Author: misbah116@hotmail.com

  • Hello world!

    Welcome to WordPress. This is your first post. Edit or delete it, then start writing!

  • فینسی ہیئر کٹنگ سیلون — غلام عباس

    فینسی ہیئر کٹنگ سیلون — غلام عباس

    آبادیوں کی ادل بدل نے ایک دن ایک اجنبی شہر میں چارحجاموں کو اکھٹا کردیا۔ وہ ایک چھوٹی سی دکان پر چائے پینے آئے۔ جیسا کہ قاعدہ ہے ہم پیشہ لوگ جلد ہی ایک دوسرے کو پہچان لیتے ہیں۔ یہ لوگ بھی جلد ایک دوسرے کو جان گئے۔ چاروں وطن سے لٹ لٹاکر آئے تھے۔ جب اپنی بپتا سناچکے تو سوچنے لگے کہ اب کریں تو کیا کریں؟ تھوڑی تھوڑی سی پونجی اور اپنی اپنی کسبت ہر ایک پاس تھی ہی۔ صلاح ٹھہری کہ چاروں مل کر ایک دکان لیں۔ اور ساجھے میں کام شروع کریں۔
    یہ تقسیم کے آغاز کا زمانہ تھا۔ شہروں میں افراتفری پھیلی ہوئی تھی۔ لوگ دل جمعی سے کوئی کام نہ کرپاتے تھے۔ تمام کاروبار سرد پڑے ہوئے تھے۔ پھر بھی ان حجاموں کو دکان کے لیے کافی دوڑ دھوپ کرنی پڑی۔ وہ کئی دن تک سرکاری دفتروں کے چکر کاٹتے رہے اور چھوٹے چھوٹے افسروں، کلرکوں اور چپراسیوں تک کو اپنی دکھ بھری کہانی بڑھا چڑھا کر سناتے رہے۔ آخر کار ایک افسر کا دل پسیج گیا اور اس نے ان چاروں کو شہر کے ایک اہم چوک میں ایک حجام ہی کی دکان دلادی جو ہنگامہ کے دنوں میں تالا ڈال بھاگ گیا تھا۔
    یہ دکان زیادہ بڑی تو نہ تھی پر اس کے مالک نے اس میں اچھا خاصا سیلونوں کا سا ٹھاٹھ باٹھ کر رکھا تھا۔ دیواروں کے ساتھ ساتھ لکڑی کے تختے جوڑ اوپر سنگ مرمر کی لمبی لمبی سلیں جما، ٹیبل سے بنا لیے تھے۔ تین ایک طرف اور دو ایک طرف۔ ہر ایک ٹیبل کے ساتھ دیوار میں جڑا ہوا ایک بڑا آئینہ تھا اور ایک اونچے پایوں کی کرسی جس کے پیچھے لکڑی کا گدی دار اسٹینڈ لگا ہوا تھا۔ گاہک ٹھنگنے قد کا ہوا تو اسٹینڈ کو نیچے سرکا لیا۔ لمبے قد کا ہوا تو اونچا کرلیا اور گدی پر اس کے سر کو ٹکا، مزے سے داڑھی مونڈنے لگے۔



    ضرورت کی یہ سب چیزیں مہیا تو تھیں مگر ذرا پرانے فیشن کی اور ٹوٹی پھوٹی۔ سنگ مرمر کی سلوں کے کنارے اور کونے جگہ جگہ سے شکستہ تھے، آئینے تھے تو بڑے بڑے مگر ذرا پتلے۔ اس کی وجہ سے گاہکوں کو اپنی صورتیں چپٹی چپٹی سی نظر آتی تھیں۔ ایک آئینے کے بیچ میں کچھ اس طرح کا بال پڑگیا تھا کہ دیکھنے والے کواس میں بیک وقت ایک کے دو چہرے نظر آتے مگر دونوں ادھورے جو ایک دوسرے میں گڈ مڈ ہوکرمضحکہ خیز صورتیں پیدا کرتے۔ چنانچہ اس آئینے کے سامنے بیٹھنے والا اپنی گردن کو تین چار مرتبہ مختلف زاویوں پر اونچا نیچا کیے بغیر نہ رہ سکتا۔ علاوہ ازیں اس دکان میں شیمپو کا بھی کوئی انتظام نہ تھا۔
    لیکن ان حجاموں نے ان خامیوں کا زیادہ خیال نہ کیا۔ سچ یہ ہے، یہ بات ان کے وہم و خیال میں بھی نہ آسکتی تھی کہ ایک دن انہیں یہ سب سامان بنابنایا مفت مل جائے گا۔ اپنے وطن میں وہ اب تک بڑی گمنامی کی زندگی بسر کرتے رہے تھے۔ ان میں سے ایک جو عمر میں سب سے بڑا تھا اور استاد کہلاتا تھا، اس نے کچھ مستقل گاہک باندھ رکھے تھے جن کے گھر وہ ہر روز یا ایک دن چھوڑ کر ڈاڑھی مونڈنے جایا کرتا تھا۔ اس سے عمر میں دوسرے درجے پر جو حجام تھا اس نے ریلوے اسٹیشن کے پلیٹ فارم اور لاریوں کے اڈے سنبھال رکھے تھے۔ دن بھر کسبت گلے میں ڈالے ڈاڑھی بڑھوں کی ٹوہ میں رہا کرتا تھا۔ اور دوسرے دو حجام جو نوعمر تھے، ڈیڑھ ڈیڑھ روپے یومیہ پر کبھی کسی دکان میں تو کبھی کسی دکان میں کام کیا کرتے تھے۔ اب اچانک قسمت نے ان لوگوں کو زندگی میں پہلی مرتبہ آزادی اور خودمختاری کا یہ موقع جو بخشا تو وہ بہت خوش ہوئے اور دکان کو اور زیادہ ترقی دینے اور اپنی حالت کو سنوارنے پر کمر بستہ ہوگئے۔
    سب سے پہلے ان لوگوں نے بازار سے ایک کوچی اور چونا لاکر خود ہی دکان میں سفیدی کی اور اس کے فرش کو خوب دھویا پونچھا۔ اس کے بعد نیلام گھر سے پرانے انگریزی کپڑوں کے دو تین گٹھر سستے داموں خریدے، ان میں سے قمیضوں اور پتلونوں کو چھانٹ کر الگ کیا۔ پھٹے کپڑوں کو سیا۔ جہاں جہاں پیوند لگانے کی ضرورت تھی وہاں پیوند لگائے۔ جن حصوں کو چھوٹا کرنا تھا ان کو چھوٹا کیا اور یوں ہر ایک نے اپنے لیے دو دو تین تین جوڑے تیار کرلیے۔ اس کے علاوہ ہر ایک کو ایک ایک چادر کی بھی ضرورت تھی۔ جسے بال کاٹنے کے وقت گاہک کے جسم پر گردن سے نیچے نیچے لپیٹنا ضروری ہوتا ہے۔ یہ ذرا مشکل کام تھا مگر ان لوگوں نے سایوں، جمپروں، کوٹوں اور پتلونوں کو پھاڑ کر جیسے تیسے دوچادریں بناہی لیں۔ کپڑوں کے اسی ڈھیر میں انہیں ریشم کا ایک سیاہ پردہ بھی ملا جس میں سنہرے رنگ میں تتلیاں بنی ہوئی تھیں۔ کپڑا تھا تو بوسیدہ مگر ابھی تک اس میں چمک دمک باقی تھی۔ اسے احتیاط سے دھو کر دکان کے دروازے پر لٹکادیا۔



    اپنے اپنے اوزار سب کے پاس تھے ہی، ان کی تو فکر نہ تھی۔ البتہ تھوڑے تھوڑے داموں والی کئی چیزیں خریدی گئیں۔ مثلا سلولائڈ کے پیالے صابن کے لیے، داڑھی کے برش، پھٹکری، چھوٹی بڑی کنگھیاں، تولیے، دو تین تیز خوشبووالے دیسی تیلوں کی شیشیاں، ایک گھٹیا درجہ کے کریم کی شیشی، ایک سستا سا پاؤڈر کا ڈبہ۔ علاوہ ازیں کباڑیوں کی دکانوں سے ولایتی لونڈر کی ٹیڑھی ترچھی خالی شیشیاں خرید ان میں سرسو ں کا تیل بھر دیا۔
    دکان کی آرائش کی طرف سے بھی یہ لوگ غافل نہیں رہے۔ دکان کے پہلے مالک نے اس میں نہ جانے کس زمانے کی دقیانوسی تصویریں لٹکا رکھی تھیں ان کو اتار ڈالا، اور ان کی جگہ دو ایک پرانے امریکن فلموں کے بڑے بڑے رنگ دار پوسٹر جو ایک کباڑیے کے ہاں سے لے آئے تھے، دکان کے اندر دیواروں پر چسپاں کردیے۔ علاوہ ازیں دو تین قطعات اور ایک کیلنڈر جس میں ملک کے بڑے بڑے سیاسی لیڈروں کے فوٹو تھے، دیوار پر ٹانگ دیے۔
    دکان کو جلد چلانے کے خیال سے انہوں نے اجرتیں بہت کم رکھیں۔ مروجہ اجرتوں سے نصف سے بھی کم۔ چنانچہ ایک گتے پر سیاہ روشنائی سے حجامت کی مختلف قسموں کی اجرتیں لکھواکر اسے دیوار پر ایسی جگہ لٹکا دیا کہ گاہک جیسے ہی دکان میں داخل ہو، اس کی نظر سب سے پہلے اسی پر پڑے۔ پہلے حجام نے اس دکان کا نام فینسی ہیر کٹنگ سیلون رکھا تھا۔ یہ نام دکان کی پیشانی پر بہت جلی حروف میں انگریزی اور اردو دونوں زبانوں میں لکھا ہوا تھا۔ ایک بابو سے فینسی کا مطلب معلوم کرکے بہت خوش ہوئے۔ اور فیصلہ کیا کہ فی الحال اسی سے کام لیا جائے۔ کوئی نیا نام رکھتے تو اس کو مٹانے اور اس کو لکھوانے پر خاصی رقم خرچ کرنی پڑتی۔
    جس روز باقاعدہ طور پر دکان کا افتتاح ہونا تھا، انہوں نے دوپہر کو بڑی محنت سے ایک دوسرے کی حجامتیں بنائیں۔ لمبی لمبی قلمیں رکھیں۔ گرم پانی سے خوب مل مل کر نہائے، صاف ستھری قمیضیں اور پتلونیں پہنیں، جن کو انہوں نے قریب کی ایک لانڈری سے دھوالیا تھا۔ بالوں میں تیل ڈالا، پٹیاں جمائیں، گردن اور چہرے پر ہلکا ہلکا پاؤڈر ملا اور یوں چاق و چوبند ہوئے۔ اگربتیوں کی بھینی بھینی خوشبو میں استروں کو جن کی دھار رات بھر سلوں پر تیز کرتے رہے تھے، ہتھیلی پر ہلکاہلکا پٹکتے ہوئے خود کو خدمت خلق کے لیے پیش کردیا۔
    پہلی شام کچھ زیادہ کامیاب ثابت نہ ہوئی۔ کل پانچ گاہک آئے۔ تین شیو اور دو بال کٹائی کے اور وہ بھی آدھ آدھ پا پا گھنٹے کے وقفے پر۔ مگر یہ لوگ ذرا مایوس نہ ہوئے۔ ہر گاہک کا پرجوش خیرمقدم کیا۔ اس کو بٹھانے سے پہلے کرسی کو دوبارہ جھاڑا پونچھا۔ اس کی ٹوپی پگڑی یا کوٹ لے کر احتیاط سے کھونٹی پر ٹانگ دیا۔ ڈاڑھی کے بال نرم کرنے کے لیے دیر تک برش سے جھاگ کو پھینٹا۔ بڑے نرم ہاتھ سے استرا چلایا، اور اگر احتیاط کے باوجود کہیں ہلکا سا چرکا لگ بھی گیا تو بڑی چابک دستی سے خون کو صابن کے جھاگ میں چھپائے رکھا۔ تاوقتیکہ پوری ڈاڑھی نہ مونڈ لی اور پھر اطمینان سے پھٹکری پھیر کر زخم کو نیست و نابود کردیا۔
    ایک حجام نے اس خیال سے کہ بال کاٹنے میں زیادہ وقت لگایا جائے، تو گاہک خوش ہوتا ہے۔ ایک دفعہ بال تراش کر دوبارہ پھر تراشنے شروع کردیے۔ آخر میں اس نے گاہک کے سر میں تیل ڈال یوں ہلکے ہلکے مزے مزے ملنا شروع کیا کہ گاہک کی آنکھوں میں سرور کی سی کیفیت پیدا ہوگئی۔ اس کو اپنی محنت کا صلہ جلد ہی مل گیا۔ گاہک نے اجرت کے علاوہ ایک آنہ اسے بخشش کے طور پر بھی دیا۔ اس شام کام کی کمی کے باوجود ان لوگوں نے دیر تک دکان کھلی رکھی۔ پھر دکان بڑھانے کے بعد بھی وہ دیر تک جاگتے رہے اور ہنسی مذاق کی باتیں کرتے رہے۔



    دوسرے دن دفتروں میں کوئی تعطیل تھی۔ صبح کو آٹھ بجے ہی سے گاہک آنے شروع ہوگئے۔ دس بجے کے بعد تو یہ کیفیت ہوگئی کہ ایک گیا نہیں کہ دوسرا آگیا۔ پھر بعض دفعہ تو تین تین کار یگر بیک وقت کام میں مصروف رہے۔ رات کو دکان بڑھاکر حساب کیا تو ہر ایک کے حصے میں تقریبا چار چار روپے آئے۔ تیسرے روز پھر مندہ رہا۔ مگر چوتھے روز پھر گاہکوں کی گہماگہمی دیکھ کر چاروں کو یقین ہوگیا کہ دکان قطعی طور پر چل نکلی ہے۔
    یہ لوگ اس اجنبی شہر میں اکیلے ہی آئے تھے۔ لہذا رات کو فرش پر بستر جما دکان ہی میں پڑ رہتے۔ ایک چھوٹی سی انگیٹھی، ایک کیتلی اور دو تین روغنی پرچ پیالیاں خریدلیں۔ صبح کو دکان ہی میں چائے بناتے اور ناشتہ کرتے۔ دوپہر کو تنور سے دو ایک قسم کے سالن اور روٹیاں لے آتے اور چاروں مل کر پیٹ بھر لیتے۔
    دکان کو قائم ہوئے ابھی آٹھ دن ہی ہوئے تھے کہ ایک دن سہ پہر کو ایک ادھیڑ عمر دبلا پتلا شریف صورت آدمی دکان میں داخل ہوا۔ اس کے کپڑے میلے تھے مگر پھٹے ہوئے نہ تھے۔ سر پر اس وضع کی پگڑی جیسے منشی لوگ باندھا کرتے ہیں۔ پاؤں میں نری کا جوتا، ڈاڑھی بڑھی ہوئی۔ یہ فیصلہ کرنا مشکل تھا کہ اس میں سفید بال زیادہ ہیں یا کالے۔ ایک گھٹیا درجہ کی عینک لگائے تھا جس کی ایک کمانی ٹوٹی ہوئی تھی اور اسے دھاگے سے جوڑ رکھا تھا۔ ان لوگوں نیاسے کرسی پربیٹھنے کو کہا۔ پہلے تو وہ جھجکا مگر پھر بیٹھ گیا۔
    ایک حجام نے پوچھا” شیو؟”
    اس نے کہا:” نہیں۔”
    ”بال؟”
    ”نہیں۔”
    ”او پھر کیا چاہتے ہو؟ ”استاد نے پوچھا۔
    ”مہربانی کرکے میرے ناخن کاٹ دو۔” اُس نے کہا۔
    ناخن کٹوانے کے بعد بھی وہ شخص وہیں بیٹھا رہا۔ آخر جب ان لوگوں نے بار بار اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو اس نے کہنا شروع کیا:
    ” صاحب میں ایک غریب مہاجر ہوں۔ میں اپنے وطن میں ایک بنئے کا منشی تھا۔ اس کے ہاں راشن کارڈوں کی پرچیاں لکھا کرتا تھا اور حساب کتاب کا کام بھی کیا کرتا تھا۔ وطن چھوٹا تو یہ روزگار بھی چھوٹ گیا۔ اس شہر میں کئی دن سے بیکار پھر رہا ہوں۔ کئی جگہ نوکری کی تلاش میں گیا مگر ہرجگہ پہلے ہی سے منشی موجود تھے۔ اگر آپ مجھے کوئی کام دلوادیں تو عمر بھر احسان نہ بھولوں گا میں۔ اس بیکاری سے ایسا تنگ آگیا ہوں کہ جو کام بھی مجھے بتائیں گے، دل و جان سے کروں گا۔ حساب کتاب کے کام کے علاوہ میں کھانا پکانا بھی جانتا ہوں۔”
    اس کی بات سن کر یہ لوگ تھوڑی دیر خاموش رہے اور آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے صلاح مشورہ کرتے رہے۔ آخر استاد نے زبان کھولی:
    ”دیکھو میاں ہم خود مہاجر ہیں اور نیا نیا کام شروع کیا ہے۔ تنخواہ تو ہم تم کو دینے کے نہیں۔ ہاں کھانا دونوں وقت ہمارے ساتھ کھاؤ۔ بلکہ خود ہی پکاؤ۔ کیونکہ تم ہمارے بھائی ہو۔ بس اپنی دکان کو جھاڑ پونچھ دیا کرنا۔ پھر جب کہیں تمہارا کام بن جائے تو شوق سے چلے جانا، ہم روکیں گے نہیں۔” اس شخص نے بڑی خوشی سے ان کی یہ شرط منظور کرلی۔ شکریہ ادا کیا اور وہیں رہ پڑا۔
    دوسرے دن بازار سے ایلومینیم کی ایک دیگچی اور کچھ برتن خریدے گئے اور دکان میں ہنڈیا پکنے کا سامان ہونے لگا۔ مگر پہلے ہی روز ان پر یہ بات ظاہر ہوگئی کہ یہ شخص کھانا پکانا کچھ واجبی ہی جانتا ہے۔ تاہم اسے نکالا نہیں گیا۔ جھاڑنے پونچھنے میں وہ کافی چست تھا۔ بازار سے سودا بھی دوڑ کر لے آتا تھا۔ سچ یہ کہ ایک شخص جو آٹھ پہر غلامی کرنے کو تیار تھا۔ خط پتر لکھ سکتا تھا۔ حساب کتاب جانتا تھا۔ آقاؤں سے ادب سے پیش آتا تھا دو وقت کی روٹی پر کچھ مہنگا نہ تھا۔



    یوں ہی دن گزرتے گئے۔ یہاں تک کہ دکان کھلے دو مہینے ہوگئے۔ اس عرصے میں دکان نے خاصی ترقی کرلی تھی۔ ان لوگوں نے اس کے لیے کچھ نیا فرنیچر بھی خریدلیا تھا۔ شیمپو کے لیے بیسن وغیرہ بھی لگوا لیا تھا اور تھوڑی تھوڑی رقم ہر ایک نے بچا بھی لی تھی۔
    تیسرا مہینہ ابھی آدھا ہی گزرا تھا کہ ایک دن صبح ہی صبح استادکو اپنے بیوی بچوں کی یاد بے طرح ستانے لگی۔ دوپہر ہوتے ہوتے وہ ٹھنڈے ٹھنڈے سانس لینے لگا۔ تیسرے پہر اس کی اداسی اور بھی بڑھ گئی۔ شام ہونے سے پہلے ہی اس نے اپنے ساتھیوں سے چار دن کی چھٹی لی اور بیوی بچوں کو لے آنے کے لیے روانہ ہوگیا۔ جو کوئی دو سو میل دور کسی شہر میں اپنے کسی رشتہ دار کے دروازے پر ناخواندہ مہمان بنے پڑے تھے۔
    استاد نے چار دن میں لوٹ آنے کا پکا وعدہ کیا تھا اور بڑی بڑی قسمیں کھائی تھیں۔ مگر واپسی میں پورے پندرہ دن لگ گئے۔ بیوی بچوں کو تو اسٹیشن کے مسافرخانے ہی میں چھوڑا، اور خود دوکان پر پہنچا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو بیماریوں کی ایک طویل داستان سنائی جن میں اس کی بیوی اور چار بچے مبتلا تھے اور وہ تکلیفیں بھی بیان کیں جو بیوی بچوں کو یہاں تک لانے میں اسے اٹھانی پڑیں۔ آخر میں اس نے خرچ کی تنگی کا ذکر کیا اور روپیہ قرض مانگا۔
    یہ بات تو ظاہر ہی تھی کہ جتنے روز استاد نے دکان میں کام نہیں کیا تھا اتنے روز کی آمدنی میں اس کا کوئی حصہ نہ تھا۔ اور پھر ایک کاریگر کے کم ہوجانے سے آمدنی بھی نسبتا کم ہی ہوئی تھی۔ مگر کچھ تو بزرگی کا لحاظ کرتے ہوئے اور کچھ مروت کی وجہ سے اس کے ساتھیوں نے اسے یہ بات نہ جتائی بلکہ ہر ایک نے اپنی اپنی جیب سے پانچ پانچ روپے نکال کر اس کے حوالے کردیے۔ پندرہ روپے استاد کی ضرورتوں کے مقابلے میں بہت ہی کم تھے۔ مگر وہ چپ چاپ یہ رقم لے کر چلا گیا۔
    دوسرے دن سے پھر چاروں آدمی کام کرنے لگے۔ اب تک تو ان کا یہ قاعدہ رہا تھا کہ گاہکوں سے اجرتیں لے لے کر اپنے پاس ہی جمع کرتے رہتے۔ اور رات کو دکان بڑھاتے وقت ساری رقم اکٹھی کرکے آپس میں برابر برابر تقسیم کرلیتے۔ دکان کے رکھ رکھاؤ، ٹوٹ پھوٹ اور اپنے اور نوکر کے کھانے پینے پر جو رقم خرچ ہوتی اس میں وہ چاروں برابر کے ساتھی تھے۔ مگر استاد نے دوسرے ہی دن باتوں باتوں میں اپنے ساتھیوں سے کہہ دیا کہ بھئی میں بیوی بچوں والا ہوں۔ پردیس کا معاملہ ہے، ان کو اکیلا کیسے چھوڑ سکتا ہوں۔ اس لیے رات کومیں ان کے پاس سویا کروں گا دوسرے یہ کہ کھانا بھی میں ان کے ساتھ ہی کھایا کروں گا۔ آج سے تم کھانے پینے کے خرچ میں سے میرا نام نکال دو۔۔۔ اور بھائیوں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ میں تو تمہارے ساتھ خرچ کروں اور ادھر گھر پر بھی۔ اس کے ساتھی یہ بات سن کر خاموش ہو رہے۔ اب استاد دوپہر کو کھانا کھانے گھر چلا جاتا۔ جو اس نے قریب ہی کہیں لے لیا تھا۔ دو گھنٹے بعد لوٹتا۔ رات کو وہ جلد ہی دوکان بڑھوا، اپنا حصہ لے چلتا بنتا۔

  • کوئی بتلاوؑ کہ ہم بتلائیں کیا — صائمہ اقبال

    ہمارا خیال تھا کہ ہوائی جہاز کا سفر نہایت پرُ سکون ماحول ہوتا ہوگا۔ (لیکن یہ تب تک کی بات ہے جب تک کہ ہم نے خود جہاز میں سفر نہیں کیا تھا) بنی ٹھنی ائیر ہوسٹس اِدھر سے اُدھر اور اُدھر سے اِدھر ’’ٹِپ ٹِپ‘‘ کرتی پھر رہی ہوں گی۔ ادھر ہم نے بیل دی ادھر بوتل کے جن کی طرح وارد ہوگئی۔ سب کچھ ایسا ہی تھا جیسا ہم نے سوچا تھی، جب تک کھانے کی ٹرالی گھسیٹتی ائیرہوسٹس کو نہیں دیکھا تھا۔
    ادھر جہاز فضا میں بُلند ہوا، ادھر ائیر ہوسٹس کھانے کی ٹرالی گھسیٹتے آپ کے سامنے۔ وہی ائیرہوسٹس جو خوب صورتی سے کیے میک اپ اور نفاست سے بنائے بالوں میں اپسرا لگ رہی تھی اب ایپرن باندھے، بالوں کو کس کے اوپر کئے ’’ماسی ماسی‘‘ سی لگنے لگی ہے۔ بلکہ ہمیں تو لاہور سے مرید کے یا شیخوپورہ جانے والی ’’تھکڑ‘‘ بسیں بھی شدت سے یاد آئیں۔ جن میں ’’منجن‘‘ ’’سُرمہ‘‘ یا ’’چورن‘‘ بیچنے والے بس کے چلتے ہی اپنی پراڈکٹ کی خصوصیات گنواتے نظر آتے ہیں۔ بھئی یہ سستا جہاز ہے اس کی ٹکٹ سستی ہے تو کھانا بیچ کر ہی کچھ کمائیں گے ناں۔
    ہر سیٹ کے سامنے ٹرالی (ٹریکٹر والی نہیں) بلکہ اشیائے خوردو نوش اور ٹیکس فری کی اشیاء سے سجی کھڑی کچھ اس ادا سے آپ کی طرف دیکھتی ہیں جیسے کہہ رہی ہوں ’’ہاں توں دس۔‘‘ کہتی تو نہیں لیکن لگتا یوں ہی ہے۔


    ویسے تو کوئی کچھ لیتا نہیں، کیوں کہ سستی ٹکٹ لے کر سارے پیسے کھانے پینے میں تھوڑا ہی ضائع کرنے ہیں، ویسے بھی ٹیکس فری بھی نام کا ہی ہوتا ہے مارکیٹ میں چیزیں اس سے بھی سستی مل جاتی ہیں اور اگر کوئی لینے کا ارادہ کر ہی لے تو بعد میں قیمت سن کر لینے کے ارادے پر پچھتانا پڑتا ہے۔
    ہمارے ایک بھائی نے ایک بار ہمارے سامنے ائیرہوسٹس کے جوتوں پر کیچڑ کا تذکرہ کچھ اس انداز سے کیا تھا کہ ہم اب ائیر ہوسٹس کے منہ کی بہ جائے اُس کے جوتوں پر نظر رکھتے ہیں۔
    ؎ لوٹ جاتی ہے نظر ’’اِدھر‘‘ اب کیا کیجئے؟
    ابھی تھوڑا سا سفر ہی طے ہوا تھا کہ تھوڑے تھوڑے وقفے سے کوئی نہ کوئی پیچھے کی جانب گامزن دیکھا، سیٹوں کے درمیان ہاتھ رکھے بچتے بچاتے نہ جانے پیچھے ہے کیا اب مجھ جیسا بے چارہ شخص جو پہلی بار سفر پر گامزن ہے وہ بھلا پیچھے کی یاترا بارے کیا جانے۔ تجسس بہر حال ہمیں بہت ہوا۔ ناجانے کیا بھید، کیسا اسرار ہے کہ سب پیچھے بھاگے جارہے ہیں اور آتے ہوئے کیسے پرسکون دکھائی دیتے ہیں۔ واللہ بھید تو اب آشکار ہوا ہے۔
    جہاز کے ٹائلٹ نے تو فرانسیسیوں کے ٹائلٹ کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ فرانسیسی ٹوائلٹ میں کم از کم دروازہ بند کرکے کھڑے ہونے کی جگہ تو ہوتی ہے لیکن جہاز میں تو یہ سہولت بھی کموڈ کے اوپر چڑھنے کے بعد ہی میسر آتی ہے۔ جہاز تو جس نے بھی ایجاد کیا ہو سو کیا ہو، ہاں ٹوائلٹ اور وہ بھی جہاز کا یقینا، کسی فرانسیسی نے ہی ایجاد کیا ہوگا۔
    کموڈ کی بھی کیا کہیے؟ اگر کوئی ہم جیسا ’’مہاتر ساتھ‘‘ کموڈ بند کیے بغیر ہی فلش کردے تو کیا ہو سوچ کر ہی ہمارے پسینے چھوٹ گئے۔
    جہاز اڑتا تو بالکل ٹائم پر ہے لیکن پہنچ ٹائم سے پہلے ہی جاتا ہے اور پھر بڑے دھیمے خوب صورت انداز میں اعلان کیا جاتا ہے کہ ہر بار کی طرح اس بار بھی ہم طے شدہ ٹائم سے دس منٹ پہلے پہنچ گئے۔ تالیاں! یہ میں نے، مجھ ناچیز نے نہیں سراہا بلکہ اعلان کرنے والے حضرت یا خاتون ایک ریکارڈنگ چلا دیتے ہیں جس میں زور زور سے اس خوشی میں تالیاں پیٹی جاتی ہیں کہ ہم وقت سے پہلے پہنچ گئے بات تو واقعی تالیاں بجانے ہی کی ہے۔ بھلا ہم سے زیادہ اس بات کو کون جان سکتا ہے؟ لیٹ ہونے پر کسی کو پیٹنے سے بہتر ہے بندہ جلدی پہنچ کر تالیاں پیٹ لے۔
    اب کچھ ذکر اِن ’’سستے جہازوں‘‘ کے ائیرپورٹس کا بھی ہوجائے۔ یہ کچھ ایسی نامعلوم جگہ یا مقام پر واقع ہوتے ہیں کہ ’’پرواز‘‘ کرنے سے پہلے چار بندوں کی خدمات لینا پڑتی ہیں (شکر ہے کہ آپ کو ڈنڈی ڈولا کرکے نہیں چھوڑتے) بلکہ معلومات لینے کے لیے کہ ائیرپورٹ کس جگہ پر واقع ہے اس کا حدود اربعہ کیا ہے اگر پھر بھی بات نہ بنے تو ’’نیوی گیٹر‘‘ ہی کام آتا ہے اور جہاز کے لینڈ کرنے سے پہلے آپ کو کیسی کیسی مثالیں اور نشانات بتا کر اپنے ’’رشتہ داروں‘‘ کو پتا سمجھانا پڑتا ہے، خدا ہی بہتر جانتا ہے یا آپ۔ ایسے نشانات بتانے پڑتے ہیں جن سے خود آپ بھی آگاہ نہیں ہوتے اور لینے کے لیے آنے والے آپ کو ’’ریسیو‘‘ کرتے وقت آپ کے چہرے کی طرف دیکھتے ہیں تو یوں لگتا ہے جیسے اس جگہ ہوائی اڈہ تعمیر کرنے میں آپ کا ہاتھ رہا ہو۔


    اب کچھ اپنے وطن کے ہوائی سفر کا بھی احوال ہوجائے۔ کیا خوب صورتی سے دوپٹہ اوڑھے نازک اندام سے السلام علیکم کرتی ائیر ہوسٹس دیکھ کر تو مانو گھر ہی یاد آگیا اور دل باغ باغ ہوگیا۔ مسکراہٹ خود ہی ہونٹوں پر رینگ آئی۔ اپنے وطن کے کیا ہی کہنے۔
    جوں ہی جہاز کے اندر قدم رکھا، دیگچے میں چمچ ہلاتی آنٹی پر بھی اسی وقت نظر پڑی۔ واقعی گھر گھر ہی ہوتا ہے۔ گھنٹی بجانے کا کچھ خاص ارادہ تو نہیں رکھتے تھے مگر مجبوراً بجانی پڑی، بے بی بیلٹ جو چاہئیے تھی بہت کوشش اور تلاش بسیار کے بعد بھی بیلٹ میسر نہیں آسکی تھی، سو آنٹی کو زحمت دینی پڑی۔
    ’’بے بی تو گود میں ہوتا ہے۔‘‘
    ہمارے بیلٹ مانگنے پر کراراسا جواب دیا گیا تھا اور ہمیں ماننا ہی پڑا کہ بے بی واقعی گود میں ہوتا ہے لیکن اس کے لیے ایک چیز جسے دنیا بیلٹ کے نام سے جانتی ہے وہ بھی درکار ہوتی ہے۔
    بہرحال کوئی آنٹی سے بحث کیسے کرسکتا تھا جو اپنی بات پر جمی اس خوب صورتی سے مسکرا رہی تھیں کہ دو تین ’’انکل‘‘ تو ویسے ہی ان کی ہاں میں ہاں ملانے کے لیے تیار تھے۔
    بہرحال نتیجہ کچھ یوں نکالا ہے ہم نے کہ سفر سفر ہی ہوتا ہے۔ چاہے اندرونِ ملک ہو یا بیرونِ ملک، سستے جہاز میں ہو یا مہنگے جہاز میں۔ چوں کہ ہم ذاتی طیارے کے سفر کے بارے ابھی کچھ جانتے نہیں ہیں اس لیے اپنی ناقص معلومات اور محدود تخیل کی بدولت اُدھر تک پرواز نہیں کرسکتے۔
    ٭…٭…٭

  • خالو — فیضان قادری

    دوران گفت گو ہمارے ایک خالو کا ذکر آیا، تو سوچا کچھ باتیں ان کی شخصیت پر بھی کرلی جائیں۔ ایسے خالو کسی کے بھی ہوسکتے ہیں کہ خالو پر کسی کا زور نہیں چلتا اور ہمارے خالو پر تو خالہ کا بھی نہیں چلتا۔
    خالو کے والد صاحب جوکہ شاید مغل بادشاہوں کے بہت بڑے فین تھے۔ ان کا نام سید جلال الدین محمد اکبر رکھا اور دوسرے بیٹے کا نام جہانگیر رکھا گیا۔ مزید کوئی بیٹا نہ ہوا ورنہ یہ سلسلہ یقینا بہادر شاہ تک جاتا۔
    بیٹیوں میں البتہ انہوں نے اردو نثر سے متاثرہ ناموں کی ترویج کی۔ نجم السحر خاتون، رفعت جہاں، شوکت آرا سنجیدہ، عشرت آرا، جمیلہ، شکیلہ، نزہت پروین، انجم آرا، صاحب زادی، کلثوم بیگم اور دیگر کسی اورنگزیب عالمگیر کو دنیا میں لانے کی کوشش میں پیدا ہوگئیں۔
    بات یہاں وہاں ہواس سے پہلے اسے واپس خالو کی طرف موڑنا ضروری ہے۔ خیر اپنے نام کی طرح خالو بہت جلالی واقع ہوئے اتنے کہ غصہ ہر دم ناک پر رہتا ہے اور اللہ میاں نے ان کو ناک بھی بہت لمبی عطا کی ہے، تو تادیر وہاں ٹکا رہتا ہے۔ بہت اصولی آدمی ہیں کوئی بات مزاج کے خلاف یا کوئی چیز اس جگہ نہ ملے جہاں وہ ہونی چاہیے، تو بس غصہ چڑھنا شروع اور بات چیت بند۔
    عادات کے اتنے پکے ہیں کہ جیسے وہ صبح ناشتے میں رات کی باسی روٹی چائے میں ڈبو کر کھاتے ہیں اور ایسا بچپن سے کرتے آرہے ہیں تو اپنی شادی کی اگلی صبح بھی انہوں نے یہی ناشتا کیا تھا۔


    صبح پانچ بجے اٹھتے ہیں چاہے دنیا اِدھر سے اُدھر ہوجائے۔ گرمیوں میں جب رمضان کا مہینہ آتا ہے تو چوں کہ سورج جلدی نکل آتا ہے اور اُن کے اٹھنے کا وقت نہیں ہوا ہوتا، تو سحری نہیں کرتے۔ پتا نہیں روزہ کیسے رکھ لیتے ہیں کیوں کہ دوپہر بارہ بجے ان کے کھانے کا وقت طے ہے۔
    رات آٹھ بجے وہ گھر سے نکل جاتے ہیں اور گھر سے کچھ دور چوک پر بیٹھ جاتے ہیں کیوں کہ وہ بچپن سے وہاں بیٹھتے رہے ہیں۔ شروع میں ان کے کچھ دوست وغیرہ بھی بیٹھا کرتے تھے، لیکن وقت کے ساتھ سب ہی مصروف ہوتے گئے۔ سنا ہے کہ اب اکیلے ہی بیٹھتے ہیں اور ایک گھنٹا وہاں گزار کر ہی گھر واپس آتے ہیں۔ چاہے بارش ہو یا طوفان اس ایک گھنٹے کے دوران اگر کسی کو ان سے ملنا ہو، تو وہیں ملیں گے۔
    ہمیشہ اپنے بسترپر ہی سوئیں گے۔ لڑکپن میں ان کی چھوٹی بہن شوکت آرا سنجیدہ غلطی سے اُن کے بستر پر سوگئیں یہ انتظار کرتے رہے کہ اُن کے سونے کا وقت ہو وہ خود اٹھ جائیں یا کوئی اُن کو اٹھا کر ان کی جگہ تبدیل کردے، لیکن جب یہ نہ ہوا اور ان کے سونے کا وقت قریب ہونے لگا، تو بہن کو گود میں اٹھا کر دوسرے کمرے میں فرش پر پھینک آئے۔شادی کے موقع پر جب خاندان کے ایک بزرگ ان کے بستر پر سوگئے تو پوری رات چھت پر کرسی ڈال کر بیٹھے رہے کہ ان کو اٹھا کر پھینک نہیں سکتے تھے حالاں کہ دل تو یہی چاہتا ہوگا یہاں تک کہ ان کے اُٹھنے کا وقت ہوگیا۔
    گھر میں استعمال کی کوئی بھی چیز جیسے گرائنڈر، جوسر اور پانی کی موٹر وغیرہ خراب ہوجائے تو خود ہی ٹھیک کریں گے۔ چاہے وہ کتنی ہی ضروری استعمال کی چیز ہو اور ان کو وقت نہ مل پارہا ہو۔ اگر کسی میکینک سے مرمت کرالی گئی تو حرام ہے کہ اس کا خود استعمال کریں یا اس کے استعمال سے کسی قسم کا فائدہ اٹھا لیں۔ سالوں پرانی بات ہے کہ پانی کی موٹر خراب ہوگئی تو گھر والوں نے اس کی مرمت کسی مستری کو بلا کر کروا لی۔ کئی سال تک ٹینکی میں ڈول ڈال کر پانی نکالتے اور استعمال کرتے رہے۔ سالوں ایسا ہی کرتے رہے۔ جب عمر کے ساتھ ہڈیوں میں جان کم ہونے لگی اور بالٹی بھرنا دوبھر ہونے لگا تو اپنی ضد سے باز آئے۔
    جب بچے چھوٹے تھے تو اکثر رات کو کسی ضرورت سے خالہ کمرے کی بتی جلاتیں جس سے ان کی نیند میں خلل پڑتا۔ روز خالہ سے تلخ کلامی ہوتی کہ ان کی نیند خراب ہورہی ہے اور ان کو خیال نہیں۔ کسی روز خالہ نے جواباً شاید کہہ دیا کہ آپ کیسے باپ ہیں اپنے بچے کے لیے تھوڑی سی نیند خراب کرنا گوارا نہیں کرتے، آخر کیسے وہ اندھیرے میں تمام کام انجام دیں؟ اس بات سے ان کو اتنا غصہ چڑھا کہ آج تک رات میں آنکھوں پر پٹی چڑھا کر اور بتی جلا کر سوتے ہیں۔ شروع شروع میں جب خالہ اپنے کام ختم کرکے بتی بجھا دیتیں تو اٹھ کر دوبارہ جلادیا کرتے آہستہ آہستہ کئی سالوں بعد یہ عادت چھوٹی۔


    شروع میں سگریٹ نوشی کے عادی تھے اور روزانہ ایک ڈبیا سگریٹ پینا لازم تھا۔ اگر دن بھر میں پورا پیکٹ ختم نہ ہوتا تو رات سونے سے پہلے پے درپے سگریٹ پھونکتے اور سونے سے پہلے پورا پیکٹ ختم کرتے۔ اصولی آدمی ہیں ایک دن سوچ لیا کہ کل سے سگریٹ نہیں پئیں گے بس جس دن یہ سوچا اس دن اتنی تبدیلی آئی کہ رات سونے سے پہلے تک انہوں نے سگریٹ کے دو پیکٹ ختم کیے اور اس کے بعد آج تک دوبارہ کبھی ہاتھ نہیں لگایا۔
    خالو کا اصول ہے کہ چاہے کتنے بھی بیمار ہوں کبھی ڈاکٹر کے پاس نہیں جائیں گے۔ دیسی طریقے سے اپنا علاج خود کریں گے۔ ایک مرتبہ گرمی میں عین دوپہر کے وقت چھت پر کسی کام میں لگے ہوئے تھے کہ لو لگنے سے بے ہوش ہوگئے۔ گھر والے اٹھا کر اسپتال لے گئے جوں ہی ہوش میں آئے اور خود کو وہاں پایا تو غصے میں ڈرپ کھینچ کر نکالی اورپیدل ہی گھر روانہ ہوگئے۔
    ہمیشہ ایک ہی درزی سے کپڑے سلواتے اور ایک ہی ڈیزائن کی چپل پہنتے ہیں۔ اب یہ کیسے ممکن ہے کہ ان سب کی خریداری ایک ہی دکان سے نہ کرتے ہوں جی ہاں بالکل ممکن نہیں ہے۔
    پوری زندگی استرے سے شیو بناتے آئے ہیں کہ جب شیو بنانا شروع کیا تھا اس وقت یہ ہی اوزار استعمال کیا تھا۔
    یہ تو کچھ باتیں ہوگئیں پختہ عادات کی اس کے علادہ کچھ اور باتیں بھی ان کی شخصیت میں قابل ذکر ہیں۔
    پرانی چیزوں سے لگاؤ اس قدر ہے کہ کوئی بھی چیز استعمال کے بعد پھینکنے کے قائل نہیں ہیں۔ ان کا یقین ہے کہ :
    ؎نہیں ہے چیز نکمی کوئی زمانے میں
    شاعر نے تو یہ بات بس یوں ہی کہہ دی، لیکن اس کا عملی مظاہرہ اگر وہ خود دیکھ لیتے تو اپنے اس شعر سے دست برداری کا اعلان باقاعدہ پریس کانفرنس کرکے کرتے کہ خدا کی قسم میرا اس شعر سے وہ مطلب نہیں تھا جو انہوں نے لے لیا ہے۔
    خالوکے گھر کی چھت پر ایک کمرا ہے۔ اس میں داخلے کی جگہ ختم ہوچکی ہے۔ اس میں ہر وہ چیز جس کے دوبارہ استعمال ہونے کے بارے میں ایک فیصد بھی شک ہو۔ سینت کر رکھی ہوئی ہے۔ بعض چیزیں دیکھ کر سوال خود بہ خود پیدا ہوتا ہے کہ ان کا آخر کیاکام ہے۔ مثلاً دیوار پر چابیوں کا ایک بڑا گچھا ٹنگا ہوا ہے جس میں تقسیم ہند سے قبل بننے والے تالے کی جو اپنی زندگیاں پوری کرکے کب کے مٹی میں مل چکے ہیں ان کی بھی چابیاں محفوظ ہیں۔ اس گچھے میں کم از کم ایک ہزار زنگ آلود چابیاں لٹکی ہوئی ہیں۔ کہتے ہیں کہ ایک زمانے میں اگر سڑک پر چلتے ہوئے انہیں کوئی چابی گری ہوئی مل جاتی تو اٹھا کر گھر لے آتے اور لاکر اسی گچھے کا حصہ بنا دیتے کہ شاید کبھی کام آجائے لیکن کبھی گھر کا کوئی تالا کھلوانا ہو تو باہر سے تالے چابی والے کو بلایا جاتا ہے مبادہ استعمال سے کوئی چابی ٹوٹ جائے اور اس خزانے میں سے ایک چابی کم ہوجائے۔ ایک کونے میں ایک ریک رکھا ہے اس پر اوپر نیچے تمام جگہ شیشے کی خالی بوتلیں اور مرتبان رکھے ہیں جو اپنی قسمت کو رو رہے ہیں۔ ان میں بہت سوں کی عمر پچاس سال سے زیادہ ہے یہ تو ایک طرف رہی ان کی ایک بہن کینیڈا مقیم ہیں۔ بہت سال پہلے جب وہ پاکستان آئیں تو پینے کے لیے منرل واٹر کی بوتلیں استعمال کرتی رہیں اور یہ ان بوتلوں کو جمع کرتے رہے یہاں تک کہ تمام بوتلیں اوپر کمرے میں پہنچ گئیں۔ ان کی بہن کے جانے کے بعد یہ خبر ان تک پہنچی تو اب وہ یہ کرتی ہیں کہ جب بھی آتی ہیں خالی ہوجانے والی بوتلوں کو ہاتھ کے ہاتھ ٹھکانے لگاتی رہتی ہیں اور جمع کرنے کا موقع نہیں دیتیں۔


    ایک ٹرنک میں گھر کے تمام پرانے لحاف، گدے اور تکیے موجود ہیں۔ گھر میں سالوں پہلے جو فریج آیا تھا اس کا ڈبا بھی سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ زمانے کی ہوا اور دھوپ لگنے سے وہ تقریباً برادہ بن چکا ہے کہ ہاتھ لگانے سے جھڑنے لگتا ہے۔ اس لیے اسے اب کوئی ہاتھ ہی نہیں لگاتا۔
    گھر کی پرانی چوکھٹیں جو دیمک لگنے کہ وجہ سے نکال دی گئی تھیں آج بھی چھت پر رکھی ہوئی ہیں۔ سال چھے مہینے میں ان پر دیمک مار سپرے کرتے ہیں کہ شاید اس طرح وہ قابل استعمال ہوجائیں۔
    بڑے بیٹے کی شادی پر جو پھول کمرا سجانے کے لیے استعمال کیے گئے تھے۔ وہ ایک ٹوکرے میں ڈال کر اسی کمرے میں رکھ آئے تھے۔ آج بھی اسی طرح رکھا ہوا ہے۔ پھول مرجھاگئے اور اس حجلہ عروسی میں ہونے والے واقعات کے نتیجے میں جنم لینے والے بچے اب بستے لٹکا کر اسکول جانے کی عمر کو پہنچے۔ حال یہ ہے کہ ٹوکرے کے پھول اب بھی رکھے ہوئے ہیں بالکل برادہ ہوچکے ہیں اور کمرے کا دروازہ کھولنے پر ہوا کے دباؤ کے باعث اڑتے رہتے ہیں، لیکن وہ پھینکنے پر رضامند نہیں ہیں۔
    اسی کمرے میں ایک سیمنٹ کی بوری میں استعمال شدہ سکرو اور کیلیں جمع ہیں جو نصف صدی سے جمع ہوتے ہوتے اب بوری کے منہ تک آچکے ہیں۔ اُس کمرے میں سیمنٹ کی وہ خالی بوریاں بھی موجود ہیں جو عرصہ بیس سال قبل گھر کا فر ش پکاّ کرانے میں استعمال ہوئی تھیں۔
    خالو کی عادات اور ان کی شخصیت پر بات تو بہت ہوسکتی ہے، لیکن وقت اجازت نہیں دیتا۔
    سوچتا ہوں کہ اگر وہ ایک عام سی زندگی گزار رہے ہوتے تو کچھ بھی ایسا دل چسپ وجود میں نہ آتا۔ اللہ خالو کی عمر دراز کرے کبھی دوبارہ باقی بچ جانے والے واقعات ذکر کروں گا۔
    آخر میں بس اتنا ہی کہ اگر کسی اور کے پاس بھی ایسے خالو ہیں تومجھے ضرور مطلع کریں۔ مجھے ایسے دوسرے انسان کو دیکھنے کابچپن سے اشتیاق ہے۔
    ٭…٭…٭

  • چاند پر پاکستانی — ارم سرفراز

    ہمارے دورِ طفولیت کی جم غفیر یادوں میں سر فہرست اپنی اماں کی ذاتی رائے اور صاف گوئی کی وہ دو دھاری تلوار ہے، جس کا وار وہ عام و خاص کی تمیز کیے یا کسی کا بھی ادھار رکھے بغیر استعمال کرنے میں ملکہ رکھتی تھیں۔ اماں کی اس دمکتی تلوار کو کبھی میان میں بھی دو گھڑی سکون کا سانس لیتا دیکھنے کی حسرت لیے ہی ہم میکے سے سدھارے ۔
    مثال کے طور پر اسی دور نا اہلی میں جب ہماری لنگوٹیا یاروں نے گردنیں اکڑا اکڑا کر ہمیں اطلاع فراہم کی کہ بہ قول ان کی نانیوں، دادیوں اور دیگر کہانی سنانے والی ہستیوں کے ، چاند پر پریوں کی رانیوں اور کوہ قاف کی ملکاؤں کا بسیرا ہے تو ہم نے سر پٹ دوڑ لگائی اور بلا توقف یہ سنسنی خیز خبر بہ خاطرِ تصدیق اماں کے گوش گزار کر دی۔
    اماں کا فوری ردِعمل، مع کڑے تیوروں ، ہمارا سرسے پیر تک کا تنقیدی جائزہ تھا گویا خبر سے زیادہ ہماری موجودہ صحت جانچ رہی ہوں۔ اماں ہماری صحت اور صحبت دونوںپر عقابی نظر رکھتی تھیں کہ کوئی بے ہودہ گوئی یا بھونڈی اول فول ہمارے چشم و سماعت سے نہ گزرے اور ہمارا معصوم و بے شر اخلاق ہر نوعیت کی غیر مہذب و غیر متمدن اخلاقیات سے محفوظ رہے۔ اماں کی اس جابرانہ جانچ پڑتال کا گلہ عالم نوجوانی میں یہ دیکھ کر جاتا رہا کہ ابا میاں بھی کچھ ایسی ہی نوعیت کی تفتیش کا شکار رہتے تھے۔


    ہماری صحبت کے اگلے پچھواڑے چھانٹنے کے بعد اماں نے اپنے نادر اصول پسندانہ انداز میں چاند کو پریوں کا دیس ہونے کی سنسنی خیز اطلاع کو تہس نہس کیا پھر ہمیں اپنے عاقلانہ ٹھوس رویے میں سمجھایا کہ چاند درحقیقت اس قدر واہیات جگہ ہے کہ وہاں پریاں اور کوہ قاف کی ملکائیں تو خاک، ضعیف العقل بھوت پریت بھی گزارا نہیں کر سکتے ۔ گھریلو امورو خانہ داری پر اماں سے ہمارے اختلافات ایک طرف لیکن ان کی کسی بھی رائے سے انحراف ہماری گھٹی میں ہی شامل تھا۔
    خواندگی کی معقول منازل طے کرنے کے بعد سائنس نے بھی یہ حقیقت ہم پر آشکار کر دی کہ چاند واقعی ایک نکما سیاّرہ ہے، جہاں چڑیلوں اور ڈھڈووں کا بھی گزارا محال ہے۔
    لیکن ہمارے اس سال خوردہ پختہ عقیدے میں اب ترامیم واقع ہو چکی ہیں۔ اب ہم حلفیہ بیان دے سکتے ہیں کہ اگر آدم زادوں کی کوئی نسل چاند پر پر مسرت، کامران و شادماں زندگی گزارسکتی ہے تو وہ ہمارے سرکش و ڈھیٹ ہم وطن ہیں ۔ اس اچھوتے دعوے کی عمل پذیرائی اور اس کی متوقع کامرانی کے کئی قوی و لازم امکانات ہیں۔
    سب سے اوّل اور روز روشن کی طرح عیاں وجہ تو یہ ہے کہ حکومت وقت کڑوڑوں نٹ کھٹ شہریوں سے اور شہری اپنی متلون مزاج حکومت سے دائمی طور پر بے زار رہتے ہیں، لہٰذا حکومت خود ان تمام ریں ریں کرتے شہریوں کو فی الفور اپنے ذاتی پلے سے خرچے پر چاند پر روانہ کر دے گی۔ چاند ایک لاجواب انتخاب اس لیے بھی ہے کیوں کہ عالم گیر سیاسی حالات اور پاکستانیوں کی دنیا بھر میں ’’نکو‘‘ ساکھ کے پیشِ نظر یہی وہ واحد مقام ہے جہاں سے ان کی جلاوطنی یا دیس نکالا کے امکانات قلیل ترین ہیں۔
    چاند پر پانی ، بجلی، کھانا، کھیت کھلیان، درخت، ڈاکٹر، امراض کا علاج، اچھے اسکول، کالج، غرض ہر وہ چیز ناپید ہے جس کی ضرورت ایک خوش حال ، کامیاب ، اور صحت مند زندگی کے لیے ناگزیر ہے ۔ چوں کہ ہمارے عزیز ہم وطن ان تمام ضروریات کے بغیر بھی زندہ رہنے کے بہ خوشی عادی ہیں ، لہٰذا انہیں چاند پر معمولی سی بھی نوعیت کی دشواری پیش آنے کے امکانات صفر ہیں۔ حقیقت انہیں اپنے ہی آنگن میں واپس آ جانے کا انوکھا اور مانوس سا احساس گھیر لے گا ۔
    چاند پر البتہ کنوارے مرد حضرات کی تمنا کو مہیب ٹھیس پہنچے گی، جو یہاں پریوں اورشہزادیوں کی آس لگائے پہنچیں گے اور سخت مایوسی کا شکار ہوں گے۔ اب ہر کسی کی اماں ہماری اماں کی طرح صاف گو تو ہوتیں نہیں ۔
    چاند کے داخلی پھاٹکوں پر شادی شدہ حضرات کا ازدحام بھی قابل نظارہ ہوگا کیوں کہ ان کی موت سے پہلے کی آرزوؤں میں سرفہرست بیویوں سے چھٹکارا ہوتا ہے۔لیکن یہ ان کی نری خام خیالی ثابت ہو گی کیوں کہ چاند پر پہنچنے والا ایک اور جاذب توجہ گروہ ان حضرات کی پیچ و تاب کھاتی منکوحات کا ہوگا ۔ وہ اس لیے کہ ما قبلِ ایجاب و قبول ہی ان کے والدین انہیں باورکروا چکے ہوتے ہیں کہ میکے کے دروازے اب ان پر تاحیات مقفل ہیں اور سسرال سے اب ان کا جنازہ ہی اُٹھنا چاہیے ۔ لہٰذا اپنے بھگوڑے شوہر حضرات کے پیچھے وہ چاند چھوڑ، مریخ پر بھی جانے کے لیے ہمہ وقت کمر بستہ رہتی ہیں ۔
    ہم نے تو یہ بھی سنا ہے کہ لا تعداد میکے والے اضافی حفاظتی تدابیر کے طور پر اس یاد دہانی کا اندراج نکاح نامے کی دستاویز کے اندر بھی کروا دیتے ہیں تاکہ دونوں فریقین کے باقاعدہ اس قانونی دستاویز پر دستخط حاصل کر لیے جائیں اور آنے والے وقتوں میں فرماں روا اور حزب ِاختلاف ، دونوں گروہ اپنے اپنے مورچوں پر جم کر بیٹھے رہیں اور ہر دو دو دن پر میکے والوں کی جان عذاب کرتے نہ پائے جائیں ۔ لہٰذا یہ مہم جو خواتین بھی سر دھڑ کی بازی لگا کراپنے سر کے تاجوں کو پاتال سے بھی ڈھونڈھ نکالنے پر مصر ہوتی ہیں ۔


    ہمارے ذاتی قیاس میں سسرالیوں کی قابلِ احترام سماجی ساکھ کو TVکے ڈراموں نے ہولناک صدمہ پہنچایا ہے ورنہ مکاری میں میکے والے بھی اپنا جواب نہیں رکھتے ۔ اسی بات سے اندازہ لگائیے کہ نکاح ناموں میں مندرجہ بالا آئین کا اندراج اس قدر خفیہ ہوتا ہے کہ لڑکے والوں کو اس کا علم ساس بہو کی پہلی دھکم پیل پر ہی ہوتا ہے اور اس وقت تو معاملہ ’’اب روت کیا ہوت جب چڑیاں جگ گئیں کھیت‘‘ ہو چکا ہوتا ہے ۔ اپنی متوقعہ شادیوں کی شادمانی میں بدحال ہوتے لڑکوں اور ان کے پر جوش اہل خانہ سے گزارش ہے کہ نکاح ناموں پر دستخط ثبت کرنے سے قبل اس کا باریک بینی سے مطالعہ کر لیں تاکہ میکے والوں کی لچھے دار خفیہ کارستانیوں کا بھانڈا بروقت پھوٹ جائے ۔
    چاند پر ہماری نوجوان پود بھی سیلابی ریلے کے مانند اُمڈی آئے گی کیوں کہ اس عمر میں دور کا ہر ڈھول سہانا ہوتا ہے چاہے وہ چاند جیسی بھیانک اور اجاڑ جگہ پر ہی کیوں نہ پٹ رہا ہو۔ ان شاداں و فرحاں سامعین کو ڈھول پھٹا ہوا ملنے کی اتنی آزردگی نہیں ہوگی جتنی wifi نہ ہونے کی ہوگی ۔ حکومت وقت سے گزارش ہے کہ چاند پر وائی فائی کا فی الفور انتظام کر دیا جائے کیوں کہ یہ وہ گیدڑ سنگھی ہے جس کی بدولت ہمارے ہونہار جوان ، جن کے آسرے پر ملک کا مستقبل ہے ، راتیں آنکھوں میں تمام کرسکتے ہیں اور کٹھن سے کٹھن مرحلہ ماتھے پر بل لائے بنا سر کر سکتے ہیں ۔ بہر صورتِ دیگر وائی فائی کے بغیر یہ بے نتھے بیل ہو جاتے ہیں اور ہوش و حواس سے قطعی بے گانہ ، ہر رخ اور سمت سے بے پروا ، در و دیوار اور ہر نسل کے جان داروں سے ٹکراتے پھرتے ہیں ۔
    جس طرح شادی شدہ افراد کے پیچھے ان کی بیویاں آئیں گی ، اسی طرح ان فاضل نوجوانوں کے پیچھے وہ آئیں گی جنہیں ان کی جستجو جو اپنی عمر کے سولہویں سال سے ہی پڑ جاتی ہے ،یعنی شادی کی امیدوار دوشیزائیں ۔چوں کہ پاکستان کے چاروں صوبوں میں لائق فائق کنواروں کا مکمل کال پڑ چکا ہے لہٰذا مناسب رشتوں کی ڈھونڈ ڈھانڈ میں ہماری چاق و چوبند دوشیزائیں چاند پر بھی جانے سے گریز نہیں کریں گی ۔
    ہمارے بزرگ بھی چاند پر آؤ دیکھا نہ تاؤ پہنچیں گے کیوں کہ شادی شدہ بیٹوں کی ماں کی غیرت یہ گوارا نہیں کرتی کہ وہ ہر اس جگہ موجود نہ ہوں جہاں پر بہو موجود ہو ۔کنوارے لڑکوں کی ماں کو یہ فکر گھن کی طرح چاٹ رہی ہوتی ہے کہ کہیں ان کے ہونہار سپوت کسی چنڈال چڑیل کے ہتھے نہ چڑھ جائیں۔ ابا لوگوں کو امائیں ’’جہاں ہم وہاں تم‘‘ کے مقولے پر عمل کرتے ہوئے ساتھ ہی گھسیٹے لیے آئیں گی ۔ وجوہات کی سر فہرست باہم اتفاق اور محبت نہیں، بلکہ شوہروں پر چوکی داری میں سہولت ہوتی ہے۔ اب کون چاند پر بیٹھ کر زمین پر موجود خاوند پر نظر رکھے۔
    اپنے والدین کے ہمراہ بچے تو لازم و ملزوم بندھے آئیں گے اور بڑے خوش و خرم آئیں گے کیوں کہ انہیں چاند پر کسی بھی نوعیت کے تعلیمی اداروں کی عدم موجودگی اور زمانہ آئندہ میں بھی ان کے قائم نہ ہونے کی بھنک زمین پر ہی پڑ چکی ہو گی۔ اس قسم کی خبریں پاجی و ہونہار پاکستانی اطفال سو میل سے بھی سونگھ جانے میں مہارت رکھتے ہیں ۔ پاکستانی آبادی کا یہ کاہل ترین اور سست الوجود گروہ اپنی کتابیں ایدھی سینٹروں میں ہدیہ کر کے اپنے بستوں میں کرکٹ کی گیندیں اور بغلوں میں بلے گھسیڑے شادمانی کے بینڈ بجاتے چاند پر پہنچیں گے ۔
    تجویز تو ہم نے پیش کر دی ہے اور شاید حکومت وقت اس تجویز سے استفادے کا سوچ بھی لے۔ اعلان کے لیے ٹی وی پر چلتے tickerپر مستقل نظر رکھیے۔ایسا نہ ہو آپ کی فلائٹ مس ہو جائے۔
    ٭…٭…٭

  • عشقِ کامل — نازیہ خان (دوسرا اور آخری حصّہ)

    بے عقل ہے انسان وہ عشق کی قیمت کیا جانے
    اس راز کو بس خدا جانے یا محبت کا طلب گار جانے

    بے ذوق کہیں سودا نہ کر بیٹھی عشقِ کامل کا
    نہ قیمت ادا وہ کر پائے گا، نہ خزانہ تجھ سے سنبھل پائے گا۔

    تیری عقل کی چادر سے پردہ اُٹھا دے گا وہ
    کہ ہر عشق میں اپنا آپ دکھا دے گا وہ

    یہی تو راز تھا تجھے محبتوں میں گھیرایا اُسنے
    پھر لوٹ کر اپنا آپ ہی دکھا اُسنے

    وقا کے راز ہیں یہ تو کیا جانے گا اے غافل
    وقت کو روک کر اسنے بھی بلایا اپنا محبوب پھر آخر

    وہی تو ابتدا تھی، اُسی پر انتہا ہوگی
    بے نام و نشان کو ہی تو درویشیاں عطا ہونگی
    …٭…



    سعدیہ بالکل خاموش ہوچکی تھی اور سب کچھ بھول کر بس اپنے رب کی عبادت میں لگی رہتی۔ محبت کی منزل صرف خدا ہی ہوتا ہے، پھر چاہے وہ انسان کی محبت ہی کیوں نہ ہو بس محبت کا جذبہ سچا ہونا چاہیے، محبت کا ہر راستہ بندے کو آخر اللہ سے ہی ملواتا ہے۔
    سعدیہ نے بھی حاشر سے سچی محبت کی تھی جس نے اُسے اُس کے اللہ کے ساتھ جوڑ دیا۔
    عشقِ مجازی سے وہ عشقِ حقیقی تک جا پہنچی۔
    …٭…
    اب اُس کی نماز بہت خوبصورت ہوچکی تھی کسی چیز کی چاہ نہیں بچی تھی، وہ اب بس دُنیا اور آخرت کی بھلائی مانگا کرتی تھی۔۔۔ روح پرُسکون اور دل بے ذوق ہوچکا تھا۔۔۔ وہ کئی گئی گھنٹے قرآنِ پاک پڑھتی، قرآنِ پاک کی خوشبو اُس کی روح کو مہکا دیتی۔۔۔ جب وہ قرآنِ پاک کا ترجمہ پڑھتی تو ایسے لگتا جیسے وہ پاک ذات سامنے بیٹھی ہے اور اُسے اس کے ماضی کی غلطیاں گنوا رہی ہے ایک، ایک لفظ اُس کی روح کو تروتازہ کردیتا، وہ اچھی اور سچی مسلمان بن چکی تھی۔۔۔ اس طرح ایک مہینہ بھی نہیں گزرا ہوگا کہ اُس کو خواب آنے لگے، کبھی اُسکے ہاتھ میں پھولوں کی ٹوکری ہوتی، کبھی کوئی میٹھی چیز اور کبھی وہ اُڑنے والے گھوڑے پر کسی خوبصورت جگہ کی سیر کرتی۔۔۔
    اُسے اکثر آنے والے دِن کی پیش گوئی بھی ہوتی شاید خدا نے اُسکی توبہ قبول کرلی تھی۔
    …٭…
    مریم چونکہ ہوسٹل میں رہتی تھی وہ اکثر اکیلی شاپنگ کرنے جاتی، ایک دن اُس نے راستے میں ایک سڑک کے کنارے حاشر کو دو لڑکوں سے مار کھاتے دیکھا اور پاس ایک لڑکی بھی موجود تھی، مریم حیران پریشان گاڑی کا شیشہ کھول کر دیکھنے لگی۔
    ”کیا یہ حاشر ہے؟ نہیں یہ حاشر کیسے ہوسکتا ہے” وہ منہ میں بلبلائی۔
    اُس نے فوراً سعدیہ کے نمبر پر فون کیا۔
    ”سعدیہ” وہ خوفزدہ تھی۔
    ”ہاں بولو” سعدیہ نے حیرانگی سے کہا۔
    ”نہیں کچھ نہیں۔۔۔” مریم نے فون بند کردیا۔
    سعدیہ فون کان سے ہٹا کر حیران ہوئی اور پھر کا کرنے لگی۔
    فون بند کرنے کے بعد مریم کو ملامت ہونے لگی وہ دراصل یقین نہیں کر پارہی تھی کہ یہ حاشر ہی ہے۔
    …٭…



    صبح صبح سعدیہ یونیورسٹی کی بس سے اُتری اُس نے اپنے سامنے مریم کو پایا۔
    ”تم اتنی صبح کیا کررہی ہو؟” اُس نے حیرانگی سے پوچھا۔
    ”کچھ نہیں۔۔۔ بس آج جلدی آگئی” وہ ہچکچاتے ہوئے بولی۔
    سعدیہ مسکرائی۔۔۔
    ”لائبریری چلیں؟” سعدیہ نے سوال پوچھا۔
    ”نہیں سعدیہ۔۔۔ مجھے تم سے کچھ بات کرنی تھی۔”
    ”ہاں بولو!۔۔۔ کوئی پریشانی کی بات ہے مریم؟” سعدیہ نے اُس کا چہرہ غور سے دیکھا۔
    ”دراصل سعدیہ۔۔۔ مجھے تم سے پوچھنا تھا کہ تم مجھے حاشر کی تصویر دِکھا سکتی ہو؟” وہ ڈرتے ڈرتے بولی۔
    ”ہاں۔۔۔ کیوں نہیں” سعدیہ نے بیزاری سے جواب دیا۔
    وہ اپنے موبائل کے کونے کھدڑے سے اُس کی تصویر ڈھونڈنے لگی، موبائل کی ساری گیلری نوس سے بھری ہوتی۔۔۔ کچھ دیر بعد آخر ایک تصویر مل ہی گئی۔
    ”یہ لو مریم!” اُس نے بیزاری سے موبائل پکڑایا اور اِدھر اُدھر دیکھنے لگی، جیسے کہ وہ ایک نظر بھی اُس تصویر پر نہ ڈالنا چاہ رہی ہو۔۔۔
    ”ہاں وہ حاشر ہی تھا۔۔۔” مریم تصویر دیکھتے ہی چلائی۔
    ”کون؟” سعدیہ نے حیرانگی سے پوچھا۔
    مریم نے اُسے گزرے دن کا قصہ سُنایا۔
    ”یہ کیسے ہوسکتا ہے؟” اُس نے اچانک سے پوچھا۔
    اُس کے چہرے سے رنگ اُڑ چکا تھا مگر وہ اپنے جذبات پر قابو پانا سیکھ چکی تھی۔
    ”سعدیہ میں نے خود دیکھا تھا وہ حاشر ہی تھا” مریم نے پھر سے کہا۔
    ”تو میں کیا کروں؟ میرا اُس سے اب کوئی لینا دینا نہیں” وہ غصے میں چلائی، موبائل اُس کے ہاتھ سے چھینا اور لائبریری چلی گئی۔
    مریم وہاں کھڑی اپنے آپ کو کوسنے لگی۔
    ”شاید مجھے سعدیہ کو نہیں بتانا چاہیے تھا” وہ پریشانی میں بلبلائی۔
    …٭…
    لائبریری میں سعدیہ کے علاوہ کوئی اور مطالعہ کرنے والا نہ تھا، وہ اکیلی کتاب اپنے سامنے رکھے ناجانے کہاں ٹِکٹِکی لگائے بیٹھی تھی۔
    آخر حاشر کیساتھ ہوکیا رہا ہے؟ اُس نے اپنی کیا حالت بنا رکھی ہے اور اب یہ سب۔۔۔ نہیں مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا” وہ منہ میں بلبلائی۔
    بار بار اُسے حاشر کی فکر ہونے لگتی مگر وہ سر ہلاتے ہوئے اپنے آپ کو چونکاتی اور مطالعہ کرنے کی ناکام کوشش کرتی۔
    وہ دِل سے ضرور نکل چکا تھا مگر ابھی بھی اُس کے وجود کا حصہ تھا۔
    دِن بھر اُس کی فکر میں آنکھیں نم ہوتی رہیں۔
    …٭…



    اُس نے اپنی پرانی سِم موبائل میں ڈالی اور تیز تیز سعدیہ کا نمبر ڈھونڈنے لگا، نمبر ملتے ہی اُس نے سعدیہ کو فون ملایا ”کیا تم مجھ سے کل میری یونیورسٹی میں مِل سکتی ہو؟” اُس نے ہکلاتے ہوئے پوچھا اُس کی آواز سنتے ہی جسم لرز گیا، وہ ہکی بھکی فون کان سے لگائے کھڑی تھی۔
    ”مگر کیوں؟” اُس نے لرزتی ہوئی آواز سے پوچھا ”یہ میں تمہیں کل بتاؤں گا۔”
    اُس کی انّا گوارہ نہیں کررہی تھی کہ وہ ہاں کردے اور انکا کرنا اُس کے دل اور دماغ دونوں کو منظور نہ تھا۔
    وہ خاموسی سے اُس کے جواب کا انتظار کررہا تھا۔
    دل نے آج پھر بازی مار لی اور اُس نے ملنے کا فیصلہ کیا۔
    ”ٹھیک ہے میں آجاؤں گی” کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اُس نے جواب دیا۔
    حاشر نے فوراً فون بند کیا۔
    وہ کافی دیر فون ہاتھ میں پکڑے یقین کرنے کی کوشش کرتی رہی۔
    وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ حاشر اب اُس سے کیوں ملنا چاہتا ہے۔
    ”کیا وہ پھر سے میری عزتِ نفس کی دھجیاں اُڑائے گا؟” اپنے آپ سے سوال کرتے ہوئے اُس نے ماتھے پر بَل ڈالے۔
    ”مگر اب میں بہت بدل چکی ہوں حاشر علی” اپنے آپ پر فخر کرتے ہوئے وہ مسکرائی۔
    …٭…
    جب تک وہ یونیورسٹی پہنچتی وہ پہلے سے اُس کا انتظار کررہا تھا۔
    ”ہاں بولو؟ کیوں بلایا ہے مجھے؟” اپنی چادر ذرا سی چہرے سے پرے کرتے ہوئے اُس نے غصے سے پوچھا، وہ اُس سے نظریں نہیں ملا رہی تھی۔ وہ جانتی تھی ایک بار ٹکراؤ ہوا تو آنکھیں جھپکنا مشکل ہوگا۔
    ”سعدیہ مجھے کچھ پیسے چاہیے” وہ شرمندگی سے بولا۔
    سعدیہ نے حیرانگی سے اُس کا چہرہ دیکھا اور پھر رُخ بدل لیا۔
    ”لیکن تمہیں پیسے کیوں چاہیے؟ تمہیں پیسوں کی کیا کمی ہے؟” اُس نے حیرانگی سے پوچھا۔
    ”میں بہت مشکل میں ہوں سعدیہ، پلیز میری مدد کرو” اُس نے التجا کی۔
    ”کیا تم نے کسی سے شادی کررکھی ہے؟” سعدیہ نے بڑی نفرت سے بھنویں اچکائیں۔
    ”نہیں! میں نے کسی سے شادی نہیں کی اور نہ میں کسی اور میں Interested ہوں” وہ چلایا۔
    ”تو پھر کیا وجہ ہے جو تم نے مجھ سے شادی سے انکار کیا؟ اگر تم مجھ سے شادی نہیں کرنا چاہتے تو نہ کرو مگر اپنے گھر والوں سے اس طرح لاتعلق ہونا غلط ہے۔” وہ بھی چلائی۔



    ”اِس کی وجہ کچھ اور ہے، اور وہ میں کسی کو نہیں بتا سکتا” اُس نے شرمندگی سے کہا۔
    ”میں جانتی ہو تم مجھ کبھی پسند نہیں کرتے تھے میں تمہاری ٹائپ نہیں ہوں مگر اس طرح اپنی زندگی خراب نہ کرو خدا کے لیے” اُس نے ہاتھ جوڑے۔
    ”میں نے تمہیں یہاں اس لیے نہیں بلایا” وہ غصے سے مرا۔
    ”مجھے کچھ پیسوں کی ضرورت ہے کیا تم میری مدد کرسکتی ہو؟ یا میں جاؤں؟”
    ”کس لیے چاہیے پیسے؟” اُس نے تجسس سے پوچھا۔ ”میں بہت مشکل میں ہوں سعدیہ! میری مدد کرو” وہ آنسوؤں سے بھری ہوئی آنکھوں کے ساتھ بولا سعدیہ اُس کی بے بسی پر حیران تھی، اُس کے آنسوؤں کی چمک اُسے خوفزدہ کررہی تھی، آخر اُس نے بے رخی کا نقاب اُتار دیا۔
    ”کیا مشکل ہے حاشر؟ مجھے بتاؤ؟
    تم کچھ بتاتے کیوں نہیں” اپنے آنسوؤں کو قابو کرتے ہوئے وہ پوچھتی رہی۔ حاشر نے نظریں چرائیں۔
    ‘دبتاؤ حاشر؟ میں تمہاری مدد کروں گی۔ بھروسہ کرو مجھ پر” بے چینی کے عالم میں التجا کرتی رہی۔ ”سعدیہ میں ایک Drug Addicted ہوں اور کچھ دیر ہی زندہ رہ پاؤں گا۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے اپنی زندگی برباد کردی، سب کچھ تباہ کردیا میں نے۔ اپنی ساری جائیداد بیچ ڈالی۔
    مگر اب تمہاری زندگی برباد نہیں کروں گا” وہ شرمندگی سے بولتا رہا ”یہ سب کیسے ہوگیا حاشر؟” سعدیہ ہکی بھکی رہ گئی، کچھ لمحوں کے لیے اُس کے دِل کی دھڑکن رُوک سی گئی۔
    ”ایک تمنا نامی لڑکی نے مجھ سے دوستی کی اور مجھے ایک چھوٹی سی آئس کریم کی دُوکان سے ڈر گز کے ساتھ جوس پلاتی رہی۔ اُس نے مجھ سے میرا سب کچھ چھین لیا” وہ گہری سوچ میں گُھم تھا۔
    ”اس سب میں تمہارا دوست عثمان بھی شامل ہے” سعدیہ نے بات کاٹی۔
    ”نہیں! وہ تو اُن لوگوں کو جانتا بھی نہیں”
    ”حاشر وہ لڑکا اس سب میں شامل ہے” اُس نے بات کو زور دیا۔
    تم یہ کیسے کہہ سکتی ہو؟” حاشر نے تجسس سے پوچھا۔
    ”مجھے نہیں پتہ مگر وہی ہے تمہاری بربادی کی اصل وجہ۔۔۔ وہ ایک گھٹیا اور جھوٹا انسان ہے اُس نے مجھ سے، ماموں سے تمہارے بارے میں جھوٹ بولا کہ تم بالکل ٹھیک ہو” وہ حیران ہوکر اُسے دیکھنے لگا۔
    ”حاشر تم میرے ساتھ چلو۔۔۔ میں تمہاری مدد کروں گی” اُس کی آنکھوں میں محبت صاف جھلک رہی تھی۔
    ”نہیں میں کہیں نہیں جاؤں گا۔ سعدیہ بس تم کچھ پیسوں کا انتظام کردو۔”
    ”کتنے پیسے چاہیے تمہیں حاشر؟”
    ”2,000,000” وہ شرمندگی سے بولا۔
    سعدیہ گھبرائی مگر اُس نے پیسوں کا انتظام کرنے کی حامی بھرلی۔

  • عشقِ کامل — نازیہ خان (پہلا حصّہ)

    سورج کی روشن کرنیں پردوں کے کناروں سے بڑی شدت سے اُس کے کمرے میں داخل ہورہی تھیں مگر ابس کی نیند میں ذرا خلل نہ آیا۔
    کچھ ہی دیر میں ملازم ڈرتے ڈرتے کمرے میں داخل ہوا ”حاشر بابو اُٹھ جائیے” وہ آہستہ سے بولا۔ ”حاشر بابو۔۔۔ حاشر بابو”
    مگر وہ تو جیسے گھوڑے، ہاتھی سب کچھ بیچ کر سو رہا تھا۔ ملازم بڑی مایوسی چہرے پر لیے پھر سے مڑا، کمرے میں یہ اُس کا کوئی چوتھا چکر ہوگا۔ دروزے تک پہنچ کر یاد پیا کہ بیگم صاحبہ نے جاتے ہوئے درخواست کی تھی ”فیکے بھائی حاشر کو میں بس آپ کی ذمہ داری پر چھوڑ کر جارہی ہوں، آپ تو جانتے ہیں یہ کِس قدر لاپرواہ لڑکا ہے، اِس کا خاص خیال رکھیے گا اور کھانے پینے میں ذرا دیری نہ ہو۔” اپنی وفاداری اور نمک حلالی کے چکر میں وہ پھر سے مڑا اور اب ذرا روب دار لہجے میں آواز دی: ”حاشر بابو اُٹھ جائیے، ناشتے کے لیے جگا رہا تھا مگر اب دوپہر کے کھانے کا وقت ہوچکا ہے۔” حاشر نے ذرا سی کروٹ بدلی۔
    ”ابھی اُٹھتا ہوں۔۔۔ آپ جائیے۔”
    ”اب اُٹھ جائیے گا خدا کے لیے” اُس نے غصے سے درخواست کی۔ حاشر فیکے کے کہنے پر تو کبھی نہ اُٹھتا مگر دوبارہ آنکھیں بند کرتے ہوئے اُسے ایک دَم خیال آیا کہ اُس نے تو ماں سے وعدہ کیا تھا کہ وقت پر سارے کام کرے گا اور ابھی ماں باپ کو گئے ہوئے ایک دن نہیں گزرا کہ اُس نے یونیورسٹی سے بھی چھٹی کرلی اور ناشتہ بھی نہیں کیا۔
    اچانک سے خود کو ملامت کرتے ہوئے ٹائم دیکھا ”کیا دو بج چکے ہیں، مجھے کسی نے جگایا کیوں نہیں” اپنی غلطی پر بھی برُے حکمران کی طرح دوسروں پر چلاتے ہوئے تیزی سے تیار ہونے لگا، کپڑے بدلے، گھڑی باندھی، جوتے پہنے، موبائل جیب میں ڈالا اور بھاگ کر یونیورسٹی کے لیے نکل گیا۔ ”حاشر بابو کھانا تو کھالیجیے” فیکے نے بار بار بُلایا ”آپ کھا لیجیے بابا جی! میں یونیورسٹی میں کھالوں گا، مجھے دیر ہورہی ہے” گھاڑی کی چابی ہلاتے ہوئے وہ گھر سے نکل گیا۔
    …٭…



    ”اتنا منہ کیوں لٹکایا ہوا ہے؟” عثمان نے حاشر کو خاموش دیکھ کر سوال کیا۔
    ”ماما اور پاپا رات کو ہی نیویارک گئے ہیں اور میں نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ ہر کام وقت پر پوری ذمہ داری سے کروں گا مگر پہلے ہی دن نہ میں نے کھانا کھایا اور نہ ہی وقت پر یونیورسٹی آیا” ”ہاہا ہا بھائی تُو اتنا ذمہ دار کب سے ہوگیا؟” عثمان نے طنز کی۔ حاشر نے منہ بسورا۔
    ”ویسے اُن وعدوں کا کیا جو تُو روز آتی جاتی لڑکیوں سے کرتا ہے” عثمان نے پھر سے طنز کی ”خود تو تجھے کوئی لڑکی منہ نہیں لگاتی، چلا ہے میری گرل فرینڈز گننے” حاشر نے ہنستے ہوئے اپنا غبار نکالا۔
    ”اچھا اچھا بس خدا نے خوبصورتی دی ہے تو اتنا ناز نہ کر” عثمان نے گھورتے ہوئے کہا۔
    ”ہاہاہا صرف خوبصورتی نہیں سب کچھ دیا ہے” حاشر نے ہنستے ہوئے عثمان کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
    ”اچھا چل چھوڑ ان باتوں کو آنٹی اور انکل کے جانے کی خوشی میں ہمیں پارٹی ہی دے دے” عثمان نے کیفے سے نکلتے ہوئے کہا۔
    ”یہ کونسی پارٹی ہوتی ہے؟” حاشر نے حیران ہوکر پوچھا ویسے تو ٹھیک کہہ رہا ہے، ایک پارٹی رکھتے ہیں میرا موڈ بھی بدل جائے گا۔” حاشر نے سوچتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں تو Done کرو” عثمان نے لقمہ دیا۔
    ”جگہ Decide کرو آج ہی پارٹی کرتے ہیں” حاشر نے حکم دیا ”جگہ Decide کرنے کی کیا ضرورت ہے تیرے گھر پر کرتے ہیں نا، اب انکل آنٹی تو جاچکے ہیں تو اکیلا ہی گھر پر ہوتا ہے” عثمان نے مشورہ دیا۔
    ”نہیں نہیں یار گھر پر نہیں” حاشر نے ڈرتے ہوئے کہا۔
    ”یار مزا آئے گا حاشر! اب کس بات کی پابندی ہے، آنٹی انکل تو جاچکے ہیں” عثمان نے insist کیا۔
    ”اچھا چلو ٹھیک ہے” حاشر نے آہستہ سے کہا۔
    ”جاکر تیاری کر ہم رات تک پہنچ جائیں گے” عثمان نے پرجوش انداز میں کہا۔
    ”Ok” حاشر نے جواب دیا اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھا۔
    …٭…
    ماں سبزی بنا رہی تھی کہ اچانک خیال آیا ”سعدیہ کیا کررہی ہو؟”
    ”کچھ نہیں اماں۔ کچھ بھی نہیں” اُس نے ماں کی آواز سن کر تیزی سے اپنے منگیتر کی تصویر الماری کے نیچے والے خانے میں چھپا دی۔
    ”میری بات سُن ذرا” ماں نے پھر سے آواز دی ”ہاں ہاں ابھی آئی” تیز تیز جوتا پہن کر وہ ماں کی طرف بھاگی۔
    ”ذرا اپنے ابا کو فون لگا اور پوچھ تیرے ماموں نے تیری فیس کے پیسے بھیج دیے ہیں” ماں نے راز داری سے سعدیہ کو حکم دیا۔
    ”اماں بھیج دیں گے وہ ہر دفعہ تو بھیجتے ہیں اس بار بھی بھیج دیں گے۔”
    ”بیٹا تو پوچھ تو سہی۔”
    ”اماں ابا دوکان پر فون اُٹھانے سے کتراتا ہے کہ کہیں وہ فون پر لگا رہے اور گاہک آکر اُس کی چھوٹی سی دوکان سے چیزیں نہ اُٹھالیں۔” اُس نے اداسی سے کہا۔
    ”ذرا سی بات کرنے سے کوئی اُس کی قیمتی چیزیں نہیں اُٹھائے گا۔” اُس نے طنز کی اور غصے سے گھورنے لگی سعدیہ نے ماں کا گرم لہجہ دیکھ کر فون ملا دیا۔
    ”السلام و علیکم ابا! وہ ذرا اماں پوچھ رہی تھی ماموں نے میری فیس کے پیسے بھیج دیے؟” اُس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔
    ”ہاں بھیج دیے ہیں، رات کو لے آؤں گا۔” تیزی سے جواب دیتے ہوئے باپ نے فون بند کردیا۔
    ”دیکھ لے اماں ابا نے ذرا سا جواب دے کر غصے سے فون بند کر دیا ہے۔”
    ”ارے وہ غصے سے نہیں کرتا، پیسے کٹ جانے کے ڈر سے کرتا ہے” ماں طنزیہ مسکرائی۔
    سعدیہ نے آنکھیں مٹکائیں اور کمرے میں جاکر کتاب پڑھنے لگی۔
    …٭…



    حاشر مختلف کھانے، پینے کی چیزوں کا آرڈر دے کر فارغ ہوا ”بابا جی کسی قسم کی کوئی کمی نہیں ہونی چاہیے۔ اور میرا کمرہ بھی سیٹ کروا دیجیے”
    ”جی حاشر بابو آپ بالکل فکر نہ کریں” فیکے نے بڑے ادب سے جواب دیا۔
    سب کچھ تیار پڑا تھا اور حاشر تیار کھڑا بڑے غرور سے آئینہ دیکھ رہا تھا، وہ اپنے آپ کو سب سے مختلف، خوبصورت اور قسمت والا تصور کرتا تھا، اُس کا یوں اپنے آپ پر ناز کرنا کچھ غلط بھی نہ تھا، وہ بادشاہوں کی طرح زندگی گزار رہا تھا، منہ میں سونے کا چمچہ لے کر پیدا ہوا تھا اور دِکھنے میں بھی بہت خوبصورت، دراز قد اور گوری رنگت کا نوجوان تھا، اُس کے کپڑے اُس کے سارے دوستوں میں سب سے مختلف، نفیس اور ماڈرن ہوتے، اخلاق کا بھی بہت اچھا تھا مگر جس ماحول میں وہ پلا بڑا تھا وہاں لڑکیوں اور لڑکوں کی دوستی ایک معمولی بات تھی۔
    آہستہ آہستہ سارے دوست آنے اور حاشر بڑی خوش دلی سے اُن کا استقبال کررہا تھا، میوزک کی آواز بڑھنے لگی، شور شرابہ ہونے لگا وہ سب دوست مستیوں میں مصروف تھے کہ بابا فیکہ سب کچھ میز پر لگائے بڑے افسوس سے انہیں دیکھ رہا تھا، اُسے یہ ماحول بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا ”پتہ نہیں آج کل کے بچوں کو کیا ہوگیا ہے” وہ افسوس کرتے ہوئے بلبلایا۔
    ”کھانا لگ گیا ہے بیٹا” فیکے نے حاشر سے کہا۔
    ”جی بابا ہم ابھی آئے” حاشر نے بڑے احترام سے جواب دیا۔
    کھانا کھانے کے بعد وہ سب ڈانس کرنے لگے، لائٹس off کردی گئیں، چھوٹی چھوٹی روشنیاں تیزی سے کمرے میں دوڑنے لگیں۔
    فیکہ ہاتھ باندھے ہوئے کونے میں کھڑا ان سب کے چلے جانے کا انتظار کررہا تھا، وہ بار بار گھڑی دیکھتا رات کا 1:30 بج چکا تھا، فیکے نے تھک کر تہجد کی نماز پڑھی اور پھر سے آکر وہاں کھڑا ہوگیا یہ سوچ کر کہ بچوں کو کچھ چاہیے نہ ہو مگر بھلائی کا زمانہ کہاں ہے۔
    عثمان کو اُس کا بار بار وہاں آنا بہت برُا لگ رہا تھا ”یار یہ اپنے بابا جی کو تو بھیج دے، یہ کیا ہماری رکھوالی کررہے ہیں” عثمان نے غصے سے کہا۔
    ”ایسا کچھ نہیں ہے یار! وہ بیچارے تو ہمارے لیے کھڑے ہیں کہ ہمیں کسی چیز کی ضرورت نہ ہو” حاشر نے گھورتے ہوئے جواب دیا۔
    ”تو اُنہیں کہہ دے کہ سو جائیں، اس عمر میں اتنا جاگنا کوئی اچھی بات ہے” عثمان طنزیہ مسکرانے لگا حاشر کو اُس کی بات کافی برُی لگی اُس نے اسی وقت پارٹی روک کر سب کو خدا حافظ کہہ دیا۔
    …٭…
    ”بابا آپ سو جاتے” حاشر نے کورٹ اُتارتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں بیٹا میں اپنے بچوں کو اس طرح چھوڑ کر کیسے سو سکتا تھا۔”
    ”ارے بھئی ہم کیا چھوٹے بچے ہیں” حاشر نے مسکرا کر کہا۔
    ”بیٹا ایک بات کہوں؟”
    ”جی فرمائیے۔”
    ”اچھے اور نیک لوگوں کی صحبت میں رہا کرو، مجھے تیرے دوست مجھے ایک آنکھ نہیں بھاگے۔” فیکے نے نصیحت کرتے ہوئے کہا۔
    ”نہیں یہ بھی اچھے ہیں بابا، بس ذرا…” حاشر نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”نہیں بیٹا تیرے باپ کو اچھے اور برُے لوگوں کی بڑی پہچان ہوا کرتی تھی، بس اُس کے اچھے اور نیک دوست ہی اُس کی کامیابیوں کی سیڑھیاں بنے مگر تمہیں تو ذرا پہچان نہیں اچھے برُے لوگوں کی اور پھر کہتے ہو میں بڑا ہوگیا ہوں” فیکے نے حاشر کے منہ پر ہلکی سی تھپکی مارتے ہوئے کہا۔
    ”اچھا بابا” حاشر نے بڑے احترام سے فیکے کی بات سُنی اور پھر شرمندگی سے سر کھجاتے ہوئے جواب دیا۔ ”چلیں اب آپ سو جائیے” اُس نے فیکے کے کندھے پر ہاتھ پھیلائے اور احتراماً اُسے کمرے تک چھوڑا اور پھر خود سونے کی تیاری کرنے لگا۔
    …٭…

  • جامن کا پیڑ — کرشن چندر

    جامن کا پیڑ — کرشن چندر

    رات کو بڑے زور کا جھکڑ چلا۔ سکریٹریٹ کے لان میں جامن کا ایک درخت گرپڑا۔ صبح جب مالی نے دیکھا تو اسے معلوم پڑا کہ درخت کے نیچے ایک آدمی دبا پڑاہے۔ مالی دوڑا-دوڑا چپراسی کے پاس گیا۔ چپراسی دوڑا-دوڑا کلرک کے پاس گیا۔کلرک دوڑا-دوڑا سپرنٹنڈنٹ کے پاس گیا۔ سپرنٹنڈنٹ دوڑا-دوڑا باہر لان میں آیا۔منٹوں میں گرے ہوئے درخت کے نیچے دبے ہوئے آدمی کے گرد مجمع ‘ اکٹھا ہوگیا۔۔۔۔
    بیچارا! جامن کا درخت کتنا پھل دارتھا۔ ایک کلرک بولا۔اس کی جامن کتنی رسیلی ہوتی تھیں۔دوسرا کلرک بولا۔ میں پھلوں کے موسم میں جھولی بھر‌کےلے جاتا تھا۔ میرے بچے اس کی جامنیں کتنی خوشی سے کھاتے تھے۔تیسرے کلرک نے تقریباً آبدیدہ ہوکر کہا۔ مگر یہ آدمی؟مالی نے دبےہوئے آدمی کی طرف اشارہ کیا۔ ہاں، یہ آدمی! سپرنٹنڈنٹ سوچ میں پڑ گیا۔پتہ نہیں زندہ ہے کہ مر گیا! ایک چپراسی نے پوچھا۔مر گیا ہوگا۔ اتنا بھاری تنا جن کی پیٹھ پر گرے، وہ بچ کیسے سکتا ہے! دوسرا چپراسی بولا۔نہیں میں زندہ ہوں! دبےہوئے آدمی نے بہ مشکل، کراہتے ہوئے کہا۔زندہ ہے! ایک کلرک نے حیرت سے کہا۔درخت کو ہٹاکر اس کو نکال لیناچاہیے۔ مالی نے مشورہ دیا۔مشکل معلوم ہوتا ہے۔ایک کاہل اور موٹا چپراسی بولا۔درخت کا تنا بہت بھاری اور وزنی ہے۔کیا مشکل ہے؟ مالی بولا۔ اگر سپرنٹنڈنٹ صاحب حکم دے تو ابھی پندرہ-بیس مالی، چپراسی اور کلرک زور لگاکردرخت کے نیچے سے دبے آدمی کو نکال سکتے ہیں۔ مالی ٹھیک کہتا ہے۔بہت-سےکلرک ایک ساتھ بول پڑے۔ لگاؤ زور، ہم تیار ہیں۔ایک دم بہت سے لوگ درخت کو کاٹنے پر تیار ہو گئے۔ٹھہرو!، سپرنٹنڈنٹ بولا،میں انڈر-سکریٹری سے مشورہ کر لوں۔سپرنٹنڈنٹ انڈر-سکریٹری کے پاس گیا۔ انڈر-سکریٹری ڈپٹی سکریٹری کے پاس گیا۔ ڈپٹی سکریٹری جوائنٹ سکریٹری کے پاس گیا۔ جوائنٹ سکریٹری چیف سکریٹری کے پاس گیا۔ چیف سکریٹری نے جوائنٹ سکریٹری سے کچھ کہا۔ جوائنٹ سکریٹری نے ڈپٹی سکریٹری سے کچھ کہا۔ ڈپٹی سکریٹری نےانڈر سکریٹری سے کچھ کہا۔ ایک فائل بن گئی۔فائل چلنے لگی۔ فائل چلتی رہی۔ اسی میں آدھا دن گزر گیا۔دوپہر کو کھانے پر دبے ہوئے آدمی کے گرد بہت بھیڑ ہو گئی تھی۔ لوگ طرح-طرح کی باتیں کر رہے تھے۔ کچھ من چلے کلرکوں نے معاملے کو اپنے ہاتھ میں لینا چاہا۔ وہ حکومت کے فیصلے کا انتظار کئے بغیر درخت کو خود سے ہٹانے کا تہیہ کر رہے تھے کہ اتنےمیں سپرنٹنڈنٹ فائل لئے بھاگا-بھاگا آیا، بولا-ہم لوگ خود سے اس درخت کو یہاں سے ہٹا نہیں سکتے۔ ہم لوگ محکمہ تجارت سے متعلق ہیں اور یہ درخت کا معاملہ ہے جو محکمہ زراعت کی تحویل میں ہے۔ اس لئے میں اس فائل کو ارجنٹ مارک کرکے محکمہ زراعت میں بھیج رہا ہوں۔ وہاں سے جواب آتے ہی اس کو ہٹوا دیا جائے‌گا۔ دوسرے دن محکمہ زراعت سے جواب آیا کہ درخت ہٹوانے کی ذمہ داری محکمہ تجارت پر عائد ہوتی ہے۔یہ جواب پڑھ‌کر محکمہ تجارت کو غصہ آ گیا۔ انہوں نے فوراً لکھا کہ درختوں کو ہٹوانے یا نہ ہٹوانے کی ذمہ داری محکمہ زراعت پر عائد ہوتی ہے۔ محکمہ تجارت کااس معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ دوسرے دن بھی فائل چلتی رہی۔ شام کو جواب بھی آ گیا۔ ہم اس معاملےکو ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ کے سپرد کر رہے ہیں کیونکہ یہ ایک پھل دار درخت کا معاملہ ہے اور ایگریکلچرل ڈپارٹمنٹ صرف اناج اور کھیتی باڑی کے معاملوں میں فیصلہ کرنے کامجاز ہے۔ جامن کا درخت ایک پھل دار درخت ہے اس لئے درخت ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ کےدائرہ اختیار میں آتا ہے۔رات کو مالی نے دبے ہوئے آدمی کو دال-بھات کھلایا حالانکہ لان کے چاروں طرف پولیس کا پہرا تھا کہ کہیں لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لےکر درخت کو خود سےہٹوانے کی کوشش نہ کریں۔ مگر ایک پولیس کانسٹبل کو رحم آ گیا اور اس نے مالی کودبے ہوئے آدمی کو کھانا کھلانے کی اجازت دے دی۔ مالی نے دبے ہوئے آدمی سے کہا،تمہاری فائل چل رہی ہے۔ امید ہے کہ کل تک فیصلہ ہو جائے‌گا۔دبا ہوا آدمی کچھ نہ بولا۔مالی نے درخت کے تنے کو غور سے دیکھ‌کر کہا،حیرت گزری کہ تناتمہارے کولہے پر گرا۔ اگر کمر پر گرتا تو ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ جاتی۔دبا ہوا آدمی پھر بھی کچھ نہ بولا۔مالی نے پھر کہا،تمہارا یہاں کوئی وارث ہو تو مجھے اس کا اتہ پتہ بتاؤ۔ میں اس کو خبر دینے کی کوشش کروں‌گا۔میں لاوارث ہوں۔دبے ہوئےآدمی نے بڑی مشکل سے کہا۔ مالی افسوس ظاہر کرتا ہوا وہاں سے ہٹ گیا۔ تیسرے دن ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ سے جواب آ گیا۔ بڑا کڑا جواب تھا، اورطنز آمیز۔ ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ کا سکریٹری ادبی مزاج کا آدمی معلوم ہوتا تھا۔اس نےلکھا تھا ؛حیرت ہے، اس وقت جب ‘ درخت اگاؤ ‘ اسکیم بڑے پیمانے پر چل رہی ہیں، ہمارے ملک میں ایسے سرکاری افسر موجود ہیں جو درخت کاٹنے کا مشورہ دیتے ہیں،وہ بھی ایک پھل دار درخت کو!اور پھر جامن کے درخت کو! جس کا پھل عوام بڑی رغبت سےکھاتے ہیں!! ہمارا محکمہ کسی حالت میں اس پھل دار درخت کو کاٹنے کی اجازت نہیں دےسکتا۔اب کیا کیا جائے؟
    ایک منچلے نے کہا۔اگر درخت کاٹا نہیں جا سکتا تو اس آدمی کو کاٹ‌کر نکال لیاجائے! یہ دیکھیے، اسی آدمی نے اشارے سے بتایا۔ اگر اس آدمی کو بیچ میں سے یعنی دھڑ کے مقام سے کاٹا جائے تو آدھا آدمی ادھر سے نکل آئے‌گا اور آدھا آدمی ادھر سےباہر آ جائے‌گا، اور درخت وہیں کا وہیں رہے‌گا۔ مگر اس طرح سے تو میں مر جاؤں‌گا! دبے ہوئے آدمی نے احتجاج کیا۔یہ بھی ٹھیک کہتا ہے! ایک کلرک بولا۔آدمی کو کاٹنے والی تجویز پیش کرنے والے نے پرزور احتجاج کیا،آپ جانتے نہیں ہیں۔ آج کل پلاسٹک سرجری کے ذریعے دھڑ کے مقام پر اس آدمی کو پھر سےجوڑا جا سکتا ہے۔اب فائل کو میڈیکل ڈپارٹمنٹ میں بھیج دیا گیا۔ میڈیکل ڈپارٹمنٹ نے فوراًاس پر ایکشن لیا اور جس دن فائل ملی اس نے اسی دن اس محکمے کا سب سے قابل پلاسٹک سرجن تحقیقات کےلئے بھیج دیا۔سرجن نے دبے ہوئے آدمی کو اچھی طرح ٹٹول‌کر، اس کی صحت دیکھ‌کر، خون کا دباؤ، سانس کی آمد و رفت، دل اور پھیپھڑوں کی جانچ‌کر کے رپورٹ بھیج دی کہ، اس آدمی کا پلاسٹک سرجری کا آپریشن تو ہو سکتا ہے، اور آپریشن کامیاب بھی ہو جائے‌گا،مگر آدمی مر جائے‌گا۔لہذا یہ تجویز بھی رد کر دی گئی۔ رات کو مالی نے دبے ہوئے آدمی کے منھ میں کھچڑی کے لقمے ڈالتے ہوئے اس کوبتایا،اب معاملہ اوپر چلا گیا ہے۔ سنا ہے کہ سکریٹریٹ کے سارے سکریٹریوں کی میٹنگ ہوگی۔ اس میں تمہارا کیس رکھا جائے‌گا۔ امید ہے سب کام ٹھیک ہو جائے‌گا۔دبا ہوا آدمی ایک آہ بھر‌کر آہستہ سے بولا- ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو‌گے لیکن خاک ہو جائیں‌گے ہم، تم کو خبر ہونے تک! مالی نے اچنبھے سے منھ میں انگلی دبائی۔ حیرت سے بولا، کیا تم شاعرہو؟ دبے ہوئے آدمی نے آہستہ سے سر ہلا دیا۔فوٹو: پی ٹی آئیفوٹو: پی ٹی آئی دوسرے دن مالی نے چپراسی کو بتایا۔ چپراسی نے کلرک کو، اور کلرک نےہیڈکلرک کو۔ تھوڑے ہی عرصے میں سکریٹریٹ میں یہ افواہ پھیل گئی کہ دبا ہوا آدمی شاعر ہے۔بس پھر کیا تھا۔ لوگ جوق-در-جوق شاعر کو دیکھنے کے لئے آنے لگے۔ اس کی خبر شہر میں پھیل گئی۔ اور شام تک محلے-محلے سے شاعر جمع ہونا شروع ہو گئے۔سکریٹریٹ کا لان بھانت-بھانت کے شاعروں سے بھر گیا۔ سکریٹریٹ کے کئی کلرک اورانڈر-سکریٹری تک، جن کو ادب اور شاعری سے لگاؤ تھا، رک گئے۔ کچھ شاعر دبے ہوئےآدمی کو اپنی غزلیں اور نظمیں سنانے لگے۔ کئی کلرک اس سے اپنی غزلوں پر اصلاح لینےکے لئے مصر ہونے لگے۔جب یہ پتہ چلا کہ دبا ہوا آدمی شاعر ہے تو سکریٹریٹ کی سب-کمیٹی نےفیصلہ کیا کہ چونکہ دبا ہوا آدمی ایک شاعر ہے لہذا اس فائل کا تعلق نہ ایگریکلچرل ڈپارٹمنٹ سے ہے، نہ ہارٹی کلچرل ڈپارٹمنٹ سے بلکہ صرف اور صرف کلچرل ڈپارٹمنٹ سےہے۔پہلے کلچرل ڈپارٹمنٹ سے استدعا کی گئی کہ جلد سے جلد اس معاملے کا فیصلہ کرکےبدنصیب شاعر کو اس شجرسایہ دار سے رہائی دلائی جائے۔ فائل کلچرل ڈپارٹمنٹ کے مختلف شعبوں سے گزرتی ہوئی ادبی اکادمی کے سکریٹری کے پاس پہنچی۔ بیچارا سکریٹری اسی وقت اپنی گاڑی میں سوار ہوکر سکریٹریٹ پہنچااور دبے ہوئے آدمی سے انٹرویو لینے لگا۔ تم شاعر ہو؟اس نے پوچھا۔جی ہاں۔دبے ہوئے آدمی نےجواب دیا۔ کیا تخلص کرتے ہو؟عبث۔عبث! سکریٹری زور سے چیخا۔کیا تم وہی ہو جس کا مجموعہ کلام عبث کے پھول حال ہی میں شائع ہوا ہے؟دبے ہوئے شاعر نے اثبات میں سر ہلایا۔ کیا تم ہماری اکادمی کے ممبر ہو؟ سکریٹری نے پوچھا۔ نہیں! حیرت ہے! سکریٹری زور سےچیخا۔اتنا بڑا شاعر!’عبث کے پھول ‘ کا مصنف!! اور ہماری اکادمی کا ممبرنہیں ہے! اف، اف کیسی غلطی ہو گئی ہم سے! کتنا بڑا شاعر اور کیسے گوشہ گمنامی میں دبا پڑا ہے! گوشہ گمنامی میں نہیں بلکہ ایک درخت کے نیچے دبا ہوا…براہ کرم مجھے اس درخت کے نیچے سے نکالیے۔ابھی بندوبست کرتا ہوں۔ سکریٹری فوراً بولا اور فوراً جاکر اس نے اپنے محکمہ میں رپورٹ پیش کی۔ دوسرے دن سکریٹری بھاگا-بھاگا شاعر کے پاس آیا اور بولا، مبارک ہو،مٹھائی کھلاؤ، ہماری سرکاری اکادمی نے تم کو اپنی مرکزی کمیٹی کا ممبر چن لیا ہے۔یہ لو پروانہ انتخاب! مگر مجھے اس درخت کے نیچے سے تونکالو۔دبے ہوئے آدمی نے کراہ کر کہا۔ اس کی سانس بڑی مشکل سے چل رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے معلوم ہوتا تھا کہ وہ شدید تشنج اور کرب میں مبتلا ہے۔یہ ہم نہیں کر سکتے۔سکریٹری نے کہا۔جو ہم کر سکتے تھے وہ ہم نے کر دیا ہے۔ بلکہ ہم تو یہاں تک کر سکتےہیں کہ اگر تم مر جاؤ تو تمہاری بیوی کو وظیفہ دلا سکتے ہیں۔ اگر تم درخواست دوتو ہم یہ بھی کر سکتے ہیں۔میں ابھی زندہ ہوں۔شاعررک رک کر بولا۔مجھے زندہ رکھو۔مصیبت یہ ہے، سرکاری اکادمی کا سکریٹری ہاتھ ملتے ہوئے بولا، ہمارا محکمہ صرف کلچر سے متعلق ہے۔اس کے لئے ہم نے ‘ فاریسٹ ڈپارٹمنٹ ‘ کو لکھ دیا ہے۔ ‘ ارجنٹ ‘ لکھا ہے۔شام کو مالی نے آکر دبے ہوئے آدمی کو بتایا کہ کل فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کے آدمی آکر اس درخت کو کاٹ دیں‌گے اور تمہاری جان بچ جائے‌گی۔ مالی بہت خوش تھا کہ گو دبے ہوئے آدمی کی صحت جواب دے رہی تھی مگر وہ کسی نہ کسی طرح اپنی زندگی کے لئے لڑے جا رہا ہے۔ کل تک…صبح تک…کسی نہ کسی طرح اس کو زندہ رہنا ہے۔دوسرے دن جب فاریسٹ ڈپارٹمنٹ کے آدمی آری-کلہاڑی لےکر پہنچے تو ان کو درخت کاٹنے سے روک دیا گیا۔ معلوم یہ ہوا کہ محکمہ خارجہ سے حکم آیا کہ اس درخت کو نہ کاٹا جائے، وجہ یہ تھی کہ اس درخت کو دس سال پہلے حکومت پی ٹونیا کے وزیراعظم نےسکریٹریٹ کے لان میں لگایا تھا۔ اب یہ درخت اگر کاٹا گیا تو اس امر کا شدیداندیشہ تھا کہ حکومت پی ٹونیا سے ہمارے تعلقات ہمیشہ کے لئے بگڑ جائیں‌گے۔مگر ایک آدمی کی جان کا سوال ہے! ایک کلرک غصے سے چلایا۔دوسری طرف دو حکومتوں کے تعلقات کا سوال ہے۔ دوسرے کلرک نے پہلے کلرک کو سمجھایا۔ اور یہ بھی توسمجھو کہ حکومت پی ٹونیا ہماری حکومت کو کتنی امداد دیتی ہے۔ کیا ہم ان کی دوستی کی خاطر ایک آدمی کی زندگی کو بھی قربان نہیں کر سکتے؟ شاعر کو مر جانا چاہیے۔بلاشبہ۔انڈر سکریٹری نے سپرنٹنڈنٹ کو بتایا۔آج صبح وزیراعظم باہر-ملکوں کے دورے سے واپس آ گئے ہیں۔ آج چار بجے محکمہ خارجہ اس درخت کی فائل ان کے سامنےپیش کرے‌گا۔ جو وہ فیصلہ دیں‌گے وہی سب کو منظور ہوگا۔ شام پانچ بجے خود سپرنٹنڈنٹ شاعر کی فائل لےکر اس کے پاس آیا۔ سنتےہو؟ آتے ہی خوشی سے فائل ہلاتے ہوئے چلایا، وزیراعظم نے درخت کوکاٹنے کا حکم دے دیا ہے اور اس واقعہ کی ساری بین الاقوامی ذمہ داری اپنے سر پر لےلی ہے۔ کل وہ درخت کاٹ دیا جائے‌گا اور تم اس مصیبت سے چھٹکارا حاصل کر لو‌گے۔سنتے ہو؟ آج تمہاری فائل مکمل ہوگئی! سپرنٹنڈنٹ نے شاعر کے بازو کو ہلاکر کہا۔ مگر شاعر کا ہاتھ سرد تھا۔آنکھوں کی پتلیاں بے جان تھیں اور چیونٹیوں کی ایک لمبی قطار اس کے منھ میں جا رہی تھی۔ اس کی زندگی کی فائل بھی مکمل ہو چکی تھی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • تہذیب کے دائرے — عبدالباسط ذوالفقار

    تہذیب کے دائرے — عبدالباسط ذوالفقار

    سب اپنی اپنی نشستوں پر بیٹھے گپیں ہانک رہے تھے کہ اچانک گھنٹی بجی ۔ یہ میرے لیے بالکل نئی بات تھی کیوں کہ اس سے پہلے ایسا اتفاق نہیں ہوا تھا۔اگرچہ گزشتہ کچھ عرصہ سے یہ روایت ہمارے یہاں بھی چل پڑی تھی اور اکثر ایسی جگہوں پر جانے کا اتفاق بھی ہو چکا تھا، مگر ہر بار بھوکے واپس آنا پڑا کیوں کہ قطار میں لگنے کی خواہش تو یوٹیلٹی سٹور کے سامنے کھڑے ہو کرپوری ہو چکی تھی اور کھانے کا شوق بھی خیر سے نہیں تھا ۔ سو ہر بار وہیں بیٹھ کے تماش بین بنتا اور دیکھتے ہی دیکھتے کھانا ختم ہوجاتا مگر یہ گھنٹی کی آواز پہلی بار سنائی دی تھی اور گھنٹی کی آواز کے ساتھ ہی جو اودھم مچا ”الامان الحفیظ۔” شرفا کھانے پہ ایسے ٹوٹے کہ کئی پلیٹیں بھی ٹوٹیں، جام بھی چھلکے اور دیگوں کے ڈھکن بھی اُڑے۔ خوش بو تو وہ لوگ انڈیل کے ہی آئے تھے، سوٹڈ بوٹڈ بھی تھے ، کمی تھی تو کپڑوں پہ بیل بوٹوں کی اور یہ کمی سالن کے گرنے سے پوری ہوگئی جو بھی پلیٹ لے کر جمِ غفیر میں گھستا، وہ نکلتا تو بیل بوٹو ںسے سجا ہوتا۔
    یہ ایک پڑھے لکھے گھرانے کے چشم و چراغ کا ولیمہ تھا۔جہاں کسی دور پار کی نسبت سے میں بھی حاضر تھا۔ یہاں آکر میں پریشان تو تھا ہی، پشیمان بھی ہوا۔ شرفا کھانے پر ایسے ٹوٹے ہوئے تھے جیسے کئی دن کے بھوکے ہوں۔بروسٹ ختم ہو چکا تھا اور سب کی عقابی نظریں اس تعاقب میں تھیں کہ کب ویٹر روسٹ کی ٹرے لے کر آئے اور سب اس پر جھپٹ پڑیں۔ ہال میں جگہ جگہ سی سی ٹی وی کیمرے لگے ہوئے تھے۔ شاید ہوٹل انتظامیہ حالات بھانپتے ہوئے سمجھ گئی تھی، سو ٹرے دروازے سے اندر کیا اور خود سی سی ٹی وی فوٹیج میں شرفا کا ڈراما دیکھنے لگی۔ لوگ اس جھپٹاجھپٹی اور دھکم پیل میں ایک دوسرے پر خود کو ترجیح دے رہے تھے۔ اس شور شرابے میں باریک سی آوازیں کان کے پردوں سے ٹکرائیں ، دیکھنے پہ معلوم ہوا کہ یہاں تو صنفِ نازک اور بہت سی اصناف کو ساتھ لیے ہوئے ہے۔ کسی نے اسکرٹ پہن رکھا تھا تو کسی نے جینز کرتا، کسی نے ٹی شرٹ پہن رکھی تھی تو کوئی ساڑھی میں ملبوس تھی اور بیک لیس اور سیلولیس بلاؤزر مردوں کی توجہ اپنی جانب خوب مبذول کروا رہے تھے۔ کسی کا دوپٹا کہاں جا رہا تھا کسی کا کہاں، پھندا نما کوئی چیز ان کے گلے میں لٹک رہی تھی جس کا کچھ حصہ فرش پہ ”پونچھے” کا کام کر رہا تھا۔چھے انچ اونچی ہیل پہنے گھوڑوں کی سی ٹاپوں کی ٹکا ٹک قریب تر سنائی دے رہی تھی۔ہیوگوباس اور ایسٹی لارڈ کی مہک پورے ہال میں پھیلی ہوئی تھی۔
    یہ مخلوط ولیمہ شہر کے فائیو سٹار ہوٹل میں منعقد تھا۔ میرے ساتھ والے احباب نے کچھ سمجھتے ہوئے اپنی پلیٹیں تو پیش کیں مگر میں نے مُسکراتے ہوئے دل پر پتھر رکھ کے ٹال دیا کہ ”نہیں جناب ! شکریہ آپ کھائیے ،میں پرہیزی کھانا کھاتا ہوں ۔” میں سوچ رہا تھا کہ خود انہوں نے شیر کے منہ میں ہاتھ ڈال کے کھانا حاصل کیا ہے، میں لے لوں اچھا نہیں لگتا ، حالاں کہ بھوک سے پیٹ میں آنتیں کروٹیں لے رہیں تھیں اور چوہوں نے اودھم مچا رکھا تھا۔ ہم آپس میں ہم کلام تھے کہ دو لڑکیاں ہماری نشستوں کے قریب آکر گویا ہوئیں:
    ”ایکسکیوز می؟” ان کی ایکسکیوز سے پہلے ہی ان کی قربت کاا حساس خوش بو کے جھونکے سے ہوا تھا جو بھنبھناتا ہوا ناک کے نتھنوںمیں گھسا تھا۔
    ”جی فرمائیں؟”
    ”یہ سامنے والی چیئر پر ہم بیٹھ جائیں، وہ ہماری جگہ پررر…”
    ”جی جی کیوں نہیں ، بیٹھ جائیے۔” قریب کی نشست پر بیٹھے ہوئے ایک صاحب نے چہچہاتے ہوئے کہا اور وہ دونوں بھی مزے سے اپنی پروا کیے بغیر براجمان ہوگئیں۔ ان جیسے کچھ اور کپلز کھانے کی پلیٹیں ہاتھ میں لیے آجا رہے تھے تو کچھ کھڑے کھڑے کھا رہے تھے۔
    اسی اثنا میں ایک صاحب پر نظر پڑی جو کسی بچی کو دھتکار رہے تھے ۔ غالباً وہ کوئی سوالی تھی اور بھوک کی شدت نے اسے سوال کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ انہوں نے ویٹر کو آواز دی:
    ”ویٹرررر!” اس سے پہلے کہ ویٹر آتا ایک سفید ریش بزرگ اپنی جگہ سے اُٹھے اور ایک پلیٹ میں کچھ چاول وغیرہ ڈال کے لائے اور اس بچی کو دے دیے۔اس بچی نے سفید ریش بزرگ کو اپنی طرف آتے دیکھا تو اس کی آنکھیں چمک سی گئیں اور وہ ایسی ہوگئی جیسے کسی نے گہرے زخم پر پھاہا رکھ دیا ہو۔ اس نے ایک ہاتھ میں پلیٹ پکڑی، دوسرے سے دوپٹا ٹھیک کیا اور ساتھ ہی بیٹھنے کے لیے جگہ تلاشنے لگی۔ یکایک اس کے قدم ایک طرف کو اُٹھے۔ میری نظریں اس کے تعاقب میں تھیں۔ جلد ہی وہ مجھے ایک کونے میں بیٹھی نظر آئی۔ وہ پرسکون اور مطمئن انداز میںبغیر اوپر دیکھے نان سٹاپ کھا رہی تھی۔یقینا کافی وقت کی بھوکی تھی یا پھر اسے ڈر تھا کہ مکھن میں سے بال کی طرح کوئی اس کو ہال سے نہ نکال دے۔
    ان ہی سوچوں میں مگن میری نگاہ چند لڑکیوں پر پڑی جو اس بچی سے قریب والی دیوار کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑی تھیں۔ ان کے ایک ہاتھ میںچاولوں کی پلیٹ تھی تو دوسرے ہاتھ میں مرغے کی ران جسے وہ دانتوں سے نوچنے میں مصروف تھیں ۔بچی نے کھانا کھانے کے بعد پھٹا ہوا دوپٹا سر پہ ٹھیک کیا جو تھوڑا سا سرک گیا تھا۔ اس نے پلیٹ صاف کی اور انگلیاں چاٹیں ۔ ان لڑکیوں میں سے ایک نے اسے دیکھتے ہوئے ٹیڑھا سا منہ بنایا اور دوسری کو ٹہوکا دیا ، تو میں نے دوسری کے منہ سے ”بدتہذیب” کے الفاظ کا ہیولا نکلتے دیکھا۔ مجھ پر سوچوں کے دریچے وا ہوتے گئے ۔ میں سوچوں کو جھٹک کے حقیقت میں واپس آیا تو وہ بچی جا چکی تھی۔ذہن کی تختی پر بہت سے سوال نقش ہوچکے تھے۔ ایک طرف مہذب لڑکیاں جینز، کُرتا، اسکرٹ،ٹی شرٹ ، ساڑھیاںا ور تنگ تنگ پاجامے گھٹنوں تک چڑھائے،چڑیل جیسے ناخنوں والے ہاتھ میںپلیٹ اورچہرے پہ میک اپ سجائے گلے میں پھندے لٹکائے اِدھر اُدھر ٹہل ٹہل کر مسکراہٹیں بکھیر رہیں تھیں، تو دوسری طرف وہ معصوم سی غریب بچی پھٹا پرانا دوپٹا سر پہ اوڑھے انتہائی معصومیت سے بیٹھی کھانا کھا رہی تھی۔ میرے ذہن کی تختی پہ یہی الفاظ ابھر رہے تھے کہ:
    ”مہذب کون ہے؟”
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • غرورِ عشق کا بانکپن — سارہ قیوم (دوسرا اور آخری حصّہ)

    ۱۱۔ گٹھڑی

    سنا ہے دنیا کا ہر شخص اپنے ساتھ ایک گٹھڑی اٹھائے پھرتا ہے۔ اعمال کی گٹھڑی۔ گناہوں کی گٹھڑی، دکھوں کی گٹھڑی۔ پتا نہیں کوئی خوشیوں کی گٹھڑی کیوں نہیں اٹھاتا۔ شاید اس لیے کہ خوشیاں بوجھ نہیں ہوتیں، اٹھانی نہیں پڑتیں۔ اپنا حق سمجھ کر وصول کی جاتی ہیں اور بے قدری سے ضائع کردی جاتی ہیں۔ یا شاید اس لیے کہ خوشیاں بانٹ دی جاتی ہیں، باندھ کر نہیں رکھی جاتیں جبکہ دکھ سینت سینت کررکھے جاتے ہیں اور اکیلے ہی اٹھانے پڑتے ہیں۔ یہ بھی سنا ہے کہ اگر لوگوں کو اپنی گٹھڑیاں دوسروں سے بدل لینے کا موقع ملا تو ہر کوئی اپنی ہی گٹھڑی اٹھانا پسند کرے گا۔ لیکن یہ کبھی نہیں سنا کہ اگر کوئی زبردستی اپنی گٹھڑی کسی دوسرے پر لاد دے تو کیا ہوتا ہے۔
    اسمارہ اور شہیر کی شادی ہوگئی۔ ایک کے سر پر عذابوں کی گٹھڑی لدی تھی، دوسرے کے سر پر پچھتاوؤں کی۔ اس کے باوجود انجام بخیر ہوسکتا تھا اگر ان دونوں کے بیچ تیسری گٹھڑی نہ ہوتی۔ دلاور حسین کے لالچ کی گٹھڑی۔
    اس شادی پر نہ بی بی جان کو اعتراض تھا نہ زرینہ کو۔ محی الدین کو صرف ایک اعتراض تھا اور اس اعتراض کا نام تھا دلاورحسین۔ انہوں نے نہ صرف شہیر کو بلوا کر اس سے بات کی بلکہ اپنے طور پر پتا بھی کروایا۔ دونوں طرح سے ایک ہی اطلاع ملی کہ وہ گھر نہیں آتے۔ باہر ہی کہیں اپنی رنگ رلیوں میں محو رہتے ہیں۔ گھر اور شہیر سے ان کا واسطہ برائے نام ہے۔ محی الدین نے اس طرف سے اطمینان ہوجانے کے بعد اسمارہ کو بلا بھیجا۔ وہ آئی اور ان کے پاس بیٹھ گئی۔ اس کی صحت پہلے سے کچھ بہتر ہوگئی تھی مگر اب بھی چہرے پر آنکھیں ہی آنکھیں تھیں۔ بجھی ہوئی، مردہ آنکھیں۔
    ”میں تم سے جو باتیں کرنا چاہتا ہوں، شاید عام طور پر باپ نہیں کرتے مگر ہمارا تعلق باپ بیٹی سے بڑھ کر دوست کا ہے۔” انہیں یہ باتیں کہنا ہی تھیں، وہ دل پر بوجھ لے کر اسے رخصت نہیں کرنا چاہتے تھے۔
    ”کیوں کررہی ہو یہ؟” انہوں نے نرمی سے پوچھا۔
    اسمارہ حیرت سے انہیں دیکھنے لگی ۔”کیا کررہی ہوں؟”
    ”اس شادی کے لیے ہاں کیوں کی ہے تم نے؟” انہوں کھوجتی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    وہ کچھ دیر خاموش رہی۔ ”کیونکہ ابو آپ ٹھیک کہتے تھے۔ جو ہوا وہ ٹریجک تھا۔ But I need to move on۔ میں کب تک ٹریجڈی میں رہوں گی؟ مجھے زندگی کو جینا چاہیے۔”وہ روانی سے محی الدین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے بغیر بولتی رہی۔
    محی الدین کتنی ہی دیر اس کا چہرہ دیکھتے رہے۔ وہ کمزور ہوچکی تھی۔ چہرے پر زردی کھنڈی تھی اور آنکھوں میں ایسا خالی پن تھا کہ ہزار کوشش کے باوجود وہ یہ نہیں جان پائے کہ وہ ٹھیک کہہ رہی تھی یا غلط۔ وہ واقعی اپنی خوشی سے یہ شادی کررہی تھی یا خود پر جبر کررہی تھی۔
    ”اصل بات کیسے بتاؤں آپ کو ابو۔ میں اس ٹریجڈی سے کبھی نہیں نکل سکتی۔ دن رات آپ کے سامنے رہوں گی تو خوش رہنے کا ناٹک نہیں کرپاؤں گی۔ مجھے آپ کے سامنے سے چلے جانا چاہیے۔ میں کبھی کبھی آپ سے ملوں اور آپ سے سمجھیں کہ میں خوش ہوں تو آپ زندہ رہیں گے۔ مجھے آپ کی زندگی عزیز ہے۔”اُس نے دل میں سوچا۔
    ”تم ایک مرتبہ پھر سوچ لو۔ میں تمہاری…”محی الدین کے جملے نے اُس کو سوچوں سے نکال کر حال میں کھڑا کردیا۔
    ”میں نے سوچ لیا ہے ابو!” اس نے بات کاٹ دی۔ ”بہت اچھی طرح سوچ لیا ہے۔ آپ فکر مت کریں۔”
    گہرا سانس لے کر انہوں نے اس کا سر تھپکا ۔”تمہیں کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بس مجھ سے کہتا۔”
    ”کسی چیز کی ضرورت؟” اس نے سادگی سے پوچھا۔
    ”زیور، کپڑے، فرنیچر، کچھ بھی جو تم اپنی مرضی سے لینا چاہو۔” انہوں نے شفقت سے کہا۔ وہ بڑی کوشش سے ہلکا سا مسکرائی۔ ”نہیں۔ مجھے کسی چیز کی ضرورت نہیں۔” اُس نے نرمی سے کہا اور پھر یکدم سوچنے لگی۔”مجھے جس کی ضرورت ہے، وہ آپ مجھے نہیں دے سکتے، کوئی بھی نہیں دے سکتا۔”
    وہ کتنی ہی دیر اس کا جھکا ہوا سر دیکھتے رہے۔
    بی بی جان اور زرینہ اس کی خریداری میں مصروف ہوگئیں۔ اس نے تھکن کا بہانہ کرکے جانے سے صاف انکار کردیا۔ کس بھی معاملے میں اس نے اپنی رائے یا پسند دینے سے یہ کہہ کر کنارہ کرلیا کہ مجھے آپ کی پسند پر بھروسہ ہے۔ واحد فرمائش جو اس نے کی وہ یہ تھی کہ شادی کا جوڑا سرخ نہ بنایا جائے۔
    بی بی جانے شہیر کو بلا کر اس کی جائیداد کے کاغذات اور عالم آراء کے زیور اس کے حوالے کیے۔
    ”یہ چیزیں میں تب ہی دینا چاہتی تھی جب تم نوکری سے لگے تھے۔ مگر خیر یہ زیادہ بہتر موقع ہے۔ آج میں اپنا فرض اور قرض دونوں ادا کررہی ہوں۔ گواہ رہنا شہیر حسین، تمہاری امانت تم تک پہنچ گئی۔”
    کاغذات اور زیور تحویل میں لیتے وقت بی بی جان نے تین وکیلوں کے بطور گواہ دستخط لیے تھے۔ اب حوالگی کے موقع پر بھی وہ موجود تھے تاکہ امانت میں کسی کمی بیشی کے نہ ہونے کی گواہی دے سکیں۔ شہیر نے تمام چیزیں دیکھ کر بی بی جان کے سامنے ڈال دیں۔
    ”یہ سب اسمارہ کو دے دیجئے۔” اس نے کہا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ”نہ بیٹا۔ تم شادی کے بعد دنیا چاہو تو تمہاری مرضی مگر ابھی میں تمہیں لوٹا رہی ہوں۔”
    شہیر نے پھر بھی اصرار کرکے سارا زیور اسمارہ کے لیے رکھوایا۔ اس کا تھا ہی کون جو اس کی شادی کی تیاریاں کرتا، اس کی دلہن کے لیے زیور کپڑے بنواتا۔
    شادی ہوئی، شہیر دھوم دھام سے بارات لے کر آیا۔ اسمارہ نے کانپتی ہاتھوں سے نکاح نامے پر دستخط کیے اور شہیر کے ساتھ رخصت ہوگئی۔ رخصت ہوتے سمے اس کی نظر آرائشی آئینے پر پڑی اور اس کی نظروں میں وہ تمام دلہنیں گھوم گئیں جو حویلی کی پچھلی گلی سے گزرا کرتی تھیں اور جنہیں وہ بڑے شوق سے اپنی کھڑکی میں سے دیکھتے ہوئے اپنی شادی کے خواب دیکھا کرتی تھی۔ آج اس کی آنکھیں خوابوں سے عاری تھیں اور دل جذبوں سے خالی۔ وہ انہی دلہنوں کی طرح سرنیہوڑائے ہوئے تھی کیونکہ اس میں سر اٹھانے کی سکت نہ رہی تھی۔
    اسمارہ شہیر کے گھر آئی تو دلاور حسین اس سے ملنے آئے۔ رسمی طور پر اس کے سر پر ہاتھ رکھا، اس کے ہاتھ پر سلامی رکھی، چند ایک دعائیں بڑبڑائیں اور کہیں چلے گئے۔ اسمارہ کو ساتھ آئی چند کزنز اور گھر کی ملازماؤں نے شہیر کے کمرے میں پہنچایا۔ وہ بچپن میں کئی مرتبہ اس کمرے میں آچکی تھی۔ اسے شہیر سے ہمدردی کا سبق دیا گیا تھا اس لیے وہ اس ہمیشہ اچھے طریقے سے پیش آنے کی کوشش کیاکرتی تھی۔ مگر شہیر اسے پسند کبھی نہ رہا تھا۔ نہ بچپن میں نہ اب۔ لیکن کیا فرق پڑتا تھا؟ بدر نہیں تو پھر کوئی بھی ہو، کیا فرق پڑتا تھا؟
    شہیر کمرے میں آیا اور ادھر ادھر ٹہلنے لگا۔ وہ گھونگھٹ کے نیچے سے اس کے قدم دیکھتی رہی۔ آخروں قدم تھم گئے۔
    ”آج تو بڑا یاد آرہا ہوگا وہ تمہیں؟” اس نے زہر خند آواز میں پوچھا۔
    ”ہاں!” اس کے دل نے کہا۔ مگر زبان خاموش رہی۔
    ”تھاکیا اس میں جو تم مرمٹی تھیں اس پر؟” نیا سوال آیا۔ وہ اب بھی خاموش رہی۔
    ”مجھے تو کبھی پسند نہیں رہا۔ اچھا ہوا مر گیا۔”
    اسمارہ نے ہاتھ ایک دوسرے میں بھینچ لیے۔ شہیر اس کے سامنے آکر بیٹھ گیا اور اس کا گھونگھٹ الٹ دیا۔ اسمارہ سرد نگاہوں سے اسے دیکھے گئی۔ شاید وہ اس کے چہرے پر خوف، التجا اور پچھتاوہ دیکھناچاہتا تھا۔ اسمارہ کے تاثرات دیکھ کر اسے غصہ آگیا۔
    ”الٹیاں کیوں آتی تھیں تمہیں؟ صرف منگنی ہوئی تھی یا نکاح بھی کر لیا تھا؟ یا اس کے تعبیر ہی…” اس نے بات ادھوری چھوڑ دی۔ اسمارہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے سرد تاثرات کے ساتھ دیکھتی رہی۔ وہ بچپن سے اسے دیکھ رہا تھا۔ اس کی ہر کیفیت سے واقف تھا۔ تو آج اگر یہ سوال پوچھ رہاتھا تو اس لیے نہیں کہ اسے جواب چاہیے تھا بلکہ اس لیے کہ وہ اسے اذیت پہنچانا چاہتا تھا۔ شاید خود کو ٹھکرائے جانے کا بدلہ لے رہا تھا۔ اسمارہ نے خود کو کوئی تسلی نہ دی۔ جو ہو رہا تھا وہ اسے صاف طور پر سمجھ آرہا تھا۔ تو پھر ٹھیک ہے۔ میرے ساتھ یہی ہونا چاہیے۔ میں یہی ڈیزرو کرتی ہوں۔ اس نے خود اذیتی سے سوچا۔
    ”اب بھی اس کے خیالوں میں ہوگی تم؟” شہیر کی تفتیش جاری تھی۔
    ”نہیں۔” اب کے اسمارہ نے جواب دیا۔ وہ واقعی بدر کے خیالوں میں نہیں تھی۔ اس کا خیال اسے اس قدر تکلیف دیتا تھا کہ وہ ہزار کوشش سے اس کے خیال سے نظر چرا جاتی تھی۔
    ”بھول گئی ہو تم اسے؟” شہیر نے چیلنج کرنے والے انداز میں پوچھا۔
    ”نہیں۔” اسمارہ نے بے ساختہ جواب دیا۔
    شہیر کا تھپڑ اس کے گال پر اس زور سے پڑا کہ وہ الٹ کر پیچھے جاپڑی۔ فوراً ہی شہیر نے دونوں بازوؤں سے پکڑ کر اسے اٹھا لیا۔
    ”I am sorry…I am sorryمیری جان۔ دیکھو تم نے یہ مجھے کیا کرنے پر مجبور کردیا۔ میں تم سے بہت محبت کرتا ہوں۔ تمہارے ساتھ شراکت منظور نہیں مجھے۔ میں خود پر قابو نہیں رکھ سکا۔I am sorry۔ پلیز آئندہ میرے سامنے اس کا ذکر مت کرنا۔”
    اسمارہ نے دیکھا وہ رو رہا تھا۔ اس کی بڑی بڑی آنکھوں سے بڑے بڑے آنسو بہہ رہے تھے۔ اس نے اسمارہ کے آگے ہاتھ جوڑ دیئے اورپھر بے قراری سے اسے سینے سے لگا لیا۔ اس کے سینے سے لگے، اس کی معافیاں سنتے اسمارہ کو متلی ہونے لگی۔ اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر ابکائی روک لی۔
    ٭…٭…٭
    وہ ماں باپ کے گھر جاتی تو خوب تیار ہوکرجاتی۔ وہ اسے دیکھ کر خوش ہوتے۔ ڈھیرے سارا میک اپ، بھاری جوڑے۔ سجی بنی، زیوروں میں لدی۔ نہیں جانتے تھے کہ میک اپ چہرے کے نیل چھپانے کے لیے ہے اور زیور گردن اور بازوؤں پر پڑے داغ۔ پھر یہ نیل، یہ داغ اتنے بڑھنے لگے کہ نہ میک اپ سے چھپتے نہ زیوروں سے۔ اس نے گھر جانا چھوڑ دیا۔ بے حسی کی جس انتہا پر وہ پہنچ چکی تھی، اسے اب کچھ محسوس نہ ہوتا تھا۔ نہ کسی کا غم نہ کسی کی یاد۔ نہ کوئی دکھ نہ چوٹ کا کوئی احساس۔ صرف ایک پچھتا وہ تھا جو ہر احساس پر حاوی تھا۔
    ایک دن بی بی جان اور زرینہ اس سے لنے آگئیں۔ پھلوں کی پٹیاں، جوس کے ڈبے، کیک، مٹھائی، بہت کچھ اٹھائے ہوئے۔
    ”اتنے تکلف کے ساتھ کیوں آئیں آپ؟” اسمارہ نے ان سے گلے ملتے ہوئے پوچھا۔
    ”پہلی مرتبہ تمہارے گھر آئی ہوں، خالی ہاتھ آئی کیا؟ تم تو بھول ہی گئی ہو ہمیں۔ آج تمہاری یاد سے مجبور ہوکر آئی ہوں۔” انہوں نے شکوہ کیا۔
    زرینہ نے بھی اتفاق کیا ْ۔”تین مہینوں میں تم بمشکل چھے سات مرتبہ ملنے آئی ہو۔ آنا کیوں چھوڑ دیا بیٹا؟”
    ”بس امی ہر وقت کوئی نہ کوئی دعوت ہوتی ہے یا ہم ویسے ہی گھومنے پھرنے چلے جاتے ہیں۔ بالکل وقت نہیں ملتا۔” اس نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔ مصنوعی مسکراہٹ سے وہ انہیں دھوکہ دے سکتی تھی مگر آنکھوں کا جھوٹ نہیں چھپا سکتی تھی، اسے ان سے نظریں چرانی ہی تھیں۔
    وہ ان کے لیے چائے کا انتظام کرنے کے بہانے اٹھ گئی۔ چائے لے کر واپس آئی تو شہیر آچکا تھا۔ بی بی جان نے اسمارہ کو اپنے پاس بٹھا لیا۔ باتیں کرتے کرتے انہوں نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا ۔”یہ کیا ہوا یہاں؟” انہوں نے اس کے ہونٹ کے کنارے کے زخم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔ انہوں نے اسمارہ کو پالا تھا، وہ کبھی ان کی نظروں سے کچھ نہیں چھپا سکتی تھی۔
    ”گر گئی تھی!” شہیر نے فوراً جواب دیا۔
    مگر بی بی جان کی نظریں اس کا چہرہ ٹٹول رہی تھیں۔ انہیں concealer سے چھپائے ہوئے حلقے بھی دکھائی دے رہے تھے اور جبڑے پر پڑا نیل بھی۔
    ”کہاں سے گری تھیں کہ اتنی چوٹیں لگ گئیں؟” انہوں نے ماتھے پر بل ڈال کر پوچھا۔
    ”ڈرائیووے میں چند پتھراکھڑے ہوئے تھے، وہیں پہ ٹھوکر لگ گئی۔” اب بھی شہیر نے جوا ب دیا۔ بی بی جان خاموش ہوگئیں۔ مگر ان کی آنکھوں میں سوچ کی گہرائی کم نہ ہوئی۔
    جاتے جاتے انہوں نے تبنیہی انداز میں شہیر سے کہا ۔”میری بیٹی کا خیال رکھنا شہیر حسین۔ اسے دوسری عالم آراء نہ بننے دینا۔”
    اس رات شہیر نے گالیوں، تھپڑوں اور ٹھوکروں کا طوفان اٹھا دیا۔
    ”میرے ہی گھر آکر مجھے ہی حکم دیتی ہے بڑھیا!” وہ چلاتا رہا۔
    ”تم نے بلایا تھا اسے؟ تم سناتی ہو اسے جھوٹی سچی داستانیں؟ اپنی بدکار بیٹی میرے متھے ماردی اور اسے میری ماں سے ملاتی ہے؟ اپنی آنکھوں سے دیکھتا تھا میں تمہیں الٹیاں آتے۔ کس ڈاکٹرسے کروایا تھا تم نے ابارشن؟ مجھے اس کا نام بتاؤ میں اس سے سرٹیفکیٹ لاکر تمہاری دادی کے منہ پر ماروں۔” وہ اس کا گلا دبوچ کر چیختا رہا۔
    ”میری ماں کی جائیداد کھا گئی۔ مجھے چند زیور اور پرانے کاغذ پکڑا کر بڑا احسان کیا مجھ پر۔ مجھے کیا پتا اس میں سے کیا کچھ غائب کردیا اس نے؟” وہ غصے میں چیزیں اٹھا کر پھینکنے لگا۔
    آدھے گھنٹے بعد وہ اسمارہ کے پیر پکڑے معافیاں مانگ رہا تھا۔” مجھے معاف کردو۔ میں الوکا پٹھا ہوں، جانور ہوں۔ پر تمہارا غلام ہوں۔ مجھے معاف کردو میری جان۔ میرا سب کچھ تمہارا ہے۔ نہیں چاہیے مجھے یہ جائیداد، یہ زیور، سب میں نے تمہاری سر سے صدقہ کیے۔ یہ سب تمہارا ہے، میں بھی تمہارا ہوں۔ اپنے گناہ گار کو معاف کردو۔ بس مجھے غصہ نہ دلایا کرو۔ دیکھو میں نے بھی تو تمہارے گناہ معاف کیے ہیں۔ تم بھی مجھے معاف کردو۔”
    ٭…٭…٭
    اسمارہ اپنے پچھتاووں کی گٹھڑی میں بند ھی تھی شہیر اپنے عذابوں کی گٹھڑی میں بندھاتھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اسمارہ نے اپنی گٹھڑی کا بوجھ تن تنہا اٹھا رکھا تھا۔ نہ اس میں ماں باپ کو شریک کیا تھا نہ شوہر کو۔ مگر شہیر نے کوڑے بھرے لفافے کی طرح اپنی گٹھڑی کھول کر اسمارہ کے سر پر انڈیل دی تھی۔ اسمارہ بے حسی کے ساتھ ان عذابوں کے بوجھ تلے پس رہی تھی۔ اسے ان سے نجات کی نہ کوئی خواہش تھی، نہ آس۔ لیکن تقدیر کی پلاننگ کسی کی خواہش کے تابع نہیں ہوتی۔ اسمارہ کی نجات بھی اسی گھر کے ایک فرد کے ذریعے لکھی تھی۔
    چند دنوں سے دلاور حسین ہر روز گھر آنے لگے تھے۔ شہیر کے ساتھ ان کے تعلقات سرد مہری اور بے اعتنائی کے تھے۔ یوں لگتا تھا دونوں ہی ایک دوسرے کو برداشت کرنے کے روا دار نہیں۔ مگراسمارہ کے ساتھ ان کا رویہ یکدم بہت اچھا ہوگیاتھا۔ وہ بیٹھ کر اس سے باتیں کرتے اوربے حد پیار سے پیش آتے۔ اس اچانک امنڈ پڑی محبت کی وجہ جلد ہی سامنے آگئی۔
    اس دن اسمارہ گھر میں اکیلی تھی۔ شہیر کسی کام سے کہیں گیا ہوا تھا اور اسمارہ کی ملازمہ چھٹی پر تھی۔ وہ لان میں بیٹھی کتاب پڑھ رہی تھی کہ دلاور حسین آگئے۔ اسمارہ نے خانساماں کو فون کرکے چائے لانے کا کہا مگر جلد ہی اسے اندازہ ہوگیا کہ وہ پٹے ہوئے ہیں۔ وہ کچھ دیر ان کی لن ترانیاں برداشت کرتی رہی پھر معذرت کرکے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ دس منٹ بعد ہی اس کے دروازے پر دستک ہوئی۔ وہ سمجھی شاید خانساماں اس کی چائے کمرے میں لے آیا ہے۔
    ”آجائیں۔” اس نے اجازت دی۔
    دروازہ کھلا اور دلاور حسین اندر داخل ہوئے۔ وہ انہیں دیکھ کر حیران ہوئی مگر شائستگی سے انہیںصوفے پر بٹھایا۔
    ”بڑی اچھی لڑکی ہو تم۔ تمہارے ماں باپ بھی بڑے اچھے ہیں۔ تمہاری دادی بھی بہت نیک ہیں۔” وہ جھوم جھوم کر عقیدت سے کہتے رہے۔ وہ خاموش بیٹھی انہیں دیکھتی رہی۔ جلد ہی وہ مطلب پر آگئے۔
    ”سنا ہے شہیر کو اس کی ماں کی جائیداد مل گئی ہے؟” انہوں نے اپنی آنکھیں اس پر گاڑ کر پوچھا۔
    ”میں نہیں جانتی۔” اسمارہ نے پہلو بچانے کی کوشش کی۔
    ”جانتی تو خیر تم ہو!” وہ ہنسے۔ ”خیر عورتوں کو عادت ہوتی ہے جھوٹ بولنے کی۔ سنا ہے عالم آراء کا زیور بھی مل گیا ہے اسے؟”
    ”جی!” اب کے اسمارہ انکار نہ کرسکی۔ ان زیوروں میں سے ایک بھاری چین، چند کنگن اور انگوٹھیاں تو وہ اس وقت بھی پہنے ہوئے تھی۔ وہ یقینا پہچان گئے ہوں گے۔
    ”بہت قیمتی زیور تھا عالم آراء کا۔ جائیداد بھی بہت قیمتی تھی۔” دلاور حسین کہہ رہے تھے۔ ”لیکن دیکھو مجھے اس میں سے کچھ نہیں ملا۔ کیسی تنگ دستی میں زندگی گزاری میں نے۔ نہ میری بیوی کو خیال آیا کہ کچھ میرے نام چھوڑ جاتی، نہ اب بیٹے کو خیال ہے۔”
    وہ خاموش سے سنتی رہی۔ یہ باتیں وہ اسے کیوں بتا رہے تھے، اس کو سمجھ نہیں آیا۔
    ”تم شہیر سے کہو کہ جائیداد میں سے میرا حصہ مجھے دے دے۔” آخر انہوں نے کہا۔
    ”میں نہیں کہہ سکتی انکل۔ وہ میری بات نہیں سنیں گے۔” اسمارہ نے صاف گوئی سے کہا۔
    ”سنے گا کیوں نہیں؟ اسے کہہ دو کہ اگر معاملہ شرافت، کورٹ کچہری سے باہر نمٹ سکتا ہے تو نمٹا دے۔ مجھے انگلیاں ٹیڑھی کرنے پر مجبور نہ کرے۔” انہوں نے غصے سے کہا۔
    ”کہہ دوں گی۔” اسمارہ نے جان چھڑانے کی کوشش کی۔
    ”کب؟” انہوں نے جلدی سے پوچھا۔
    ”جلد ہی” اسمارہ اکتا گئی تھی۔
    ”مجھے کب جواب دوگی؟” وہ جان کے موڈ میں نہیں تھے۔
    اسمارہ خاموش رہی۔ اس سوال کا جواب شہیر کس زبان میں دیتا، یہ وہ اچھی طرح جانتی تھی۔
    ”تم نہیں کہو گی شہیر سے۔” دلاور حسین نے مایوسی سے کہا۔
    کچھ دیر خاموشی رہی۔ دونوں اپنی سوچوں میں گم بیٹھے رہے۔
    ”یا پھر ایک اور کام بھی ہوسکتا ہے” دلاور حسین نے اچانک کہا۔ ان کا انداز پر جوش تھا۔ ”تم تو جانتی ہوگی کہ کاغذات اور زیور کہاں پڑا ہے۔ مجھے بتا دو میں خود ہی اپنا حصہ لے لیتاہوں۔ خاندان کی عزت کو کورٹ کچہری میں لے جانے کی کیا ضرورت ہے۔”
    اسمارہ نے بے یقینی سے انہیں دیکھا۔ جیسے ان کا ذہنی توزن خراب ہوگیا ہو۔
    ”میں نہیں جانتی۔ اب آپ جائیے۔ شہیر آئیں گے تو ان سے خود بات کر لیجیے گا۔” اس نے کھڑے ہوتے ہوئے مرد مہری سے کہا۔
    دلاور حسین بھی کھڑے ہوگئے۔ ان کا چہرہ جو شراب کے نشے میں پہلے ہی سرخ تھا، اب مزید لال بھبھوکا ہوچکا تھا۔ آنکھوں میں شرارے لپک رہے تھے۔
    ”تم بھی بالکل عالم آراء جیسی ہو۔ خود غرض۔” انہوں نے نفرت سے کہا۔
    خود غرض۔ اسمارہ کو یہ لفظ تازیانے کی طرح لگا۔ وہ پہلے ہی اس لفظ کی خود ساختہ سولی پر ٹنگی تھی۔ وہ جتنا اسے بھلانے کی کوشش کرتی، یہ لفظ اتنا ہی اس کے آگے آکر کھڑا ہوجاتا تھا۔
    ”ٹھیک ہے کاغذات نہیں دے سکتی، نہ سہی۔ زیور نہیں دے سکتی کوئی بات نہیں۔ تو پھر کچھ تو وصول کروں گا میں۔”
    اس سے پہلے کہ وہ ان کی بات کا مطلب سمجھتی، وہ آگے بڑھ کر اسے دبوچ چکے تھے۔ وہ کیا وصول کرنا چاہتے تھے، اس میں انہیں کوئی شک و شبہ نہ رہا۔
    ”میں آپ کے بیٹے کی بیوی ہوں!” اسمارہ نے خود کو چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے چلا کر کہا۔
    ”بھاڑ میں جائے۔ جس نے مجھے باپ نہیں سمجھا، میں اسے کیا بیٹا سمجھوں؟” وہ اسے قابو کرنیکی کوشش میں ہانپ رہے تھے۔
    اسمارہ کو بے اختیار محی الدین کی وہ بات یاد آئی جو انہوں نے دلاور حسین کے حوالے سے اپنے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہی تھی۔ ”شرابی بیوی اور بیٹی میں تمیز نہیں کرسکتا۔” انہوں نے کہا تھا اور کتنا سچ کہا تھا۔
    اسمارہ نے زور سے دلاور حسین دھکا دیا۔ وہ لڑکھڑا کر گرتے گرتے بچے۔ زخمی شیر کی طرح وہ اس پر جھپٹے اور اس کا گلا پکڑ لیا۔ اور یہ تھا وہ وقت جب وہ اسمارہ اس خول کو توڑ کر باہر نکل آئی جس میں اسے دکھوں اور پچھتاؤوں نے بند کر دیا تھا۔ وہ مضبوط، دلیر، کسی سے نہ ڈرنے والی اسمارہ جو بھائیوں کے ساتھ ریسلنگ کرتی تھی اور ناپا کے خونخوار کتوں کو قابو کرلیتی تھی۔ آج بھی اس کے سامنے ایک باؤ لاکتا کھڑا تھا جو اس کی عزت کے درپے تھا۔ اس نے پوری قوت سے ایک گھٹنا دلاور حسین کے پیٹ میں مارا اور ہاتھوں سے ان کا چہرہ نوچ لیا۔ وہ ایک ہاتھ سے پیٹ اور دوسرے سے چہرہ پکڑ کر دوہرے ہوگئے۔ اسمارہ تیزی سے پیچھے ہٹ کر دیوار سے جالگی۔ پاس پڑی میز سے اس نے بھاری بھرکم لیمپ اٹھا لیا۔ دلاور حسین سیدھے ہوئے تو سانپ کی طرح پھنکار رہے تھے۔ ان کے چہرے پر خراشیں پڑ چکی تھیں اور ان سے خون رس رہا تھا۔
    ”تم…” انہوں نے ہذیانی انداز میں چلاتے ہوئے گالی دی۔ ”میں تمہیں چھوڑوں گا نہیں۔”
    ”میں عالم آراء نہیں ہوں دلاور انکل۔ میں خود کو نہیں آپ کو مار ڈالوں گی۔” اس نے چیخ کرکہا۔ دلاور حسین نے اپنی بیلٹ اتاری اور اسے کوڑے کی طرح لہراتے ہوئے اسمارہ کی طرف بڑھے۔ اسی وقت دروازہ کھلا اور شہیر اندر داخل ہوا۔ اس کے پیچھے شجاع بھائی تھے۔ کمرے کا سین دیکھ کر وہ چند سیکنڈ کے لیے بھونچکارہ گئے۔ اسمارہ کونے میں لیمپ ہاتھ میں پکڑے کھڑے تھی۔ اس کی ایک آستین کندھے سے ادھڑ کر لٹک رہی تھی اور ہونٹ سے خون رس رہا تھا۔ دلاور حسین اس کے سامنے بیلٹ لہراتے ہوئے ہانپ رہے تھے۔ یہ منظر سمجھنے میں شجاع بھائی کو ایک سیکنڈ لگا۔ بجلی کی سی تیزی سے آگے بڑھ کر انہوں نے دلاور حسین کو ایک گھونسا جڑا اور اسمارہ کے آگے ڈھال بن کر کھڑے ہوگئے۔ دلاور حسین گھونسا کھا کر صوفے پر گر پڑے۔
    ”پوچھو… پوچھو اس سے اس نے مجھے یہاں کیوں بلایا تھا؟ مجھے ہنس ہنس کر دیکھتی تھی، روز دعوت دیتی تھی۔ کہتی تھی شہیر نہیں ہوتا، آپ آجایا کیجیے۔ آج آیاہوں تو یہ ڈرامہ کررہی ہے۔” دلاور حسین چلائے۔
    کوئی بچہ بھی ہوتا تو اس منظر میں کھڑے ہوئے اس طفلانہ کہانی کا یقین نہ کرتا۔ مگر شہیر بچہ نہیں تھا۔ وہ اپنے عوامل میں کھڑاہوا ایک بے بس آدمی تھا جو نفرت اور محبت کے درمیان پنڈولم کی طرح جھول رہا تھا۔ اس عورت سے محبت جو اس کی ماں تھی، اس عورت سے نفرت جس نے اس کے سامنے خود کو گولی مار کر اپنا خون اس کی کتاب پر بکھیر دیا تھا۔ اس عورت سے محبت جسے وہ بچپن سے چاہتا تھا، اس عورت سے نفرت جس نے اس کی چاہت ٹھکرا کر کسی اور کی محبت قبول کرلی تھی۔
    ”بدکار عورت” وہ چلایا۔ شجاع بے یقینی سے اسے دیکھا۔
    ”دو سے دل نہیں بھرا تھا کہ اب تیسرا بھی چاہیے؟”
    اسمارہ وہاں کھڑے کھڑے مر گئی۔ اپنے بھائی کے سامنے یہ جملہ سن کر شرم کے ہاتھوں، غیرت کے ہاتھوں جیتے جی مر گئی۔
    شجاع بھائی نے بے حد بے یقینی سے اسے دیکھا۔ ”یہ ہوتا ہے تمہارے ساتھ یہاں؟” انہوں نے ٹوٹے لہجے میں پوچھا۔
    اسمارہ نے اپنی مردہ آنکھیں اٹھا کر اپنے بھائی کو دیکھا۔
    ”ہاں!” اس نے فریاد کرتی آواز میں کہا۔ اب کوئی فائدہ نہیں تھا چھپانے کا۔ جن لوگوں کی خاطر وہ سب کچھ سہہ رہی تھی، آج سب کچھ ان کے سامنے کھل گیا تھا۔
    اس نے شجاع کی آنکھوں کو آنسوؤں سے بھرتے دیکھا۔ انہوں نے کچھ بھی کہے بغیر اس کاہاتھ پکڑا اور اسے لے کر دروازے کی طرف بڑھے۔ شہیر نے لپک کر اس کا بازو پکڑ لیا۔
    ”یہاں سے جاؤ گی تو واپس نہیں آسکو گی” اس نے غرا کر کہا۔
    اسے کے کھینچنے سے اسمارہ لڑکھڑا گئی۔ بے اختیار شجاع نے اسے سہارا دیا۔
    ”دروازہ پار کرو گی تو طلاق دے دوں گا۔” شہیر نے پھنکار کر کہا۔
    شجاع بھائی نے تیزی سے آگے بڑھ کر شہیر کو پیچھے دھکا دیا۔
    ”اسمارہ کاغذ پین لاؤ۔” انہوں نے اسمارہ سے کہا۔
    ”اسمارہ کاغذ پین لاؤ۔” انہوں نے اسمارہ سے کہا۔
    اسمارہ نے سائیڈ ٹیبل پر پڑا لیٹر پیڈ اور پین اٹھا کر انہیں دیا۔ شجاع بھائی نے دونوں چیزیں شہیر کے ہاتھ میں تھما دیں۔
    ”لکھو۔ ابھی ابھی طلاق لکھو۔” انہوں نے غصے سے پر قابو پاتے ہوئے شہیر کو حکم دیا۔
    شہیر نے اسمارہ کو دیکھا جو شجاع کے پیچھے کھڑی خشک آنکھوں کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔ وہ آج بھی اس کے چہرے پردکھ، التجا اور آنسو دیکھ چاہتا تھا۔ آج بھی اس کے چہرے پر ان میں سے کچھ نہیں تھا۔ اس نے دانت بھینچ کر پین کھولا۔ ایک ایک لفظ اونچی آواز میں بولتے ہوئے اس نے لکھنا شروع کیا ۔”میں شہیر حسین اپنی بیوی اسمارہ محی الدین کو بوجہ بدکاری طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں، طلاق دیتا ہوں۔”
    ٭…٭…٭