Author: misbah116@hotmail.com

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۳

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۳

    الف لیلہ دو ہزار اٹھارہ داستان

    سارہ قیوم 

    قسط نمبر۳ 

    (رات:۳)

    بھاگنا حسن بدر الدین کا ماموں کے گھر سے اور ڈرنا جادو کے شیطانی چرخوں سے۔ 

    تیسری شب کو بادشاہ شہریار اپنی دُلہن شہرزاد کے پاس آیا اور فرمایا کہ اب اس قصے کا باقی حصہ سناؤ کہ حسن بدرالدین کا کیا حشر ہوا۔ شہرزاد آداب بجا لائی اور بولی، شہریار تاجدار کا حکم دل و جان سے منظور ہے، نافرمانی سے طبیعت نفور ہے۔ یہ کہہ کر کہانی یوں سنائی۔
    حسن بدرالدین کو ہوش آیا تو دیکھا کہ برآمدے میں تخت پر پڑا ہے اور نانی جان آنکھوں میں آنسو لیے ہتھیلیاں سہلاتی ہے اور مارے محبت کے صدقے واری جاتی ہے۔ زلیخا پاس کھڑی اس کی نبض گنتی ہے اور پریشان دکھائی دیتی ہے۔ حسن کو آنکھیں کھولتا دیکھ کر نانی بولی:’’میں صدقے، میں قربان میرے بچے تجھے کیا ہوگیا ہے؟‘‘ اس شفقت و محبت کو دیکھ کر حسن کا دل بھر آیا، آنکھوں میں آنسو بھر کر بولا: ’’خدارا مجھے بتائیے میں کون ہوں؟‘‘
    نانی بولی:’’تو حسن بدرالدین ہے میرے بچے، میرا نواسہ، میری مرحومہ بیٹی کا جگر گوشہ، یہ تیرے ماموں کا گھر ہے، تجھے کیا ہوگیا ہے میرے لال؟ یہ کیسی باتیں کررہا ہے؟‘‘
    حسن چکرا کر بولا:’’اگر میں حسن ہوں، تو میں کہاں گیا؟ اور اگر میں، میں ہوں تو حسن کہاں گیا؟‘‘
    نانی صدمے سے چلائی:’’ہائے نظر لگ گئی میرے بچے کو، دماغ اُلٹ گیا۔‘‘
    زلیخا تشویش سے بولی:’’کھانا کھایا تھا تم نے رات کا؟ پیٹ میں درد تو نہیں؟‘‘
    اتنے میں وہ بے ادب ماما دوبارہ آئی، آتے ہی چلائی’’سب ڈرامے ہیں تاکہ بل جمع کروانے نہ جانا پڑے۔ اپنے باپ کی طرح نکما ہے یہ بھی۔‘‘
    حسن کو طیش آیا، غصے سے ڈانٹا: ’’چپ بے ادب گستاخ ورنہ کھڑے کھڑے نوکری سے نکال دوں گا۔ ماما ہوتے ہوئے یہ بے ادبی؟ابھی سر اڑاؤں گا، ملکِ عدم کو پہنچاؤں گا۔‘‘ یہ سن کر ماما پہلے لال ہوئی، پھر پیلی، پھر نیلی ہوگئی، پاؤں سے چپل اتاری اور حسن پر جھپٹ پڑی۔ ’’ٹھہر تجھے میں بتاتی ہوں، حرام خور جس کا کھاتا ہے اس پر بھونکتا ہے؟‘‘
    نانی ڈر کر چلائی، زلیخا نے بڑھ کر ماما کا ہاتھ پکڑااور بہ منت التجا کی:’’چھوڑیں ماما یہ اپنے آپ میں نہیں، اس کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
    ’’کیا ہوا ہے طبیعت کو؟‘‘ ماما بگڑ کر چلائی۔’’شوگر ہوگئی ہے؟ کینسر ہوگیا ہے؟‘‘
    اب نانی بھی بگڑ گئی۔’’اللہ نہ کرے، تیری نظر لگی ہے میرے بچے کو۔ ابھی پانی دم کرکے دوں گی تو بھلا چنگا ہو جائے گا۔‘‘
    زلیخا بولی:’’ میں بی پی چیک کرلیتی ہوں۔ لگتا ہے لو ہوگیا ہے۔‘‘
    ماما نے تیکھی چتون سے کہا:’’رہنے دے تو اپنی ڈاکٹری، ایسی ہی لائق ہوتی تو ڈاکٹری داخلے کے امتحان میں فیل نہ ہوتی۔‘‘
    زلیخا روہانسی ہوگئی:’’میں فیل نہیں ہوئی تھی، صرف تین نمبر کم تھے میرٹ سے۔‘‘
    ماما نے منہ بنایا ’’ہاں پر ڈاکٹر تو نہیں بن سکی نا۔ ایک تو تو موٹی، دوسرے کالی۔ سوچا تھا ڈاکٹر بن جائے گی تو اچھا رشتہ مل جائے گا، اب تجھے کون پوچھے گا؟ ہائے میرے نصیب، ایک ہی بیٹی وہ بھی پھوپھی پہ چلی گئی۔‘‘

  • الف لیلہٰ داستان  ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۲

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۲

    الف لیلہ ۲۰۱۸ء داستان 

    سارہ قیوم 

    قسط نمبر۲ 

     

    دوسری رات 

    جاگنا حسن بدرالدین کا ماڈل ٹاون میں، چکرانا، ملنا زلیخا سے

    دن کو جب وزیر ارسطو تدبیر درِ دولتِ سلطانی پر حاضر ہوا اور بادشاہ کی زبانی اپنی دختر نیک اختر کے قتل کا حکم نہ سنا تو بڑی حیرت ہوئی اور مسرت بھی ہوئی کہ اللہ نے بچایا۔ بیٹی کا صدمہ نہ دکھایا۔ جناب باری کا شکر ادا کیا۔ جب شب ہوئی تو بادشاہ نے ملکہ شہرزاد سے کہا اب وہ کہانی سناؤ، حسن بدر الدین کا حال بتاؤ، تب شہرزاد نے یوں کہانی سنائی۔
    حسن بدر الدین کہ ایک مکارہ ساحرہ کے ہاتھوں وقت کی گردش میں پھینکا گیا تھا۔ اس سفر کی تیزی کی تاب نہ لا کر بے ہوش ہوگیا۔ آنکھ کھلی تو خود کو ایک ایسے کمرے میں پایا جو اس نے کبھی خواب و خیال میں بھی نہ سوچا تھا۔ وہ ایک مسہری پر پڑا تھا اور جو لحاف اوڑھے ہوئے تھا، پھول کے مانند ہلکا لیکن گرم تھا۔ حسن نے اردگرد نظر دوڑائی۔ کھڑکی سے تیز دھوپ اندر آرہی تھی اور اس کی روشنی میں کمرے کی سفید دیواریں چمک رہی تھیں۔ ایک دیوار کے ساتھ میز رکھی تھی جس کے ساتھ ایک بغیر پٹ کی الماری میں کتابیں تھیں۔ دوسری دیوار پر ایک جہاز قامت تصویر تھی جس میں چند چست و چالاک نوجوان عجیب قسم کے پوشاک پہنے ایک گیند کو ٹھوکر لگاتے نظر آرہے تھے۔ نیچے کسی جناتی زبان میں کچھ لکھا تھا۔ حسن اس تصویر کو دیکھ کر حیران ہوا اور دل میں کہنے لگا یااللہ یہ کیابوالعجبی ہے؟ میں کہاں ہوں؟ یہ کیا ہے؟ ان نوجوانوں کے پاجامے آدھے کسی نے کاٹ دیے؟ اور یہ تصویر کس مصور کے زورِ قلم کا شاہ کار ہے، یہ کون فن کار ہے جس نے ایسی تصویر بنائی کہ ہو بہ ہو نقل بہ مطابق اصل معلوم ہوتی ہے۔ اوپر چھت پر جو نگاہ گئی تو ایک عجیب سی چیز الٹی لٹکی نظر آئی۔ دل میں سوچا یہ کیا چیز ہے؟ جھاڑ ہے یا فانوس؟ اگر وہی ہے تو اس میں شمعیں لگانے کی جگہ کہاں ہے؟ اور اس کے مرکز سے یہ تین پتریاں سی کیوں نکلی ہوئی ہیں؟ ابھی دم بہ خود لیٹا اسی ادھیڑ بن میں مصروف تھا کہ اچانک دروازہ کھلا اور ایک نوخیز مہ پارہ اندر آئی۔ آتے ہی ڈپٹ کر بولی: ’’اُف تم ابھی تک سو رہے ہو؟ ماما نے کہا ہے فوراً اٹھو ورنہ ناشتا نہیں ملے گا۔‘‘
    حسن نے اسے دیکھا تو دیکھتا رہ گیا۔ بوٹاسا قد، بھرا بھرا بدن، چہرے پر وہ ملاحت، وہ نمک کہ کانِ نمک بھی شرمائے، مقابلے کو نہ آئے۔ اتنے میں وہ پری وش بد دماغ ہو کر بولی: اب گھور کیا رہے ہو؟ اٹھتے ہو یا نہیں؟ گیارہ بج گئے، تمہاری سواری کمرے سے ہی نہیں نکلی۔ اٹھو ماما ناراض ہورہی ہیں۔‘‘
    حسن نے کہا ’’اے پری پیکر، نازک کمر، بلبلِ شاخسارِ رعنائی، ندوہِ کوہسارِ برنائی، ستم کوش، نسترن بناگوش تو کون ہے؟‘‘
    حیرت سے اس نازنین کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ گھبرا کر چلائی، ’’کیا بکواس کررہے ہو؟ کون سی زبان بول رہے ہو؟ بھنگ پی کر سوئے تھے کیا؟ ہائے اللہ، ماما کو تو ویسے ہی شک ہے کہ تم سگریٹ پینے لگے ہو۔ کہیں چرس تو نہیں شروع کردی ؟‘‘
    حسن نے گڑ گڑا کر کہا،’’واللہ بندہ بے قصور ہے، ہر قسم کے نشے سے طبیعت نفور ہے، مگر یہ تو بتائیے آپ کون ہیں؟ یہ کون سی جگہ ہے؟ اتنا تو میں سمجھا ہوں کہ یہ مقام آباد ہے مگر آدمی رہتے ہیں یا مسکنِ دیوزاد ہے؟‘‘
    اب کے اس پری پیکر نے ناک چڑھائی اور تنک کر بولی، ’’ویری فنی، خوامخواہ میں انجینئر بن رہے ہو، تمہیں تو ایکٹر بننا چاہیے۔ بھائی جان، یہ آپ کے ماموں کا گھر ہے۔ 420۔ ڈی ماڈل ٹاؤن لاہور۔ اور میں آپ کے ماموں کی بیٹی زلیخا ہوں۔ اب اگر ہوش سنبھل گئے ہوں تو باہر تشریف لائیے ورنہ باقی کا دماغ آپ کا ماما درست کریں گی۔‘‘
    یہ کہہ کر وہ زہرہ جمال پری تمثال دروازے سے نکل گئی۔ حسن بدر الدین جی میں حیران ہوا کہ یہ کون سی بستی ہے، کون سا دیار ہے؟ یہ کون سے ماموں ہیں جن کا یہ مسکن رود بار ہے؟ میرے تو کوئی ماموں ہی نہیں۔

  • الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸  ۔ قسط نمبر ۱

    الف لیلہٰ داستان ۲۰۱۸ ۔ قسط نمبر ۱

    الف لیلہ۲۰۱۸ء داستان 

    سارہ قیوم 

    قسط نمبر 1: 

    راویانِ روایاتِ سلاطین سے راوی ہے کہ زمانِ پاستان میں ایک تاجدارِ خاقان کلاہ راج کیا کرتا تھا۔ نام اس کا سلطان شہریار تھا، امورِ سلطنت میں آزمودہ کار تھا۔ بے حد غریب پرور، دوست دشمن نواز، انصاف میں نوشیروانِ ثانی، شجاعت میں غیرت کا بانی۔اس کی بادشاہت میں شیر اور بکری ایک گھاٹ پر پانی پیتے، چھوٹے بڑے عیش کرتے تھے۔ محتاج کا نام نہ تھا، ادنیٰ سے ادنیٰ اس کی بادشاہی کا دم بھرتا تھا۔ 

    خدا کا کرنا یہ ہوا کہ سلطان شہریار عالی وقار کی ملکہ نے ناموس کو دھبّا لگایا اور بادشاہ سے بے وفائی کرکے شیشۂ پارسائی و وفاداری کو چکنا چور کیا، ذرا بھی نہ پاس ناموسِ حضور کیا۔ ملک شہریار نے فرطِ غضب سے مغلوب ہوکر اپنی بدکارہ ملکہ کو جلاد کے سپرد کیا اور جلاد نے اس کا سر شمشیر کے ایک ہی وار سے تن سے جدا کیا۔ 

    اس روز سے شہریار کو عورتوں کی پارسائی و عصمت، باوفائی و عفت کا ذرا بھی دل میں یقین نہ رہا اور اس نے یہ کرنا شروع کیا کہ ہر شب ایک دوشیزہ کو بلاتا اور صبح کو اس کی جان لیتا، جیتانہ چھوڑتا۔ تین سال تک مسلسل یہ قتلِ عام جاری رہا۔ شدہ شدہ نوبت بہ اینجا رسید کہ کنواری لڑکیوں کے ماں باپ کو اس واقع کی اطلاع ہوئی اور تمام شہر میں کھلبلی مچ گئی۔ والدین کنواری لڑکیوں کو لے کر بھاگے، شہر خالی کر دیا۔ جب کوئی دوشیزہ شہر میں باقی نہ رہی تو بادشاہ نے وزیر کو بلایا اور فرمایا کہ آج ہماری دلہن بننے کو کوئی لڑکی دستیاب نہیں۔ تم خود اہتمام کرکے ہمارے لیے ایک دوشیزہ لاؤ، بہت جلد بہم پہنچاؤ ورنہ ہم بددماغ ہو جائیں گے اور سختی سے پیش آئیں گے۔ 

    وزیر کے ہوش اُڑ گئے۔ ہر طرف سراغ لگایا مگر دوشیزہ کا پتا نہ پایا۔ اگر دستیاب ہوئی تو بہت ہی کمسن، بادشاہ کے قابل نہیں۔ لے جاؤں تو لوگ بے وقوف بنائیں، نہ لے جاؤں تو بادشاہ بددماغ ہو جائیں۔ جائے ماندن نہ پائے رفتن۔ بے چارے نے حیران پریشان گھر کی راہ لی۔ 

    اس وزیر کی بڑی بیٹی کا نام شہرزاد تھا۔ علم و فضل میں طاق، ہر فن میں شہرۂ آفاق، صاحب سلیقہ و شعور تھی، مشہورِ نزدیک و دور تھی۔ اپنے پدرِ بزرگوار کو جو مغموم پایا تو دل بھر آیا۔ پوچھا ابا جان کیا بات ہے؟ نصیبِ دشمنان کچھ طبیعت ناساز ہے؟ جواب میں وزیر نے بادشاہ کا حال بلاکم و کاست بیان کیا۔ وزیر زادی نے فوراً کہا ابا جان اس قدر فکر بے کار ہے۔ لونڈی اس کام کے لیے تیار ہے۔ آپ مجھے بادشاہ کے سپرد فرمائیں۔ بادشاہ مجھے اپنے نکاح میں لائیں۔ خدا نے چاہا تو بادشاہ راہِ راست پر آئے اور پھر تمام عمر کسی کے قتل کا ارادہ دل میں نہ لائے۔ 

    وزیر پریشان ہوا، بولا جانِ بابا تمہارا کدھر خیال ہے؟ بادشاہ کے جنون کا عجب حال ہے۔ کس خبط میں گرفتار ہو، ابھی کمسن ناتجربہ کار ہو۔ شہرزاد نے کہا ابا جان بلا سے میری جان پر آئے گی مگر میرے سبب ایک شریف زادی مسلمان تو بچ جائے گی۔ وزیر نے دیکھا کہ لڑکی ہٹ کی پکی ہے اور اس کی ضد مانے بغیر چارہ نہیں تو اپنی بیٹی کو دلہن بنا کر بادشاہ کے حضور لے گیا۔ ملک شہریار نے بہ مسرتِ تمام، بہ طبیبِ خاطر اس جادوِ جمال، زہرہ تمثال سے نکاح کیا اور اسے حجلۂ عروسی میں پہنچایا۔ 

    جب بادشاہ اس کے پاس گیا تو وہ بادشاہ کو دیکھتے ہی زار زار رونے لگی۔ اشک سے عارضِگلگوں دھونے لگی۔ ملک شہریار نے پوچھا تم اس قدر آٹھ آٹھ آنسو کیوں روتی ہو؟ اگر کوئی تکلیف ہے تو اطلاع دو، علاج کیا جائے۔ شاہی طبیب کو معالجے کا حکم دیا جائے۔ شہرزاد نے بہ صد ادائے دلربانہ جواب دیا کہ اے بادشاہ سلامت مجھے اس وقت گھر والوں کی یاد آئی ہے۔ طبیعت تابِ جدائی نہ لائی ہے۔ شہریار نے پوچھا آخر یہ رنج و غم کیوں کر دور ہو؟ شہر زاد نے کہا اجازت ہو تو کوئی کہانی سناؤں؟ اپنا غم بھی غلط کروں، آپ کا بھی دل بہلاؤں۔ 

    شہریار نے کہا بسم اللہ ضرور سناؤ، اس میں ہمیں کیا اعتراض ہے؟ شہر زاد نے خدا کا نام لے کر کہانی شروع کی اور الف لیلہ دوہزار اٹھارہ داستان کی بنیاد ڈالی۔ 

  • چوزے

    چوزے

    نظم
    چوزے
    ارسلا ن اللہ خان

    میں نے پالے چوزے تین
    تینوں چوزے ہیں رنگین

    چوں چوں چوں چوں کرتے ہیں
    بلّی سے ےہ ڈرتے ہیں

    سب ان سے کرتے ہیں پےار
    کھیلیں ان سے سو سو بار

    خوب ہی دانا کھاتے ہیں
    تینوں موٹے تازے ہیں

    دھوپ میں پھیلاتے ہیں پر
    سوتے ہیں اک دوجے پر

    مُشکل سے آتے ہیں ہاتھ
    دِن کو لیتے ہیں سن باتھ

    سب بچّوں کو بھاتے ہیں
    جو دے دو وہ کھاتے ہیں

    ایک ہرا ہے اِک نیلا
    اور ہے اِک بالکل پیلا

    دِکھتے ہیں بے حَد معصوم
    خوب مچاتے ہیں ےہ دھوم

    ہر اک کو ےہ ہیں مرغوب
    مستی بھی کرتے ہیں خوب
    ٭….٭….٭
    آرٹ بریف
    رنگ برنگے چوڑے اور ایک مرغی گھاس والی جگہ پردانہ چگ رہے ہیں۔
    ٭….٭….٭

  • بیلینس شیٹ ۔ مکمل ناول

    بیلینس شیٹ ۔ مکمل ناول

    بیلنس شیٹ
    (novelette)
    نشاءوقار
    ”ایکسکیوزمی آر یو کھنک؟“ امتیاز سپر مارکیٹ میں مہینہ بھر کی گروسری کی شاپنگ کرکے میں بل کی ادائیگی کرنے قطار میں کھڑی اپنی باری کا انتظار کر رہی تھی کہ پیچھے سے آنے والی کچھ اجنبی کچھ شناسا آواز پر میں نے چونک کر دیکھا۔
    ”یس آئی ایم!“ میں نے سوالیہ نظروں سے اپنے سامنے کھڑی کالے عبایہ اور کالے ہی اسکارف کا نقاب پہنے خاتون سے پوچھا جو ہاتھوں میں کالے دستانے اور پاو ¿ں میں کالے موزے پہنے ہوئے تھیں۔ دیکھنے سے صاف لگ رہا تھا کہ خاتون شرعی پردہ کرتی ہیں۔
    ”میں شبی فاطمہ! سر شاہ خالد کے کوچنگ سینٹر میں بی۔ کام کی کلاسز میں ہم ساتھ ہوتے تھے شریف آباد والے کیمپس میں۔ یاد آیا کچھ؟“ خاتون نے تفصیل سے اپنا تعارف کرایا اور میں نے حیرانی سے اسے دیکھتے ہوئے اپنی ٹرالی آگے بڑھائی۔
    ”کیا ہوا؟ پہچانا نہیں؟“ میری حیرانی کو اجنبیت سمجھتے ہوئے وہ ایک دم سے نارمل ہوگئی۔
    ”ارے نہیں یار پہچان لیا؟ “ میرے اتنا کہنے پر اس نے آگے بڑھ کر مجھے گلے لگالیا۔
    ”بس تمہاری ظاہری حالت کی وجہ سے تمہیں پہچاننے میں مجھے تھوڑی دقت ہوئی۔“ میں چاہ کر بھی اپنی حیرانی اس سے چھپا نہ پائی جسے اس نے کمال مہارت سے نظر انداز کر دیا ۔اس دوران ہم دونوں اپنے بل ادا کرکے سپر مارکیٹ کے باہر آکر کھڑے ہوگئے۔ اتنے میں علی جو گاڑی میں بچوں کے ساتھ بیٹھے میرا انتظار کر رہے تھے، مجھے دیکھ کر گاڑی میرے نزدیک لے آئے۔
    ”علی! ان سے ملیں، یہ میری کوچنگ فرینڈ شبی فاطمہ ہیں اور فاطمہ، یہ میرے شوہر علی مرتضیٰ ہیں۔“ میں نے علی اور فاطمہ کا تعارف کرایا۔ رسمی سی علیک سلیک کے بعد فاطمہ گاڑی میں میرے بچوں کی طرف اشتیاق سے دیکھنے لگی۔
    ”یہ تمہارے بچے ہیں کھنک ؟“



    ”جی جناب الحمدللہ! چلو بچو خالہ سے شیک ہینڈ کرو۔ ماشاءاللہ سے اللہ نے مجھے چار بچوں سے نوازا ہے۔ بڑے دونوں اپنی دادی کے پاس ہیں۔ چھوٹوں کو لے کر ہم لوگ شاپنگ پر آگئے۔“ میں نے بچوں کا تعارف کراتے ہوئے فاطمہ کو جواب دیا۔ اس دوران علی ٹرالی کا سارا سامان گاڑی میں منتقل کرچکے تھے اور خشمگیں نگاہوں سے مجھے گھور رہے تھے کیونکہ پیچھے سے آنے والی گاڑیاں مسلسل ہارن دے رہی تھیں۔ ایک تو اتوار اوپر سے مہینے کی شروع تاریخیں جس کی وجہ سے سپر مارکیٹ آنے والوں کا ہجوم اپنے عروج پر تھا۔
    ”یہ میرا موبائل نمبر ہے مجھ سے رابطے میں رہنا۔“ فاطمہ نے مجھے گاڑی میں بیٹھتا دیکھ کر جلدی سے مارکیٹ کے اداشدہ بل پر اپنا موبائل نمبر لکھ کر مجھ سے کہا اور تیزی سے پیچھے ہٹ گئی تاکہ علی گاڑی آگے بڑھالے کیونکہ پیچھے سے آنے والی گاڑیوں کے ہارن مسلسل بج رہے تھے۔ گاڑی تھوڑی سی آگے بڑھی تو میں نے بیک مرر سے دیکھا کے سفید کلر کی نیو ماڈل کرولا میں ایک آدمی اس کی ٹرالی کا سامان رکھ رہا تھا۔ حلیے سے وہ ادھیڑ عمر کا شخص ڈرائیور لگ رہا تھا جب تک وہ میری نظروں سے اوجھل نہیں ہوگئی میں تب تک بیک مرر سے اسے دیکھتی رہی۔ اس دوران وہ گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر اس میں بیٹھ چکی تھی۔ اس کی ظاہری اور مالی حالت کے علاوہ اس کا بات کرنے کا انداز اور لب و لہجہ اس فاطمہ سے یکسر مختلف تھا جسے میں جانتی تھی۔
    ”مما! دیکھیے بھائی جان مجھے ٹیبلیٹ نہیں دے رہے۔ کب سے اکیلے اکیلے گیم کھیل رہے ہیں اب میری ٹرن ہے۔ مجھے دلوائیے بھائی جان سے ٹیبلیٹ۔“ میری سب سے چھوٹی بیٹی مناہل نے روتے ہوئے مجھے اپنی جانب متوجہ کیا تو میں جو ابھی تک فاطمہ کے بارے میں سوچ رہی تھی، اُس کیفیت سے نکل کر سب سے پہلے اس پیپر کو اپنے پرس کی پاکٹ میں سنبھال کر رکھا۔
    ”یحییٰ! نہیں تنگ کرو چھوٹی بہن کو اب اس کی ٹرن ہے اسے دو ٹیبلیٹ۔“ میں نے دونوں بچوں میں جھگڑا نمٹایا اور علی کی طرف متوجہ ہوگئی جو حسب عادت کراچی کے بے ہنگم ٹریفک اور غیر ذمہ داری سے گاڑی ڈرائیو کرتے لوگوں کی وجہ سے غصّے میں لال پیلے ہورہے تھے۔” کراچی میں اگر آپ کو ڈرائیونگ کرنی ہے تو اپنی گاڑی احتیاط سے چلانے کے ساتھ ساتھ آس پاس چلتی گاڑیوں کو بھی بچانا ہے۔ سارے جہاں میں لوگ ڈرائیونگ کے دوران اپنی جان کی فکر کرتے ہیں اور یہاں اپنے علاوہ آس پاس کے لوگوں کی جان کی فکربھی آپ کو ہی کرنا پڑتی ہے ۔“ علی حسب عادت جب تک گھر نہیں
    آگئے مستقل بڑبڑاتے رہے۔ باپ کو غصّے میں دیکھ کر بچے دبک کر بیٹھے رہے اور میرے دماغ سے بھی فاطمہ وقتی طور پر محو ہوگئی۔

  • مالک اور نوکر

    مالک اور نوکر

    مالک اور نوکر
    ارسلا ن اللہ خان

    اک مالک نے رکھا نوکر
    دیر سے اُٹھتا تھا وہ سو کر

    جو چیزیں مالک منگواتا
    نوکر کچھ کا کچھ لے آتا

    مالک نے منگوائی کَکڑی
    نوکر جی لے آئے لکڑی

    مالک نے منگواےا کیلا
    وہ لے آےا خالی تھیلا

    جب منگوائے پندرہ نان
    لے آےا وہ پندرہ پان

    مالک نے منگوائے آلو
    لے آےا کپڑے کا بھالو

    جب منگوائے درجن انڈے
    لے آےا وہ بارہ ڈنڈے

    مالک نے منگواےا کھیرا
    اور نوکر لے آےا زیرا

    مالک نے منگوائی پیڑھی
    نوکر لے کر آےا سیڑھی

    جب منگوائی اُس سے چائے
    لے آےا بکرے کے پائے

    منگوائے اُس سے چلغوزے
    اور نوکر لے آےا موزے

    مالک نے منگوائے آم
    وہ لے کر آےا بادام

    مالک ےہ بولا رو رو کر
    نوکر ہے ےہ میرا جوکر

    بھولے سب چیزوں کے نام
    اُلٹے ہیں سب اُس کے کام

    تُم ہی دیکھو ارسلان
    نوکر کتنا ہے نادان
    ٭….٭….٭

  • فیصلہ

    فیصلہ

    قتل کیس پر مبنی ایک سبق آموز سچ بیانی
    فیصلہ
    محمد ظہیر شیخ
    راج نگرکے تھانیدار کی بدقسمتی کہ ہر دوسرے تیسرے دن کوئی نہ کوئی ایسی خبر ملتی کہ مجبوراً پولیس کو پہنچنا پڑتا تھا۔ چھوٹے موٹے واقعات اپنی جگہ تھے کہ اطلاع ملی کہ راجہ شہباز کے بیٹے کو قتل کر دیا گیا ہے۔ گاﺅں کی بات تھی جنگل کی آگ کے مانند پورے علاقے میں فوری طور پر پھیل گئی۔
    ٭….٭….٭
    راج نگر یوں تو گاﺅں ہی تھا، مگر اس کی آبادی اور رقبہ کسی چھوٹے شہر سے کم نہ تھا۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ایک حلقے کی سیٹ حاصل کرنے کے لیے تمام متعلقہ امیدواروں کی توجہ کا مرکز راج نگر ہوتا تھا۔ یوں تو راج نگر کی آبادی کا بڑا حصہ راجپوت خاندان پر مشتمل تھا، مگر اس کے باوجود کم ازکم چھے سات مختلف برادریوں کے لوگ بھی اسی گاﺅں کے باسی تھے۔ ساری برادریوں کے ہوتے ہوئے بھی راجپوتوں کو اکثریت حاصل تھی۔ اس لیے کسی قسم کے سماجی یا سیاسی فیصلے کرنے میں ان کے پاس جملہ حقوق محفوظ تھے اور کسی برادری کے کسی فرد کی مجال نہ تھی کہ ان کے فیصلوں پر احتجاج یا نافرمانی کرے۔ باقی لوگ تو اللہ اللہ کرکے اور مصلحت کے تحت جی حضوری کرکے وقت گزار رہے تھے مگر جب سامنے اپنا ہی خون آجاتا تو بات بڑی دور تک چلی جاتی۔ اپنوں سے محبت تو ہوتی ہے، مگر جب وہی ادشمنی پر اتر آتے ہیں تو قیامت کا سماں ہوتا ہے۔
    راجہ عامر بچپن ہی سے بہت نازک طبیعت واقع ہوا تھا۔ اسکول کے لڑکے اکثر اسے لیڈی، لیڈی کہہ کر چھیڑتے تھے۔ اسے خود بھی کبھی کبھی احساس ہوتا تھا کہ وہ جس گاﺅں اور فیملی سے تعلق رکھتا ہے وہاں تو حاکم رہا جاتا ہے ، مگر وہ الگ طبیعت رکھتا تھا ۔ گاﺅں میں کوئی بھی شادی بیاہ یا کسی بھی قسم کی تقریب میں شامل ہونا اسے باعثِ شرم محسوس ہوتا تھا۔ لڑائی جھگڑا کرنا تو درکنار وہ کسی ایسی جگہ جانا بھی ناپسند کرتا تھا جہاں اس قسم کی کسی بات کا اندیشہ ہو۔ اسکول سے کالج پہنچا تو مسیں بھیگی اور نوجوانی سے جوانی کا سفر طے ہوا، مگر طبیعت کی وہ شادابی برقرار رہی۔ گھر والے تو ایک طرف گاﺅں والے بھی حیرت زدہ تھے کہ یہ کیسا راجپوت ہے جو ہر ایک سے مسکرا کر ملتا ہے اور گریبان بھی کھلا نہیں رکھتا۔ باقی برادریوں کے تمام افراد اس کی دل سے عزت کرتے تھے مگر اپنی برادری میں وہ کم حیثیت شمار ہوتا تھا ۔ وہ ایسا پھول تھا جو صرف دکھائی دینے کے لیے تھا، مگر پھول کانٹوں کے بغیر ہو یہ کیسے ممکن ہے۔ اسی لیے اس کے ساتھ بھی ایک زہریلا کانٹا تھا، اس کا بڑا بھائی ناصر……..
    عامر شبنم تھا تو ناصر شعلہ، دونوں بھائیوں کی آپس میں گاڑھی چھنتی تھی۔ ہر کام مل جل کر کرتے، ہر راز ایک کا دوسرے کو پتا ہوتا تھا۔ کھانا پینا اور کھیلنا حتیٰ کہ سونے کا کمرا بھی کا مشترکہ تھا، مگر جب بات آتی لڑائی جھگڑے کی تو عامر بھیگی بلی اور ناصر بھیڑیا بن جاتا تھا۔ ناصر بلا کا لڑاکا تھا۔ گھر والوں کی روک ٹوک نہ ہونے کے باعث وہ ہر پھڈے میں پیش پیش ہوتا تھا۔ اس کے والد راجہ دلاور ایک سرکاری کالج کے پرنسپل تھے، گھر میں دولت کی ریل پیل تھی۔ عیاش پرست گھرانہ تھا۔ مکان کی تعمیر کے علاوہ جو کچھ کمایا جاتا عیش و عشرت میں اڑا دیا جاتا۔ گزر بسر اچھے سے ہو رہی تھی اور کیا چاہیے تھا۔ مستقبل کی فکر اس لیے بھی نہیں تھی کہ چار پانچ سال بعد ریٹائرمنٹ کی رقم سے کاروبار کرنے کا ارادہ تھا۔ اسی لیے کسی بھی پھڈے کی صورت میں فوری طور پر ناصر کو مکھن کے بال کی مانند بچا لیا جاتا۔ زیادہ باز پرس نہ کی جاتی کیونکہ یہی ایک ہتھیار تھا جس کی بدولت وہ برادری ہر سو حاوی تھی۔ ناصر، عامر کو اکثر طنز کا نشانہ بناتا مگر عامر ٹس سے مس نہ ہوتا۔ وہ اکثر کہتا ”دیکھ عامرے! یہ جو طاقت ہے نا یہ مرد کی شان ہوتی ہے ۔ اگر انسان اس سے محروم ہو جائے یا جان بوجھ کر اسے زنگ لگا دے تو پھر مرد اور خواجہ سرا میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔“
    ”ہوں! تو اس کو تم مردانگی کہتے ہو۔“ وہ مسکراتے ہوئے سادہ سے انداز میں کہتا۔
    ”اگر مظلوموں کو دبانے کو، ان کا حق چھین لینے کو اور اپنے سے کمزور لوگوں کو پیٹنے کو تم مردانگی سمجھتے ہو تو میں ایسی مردانگی پر سو بار لعنت بھیجتا ہوں۔“
    ”ایک دن آئے گا جب میری بات تمہاری سمجھ میں آجائے گی ۔ جب تمہیں احساس ہوگا کہ ہر چیز تمنا اور محبت سے نہیں ملتی، کچھ حقوق ایسے ہوتے ہیں جو چھیننے پڑتے ہیں ۔ پھر تم میرے پاس آﺅ گے اپنا ہیجڑا پن لے کر……
    ”دیکھنا ایک دن تمہیں میری باتیں یاد آئیں گی عامرے۔“وہ میٹھی ڈانٹ پلاتے ہوئے عامر سے کہتا اور پھر ایک دن عامر کو اس کی بات سمجھ آگئی۔ وہ پریشان تھا کہ اپنی مشکل کیسے ناصر سے بیان کرے۔ اسے بیان کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑی کیونکہ ناصر نے اس کی حالت سے خود ہی اندازہ لگا لیا کہ کوئی گڑ بڑ ہے۔ عامر اپنی کتب لیے بیٹھا تھا کہ ناصر اس کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو ناصر زیر لب مسکرا رہا تھا ۔ اسے معلوم تھا کہ اب اس کی خیر نہیں سب کچھ ناصر کے گوش گزار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ۔
    ٭….٭….٭