث کی طرف اک نظر دیکھا اور مان گئیں۔ حارث کے چہرے کے تاثرات بھی عنایہ بیگم کی حمایت میں تھے۔
    ’’ظہیر بیٹا! جاؤ دونوں کو کھلی ہوا میں چھوڑ آؤ۔‘‘ ظہیر ان دونوں کو چھت کی طرف لے جانے لگا۔
    ’’کیا تکلفات کرنے بیٹھ گئیں؟‘‘نبیہہ بیگم عنایہ بیگم کو کچن میں کام کرتا دیکھ کر ان کے پاس آ گئیں۔
    ٭…٭…٭
    ’’چلیں جی۔ میرا کام تو ہو گیا ،اب میں چلا۔‘‘برہان اور ممتحنہ کو چھت پر چھوڑتے ہی ظہیر وہاں سے جانے لگا۔
    ’’یہ آپ کے بھائی ہیں؟‘‘ ممتحنہ کو ظہیر برہان کے بھائی سے کچھ کم نہ لگا۔
    ’’ہاں بھائی ہی سمجھو، ویسے یہ میرا بہت پرانا دوست ہے،مجھے اداکار بنانے میں اس کا بڑا ہاتھ ہے۔اسی کے ریفرنس سے میں مختلف پروڈیوسرز ،ڈائریکٹرز سے ملا۔ بہت مشہور و معروف اخبار کا ایڈیٹر ہے۔میرے لیے بھائی سے بھی بڑھ کر ہے۔‘‘وہ ممتحنہ کو ظہیر کی اس کی زندگی میں کیا اہمیت ہے،بتانے لگا۔
    ’’زبردست! انہیں جانے کیوں دیا آپ نے؟تعارف ہی کروا دیتے۔‘‘ممتحنہ کو ظہیر کے متعلق سن کر کافی خوشی ہوئی۔
    ’’یہاں موضو ع ہم ہیں یا کہ ظہیر ؟‘‘ برہان کو ڈر لگنے لگا کہ کہیں نصیب سے ملی اس ملاقات کا موضوع ظہیر ہی نہ بن جائے۔
    ’’ایسی کوئی بات نہیں،موضوع تو ہم ہی ہیں۔آپ پوزیسسو ہو رہے ہیں؟‘‘وہ چھت پر لگے چوڑے جھولے پر آ کر بیٹھ گئی۔
    ’’ہونہہ۔میں تمہارے ساتھ ہر گفت گو کی ابتدا ’ہم ‘ سے اور اختتام ’ہم‘ پر ہی کرنا چاہتا ہوں اور جس گفت گو کی ابتدا ہم سے ہو، اس کا اختتا م میں ’تم‘ پر ’مجھ‘ پر یا ’اوروں‘ پر کر کے تمہارے ساتھ ظلم نہیں کر سکتا۔‘‘وہ جھولے کے پاس آیا اسے محبت میں گفت گو کے آداب سے آگاہ کرنے لگا۔
    ’’بہت حسین لگ رہی ہو اور تمہارا سب سے حسین زیور جو تم ہمیشہ پہنے رہتی ہو،مجھے تمہارا وہ زیور سب سے زیادہ عزیز ہے۔خدا نہ کرے کہ کبھی ایسا ہو پر چاہے ہماری محبت کے حالات کتنے ہی حساس کیوں نہ ہو جائیں،اس زیور کو ہرگز مت گمانا، ایسا کرنا تم سے زیادہ میرے لیے نقصان کا باعث ہوگا۔‘‘
    وہ اسے فرصت کے ساتھ دیکھنے لگا۔اس کی آنکھوں کو ،پھر اس کے بالوں کو اور پھر اس کے ہاتھوں میں لگی مہندی کو۔مہندی پر نظر پڑتے ہی برہان نے ممتحنہ کی انگلیوں میں پہنی اپنے نام کی انگوٹھی کو دیکھا۔
    ’’نکاح اور منگنی میں کیا فرق ہو تا ہے ممتحنہ؟‘‘ اس کی نظر ابھی تک منگنی کی انگوٹھی پر تھی۔
    ’’حد ہو گئی برہان،بہت فرق ہوتا ہے۔‘‘وہ اسے اتنا بھی بے وقوف نہیں سمجھتی تھی کہ نکاح اور منگنی میں فرق نہ کر سکے۔
    ’’بہت فرق تو نہیں ہوتا،بس تھوڑا سا ہوتا ہے۔‘‘اس نے ممتحنہ کا انگوٹھی والا ہاتھ تھام لیا۔
    ’’تھوڑا سا؟وہ کیسے؟‘‘ممتحنہ کو تجسس ہوا۔
    ’’چاہے منگنی کی انگوٹھی ہو یا نکاح کا نکاح نامہ،فرق صرف شریعت کی بنا پر آتا ہے اور نکاح کے بعد دو محبت کرنے والوں کو ’میاں‘ اور ’بیوی‘ کا لقب دے دیا جاتا ہے ورنہ کبھی نہ ٹوٹنے والا بندھن تو دو محبت کرنے والوں کا بہت پہلے ہی جڑ چکا ہوتا ہے۔‘‘اب وہ اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا۔
    ’’ہاتھ چھوڑیں۔یہ دو دریا نہیں ہے،آپ کے سسرا ل کی چھت ہے جہاں آپ کی ساس اور سسر کبھی بھی کسی بھی وقت حاضر ہو سکتے ہیں۔‘‘ ممتحنہ برہان کے ہاتھوں کی گرفت سے اپنا ہاتھ چھڑانے لگی۔
    ’’تمہاری آنکھیں محبت کے خط کی طرح ہر لمحہ مجھے محبت کا ایک نیا پیغام بھیج رہی ہوتی ہیں۔‘‘اس نے ابھی تک ممتحنہ کا ہاتھ نہ چھوڑا۔ اسے اس وقت کسی کی بھی پروا نہیں تھی، سوائے اپنے دل کے۔
    ’’ اور آپ کی آنکھیں اسی خط کے جواب کی طرح ہیں، میری نظروں کے خط کا جواب مجھے دیکھتے ہی دے دیتی ہیں۔‘‘اس نے بھی صرف اپنے دل کی پروا بغیر کیے برہان کے ہاتھوں پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔
    ’’مجھے اپنی محبت میں اس طرح قید کر لینا کہ آزادی صرف موت ہی دلا سکے۔‘‘ ممتحنہ کے لمس نے اسے اس کی قید میں ہمیشہ اسیر بن کر رہنے پر مجبور کر دیا۔
    ’’جہاں بات محبت کی ہو، وہاں ذکر موت کا نہیں کرتے، ایسا کرنے سے محبت کی عمر میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔‘‘وہ دونوں ایک دوسرے میں پوری طرح گم ہو چکے تھے۔
    ’’مجھے لگتا ہے کہ ہمیں اپنی نظر اتروا لینی چاہیے۔نظر بہت بری چیز ہوتی ہے،برباد کردیتی ہے۔‘‘ممتحنہ کو اچانک سے برے برے خیالات آنے لگے، وہ سہم گئی۔
    ’’ہماری نظر تو اتر ہی جائے گی پر میں چاہتا ہوں کہ ہم اپنی محبت کی بھی نظراتروا لیں۔‘‘ اسے سب سے زیادہ ڈر اپنی محبت کو نظر لگنے کا تھا۔
    ’’محبت کی نظر کیسے اتاری جاتی ہے برہان؟‘‘ ممتحنہ کو تجسس ہوا۔
    ’’دعاؤں سے۔‘‘اب وہ اس کے ہاتھوں کو دعا والے ہاتھ کی شکل دینے لگا اور خود بھی دعا کے لیے ہاتھ اُٹھا دیے۔
    ’’آؤ آج مل کر دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ!ہماری محبت کو تاقیامت سلامت رکھنا۔حاسدوں سے بچانا جو ہماری محبت کے بارے میں برا سوچتے ہیں ان کے حال پر رحم کبھی نہ کرنا اور ہماری محبت کو ہمیشہ پروان چڑھانا۔آمین۔‘‘وہ برہان کے منہ سے نکلی ہر ایک دعا کے بعد آمین کہنے لگی۔اسے دعائیں مانگنا نہیں آتی تھیں،دعائیں تو ممتحنہ کی محبت کی دین تھیں۔
    عنایہ بیگم ان دونوں کو نیچے کھانے پر بلانے چھت پر پہنچیں تو ان دونوں کو دعا کرتا دیکھ کر وہ سکون کا سانس لینے لگیں۔
    ’’اللہ نظر بد سے بچائے اس جوڑی کو۔کتنے پیارے لگ رہے ہیں ایک ساتھ۔Made for each other، دعا کرتے ہوئے ایک تصویر تو بنتی ہے۔‘‘ایک طرف محبت کو نظر بد سے بچانے کی دعا کی جارہی تھی دوسری طرف محبت کرنے والوں کو۔اس سے پہلے کہ وہ ان کی دعا میں خلل ڈالتیں، عنایہ بیگم نے اپنے اسمارٹ فون سے ان کی دو چار تصاویر لے لیں۔
    ’’اگر آپ کی دعائیں ختم ہو گئی ہوں تو کیا نیچے تشریف لا سکتے ہیں؟آپ کا شدت سے انتظار کیا جا رہا ہے۔‘‘ نہ چاہتے ہوئے بھی عنایہ بیگم ان دونوں کے بیچ آ گئیں۔
    ’’جج…جی امی…آتے ہیں۔‘‘عنایہ بیگم کو اچانک چھت پر موجود پا کر ممتحنہ بوکھلا سی گئی جب کہ برہان پرسکون رہا۔
    ’’میں نے آپ سے کہا تھا نا کوئی آ جائے گا۔‘‘وہ اپنی امی کے پیچھے پیچھے چلتی برہان کو مدھم آواز میں ڈانٹنے لگی۔
    ’’دعا کرنا جرم تمہارے لیے ہوگا،میرے لیے تو عباد ت ہے اور عباد ت کرتے وقت جب رب ہمارے اتنے نزدیک ہوتا ہے،ہمارے سامنے ہوتا ہے،تو دنیا والوں سے کیا پردہ؟‘‘وہ اسے سمجھانے لگا اور سمجھایا بھی ایسا کہ ممتحنہ کا منہ خود بہ خود بند ہو گیا۔
    ’’آپ لوگوں سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔آج سے ممتحنہ آپ کے پاس ہماری امانت ہے۔ اسے سنبھال کر رکھیے گا کیوں کہ بہت جلد ہم اسے یہاں سے اپنے گھر لے جانے والے ہیں۔‘‘ نبیہہ بیگم جاتے جاتے عنایہ بیگم اور حارث کو آگاہ کرنے لگیں کہ وہ بہت جلد برہان کی شادی کرنے والی ہیں۔
    ’’آپ فکر مت کریں بھابی، ہم آ پ کی امانت کو سنبھال کر رکھیں گے۔ہمیں بھی آپ سے مل کر بہت خوشی ہوئی۔آتے رہیے گا۔‘‘عنایہ بیگم رشتے داری نبھانے لگیں۔
    اور پھر و ہ لوگ چلے گئے۔ممتحنہ کی زندگی کا ایک اہم دن اپنے اختتام کو پہنچا۔وہ مطمئن تھی کہ سب کچھ بہت اچھے سے ہو گیا اور اس سے کہیں زیادہ مطمئن حارث اور عنایہ بیگم تھے۔
    وہ اپنے کمرے میں چلی گئی ۔فریش ہو کر جب وہ باتھ روم سے اپنے کمرے میں آئی تو اس کا موبائل بج رہا تھا۔
    ’’السلام و علیکم محمود علی صاحب۔ خیریت؟کوئی فلورل ارینجمنٹ کروانی ہے آپ نے؟‘‘رات کے گیارہ بجے محمود علی نے اسے فون کیا۔
    ’’فی الحال تو کوئی نہیں پر اب مجھے جب بھی پھولوں کی سجاوٹ کروانا ہوگی، تو سب سے پہلے آپ ہی کو یاد کروں گا۔‘‘
    ’’شکریہ۔‘‘اسے ابھی تک محمود علی کے فون کرنے کی وجہ سمجھ نہ آئی۔
    ’’میں نے آپ کو مبارک باد دینے کے لیے فون کیا ہے۔برہان سے منگنی بہت بہت مبارک ہو۔ میں بہت خوش ہوں آپ دونوں کے لیے۔‘‘محمود علی کے فون کرنے کی وجہ ممتحنہ کو مبارک باد دینا تھی۔
    اگرچہ محمود علی کی خواہش تھی کہ برہان اور حیال شادی کے بندھن میں بندھ جائیں پر و ہ ممتحنہ سے برہان کی منگنی پر مایوس نہیں ہوا تھا۔
    ’’بہت بہت شکریہ۔‘‘ممتحنہ نے اندازہ لگا لیا کہ یقینا برہان نے ہی محمود علی کو بتایا ہو گا۔
    ’’میں نے آپ کی کمپنی کی ای میل آئی ڈی پر سکسیس پارٹی کی ویڈیو بھیجی تھی،وہ دیکھ لی آپ نے؟‘‘وہ بہت ہلکان ہو چکی تھی اس روز، مزید لب کشائی کرنے کے بالکل بھی موڈ میں نہیں تھی۔




  • بس عشق ہو — کشاف اقبال (حصّہ اوّل)

    بس عشق ہو — کشاف اقبال (حصّہ اوّل)

    ـ’’ہمیں پہلی فرصت میں ہی ممتحنہ کا نکاح کر دینا چاہیے تھا، لیکن ہم نے اس وقت سماجی رسم کو تفریحی رسم پر فوقیت دی اور دیکھو، آج کیا ہو گیاہماری بیٹی کے ساتھ۔اگر اس دن اس کا نکاح ہو گیا ہوتا تو کم از کم یہ نوبت تو ہرگز نہ آتی۔ نکاح میں اللہ کی رضامندی شامل ہوتی ہے اور منگنی میں صرف ہماری۔ ہم نے اللہ کی رضامندی پر اپنی رضامندی کو فوقیت دی اور دیکھو آج ہماری بیٹی کی کیا حالت ہو گئی۔‘‘ ماں کے ساتھ باپ بھی آنسو بہانے لگا۔
    ’’آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں حارث، لیکن اب کیا فائدہ ان باتوں کا، ہماری بیٹی اس حال تک پہنچ ہی گئی۔‘‘ غم تھا کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا اور آنسو تھے جو تھم نہیں رہے تھے۔
    ــ’’آپ لوگ اس طرح مت روئیں۔ وہ ابھی اپنی زندگی سے جنگ میں ہے۔شکست نہیں کھائی اس نے اور جب اپنے جنگ پر جاتے ہیں، تو گھر والے مایوس ہو کر غم نہیں مناتے۔ غازی بن کر ان کے واپس لوٹنے کی دعا کرتے ہیں اور وہ غازی بن کر ہی میدان جنگ سے واپس لوٹے گی۔‘‘ وہ اپنی زندگی کو اپنی زندگی کا کچھ حصہ، اپنا خون دے کر آیا ہی تھا کہ اس نے ممتحنہ کے امی ابو کو غمگین دیکھا ۔ وہ انہیں سوگ مناتا دیکھ کر غصہ کرنے لگا۔
    اس کے غصہ کرتے ہی حارث اور عنایہ کو سمجھ آیا کہ غم زدہ ہونے سے بہتر ہے کہ ہوش میں آنے کی دعا کی جائے۔عنایہ بیگم مصلّے پر بیٹھ گئیں اور حارث تسبیح ہاتھ میں لیے اپنی بیٹی کی صحت یابی کے لیے دعائیں کرنے لگااور وہ… اس کا نظریہ تو کچھ اور ہی تھا۔
    ’’اب یہ بندہ شکرانے کے نفل بھی ادا کرے گا۔
    عنایہ بیگم کے سلام پھیرتے ہی ڈاکٹر صاحب آپریشن تھیٹر سے باہر نکل آئے۔
    ’’کیسی حالت ہے اب اس کی؟‘‘ سوال تینوں کا تھا پر پوچھنے میں پہل برہان نے کی۔
    ’’ہم نے مریضہ کو خون کی بوتل لگا دی ہے پر حالت پر کچھ خاص فرق نہیں پڑا۔ اگلے پندرہ منٹ تک ان کی ہارٹ بیٹ نارمل نہیں ہوئی تو آئی ایم سوری۔‘‘ڈاکٹر صاحب جواب دے چکے تھے۔ وہ ممتحنہ سے کچھ سوالات کرنے اندر چلا گیا۔
    ’’میں نے اپنا لہو تمہیں دیا ہے۔تم اس کے ساتھ بے وفائی نہیں کر سکتیں ممتحنہ۔ ‘‘وہ اس کا منگنی کی انگوٹھی والا ہاتھ اپنے دل پر رکھنے لگا، وہ انگوٹھی اتر نہ سکی تھی۔
    ’’میری جان! دیکھو میرا دل تمہارے بغیر بھی دھڑک رہا ہے اور یہ تو ممکن ہی نہیں کہ میں تمہارے بغیر سانس لوں۔ اس کا مطلب یہی ہوا کہ تم مجھے سن رہی ہو۔ اگر سن رہی ہو تو ایک بار دیکھ بھی لو۔ پلیز…‘‘ وہ اس کے ہاتھوں کو چومنے لگا لیکن اس نے کچھ رسپانس نہیں دیا۔
    ’’تم ہو تو میں ہوں۔ تم نہیں ہو تو میں کون ہوں؟‘‘ برہان کو یقین تھا کہ اس کی باتیں اس کے دل تک ضرور جائیں گی اور اسے دھڑکنے پر مجبور کردیں گی۔ اس کی شہادت کی انگلی میں حرکت ہونے لگی۔
    ’’ممتحنہ! اپنی آنکھیں کھولو پلیز۔ ورنہ میں مزید اپنی آنکھوں کو کھلا رکھنے کا گناہ نہیں کر پاؤں گا۔ ‘‘ وہ رونے لگا۔ روتے روتے اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔
    ٭…٭…٭





    وہ بہار کے دن تھے، گلوں کے کھلنے کے دن، خوشبوؤں کے دن، شجر پر نئی شاخوں کے اگنے کے دن اور خزاں کے پتے جھڑنے کے دن۔
    آج اس کے اسکول میں سالانہ بہار فیسٹول تھا۔ اسے ہمیشہ اس تقریب کا انتظار رہتا۔ پھولوں سے اتنی مانوس جو تھی۔ اس کے دن کا آغاز ہوتا بھی تو صرف پھولوں سے اور اپنے ہر دن کا اختتام بھی وہ پھولوں پر کرتی۔ہر صبح اپنے لان سے ایک پھول توڑ کر اپنے بالوں میں سجا لیا کرتی۔ کبھی گلاب تو کبھی چنبیلی،کبھی سوسن تو کبھی گل ِ لہمی۔ بچپن ہی سے پھولوں سے اتنی واقفیت اتنی شناسائی تھی کہ پھولوں کا حسن بھی اس کے چہرے پر نمودار ہونے لگا تھا۔ وہ گلوں کا ہر رنگ اوڑھے ہوئے تھی ۔ کبھی کھلتا ہوا گلاب لگتی تو کبھی سورج مکھی کا پھول۔ ایسی بات نہیں تھی کہ اس میں موجود تمام خوب صورتی، تمام نزاکت ان پھولوں کے ساتھ رہنے، ان سے باتیں کرنے کی بنا پر آئی تھی۔ وہ تو خود ہی ایک پھول تھی۔ قدرتی حسن سے مالا مال ممتحنہ پھولوں کے مانند تھی۔ہر پھول کے کھلنے کا کوئی نہ کوئی موسم ضرور ہوتا ہے، لیکن وہ سدا بہا ر تھی جسے کھلنے کے لیے بہار کا انتظار نہیں کرنا پڑتا تھا۔
    ’’ماما میں بہت لیٹ ہو گئی ہوں پلیز تھوڑا جلدی کر دیں۔‘‘ عنایہ بیگم اپنی بیٹی کے لمبے گھنے بالوں میں کنگھی کر رہی تھیں کہ ممتحنہ نے جلد بازی دکھانا شروع کر دی۔
    ’’کوئی دیر نہیں ہوئی میری گلابو۔ فیسٹول آٹھ بجے شروع ہو گا، ابھی صرف سات ہی بجے ہیں اور خبردار جو ورکنگ وومن کی طرح ناشتا کیے بغیر نکل گئیں تو۔ ‘‘ عنایہ بیگم اس بارہ سالہ بچی، جو سوچ اور اندازِ گفت گو سے ورکنگ وومن لگتی تھی، کو فیسٹول کے اوقات سے آگاہ کرنے لگیں۔
    ’’میری گلابو تو بہت پیاری بچی ہے۔ناشتے سے انکار نہیں کرتی اور آج تو اس کی دادی اسے اپنے ہاتھوں سے ناشتا کروائیں گی۔ ‘‘ ممتحنہ کے بالوں میں جیسے ہی پونی بندھی، دادی نے اسے اپنی طرف کھینچ لیا۔
    ’’آپ سب تو مجھے ایسے ٹریٹ کرتے ہیں جیسے میں دودھ پیتی بچی ہوں۔ کر لوں گی ناشتا، دادی آپ زحمت نہ کریں اور میں لیٹ نہیں ہونا چاہتی۔آپ تو جانتی ہی ہیں کہ آج کے دن کا انتظار میں پورا سال کرتی ہوں۔‘‘وہ اپنی دادی کے رخسار پر اپنی گول مٹول گلابی ہتھیلی پھیرتے ہوئے بولی۔ اس کے اس رویے کو دیکھ کر دادی نے اس کا ماتھا چوم لیا۔
    ’’دادی کی پوتی بڑی ہو کر کیا بنے گی؟‘‘ اور روزکی طرح دادی نے وہ سوال ایک بار پھر اپنی پوتی سے پوچھ لیا ، یہ سوچ کر کہ شاید اس بار اس کا جواب ڈاکٹر یا انجینئر ہوگا۔پر وہ بارہ سالہ ممتحنہ ایک بار پھر اپنے گھر والوں کو چونکا گئی۔
    ’’گل کار، یعنی فلورسٹ(Florist) ‘‘ وہ جھلملاتی ہوئی آنکھوں کے ساتھ بولی اور اپنے دادا کے پاس چلی گئی جو کمرے میں موجود اپنی پوتی کو نوعمری ہی میں بڑا ہوتا دیکھ رہے تھے ۔
    ’’گل کار گل کار…بس یہی رٹ لگائے رکھتی ہے یہ چھٹکی۔بھئی کسی تعلیم سے منسلک شعبے میں جائے تو بات بھی ہو پر یہ تو وہی مرغی کی ایک ٹانگ۔‘‘ اپنی پوتی کو اپنے پاس سے جاتا دیکھ کر دادی نے طنزاً کہا۔
    ’’بننے دو میری پوتی کو جو وہ بننا چاہتی ہے۔ مجھے اپنی گلابو پر پورا بھروسا ہے، یہ جو بھی شعبہ اختیار کرے گی، کام یابیاں اور تعریفیں ہی سمیٹے گی۔‘‘ وہ دادا کے پاس بھاگتی ہوئی آ رہی تھی کہ دادا نے اسے اپنے سینے لگا لیا۔
    ’’دیکھا آپ نے دادی، دادا بالکل ٹھیک کہہ رہے ہیں اور انسان کو بڑے ہو کر وہی کام کرنا چاہیے جس میں اس کا بچپن سے انٹرسٹ ہو اور آپ سب لوگ تو جانتے ہی ہیں کہ پھولوں کے ساتھ میرا تعلق کتنا گہرا ہے۔ تو پلیز جب میں بڑی ہو جاؤں تو مجھے ان پھولوں سے دور مت کیجیے گا۔‘‘ وہ بارہ سالہ بچی جو اپنے دادا کی گود میں تھی، کھڑکی سے نظر آنے والے لان کو دیکھنے لگی۔
    اس کا اندازِ گفت گو گھر کے تمام افراد کے لیے کسی فرحت بخش جام کی طرح تھا۔ سب کی جان اس بارہ سالہ بچی کے ساتھ جڑی ہوئی تھی۔
    ناشتا کرنے کے بعد وہ اپنے دادا کے ہم راہ اسکول جانے لگی لیکن ہمیشہ کی طرح گھر کے دروازے سے قدم باہر نکالنے سے پہلے وہ لان میں جانانہیں بھولی۔
    ’’آ ج کون سے پھول کا انتخاب کرے گی میری گلابو؟ آج وہ کون سا خوش قسمت پھول ہو گا جو میری گلابو کے بالوں کی زینت بنے گا؟‘‘اور ہمیشہ کی طرح ممتحنہ کے جواب نے انہیں لاجواب کر دیا۔ وہ ایسے ایسے پھولوں کے نام بتاتی جن کا دادا کو پتا تک نہ ہوتا۔ یہ سب معلومات اسے انٹرنیٹ سے ملا کرتی تھیں۔
    ’’آج میں گلِ وفا کا انتخاب کروں گی۔ گل وفا جسے انگریزی میں فار گیٹ می ناٹ(Forget Me Not) کہتے ہیں۔ ‘‘ اور پھر اس نے نیلا پھول توڑکر اپنی پونی کے ساتھ لگا لیا۔
    ’’او ر اسے گل ِ وفا کیوں کہتے ہیں کیا یہ بتانا پسند کریں گی مس فلورسٹ؟‘‘ اس پھول کا نام سن کر دادا کے اندر بھی تجسس کی آگ بھڑک اٹھی۔
    ’’یہ میں آپ کو گھر آ کر بتاؤں گی۔ابھی ہم لیٹ ہو رہے ہیں۔پلیز جلدی جلدی چلیں۔‘‘ ممتحنہ کو اِس وقت صرف فیسٹیول پر پہنچنے کی جلدی تھی، لہٰذا وہ جلدی سے گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی۔
    ٭…٭…٭
    ’’آ گئیں مس فلورسٹ؟ آج تو آپ ہی کا دن ہے۔‘‘ وہ جیسے ہی اسکول کے مرکزی دروازے پر گاڑی سے اتری، اس کی سہیلی زارا بھاگ کر اس کے پاس آ گئی۔
    ’’ہاں! یہ تو ہے۔‘‘ وہ جان بوجھ کر اپنی پونی آگے پیچھے کرنے لگی تاکہ زارہ کو بھی پتا چلے کہ آج وہ کون سا پھول اپنے بالوں میں لگاکر آئی ہے۔
    ’’واہ! یہ پھو ل تو کافی یونیک لگ رہا ہے۔میں نے آج سے پہلے اسے کہیں نہیں دیکھا، کیا نام ہے اس کا؟ بہت پیارا لگ رہا ہے یہ۔‘‘ زارا اس کے بالوں میں گل ِ وفا کو محسوس کرنے لگی۔
    ’’فار گیٹ می ناٹ مطلب گلِ وفا۔‘‘ اور وہ ایک بار پھر اپنے دادا کو دیکھ کر مسکرانے لگی۔دادا کے اندر ابھی تک اس پھول کے نام کا مطلب جاننے کا تجسس بھرا تھا۔
    ’’واؤ! Sounds Beautiful‘‘ زارا ایک لمحے کے لیے اسے دیکھتی ہی رہ گئی۔
    ’’ویسے میری یہ فلور ل ہیٹ دیکھ رہی ہو؟ بڑی مشکل سے تیار کی ہے میں نے۔ تم نہیں پہن کر آئیں فلورل ہیٹ؟میں نے کہا تھا سب نے پہن کرآنی ہے۔‘‘ زارا اپنی فلورل ہیٹ دکھا کر اسے جلانے لگی۔
    ’’ہونہہ! فلورل ہیٹ۔ وہ تو آج میں سب کو بنانا سکھاؤں گی۔تمہاری فلورل ہیٹ میں لگائے گئے پھولوں کا کنٹراسٹ غلط ہے۔آج میں سکھاؤں گی ،تم بھی سیکھ لینا۔ آج میں نے فلورل ہیٹ ہی کا تو اسٹال لگانا ہے۔‘‘اس کے انداز میں غرور نہیں تھا بالکل بھی نہیں۔ بس جب کوئی پھولوں سے متعلق کوئی بھی بات کرتا تو وہ اپنا پورا انسائیکلو پیڈیا کھول لیتی۔ یہ کہہ کر وہ گاڑی سے پھولوں کا ڈول نکالنے لگی جس میں طرح طرح کے پھول موجود تھے۔
    ’’اچھا بیٹا اب میں چلتا ہوں، خوب انجوائے کرنا اور ہاں! میں، تمہاری دادی ،ماما پاپا سب آئیں گے آج تمہاری پھولوں کی دکان دیکھنے۔‘‘دادا نے جاتے جاتے اسے کہا تھا۔
    ’’ویسے ایک بات تو بتاؤ ممتحنہ، تمہیں پھول اتنے زیادہ کیوں پسند ہیں؟‘‘ اب وہ دونوں سہیلیاں ممتحنہ کا اسٹال لگانے میں مصروف ہو گئیں۔
    ’’تم بتاؤ۔ ہمیں چاکلیٹ کیوں پسند ہے؟ نئے نئے کپڑے کیوں پسند ہیں؟ بارش کیوں پسند ہے؟‘‘ زارا کے ایک سوال پوچھنے پر ممتحنہ نے تین اور سوالات پوچھ لیے۔ اس کے سوالوں کا جواب ان تینوں سوالات کے جوابات میں ہی مخفی تھا۔
    ’’وہ…وہ اس لیے کیوں کہ چاکلیٹ ہمیں اچھی لگتی ہے، بارش اچھی لگتی ہے،کپڑے اچھے لگتے ہیں۔ اس لیے پسند ہے یہ سب۔‘‘ زارا کو اس کا جواب مل چکا تھا۔
    ’’ بس ؟مل گیا جواب؟ پھول مجھے اچھے لگتے ہیں اسی لیے پسند بھی ہیں۔ دادا کہتے ہیں کہ کسی چیز کو پسند کرنے کے لیے وجوہات نہیں ڈھونڈی جاتیں، بس اگر وہ ہمیں اچھی لگتی ہے تو اپنے آپ ہی پسند آجاتی ہے اور اگر کوئی چیز ایک بار ہمیں پسند آ گئی تو پھر ہم اس شے کا پوسٹ مارٹم کر کے اس کی تہ میں جا کر اس کی خامیاں تلاش کرنے نہیں بیٹھ جاتے۔‘‘ اور وہ ٹھہری چھوٹی عورت ، دادا کی ہر نصیحت کو اپنے ڈیڑھ فٹ کے دامن کے ساتھ کس کر باندھنے والی۔
    ’’تمہاری باتیں مجھے سمجھ نہیں آتیں۔ پر بہت اچھی بھی لگتی ہیں۔‘‘ زارا اس کی تعریف کیے بنا نہ رہ سکی۔
    ’’ تو بچو! کیا آپ تیار ہیں؟ فیسٹول شروع ہونے میں صرف پندرہ منٹ باقی ہیں۔ اپنے اپنے اسٹالز تیار رکھیں۔ آپ سب کے گھر والے بھی آنے ہی والے ہوں گے۔‘‘ وہ دونوں باتیں کرنے میں مصروف تھیں کہ اتنے میں ٹیچر نے آکر فائنل اناؤنسمنٹ کی۔
    ٭…٭…٭