یاد دہانی — الصی محبوب

’’ارم ارم میرے کپڑے استری نہیں کیے؟ تم نے میں آفس سے لیٹ ہو رہا ہوں۔‘‘ عامر نے اپنی بیوی ارم کو نیند سے جگاتے ہوئے کہا۔
’’جی میری آنکھ نہیں کھلی پلیز آج آپ خود کر لیں۔‘‘ارم نے سستی سے جواب دیا۔
’’ اچھا یار کم از کم ناشتا تو کروا دو۔‘‘عامر نے مسکراتے ہوئے کہا۔
’’توس کچن کے کبڈ میں اور مکھن فریج میں ہے۔ چائے آپ خود بنا لیں۔ میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘ارم نے ایک بار پھر بیمار شکل بناتے ہوئے جواب کہا۔
ارم کے جواب پر وہ حیران تھا۔ آج سے پہلے وہ کبھی ایسی لاپروا نہیں رہی۔ چاہے کتنی ہی بیمار کیوں نہ ہو پر عامر کو اپنا ہر کام وقت پر کیا ہوا ملتا۔
انہی سوچوں کے ساتھ اس نے کپڑے استری کیے اور ناشتہ کے بغیر ہی آفس چلاگیا۔
٭…٭…٭
اِرم نے اپنے سسرالیوں سے سن رکھا تھا عامر سخت مزاج اور وقت کا پابند ہے۔ اس نے بھی عامر کو آج تک شکایت کا موقع نہ دیا تھا۔ اس کا ہر کام وقت پر کرتی۔ اس لیے اب تک عامر کی سخت مزاجی کا سامنا نہ ہوا تھا۔
٭…٭…٭
عامر آفس سے واپس آیا تو دیکھا گھر کچھ اور ہی منظر پیش کر رہا ہے۔ ہر چیز اِدھر اُدھر بکھری پڑی ہے۔ دھول سے اٹا فرنیچر آج گھر کی صفائی نہ ہونے کی گواہی دے رہا تھا۔
ارم مزے سے ٹی وی پر کوئی مووی دیکھنے میں مگن تھی۔
عامر اندر آیا اور ایک نظر ٹی وی دیکھتی ارم پر ڈالتا ہوا بنا کوئی سوال کیے اپنے کمرے میں چلا گیا۔ ارم نے بھی ایک نظر عامر پر ڈالی اور پھر سے مووی دیکھنے میں مگن ہوگئی۔
کمرے میں بھی ہر چیز بکھری پڑی تھی۔ صبح جو چیز جہاں وہ چھوڑ کر گیا تھا وہ وہیں نظر آ رہی تھی۔
وہ پچھلے آدھے گھنٹے سے کمرے میں بیٹھا اسی سوچ میں گم تھا۔ آفس سے آتے ہی اس سے چائے پانی پوچھنے والی نے اب تک اسے پانی پلایا تھا اور نہ ہی اس کے لیے چائے لے کر آئی تھی جبکہ وہ جانتی تھی آفس سے واپسی پر وہ سب سے پہلے چائے پینے کا عادی ہے۔
وہ تو جیسے آج اس پر حیرتوں کے پہاڑ توڑنے کا فیصلہ کیے بیٹھی تھی۔ جیسے جیسے دن گزر رہا تھا عامر کی حیرت بڑھتی جا رہی تھی۔
بعض اوقات بہت کچھ آپ کے مزاج کے خلاف ہو رہا ہو جو پہلے کبھی نہ ہوا ہو، تو اس پر آپ کو غصہ نہیں حیرت ہوتی ہے۔ ایسا ہی اس کے ساتھ بھی ہو رہا تھا۔ اسے بھی ارم پر غصہ نہیں آیا بس پے در پے حیرت کے جھٹکے لگ رہے تھے۔ وہ ایسی تو نہ تھی اسے کیا ہوا ہے؟
بالآخر دو گھنٹے بعد اس کی برداشت جواب دے گئی۔ وہ کمرے سے نکلا پہلے کی نسبت منظر کچھ تبدیل تھا۔ اب ارم ٹی وی دیکھنے کے بجائے اپنے موبائل کے ساتھ مصروف تھی۔
’’کھانے میں کیا پکاہے لے آؤ بہت بھوک لگی ہے۔‘‘ اس نے ڈائننگ کی ٹیبل پر بیٹھتے ہوئے موبائل پر مصروف ارم سے کہا۔‘‘
’’آج تو میں نے کچھ نہیں بنایا۔ آپ کو بتایا تو تھا میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔‘‘
’’آپ باہر سے کچھ لے آئیں۔‘‘ اس نے عامر کی طرف بنا دیکھے لاپروائی سے جواب دیا۔
ایک اور حیرت کا جھٹکا۔
اب اس کی حیرت کی جگہ غصے نے لے لی تھی۔ دن بھر آفس میں کام کر کے تھکا ہوا بھی تھا۔
عامر غصے کے عالم میں ٹیبل سے اٹھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کے لہجے میں سختی امڈ آئی تھی۔
’’نہیں کھانا مجھے کھانا کچھ نہیں کھانا ۔‘‘غصے سے بڑبڑاتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں چلا گیا۔
اس بات سے انجان کہ اندر اس کا ایک سالہ بیٹا ’’عفام‘‘ نیند کے مزے لوٹ رہا ہے۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی اس نے ایک جھٹکے سے کمرے کا دروازہ بند کیا جس سے زوردار آواز ابھری۔ اس آواز کے ابھرتے ہی نیند کے مزے لیتا عفام چونک کر جاگا اور رونے لگا۔ اس کے رونے سے وہ مزید چڑ گیا تھا۔
’’اسے لے کر جاؤ یہاں سے۔” اس نے چیختے ہوئے ارم کو آواز دی۔
وہ خود بھی عفام کے رونے کی آواز سن کر اسی طرف آ رہی تھی۔ جب اس نے اس کی غصے سے بھری آواز سنی۔ اس نے روتے ہوئے بیٹے کو گود میں اٹھایا اور عامر کو بنا کچھ کہے کمرے سے باہر آگئی۔
اب وہ بچے کو کندھے سے لگائے پیار سے تھپک رہی تھی۔ وہ بھی ماں کی آغوش میں آ کر پھر نیند کی وادیوں میں کھو گیا تھا۔
ارم نے اسے صوفے پر لٹایا جہاں وہ کچھ دیر قبل خود براجمان تھی۔
وہ عامر کی کیفیت سے واقف تھی۔ بظاہر وہ ایسی نہیں تھی پر کبھی کبھی ہمیں عام سمجھنے والے لوگوں کو اپنی اہمیت کا احساس دلانا پڑتا ہے۔
ارم ٹھنڈے پانی کا گلاس لیے کمرے میں داخل ہوئی۔ عامر بیڈ پر بیٹھا عجیب ہی کیفیت کا شکار تھا۔ارم کو دیکھتے ہی اس کے ماتھے پر بل پڑنے لگے۔
ارم نے ہاتھ میں پکڑا پانی کا گلاس اسے دیتے ہوئے نرمی سے کہا:
’’آپ کے کل کے سوال کا جواب یہ ہے۔ میں سارا دن یہ سب کرتی ہوں جو آج نہیں کیا۔‘‘
وہ اسے بہت ہی سادہ لفظوں میں اس کے کل کے الفاظ کی یاد دہانی کرواتے ہوئے کمرے سے جا چکی تھی، جو اس نے کل ارم کی ایک چھوٹی سے بھول پر اسے کہے تھے۔
’’تم سارا دن کرتی ہی کیا ہو؟‘‘
٭…٭…٭

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

Loading

Read Previous

جو ملے تھے راستے میں — سما چوہدری

Read Next

بانجھ — میمونہ صدف

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!