جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے (عالمی افسانہ)

چند برس قبل برانیزا میں ایک کٹریہودی رہتا تھا۔ وہ اپنی دانائی، خوفِ خدا اور عقل مندی کے باوجود اپنی حسین بیوی کی وجہ سے زیادہ مشہور تھا۔ اُس کی بیوی پورے برانیزا میں حسن کی دیوی کے نام سے معروف تھی اور کیوں نہ ہوتی وہ اپنے حسنِ بے مثال کی وجہ سے اس لقب کی جائز حق دار تو تھی ہی لیکن اس کے ساتھ ساتھ اُس کی شہرت کی وجہ یہ بھی تھی کہ وہ ایک ایسے شخص کی بیوی تھی جو یہودی مذہب کے قوانین و ضوابط (تلمود) کا ماہر ہونے کے باوجود اُس ملکہ حسن کا شوہر تھا حالاںکہ ضابطے کے مطابق یہودی فلسفیوں کی بیویاں یا تو بدصورت ہوا کرتی ہیں یا اُن میں کوئی نہ کوئی جسمانی نقص ضرور ہوتا ہے۔
یہودی قوانین کی کتاب ’’تَلمْود‘‘ ازدواجی پہلوئے زندگی کی کچھ اس طرح سے وضاحت کرتی ہے:
’’یہ تو سبھی جانتے ہیں کہ جوڑے آسمانوں پر بنتے ہیں اور کسی بھی لڑکی یا لڑکے کی پیدائش پر کاتب تقدیر، اُس کے مستقبل کے جیون ساتھی کے نام کا اعلان کر دیتا ہے، لیکن جس طرح ایک اچھا باپ اپنی استعمال کی اچھی چیزیں گھر سے باہر لوگوں کے لیے چھوڑ دیتا ہے اور اپنے اور اپنے بچوں کے لیے خراب چیزیں استعمال کرتا ہے۔ اسی طرح خداوند تَلمْودی یہودیوں کو ایسی بیویاں عنایت فرماتا جنہیں اور لوگ لینا ہی پسند نہیں کرتے۔‘‘
بہ ہر کیف ہمارے والے تلمودی کو خداوند نے اِس ضابطے سے مستثنیٰ کر دیا تھا اور اُسے ملکہ حسن سے نواز دیا تھا اور وہ شاید اس استثنا کے ذریعے اپنے اِس ضابطے کو ذرا نرم کر کے اُسے ثابت کرنا چاہتا تھا۔
اس فلسفی کی بیوی کو یا تو کسی بادشاہ کی ملکہ بن کر اُس کی عزت افزائی کرنی چاہیے تھی یا کسی آرٹ گیلری میں ایک خوب صورت مورتی کی جگہ رونق افروز ہوتی، تو خوب ہوتا۔ خاتون کا قد لانبا تھا اور اُس کا جسم حیران کن حد تک لذتِ نظارہ سے چور تھا۔ اس کے جسم کی مدور اٹھانیں اور منور ڈھلانیں نگاہوں کو خیرہ کر دینے والی تھیں۔ اُس کا چہرہ اِس قدر خوب صورت تھا کہ دیکھنے والا چونک اٹھتا تھا۔ عشرت فشار جسم کے اوپر فسوں بار چہرہ اور چہرے کے گرد گہری سیاہ متوالی لٹوں کا گھیرا جو اُس کے مغرور شانوں تک پھیلا ہوا تھا۔ طویل بھنوئوں سے نیچے ضوریز اور تھکی ہوئی نیم باز بڑی بڑی آنکھیں بادئہ کہنہ سے کہیں زیادہ اثر انگیز تھیں اور ہائے اُس کے ہاتھ! یقینا یہ ہاتھ، ہاتھی دانت سے بنائے گئے ہوں گے۔

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
اُسے دیکھ کر ایسے محسوس ہوتا تھا کہ جیسے فطرت نے اُسے حکم رانی کرنے کے لیے خلق کیا ہو۔ وہ اس لیے پیدا کی گئی ہو تاکہ اپنے قدموں میں غلاموں کی قطاریں دیکھے، اُس کا حسن مصور کے مو قلم کا ذریعہ آمدن بنے، مجسمہ ساز اپنا فن اِن نقوش پر آزمائے اور شاعر کے قلم کو موضوع میسر آ سکے، مگر یہ حسینہ کسی سندر اور نادر پھول کے مانند ایک نیم گرم گھر کی زینت بنی ہوئی تھی۔ وہ روزانہ قیمتی فر میں لپٹی ہوئی بیٹھی رہتی اور نیچے بازار میں اپنی خواب ناک نگاہوں کو دوڑاتی رہتی۔
اُس کے ہاں کوئی اولاد نہیں تھی جب کہ اُس کا شوہر فلسفہ یہود کا عالم ہونے کے ناتے یا تو مطالعے میں غرق رہتا تھا یا عبادت میں اور عبادت سے فراغت کے بعد وہ دوبارہ مطالعہ شروع کر دیتا تھا۔ اُس شخص کا یہ معمول صبحِ صادق سے لے کر رات گئے پر محیط تھا۔
ایسی صورتِ حال میں اُس کی بیوی کو ’’حُسنِ پردہ نشین‘‘ ہی کہا جاتا تھا چوںکہ وہ امیرزادی تھی اِس لیے اُسے گھر گرہستی کی کوئی فکر نہیں تھی اور گھر کی ہر چیز ایک لگے بندھے راستے پر بڑی آسانی سے رواں دواں تھی۔ یہ معمول ایک ایسے کلاک کی طرح چل رہا تھا۔ جسے ہفتے میں ایک بار چابی دینے کی ضرورت پڑتی ہے۔ اُسے کوئی بھی ملنے نہیں آتا تھا اور وہ بھی کسی سے ملنے کبھی نہیں جاتی تھی۔ وہ تو بس بیٹھتی تھی، لیٹتی تھی، خواب دیکھتی تھی یا جمائیاں لیتی رہتی تھی۔
پھر ایک روز موسم کے تیور خطرناک ہو گئے۔ بادلوں کی دہلا دینے والی گھن گرج اور کڑکتی ہوئی بجلیوں نے اپنا تمام تر غیظ و غضب اْس قصبے پر اُتار ڈالا تھا۔ اُس موسم میں اُس کے گھر کی تمام کھڑکیاں اور دروازے مکمل طور پر کھلے رکھے گئے تاکہ مسیحا اُس کے گھر میں تشریف لا سکیں۔ (ایسے موسم میں یہودی اپنے دروازے کھول دیتے ہیں کیوںکہ اُن کے مطابق مسیحا اِسی موسم میں اُن کے گھر آئیں گے۔) اُس وقت یہودی ملکہ حسن اپنی آرام کرسی میں نیم درازتھی اور اُونی لباس پہننے کے باوجود کپکپا رہی اور سوچ رہی تھی۔ اچانک اُس نے اپنی روشن آنکھیں اپنے شوہر پر مرتکز کر دیں جو تلمود کے مطالعے میں آگے پیچھے ہل رہا تھا۔ اُس نے اپنے شوہر سے استفسار کیا:
’’ذرا یہ تو بتائو۔ ہمارے مسیحا پسرِدائود کب تشریف لائیں گے؟‘‘
فلسفی نے جواب دیا:
’’وہ ضرور تشریف لائیں گے، تلمود کے مطابق وہ اُس وقت آئیں گے جب یا تو یہودی مکمل طور پر نیک ہو جائیں گے یا مکمل طور پر گناہ گار ہو چکے ہوں گے۔‘‘
ملکہ حسن نے اپنی گفت گو جاری رکھتے ہوئے پوچھا:
’’کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ یہودی کبھی مکمل طور پر نیک بھی بن جائیں گے؟‘‘
’’میں یہ کیسے جان سکتا ہوں؟‘‘
’’تو اس کا مطلب تو یہ ہوا نا کہ مسیحا اُس وقت آئیں گے جب تمام تر بنی اسرائیل گناہوں کی دلدل میں دھنس چکے ہوں گے؟‘‘
فلسفی نے اپنے کندھے اُچکائے اور ایک ایسی کتاب کی بھول بھلیوں میں دوبارہ غرق ہو گیا جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ صرف ایک آدمی اپنے ہوش و حواس کے ساتھ بعد از مطالعہ زندہ رہا تھا۔
اِس گفت گو کے بعد اُس خوب صورت عورت نے دوبارہ کھڑکی سے برستی ہوئی تیز بارش کو خواب ناک نگاہوں سے دیکھا اور اِس دوران اُس کی دُودھیا انگلیاں لاشعوری طور پر اپنے شان دار فرکے چغے کے ساتھ کھیلتی رہیں۔
٭…٭…٭
ایک روز یہودی فلسفی قریبی قصبے کی جانب گیا ہوا تھا جہاں ایک اہم مذہبی رسم کا فیصلہ درپیش تھا۔ اپنے کمالِعلمی کی بہ دولت اس نے وہ دینی مسئلہ اپنی توقع سے بھی بہت پہلے حل کر لیا اور لوگوں کو اپنے ذہنِ رسا سے فیض پہنچا دیا۔ شیڈول کے مطابق اُس نے اگلے روز گھر لوٹنا تھا، مگر اپنے ایک اہم مشرب فلسفی دوست کے ساتھ اُسی شام کو واپس گھر پہنچ گیا۔ اپنے دوست کے گھر کے باہر ہی وہ بگّھی سے اُتر گیا اور گھر کی جانب پیدل چل پڑا۔
جب وہ گھر کے سامنے پہنچا، تو ساری کھڑکیاں روشن تھیں اور ایک افسر کا نوکر اُس کے گھر کے سامنے بڑے مزے سے پائپ پی رہا تھا۔ اُسے ذرا بھی حیرت نہ ہوئی بل کہ اُس نے بڑے دوستانہ اور مشتاق لہجے میں اُس سے پوچھا:
’’تم یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘
نوکر نے جواب دیا۔
’’بھئی! میں یہاں پر پہرہ دے رہا ہوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ اس حسین یہودن کا شوہر غیر متوقع طور پر آ جائے۔‘‘
’’واقعی؟ اچھا، ٹھیک ٹھیک پہرہ دینا۔‘‘
یہ کہتے ہی اُس نے چلے جانے کی اداکاری کی اور گھر کے پیچھے سے باغ والے دروازے سے ہوتا ہوا اندر داخل ہو گیا۔
جب وہ پہلے کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ اُس کمرے میں دو افراد کے لیے ایک میز بچھائی گئی تھی۔ ایسے لگتا تھا جیسے یہ میز ابھی ابھی خالی کی گئی ہے۔ اُس کی بیوی حسب معمول خواب گاہ کی کھڑکی میں بیٹھی ہوئی تھی، اُسی طرح فرکے کوٹ میں لپٹی ہوئی، لیکن اُس کے رُخسار مشکوک حد تک سرخ تھے اور اُس کی جھیل سی آنکھوں میں پہلے والی اُداسی نہیں تھی بل کہ اُس وقت وہ آنکھیں طمانیت سے بھرپور اور تمسخر سے روشن ہو کر اپنے شوہر پر ٹکی ہوئی تھیں۔ عین اُسی لمحے اُس کاپائوں فرش پر پڑی ہوئی کسی چیز سے ٹکرا گیا اور ایک عجیب سی آواز پیدا ہوئی۔ اْس نے اْسے اٹھایا اور روشنی میں غور سے دیکھنے لگ گیا۔ یہ تو گھڑ سواروں کے جوتوں پر لگنے والے نوک دار کیلوں(مہمیز) کا جوڑا تھا۔
’’ابھی ابھی تمہارے ساتھ کون تھا؟‘‘
یہودی نے پوچھا۔
یہودیوں کی ملکہ حسن نے نفرت سے اپنے کندھے جھٹکے، مگر کوئی جواب نہ دیا۔
’’کیا میں تمہیں بتائوں؟ فوج کا کپتان تمہارے ساتھ تھا۔‘‘
یہودی نے غصے سے کہا۔
’’اور وہ میرے ساتھ یہاں کیوںکر نہ ہوتا؟‘‘
اْس عورت نے اپنے فرکوٹ کو اپنی سپید انگلیوں سے سہلاتے ہوئے جواب دیا۔
’’اے عورت! کیا تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے؟‘‘
’’میں اپنے تمام تر ہوش و حواس میں ہوں۔‘‘
عورت نے جواب دیا اور اُس کے پُرتعیش اور رسیلے ہونٹوں پر مانوس سی مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ کہنے لگی:
’’لیکن کیا مجھ پر یہ واجب نہیں ہے کہ میں بھی گناہ کر کے اپنے حصے کا فرض ادا کروں تاکہ مسیحا جلد از جلد تشریف لائیں اور ہم غریب یہودیوں کو نجات دلائیں۔‘‘
٭…٭…٭

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

(adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

Loading

Read Previous

گونگا ۔۔۔ اسماء ریحان

Read Next

محبتِ ناتمام — ثوبیہ امبر

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!