Author: misbah116@hotmail.com

  • کلپٹومینیا — میمونہ صدف

    رات کے پچھلے پہر وہ اوپری منزل کی جانب بڑھتا ہو ا ہر چیز کو آگے پیچھے اوپر نیچے سے یوں ٹٹول رہا تھا جیسے وہ لڑکی نہیں کوئی تتلی ہو جواُڑ کر کہیں چھپ گئی ہو۔ اگر وہ نیچے کہیں نہیں تھی تو اسے اوپر ہی ہونا چاہیے تھا بلکہ لازمی ہونا چاہیے تھا اور اگر وہ اوپر بھی نہ ہوتی تو؟ اس’ تو‘ کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔ باہر جانے کے دو ہی راستے تھے، اپارٹمنٹ کا فرنٹ ڈور اور کچن میں موجود بیک ڈور جو آس پاس کے ایک ہی طرز کے بنے سبھی اپارٹمنٹس میں موجو د تھے۔ دونوںہی دروازے اندر سے اچھی طرح مقفل تھے ۔ کھڑکیاں شدید سردی کی وجہ سے اس نے سردیوں کے آغاز پر ہی بند کر دی تھیں ورنہ وہ کھڑکی کے ذریعے باہر نہ چلی گئی ہو یہ سوچ بھی اس کے ذہن میں آتی اگر کوئی کھڑکی اسے کھلی ملتی تو، لیکن اس جما دینے والی ٹھنڈ میں وہ کمرے کی گرمائش ، میٹھی نیند، انگیٹھی میں جلتی بجھتی لکڑیوں اور نرم گرم لحاف چھوڑ کر اوپر کیا کر رہی تھی؟ جہاں ٹیرس پر شمال کی جانب سے آنے والی یخ بستہ ہوا ئیں استقبال کرنے کو تیار رہتی تھیں۔ ٹیرس کے ایک جانب اسٹور نما کمرا تھا جہاں گھر کا پرانا اور فالتو سامان رکھا ہوا تھا۔ پہلی بار اپنے نئے پروجیکٹ کے سبب وہ اتنا مصروف رہا تھا کہ اس نے کبھی اوپر جھانکنے کی زحمت نہیں کی تھی۔ یہ اپارٹمنٹ اسے حال ہی میں کمپنی کی جانب سے اس ترقی پر ملا تھا جو شادی کے دو ماہ بعد ہی ہوئی تھی اور جسے اس نے اپنے بجائے اپنی بیوی کی اچھی قسمت گردانا تھا ۔
    زینہ عبور کرتے ہی اس کی نظر سامنے اسٹور کے ادھ کھلے دروازے سے چھن کر آتی ملگجی پیلی روشنی پر پڑی تو ایک گہری سانس اس کے سینے سے آزاد ہوئی۔ اسٹور سے آتی روشنی اس بات کی غماز تھی کہ وہ اندر ہی موجود ہے ۔ وہ اسی طرح دبے قدموں چلتا ہوا دروازے تک آیا ۔ نیم وا دروازے سے اندر کا منظر واضح تھا ۔ وہ ٹھنڈے فرش پر اپنے شب خوابی کے لمبے موٹے گاؤن میں ملبوس، بال کھولے، بکھرائے، اردگرد ڈھیروں متفرق اشیا پھیلائے بیٹھی نہ جانے کہاں گم تھی کہ اسے اس کے آنے کی خبر تک نہ ہوئی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ اسے مخاطب کرتا، اس سے پوچھتا کہ وہ رات کے اس پہربنا اسے بتائے، یہاں کیا کر رہی ہے، اس کی نظر سامنے پڑی چیزوں پہ پڑی اور اس کے ذہن میں ایک جھماکا ہونے کے ساتھ ہی قدم وہیں جم گئے ۔
    ٭…٭…٭




    مذکر کی اس سے پہلی باضابطہ ملاقات تب ہوئی تھی جب وہ ڈنر کرنے ’ اٹالین کوزین‘ ریستوران آیا تھا۔ وہ کاؤنٹر پہ آرڈرز بک کرتے ہوئے قطار میں اس سے پچھلے شخص کا آرڈر بک کر رہی تھی۔ وہاں سیلف سروس کا رواج تھا۔ اپنا آرڈر وہ دے چکا تھا۔ اس کا ٹوکن ا س کے ہاتھ میں تھا ۔ سامنے اسکرین پہ جو نمبر چل رہا تھا اس کے مطابق ابھی اس کا نمبر آنے میں پانچ سے دس منٹ لگنا تھے۔ یہ ریستوران اس کی رہائش سے قدرے قریب اور سستا تھا۔ جب کبھی وہ آفس میں دیر تک کام کرنے کے سبب رکتا توگھر واپسی پر اس کا کبھی دل نہیں چاہتا تھا کہ وہ خاص اپنے لیے کچھ بنائے۔ ایسے میں وہ وہاں آکر کھانے کو ترجیح دیتا تھا۔ اس کے اپارٹمنٹ میں اس کے ساتھ سونال رہتا تھا جس کی رات کی شفٹ تھی ۔ اس کے ورکنگ آورز رات دس بجے سے صبح آٹھ تک تھے۔ سو یوں ان دونوں کا کم کم ہی سامنا ہوتا تھا۔ وہ دونوں مل کر اپارٹمنٹ کا کرایہ اور دیگر اخراجات اٹھاتے تھے۔ سونال اتنا کام چور تھا کہ کھانا بنانے جیسا تردد کرنے کے بجائے بھوکا رہنا پسند کرتا تھا ۔ الٹا مذکرجب کبھی اپنے لیے کچھ بناتا اس کے لیے بھی بنا کر فریج میں رکھ آتا تھا ۔
    وہ پچھلے سات ماہ سے اس ریستوران میں آ رہا تھا اور اس عرصے میں اس نے کبھی کاؤنٹر پر کھڑی اس لڑکی کو مسکراتے یا کسی سے کوئی فالتو بات کرتے نہیں دیکھا تھا ۔ وہ ایک پیشہ ورانہ سنجیدگی لیے تاثرات دیتی اپنا کام کرتی رہتی تھی۔ وہ اس لڑکی اور اس کے نام سے بہ خوبی واقف تھا ۔ اس کے زیادہ تر آرڈرز وہی لیا کرتی تھی۔ اس کا نام ایزا بیتھ تھا اور وہ وہیں کی مکین تھی ۔ مذکر کو حیرت اس بات پر ہوتی کہ اتنے ماہ سے وہاں آتے رہنے پر بھی کبھی اس کی آنکھوں میں اسے دیکھ کر شناسائی کی کوئی رمق نہیں ابھری تھی ۔ وہ ہر بار اسے اسی انداز میں ڈیل کرتی گویاوہ وہاں پہلی بار آیا ہو اور اس کی اسی عادت نے مذکر کو اس کی جانب مائل کیا تھا۔یہ پچھلے پانچ ماہ سے ہوا تھا کہ وہ کھانے کے دوران اسے ہی دیکھتا رہتا، لیکن اس نے کبھی اسے اپنی جانب متوجہ ہوتے نہیں پایا تھا یا تو وہ انجان تھی یا پھرنظروں کی تپش محسوس کر کے بھی اسے جان بوجھ کر نظرانداز کرتی تھی۔ یہ اس کی دوسری عادت تھی جو اسے پسند آئی تھی، لیکن اِن سب سے ہٹ کر وہ بات جس نے اسے اس جگہ اور اس لڑکی سے باندھا تھا، وہ تھی اس کے چہرے کی معصومیت اور آنکھوں کی اُداسی۔
    اس شام بھی وہ وہیں کھڑا ہو کر ارد گرد کا جائزہ لیتا اپنی باری کے انتظار میں تھا۔ جب اس نے منیجر کو تیزی سے ایزا کی جانب بڑھتے ہوئے دیکھا تھا۔ وہ اطالوی زبان میں اس سے تیز تیز گفتگو کر رہا تھا اور وہ اسی تیزی سے ا س کا جواب دے رہی تھی۔ چہرے کے اتار چڑھاؤ بتا رہے تھے کہ دونوں میں کسی معاملے کو لے کر تلخ کلامی ہو رہی تھی۔ وہ کاؤنٹر سے ہٹ کر ایک طرف ہو گئی اور اب کاؤنٹر ایک نئی لڑکی سنبھال کر آرڈرز نوٹ کر رہی تھی ۔ بات بڑھتے بڑھتے اس حد تک بڑھی کہ ان دونوں کی آوازیں اس قدر اونچی ہو گئی تھیں کہ تمام گاہک کھانا چھوڑ کر اس جانب متوجہ ہو گئے۔ کچھ دیر اسی طرح بحث کرنے کے بعد ایزا بیتھ نے اپنے مخصوص یونیفارم کی کیپ اتار کر زمین پر دے ماری اور وہ اپنے آنسو چھپاتے ہوئے تیزی سے اندر کی جانب بڑھ گئی۔ منیجر نے اسے روکنے کی کسی قسم کی کوشش نہیں کی اور اپنے کیبن کی طرف بڑھ گیا۔ تماشا ختم ہو چکا تھا اور سب پھر سے اپنے ڈنر کو انجوائے کررہے تھے۔
    مذکر کو ایک بے چینی اور تجسس نے مجبور کیا کہ وہ اس کے پیچھے جاکر اس سے بات کرے ۔ اپنا آرڈر وہیں چھوڑ کر وہ ریستوران کے فرنٹ ڈور کی جانب سے باہر نکلتا ، گھوم کر بیک ڈور تک آیا جو اسٹاف کے لیے مختص تھا۔ ایزا کو اگر باہر جانا تھا تو اسی دروازے سے گزر کر جانا تھا اسی لئے وہ وہیں کھڑا اس کا انتظار کر نے لگا۔ تقریباً دس منٹ بعد وہ یونیفارم تبدیل کر کے اپنے لباس میں باہر نکلی تھی ۔ اس نے ایک لانگ کوٹ جو خاصا خستہ حال ہو گیا تھا، پر مفلر سے سر کو اچھی طرح لپیٹ رکھا تھا۔ پاؤں میں پرانے لمبے جوتے تھے جو عموماً برف پر چلنے کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ رونے کے سبب اس کی ناک سرخ ہو رہی تھی اور آنکھیں متورم۔ اس نے ٹشو سے بہتی ناک صاف کرتے ہوئے فٹ پاتھ پر کھڑے اِدھر اُدھر دیکھا۔ اسے لگا تھا کہ وہ بس اسٹاپ کی طرف بڑھے گی، مگر وہ مخالف سمت میںچل دی۔ تبھی مذکر اس کی جانب بڑھا۔ رات کے گیارہ بج رہے تھے اور سڑک پر ٹریفک اور لوگوں کا ہجوم معمول کے مطابق تھا۔
    ’’کیا میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں؟‘‘ اس نے انگریزی زبان میں اسے پیشکش کی جسے اس نے سختی سے ردکر ڈالا تھا ۔
    ’’بہت شکریہ ۔۔۔ مگر میں انجان لوگوں سے مدد نہیں لیتی۔‘‘
    اس کی بات پر مذکر بری طرح چونکا۔ کیا وہ ان سات ماہ میں اسے اتنا بھی نہیں جان پائی تھی کہ اس کا چہرہ اسے شنا سا لگتا ۔
    ’’مگر میں آپ کے ریستوران میں آنے والا وہ گاہک ہوں جو روزانہ نہ سہی، لیکن ہفتے میں دو چکر تو لازمی لگاتا ہے ۔‘‘
    ’’تو…؟‘‘ اس نے رکتے ، ابر و اچکا کر جارحانہ تیور لیے اسے گھورا۔ جیسے وہ کہنا چاہتی ہو کہ اس کے گاہک ہونے کے اعزاز کو وہ کیا کرے؟ وہ اپنی جگہ کھسیا کر اِدھر اُدھر دیکھنے لگا۔ اس سے پہلے کہ وہ آگے بڑ ھ جاتی وہ گویا ہوا۔
    ’’میں نے دیکھا منیجر نے آپ کو کس بری طرح جھڑکا تھا۔ اسے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اپنی پرانی ورکر کے ساتھ وہ بھی سب کے سامنے۔‘‘ اس نے دھیرے دھیرے بولتے اس سے ہمدردی جتائی۔ اس کے الفاظ ایزا سے ہمدردی جتائے جانے کے قابل تھے ۔
    ’’وہاں بہت سے لوگوں نے یہ منظر دیکھا۔ کسی اور کو مجھ سے ہمدردی کا بخار نہیں چڑھا، تو تمہیں ہی کیوں ؟ اور دوسری اہم بات کہ میں اس کی ورکر تھی، اب نہیں ہوں۔ وہ دو روز پہلے ہی مجھے فارغ کر چکا تھا، لیکن یہ میں تھی کہ دو دن کی مہلت پر وہاں کام کر رہی تھی کہ شاید وہ اپنا ارادہ بدل ڈالے، لیکن اس کا ارادہ تبدیل نہیں ہوا۔ سو آج اس چھت تلے میرا آخری دن تھا اور کچھ یا اب میں جا سکتی ہوں؟‘‘ اس کا انگریزی لب ولہجہ اطالوی زبان کے مقابلے میں اتنا صاف نہیں تھا پھر بھی وہ اس کی بات سمجھ سکتا تھا۔ شاید وہ اتنی تعلیم یافتہ نہیں تھی، لیکن وہ کہیں سے بھی غیر مہذب نہیںلگتی تھی۔ یہ وہ پچھلے سات ماہ میں نوٹ کر چکا تھا۔ اس کے انداز و اطوار کسی بھی سلیقہ شعار لڑکی سے زیادہ مہذب تھے۔ یہ اور بات تھی کہ اس وقت وہ اس سے رکھائی سے پیش آ رہی تھی کیوں کہ اب وہ اس کے ریستوران کا گاہک نہیں تھاکہ وہ اسے کسی قسم کی رعایت دیتی۔
    ’’اس نے آپ کو کیوں نکالا؟آپ تو اپنا کام بہت اچھے سے انجام دے رہی تھیں ۔‘‘ وہ حیران ہوا ۔
    ’’وہ میرے کام سے یقینا مطمئن نہیں تھا اور یہ اس کا حق تھا کہ وہ مجھے نکال باہر کرے ۔‘‘ وہ اب فٹ پاتھ پر چلنے لگی اور وہ اس کے ساتھ ساتھ اپناآرڈر بھاڑ میں بھیج کر چل پڑ اتھا ۔ اس کے وہاں سے نکالے جانے کاسن کر اس کی بھوک ہی مر چکی تھی ۔
    ’’تو اب آپ کہاں جائیں گی ؟‘‘
    ’’یہ دنیا اس ایک ریستوران پہ تو ختم نہیں ہو جاتی۔ میں کہیں اور کام ڈھونڈوں گی ۔‘‘
    ’’لیکن کہاں؟‘‘ وہ بے چین ہو ا ۔ اب وہ وہاں نہیں آئے گی ، اسے نہیں بتائے گی کہ وہ کہاں کام کرنے والی ہے، تو وہ اس سے ملے گا کیسے ؟ اور جو اس پر ابھی ابھی ادراک ہوا تھا کہ وہاں اس ریستوران میں آنے کا سب سے بڑا محرک وہی تھی تو اب وہ وہاں کیا کرنے آئے گا؟
    ’’کہیں بھی… اور تم میرے ساتھ چلنا بند کرو ۔ کیا اب مجھے گھر تک چھوڑنے جاؤ گے؟‘‘ اس نے قریباً ڈپٹتے ہوئے اسے گھورکر دیکھا۔وہ بجائے شرمندہ ہونے کے فوراً بولا ۔
    ’’میں آپ کو گھر تک چھوڑ سکتا ہوں اگر آپ چاہیں۔‘‘
    ’’تمہارے پاس گاڑی ہے؟‘‘ اس نے نفی میں سر ہلا یا ۔
    ’’بائیک یا سائیکل؟‘‘ اس نے پھر سے نفی میں سر ہلایا ۔
    ’’تو پیدل میں خود بھی جا سکتی ہوں، تمہاری اس مدد کا بہت شکریہ ۔‘‘ اب کے وہ کچھ شرمندہ سا ہوا تھا، لیکن ہمت پھر بھی نہیں ہاری تھی ۔ اگر وہ پیچھے ہٹ جاتا تو اسے ہمیشہ کے لیے کھو دیتا ۔
    ’’میں پھر بھی اس وقت آپ کو اس طرح نہیں چھوڑ سکتا ۔‘‘ وہ ڈھیٹ بن گیا ۔
    ’’لیکن مجھے ضرورت نہیں ہے۔‘‘
    ’’مگر مجھے تو ہے۔‘‘ ایزا نے جواباً اسے گھورا۔
    ’’دیکھو اب جب کہ تم اس ریستوران میں نہیں آ پا ؤ گی اور میں نہیں جانتا کہ تم کہاں رہتی ہواور آگے کہاں جاؤ گی تو یہ ضروری ہے کہ میں جانوں کہ تم کہاں رہتی ہو اور کہاں کام کرنے جا رہی ہو۔ کیوں کہ میں تم سے ملتے رہنا چاہتا ہوں اور اس سے پہلے کہ تم وجہ پوچھو میں تمہیں بتا دینا چاہتا ہوں کہ میرے اس ریستوران میں آنے کی ایک وجہ تم بھی تھی… تو کیا اب بھی بات تمہاری سمجھ سے باہر ہے؟‘‘ وہ اسے حیر ت سے دیکھ رہی تھی۔
    ’’بات یہ نہیں ، تم میری سمجھ سے باہر ہو۔ ‘‘ اس کی بات سن کر وہ مسکر ا دیا تھا ۔
    ایزا خاموشی سے آگے بڑ ھ گئی۔ وہ اس کے ساتھ چل رہا تھا، لیکن اب ایزا نے اسے ساتھ چلنے سے منع نہیں کیا۔ وہ اس کے پوچھنے پر اسے بتا رہی تھی کہ منیجر کو کسی ورکر نے اس کی شکایت کی تھی کہ وہ سٹوریج ہاؤس سے مال چراتی ہے۔ اس نے اپنی صفائی میں کچھ کہنے کی کوشش کی تھی، لیکن اس ورکر نے نجانے کیسے منیجر کی ذہن سازی کی تھی کہ وہ اس کی بات ماننے کو تو دور سننے تک کو بھی تیار نہ تھا اور اسی سبب سے اسے ریستوران سے نکالا گیا تھا۔
    ’’میرے پاس تمہارے لیے ایک جگہ نوکری ہے۔ اگر تم کہو تو میں بات کر لیتا ہوں۔‘‘
    مذکر نے اسے اپنے ایک واقف کار کے برگر کیفے کا بتایا تھا جہاں وہ کام کر سکتی تھی ۔تنخواہ ریستوران کے مقابلے میں کم تھی اور کیفے اس کی رہائش سے قدرے فاصلے پر تھا، لیکن ایز ا کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ فوری طور پر اس پیشکش کو قبول کر لیتی۔مہینے کا اختتام ہو رہا تھااور اس کی جیب میں پہلے ہی چند یورو تھے۔ وہ ایک ایسے علاقے میں رہتی تھی جہاں کی زیادہ ترآبادی اسی جیسے کم آمدن لوگوں پر مشتمل تھی۔ اس کے اپارٹمنٹ میں بھی ایک کمرا اور اس کمرے میں اس سمیت پانچ لڑکیاں تھیں ۔ان پانچوں میں سے وہ اور سیما تھی جو ماہانہ کما رہی تھیں۔ ورنہ لیزا، گیتی اور جوڈی اکثر بے روزگار ہی رہتیں۔ جب ان تینوں کے پاس پیسہ ہوتا تو وہ اکٹھے بہت سا راشن لے آتیں، کئی مہینوں کا کرایہ ادا کر ڈالتیں ورنہ ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھی رہتیں۔ وہ چاروں آپس میں اچھی سہیلیاں تھیں سوائے ایزا کے۔ ایزا کی ان چاروں سے کبھی نہیں بن سکی تھی جس کی وجہ اس کی خاموش طبع فطرت تھی۔ اپنی ہم عمر لڑکیوں کی نسبت وہ کم گو، سنجیدہ اور آدم بیزار واقع ہوئی تھی۔ اسے بولنے اور ہنسنے کی عادت نہیں تھی اور نہ ہی وہ ایسے لوگوں سے میل ملاپ رکھنا پسند کرتی تھی ۔ اسے دوسروں کی ذاتیات میں دخل دینا یا اپنی ذاتیات میں کسی کا دخل دینا کسی طور پسند نہیں تھا۔ اسی لیے وہ لوگوں سے ایک فاصلہ رکھ کر ملتی تھی۔ اچھی یا بری لیکن اپنی اس عادت سے وہ باہر نہیں نکلنا چاہتی تھی۔ وہ چاروں پچھلے دو سال سے اکٹھے رہ رہی تھیں جب کہ ایزا ان کے ساتھ پچھلے پانچ ماہ سے تھی ۔ اس سے پہلے وہ اسی علاقے میں نسبتاً اس سے بھی بدتر درجے کے اپارٹمنٹ میں دس لڑکیوں کے ہمراہ رہتی تھی ۔ وہ اس قدر تنہائی سے محبت میں گرفتار تھی کہ اگر اس کی آمدنی بہتر ہوتی تو وہ اپنے لیے ایک الگ اپارٹمنٹ لینے کو ترجیح دیتی جہاں اسے کبھی کسی کی شکل دیکھنے کو نہ ملتی۔
    اس کا اپارٹمنٹ آچکا تھا ۔ وہ مذکر کی طرف دیکھ کر مسکرائی۔ پچھلے سات ماہ کی پہلی مسکراہٹ جس نے مذکر کو حیرت میں ڈالا تھا ۔۔۔
    ’’تم نے جو میرے لیے کیا وہ بہت سے بھی زیادہ ہے ۔ تمہاری طرح میں بھی اب تم سے ملتے رہنا چاہوں گی ۔‘‘ یہ الفاظ کیسے اس جیسی لڑکی کے منہ سے ادا ہوئے وہ خود بھی نہیں جانتی تھی ۔ جو بھی تھا وہ احسان فراموش نہیں تھی اور مذکرکے اسے یوں فیور دینے پر اس کا شکریہ ادا کرنا تو بنتا ہی تھا۔ اس نے جاتے سمے مصافحہ کے لیے ہاتھ بڑھایا ۔مذکر نے اسے تھام کر ایک خیر مقدمی مسکراہٹ سمیت اسے دیکھا۔ یہ ان دونوں کی دوستی کی ابتدا تھی ۔
    ٭…٭…٭
    اگلے ہی روز سے ایزا وقت ضائع کیے بغیر مذکر کے واقف کار کے کیفے میں بطور ویٹرس کام کررہی تھی۔ وہ ایک قصبے کا چھوٹا سا کیفے تھا جہاں گاہک بہت زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے کام ’ اٹالین کوزین‘ ریستوران کے مقابلے میں خاصا کم تھا سو ایزا کا زیادہ تر وقت فراغت میں گزرتا۔ اُس کے علاوہ وہاں ایک اور ویٹرس بھی تھی جس سے اس کی سلام دعا ہونے کی حد تک واقفیت تھی۔ اس کی وجہ بھی ایزا کا لیے دیے رہنے کا انداز تھا۔ ایزا کو کا م نوعیت کے اعتبار سے آسان لگا تھا لیکن یہ اس کا مسئلہ نہیں تھا ۔ وہ کام سے بھاگنے والی لڑکی کبھی بھی نہیں رہی تھی ۔تنخواہ پہلے سے کم تھی اور آنے جانے کے لیے بھی مقامی بس استعمال کرنے کی وجہ سے اس کی تنخواہ کا ایک بڑا حصہ کرائے کی مد میں لگ جاتاتھا۔ اصل مسئلہ اسے یہ درپیش آ رہا تھا۔اس نے سوچ رکھا تھا کہ وہ جلد ہی کوئی بہتر کام ڈھونڈ کر اس نوکری سے چھٹکارا پا لے گی، لیکن تب تک اسے یہی نوکری کرنا ہو گی ۔
    مذکر کو یہ کیفے اپنی رہائش سے قدرے دور اور آفس سے قریب پڑتا تھا ۔ اب وہ لنچ کرنے آفس سے سیدھا اسی کیفے میں آنے لگا تھا۔ روزانہ برگر کھانے کے بدلے روزانہ ایزا سے ملنا کوئی اتنا برا سودا بھی نہیں تھا۔ اس کی اور ایزا کی لنچ بریک کے اوقات کار ایک سے تھے۔ اسی لیے وہ بآسانی اس سے مل لیتا تھا۔
    ’’تم روز اتنے دور یہ برگر کھانے آتے ہو؟‘‘ اس روز وہ کیفے میں بیٹھنے کے بجائے اپنا اپنا لنچ لیے ایک قریبی پارک میں چلے آئے تھے۔ مذکر کاآفس اس کیفے سے قریباً پندرہ منٹ کی واک پر تھا اوراس کے آفس کے قریب ہی اس سے بہت بہتر کیفے اور ریستورانس تھے یہ بات وہ جانتی تھی۔
    ’’تم بھی تو اتنے دور سے روز اسے بیچنے آتی ہو ۔‘‘
    ’’یہ میری مجبوری ہے ، میرے پاس کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے ۔‘‘
    ’’یہ میری بھی مجبوری ہے کیوں کہ میرے پاس بھی کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے ۔‘‘ ایز انے اسے عجیب سی نظروں سے دیکھا اور پھر دوسری طرف۔ دونوں اپنا اپنا لنچ کرنے لگے۔ کیفے کا مالک ایزا کو مذکر کی دوست کی وجہ سے مختلف چھوٹی موٹی مراعات بھی دیتا تھا جس میں وہ لنچ بھی شامل تھا جو وہ وہاں بیٹھی کر رہی تھی۔
    ’’تمہیں اس جاب میں کوئی مشکل تو نہیں؟‘‘
    ’’تم نے میرے لیے خاصی آسانی کی ہے پھر مشکل کیسی؟‘‘ وہ اسے کبھی بھی یہ نہیں بتانا چا ہتی تھی کہ وہ کم تنخواہ کی وجہ سے پریشان رہتی ہے۔ وہ اتنی خودد ار تو تھی کہ اب اپنی بدحالی کے رونے اس شخص کے سامنے نہ روتی۔ یہ جان کر وہ کیفے کے مالک سے بات کر کے اس کی تنخواہ میں اضافے کی درخواست کر سکتا تھا اور ایز ا اس کا مزید احسان نہیں لینا چاہتی تھی۔ اس کی بجائے اس نے اپنے بل بوتے پر اس سے بہتر نوکری اور پارٹ ٹائم جاب کے لیے کوششیں شروع کر دی تھیں ۔
    ’’میں ہمیشہ تمہارے لیے آسانی کیے رکھنے کو تیار ہوں ایزا ۔ہر جگہ، ہر پل اگر تم چاہو تو…‘‘ اس کا چلتا ہوا منہ رکا اور اس نے اپنی آنکھوں کو سکیڑتے ہوئے کچھ ناقدانہ انداز میں مذکر کی جانب دیکھا تھا ۔وہ اس کے ایسے دیکھنے پر ہنسا تھا ۔




  • لبِ قفل — راحیلہ بنتِ میر علی شاہ

    سخت سردیوں کی جھڑی پورے زور و شور سے جاری تھی۔ سرد ہوائیں ہڈیوں میں اترتی محسوس ہورہی تھیں۔ بجلی کی چمک اور بادلوں کی گڑگڑاہٹ۔ رات کو مزید ہولناک بنارہی تھی، لیکن جب بھی رات کی تاریکی کو بجلی کی چمک لمحہ بھر کو روشن کرتی تو ہر چیز عیاں ہو جاتی۔ بارش کی بوندیں شفاف موتیوں کی طرح نظریں خیرہ کرتیں اور پھر اندھیرے کی راجدھانی ہر سو چھا جاتی۔
    بھل بھل بہتے بارش کے بوندوں کی آواز کو سنتے سنتے نہ جانے کتنا سما بیت گیا تھا۔ جب اچانک اسے احساس ہوا کہ تانیر سو چکا ہے۔ سات ماہ کا تانیر آج اسے بہت تنگ کر رہا تھا۔ ورنہ عام طور پر گول مٹول پیارا سا تانیر بہت کم ہی روتا تھا، لیکن آج پتا نہیں کیا وجہ تھی کہ وہ بہت رو رہا تھا اور آمانہ کو گھن چکر بناکر رکھ دیا تھا۔ ایک ہی زاویے میں بیٹھے بیٹھے اس کا جسم شل سا ہوگیا تھا۔ تانیر کو بیڈ پر لٹاکر ایک نظر زاویار کو دیکھا جو بے حد آرام سے سو رہا تھا۔
    کتنا پیارا اور معصوم سا لگ رہا تھا سوتے ہوئے جیسے کوئی چھوٹا سا بچہ…چند لمحے اس کے چہرے کو تکنے کے بعد اچانک دل میں درد کی اِک لہر اٹھی اورجسم کی رگ رگ میں پھیل گئی۔
    یہ وہ انسان تھا۔ جس کے لیے وہ اپنا گھر، اپنے خواب اور آرمان میکے کی دہلیز پر چھوڑ آئی تھی اور وہی اس کی اذیت اس کے درد کا موجب بنا ہوا تھا اور اسے اتنا بھی حق نہیں دیا تھا کہ لب کھولتی بلکہ اس نے تو لبوں پر قفل لگادیا تھا۔
    جسے وہ چاہ کر بھی نہیں کھول سکتی تھی۔ کھولتی تو کہاں جاتی؟ ایک شادی شدہ عورت کی سسرال کے علاوہ کہیں اور جگہ بھی ہوتی ہے بھلا؟
    دل میں کئی کانچ کے ٹکڑے ایک ساتھ چبھے۔
    درد حد سے سوا ہوا اور وہ بیدم سی ہوکر بیڈ پر ڈھے گئی۔ سردی کچھ اور بڑھ گئی تھی اور سرد برفیلے غلاف میں لپٹے یادوں نے اس کے جسم میں کپکپی دوڑا دی۔
    ’’یار مانو !تم کب تک ہمارے سینوں پر مونگ دلتی رہو گی؟‘‘
    شاہان شیلف پر چڑھے بہن کو دلجمعی سے بیلن چلاتے دیکھتا ہوا گویا ہوا۔
    ’’For you’re kind information‘‘جب تک دنیا میں مونگ موجود ہے تب تک۔‘‘اس نے چند لمحوں کے لیے ہاتھ چلانا بند کیا۔ سلکی کالے بالوں کی ایک لٹ جوکافی دیر سے اسے تنگ کررہی تھی اسے کانوں کے پیچھے اڑس کر شاہان کو گھورا اور دانت کچکچاکر تڑاق سے جواب دیا۔ اس نے ایک بار پھر ہاتھ چلانا موقوف کیا۔
    ’’کچھ اور بھی کہنا ہے کیا ؟‘‘ رونی صورت بنا کر شاہان گرنے کی اداکاری کرتا ہوابولا۔
    ’’بالکل کہنا ہے، سنو میرے پیارے ! اگر مونگ کی دال ختم ہوئی نا؟ تو دال چنا تو ہوگی وہی تیرے سینے پر دلوں گی سمجھ گئے؟‘‘
    مانو کی طرف سے ایک اور دھماکے دار جواب آیا اور شاہان گرتے گرتے بچا۔
    ’’لیکن مانو!مجھ غریب پر یہ ظلم کس خوشی میں کروگی بھلا؟ ‘‘
    چند لمحے سوچنے کے بعد شاہان نے حتی المقدور لہجے میں عاجزی سمو کر سوال داغ دیا۔
    ’’کیوں کہ تم مجھے قابل ہی لگتے ہو اینی وے اب زیادہ دماغ نہ خراب کرو میرا اور جلدی سے ایک کپ چائے بنادو میرے لیے تب تک میں سموسے تل لیتی ہوں۔ ‘‘کام میں مصروف مانو نے شاہان کو حکم صادر کیا اور شاہان شاہانہ انداز میں بڑبڑاتے ہوئے چائے چڑھانے لگا۔
    ’’جانے کیا پرابلم ہے سب کو مجھ سے؟ مجال ہے جو کوئی ذرا سا بھی مجھ غریب پر ترس کھالے۔فری کا بٹ مین ہاتھ لگا ہے بس! شاہان یہ کرو !شاہان وہ کرو۔ ہونہہ!‘‘ مانو اس کی بڑبڑاہٹ کو سنی ان سنی کرتی ہوئی سموسے تلنے کے لیے کڑاہی میں تیل گرم کرنے لگی۔
    شاہان نے کن انکھیوں سے مانو کی بے نیازی دیکھی اور سموسوں کی بجائے کڑاہی میں وہ تلنے لگا۔
    ’’آج کل میں اچھی طرح سے جج کرنے لگا ہوں کہ تم لوگ بلاوجہ ہی مجھ پر کام وغیرہ کا بوجھ ڈالتے رہتے ہو۔‘‘ شاہان نے ایک بار پھر خود پر ہونے والے مظالم کے خلاف احتجاج کیا۔




    ’’ویری گڈ! اس کا مطلب ہے آج کل تمہارے کب کے ناکارہ ہوجانے والے دماغ نے کام اسٹارٹ کردیا ہے۔‘‘سموسے تلتی ہوئی مانو کی جانب سے متاثر کن جواب آیا۔
    ’’واٹ یو مین ؟ میرا دماغ کام نہیں کرتا؟‘‘اس نے آنکھیں نکال کر پوچھا۔
    ’’یہ کب کہا میں نے؟ اپنے کانوں کی صفائی کروا لو میں نے یہ کہا کہ آپ کے دماغ نے کام کرنا اسٹارٹ کردیا ہے۔‘‘
    کام کرتی ہوئی مانو نے ایک بار پھر شاہان کو غش کھانے پر مجبور کیا۔
    لیکن اس سے پہلے کہ شاہان مزید کچھ کہتا کچن میں ایک نفوس نے انٹری دی اور شاہان چپکا رہ گیا۔
    ’’واہ جی واہ !کیا خوشبو ہے۔ میری تو بھوک چمکا گئی یہ اعلیٰ پائے کی خوشبو۔‘‘
    ’’آفان بھائی! یہ پائے نہیں پک رہے۔ سموسے پکائے جارہے ہیں۔‘‘شاہان نے سیدھے سادھے لفظوں میں آفان کو آنکھوں کا چیک اپ کرانے کا مشورہ دیا جبکہ اس نے تو جیسے شاہان کی بات سنی ہی نہیں۔‘‘
    ’’کیا کہنے تم دونوں کے اگر پاکستان کے نامور شیف کی لسٹ مجھ ناچیز سے کوئی بنوائے تو… سرفہرست میں تم دونوں کے نام لکھوں گا۔ بہرکیف۔ فی الوقت میں ناچیز یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آیا یہ شاہان کی شاہانہ چائے کی خوشبو ہے یا پھر مانو کے سموسوں کی؟ بائے دی وے! معاملہ کچھ بھی ہو، لیکن میں تم دونوں کو صدق دل سے داد دیتا ہوں اور اس حسین موسم میں اس قدر دلجمعی کے ساتھ تم دونوں نے کچن کو اپنا قیمتی وقت دے کر ہم پر بھاری احسان کا قرض چڑھا دیا ہے۔
    ’’اور میری… خداوند عالم سے التجا ہے کہ وہ آپ دونوں کو یوں ہی کچن سنبھالنے کی شکتی دے۔آمین۔‘ ‘
    آفان گاڑھی اردو بولنے کی کوشش کرتا ہوا کچن میں وارد ہوااور شاہان کو پرے کرتے ہوئے اُس کی بنائی ہوئی چائے کپ میں انڈیل دی۔ دو تین سموسے اٹھائے اور یہ جا وہ جا۔
    حیرت سے دم سادھے وہ دونوں جب تک آفان کی مداخلت اور اتنی تعریف کی کرم نوازی کو سمجھ پاتے یا کوئی جوابی کارروائی عمل میں لاتے۔ آفان تب تک روپوش ہوچکا تھا۔
    ’’اپنا منہ تو بند کرو۔ ہاتھی گھس جائے گا۔‘‘
    کسی اور کا غصہ شاہان پر اتارتے ہوئے مانو جل کر بولی، تو سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں شاہان کا منہ بند اور دوبارہ کھل گیا۔
    ’’دیٹس ناٹ فیر!‘‘
    ’’میں اب مزید چائے نہیں بناؤں گا۔ چاہے کچھ بھی ہوجائے میں بھی دیکھتا ہوں تم کیسے بنواتی ہو مجھ سے مزید چائے۔‘‘
    شاہان نے روہانسی آواز میں دھماکا خیز اعلان کیا اور …مانو کی نظر بچا کر دو سموسے اٹھائے اور جلدی سے کچن سے نکل گیا۔
    ارمان کچن کے ساتھ اٹیچ لاؤنج میں بیٹھا ساری کارروائی دیکھ رہا تھا اور ساتھ سننے کی سعادت بھی حاصل کررہا تھا۔
    زیرِلب مسکراتے ہوئے شاہان کو سموسے گرفتار کرتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف جاتا ہوا دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا۔
    ’’میری شونو مونو کو کون تنگ کر رہاہے؟‘‘
    کچن میں داخل ہوکر پیار سے اس نے مانو کو دیکھتے ہوئے پوچھا۔چند ثانیے مانو کے جواب کا انتظار کیا اور پھر آگے بڑھ کر پتیلی اٹھائی اور چائے چڑھانے لگا ۔ مانو جو اچھی خاصی تھک چکی تھی کی آنکھوں میں بے اختیار نمی آٹھہری اورآنکھوں کی نمی چھپانے کے لیے اس نے اپنا سر جھکا لیا۔
    ’’مانو!‘‘اس نے دھیرے سے پکارا۔ مانو کی منہ سے بہ مشکل ’’ہوں!‘‘ نکلا ۔
    تمہیں تو پتا ہے شاہان ،آفان اور حیان کی عادت ہے یوں ہی بولنے کی۔ تم ان لوگوں کی باتیں دل پر مت لیا کرو۔ پتا تو ہے نا!کتنی محبت کرتے ہیں سب تم سے ؟ ہمارا سب کچھ تو تم ہی ہو تمہارے سوا کون ہے ہمارا؟ ارمان دلگرفتہ سا بہن کو دیکھ کر بولا اور مانو تڑپ اٹھی۔
    ’’بھائی جان! پلیز ایسی باتیں نہ کریں۔ میرا بھی تو سب کچھ آپ چاروں ہو۔’’ آنکھوں میں محبت کا جہاں لیے وہ اپنے بڑے بھائی کو دیکھتے ہوئے بولی۔
    تو ارمان نے آگے بڑھ کر محبت سے مانو کی آنکھوں میں ٹھہر جانے والے آنسو پونچھے اور پیار سے اس کا سر اپنے شانے سے لگا کر تھپتھپادیا۔
    ’’بھائی جان آپ کی چائے۔‘‘
    مانو نے بھائی کی توجہ اُبلنے والی چائے کی جانب مبذول کرائی تو وہ جلدی سے آگے آیا۔
    ’’لو ہماری چائے تو بن گئی۔‘‘ ارمان خوش ہوکر بھاپ اڑاتی چائے کو دیکھ کر بولا۔ دو کپ اٹھا کر ان میں چائے ڈال دی جبکہ ایک پلیٹ میں سموسے ڈال کر رکھ دیے اور سینک کے پاس جاکر ہاتھ دھوتے ہوے بولا:
    ’’میں چائے اور سموسے لے کر روم میں جارہا ہوں۔ تم جلدی سے منہ ہاتھ دھوکر آجاؤ اکٹھے پیتے ہیں اوکے؟ ‘‘منہ موڑ کر بہن کو دیکھتے ہوئے ارمان بولا۔اور مانو کھکھلا کر ہنس پڑی۔ ارمان نے حیرت اور سوالیہ نگاہوں سے بہن کو دیکھا۔




  • سرد سورج کی سرزمین — شاذیہ ستّار نایاب

    سرد سورج کی سرزمین — شاذیہ ستّار نایاب

    سرمد آفس سے باہر نکلا تو لو کے گرم تھپیڑوں نے اس کا استقبال کیا۔ اگرچہ شام ڈھل رہی تھی لیکن جون کا مہینہ تھا اور گرمی اپنے پورے جوبن پر تھی، ائیر کنڈیشنڈ دفتر سے نکل کر تو گرمی کی شدت اور زیادہ محسوس ہورہی تھی۔ پارکنگ تک پہنچتے پہنچتے وہ پسینے سے شرابور ہوگیا اس پر جھنجھلاہٹ طاری ہوگئی۔ اس نے ٹوپی سرپر جمائی اس کا گورا چٹا چہرہ اب گرمی سے لال ٹماٹر ہورہا تھا۔ اس نے موٹر سائیکل کو کِک لگائی اور تیزی سے سڑک پر لے آیا ہوا لگنے سے پسینہ خشک ہونے لگا لیکن ابھی تھوڑی دور ہی گیا تھا کہ موٹر سائیکل پنکچر ہوگیا۔
    جھنجھلاہٹ چڑچڑاہٹ میں تبدیل ہوگئی۔ بادلِ نہ خواستہ موٹر سائیکل سے نیچے اُترا اور اسے گھسیٹتا ہوا پنکچر لگانے والے کے پاس لے آیا۔ پنکچر لگانے والا لڑکا ٹین کے شیڈ کے نیچے ایک چھوٹا سا پیڈسٹل فین لگائے پنکچر لگانے میں مصروف تھا۔
    پنکچر لگوا کر نکلا تو سورج غروب ہونے کو تھا اس نے ایسے ہی سورج کی طرف نگاہ اٹھائی تو اس کی نظریں چندھیا سی گئیں۔
    ’’اف میرے خدا اس موسم میں تو ڈوبتا ہوا سورج بھی کسی کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا جاسکے‘‘ سرمد نے سوچا اور موٹر سائیکل پر بیٹھ کر گھر کی راہ لی۔
    گھر میں داخل ہوتے ہیں حسب معمول امی سے ٹاکرا ہوا وہ سلام کرتا ہوا دھم سے صوفے پر آبیٹھا۔ امی نے تسبیح پڑھتے ہوئے اشارے سے سلام کا جواب دیا اور اپنے خوبرو اور وجیہہ بیٹے کو دیکھا جس کے چہرے پر تھکن اور بے زاری تھی۔ پھر اسے سکنجبین لاکردی۔ کولر کی ہوا میں بیٹھ کر اور دوگلاس سکنجبین پی کر ذرا اس کے ہوش ٹھکانے آئے۔
    بیٹے کو پرُسکون دیکھ کر ماں کے دل کو بھی سکون ملا تو پوچھا: ’’آج اتنی دیر کیوں کردی؟‘‘
    یہ راحت بیگم کی بہت اچھی عادت تھی خواہ شوہر لیٹ آئے یا اولاد فوراً سوالوں کی بوچھاڑ نہیں کرتی تھیں پہلے گھر آنے والے کو پرُسکون کرنے کی کوشش کرتیں پھر اپنی تشویش سے آگاہ کرتیں۔
    ’’موٹر سائیکل پنکچر ہوگیا تھا اتنی دور تک گھسیٹ کر لانا پڑا۔‘‘ سرمد نے جواب دیا۔
    "ہر روز ہی موٹر سائیکل کو کچھ نہ کچھ ہوجاتا ہے کبھی پلگ خراب تو کبھی پنکچر تو کبھی کچھ اور … ایک ہی بار اس کی صحیح طرح مرمت کرواؤ۔‘‘ امی نے مشورہ دیا۔
    ’’امی یہ ابو کا موٹر سائیکل ہے اتنے سال انہوں نے استعمال کیا اصولاً تو اسے بھی ابو کی ریٹائرمنٹ کے بعد ریٹائر ہوجانا چاہیے تھا سوچا تھا کہ نوکری ملے گی تو نیا خریدوں گا مگر اس تنخواہ میں……‘‘ سرمد نے فقرہ ادھورا چھوڑا۔
    ’’اللہ کا شکر ادا کرو بے روزگار نہیں ہو تنخواہ تھوڑی سہی مل تو رہی ہے اور بھی نئی نئی نوکری ہے آہستہ آہستہ تنخواہ بڑھ جائے گی۔‘‘ راحت بیگم نے بیٹے کو حوصلہ دیا۔
    "توبہ… یہ امی کی قناعت پسندی اور شکر گذاری… ساری عمر ابو نے سرکاری محکمے میں نوکری کرکے صرف نیک نامی کمائی۔ امی نے کبھی شکایت نہیں کی۔ وہ تو اچھا ہوا کہ دادا کے چھوڑے ہوئے ترکے اور محکمے سے لون لے کر یہ گھر بنالیا ورنہ…‘ سرمد نے سوچا مگر منہ سے کچھ نہ بولا کیوں کہ پھر امی سے لمبا لیکچر سننا پڑجاتا۔
    ’’تم کیا سوچنے لگے…‘‘ راحت بیگم نے پوچھا۔
    ’’کچھ نہیں… میں ذرا کپڑے تبدیل کرلوں۔‘‘ سرمد نے کہا۔
    ’’ہاں جاؤ اور سنو تمہاری خالہ فرحت کی فیملی آرہی ہیں۔‘‘ امی نے کہا۔
    ’’خالہ فرحت… ڈنمارک سے…‘‘
    ’’وہ لوگ کیا کرنے آرہے ہیں؟‘‘ سرمد اکتا کر بولا۔
    ’’لوگ اپنے ملک کیا کرنے آتے ہیں؟‘‘ امی چڑ کر بولیں۔
    ’’ساری عمر باہر گزار کر مرنے آتے ہیں یا پھر بچوں کی شادیاں کرنے۔‘‘ توقیر صاحب نے تلخ لہجے میں اندر آتے ہوئے کہا۔
    ’’کیسی باتیں کررہے ہیں آپ اللہ میرے بہن بہنوئی کو زندگی اور تندرستی دے۔ ہاں شاید رانیہ کی شادی کے سلسلے میں آنا ہو۔‘‘ راحت بیگم نے کہا۔
    ’’کیا خالہ ہمارے گھر رہیں گی آکر؟‘‘ سرحد سے چھوٹی نزہت نے اشتیاق سے پوچھا۔
    ’’ہمارا گھر اس قابل ہے۔‘‘ سرمد نے کہا۔
    ’’میری بہن گھر سے ملنے نہیں مجھ سے ملنے آرہی ہے۔ رہے گی تو اپنے دیور کے گھر لیکن یہاں ایک دو دن تو ٹھہرے گی…‘‘ امی نے کہا۔
    سرمد نے امی کو دیکھا وہ بہن کے آنے پر خوش تھیں اور اس نے مزید کچھ کہہ کہ ان کی خوشی کو خراب کرنے کی کوشش نہ کی۔
    ٭٭٭٭
    فرحت خالہ نے آتے ہی رینٹ اے کار سے ایک گاڑی مع ڈرائیور لی اور سب رشتہ داروں کے ہاں آنا جانا شروع کیا۔ ان کے پاس دن بہت کم تھے وہ سب سے ملنا چاہتی تھیں اور رانیہ کی شادی کا مسئلہ بھی درپیش تھا۔ سسرال میں سب سے مل کر وہ راحت بیگم کے گھر پہنچی، بے شمار تحفے ان کے ساتھ تھے۔
    سرمد اور اس کے چھوٹے بہن بھائیوں کا خیال تھا کہ وہ ان کے چھوٹے سے گھر میں آکر تنگ ہوں گی مگر وہ تینوں تو نہایت آرام سے بیٹھے تھے۔
    ’’پاکستان کیسا لگا تمہیں؟‘‘ رانیہ سے نزہت نے پوچھا۔
    ’’اچھا ہے لیکن بہت گرمی ہے۔‘‘ رانیہ مسکرائی۔
    ’’آپ لوگ دسمبر جنوری میں آتے نا۔‘‘ نگہت نے کہا۔
    ’’ارادہ تو یہی تھا مگر ممی ڈیڈی کو آم کھانے تھے۔‘‘ رانیہ مسکرائی
    ’’تم اردو اچھی بول لیتی ہو‘‘۔ سرمد سے چھوٹے اظہر نے کہا۔
    ’’وہاں گھر میں ہم اردو بولتے ہیں اور باہر ڈینش اس لیے اردو آتی ہے اور تھوڑی تھوڑی پنجابی بھی‘‘۔ رانیہ بولی۔
    ’’السلام علیکم…‘‘ سرمد نے اندر داخل ہوتے ہوئے کہا اور اسے دیکھ کر حیرت ہوئی کہ رانیہ سب کے ساتھ بڑی بے تکلفی سے بیٹھی تھی۔
    فرحت خالہ نے بے اختیار اسے دیکھ کر گلے لگایا۔ ماتھا چوما۔ ’’ماشاء اللہ میرا بیٹا۔‘‘ خالو نے بھی گلے لگایا۔
    ’’ممی آپ ٹھیک کہتی تھیں پاکستانی مرد بے حد خوبصورت ہوتے ہیں۔‘‘ رانیہ نے خوبرو اور وجیہہ سرمد کو دیکھتے ہوئے کہا۔ سرمد کو اپنی وجاہت کا پورا احساس تھا یونیورسٹی میں سینکڑوں لڑکیاں اس پر مرتی تھیں لیکن اپنے والدین اور چھوٹے بھائی بہنوں کے سامنے اس بے باکی سے کی گئی تعریف سُن کر وہ جھینپ گیا۔
    خالہ اور خالو نے قہقہہ لگایا۔ تھوڑی دیر بعد سب گُھل مل کر باتیں کررہے تھے اس کی وجہ خالو، خالہ اور رانیہ کا بے تکلف رویہ تھا۔
    ’’میں لاہور کی سیر کرنا چاہتی ہوں۔‘‘ رانیہ نے فرمائش کی۔ ’’ضرور بیٹا ضرور دیکھو۔‘‘ راحت بیگم نے کہا۔




  • داستانِ محبّت — سارہ قیوم (دوسرا اور آخری حصّہ)

    داستانِ محبّت — سارہ قیوم (دوسرا اور آخری حصّہ)

    ’’ میرے پا س تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے۔ ‘‘ مریم نے کمرے میں آکر ہاتھ میں پکڑا ہوا لفافہ لہراتے ہوئے کہا ۔
    ’’کیسا سرپرائز؟‘‘ شیلف پر کتابیں ٹھیک کرتی ثنا کے ہاتھ رک گئے ۔
    ’’یہ دیکھو۔‘‘ مریم نے لفافہ اس کی طرف بڑھادیا۔ ثنا ء نے لفافہ کھول کر اندر سے کاغذ نکال لیا۔ بے ساختہ بولی:
    ’’پی ایم اے ۔۔۔۔‘‘ اس کا جملہ ادھورا رہ گیا ۔سرخ چہرے کے ساتھ وہ ہنس پڑی ۔ اس نے رخ موڑ لیا اور دوبار ہ سے شیلف پررکھی ہوئی کتابیں ٹھیک کرنے لگی ۔ مریم نے اس کے ہاتھ سے لفافہ اچک لیا ۔
    ’’ہمارے فوجی برادران نے ترک سفید کے اعزاز میں ایک تقریب پر وقار کا اہتمام کیا ہے ۔ ازراہِ کرم ہمیں بھی دعوت نامہ بھیج دیا ۔ لیکن ہم تو جا نہیں رہے ۔دعوت نامہ ضائع ہو گیا بے چاروں گا ۔‘‘ مریم دھم سے بستر پر گر پڑی ۔
    ’’کیوں کیوں نہیں جارہے ؟ ابو کی جاب کا تقاضہ ہے جانا۔‘‘ثنا ء تیزی سے اس کی طرف گھومی۔
    ’’ہاں تو وہ چلے جائیں گے ۔ امی کا کہنا ہے ہمیںجانے کی کوئی ضرورت نہیں ۔‘‘ مریم نے بے نیازی سے کہا۔ ثنا کا چہرہ اتر گیا ۔ وہ خاموش ہو گئی ۔مریم کو اس پر ترس آگیا ۔
    ’’اچھا اب رونا نہ شروع کردینا ۔ چپ کر کے دیکھتی جاؤ میں کیا کرتی ہوں ۔‘‘ اس نے چٹکی بجاتے ہوئے کہا ۔
    شام کو اس کی لیڈیز کلب کی فرینڈ مسز اطہر کا فون آگیا ۔
    ’’میں نے سنا ہے آپ لوگ پی ایم کے فنکشن میں نہیں آرہے؟‘‘ انہوں نے پوچھا ۔
    ’’آپ کو کس نے بتایا ؟‘‘امی حیران ہوئیں ۔
    ’’صبح مریم سے بات ہوئی تھی اس نے بتایا ۔ مسز قریشی تھوڑے سے تو ہم یہاں لوگ ہیں ۔ مل بیٹھنے کا بہانہ چاہیے اور میرا سکندر بھی بڑا پُرجوش ہے کہ علی سے ملے گا ۔آپ لوگ ضرور آئیے گا ۔‘‘
    اگلے دن دوپہر تک چار مزید خواتین کے فون آگئے تو امی مجبور ہو گئیں ۔ انہیں تقریب پر سب کو لے کر جانا پڑا۔ ثنا نے بہت خوب صورت گلابی لباس پہنا ، فنکشن خاصا بورنگ تھا ۔ کچھ تقریریں ہوئیں ، چند گیت گائے گئے پھر ڈنر ہوا ۔ فیصل دوردور سے ثنا کو دیکھتا رہا ۔وہ یہ دیکھ کر محظوظ ہورہا تھا کہ ثنا کی نظریں کسی کو ڈھونڈھ رہی ہیں ۔ثنا پورے ہال میں ایک ہی چہرہ دیکھنے کی کوشش کرتی رہی۔ سب ٹوپیوں والے ایک جیسے نظر آتے تھے اور جنہوں نے ٹوپیاں نہیں پہن رکھی تھیں ، ان کے پیالا کٹ بال ایک ہی مشین سے نکلے ماڈل لگتے تھے ۔ لیکن ڈنر کے بعد جب سب مہمان ٹولیوں کی صورت میں اِدھر اُدھر کھڑے ہو کر باتیں کرنے لگے تو ثنا کو وہ نظر آگیا ۔ نظر آنا مشکل بھی نہ تھا ۔اس نے تو بس یہ کیا کہ پورے ہال میں سب سے لمبے شخص کو ڈھونڈا اور وہ وہی نکلا ۔ ثنا کی اس سے نظریں ملیں تو وہ مسکرایا اور چپکے سے ہاتھ اٹھا کر اسے سیلوٹ کیا ۔ ثنا مسکرائی، وہ خواتین کے ایک گروپ کے ساتھ کھڑی تھی ۔ غیر محسوس طریقے سے وہ ان سے الگ ہوئی اور مریم کی طرف چلی ۔ ابھی آدھا راستہ ہی طے کیا تھا کہ وہ بھاری قدم اس کے ساتھ چلنے لگے۔
    ’’ہیلو۔‘‘ فیصل نے مسکرا کر کہا۔
    ’’ہیلو!‘‘ ثنا بھی مسکرائی۔
    ’’کیسی ہیں آپ؟‘‘





    ’’بہت اچھی۔‘‘ اس نے شوخ و چنچل لہجے میں کہا۔
    ’’کوئی شک نہیں! ‘‘ وہ بھی اسے چھیڑتے ہوئے بولا تو دونوں ہنس پڑے ۔
    ’’آپ نے میرے سلام کا جواب نہیں دیا۔‘‘ فیصل نے کہا۔
    ’’آپ نے سلام کب کیا؟‘‘ ثنا نے حیران ہو کر پوچھا۔
    ’’وہاں کھڑے ہوئے۔ ‘‘ فیصل نے انگلی سے اشارہ کیا ۔
    ’’وہ تو سیلوٹ تھا۔‘‘ اس نے معصومیت سے کہا۔
    ’’سیلوٹ ویسا تھوڑی ہوتا ہے۔‘‘
    ’’پھر کیسا ہوتا ہے ؟‘‘
    ’’آئیے میں آپ کو دکھاتا ہوں ‘‘۔ وہ جس دیوار کے ساتھ چل رہے تھے اس میں فاصلے سے کئی دروازے برآمدے کھلتے تھے ۔ فیصل نے ایک دروازہ کھولا اور دونوں باہر برآمدے میں نکل آئے ۔ آوازوں کے شور سے نکل کر برآمدہ بہت خاموش معلوم ہوا۔ فیصل اس کے سامنے سینے پر ہاتھ باندھ کر کھڑا ہو گیا اور مسکراتی نظروں سے اسے دیکھنے لگا ۔
    ’’آپ بہت اچھی لگ رہی ہیں۔‘‘ اس نے دھیمی آواز میں کہا ۔
    ’’شکریہ!‘‘ وہ کچھ دیر خاموش رہی ۔
    آپ نے کھانا ٹھیک سے کھایا؟‘‘ فیصل نے آداب میزبانی نبھائے ۔
    ’’جی۔‘‘ ایک بار پھر طویل خاموشی ۔
    ’’ایک بات بتائیے، یہ جو آپ گردن میں اس قدر اکڑا ہو ا کالر پہنتے رہتے ہیں ، اس سے آپ کی گردن ہلنے جلنے کے قابل رہتی ہے ؟‘‘آخر ثنا نے کہا۔
    جواب میں اس نے مسکراتے ہوئے اسے دائیں سے بائیں گردن ہلا کر دکھائی ۔
    ’’ویسے گردن اس طرح ہلتی اچھی نہیں لگتی۔ ایسے ہلتی اچھی لگتی ہے۔‘‘ اس نے گردن ہاں کے انداز میں اوپر نیچے ہلائی۔
    ثنا ہنس پڑی۔ وہ دونوں برآمدے میں آہستہ قدموں سے چلنے لگے ۔
    ’’اکیڈمی کیسی لگی آپ کو ہماری؟‘‘ فیصل نے پوچھا۔
    ’’اچھی ہے مگر یہ جو اس کے درودیوار ان نعروں سے بھرے ہیں۔ ‘‘ ثنا نے دیوار پر ایک پوسٹر کی طرف اشارہ کیا جس پر بڑے بڑے الفاظ میں ’شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے‘ لکھا تھا ۔ ثنا نے اپنی بات جاری رکھی :
    ’’انہیں دیکھ کر خواہ مخواہ شہید ہونے کو دل چاہتا ہے ۔‘‘
    ’’یہ ہماری ٹریننگ کا حصہ ہے۔ ابھی تو آپ نے رسال پور اکیڈمی نہیں دیکھی ۔ وہاں تو کوئی کونا بھی اس یادہانی سے خالی نہیں۔‘‘ فیصل مسکرایا۔
    ’’وہ تو ائیر فورس کی اکیڈمی ہے نا؟ آپ وہاں بھی رہ چکے ہیں ؟‘‘ ثنا نے پوچھا ۔
    ’’میں اصل میں Army Aviation میں ہوں۔ فلائنگ ٹریننگ کے لیے کچھ عرصہ وہاںگزار چکا ہوں۔‘‘
    ’’رئیلی؟‘‘ کیا اُڑاتے ہیں آپ ؟‘‘ اس نے حیرانی سے اس سے پوچھا۔
    ’’گپیں !‘‘ اس کی آنکھیں شرارت سے چمک رہی تھیں ۔
    ’’ان کے علاوہ ؟‘‘ ثنا نے ہنستے ہوئے پوچھا ۔
    ’’ہیلی کاپٹر! ‘‘
    ’’wow!‘‘ اس نے سراہنے والے انداز میں کہا۔
    ’’اور آپ کیا کرتی ہیں ؟‘‘ فیصل نے پوچھا۔
    ’’پڑھتی ہوں، فائن آرٹس۔‘‘
    ’’ارے واہ یعنی آرٹسٹ ہیں ۔ کیابناتی ہیں آپ ؟‘‘
    ’’باتیں! ‘‘ثنا نے مسکرا کر کہا
    ’’ان کے علاوہ ؟‘‘ فیصل کی ہنسی میں کھنک تھی ۔
    ’’Miniature paintings ‘‘
    ’’میرا miniature بنائیں گی آپ؟‘‘
    ’’ہیلی کاپٹر میں ride دیں گے آپ؟‘‘ اس نے الٹا سوال داغا۔
    ’’افسوس! میں civilians کو ride نہیں دے سکتا۔ ‘‘ اس نے سر جھکا کرکہا ۔
    ’’افسوس! میں اتنے لمبے آدمیوں کے miniature نہیں بنا سکتی ‘‘ فوراً جواب آیا۔
    دونوں پھر سے ہنسنے لگے ۔ ٹہلتے ٹہلتے وہ ایک چکر لگا کرپھر اسی دروازے کے پاس آنکلے جہاں سے و ہ برآمدے میں نکلے تھے ۔ تا دیر وہ وہاں خاموشی سے کھڑے رہے ۔ اندر ہال سے ہنسنے بولنے کی آوازیں آرہی تھیں اور ان دونوں کے بیچ بہت بولتی ہوئی خاموشی آن ٹھہری تھی ۔
    ’’مجھے چلنا چاہیے۔‘‘ آخر ثنا نے کہا۔
    ’’پھر کب ملیں گی؟‘‘ فیصل نے بے تابی سے پوچھا۔
    ’’جب قسمت میں ہوا ۔‘‘ ثنا نے گویا بے نیازی دکھائی۔
    ’’خدا حافظ!‘‘ ثنا نے کہا۔
    ’’خدا حافظ ‘‘ فیصل نے بجھے دل سے جواب دیا ۔
    ثنا مڑ کر دروازے تک گئی تب اچانک اسے خیال آیا۔
    ’’ارے ہاں ! وہ سیلوٹ تو رہ ہی گیا۔‘‘ اس نے مڑ کر کہا۔
    فیصل جو پشت پر ہاتھ باندھے کھڑا تھا، مسکرایا، بازو سیدھے کیے ، سر اونچا کیا اور زور دار قدم فرش پر دھمک کر سیلوٹ کیا ۔ بڑی پیاری مسکراہٹ ثنا کے چہرے پر طلوع ہوئی ۔ وہ مڑی اور دروازہ کھول کر اندر چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    عطیہ نے زنیرہ کے کمرے پر دستک دی ۔ زنیرہ نے اٹھ کر دروازہ کھولا ۔
    ’’دروازہ لاک کر کے کیوں بیٹھی تھیں بیٹا ؟‘‘ عطیہ نے پوچھا ۔ جب کہ زنیرہ نے خالی خالی نظروں سے انہیں دیکھا۔
    ’’ویسے ہی لاک ہو گیا امی۔ مجھے پتا نہیں چلا۔‘‘ اس نے با ت ادھوری چھوڑ دی
    ’’آؤ کھانا کھا لو! ‘‘ عطیہ نے اس کے ماتھے پر آئے بال پیچھے کرتے ہوئے کہا ۔
    ’’آپ جائیں میں آتی ہوں ‘‘ وہ مڑتے ہوئے بولی
    ’’نہیں! تمہیں ساتھ لے کر جاؤں گی ۔ دادی انتظار میں بیٹھی ہیں ۔‘‘ انہوں نے آگے بڑھ کر اس کا بازو تھام لیا۔
    عطیہ اسے لیے ڈائننگ روم میں آئیں تو دادی نے عینک کے پیچھے سے اسے غور سے دیکھا۔
    ’’ادھر آؤ زنیرہ میرے پا س بیٹھو۔‘‘ انہوں نے اپنی ساتھ والی کرسی تھپتھپائی ۔زنیرہ خاموشی سے ان کے پاس بیٹھ گئی ۔
    ’’بڑی کم زور ہو گئی ہے، سالوں کی مریض لگتی ہے ۔‘‘وہ اس کی پلیٹ میں کھانا ڈالتے ہوئے بڑبڑانے لگیں۔
    ’’بس آپ کو پتا ہے اماں یہ آج کل کی لڑکیاں کہاں اپنے کھانے پینے کا خیال کرتی ہیں ۔‘‘ عطیہ نے سلاد کی ڈش ان کے آگے کرتے ہوئے کہا ۔
    ’’بس اب یہ جتنے دن یہاں ہے اسے خوب کھلاؤ پلاؤ ۔ ہائے ہائے مجھے تو وہ بھینس بڑی یاد آتی ہے۔ وہ ہوتی تو اس کو خوب دودھ بالائی کھلاتے۔‘‘ دادی کی گاڑی یونہی کہیں سے کہیں جا نکلتی تھی۔
    ’’لو! وہ تو جب فیصل ہاسٹل گیاتھا تب ہی بیچ دی تھی ۔ایک وہی تھا دودھ کا شوقین ۔‘‘عطیہ نے پیار سے فیصل کا نام لیا۔
    ’’اے زنیرہ کب تک ہے تو یہاں؟ کتنے دن کے لیے آئی ہو ؟‘‘ دادی نے پوچھا
    ’’رہوں گی دادی کچھ دن ۔‘‘ زنیرہ نے آہستہ سے کہا۔
    دادی کچھ دیر اسے پرسوچ نظروں سے دیکھتی رہیں پھرآگے بڑھ کر اس کا سر دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر اپنے کندھے سے لگا لیا۔
    ’’تو کیوں پریشان رہتی ہے میری بچی ؟اللہ کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں ۔ وہ دے گا تجھے اولاد۔ اس طرح دل سے لگا بیٹھے گی تو شوہر سے بھی دور ہو جائے گی۔ ‘‘ انہوں نے اس کی دل جوئی کی۔
    زنیرہ کی آنکھیں بھر آئیں ۔ کیا کہے کس فاصلے پر کھڑی تھی وہ اپنے شوہر سے اور کسی وجہ سے؟‘‘
    ’’ہر طرح کا علاج کر وا کر دیکھ لیا ۔ کبھی آئی وی ایف تو کبھی ہارمونز ، اب ریلکس کرو ۔ اللہ کرم کرے گا۔‘‘ عطیہ نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔
    زنیرہ خاموشی سے کھانا کھاتی رہی ۔ کیوں نہیں بتادیتی وہ اپنے گھر والوں کو کہ وہ عامر کو چھوڑ آئی ہے ؟ وہ اپنے آپ سے ہی پوچھتی ۔ شاید اس وجہ سے کہ وہ ان کو پریشان نہیں کرنا چاہتی ؟ شاید اس لیے کہ اس کے گھر والوں نے عامر کو عزت کے بہت اونچے درجے پر بٹھا رکھا تھا ۔ ان کی بیٹی اسے اولاد نہیں دے سکی اس نے اسے عزت سے گھر میں بسائے اور ہر طرح کا عیش فراہم کیا ۔ وہ جانتی تھی کہ اپنا کیس لڑنے کے لیے شاید اسے اپنے گھر والوں سے کوئی سپورٹ نہ ملے ۔ انہیں یہ بتانا کہ اس کا شوہر اس پر کسی دوسری عورت کو فوقیت دے رہا تھا ۔ اس کے پندار کے لیے ایک بہت بڑا تازیانہ تھا جو وہ اپنے ہاتھوں سے اپنے اوپر نہیں برسا سکتی تھی ۔ وہ گومگو کے عالم میں سب کی باتیں سنتی رہتی اور ایک ایک کی شکل دیکھتی رہتی ۔
    حمیرا اسے روز فون کرتی تھی۔ اس کی ایک ہی رٹ تھی: ’’اپنا گھر مت چھوڑو ۔واپس چلی جاؤ ‘‘
    زنیرہ نے اس کا فون اٹھانا چھوڑ دیا ۔ کمرے میں بندرہنے لگی ۔ نہ کہیں آتی جاتی ، نہ کسی آئے گئے کا سامنا کرتی ۔ عطیہ کو تشویش ہونے لگی ۔ انہوں نے کرید کرید کر پوچھنا شروع کیا ، نتیجہ یہ ہوا کی وہ ان کے پاس بیٹھنے سے بھی کترانے لگی ۔ عطیہ کا دل اسے دیکھ دیکھ کر پگھلتا تھا ۔ وہ ان کی پہلوٹھی کی اولاد تھی ۔ وہ ان عورتوں میں سے تھیں جو اپنے تواپنے، پرائے بچوں پر بھی جان چھڑکتی تھیں ۔ انہوں نے کبھی اپنے بچوں کو پھولوں کی چھڑی بھی نہ لگائی تھی ۔ زنیرہ ان کی شادی کے تین سال بعد پیدا ہو ئی تھی اور ان کی روکھی پھیکی زندگی میں بہار کا سندیسہ لائی تھی ۔ انہوں نے اسے بے حد لاڈ سے پالا تھا ۔ اس پر ذرا سی بھی آنچ برداشت نہ تھی ان کو اور صرف اسی پر کیوں ؟ اپنے تینوں بچوں کیلئے ان کایہی عالم تھا ۔ ہر ماں کا ہوتا ہے ۔ عادل سے ان کی اتنی دوستی تھی کہ وہ اپنی گرل فرینڈز سے انہیں ملوایا کرتا تھا اور فیصل، ان کا سب سے لاڈلا بچہ تھا۔ عادل کے برعکس وہ صرف پیار لیناہی نہیں جانتاتھا ، اسے پیار کرنا بھی آتا تھا ۔ جب کالج میں زنیرہ شدید بیمار ہوئی تھی تو چھٹیوں میں گھر آیا ہوا تھا ۔ اپنی ساری چھٹیاں اس نے اپنی آپی کی پٹی سے لگ کر گزار دی تھیں ۔وہ ہسپتال جاکر بیٹھا رہتا ۔ ڈاکٹروں سے اس کی طبیعت کے بارے میں معلومات لیتا اور اس کی رپورٹس ڈسکس کرتا ۔ زنیرہ کی بیماری کی سمجھ نہ آتی تھی ۔ اس کے سب ٹیسٹ کلیئر تھے ۔ ان دنوں سرور کی پریشانی کا یہ عالم تھا کہ اکثر پورا پورا دن ایک چائے کے کپ کے سوا ایک کھِیل بھی ان کے منہ میں نہ جاتی ۔ عطیہ نماز پڑھنے کھڑی ہو تیں تو آنسوؤں سے ان کا دوپٹہ بھیگ جاتا ۔ دادی لمبے لمبے سجدے کرتیں لیکن بیماری پکڑ میں نہ آتی تھی ۔ان کے جگر کا ٹکڑا ان کے سامنے گھل گھل کر ختم ہورہا تھا۔
    پھر اللہ نے ایک فرشتہ بھیجا۔ اس کی دوست حمیرا سید خاندان سے تھی ۔ نیکوکاروں ، بزرگوں اور ، اولیاء کا خاندان اور وہ اپنی امی کے ساتھ زنیرہ کا حال پوچھنے آئی ۔ اس کا حال تھا ہی کیا جو پوچھا جاتا؟ انہوں نے عطیہ اور سرور سے التجا کی:
    ’’پتا نہیں آپ لوگ ان چیزوں کو مانتے ہیں یا نہیں لیکن ہر طرح کا علاج آپ کروا چکے ہیں۔ علاج ضرور جاری رکھیے لیکن ایک دفعہ میرے ساتھ چل کر سید صاحب سے ضرور مل لیجئے ۔ میرے سسر کے بھائی ہیں ، نیک بزرگ ہیں ۔ شاید اللہ ان کی دعا میں برکت ڈال دے ۔‘‘
    ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ،عطیہ زنیرہ کو سید صاحب کے پاس لے گئیں ۔انہوں نے زنیرہ پر دم کیا اور پنج وقتہ نماز کے ساتھ نظرکی دعا پڑھنے کی تاکید کی ۔ خوراک میں کچھ احتیاط بتائی اور صبر کے ساتھ علاج جاری رکھنے کو کہا ۔
    الگے ہی دن زنیرہ کی طبیعت سنبھلنے لگی ۔ ماں باپ کے لیے یہ معجزہ تھا ۔ انہوں نے کبھی دم درود ، جھاڑ پھونک پر یقین نہ کیا تھا۔ اب اپنی اولاد کے لیے ہر جگہ ٹکریں مارتے رہے تھے ۔سید صاحب کے لیے ان کی شکر گزاری کی کوئی انتہا نہ تھی۔ دو تین مرتبہ وہ مزید ان کے پاس گئے۔ حتیٰ کہ زنیرہ مکمل طور پر صحت مند ہو گئی اور کالج جانے لگی ۔آہستہ آہستہ وقت نے ان کرب ناک یادوں کو دھندلا دیا۔
    عطیہ زنیرہ کو یوں گھلتے دیکھتی تھیں تو ان کا کلیجہ منہ کو آتا تھا ۔ وہ اس کی اداسی اور ڈپریشن کو اولاد سے محرومی کے دکھ کے کھاتے میں ڈالتی تھیں اور یہ وہ چیز نہیں تھی جو وہ اسے کہیں سے بھی لا دیتیں ۔
    بڑے دنوں بعد زنیرہ لاؤنج میں آکر ان کے پاس بیٹھی تھی تو عطیہ کھل اٹھیں ۔ فوراً ملازم کو چائے کا آ رڈر دیا ۔ سموسے لاؤ، رول فرائی کرو، وہ کیک بھی پڑا ہے فریج میں ۔۔۔
    ’’امی ! میں نے کل سید صاحب کو خواب میں دیکھا۔‘‘ زنیرہ نے ان کی بات کاٹ دی ۔
    ’’ کیا دیکھا ؟‘‘ عطیہ جہاں تھی وہاں رک گئیں۔
    ’’ میں نے دیکھا کہ وہ صحن دھو رہے ہیں۔‘‘ زنیرہ نے کچھ الجھے ہوئے انداز میں کہا تو عطیہ اور سرور نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔
    ’’ہمیں ان سے ملنا چاہیے ۔ ‘‘ عطیہ نے کہا ۔
    ’’ چلو میں لے چلتا ہوں ۔‘‘ سرور نے اس کا چہرہ پڑھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
    ’’ نہیں ابو! میں ان کے پاس اکیلے جانا چاہتی ہوں۔‘‘ زنیرہ نے اپنی بجھی ہوئی آنکھیں جھکا لیں۔
    عطیہ نے آنکھوں ہی آنکھوں میں سرور کو اشارہ کیا ۔ یہ ان کی چھوٹی سی بیٹی نہیں تھی جسے وہ ہاتھوں پر اٹھائے پھرتے تھے ۔ وہ اب خود مختار عورت تھی۔ اب اس کے معاملات میں دخل اندازی کرنا کرنا مناسب نہیں تھا۔
    ’’ ٹھیک ہے بیٹا جیسے تمہارا دل چاہے ۔ آج تو گاڑی فارٖغ نہیں ہے۔دادی کو ڈاکٹر کے پاس لے کر جانا ہے ۔کل فیصل آ رہا ہے، تم چاہو تو اس کے ساتھ چلی جانا ورنہ خود ہی ہو آنا۔‘‘عطیہ نے تسلی دینے والے انداز میں کہا۔
    اگلے دن فیصل آیا تو ایک نئی خبر لایا۔
    ’’آپی میں آپ کے گھر سے ہوتا ہوا آرہا ہوں ، عامر بھائی سے کام تھا مجھے۔ وہ تو بڑے سخت بیمار ہیں۔‘‘
    زنیرہ خاموش رہی ۔ اس کی خاموشی کو سب نے محسوس کیا ۔
    ‘‘کیا ہوا عامر کو؟ ‘‘ عطیہ نے پوچھا
    ’’ٹائی فائیڈ!‘‘ اس نے اطلاع دی ۔
    ’’ ہائے! زنیرہ تمہیں اس نے نہیں بتایا کہ وہ اتنا بیمار ہے؟ تم یہاں سکون سے بیٹھی ہوں ۔ تمہیں فوراً اس کے پاس جانا چاہیے۔‘‘عطیہ نے بے اختیار سینے پر ہاتھ رکھا۔
    زنیرہ سر جھکائے بیٹھی رہی۔ عطیہ نے آنسوٹپ ٹپ اس کی گود میں گرتے دیکھا ۔
    ’’ زنیرہ!!!‘‘
    ان کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ جھٹکے سے اٹھی اور بھاگ کر انپے کمرے میں چلے گئی۔
    ’’فیصل!‘‘ تم آج ہی اس کو سید صاحب کے پاس لے جاؤ ۔پتا نہیں کیا بات دل میں چھپائے بیٹھی ہے۔ نہ منہ سے کچھ کہتی ہے نہ دل کا حال بتاتی ہے ‘‘۔انہوں نے ہول کر کہا۔
    فیصل بھی تشویش سے زنیرہ کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھتا رہا ۔
    ’’ میں بات کرنے کی کوشش کرتا رہا ہوں ۔ آپ فکر نہ کریں ‘‘۔اس نے انہیں تسلی دی۔
    ٭…٭…٭




  • اردو سے پرہیز کریں — نوید اکرم

    اردو سے پرہیز کریں۔ انگریزی لکھیں، انگریزی پڑھیں۔ انگریزی سنیں، انگریزی بولیں، انگریز بنیں، ترقی کریں۔ یہ نعرہ ہے ہمارے انگلش میڈیم نجی تعلیمی اداروں کا اور غلامانہ ذہن کے پڑھے لکھے لوگوں کا اور دیکھا جائے تو یہ کسی حد تک صحیح بھی ہے کیوں کہ انگریزی لکھنے پڑھنے کے اتنے فوائد ہیں کہ میں آپ کو کیا کیا بتاؤں اور اردو لکھنے پڑھنے کے اتنے نقصانات کہ توبہ توبہ۔ توآئیے، بچوں کو انگریزی کے فوائد سے بہرہ ور کرنے اور اردو کے نقصانات سے محفوظ رکھنے کے لئے عام طور پر کی جانے والی کوششوں پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔
    ہمارے ہاں اپنی زبان بولنا اچھی خاصی باعثِ شرم بات ہے اور غیروں کی زبان بولنا باعثِ فخر۔ یہی وجہ ہے کہ والدین اپنے بچوں کی انگریزی پر غیر معمولی توجہ دیتے ہیں اور اس کا آغاز ہوتا ہے اپنے آپ کو امی ابو کی بجائے ماما پاپا کہلوانے سے۔ اب اردو پر عبور رکھنے والے تو ماما ‘ملازمہ’ یا ‘ماموں’ کو بھی کہتے ہیں اور جہاں تک پاپا کا تعلق ہے تو لسّی اور چائے کے ساتھ پنجابی زبان والے پاپے یعنی رس کھانے کا اپنا ہی مزہ ہے مگر یہ چوں کہ اپنی قومی اور مادری زبانیں ہیں، اور مہذب کہلانے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ان سے دور رہیں اس لئے ہمیں چاہیے کہ ماما اور پاپا کے ان مطالب پر بالکل دھیان نہ دیں اور اپنے آپ کو امی ابو کی بجائے ماما پاپا ہی کہلوائیں۔ بلکہ میں تو کہوں گا کہ ہم بہت بڑی غلطی کرتے ہیں جو اپنے بچوں کے نام اردو اور عربی میں رکھ دیتے ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ نام کا انسان کی شخصیت پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ ابھی تک مجھے اس بات کی سچائی کے شواہد تو نہیں ملے لیکن اگر خدا نہ خواستہ یہ بات درست ہوئی تو اردو کے نام بچوں کے لئے انتہائی مضر ثابت ہو سکتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں بچوں کے نام بھی انگریزی میں ہی رکھنے چاہئیں مثلاً یوسف کی جگہ جوزف (Joseph)، آفتاب کی جگہ سن (Sun)، اختر کی جگہ سٹار (Star)، نوید کی جگہ گڈ نیوز (Good News)، فرحت کی جگہ ہیپی نیس (Happiness)اور صبا کی جگہ بریز (Breeze) وغیرہ وغیرہ۔
    "ماما پاپا” سکھانے کے بعد اگلی باری آتی ہے بچوں کودیگر الفاظ اور جملے سکھانے کی۔ یہ الفاظ اور جملے بچوں کی زبان کی بنیاد ہوتے ہیں اور اگر یہ بنیاد اردو میں ڈال دی جائے تو خطرہ ہے کہ بچوں کو ساری زندگی اردو بولنے کی گندی عادت پڑی رہے گی۔ جہاں تک انگریزی کا تعلق ہے تو پورے پورے جملے تو شاذ ہی کسی کو آتے ہیں لہٰذا صرف اسم اور بعض اوقات افعال بھی انگریزی کے لے لئے جاتے ہیں اور جملے کی ساخت اردو کی ہی رکھی جاتی ہے۔ چناں چہ اب بچوں کو جوتے نہیں بلکہ شوز (Shoes) پہنائے جاتے ہیں۔ ان کے کپڑے نہیں ، ڈریسز (Dresses) ہوتے ہیں۔ ان کے چہرے پر ناک اور آنکھیں نہیں بلکہ فیس (Face) پر نوز (Nose) اورآئیز (Eyes) ہوتی ہیں۔ وہ ہاتھ نہیں دھوتے بلکہ ہینڈز (Hands) واش (Wash) کرتے ہیں۔ چڑیا نہیں اڑتی بلکہ سپارو (Sparrow) فلائی (Fly) کرتی ہے اور بچے کتابیں پڑھنے کی بجائے بکس (Books) ریڈ (Read) کرتے ہیں۔الغرض بچوں کو اردو سے دور رکھنے کی ازحد کوشش کی جاتی ہے، اور کرنی بھی چاہیے کہ یہ بچوں کے مستقبل کا سوال ہے اور اپنی زبان سکھا کر بچوں کا مستقبل خراب تھوڑی کرنا ہے۔
    آئیے اب ہم ایک نظر انتہائی اہم چیز یعنی بچوں کے سکول پر ڈالتے ہیں۔ بچوں کو اعلی معیار کی تعلیم دلوانے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں انگلش میڈیم سکول میں داخل کرایا جائے۔ اردو میڈیم سکول میں چوں کہ اردو کا راج ہوتا ہے اور بچے انگریزی کی بہ جائے اردو لکھنے اور بولنے لگتے ہیں، اس لئے ایسے سکول میں داخل کرانا بچوں کے مستقبل سے کھیلنے کے مترادف ہے۔ انگلش میڈیم سکول کے نام سے بہ ظاہر یوں لگتا ہے کہ اس میں پڑھنے والوں کی انگریزی اچھی ہوتی ہوگی۔ یہ بات کسی حد تک درست بھی ہے مگر یہ سکول انگریزی اچھی کرنے سے زیادہ اس بات پر توجہ دیتے ہیں کہ کہیں ہمارے طالب علموں کی اردو بہتر نہ ہو جائے۔ اس مقصد کے لیے سب سے پہلا کام یہ کیا جاتا ہے کہ سکول والے انتہائی کم تنخواہوں میں ایسی اُستانیاں رکھتے ہیں، جو خود اردو سے نابلد ہوتی ہیں۔ ایک دفعہ میں نے اپنے بھتیجے کی اردو کی کاپی دیکھی تو اس کی استانی نے ایسے رسم الخط میں ا، ب لکھی ہوئی تھی کہ محسوس ہوتا تھا کہ یہ کسی انسان نے نہیں بلکہ روبوٹ نے لکھی ہوئی ہے اور وہ بھی ایسے روبوٹ نے جس میں خطِ مستقیم کے علاوہ کوئی اور خط کھینچنے کی صلاحیت ہی نہیں ہے۔ اب جب استانیاں ہی ایسی ہوں گی تو بچوں کا کیا حال ہوگا، اس کا ادراک ہر ذی شعور انسان بآسانی کر سکتا ہے۔
    دوسرا کام ان سکولوں میں یہ کیا جاتا ہے کہ بچوں کو گنتی بھی اردو میں نہیں سکھائی جاتی کہ کہیں بچے عام دکانداروں اور ریڑھی والوں سے سودے بازی کرنے اور سودا سلف خریدنے کے قابل نہ ہو جائیں۔ سکول کے زمانے کی بات ہے کہ میری ایک عزیزہ نے مجھ سے میرے نمبر پوچھے۔ میں نے جواب دیا تین سو چونتیس۔ ان کا آگے سے سوال تھا کہ چونتیس کتنے ہوتے ہیں؟ پہلے تو میں ہکا بکا رہ گیا کہ بی اے کی طالبہ مجھ سے نرسری کے بچوں والا سوال کیوں کر رہی ہیں مگر پھر سارا ماجرا سمجھ آنے پر انہیں بتایا کہ چونتیس اپنی قومی زبان میں تھرٹی فور(Thirty Four) کو کہتے ہیں۔ ان موصوفہ کی طرح بعد میں اور بھی لوگوں سے پتا چلا کہ انہیں اردو میں گنتی صرف تیس تک آتی ہے۔ معلوم یہ ہوا کہ یہ انگلش میڈیم سکول اردو میں گنتی صرف تیس تک ہی سکھاتے ہیں۔ اس میں چھپی حکمت تو مجھے آج تک معلوم نہیں ہوسکی، لیکن اگر تیس تک گنتی سکھانے کی تکلیف بھی نہ کی جائے تو میرے خیال میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ آخر یہ غیروں کی زبان تھوڑی ہے جو ہم اس میں گنتی بھی سیکھیں۔ یہ تو اپنی زبان ہے اور اپنی زبان سیکھنا خالہ جی کا گھر تو ہے نہیں۔ فضول میں بچوں کو مشقّت میں ڈالنے کا کیا فائدہ۔
    اگلی اور سب سے اہم خاصیت ان سکولوں کی یہ ہے کہ ان کی انگریزی کی کتابیں تو بالکل انگریزوں والی ہوتی ہیں مگر اردو جیسی مشکل زبان کی کتابیں انتہائی آسان رکھی جاتی ہیں تاکہ بچوں پر اجنبی زبان سیکھتے وقت بوجھ نہ پڑے۔ بچوں کو انگریزی کی کتابیں پڑھا پڑھا کر اور اردو سے بے اعتنائی برت برت کر بچوں کو ایسا بنا دیا جاتا ہے کہ انہیں اردو کے مقابلے میں انگلش لکھنا، پڑھنا، سننا اور بولنا آسان لگنے لگتا ہے۔یہ چیزروشن مستقبل کی راہ میں انتہائی اہم سنگ میل ہے۔ اس سے بچوں کو مغربی تہذیب کے قریب جانے اور مشرقی تہذیب سے دور ہونے میں بہت مدد ملتی ہے۔ وہ ساری زندگی انگریزوں کو ہی سنتے ہیں، انگریزوں کو ہی پڑھتے ہیں، انہی کو درست سمجھتے ہیں اور انہی کو اپنا آئیڈیل بناتے ہیں۔ اس طرح انگریزوں جیسا بننے میں کافی آسانی ہو جاتی ہے۔ اگر بچوں کو انگریزی کے ساتھ ساتھ اردو بھی سکھا دی جائے اور انہیں اردو لکھنا پڑھنا بھی آسان لگے تو وہ علامہ اقبال، اشفاق احمد، واصف علی واصف، قدرت اللہ شہاب، بانو قدسیہ، عمیرہ احمد اور دیگر مصنفین کو پڑھنے کے قابل ہو جائیں گے۔ اور جب وہ ان سب لوگوں کو پڑھیں گے تو ذرا سوچیں کہ ان کے لئے اپنی تہذیب کو چھوڑ کر مغربی تہذیب کو اپنانا کتنا مشکل ہو جائے گا۔ لہٰذا عقلمندی کا تقاضا یہی ہے کہ بچوں کو اردو سے دور ہی رکھا جائے۔اس کے علاوہ ایک اور چیز جس کی وجہ سے اردو سے پرہیز رکھا جاتا ہے وہ یہ ہے کہ اردو میں دینی علم کا وسیع ذخیرہ موجود ہے۔ مزید یہ کہ اردو جاننے والوں کے لئے عربی سیکھنا بھی نسبتا آسان ہو جاتا ہے جس سے انسان قرآن پاک بھی بآسانی سے سمجھ سکتا ہے۔ چناں چہ اگر بچوں کو اردو آسان لگتی ہو تو وہ دینی علم بآسانی حاصل کرسکتے ہیں اور یوں اس بات کا خدشہ ہوتا ہے کہ کہیں وہ دنیا کو چھوڑ کر اپنی آخرت بنانے میں نہ لگ جائیں۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ انہیں اردو مشکل ہی لگتی رہے۔ نہ رہے گا بانس، نہ بجے گی بانسری۔




  • داستانِ محبت — سارہ قیوم (حصّہ اوّل)

    داستانِ محبت — سارہ قیوم (حصّہ اوّل)

    پس لفظ
    سارہ قیوم

    یہ فیصل کی کہانی ہے۔ اس کہانی میں نہ ڈرامائی موڑ ہیں، نہ سازشیں، نہ ہی کوئی ولن ہے۔ بس ایک ہنستا کھیلتا زندگی سے بھرپور ہیرو ہے اور محبت کے رنگ ہیں۔
    فیصل سے میری پہلی ملاقات تب ہوئی تھی جب وہ آٹھ سال کا تھا اور اپنی سرخ رنگ کی سائیکل پر سکول آیا جایا کرتا تھا۔ زونیرہ کالج میں میری دوست تھی۔ فیصل اس کا چھوٹا بھائی تھا اور آپ تو جانتے ہی ہیں کہ دوستوں کے چھوٹے بہن بھائی اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی طرح پیارے ہوتے ہیں۔ جب کبھی میں زونیرہ کے گھر جاتی تو میرا پہلا کام اسے Math پڑھانا ہوتا جو وہ رشوت لیے بغیر کبھی نہ پڑھتا۔ ہم اس سے کبھی چپس اور بوتلیں منگواتے کبھی ویڈیو فلمز اور وہ اپنی عزیز سرخ سائیکل پر ہمارے کاموں کے لیے بھاگتا پھرتا۔ میں وہ آپا تھی جو زونیرہ کی طرح اسے اپنا بیٹا کہتی تھی۔ زونیرہ کی شادی پر اس نے میرے ساتھ رقص کیا کیوں کہ باقی تمام لڑکیوں سے اسے شرم آتی تھی۔ میرے بچوں کے لیے وہ فیصل ماموں تھا جس کی پی ایم اے سے بھیجی گئی تصویریں وہ بڑے شوق سے دیکھتے تھے۔
    ثنا سے شادی اس نے بہت ضد سے کی۔ شادی پر وہ بہت خوش تھا۔ ثنا بے حد حسین لگ رہی تھی۔ میں نے اسے اتنا حسین لگتے دو موقعوں پر دیکھا۔ ایک جب وہ دلہن بنی، دوسرا جب وہ بیوہ ہوئی۔ سن رکھا تھا کہ دولہنا پے کے روپ کی طرح بیوگی کا بھی روپ ہوتا ہے۔ ثنا کو دیکھ کر یقین آگیا۔ جب اسے نیم بے ہوش حالت میں فیصل کے جنازے کے پاس بٹھایا گیا تو اس پر اسقدر روپ تھا کہ نظر نہ ہٹتی تھی۔ فیصل کی شہادت کے چار مہینے بعد اس کے گھر بیٹی پیدا ہوئی۔ جب ثنا کو لیبر روم لے جایا رہا تھا تو اس نے چپکے سے ڈاکٹر کا ہاتھ پکڑ لیا۔ ’’وہ مجھے لینے آئے گا‘‘ اس نے سرگوشی میں کہا۔ ’’کون؟‘‘ ڈاکٹر نے حیران ہوکر پوچھا۔ ’’فیصل‘‘ ثنا نے بچوں کی سی ایکسائٹمنٹ سے کہا۔
    ڈاکٹر نے شفقت سے اس کا ہاتھ تھپکا ’’فکر مت کرو۔ ایسا کچھ نہیں ہوگا۔‘‘
    ’’نہیں۔ وہ آئے گا‘‘ ثنا نے اصرار کیا ’’اس نے وعدہ کیا تھا کہ مجھ سے کبھی جدا نہیں ہوگا۔ میری آپ سے التجا ہے کہ جب ایسا ہو، تو مجھے روکیے گا مت، جانے دیجئے گا۔‘‘
    ڈاکٹر نے اپنے آنسو چھپانے کے لیے منہ پھیر لیا۔
    فیصل ثنا کو لینے نہیں آیا۔ بیوگی کے چار مہینے ثنا نے جس آس کے سہارے گزارے تھے۔ وہ ٹوٹ گئی۔ آج جب میں یہ سطور لکھ رہی ہوں تو میرے پاس وہ الفاظ نہیں جو میں ثنا کا غم، اس کا کرب بیان کرنے کے لیے لکھ سکوں۔ کیا آنسو وہ لفظ ہے جو اس درد کو بیان کرے جو اس کی آنکھوں سے ٹپکتا تھا؟ کیا حزن اس کیفیت کے نام کے لیے کافی ہے جو اس کے چہرے پر رقم تھی؟ کیا وہ کپکپاہٹ تھی جو اس کے ہاتھوں میں تھی؟ کیا وہ چیخیں تھیں جو اس کے سینے میں گھٹ رہی تھیں؟ یہ تمام الفاظ بہت چھوٹے ہیں، بہت کم ہیں۔
    بچپن میں فیصل کی کلاس میں ایک لڑکی پڑھتی تھی جسے وہ چپکے چپکے بہت پسند کرتا تھا۔ ہنی مون پر اس نے ثنا کو اس کے بارے میں بتایا ’’بڑی پیاری تھی عائلہ‘‘ فیصل نے معصومیت سے ثنا کو بتایا ’’اگر تم مجھے نہ ملتیں تو میں کسی طرح عائلہ کو ڈھونڈ ڈھانڈ کے اسی سے شادی کرتا۔‘‘ اس وقت ثنا اس سے خفا ہوگئی۔ بھلا ہنی مون پر بھی کوئی اپنے بچپن کی محبت کا ذکر کرتا ہے؟ لیکن جب فیصل کی بیٹی اس کی گود میں آئی تو اس نے اس کا نام عائلہ رکھا۔
    آج عائلہ دس سال کی ہے۔ ہوبہو فیصل کی تصویر۔ وہی صورت، وہی دراز قد، ویسی ہی سبز آنکھیں اور وہی ان میں ناچتی شرارت۔ ثنا آج بھی اتنی ہی حسین ہے، صرف اس کی آنکھوں میں جوت نہیں ہلو کرتی تھی۔ عادل نے آج بھی شادی نہیں کی۔ زونیرہ آج بھی بے اولا ہے۔ وہ فیصل کو اپنا بیٹا کہتی تھی۔ فیصل کے بعد وہ اس رشتے سے اس قدر ڈر گئی کہ کسی کے ننھے ہاتھوں میں اپنا دل اور اپنے ہاتھ نہ دے سکی۔ یہ ہاتھ جب ہاتھوں سے چُھٹ جاتے ہیں تو کہیں کا نہیں چھوڑتے۔
    فیصل کے کمرے میں اس کی ایک بڑی سی تصویر لگی ہے۔ اس کے خوبصورت چہرے کا کلوز اپ اس کی سبز آنکھیں مسکرا رہی ہیں۔ باتیں کرتے کرتے جب ثنا کی نظر اس تصویر پر پڑتی ہے تو خاموش ہوجاتی ہے۔ کیا کہہ رہی تھی، بھول جاتی ہے اور فیصل کی تصویر کو دیکھنے لگتی ہے۔ اس کی آنکھوں میں کوئی جگنو سا چمکتا ہے، اور وہ نظریں جھکا لیتی ہے اور اگر کبھی وہ نظریں اٹھالے تو ان آنکھوں میں دیکھنے کی تاب میں خود میں نہیں پاتی۔ وہ آنکھیں مجھ سے سوال کرتی ہیں ’’میرے محبوب نے تمہارے لیے جان دی۔ تاکہ تمہارے سہاگ سلامت رہیں اور تمہارے بچے کسی غم کی آگ میں نہ جھلسیں۔ تم نے اس کے صلے میں کیا کیا؟‘‘
    میرے پیارے فیصل، میرے بیٹے، یہ کہانی تمہاری خوب صورت یاد کو زندہ کرنے کی ایک چھوٹی سی کوشش ہے۔ نہ میں تمہارے عظیم کردار کا احاطہ کرسکی۔ نہ تمہاری بے مثال قربانی کا۔ مگر وہ جو ایک پہاڑ سا قرض تمہارے ایثار کا مجھ پر واجب تھا، اس کا ایک چھوٹا سا حصہ اس کہانی کی صورت میں نے ادا کردیا۔
    ٭…٭…٭




  • تھالی کا بینگن — کرشن چندر

    تو جناب جب میرم پور میں بھی میرا دھندا کسی طرح سے نہ چلا فاقے پر فاقے ہونے لگے اور جیب میں آخری اٹھنی رہ گئی تو میں اپنی بیوی سے پوچھا ’’گھر میں تھوڑا سا آٹا بھی نہیں ہے کیا؟‘‘
    وہ نیک بخت بولی ’’چار چپاتی کا ہوگا۔‘‘
    میں نے جیب سے آخری اٹھنی نکال کر اسے دیتے ہوئے کہا: ’’جابازار سے بینگن لے آ آج چپاتی کے ساتھ بینگن کی بھاجی کھالیں گے۔‘‘ وہ نیک بخت بہت فکر مند ہوکر بولی ’’اس وقت تو کھالیں گے، شام کے کھانے کا کیا ہوگیا؟‘‘
    ’’تو فکر نہ کر وہ اوپر والا دے گا۔‘‘ میں نے کہا۔ پھر میری نظر شیشے کے اس بکس پر پڑی جس میں چھوٹا سا تاج محل رکھا ہوا تھا۔ یہ تاج محل میں نے اپنی بیوی کے لیے نئی نئی شادی کے دنوں میں آگرہ میں خریدا تھا اور تاج محل کو دیکھ کر ہی خریدا تھا۔ محبت بھی کیا چیز ہے اس بیس روپے کے تحفے کو پاکر میری بیوی کا چاند سا مکھڑا گلابی ہوگیا تھا۔
    اس وقت جب میں نے اس شیشے کے تاج محل کو دیکھ کر کہا: ’’کچھ نہ ہوا تو اس کھلونے کو بیچ دیں گے۔‘‘ تو جناب اس کا چہرہ ایسا پیلا پڑ گیا ہے جیسے کسی نے یکایک اس کے چہرے کا سارا خون کھینچ لیا، وہ غصے، خوف، مجبوری اور ناامیدی کے ملے جلے جذبات سے لرزتی ہوئی آواز میں بولی: ’’نہیں میں اسے بیچنے نہ دوں گی یہ تو…… یہ تو میرے سہاگ کی نشانی ہے۔‘‘
    میں نے اس کے غصے کو ٹھنڈا کرتے ہوئے بہت نرمی سے کہا ’’اچھا نہیں بیچیں گے اسے، کچھ اور بیچ دیں گے ہوسکتا ہے وہ اوپر والا کوئی سبیل پیدا کردے تو اس وقت جاکر بینگن تولے آبھوک سے مرا جارہا ہوں۔‘‘
    وہ بازار سے بینگن لے کر آئی رسوئی میں بیٹھ کر اور سامنے لکڑی کے چھوٹے سے پڑے پر رکھ کر اس نے پہلا بینگن کاٹا ہی تھا کہ اسے اندر سے دیکھ کر ٹھٹک گئی ’’ارے!‘‘ اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
    ’’کیا ہے؟‘‘ میں رسوئی کے اندر گیا اس نے مجھے کٹا ہوا بینگن دیکھایا ’’دیکھو تو اس اندر کیا لکھا ہے؟‘‘
    میں نے غور سے بینگن کو دیکھا۔ بینگن کے اندر بینگن کے بیچ کچھ اس طرح ایک دوسرے سے جڑ گئے تھے کہ لفظ اللہ صاف دکھائی دے رہا تھا۔
    ’’ہے بھگوان‘‘





    میں نے اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر کہا ’’یہ تو مسلمانوں کا اللہ ہے۔‘‘
    محلہ پور بیاں جہاں میں رہتا تھا Mixed محلہ ہے یعنی آدھی آبادی ہندوؤں کی ہے آدھی مسلمانوں کی لوگ جوق درجوق اس بینگن کو دیکھنے کے لئے آنے لگے۔ ہندوؤں اور کرسٹانوں کو تو اس بینگن پر یقین نہ آیا لیکن حاجی میاں اچھن اس پر ایمان لے آئے۔ پہلے نذر و نیاز انہوں نے ہی دی۔ میں نے اس کٹے ہوئے بینگن کو اس شیشے کے بکس میں رکھ دیا جس میں تاج محل رکھا تھا۔ تھوڑی دیر میں ایک مسلمان نے اس کے نیچے ہرا کپڑا بچھا دیا اور منن میاں تمباکو والے نے قرآن خوانی شروع کردی۔ پھر تو کیا تھا شہر کے سارے مسلمانوں میں اس بینگن کا چرچا شروع ہوگیا۔ جناب سمتی پورہ سے میمن پورہ تک اور بیجواڑے سے کمانی گڑھ تک اور ادھر ٹیلا میاں کے چوک سے لے کر محلہ کوٹھیاراں تک سے لوگ ہمارے بینگن کو دیکھنے کے لیے آنے لگے۔ لوگ باگ بولے ایک کافر کے گھر میں ایمان نے اپنا جلوہ دکھایا۔ نذر نیاز بڑھتی گئی۔ پہلے پندرہ دنوں میں سات ہزار سے اوپر وصول ہوگئے جس میں سے تین سو روپے سائیں کرم شاہ کو دیئے جو چرس کا دم لگا کر ہر وقت اس بینگن کی نگرانی کرتا تھا۔
    پندرہ بیس دن کے بعد جب لوگوں کا جوشِ ایمان ٹھنڈا پڑتا دکھائی دیا تو ایک رات جب سائیں چرس کا دم لگا کر بے سُدھ پڑا تھا میں نے آہستہ سے اپنی بیوی کو جگایا اور کٹے ہوئے بینگن کے اوپر سے شیشے کا بکس ہٹا کر کہا دیکھو کیا دکھائی دیتا ہے وہ بولی: ’’اللہ‘‘ میں نے کٹے ہوئے بینگن کا رُخ ذرا سا سرکایا اور پوچھا اب کیا دکھائی دیتا ہے۔
    ’’اوم۔‘‘ ’’ارے یہ تو اوم ہے۔‘‘ میری بیوی نے انگلی ٹھوڑی پر رکھ لی سارے چہرے پر استعجاب تھا۔
    راتوں رات میں نے پنڈت رام دیال کا دروازہ کھٹکھٹایا اور اسے بلا کر کٹے ہوئے بینگن کا بدلا ہوا رُخ دکھایا۔ پنڈت دیال نے چیخ کر کہا: ’’ارے یہ تو اوم ہے۔ اتنے دنوں تک مسلمان ہمیں دھوکا دیتے رہے۔‘‘
    اس کی چیخ سُن کرسائیں کرم شاہ جاگ گیا۔ اس کی کچھ سمجھ میں نہ آرہا تھا۔ یہ کیا ہورہا ہے۔ وہ پھٹی پھٹی سُرخ آنکھوں سے ہماری طرف دیکھ رہا تھا۔ پنڈت رام دیال نے اسے لات مار کرکہا: ’’نکل بے ہمارا دھرم بھر شٹ کرتا ہے اوم کو اللہ بتاتا ہے۔‘‘
    بس پھر کیا تھا سارے شہر میں یہ خبر آگ کی طرح پھیل گئی کہ کٹے ہوئے بینگن کے اندر دراصل ’’اوم‘‘ کا نام کھدا ہوا ہے۔ پنڈت رام دیال نے چارج لے لیا۔ رات دن آرتی ہونے لگی۔ بھجن گائے جانے لگے چڑھاوا چڑھنے لگا۔۔ میں نے رام دیال کا حصہ بھی رکھ دیا تھا کہ جو محنت کرکے اسے بھی اس کا پھل ملنا چاہیے، لیکن بینگن پر ملکیت میری ہی رہی۔ اب شہر کے بڑے بڑے مست جوگی اور سدھا مہاتما اور سوامی اس بینگن کو دیکھنے کے لیے آنے لگے جہاں اللہ نے اوم بن کر اس کٹے ہوئے بینگن میں گویا مسلمانوں کو شکست دی تھی اور پانی پت کی تینوں لڑائیوں کا بدلہ چکا دیا تھا۔ شہر میں جابجا لیکچر ہورہے تھے۔ ہندودھرم کی فضیلت پر دھواں دھار بھاشن دیئے جارہے تھے۔ شہر میں تناؤ کی سی کیفیت پیدا ہوگئی تھی۔ ہندو کہتے تھے۔ یہ اوم ہے مسلمان کہتے تھے یہ اللہ ہے۔
    اوم!
    اللہ!
    ہری اوم تت ست۔ اللہ اکبر۔ اگلے پچیس دنوں میں کوئی پندرہ ہزار کا چڑھاوا چڑھا اور سونے کی انگوٹھیاں اور ایک سونے کا کنگن بھی ہاتھ آیا۔ لیکن آہستہ آہستہ لوگوں کا خمار پھر ڈھلنے لگا۔ تو جناب میں نے سوچا اب کوئی اور ترکیب لڑانی چاہیے۔ سوچ سوچ کر جب ایک رات پنڈت رام دیال بھنگ کے نشے میں دھت فرش پر لیٹے ہوئے تھے میں نے اپنی بیوی کو جگا کر کہا: ’’نیک بخت دیکھو اس شیشے کے بکس کے اندر کٹے ہوئے بینگن کے اندر تمہیں کیا دکھائی دیتا ہے؟‘‘
    ’’ہے صاف اوم ہے۔‘‘
    میں نے اوم کا زاویہ ذرا سا اور سرکا دیا اور پوچھا۔ ’’اب کیا دکھائی دیتا ہے۔‘‘ وہ دیکھ کر گھبرا کر منہ میں انگلیاں ڈال کر بولی: ’’ہے رام یہ تو کراس + ہے کرسٹانوں کی صلیب ہے۔‘‘
    ’’شش۔‘‘ میں نے اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے کہا۔ ’’بس کسی سے کچھ نہ کہنا صبح تک چپ رہنا ہوگا۔ کل اتوار ہے کل صبح میں پادری ڈیورنیڈ سے ملوں گا۔‘‘
    کٹے ہوئے بینگن میں مسیحی صلیب + کو دیکھنے کے لیے پادری ڈیورینڈ اپنے ساتھ گیا وہ عیسائیوں کو لے کر آئے اور بینگن کی صلیب دیکھ کر اپنے سینے پر کراس بنانے لگے اور عیسائیوں کے بھجن گانے لگے اور سر پر جالی اور رومالی اوڑھے خوب صورت فراک پہنے سول پنڈویلوں والی عورتیں اس معجزے کو دیکھ کر نہال ہوتی گئیں۔
    شہر میں تناؤ اور بھی بڑھ گیا۔ ہندو کہتے تھے اس بینگن پر اوم ہے، مسلمان کہتے تھے اللہ ہے، عیسائی کہتے تھے صلیب ہے، بڑھتے بڑھتے ایک دوسرے پر پتھر پھینکے جانے لگے۔ اِکادُکا چھرے بازی کی وارداتیں ہونے لگیں سمتی پورہ میں دو ہندو مار ڈالے گئے اور مستری محلے میں تین مسلمان۔ ایک عیسائی شہر کے بڑے چوک میں ہلاک کردیا گیا۔ شہر میں دفعہ 134 نافذ کردی گئی۔
    جس دن میری گرفتاری عمل میں آنے والی تھی۔ اس سے پہلے دن کی رات میں نے بینگن کوموری میں پھینک دیا گھر کا سارا سامان باندھ لیا اور بیوی سے کہا: ’’کسی دوسرے شہر میں چل کر دوسرا دھندا کریں گے۔‘‘
    تو جناب تب سے میں بمبئی میں ہوں۔ میرم پور کے ان دو مہینوں میں جو رقم میں نے کمائی تھی۔ اس سے ایک ٹیکسی خریدلی ہے۔ اب چار سال سے اس ٹیکسی کو چلاتا ہوں اور ایماں داری کی روزی کھاتا ہوں۔ اتنا کہہ کر میں نے ٹیکسی بار کی میز سے اپنا گلاس اٹھایا اور آخری گھونٹ لے کر اسے خالی کردیا۔
    یکایک میری نگاہ میز کی اس طرح پر گئی جہاں میرے گلاس کے شیشے میں پیندے نے ایک گیلا نشان بنایا تھا۔ میں نے اپنے دوسرے ساتھی ٹیکسی ڈرائیور محمد بھائی سے کہا۔
    ’’محمد بھائی دیکھو تو اس گلاس کے پیندے کے نیچے کیا نشان بن گیا ہے اوم ہے کہ اللہ ہے؟‘‘
    محمد بھائی نے غور سے نشان کو دیکھا مجھے دیکھا پھر میری پیٹھ پر زور سے ہاتھ مار کر کہا۔ ’’ابے سالے یہ بمبئی ہے یہاں نہ اللہ ہے نہ اوم اور نہ صلیب…… جو کچھ ہے روپیہ ہے بس روپیہ۔ ’’اتنا کہہ کر محمد بھائی نے میز پر ہاتھ پھیر کر پانی کی نشان کو حرفِ غلط کی طرح مٹا دیا۔




  • بنتِ حوّا — عزہ خالد

    ’’آج تو میں اس کی جان لے لوں گا… دیکھتا ہوں کون روکتا ہے مجھے…‘‘
    اظہر قہر برساتی نظروں سے گھورتا ہوا سویراکی طرف بڑھا تھا۔
    سویرا اس اچانک افتاد پر گھبرا کر اماں کی اوٹ میں چلی گئی تھی۔
    اماں نے اظہر کے غصّے کی وجہ جاننی چاہی تھی وہ ابھی گھر آیا تھا اور آتے ہی سویرا کو پکارا: ’’کیا ہوگیا…؟‘‘
    ’’یہ کالج کے بہانے گاڑیوں میں گھومتی پھرتی ہے یوں اپنی عزت کا تماشا نہیں بننے دوں گا…‘‘
    ’’یہ کیا کہہ رہا ہے تُو…؟؟‘‘
    ’’پوچھ لیجئے اس لاڈلی سے… آج کس یار کے ساتھ آئی ہے کالج سے…‘‘
    اظہر کے پاس تعلیم کے نام پر آٹھ نو جماعتیں تھیں، جو اسے نہ بولنے کا ڈھنگ سکھا سکیں نہ تمیز…
    اماں نے مُڑ کر پیچھے کھڑی سویرا کو دیکھا سویرا کا دل چاہا ایسے بے ہودہ الزام پر ڈوب مرے…
    ’’اماں میں اپنی دوست نازش کی گاڑی میں آئی تھی…
    ’’آج… وین… نہیں تھی…‘‘ تھوک نگلتے ہوئے اس نے مشکوک نظروں کا سامنا کیا۔
    ’’وہ لڑکا کون تھا… جو گاڑی چلا رہا تھا…؟‘‘
    اظہر نے کھا جانے والی نظروں سے گھورتے ہوئے پوچھا۔
    ’’وہ نازش کا… بھائی تھا…‘‘ ڈرتے ہوئے اس نے بتایا۔
    ’’دیکھ رہی ہیں… آزادی کا نتیجہ…‘‘ اظہر نے غصے سے ماں کو دیکھا۔ ’’دوستوں کے بھائیوں کے ساتھ گاڑیوں میں گھومتی پھرتی ہے…
    ’’میں… میں منع کردوں گی… سمجھا دوں گی کہ آئندہ کسی کے ساتھ نہ آئے… تو غصہ نہ کر…‘‘
    اماں نے بیٹے کا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہا۔
    ’’سمجھا دینا اسے… آئندہ اگر ایسی کوئی بات سُنی میں نے…
    تو کتابوں کو آگ لگا دوں گا… اور ٹانگیں توڑ دوں گا اس کی۔‘‘
    ’’ہاں… سمجھاتی ہوں… تو جا… جاکر کھانا کھالے… شکیلہ اظہر کو کھانا دے دے…‘‘ اماں نے بہو کو آواز دیتے ہوئے کہا۔
    ’’جی اماں…‘‘ شکیلہ کی آواز کچن سے آئی تھی وہ خود بھلے کچن میں تھی مگر اس کے کان صحن میں ہونے والی گفتگو سن رہے تھے اماں کا لیکچر شروع ہوچکا تھا۔ خاندان کی عزت، بھائیوں کی عزت… کسی غیر مرد کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھنا… یہ لیکچر گھنٹے دو گھنٹے چلنا تھا۔
    سویرا خاموشی سے سر جھکائے سُن رہی تھی، ایسے لیکچر وہ پہلے بھی کئی مرتبہ سن چکی تھی اس لیے اسے حرف حرف یاد تھا۔
    ساری پابندیاں صرف لڑکیوں کے لیے ہوتی ہیں۔





    کیوں کہ وہ خاندان کی عزت ہوتی ہیں اور انہی سے خاندان کی عزت ہوتی ہے۔
    مرد ہر قسم کی پابندی سے آزاد ہے۔
    وہ اس وقت ڈائری لیے چھت پر بیٹھی تھی۔
    چھت کے چاروں طرف سات فٹ دیوار تھی اور اس دیوار کے بننے میں اظہر کا ہی مشورہ تھا۔
    جب کبھی نیچے دم گُھٹتا تو وہ چھت پر آجاتی دیوار کے پار دیکھنا تو تقریباً ناممکن تھا۔
    وہ آسمان پر آزادی سے اُڑتے پرندوں کو ہی دیکھ کر خوش ہوجاتی تھی۔
    وہ خوش ہوتی یا اداس… فوراً کچھ لکھنے کو دل مچلنے لگتا…
    اس کی ڈائری میں پہلے بھی کئی نظمیں لکھی ہوئی تھیں جو اس کی اپنی تھیں وہ اس ڈائری کو بہت سنبھال کر رکھتی تھی…
    کاش…
    کاش میں ایک پرندہ ہوتی…
    آسمان پر پرندوں کے غول کو آزادی سے گھومتے دیکھ کر اس نے اپنی حسرتوں کو لفظوں میں کی شکل دیتے ہوئے ڈائری میں اتارا۔
    ’’میں ان فضاؤں میں آزادی سے سانس لینا چاہتی ہوں…
    ان بند دیواروں میں میرا دم گھٹتا ہے…
    سورج روز طلوع ہوتا ہے…
    پر جانے کون میرے حصے کی روشنی لے جاتا ہے…
    میں سویرا ہوں…
    ایسا سویرا… جو روشنی کو ترستا ہے…
    مجھے اندھیرے میں رکھ کر…
    سویرے کا نام دے دینا…
    ایک مذاق ہو جیسے…
    ’’سویرا… سویرا…‘‘ نیچے سے اماں کی تیز آواز پر اس نے جھنجھلائے ہوئے ڈائری بند کی۔
    ’’جی اماں‘‘ کہتی ہوئی سیڑھیاں اتری۔
    ’’کہاں تھی…؟‘‘
    ’’اوپر چھت پر…‘‘
    ’’کیوں…؟‘‘
    اس کیوں کا کیا جواب دیتی بس خاموش رہی تھی۔
    اس گھر میں کوئی رات رات بھر گھر نہ آئے تو ’’کہاں تھے…؟‘‘
    یہ کبھی نہیں پوچھا جاتا… اور اس کی چھوٹی چھوٹی حرکتوں پر نظر رکھی جاتی ہے سو سوال کیے جاتے ہیں۔
    وہ نیچے آکر بھول گئی تھی کہ وہ جلدی میں اپنی عزیز ترین دوست اپنی ڈائری اوپر چھوڑ آئی تھی۔
    اور یہی اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
    وہ ڈائری اظہر کے ہاتھ لگ گئی تھی گھر میں قیامت آگئی۔
    ’’یہ دیکھیں لاڈلی کے کارنامے… عشقیہ شعر لکھے ہوئے ہیں اس میں… کالج جاکر کتنی بے حیا ہوگئی ہے…‘‘
    اظہر کے ہاتھ میں اپنی ڈائری دیکھ کر سویرا کی جان نکل گئی تھی۔
    اس کا رنگ ایسے فق ہوگیا تھا جیسا کوئی بڑا گناہ سر زد ہوگیا ہو…
    اظہر بلند آواز میں ڈائری میں لکھی نظمیں، غزلیں اور چھوٹے بڑے پیرا گراف پڑھ رہا تھا۔
    بھابھی حیرت سے آنکھیں پھاڑے سُن رہی تھیں، اماں اسے گھور رہی تھیں اور وہ شرمندگی سے سرجھکائے کھڑی تھی۔
    ’’شاعری بھی کرتی ہے یہ… سُن رہی ہیں کیسی کیسی بکواس لکھی ہوئی ہے اس نے… اب تو میری بات مان لیں… یہ دن بہ دن بگڑتی جارہی ہے… کسی دِن کوئی چاند چڑھا دے گی… اتنی آزادی اچھی نہیں ہوتی…‘‘
    ’’آزادی… یہ آزادی ہے…؟ ایک پنچھی کے پیر باندھ کر اسے چھوڑ دیا جائے… وہ بس حسرت سے باہر کی دنیا دیکھے… اسے تو آزادی نہیں کہا جاسکتا…
    اور ہر وقت خوف کے سائے منڈلاتے رہتے تھے کہ کب کون سی بات پر پکڑ ہوجائے… حالاں کہ وہ بہت محتاط رہتی تھی کالج میں ایک دو سے زیادہ دوستیں بھی نہیں بنائی تھیں مگر پھر بھی کوئی نہ کوئی بات ایسی ہو ہی جاتی تھی…
    اور پھر اس دن کے بعد سے وہ کالج نہیں گئی۔
    پنچھی کو اٹھا کر پنجرے میں قید کردیا تھا۔
    ایک طرح سے ٹھیک ہی ہوا تھا باہر کی دنیا میں لوگوں کے ہنستے مُسکراتے چہرے دیکھ کر وہ احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتی تھی۔
    ’’اماں… اماں…‘‘ اظہر آج بہت خوش تھا
    اس کا خوش گوار موڈ دیکھ کر اماں کو حیرت ہوئی تھی…
    اس کے ہاتھ میں شاپر دیکھ کر وہ چونکیں۔ وہ شاپر ان کی طرف بڑھا رہا تھا۔
    ’’اس میں کیا ہے؟‘‘
    ’’وہ جو مین روڈ پر بڑی والی بیکری ہے نا… اس سے برفی لے کر آیا ہوں…‘‘
    اماں نے شاپر تھامتے ہوئے بڑے غور سے اسے دیکھا۔
    اس کا غصّہ اس کی بدتمیزی پورے خاندان میں مشہور تھی…
    اور کہاں یہ خوش مزاجی…؟
    ’’کس خوشی میں لایا ہے…؟‘‘
    ’’آج تیرے بیٹے نے بڑی محنت کی ہے… یہ میری محنت کی پہلی کمائی تھی تو سوچا سب کا منہ میٹھا کروا دیا جائے…‘‘




  • ادھوری زندگانی ہے — لعل خان (دوسرا اور آخری حصّہ)

    تیرہ جون بروز جمعہ (2013ء)
    صبح چھے بجے کا وقت تھاجب میرے کانوں میں مرتضیٰ کی کرخت آواز گونجی ۔
    ’’اُٹھ جا باؤ…چھوٹو کے ساتھ لگ کے کرسیاں ٹیبل باہر نکال۔‘‘
    میں نے نیم غنودگی میں سر اٹھا کر سامنے کھڑے مرتضیٰ کو دیکھا ،وہ اپنی توند کھجاتے ہوئے مجھے پاؤں کی ٹھوکر سے جگا رہا تھا۔
    ’’جی چاچا۔ ‘‘
    میں نے لمبی سی جماہی لی اور اُٹھ کر بیٹھ گیا۔ چھوٹو اکیلا بنچ گھسیٹتے ہوئے باہر نکال رہا تھا۔ مرتضیٰ مجھے گہری نیند سے اٹھانے کے بعد اب منہ ہاتھ دھونے نلکے کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے اُٹھ کر بستر کے نام پر زمین پر بچھی ایک میلی کچیلی چادر کے اندر تکیہ لپیٹا اور چھوٹو کے کپڑوں کے ساتھ پڑے اپنے بیگ کے اوپر رکھ دیا۔ پہلی بار زمین پر سویا تھا۔ کمر بری طرح دکھ رہی تھی۔ دو تین زور دار انگڑائیاں لے کر میں نے اپنے جسم کی تمام ہڈیوں کا جائزہ لیا۔ میرا دماغ اس وقت بالکل خالی تھا۔ منہ ہاتھ دھونے کے بعد میں نے چھوٹو کے ساتھ مل کر اس کٹیا کو ہوٹل کی شکل دی۔ سات بجے تک اِکا دُکا لوگ آنا شروع ہو جاتے تھے۔ آج جمعہ تھا مرتضیٰ کا حلیہ دیکھ کر لگ رہا تھا اسے دوسری نمازوں کے علاوہ نماز جمعہ سے بھی کوئی خاص دلچسپی نہیں تھی ۔
    ’’چاچا میں آج حمام پر جاؤں گا ۔مجھے کپڑے بدل کر جمعہ کی نماز ادا کرنی ہے ۔‘‘
    ’’میں بھی جاؤں گا۔‘‘
    چھوٹو میری بات سن کر جلدی سے بولا تھا۔
    ’’کوئی ضرورت نہیں تو نماز یاد تو کر لے پہلے ۔ اچھا بتا ‘جمعہ کی نماز کی کتنی رکعتیں ہوتی ہیں ؟‘‘
    مرتضیٰ اجڈ لوگوں کی طرح آنکھیں نکال کر سوال کر رہا تھا۔
    چھوٹو اٹک کر میری طرف دیکھنے لگا۔





    ’’تو اس میں اس کا کیا قصور ہے چاچا۔ اسے کوئی یاد کرواتا تو کرتا ۔ چلو آج میرے ساتھ جائے گا‘ تو کم از کم رکعتیں سیکھ ہی لے گا۔
    میں نے چھوٹو کی طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا مگر مرتضیٰ کی اگلی بات نے میری مسکراہٹ پل بھر میں غائب کر دی ۔
    ’’یہ تین دن پہلے ہو آیا ہے حمام سے ۔پتا بھی ہے کتنا خرچہ ہوتا ہے ایک بار حمام جانے سے ؟تم چلے جاؤ اکیلے ۔ مسجد جاتے وقت اسے ساتھ لے جانا۔‘‘
    میں نے دانت پر دانت جما لیے تھے ۔ میرے لیے یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ یہ حد سے زیادہ کمینہ ہے یا کنجوس ؟
    ’’جمعہ کے دن نہانا ثواب ہوتا ہے چاچا اور نہا کے جمعہ کی نماز خوش قسمت لوگ ادا کرتے ہیں۔یہ میرے ساتھ جا رہا ہے ۔اس کا آج کا خرچ تم میرے کھاتے میں لکھ دینا۔‘‘
    میں نے طنزاً کہا تھا ‘مگر وہ شرمندہ ہونے والوں میں سے نہیں تھا۔
    ’’ٹھیک ہے باؤ ۔تیرے خرچے پر روز جائے حمام ۔ مجھے کیا تکلیف ہونی ہے۔ اب جلدی کرو واپس آکے کام بھی دیکھنا ہے ۔‘‘
    ’’حمام کس طرف ہے چاچا؟‘‘
    ’’چھوٹو کو پتا ہے ۔لے جائے گاتجھے ۔‘‘
    اس نے منہ بناتے ہوئے کہا تھا۔
    میں نے چھوٹو کو اشارہ کیا ۔ اس نے اپنا اور میرا ایک ایک صاف جوڑا لیا اور چھپر سے باہر نکل کر آیا ۔
    ’’بھا جی پارک سے تھوڑا آگے چوک ہے ۔ وہاں سے دائیں طرف مُڑکر ہم حمام والی گلی میں داخل ہو جائیں گے۔
    میں نے اثبات میں سرہلایا اور چھوٹو کے ساتھ ہو لیا ۔ ہوٹل سے بیس پچیس قدم آگے نکلتے ہی ہم دائیں طرف بنی ہوئی کوٹھیوں کے سامنے سے گزر رہے تھے ۔ میرے نظروں کے سامنے کریم پیلس کا وہی بورڈ گھوم گیا جسے میں نے پارک کے بالکل سامنے چمکتے ہوئے دیکھا تھا۔ اس خیال کے آتے ہی مجھے گزشتہ شام کا وہ واقعہ بھی یاد آ گیا۔میں نے بے اختیار نظریں اُٹھا کر دور ہی سے اس کونے کو دیکھا جہاں وہ اس رات کھڑی نظر آتی رہی تھی۔ وہاں اب بھی کوئی کھڑا تھا ۔دور سے بس سایہ سا لگتا تھا ،مگر مجھے قوی یقین ہو چلا تھا کہ یہ وہی ہو گی۔ میرے اور چھوٹو کے قدم دھیرے دھیرے پارک کے قریب آتے جا رہے تھے اور اس کے ساتھ ہی وسیع و عریض کریم پیلس بھی واضح ہوتا جا رہا تھا۔ چند قد م اور چلنے کے بعد میرا یقین اور بھی پختہ ہو چکا تھا۔ چھت کے چاروں طرف تقریباً چار فٹ اونچا لوہے کا بڑا ہی پیارا سا جنگلا لگا ہوا تھا جو کوٹھی کی خوبصورتی میں اور بھی اضافہ کرتا تھا اور وہ پری چہرہ مہران اسٹریٹ والی سائیڈ پر کونے سے لگ کر کھڑی اسی طرف دیکھ رہی تھی جدھر سے میں اور چھوٹو آ رہے تھے ۔
    ’’اوکے …تو پھر ملتے ہیں رات کو اسی بنچ پر ۔‘‘
    اس کا کہا ہوا یہ جملہ اس وقت میرے کانوں میں گونجا جب میں کریم پیلس کے مین گیٹ اور مرتضیٰ کے چھپر ہوٹل کے درمیان پہنچ چکا تھا۔
    میرے قدم رک گئے۔ چھوٹو نے چار قدم آگے بڑھ جانے کے بعد مجھے اٹکا ہوا محسوس کیا تھا۔
    ’’کیا ہوا بھا جی ؟ آپ رک کیوں گئے؟‘‘
    اس نے پیچھے مڑ کر مجھ سے پوچھا۔
    ’’چھوٹو کوئی اور حمام نہیں ہے ۔اپنے ہوٹل کے قریب مین روڈ کے آس پاس ؟‘‘
    چھوٹو نے حیرت سے مجھے دیکھا تھا۔
    ’’بھا جی ہوٹل کے پچھواڑے بس مین روڈ ہی ہے ۔ روڈ کے پارگاڑیاں ٹھیک کرنے والے اور پنکچر لگانے والوں کی دکانیں ہیں۔ ان سے آگے مہران چورنگی ہے۔ وہاں جا کر بھی حمام ملنے والا نہیں ہے۔ ہمارے قریب مہران ٹاؤن ہی ہے‘ یہیں پر جانا پڑے گا‘مگر بھا جی مسئلہ کیا ہے ۔۔۔اتنا دور تو نہیں ہے۔؟‘‘
    میں اسے نہیں بتا سکتا تھا کہ مسئلہ کیا ہے۔ میرا دماغ تیزی سے کا م کر رہا تھا۔ کل شام کے واقعے کے بعد میں اندر ہی اندر اس سے خائف ہو گیا تھا۔کچھ ہمارے درمیان طبقاتی فرق جو بلاشبہ زمین اور آسمان کے فرق جتنا تھا اور کچھ اس کی نا سمجھ میں آنے والی حرکتیں اور باتیں تھیں ۔ میں اجنبی شہر میں آتے ہی خود کو الجھاؤ میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔اس کا اپنے باپ کی جگہ معافی مانگ لینا اپنی جگہ اور وہ اس کا بڑا پن تھا جسے میں نے تسلیم بھی کیا تھا‘مگر کل شام کی باتیں سننے کے بعد مجھے وہ نارمل بالکل بھی نہیں لگی تھی اور مجھے اس وقت بھی یہی خدشہ تھا کہ مجھے پہچانتے ہی وہ آوازیں لگانا شروع نہ کر دے ۔
    ’’آ جاؤ بھا جی …یہ تو ہے سامنے چوک ۔‘‘
    چھوٹو نے مجھے ساکت کھڑے دیکھ کر کہا تھا ۔ میں چار و ناچار اس کے ساتھ آگے بڑھنے لگا تھا۔
    کریم پیلس کا وہ گیٹ قریب آتا جا رہا تھا اور ساتھ ہی وہ بھی واضح ہوتی جا رہی تھی۔ میں نے ایک بار ترچھی نظروں سے اسے دیکھا تھا ،وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی ۔ صبح کے سات بجے راستے پر پیدل اور سائیکل والوں کے ساتھ ساتھ کوئی کوئی موٹر بائیک والا بھی گزر رہا تھا۔ میں نے چند فٹ کے فاصلے پر لگے ہوئے کریم پیلس کے بورڈ کو دیکھا اور پھر چھت کی طرف ۔
    اب وہ وہاں نہیں تھی۔ بہ ظاہر یہ نارمل تھا‘ مگر مجھے عجیب سی بے چینی لاحق ہونے لگی تھی ۔
    ’’چھوٹو جلدی چلو ۔واپس بھی جانا ہے ۔‘‘
    میں نے تیز تیز قدم اُٹھانے شروع کر دیے تھے اور پیچھے رہ جانے والے چھوٹو کو بھی تیز چلنے کا کہہ رہا تھا۔ میں ایسا کیوں کر رہا تھا ؟یہ نہیں جانتا تھا‘ مگر میری چھٹی حس بار بار الارم بجا رہی تھی۔ میں کریم پیلس کراس کرتے ہوئے دس قدم بھی نہیں چل پایا تھا جب گیٹ کھلنے کی آواز سنائی دی ۔ میں نے پیچھے مڑ کر دیکھے بغیر چھوٹو کو جلدی کرنے کو کہا تھا۔
    ’’مگر چھوٹو تو کریم پیلس کے عین سامنے ہی رک چکا تھا ۔اس نے اسے روک لیا تھا۔
    چھوٹو کو دیکھنے کے لیے میں پیچھے مڑا ‘ تو وہ اس کا ہاتھ تھامے ہولے ہولے چلتے ہوئے میری ہی طرف آ رہی تھی ۔
    میں نے اس کی لال سرخ آنکھوں میں تیرتے ہوئے آنسو دیکھ لیے تھے ۔
    دوپٹے سے بے نیاز قمیص شلوار میں ملبوس سراپا اس کی دل کشی کا آئینہ دار تھا ۔کھلے ہوئے بے ترتیب بال اور ننگے پاؤں بتاتے تھے کہ وہ بہت عجلت میں بھاگتی ہوئی آئی ہے۔ ڈبڈباتی سرخ آنکھیں اور ان آنکھوں میں درج شکایت اس کے ضبط کی کڑی مسافت سے گزرنے کا پتا دے رہیں تھیں اور اس کا ملیح چہرہ جو اس وقت سُتا ہوا دکھائی دے رہا تھا ‘اس کے رت جگے کا حال بتا رہا تھا۔
    میں حیران اور پریشان اسے قریب سے قریب تر آتا دیکھ رہا تھا۔
    وہ میرے قریب بہت ہی قریب آگئی۔ چھوٹو اپنا ہاتھ چھڑوا کر اب حیرت سے بت بنا ہم دونوں کے بیچ کھڑا ہماری شکلیں دیکھ رہا تھا۔
    ’’میری آنکھیں دیکھ رہے ہو؟‘‘
    گھمبیر لہجہ…آنکھوں کے تاثر سے بالکل الگ ،مجھے اپنی زبان تالو سے چپکی ہوئی محسوس ہوئی۔
    ’’یہ آنکھیں دیکھ سکتی ہیں‘یہ میں نے پرسوں رات جانا۔ بینائی پا کر بھی نابینا لوگوں جیسی زندگی گزار رہی تھی میں۔لوگ آنکھوں پر پہرے بٹھاتے ہیں ۔ میری آنکھیں میرے دل کا پہرہ دیتی تھیں۔ دل محسوس کرتا تھا ‘ آنکھیں اندھی ہو جاتی تھیں ۔ دل بجھ جاتا تھا،بے بس ہو جاتا تھا… میں نابینا تھی۔تب بھی جاگتی تھی۔ اذیت ہو تی تھی۔ آج رات پہلی بار بینائی کے احساس کے ساتھ جاگی ہوں۔ اذیت ہوئی… ہاں مجھے اذیت ہوئی‘ میٹھی سی اذیت۔ میٹھی اذیت کیا ہوتی ہے جانتے ہو ؟‘‘
    اس نے اک پل کا توقف کیا اور منہ بند کر کے لمبی سانس کھینچی تھی ۔آنکھیں بھی بند کر لیں۔ کاش میں بھی کر سکتا۔ میں نہیں کر سکا تھا۔ اس نے لمبی سانس چھوڑی۔ میں نے اس کے تنفس کو پوری طرح اپنے چہرے کے اوپر محسوس کیا تھا۔ اس کی آنکھیں کچھ لمحوں تک بند رہیں اور میری بے اختیار ۔
    پھر اس نے آنکھیں کھول دیں ۔ ڈبڈباتی ہوئی سرخ آنکھیں ۔ دو موٹے موٹے آنسو پلکوں کی باڑھ توڑ کر اس کے گالوں پر لکیر کھینچتے ہوئے ٹھوڑی کے نیچے غائب ہو گئے تھے ۔
    میں منجمد تھا‘ برف بن چکا تھا۔ جون کے مہینے میں صبح کے سات بجے کراچی کا موسم اتنا ٹھنڈا نہیں ہوتا ،مگر ان چند گھڑیوں نے میرے تمام عضلات کو سن کر دیا تھا ۔
    ’’آنسو کمزور بنا دیتے ہیں نا۔لہجوں کو ‘رویوں کو ‘مگر میرے آنسو مجھے کمزور نہیں بناتے اور بھی مضبوط کر دیتے ہیں ۔ میرے آنسو مجھ سے باتیں کرتے ہیں۔یہ کہتے ہیں تم ہمیں ہمیشہ تنہائی میں کیوں بلاتی ہو ؟ لو…آج تمہارے سامنے بلا لیا۔شکایت دور کر دی ان کی۔ اب یہ مجھ سے پوچھیں گے ۔تمہارے سامنے ہی کیوں ؟میں کہوں گی تم وہ ہو جس نے مجھے بینائی کا احساس بخشا اور میٹھی اذیت سے روشناس کروایا ۔ تمہارا شکریہ اجنبی ۔میں اس میٹھی اذیت کو مرتے دم تک سنبھال کے رکھوں گی۔چاہے تم اسے بانٹنے آؤ یا نہ آؤ۔‘‘
    میں نے اپنے باپ کی موت پر چند عورتوں کو ماں کے ساتھ مل کر روتے ہوئے دیکھا تھا۔ ان کے آنسو سچ تھے یا جھوٹ ،میں نہیں جانتا تھا۔ اپنی ماں کے آنسو بھی کئی بار دیکھے تھے میں نے۔ صرف دکھ کا احساس دلوا سکتے تھے ،ان میں کتنی سچائی ہو گی ‘کتنی گہرائی ہو گی۔ میں نے کبھی جاننا ہی نہیں چاہا تھا ۔میں آنسوؤں کی زبان سے انجان تھا۔ میرے نزدیک آنسو دکھ کی علامت تھے ۔ نہیں …میں غلط تھا،آنسو تو خوشی کی علامت بھی کہلاتے ہیں اور آج جانا تھا۔ کچھ آنسو آپ کے اپنوں کے نہیں ہوتے ۔آپ کے بھی نہیں ہوتے ‘کسی اجنبی کے ہوتے ہیں۔جیسے اس انجان لڑکی کے تھے جس کے نام تک سے آشنائی حاصل نہ تھی مجھے اور جیسے وہ انجان تھی مجھ سے ۔پر یہ آنسو مجھے بتا رہے تھے یہ لڑکی سو فیصد سچ کہہ رہی ہے جسے تم دل ہی دل میں سنکی سمجھتے ہو ۔ہمیں آج تک تمہارے علاوہ کسی نے نہیں دیکھا۔یہ اپنی بات میرے دل تک پہنچا رہے تھے ‘مجھے قائل کر رہے تھے اور آج اس پل ایک انوکھا احساس جاگ رہا تھا ۔کوئی ہے جس کے آنسو میرے علاوہ کوئی نہیں دیکھ سکتا۔یہ سوچ احساس بن کر میرے پورے جسم میں پھیل رہی تھی۔میں اس پل کے رک جانے کی دعا کر رہا تھا ۔پر یہ پل کہاں رکتے ہیں؟ پھسلتے جاتے ہیں‘مٹھی میں دبی ہوئی خشک ریت کی طرح۔ یہ پل بھی پھسل چکا تھا اور اگلے پل میں حقیقت اپنا پھن پھیلائے میرے سامنے کھڑی تھی۔میں‘پرویز گل اور میرے سامنے آنسو بہا کر مجھے اس دنیا میں سب سے الگ رتبہ دینے والی انجان لڑکی جو میرے طفیل اپنی بینائی لوٹنے کا جشن آنسوؤں سے منا رہی تھی ۔ ایک ہی دنیا میں رہ کر بھی الگ الگ دنیا بسانے پر مجبور تھے۔میری دنیا میرے کچے گھر میں تن تنہا بیٹھی میری ماں سے شروع ہو کر مرتضیٰ کے جھونپڑے پر ختم ہو جاتی تھی اور وہ میرے سامنے پہاڑ کی طرح استادہ خوبصورت محل میں رہنے والی خوبصورت شہزادی تھی۔شہزادیوں اور غریب لکڑہاروں کی بے شمار کہانیاں میں نے ماں سے سن رکھی تھیں‘ مگر یہ کہانی نہیں حقیقت تھی ۔
    وہ مجھے دیکھتے ہوئے دو قدم پیچھے ہٹی ۔
    ’’میں ہر پل اس اذیت کی حفاظت کروں گی جو تم مجھے تحفے میں دے کر جا رہے ہو۔‘‘
    وہ مڑ کر کریم پیلس کے اندر چلی گئی اور میں خالی خالی نظروں سے کریم پیلس کے گیٹ کو دیکھنے لگا۔
    کچھ پل اور گزر گے۔
    تب مجھے چھوٹو کی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی سنائی دی جو میرے پاس کھڑا میرا ہاتھ ہلاہلا کر مجھے بلا رہا تھا۔
    ’’میں نے چھوٹو کی طرف دیکھا،پتا نہیں کیا دیکھ لیا ہو گا ان آنکھوں میں اس نے بدک کر پیچھے ہٹ گیا۔
    ’’بھا جی کیا ہوا وہ لڑکی کون تھی ؟ اور آپ رو کیوں رہے ہو ۔‘‘
    ’’کیا؟ میں رو رہا ہوں ؟‘‘
    میں نے سوچتے ہوئے بے اختیار اپنا دایاں ہاتھ اپنی گال پر رکھا ۔بھیگا ہوا گال ۔
    ’’میں کیوں رو رہا ہوں؟‘‘
    میں حیرت زدہ تھا۔ اپنے خاموش آنسوؤں پرجو بنا بتائے بلاوجہ ہی آگئے تھے ۔
    آنسو بلاوجہ بھی آسکتے ہیں ؟کیسے آسکتے ہیں ؟ آج تک تو نہیں آئے ۔باپ کے مرنے پر آئے تھے ،ماں کو گھر میں چھوڑ کر شہر جاتے ہوئے آئے تھے اور تھپڑ کھا کر ذلیل ہوتے ہوئے آئے تھے۔ پر آج ‘آج کیوں ؟ ابھی اس وقت کیوں ؟
    ایک بوڑھے نے سائیکل میرے پاس آکر روکی اور پوچھنے لگا۔
    ’’کیا ہوا بیٹے ؟ کیوں رو رہے ہو ؟‘‘
    میں نے چونک کر بوڑھے بابا کی طرف دیکھا اور اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا ۔
    ’’پتا نہیں بابا۔‘‘
    ’’رو لو بیٹا‘رونے سے بوجھ ہلکا ہوتا ہے ‘مگر یہاں بیچ راستے میں نہیں گھر جا کے رو۔اپنے پیاروں کے پاس جا کر رو لو۔‘‘
    بابا سائیکل چلاتا ہوا آگے بڑھ گیا۔
    ’’گھر …پیارے … دونوں سے محروم تھا میں آج کے دن ۔کبھی کبھی محرومیاں ستاتی ہیں ،اپنی پوری طاقت سے ۔ہمیں بتاتی ہیں کہ ہم کس قدر محروم ہیں ،کس قدر بے بس اور لاچار ہیں۔
    میں شکستہ قدموں سے چپ چاپ چھوٹو کے پیچھے چلتا رہا تھا۔کب پہنچا،کب واپس آیا ،کب کام شروع کیا اور کب نماز جمعہ کا وقت ہوا مجھے پتا ہی نہیں چلا۔
    جب مرتضیٰ نے کہا تھا ’’اذانیں شروع ہو گئی ہیں باؤ۔ چل پڑھ لے جمعہ کی نماز اور چھوٹو کو بھی لے جا ۔‘‘
    وہ اپنے تئیں احسان کر رہا تھا۔میں نے اسے حیران و پریشان کر دیا۔
    ’’آج جمعہ ہے ؟‘‘
    ’’کیا کہا ۔۔۔؟ اے باؤ پاگل واگل ہو گیا کیا ؟آج صبح تو گیا تھا ‘تو چھوٹو کے ساتھ جمعے کی نماز کی تیاری کرنے اور اب بھول بھی گیا؟‘‘
    میں اسے جواب دیے بغیر جمعہ کی نماز کے لیے چل پڑا تھا۔
    ’’اس طرف نہیں بھا جی۔ ‘‘
    مجھے اپنے پیچھے چھوٹو کی آواز سنائی دی جو مجھے کریم پیلس کی طرف جانے والے راستے سے منع کر رہا تھا۔
    میں ایک بار پھر اس کے پیچھے ہو لیا ۔
    ’’مسجد تو اس طرف بھی تھی اور نزدیک بھی پڑتی تھی ‘لیکن میں نے سوچا ہم آج اس طرف کوئی مسجد ڈھونڈتے ہیں۔‘‘
    چھوٹو نے ہوٹل کے پچھواڑے گزرنے والی مہران اسٹریٹ کی طرف جاتے ہوئے کہا تھا۔
    میں نے اسے کچھ بھی نہیں کہا۔
    ہم دیر تک چلتے رہے ۔ مہران اسٹریٹ آگے جا کر مہران چوک پر ختم ہو گئی۔چوک کی چاروں طرف دیکھتے ہوئے چھوٹو کو ایک مسجد نظر آگئی اور میں اسے لے کر مسجد پہنچ گیا۔
    نماز ادا کرتے ہوئے بار بار ڈبڈباتی آنکھوں والا چہرہ میرے سامنے آ جاتا۔ میں نے دل سے نماز ادا کرنی چاہی تھی‘ مگر آج اس سے ملنے کے بعد میں کوئی بھی کام دل سے کر نہیں پایا تھا۔نماز کے بعد میں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور جھٹ سے میرے ہاتھ کے پیالے میں پھر اسی کا چہرہ اُبھر آیا۔
    ’’یا اللہ… ‘‘
    میں نے دل کی گہرائیوں سے اللہ کو پکار کر اپنی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی تھی۔ایسا ہوتا ہے ‘ جب ہم خود کو بالکل بے بس سمجھتے ہیں اور خود پر اختیار کھونے لگ جاتے ہیں۔ تب وہی ایک ہستی نظر آتی ہے جو ہمارے حال پر رحم کر سکتی ہے‘۔مگر میری پکار میں صداقت کی کمی تھی یا نیت میں کھوٹ تھا۔ میری دعا کو شرف قبولیت عطا نہ ہوئی ،مسجد سے باہر آ کر بھی میرا من بار بارایک ہی چہرے میں ڈوب کر اُبھر رہا تھا۔ آنکھوں نے اس منظر کو ایسا نقش کیا تھا کہ اب کوئی اور نظارہ ان کے لیے قابل قبول نہ تھا ،میں اندر ہی اندر جلنے لگا تھا۔
    ’’یہ کیسی اذیت ہے ؟‘‘
    واپس آتے ہوئے میں نے سوچا تھا۔
    ’’اذیت ‘کیا کہہ رہی تھی وہ ۔ میٹھی اذیت جو میں نے اسے تحفے میں دی تھی اور اس نے آج مجھے کیا دے دیا تھا۔ یہ کیسا احساس تھا؟کیا یہی وہ میٹھی اذیت ہے ؟ کیا یہی مجھے لوٹانے آئی تھی وہ ؟‘‘
    چھپر ہوٹل کی طرف مڑتے ہوئے ایک گاڑی نے ہارن دے کر مجھ سے راستہ مانگا۔
    ’’میں نے ایک سائیڈ پر ہو کر مڑتے ہوئے غائب دماغی سے گاڑی میں بیٹھے ہوئے شخص کو دیکھا۔
    اور ایک زوردار جھٹکے سے ہوش میں آ گیا۔
    مجھے تھپڑ مارنے والا اس کا باپ کینہ پرور نظروں سے مجھے گھورنے کے بعد کچھ بڑبڑا رہا تھا‘گالیاں دے رہا تھا۔
    اور پھر ناک کی سیدھ میں دیکھتے ہوئے آگے بڑھ چکا تھا۔
    ایک اور سوچ ‘ایک اور سوال میرے سامنے کھڑا تھا۔
    ’’کیا وہ اس شخص سے بھی اپنے آنسو چھپا کے رکھتی ہے ؟‘‘
    ٭…٭…٭




  • انشاء اللہ — سحرش مصطفیٰ

    میں نے ایک آخری مرتبہ قد آدم آئینے میں اپنے عکس کو دیکھا۔ میں بالکل تیار تھا۔جینز بلیک ٹی شرٹ اور اس کے ساتھ فینسی بلیک لیدر جیکٹ ۔ یہ کنسرٹ ممبئی کی ایک یوتھ آرگنائیزیشن کی طرف سے ارینج کیا گیا تھا۔ اسٹیج پر ایک نیا ابھرتا ہوا مقامی گلوکار اپنی آواز کا جادو جگا رہا تھا۔ اس وقت بیک اسٹیج پر میرے آخری لمحات تھے۔ میری اینٹری قدرے لیٹ تھی۔ میں بڑا ستارہ تھا، چاند جتنا بڑا۔ میرے لئے لوگوں کو انتظار کرایا جاتا تھا تاکہ ان کا جوش و خروش عروج پر پہنچ جائے۔یہ ایک بہت ہی پرُانا اور روایتی سا حربہ تھا، جو ہر بار کام دکھاتا اور کیا خوب دکھاتا تھا۔ اچانک اسٹیج پر آنے والی آواز بند ہوگئی میں نے چونک کر اپنی کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی کو دیکھا، ابھی میری اینٹری میں دس منٹ باقی تھے اور پھر ایک عجیب و غریب شور اُبھرا۔ چیخ و پکار، شورو غل اور قدموں کے شور میں میں نے شو کے فنانسر اور ڈائریکٹر کو اپنے فیلڈ مینیجر کے ساتھ ڈریسنگ روم میں داخل ہوتے دیکھا۔ ان کے ساتھ دو سیکیورٹی اہلکار بھی تھے۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ میرا مینیجر گھبرایا ہوا تیزی سے میری جانب بڑھا۔
    ’’باہر ہنگامہ شروع ہوگیا ہے، ممبئی کی ایک سیاسی جماعت کے کچھ لوگ آپ کے خلاف مظاہرہ کررہے ہیں اور انہوں نے اس جگہ کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ ان کے ساتھ شو میں موجود بہت سے تماشائی بھی شریک ہوگئے ہیں، لیکن آپ فکر نہ کریں شو کے مینیجر نے پولس کی مدد لے لی ہے۔وہ ہمیں باحفاظت ائیرپورٹ تک پہنچا دیں گے۔‘‘ اب وہ مجھے تسلی دے رہا تھا۔آج رات ویسے بھی میری اسلام آباد کی فلائٹ تھی۔ ہنگامے کی وجہ کیا تھی؟ میرا پاکستانی ہونا؟ میں نے بہت سارے آرٹسٹس کے ساتھ ایسا ہوتا سنا تھا لیکن میرے ساتھ یہ سب پہلی بار ہوا۔ میں بہت پریشان تھا اور میں نے بیٹھے بیٹھے اپنے مالی نقصان کا اندازہ لگایا۔ آج کے شو کا تو نہیں ہاں البتہ مجھے مستقبلِ میں کچھ نقصان ضرور ہوگا۔
    پندرہ منٹ بعد چند سیکیورٹی اہلکار مجھے حفاظتی تحویل میں لے کر باہر نکالنے لگے۔ باہر بہت سارے صحافی جمع تھے، جنہیں سیکیورٹی اہلکاروں نے اگنور کیا۔ ڈریسنگ روم سے راہ داری، راہ داری سے پچھلا گیٹ اور گیٹ سے گاڑی۔ اچانک نہ جانے کہاں سے وہ سامنے آگیا۔
    ہنگامہ آرائی کرنے کُرتے پاجامے میں ملبوس اور اورنج پٹی ماتھے پر باندھے ایک کارکن نے مجھے دیکھا اور زمین پر تھوکا۔ گاڑی میں بیٹھتے بیٹھتے میں جیسے سکتے میں آگیا۔ میں نے کہاں ایسی ذلت دیکھی تھی۔ میں تو ایک سٹار تھا، سرحدوں اور مجبوریوں سے اوپر اپنے فن کے ذریعے بلندی پر پہنچنے والا سٹار جسے اس دشمن سر زمین پر بھی ہمیشہ پیار ملا۔
    اس نے مجھے دیکھ کر زمین پر نہیں تھوکا تھا بلکہ اب اس کا ہدف پاکستان تھا۔ وہ مسلسل پاکستان کو گالیاں دے رہا تھا اور ساتھ ہی مجھے اور میرے ملک کو نیست و نابود کرنے کی باتیں کر رہا تھا۔ اس کا وہ چہرہ میں کبھی نہیں بھلا سکا اور وہ اُس کا اصلی چہرہ تھا، اس کی آنکھوں میں کتنی نفرت تھی۔ ایک مستقل رہنے والی نفرت جس نے میرے ذہن کو جھنجوڑ دیا۔ مالی نقصان اور اگلے آنے والے شوز سب کچھ بہت پیچھے رہ گیا، بس ذلت باقی رہ گئی۔ مجھے گاڑی میں بٹھا کر ائیرپورٹ پہنچا دیا گیا۔ میری فلائیٹ چار بجے کی تھی تب تک مجھے یہاں رہنا تھا۔ میں سکتے میں تھا اور میرا مینیجر مجھے تسلی دے رہا تھا مگر میں تو مرچکا تھا۔ بہت سی آوازیں میرے کانوں میں گونجیں آنکھوں سے پٹیاں اُتریں۔ کوئی میرے اندر سے اٹھ کر باہر آگیا تھا اور مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ اب بتا میں نے صحیح کہا یا غلط؟ میں نے بے اختیار انتظار حسین سے آنکھیں چرائی تھیں۔
    ’’اعتبار بھی آہی جائے گا چلو تو سہی۔ ’’راستہ کوئی مل ہی جائے گا چلو تو سہی چلوتو سہی‘‘ میں آنکھیں بند کرکے جذب سے گارہا تھا۔ مکمل خاموشی تھی، گانے کا آخری شعر تھا میں نے آنکھیں کھولیں پھر میری سماعتوں نے وہی سنا تھا، جو ہمیشہ سنتی آئی ہیں تالیوں کی زوردار گونج۔ یہ میری اسکول فئیر ویل کا فنکشن تھا۔ میرا خون بڑھ گیا تھا۔ میری آواز میں جادو تھا ۔ میں خوشی خوشی گھر آیا تھا اور دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی ایک آواز نے میرے قدم جکڑ لئے تھے۔ ’’انتظار حسین کہاں ہو تم صُبح سے میری آنکھیں ترس گئی ہیں۔‘‘ یہ میرے بوڑھے دادا کی آواز تھی میں مریل قدموں سے ’’جی دادا جی آیا۔‘‘ کہتا ان کے قریب آکر بیٹھ گیا۔ اب روزانہ کی طرح مجھے انتظار نامہ سننا تھا۔ میں تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔ دادا کے اور بھی پوتے پوتیاں تھیں لیکن انہیں مجھ سے خاص محبت تھی اور وجہ میری ان کے چھوٹے بھا ئی انتظار حسین سے مشابہت تھی۔ کہنے والے کہتے تھے کہ نہ صرف شکل بلکہ میری آواز بھی ان جیسی تھی مگر یہ مشابہت میرے لئے روز کا عذاب بن گئی۔
    داداجی عجیب سے تھے۔ ان کی ساری حسّیات اور باتیں صرف ایک ہی نام کے گرد گھومتیں اور وہ نام تھا انتظار حسین۔ میری ذاتی رائے میں داداجی کی دماغی سوئی انتظار حسین پر آکر رُک چکی تھی۔ اپنے سب سے چھوٹے، لائق، خوبصورت اور نوجوان بھائی کی اندوہناک موت کا صدمہ جڑپکڑ کر ان کے اندر جم چکا تھا۔ دادا جی کو سمجھ کیوں نہیں آتا ہے کہ میں انتظار حسین نہیں ہوں۔ جو ہوگیا سو ہوگیا زندگی کو آگے بڑھنا چاہیئے۔ کبھی کبھی میں چڑ جاتا۔ میرا نام انتظار حسین رکھا گیا تھا۔ لیکن شکر ہے کہ امی کی فرمائش پر اریب کا اضافہ کر دیا گیا۔ دوستوں کے حلقے میں میں اریب حسین کی پہچان رکھتا تھا۔ خاندان کے بزرگ کہتے تھے کہ میر ا قد کاٹھ، ظاہری شخصیت اور خاص طور پر پروقار گونج دار آواز بالکل انتظار حسین کی کاربن کاپی تھی۔ دادا جی نے صرف میرا نام ہی انتظار حسین نہیں رکھا تھا بلکہ میرے اندر پرانے انتظار حسین کو فکس کردیا تھا۔ یہ میرے ذاتی خیالات تھے۔ وہ رو ز مجھے بٹھاکر انتظار حسین کی فصاحت و بلاغت اور ذہانت کے قصّے دُہراتے اور نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے ہمہ تن گوش ہونا پڑ تا کیوں کہ یہ پاپا کا حُکم تھا اور میں ان کی ہر بات مانتا تھا سو چار و ناچار مجھے روزانہ کی بنیا د پر دادا کی زبانی نصف صدی کے اس قصّے کا روز نامہ سننا پڑتا تھا کبھی کبھار تو مجھے لگتا تھا کہ جیسے انتظار حسین کی روح تک میرے اندر حلول کر چکی ہے۔ انتظار حسین دو ٹوک بات کرتا تھا۔ وہ دور اندیش تھا۔ اس کے پاس دلائل کی کمی نہیں تھی اور ناجانے ایسے اور کتنے قصّے کہانیاں تھے مگر روز روز ایک ہی نام سننے سے انسان کیسی ذہنی اذیت سے گزرتا ہے آپ اندازہ نہیں لگاسکتے۔
    میں اب فلائٹ میں بیٹھ چکا تھا۔ یہ فلائٹ جو پاکستان جارہی تھی، ’’پاکستان…!‘‘ میں نے زیر لب دُہرایا ایک مرتبہ پھر میرے ذہن میں ان گندی گالیوں کی گونج اُبھری اور ایک مرتبہ دوبارہ میں نے کوئی سایہ اپنے ساتھ محسوس کیا، انتظار حسین کا سایہ۔
    ’’وہ کہتا تھا کہ بھائی جان دنیا کی کوئی دولت، عزت اور عزتِ نفس کا نعم البدل نہیں ہوسکتی۔ یہ انتظار حسین کا نظریہ تھا وہی انتظار حسین جس نے آزادی کی جدو جہد کی تھی۔بے حد مدلل اور جامع انداز سے وہ جیسے اس کھیل کے ماسٹر مائینڈز میں سے ایک تھا۔ صرف جذباتی باتیں نہیں تھیں اسے قیامِ پاکستان کی ضرورت اور اہمیت کے متعلق لوگوں کے ابہام دور کرنے میں کمال حاصل تھا۔ وہ اس وقت بی اے کے طالب علم تھے، جب مسلمانوں کے اندر پائی جانے والی بے چینی بڑھ چکی تھی۔ تب انتظار حسین جیسے لوگ تھے، جو اس راہ کو ہموار کرنے کے لئے ایک جنگ لڑرہے تھے مگر نظریاتی جنگ ختم نہ ہونے والی تھی۔ ان کی آواز جو آزادی کی جدوجہد میں خاص طور پر نعرہ کے لیے مشہور تھی۔ ’’بن کے رہے گا پاکستان، اِن شا ء اللہ‘‘ یہ وہ نعرہ تھا، جو ان کی پہچان تھا یاپھر شاید وہ اس کی پہچان تھے۔ لوگ سمجھتے تھے کہ بہت ہی ٹھنڈے اور دھیمے مزاج کا لڑکا ہے۔ وہ تو میں ہی جانتا تھا کہ کتنا جذباتی تھا، پاکستان کے معاملے میں۔ اپنی پرُ زور اور پرُ اثر آواز میں جب ہر جلسے کے بعد وہ نعرہ لگاتا تھا ’’بن کے رہے گا پاکستان اِن شاء اللہ‘‘ تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے تھے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے داداجی کی بوڑھی آنکھوں میں یوں جذبات ابھر آتے، گویا انتطار حسین سامنے ہی کھڑے تھے اور میں دل ہی دل میں خوب ہنستا تھا۔ اُف یہ جذباتی لوگ اور مجھے افسوس ہوتا انتظار حسین پر جس نے اپنی جوانی کے دن ایسے ملک کے لئے قربان کردیئے جہاں جگہ جگہ گندگی ڈھیر تھے، آئے دن رستے پر چلتے ہوئے انسان اپنی جان کھو دے۔ لو بھلا اس طرح ملک کے لئے بھی کوئی اپنی زندگی قربان کرتا ہے۔