Author: misbah116@hotmail.com

  • گھٹن — اعتزاز سلیم وصلی

    ’’غیرت کے نام پر‘‘اس کی زبان سے یہ الفاظ سن کر میرا جسم ساکت ہوگیا۔
    ’’کک کیوں؟‘‘میرا چلتا قلم رک گیا تھا۔
    ’’آپ کے خیال میں غیرت صرف مرد میں ہوتی ہے؟عورت غیرت کے نام پر قتل نہیں کرسکتی؟‘‘وہ بات مکمل کر کے ہنس پڑی۔
    ’’کتنا عجیب ہے نا یہ؟ایک عورت نے ایک مرد کو غیرت کے نام پر قتل کردیا۔‘‘اس نے مجھ سے پوچھا اور میرے پاس اس کے سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
    ’’لوگ بھی حیران ہوں گے مجھ پر، لیکن میرا ایک سوال ہے کہ غیرت کے نام پر قتل ہونے والی صرف عورت ذات کیوں ہو؟مرد ذات بھی تو حد پار کرتے ہیں؟اور مرد کو قانون غیرت کے نام پر قتل کرنے کے بعد رعایت بھی دیتا ہے؟مجھے بھی ملے گی رعایت؟میں بھی بچ جاؤں گی نا پھانسی اور عمرقید سے؟‘‘اس کی باتیں تلخ مگر سچ تھیں۔
    میں…ثناحمید،ایک قلم کار،ایک پولیس افسرکی بیوی۔ جو ہمیشہ ایسے قیدیوں کی سچی کہانیاں تحریر کرتی ہوں۔ آج پہلی بار اپنے الفاظ کی طاقت میں کمی محسوس کررہی تھی۔
    ’’تمہاری باتیں بالکل سچ ہیں سکینہ، ایک ایک لفظ سچ ہے، مگر یہ ہمارا معاشرہ ہی ایسا ہے۔‘‘اپنی بات پر میں خودمطمئن نہیں تھی۔
    ’’مس، ہمارا کیا قصور تھا؟جو اتنے برس ذلیل ہوئیں؟ پتا ہے میں برقع پہنتی ہوں اس لیے نہیں کہ وہ سختی کرتاتھابلکہ اس لیے کہ یہ میرے اللہ اورمیرے پیارے نبیؐ کا حکم ہے۔ میں اپنی مرضی سے یہ سب کرتی تھی۔ میں ہی کیاہمارے گھر کی ہر لڑکی ہر عورت ایسے کرتی تھی۔ نماز کی پابندی، قرآن مجید کی تلاوت، مگر وہ برا تھا، بہت برا۔ اسے شک تھا ہم پر، ہر وقت شک کرتا تھا۔‘‘سکینہ نے چہرے پر ہاتھ رکھے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
    میں نے سپاہی کو اشارہ کیا۔ اس نے قریب پڑے گھڑے سے پانی لا کر سکینہ کو دیا۔پانی حلق سے اتارنے کے بعد وہ کچھ سنبھلی۔
    ’’میں پوری کہانی سنناچاہتی ہوں۔‘‘ میں نے اپنے آنے کا مقصد بیان کیا۔
    ’’ایک شرط پر میں سب سچ سچ بتا دوں گی کہ آپ جب کسی اور کو بتانے لگیں یا سنانے لگیں تو پلیز، کچھ باتیں چھپا لینا، میرا راز ہو گا آپ کے پاس،میری امانت۔‘‘ اس نے میرے ہاتھ پر ہاتھ رکھااور میں نے وعدہ کر لیا۔





    کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد اس کے چہرے پرکرب کے آثار دکھائی دیے۔مجھے لگاجیسے وہ کچھ بولے گی ۔اس کے ہونٹ تھرتھرائے￿ مگرالفاظ اس کی زبان سے ادا نہ ہوسکے۔
    ’’آپ ایک کام کریں۔‘‘وہ جیسے ہار گئی۔
    ’’کیا؟‘‘
    ’’آپ یہ ڈائری مجھے دے دیں میں خو د اپنی کہانی لکھ دوں گی۔ آپ کل آکر ڈائری لے جانا۔‘‘ اس کی تجویز قابل ِ قبول تھی۔ میں نے اس کی بات مان کر پن اور ڈائری اسے پکڑا دی اور باہر جانے ہی لگی تھی کہ سپاہی دوڑ کر میرے پاس آیا۔
    ’’میڈم ہم یہ نہیں کرسکتے، قیدی کے پاس کچھ چھوڑ کر نہیں جاسکتے یہ قانون کے خلاف ہے۔‘‘ میں ایس پی کی بیوی نہ ہوتی تو شاید وہ ڈائری اورپن سکینہ سے چھین لیتا، مگروہ بے حد احترام سے بات کررہا تھا۔
    ’’میں ایس پی صاحب کو کال کرتی ہوں،تم انہیں یہ قانون بتا دینا۔‘‘ میں نے پرس سے اپنا سیل فون نکالا۔
    ’’نن نہیں میڈم…سوری۔‘‘وہ پیچھے ہٹ گیا۔ واپسی پرسکینہ کی باتیں میرے دماغ پر ہتھوڑے کی طرح برس رہی تھیں۔ وہ زیادہ پڑھی لکھی نہیں لگتی تھی مگراس کی باتوں سے ایک عجیب طرح کی تلخی ظاہر ہوتی تھی۔ شاید حالات کے سردوگرم نے اسے یہ باتیں سکھادی تھیں۔
    ’’یہ کہانی آگے بڑھانے سے پہلے میں اپنا تعارف کروا دوں۔ میرانام ثنا حمید ہے اور میں ایس پی حمید احمد کی بیوی ہوں۔ میں ایک لکھاری ہوں جو پولیس قید میں آنے والے بہت سے قیدیوں کے سچے واقعات اور ان کے پیچھے موجود کہانیاں ایک مشہورڈائجسٹ میں لکھ رہی ہوں۔ان تحریروں پر مشتمل میری کتاب ’’حقائق‘‘شائع ہوچکی ہے۔اس کام میں مجھے اپنے شوہر کی مکمل حمایت حاصل ہے اور وہ ہر جگہ میری مدد کرتے ہیں۔میرے شوہر پولیس میں نہ ہوتے تو شاید میں یہ کام کبھی نہ کرسکتی، لیکن اب میرے لیے یہ بہت آسان ہے۔خیربات ہورہی تھی سکینہ کی کہانی کی۔‘‘
    اگلے دودن میں کچھ مصروفیت کی وجہ سے سکینہ سے ملنے نہ جاسکی۔تیسرے دن جب میں اس کے پاس پہنچی، تو وہ شدت سے میری منتظر تھی۔ سکینہ کو قتل کے جرم میں عمر قید کی سزاہوئی تھی۔ اس نے اس سزا کے خلاف ہائی کورٹ میں اپیل کی ہوئی تھی۔
    ’’کیسی ہو سکینہ؟‘‘میں اس کے پاس بیٹھ کر مسکرائی۔
    ’’جیل کی قیدی کیسی ہو سکتی ہے؟‘‘اس کی مسکراہٹ ہمیشہ ایسی ہی ہوتی تھی۔ اداسی اور پریشانی لیے۔
    ’’ان شااللہ سب بہتر ہوگا۔‘‘میں نے اس کا کندھاتھپتھپایا۔
    ’’آپ کی یہ ڈائری‘‘اس نے ڈائری اٹھا کر مجھے دی۔
    ’’میں نے پوری کوشش کی ہے اپنے حالات اور واقعات کو کہانی کی شکل میں لکھ سکوں۔ آپ پڑھ کر بتادیجیے گا میں اس میں کتنی کامیاب ہوئی ہوں۔‘‘
    ’’ضرور‘‘میں تھامے جانے لگی۔ اس نے پیچھے سے آواز دی۔ میں نے مڑ کر دیکھا۔
    ’’میری سزا کم ہو جائے￿ گی نا؟‘‘نمی اس کی آنکھوں کے کنارے پر دکھائی دی۔
    ’’ہو جائے گی پریشان نہ ہو۔‘‘ میں نے اس سے نظریں چرا لیں۔
    ’’اللہ کر ے ہو جائے میرا دم گھٹتا ہے یہاں، مجھے لگتا ہے کسی دن میں یہیں مرجاؤں گی۔‘‘ گہری سانس خارج کر کے اس نے جملہ مکمل کیا۔
    ’’ان شااللہ ہو جائے گی سزا کم۔‘‘میرے قدم باہر جاتے ہوئے لڑکھڑا رہے تھے۔ قیدی اکثر اپنی سزا قبول کرکے اپنے فیصلے قسمت پر چھوڑ دیتے ہیں، مگرسکینہ کا معاملہ اور تھا۔ وہ صرف بائیس سال کی تھی۔ جوانی سے بھرپور۔ گھر آکر میں نے سارے کام نمٹائے￿ اور ڈائری لے کر بیٹھ گئی۔ سکینہ کی ہینڈ رائٹنگ گزارے لائق ہی تھی۔ پہلے صفحے سے کہانی شروع کرنے کے بعد میں ایک لمحہ بھی اس سے نظر نہیں ہٹا پائی تھی۔
    ٭…٭…٭




  • شبِ آرزو کا چاند — مونا نقوی

    شبِ آرزو کا چاند — مونا نقوی

    رات کا پچھلا پہر اور درد اور کرب میں ڈوبی بھیانک چیخیں ماحول کو اور بھی وحشت ناک بنا دیتی تھیں۔ دل اتنی زور زور سے دھڑکنے لگتا جیسے ابھی سینے کی دیوار پھلانگ کر یا توڑ کر باہر نکل آئے گا ۔شدید سردیوں میں بھی میرا پورا وجود پسینے سے شرابور ہو جاتا۔ اگر اماں میری جائے پناہ نہ ہوتیں، تو شاید خوف کے مارے کب کی میری روح پرواز کر چکی ہوتی۔ اماں کے دلاسے اور رات رات بھر مجھے اپنے سینے سے لپٹائے رکھنا میرے لیے ڈھال کے مانند تھا، مگر پھر بھی میرا وجود اُن خوف زدہ کر دینے والی چیخوں کے سبب تب تک کانپتا اور پھڑپھڑاتا رہتا جب تک میں نیند کی وادی میں اتر نہیں جاتی تھی۔ نیند آجانے کے بعد خوابِ پریشاں کی صورت وہی دِکھتی تھی۔ اپنے لمبے سیاہ بال کھولے، شعلے برساتی نگاہوں اور تیز نوکیلے دانتوں سے غراتے ہوئے میری جانب بڑھتی اور اپنے لمبے ناخن میری گردن میں گاڑتے ہوئے مجھے اپنی مضبوط گرفت میں دبوچ لیتی ، تو میں دل خراش چیخیں مارتے ہوئے اُٹھ بیٹھتی۔ اماں تمام رات مجھے اپنی گود میں لیے آیتیں پڑ ھ پڑھ کر مجھ پر پھونکتی رہتی۔ جیسے جیسے میں بڑی ہوئی ان چیخوں سے مانوس ہوتی گئی۔ بچپن میں جو خوف مجھے ہلکان کیے رکھتا وہ یہ تھا کہ یہ آوازیں کسی چڑیل کی ہیں جو اپنے لمبے سیاہ بال کھولے گاؤں کی گلیوں میں گھومتی پھر رہی ہے۔ اُس کی غراہٹوں سے یہی لگتا تھا جیسے وہ اپنے تیز نوکیلے دانتوں سے اپنی من پسند خوراک کو بھنبھوڑ رہی ہو۔کبھی وہ چڑیل ملن کے گیت درد بھری لے میں چھیڑتی، تو کبھی کسی متاعِ عزیز کے چِھن جانے کے نوحے پڑھتی تھی۔ جب شعور کی منزل پر قدم رکھا، تو اُس چڑیل کی حقیقت سے آشنا ہوئی۔ وہ کوئی آدم خور چڑیل نہ تھی جیسا کہ میں سمجھا کرتی تھی ۔وہ میری سگی پھوپھی تھی جو تنہائی کی وحشت ناک راتوں اور دنوں کی ستائی ہوئی تھی۔ ہمارے خاندان کا برسوں پرانا رواج جو اِس ترقی یافتہ دور میں بھی جوں کا توں قائم تھا۔ اُسی رواج کا شکار میری اکلوتی پھوپھی بھی ہوئی جو پانچ مربعوں کی مالک تھی۔ جب خاندان بھر میں اُس کے جوڑ کا کوئی رشتہ نا ملا، تو نہ جانے عمر کے کس حصے میں اُسے حویلی کے بالائی منزل کے ایک کمرے میں نماز اور قرآن میں مشغول رہنے کے لیے بٹھا دیا گیا تھا۔ بہرحال میرا بچپن اُس چڑیل کے سامنے آ جانے کے خوف کے زیرِ اثر ہی گزرا۔ جب بڑی ہوئی تو اُس چڑیل کو پہچاننے لگی تھی۔ آنکھیں پھٹی پھٹی اور بے حد سرخ شاید کافی عرصہ سے وہ ٹھیک سے سوئی ہی نہیں تھی۔اُس کے لمبے سیاہ بالوں میں اب چاندی کے تار زیادہ نظر آتے تھے۔سُنا ہے پہلے پہل وہ اپنے کمرے تک محدود رہا کرتی تھیں، مگر اب جیسے ہی حویلی کا دروازہ کھلا دیکھتیں تو باہر نکل جاتیں۔ پھر گاؤں کا کوئی مرد وزن یا بچہ اُن کا بازو پکڑ کے اُنہیں حویلی چھوڑ جاتا تھا۔اُن کی اِس حرکت سے سرِشام ہی اُنہیں کمرے میں بند کر کے باہر سے دروازہ بند کر دیا جاتا تھا وہ وقفے وقفے سے دروازہ کھٹکھٹاتیں اور عجیب آوازوں سے غراتی رہتی تھیں۔ اُنہیں اسے دنیا سے گزرے دس برس بیت چکے، مگر میرے ذہن پر آج بھی اُن کی درد و الم میں ڈوبی زندگی کی گہری چھاپ موجود ہے ،جسے ہزار کوشش کے بعد بھی میں نا تواپنے ذہن سے کھرچ سکی اور نا ہی اُن اذیت ناک یادوں سے چھٹکارا ہی پا سکی تھی۔ بعض اوقات یہ خیال جینا محال کر دیتا تھا کہ اگر میرا انجام بھی پھوپھی ثریا جیسا ہوا تو؟ لیکن پھر عادل کا وجود ڈھارس بندھاتا تھا کہ یہ خوف وہم کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
    ٭…٭…٭





    ًً’’السلام علیکم رانی بی بی۔‘‘ دلاور دوماہ بعد گاؤں واپس آیا اور آتے ہی رانی کے پاس حاضری لگوانے چلا گیاتھا۔
    ًً’’وعلیکم السلام، مل گئی فرصت پڑھاکُو تمہیںگاؤں لوٹنے کی۔‘‘ رانی کے لہجے میں مصنوعی طنز تھا تبھی دلاور کے لبوں پر آئی مسکراہٹ معدوم نہ ہوئی جب کہ رانی سپاٹ چہرہ لیے اُسے دیکھ رہی تھی۔
    ’’پہلے امتحانوں کی تیاری کی وجہ سے نہیں آسکا اور پھر پیپرز شروع ہو گئے، تو کیسے چھوڑ کے آتا۔آپ دیکھ لیں یہی کتابیں منگوائی تھیں نا آپ نے۔ اگر کوئی واپس کرنی ہے، تو بتا دیں پرسوں پھر چکر لگے گا شہر۔‘‘دلاور نے اتنا عرصہ نہ آنے کی وجہ بتانے کے بعد رانی کی بتائی گئی چار پانچ کتابیں اُس کے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔
    ’’ تم آج سے پہلے کبھی کوئی غلط کتاب لائے ہو جو اب لاؤ گے۔‘‘رانی نے اک اک کتاب اُٹھا کے دیکھتے ہوئے کہا۔ رانی گاؤں کے چودھری الیاس کی بیٹی ہے۔ چودھری الیاس کے دو ہی بچے ہیں ایک بیٹا اور اُس سے تین سال چھوٹی رانی۔ چودھری الیاس کا ایک ہی بھائی ہے باسط جس کے اکلوتے بیٹے عادل سے رانی کا بچپن ہی میں نکاح ہو چکا تھا۔ رانی کو میٹرک کے بعد اُنہوں نے شہر جا کر مزید تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی، تو اُس نے دلاور کے ہاتھوں اچھی اچھی بکس منگوا کر پڑھنا شروع کردیں اِس طرح وہ اپنے علم حاصل کرنے کی پیاس بجھا لیا کرتی تھی۔دلاور کا بچپن ہی سے اِس حویلی میں آنا جانا تھا، وہ گاؤں کے منشی کا بیٹا تھا اور اب اعلیٰ تعلیم کی غرض سے شہر میں ایک ہوسٹل میں مقیم کا تھا۔جب بھی گاؤں لوٹتا ، تو رانی کے لیے اچھی اچھی کتابیں اور اپنی پسند کی یا رانی کی بتائی ہوئی لاتا تھا۔
    ًً’’ساری کتابیں بہت اچھی ہیں ،بہت بہت شکریہ تمہارا۔‘‘ رانی نے مسکراتے ہوئے کہا اور کتابیں اُٹھا کر اپنے کمرے کی سمت بڑھ گئی۔
    ’’شکریہ کہہ کر شرمندہ نہ کیا کریں رانی بی بی میں ہمیشہ کہتا ہوں اور آپ ہمیشہ بھول جاتی ہیں۔‘‘ دلاور نے بُرا مناتے ہوئے کہا۔
    ’’اچھا اچھا آئندہ نہیں کہوں گی شکریہ، خوش۔‘‘ وہ جاتے جاتے پلٹ کے بولی۔
    ’’مجھے بھی یہی امید ہے کہ آپ اپنی کہی یہ بات یاد رکھیں گی۔‘‘ دلاور نے سنجیدہ انداز میں کہا، تو رانی کے چہرے پر آئی مسکراہٹ اور بھی گہری ہوگئی۔ وہ جانے کے لیے اُٹھا ، تو وہ بولی۔
    ’’بیٹھو چائے پی کے جانا۔ رضیہ … دلاور کے لیے چائے لاؤ اور ساتھ کچھ کھانے کو بھی۔‘‘وہ اُسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے اپنے کمرے میں چلی گئی۔ وہ بھی پیپل کے گھنے درخت کے نیچے بچھی چارپائی پر بیٹھ گیا۔ رانی کو کمرے کی طرف بڑھتے دیکھ کر اُس کے لبوں پر خوب صورت سی مسکراہٹ رقصاں ہوگئی اور دل کا موسم کچھ اور بھی خوش گوار ہوگیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    محبت ایسا جذبہ ہے جس کے ادراک کے پہلے لمحے کاسراانسان سے کبھی سلجھتا ہی نہیں۔وہ کب اور کیسے کی کشمکش میں ہمیشہ گھرا رہتا ہے۔ کوئی ان جانا اجنبی کب اور کیسے آپ کی دھڑکنوں میں محبت کی حلاوت اور مٹھاس گھول دیتا ہے آپ اِس سے ہمیشہ نابلد رہتے ہیں۔نہ جانے وہ کون سا لمحہ ہوتا ہے جب محبت کی دیوی آپ پر مہربان ہوکر آپ کے دل کوصنفِ مخالف کے وجود کے ساتھ محبت کی ریشمی ڈور سے مضبوطی سے باندھ دیتی ہے۔ آپ کو خبر بھی نہیں ہوتی اور آپ پور پور اُس انسان کی محبت میں ڈوب چکے ہوتے ہیں۔ محبت ہو جانے کے بعد آپ کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ آپ کا محبوب بھی آپ کو اپنی محبت کا احساس دلائے۔آپ کے کان اُس کے اقرار کے شریں الفاظ سننے کو ہر لمحہ منتظر رہتے ہیں اور محبوب کی آنکھوں میں اپنی محبت کی قوسِ قزح اترتی ہوئی دیکھنا چاہتے ہیں، مگر اکثر آپ کا منتظر رہنا ثمر آور ثابت نہیں ہوتا۔محبوب تو ہمیشہ سے ظالم اور سنگ دل رہا ہے، اُسے عاشق کے شوق اور خواہش سے کچھ لینا دینا نہیں ہوتا۔وہ تو بس من مندر کے سنگھاسن پر بیٹھا اپنی شعلہ برساتی نگاہوں سے آپ کے وجود کو موم کی طرح پگھلاتا رہتا ہے، محبوب کو کب آپ کی بے چینیوں اور آنسوؤں سے غرض ہوتی ہے۔ محبوب تو اُس بت کے مانند ہوتا ہے جس سے ماتھا ٹیکے آپ بھلے رات بھر اپنے درد بیان کریں۔ رو رو کے اپنا حالِ غم سناتے رہیں وہ جواب میں اک لفظ تسلی کا دینا ضروری نہیں سمجھتا ۔
    ’’عادل تم بھی میرے بت نما اک ایسے ہی محبوب ہو جسے میرا درد ،میرا تڑپنا کبھی دکھائی نہیں دیتا۔ نہ جانے اور کتنی صدیاں وصل کی اُس شب کے انتظار میں گزارنی ہوں گی جس کا نہ آنا کئی سالوں سے ٹھہر چکا ہے۔‘‘وہ کمرے کی نیم تاریکی میں اپنے بستر پر لیٹی اپنے الجھے ذہن کی گتھیاں سلجھانے کی کوشش کر رہی تھی۔
    ٭…٭…٭




  • اناہیتا — تنزیلہ احمد

    آنکھیں کھولتے ہی اس کا پالا گھپ اندھیرے اور سیلن زدہ بو سے پڑا تھا اور یہ عجیب بات تھی کہ پہلی بار اندھیرے میں اسے خوف یا گھٹن محسوس نہیں ہو رہی تھی۔
    ’’آہ میں زندہ ہوں۔‘‘ اپنے دھڑکتے دل پر ہاتھ رکھ کر اس نے خود کو تسلی دی۔
    ’’مگر میں کہاں ہوں؟‘‘ اس نے ٹٹول کر اندھیرے میں کچھ تلاشنے کی کوشش کی۔
    ’’آپ بالکل محفوظ ہیں اور ٹھیک وہیں ہیں جہاں آپ کو ہونا چاہیے۔‘‘ مہیب سناٹے میں سرگوشی نما آواز کانوں کے پاس سرسرائی۔ وہ دبک کے پیچھے ہوئی۔ چراغ ہاتھ میں تھامے دبے پاؤں چلتی اپنے قریب آتی اس عورت کو وہ پلکیں جھپکے بنا دیکھتی رہی۔
    ’’کیا میں تم سے پہلے مل چکی ہوں؟‘‘ اس کے چہرے کو خودبہ خود جانچتے ہوئے وہ خود سے الجھی۔
    اناہی کے سوال پر اس مؤدب کھڑی عورت کے ہونٹ ذرا سے مسکائے۔ یکلخت دماغ میں جھماکا ہوا وہ تڑپ کے اُٹھ بیٹھی۔
    ’’تم… تم تو دریہ ہو۔ بولو تم وہی ہو نا؟ ‘‘وہ بے یقینی کی کیفیت میں تھی۔
    اس میں شک کی کوئی گنجائش نہیں بچی تھی کہ وہ دریہ ہی ہے جس نے اسے دنیا میں لانے میں مدد کی اور اب وہ اسے اس جہاں میں لے آئی جدھر ہر شے نے وقت کے دھارے سے بے نیاز ہو کر اُس کی راہ تکی تھی۔
    ٭…٭…٭





    گرمیوں کی چھٹیوں میں وہ ماما کے ساتھ اپنے ماموں کے گھر آئی ہوئی تھی۔
    ’’لائیں بے بے میں آپ کے ٹرنک کی صفائی کر دوں۔‘‘ ماما نے نانو سے کہا اور ساتھ ہی ان کے پسندیدہ جہیز میں آئے چھوٹے سے پرانے ٹرنک کا ڈھکن اٹھایا۔ اس میں سے گنی چنی چیزیں نکلی تھیں۔ وہ ذرا فاصلے پر چارپائی پر بیٹھی اپنے گڈے سے کھیل رہی تھی۔ اس کے پاس کوئی گڑیا نہیں تھی۔ بابا جب اسے ٹوائے شاپ پر لے گئے تو اس نے ایک بڑا سا خوب صوت گڈا پسند کیا جو اس کے سائز سے کچھ زیادہ چھوٹا نہ تھا۔ وہ گڈا اسے بے حد عزیز تھا۔ اسے لینے کے بعد اسے کوئی گڑیا خریدنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی تھی۔
    ’’بے بے اس میں کیا ہے؟‘‘ ایک سرخ رنگ کی پوٹلی ٹرنک سے برآمد کر کے ماما نے نانو سے پوچھا۔
    ’’اس میں پرانے سکے ہیں۔‘‘ اس نے نظر اٹھائے بغیر جواب دیا۔ نانو نے اسے چونک کر دیکھا جب کہ ماما نے کوئی پروا نہیں کی تھی۔ وہ اس کی اکثر باتوں کو سیریس نہیں لیتی تھیں۔ پوٹلی کھولتے ہی ان کی حیران آواز سنائی دی۔
    ’’ارے اس میں تو پرانے سکے ہیں۔‘‘
    ’’تمہیں دیکھ کے پتا چلا جب کہ تمہاری چار سالہ بیٹی تو بغیر دیکھے ہی بتا چکی تھی۔‘‘
    ’’ارے بے بے دیکھیں یہ تو وہی سکے ہیں جو میں بچپن میں جمع کیا کرتی تھی۔ یاد ہے آپ کو؟‘‘
    ’’ہاں یاد ہے۔‘‘
    ماما لگاوٹ سے ایک ایک سکے کو دیکھ رہی تھیں۔ ان کے چہرے پر آئی چمک سے اندازہ ہو رہا تھا کہ اُن سکوں سے جڑی ان کے بچپن کی تمام یادیں تازہ ہو گئی ہیں۔ دبے پاؤں چلتی ہوئی وہ ماما کے سر پر آکھڑی ہوئی۔
    ’’کیا یہ سکے میں لے سکتی ہوں؟‘‘
    ’’ہاں کیوں نہیں۔ تمہاری ماں کے جمع کیے ہوئے ہیں تو تمہارے ہی ہوئے۔‘‘ نانو کے کہنے پر ایک مطمئن نظر اُس نے پوٹلی پر ڈالی اور اسے لیے چارپائی پر دھرے اپنے گڈے کے پاس آبیٹھی۔
    ’’آپ کا ٹرنک تو صاف ہے اس میں اتنی چیزیں ہی نہیں ہیں۔‘‘ ماما نے نکالی ہوئی چیزیں واپس ڈالتے ہوئے کہا۔
    ’’چلو یہ اچھا ہوا کہ سکے مل گئے مجھے تو بالکل بھی یاد نہیں تھا۔ کئی دنوں سے اناہی مجھے کہہ رہی تھی کہ اسے پرانے سکے کولیکٹ کرنے ہیں۔لگے ہاتھ اس کا کام تو ہوا۔‘‘
    ’’اچھا۔‘‘ نانی ہلکے سے مسکرا دیں۔
    ’’یوں لگتا ہے جیسے تم نے ٹرنک کھولا ہی سکے تلاشنے کے لیے تھا۔ تمہاری بیٹی بہت گہری ہے۔‘‘ مطمئن بیٹھی اناہی پر انہوں نے ایک نظر ڈالی تھی۔
    ٭…٭…٭
    پتا نہیں وہ وہاں کیسے پہنچی تھی۔ اندر داخل ہونے پر کوئی ذی روح نظر نہیں آیا تھا۔ اس عالی شان محل کی اونچی کھڑکیوں کے مخملی پردے سرسرا رہے تھے شاید باہر ہوا چل رہی تھی۔ خنک ہوا اسے اپنے گالوں پر مس ہوتی محسوس ہوئی اور بے اختیار جھرجھری لینے پر مجبور کر گئی۔ ایک دم وہ نیند سے جاگی تھی۔
    کبھی وادیاں، کبھی جنگل، کبھی جھیل اور اب یہ محل۔ ہوش سنبھالتے ہی یہ خواب کسی قسط وار سلسلے کی طرح اس کے پیچھے پڑ گئے تھے۔ وہ ہر وقت ان کے زیر اثر رہتی۔ یہ کیسی حیرانی کی بات تھی کہ اگر اس کے علاوہ کوئی بھولا بھٹکا خواب اسے آبھی جاتا، تو دماغ دھندلا جاتا اور کوئی بات اسے یاد نہ ہوتی مگر یہ مخصوص خواب پوری جزیات سے یاد رہتے۔ اس کا دل کہتا کہ جو اس نے دیکھا ہے۔ کاش وہ اصل میں اس کے سامنے آجائے۔ وہ اپنے خوابوں میں خوش دلی سے جینا چاہتی تھی۔
    ٭…٭…٭
    ’’مامامجھے چھوٹا بھائی چاہیے۔ اپنی چھٹی برتھ ڈے پہ اس نے انوکھا گفٹ مانگا تھا۔
    ’’ارے۔‘‘ اس کی بات پر کئی قہقہے چھوٹے۔ سب مہمانوں کے سامنے وہ بلش کر کے رہ گئیں۔ اسی رات جب وہ اپنا گڈا لیے اپنے بیڈ پر سونے کے لیے لیٹ چکی، تو وہ دھیرے سے دروازہ کھول کر اس کے بیڈ روم میں داخل ہوئیں۔کچھ تھا جو اپنی بیٹی سے شیئر کرنا چاہتی تھیں۔
    ’’آپ کو آج کیسے خیال آگیا چھوٹے بھائی کا؟ پہلے تو آپ چھوٹے بے بی کے حق میں نہیں تھی۔‘‘ اس کے نرم و ملائم بال سہلاتے ہوئے انہوں نے برملا بات کا آغاز کیا۔
    وہ کئی بار آزما کے دیکھ چکی تھیں کہ اناہی سے گھما پھرا کے بات کرنا فضول ہے کیوں کہ وہ ان کے دل کی بات تک خود ہی پہنچ جاتی تھی۔
    اناہیتا کی چھٹی حس اور انٹیوشن کا اعتراف خاندان تو خاندان تمام ملنے جلنے والے بھی کرتے تھے۔
    ’’مجھے لگتا ہے کہ چھوٹا بھائی ہونا چاہیے جو ہمیشہ آپ کا خیال رکھ سکے۔‘‘
    کیوں میری بیٹی نہیں رکھے گی میرا خیال کیا؟‘‘ انہوں نے اسے چھیڑا۔
    بیٹیاں ہمیشہ تھوڑی نا پیرنٹس کے گھر بیٹھی رہتی ہیں۔‘‘ اس نے ان کی ہی کہی ہوئی بات ان کے سامنے دہرائی۔ وہ لاجواب ہوگئیں۔
    ’’اصل میں بیٹا شاید اب آپ کا کوئی اور چھوٹا بھائی یا بہن نہ آسکے۔ وہ دراصل کبھی کبھی کچھ پرابلمز آجاتی ہیں۔‘‘ سنبھل سنبھل کر انہوں نے بات پوری کی۔ وہ اپنی چھوٹی سی بچی کو صاف الفاظ میں نہیں کہہ سکتی تھی کہ اس کی پیدائش ہی انتہائی مشکل سے ہوئی تھی اور تب کی ہوئی پیچیدگیوں کی بنیاد پر ڈاکٹرز نے انہیں کہہ رکھا تھا کہ اب ان کے لیے مزید بچہ پیدا کرنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔
    ’ڈونٹ وری ماما۔ کوئی کامپلیکیشن نہیں ہے۔‘‘ ہمیشہ کی طرح وہ ان کے دل کی بات پڑھ چکی تھی۔ وہ اس کے مدبرانہ انداز پر پھیکا سا ہنس دیں۔
    ’’پر بچے یہ تو اللہ کی دین ہے کیا پتا بھائی نہیں بہن آجائے۔‘‘
    ’’بھائی ہی آئے گا۔ میری نیکسٹ برتھ ڈے پر ہوگا۔‘‘ اس نے مزید کہا۔ اس کے کہے پر ثبت ہوئی۔ مہر کی طرح عین اس کی نیکسٹ برتھ ڈے والے دن ان کی زندگیوں میں فجر کے وقت ایک ننھا وجود آشامل ہوا جسے دیکھتے ہی اناہیتا نے اُس ریان کہہ کر پکارا تھا۔
    ٭…٭…٭
    میلاد شریف کے لیے وہ اناہی کی خالہ کی طرف موجود تھے۔ وہ سب کزنز کے ساتھ پچھلے لان میں پھول پودوں سے کھیلتی رہی۔ خالہ نے دعا کے لیے خاص طور پر اپنے خاندانی پیر شاہ صاحب کو بلایا تھا۔ دوسرے بچوں کے ساتھ انہیں سلام کر کے اور سر پر پیار لے کر وہ سکون سے صوفے پر جا بیٹھی۔ ملازم سالن کے ڈونگے اٹھائے اندر داخل ہو رہا تھا۔ شاہ صاحب کو کھانا کھلانے کی تیاری ہورہی تھی۔
    ’’اس میں کیا ہے؟‘‘ ایک ڈونگے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس کے کزن نے اپنی ماں سے پوچھا۔
    ’’اس میں حلیم ہے۔‘‘ جواب اناہی کی طرف سے آیا تھا۔
    ’’جی وہی ہے۔‘‘ ملازم نے تائید کی۔
    ’’آپ کو کیسے پتا چلا؟ گھر میں دو تین سالن بنے ہوئے تھے۔‘‘ ایسے میں اُس کا بالکل درست اندازہ پیر صاحب کو چونکا گیا۔
    ’’اسے الہام ہوتے ہیں۔‘‘ ماما نے انہیں انفارم کیا۔
    ’’ہممم…‘‘انہوں نے اسے سوالیہ نظروں سے پرکھا۔
    ’’نماز پڑھتی ہیں بیٹا آپ؟‘‘
    وہ چپ رہی۔ وہ جھوٹ نہیں بول سکتی تھی۔
    ’’جی میں کہتی ہوں اسے تو پڑھ لیتی ہے۔‘‘
    ’’ہوں۔ اچھا۔ ‘‘اناہی کو لگا وہ اس کا سچ جان چکے ہیں۔ اس کا نماز میں دل ہی نہیں لگتا تھا۔
    ماما کے بار بار کہنے پر وہ جھوٹ موٹ کا وضو کر کے مصلہ بچھا کے بیٹھ جاتی اور ان کے دیکھنے پر ایکٹنگ کرتی کہ وہ نماز پڑھ رہی ہے۔ ہے تو یہ غلط مگر وہ مجبور تھی کہ اسے نماز کی توفیق ہی نہیں ہوتی تھی۔
    ان کی گہری نظر اس کی طرف اٹھی عین اسی وقت اناہی کی نظر بھی شاہ صاحب کی طرف اٹھی۔ دونوں کی نگاہوں میں مختلف پیغام تھے۔ جاتے سمے انہوں نے اسے ’’سلامت رہو بیٹا‘‘ کی دعا سے نوازا۔
    ’’آپ بھی۔‘‘ اس نے دوبدو کہا۔ وہ آہستگی سے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کے چلے گئے تھے۔
    دس سال کی بچی نے انھیں ششدر کر دیا تھا۔
    ٭…٭…٭




  • گھر — مدیحہ ریاض

    گھر — مدیحہ ریاض

    میں چھے سال کی تھی جب ’’اپنے‘‘گھر کے خواب دیکھنے شروع کیے۔ ’’اپنا‘‘ گھر،ایک خوبصورت، چھوٹا سا ، سرخ اینٹوں والا گھر جس کا صحن میں روز صبح پائپ لگا کر دھویا کروں گی اور جس کے اطراف میں سبز پودوں کی قطار ہو گی۔ اس گھر کا نقشہ میرے ذہن میں کبھی نہیں بدلا۔ ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ گھر میرے لیے اس مکان سے زیادہ حقیقی ہو گیا تھا جس میں، میں رہ رہی تھی۔
    وہ مکان بھی برا نہیں تھا۔ ٹھیک تھا۔ مجھے کبھی بھی بڑے گھروں کی خواہش نہیں رہی۔ اس لیے وہ دو کمرے کا مکان مجھے کچھ زیادہ برا نہیں لگتا تھا، لیکن وہ ’’اپنا ‘‘ نہیں تھا اور ’’گھر‘‘ بھی نہیں تھا۔ وہ بس ایک جگہ تھی جہاں ہم رہتے تھے۔
    ’’گھر وہ ہوتا ہے جہاں سب ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔ ‘‘بہت روایتی جملہ ہے۔ لیکن میں نے بہت سوچ کر لکھا ہے۔
    میں سوچتی رہی کہ گھر کیا ہوتا ہے، کیا تعریف ہے گھر کی۔ اُسے کیسے بیان کر سکتے ہیں؟ کیا چیزیں ہوں گی جن کی موجودگی کی وجہ سے کوئی مکان گھر کہلائے گا؟
    گھر وہ ہوتا ہے جہاں شام کو تھکے ہارے واپس لوٹنے کو دل کرے۔ جہاں وہ چند لوگ رہتے ہیں جو آپ کی پوری دنیا ہوتے ہیں۔جہاں آپ سب سے اہم، ضروری اور معتبر ہوتے ہیں۔




    گھر میں آپ کا خیال رکھا جاتا ہے، آپ کی پروا کی جاتی ہے، آپ کی پسند نا پسند کوئی معنی رکھتی ہے اور اس مکان میں ایسا کچھ نہیں تھا۔ وہ جگہ ہماری پناہ گاہ تو تھی، اتنی بڑی دنیا میں اپنی ایک چھت، لیکن وہ چھت چھن جانے کا دھڑکا اسے کبھی ’’اپنا‘‘ نہیں ہونے دیتا تھا اور یہ دھڑکا ہمیشہ لگا رہتا تھا۔امی ابو سے ہر لڑائی میں انہیں گھر چھوڑ جانے کی دھمکی دیتیں اور ابو ڈھیلے پڑ جاتے۔ لڑائی ختم ہو جاتی۔ کم سے کم اگلی بار تک کے لیے، لیکن ہمارے دل سے گھر چھُٹ جانے کا خوف نہ جاتا۔
    ’’میں رہوں گی تم جیسے آدمی کے ساتھ؟‘‘وہ سوال نہیں طمانچہ ہوتا تھا۔’’نہ تمہاری شکل نہ صورت اور نہ کرتوت!‘‘ وہ کہتیں تو ابو کو تھیں، لیکن یہ سب جملے مجھے خود پر تنے ہوئے لگتے۔ میں اور ماند پڑتی اور چھوٹی اور خوف زدہ۔ دماغ سے سرخ اینٹوں والا وہ گھر غائب ہو جاتا اور میں خوف زدہ آنکھوں سے چھپ چھپ کر ابو کو دیکھتی رہتی۔ وہ کبھی رو کر منت سے امی کو روکتے، کبھی جھنجلا جاتے اور کبھی تنگ آ کر ہاتھ جوڑ دیتے۔ لڑائی کے دوران کچھ جملے ایسے تھے جو ہر بار کہے جاتے۔ وہ ہمیں اتنے ازبر ہو چکے تھے کہ لڑائی میں کس موقع پر اب بس وہ کہے جانے والے تھے، ہمیں پتا ہوتا تھا۔ ان جملوں میں ابو کی شکل و صورت اور کردار کے علاوہ پاکستان کے فیملی کورٹ لا کی بھی کچھ شقیں شامل ہوتی تھیں۔
    ’’اتنے چھوٹے بچے کوئی عدالت تمہیں رکھنے نہیں دے گی۔ میں اپنے بچے ساتھ لے کے جاؤں گی۔ ‘‘ اور ابو کی رہی سہی ہوا بھی نکل جاتی۔ کیوں کہ ہم بچوں میں، خاص طور پر مجھ میں، ان کی جان تھی۔ بعض اوقات لڑائی اس نہج پر پہنچ جاتی جہاں انہیں لگتا کہ اب ان کی منت زاری بھی کام نہیں آئے گی اور اس بار تو گھر ٹوٹا ہی ٹوٹا۔ ایسے چند مواقع پر ایک دو بار انہوں نے روتے ہوئے چپکے سے مجھے اپنے پاس بلا کر پوچھا تھاکہ میں کس کے ساتھ رہنا چاہوں گی۔
    میں ایک بات آپ سب سے کہنا چاہتی ہوں۔ جب آپ اپنے چھوٹے بچوں کے سامنے لڑیں تو کچھ بھی ہو جائے، ان سے یہ کبھی نہ پوچھیں کہ وہ ماں اور باپ میں سے کس کے ساتھ رہنا چاہیں گے۔ اس سوال سے زیادہ خود غرضانہ، ظالم اور خوف زدہ کر دینے والی ایسی کوئی بات نہیں جو آپ اپنی اولاد سے کہہ سکتے ہیں۔
    میں اپنے ابو سے بہت پیار کرتی تھی، لیکن ایک دو بار جب انہوں نے مجھ سے یہ سوال کیا، مجھے ان سے سخت نفرت محسوس ہوئی اور ان پر ترس بھی آیا۔
    وہ ہمارے والدین تھے۔ ہماری حفاظت کرنا، ہمیں محبت دینا، تحفظ کا احساس دلانا، ہمارے لیے قربانی دینا ان کی ذمے داری تھی۔ جب آپ پیرنٹ بن جاتے ہیں، تو آپ کے پاس خود غرض ہونے کا کوئی راستہ نہیں بچتا۔ آپ کی ہمت کیسے ہوئی کہ آپ چھے سال کے بچے سے اتنا تلخ اور قیامت ڈھا دینے والا سوال کریں! ایک ایسا سوال جس کا جواب انہیں ساری زندگی کنفیوز رکھے گا۔ زندگی کی کوئی خوشی، کوئی موڑ ،کوئی کامیابی ان کی یہ الجھن دور نہیں کر پائے گی۔
    اور مجھے ان پر ترس آتا تھا کہ وہ اتنے کمزور ، بے بس اور خوف زدہ انسان کیوں تھے۔ کیوں انہوں نے کبھی امی کو یہ نہیں کہا کہ جانا ہے تو جاؤ۔ اب بس!
    کیوں کبھی اپنے حق کے لیے کھڑے نہیں ہوئے؟کیوں اپنی عزت نہیں کروائی؟
    اور میرے ذہن میں اس کا بس ایک جواب ابھرتا۔ امی کی ہر بدتمیزی ، بد کلامی ، طنز، تضحیک اور ذلت بھرا رویہ سہ کر بھی وہ امی کے ساتھ، کسی نہ کسی طرح ،اس رشتے کو قائم رکھنا چاہتے تھے۔
    ہم تینوں بہن بھائیوں نے چند مرتبہ اس بات کو ڈسکس بھی کیا، لیکن ہر نئی سوچ سلجھانے کے بجائے اور الجھا دیتی۔ ماں باپ کی عزت دل سے کم ہو جاتی۔ دنیا میں اکیلے ہونے کا احساس ہونے لگتا۔ سکول سے واپسی پر گھر آ کر سونے کی خوشی تو ہوتی، لیکن ذہن کا ایک کونا ہر وقت امی کے موڈ پر اٹکا رہتا۔ انہیں ناراض نہ کردینے کے جتن کیے جاتے، لیکن ہر ایک دو دن بعد صبح صبح ان دونوں کی لڑائی ہر احتیاط، ہر تسلی پر پانی پھیر دیتی۔
    پتا نہیں و ہ دونو ں صبح صبح ہی کیوں لڑتے تھے۔
    اپنے دونوں بہن بھائیوں کا تو مجھے پتا نہیں، لیکن آہستہ آہستہ میں نے ان لڑائیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے اپنے اندر پناہ ڈھونڈنا سیکھ لیا۔ کتابیں پڑھنے کا شوق تو مجھے نہ جانے کب سے تھا، لیکن اب کتابیں میرے ذہن میں اپنی اپنی دنیائیں بنانے لگ گئی تھیں۔ عمران سیریز میں ان کے ایڈونچرز پڑھتے پڑھے میں بھی ان کے ساتھ مہم جوئی پر نکل پڑتی۔ الف لیلیٰ کی کہانیوں میں شہزادی جہاں کہیں پھنستی، میرے پیٹ میں بل پڑنے لگتے اور کہانی کا نیک دل انسان جب اُسے اُس مصیبت سے بچا کر نکال لے جاتا، میرے ذہن میں ’’اپنے‘‘ شہزادے کا تصور شکل لینے لگتا۔ وہ ایک بہت مہربان، نرم گو اور خیال رکھنے والا شخص ہو گا۔ میں فیصلہ کرتی۔
    اور میں بھی شہزادی کی طرح بہت ہمت والی اور نڈر بنوں گی۔
    یہ خیالی ہیولے اور fantasies کب میرے لیے اپنی اصل زندگی سے زیادہ اصلی ہو گئے مجھے اندازہ نہیں ہوا۔
    اب جب بھی امی چیخنا شروع کرتیں، وہ سرخ اینٹوں والا گھر خوف کے دھوئیں میں غائب ہونے کے بہ جائے ایک نئی ترنگ سے اور واضح ہو کر سامنے آتا۔ ہر لڑائی اس گھر کے آرکیٹکچر میں اضافہ کر دیتی۔
    اب اس گھر میں ایک برآمدے کا اضافہ بھی ہو چکا تھا۔ وہ برآمدہ تین بڑے بڑے کمروں کے سامنے تھا۔ بہت سوچ بچار کے بعد ان میں سے ایک کمرے کو میں نے نماز اور قرآن کے لیے مخصوص کر دیا۔ گھر میں داخل ہوتے ہی صحن پار کر کے جو سب سے بڑا کمرا تھا، وہ میرا بیڈ روم تھا۔ اس کی بائیں جانب ڈائننگ روم اور اس کے ساتھ ایک چھوٹا سا کچن۔ جس کے ساتھ اور ڈیوڑھی کی سیڑھیوں کے بیچ ایک نیلے رنگ کا واش بیسن تھا جس کے اوپر دیوار پر ایک آئینہ بھی ٹنگا ہوا تھا۔ اس واش بیسن کے نیچے وہ نل تھا جہاں سے پائپ لگا کر میں روزانہ وہ سرخ اینٹوں والا فرش دھوتی تھی۔
    میرے بیڈ روم کی دوسری طرف ڈرائنگ روم تھا جہاں ہر وقت کوئی نہ کوئی مہمان آیا ہوتا۔ میں خود کو تسلی دیتی کہ جب تک میں اتنی بڑی ہوں گی کہ میرا اپنا الگ گھر ہو گا، مجھے لوگوں سے سوشل ہونا آ چکا ہو گا اور میں اب لوگوں سے بات کرتے ہوئے جتنی کنفیو زہوتی ہوں، تب نہیں ہوں گی۔ میں ایک پرفیکٹ میزبان ہوں گی اور میرے بہت سارے دوست اور جاننے والے ہوں گے اور ان میں سے کوئی نہ کوئی اکثر میرے گھر آیا کرے گا۔
    کچن اور واش بیسن کے درمیان سے سیڑھیاں چھت کی طرف جاتی تھیں جہاں میں ہر ہفتے کپڑے دھونے کے بعد پھیلانے کے لیے جاتی۔ ایک ٹب جو میری کمر سے ٹکا ہوتا، اور کپڑے دھو دھو کر میرے اپنے کپڑے بھیگ چکے ہوتے، لیکن میرے چہرے پر ہزار واٹ کی مسکراہٹ ہوتی اور دل میں ایسی خوشی کہ اب پھٹا کہ تب۔
    گھر کا نقشہ میرے ذہن میں جتنا واضح تھا، گھر والے کا اتنا ہی مدھم۔ میں نے کبھی سوچنے کی کوشش نہیں کی کہ سرخ اینٹوں والے اس گھر میں، میں جس کے ساتھ رہ رہی ہوں گی اور اتنا ہنس ہنس کے جس کے کپڑے دھو رہی ہوں گی، وہ کیسا ہو گا۔ اس کی آنکھیں کیسی ہوں گی، چلتا کیسے ہو گا، بولتا کیسے ہو گا، اس کی پسند نا پسند کیا ہوگی، اقدار کیا ہوں گی۔ مجھے بس یہ معلوم تھا کہ اس کے چہرے پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی تھی اور میری ہر خواہش کو وہ پورا کرنے کی ضرور کوشش کرتا تھا۔
    اپنی فینٹسی لائف میں بھی میں حقیقت کی قیود کے اندر رہنے کی کوشش کر رہی تھی۔ میری سوچوں کا وہ شخص مجھ سے بہت محبت کرتا تھا اور ہر وقت میرے آس پاس رہنا چاہتا تھا۔ میری بھی کوشش ہوتی تھی کہ میں اس کے آنے سے پہلے سارا کام کر کے تیار ہو جاؤں تا کہ وہ تھکا ہارا آفس سے آئے تو میں اسے مسکراتی ہوئی ملوں۔
    ایک چھے سات سال کی بچی کے دماغ میں پتا نہیں یہ کہاں سے آ گیا تھا کہ شوہر گھر آئے توبیوی کو اسے مسکرا کر ملنا چاہیے۔ شاید اس لیے کہ ابواکثر جب گھر آتے امی محلے میں کسی نہ کسی سے ملنے گئی ہوتی تھیں اور جب گھر پر ہوتیں تب بھی ابو کا آفس سے واپس آنا ان کے لیے کوئی خاص واقعہ نہیں ہوتا تھا۔ وہ ویسے ہی برے حال میں گھر میں گھوم رہی ہوتیں۔




  • رانی سے گرانی تک — عائشہ تنویر

    رانی سے گرانی تک — عائشہ تنویر

    سونا کسے پسند نہیں ہوتا، خواتین سونے پر جان دیتی ہیں تو بعض حضرات اس کے لیے جان لے بھی لیتے ہیں۔ سونے کے بھاؤ بڑھنیکے ساتھ اقدار کا نرخ کم ہو گیا ہے اور انسانی جان بے حد ارزاں۔ امن و امان کی اسی ناقص صورتِ حال کے باعث سونا تو دور کی بات اب لوگوں نے سونے جیسی خصوصیات سے بھی دور رہنا شروع کر دیا ہے۔ سونے میں تولنے کے قابل باتیں کرنا یاباتوں ہی باتوں میں کسی کو سونے میں تول دینا خود اپنی جان کو خطرے میں ڈالنے والی بات ہے۔
    ان ہی وجوہات کی بنا پر بچے بھی اب منہ میں سونے کا چمچ لے کر پیدا ہونا پسند نہیں کرتے البتہ پیدا ہوتے ہی موبائل یا ٹیبلٹ لے لیں تووہ الگ بات ہے ۔ مہنگائی کی وجہ سے سونے کی خرید و فروخت میں نمایاں کمی دیکھ کر حکومت نے عوامی مفاد میں اشیائے خوردونوش کو سونے کے بھاؤ کر دیا ہے تا کہ عوام کو قیمتی چیز حاصل کرنے کا لطف بھی آ جائے اور سنبھال کر رکھنے کا جھنجھٹ بھی نہ ہو ۔ فوری خریدو اور کھا کر ہمیشہ کے لئے محفوظ کرلو ۔جیسا کہ کہا جاتا ہے ہر کام کا کوئی نہ کوئی فائدہ ضرور ہوتا ہے تو سونے کی قیمتوں میں بہ تدریج اضافے سے آرٹیفیشلزیورات کی صنعت کو فروغ ملا ہے ۔ پہلے شادی بیاہ پر دلہن کو سونے سے پیلا کردیتے تھے۔ اب اگر سونا نہ بھی میسر ہو تو لباس کے ہم رنگ زیورات پہنا کر لال نیلا ضرور کر دیتے ہیں۔ پھر بھی اگر کسی کا پیلا ہونے کا دل چاہے تو وہ آرٹیفیشل زیور ہی ایسے لیتا ہے کہ چمک دمک میں سونے کو مات دیں ۔ پیلے تو بعض اوقات دلہا بھی ہو جاتے ہیں، دلہن کا میک اپ اترنے کے بعد۔ لیکن اس پیلے پن میں سونے جیسی چمک دمک کہاں؟ بجھے ہوئے چہرے کے ساتھ ان کی سائیڈ پر رکھی وگ اور دانت دلہن کو غصے سے جامنی کر دیتے ہیں اور یوں رنگوں کا کھیل چلتا رہتا ہے ۔
    ہماری ایک پڑوسن ہمہ وقت اپنے سونے کے زیورات دکھا دکھا کر محلے کے گھروں میں لڑائی کا باعث بنتی تھیں۔ جب وہ ناز سے اپنے کنگن چھنکا کر بتاتیں:
    ’’انہوں نے کہا ہے، رانی اسے اتارنا مت۔‘‘ تو ان کی اتراہٹ سننے والی خواتین کے دل میں خنجر کی طرح اتر جاتی بلکہ گڑ جاتی۔ قصور ان خاتون کا بھی اتنا نہیں تھا ، ’’سونے دی تعویتڑی‘‘ اور ’’لیا دے مینوں گولڈن جھمکے‘‘ سننے والی تمام خواتین اپنے شوہر سے یہی شکوہ کرتی ہیں کہ:
    ’’آپ نے تو کبھی مجھے سونے کی چیز نہ دلائی، آپ کو تو مجھ سے سچی محبت ہی نہیں ۔ ‘‘
    حضرات شاید یہ سوچتے ہیں کہ اگر یہ فرمائش برابر میں بیٹھی ظالم کی بہ جائے سامنے اسکرین پر مٹکتی حسینہ کرتی تو دل، جگر، گردے سب بیچ کر پوری کرتے۔ اپنے محلِ وقوع میں اضافے کے بعد اہلیہ اب اس کی اہل نہیں رہیں ۔ آخر محلہ بھر کی نظر لگی اور ایک دن گلی میں انہیں چند لٹیرے مل گئے ۔ گن پوائنٹ پر پہلے ہاتھوں کے موٹے موٹے کنگن اتروائے ۔ زندگی سے بڑھ کر کیا تھا، چپ چاپ اتار دیے پھر انگوٹھیاں اور چین اتروانے کے بعد جب انہوں نے کانوں کے چھوٹے چھوٹے ٹاپس بھی اتروانے چاہے تو وہ بے ساختہ بولیں:
    ’’یہ تو اصلی ہیں۔‘‘ اس کے بعد ڈاکوؤں نے انہیں کیا کہا وہ تو معلوم نہیں لیکن چھپ چھپ کر کھڑکی سے منظر دیکھتی خواتین کے سینے میں ٹھنڈ پڑ گئی ۔ سونا چاندی کا ساتھ تو ہمیشہ سے ہے، صرف ڈرامے میں ہی نہیں بلکہ حقیقت میں بھی ہے۔ تب ہی، تو بادشاہوں کو سونے کی پیالی میں اور چاندی کے ورق سے سجی کھیر پیش کی جاتی تھی ۔ بڑھتی مہنگائی نے سونا، چاندی کو خواب کردیا تو طلائی رنگت والی فصل ہی ہماری قومی محبوبہ بن گئی۔ زرعی ملک میں بھی گندم عوام سے آگے بھاگنے لگی ۔گندم کی سنہری سونے جیسی بالیوں کی قدر میں اضافے کے ساتھ ساتھ عوام میں چاندی جیسی سفید چمکتی رنگت بھی مقبول ہو گئی۔ شاید گندم کے پیچھے خوار ہونے کے بعد لوگ گندمی رنگت کے پیچھے نہیں بھاگنا چاہتے۔ وجہ چاہے جو بھی ہو لیکن اس چاندی جیسی رنگت کے عشاق نے بیوٹی پارلر اور رنگ گورا کرنے کی کریم بنانے والوں کی چاندی کر دی ہے۔ وقت اور پیسے کے بے دریغ زیاں سے حاصل ہونے والی چاندی رنگت بھی جب اصلی چاندی کی طرح کچھ ہی عرصے میں ماند پڑنے لگتی ہے تو سب کی عقل ٹھکانے لگتی ہے ۔جیسے ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی، اسی طرح ہر چمکتی چیز چاندی بھی نہیں ہوتی ۔جب سونا چاندی پہنچ سے دور ہوا تو انگور کھٹے ہیں کہ مصداق ایسے جملے سنائی دینے لگے۔
    ’’حیا خواتین کا زیور ہے۔‘‘
    ’’تعلیم ہی اصل زیور ہے۔‘‘
    یہ سن سن کر بعض سادگی پسند خواتین نے زیور سے تعلق توڑ لیا، حیا اور تعلیم والے زیور سے۔ اب گہنے تو پہننے ہیں نا تو ضروت سے زائد کیوں ہوں ؟ کچھ خواتین یہ بھی سمجھتی ہیں:
    ’’ نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دی۔‘‘ تب ہی وہ اپنی خوبیوں پر نازاں شرم و حیا کو پاس نہیں پھٹکنے دیتیں۔ بعض مرد حضرات کو اس پر اکثر اعتراض رہتا ہے کہ ہر قسم کا زیور خواتین کے لیے ہی کیوں؟بھئی اگر خواتین رانی ہیں تو وہ بھی تو راجا ہیں ، انہیں بھی آرائش کا حق ہے، سو وہ بھی ہر طرح کے زیور سے آراستہ رہنے لگے۔
    پہلے وقتوں میں اماں کو لڑکی پسند آتی توجھٹ ہاتھ سے انگوٹھی یا کنگن اتار کر نشانی کے طور پر پہنا دیتیں، لیں بہو مانگ لی گئی اور آج کل یہ کام لڑکے خود کرتے ہیں ۔ جب منگنی کا دل چاہا، لڑکی کو انگوٹھی اتار کر پہنا دی ۔ اپنی افتاد طبع سے یہ لڑکے بہ خوبی آگاہ ہیں ، تب ہی ہاتھ میں ایک وقت میں کئی کئی انگوٹھیاں پہنتے ہیں اور وہ بھی آرٹیفیشل ۔ یوں تو آج کل کی لڑکیاں بھی کم نہیں،سونے کا پانی چڑھا نقلی زیور لے کر بے وقوف بننے کی بجائے ادا سے فرمائش کرتی ہیں:
    ’’ڈارلنگ اپنا آئی فون دے دو مجھے، اس میں تمہارے ہاتھوں کی خوش بو بسی ہے۔‘‘ اب ڈارلنگ انہیں کیا بتائے کہ صرف ہاتھوں کی خوش بو نہیں بلکہ پوری کی پوری خوش بو اپنی ہوش ربا تصاویر کے ساتھ اس میں بسی ہے ۔
    حقوقِ مرداں کے دعوے دار بعض حضرات تو لباس میں بھی خواتین کا مقابلہ کرتے ہیں اور ’’مرد اور عورت برابر ہیں‘‘ کا نعرہ بلند کرتے لہنگے اور دوپٹے پہن کر ریمپ پر گھومتے ہیں ۔اب جنہیں خواتین کے مردانہ کپڑے پہننے پر اعتراض نہیں ، وہ ان پر کیوں انگلی اٹھاتے ہیں ۔ یہ رواج ابھی ریمپ سے معاشرے میں نہیں آیا لیکن دیکھا جائے تو یہ بھی آج کل کی بڑھتی مہنگائی سے مقابلے کی ہی صورت ہے ۔ گھر میں الگ الگ کپڑوں کی ضرورت نہیں ،کبھی شوہر صاحب بیگم کی ساڑھی پہن گئے تو کبھی بیگم صاحبہ جینز، ٹی شرٹ پہن گئیں ۔اس سے پیار بڑھے گا اور خرچا گھٹے گا بلکہ جن خواتین کو شکوہ رہتا ہے کہ ہمارے شوہر دوپٹے پیکو کروانے نہیں لے جاتے، ان کا مسئلہ بھی حل ہو گا ۔ جب صاحب نے اگلے دن پہننا ہو گا تو خود ہی ٹیلر اور پیکو والے کے چکر کاٹیں گے اور ملک میں برابری کی سطح بھی جنم لے گی ۔ میاں بیوی میں اتفاق بڑھے گا تو نئی نسل پر سکون ماحول میں پروان چڑھے گی اور ملک بھی ترقی کرے گا۔ یوں کہانیوں کی طرح سب ہنسی خوشی رہنے لگیں گے۔ اب اگر ایسے میں چند پرانے خیالات کے لوگ مردوں کا یہ حق تسلیم کرنے میں ناک بھوں چڑھائیں بھی تو ان تنگ نظر لوگوں کے رونے پرملکی ترقی تو قربان نہیں کی جا سکتی نا۔ آخر ہمارے جوانوں نے بھی دنیا کے ساتھ چلنا ہے ۔

    ٭…٭…٭




  • پھوہڑ — ثمینہ طاہر بٹ

    ’’اُف! تو بہ ہے۔ یہ سالن ہے یا زہر؟ بھابی، تمہیں اتنا عرصہ ہو گیا ہمارے گھر آئے، مگر مجال ہے جو اس گھر کا ایک بھی اصول اپنانے کی کوشش کی ہو۔ آج بھی پہلے دن والی غلطیاں کرتی ہو اور پھر منہ بسور کر سب کی ہمدردیاں سمیٹنے کی کوشش کرتی ہو۔ کمال ہے بھئی۔ والدہ صاحبہ نے تو بیٹی کے سگھڑاپے کے جھنڈے زمانے بھر میں گاڑ رکھے ہیں اور بیٹی صاحبہ ہیں کہ ڈھنگ سے دال کو بھگار بھی نہیںلگا سکتیں۔ اونہہ، اماں ۔تم نے تو بھائی کی لٹیا ہی ڈبو دی۔ بس بہو کی ’’چٹی چمڑی‘‘ دیکھی اور کسی گن کو دیکھنے کی ضرورت محسوس کی اور نہ ہی کوشش کی۔ ‘‘ گڑیا کی پاٹ دار آواز پورے گھر میں گونج رہی تھی اور کوئی اسے روکنے ٹوکنے والا نہیں تھا۔ ہوتا بھی کیسے، گڑیا گھر بھی لاڈلی اور ماں کی سر چڑھی تھی۔دو بہنوں اور تین بھائیوں سے چھوٹی ، مگر رتبے کے لحاظ سے سب کی اماں لگتی تھی۔ نین تارہ کو اس گھر میں بیاہ کر آئے چھے ماہ ہونے کو آئے تھے اور اس سارے عرصے میں اس کے سارے گن ایک ایک کر کے گہنائے جا چکے تھے۔ گڑیا کی زبان کے آگے واقعی کوئی گہری خندق ہی تھی کہ وہ بولنے سے پہلے نہ تو کچھ سوچتی اور نہ ہی بولنے کے بعد اگلے کے تاثرات دیکھنے کی عادی تھی۔اس کے دل میں جو آتا کر ڈالتی اور منہ میں جو آتا کہہ کر دل کی بھڑاس نکال لیتی چاہے اس کے نتیجے میں سامنے والے کی عزت دو کوڑی کی ہی کیوں نہ ہو جاتی۔
    نین تارہ بے حد سگھڑ اور سلیقہ شعار لڑکی تھی۔اس سے بڑی ایک بہن اور دو بھائی تھے۔ سب شادی شدہ اور اپنی اپنی فیملیز میں مگن تھے۔ جب تک نین تارہ کے ابا جی حیات تھے، اسے اور اس کی امی کو کوئی پریشانی لاحق نہیں تھی، مگر کچھ عرصہ پہلے والد کے انتقال کے بعد ان کی زندگی کی سبک رفتار ناؤ جیسے ہچکولے کھانے لگی تھی۔یوں تو دونوں بھائی بھی اچھے تھے اور بھابھیوں کو بھی ان دونوں سے کوئی مسئلہ نہ تھا، مگر اصل مسئلہ تو یہی بنا تھا کہ نین تارہ کا وجود اس کے بھائیوں اور بہن کے مابین دراڑ بنتا جا رہا تھا۔ اس کی خاموش اور سلجھی ہوئی طبیعت ، سلیقہ اور سگھڑاپا دیکھتے ہوئے بہنوئی صاحب نے اپنے چھوٹے بھائی کے لیئے دست سوال دراز کیا تو بڑی بھابی نے یہ کہتے ہوئے دو ٹوک انکار کر دیا کہ مرحوم ابا جی نین تارہ کو اپنی زندگی ہی میں اس کے بھائی کے ساتھ منسوب کر چکے تھے۔ بس اعلان کرنا باقی تھا۔ ورنہ باقی کی کارروائی تو سمجھو ہو ہی چکی تھی۔بڑی بھابھی کی باتوں نے جہاں آپا کو حواس باختہ کیا تھا، وہیں چھوٹی بھابی کے ہوش بھی اُڑا دیے تھے کیوں کہ چھوٹی بھابی بھی اسے اپنی بھاوج بنانے کا دل ہی دل میں پکا منصوبہ بنا چکی تھیں، مگر اب انہیں اپنے سارے ارمان مٹی میں ملتے دکھائی دے رہے تھے۔
    ٭…٭…٭





    ’’امی! یہ سب لوگ کیسی باتیں کر رہے ہیں۔ ابا کی زندگی میں تو کسی کو ایسا خیال بھی نہیں آیا تھا۔ بے چارے میرے اباجی، میری شادی کا ارمان دل ہی میں لیے دنیا سے رخصت ہو گئے، مگر اب ایسا کیا ہوگیا کہ بھابھیوں اور بھائی صاحب کی محبت نے جوش مارنا شروع کر دیا ہے۔؟ ‘‘ حالات جب حد سے زیادہ خراب ہونے لگے، تو نین تارہ کی ہمت بھی جواب دے گئی۔وہ ماں سے لپٹ کر رودی اور ماں بے چاری کیا کہتیں۔ انہیں سمجھ تو سب آرہا تھا، مگر یقین کرنے کو دل نہیں چاہ رہا تھا کہ قریبی رشتوں کا یہ فریب ان سے برداشت ہی نہیں ہو رہا تھا۔
    ’’تارہ! بیٹی یہ سب ایک دوسرے کو نیچا دکھانے اور ہمارے سر پر احسان کا بوجھ رکھنے کے لیے کر رہے ہیں۔ تمہاری آپا نے تو اکیلے میں مجھے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ اس کے نکھٹو دیور سے بیاہنے کی بہ جائے میں تمہارا گلا دبا دوں تو زیادہ بہتر ہے۔ اور رہ گئیں تمہاری بھابھیاں تو وہ بھی اسی کوشش میں ہیں کہ کسی نہ کسی طرح تمہیں اپنے میکے کی چاکری کے لیے بھابی بنا نے میں کامیاب ہو جائیں۔ اس طرح دوہرے رشتے کی وجہ سے ان کا کھونٹا بھی مضبوط ہو جائے گا اور میرے سر ہمیشہ کا احسان بھی آ جائے گا۔‘‘ امی نے اپنے بہتے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا، تو وہ شاک کی کیفیت میں انہیں دیکھتی چلی گئی۔
    ’’ اور پھر انہیں شاید یہ بھی پتا چل چکا ہے بیٹی کہ تمہارے ابا نے تمہارے نام کچھ جائیداد بھی کر دی تھی۔ وہ اس جائیداد کے لالچ میں بھی ایک دوسرے سے الجھ رہے ہیں۔‘‘ نین تارہ حیران کھلی آنکھوں سے ماں کو دیکھتی ان کے انکشافات سن رہی تھی۔ اس کے دل پر چھریاں چل رہی تھیں، مگر وہ بے بس تھی۔ کچھ کر نہیں سکتی تھی سوائے رونے کے۔ سو، رو کر ہی دل کی بھڑاس نکال رہی تھی۔
    ’’نین تارہ! میں نے تمہارا رشتہ طے کر دیا ہے۔ صغریٰ کے جاننے والے ہیں وہ لوگ۔ کبیر کی اپنی کپڑے کی دکان ہے۔ کبیر سے بڑے دو بھائی ہیں اور دو بہنیں۔ وہ سب شادی شدہ اور اپنے اپنے گھر بار والے ہیں۔ کبیر اپنی ماں اور چھوٹی بہن کے ساتھ رہتا ہے۔صغریٰ نے ان کے آگے تمہاری بہت تعریفیں کی تھیں۔ بس، انہوں نے رشتہ مانگا، تو میں نے ہاں کر دی۔‘‘ امی نے ایک دن اسے سامنے بٹھاتے ہوئے پیار سے کہا، تو وہ سر جھکا کر رہ گئی۔ کیا عجیب وقت آ گیا تھا کہ سر چھپانے کو اپنے باپ بھائی کا گھر ہی کم پڑنے لگا تھا۔اس کی آنکھوں میں آنسو بھرتے جارہے تھے، مگر وہ ماں کی آزردگی کے خیال سے انہیں بہنے سے روکے ہوئے تھی۔
    ٭…٭…٭
    جلد ہی نین تارہ ماں کی دعائیں اور بھابھیوں کی آہیں سمیٹے ہوئے پیا دیس سدھارگئی۔ شادی کے شروع دن تو جیسے پنکھ لگا کر رخصت ہوئے اور پھر اس کے سامنے آئیں زندگی کی تلخ حقیقتیں۔
    ’’بہو! تمہاری شادی کو دس روز ہو گئے۔ اب تم میٹھے میں ہاتھ ڈالو اور اپنی گھرداری سنبھالو۔ مجھ سے اس بڑھاپے میں تم لوگوں کی خدمتیں نہیں کی جاتیں۔ ‘‘ شادی کے دسویں روز ہی ساس صاحبہ نے صبح ہی صبح آرڈر جاری کیا اور خود اپنے کمرے کی راہ لی۔ کبیر اس وقت کام پر جانے کی تیاریوں میں تھا۔ ماں کے کمرے سے نکلتے ہی وہ محبت بھرے انداز سے اسے دیکھنے لگا۔
    ’’اچھا، تو آج سے کھانا تم بناؤ گی۔ چلو اچھا ہے ۔ ہم بھی تو دیکھیں کہ تمہارے ہاتھ کا ذائقہ کیسا ہے۔ بھئی، تعریف تو بہت سنی ہے ۔اب ٹرائی کرکے دیکھیں گے، تو پتا چلے گا نا۔‘‘ کبیر نے ہنستے ہوئے شرارت سے کہا، تو وہ بھی خوش دلی سے مُسکرانے لگی۔
    ’’امی! کھانے میں کیا بنانا ہے۔ بتا دیں مجھے ، میں بنا لوں گی۔‘‘ میٹھے میں فرنی بنانے کے بعد اس نے ساس سے اگلے کام کی بابت پوچھا، تو وہ گڑیا کو سوالیہ نگاہوں سے دیکھنے لگیں۔
    ’’بھابی!آج کچھ اسپیشل بناؤ۔ سمجھو، آج تمہارا امتحان ہے اور ہاں یہ دھیان میں رکھنا کہ تمہارے دونوں جیٹھ اور دونوں بڑی نندیں بھی کھانے پر آ رہی ہیں۔ ‘‘ گڑیا نے مزے سے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کچھ اس طرح کہا کہ وہ چونک کر اسے دیکھنے لگی۔اس نے اپنی ساس کی طرف دیکھا ،وہ بھی اسے عجیب سی نگاہوں سے دیکھ رہی تھیں۔ ایک لمحے کو تو نین تارہ کی نگاہوں کے سامنے رنگ بہ رنگے تارے ہی ناچ گئے۔ وہ سلیقہ شعار اور سمجھ دار ہونے کے ساتھ ساتھ بہت حساس بھی تھی۔ فوراً سمجھ گئی کہ اب اس کے سختی کے دن شروع ہوا چاہتے ہیں۔
    ’’ ٹھیک ہے ۔ آپ مجھے بتا دیں کہ کیا کیا بنانا ہے۔ میں سب بنا لوں گی۔‘‘ اس نے بے دلی سے مُسکراتے ہوئے کہا ۔
    ’’بھئی، دعوتی کھانا بنانا ہے اور وہ بھی ساری فیملی کے لیے۔ تو ایسا کرو بھابی کہ تم بریانی کے ساتھ قورمہ بھی بنا لینا۔ شامی کباب بنا کے میں نے فریز کیے ہوئے ہیں اور نان بھائی بازار سے لے آئیں گے۔ کیوں امی، یہ مینیو ٹھیک رہے گا نا؟ ‘‘ گڑیا نے خود ہی ساری لسٹ ترتیب دی اور پھر خود ہی اسے فائنل کرتے ہوئے ماں سے تائید چاہی، تو انہوں نے بھی اثبات میں سر ہلا دیا۔
    ’’ٹھیک ہے امی، میں بنا لوں گی سب کچھ۔آپ فکر مت کریں۔‘‘ نین تارہ نے فرماں برداری سے کہا، تو گڑیا بھی اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑی ہوئی۔
    ’’دیکھتے ہیں، تم کیا کمال کرتی ہو بھابی۔ دھوم تو بہت سنی ہے تمہارے سگھڑاپے کی۔‘‘ گڑیا نے طنزیہ نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے چبھتے ہوئے انداز سے کہا، تو نین تارہ کا دم جیسے گھٹنے لگا۔ اُس کی ساس بیٹی کی بات کا مزہ لیتے ہوئے ہنس رہی تھیں۔وہ گڑیا کی معیت میں کچن میں داخل ہوئی اور پھر شام سے پہلے اسے کچن سے نکلنا نصیب نہیں ہوا۔ اس دوران اس کے دونوں جیٹھ اور نندیں بھی اپنے اپنے بال بچوں سمیت پہنچ چکے تھے۔ کھانے کی تیاری کے ساتھ ساتھ ان کی مہمان نوازی بھی اسے ہی کرنی پڑی تھی کہ گڑیا تو بہنوں کو دیکھتے ہی اُن کے ساتھ جڑ کر جا بیٹھی تھی اور پھر وہ چاروں ماں بیٹیاں تھیں اور ان کی نہ ختم ہونے والی باتیں۔ البتہ اس کی جیٹھانیوں نے رسماً ہی سہی اس کی تھوڑی بہت مدد ضرور کروائی تھی بلکہ بڑی بھابی نے تو اسے اتنے بڑے بڑے پتیلوں کے سامنے جھلستے دیکھ کر سخت افسوس کا اظہار بھی کیا تھا اور کبیر کو ڈانٹا بھی تھا کہ وہ نئی نویلی دلہن پر اتنا بوجھ ڈالنے کی بہ جائے کھانا باہر سے آرڈر کروا سکتا تھا۔اب کبیر بے چارہ کیا کہتا۔ اسے تو خود گھر آنے کے بعد ساری صورت حال کا پتا چلا تھا۔ وہ خود بھی بہت پریشان تھا، مگر ماں کو کچھ کہہ نہیں سکتا تھا اور نہ ہی گھر آئے مہمانوں کو کچھ بتا سکتا تھا۔
    ’’کبیر! میری مانو تو تم بازار سے کچھ اور بھی کھانے پینے کا سامان لے آؤ۔‘‘ بڑی بھابی نے تشویش سے بریانی اور قورمے کے دیگچوں میں جھانکتے ہوئے کہا، تو نین تارہ کے ساتھ ساتھ کبیر بھی حیرت سے انہیں دیکھنے لگا۔
    ’’کیوں بھابی۔ کھانا اچھا نہیں بنا کیا؟‘‘ نین تارہ نے ڈوبتے دل کو بہ مشکل سنبھالتے ہوئے پوچھا۔
    ’’نہیں ۔نہیں تارہ! تم نے کھانا تو ماشااللہ بہت اچھا بنایا ہے، مگر یہ سب پورا نہیں ہوگا بہنا اور پھر اگر گڑیا کو ایک چیز میں بھی کوئی نقص نظر آگیا، تو سمجھو سب ہی دسترخوان سے بھوکے اُٹھیں گے۔ تمہاری محنت بھی اکارت جائے گی اوربد مزگی علیحدہ سے ہو جائے گی۔ اسی لیے کہہ رہی ہوں کہ کچھ اور ورائٹی بھی ہونی چاہیے کھانے میں۔ ‘‘ بھابی نے مفصل جواب دیا، تو بات کبیر کی سمجھ میں بھی آ گئی۔ اس پر چھوٹی بھابی نے بھی پُر زور تائید کی تو کبیر چھوٹے بھیا کو ساتھ لیے بازار روانہ ہوا۔ خیریت رہی کہ امی اور بہنوں کو اس کارروائی کا پتا ہی نہیں چل سکا ، ورنہ جانے وہ کبیر اور تارہ کا کیا حال کرتیں۔




  • ہم رکاب — عرشیہ ہاشمی

    ہم رکاب — عرشیہ ہاشمی

    وہ کافی دیر سے آنکھیں بند کیے بانسری بجا رہاتھا جس کی مدھر تان ہولے ہولے میرے دل پر دستک دینے لگی تھی۔ کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اس نے اپنی رس بھری سرگوشی سے مجھے اپنی طرف مائل کرنا چاہا۔ میرا دل دھک دھک کرنے لگا۔ دل تھا کہ اس کی طرف کھنچا چلا جا رہا تھا اور دماغ ’’یہ غلط ہے‘‘ کی گردان الاپے جا رہا تھا۔ کچھ پل کی نادیدہ سلاسل میں قید سکون کے علاوہ مجھے اس سے کچھ نہ ملا تھا۔
    عجیب کشمکش میں آن پڑی تھی میں۔ اس نے تو مجھے ہمیشہ مشکل ہی میں ڈالا تھا لیکن میں تھی کہ ریشم کے دھاگے کی طرح اس کی طرف کھنچی چلی جا رہی تھی۔
    جب سے ہوش سنبھالا، میں نے اسے اپنا ہم رکاب پایا۔ عجیب رشتہ تھا ہم دونوں کا بھی۔ وہ میرے لیے زہرِ قاتل تھا اور میں اسے تریاق کی طرح سنبھالے رکھتی تھی۔ ہر دم اس کی جی حضوری کرتی، اس کی ہاں میں ہاں ملاتی اور اس کی اس طرف داری کا صلہ مجھے ہمیشہ دکھ ہی دیتا۔
    مجھے یاد ہے ایک بار جب ندی کنارے چلتے ہوئے عینی بھی میرے برابر آن پہنچی تو اس نے میرے دماغ کی ڈوری کھینچی اور دھیان کا دامن پکڑے اس طرف لے گیا۔ یہ صحیح ہے کہ میری عینی کے ساتھ کبھی نہ بنی تھی اور عینی ہمیشہ ہی مجھے چڑاتی رہتی تھی۔ میرے گھنگھریالے بالوں کی وجہ سے ہمیشہ وہ میرا مذاق اڑایا کرتی تھی لیکن اس کا یہ مطلب نہیں تھا کہ بدلے میں اسے نقصان پہنچاوؑں۔ اسے جسمانی تکلیف کا مزہ چکھاوؑں۔ لیکن اس روز، اس کے پرزور اصرار پر میں نے عینی کو دھکا دے کر ندی میں گرا دیا۔ ندی میں بپا ہونے والے ہیجان نے میرے اندر کے احساس کو جگانا شروع کیا تو میں نے چلاچلا کر آس پاس کے لوگوں کو اکٹھا کر لیا۔ عینی کی جان تو بچ گئی لیکن میری شامت آگئی۔ چاچا چاچی کی لعنت ملامت کے بعد اماں ابا اور اوراستانی جی کی ڈانٹ اور بِے عزتی کے بعد مجھے احساس ہواکہ مجھے اس کی بات نہیں ماننا چاہیے تھی۔ میں نے خود سے وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی اس کی بات نہیں سنوں گی۔




    پھر ایک روز جب میں اماں کے ساتھ بازار گئی تو خواہشوں کی ننھی تتلی لہک لہک کر کبھی سرخ لہنگے پر جا بیٹھتی تو کبھی سنہری جوتی پر۔
    ’’شش… چپ! اگر اماں کو تیری خبر ہو گئی تو اگلی بار ساتھ بازار نہیں لائیں گی۔‘‘ میں نے خواہشوں کی تتلی کو آہستہ سے تنبیہ کی۔
    لیکن وہ بھی اپنی فطرت سے مجبور، ضبط کے آگے سر پٹختے پٹختے تھک گئی تھی شاید۔ پھر سے ایک ست رنگی دوپٹے پر جا بیٹھی تو میں اسے گھور کر ہی رہ گئی۔ ہم دونوں کی اڑان بلند ہوتی اور پھر سمجھوتے کی گہری پاتال کا رخ کرتی۔
    اماں جب کتابوں کی دکان پر میری کاپیاں خریدنے کے لیے رکیں تو میری نگاہ سامنے ہی کھلے جیومیٹری باکس پر جم گئی۔ گلابی رنگ کی وہ جیومیٹری،نازک سی پرکار، ڈی،پنسل اور سکیل پر مشتمل تھی۔ اس کی سب سے زیادہ خاص بات یہ تھی کہ اس میں باربی گڑیا کی شکل کی پنسل موجودتھی اور باہر کی طرف بنی گلابی رنگ کی باربی کی آنکھیں ستاروں کی طرح چمک رہی تھیں۔
    ’’یہ جیومیٹری بھی لینی ہے خالہ جی؟‘‘ دکان والے نے میری نظروں کا ارتکاز دیکھتے ہوئے اماں سے سوال کیا۔
    ’’ارے نہیں بیٹا، یہ فضول خرچیاں ہم جیسے لوگ نہیں کر سکتے۔‘‘ اماں نے آہستگی سے کہا تو میں نے حسرت سے اسے دیکھتے ہوئے نگاہ چرا لی لیکن خواہش کی ننھی تتلی کافی دنوں تک اس کے گرد منڈلاتی رہی۔
    ’’مینا مینا! دیکھو تو ذرا شیزا کے پاس بالکل ویسی ہی جیومیٹری ہے جو اس روز دکان میں دیکھی تھی تم نے۔‘‘ سکول میں تفریح کا وقت گزرنے کے بعد وہ میرے دھیان کا ہاتھ پکڑے زور سے بولنے لگا۔
    ’’اوہو! تو کیا ہوا۔وہ یہ فضول خرچی کر سکتی ہے۔ اس کا باپ ہزاروں کماتا ہے۔ ‘‘میں نے شیزا کے ہاتھ میں تھامی جیومیٹری پر نگاہ ڈالتے ہوئے قدرے اُداسی سے کہا۔
    ’’اداس مت ہو میری جان! ہمیں اپنی خواہش پوری کر لینی چاہیے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ طریقہ کیا ہے۔ چھین لو اس سے یہ جیومیٹری۔ یہ صرف تمہارے لیے بنی ہے۔‘‘ اس نے مجھے راہ سجھائی تھی۔
    ’’نہیں! وہ کیا کہے گی کہ مینا چیزیں چھینتی ہے۔ نہیں!‘‘ میں نے اس کے مشورے کو پسِ پشت ڈال دیا لیکن جب شیزا پانی پینے اٹھی تو اس نے پھر میرے دھیان کا پلو تھاما اور سامنے ڈیسک پر رکھی جیومیٹری کی طرف لے گیا۔ اتنے میں چھٹی کی گھنٹی بجی اور میرے ہاتھ خود بہ خود اس جومیٹری کی طرف بڑھ گئے۔ سکول سے گھرواپسی کا سفر میرے لیے بے حد حسین تھا۔ خواہش کی ننھی پری یہاں سے وہاں اٹکھیلیاں کرنے لگی تھی۔ کبھی میرے دل کے تار چھیڑتی تو کبھی آنکھوں میں ڈھیر سارے رنگ بکھیر دیتی۔
    ہاں میری اس خوشی کا سارا کریڈٹ اسے ہی جاتا تھا۔ اگر وہ میری ہمت نہ بندھاتا تو میری یہ خواہش کبھی پوری نہ ہوتی۔ اسی طرح میری ہر خواہش پوری کرنے کے لیے وہ ہر جتن کرتا تھا۔ کبھی کبھار تو بنا خواہش کے ہی مجھے مشکلات سے بچانے میدان میں کود پڑتا۔
    ٭…٭…٭
    رمضان المبارک کے آخری روز تھے۔ سکول میں ہر روز ہی سہیلیاں ایک دوسرے کو تحفے اور عید کارڈ دیتی نظر آتیں اور میں ہمیشہ کی طرح حسرت کو گلے لگائے یہ تماشا دیکھتی۔
    ’’پیشگی عید مبارک!‘‘ شیزا نے کارڈ میرے ہاتھ میں تھمایا اور سرخ کاغذ میں لپٹا تحفہ میری جھولی میں ڈالتے ہوئے کہا۔ حیرت اور خوشی کے مارے میں کچھ دیر تو بول ہی نہ پائی تھی۔ بنا خواہش کے ملنے والی خوشی کا تجربہ پہلی بار ہوا تھا۔ گھر آ کر اماں کو کارڈ اور گفٹ دکھایا تو وہ ڈانٹنے لگیں۔
    ’’ارے کیوں لیا یہ تحفہ؟اب بدلے میں کیا دو گی اسے؟ یہ سب امیروں کے چونچلے ہیں، ہم جیسوں کو راس نہیں آتے۔‘‘ خوشی ایک دم سے اڑن چھو ہو گئی تھی۔ نم آنکھوں سے تحفے کا لبادہ اتارا تو اندر سے ست رنگی کانچ کی جھلمل کرتی چوڑیاں بر آمد ہوئیں جنہیں دیکھ کر مسکراہٹ خود بہ خود میرے چہرے پر در آئی۔
    ’’ہو جائے گا سب۔ فکر نہ کرو۔ کتنا پیارا تحفہ دیا ہے شیزا نے،اسے بھی تو ملنا چاہیے ایسا ہی تحفہ۔‘‘ اس نے ایک بار پھر آنکھوں میں امید کے جگنوسجائے تو میں بے فکر ہو گئی۔
    شام کو جب اماں نے حلوے کی پلیٹ ڈھانپ کر ہاتھ میں تھمائی اور مولوی صاحب کے گھر بھیجا تو وہ بھی میرے ساتھ ہو لیا۔
    ’’شیزا کو کیا تحفہ دینا ہے؟‘‘ گہری خاموشی میں اچانک اس کی آواز ابھری ۔
    ’’سوچوں گی۔‘‘
    ’’ارے! سوچنے کا وقت کہاں ہے؟ کل جانا ہے اسکول اور پھر عید کی چھٹیاں ہو جائیں گی۔‘‘ اس نے مجھے وقت کی کمی کا احساس دلایا تو میں حقیقتاً پریشان ہو گئی۔ انہی سوچوں میں گھرے وقت کا پتا ہی نہ چلا اور میں استانی جی کے سامنے کھڑی تھی۔
    ’’استانی جی! اماں نے یہ حلوہ بھیجا ہے اورکہا ہے کہ پلیٹ ابھی خالی کردیں۔‘‘ استانی جی تو باورچی خانے میں چلی گئیں اور میں باہر ہی تخت کے پاس کھڑی رہ گئی۔ دفعتاًمیری نگاہ تکیے کے نیچے سے جھلکتی سنہری مندریوں پر پڑی۔
    ’’دیکھ تو اللہ پاک نے شیزا کو دینے کے لیے کیساانتظام کیا۔ کتنی پیاری مندری ہے نا۔ جلدی سے اٹھا لو۔‘‘ وہ مجھ سے پہلے ہی ان سنہری مندریوں کودیکھ چکا تھا، سو مجھے کہنے لگا۔
    ’’نن نہیں! یہ چوری ہے، انہوں نے اماں کو بتایا تو میری چمڑی اتار دیں گی وہ۔‘‘ شعور نے اس کی بات نظر انداز کر دی۔
    ’’استانی جی کے پاس کس چیز کی کمی ہے؟ اور اگر یہ موقع بھی ہاتھ سے چلا گیا توکل شیزاکوکیا دو گی تحفے میں؟ اس نے تیزی سے کہا تو شعور نے اس کے آگے سر جھکا دیا۔
    اگلے دن استانی جی اماں کے سامنے موجود تھیں۔
    ’’باجی آپ اس سے لاڈ پیار سے پوچھو،بڑی قیمتی مندری تھی میری۔‘‘
    ’’استانی جی! سنہری مندری کی بات کر رہی ہیں نا آپ؟‘ وہ تومیں نے عینی کے پاس دیکھی تھی۔ کل جب حلوہ دے کر واپس گھر جا رہی تھی،تومیرے ساتھ ہی توتھی عینی بھی۔ ‘‘ان کی پریشانی اور اماں کے ہاتھوں بننے والی درگت کا خیال آتے ہی میں نے خودہی بولنا شروع کر دیااور پھر میرے نصیب کی سزا عینی کو ملی۔ اس کے جسم پر پڑے نیل مجھے پشیمان کرنے لگے تومیرے اندر اور باہر خاموشی نے ڈیرے ڈال لیے۔
    پیسہ ہو تو زندگی میں رنگ بھر جاتے ہیں ورنہ تو زندگی بلیک اینڈ وائٹ ٹی وی جیسی ہے۔ کچھ روز بعد وہ پھر میرے سامنے چلا آیا۔




  • فیصلہ — محمد ظہیر شیخ

    پولیس والوں کی بھی عجیب قسمت ہوتی ہے۔ ہر شخص امن و امان اور سلامتی کی دعا مانگتا ہے، مگر پولیس کے محکمے سے تعلق رکھنے والا ہر کارندہ یہی کہتا ہو گا کہ پروردگار آج کوئی کسی کا سر پھاڑ دے، آج کوئی قتل ہو، آج کوئی ڈکیتی کرے یا ہمسائیوں کی ہی آپس میں لڑائی ہو جائے۔
    اگر ہر طرف امن و امان اور سلامتی رہے تو کون پوچھے تھانیدار کو اور کون گھاس ڈالے اس محکمے کو… گو کہ ہر جگہ ایسی وارداتوں کا سب سے زیادہ فائدہ پولیس ہی کو ہوتا ہے، مگر اس کے باوجود راج نگر میں کسی بھی بدامنی کی اطلاع پر پولیس ناک بھوں چڑھا لیتی تھی۔ اس علاقے کے تھانیدار کی بدقسمتی کہ ہر دوسرے تیسرے دن کوئی نہ کوئی ایسی خبر ملتی کہ مجبوراً پولیس کو پہنچنا پڑتا تھا۔ چھوٹے موٹے واقعات اپنی جگہ تھے کہ اطلاع ملی کہ راجہ شہباز کے بیٹے کو قتل کر دیا گیا ہے۔ گاؤٔں کی بات تھی جنگل کی آگ کے مانند پورے علاقے میں فوری طور پر پھیل گئی۔
    ٭…٭…٭





    راج نگر یوں تو گاؤں ہی تھا، مگر اس کی آبادی اور رقبہ کسی چھوٹے شہر سے کم نہ تھا۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ایک حلقے کی سیٹ حاصل کرنے کے لیے تمام متعلقہ امیدواروں کی توجہ کا مرکز راج نگر ہوتا تھا۔ یوں تو راج نگر کی آبادی کا بڑا حصہ راجپوت خاندان پر مشتمل تھا، مگر اس کے باوجود کم ازکم چھے سات مختلف برادریوں کے لوگ بھی اسی گاؤں کے باسی تھے۔ ساری برادریوں کے ہوتے ہوئے بھی راجپوتوں کو اکثریت حاصل تھی۔ اس لیے کسی قسم کے سماجی یا سیاسی فیصلے کرنے میں ان کے پاس جملہ حقوق محفوظ تھے اور کسی برادری کے کسی فرد کی مجال نہ تھی کہ ان کے فیصلوں پر احتجاج یا نافرمانی کرے۔ باقی لوگ تو اللہ اللہ کرکے اور مصلحت کے تحت جی حضوری کرکے وقت گزار رہے تھے مگر جب سامنے اپنا ہی خون آجاتا تو بات بڑی دور تک چلی جاتی۔ اپنوں سے محبت تو ہوتی ہے، مگر جب وہی ادشمنی پر اتر آتے ہیں تو قیامت کا سماں ہوتا ہے۔
    راجہ عامر بچپن ہی سے بہت نازک طبیعت واقع ہوا تھا۔ اسکول کے لڑکے اکثر اسے لیڈی، لیڈی کہہ کر چھیڑتے تھے۔ اسے خود بھی کبھی کبھی احساس ہوتا تھا کہ وہ جس گاؤں اور فیملی سے تعلق رکھتا ہے وہاں تو حاکم رہا جاتا ہے ، مگر وہ الگ طبیعت رکھتا تھا ۔ گاؤں میں کوئی بھی شادی بیاہ یا کسی بھی قسم کی تقریب میں شامل ہونا اسے باعثِ شرم محسوس ہوتا تھا۔ لڑائی جھگڑا کرنا تو درکنار وہ کسی ایسی جگہ جانا بھی ناپسند کرتا تھا جہاں اس قسم کی کسی بات کا اندیشہ ہو۔ اسکول سے کالج پہنچا تو مسیں بھیگی اور نوجوانی سے جوانی کا سفر طے ہوا، مگر طبیعت کی وہ شادابی برقرار رہی۔ گھر والے تو ایک طرف گاؤں والے بھی حیرت زدہ تھے کہ یہ کیسا راجپوت ہے جو ہر ایک سے مسکرا کر ملتا ہے اور گریبان بھی کھلا نہیں رکھتا۔ باقی برادریوں کے تمام افراد اس کی دل سے عزت کرتے تھے مگر اپنی برادری میں وہ کم حیثیت شمار ہوتا تھا ۔ وہ ایسا پھول تھا جو صرف دکھائی دینے کے لیے تھا، مگر پھول کانٹوں کے بغیر ہو یہ کیسے ممکن ہے۔ اسی لیے اس کے ساتھ بھی ایک زہریلا کانٹا تھا، اس کا بڑا بھائی ناصر……..
    عامر شبنم تھا تو ناصر شعلہ، دونوں بھائیوں کی آپس میں گاڑھی چھنتی تھی۔ ہر کام مل جل کر کرتے، ہر راز ایک کا دوسرے کو پتا ہوتا تھا۔ کھانا پینا اور کھیلنا حتیٰ کہ سونے کا کمرا بھی کا مشترکہ تھا، مگر جب بات آتی لڑائی جھگڑے کی تو عامر بھیگی بلی اور ناصر بھیڑیا بن جاتا تھا۔ ناصر بلا کا لڑاکا تھا۔ گھر والوں کی روک ٹوک نہ ہونے کے باعث وہ ہر پھڈے میں پیش پیش ہوتا تھا۔ اس کے والد راجہ دلاور ایک سرکاری کالج کے پرنسپل تھے، گھر میں دولت کی ریل پیل تھی۔ عیاش پرست گھرانہ تھا۔ مکان کی تعمیر کے علاوہ جو کچھ کمایا جاتا عیش و عشرت میں اڑا دیا جاتا۔ گزر بسر اچھے سے ہو رہی تھی اور کیا چاہیے تھا۔ مستقبل کی فکر اس لیے بھی نہیں تھی کہ چار پانچ سال بعد ریٹائرمنٹ کی رقم سے کاروبار کرنے کا ارادہ تھا۔ اسی لیے کسی بھی پھڈے کی صورت میں فوری طور پر ناصر کو مکھن کے بال کی مانند بچا لیا جاتا۔ زیادہ باز پرس نہ کی جاتی کیونکہ یہی ایک ہتھیار تھا جس کی بدولت وہ برادری ہر سو حاوی تھی۔ ناصر، عامر کو اکثر طنز کا نشانہ بناتا مگر عامر ٹس سے مس نہ ہوتا۔ وہ اکثر کہتا ’’دیکھ عامرے! یہ جو طاقت ہے نا یہ مرد کی شان ہوتی ہے ۔ اگر انسان اس سے محروم ہو جائے یا جان بوجھ کر اسے زنگ لگا دے تو پھر مرد اور خواجہ سرا میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا۔‘‘
    ’’ہوں! تو اس کو تم مردانگی کہتے ہو۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے سادہ سے انداز میں کہتا۔
    ’’اگر مظلوموں کو دبانے کو، ان کا حق چھین لینے کو اور اپنے سے کمزور لوگوں کو پیٹنے کو تم مردانگی سمجھتے ہو تو میں ایسی مردانگی پر سو بار لعنت بھیجتا ہوں۔‘‘
    ’’ایک دن آئے گا جب میری بات تمہاری سمجھ میں آجائے گی ۔ جب تمہیں احساس ہوگا کہ ہر چیز تمنا اور محبت سے نہیں ملتی، کچھ حقوق ایسے ہوتے ہیں جو چھیننے پڑتے ہیں ۔ پھر تم میرے پاس آؤ گے اپنا ہیجڑا پن لے کر……
    ’’دیکھنا ایک دن تمہیں میری باتیں یاد آئیں گی عامرے۔‘‘وہ میٹھی ڈانٹ پلاتے ہوئے عامر سے کہتا اور پھر ایک دن عامر کو اس کی بات سمجھ آگئی۔ وہ پریشان تھا کہ اپنی مشکل کیسے ناصر سے بیان کرے۔ اسے بیان کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑی کیونکہ ناصر نے اس کی حالت سے خود ہی اندازہ لگا لیا کہ کوئی گڑ بڑ ہے۔ عامر اپنی کتب لیے بیٹھا تھا کہ ناصر اس کے پاس پہنچ گیا۔ اس نے سر اٹھا کر دیکھا تو ناصر زیر لب مسکرا رہا تھا ۔ اسے معلوم تھا کہ اب اس کی خیر نہیں سب کچھ ناصر کے گوش گزار کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا ۔
    ٭…٭…٭
    نیلم، راج نگر کی سب سے خوبصورت لڑکی تھی۔ جب وہ یونیفارم میں ملبوس گاؤں کے راستوں سے اسکول پہنچتی تھی تو راہ میں گزرنے والا ہر جوان اسے دیکھ کر سانس لینا بھول جاتا تھا۔ راجپوت گھرانے کی لڑکی ہوتی تو ہر کوئی دیکھ کر نظر جھکا لیتا، مگر اس کی بدقسمتی کہ وہ ایک غریب کسان غلامو کی بیٹی تھی جو راجہ اکرام کی زمینوں پر کام کرتا تھا۔ غلامو خود تو مریل سا کالی رنگت کا تھا، مگر اس کی بیٹی لاکھوں میں ایک تھی ۔ غریب کی بیٹی تھی اس لیے ہر کوئی دیدارِ عام کا حق رکھتا تھا۔ نیلم کی ماں نے جب ایسی صورتحال کے بارے میں محسوس کیا تو اپنی بیٹی کو گاون، میں اسکول بھیجنے لگی مگر لوگوں کی نظریں پھر بھی نہ رکیں۔ غلامو کو اپنی محنت مزدوری سے فرصت نہیں ملتی تھی گھر کا خیال خاک رکھتا۔ ہاں البتہ وہ اور اس کی بیوی، نیلم کے بچپن ہی سے اس کے جہیز کے لیے پائی پائی جمع کررہے تھے۔ نیلم کی میٹرک کے بعد اس کی شادی کا ارادہ تھا۔ ابھی نیلم نویں جماعت میں ہی تھی کہ گاؤں کا بچہ بچہ اس کے خواب دیکھنے لگ گیا۔ ایک دو بار لڑکوں نے اس سے بات کرنی چاہی مگر اس نے کسی کو لفٹ نہ دی۔ گھر آکر اس نے ماں کو بتایا تو اس کی وساطت سے غلامو تک یہ خبر پہنچی۔ غریب آدمی تھا اس لیے عزت ہی سب کچھ سمجھتا تھا۔ کافی سوچ بچار کے بعد اس نے مالک سے اپنے تحفظات کا اظہار کیا تو راجہ اکرام نے اس کی بات سن کر اسے مشورہ دیا کہ جلد از جلد بیٹی کی شادی کردے ، مگر وہ جانتا تھا کہ فی الحال وہ اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ بیٹی کو عزت سے رخصت کرسکے۔ اس کے پاس جمع پونجی ابھی مطلوبہ ہدف سے بہت کم تھی۔ دوسرا وہ کم از کم دسویں کا امتحان پاس کروانے تک اپنی بیٹی کی شادی کا خواہش مند بھی نہیں تھا۔ اس نے راجہ صاحب کی بات سن کر سر جھکا لیا۔ گھر آکر اس نے بیوی سے مشورہ کیا اور اس بات پر دونوں راضی ہو گئے کہ اگر اچھا لڑکا مل گیا تو وہ لوگ شادی میں دیر نہیں لگائیں۔ فی الحال اللہ کے بھروسے وہ نیلم کو اسکول بھیجتے رہے۔ نیلم کے چاہنے والوں میں راجپوت خاندان کے بھی کئی لڑکے تھے مگر وہ لوگ برادری سے باہر رشتہ داری باعثِ ندامت سمجھتے تھے۔ اسی بنا پر بہت سے لڑکے دل تھام کے رہ گئے مگر عابد اس کے تیرِ نگاہ کا ایسا شکار ہوا کہ اس نے سارے بندھن، ذات پات، برادری اور رسوم و رواج کے فلسفے کو پسِ پشت ڈال دیا۔
    وہ راجہ اکرام کا بھتیجا تھا اور سوائے بدمعاشی کے اسے کچھ نہیں آتا تھا۔ تین بڑے بھائی تھے جو برسرِ روزگار تھے۔ اس لیے سوائے بدمعاشی اور آوارہ گردی کے اور کچھ بھی نہیں کرتا تھا۔
    اس نے کئی دنوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کے باعث آخر کار گھر والوں کو راضی کر لیا کہ اس کا رشتہ نیلم کے لیے مانگا جائے۔ یہ الگ بات تھی کہ مانگنے کا جھنجھٹ پالا گیا تھا ورنہ سب ہی اس بات سے آگاہ تھے کہ غلامو کی یہ مجال کیسے کہ وہ انکار کر دیتا، چنانچہ اس سے بات کی گئی اور اس نے بخوشی اس بات پر رضامندی ظاہر کردی۔ یوں ایک مشکل مرحلہ عابد کے لیے طے ہوا، مگر وہ حالات کا ایک رخ تھا دوسرے رخ سے اس پر کون سے طوفان نازل ہونے والے تھے وہ اس سے بے خبر تھا۔
    ٭…٭…٭




  • آسیب — دلشاد نسیم

    آسیب — دلشاد نسیم

    میں آپا سے پورے دس سال چھوٹی ہوں۔ اماں بتاتی ہیں ان دس سالوں میں ہمارے دو بھائی ہوئے مگر بدقسمتی سے دونوں ہی کی زندگی نے وفا نہ کی۔ اماں اب بھی کبھی کبھی ہاتھ مل کے ان کی یاد کو آنکھوں کے پانی سے تازہ کرتی رہتی ہیں۔ وہ یہ بھی کہتی ہیں یہ نمکین پانی ان دونوں کی یاد کو ہرا کر دیتا ہے اور کبھی کبھی تو یہ ہرا رنگ زہر بن کر اُنہیں بے جان بھی کر دیتا ہے۔
    ہائے اماں مجھے ان پر ترس آنے لگتا، لیکن میرے ننھے ذہن میں ایک اور بات کلبلاتی۔ اگر وہ زندہ رہتے، تو اماں مجھے اور آپا کو ٹکے بھاؤ نہ پوچھتیں۔ اب بھی کون سا پوچھتی ہیں۔ میری آنکھوں میں آنسو آگئے اور جب سے ابا نے چھوڑا ہم دونوں بہنیں اماں کو کانٹے کی طرح چبھنے لگیں تھیں جیسے انہوں نے اماں کو ہماری وجہ سے چھوڑا ہو۔ بات کچھ ایسی غلط بھی نہ تھی۔ گفتگوبڑوں میں ہو رہی تھی، لیکن میں نے ساری سنی۔
    ابا نے کہا میرا کوئی وارث ہونا چاہیے۔
    اماں نے کہا۔ اللہ نے دو دیے تو تھے۔ اس کی منظوری ہوتی تو رہتے۔
    ابا کو اللہ کی یہ منظوری نامنظور تھی۔ کہنے لگے شرع میں اجازت ہے، میں دوسری شادی کر سکتا ہوں اور دونوں بیویوں کو ان کے حق ادا کر سکتا ہوں، تو اماں نے ایک نہ سنی۔ چٹخ کر بولیں۔ میری خدمت کا حق کیسے ادا کرو گے اور وہ ساری راتیں جو میں تمہارے بغیر گزاروں گی اور تم اس کے ساتھ۔ شدت غم سے ان کی سانس پھول رہی تھی، لیکن وہ بولے گئیں۔
    سلیم احمد یہ میرا حق ہے۔ کاغذ کے پرزے پر لکھا حق مہر نہیں جسے تم نے پہلی رات ادا کر کے مجھے خریدا تھا۔
    ابا نے تلملا کر کہا۔ نکاح تو میں کر چکا ہوں، تم قبول کر لو اور ساتھ رہ لو۔ نہ رہنا چاہو، تو تمہاری مرضی۔ میں نے اماں کو اس دن سے زیادہ بے کل کبھی نہیں دیکھا تھا۔ ساری رات انہوں نے کروٹیں بدل بدل کے اور آنسو پونچھ پونچھ کر گزاری۔ ایک بار میں نے اماں سے ڈرتے ڈرتے پوچھا بھی۔ اماں بھائی یاد آرہا ہے؟
    اماں نے مجھے غصے سے گھورا۔ وہ بہت ڈراؤنی لگ رہی تھیں۔ ان کی آنکھیں سرخ اور چہرہ سخت ہو رہا تھا۔ میں نے ڈر کے آپا کو دیکھا۔ اُنہیں تو خیر بالکل نیند نہیں آتی تھی۔ سنا تھا اُنہیں اثر ہو گیا ہے۔ جوان ہیں خوبصورت بھی تو بہت ہیں۔ یہ لمبے بال اور آنکھیں ہائے اللہ ان کی آنکھیں جو ایک بار دیکھ لو تو پتا نہیں شہاب بھائی کیسے ان کی آنکھوں میں جھانک لیتے اور بالکل نہیں گھبراتے۔ آپا ہی کو شرم آجاتی ہے۔ ابھی ایک ہفتے کی بات ہے۔ آپا نے چھت پر رکھے لکڑی کے جھولنے پر جھولتے جھولتے غالب کا کوئی شعر پڑھا۔ اس وقت شہاب بھائی مجھے انگریزی کے ڈائریکٹ ان ڈائریکٹ سمجھا رہے تھے۔ شہاب پر نظر جمائے جمائے بولے۔




    ’’تم تو خود شاعر کا خواب ہو۔ تم شعر نہ پڑھا کرو۔‘‘
    آپا اسی طرح آنکھیں موندے موندے بولیں۔
    ’’توبہ۔ میں کیوں ہوتی کسی شاعر کا خواب۔‘‘
    ’’نہیں یقین آتا، تو آئینہ دیکھ لو۔ زلف گھٹا، آنکھیں پیمانہ، ہونٹ گلاب، گردن صراحی۔‘‘
    آپا کھلکھلا کے ہنسیں، میں نے معصومیت سے کہا۔
    ’’اور دانت؟‘‘
    آپا نے ہونٹ سکیڑ لیے۔ ’’یہ چھوٹی ساری باتیں سمجھتی ہے۔‘‘
    سمجھتی تو نہیں تھی خیر لیکن سمجھنا چاہ رہی تھی۔
    ’’اور دانت… ناریل کی کچی گری جیسے، چمکتے، پکیاں اجلے گلابوں کی قید سے آزاد ہوں، تو اندھیرے میں روشنی ہو جائے۔‘‘
    ’’شہاب رضا شاعر جھوٹے ہوتے ہیں۔ تم ایسا نہ کرنا۔
    آپا کے آخری جملے میں کچھ تھا شہاب بھائی کو چپ لگ گئی۔ آپا کی آنکھوں کے پیمانے چھلک گئے۔
    اب سے پہلے تو کبھی ایسا نہ ہوا تھا۔ شہاب بھائی اور آپا گھنٹوں ساتھ ساتھ ہنسے، کبھی چپ نہ ہوئے۔ نہ آپا کی آنکھوں میں آنسو آتے۔
    گھر کا ماحول ویسے ہی کچھ کھچا کھچا سا تھا۔ اس پر شام کو گڑکے ساتھ بھنے چنے کھاتے کھاتے میں نے اماں سے کہہ دیا۔ ’’اماں آپا خود سے باتیں کرتی رہتی ہیں۔‘‘
    اماں نے ’’آئے ہائے‘‘ کہہ کر سینے پر ہاتھ رکھا۔
    ’’ہاں۔ روز کرتی ہے، تو کہاں ہوتی ہے اس وقت۔‘‘
    ’’میں۔ میں وہیں جہاں شہاب بھائی مجھے پڑھا رہے ہوتے ہیں اور آپا جھولے پہ جھولتی ہے آنکھیں بند کر کے کبھی شعر پڑھتی ہیں اور کبھی باتیں کرتی ہیں۔‘‘
    ’’اماں کی بے قراری میں دو سو فیصد اضافہ ہو گیا۔‘‘
    ’’شہاب باتیں نہیں کرتا اس کے ساتھ؟‘‘ سوال میں گہرا سوال تھا۔
    ’’نہیں۔ وہ تو پڑھا رہے ہوتے ہیں۔‘‘ اماں پریشان ہو گئیں۔
    ’’ہو نہ ہو اس پر سایہ ہو گیا ہے۔‘‘
    ’’سایہ تو زمین پر ہوتا ہے۔ وہاں کسی کے اوپر کیسے ہو سکتا ہے؟‘‘
    ’’تم نہیں سمجھو گی۔‘‘
    ’’پتا نہیں سب لوگ یہ کیوں سمجھتے ہیں کہ میں نہیں سمجھوں گی۔ آج نہیں، تو کل میں ان ساری باتوں کو سمجھنے لگوں گی۔‘‘
    جس دن ماموں یہاں آئے۔ اس شام ابا کے ساتھ جو عورت آئی اسے، تو ہم سب جانتے تھے۔ پتا نہیں اماں نے اتنا شور کیوں مچایا۔ اس سے پہلے جب بھی شہاب بھائی کی بہن شاہانہ ان کے ساتھ آتیں ہاتھوں ہاتھ لی جاتیں۔
    اماں نے رات ہی بیگ تیار کرکے رکھ دیے تھے۔ آپا نے پوچھا، تو کہنے لگیں کل تمہارے ماموں آرہے ہیں ہمیں لینے۔
    ’’مگر کیوں؟‘‘
    میں نے پوچھا۔ ’’میں نہیں جاؤں گی۔ مجھے ان کا گھر اچھا نہیں لگتا۔‘‘
    اماں نے زناٹے دار تھپڑ میرے گال پہ مارا۔ آپا نے مجھے اپنی گرم آغوش میں بھر لیا۔
    ’’اماں شادی آپا نے کی ہے، اس میں ہمارا کیا قصور ہے۔ ہمیں کیوں بے گھر کر رہی ہیں۔‘‘
    ’’تم دونوں کا تو قصور ہے۔ آج اگر تم دونوں کی جگہ میرے بیٹے ہوتے تو سلیم کیوں دوسری شادی کرتا۔‘‘
    اماں دوسری شادی کے لیے ’’جواز‘‘ جھوٹے ہوتے ہیں۔ اگر ہماری جگہ بیٹے ہوتے، تو ابا کسی اور بہانے شاہانہ خالہ کو گھر لے آتے۔
    اماں نے سخت لہجے میں فیصلہ کن انداز میں کہا۔
    ’’دیکھو ہم نے جانا تو ہے۔ مجھ سے سوت کا دکھ سہا نہیں جائے گا۔‘‘
    ’’طلاق کے ساتھ رہنے سے تو بہتر ہے عورت سوت کے ساتھ رہ لے۔‘‘
    ’’بہت زبان چلتی ہے تیری۔‘‘ اماں نے آپا کی محبت بھری آغوش سے نکال کے مجھے ایک طرف کیا اور آپا کی نشیلی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں۔
    ’’شہاب کے ساتھ کیا معاملہ ہے تیرا؟‘‘
    ’’میرا؟‘‘ وہ گھبرا گئی۔
    ’’تیرا…!‘‘ اماں توبہ توبہ۔ اتنا ڈراؤنا انداز ہے ان کے بولنے کا۔ مجھے چھوٹی نے سب بتا دیا ہے۔
    ’’نہیں آپا۔ میں نے اماں کو کچھ نہیں بتایا۔ مجھے آپا کی گود چھن جانے کا خوف لاحق ہو گیا۔‘‘
    ’’میں نے کہا تھا آپا خود سے باتیں کرتی رہتی ہیں۔‘‘ اماں قسم سے یہی کہا تھا۔
    ’’یہی کہا تھا۔‘‘ اماں نے ٹھنڈے لہجے میں کہا۔ میں نے شکر ادا کیا کہ آپا کے دل میں کوئی بات نہیں آئی اور ایسا ہی ہوا۔ آپا جب کمرے سے نکلی، تو چپ تھی اور شام جب ہم ابا کا بڑا سارا سرکاری گھر اور بڑی سی کار چھوڑ کر ماموں میاں کی چھوٹی گاڑی میں بیٹھ کر ان کے گھر دوسرے شہر جا رہے تھے، تو آپا نے مجھے گھر میں بٹھا رکھا تھا۔ وہ مسلسل کچھ سوچ رہی تھیں۔ میرے بالوں میں انگلیاں پھیر رہی تھیں، مگر ان کی انگلیوں کی حرکت میں بے چینی تھی۔ میرا چھوٹا سا ذہن پریشان تھا۔ سوچ رہا تھا آج آپا کے بال سہلانے سے مجھے مزہ کیوں نہیں آرہا۔ نیند کیوں نہیں آرہی اور الجھن سی کیوں ہو رہی ہے۔
    وہ رات بہت بھیانک تھی۔ کالی سیاہ رات جب ہم ماموں میاں کے گھر پہنچے۔ اسلام آباد کا خاموش شہر جہاں بڑے بڑے درخت رات کی تاریکی میں پہاڑوں جیسے ڈراؤنے لگ رہے تھے۔ کمرے میں موت جیسی خاموشی تھی۔ ہم جس کمرے میں تھے وہاں کھڑکیوں پر پردے نہیں تھے۔ورنہ میں کب کا ان پہاڑوں کو پردوں کے پیچھے گم کر چکی ہوتی۔ آپا جاگ رہی تھیں۔
    ’’آپا۔‘‘ میں نے سرگوشی کی۔
    ’’ہوں۔‘‘ وہ بولیں۔
    ’’آپا ہم اپنے گھر کب جائیں گے؟‘‘
    ’’پتا نہیں۔‘‘
    ’’کیوں پتا نہیں؟‘‘
    ’’بس پتا نہیں۔‘‘
    ’’اماں کو پتا ہے؟‘‘
    ’’پتا نہیں۔‘‘ انہوں نے کروٹ بد لی۔
    ’’آپا‘‘ میں پھر بولی۔
    ’’سو جاؤ اب۔ دیکھو کتنی رات ہو چکی ہے۔‘‘
    ’’آپا۔‘‘ میں نے ان کی طرف رخ کیا۔
    آپا نے مجھے دیکھا۔ مجھے اتنے اندھیرے میں بھی آپا کی آنکھوں کے جگنو دکھائی دے گئے۔
    ’’آپا طلاق کیا ہوتی ہے؟‘‘
    ’’ضروری نہیں ہے سارے سوالوں کو جواب مل جائے۔‘‘
    ’’سوت۔ اماں کہہ رہی تھیں کہ…
    ’’چھوٹی میں دوسرے کمرے میں چلی جاؤں گا اگر تنگ کیا تو۔‘‘
    میں نے ان کے گرد بازو ڈال دیے۔
    ’’مجھے لگا وہ رو رہی ہیں۔ میرے اندر کتنے سوال ہلچل مچا رہے تھے، مگر کیسے پوچھتی۔ وہ مجھے اکیلا چھوڑ کر چلی جاتیں تو…‘‘
    ہمیں آئے تین ماہ اور بیس دن ہو گئے تھے۔ اماں کہہ رہی تھیں ابھی وہ کہیں نہیں جا سکتیں اور ساتھ رو پڑیں۔ بھلا اس میں رونے والی کیا بات تھی۔ بعد میں چلی جائیں گی۔ اس رات اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑی ہو کر جب میں چاند کو دیکھ رہی تھی، تو مجھے لگا اس کے اندر کوئی رہتا ہے، کون رہتا ہو گا اور ایک دو نہیں کئی لوگ چلتے پھرتے نظر آرہے تھے۔ شاید بڑھیا ہی رہتی ہو تو۔
    آپا سے ڈرتے ڈرتے میں نے پوچھا، تو کہنے لگیں۔
    ’’چاند میں وہ لوگ رہتے ہیں جو محبت میں جان دے دیتے ہیں۔‘‘
    آپا کی باتیں آج کل مجھے بالکل سمجھ نہیں آرہی تھیں۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب شہاب بھائی اچانک ہمارے گھر آگئے۔ اماں نے اُنہیں دیکھ کر وہ واویلا مچایا کہ توبہ ہی بھلی۔ آپا کو لے کر کمرے میں بند ہو گئیں۔
    ’’یہ کیا لینے آیا ہے یہاں؟‘‘
    جانے آپا نے کیا کہا اماں پھر چیخیں۔
    ’’اسے کہو یہاں سے چلا جائے نہیں تو مجھ سے برا کوئی نہ ہو گا۔‘‘
    ’’صبح چلا جائے گا۔‘‘ آپا منمنائی۔
    اور ایسا ہی ہوا۔ وہ صبح سویرے ہی چلے گئے لیکن مجھے آج تک یاد ہے رات جانے کس پہر اماں سوئیں ہوں گی وہ دبے قدموں اندر آئے۔ آپا جاگ رہی تھیں۔ میری تو جیسے ان کے ساتھ تار جڑی ہوئی تھی۔ وہ اٹھیں، تو میں بھی اٹھ گئی۔ شہاب بھائی کو کمرے میں دیکھا، تو مجھے حیرت ہوئی۔ ابھی میں کچھ کہنے ہی والی تھی کہ میری موندی آنکھوں نے دیکھا شہاب بھائی باہر لان کی طرف کھلنے والی کھڑکی کے پٹ سے ٹیک لگائے کھڑے ہیں اور آپا ان کے کندھے سے لگی رو رہی ہیں۔
    ’’تم یہاں کیوں آئے ہو؟‘‘
    ’’مجبور ہو گیا تھا۔ تمہاری یاد میرے سینے میں پھانس کی طرح چبھ رہی تھی۔ تمہیں بھلا نہیں پا رہا تھا۔ لگتا تھا نہ دیکھا، تو دم گھٹ جائے گا۔‘‘
    شاید آپا رو رہی تھیں۔
    ’’تم نے اپنی کیا حالت بنا لی ہے۔ تمہیں دیکھ کر میں ڈر گیا ہوں۔ نہ ہنستی ہو نہ بولتی ہو۔‘‘
    ’’محبت کا آسیب جان نہیں چھوڑتا۔‘‘
    آپا نے آہ بھری اور کہا۔
    ’’سنو اب جاؤ چھوٹی جاگ جائے گی۔ بچی ہے جانے کیا سوچے۔‘‘
    ’’کیا تم میرے ساتھ چل سکتی ہو؟‘‘
    ’’چل سکتی ہوں، مگر اماں کا رشتوں پر سے اعتبار اٹھ جائے گا۔ پہلے ابو اور اب میں۔ وہ تو بن موت مر جائیں گی۔‘‘
    ’’مجھے بتا دو۔ میں اتنا بہادر کیسے ہو جاؤں۔ کیسے تمہیں بھولوں؟‘‘
    ’’زندہ رہنے کے لیے ایک دوسرے کو بھولنا ضروری ہے؟ شاید کبھی اماں کا غصہ ختم ہو جائے۔ اُنہیں ترس آجائے پھر شاید ہم مل سکیں۔‘‘
    رات آہستہ آہستہ اتر رہی تھی۔ میں جاگ کر بھی سوتی رہی۔ کروٹ بھی نہیں لی۔ شہاب بھائی چلے گئے۔ آپا نے وہ رات کھڑکی سے لگے لگے گزار دی۔
    صبح اُنہیں بہت تیز بخار چڑھ چکا تھا۔ ممانی کہنے لگیں ٹھنڈ لگ گئی ہے۔ ماموں میاں نے ڈاکٹر بدل بدل کر دیکھا بخار توچلا گیا، مگر آپا کو کھنڈر کر گیا۔




  • ٹرانسفر لیٹر — افتخار چوہدری

    دھیمی رفتار سے چلتی ٹھنڈی ہوا کے دوش پر پیپل کی لچک دار شاخیں سُرور کی سی کیفیت میں جھوم رہیں تھیں جس کی وجہ سے پتے ترنم بھری سرسراہٹ پیدا کر رہے تھے ۔ اس دوران شاخوں سے جھڑتے زرد پتے خزاں رُت کی آمد کا پتا د ے رہے تھے ۔ اپنی میعاد پوری کرنے والے یہ زرد پتے ہوا کا ہلکا سا دباؤبھی برداشت نہیں کر پارہے تھے۔ وہ ٹہنیوں سے ٹوٹ کر چند سیکنڈفضا میں لڑھکنے کے بعد زمین پر گر رہے تھے ۔ یہ وہی پتے تھے جو پچھلی بہار کی آمد پر زندگی کی نوید بن کر کھلے تھے اور آج ناکارہ شے کی طرح بکھرتے چلے جارہے تھے۔ اب ان کے مقدر میں کسی کے پاؤں تلے آکر محض ایک لمحے کے لیے چرمرانا باقی رہ گیا تھا۔
    ’’سر! چودھری بشارت کچھ لوگوں کے ہمراہ تھانے میں آیابیٹھا ہے ،وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے۔‘‘ سپاہی نذیر نے مجھ سے مخاطب ہو کر کہا ،تو میں اپنے خیالوں سے چونک کر اس کی طرف متوجہ ہوا۔ میں اس وقت تھانے سے ملحق اپنے سرکاری کوارٹر کے باغیچے میں بیٹھا درختوں سے گرتے پتوں کو دیکھنے میں اس قدر محو تھا کہ نذیر کے آنے کا علم ہی نہیں ہوا۔ کوارٹر کا ایک دروازہ تھانے کے اندر کھلتا تھا۔ وہ اسی دروازے سے میرے پاس آیا تھا ۔ مجھے اس تھانے میں تعینات ہوئے کئی ہفتے گزر چکے تھے، مگر ابھی تک یہاں کسی کیس کا اندراج نہیں ہوا تھا۔ مجھے لاہور کے ایک معروف ترین اسٹیشن سے بطور سزا ٹرانسفر کر کے یہاں بھیجا گیا تھا۔ وہاں میرے آفیسر اور ماتحت عملہ میری ضرورت سے زیادہ ایمانداری کی وجہ سے حد درجہ تنگ آئے ہوئے تھے۔ آخر کب تک وہ اپنی اوپر کی آمدن میں رکاوٹ برداشت کر سکتے تھے۔ انہوں نے میرا تبادلہ سرگودھا کی ایک سرسبز تحصیل سلانوالی کے اس غیر معروف علاقے میں کروا کر ہی سکون کا سانس لیا تھا۔ مجھے نیک نیتی کے اس (نا قابلِ معافی جُرم) کی پاداش میں یہاں آنا پڑا۔ ویسے میرے لیے یہ کوئی نئی بات نہیں تھی۔ مجھے تقریباً ہر چھے ماہ بعد ٹرانسفر لیٹر کی شکل دیکھنے کی عادت سی ہوگئی تھی۔ اب یہاں میرے پاس درختوں سے گرتے پتوں ،اٹکھیلیاں کرتے پرندوں اور شکلیں بدلتے بادلوں کو دیکھنے کے سوا کوئی کام نہیں تھا ۔ اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں تھا کے اس علاقے میں جرائم نہیں ہوتے۔ میرے تھانے کی حدود میں تین درجن سے زائد گاؤں تھے۔ ان میں مرغی چوری سے لے کر ڈکیتی اور قتل جیسی خونریزوارداتیں بھی ہوتی رہتی تھیں، مگر متاثرہ لوگ تھانے کے بجائے، چودھری بشارت کے ڈیرے جانا پسند کرتے تھے ۔ اس نے غیراعلامیہ طور پر حکومت کے متوازی اپنے قانون وضع کیے ہوئے تھے جن کی بنا پر وہ فریقین کے مابین فیصلے کرتا تھا اور حیرت کی بات یہ تھی کہ کوئی شخص اس کے کیے ہوئے فیصلے کو ماننے سے انکار کرنے کی جرأت نہیں کر سکتا تھا۔ پورے علاقے میں چودھری کو بے تاج بادشاہ کی سی حیثیت حاصل تھی۔ ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی کا مالک ہونے کی وجہ سے اس کا دماغ ہر وقت ساتویں آسمان پر رہتا تھا ۔




    رہی سہی کسر موجودہ حکومت میں وزیر کے عہدے پر براجمان اس کے بھائی نے پوری کر رکھی تھی ۔ میری اطلاع کے مطابق اس نے نجی جیل تک بنا رکھی تھی ۔ اگر وہ کسی سے ناراض ہو جاتا، تو پھر زمین اپنی تمام تر کشادگی کے باوجود اس پر تنگ کر دی جاتی تھی اور پھراس غریب کا مقدرتنگ و تاریک کوٹھڑی میں سڑنا ہی ہوتا تھا۔ طاقت کا کل توازن اس کے پلڑے میں ہونے کی وجہ سے وہ سارے علاقے کے سیاہ و سفید کا مالک تھا ۔ حد تو یہ تھی کہ میرے تھانے کے اکژ ملازم اسی کے زر خرید تھے یا یوں کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا کہ تھانے کی کالی بھیڑیں تنخواہ تو سرکاری خزانے سے وصول کر تی تھیں اور چاکری چودھری بشارت کی کرتیں۔ تھانے کے بکاؤ لوگ چودھری کا نام اتنے احترام اور عقیدت سے لیتے تھے کہ شاید انہوں نے اپنے والدِمحترم کو بھی کبھی اتنے احترام سے مخاطب نہیں کیا ہو گا ۔ یہاں تعیناتی کے کافی دن بعد تک میں کسی کیس کا انتظار کرتا رہا، مگر جب میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا، تو ایک دن میں اپنے ماتحتوں کے منع کرنے کے باوجود چودھری بشارت کے ڈیرے جا پہنچا ۔ اس وقت چودھری اپنے حواریوں میں گھرا بیٹھا تھا۔ وہاں موجود لوگوں کی اکثریت نیچے فرش پر بیٹھی تھی ۔ صرف چند لوگ ہی کرسیوں پر براجمان تھے اور وہ بھی شاید اس لیے کے سرکاری ملازم ہونے کی وجہ سے وہ کارآمد مہرے تھے۔ ایک ملازم چودھری کے کندھے دبا رہا تھا ۔ چھوٹی اسٹائلش ڈاڑھی کے ساتھ بڑی بڑی کنڈل مارکہ مونچھیں بلڈاگ جیسے چہرے پر عجیب سے جنگلی پن کا تاثر دے رہیں تھیں۔ پینتالیس پچاس کے پیٹے میں چودھری کے چہرے پر خباثت تو جیسے ثبت ہو کر رہ گئی تھی۔ تنگ ماتھا اور آنکھوں میں موجود تیز چمک اس کے شقی القلب ہونے کا واضح ثبوت تھی۔ وہ اس وقت رنگ دار پایوں والے انواری پلنگ پر گاؤ تکیے سے ٹیک لگائے نیم دراز تھا اور منہ میں حقے کی نَے لیے سفید دھویں کے بادل اُڑا رہاتھا۔ مجھ پر نظر پڑتے ہی اس کی باچھیں کھل گئیں، جب کہ آنکھوں کی چمک یک دم کئی گُنا بڑھ گئی۔ زہے نصیب تھانیدار خاور صاحب آج آپ کو ہماری یاد کیسے آگئی یا راستہ بھول کر ادھر آنکلے ہو۔
    اس نے اپنی جگہ سے ہلے بغیر مصافحے کے لیے ہاتھ بڑھاتے ہوئے کہا ۔ مجھے اس کے تکبرانہ انداز سے کافی سبکی محسوس ہوئی ،مگر میں کڑوا گھونٹ پی کر رہ گیا۔ اس نے مجھے نام لے کر مخاطب کیا تھا ، حالاں کہ یہ ہماری پہلی ملاقا ت تھی۔ اس کا یہی مطلب تھا کہ وہ گردوپیش سے باخبر رہنے والا انسان ہے۔ جناب میں یہ کہنے کے لیے حاضر ہوا ہوں کہ اگر آپ کے کارِ سرکار میں کوئی رخنہ اندازی نہ ہو، تو کچھ کیس ہماری طرف بھی بھجوا دیا کریں تا کہ ہم بھی اپنی روزی روٹی حلال کر سکیں۔ میں نے اپنے لہجے کو حتی الوسع نارمل رکھنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔ میری بات سن کر چودھری کا بھدا قہقہہ کان پھاڑ دینے والا تھا۔ اس کی دیکھا دیکھی اس کے حواری بھی اپنے دانتوں کی نمائش کرنے لگے۔ یہ بھی خوب کہی تھانیدار صاحب پہلی بار کسی کو بھیک میں کیس مانگتے دیکھا ہے۔
    چلو اب تم ہمارے دروازے پر آہی گئے ہو، تو ہم خیال رکھیں گے کہ سرکار کا کام بھی چلتا رہے اور تمہاری روٹی بھی حلال ہوتی رہے ۔ اس نے انتہائی نخوت بھرے لہجے میں جواب دیا۔ اس کی بات سن کر میرا بلڈ پریشر ایک دم ہائی ہو گیا جس کا ثبوت میری دھڑکن کی رفتار میں اضافہ اور کانوں سے نکلتی ہوئی تپش تھی ،مگر میں بات کو مزید آگے بڑھانے کے بجائے شکریہ کہتے ہوئے واپس پلٹ آیا۔ آج چار دن بعد سپاہی نذیر اسی چودھری بشارت کی آمد کا پتا دے رہا تھا۔ میں سپاہی کے ساتھ ہی تھانے آگیا ۔ دفتر داخل ہوا، تو چودھری بشارت کلف لگی اونچے شملے والی پگ پہنے گردن اکڑائے کرسی پر بیٹھا تھا۔ اس کے چہرے پر موجود تاثرات سے لگ رہا تھا کہ اسے میرا انتظار کرتے ہوئے کافی کوفت محسوس ہو رہی ہے۔ اس کے پیچھے دو گارڈز ہاتھوں میں کلاشنکوفیں لیے مستعد کھڑے تھے۔ ان سے کچھ فاصلے پر ایک ادھیڑ عمر جوڑا کھڑا تھا جو دیکھنے میں میاں بیوی لگ رہے تھے۔ عورت شاید روتی رہی تھی جس کی وجہ سے اس کی آنکھیں سرخ اور سوجی ہوئی تھیں۔ مرد کا چہرہ بھی حزن و ملال کی تصویر بنا ہوا تھا۔
    دفتر میں اور کئی خالی کرسیاں بھی موجود تھیں، مگر وہ دونوں میاں بیوی ان پر بیٹھنے کے بجائے کھڑے رہنے پر مجبور تھے۔ یقینا چودھری ان کم حیثیت لوگوں کو اپنے برابر بٹھانا اپنی توہین گردانتا ہو گا۔ زہے نصیب چودھری صاحب آج کیسے راستہ بھول گئے۔ میں نے چہرے پر زبردستی مسکراہٹ کا خول چڑھاتے ہوئے ماحول کو سازگار بنانے کے لیے کہا ۔ میری بات کا جواب دینے کے بجائے وہ چند لمحے میری طرف غور سے دیکھتا رہا اور پھر گویا ہوا۔ تم نے چند دن قبل ڈیرے پر آکر مجھ سے گلہ کیا تھاکہ اس علاقے کے لوگ کوئی جرم ہونے کے بعد تھانے سے رجوع نہیں کرتے، میں نے سوچا تمہاری صلاحیتوں کو بھی جانچ لیا جائے۔ میں تمہارے لیے ایک کیس لے کر آیا ہوں۔ اگر تم اسے حل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو میرے ساتھ ساتھ گاؤں کے لوگ بھی تھانے پر اعتبار کرنے لگیں گے۔
    یہ ہمارے گاؤں کے ماسٹر الطاف صاحب ہیں۔ میں انہیں بچپن سے جانتا ہوں ،بلکہ جب میں چھوٹا تھا، توا ﷲجنت نصیب کرے میرے والد مرحوم نے انہیں میری تعلیم وتربیت کے لیے ملازم رکھا تھا۔ اس لیے میں انہیں ذاتی طور پر جانتا ہوں، یہ انتہائی شریف انسان ہیں۔ ان کی ایک ہی بیٹی ہے جو کل سے لا پتا ہے۔ ہر ممکنہ جگہ تلاش کر لیا گیا ہے ،مگر کہیں سے خیر کی کوئی خبر نہیں ملی ۔ اب میں انہیں یہاں لے آیا ہوں ،تم اگر ان کی بیٹی رفعت کو ڈھونڈ نکالو، تو میرا وعدہ ہے کہ ناصرف تمہاری ترقی کروادوں گا، بلکہ اگر تم چاہو گے، تو تمہاری پسند کی جگہ ٹرانسفر بھی کروا دوں گا۔ چودھری نے اپنی بارعب آواز میں لمبی تمہید باندھنے کے بعد تھانے میں قدم رنجہ فرمانے کا مقصد بیان کر دیا اور آخر میں مجھے ترقی اور پسند کی جگہ پر ٹرانسفر کر وانے کا سبز باغ بھی دکھا دیا ۔ میں نے لوہا گرم دیکھتے ہوئے فوراً چوٹ کی۔
    ’’جناب میں آپ کا ممنون ہوں کہ آپ نے مجھے اس قابل سمجھا، ویسے اب تک جو تگ ودو کی گئی ہے کیا اس کے بارے مجھے بتا سکتے ہیں تاکہ میں ابتدائی تفتیش پر وقت ضائع کرنے کے بجائے لڑکی کو بازیاب کروانے کے لیے کوئی لائن آف ایکشن ترتیب دے سکوں۔‘‘ میں نے گلا کھنکھارنے کے بعد نرم لہجے میں پوچھا۔ چودھری نے بڑے رسان سے خود ساختہ تفصیل بتائی۔
    ’’اب تک کی بھاگ دوڑ سے تو یہی نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ یہ کیس اگرناقابل حل نہیں بھی تو مشکل ضرور ہے تمہیں تو معلوم ہے کہ نہر کی پٹڑی سے اتر کر جو راستہ گاؤں کی طرف آتا ہے اسی پر لڑکیوں کا اسکول ہے اور اسکول کی عمارت سے ملحق قبرستان اور متروک ہو چکا شمشان گھاٹ بھی ہے۔ اسکول میں ٹائلٹ نہ ہونے کی وجہ سے بچیاں قضائے حاجت کے لیے کھیتوں کا رخ کرتی ہیں، مگر جب کبھی ایمرجنسی میں کوئی بد نصیب لڑکی کھیتوں کے بجائے ملحق قبرستان یا شمشان گھاٹ چلی جاتی ہے، تو پھر سمجھ لو کہ اسے جلد یا بدیر اس جرم کا خمیازہ بھگتنا ہی پڑتا ہے۔ اس کیس میں متاثرہ لڑکیوں کی اکثریت ذہنی توازن کھو بیٹھتی ہے اور پھر چند دن بعد خودکشی کر نا ان کا مقدر بن جاتا ہے۔‘‘
    ’’کیا کسی نے رفعت کو قبرستان یا شمشان گھاٹ کی طرف جاتے ہوئے دیکھا ہے۔‘‘ میں نے چودھری کی بات اچکتے ہوئے پوچھا۔
    ’’اس کی کئی کلاس فیلو یہ گواہی دے چکی ہیں کہ انہوں نے رفعت کو شمشان گھاٹ کی طرف جاتے ہوئے دیکھا تھا۔ ‘‘چودھری نے بنا کسی توقف کے ترنت جواب دیا۔
    ’’اور جو لڑکیاں اس مسئلے سے دوچار ہوتیں ہیں ،وہ کس طریقہ کار سے خودکشی کرتی ہیں۔‘‘ میں نے ایک سوال اور پوچھا۔
    ’’اب تک جتنی لڑکیوں نے بھی خودکشی کی ہے ان سب کاطریقہ کار ایک جیسا ہی رہا ہے ،ذہنی طور پر ماؤف ہونے کے بعد نہر میں کود کر اپنی جان سے گزر جاتی ہیں۔ اسی نہر پر چند کلو میٹر آگے ایک جھال ہے،جہاں پر گورنمنٹ نے جال لگوایا ہوا ہے جو لاشیں تیرتی ہوئی وہاں تک پہنچتی ہیں۔ وہ اس جال میں پھنس جاتی ہیں۔ کل سے گاؤں کے کئی نوجوان وہاں بھی پہرہ دے رہے ہیں، مگر لاش ابھی تک وہاں نہیں پہنچی، شاید رستے میں کہیں جھاڑیوں سے اٹک کر رک گئی ہو۔‘‘ چودھری نے ایک بار پھر پوری تفصیل سے اب تک کی بھاگ دوڑ کا رزلٹ مجھے سنا دیا۔
    ’’اﷲنہ کرے اس بچی کے ساتھ ایسا کچھ ہوا ہو۔‘‘چودھری کی بات سن کر میرے منہ سے بے اختیار نکلا ۔
    ’’تھانیدار صاحب انسان چاہے جتنی بھی کبوتر کی طرح آنکھیں بند کر لے، مگر حقیقت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ ہمیں کسی بھی ناگہانی صورت حال کے لیے ذہنی طور پر تیار رہنا چاہیے۔ اگر رفعت نے جانے انجانے میں شمشان گھاٹ میں موجود آتماوؑں کو تنگ کیا ہے، تو پھر اﷲہی اس کے حال پر رحم کرے، کیوں کہ اس سے پہلے جتنی بھی لڑکیوں نے یہ غلطی کی ان سب کو اس کی سزا بھگتنی پڑی۔‘‘ چودھری بشارت نے اپنی بات کو اصرار کے ساتھ دہرایا۔
    ’’چودھری صاحب اگر سارا کیس ایسے ہی ہے جیسے آپ بتارہے ہیں، تو اس میں سلجھانے والی تو کوئی بات ہی نہیں رہ گئی۔ اب جیسے ہی نہر سے رفعت کی لاش ملے گی، تو اس کے پوسٹ مارٹم کے بعد یہ کیس کلوز سمجھیں۔ لیکن مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آئی کہ آپ کس حوالے سے کہہ رہے تھے کہ یہ کیس اگر ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔‘‘ میں نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگاتے ہوئے کہا ۔ چودھری میری بات سن کر ایک لمحے لے لیے چونک سا گیا اور پھر چند ثانیے غور سے میری طرف دیکھتا رہا۔
    ’’ظاہر ہے، لاش نہیں مل رہی پہلے کیسوں میں کبھی ایسا نہیں ہوا۔ یہی اس کیس کا مشکل پہلو ہے جس کی وجہ سے میں نے ایسا کہا۔‘‘ چودھری نے ہاتھ پھیلاتے ہوئے بے زاری سے جواب دیا ۔ اس کے انداز سے ایسے لگ رہا۔ جیسے اسے میرا سوال پر سوال پوچھنا اچھا نہیں لگ رہا تھا۔