Author: misbah116@hotmail.com

  • ذاتی — نظیر فاطمہ

    ذاتی — نظیر فاطمہ

    ’’عورت کا کوئی ذاتی گھر کیوں نہیں ہوتا؟مجھے طلاق سے بڑا ڈر لگتا ہے۔میں کہاں جاؤں گی؟‘‘ پینو نے سسکتے سسکتے سوال کیا۔
    ’’ عورت کی تو ہستی اپنی نہیں ہوتی، تم گھر کی بات کر رہی ہو۔ باپ، بھائی، شوہر اور پھر بیٹے ، اِن سب کو اللہ نے عورت کا محافظ بنایا ہے کہ وہ اللہ کی اس نازک تخلیق کی حفاظت کریں مگریہ سب اپنے فرائض بھول کر اس کے مالک بن جاتے ہیں۔ یہاں تک کہ عورت کی سانسیں بھی اس کی ذاتی ملکیت نہیں رہتیں۔‘‘ اس کی بڑی بہن رجی کے سلگتے لہجے نے پینو کے اندر بھڑکتی آگ کی شدت میں یوں اضافہ کیا جیسے بھڑکتی آگ پر تیل چھڑک دیا جائے۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی۔ پینو نے رجی کے سامنے دل بھر آنسو بہاکراپنے دل کا بوجھ توہلکا کر لیا، مگررجّی کے دل کا بوجھ کئی گنا بڑھا دیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    نہ جانے کیسی بد نصیب تھیں یہ چاروں بہنیں۔ عام سی شکل و صورت کے ساتھ حد سے زیادہ سیدھی سادھی جنھیں بچپن میں کسی نے پیار کرنا تو درکنار پیار بھری نظروں سے بھی دیکھنے کی زحمت نہ کی۔ پہلے دو بھائی پھر اُوپر تلے یہ چار بہنیں ۔ بھائیوںکی شادیاں ہو گئیں۔ ایک بڑی بہن کی شادی کی تھی کہ سال بعد ہی ان کے ماں باپ ایک مہینے کے وقفے سے عدم سدھارے اور ان تینوں بہنوں پر گھر تنگ ہو گیا۔
    ماں باپ کے مرنے کے بعد سال کے اندر اندر بغیر کسی چھان پھٹک کے رجی اور پینو کی شادی کر کے ان سے جان چھڑا لی گئی۔ سب سے چھوٹی جو سب سے زیادہ سیدھی تھی، وہ گیند کی طرح کبھی اس بھائی کے گھر تو کبھی اس بہن کے گھر رلنے لگی۔
    رجی کی قسمت پھر بھی قدرے بہتر تھی کہ اس کا شوہر اچھا انسان تھا۔ غربت تھی مگر سکون تھا۔ لیکن پینو کی قسمت نے اسے یہاں بھی پچھاڑا تھا۔اس کی ساس تو مانو سو ڈائنوں سے بھی بڑھ کر تھی کہ ڈائنیں بھی سو گھر چھوڑ دیتی ہیں، مگر یہ تو اپنی ہی اولادکی دشمن تھی ۔ نہ جانے کیسا خبط تھا اسے طلاقو ں کا کہ آٹھ بچّے پیدا کر کے پہلے اپنے شوہر سے طلاق لے کر اسے گھر سے نکالا ۔ اس کا شوہر عزت شرم والا انسان تھا جو بچوں کی دربدری کے خیال سے گھر بیوی کے نام کر کے خود اپنے گاؤں چلا گیااورزمینوں کے ساتھ دل لگا لیا۔ زمینوں کی آمدنی اچھی تھی سو بچّوں کا خرچہ بھی اُٹھایا۔ پھر اولاد جوان ہوئی تو ان کی شادیاں کروا دیں۔ اس بھلے مانس نے اپنے سارے فرائض ادا کیے۔ مگر اس عو رت نے پہلے اپنے سب سے بڑے بیٹے کی بیوی کو طلاق دلوائی اور پھر اپنی دو بیٹیوں کو طلاق دلوا کر گھر بٹھا لیا۔ دوسرے بیٹے کی شادی ہوئی تو اس کی ازدواجی زندگی خراب کی، مگر وہ ایک سمجھ دار انسان تھا۔ ماں اور بیوی دونوں کے حقوق کی اہمیت جانتا تھا سو اپنی بیوی اور بچّے کو لے کر الگ جا بسا۔
    پھر پینو کا نمبر تھا۔ اس کا شوہر رُکن دین جس نے پہلے دن ہی پینو پر اپنی ناپسندیدگی جتا دی تھی ۔ پینو شوہر کی دل چڑھی نہیں تھی، سو ہر لمحہ ساس کے عتاب کا نشانہ بنی رہتی۔ بھلی بُری گزرنے لگی ۔ پینو سب کچھ برداشت کرتی گئی۔ پیچھے کیا دیکھتی کہ جنھوں نے جان چھڑائی تو پلٹ کر خبر نہ لی۔ یہ بہنیں ہی ایک دوسرے کا سہارا تھیں۔ کوئی بہت ہی بڑی بات ہوجاتی تو بھائی بھابھیوں کی بجائے ان کے ایک ماموں ممانی آگے آتے کہ آج کل کے دور میں یہ ان افراد میں سے تھے جن کے دلوں میں خوفِ خدا تھا۔
    پھر جیسے موت ان بہنوں کے پیچھے ہاتھ جھاڑ کر پڑ گئی۔ سب سے چھوٹی کو تو جانے کی سب سے زیادہ جلدی تھی۔ وہ فٹ بال کی طرح اِدھر اُدھر لڑھکتے ہوئے گھٹ کر مر گئی۔
    ’’ارے کون شادی کرے گا اس سے۔‘‘
    ’’نہ کوئی کرے گا نہ اس بیماری سے جان چھوٹے گی۔‘‘
    لوگوں کے سوال، بھابھیوں کے جلے جواب اس کے کانوں میں پڑتے اور اس کے دل پر سلگتے ہوئے نشان چھوڑ جاتے۔ کوئی نہیں جانتا تھا کہ اس بد صورت، کم عقل سیدھی سی لڑکی کے سینے میں دھڑکتا دل کتنا نرم و نازک اور حساس تھا۔وہ سنتی رہی ، سہتی اور سہتے سہتے ایک دن اپنی جان سے چلی گئی۔ابھی اس کا غم بہنوں کے دلوں میں پنجے گاڑے بیٹھا تھا کہ ان کی سب سے بڑی بہن جو پہ در پہ آٹھ مردہ بچّوں کو جنم دے کر اندر سے ختم ہو چکی تھی ، ایک دن اچانک آنکھیں موند گئی۔ نو بار ماں بننے کی اذیت سہنے کے باوجود اس کی جھولی میں اس وقت آٹھ سال کا ایک بیٹا تھا۔ رجی اور پینو غم سے دہری ہو گئیں، مگر کسی کے جانے سے زندگی کہاں رکتی ہے ۔ یہ چلتی رہتی ہے سو یہاں بھی چلنے لگی۔ پینو اور رجی ایک دوسرے کے اور قریب آگئیں۔ دونوں سارے رشتے جیسے ایک دوسرے میں ہی تلاش کرتی تھیں ۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    پینو اپنے شوہر اور ساس کی زیادتیوں پر خاموش ہو جاتی۔ اس کی ساس ہر وقت اسے طلاق دلوانے کا اعلان کرتی رہتی۔ بدصورتی،غربت اور بانجھ پن کے طعنے سن سن کر اس کا دل لہو لہان ہو جاتا، مگر وہ لبوں پر قفل لگالیتی۔ وہ بد صورت تھی، غریب والدین کی بیٹی تھی، یہ بھی حقیقت تھی، مگر وہ بانجھ تھی یہ اس کا قصور ہر گز نہیں تھا۔وہ اپنے شوہر کے لیے اس ناپسندیدہ لباس کی طرح تھی جسے پہننا تو بہت دور کی بات، وہ ہاتھ لگانا یا نظر اُٹھا کر دیکھنا بھی پسند نہیں کرتا تھا۔ یہاں وہ قصور وار نہیں تھی لیکن ٹھہرائی جاتی تھی۔ وہ ماں نہ بن سکی، یہ رکن دین کی پلاننگ تھی۔ پینو اندر سے بہت خوف زدہ تھی کہ اگر اسے طلاق ہو گئی تو وہ کہاں جائے گی۔ پیچھے کوئی تھا نہیں سوائے ایک بہن کے ۔ دربدری کا خوف تھا یا کیا کہ وہ ہر بار طلاق کی دھمکی ملنے پر رکن دین کے قدموں میں گر جاتی۔
    ’’اللہ کا واسطہ! مجھے طلاق نہ دینا، مجھے یہیں پڑا رہنے دو ۔ گھر سے نہ نکالو ، نوکرانی سمجھ کر رکھ لو۔‘‘ اب پتا نہیں رکن دین اللہ کے واسطے شرم کھاتا تھا یا کیا کہ وہ اسے دو تین ٹھوکریں رسید کر کے گھر سے نکل جاتا اور پینو اپنی ساس کے منہ سے نکلنے والی آگ میں جھلس کر اور سیاہ پڑ جاتی۔
    پینو کے دیور کی شادی ہوئی۔ دلہن بہت ہی خوب صورت تھی، اتنی کہ پینو تو بالکل ہی دیوار سے جا لگی اور رکن دین دلہن کی خوب صورت بہن سجو کے آگے سمجھو دل ہار گیا۔
    پینو کی زندگی اور عذاب میں آگئی۔ رکن دین سجو کو لیے لیے گھومتا۔وہ گھر آتی تو اس کے آگے پیچھے پھرتا اور پینو بس دیکھ دیکھ کر اندر ہی اندرجلتی۔
    ’’ میں سجو سے شادی کر رہا ہو۔‘‘ رکن دین نے جانے اطلاع دی تھی یا حکم سنایا تھا۔
    ’’ کر لو ، مگر مجھے نہ چھوڑنا۔‘‘ پینو نے ہاتھ جوڑ دیے۔
    ’’ تجھے نہیں چھوڑوں گا تو اسے نہیں پا سکوں گا۔‘‘وہ اور بے مہر ہوا۔
    ’’ تمہارے بیوی بچوں کی خدمت کروں گی۔‘‘وہ گڑ گڑائی۔
    ’’ خدمت کے لیے نوکرانیاں بہت۔‘‘ پینو خاموش ہو گئی۔ اس کے سارے الفاظ جیسے گم ہو گئے کیوں کہ اسے اس کی حیثیت کا ادراک ہو گیا تھا۔
    ’’کہاں جاؤں گی؟ کیا کروں گی؟ میرا کیا بنے گا؟‘‘ پینو کی آنکھوں کے سامنے سوال ناچتے اور ذہن خالی ہو جاتا۔
    ’’منحوس بانجھ ہے۔ تین سال ہو گئے شادی کو۔ چڑیا کا ایک بچہ تک پیدا نہ کر سکی ۔ ‘‘ساس زہر اگل رہی تھی۔ ایسے میں پینو کی بہن رجی اس سے ملنے آئی تو اس نے اپنا غم سنا کر اس کا دل بھاری کر دیا تھا۔
    ’’ہم لوگ لڑکیوں کی ذاتی پہچان اور حیثیت کیوں نہیں بناتے؟ کیوں انہیں ڈر کر جینا سکھاتے ہیں۔ کیوں ان کے ہاتھ میں ہنر یا تعلیم کی تلوار نہیں دیتے جس سے وہ اپنے برے حالات کا مقابلہ بہادری سے کر سکیں۔کیوں پیدا ہوتے ہی بوجھ قرارد ے دی جاتی ہیں؟‘‘ رجی اس کے گلے شکوے سنتی رہی اور تسلی دلاسا دے کر چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    ’’ میری طبیعت بہت خراب ہو رہی ہے۔‘‘ پینو نے پھولے سانسوں کے درمیان بمشکل کہا۔ رکن دین نے مڑ کر ایک نظر اسے دیکھا، اپنی تیاری مکمل کی اور کمرے سے باہر چلا گیا۔ اس کی ساس سبزی وغیرہ لینے گئی ہوئی تھی۔
    ’’میں … میر… میری طبیعت۔‘‘کمرے کے دروازے تک آکر اس کی ہمت جواب دے گئی اور وہ وہیںگر گئی۔ اس کا سانس سینے میں گھٹ رہا تھا اور دل کوئی مٹھی میں لے کر مسل رہا تھا۔
    ’’بہانے نہ بنایا کر، جاچلی جا میر نظروں سے دور، بد صورت عورت۔‘‘ وہ اس پر لفظوں کے سنگ برسا کر گھر سے ہی چلا گیا۔
    پینو خود کو بمشکل گھسیٹ کر میز تک لائی اور موبائل اُٹھا کر اپنی بہن رجی کا نمبر ملایا۔
    ’’رجی ! میری طبیعت… ٹھیک نہیں … تو آجا‘‘ پینو نے گھٹی گھٹی سانسوں کے درمیان بمشکل بات مکمل کی۔
    ’’ پینو حوصلہ کر!موسم بدل رہا ہے نا اس لیے تیرا سانس خراب ہو رہا ہے۔تو گرم پانی میں وکس ڈال کے بھاپ لے۔‘‘ رجی نے محبت سے کہا۔
    ’’ہمت نہیں ہے۔‘‘ پینو جیسے بالکل ہی بے جان ہو رہی تھی۔
    ’’ہمت کر میری بہن ، کچھ نہیں ہوتا ۔ ابھی میں نہیں آسکتی ، پیچھے گھر میں کوئی نہیں ہے ۔ میں کل تیری طرف آؤں گی۔‘‘پینو سے مزید بات کرنا محال ہو گیا تو فون بند کر کے گہرے گہرے سانس لینے لگی۔ یوں جیسے اس کے ارد گرد آکسیجن ختم ہو گئی ہو اور وہ بے ہوش ہو کر وہیں لڑھک گئی۔
    ٭…٭…٭
    ’’اری بد بخت مر کر جان چھوڑ دے ہماری۔ کم بخت دروازہ کھلا چھوڑا ہوا ہے۔‘‘ پینو کی ساس سبزی لے کر واپس آئی تو بیرونی دروازہ کھلاہوا تھا ، پانی کی موٹر چل رہی تھی اور پانی ٹینکی سے بہ رہا تھا۔ وہ صحن کے بیچوں بیچ کھڑی ہو کر پینو کو کوسنے لگی۔ ساس کی سانس کی آواز سن کر تھر تھر کانپنے والی آج ساس کی دھاڑ پر بھی سامنے نہ آئی تو اس کا پارہ آسمان تک جا پہنچا۔
    ’’کدھر مر گئی ہے۔‘‘ وہ بولتے بولتے کمرے میں داخل ہوئی تو پینو کو بے ہوش پڑے دیکھ کر ناک بھوں چڑھایا۔
    ’’بہانے باز! ہونہہ۔‘‘ کہہ کر باہر آگئی۔
    ’’ارے خالہ! پینو کدھر ہے؟‘‘ ہمسائی نے آکر پوچھا۔
    ’’اندر ہے بہانے باز۔‘‘
    ’’ پینو !‘‘ وہ اسے پکارتی آگے بڑھی تو اسے یوں گرے دیکھ کر بھاگ کر اس تک پہنچی۔
    ’’پینو! پینو! ہوش کر ، کیا ہوا؟‘‘ وہ اس کے گال تھپتھپانے لگی۔ اس نے پینو کی سانس اور نبض چیک کی جو بالکل مدھم تھی۔
    ’’خالہ وہ پینو… پینو کو کچھ ہو گیا ہے۔‘‘ہمسائی کے بتانے پر اس نے ناک پر سے مکھی اُڑائی۔ ہمسائی پینو کے سارے حالات سے واقف تھی۔وہ جیسے تیسے پینو کو لے کر اسپتال پہنچی اور اس کی بہن کو فون کیا۔رجی اسپتال پہنچی تو پینو بہت دور جا چکی تھی۔ اسے ہارٹ اٹیک ہوا جو اس کی جان لے گیا۔
    ’’پینو! اُٹھ دیکھ میں آگئی۔ ہائے میں کیا کروں۔ میری بہن مررہی تھی۔ مجھے بلا رہی تھی، مگر میں اسے بھاپ لینے کا کہہ رہی تھی۔ مجھے کیا پتا تھا، پتا ہوتا تو اُڑ کر آتی۔‘‘رجی کے بین لوگوں کے دل دہلا رہے تھے۔
    ’’ ہائے ہائے مرن جوگی نے مجھے بتایا ہی نہیں کہ اس کی طبیعت اتنی خراب ہے۔ سبزی لینے گئی تو بھلی چنگی تھی ۔ مجھے بتاتی میں کچھ کرتی۔‘‘ اس کی ساس اپنی اچھائی اور معصومیت ثابت کرتی رہی اور رکن دین یوں بے فکرا پھرتا رہا جیسے ان چاہا بوجھ اس کے کندھوں سے ہٹ گیا ہو۔
    ’’ پینو! دیکھ آج تو اپنے ذاتی گھر جا رہی ہے۔کہ صرف قبر ہی تو ہے جو سب کی ذاتی ہوتی ہے۔‘‘
    رجی نے کہا تھا کہ قبر سب کی ذاتی ہوتی ہے۔ مگر اس کی تو قبر بھی ذاتی نہیں رہی تھی کہ اس کے اُوپر لگنے والے کتبے پر اس کے نام کی بجائے ’’مرقدزوجہ رکن دین‘‘ درج تھا۔
    اب اس کی قبر بھی ذاتی حیثیت سے نہیں پہچانی جانی تھی۔

    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • ممتا کی پوٹلی — فرحین اظفر

    ممتا کی پوٹلی — فرحین اظفر

    بوا بیگم کا نام تو ہر پرانے زمانے کی عورتوں کی طرح پتا نہیں کیا تھا۔ جیسے افسر سلطانہ، اختری، اللہ بندی، مشتری، البتہ یہ ضرور تھا کہ جب پہلی بار ڈفلی نے ان کا نام جاننے کی فرمائش کی، تو سن کر بولی تھی۔
    ’’اکبری، اصغری۔‘‘ اور ہمیشہ کی طرح منہ پر ہاتھ رکھ کر کھی کھی کھی ، کھلکھلاتی چلی گئی۔
    ’’چل ہٹ منحوس۔‘‘ ہمیشہ کی طرح بوا نے اسے دھتکارا اور پھر ان کے پوپلے جھری زدہ ہونٹوں پر ایک محبت بھری پیاری سی مسکان سج گئی تھی۔
    بوا بیگم اس گھر کا ایک عجیب فرد تھیں۔ نہ اپنی تھیں نہ پرائی۔ چھوٹوں سے ننھی۔ بڑوں سے بزرگ۔ نہ شوخ نہ سنجیدہ بانو۔
    عرصۂ دراز پہلے جیون ساتھی کے آنکھیں بند کرلینے کے بعد، قرابت داروں نے ان سے وہی سلوک کیا تھا جو ، جوان بیوہ کے حصے میں آتا ہے اور وقت کے پہیے نے انہیں اوپر سے نیچے اتار پھینکنے میں چند دنوں کا بھی تکلف نہ کیا تھا۔ قریب تھا کہ وہ اور ان کی ننھی زیبو، اسی پہیے کے نیچے آکر بری طرح کچلی جاتیں، مگر کامنی باجی اور ان کے شوہر سلیم میاں انہیں اپنی بہن بناکر گھر لے آئے۔ تب سے یہ گھر اور گھر کے مکین ہی ان کے لیے کائنات کی سب سے اہم اور حسین ترین چیزوں کا درجہ پاگئے۔
    اس گھر میں جہاں محبتوں کا ذائقہ ، باجرے کی ٹکیوں ، سردائی اور کچی لسی میں بولتا تھا اور ذمہ دار رویے اپنی خوشبو سے مہکتے ایک انجانی روشنی کا حصار باندھے محسوس ہوتے تھے۔
    کامنی نے شادی کے بعد انتہائی اوّلین دنوں میں انہیں دیکھا تھا ۔ اس کے بعد وہ گھر کے لیے یوں لازم و ملزوم ہوگئیں جیسے، مزار کے لیے منت کی چادر۔
    یہ وہ دور تھا جب ، غربت کا کسیلا پن نہ رشتوں میں جھلکتا تھا۔ نہ رویوں اور لہجوں کی بکل مارے، چھلاوے کی طرح یہاں وہاں اچھل پھاند کرتا تھا۔
    صحن کے مشرقی کونے میں لگے پیپل اور بوا بیگم نے آٹھ پہر کی سامری ساعتیں اور چار موسموں کے بعد ہجر کا پانچواں موسم، ہمیشہ کے لیے ٹھہر جانے کے بعد ایک ساتھ ہی بھوگا تھا۔ دونوں سکھ کے سانجھی تھے اور دکھ کے دم ساز تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اب، بھی کئی دہائیاں گزر جانے کے بعد جب کہ بوا بیگم کی کمزور نگاہ دامن چھڑا لیتی تھی۔ رعشہ زدہ کلائیاں احتجاج کرتی تھیں، لیکن وہ حتیٰ المقدور اونچائی تک پیپل کے چکلے تنے کو حسب ِ توفیق سفیدی سے پوتتی رہتی تھیں۔
    ہر چند کہ کامنی نے اور بہت سی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ یہ کشٹ بھی اپنے کندھوں پر اٹھانا چاہا، لیکن بوا بیگم مان کے نہ دیں۔
    کنگھی چوٹی، سنگار ، کٹار اور کاجل دند اسے جیسی کسی چیز سے انہیں کوئی غرض نہ تھی۔ ان کی خوشیاں تو اس بوڑھے پیپل یا اس کی جڑیں دبائے آنگن سے تھیں۔ یا پھر اسی آنگن سے جڑے دالان اور کمروں کے مکینوں سے جن کے درمیان انتہا کی لگاوٹ صرف باتوں سے نہیں، ایک دوجے کے لیے مختص کیے گئے من پسند ناموں میں بھی بولتی تھی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    ڈفلی تو خود بوا بیگم کے ہاتھوں کی جنی تھی۔ ذرا جو شعور سنبھالا، تو اس کی جھنکار ہنسی نے گویا سمے کے پیروں میں گھنگھر و باندھ ڈالے اور ان گھنگھرووؑں کی گنگناہٹ سے درو دیوار تک مسکا اٹھے۔ تب ہی سے بوا بیگم کے لبوں سے پہلی بار اس کا نام ’’ڈفلی‘‘ محبت کے انوکھے چشمے کے مانند پھوٹا اور پھواریں لٹاتا، سبھوں کے لبوں کو بھگوتا چلا گیا۔ اب تو شاید ہی کسی کو یاد تھا کہ ڈفلی کا اصلی نام ’’امینہ خاتون ‘‘ تھا۔ اس کی شخصیت پر یہ بھاری بھرکم نام شاید جچتا بھی نہیں۔ وہ تو ڈفلی تھی بس… جس کی بے چین بوٹی کو قرار نام کو نہیں تھا اور جس کی کھلکھلا ہٹوں میں ٹھہراؤ کا عنصر مفقود تھا۔ سب کے لیے ہنسی کا انجن، خوشی کا شاخسانہ ، ہی ہی ہی … کھی کھی کھی کھی کا مربا۔
    بوا بیگم بچوں کے لیے بوا بیگم ہی تھیں، لیکن کامنی کے لیے صرف بیگم…
    کہ اس کی یادداشت میں جمع شدہ ان دنوں کی گرد پر کبھی جھاڑو نہیں پھری تھی، جب وہ سچ مچ بیگم بن کر سرکاری نوکروں پر حکم چلایا کرتی تھیں۔ سلیم میاں کے لیے وہ صرف بوا تھیں کہ بیگم کہنا شاید ان کی محتاط طبیعت اور بوا بیگم کی غیر محتاط طبیعت پر بارگراں ہوتا۔ خود انہوں نے عمر میں خود سے چھوٹے سلیم میاں کو ہمیشہ سلیم میاں ہی پکارا۔ خالی ’’میاں‘‘ کہنے کی غلطی نہ کی۔ اس رشتے کے رموز کی گہرائی میں کوئی جاتا یا نہ جاتا۔کئی دہائیاں گزارنے کے بعد اس رشتے کی محبت، خالص پن اور سچائی کو ضرور بنا کسی کسوٹی کے پرکھ سکتا تھا۔ بنا کسی آلے کے ماپ سکتا تھا۔
    بوا بیگم سراپا ضد تھیں یا ہر رنگ و سانچے میں ڈھل جانے والا مائع جس کی اپنی کوئی شکل تھی نہ رنگ۔ مزاج ایسا کہ ہر ایک کو اپنی ہم مزاج لگتیں۔ محبت کے سوتے ان کے وجود سے پھوٹے چشمے کے مانند بھل بھل پھوٹتے اور گالیاں پوپلے لکیر زدہ لبوں سے پھولوں کی طرح جھڑتیں… کبھی کسی یاد کی حدت اپنی چاشنی سے ان کا بوڑھا چہرہ دبکا کر سرخ کر ڈالتی، تو کبھی کسی خیال کا پنچھی ، اپنے مضطرب ست رنگی پر پھڑ پھڑا کر سانولی رنگت گرمادیتا۔
    گھر کے تینوں بچوں کو بات بے بات بلاتفریق و تخصیص ، اکثر ہی گالیوں کے تمغے پہنا تیں۔ سلیم میاں خجل ہوجاتے اور کامنی باجی منہ چھپالیتیں، لیکن بات اتنی بھی سادہ نہیں تھی۔
    ایک روز ان کے کھرے پلنگ پر ذرا کی ذرا قریب ہوکر سلیم میاں نے بصد ادب و احترام فرمان جاری کردیا۔
    ’’بوا اتنی گالیاں مت دیا کر یں۔ بچے بڑے ہورہے ہیں۔ سیکھ جائیں گے، تو جگہ جگہ بکیں گے۔ ہماری اور آپ کی ہی سبکی ہوگی۔‘‘
    بوا بیگم تنک گئیں۔
    ’’چل ہٹ مردود مجھے سکھانے چلا ہے۔‘‘
    بری طرح دھتکار دیا۔ سلیم میاں اپنی ٹنڈکھجاتے ہوئے نکل لیے اور اریب قریب کہیں اپنے پٹولوں سے کھیلتی ڈفلی کھلکھلا اٹھی۔
    عین ممکن تھا کہ اسے بھی سننے کو مل جاتی، لیکن بر وقت انہوں نے انہی نوک دار زبان کو دہانے میں اندر کی طرف گھستے ہونٹوں میں دبا لیا کہ دانت تو تھے ہی نہیں لیکن، ایک بات یہ ہوئی کہ اس دن کے بعد سے بوا بیگم کی قدیم لغت میں کافی تراش خراش ہوگئی۔ نت نئی اثر انگیز اور تاثر پزیر گالیاں حذف کردی گئیں۔
    کچھ معاملات میں بہت فرماں بردار تھیں، لیکن کچھ میں بہت ہٹ دھرم بھی تھیں۔ لاکھ منع کیا کہ آنکھوں سے دشمنی نہ کرو پر مان کے نہ دیں۔
    سالہا سال پہلے محلے کی عورتوں کے کپڑوں لتوں پر کروشیے کا کام اُجرت کے طور پر شروع کیا تھا۔
    ’’کام کیا ہے۔ نگوڑ مارا ۔ ساری نظر کھا گیا بوا بیگم کی۔‘‘
    کامنی باجی سخت جھنجھلائی تھیں، لیکن ان کی وہی ایک رٹ۔
    ’’ہم سے فالتو نہیں بیٹھے بنتا بھئی… ہاں۔‘‘
    نظر کی مجبوری تھی کہ کام کم ہوتے ہوتے بالکل ہی سکڑ گیا۔ اب وہ صرف دوپٹے کے کناروں پر لیس ٹانک دیا کرتی تھیں۔ اس میں بھی کئی دن لگ جاتے، لیکن انہیں کون سمجھائے۔ گھٹی میں خود داری کے جو سبق گھول کر پلائے گئے تھے۔ وہ اب تک خون میں اپنا اثر رکھتے تھے۔
    ایسی ہی ہٹ انہیں اپنی پوٹلی کے لیے بھی تھی۔ مٹھی میں سما جانے والے کپڑے کے چیتھڑے میں جانے کون سی متاع حیات بند تھی کہ آج تک کسی کو معلوم نہ ہوا۔
    وہ پوٹلی انہیں شاید ساری دنیا، شاید اپنی اکلوتی بیٹی سے بھی زیادہ عزیز تھی۔ قمیص کے گریبان کے سوا اس کی کوئی اور جگہ نہ تھی اور اس گریبان تک پہنچنے کی کسی کی جرأت … توبہ۔
    خود ہی غسل کے لیے جاتیں، تو پوٹلی کھول کھال کپڑا دھوتیں ۔ اور اس میں بند اپنے قیمتی سرمائے کو بھی۔ اور جب غسل لے کر نکلتیں توپوٹلی دوبارہ گرہ کس… گریبان کے کسی جھول میں غڑاپ۔
    ’’ابا نے منہ دکھائی میں دی تھی بوا کو، تولے بھر کی انگوٹھی… وہی ہوگی۔ اس میں۔‘‘ زیبو کے لہجے کا تیقن بولتا۔
    ’’اور وہ تیری بالیاں جو بچپن میں کھوئی تھیں۔‘‘
    کبھی رازو نیاز کا موقع ملتا، تو کامنی باجی یاد دلاتیں ۔
    ’’نہ نہ … وہ تو کب کی کھو ، کھواگئیں۔‘‘ زیبو کے لہجے میںجتنی بے پروائی ہوتی، بوا بیگم اس کے لیے ہمیشہ اتنی ہی چوکنا رہیں۔
    ’’ارے دیکھو تو… کیسے الل ٹپ کھڑی ہے زینے پر… اری زیبو پیچھے ہوجا… نئیں تو گرے گی منہ کے بل۔‘‘
    آنگن سے چھت کو جاتی لکڑی کی سیڑھیاں ، ان کے ضبط کا امتحان تھیں۔
    ادھر زیبو، عجمی یا ڈفلی میں سے کوئی بھدر بھدر بھاگتا سیڑھیاں چڑھتا ادھر پیپل تلے ہبڑ دھبڑ مچ جاتی۔
    ’’ڈفلی…ی…ی…‘‘ ان کا کان پھاڑتا نقارۂ خدا آدھے محلے کو خبر کردیتا کہ سلیم میاں کی دختر آج تو ضرور سیڑھیاں چڑھ گئی ہیں۔
    ’’اری سن لے… اتے اٹک ٹوٹو قدمچے ہیں۔ پیر رپٹ جائے گا۔ سن لے۔‘‘
    لیکن ان کی محبت بھری دہائیوں پر کان دھرنے کے بجائے، ڈفلی کی پوری بتیسی باہر نکل آتی۔
    ’’کچھ نہیں ہوتا بوا بیگم۔‘‘ اس کی کھنکھناتی آواز جیسے ان کے اندر ہزار وولٹ کی بجلی دوڑا کران کے نحیف وجود کو از سر نوجوان کردیتی ۔
    ’’ماں صدقے۔‘‘ بالآخر بڑبڑا کر واپس اپنے کام میں جت جاتیں۔ یا پھر منہ زبانی آیتیں پڑھ پڑھ کر دم کرتی رہتیں۔
    کامنی باجی جو محلے بھر کی کامنی باجی، سلیم میاں کی بختاور اور بوا بیگم کی پیاری ’’کمو‘‘ تھیں۔ اس عمر میں، کمزور نظر کے ساتھ انہیں کروشیے سے نبرد آزما دیکھ کر کئی بار ان کے کام خود نمادینے کی آفر کرچکی تھیں۔
    ’’ارے رہنے دو… کیسے اٹکل پچو ٹانکے نکالتی ہو تم… رہنے دو۔ لاوؑ دو ادھر۔‘‘
    بوا بیگم کبھی مان بھی گئیں تو دو یا تین بل نکالنے کے بعد ان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔
    ’’بوا بیگم اصل میں تو آپ کا منی باجی کے بل نکالتی ہیں صحیح کے۔‘‘
    ڈفلی جب بہت موڈ میں ہوتی تو ماں کو بھی کامنی باجی پکارتی ۔ کھلکھلاتی انہیں آگ لگاتی اور انہیں حقیقتاً آگ لگ بھی جاتی۔‘‘
    ’’دفع دور … بڑی آئی نجومن… میرے دل کا حل بتانے والی۔‘‘
    ڈفلی کی نہ رکنے والی ہنسی میں کامنی کی مسکراہٹ بھی شامل ہوجاتی۔ بوا بیگم البتہ پوپلے لبوں کی کپکپاہٹ بھری مسکراہٹ چھپانے کو انہیں اور مسوڑھوں میں دبالیتیں۔
    ان کا وجود چٹختی ہوئی زمین پر، پانی سے بھرے بادل کی طرح تھا۔ ان کی شخصیت کھلی کتاب تھی جس کے آسان الفاظ و معنی میں کہیں کچھ بھی بین السطور نہ تھا۔ جو کچھ تھا پیش منظر تھا جس میں پس منظر کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ ہاں اگر کوئی راز تھا، تو صرف وہ ایک پوٹلی جسے زیبو بڑے دھڑلے سے گاہ بہ گاہ افشا کرتی رہتی تھی۔
    ’’ہونہ ہو اس میں بوا بیگم کی سرمے دانی والا سرخ یاقوت ہے… اچھے دنوں کی نشانی تھا نا!‘‘
    بوا بیگم سن لیتیں تو وہیں سے ربڑ کی دو پٹی کھینچ کر دے مارتیں۔ زیبو زد میں آجاتی تو آئندہ کے لیے کسوٹی کھیلنے سے سچے دل سے توبہ کرلیتی، لیکن چند دن کے بعد پھر وہی…
    زیب النساء عرف زیبو کی تربیت میں بھی سبھی بڑوں نے حتی المقدور اور حسب ِ مزاج اپنا حصہ ڈالا تھا اور زیبو…
    ڈفلی اور مجو کی زیبو آپا۔ سلیم میاں اور کامنی باجی کی پہلوٹی اولاد سے بھی پہلی اولاد تھی۔ وہ … زیبو بیٹی…
    یہاں آکر فکر و خیال کے استعارے ٹھٹک کر رکتے، گہری سانس بھرتے اور پھر ذرا تھم کر آگے چلتے ہیں۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • تین سوال — لیو ٹالسٹائی (مترجم: سعادت حسن منٹو)

    تین سوال — لیو ٹالسٹائی (مترجم: سعادت حسن منٹو)

    ایک دفعہ کسی بادشاہ کے دل میں خیال آیا کہ اگر اسے تین چیزیں معلوم ہو جائیں تو اسے کبھی بھی شکست کا منہ نہ دیکھنا پڑے اور جس کام میں ایک دفعہ ہاتھ ڈال دے۔ حسبِ خواہش انجام پذیر ہو جائے۔ جن تین چیزوں نے اس پر رات کی نیند حرام کر دی وہ یہ تھیں۔
    ۱۔ کسی کام کو شروع کرنے کا کون سا وقت موزوں ہے؟
    ۲۔ کن اشخاص سے صحبت رکھنی چاہیے اور کن سے پرہیز کرنا چاہیے؟
    ۳۔ دنیا میں سب سے زیادہ اہم اور ضروری چیز کیا ہے؟
    رفتہ رفتہ اس خیال نے بادشاہ کے دل میں جگہ کر لی اور وہ ہر وقت اسی جستجو میں رہنے لگا کہ کسی نہ کسی طرح ان تین سوالوں کا تسلی بخش جواب مل جائے۔
    اسی غرض کے لیے اس نے ملک بھر میں منادی کرا دی کہ جو کوئی اس کے سوالوں کا صحیح جواب دے گا۔ اس کا منہ موتیوں سے بھر دیا جائے گا اور منہ مانگا انعام پائے گا۔
    ملک کے ہر گوشہ سے بڑے بڑے عالم و فاضل بادشاہ کے حضور میں آئے، مگر ان تین سوالوں کا تسلی بخش جواب نہ دے سکے۔ پہلے سوال کے جواب میں بعض مفکروں نے یہ خیال ظاہر کیا کہ
    ’’کسی کام کے شروع کرنے کا صحیح وقت صرف اسی صورت میں معلوم ہو سکتا ہے۔ جب انسان اپنے روز مرہ معمول کے اوقات کو تقسیم کر کے اس کا ایک نقشہ مرتب کرے اور اس پر ہمیشہ کے لیے کاربند رہے۔ بعض عالموں نے اسی سوال کے جواب میں یہ رائے ظاہر کی کہ کسی کام کے لیے موزوں وقت معلوم کرنا اکیلے انسان کے لیے اگر مشکل نہیں تو ناممکن ضرور ہے۔ اس لیے بادشاہ سلامت کو چاہیے کہ وہ اس غرض کے لیے عالموں کی ایک مجلس مقرر کرے اور ان کی متفقہ رائے پر عمل کرے۔‘‘
    لیکن بعض فاضلوں نے اس رائے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ
    ’’بعض اوقات کئی ایسے کام درپیش ہوتے ہیں جن کے لیے اتنا وقت نہیں ہوتا کہ عالموں کی مجلس سے رائے طلب کی جا سکے اس لیے کسی کام کے لیے موزوں وقت معلوم کرنے کے لیے بادشاہ سلامت کو نجومیوں اور جاگیرداروں سے مشورہ کرنا چاہیے کیوںکہ وہی غیب کے علم کو جانتے ہیں۔‘‘
    اسی طرح دوسرے سوال کے بھی مختلف جواب ملے۔ بعض نے کہا کہ ’’بادشاہ کو صرف وزرا سے صحبت رکھنی چاہیے۔‘‘
    تو بعض نے کہا کہ:
    ’’ولیوں اور خدارسیدہ لوگوں کی صحبت ہی بادشاہ کے لیے ضروری ہے۔‘‘
    تیسرے سوال کے جواب میں کہ دنیا میں سب سے اہم اور ضروری چیز کیا ہے۔ بعض عالموں نے یہ جواب دیا کہ :
    ’’ستائش ہی دنیا میں سب سے زیادہ ضروری ہے۔‘‘
    بعض نے یہ کہا کہ آلاتِ جنگ تو بعض نے کہا کہ
    ’’نہیں خدا کی عبادت ہی سب چیزوں پر مقدم ہے۔ اس لیے بادشاہ کو خدا کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔‘‘
    ان تینوں سوالوں کے جواب بالکل مختلف تھے۔ اس لیے بادشاہ نے اعلان کردہ انعام ان میں سے کسی کو بھی نہ دیا۔
    جب علما فضلا سے خاطر خواہ جوابات نہ مل سکے تو ایک دن بادشاہ نے ایک فقیر کے پاس جو اپنی ریاضت اور بزرگی کے سبب ملک بھر میں مشہور تھا، جانے کی ٹھان لی۔ وہ خدارسیدہ بزرگ آبادی سے دور ایک جنگل میں فروکش تھا جہاں وہ دن رات خدا کی عبادت میں گزارتا۔
    چناںچہ ایک دن بادشاہ معمولی دہقان کا بھیس بدل کر اس فقیر کی جھونپڑی کی طرف روانہ ہو گیا۔
    جھونپڑی کے قریب پہنچ کر بادشاہ نے دیکھا کہ فقیر زمین کھودنے میں مصروف ہے۔ بادشاہ کو دیکھ کر فقیر نے سلام کیا۔ لیکن کچھ کہے سنے بغیر اپنے کام میں مصروف ہو گیا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    فقیر اس قدر لاغر اور کمزور تھا کہ کدال کی ایک ضرب کے بعد ہی سانس درست کرنے کے لیے تھوڑی دیر ٹھہر جاتا۔
    بادشاہ اس مردِ لاغر کے قریب گیا اور کہا:
    ’’اے عقل مند درویش! میں تیری خدمت میں تین سوال لے کر حاضر ہوا ہوں۔ کیا تْو ان تین سوالوں کا جواب دے سکتا ہے؟‘‘
    ۱۔ کسی کام کے شروع کرنے کا موزوں وقت کون سا ہے؟
    ۲۔ مجھے کن اشخاص سے صحبت رکھنی چاہیے اور کن سے پرہیز کرنا چاہیے؟
    ۳۔ دنیا میں سب سے زیادہ اہم ضروری کام کیا ہیں؟
    فقیر بادشاہ کی گفتگو خاموشی سے سنتا رہا۔ مگر کوئی جواب نہ دیا اور کدال پکڑ کر پھر زمین کھودنا شروع کر دی۔
    ’’تم کدال چلاتے چلاتے تھک گئے ۔ کدال مجھے پکڑا دو اور تھوڑی دیر کے لیے آرام کرلو۔‘‘
    بادشاہ نے فقیر سے کہا۔ ’’شکریہ!!‘‘
    یہ کہہ کر فقیر نے کدال بادشاہ کو پکڑا دی اور آپ زمین پر ہانپتا ہوا بیٹھ گیا۔ دو کیاریاں کھودنے کے بعد بادشاہ نے اپنے سوالات پھر دہرائے لیکن فقیر خاموش رہا اور بادشاہ کے سوالات کا جواب نہ دیا۔ زمین سے اٹھا اور کہنے لگا:
    ’’اب آپ آرام فرمائیں، میں اس کام کو ختم کر لیتا ہوں۔‘‘
    مگر بادشاہ نے فقیر کو کدال نہ دی اور زمین کھودنی شروع کردی۔ بادشاہ اسی طرح زمین کھودتا رہا۔ حتیٰ کہ سورج غروب ہو گیا آخرکار تنگ آ کر کدال کو ایک طرف رکھتے ہوئے کہنے لگا:
    ’’عقل مند درویش میں تیری خدمت میں اس لیے حاضر ہوا تھا کہ تو میرے سوالات کا جواب دے گا۔ اگر تو ان سوالات کا جواب نہیں دے سکتا تو صاف کہہ دے تاکہ میں واپس چلا جاؤں۔‘‘
    ’’وہ دیکھو کون بھاگا چلا آ رہا ہے۔ آؤ دیکھیں تو یہ کون ہے؟‘‘
    درویش نے جنگل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
    بادشاہ نے مڑ کر دیکھا کہ ایک آدمی ان کی طرف بھاگا چلا آ رہا ہے۔ وہ اپنے پیٹ کو دونوں ہاتھوں سے تھامے ہوئے تھا جس سے خون فوارے کے مانند بہ رہا تھا۔
    بادشاہ کے قریب پہنچ کر وہ شخص بے ہوش ہو کر زمین پر گڑ پڑا۔
    درویش اور بادشاہ دونوں نے مل کر اس کے کپڑے اتار دیے تو معلوم ہوا کہ اس کے پیٹ میں ایک بڑا سا زخم ہے جس سے خون کافی تعداد میں بہ چکا ہے۔ بادشاہ نے بڑی احتیاط سے اس زخم کو دھو کر اپنے رومال کی پٹی بنا کر اس پر باندھ دی، لیکن پھر بھی زخم سے خون نکلنا بند نہ ہوا۔
    آہستہ آہستہ خون کے بند ہو جانے پر اس شخص کو ہوش آئی اور اس نے اشارے سے کچھ پینے کے لیے مانگا۔
    اس پر بادشاہ دوڑا ہوا گیا اور کنویں سے پانی لا کر اسے دے دیا۔
    اب سورج غروب ہو چکا تھا۔ چناںچہ بادشاہ اور درویش دونوں اس شخص کو اٹھا کر جھونپڑی میں لے آئے اور اسے بستر پر لٹا دیا۔ بستر پر لیٹتے ہی وہ سو گیا۔ بادشاہ دن بھر کی تھکاوٹ سے چور ہو کر دہلیز پر سستانے کے لیے بیٹھا تھا کہ وہیں سو گیا۔
    جب صبح بیدار ہوا تو زخمی کو اپنی طرف غور سے گھورتے ہوئے دیکھا۔
    ’’مجھے معاف کر دیجیے۔‘‘
    زخمی نے بادشاہ سے کہا۔ جو اَب پوری طرح ہوش و حواس میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
    ’’میں تمہیں نہیں جانتا پھر یہ معافی کی درخواست کیسی؟‘‘ بادشاہ نے زخمی سے دریافت کیا۔
    ’’آپ مجھے نہیں پہچانتے مگر میں آپ کو اچھی طرح جانتا ہوں۔ میں آپ کا دشمن ہوں۔ وہ دشمن جس کے بھائی کو قتل کروا کر آپ نے اس کی جائیداد پر قبضہ کر لیا تھا۔ وہ دشمن جس نے اپنے بھائی کے خون کا انتقام لینے کی قسم کھا رکھی تھی۔ مجھے معلوم تھا کہ آپ درویش کو ملنے باہر آئیں گے۔ اس لیے میں نے ارادہ کر لیا تھا کہ آپ کو واپسی پر قتل کر دوں۔ چناںچہ آپ کی تلاش میں اپنی جائے پناہ سے نکلا مگر آپ کے محافظوں کے ساتھ ٹاکرا ہوگیا۔ انہوں نے مجھے پہچان لیا اور مجروح کر دیا۔ کسی نہ کسی طرح میں ان کی گرفت سے بچ نکلا۔ ان کے ہاتھوں سے تو بچ گیا میری حالت بہت نازک تھی۔ زخم سے فوارے کی طرح خون نکل رہا تھا۔ اگر آپ میرے حال پر رحم کر کے مرہم پٹی نہ کرتے تو میری موت یقینی تھی۔ میں آپ کی موت کا خواہاں تھا مگر آپ نے میری جان بچائی۔ اب اگر میں زندہ رہا تو تمام عمر ایک وفادار غلام کی طرح آپ کی خدمت بجا لاؤں گا اور اپنے بیٹوں کو تلقین کر دوں گا۔ کیا آپ مجھے معاف نہ فرمائیں گے؟‘‘
    اس آسانی سے ایک جانی دشمن کو دوستی کا ہاتھ بڑھاتے دیکھ کر بادشاہ بہت خوش ہوا۔ اس لیے اس نے نہ صرف اسے معاف کر دیا بلکہ وعدہ کیا کہ وہ اس کے علاج کے لیے شاہی حکیم اور شاہی خادم مقرر کر دے گا اور اس کی چھینی ہوئی جائیداد بھی واپس کر دے گا۔
    زخمی سے رخصت لے کر بادشاہ جھونپڑی سے باہر آیا اور درویش کی تلاش شروع کی۔ جھونپڑی کو خیر باد کہنے سے پیشتر وہ آخری بار درویش کی خدمت میں ان سوالوں کے جواب کے لیے درخواست کرنا چاہتا تھا۔
    درویش کیاریوں کے پاس ہی گھٹنوں کے بل بیٹھا بیج بو رہا تھا۔ بادشاہ اس کے پاس گیا اور کہنے لگا:
    ’’عقل مند درویش! میں تیری خدمت میں پھر حاضر ہوا ہوں کہ تو میرے سوالوں کا جواب دے۔‘‘
    ’’تمہارے سوالوں کا جواب تو مل گیا۔ اب کیا چاہتے ہو؟‘‘
    درویش نے بادشاہ کی طرف نگاہیں اٹھاتے ہوئے کہا۔
    ’’وہ کس طرح؟ آپ کا اس سے کیا مطلب ہے؟‘‘
    ’’سنو! اگر کل تم میری کمزوری کا خیال کرتے ہوئے کیاریاں کھودنے کے لیے نہ ٹھہرتے اور اس کی بجائے واپس چلے جاتے تو تمہارا دشمن تم پر ضرور حملہ آور ہوتا۔ چناںچہ وہ وقت ہی تمہارے لیے موزوں تھا۔ جب تم زمین کھودنے میں مصروف تھے، میری ذات ہی اس وقت سب سے زیادہ اہمیت رکھتی تھی اور تمہاری ہمدردی کا اظہار ہی سب سے زیادہ ضروری اور اہم کام تھا۔
    اس کے بعد جب زخمی شخص ہماری طرف آ رہا تھا تو تمہارے لیے کسی اچھے کام کے لیے وہی وقت موزوں تھا، جب تم اس کے زخموں کی مرہم پٹی کر رہے تھے۔ کیوںکہ اگر اس کی اچھی طرح نگہداشت نہ کرتے تو تمہارا ایک جانی دشمن تمہارے ساتھ صلح کیے بغیر اس جہان سے رخصت ہو جاتا۔ پس وہ شخص ہی اس وقت سب سے زیادہ ضروری اور اہم کام تھا۔ اس لیے یاد رکھو کہ کسی خاص کام کے لیے صرف ایک ہی وقت موزوں ہوا کرتا ہے جب کہ ہم میں اتنی قوت ہو کہ ہم اسے سرانجام دے سکیں۔ سب سے زیادہ ضروری شخص وہی ہوتا ہے جس کے ساتھ تم اس وقت موجود ہو کیوں کہ اس بات کا معلوم کرنا کہ اس شخص کے سوا تمہیں کسی اور شخص سے بھی واسطہ پڑے گا، انسان کے فہم و قیاس سے بالا ہے اور سب سے ضروری کام اس شخص کے ساتھ نیکی کرنا ہے۔ کیوںکہ خدا نے انسان کو صرف اسی غرض سے دنیا میں بھیجا ہے۔‘‘

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • محبتِ ناتمام — ثوبیہ امبر

    محبتِ ناتمام — ثوبیہ امبر

    گھر سے نکلتے ہی اس نے اپنے گرد لپیٹی شال کو تھوڑاکھینچ کر اور لپیٹا تھا۔ یہ مزاحمت ہوا کے اس جھونکے کے خلاف تھی جس نے دروازے پر اس کا استقبال کیا تھا۔ مری کی سڑکیں اس وقت اکتوبر کی ٹھنڈی ہواؤں کی زد میں تھیں جو اپنی رت پر پتوں کو شاخوں سے جدا کرنے کا کام پورے زورشور سے کر رہی تھیں۔ اپنے کندھے پر لٹکے بیگ میں چابیاں ڈال کر اس نے ہواؤں کا ساتھ دینے کی کوشش کی۔ وہ عمر کے اس حصے میں تھیں جب انسان اپنے اختلافات کی ساری تلواریں نیام میں رکھ دیتا ہے۔ سارے چاقو، چھریاں، ڈنڈے اور چھڑیاں کونے میں پڑی بے وقعت ہو جاتی ہیں اور انسان کو سمجھ آجاتی ہے کہ اختلافات کے مابین ناآمادگی کی جنگوں میں صرف وقت ہی ضائع ہوتا ہے۔ لوگ آپ کے لیے تبدیل نہیں ہوتے اور اس کوشش میں کیے جانے والے سارے وعدے پتھر پر پڑے ہوئے پانی جیسے بے وقعت ہو جاتے ہیں۔ عموماً لوگ زندگی جیسے شروع کرتے ہیں، ویسے ہی اس کا خاتمہ ہو جاتا ہے۔ پھر انسان ان بکھیڑوں سے نکل کر جینے کو ترجیح دینا چاہتا ہے اور اپنے وہ سارے خواب جو الماری میں پڑی بیش قیمت، لیکن وقت کی عدم دستیابی کے باعث نہ پڑھی جانے والی کتابوں کی طرح روز اس کا منہ تکتے ہیں، انہیں نکال کر ان کی گرد جھاڑ کر پڑھنا چاہتا ہے۔اس مقام پر انسان جھگڑا کرنے پر بر حق بھی ہو تو ایک قدم پیچھے ہٹ کر واپسی اختیار کر لیتا ہے۔
    سرمئی تارکول کی سڑک،برف کے ٹکڑے کی طرح ٹھنڈی پڑی تھی اور اس پر موسم کی بے اعتنائی سے ٹوٹے پتے حیران آنکھوں سے اسے دیکھے جا رہے تھے۔اس کے ذہن میں مبہم سے الفاظ گونجتے اور اس کے اندر درو دیوار سے سر پٹختے۔
    ’’ماما کیا لکھیں گی آپ؟ ایک ڈاکٹر کا لکھنے سے کیا تعلق؟‘‘فہد کی آواز اس کے ذہن میں گونجی۔ اس کے چہرے پر مسکراہٹ لمحے بھر کو روشنی بن کر چمکی تھی۔
    ’’واقعی کیا لکھوں گی میں؟لکھنا تو محبت جیسا ہوتا ہے اور محبت تو تازہ ذہنوں پر مرتسم ہوتی ہے۔ یہ تو عمر کی تھالی پر اترنے والی آرتی ہوتی ہے۔محبت اور لکھنا خواب ہوتا ہے اور خواب تو ڈھلتی آنکھوں کو بند دروازے سمجھ کر نہیں آتے۔‘‘

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    ’’کیا میں بوڑھی ہو گئی ہوں یا میں نے وقت سے ابھی شکست تسلیم نہیں کی کہ کسی خواب کی آس میں ،میں اپنا سب کچھ چھوڑ کر یہاں آ بسی ہوں ؟‘ــ‘ کشمیر پوائنٹ کے رستے میں زرد، نارنجی اور بھورے سرخ پتے ایسے گررہے تھے جیسے کسی دلہن کے آمد پر گل پاشی کی جاتی ہے۔
    بڑھتے قدموں نے اپنی منزل پر پہنچ کر ہی دم لیا۔ اس نے کافی کا آرڈر دیا اور لکڑی کے بنچ پر بیٹھ گئی جس کے آگے پتھر کا بنا ٹیبل تھا۔ دوسری طرف بھی لکڑی کا بنچ تھا۔یہ کافی شاپ اسے بہت پسند تھی۔ چبوترے کی شکل میں کافی شاپ کا وہ حصہ تھا جہاں کافی بنتی اورحساب کتاب وغیرہ کیا جاتاتھا جب کہ بیٹھنے کے لیے یہ کھلا حصہ تھا جہاں پر لگے پتھر ایک عجیب خوب صورتی کا احساس دیتے تھے۔
    سامنے سڑک سے لوگ اس کے آگیسے ایسے گزر رہے تھے جیسے وقت گزرتا ہے جس کا گزرنا ضروری بھی ہوتا ہے اور احساس بھی نہیں ہوتا۔ہجوم جو نہ نظر آئے تو انسان تنہا محسوس کرتا ہے اور ہجوم میں خود تنہا اور بے وقعت ہو جاتا ہے۔ کوئی اس احاطے میں داخل ہوا تھا۔ وہ جو سڑک کے ساتھ چلتی گہرائی کو جانچنے کے لیے وہاں دیکھ رہی تھی ،کسی کی نظر کا ارتکاز تھا،وہ چونکی تھی ۔
    ’سمیع!‘
    انسان بھی ایک لمحے میں کہاں کہاں اور کیسے کیسے احساسات سے گزر جاتا ہے۔بیٹھے بیٹھے اس پر کیا کچھ بیت جاتا ہے کہ وہ اندر چلنے والے جھکڑوں سے پتھر ہو جاتا ہے۔وہ پھوٹ پھوٹ کر رونا چاہتا ہے، تو کبھی ریزہ ریزہ جمع ہونے لگتا ہے۔ گردش ایام نے اسے پھر سامنے لا کھڑا کیا تھا۔کیسا ظلم کیا تھا۔
    وہ اب سامنے بیٹھ چکا تھا۔ وہ ایک مرتبہ پھر آداب میزبانی نبھا نہ سکی تھی۔
    ’’آئیے بیٹھیے!‘‘ اپنایت جیسے اس کے حلق میں اٹک گئی تھی۔
    وہ بھولا ہوا لمحہ سامنے تھا جو اس کی آنکھوں میں دیکھنے کی ہمت نہ رکھتا تھا اور جس سے آنکھیں ملانے کی ہمت اس میں نہ تھی۔ اس لمحے میں ان دونوں کی تہی دامنی تھی جس نے ماضی کی کوئی گونج چھپا رکھی تھی۔ بھولا ہوا لمحہ بہت شدت سے تمام جزئیات کے ساتھ یاد آیا تھا۔
    ’’میرے دل میں ہمیشہ تم ہی رہو گی۔‘‘ محبت اور جملے دونوں نئے نہیں تھے۔ بس اس کے دل پر پہلا احساس تھا جس کی گواہی بھی پہلی تھی۔
    اور پھر وہی مجبوریوں،خاندانی شرافت،کہیں اور طے شدہ بچپن کی منگنی اور بڑوں کی دی گئی زبان میں وہ گواہی کب اپنا وجود کھو بیٹھی،کب معدوم ہوئی اور کب حرفِ مکرر کی طرح مٹی،کب کسی زخم کی طرح بھری اور دل پر زخم بھرنے کا بھی نام و نشان نہ رہا، اسے پتا نہ چلا۔
    وہاں جس جگہ پر صدا سو گئی ہے
    ہر اک سمت اونچے درختوں کے جھنڈ
    ان گنت سانس روکے ہوئے چپ کھڑے ہیں
    جہاں ابر آلود شام اڑتے لمحوں کو روکے ابد بن گئی ہے
    وہاں عشق پیچاں کی بیلوں میں لپٹا ہوا اک مکاں ہو!
    اگر میں کبھی راہ چلتے ہوئے اس مکاں کے دریچوں
    کے نیچے سے گزروں
    تو اپنی نگاہوں میں اک آنے والے مسافر کی
    دھندلی تمنا لیے تو کھڑی ہو!
    کچھ دن پہلے اس نے وہ کارڈ کسی پرانی فائل سے نکالا تھا جس پر منیر نیازی کی یہ نظم لکھی ہوئی تھی اور لکھ کر دینے والا آج اس کے سامنے کھڑا تھا۔
    ’’تم یہاں کہاں؟‘‘ اس کی آواز بھی بدلی بدلی سی لگ رہی تھی۔
    ’’کیسی ہو؟ ‘‘ اس کی آنکھوں میں آنسوؤں کی لکیر اسے دیکھ کر آئی تھی کہ عمر رفتاں نے آنکھوں میں پانی بھر دیا تھا۔
    ’میں ٹھیک ہوں۔ تم کیسے ہو اور یہاں…؟‘‘ اس نے اپنا جملہ ادھورا چھوڑا کہ اس کی بابت جان سکے۔
    ’’میری تو کافی عرصہ سے یہاں پوسٹنگ ہے۔ تمہیں دیکھ کو بہت حیرت اور خوشی ہوئی ہے۔‘ ‘ وہ اپنے اندر شاید آنسو گرا رہا تھا۔ وہ دونوں خاموش ہو گئے اور اکتوبر کی جھکڑ بن کر چلتی ہوائیں پھر شائیں شائیں کرنے لگی تھیں۔ ظلم تو یہ تھا کہ جھکڑ اندر چلنے لگے تھے اور گزرے سال زرد، نارنجی اور قرمزی رنگ کے پتوں کی صورت ہواؤں میں اِدھر اُدھر اُڑ رہے تھے۔ جب انسان محبت سے دست بردار ہوتا ہے، تو اسے یہی لگتا ہے کہ یہ کوئی دنیا کی آخری محبت تو نہیں تھی کہ اس کا روگ ہی لگا لے، لیکن جب اپنے ہاتھوں سے زندگی سرکتی ہے، تو اسی محبت کی شدت بڑھنے لگتی ہے۔
    ان دونوں کی خاموشی کو کوئی جملہ توڑ بھی دیتا، تو وہ ایسے الفاظ نہ تھے جو گزرے سالوں کی خلیج پار کر کے انہیں میڈیکل کالج کے کلاس فیلوز بنا دیتے جن کے لیے زندگی کا ہر رنگ نیا تھا۔ اب ذہن کی اسکرین پر عمر بڑھنے کے ساتھ رنگ ماند پڑ رہے تھے۔
    وہ کافی نہیں پی سکی، ابھی وہ اپنے آنسو پی رہی تھی جو کسی بھی طلب کو پورا کرنے کو ناکافی تھے۔ وہ دونوں کچھ کہے بغیر اٹھے تھے۔ اپنے ہوسٹل کے باہر ایسی ہی ایک دو یادگار واک تھیں جنہیں آج وہ دونوں دوبارہ جینا چاہتے تھے، لیکن دونوں کے کندھے جھکے ہوئے ۔
    ستمبر کے شروع میں جب پتے گرنا شروع ہوتے ہیں، تو انسان بھی آہستہ آہستہ اپنی یادوں کے درختوں سے گرتے پتے دیکھتا ہے۔ ستمبر کے شروع سے آخر تک ہر حساس انسان ایک مرتبہ اپنی یادوں اور بچھڑے لوگوں کی اداسیوں سے اندر سے مر جاتا ہے۔
    ان دونوں کے پاؤں کے نیچے پتا نہیں کتنے پتے چرمراتے رہے تھے ۔ ان کے پاس کہنے کو بہت کچھ تھا، کیرئیر ، شادی سے لے کر بچوں کے کیرئیر ،ان کی منگنیوں اور شادیوں تک بہت کچھ۔
    راستہ شاید اتنا طویل نہ تھا جتنی باتیں لمبی تھیں۔ وہ دونوں کہاں کہاں ، کب کب بدل گئے، کب، کہاں اور کس بات پر انہوں نے اپنی ذات چھوڑی تھی، دونوں نے جی بھر کر بتایا تھا۔ رستے میں اسے ٹھوکر لگی، تو اس کے مضبوط ہاتھ نے اسے تھاما، تو پھر چھوڑا نہیں۔ یہ تو ایک راستہ تھا، وہ زندگی میں اسے ایسے گرنے سے بچانے کے لیے کیوں نہیں تھا؟
    دوپہر سے سہ پہر ہوئی اور اب تو شام نے بھی آنے کا عندیہ دے دیا تھا، لیکن وہ اس راستے پر چلتے ہی چلے جانا چاہتی تھی۔ اپنے شوہر کی کچھ سال پہلے وفات کا قصہ اور سمیع کی اس کزن کی اس سے طلاق، دونوں کے پاس گزرے دنوں کی باتیں تھیں اور کچھ ادھورے رشتوں کی زخم خوردہ داستانیں۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے (عالمی افسانہ)

    جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے (عالمی افسانہ)

    چند برس قبل برانیزا میں ایک کٹریہودی رہتا تھا۔ وہ اپنی دانائی، خوفِ خدا اور عقل مندی کے باوجود اپنی حسین بیوی کی وجہ سے زیادہ مشہور تھا۔ اُس کی بیوی پورے برانیزا میں حسن کی دیوی کے نام سے معروف تھی اور کیوں نہ ہوتی وہ اپنے حسنِ بے مثال کی وجہ سے اس لقب کی جائز حق دار تو تھی ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ اُس کی شہرت کی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ ایک ایسے شخص کی بیوی تھی جو یہودی مذہب کے قوانین و ضوابط (تلمود) کا ماہر ہونے کے باوجود اُس ملکہ حسن کا شوہر تھا حالاںکہ ضابطے کے مطابق یہودی فلسفیوں کی بیویاں یا تو بدصورت ہوا کرتی ہیں یا اُن میں کوئی نہ کوئی جسمانی نقص ضرور ہوتا ہے۔
    یہودی قوانین کی کتاب ’’تَلمْود‘‘ ازدواجی پہلوئے زندگی کی کچھ اس طرح سے وضاحت کرتی ہے:
    ’’یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں اور کسی بھی لڑکی یا لڑکے کی پیدائش پر کاتب تقدیر، اُس کے مستقبل کے جیون ساتھی کے نام کا اعلان کر دیتا ہے، لیکن جس طرح ایک اچھا باپ اپنی استعمال کی اچھی چیزیں گھر سے باہر لوگوں کے لیے چھوڑ دیتا ہے اور اپنے اور اپنے بچوں کے لیے خراب چیزیں استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح خداوند تَلمْودی یہودیوں کو ایسی بیویاں عنایت فرماتا جنہیں اور لوگ لینا ہی پسند نہیں کرتے۔‘‘
    بہ ہر کیف ہمارے والے تلمودی کو خداوند نے اِس ضابطے سے مستثنیٰ کر دیا تھا اور اُسے ملکہ حسن سے نواز دیا تھا اور وہ شاید اس استثنا کے ذریعے اپنے اِس ضابطے کو ذرا نرم کر کے اُسے ثابت کرنا چاہتا تھا۔
    اس فلسفی کی بیوی کو یا تو کسی بادشاہ کی ملکہ بن کر اُس کی عزت افزائی کرنی چاہیے تھی یا کسی آرٹ گیلری میں ایک خوب صورت مورتی کی جگہ رونق افروز ہوتی، تو خوب ہوتا۔ خاتون کا قد لانبا تھا اور اُس کا جسم حیران کن حد تک لذتِ نظارہ سے چور تھا۔ اس کے جسم کی مدور اٹھانیں اور منور ڈھلانیں نگاہوں کو خیرہ کر دینے والی تھیں۔ اُس کا چہرہ اِس قدر خوب صورت تھا کہ دیکھنے والا چونک اٹھتا تھا۔ عشرت فشار جسم کے اوپر فسوں بار چہرہ اور چہرے کے گرد گہری سیاہ متوالی لٹوں کا گھیرا جو اُس کے مغرور شانوں تک پھیلا ہوا تھا۔ طویل بھنوئوں سے نیچے ضوریز اور تھکی ہوئی نیم باز بڑی بڑی آنکھیں بادئہ کہنہ سے کہیں زیادہ اثر انگیز تھیں اور ہائے اُس کے ہاتھ! یقینا یہ ہاتھ، ہاتھی دانت سے بنائے گئے ہوں گے۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    اُسے دیکھ کر ایسے محسوس ہوتا تھا کہ جیسے فطرت نے اُسے حکم رانی کرنے کے لیے خلق کیا ہو۔ وہ اس لیے پیدا کی گئی ہو تاکہ اپنے قدموں میں غلاموں کی قطاریں دیکھے، اُس کا حسن مصور کے مو قلم کا ذریعہ آمدن بنے، مجسمہ ساز اپنا فن اِن نقوش پر آزمائے اور شاعر کے قلم کو موضوع میسر آ سکے، مگر یہ حسینہ کسی سندر اور نادر پھول کے مانند ایک نیم گرم گھر کی زینت بنی ہوئی تھی۔ وہ روزانہ قیمتی فر میں لپٹی ہوئی بیٹھی رہتی اور نیچے بازار میں اپنی خواب ناک نگاہوں کو دوڑاتی رہتی۔
    اُس کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی جب کہ اُس کا شوہر فلسفہ یہود کا عالم ہونے کے ناتے یا تو مطالعے میں غرق رہتا تھا یا عبادت میں اور عبادت سے فراغت کے بعد وہ دوبارہ مطالعہ شروع کر دیتا تھا۔ اُس شخص کا یہ معمول صبحِ صادق سے لے کر رات گئے پر محیط تھا۔
    ایسی صورتِ حال میں اُس کی بیوی کو ’’حُسنِ پردہ نشین‘‘ ہی کہا جاتا تھا چوںکہ وہ امیرزادی تھی اِس لیے اُسے گھر گرہستی کی کوئی فکر نہیں تھی اور گھر کی ہر چیز ایک لگے بندھے راستے پر بڑی آسانی سے رواں دواں تھی۔ یہ معمول ایک ایسے کلاک کی طرح چل رہا تھا۔ جسے ہفتے میں ایک بار چابی دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اُسے کوئی بھی ملنے نہیں آتا تھا اور وہ بھی کسی سے ملنے کبھی نہیں جاتی تھی۔ وہ تو بس بیٹھتی تھی، لیٹتی تھی، خواب دیکھتی تھی یا جمائیاں لیتی رہتی تھی۔
    پھر ایک روز موسم کے تیور خطرناک ہو گئے۔ بادلوں کی دہلا دینے والی گھن گرج اور کڑکتی ہوئی بجلیوں نے اپنا تمام تر غیظ و غضب اْس قصبے پر اُتار ڈالا تھا۔ اُس موسم میں اُس کے گھر کی تمام کھڑکیاں اور دروازے مکمل طور پر کھلے رکھے گئے تاکہ مسیحا اُس کے گھر میں تشریف لا سکیں۔ (ایسے موسم میں یہودی اپنے دروازے کھول دیتے ہیں کیوںکہ اُن کے مطابق مسیحا اِسی موسم میں اُن کے گھر آئیں گے۔) اُس وقت یہودی ملکہ حسن اپنی آرام کرسی میں نیم درازتھی اور اُونی لباس پہننے کے باوجود کپکپا رہی اور سوچ رہی تھی۔ اچانک اُس نے اپنی روشن آنکھیں اپنے شوہر پر مرتکز کر دیں جو تلمود کے مطالعے میں آگے پیچھے ہل رہا تھا۔ اُس نے اپنے شوہر سے استفسار کیا:
    ’’ذرا یہ تو بتائو۔ ہمارے مسیحا پسرِدائود کب تشریف لائیں گے؟‘‘
    فلسفی نے جواب دیا:
    ’’وہ ضرور تشریف لائیں گے، تلمود کے مطابق وہ اُس وقت آئیں گے جب یا تو یہودی مکمل طور پر نیک ہو جائیں گے یا مکمل طور پر گناہ گار ہو چکے ہوں گے۔‘‘
    ملکہ حسن نے اپنی گفت گو جاری رکھتے ہوئے پوچھا:
    ’’کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہودی کبھی مکمل طور پر نیک بھی بن جائیں گے؟‘‘
    ’’میں یہ کیسے جان سکتا ہوں؟‘‘
    ’’تو اس کا مطلب تو یہ ہوا نا کہ مسیحا اُس وقت آئیں گے جب تمام تر بنی اسرائیل گناہوں کی دلدل میں دھنس چکے ہوں گے؟‘‘
    فلسفی نے اپنے کندھے اُچکائے اور ایک ایسی کتاب کی بھول بھلیوں میں دوبارہ غرق ہو گیا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ صرف ایک آدمی اپنے ہوش و حواس کے ساتھ بعد از مطالعہ زندہ رہا تھا۔
    اِس گفت گو کے بعد اُس خوب صورت عورت نے دوبارہ کھڑکی سے برستی ہوئی تیز بارش کو خواب ناک نگاہوں سے دیکھا اور اِس دوران اُس کی دُودھیا انگلیاں لاشعوری طور پر اپنے شان دار فرکے چغے کے ساتھ کھیلتی رہیں۔
    ٭…٭…٭
    ایک روز یہودی فلسفی قریبی قصبے کی جانب گیا ہوا تھا جہاں ایک اہم مذہبی رسم کا فیصلہ درپیش تھا۔ اپنے کمالِعلمی کی بہ دولت اس نے وہ دینی مسئلہ اپنی توقع سے بھی بہت پہلے حل کر لیا اور لوگوں کو اپنے ذہنِ رسا سے فیض پہنچا دیا۔ شیڈول کے مطابق اُس نے اگلے روز گھر لوٹنا تھا، مگر اپنے ایک اہم مشرب فلسفی دوست کے ساتھ اُسی شام کو واپس گھر پہنچ گیا۔ اپنے دوست کے گھر کے باہر ہی وہ بگّھی سے اُتر گیا اور گھر کی جانب پیدل چل پڑا۔
    جب وہ گھر کے سامنے پہنچا، تو ساری کھڑکیاں روشن تھیں اور ایک افسر کا نوکر اُس کے گھر کے سامنے بڑے مزے سے پائپ پی رہا تھا۔ اُسے ذرا بھی حیرت نہ ہوئی بل کہ اُس نے بڑے دوستانہ اور مشتاق لہجے میں اُس سے پوچھا:
    ’’تم یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘
    نوکر نے جواب دیا۔
    ’’بھئی! میں یہاں پر پہرہ دے رہا ہوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس حسین یہودن کا شوہر غیر متوقع طور پر آ جائے۔‘‘
    ’’واقعی؟ اچھا، ٹھیک ٹھیک پہرہ دینا۔‘‘
    یہ کہتے ہی اُس نے چلے جانے کی اداکاری کی اور گھر کے پیچھے سے باغ والے دروازے سے ہوتا ہوا اندر داخل ہو گیا۔
    جب وہ پہلے کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ اُس کمرے میں دو افراد کے لیے ایک میز بچھائی گئی تھی۔ ایسے لگتا تھا جیسے یہ میز ابھی ابھی خالی کی گئی ہے۔ اُس کی بیوی حسب معمول خواب گاہ کی کھڑکی میں بیٹھی ہوئی تھی، اُسی طرح فرکے کوٹ میں لپٹی ہوئی، لیکن اُس کے رُخسار مشکوک حد تک سرخ تھے اور اُس کی جھیل سی آنکھوں میں پہلے والی اُداسی نہیں تھی بل کہ اُس وقت وہ آنکھیں طمانیت سے بھرپور اور تمسخر سے روشن ہو کر اپنے شوہر پر ٹکی ہوئی تھیں۔ عین اُسی لمحے اُس کاپائوں فرش پر پڑی ہوئی کسی چیز سے ٹکرا گیا اور ایک عجیب سی آواز پیدا ہوئی۔ اْس نے اْسے اٹھایا اور روشنی میں غور سے دیکھنے لگ گیا۔ یہ تو گھڑ سواروں کے جوتوں پر لگنے والے نوک دار کیلوں(مہمیز) کا جوڑا تھا۔
    ’’ابھی ابھی تمہارے ساتھ کون تھا؟‘‘
    یہودی نے پوچھا۔
    یہودیوں کی ملکہ حسن نے نفرت سے اپنے کندھے جھٹکے، مگر کوئی جواب نہ دیا۔
    ’’کیا میں تمہیں بتائوں؟ فوج کا کپتان تمہارے ساتھ تھا۔‘‘
    یہودی نے غصے سے کہا۔
    ’’اور وہ میرے ساتھ یہاں کیوںکر نہ ہوتا؟‘‘
    اْس عورت نے اپنے فرکوٹ کو اپنی سپید انگلیوں سے سہلاتے ہوئے جواب دیا۔
    ’’اے عورت! کیا تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے؟‘‘
    ’’میں اپنے تمام تر ہوش و حواس میں ہوں۔‘‘
    عورت نے جواب دیا اور اُس کے پُرتعیش اور رسیلے ہونٹوں پر مانوس سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ کہنے لگی:
    ’’لیکن کیا مجھ پر یہ واجب نہیں ہے کہ میں بھی گناہ کر کے اپنے حصے کا فرض ادا کروں تاکہ مسیحا جلد از جلد تشریف لائیں اور ہم غریب یہودیوں کو نجات دلائیں۔‘‘
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • گونگا ۔۔۔ اسماء ریحان

    گونگا ۔۔۔ اسماء ریحان

    لوگوںکا ایک چھوٹا سا گروہ قبرستان میں جمع تھا۔ کچھ لوگ تدفین میں مصروف تھے اور باقی ٹکڑیوں میں بٹے اِدھر اُدھر قبروں پر بیٹھے گپیں ہانک رہے تھے۔ کچھ ہی دیر میں لوگ تدفین سے فارغ ہو کر اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے اور قبرستان پھر سے ویران نظر آنے لگا۔وہ اپنے گھر کے وسیع احاطے میں کھڑی بوجھل دل کے ساتھ یہ سارا منظر دیکھ رہی تھی۔
    کچھ ہی دیر میں گھر کے بیرونی دروازے پر دستک ہوئی تو وہ جلدی سے دروازہ کھولنے لپکی۔ باہر اس کا چھوٹا بھائی کھڑا تھا جو جنازے میں شرکت کے لیے گیا تھا۔ اس کی عمر 10سال سے زائد نہ تھی، مگر وہ بھی اس جوان موت پر خاصا افسردہ نظر آ رہا تھا۔ پھر مرنے والا کوئی اور نہیں اس کانہایت قریبی پڑوسی تھا جو اس کے خاندان کے بچوں کے ہمراہ کھیل کر جوان ہوا تھا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی وہ نہایت دکھی دل کے ساتھ تفصیلات بتانے لگا۔ ـ ـ’’باجی گونگے بے چارے کو توکفن بھی پورا نہیں ملا۔ سر ڈھانپتے تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور پاؤں ڈھانپنے کی کوشش کرتے تو سر ننگا ہو رہا تھا۔ بالآخر اسی طرح اسے سپردِ خاک کر دیا گیا۔ تدفین کا مرحلہ آیا، تو قبر پر رکھنے کے لیے نہ سیمنٹ کی سلیب دستیاب تھیں اور نہ ہی لکڑی کے تختے۔ لہٰذا قریب پڑی خار دار جھاڑیوں سے کام چلایا گیا۔ افسوس، زندگی تو انتہائی غربت میں بسر ہوئی ہی تھی، مگر مرتے وقت آخری رسومات بھی ٹھیک سے ادا نہ ہو سکیں۔‘‘
    گونگا ان کے پڑوسی اللہ دتہ کا بڑا بیٹا تھا۔ اللہ دتہ کے حالات کچھ اچھے نہ تھے۔ وراثت میں ملے زمین کے ایک چھوٹے سے ٹکڑے پر کھیتی باڑی کر کے گزربسر کرتا تھا ۔ جن دنوں زمین پر کام زیادہ نہ ہوتا وہ شہر جا کر محنت مزدوری کرتا اور بچوں کا پیٹ پالنے کی کوشش کرتا۔ ابتدا ہی سے اس کا مزاج کچھ ایسا تھا کہ کبھی کسی سے دوستانہ روابط نہ بنا سکا۔ اسی غیر سماجی رویے کی وجہ سے اُس کی شادی بھی دور دراز کے ایک غریب رشتہ دار کی گونگی بیٹی سے ہوئی اور یوں وہ خاموش سے خاموش تر ہوتا چلا گیا۔
    اسے نہیں یاد تھا کہ اس نے کبھی اللہ دتہ کو اپنے بال بچوں، محلے داروں یا دوستوں کے ہمراہ ہنستے کھیلتے یا محض بات چیت ہی کرتے دیکھا ہو۔
    گونگی کافی سمجھ دار واقع ہوئی تھی۔ وہ اپنا گھر بار اچھے سے سنبھالتی اور اڑوس پڑوس والوں اور اپنے سسرالی رشتہ داروں سے ممکنہ حد تک تعلقات ٹھیک رکھنے کی کوشش کرتی۔ اللہ نے چھے بچے بھی دے دیے جن میں سے بڑے تینوں ماں کی طرح قوت سماعت و گویائی سے محروم تھے، مگر چھوٹے تینوں بچے نارمل تھے۔ گھر کی غربت اور حالات کو بہتر بنانے کے حوالے سے شوہر کی تھوڑی کمائی کے باوجود وہ گزر بسر کر رہی تھی۔
    وقت یونہی گزر رہا اور دیکھتے ہی دیکھتے اللہ دتہ کا بڑا بیٹا جسے تمام گاؤں والے گونگا کے نام سے جانتے تھے باپ کے ساتھ مویشیوں کی دیکھ بھال کرنے اور کھیتی باڑی میں اس کا ہاتھ بٹانے کے قابل ہو گیا۔ عمر کے لحاظ سے تو وہ ابھی11 یا 12 سال کا ہی تھا، مگر قدرت نے اسے کچھ خصوصی صلاحیتوں سے نوازا تھا۔ وہ نہایت کم عمری ہی سے مویشیوں کی دیکھ بھال میں باپ کا ہاتھ بٹانے لگا تھا، مگر اب تو اس نے اس کی تمام تر ذمہ داری سنبھال لی۔ فصل کی کاشت اور سمیٹنے سے متعلق بڑے کاموں کے علاوہ وہ تقریباً تمام کام خود کرنے لگا۔ یہی نہیں بلکہ قریبی کسانوں کی زمینوں پر ان کے کام کاج میں ہاتھ بٹا کر کچھ پیسے جمع کیے اور ایک گدھا بھی خرید لیا جس کی مدد سے وہ گھاس لانے اور لے جانے سے لے کر وزن ڈھونے جیسے کام بھی کرنے لگا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    اللہ دتہ اس بدلی ہوئی صورت حال سے خوش تھا اور اسی لیے مویشی اور زمینوں کا کام کاج بیٹے کے سپرد کرکے اکثر مزدوری کے لیے شہر چلا جاتا۔ آس پاس کے لوگ بھی اس صورت حال پر خوش اور حیران نظر آتے تھے کہ جس عمر میں ان کے بچے اسکول میں پڑھ رہے تھے، اسی عمر میں ایک غریب کا ننھا بچہ گھر کی ذمہ داریوں کو بہ خوبی سرانجام دینے میں اپنے والدین کا ہاتھ بٹا رہا تھا اور اس میں کسی حد تک کامیاب بھی تھا۔ وہ دوسروں سے مل جل کر اپنا کام نکلوانا اور تھوڑا بہت کام حاصل کرنا جانتا تھا۔ لوگ اسے دیکھ کر کہتے کہ مزید ایک دو سال میں گونگا گھر کے حالات بدل دے گا۔
    پھر ایک روز سانحہ ہو گیا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔
    گاؤں سے کچھ فاصلے پر ریلوے لائن تھی اور گاؤں کے اکثر لوگوں کی زمینیں اسی ریلوے لائن کے دونوں اطراف تھیں۔ لاہور سے آنے والی ریل گاڑی گلا پھاڑ پھاڑ کر کئی ہارن دینے کے بعد اچانک سے رکی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس کے گرد لوگوں کا ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ دیکھنے والے حیران و پریشان یہ منظر دیکھ رہے تھے کہ کچھ ہی دیر میں گاؤں میں یہ اطلاع پہنچی کہ گونگا ریل کی زد میں آ گیا ہے۔ سب حیران تھے کہ یہ اچانک کیسے ہو گیا۔ وہ ہمیشہ سے ان زمینوں پر کام کرتا آیا تھا اور ریل بھی ہر روز وہاں سے گزرتی تھی، مگر پہلے تو ایسا کوئی حادثہ نہ ہوا تھا، ماسوائے ان گنے چنے مواقع کے جب قریبی دیہات یا شہر میں سے کسی نے ریل کے سامنے کود کے خود کشی کی کوشش کی۔
    سب کے دل دہل گئے۔ ایک غریب کا نوجوان بیٹا ریل کی زد میں آ گیا تھا۔
    شام تک اطلاع ملی کہ گونگے کی جان تو بچ گئی مگر اس کی بائیں ٹانگ بری طرح زخمی ہوئی تھی، اتنی کہ ہڈی بالکل ننگی ہو گئی اور اس پر سے سارا گوشت ریل کے پہیوں میں آ کر کچلا گیا تھا۔ عینی شاہدین بتا رہے تھے کہ گونگا اپنے کھیت میں کام کر رہا تھا کہ اچانک ریل کے ہارن پر اس کا گدھا بدک کر بھاگا اور ریل کی پٹڑی پر چڑھ گیا۔ گونگا جس نے یہ گدھا اپنے خون پسینے کی کمائی سے خریدا تھااسے بچانے کے لیے اس کے پیچھے بھاگنے لگا۔ ریل گاڑی کا ڈرائیور صورت حال سے پریشان ہو کر ہارن پر ہارن دے رہا تھا، مگر گونگا اس بات سے بے خبر بھاگے چلا جا رہا تھا۔ ڈرائیور نے بریک لگانے کی ہر ممکن کوشش کی، مگر تیز رفتار ٹرین کا اتنی جلدی رکنا ممکن نہ تھا اور یوںگونگا ریل کی زد میں آ کر زخمی ہو گیا۔ آس پاس کے کھیتوں میں موجود لوگ اسے اٹھا کرسرکاری اسپتال لے گئے جہاں کچھ روز رہنے کے بعد اس کے باقی زخم تو ٹھیک ہو گئے مگر ٹانگ کا زخم مندمل ہونے کا نام نہ لے رہا تھا۔
    ابتدا میں گاؤں کے کچھ متمول افراد نے گونگے کے علاج کے سلسلے میں تھوڑی بہت مالی امداد کی مگر پھر سب اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہو گئے۔ اللہ دتہ کے گھر کے حالات پہلے سے بھی زیادہ خراب ہو گئے۔ اچھی اور صحت بخش خوراک تو کجا، ادویات تک کے لیے پیسے نہ تھے۔ گونگی اسپتال میں چکر کاٹنے کے قابل نہ تھی اوراللہ دتہ بیٹے کی دیکھ بھال کرتا یا باقی بچوں کا پیٹ پالنے کے لیے مزدوری کرتا۔بالآخر ایک روز اسپتال انتظامیہ نے یہ کہہ کر گونگے کو گھر بھیج دیا کہ زخم کو مکھیوں سے بچائیں اور ٹنکچر لگاتے رہیں، خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔
    گونگے کے گھر آنے کی اطلاع ملتے ہی وہ بھی اپنی دادی کے ہمراہ اسے دیکھنے گئی۔ چوں کہ وہ اسپتال میں پڑا پڑا کافی اداس اور کمزور ہو چکا تھا چناں چہ اللہ دتہ کی بیوی نے اسے گھر کے سامنے گندے پانی کے جوہڑ کے کنارے چارپائی ڈال کر اس پر لٹایا ہوا تھا۔ وہ انتہائی کمزور نظر آ رہا تھا گویاکہ ہڈیوں کا ڈھانچہ پڑا ہو۔
    کچھ ہی روز گزرے تھے کہ اس کے بھائی نے بتایا کہ گونگے کی ٹانگ کے زخم میں سنڈیاں پڑ گئی ہیں۔ سارا دن جوہڑ کے کنارے پڑے رہنے سے زخم پر مکھیاں بیٹھتی تھیں جس کے نتیجے میں سنڈیاں پڑ گئیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ خبر پورے گاؤں میں پھیل گئی۔ جس تک بھی یہ اطلاع پہنچتی وہ انتہائی افسوس کا اظہار کرتا ہوا گونگے کے گھر کا رخ کرتا، زخم کو مختلف زاویوں سے دیکھ کر خبر کی تائید کی کوشش کرتا اور اظہار افسوس کر کے واپس چلا آتا۔ وہ بھی اپنی دادی کے ہمراہ ایک بار پھر گونگے کو دیکھنے گئی ۔ وہ پہلے سے بھی زیادہ کمزور ہو چکا اور انتہائی تکلیف میں نظر آ رہا تھا۔ درد و تکلیف کے مارے وہ منہ سے عجیب و غریب آوازیں نکال رہا تھا اور اس کی ماں نہایت افسردہ اس کے قریب بیٹھی ہاتھ کے پنکھے سے اسے ہوا دے رہی تھی۔
    وہ حیران و پریشان کھڑی سوچ رہی تھی کہ کیا یہ وہی گونگا تھا جو بچپن سے ہی انتہائی چست و چالاک اور ہوشیار واقع ہوا تھا۔ بولنے کی صلاحیت نہ ہونے کے باوجود وہ نہ صرف سب کی بات سمجھ جاتا بلکہ ہر کسی کو نہایت اچھے طریقے سے اپنی بات سمجھانا بھی جانتا تھا۔ مزاج کا اکھڑ ہونے کی وجہ سے وہ اڑوس پڑوس کے دوسرے بچوں میں گھُل مل نہیں سکا تھا، مگر بہ وقت ضرورت اپنی بات منوانے کے فن سے آشنا تھا۔ گاؤں کے لوگ اسے دیکھ کر کہا کرتے تھے کہ وہ عنقریب اللہ دتہ کے گھر کے حالات بدل دے گا، مگر کسے خبر تھی کہ وہ ایک دن کسمپرسی کی حالت میں بستر پر پڑا ہو گا کہ اپنی مرضی سے ہِل بھی نہ پاسکے گا۔ وہ دکھی دل اور بوجھل قدموں کے ساتھ گھر آ گئی اور دل ہی دل میں سوچتی رہی کہ کیا پورے گاؤں میں کوئی ایک بھی فرد ایسا نہیں ہے جو ایک غریب کے نوجوان بچے کے علاج میں مدد کر سکے۔
    کچھ ہی دن گزرے تھے کہ مسجد کے اسپیکر سے مولوی صاحب نے گونگے کی موت کی اطلاع دی اور یوں اس کی زندگی اور علاج سے متعلق تمام امیدیں دم توڑ گئیں۔
    کفن دفن کا مرحلہ آیا، تو اللہ دتہ خاموشی سے جا کر جیب میں موجود روپوں سے کفن خرید لایا جو نہ ٹھیک سے اس کا سر ڈھانپ سکا اور نہ پاؤں۔ قبر کی باری آئی تو سلیب یا لکڑی کے تختوں کی جگہ سوکھی جھاڑیوں سے کام چلایا گیا۔ خدا جانے اس روز اللہ دتہ اور اس کی بیوی کے دل پر کیا گزری ہو گی، بہرحال کوئی بھی اس خبر کو سننے کے بعد دکھی ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔
    اگلے روز وہ اپنے بہن بھائیوں کے ہمراہ اسکول جانے کے لیے تیار ہو رہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی۔ دروازہ کھولا تو سامنے گونگے کی ماں کھڑی تھی۔ ہاتھوں میں دو پیالے پکڑ رکھے تھے جن میں چنے اور مکھانے تھے ۔ گونگی نے ایک پیالہ اس کی جانب بڑھا دیا ۔ وہ حیران تھی کہ گونگی گھر گھر جا کر یہ چنے اور مکھانے کیوں بانٹ رہی ہے۔ ابھی کل ہی تو اس کا جوان بیٹا فوت ہوا تھا۔ اس کی والدہ اور دادی نے آگے بڑھ کر گونگی کوگلے سے لگایا اور پاس بٹھا لیا۔ کچھ دیر دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے بعد گونگی خاموش ہوگئی۔ پھر عجیب و غریب درد سے اٹی آوازوں اور اشاروں کی مدد سے سمجھانے لگی کہ گاؤں کے رواج کے مطابق وہ گونگے کے قلوں کے لیے قرض اٹھا کر چنے اور مکھانے خرید کر لائے تھے، مگر گاؤں سے کوئی بھی قلوں میں شرکت کے لیے ان کے ہاں نہیں آیا، اس لیے وہ یہ چیزیں گھر گھر جا کر بانٹ رہی ہے۔
    گونگی کی یہ بات سن کر اس کا کلیجا پھٹ کر رہ گیا۔ کیا کسی غریب کی زندگی اتنی بے وقعت بھی ہو سکتی تھی۔
    ان کا گاؤں روایتی طرز کے غیر ترقی یافتہ دیہات سے کافی مختلف تھا۔ زیادہ تر لوگ تعلیم یافتہ تھے اور اکثر گھروں کے مرد روزگار کے سلسلے میں خلیجی ممالک میں مقیم تھے اور معقول سرمایہ گھروں میں بھیج رہے تھے۔ شاذ و نادر کہیں کسی گھر کی کوئی دیوار کچی نظر آتی وگرنہ سب کھاتے پیتے تھے۔ تعلیم کے حوالے سے بھی حالات کافی خوش آئند تھے۔ گاؤں میں لڑکیوں اور لڑکوں کے علیحدہ علیحدہ مڈل اسکول تھے جہاں تربیت یافتہ اساتذہ موجود تھے۔ مسجد کے مولوی صاحب امامت کے ساتھ ساتھ صبح اسکول میں دینیات کی تعلیم بھی دیتے تھے۔
    خود اس کے اپنے تینوں چچا بیرون ملک مقیم تھے اور اسی لیے گھر کے حالات بہت اچھے تھے۔ اسے حیرت تھی ایسے خوشحال اور مالی طور پر مستحکم لوگوں سے بھرپور گاؤں جس میں اس کے اپنے گھر والے بھی شامل تھے، کسی کو بھی گونگے کی جان بچانے کے لیے اس کے علاج کا خیال کیوں نہ آیا۔ بوڑھے منشی صاحب مسجد و مدرسہ کا انتظام نہایت خوش اسلوبی سے سنبھالتے تھے۔ قبرستان کی زمین اور دوسرے متعلقہ امور میں بھی ان کی بات حرف آخر ہوا کرتی تھی۔ گاؤں کے دیگر اختلافی امور میں بھی ان کے مشوروں کو اہمیت دی جاتی۔ گھر بار اور زمینوں کی تمام ذمہ داریوں کو بیٹوں پر ڈال کر اب انہوں نے اپنی تمام تر توجہ گاؤں کے دیگر معاملات پر مرکوز کر رکھی تھی، مگر انہیں بھی تو گونگے کی علاج کی ذمہ داری اٹھانے یا دوسروں کو اس پر آمادہ کرنے کا خیال نہ آیا۔
    باقی سب تو دُور، اس کے اپنے والد اور چچا، جو لوگوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر خیرات دیتے ، ان میں سے بھی کسی کو گونگے کی زندگی بچانے کا خیال کبھی نہ آیا۔ غرض گاؤں والوں کی بے حسی کی وجہ سے ایک غریب کا ہونہار بچہ تڑپ تڑپ کر دنیا سے رخصت ہو گیا۔
    آج اس واقعہ کو 20 سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، مگر وہ آج بھی اس واقعہ کو فراموش نہیں کر پائی۔
    کیا فائدہ اس تعلیم، شعور اور آگاہی کا، بیش بہا دولت اور دنیاوی اثر و رسوخ کا؟ کہ پڑوس میں ایک غریب کا نوجوان بیٹا بستر پر پاؤں رگڑ رگڑ کر مر جائے اور کسی کے کان پر جوں تک نہ رینگے۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • احساس — صبغہ احمد

    احساس — صبغہ احمد

    یونیورسٹی کے گیٹ نمبر6 کے بالکل سامنے فوڈ سٹریٹ پر جاتی سڑک پر آج بہت زیادہ رونق تھی۔ آسمان پر کالے سیاہ بادل اُمڈتے چلے آ رہے تھے جو اس بات کی نوید دے رہے تھے کہ کچھ ہی دیر میں بارش ہونے والی ہے۔ ایسے میں آمنہ اپنے تینوں بچوں کے ساتھ چھوٹا سا اسٹال جلدی جلدی سمیٹنے میں مصروف تھی جس میں بسکٹ، ٹافیاں ببل گم، بال پوائنٹس، ٹشو پیپرز کے پیکٹ، کارڈ ہولڈرز اور اس قسم کی اور بھی چھوٹی موٹی چیزیں شامل تھیں۔ چٹکی اور علی بھی اس کے ساتھ بسکٹ اور ٹافیوں کے ڈبے اٹھا کر بڑے تھیلے میں رکھ رہے تھے، البتہ منا، اماں اور دونوں بہن بھائیوں کو چپ چاپ دیکھ رہا تھا۔ کبھی کبھار وہ ایک نگاہ آنے جانے والوں پر بھی ڈال لیتا۔
    ’’آج تو کمائی ککھ نہ ہوئی۔‘‘ آمنہ بڑبڑائی۔ اس کے لیے یہ موسم کسی خوشی کا سماں نہیں باندھ رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ تینوں بچوں سمیت تھیلا اٹھائے جا چکی تھی۔ لڑکے اور لڑکیاں اس بات سے بے پروا کہ قریب ہی ایک بیوہ اپنی غربت پر آنسو بہائے جا چکی ہے ہنوز مختلف اسٹالز پر کھڑے کھانے، پینے اور خوش گپیوں میں مصروف تھے۔ کچھ ہی دیر میں چھم چھم برستی بارش نے فوڈ سٹریٹ کے ماحول میں سماں باندھ دیا تھا۔
    ’’ہائے! کتنا اچھا موسم ہو گیا ہے۔ فرائز تو لے لیے اب ہوسٹل جا کے چائے کے ساتھ اڑائیں گے۔‘‘ یہ انعم تھی، بی۔ ایس فورتھ سمیسٹر کی طالبہ اور اس کے ساتھ اس کی کلاس فیلو اور بیسٹ فرینڈ شہزین بھی تھی۔ انعم کو ایسے موسم کا انتظار ہمیشہ رہتا تھا۔ دیارِ غیر میں یہ موسم اور بھی لطف دیتا تھا کہ ایسے میں آؤٹنگ کے لیے روکنے والا بھی کوئی نہ ہوتا تھا۔ ہوسٹل لائف گزارنا مشکل ضرور ہے، لیکن اس میں زندگی کا لطف بھی پنہاں ہے۔ شہزین بس اس کی بات پر مسکرا دی اور وہ دونوں جلدی جلدی چلنے لگیں تا کہ بارش تیز ہونے سے قبل ہاسٹل پہنچ سکیں۔
    کچھ ہی دیر میں انعم اور شہزین اپنی باقی دو روم میٹس سمیت چائے اور آلو کی چپس سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔ کل کی نسبت آج موسم گرم تھا۔ سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا۔ بے شک یہ اللہ کے رنگ ہیں اور اللہ کے رنگ سے بہتر کون سا رنگ ہے۔ وہ جب چاہے اپنے بندوں کو اپنی رحمت سے نوازے اور جب چاہے ان کے لیے شمس کی لالی پیدا کرے تا کہ وہ اپنے رزق کو تیار کر سکیں۔
    آمنہ آج بھی صبح سویرے اسٹال لگائے بیٹھی تھی۔ چٹکی اور علی غالباً اسکول گئے ہوئے تھے اس لیے آمنہ کے ساتھ صرف منا ہی تھا۔ آمنہ آس لگائے اپنی روزی کا سامان سجا رہی تھی۔ ایسے میں فاطمہ اس کے قریب آئی اور بال پوائنٹس خریدنے لگی۔ فاطمہ جا چکی تو آمنہ کے چہرے پر اطمینان رقم تھا۔
    یونی سے واپسی پر بھی فاطمہ، آمنہ اور اس کے اسٹال کو دیکھتے ہوئے گزری۔ ایسا پہلی بار نہیں تھا فاطمہ روز ہی آمنہ، اس کے بچوں اور اسٹال کو دیکھتی تھی اور یہ بھی کہ گزرنے والے بہت سے راہ گیروں میں سے کوئی بھی اس سے کچھ نہیں خریدتا تھا۔ اس کا ذکر اس نے شہزین سے بھی کیا تھا، لیکن شہزین نے کہا تھا:’’ فاطمہ یہاں سے زیادہ تر یونی کے سٹوڈنٹس گزرتے ہیں۔ اب وہ بسکٹ، ٹافیاں خریدنے سے رہے اور سٹوڈنٹس پین، پنسل وغیرہ سٹیشنری سے لینا پسند کرتے ہیں یوں راہ چلتے نہیں۔ بھلا کون خریدے گا اس طرح بس اللہ ہی برکت دے اس عورت کی روزی میں۔‘‘ فاطمہ کو شہزین کی باتوں سے کافی مایوسی ہوئی لیکن اس نے فیصلہ کر لیا تھا کہ اتنے دنوں سے وہ جو کچھ سوچ رہی ہے اسے اب عملی جامہ پہنانے کا وقت آگیا ہے۔
    اگلے دن فاطمہ نے اپنے پورے ڈیپارٹمنٹ کی ایک ایک کلاس میں جا کر ایک پیغام دیا کہ یوں تو ہم سب سوشل میڈیا پر پوسٹس کرتے ہیں کہ ہمیں غریبوں کی مدد کرنی چاہیے اور چھوٹی موٹی چیزیں بیچنے والوں سے ضرورت کے بغیر بھی چیزیں خرید لینی چاہئیں لیکن ہم سب کو یہ سب کہنے میں اچھا لگتا ہے جب کہ ایسا کرتے ہوئے ہم شرم محسوس کرتے ہیں۔ ایسا کیوں ہے؟ سب کی نظریں ایک پل کے لیے جھک گئی تھیں۔ انہیں شاید اس بات کی امید نہیں تھی کہ یونی میں کوئی اس طرح کا لیکچر دے کر انہیں شرمندگی بھی دلا سکتا ہے۔ فاطمہ نے کچھ توقف کیا اور پھر بات جاری رکھی۔
    ’’گلی کے نکڑ پر بیٹھی ہوئی آپ نے اس بیوہ کو تو دیکھا ہی ہوگا اور اس کے اسٹال پر درج تحریر کو بھی کہ اسے اس کے’’مکان کی قسط ادا کرنے اور بچوں کی ضروریات کے لیے رقم درکار ہے۔‘‘ لیکن ہم میں سے کتنے ہیں جنہوں نے اس تحریر پر غور کیا، اس کی مدد کی بلکہ مدد تو دور ہم میں سے بہت کم لوگ ایسے ہوں گے جنہوں نے ترس کھا کر اس سے دو چار اشیاء خریدی ہوں گی۔‘‘ اس بار طالبات کے چہرے جھک گئے تھے۔ اب ساتھ کھڑی شہزین بول رہی تھی۔
    ’’دیکھیں ہم سب طالبات ہیں، ہم انفرادی طور پر کسی غریب کی مدد نہ بھی کر سکیں تو اجتمائی طور پر سو پچاس جمع کر کے یقینا کسی غریب کی خاطر خواہ مدد کر سکتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آپ لوگ اس بیوہ عورت سے زیادہ زیادہ چیزیں خریدیں۔ کیوں کہ وہ حلال روزی کمانا چاہتی ہے۔ نیز اگر کوئی اسطاعت رکھتا ہے تو اپنے تئیں اس کی مالی مدد بھی کرے۔ اس کے علاوہ بھی ہمیں چاہیے کہ یوں سڑکوں پر چھوٹی موٹی چیزیں بچنے والوں سے کچھ نہ کچھ خرید لیا کریں۔ اس طرح ایک طرف ان کی مدد ہو جائے گی اور دوسری طرف بھیک مانگنے والوں کو بھی نئی راہ ملے گی کہ اگر وہ کچھ بیچیں گے تو ان سے خریدا جائے گا۔ ہم امید کرتے ہیں کہ معاشرے کو زبوں حالی سے بچانے میں آپ لوگ ہمارا ساتھ دیں گے۔‘‘ فاطمہ اور شہزین جیسے ہی چپ ہوئیں کلاس روم طلبہ و طالبات کی تالیوں سے گونجنے لگا۔
    اگلے دن اس تحریک کے لیے یونی میں چھوٹی چھوٹی کمیٹیاں بنائی گئیں جو کہ چندہ اکٹھا کرنے سے لے کر اپنی نگرانی میں غریب غربا کی مدد کرنے اور حلال کمائی کو فروغ دینے میں پیش پیش تھیں۔
    آمنہ آج صبح سے ہی بہت مسرور تھی۔ فوڈ سٹریٹ میں آج پہلے سے زیادہ رش تھا۔ آمنہ اور اس کی طرح دوسرے اسٹالز والوں، مکئی کے بھٹے بیچنے والوں اور یہاں تک کہ فوڈ سٹریٹ میں وزن کرنے والی مشین لے کر بیٹھے بوڑھے کے چہرے پر بھی چمک اور اطمینان تھا۔ ان سب کی بھی اپنی ہی دنیا تھی اور وہ سب آج بہت خوش تھے کہ یکے بعد دیگرے کئی گاہک ان کے ذریعہ معاش کو رونق بخش آئے تھے۔ سڑک پر بیٹھے ہوئے بہت سے بھکاری ان مناظر کو حیرت بھری نظروں سے دیکھ رہے تھے اور سوچ رہے تھے کہ واقعی حرکت میں برکت ہے۔
    فوڈ سٹریٹ سے گزرتے ہوئے آج فاطمہ کے چہرے پر اطمینان اور خوشی رقم تھی۔ اس نے اپنے فیصلے کو عملی جامہ پہنا دیا تھا اور اس پر عمل بھی کیا گیا تھا۔ شہزین نے اس کے چہرے کی طمانیت کو محسوس کیا تھا۔ فوڈ سٹریٹ سے گزرتے ہوئے ان کے قدم ہاسٹل کی جانب بڑھ گئے۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • کھیل ختم — ماہ وش طالب

    کھیل ختم — ماہ وش طالب

    میں عاشق مزاج سا بندہ نجانے اب تک کتنوں کے دل سے کھیل چکا تھا اور یہ شغل جاری ہی رہتا اگر وہ پری وش میرے خوابوں سے نکل کر حقیقت میں میرے حواسوں پر نہ سوار ہوگئی ہوتی۔ محض ایک سال تک ہم ایک دوسرے سے رابطے میں رہے مگر مجھے اس کی ایسی عادت پڑ گئی تھی جیسے وہ میرے جنم جنم کی ساتھی ہو۔
    پہلی بار اپنے جگری یار وقاص کی شادی پر میں نے اسے دیکھا اور دیکھتا ہی رہ گیا۔ وہ بھی ایک جھلک دکھا کر دوبارہ نہ نظر آئی۔ میں نے دوست سے پوچھا تو اس نے کہا کہ دور کی کوئی کزن ہوگی۔ شادی کی تصویروں میں بھی وہ نہیں تھی کہ ان میں سے دیکھ کر نشاندہی کروا دیتا۔ دو ہفتوں تک اس نازنین کے چہرے کو تصور میں دیکھتے رہنے کے بعد بالآخر حیرت انگیز طور مجھے وہ دوبارہ نظر آگئی۔ وہ اس بار بھی اکیلی تھی اور بک شاپ کی اوپری منزل پر تاریخ کی کتابیں کھنگال رہی تھی۔ میں نواز کے ساتھ گپیں ہانک رہا تھا جب یکدم اس کے سیاہ بالوں کی ناگن چٹیا میں الجھ گیا اور اس سے پہلے کہ اس کے قریب جاپاتا، وہ لفٹ کے ذریعے نیچے جاچکی تھی۔ میں نے مین مارکیٹ تک اسے تلاش کیا لیکن پر اسے ملنا تھا، نہ وہ ملی۔ اب تو میری رنگین مزاجی میں بھی ایک ہی رنگ ٹھہر سا گیا تھا، اُداسی کا رنگ۔ پڑھائی سے تو پہلے بھی خاص شغف نہ تھا مگر اب تو ٹوٹی فروٹی سی لڑکیاں بھی اپنی جانب مائل نہ کرتی تھیں۔ وہ نازک اندام حسینہ جو اپنی سادگی سے میرے سکون کا قتل کرگئی تھی، مکڑی کے جالے کی طرح اُلجھے ہوئے دنوں میں نے اسے تیسری بار کوئین میری کالج کے گیٹ کے باہر دیکھا۔ سفید وردی پر گلابی دوپٹا اوڑھے اپنے دراز قد میں وہ کوئی غنچہ ہی لگ رہی تھی۔ میں ٹریفک کی پروا کیے بغیر سحر زدہ سا اسے دیکھتا گیا پھر ستم یہ ہوا کہ اس نے بھی اپنی نظرِ التفات مجھ پر ڈالی مگر کم بخت لینڈکروزر والے کو شاید جہنم میں جانے کی جلدی تھی جو ہارن پہ ہارن دیے جارہا تھا۔ اسے راستہ دینے کے چکر میں وہ ایک بار پھر میری نظروں سے اوجھل ہوگئی۔ خیر یہ تسلی ہو رہی کہ وہ لاہور میں ہی رہتی ہے۔ اس کے بعد میں تین دن تک اسی کالج کے قریب جاتا رہا مگر مجھے وہ نظر نہ آسکی۔
    میری بے سدھ ہوتی حالت کو دیکھ کر شاید قدرت کو مجھ پر رحم آہی گیا اور بہار کی پہلی شام میں آنے والی اس فون کال نے میرے ارد گرد بھی جیسے سبزہ اگادیا۔
    ’’پہچانا نہیں؟‘‘ انجان نمبر سے آنے والی کال لینے کے بعد میں نے ’’کون ہے‘‘ پوچھا تو ایک سریلی سی آواز میرے کانوں میں رس گھول گئی۔
    ’’بھئی حد کرتے ہو۔ ویسے بڑے میرے دیوانے بنے پھرتے ہو۔‘‘ وہ نروٹھے پن سے بولی۔ میں ہکلا ہی تو گیا تھا۔
    ’’اب کچھ بولو بھی۔‘‘ اب کے شاید وہ حق جتانے والے انداز میں خفا ہوئی تھی۔
    ’’کیا تم وہی کوئین میری کالج والی ہو؟‘‘میرے کھوئے کھوئے سے حواس بحال ہونے لگے۔
    ’’ہاں!‘‘

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    ’’میرا نمبر کیسے ملا؟‘‘ یہی سوال سب سے پہلے میرے ذہن میں آیا۔
    ’’ایک نمبر کے بھلکڑ ہو۔ اپنی بائیک کے پیچھے ہی تو لکھ کر ساری دنیا کی لڑکیوں کو دعوت دیتے ہو۔‘‘ اس نے یوں کہا جیسے منہ پر بات ماری ہو۔ میں تو کھسیا گیا۔
    ’’اب شرمندہ کیوں ہورہے ہو؟ زندگی کی رنگینیوں پر تو سب کا ہی حق ہوتا ہے۔‘‘ وہ مجھے ڈھیٹ کررہی تھی مگر میں اب سنبھل چکا تھا۔
    ’’بڑی بے باکی ہے اس میں تو۔‘‘مجھے یکدم لطف آنے لگا۔
    ’’ہاں! بس۔‘‘ میں نے دانستہ بات چھوڑی اور یوں اپنے سر پر خود ہی چپت لگائی جیسے وہ میرے سامنے ہو۔
    ’’کیابس؟‘‘
    ’’میں سوچ رہا تھا خوب بنے گی جب مل بیٹھیں گے دیوانے دو۔‘‘ میں نے بات بنائی۔
    ’’ہاں بالکل! چلو بعد میں بات ہوگی۔ اب رکھتی ہوں فون۔‘‘ اور اس دن کے بعد مجھے بے چینی سے اس کے اگلے فون کا انتظار تھاجو صد شکر کہ ہر گز زیادہ لمبا نہ تھا۔ اگلی شام اسی وقت پر اس نے کال کی تھی اور پھر یہ سلسلہ چل نکلا۔ ہمیشہ وہی ایک مخصوص وقت پر فون کرتی تھی۔ آگے پیچھے کال کرنے سے اس نے مجھے منع کیا تھا۔ میرے استفسار پر بتایا کہ :
    ’’کچھ مجبوریاں ہیں جنہیں تم نہیں سمجھو گے۔‘‘
    ’’کیوں کیا کوئی اور بھی ہے؟‘‘ میرے لبوںسے یہ سوال پھسلا جو اسے تپا گیا۔
    ’’دکھادی نا اپنی اصلیت۔ تم مردوں کی گھٹیا ذہنیت بس یہیں تک سوچ سکتی ہے ۔اپنا پتا نہیں کہ ایک وقت میں کتنیوں کے دلوں سے کھیلتے ہوں اور کتنی حسیناؤں کی زلفوں کو آلودہ کرتے ہوں۔ ایک بار پھر بغلیں جھانکنے لگا۔ میرے اپنے لیے یہ بات بہت حیران کن تھی کہ اس کی اس قدر بدزبانی اور صاف گوئی بھی مجھے بری نہیں لگتی تھی۔ تقریباً ہر روز ہی بات کرتے ہوئے بالواسطہ وہ مردوں کی اور بلاواسطہ میری ذات پر طنز کے تیر چلادیتی۔ مگر میں خود پر جبر کرکے سن لیتا۔ کچھ اس کے لہجے کی شیرینی مجھے اس کی طرف کھینچتی ہی جاتی تھی کیوں کہ وہ بڑے ٹھنڈے ٹھار لہجے میں کوئی نہ کوئی چبھتی بات کرنے کے بعد کوئی ایسا موضوع زیرِ بحث لے آتی جس کا پچھلی کی گئی تلخ بات سے کوئی تعلق نہ ہوتا اور پھر اپنی ہی باتوں کے سحر میں مجھے بھی لے ڈوبتی۔
    ’’تم مجھ سے ملتی کیوں نہیں؟‘‘
    دو ماہ کی صرف ٹیلی فون تک محدود رہنے والی گفتگو اب مجھے بیزار کرنے لگی تھی کہ خالی خولی چٹ چیٹ میرے لیے وقت کا ضیاع تھی۔
    ’’میں تمہیں ملو گی بھی نہیں جانِ من!‘‘ اُف اس کا یہ طرزِ تخاطب ہی تو مجھے مار ڈالتا تھا کہ چاہ کر بھی میں اس سے الگ نہیں ہوپارہا تھا۔
    ’’نیلماں کوئی نشے کی گولی نہیں کہ آرام سے نگلی جاسکے۔‘‘ اس بار اس مدحوش سا لہجہ ذومعنی تھا۔
    ’’تو کتنا وقت چاہیے تمہیں۔‘‘ میں بھی ڈھٹائی پر اتر آیا۔
    ’’یہ تو وقت ہی بتائے گا۔‘‘
    لائن کٹ چکی تھی۔ میں نے غصے میں سیل فون بستر پر پٹخا۔ اب مجھے کل کا انتظار تھا کہ آر یا پار۔ اگر وہ مجھ سے ملاقات کرسکتی ہے تو ٹھیک ورنہ میں اپنا راستہ الگ کروں۔ جتنا وقت میں نے اس پر ضائع کرنا تھاکرلیا۔ اتنے عرصے میں تو میں آرام سے اپنا وقت کسی اور کی صحبت میں مزید خوشگوار بنا سکتا تھا۔ خوامخواہ اس کے دیدار کی تڑپ میں اپنی مہکتی راتوں کو خزاں کی نذر کیا مگر اب اور نہیں۔ پھر اگلی شام میں نے دوبارہ اس سے ملنے کی درخواست کی۔
    ’’میرے پیچھے مت بھاگو۔ مجھے بس محسوس کرو۔‘‘ اس کی مدھر سی آواز مجھے خوشگوار احساس سے بھگو گئی۔
    ’’نیلماں! تم سمجھتی کیوں نہیں؟جتنا میں تمہیں محسوس کرتا ہوں، اتنی ہی تم کو چھونے کی طلب بڑھتی جاتیہے۔‘‘ میں نے بھی جذبات کی لہروں میں ڈوبتے ہوئے اس سے کہا تھا۔
    ’’ہاں! مرد جو ہوئے تم۔ اس لیے ہر چمکتی شے کے پیچھے بھاگنا اپنا فرض ہی سمجھ لیتے ہو۔‘‘ وہ پھر سے مجھے ذلیل کرنے لگی۔
    ’’تمہیں مسئلہ کیا ہے سامنے آنے میں۔‘‘
    ’’کیونکہ میں اک سراب ہوں۔‘‘ یہ کہہ کر اس نے کال بند کردی جبکہ میں اس کی ذومعنی باتوں میں ہمیشہ کی طرح الجھ کر رہ گیا۔ پھر مجھے اس کے عروجِ شباب اور جلیبی کی مانند الجھی ہوئی میٹھی باتوں نے بالکل اپنا اسیر کرلیاکہ اس سے بات کیے بنا اب کوئی گزارا نہیں تھا۔
    ایک رات مجھے اس کے نمبر سے پیغام موصول ہوا، جس میں نیلماں سے ملاقات کا مکمل پتا درج تھا۔ مجھے تو جیسے نئی زندگی مل گئی۔ ڈیڑھ گھنٹے تک اپنی موٹر سائیکل اس سنسان سی سڑک پر دوڑانے کے بعد میں نے بالآخر وہاں کے اکلوتے ٹریفک کانسٹیبل سے مطلوبہ مقام کا پوچھا تو اس نے ایک نظر مجھے گھورا جس کی وجہ مجھے بعد میں معلوم ہوئی۔
    ’’ویسے یہ پتا نامکمل ہے، مگر میں چونکہ یہاں قریب ہی رہتا ہوں اس لیے اندازہ لگالیا۔ یہاں سے اگلا چوک اور وہیں سے دائیں مڑ جانا۔‘‘ اس نے ہاتھ کے اشارے سے میری رہنمائی کی اور اس کا شکریہ ادا کرنے کے بعد جب میں اس کے بتائے ہوئے پتے پر پہنچا تو لرز کر رہ گیا۔ وہ ایک پرانا قبرستان تھا۔ میں سوچے سمجھے بغیر اندر بڑھتا رہا جیسے کوئی نادیدہ قوت میری رہنمائی کررہی ہو۔ وہاں پر بہت سی قبریں تو اجڑی ہوئی لگتی تھی۔
    مجھے گرمی میں بھی ٹھنڈے پسینے آنے لگے۔ چلتے چلتے میں اچانک ایک قبر کے پاس آکر رکا۔
    اس قدرے خستہ حال قبر کے اوپر کتبہ نصب تھا جس پر جلی حروف میں درج تھا ’’نیلماں‘‘ تاریخ پیدائش دیکھ کر میں ٹھٹک گیا۔
    صرف تاریخ پیدائش دیکھ کر نہیں بلکہ تاریخ وفات کے نہ ہونے پر بھی اور اس کتبے کے کونے پہ لگی نیلماں کی چھوٹی سی تصویر دیکھ کر بھی۔
    مجھے یکدم محسوس ہوا جیسے کسی نے میرے قدم جکڑ لیے ہیں۔ من من بھر کے قدم لیے کس مشکل سے میں اس جگہ سے نکلا، یہ میں ہی جانتا ہوں۔ مہینہ بھر مجھے شدید بخار چڑھا رہا۔ آنکھیں سرخ بتی کی پھیلی روشنی کی مانند لال رہتیں اور حواس اکثر خلاؤں کے سفر پر نکلے ہوتے۔
    پھر اتفاق سے دوسال بعد کوئین میری کالج کے پاس سے میرا گزر ہوا۔ سہ پہر کا وقت تھا۔ گرمیوں کی سرگوشی کرتی ہوا اور درختوں کی سرسراہٹ مجھے جیسے ہراساں کر رہی تھی۔ میں خاموشی سے وہاں سے گزرجانا چاہتا تھا مگر نجانے کیوں اور کیسے کسی احساس کے تحت میں نے نظر اٹھا کر اطراف میں دیکھا۔
    اِکا دکا لڑکیاں گراؤنڈ اور سیڑھیوں پر نظر آئی تھیں۔ پھر اچانک میری موٹر رش میں پھنس گئی۔ یونہی دوبارہ عمارت کی اوپری منزل پر نظرڈالی تو ایک نئے چہرے والی دوشیزہ مجھے ہی تک رہی تھی۔ میرا دل دھک سے رہ گیا۔ اب دوبارہ اسے دیکھنے کی سنگین غلطی نہ کرنے کی خاطر میں سرپٹ وہاں سے دوڑا
    اب یہ حال ہے کہ کسی لڑکی کا نام سن کر بھی مجھے وحشت سی ہونے لگتی ہے۔ دوست یار نت نئی ترغیبیں دیتے ہیں مگر میں غیر محسوس طریقے سے ان سے کنارہ کش ہوتا جارہا ہوں۔ دل لگی کے سارے کھیل ختم ہوچکے ہیں کہ وہ لڑکی جو سراب تھی جو خود بھٹکتی ہوئی روح تھی، اس نے حقیقتاً میری ڈولتی زندگی کی سمت بدل دی تھی۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • بانجھ — میمونہ صدف

    بانجھ — میمونہ صدف

    سحر کی بلوریں ضیا میں لہلہاتے کماد کے کھیتوں میں ساربانوں کی آواز بڑی دور تک پھیلتی ایسی دل دوز لے پیدا کرتی کہ دوڑ دوڑ کر چوبارے چڑھتی بیراگن مست ہو کر بھی اس ساعت ِ احترام میں باادب سی ہو جاتی ۔قیمتی زربفت جو زمانوں کی گرد کے سبب حسن کھو چکا تھا ، ہو اکے سپرد کرتی وہ جیسے اِنھی ساربانوں میں سے ہو جاتی ۔ضوخانوں کی پروا وہاں کسے تھی؟ وہ تو شب ِ دیجور بھی چوبارے چڑھی ملتی اور بوہے باریوں کے پار ٹکٹکی لگائے تکتی ملتی ۔ ایسے میں مہران ماں حقے کی نے گھما کر گڑ گڑ کرتیں پوچھنے لگتیں۔
    ’’تیرے بہت چکر نہیں لگنے لگے اوپر کے؟ جب دیکھو اوپر ہی پائی جاتی ہے ۔ کہیں کوئی اور چکر تو نہیںہے؟‘‘ پہلا جملہ اونچا اور بعد کا ذرا آہستہ کہا گیا لیکن دونوں ہی اُس نے سُن لئے ۔ سُن تو لیے لیکن لسی بلوتے شیرو کے لیے کشتی بھرتے اس نے اَن سنا کر دیا ۔یہ سب تو معمول کی باتیں تھیں اس کے لیے۔ اسے اس سب کی عادت ہو چلی تھی۔مہران ماں بولتی رہتیں اور وہ بنا جواب دیے گھر میں گھومتی رہتی ۔ بس ضرورتاً جواب دے دیا کرتی۔ اُسے دیکھ کر اکثر لگتا کہ وہ بہری ہو گئی ہے اور اگر بہری نہیں ہے تو گونگی تو ضرور ہی ہو گی تبھی اُس کے منہ سے لفظ نہیں پھوٹ کر دیتے۔بس چپ چاپ اپنا کام کرتی پائی جاتی جیسے کسی سے اُس کا کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے۔یوں جیسے وہ ا س گھر کا حصہ ہو کر بھی نہ ہو ۔
    کبھی تو وہ دن بھر کام میں جتی رسوئی میں سِل بٹے پر مسالا جات کوٹے جاتی، برتن مانجھے جاتی ، صحن میں جم جم پونچھے لگائے جاتی، دیوار پہ اُپلے تھپ تھپ کر اُنھیں سکھائے جاتی اور پھر جلا جلا کر مٹی کا چولھا جلاتی ، رَلیاں دھو دھو کر بچھاتی، کنویں سے ڈول بھر بھر کر مٹکے ، بالٹیاں بھرتی جاتی۔
    اور پھر یکدم کون سا طلسم پھونکا جاتا کہ سب کام وہیں چھوڑ چھاڑکر چوبارے کی ہو جاتی۔ پھر سب بھول جاتی… کام بھی، نام بھی۔ جند بھی، جان بھی ۔
    اِدھر مہران ماں نیچے پکار پکار کر تھک جاتیں۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    ’’نیناں اری او نیناں جوگیا بنی پھرتی ہے ، نیچے کیوں نہیں ٹکتی ؟ ‘‘
    ’’ نیچے کس کے لیے ٹکوں ماں ؟‘‘ وہ خواب کی سی کیفیت میںسوال کرتی ۔
    ’’ کیا رکھا ہے اوپر کی تپتی دھوپ میں ؟‘‘
    ’’جو نیچے کی ٹھنڈی چھاؤں میں نہیں رکھا ۔‘‘
    ’’ اے ہے باؤلی ہوئی ہے کیا ۔کیسی باتیں کرتی ہے؟ ‘‘
    ’’تو اور کیسی باتیں کروں؟ ماں مجھے گھرکی ویرانی کاٹتی ہے۔ یوں جیسے کوئی آسیب مجھے نگل جائے گا ۔‘‘ اور مہران ماں منہ پر ہاتھ رکھے ہا ہائے کرنے لگتیں ۔
    ’’بھرے پرے گھر میں کیسی ویرانی؟ اور اوپر کے خالی چوبارے میں کہاں کی آبادی؟‘‘ انہیں حد درجے حیرت ہوتی اس بات پر۔
    ’’بھرا پرا گھر انسان سے ہوتاہے، سامان سے نہیں ۔ تیرا بیٹا اپنی مٹی کی فصل تو اُگا لیتا ہے لیکن اِس کھیتی کی طرف آنکھ اُٹھا کر بھی نہیں دیکھتا۔‘‘ مہران ماں کے کچھ پلے نہ پڑتا کہ وہ کیا کہتی ہے ، کیا سوچتی ہے؟ وہ ان پڑھ ساس اس پانچویں پاس بہو کی باتیں نہ سمجھ پاتی۔بس اِتنا سمجھ جاتیں کہ بیٹا بہو سے بیگانہ سا رہتا ہے ۔یوں جیسے گھر کے کسی کونے میں مٹی کی مورت رکھ کر انسان بھول جاتا ہے تو وہ نیناں کو بھول گیا تھا۔ اُس کا زیادہ تر وقت گھر کی چار دیوار ی سے باہر ہی گزرتا تھا ۔شاید اسی لیے نیناں ایسی تھی ، ایسی تھی نہیں ایسی ہو گئی تھی ۔
    پھر اُنھوں نے بیٹے کے لتے لیے ۔
    ’’اے شیرو کبھی اپنی دلہن کی بھی خبر لے لیا کر … کیسا کسان ہے کہ اپنی کھیتی کو بنجر چھوڑ رکھا ہے۔ دیکھ تو کیسا سوکھا آیا ہے۔ کچھ ہوش کر، آبیاری کر… شادی کو سات سال ہونے کو آئے ہیں لیکن ابھی تک اس کی کھوکھ کیوں خالی ہے ؟ کس ڈاکٹرنی کو دکھا، علاج کروا اُس کا ۔ تو ایسا بے پروا کیوں ہے اپنی دلہن سے ؟‘‘
    لیکن شیرو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا ۔اسے ان باتوں کی پروا نہیں تھی۔ اُسے بس جیسے مٹی کی فصل کی پروا تھی ، اپنی نسل کی نہیں۔
    مہران ماں پان منہ میں رکھے ، ہونٹوں پر لاکھا جمائے، سارا دن چارپائی پہ پڑی دلہن کو گھورتی رہتیں اور جوں ہی پڑے پڑے اونگھنے لگتیں، دلہن اپنے محبوب ٹھکانے پر پہنچ جاتی ۔نجانے کون سی کشش تھی جو اسے اوپری منزل پر کھینچتی تھی۔ مہران ماں کتنی قیاس آرائیاں کر کے تھک گئی تھیں ۔
    ’’مان لے اِسے کچھ تو ہے۔‘‘ وہ شیرو سے اس کی شکایت کرتیں، کان بھرتیں۔
    ’’کیا ہے ماں؟‘‘ وہ زچ ہو چکا تھا ماں کی روز روز کی اِن باتوں سے۔یہ اُس کا ناپسندیدہ ترین موضوع تھا ۔ نہ اسے سننا پسند تھا اور نہ ہی بات کرنا پسند تھا۔
    ’’یہ تو تُو بتا … پہلے تو ایسی نہ تھی ۔ اب کیوں ایسے بھاگتی پھرتی ہے ۔ گم صم رہتی ہے ۔ کام کرنے پر آئے تو مہینوں کا کام منٹوں میں کرلے اور جب کام سے ہاتھ ہٹا لے تو مجال ہے کہ کر کے دے۔ پھر تو جیسے بت بن جاتی ہے۔ یوں جیسے سانس لیتی کوئی گڑیا ہو بس۔ ہلنے جلنے سے قاصر… ایسے لگتا ہے جیسے کوئی سایہ ہو گیا ہے۔کسی پیر کو دکھا ، دم درود کروا۔کیا پتا کوئی بھوت پریت عاشق ہو گیا ہو۔ ہے بھی تو رج کے سوہنی ۔‘‘ شیرو نے ناگواری سے کرتا جھاڑا اور کھیتوں کا رخ کیا۔اس نے ایک نظر بھی اس ’ رج کے سوہنی ‘ پہ نظر ڈالنا گوارا نہ کی ۔اُس کے پاس ماں کے اُن فضول سوالوں کا جواب تھا، لیکن وہ دینانہیں چاہتا تھا ۔
    اُسی رات ماں کی زبان بندی کے لیے وہ چوبارے پر قفل لگا کر لمبی تا ن کر سو گیاکہ چلو اوپر جانے کا رستہ بند ہو گا، تو ماں کو باتیں بنانے کا موقع تو نہیں ملے گا۔اس کے کان ٹھنڈے رہیں گے اور ماں کا دل ، لیکن قفل تو نیناں کی زبان کو لگا تھا ۔ زبان بندی ماں کی نہیں اُس کی ہوئی تھی ۔وہ پہلے سے کہیں زیادہ خاموش ہو گئی تھی اور گم صم بھی ۔ یوں جیسے اوپر نہ جانے کا دکھ ہر سکھ پر ہاوی ہو گیا ہو۔جیسے اس کے پروانۂ زندگی کو کسی نے موت کی سزا سناڈالی ہو ۔ اب وہ کبھی زندہ نہیں ہو گی اور زندگی کبھی اس کی حسین صورت نہیں دیکھ پائے گی ۔وہ پہلے والے حالوں سے بھی گئی تھی۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • یاد دہانی — الصی محبوب

    یاد دہانی — الصی محبوب

    ’’ارم ارم میرے کپڑے استری نہیں کیے؟ تم نے میں آفس سے لیٹ ہو رہا ہوں۔‘‘ عامر نے اپنی بیوی ارم کو نیند سے جگاتے ہوئے کہا۔
    ’’جی میری آنکھ نہیں کھلی پلیز آج آپ خود کر لیں۔‘‘ارم نے سستی سے جواب دیا۔
    ’’ اچھا یار کم از کم ناشتا تو کروا دو۔‘‘عامر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
    ’’توس کچن کے کبڈ میں اور مکھن فریج میں ہے۔ چائے آپ خود بنا لیں۔ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ارم نے ایک بار پھر بیمار شکل بناتے ہوئے جواب کہا۔
    ارم کے جواب پر وہ حیران تھا۔ آج سے پہلے وہ کبھی ایسی لاپروا نہیں رہی۔ چاہے کتنی ہی بیمار کیوں نہ ہو پر عامر کو اپنا ہر کام وقت پر کیا ہوا ملتا۔
    انہی سوچوں کے ساتھ اس نے کپڑے استری کیے اور ناشتہ کے بغیر ہی آفس چلاگیا۔
    ٭…٭…٭
    اِرم نے اپنے سسرالیوں سے سن رکھا تھا عامر سخت مزاج اور وقت کا پابند ہے۔ اس نے بھی عامر کو آج تک شکایت کا موقع نہ دیا تھا۔ اس کا ہر کام وقت پر کرتی۔ اس لیے اب تک عامر کی سخت مزاجی کا سامنا نہ ہوا تھا۔
    ٭…٭…٭
    عامر آفس سے واپس آیا تو دیکھا گھر کچھ اور ہی منظر پیش کر رہا ہے۔ ہر چیز اِدھر اُدھر بکھری پڑی ہے۔ دھول سے اٹا فرنیچر آج گھر کی صفائی نہ ہونے کی گواہی دے رہا تھا۔
    ارم مزے سے ٹی وی پر کوئی مووی دیکھنے میں مگن تھی۔
    عامر اندر آیا اور ایک نظر ٹی وی دیکھتی ارم پر ڈالتا ہوا بنا کوئی سوال کیے اپنے کمرے میں چلا گیا۔ ارم نے بھی ایک نظر عامر پر ڈالی اور پھر سے مووی دیکھنے میں مگن ہوگئی۔
    کمرے میں بھی ہر چیز بکھری پڑی تھی۔ صبح جو چیز جہاں وہ چھوڑ کر گیا تھا وہ وہیں نظر آ رہی تھی۔
    وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے کمرے میں بیٹھا اسی سوچ میں گم تھا۔ آفس سے آتے ہی اس سے چائے پانی پوچھنے والی نے اب تک اسے پانی پلایا تھا اور نہ ہی اس کے لیے چائے لے کر آئی تھی جبکہ وہ جانتی تھی آفس سے واپسی پر وہ سب سے پہلے چائے پینے کا عادی ہے۔
    وہ تو جیسے آج اس پر حیرتوں کے پہاڑ توڑنے کا فیصلہ کیے بیٹھی تھی۔ جیسے جیسے دن گزر رہا تھا عامر کی حیرت بڑھتی جا رہی تھی۔
    بعض اوقات بہت کچھ آپ کے مزاج کے خلاف ہو رہا ہو جو پہلے کبھی نہ ہوا ہو، تو اس پر آپ کو غصہ نہیں حیرت ہوتی ہے۔ ایسا ہی اس کے ساتھ بھی ہو رہا تھا۔ اسے بھی ارم پر غصہ نہیں آیا بس پے در پے حیرت کے جھٹکے لگ رہے تھے۔ وہ ایسی تو نہ تھی اسے کیا ہوا ہے؟
    بالآخر دو گھنٹے بعد اس کی برداشت جواب دے گئی۔ وہ کمرے سے نکلا پہلے کی نسبت منظر کچھ تبدیل تھا۔ اب ارم ٹی وی دیکھنے کے بجائے اپنے موبائل کے ساتھ مصروف تھی۔
    ’’کھانے میں کیا پکاہے لے آؤ بہت بھوک لگی ہے۔‘‘ اس نے ڈائننگ کی ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے موبائل پر مصروف ارم سے کہا۔‘‘
    ’’آج تو میں نے کچھ نہیں بنایا۔ آپ کو بتایا تو تھا میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
    ’’آپ باہر سے کچھ لے آئیں۔‘‘ اس نے عامر کی طرف بنا دیکھے لاپروائی سے جواب دیا۔
    ایک اور حیرت کا جھٹکا۔
    اب اس کی حیرت کی جگہ غصے نے لے لی تھی۔ دن بھر آفس میں کام کر کے تھکا ہوا بھی تھا۔
    عامر غصے کے عالم میں ٹیبل سے اٹھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے لہجے میں سختی امڈ آئی تھی۔
    ’’نہیں کھانا مجھے کھانا کچھ نہیں کھانا ۔‘‘غصے سے بڑبڑاتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں چلا گیا۔
    اس بات سے انجان کہ اندر اس کا ایک سالہ بیٹا ’’عفام‘‘ نیند کے مزے لوٹ رہا ہے۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے ایک جھٹکے سے کمرے کا دروازہ بند کیا جس سے زوردار آواز ابھری۔ اس آواز کے ابھرتے ہی نیند کے مزے لیتا عفام چونک کر جاگا اور رونے لگا۔ اس کے رونے سے وہ مزید چڑ گیا تھا۔
    ’’اسے لے کر جاؤ یہاں سے۔” اس نے چیختے ہوئے ارم کو آواز دی۔
    وہ خود بھی عفام کے رونے کی آواز سن کر اسی طرف آ رہی تھی۔ جب اس نے اس کی غصے سے بھری آواز سنی۔ اس نے روتے ہوئے بیٹے کو گود میں اٹھایا اور عامر کو بنا کچھ کہے کمرے سے باہر آگئی۔
    اب وہ بچے کو کندھے سے لگائے پیار سے تھپک رہی تھی۔ وہ بھی ماں کی آغوش میں آ کر پھر نیند کی وادیوں میں کھو گیا تھا۔
    ارم نے اسے صوفے پر لٹایا جہاں وہ کچھ دیر قبل خود براجمان تھی۔
    وہ عامر کی کیفیت سے واقف تھی۔ بظاہر وہ ایسی نہیں تھی پر کبھی کبھی ہمیں عام سمجھنے والے لوگوں کو اپنی اہمیت کا احساس دلانا پڑتا ہے۔
    ارم ٹھنڈے پانی کا گلاس لیے کمرے میں داخل ہوئی۔ عامر بیڈ پر بیٹھا عجیب ہی کیفیت کا شکار تھا۔ارم کو دیکھتے ہی اس کے ماتھے پر بل پڑنے لگے۔
    ارم نے ہاتھ میں پکڑا پانی کا گلاس اسے دیتے ہوئے نرمی سے کہا:
    ’’آپ کے کل کے سوال کا جواب یہ ہے۔ میں سارا دن یہ سب کرتی ہوں جو آج نہیں کیا۔‘‘
    وہ اسے بہت ہی سادہ لفظوں میں اس کے کل کے الفاظ کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کمرے سے جا چکی تھی، جو اس نے کل ارم کی ایک چھوٹی سے بھول پر اسے کہے تھے۔
    ’’تم سارا دن کرتی ہی کیا ہو؟‘‘
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});