Author: misbah116@hotmail.com

  • باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۷ ۔۔۔۔ شاذیہ خان

    کنول کوریڈور میں کھڑی ڈاکٹر سے بات کررہی تھی۔اس کے باپ کا آپریشن ہوچکا تھا۔ ڈاکٹرز اس کے ہاتھ میں آپریشن کابل تھماتے ہوئے بہت سپاٹ سے انداز میں بولا۔
    ”ہم نہیں چاہتے تھے لیکن ٹانگ کاٹنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا۔”
    ”ڈاکٹر صاحب میں ابا کو کسی پرائیویٹ ہاسپٹل میں شفٹ کرنا چاہتی ہوں۔”کنول نے کہا۔
    ”دیکھ لیں ان کا آپریشن تو ٹھیک ہوگیا ہے لیکن اگر آپ مطمئن نہیں تو بے شک لے جائیں۔”ڈاکٹر نے کندھے اچکاتے ہوئے جواب دیا پھر بولا۔”لیکن یہ کچھ بل ہیں پہلے انہیں پے کردیں۔”
    ”وہ تو میں کردوں گی آپ بالکل فکر مت کریں۔بس یہ بتائیں آج مزید کسی ٹریٹمنٹ کی ضرورت تو نہیں؟”کنول نے پوچھا۔
    ” نہیں ویسے تو سب ٹھیک ہے۔بس یہ احتیاط ضرور کیجئے گا کہ مریض زیادہ ہلے جلے نہیں۔”ڈاکٹر نے ہدایت دیتے ہوئے کہا۔
    ” اس کی آپ فکر نہ کریں۔”کنول نے رسان سے کہا۔
    ”بس تو یہ بل پے کریں اور اپنا مریض لے جائیں۔”ڈاکٹر نے بے پروائی سے کہا۔ کنول نے ڈاکٹر کا شکریہ ادا کیا اوروارڈ میں چلی گئی۔
    ٭…٭…٭
    ”کل صبح مجھے کچھ پیسے چاہئیں،پلیز بھجوا دو۔”کنول نے کمرے میں جا کر ریحان کو فون کیا۔
    ”کتنے پیسے؟”ریحان نے سوالیہ انداز میں پوچھا۔
    ”یہی کوئی دو لاکھ۔”کنول نے کچھ سوچ کر جواب دیا۔
    ”اوکے نو پرابلم۔ مل جائیں گے۔” ریحان نے بے پروائی سے کہا پھر بولا۔”ابا کیسے ہیں؟”
    ” ٹھیک ہیں مگرڈاکٹرز نے ان کی ایک ٹانگ کاٹ دی ہے۔نقلیٹانگ لگنے تک انہیں بے ساکھیوں سے چلنا پڑے گا۔”کنول نے تھوڑا تھکے تھکے انداز میں جواب دیا۔
    ”اوہ ویری سیڈ،تم ان کا خیال رکھنا۔میں صبح ہوتے ہی پیسوں کا انتظام کردوں گا،فکر مت کرو۔”ریحان نے اسے تسلی دی۔
    ”تمہارے جیسے دوست کے ہوتے مجھے کیا فکر،چلو میں فون رکھتی ہوں،پھر ملیں گے۔”
    ابھی وہ اس سے بات ہی کرنے کے بعد فون رکھ ہی رہی تھی کہ اس کی ماں آکرپاس آکھڑی ہوئی،اس نے سوالیہ انداز میں ماں کو دیکھا۔
    ” فوزیہ !منی کہہ رہی تھی تو اس ہسپتال سے اپنے ابا کو کسی دوسرے ہسپتال لے جانا چاہتی ہے؟”
    ”ہاں اماں دیکھ تو ذرا کتنی گندگی ہے یہاں اور پھر وہ ایک بڑا اور اچھا ہسپتال ہے۔ابا کا علاج اچھا ہو جائے گا۔”فوزیہ نے ماں کو سمجھایا۔
    ”لیکن اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے۔”ماں نے پریشانی سے پوچھا۔
    فوزیہ نے ماں کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دباؤ ڈالا اور سمجھانے لگی۔” تو فکر مت کر،اس کا میں نے انتظام کرلیا ہے۔ بس تو سب سامان سمیٹ،ہم صبح ہوتے ہی دوسرے ہسپتال میں شفٹ ہو جائیں گے۔”
    ”چل تو جو کررہی ہے،بہتر ہی کررہی ہوگی۔”ماں نے کندھے اُچکاتے ہو ئے کہا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    شہریار ویک اینڈ پراسی پرانے ریسٹورنٹ میں بیٹھا کافی پی رہا تھا۔ساتھ ہی موبائل پرفوزیہ کاایک پرانامیسج پڑھتے ہوئے مسکرایا جس میں اس نے لکھا تھا کہ میں ویک اینڈ پراسی ریسٹورنٹ میں ملوں گی۔وہ وہاں شام پانچ بجے سے اس کے انتظار میں بیٹھا تھا۔اس نے ادھر ادھر دیکھا،سب مصروف تھے۔شاید بہت خوش بھی ہوں لیکن اس وقت شہریار کی خوشی کوئی اس سے پو چھتا کہ وہ کتنا خوش تھا ! کتنا خوش کُن احساس تھا کہ کچھ لمحوں ،کچھ منٹوں یا پھر کچھ گھنٹوں کے بعد وہ فوزیہ سے ملنے والا تھا۔
    تھوڑی دیر بعد اس نے گھڑی کی طرف دیکھا جہاں پہلے چھے،پھر سات اور آٹھ بجے لیکن فوزیہ کا کہیں کوئی اتا پتا نہ تھا۔ اس نے فوزیہ کو کئی بارفون ملایا مگراس کا فون مسلسل بند جارہا تھا۔وہ پریشان ہوگیا اور دوبارہ گھڑی کی طرف دیکھاجہاں اب دس بج رہے تھے۔اس کا خیال تھا کہ شاید وہ کسی کام میں مصروف ہو گئی ہو اس لیے کوئی رابطہ نہیں کیا۔بہت دیرانتظار کرنے کے بعد وہ بل کافی کپ کی ٹرے کے نیچے رکھ کر ہوٹل سے باہر نکل آیا۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ ہاسپٹل کے کوریڈور میں ایک بنچ پر مُنی اور اماں کے ساتھ بیٹھی ہوئی تھی،پھر اس نے مُنی کو باپ کے پاس جانے کا اشارہ کیا اور اسے وہاں سے اُٹھاتے ہوئے بولی۔
    ”جا مُنی!ابا اکیلا ہے۔تو جاکر اس کے پاس بیٹھ جا۔”منی نے بہت آرام سے اس کی بات مان لی۔
    ”اور سُن بھائی کو بھی فون کرکے بتا دینا کہ ہم اس ہسپتال میں آگئے ہیں۔”فوزیہ نے پیچھے سے آواز لگائی۔
    ”آج بھائی نہیں آیا تیرا؟”ماں نے دکھی لہجے میں پوچھا۔
    ”اس نے آج نہیں آنا تھا اماں!اور تو جانتی ہے کیوں۔”منی نے طنزیہ انداز میں کہا اور اند ر کی طرف بڑھ گئی۔
    ”ہاں لوگ اس لیے بیٹوں کی دعا کرتے ہیں۔”ماں فوزیہ کو دیکھتے ہوئے شرمندگی سے بولی۔
    ”اس نے تو فون کرکے ابا کی طبیعت تک نہیں پوچھی اور تو آنے کی بات کرتی ہے۔”فوزیہ نے منہ بناتے ہوئے کہا۔
    ”ہاں مجبوریاں ہیں سب کی،اب مجبوریوں کا کیا کیا جائے؟”ماں نے ایک بار پھر بیٹے کی دبی دبی سی طر ف داری کرتے ہوئے جواب دیا۔
    ”ہاں اماں واقعی مجبوریوں کا کیا کیا جائے؟”فوزیہ نے ماں پر طنز کرتے ہوئے کہا۔
    ”اچھاسن یہ بتا تو شہر میں کیا کررہی ہے۔”ماں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا۔
    ”اماں بیٹا بن گئی ہوں تیرا۔اتنا کما لیتی ہوں کہ تجھے کوئی پریشانی نہ ہو۔”فوزیہ نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اُس پر بہت محبت سے پیار کیا اور جواب دیا۔
    ”پھر بھی،کچھ تو بتا۔”ماں نے اصرار کیا۔
    ”ایک بوتیک میں اچھی نوکری مل گئی ہے، ابا کے لیے پیسے بھی میں نے ان سے لیے ہیں۔ بہت اچھے لوگ ہیں۔”فوزیہ نے پہلے سے تیار کیا ہوا جواب ماں کو دیا۔
    ”ہاں اللہ بھلا کرے اتنے اچھے لوگوں کا۔”ماں نے دعا دی۔
    ”اماں جب کبھی کبھی اپنے کام نہیں آتے اللہ ایسے لوگوں کو ہماری طرف بھیج دیتا ہے۔”اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
    ”ہاں فوزیہ تو ٹھیک ہی کہہ رہی ہے۔”ماں نے ٹھنڈی سانس بھرکر کہا۔
    ٭…٭…٭
    شہریاربہت دیر انتظار کرنے کے بعد گھر لوٹ آیا ،پھر گھر آکر اپنے لیپ ٹاپ پر بیٹھا فوزیہ کا پیج دیکھنے لگا۔فیس بک پیج پر بھی کوئی اسٹیٹس اپ ڈیٹ نہیں تھی۔
    ”پتا نہیں کیا مسئلہ ہے، نہ ریسٹورنٹ آئی اور نہ فیس بک پر کوئی سٹیٹس اپ ڈیٹ ہے۔کہیں کوئی مسئلہ نہ ہوگیا ہو۔کیا کروں، فون بھی بند جارہا ہے۔”وہ بڑبڑایا۔ اس کے چہرے پر پریشانی تھی۔شہریار کے پاس اس کا کوئی اتا پتا بھی نہ تھا جو خود جا کر معلوم کر لیتا۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ کو دو دن کے بعد ہاسپٹل سے ڈسچارج کروا کر گھر لے جانا تھا۔ڈاکٹر اسے ہدایات دے رہا تھا۔
    ”دیکھیں زخم ابھی کچا ہے، آپ کو بہت احتیاط کی ضرورت ہے۔”
    فوزیہ نے اسی انداز میں ان کو جواب دیا اور تسلی دی۔”ڈاکٹر صاحب آپ بالکل فکر نہ کریں۔میں ساری احتیاط کروں گی۔”
    ”گاوؑں سے یہ ہر ہفتے چیک اپ کے لیے کیسے آسکتے ہیں ؟”ڈاکٹر نے پریشانی سے پوچھا پھر مشورہ دیتے ہوئے بولا۔”ہوسکے تو ان کا یہیں اس شہر میں کم از کم کچھ عرصے کے لیے تو انتظام کریں۔”
    ”جی میں کچھ انتظام کرتی ہوں۔آ پ کی بات بھی بالکل ٹھیک ہے۔”
    ”یہاں پر ہی کوئی گھر وغیرہ لے لیں کچھ عرصہ ریگولر چیک اپ ہو تو ہی زخم جلدی اچھا ہوگا۔”ڈاکٹر نے اسے سمجھایا۔
    ”جی بہتر ہے ڈاکٹر صاحب میں کوئی انتظام کرتی ہوں۔”فوزیہ نے کچھ سوچتے ہوئے جواب دیا۔وہ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ شہر میں گھر کے لیے کس کو کہے لیکن اسی وقت اسے گوہر کا خیال آیا اور اس نے فون ملا دیا۔
    ”گوہر تم سے تھوڑا کام تھا۔مجھے شہر میں کوئی ایسی جگہ چاہیے جہاں میں کچھ دن کے لیے اپنی فیملی کو رکھ سکوں۔”کنول نے جھجکتے ہوئے کہا۔
    ” ابھی تو ایسی کوئی جگہ نہیں ہے لیکن دیکھا جاسکتا ہے۔”گوہر نے کچھ سوچ کر اس کی بات کا جواب دیا۔
    ”دیکھو ابھی میرے پاس اتنے پیسے نہیں کہ میں فوری مکان خرید سکوں۔”کنول کے لہجے میں شرمندگی تھی۔
    ”تو پیسے کماؤ بی بی!میں تو تمہیں صرف کام دے سکتا ہوں،باقی تم خود کرو۔”گوہرنے اس کی دکھتی رگ پر ہاتھ رکھا۔
    ”تمہارے پاس ہے کوئی کام؟”کنول نے فوراً پوچھا۔
    ”ہاں ہے تو، لیکن اب میں تمہارے اخلاقیات کے درس سے بہت بے زار ہوں یار۔” گوہر نے منہ بنا کر جواب دیا۔
    ”نہیں نہیں۔میں ایسا کچھ نہیں کہوں گی،اگر کوئی کام ہے تو پلیز بتاؤ،میں تیار ہوں۔”کنول گڑگڑا کر بولی۔
    ”سنو!ایک سونگ کی ماڈلنگ کرنی ہے،کر لو گی؟”گوہر نے پوچھا۔
    ”اچھا کس کا ہے؟”کنول نے اشتیاق سے پوچھا۔
    ”ایک نیا لڑکا ہے ،علی۔”
    نئے لڑکے کا نام سن کر کنول تھوڑا بجھ سی گئی۔
    گوہر نے اُسے سوچتا دیکھ کر ایک وار کیا۔” سوچ میں پڑ گئیں تو کسی اور کو دے دوں؟”
    ” نہیں نہیں یہ سونگ مجھے ہی کرنا ہے۔مجھے توہر قیمت پرپیسے چاہئیں۔”کنول جلدی سے بولی۔
    ”سوچ لو۔”گوہر نے قطعیت سے کہا۔
    ”سوچ لیا!”کنول نے حتمی انداز میں جواب دیا۔
    گوہرخوش ہوتے ہوئے بولا۔”پھر کل آجاوؑ ایگریمنٹ وغیرہ کرلیتے ہیں۔”
    ”اوکے میں ضرور آجاوؑں گی، مگر یہ سونگ کسی اور کو نہ دینا اور پلیز کسی گھر کا انتظام بھی کر دو۔”کنول نے یہ کہہ کر فون بند کر دیا۔
    ٭…٭…٭
    فوزیہ ہاسپٹل کے کمرے میں باپ کے پاس بیٹھی اسے سیب کاٹ کر دے رہی تھی۔امام بخش نے اپنے بیٹے کے بارے میں پوچھا۔
    ”رحیم نہیں آیا؟”
    ”مصروف ہوگا۔”ماں نے بے پروائی سے جواب دیا۔
    ”ایسی بھی کیا مصروفیت بیمار باپ کے لیے ٹائم نہیں اس کے پاس۔”امام بخش نے غصے سے کہا۔
    ”وہ تھوڑا پریشان تھا،تیرے بلوں کے پیسوں کا انتظام کرنے میں لگا تھا۔”ماں نے بیٹے کی طرف داری کرتے ہوئے کہا۔
    ”اماں پیسے تو باجی نے جمع کروادیے ہیں۔”ماں کی بات سنتے ہی مُنی فوراً فوزیہ کی حمایت میں بولی۔
    ”ہاں لیکن وہ بھی کوششوں میں لگا تھا۔”ماں نے کہا۔
    ”لیکن اتنے پیسے فوزیہ کے پاس کہاں سے آئے؟”امام بخش نے تشویش سے پوچھا۔
    ”شہر میں کماتی ہے۔”ماں نے رسان سے جواب دیا۔
    ” اتنے اچھے ہسپتال کا بل بھی بہت ہوگا،ایسا کیا کماتی ہے؟”باپ نے تفتیشی انداز میں پوچھا۔ اتنے میں فوزیہ اندر داخل ہوئی،اس کے ہاتھ میں پھلوں کا لفافہ تھا جو اس نے لا کر ٹیبل پر رکھ دیااور امام بخش کے پاس جا کر پوچھا۔
    ”ابا اب تو ٹھیک ہے نا؟”
    باپ نے اسے عجیب سی نظروں سے دیکھا۔وہ خاموشی سے ماں کے ہاتھ سے چھری لے کر خود سیب کاٹنے لگی اور باپ کی طرف بڑھایا جو اس نے عجیب سی نظروں سے فوزیہ کو دیکھتے ہوئے پکڑ لیا۔
    ”ابا آج میں نے شہر میں تیرے لیے ایک مکان دیکھنے جانا ہے۔”فوزیہ نے سیب کاٹتے ہوئے گویا دھماکا کیا۔
    ”کیوں؟”امام بخش نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”تم سب کو کچھ دنوں کے لیے یہاں شفٹ ہونا پڑے گا۔ڈاکٹرز کے خیال میں تمہارا ہرہفتے ایک چیک اپ ضروری ہے، گاوؑں سے ہر ہفتے آنا بہت مشکل ہوگا۔”فوزیہ نے باپ کو سمجھاتے ہوئے جواب دیا۔
    ”کیا مطلب؟اتنا سب کرلیا کافی ہے۔لوگ کیا کہیں گے کہ بیٹی کی کمائی کھا رہا ہے، بالکل نہیں۔”امام بخش کے لہجے میں ناراضی تھی۔
    ”ابا ضد نہ کر تیری ٹانگ صحیح ہونے میں ٹائم لگے گا،یہاں رہ کر ڈاکٹرز جلد ٹھیک کرسکتے ہیں۔”فوزیہ نے کہا۔
    اتنے میں فون کی گھنٹی بجنے لگی اس نے نمبر دیکھا تو شہریار کا نمبر تھا۔اس نے غصے سے فون کاٹ دیا۔
    ”اماں تو سمجھا ابا کو،بے شک ٹھیک ہو جائے تو واپس چلا جائے، میں نہیں روکوں گی۔”
    ”مان جا فوزیہ کے ابا!اتنے پیار سے کہہ رہی ہے۔”ماں نے کہا۔
    اتنے میں پھر فون بجنے لگا ،اس نے فون کی طرف دیکھا جہاں شہریار کا نام چمک رہا تھا۔وہ غصے میں کمرے سے باہر نکلی اور کوریڈور میں آکرشہریار کو فون کیا۔
    ”آپ کو کوئی اور کام نہیں؟ کیوں میرے پیچھے پڑے ہیں؟نوکر ہوں آپ کی؟ آپ کے ہر فون پر بات کرلوں گی۔ میرے اپنے بھی تو مسائل ہیں۔ہر وقت تو آپ کے فون کے جواب نہیں دے سکتی۔بندے کو خود بھی شرم ہونی چاہیے۔”کنول غصے سے بول رہی تھی۔
    شہریار شرمندہ سا ہوگیا اور تھوڑا رُک رُک کر بولا۔” آئی ایم سوری اگر آپ کو بُرا لگا۔دراصل ویک اینڈ پر آپ کا میسج ملا تھا کہ شام کو اُسی کافی شاپ پہنچ جائیں۔میں نے اس شام وہاں کافی انتظار کیا آپ کا،پھر گھر آکر فین پیج بھی دیکھا وہاں بھی کوئی اپ ڈیٹ نہ تھی تو میں پریشان ہوگیا تھا۔”
    کنول کو ایک دم شرمندگی نے آ گھیرا کیوں کہ غلطی اس کی تھی، اسی سوچ میں اس نے فون کاٹ دیا۔اُسے قطعاً یقین نہیں آرہا تھا۔کیا کوئی کسی سے اس انداز اور اتنی محبت سے بھی بات کرسکتا ہے؟ اتنی فکر بھی کر سکتا ہے؟اس نے خود سے پوچھا اور پھر خود ہی جواب دیا۔” نہیں سارے مرد پہلے ایسے ہی دانہ پھینکتے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ کھلتے جاتے ہیں۔”یہ سوچتے ہوئے اس نے اپنے خیال پر لعنت بھیجی اورکمرے کی طرف بڑھ گئی۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • الف — قسط نمبر ۰۸

    الف — قسط نمبر ۰۸

    میرے پیارے سلطان!
    اتنے مہینوں بعد میرا خط دیکھ کر تم حیران ہو گئے نا؟
    میں جانتی تھی۔ تم کو لگا ہو گا میں تمہیں بھول گئی۔ دیکھ لو نہیں بھولی۔ ہاں دُنیا کو بھلا دیا میں نے۔ اُس دنیا کو جو میرے حسن اور جسم کا طواف کرتی تھی۔ میں مشرک تھی۔۔۔ موحد ہو گئی! جانتی ہوں، یہ باتیں تمہاری سمجھ میں کہاں آتی ہوں گی پھر بھی لکھ رہی ہوں۔ تم ہی سے تو سب کچھ کہا کرتی تھی میں۔ تمہارے علاوہ کسی سے ہر راز کہہ دینے کا حوصلہ پیدا نہیں ہوا حسنِ جہاں میں۔ کوئی تمہاری طرح میرے رازوں کے لیے کنواں بننے کی ہمت بھی تو نہیں رکھتا تھا۔
    اپنی خوشی کا عالم تمہیں کیسے بتاؤں؟ میں اور طہٰ بہت اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک کمرے کے گھر میں۔۔۔ ہاں، میں جانتی ہوں تم ہنسو گے مگر مجھے پروا نہیں۔
    میں یہ بھی جانتی ہوں تم کہو گے ”محل سے جھونپڑی میں آگئیں آپ حسن جہاں جی اور پھر بھی کہہ رہی ہیں کہ خوش ہیں؟” پر میں شاید تم کو یہ نہیں بتا پائی کبھی کہ محل میں جو سوئیاں چبھتی تھیں شہزادی کو،وہ یہاں اس جھونپڑی میں نہیں چبھتیں۔
    اس گھر کو اپنے ہاتھوں سے سجایا ہے میں نے۔۔۔ اس کا ایک ایک کونہ، ایک ایک دیوار۔۔۔سارا دن یہی کرتی رہتی ہوں یہاں۔ پیچھے گھر کے صحن میں سبزیاں اُگاتی ہوں اور آگے باغیچے میں پھول۔۔۔ آج کل بہار آئی ہوئی ہے ہمارے گھر کے ہر کونے میں اور زندگی میں بھی۔
    میں اُمید سے ہوں۔ طہٰ کہتا ہے بیٹا ہو گا ہمارے گھر میں اور اس کا نام قلبِ مومن رکھنا ہے۔۔۔ طہٰ جو بھی کہتا ہے، وہ سچ ثابت ہو جاتا ہے۔ مجھے ایسا اندھا یقین ہے اُس پر۔ ۔۔پیار بھی اندھا تھا۔۔۔ اعتبار بھی۔۔۔ اللہ قائم رکھے۔
    لیکن پتا نہیں کیوں طہٰ نے خطاطی چھوڑ دی۔۔۔ جب سے ہماری شادی ہوئی ہے، اُس نے میری تصویروں کے علاوہ کچھ نہیں بنایا۔ جب جب خطاطی کرنے بیٹھتا ہے، بس بیٹھا ہی رہتا ہے۔ پریشان ہوتا ہے لیکن مجھ سے کچھ نہیں کہتا۔
    میں ہر روز نماز پڑھ کر اُس کے لیے دعا کرتی ہوں کہ وہ دوبارہ سے خطاطی کرنے لگے۔ وہ کہتا ہے وہ قلبِ مومن کو بھی خطاط ہی بنائے گا اور اسے اپنے باپ کے پاس بھیج دے گا۔ میں قلبِ مومن کو کہیں نہیں جانے دوں گی۔ وہ میری اولاد ہو گی، میں اسے اپنی آنکھوں سے دور کیسے کروں گی اور وہ بھی عبدالعلی کے پاس بھیج کر جنہوں نے آج تک طہٰ اور مجھ سے کبھی رابطے کی کوشش تک نہیں کی۔ کوئی اپنی اکلوتی اولاد کو اس طرح کیسے بھول سکتا ہے جیسے انہوں نے بھلا دیا اور طہٰ۔۔۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب وہ ان کا ذکر نہ کرتا ہو۔ اس نے ان کی باتیں کر کر کے میرے دل سے اُن کے لیے غصہ اور نفرت بھی ختم کر دی ہے۔ ورنہ میں پتا نہیں کیا کیا سوچے بیٹھی تھی اُن سے بدلہ لینے کے لیے۔
    ”دُنیا” میں رہتی تھی تو ”دُنیا” جیسی تھی، طہٰ کے ساتھ رہنے لگی ہوں تو پتا نہیں کیسی ہو گئی ہوں۔ اس کی دُنیا اور ہی دُنیا ہے۔ ۔۔اس کی باتیں اور ہی باتیں ہیں۔ طہٰ میری زندگی میں نہ آتا تو یہ سب کہاں کھوجنے بیٹھتی میں۔۔۔رب کے بارے میں کہاں سوچتی اور اب جب سوچنے بیٹھی ہوں تو فرصت ہے۔ لگتا ہے دُنیا کا ہر کام ختم ہو گیا ہے۔ میرا دل چاہتا ہے قلبِ مومن، مومن بنے۔۔۔اپنے دادا کی طرح۔ لیکن پھر سوچتی ہوں جو مومن ہوتا ہے، کیا وہ بھی معاف نہیں کرتا۔۔۔ مومن ہو کے بھی؟
    تم کو اگلا خط جلد لکھوں گی۔ میرا پتا کسی کو نہ دینا۔ میں جانتی ہوں۔ میں نہ بھی کہتی تو بھی تم کسی کو نہ دیتے۔
    تمہاری حسنِ جہاں۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    عبدالعلی اُس کا چہرہ دیکھتے رہے پھر انہوں نے مدھم آواز میں مومن سے کہا۔
    ”اب اس سے کیا فرق پڑتا ہے مومن۔۔۔ وقت گزر گیا۔ سب کچھ بہت پیچھے رہ گیا۔ اب اگر تم جان بھی لو تو بھی کیا کرو گے؟”
    اُس لمحہ مومن کو احسا س ہوا وہ ٹھیک کہہ رہے تھے۔ اسے یہ جان کر اب کیا کرنا تھا۔
    ”تم ملنا چاہتے ہو اُس سے؟” انہوں نے یک دم مومن سے پوچھا۔
    ”نہیں۔” اس نے بے اختیار سوچے سمجھے بغیر کہا۔ اُسے اب اُس شخص سے مل کر کرنا بھی کیا تھا۔
    ”تو پھر جاننے کی جستجو نہ کرو۔” وہ کہتے ہوئے اُس کے کمرے سے چلے گئے۔
    مومن اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھا میز پر بکھرے اُن کاغذوں کو دیکھتا رہا جن پر وہ اُس فلم کی کہانی لکھ رہا تھا جو وہ بنانا چاہتا تھا۔ سب کچھ بکھرا ہوا تھا۔ کردار، کہانی، سچویشنز۔۔۔ سب کچھ اُس کی اپنی زندگی کی طرح۔ سب کچھ سامنے تھا اور سرا پھر بھی غائب تھا۔ ایک عجیب سی تھکن نے اسے اپنے حصار میں لیا تھا اور اُس نے میز پر اپنا ماتھا ٹکا دیا تھا اور تب ہی اُسے اپنا بچپن یاد آیا تھا۔ وہ تب بھی یہی کیا کرتا تھا۔ جب بہت تھک جاتا تو کاغذ قلم رکھ کر میز پر ماتھا ٹکا کر آنکھیں بند کر لیتا۔ یہ جیسے زندگی کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا اظہار ہوتا تھا۔ زندگی آج بھی ویسی ہی تھی اکھڑ، خودسر، اپنی من مانی کرنے والی، وہ آج بھی ویسا ہی تھا کمزور، بے بس، نڈھال۔
    اُس کے ذہن کی اسکرین پر کچھ اور منظر جھماکوں کی شکل میں نمودار ہونے لگے تھے۔ لاشعور جیسے اُس رات اس کے سامنے سب کچھ ہی لا کر رکھ دینے پر تُلا ہوا تھا۔
    وہ چودہ پندرہ سال کا تھا جب اُس نے حسنِ جہاں کو دادا کے گھر پر دیکھا تھا۔ وہ اُس سے کئی سال بعد ملنے آئی تھی، اپنے شوہر کے ساتھ نہیں تھی۔ وہ وہاں اکیلی آئی تھی اور قلبِ مومن کی سمجھ میں نہیں آیا، اُسے کیا ہوا تھا۔ وہ بس اپنے کمرے کو اندر سے بند کیے ہوئے چلاتا اور کمرے میں موجود چیزیں توڑتا رہا تھا۔
    ”انہیں کہیںیہ جائیں یہاں سے اور دوبارہ کبھی نہ آئیں۔۔۔ میں نہیں ملنا چاہتا ان سے۔۔”
    وہ اندر کمرے سے چیخ چیخ کر بولتا رہا تھا اور دروازے کے باہر کھڑے دادا کی منت سماجت کے باوجود اُس نے نہ اُن کے لیے دروازہ کھولا تھا نہ حسنِ جہاں کے لیے۔
    ”میں نفرت کرتا ہوں ان سے۔۔۔ میں بہت خوش ہوں ان کے بغیر۔۔۔ ان سے کہیں یہ جائیں۔ اپنے شوہر کے ساتھ رہیں۔۔۔ عیش کریں۔۔۔ میرے بابا کو تو مار دیا انہوں نے۔۔۔ اب کیا مجھے بھی مارنا چاہتی ہیں یہ؟”
    اُس کے دل میں جو آیا وہ اپنے بند کمرے میں چیزوں کو پھینکتے توڑتے ہوئے بلند آواز میں چلا چلا کر کہتا چلا گیا تھا۔ باہر سے اسے عبدالعلی کی وضاحتیں اور منتیں سنائی دیتی رہی تھیں مگر حسنِ جہاں کی نہیں۔ اُس کی خاموشی قلبِ مومن کو جیسے پاگل کر رہی تھی۔ وہ ماں سے کچھ سننا چاہتا تھا۔۔۔ کچھ بھی۔۔۔ندامت ۔۔۔پچھتاوا۔۔۔ افسوس۔۔۔ اور اس سے محبت کا اظہار مگر وہاں اسے کچھ بھی نہیں ملا تھا۔
    ”ان سے کہیں جائیں اور پھر کبھی مجھ سے ملنے نہ آئیں۔”
    اُسے اپنے اس جملے کی گنتی بھی یاد نہیں تھی کہ اُس نے کتنی بار یہ دُہرایا تھا اور ہر بار عبدالعلی اُسے جواب میں کچھ نہ کچھ کہتے لیکن پھر ایک بار اُسے اس جملے کے جواب میں باہر سے کچھ سنائی نہیں دیا تھا۔اُس نے رُک کر جیسے خاموشی میں باہر اُبھرنے والی آوازوں کو سننا چاہا تھا۔ باہر کوئی آواز نہیں تھی سوائے بیرونی دروازہ کھلنے کے اور دو انسانوں کے باہر جانے کے۔ عجیب طیش کے عالم میں قلبِ مومن اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر باہر آیا تھا اور اُس نے بڑے کمرے کی میز پر ایک بہت خوب صورت گفٹ ریپر میں لپٹا ہوا ایک گفٹ باکس دیکھا تھا۔ بے حد غضب ناک ہو کر اُس نے اُس گفٹ باکس اُٹھایا تھا اور لپکتا ہوا بیرونی دروازے کی طرف گیا۔
    اس نے گھر کے باہر ایک ٹیکسی کے پاس عبدالعلی اور حسنِ جہاں کو کھڑا دیکھا تھا جنہوں نے گھر کا دروازہ کھلنے پر بیک وقت دروازے کی طرف دیکھا تھا۔ مومن نے دروازہ کھولتے ہی وہ گفٹ باکس پوری قوت سے باہر سڑک پر ٹیکسی کی طرف اُچھال دیا تھا پھر حسنِ جہاں اور دادا سے کچھ کہے بغیر وہ اندر آگیا تھا۔ اپنے کمرے میں آکر بھی اُسے جیسے سکون نہیں ملا تھا۔ اُس نے کمرے کی کھڑکی سے باہر اُس سڑک کو دیکھنے کی کوشش کی تھی۔
    حسنِ جہاں اب ٹیکسی میں بیٹھ رہی تھی اور وہ رو رہی تھی۔ عبدالعلی اس سے کچھ کہہ رہے تھے۔ قلبِ مومن کو حسنِ جہاں کے آنسوؤں نے جیسے عجیب سا سکون دیا تھا۔ یوں جیسے جو وہ کرنا چاہتا تھا، وہ کر پایا تھا۔ اُسے ماں کو رُلانا تھا، تکلیف پہنچانی تھی اور وہ ان دونوں کاموں میں کامیاب ہوا تھا۔
    ٹیکسی میں بیٹھ کر حسنِ جہاں نے کھڑکی سے اُس کے کمرے کی کھڑکی کو دیکھا تھا۔ چند لمحوں کے لیے دونوں کی نظریں ملی تھیں۔ قلبِ مومن نے کھڑکی سے ہٹنا چاہا تھا۔ وہ ہٹ نہیں سکا تھا۔ ٹیکسی چل رہی تھی اور حسنِ جہاں اُس پر نظریں جمائے ہوئے تھی اور قلبِ مومن۔۔۔ وہ پہلے آگ سے برف پھر برف سے پانی ہوا تھا۔۔۔
    وہ آخری بار تھا جب اُس نے حسنِ جہاں کو اور حسنِ جہاں نے اُسے دیکھا تھا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • الف — قسط نمبر ۰۷

    الف — قسط نمبر ۰۷

    جانِ طہٰ!
    آج ایک لمبے عرصہ بعد تمہیں سوتے دیکھ کر میری نظر تمہارے چہرے پر ٹھہر گئی۔ تم سو رہی ہو اور کھڑکی سے آتی چاندنی تمہارے چہرے پر نور بن کر اتری ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ سہیلی بن کر آنے والے ہوا کے جھونکے تمہارے بالوں کو چھو کر جیسے چوم کر گزر رہے ہیں، انہیں بکھیر رہے ہیں، پھر سمیٹ رہے ہیں۔ ہوا سے ہلتا یہ کھڑکی پہ پڑا سفید جالی کا پردہ تم تک آنے کی کوشش کر رہا ہے، یوں جیسے ایک بار تمہیں چھونا چاہتا ہو اور ہر بار تمہیں چھونے میں ناکام ہو کر ہار مانتا واپس کھڑکی تک جاتا ہے اور ہوا اسے پھر تمہارے پاس بھیج دیتی ہے۔
    اور اس سب کے درمیان کمرے کے اس کونے میں چھت سے لٹکے اس بلب کے نیچے کینوس رکھے میں کچھ پینٹ کرنے بیٹھا ہوں اور میں پینٹ نہیں کر پا رہا، بس تمہیں دیکھے جا رہا ہوں۔ کئی بار اسی طرح رات کو بیٹھ کر تمہیں دیکھتا رہتا ہوں اسی محبت سے جس سے پہلی بار دیکھا تھا۔
    تم حُسنِ جہاں ہو۔ سارے جہاں کا حُسن تمہارے پاس ہے اور میں طہٰ عبدالعلی جس کے پاس اب وہ بھی نہیں ہے جو کبھی تھا۔
    میں تمہارا مجرم ہوں حُسنِ جہاں اور یہ ہی احساس مجھے تم سے نظریں نہیں ملانے دیتا، میں تم کو ساری دُنیا لا کر تھما دینا چاہتا تھا اور میں نے تمہیں کہاں لاکھڑا کر دیا ہے۔
    تم پچھتاتی تو ہو گی۔ میں غلط ثابت ہوا ہوں نا تمہارے لیے۔ کیا کہہ کر لایا تھا تمہیں اور کیا دے پایا ہوں۔ مال و زر کی تمہیں تمنا نہیں پر اب میری زبان پر تمہارے لیے محبت کے وہ گلاب بھی نہیں کھلتے جنہیں دیکھ کر تم میرے لیے پاگل ہوئی تھیں۔ دل میں سب کچھ تمہارے لیے وہی ہے ویسا ہی ہے مگر زبان پتا نہیں اسے کیا ہو گیا ہے۔ حسنِ جہاں یہ تم سے بہت کچھ کہنا چاہتی ہے، کہہ نہیں پاتی اور جو نہیں کہہ پا رہی وہ مجھے اندر سے زخمی کیے چلا جا رہا ہے۔
    مجھے ڈر لگتا ہے کہ تم مجھے چھوڑ کر چلی نہ جاوؑ۔ میں کیا کروں گا تمہارے بغیر جانِ طہٰ۔ ایک اثاثہ گنوا آیا۔ دوسرا گنواوؑں گا تو مر جاؤں گا۔ تمہارے نام پاکستان سے آنے والا ہر خط مجھے خوف زدہ کرتا ہے۔ میں خود غرض ہوں چاہتا ہوں تم وہ شہزادی بن جاوؑ جو واپسی کا راستہ یاد رکھنے کے لیے وہاں نشانیاں چھوڑ کر نہ آئی ہو۔ میں تمہارے قابل نہیں تھا حسنِ جہاں۔
    یہ جو ”میں” ہوں نا۔ اسے میں خود بھی نہیں جانتا اور یہ جو تم ہو نا اسے شاید تم بھی نہیں پہچان پاتی ہو گی۔ میں نے تمہیں کیا بنا دیا۔
    یہ سارے اعتراف جو کاغذ کے اس ٹکڑے پر رات کے اس پہر کر رہا ہوں۔ یہ دن کے اُجالے میں تم سے کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ انا کا قیدی نہیں ہوں، احساس جرم کا مارا ہوں۔ تمہارے لیے چاہتے ہوئے بھی وہ چاند ستارے توڑ کر نہیں لا پا رہا جن کا تم سے وعدہ کیا تھا۔ جانتا ہوں تم چاند ستاروں کی خواہش اور چاہ میں میری زندگی کا حصہ نہیں بنیں پھر بھی حسنِ جہاں میں، تمہارے لیے اپنے دل، اپنی خواہشات کا کیا کروں۔
    مجھے لگتا ہے۔ تم ایک خوب صورت پرندہ ہو جسے میں قید کر بیٹھ اہوں۔ کھلے آسماں میں اُڑنے والا خوش نما پرندہ جو اپنی دُنیا اور زندگی میں ناچتا، گیت گاتا ہوا مست تھا اور میں۔ میں اُسے آسماں سے اس پنجرے میں لے آیا۔ کئی بار تمہاری اداس آنکھیں ایسی ہی کہانیاں کہتی ہیں مجھ سے اور میں اُن کہانیوں کو پڑھنے سے انکار کر دیتا ہوں۔ کیا کروں؟ حسنِ جہاں! میں کیا کروں، میرے بس میں کچھ نہیں۔ وہ ہنر میرے ہاتھ سے چلا گیا ہے جو اللہ کی عطا ہے اور رزق اس کے لیے میں خوار ہو گیا ہوں اور نام وری اس کا تو سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے میں نے۔
    میں بیسویں صدی میں طہٰ عبدالعلی بن کر پیدا ہوا تھا اور طہٰ عبدالعلی ہی مر جاؤں گا۔ میرا نام سننے پر کسی کو کچھ یاد نہیں آئے گا۔ کسی کا سر احترام سے نہیں جھکے گا۔ میں استادوں میں شمار نہیں ہوں گا۔ وہ ہما جو میرے سر پر بیٹھنے آیا تھا۔ میں نے اڑا دیا۔ اب وہ دوبارہ نہیں آئے گا۔ مجھے نام وری کھونے کا رنج نہیں ہے۔ دلوں کو توڑنے کا غم ہے۔ پہلے وہ دل بابا کا تھا اب تمہارا ہے،میں جس سے محبت کرتا ہوں اسے خوش رکھ نہیں پاتا، کیا یہ صرف میرا المیہ ہے یا ہر محبت کرنے والے کا؟
    تم نے کروٹ لے لی ہے، مجھ سے منہ پھیر لیا ہے۔ اب میں تمہارا چہرہ دیکھ نہیں پا رہا۔ چاندنی دل فریب نہیں رہی۔ ہوا اپنی مستی کھونے لگی ہے۔ سفید جالی کا وہ پردہ تم تک پہنچنے کی جدوجہد میں تھکنے لگا ہے۔ رات گزر گئی ہے اور میں طہٰ عبدالعلی آج بھی خالی کینوس لیے بیٹھا رہ گیا ہوں۔ یہ میری ہر رات کی کہانی ہے۔ کوئی طہٰ عبدالعلی جیسی قسمت لے کر نہ آئے اور آئے تو اُس میں حسنِ جہاں نہ آئے جو نہ اس کے ساتھی جس کے، نہ اس کے بغیر۔
    تمہارا مجرم
    تمہارا طہٰ
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    قلبِ مومن نے سر اٹھا کر عبدالعلی کو دیکھا تھا۔ وہ اس کی طرف متوجہ نہیں تھے۔ اس صندوقچی کے اندر موجود خطوں کو نم ناک آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔
    ”یہ سارے خط وہ ہیں جن کا جواب نہیں دیا میں نے۔ کچھ پڑھ کے کچھ بغیر پڑھے رکھ دیے۔ جن خطوں کے جواب نہیں ملتے، وہ زندگیاں بدل دیتے ہیں لکھنے والے کی بھی اور اس کی بھی جس کے نام لکھے گئے ہوں۔”
    عبدالعلی اب لرزتے ہاتھوں سے ان خطوں کو چھو رہے تھے۔ اتنی نرمی سے۔ یوں جیسے انہیں ڈر ہو، وہ ان کے ہاتھوں میں تتلی کے پروں کی طرح بکھر جائیں گے۔
    ”آؤ قلبِ مومن! میں تمہیں تمہارے باپ کی کہانی سناتا ہوں۔ اپنی اور تمہارے باپ کی۔ میں تمہیں بتاتا ہوں۔ غرور کے ایک لمحے نے میرے ساتھ کیا کیا تھا۔”
    وہ اس کے سامنے میز کے دوسری طرف ایک اسٹول پر بیٹھ گئے تھے۔ کسی بُت کی طرح ان کے چہرے کی جھریاں اس لیمپ کی روشنی میں یک دم سینکڑوں سے ہزاروں اور ہزاروں سے لاکھوں میں تبدیل ہو گئی تھیں جو ان کے سر پر اس میز کے اوپر لٹک رہا تھا۔
    ایک پرانے قصہ گو کی طرح وہ ماضی میں ڈوبے ہوئے سامنے والے کو بھی وہیں لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ قلبِ مومن اب ان کے مقابل بیٹھا پلکیں جھپکائے بغیر اس چہرے کو دیکھ رہا تھا جس سے وہ کبھی کسی غلطی کی توقع نہیں کرتا تھا، گناہ تو بہت دور کی بات تھی۔
    ٭…٭…٭
    وہ رات کے پچھلے پہر ان کے گھر کے صحن کے بیچوں بیچ اپنے سفید لباس، سیاہ لمبی ٹوپی اور سیاہ چوغہ نما چادر میں ملبوس گھومتا جا رہا تھا، گھومتا ہی چلا جا رہا تھا۔ نظر تھی کہ اس پر ٹھہر ہی نہیں رہی تھی۔ صرف چاندنی تھی جو اس پر رات کے اس پچھلے پہر اتر رہی تھی، ٹھہر بھی رہی تھی۔ اپنے بائیں پیر پر پھرکی کی طرح گھومتا بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو زمین کی طرف جھکائے، دائیں ہاتھ کی ہتھیلی آسماں کی طرف اٹھائے طہٰ عبدالعلی کہیں اور ہی پہنچا ہوا تھا۔ برآمدے میں کھڑے عبدالعلی نے اسے دیکھا تھا اور مسکرا دیے تھے۔
    وہ رات کے اس پہر تہجد کے لیے اٹھتے تھے اور وہ رات کے اس پہر سماع کر رہا ہوتا تھا۔ ان کے خاندان میں وہ پہلا تھا جو مولانا جلال الدین رومی کے اُن مریدوں میں شامل ہوا تھا جو رقص کرتے ہوئے درویش (Whirling Darvesh)کہلاتے تھے۔ وہ رقص اللہ سے ان کی محبت کا اظہار تھا۔ اللہ سے تعلق باندھنے کا اُن کا طریقہ۔ گول چکر کاٹتے ہوئے جیسے ان پر حال آجاتا تھا اور اس ”حال” میں ہی وہ گھومتے جاتے، چکر کاٹتے رہتے یہاں تک کہ ان کا وجود جیسے دنیا کے جھمیلوں اور زمینی گردش سے کہیں نکل جاتا اور وہ کہیں اور پہنچ جاتے اور جب یہ سماع خوانی اور رقص ختم ہوتا تو وہ رقص کرنے والے درویش جیسے خود کو معرفت کی کسی اور منزل پر پاتے تھے۔
    طہٰ عبدالعلی رومی کا مداح تھا اور مداح سے عقیدت مندی اور مُریدی کا وہ سفر اس نے بڑی برق رفتاری سے طے کیا تھا۔ عبدالعلی نے اسے روکا تھا اور نہ ہی انہیں کوئی خوف محسوس ہوا تھا کہ خطاطی سے اس کا دھیان ہٹ جائے گا۔
    وہ شروع شروع میں سماع خانہ ان ہی رقص کرنے والے درویشوں کا رقص دیکھنے جایا کرتا تھا اور پھر وہ ان میں شامل ہو گیا تھا۔ وہ رقص بھی اتنا ہی مشقت طلب کام تھا جتنا محقق انداز میں کی جانے والی خطاطی جس میں ان کا خاندان مشہور تھا۔
    محقق خطاطی، خطاطی کے چھ بنیادی، مشکل ترین اور خوبصورت ترین اسٹائلز میں سے ایک تھا۔ ایک زمانہ میں مملوک خاندان کے دورِ حکومت میں نہ صرف اس کا طوطی بولتا تھا بلکہ اسے قرآن پاک کے نسخے لکھنے کے لیے بار بار استعمال کیا جاتا تھا۔ عبدالعلی کا خاندان شام سے تعلق رکھتا تھا اور ان کے آباؤ اجداد محقق خطاطی کے لیے پورے عرب میں جانے جاتے تھے۔ محقق خطاطی میں ”اُستاد” کا درجہ حاصل کرنے والے زیادہ تر لوگ ان ہی کے خاندان کے مختلف نسلوں میں ایک کے بعد ایک آتے رہے تھے۔ عرب قومیت رکھتے ہوئے ان کے آباؤ اجداد شام سے ہجرت کرتے ہوئے مملوک خاندان کے دور حکومت میں ان بہت سے ملکوں میں ہجرت کرتے رہے جہاں 1205ئ سے1505ء تک مملوک خاندان حکومت کرتا رہا اور ان کے آباؤ اجداد میں سے ہی کچھ کو الحمرا کے محلات اور قرطبہ کی مساجد میں مورسلطنت کے زمانہ میں خطاطی کرنے کا موقع ملا۔ اسپین میں مسلمانوں کی سلطنت کے زوال کے بعد ان کے آباؤ اجداد ترکی آکر بسے تھے اور ترکی میں اس وقت سلطنت عثمانیہ نے خطاطی کے نسخ اور تالوت اسٹائلز کو فروغ دینا شروع کر دیا تھا۔
    محقق آہستہ آہستہ اپنا مقام کھونے لگا اور اُس سے منسلک افراد اور خاندانوں میں ہونے والی کمی نے جیسے اسے متروک کر دینے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا مگر عبدالعلی کے دادا اور باپ ان حالات میں بھی محقق خطاطی ہی کرتے رہے اور یہ پچان اب کئی نسلوں سے عبدالعلی کے ساتھ چل رہی تھی۔ وہ محقق خطاطی کے زندہ رہ جانے والے واحد ”استاد” تھے اور یہی اثاثہ اب وہ اپنے اکلوتے بیٹے طہٰ کو سونپ رہے تھے جو بچپن سے ان کے ساتھ خطاطی کرتا آرہا تھا اور اپنے کام میں اپنی عمر سے زیادہ مہارت اور کمال رکھتا تھا۔ اس رقص نے بھی اس کی توجہ کو خطاطی سے ہٹایا تھا نہ بھٹکایا تھا۔
    اسے رقص کی حالت میں دیکھتے ہوئے عبدالعلی بہت دیر تک اسی طرح کھڑے رہے تھے۔ یہاں تک کہ وہ گھومتے گھومتے رُک گیا تھا۔ جب وہ رک گیا تو اُس نے سر اٹھا کر عبدالعلی کو دیکھا۔ وہ پسینے سے شرابور تھا سر سے پیر تک۔ وہ عبدالعلی کو دیکھ کر مسکرایا تھا۔ وہ بھی جواباً مسکرائے۔
    ”آپ کل میری پرفارمنس دیکھنے آئیں گے؟” اس نے برآمدے کی طرف بڑھتے ہوئے عبدالعلی سے پوچھا۔ وہ اب وہاں پڑا ہوا وہ کیسٹ پلیئر بند کر رہا تھا جس میں چلنے والے میوزک پر وہ رقص کر رہا تھا۔
    ”دیکھ تو لوی تمہاری پرفارمنس۔ بہت خوب صورت۔” عبدالعلی نے دونوں ہاتھوں سے داد دینے والے انداز میں اس کے لیے تالی بجائی۔
    ”آپ نے کبھی اسٹیج پر لوگوں کے سامنے میری پرفارمنس نہیں دیکھی۔ وہ بھی تو دیکھیں بابا۔ طہٰ نے ان کے پاس آتے ہوئے بڑے شوق سے کہا تھا۔ عبدالعلی نے اپنے دراز قد تیکھے نین نقش والے بیٹے کو دیکھا۔ انہیں اپنی بیوی کی یاد آئی۔
    ”لوگوں کے لیے نہیں ناچتے ہو تم طہٰ۔ تم تو اللہ کے لیے ناچتے ہو۔ اُس کی محبت اُس کے عشق میں۔ میں دیکھوں نہ دیکھوں، لوگ دیکھیں نہ دیکھیں کیا فرق پڑتا ہے۔” انہوں نے اس سے کہا تھا۔ وہ دونوں اب ساتھ چلتے ہوئے گھر کے اندر والے حصے میں آگئے تھے۔
    ”لوگوں کے لیے تو نہیں ناچ رہا بابا۔ میں تو اپنے ملک کی نمائندگی کر رہا ہوں فیسٹیول ہے دوسرے ملکوں سے بھی لوگ آکر پرفارم کر رہے ہیں، میں بھی اپنے ملک کے لیے پرفارم کر رہا ہوں۔ سب انتظار میں ہیں میری پرفارمنس دیکھنے کے لیے۔ نیوز پیپرز نے آج اتنی بڑی بڑی خبریں لگائی ہیں۔” اس نے بڑے فخریہ انداز میں کہا تھا۔
    ”شہرت ہنر کو دیمک کی طرح کھانے لگتی ہے۔ پتا بھی نہیں چلتا۔ کیا ضرورت ہے تمہیں اس سب کی۔” عبدالعلی نے مدھم آواز میں جیسے اسے اُس راستے کے نشیب و فراز سے ڈرایا تھا جہاں وہ پاؤں رکھ رہا تھا۔
    ”میری قسمت میں ہے شہرت بابا۔ آپ کی طرح خاموشی سے اس گھر میں بیٹھ کر خطاطی کرنا میرا مقدر نہیں ہے۔ میں چاہوں بھی تو بچ نہیں سکتا۔” وہ مسکراتے ہوئے باپ سے کہہ رہا تھا۔
    وہ مسکرا دیے تھے۔ طہٰ سے بحث نہیں کرتے تھے وہ، اس کے سامنے کمزور پڑ جاتے تھے وہ۔ اپنی بیوی کی وفات کے بعد انہوں نے اسے اکیلے ہی پالا تھا اور اب اس عمر میں وہ اس کے لیے باپ سے زیادہ ماں بن کر رہ گئے تھے۔ نرم دل۔ مشفق، مہربان۔ خوف زدہ۔
    ”تمہاری نمائش سر پر کھڑی ہے اور تمہارا ”شاہکار” ابھی بھی مکمل نہیں ہوا۔” عبدالعلی نے اس کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے وہاں کینوس پر دھری اس خطاطی کی طرف اس کی توجہ مبذول کروائی جو نامکمل تھی۔
    ”اللہ نور السموات والارض۔” اس خاندان کا ہر خطاط اپنی پہلی نمائش میں خطاطی کر کے ضرور رکھتا تھا۔ اس آیت کی خطاطی جیسے وہ ”اجاذہ” تھی جس کے بعد اس خطاط کو اپنا کام نمائشوں کی شکل میں لوگوں کے سامنے لے آنے کی اجازت مل جاتی تھی۔ طہٰ عبدالعلی بھی ان دنوں اپنی پہلی نمائش کے لیے خطاطی کر رہا تھا اور اللہ نور السموات والارض اس کی وہ آخری خطاطی تھی جس کے مکمل ہونے کے ساتھ ہی اس کا کام پورا ہو جاتا۔
    طہٰ نے ایزل پر دھرے اُس کینوس کو دیکھا۔ جہاں وہ آیت نامکمل حالت میں بھی خطاطی کرنے والے کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت بنی ہوئی تھی۔
    ”کل رات مکمل کر لوں گا اسے بابا اور پرسوں آپ کو دکھاؤں گا لیکن آپ وعدہ کریں مجھ سے پوچھے بغیر آپ اسے نہیں دیکھیں گے۔” طہٰ نے باپ کا ہاتھ پکڑ کر ان سے وعدہ لیا تھا اور عبدالعلی نے مسکرا کر اس سے وعدہ کر لیا تھا۔
    طہٰ عبدالعلی کو اندازہ نہیں تھا۔ وہ اس آخری خطاطی کو کبھی مکمل نہیں کرنے والا تھا۔ کیوں کہ اگلی رات اس کی دنیا میں حسنِ جہاں کی آمد ہونے والی تھی۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • الف — قسط نمبر ۰۶

    الف — قسط نمبر ۰۶

    میری پیاری حسنِ جہاںجی!
    آپ کا خط ملا اور دل کٹ گیا۔ وہ بے وفا نکلا نا، میں نے پہلے ہی کہا تھا آپ سے طہٰ عبدالعلی پر بھروسا نہ کریں۔ سلطان کی محبت کے سوا کسی پر بھروسا نہ کریں۔ مگر آپ نے ہمیشہ طہٰ کے نام کی تسبیح کی۔ سلطان کو آزمایا ہی نہیں۔ میں آپ کا خط پڑھ کر روتا رہا ہوں۔ پرندہ ہوتا تو اڑ کر آجاتا آپ کے پاس، لیکن انسان ہوں اور انسانوں کو جانے میں لمحہ لگتا ہے، آنے میں وقت لگتا ہے۔ پھر بھی سلطان آئے گا آپ کے پاس، بس چند مہینوں یا ہفتوں کا انتظار کر لیں، اپنے آپ کے اور قلبِ مومن کے ٹکٹوں کے لیے پیسے جمع کر لوں تو آتا ہوں آپ کے پاس۔
    پر میرے آنے تک طہٰ کے جانے کا غم نہ کریں، نہ اس کے لیے آنسو بہائیں، اپنی دنیا میں واپس آجائیں۔ فلم انڈسٹری آج بھی آپ کو ڈھونڈ رہی ہے۔ لوگ آج بھی آپ کو یاد کرتے ہیں، سینما کی اسکرین پر آج بھی کوئی اداکارہ حسنِ جہاں کی طرح دلوں پر راج نہیں کرتی۔ طہٰ عبدالعلی نے قدر نہیں کی آپ کی، آپ نے اس کے لیے اپنی ”سلطنت” چھوڑ دی تھی۔ اس نے پروا نہیں کی تو آپ کب تک پروا کرتی رہیں گی اس کی۔
    جانتا ہوں، دل سے کسی کو بھلانا آسان ہوتا ہے، مٹانا نہیں لیکن میں آپ سے کہتا ہوں آپ نہ اس کو بھولیں نہ اس کو مٹائیں، بس اپنی دنیا میں لوٹ آئیں۔
    حسنِ جہاں جی! یہ جو ہم جیسے ہوتے ہیں نا یہ ہمیشہ مٹی کے ہی رہتے ہیں۔ ہمیشہ جسم ہی عروج دیتا ہے ہمیں اور یہی زوال۔ ہم روح اور روحانیت کے لیے بنے ہی نہیں ہوتے۔ اس راستے پر چلنے والے اور ہوتے ہیں۔ ان کا خمیر بھی اور جگہ سے اٹھا ہوتا ہے، میں اور آپ زیادہ سے زیادہ نیک ہو سکتے ہیں، اپنی اولادوں کا نام قلبِ مومن اور مومنہ رکھ سکتے ہیں مگر بس اتنا ہی۔ اس سے آگے جائیں تو پر جلنے لگتے ہیں ہمارے اور تپش سہہ نہیں پاتے ہم۔
    آپ کو روکا تھا میں نے بہت۔۔۔ اسی لیے روکا تھا کیوں کہ وہاں آگے آپ کے ہاتھ کچھ نہیں آنا تھا اور جس دنیا میں آپ تھیں وہاں آپ کا سکہ چلتا تھا۔ آپ نے سلطان کی بات نہیں سنی۔
    سکہ بدل گیا ہے اب آپ کے جانے کے بعد یہاں کا۔۔۔ پر کوئی بات نہیں۔۔۔ آپ چاہیں تو پھر آپ کا راج ہو گا یہاں اور میں سلطان آپ کے ساتھ ہوں۔ اچھے اور برے سارے دنوں میں آپ کے ساتھ سایہ بن کر چلوں گا کیوں کہ آپ سے پیار کرتا ہوں۔و ہی پاگلوں والا پیار جو آپ طہٰ سے کرتی ہے۔۔۔ نہ آپ بدلیں گی نہ میں بدلوں گا۔
    خط لکھ رہا ہوں تو دل کھول کر رکھ دیا ہے آپ کے سامنے، ورنہ اتنے سالوں میں ہر بار آپ سے بات کرتے ہوئے کبھی آپ نظریں چراتی تھیں کبھی میں۔۔۔ میں جانتا ہوں سلطان کو آپ بھی بھول نہیں سکتیں۔ طہٰ کے بعد اگر کوئی یاد آتا ہو گا تو سلطان ہی یاد آتا ہو گا آپ کو۔
    میری خوش فہمی دیکھیں، کیا لکھ رہا ہوں آپ کو۔ نہ اپنی شکل دیکھ رہا ہوں۔ نہ اپنی اوقات۔۔۔ لیکن پیار کا کیا کریں حسن جہاں جی، یہ میرے جیسوں کو بھی اوقات سے باہر کر دیتا ہے۔ سلطان ہی سمجھنے لگ گیا ہوں اپنے آپ کو۔۔۔ آپ نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر۔۔۔ بیچ راستے میں مجھے چھوڑ کر اتنے سالوں میں سلطان آسمان سے زمین پر آگیا مگر نہیں بدلا تو اس کے دل میں آپ کا مقام۔ آپ آج بھی سلطان کے دل کے تخت پر وہیں بیٹھی ہیں، جہاں اس نے پہلی بار آپ کو بٹھایا تھا اور یہ مقام سلطان کبھی کسی کو نہیں دے گا۔ طہٰ اور سلطان میں بس یہی فرق رہے گا ہمیشہ۔ ۔۔وہ آپ کو چھوڑ سکتا ہے، سلطان نہیں۔
    آپ کا سلطان۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ”تم جا رہے ہو؟” قلبِ مومن صبح سویرے اپنا سامان پیک کر رہا تھا جب عبدالعلی اس کے کمرے کے دروازے پر دستک دے کر اندر آئے تھے اور اسے سامان پیک کرتے دیکھ کر ان کا دل کسی دیے کی طرح بجھا تھا۔
    ”جانے کے لیے ہی آیا تھا دادا۔” قلبِ مومن ان کی طرف متوجہ ہوئے بغیر کھلے بیگ میں اپنی چیزیں ڈالتا رہا۔
    ”ناراض ہو کر جا رہے ہو؟” انہوں نے چند لمحوں کے بعد اس سے کہا۔ قلب مومن ٹھٹکا اور اس نے سیدھا کھڑے ہوتے ہوئے ان سے کہا۔
    ”ناراض کس بات پر ہوں گا؟” وہ سنجیدہ تھا۔ عبدالعلی نے اس کا چہرہ دیکھا۔
    ”کل رات تمہارے اور میرے درمیان۔” انہوں نے کچھ کہنا چاہا، قلب مومن نے بات کاٹ دی۔
    ”کل رات آپ کے اور میرے درمیان ایسا کچھ نہیں ہوا جس پر میں آپ سے خفا ہوتا، چیلنج تھا جو آپ نے دیا اور میں نے چیلنج قبول کر لیا، اس سب میں خفگی والی بات کہاں سے آگئی؟”
    وہ کہہ کر دوبارہ جھک کر اپنے بیگ کی زپ بند کرنے لگا تھا۔ عبدالعلی کی سمجھ میں نہیں آیا، وہ اس کی بات کے جواب میں کیا کہیں، کچھ دیر کھڑے وہ جیسے کوئی الفاظ ڈھونڈتے رہے پھر انہوں نے کہا۔
    ”قلب مومن میں تم سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں۔ تمہارا دل کبھی بھی دکھانا نہیں چاہتا میں اور مجھے لگا شاید پچھلی رات میں تمہارا دل دکھا بیٹھا ہوں۔”
    انہوں نے بالآخر وہ الفاظ ڈھونڈ لیے تھے جو وہ اس سے کہنا چاہتے تھے۔ قلبِ مومن نے اپنی پیکنگ ختم کر لی تھی۔ اپنے بیگز کو ایک طرف اوپر نیچے رکھتے ہوئے اس نے بے حد اطمینان سے عبدالعلی کی بات سنی، اس کے انداز میں ایک عجیب سردمہری تھی۔ لاتعلقی کا ایک عجیب سا عالم تھا۔
    ”آپ کا پتا ہے دادا! آپ مجھے کیوں کمتر سمجھتے ہیں؟” اس کے جملے نے عبدالعلی کو بچھو بن کر کاٹا تھا۔
    ”آپ مجھے اس لیے کمتر سمجھتے ہیں کیوں کہ میں حسنِ جہاں کی اولاد ہوں جس کے پاس حسن اور جسم کے استعمال کے علاوہ کچھ اور تھا ہی نہیں۔ آپ اسی لیے ان سے بابا کی شادی نہیں کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ ایک ڈانسر تھیں۔”
    قلب مومن کی آنکھوں اور چہرے پر جیسے ”میں سب جانتا ہوں” لکھا تھا۔ عبدالعلی نے تڑپ کر اسے روکا تھا۔
    ”حسنِ جہاں سے شادی سے روکنے کی وجہ نہ اس کا اداکارہ ہونا تھا، نہ رقاصہ ہونا۔ تمہیں کس نے بتایا کہ میں تمہیں اس لیے کمتر سمجھتا ہوں اور کس نے کہہ دیا کہ حسنِ جہاں کے پاس حسن اور جسم کے علاوہ کچھ اور تھا ہی نہیں؟” عبدالعلی کے انداز میں اب عجیب سی برہمی تھی۔
    ”اس کے پاس نیک روح تھی۔ جو تم نے کھو دی۔”
    قلب مومن ان کے جملے پر ہنس پڑا۔ ”حسنِ جہاں کے پاس تھی۔ میں نے کھو دی۔” اس نے ان کا جملہ استہزائیہ میں دہرایا تھا۔
    ”آپ کے نزدیک نیک روح صرف ان کے پاس ہوتی ہے جو یہ کام چھوڑ دیتے ہیں یا پھر ان کے پاس جو آپ کی طرح خطاطی کرتے رہتے ہیں۔ دادا spirituality کسی کی میراث نہیں ہے۔” وہ ایک بار پھر ان سے الجھ پڑا تھا۔ پتا نہیں کہاں چوٹ پڑی تھی مومن کو۔
    ”بے شک نہیں ہے۔ مگر اللہ کی عطا ہے اور اللہ اسے صرف اس کی قدر جاننے والوں کو عطا کرتا ہے۔”
    قلبِ مومن انہیں دیکھتا رہا، ایک لاوا تھا جو ان کے اس جملے پر اس کے اندر سے پھٹ پڑنا چاہتا تھا۔ اس نے عبدالعلی سے نظریں چرا لیں۔ وہ اس بوڑھے شخص کا اتنا احترام کرتا تھا کہ وہ لاوا ان پر الٹانا نہیں چاہتا تھا۔ وہ اس لاوے کی وجہ نہیں تھے اور جسے وہ ”نیک روح” کہہ رہے تھے، قلبِ مومن اسے کبھی ”جسم” کے علاوہ کچھ ماننے پر تیار ہی نہیں تھا چاہنے کے باوجود بھی۔
    ”میں چلتا ہوں۔ رکوں گا تو اور بحث ہو گی ہماری۔” وہ آگے بڑھا اور اس نے دادا کو گلے لگایا۔
    ”جب تم یوں گلے لگاتے ہو تو طہٰ یاد آتا ہے مجھے۔”
    وہ عبدالعلی کی آواز پر جیسے ٹھٹھک گیا تھا، پھر الگ ہوتے ہوئے ہنسا۔
    ”جانتا ہوں میں۔ بابا ہی کے لیے اداس ہوتے ہیں آپ۔ میرے لیے کہاں ہوتے ہوں گے۔”
    اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور جیسے وہ عبدالعلی کا جواب سنے بغیر تیزی سے باہر نکل گیا تھا۔ عبدالعلی کو رنج ہونا چاہیے تھا۔ وہ رنجیدہ ہونے کے بجائے مسکرائے تھے۔ وہ ہمیشہ سے ایسا ہی تھا۔ برف کی طرح سرد نظر آتا تھا، مگر آگ کی طرح گرم تھا، سمندر کی طرح گہرا تھا مگر ریگستان کے سراب کی طرح اشتباہ نظر کا شکار کرتا تھا۔ قلبِ مومن تھا، مگر مومن بننے کے راستے سے پرے۔
    ٭…٭…٭
    ”وہ جو لوکیشنز کہی تھیں آپ نے، سب ہی مارک کر لی ہیں اور سب پر ہی کام ہو گیا ہے۔” داوؑد اور ٹینا اسے استنبول میں گزارے پچھلے کچھ دنوں میں کیے جانے والے کام کے بارے میں اپ ڈیٹ دے رہے تھے اور قلبِ مومن اس ہوٹل کے لاؤنج میں پڑے ایک صوفہ پر بیٹھا ان کی باتیں سنتے ہوئے کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔
    ”استنبول کی نائٹ لائف کی عکاسی کرنے کے لیے نائٹ کلبز کی بھی ریکی کر لی ہے ہم نے۔” اب ٹینا اپنے لیپ ٹاپ پر اسے ان جگہوں کی تصویریں دکھانے لگی تھی جو وہ اپنی فلم کی شوٹنگ کے لیے منتخب کر چکے تھے۔ قلبِ مومن آج ہی عبدالعلی کے پاس سے واپس استنبول آیا تھا اور اس وقت داؤد اور ٹینا کے ساتھ اس کی پہلی ملاقات تھی۔
    ”ڈیٹس فائنل کر کے کل سے ای میلز کا کام ختم کر لیں گے، شوٹنگ کوآرڈینیشن کے لیے۔ پوسٹ پروڈکشن کا کام بھی یہاں ایک اسٹوڈیو کے ساتھ۔”
    قلب مومن نے داؤد کو پہلی بار ٹوکا۔
    ”میں اس فلم کی شوٹنگ کچھ عرصہ کے لیے postpone کر رہا ہوں۔”
    اس نے اعلان کرنے والے انداز میں کہا تھا۔ ٹینا اور داؤد بیک وقت چونکے تھے اور انہوں نے کچھ بے یقینی کے عالم میں اسے دیکھا، قلبِ مومن مذاق یقینا نہیں کر رہا تھا۔
    ”میں اس فلم سے ایک اور فلم بنانا چاہتا ہوں کیوں کہ میرے پاس ایک بے حد یونیک آئیڈیا ہے۔”
    قلب مومن کے اگلے جملے پر ٹینا بے حد ایکسائیٹڈ ہوئی تھی۔
    ”ایک سال میں دو فلمز۔Fantastic!میں تو پہلے ہی کہہ چکی تھی کہ سال میں ایک کے بجائے دو فلمز کرنی چاہئیں آپ کو۔ جب انویسٹرز، انویسٹ کرنے کو تیار ہیں۔ برانڈنگ اورproduct placement کے لیے تیار ہیں تو پھر بے وقوفی ہی ہے بس ایک ہی فلم کرتے جانا۔ کیاsubject ہے دوسری فلم کا؟”
    ٹینا جوش و خروش میں بات کرتے کرتے ابsubject کے بارے میں دریافت کرنے لگی۔ داؤد اس ساری گفتگو کے دوران خاموش ہی رہا تھا۔
    قلبِ مومن نے میز پر پڑے گلاس سے پانی کا ایک گھونٹ بھرا اور کہا ”Spirituality”
    ٹینا چپ ہو گئی۔ داؤد کو پہلے ہی لگی ہوئی تھی۔ مگر وہ ایک دوسرے کو دیکھے بغیر نہیں رہ سکے تھے۔
    ”کیا کہتے ہیں اسے اُردو میں؟”
    قلب مومن نے جیسے کچھ الجھ کر یاد کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ ایک لمحہ کے لیے بھول گیا تھا، داؤد نے کچھ کہنے کے بجائے لیپ ٹاپ پر گوگل پر اس لفظ کا اُردو ترجمہ ڈھونڈا اور پھر کہا ”روحانیت۔”
    ”بس اسی کے بارے میں فلم بنانی ہے مجھے۔” قلبِ مومن نے بے ساختہ کہا۔
    ”یہ جس کے نام کا مطلب ابھی گوگل سے ڈھونڈا ہے؟” ٹینا نے بے یقینی سے قلبِ مومن سے پوچھا۔ اس نے جواباً اثبات میں سرہلایا۔
    ”مگر اس میں دکھائیں گے کیا؟” ٹینا نے بے ساختہ کہا اور اس بار تینوں کو بیک وقت چُپ لگی تھی۔
    خاموشی کے ایک لمبے وقفے کے بعد قلب مومن نے جیسے اپنی خجالت مٹانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
    ”سوچو۔” وہ کہتے ہوئے اٹھ کر گیا۔
    ”باس! یہ میرا آئیڈیا نہیں تھا۔” داؤد نے جیسے کراہتے ہوئے اسے پکارا تھا، مگر وہ تب تک کافی دور جا چکا تھا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • الف — قسط نمبر ۰۵

    الف — قسط نمبر ۰۵

    میرے پیارے اللہ!
    آج میں نے بابا کو پھر خواب میں ستارہ بنتے دیکھا۔ جیسے ترکی میں دیکھا تھا۔ تب میں نے انہیں ستارہ بنتے دیکھا تھا پھر وہ آگ کا گولہ بن گئے اور پھر وہ بہت دور چلے گئے۔ آج پھر میں نے انہیں دور جاتے دیکھا اور میری آنکھ کھل گئی۔ بابا کہیں بھی نہیں تھے۔ میں بہت اداس ہوں۔ بہت زیادہ۔
    میں نے آپ کو اپنے بارے میں نہیں بتایا۔ پہلے اپنے بارے میں بتانا چاہیے تھا۔ میرا نام قلبِ مومن ہے۔ آپ کو یاد ہے، کئی مہینے پہلے میں آپ کو خط لکھا کرتا تھا۔ تب میں ترکی میں رہتا تھا، اب پاکستان میں رہتا ہوں۔
    آپ نے میرے خطوں کے جواب میرے دادا کو بھیجے تھے مگر دادا نے وہ مجھے نہیں دیے۔ آپ کو میں یاد آگیا نا؟ مجھے پتا تھا میں آپ کو یاد آجاؤں گا کیوں کہ ممی کہتی ہیں، آپ کبھی کوئی چیز بھول ہی نہیں سکتے، خاص طور پر ان کو جو آپ سے پیار کرتے ہوں اور میں تو آپ سے بہت پیار کرتا ہوں۔ دیکھیں میں نے آپ کے لیےhearts بھی بنائے ہیں اور ہمیشہ کی طرح اس خط پر پھول اور ستارے بھی بنائے ہیں رنگین پینسلوں سے۔
    آپ سوچتے ہوں گے اگر میں آپ سے اتنا پیار کرتا ہوں تو پھر آپ کو اتنے مہینوں سے خط کیوں نہیں لکھ رہا۔ میں آپ کو بھولا نہیں ہوں، بس پاکستان آگیا ہوں لیکن آپ سے روز باتیں کرتا ہوں، رات کو بستر پر لیٹ کر سونے سے پہلے۔ جب سپارہ پڑھتا ہوں تب بھی آپ کو یاد کرتا ہوں اور جب نماز پڑھتا ہوں تب بھی۔ نمازیں ساری نہیں پڑھتا اور روز بھی نہیں پڑھتا لیکن سیکھ رہا ہوں، آپ ناراض مت ہونا۔ مجھے پتا ہے آپ ناراض نہیں ہوں گے کیوں کہ میں بچہ ہوں اور آپ بچوںسے بہت پیار کرتے ہیں۔
    ہم اب بہت بڑے گھر میں رہتے ہیں لیکن میں یہاں خوش نہیں ہوں۔۔۔ مجھے اپنا اسکول یاد آتا ہے ، اپنے دوست بھی۔۔۔ اور وہ جنگل بھی جہاں میں آپ کے لیے خط چھوڑ کر آتا تھا۔ میں نے یہاں بھی ایک جگہ ڈھونڈ لی ہے جہاں میں آپ کے لیے خط چھوڑ سکتا ہوں۔
    میرے پیارے اللہ! میرا دل پاکستان میں نہیں لگتا۔۔۔ یہاں اب ہمارے پاس وہ سب کچھ ہے جو میں آپ سے مانگتا تھا۔ بڑا سا گھر، گاڑی اور وہ ساری چیزیں جو میں آپ سے مانگتا تھا، وہ ممی مجھے بازار سے لے دیتی ہیں۔ سب کچھ مل گیا ہے مجھے لیکن ممی کھو گئی ہیں۔۔۔ یہ میری والی ممی نہیں ہیں۔ وہ الگ کمرے میں رہتی ہیں اور میں الگ کمرے میں۔۔۔ اور کبھی کبھی وہ کئی کئی دن گھر بھی نہیں آتیں۔ مجھے لگتا ہے، انہیں اب میری اور بابا کی پروا نہیں ہے۔ وہ اب بابا کو مِس نہیں کرتیں۔ ان کے لیے پہلے کی طرح روتی بھی نہیں ہیں۔ اب بہت اچھے اور مہنگے کپڑے پہنتی ہیں۔ زیور بھی، میک اپ بھی اور وہ بہت ہنستی ہیں۔ بہت بہت زیادہ۔ کبھی کبھی وہ اتنا ہنستی ہیں کہ مجھے ان پر غصہ آتا ہے۔
    مجھے ان کے بارے میں بہت ساری خراب باتوں کا بھی پتا چل گیا ہے لیکن وہ میری ممی ہیں اس لیے میں آپ کو نہیں بتا سکتا۔ اس کے لیے سوری۔
    مجھے اب بابا بہت یاد آتے ہیں اور دادا بھی۔
    میرے پیارے اللہ! کیا آپ مجھے ان دونوں کے پاس ترکی نہیں بھیج سکتے؟ میرا دل ممی کے پاس نہیں لگتا۔۔۔ وہ مجھے ایک چڑیل لگتی ہیں۔ مجھے پتا ہے مجھے ممی کو یہ نہیں کہنا چاہیے لیکن مجھے ان پر غصہ آتا ہے۔ مجھے لگتا ہے انہوں نے میرے بابا کو جان بوجھ کر ناراض کیا ہے۔ اگر وہ ترکی میں رہتیں تو بابا مل جاتے۔ میں خود ڈھونڈ لیتا ان کو۔۔۔ مجھے ہر کھو جانے والی چیز کو ڈھونڈنا آتا ہے۔
    میرے پیارے اللہ! میں نے آپ سے کہا تھا، آپ میری ممی اور بابا کی صلح کروا دیں اور ہم سب اکٹھے رہیں لیکن آپ نے مجھے جو جواب بھیجا تھا، وہ دادا نے مجھے نہیں دیا اور اب دادا بھی کہیں گم ہو گئے ہیں۔
    میں بہت اداس ہوں یہاں پاکستان میں۔ آپ کو خط اس لیے لکھ رہا ہوں تاکہ آپ میرے لیے کچھ کریں۔
    کیا آپ میرے پَر اُگا سکتے ہیں تاکہ میں اڑ کر ترکی چلا جاوؑں اور ممی مجھے ڈھونڈتی رہ جائیں؟ مجھے پتا ہے آپ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ آپ کب مجھے اپنے بابا اور دادا سے ملوائیں گے؟ جلدی ملوا دیں۔۔۔ میں بڑا ہو گیا تو وہ مجھے نہیں پہچانیں گے۔ اب میں سونے لگا ہوں۔ آپ بھی سو جائیں۔
    آپ کا قلبِ مومن
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    بستر پر لیٹے رات کے اِس پچھلے پہر اس کاجسم کچھ دیر جھٹکے کھاتا رہا تھا یوں جیسے وہ نیند میں کسی چیز سے ڈر رہا تھا اور پھر یک دم اُس کی آنکھ کھلی تھی۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ وہ کانپ رہا تھا۔ کمرے میں نائٹ بلب کی روشنی تھی اور بہت دور سے کسی میوزک کی آواز آرہی تھی۔ کچھ عورتوں اور مردوں کے قہقہوں کی بھی۔
    قلبِ مومن بستر سے نکل آیا۔ اس نے کمرے کی لائٹ آن کر لی تھی۔ باہر سے آنے والی موسیقی اور ان قہقہوں کی آوازوں کا اب وہ عادی ہو چکا تھا۔ وہ ان کی وجہ سے نہیں جاگا تھا اور نہ ہی وہ آوازیں کبھی اس کی نیند کو روک سکتی تھیں۔
    وہ بہت بڑا اور آرام دہ کمرہ تھا جس میں وہ اس وقت موجود تھا۔ وہاں بہترین فرنیچر تھا اور کوئی بھی بچہ اس کمرے میں رہ کر خوش ہوتا۔ اپنے بستر سے اٹھ کر وہ کمرے میں دیوار کے ساتھ پڑی ایک اسٹڈی ٹیبل پر جا بیٹھا۔ دراز کھول کر اس نے ایک رائٹنگ پیڈ نکالا اور پھر لیمپ آن کر لیا۔ کاغذ پر وہ کچھ لکھنے لگا تھا۔ وہی سب کچھ جو وہ رات کے اس پہر اس طرح خواب میں ڈر جانے پر لکھتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے نام ایک اور خط۔۔۔ وہ خط شاید اس کی روح میں کہیں بہت پہلے لکھے گئے تھے جو اب اس پر اتر رہے تھے۔ قلبِ مومن کو ہر بات پر صرف اللہ یاد آتا تھا۔۔۔ خوش ہونے پر بھی، خفا ہونے پر بھی، کوئی چیز مل جانے پر بھی اور کچھ کھو دینے پر بھی، کسی چیز کی طلب ہونے پر اور کسی چیز کو پا نہ سکنے پر بھی۔
    اس کا خاندان کئی نسلوں سے اللہ کے ناموں کی خطاطی کرتا آیا تھا، پر قلبِ مومن کو خطاطی نہیں کرنا تھی، خط لکھنے تھے۔۔۔ اللہ کے ناموں اور اس کی آیات کی خوبصورتی نہیں بیان کرنا تھی۔ اس سے باتیں کرنا تھیں اور باتوں کا وہ سلسلہ ترکی سے پاکستان آکر رک گیا تھا۔ کئی مہینے رکا رہا تھا اور پھر دوبارہ شروع ہو گیا تھا۔ وہ تنہا رہ گیا تھا اور اداس بھی اور ناخوش بھی اور ناراض بھی اور اس کے پاس اللہ کو لکھنے کے لیے بہت کچھ تھا۔ پہلے اس کے خطوں میں شکوے اور شکایتیں نہیں ہوتی تھیں صرف ضرورتیں ہوتی تھیں۔ اب ضرورتیں پوری ہو گئی تھیں تو ان کی جگہ شکووں اور شکایتوں نے لے لی تھی۔ مگر مومن کو اللہ سے کوئی شکوہ نہیں تھا۔ اس کے سارے شکوے حسنِ جہاں سے تھے۔ اس کی ممی سے۔
    ٭…٭…٭
    وہ بڑی احتیاط سے گھر کے مین دروازے سے عقبی لان میں نکلا تھا۔ وہاں ایک درخت پر اس نے وہ لیٹر باکس کچھ ہفتوں پہلے ہی اس طرح رات کو لٹکایا تھا تاکہ کسی کو اس کے بارے میں پتا نہ چل سکے۔ عقبی لان کی باڑھ کے پار سوئمنگ پول کے گرد اس وقت وہ پارٹی جاری تھی جس کا شور اس کے کمرے تک آرہا تھا اور باہر لان میں وہ شور بہت بڑھ گیا تھا۔
    قلبِ مومن کو اس باڑھ کے سامنے سے گزر کر لان کے آخر میں آم کے اس درخت تک جانا تھا جس پر اس نے وہ لیٹرباکس لٹکایا ہوا تھا۔ اس قد آدم باڑھ کے سامنے سے گزرتے ہوئے مومن نے باڑھ کے درمیان جگہ جگہ چھوٹے بڑے سوراخوں سے پول کے اردگرد موجود مردوں اور عورتوں کو شراب کے گلاس پکڑے، جھومتے دیکھا وہ وہاں رکا نہیں۔
    آم کے درخت کے نیچے اندھیرا تھا۔ اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا لفافہ اپنے دانتوں میں دبا لیا اور درخت پر چڑھنے لگا۔ اسے اس پر چڑھنے کی اچھی خاصی پریکٹس ہو گئی تھی۔ وہ چند ہی منٹوں میں درخت کی ایک اونچی والی شاخ پر تھا اور اس شاخ پر بیٹھ کر اس نے سوئمنگ پول کے دوسری جانب دیکھا۔ وہاں بہت سارے مرد اور عورتیں جھوم رہی تھیں لیکن ناچنے والی عورت صرف ایک تھی اور وہ حسنِ جہاں تھی۔ تیز بے ہنگم موسیقی کے ساتھ ناچتے ہوئے وہ مومن کو بہت بری لگی اور اس نے اس سے نظریں چرائیں اوراپنے سر پر موجود ایک دوسری شاخ کے ساتھ بندھے لیٹر باکس میں اپنے منہ میں دبا لفافہ نکال کر ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ اس کا پاوؑں یک دم سلپ ہوا۔ اس نے شاخ پکڑ کر سنبھلنے کی کوشش کی۔ وہ ناکام ہوا اور پھر خوف کے عالم میں اس نے اپنے آپ کو اس اوپر کی شاخ سے نیچے گرتے پایا۔ اس نے بے اختیار ایک چیخ ماری تھی۔ زمین پر گرتے ہوئے اس نے ہوا میں اڑتے اس لفافے کو دیکھا جو ایک لمحہ کے لیے باہر گیٹ پر لگی روشنیوں میں آسمان سے نیچے گرتا نظر آیا تھا اور پھر قلبِ مومن کو ہوش نہیں رہا تھا۔
    ٭…٭…٭
    اس کی آنکھ جب دوبارہ کھلی تو وہ اپنے بستر میں تھا اور اس کا بازو ایک پلاسٹر میں لپٹا ہوا تھا۔ درد کی ایک لہر اس کے بازو میں اٹھی تھی مگر اس سے زیادہ گہری وہ شرمندگی تھی جو اسے حسنِ جہاں کو اپنے اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھے ان خطوں کو پڑھتے دیکھ کر ہوئی تھی۔
    ”آپ نے میرے لیٹرز کیوں پڑھے؟ یہ آپ کے لیے نہیں تھے۔” وہ بے اختیار ماں پر خفا ہوا تھا اور اس کی آواز پر کرسی پر بیٹھی حسنِ جہاں نے پلٹ کر اسے دیکھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں کوئی ایسا تاثر تھا جس نے قلبِ مومن کے غصے اور خفگی کو پل بھر میں غائب کیا تھا۔
    ”تم دادا کے پاس جانا چاہتے ہو؟” وہ کرسی سے اٹھ کر اس کے پاس آکر بیٹھ گئی تھی۔
    ”نہیں۔ میں بابا کے پاس جانا چاہتا ہوں۔” اس نے لیٹے لیٹے ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔
    وہ اسے دیکھتی رہی پھر اس نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔ ”تم ان کے پاس نہیں جا سکتے۔”
    ”وہ تو آسکتے ہیں۔” قلبِ مومن نے بے ساختہ کہا تھا۔
    ”وہ بھی نہیں آسکتے۔” اسے گمان ہوا اس نے حسنِ جہاں کی آنکھوں میں پانی دیکھا تھا۔ پانی ہی ہو سکتا تھا آنسو تو نہیں ہو سکتے تھے۔
    ”کیوں نہیں آسکتے؟” وہ بے چین ہوا۔
    ”اس لیے نہیں آسکتے کیوں کہ آپ سے ایک غلطی ہوئی ہے اور وہ آپ کو معاف نہیں کر سکتے۔” مومن کو جیسے کئی بار دہرائی بات یاد آئی۔
    حسن جہاں نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”تمہارے بابا اللہ کے پاس چلے گئے ہیں۔”
    ”مجھے پتا ہے اسی لیے میں نے اللہ کو لیٹرز لکھے ہیں۔” قلبِ مومن نے بھی اسی اطمینان سے کہا تھا۔
    وہ اس کا چہرہ دیکھتی رہی پھر اس نے مومن کا وہ ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا تھا جو پلاسٹر میں جکڑا ہوا نہیں تھا۔
    ”تم بابا کو ستارہ بنتے دیکھتے تھے نا؟ تمہارے بابا واقعی ستارہ بن گئے ہیں۔ آنہیں سکتے وہ اب ہمارے پاس۔” قلبِ مومن نے اس کی آواز بڑی دقت سے سنی تھی۔ وہ بہت مدھم آواز میں بول رہی تھی یوں جیسے وہ یہ سب کہنا بھی نہیں چاہتی تھی۔ دہرانا بھی نہیں چاہتی تھی۔
    ”ہم بھی نہیں جا سکتے؟” قلبِ مومن الجھا۔
    ”تم نہیں۔ شاید میں چلی جاوؑں۔” اس نے ماں کو کہتے سنا، وہ یک دم خوف کے عالم میں اٹھ کر ماں سے لپٹا تھا۔ حسنِ جہاں سے نفرت کرنے کے باوجود ناراض اور خفا ہونے کے باوجود۔
    ”میں آپ کو کبھی جانے نہیں دوں گا۔” وہ حسنِ جہاں سے لپٹ کر کہتا جا رہا تھا۔
    ”تم دادا کے پاس چلے جاؤ مومن۔” وہ اس سے کہہ رہی تھی۔ مومن اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا تھا مگر اندازہ کر سکتا تھا۔ وہ اس بار آنسو بہا رہی تھی، پانی نہیں۔
    ”نہیں، میں دادا کے پاس نہیں جاؤں گا، آپ کے ساتھ رہوں گا۔” اس نے ماں سے وعدہ کیا تھا یا شاید اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”کوئی جواب آیا؟”
    ”نہیں۔”
    ”میں نے پہلے ہی کہا تھا۔”
    ”تم کو یقین ہے وہ خط اللہ کو مل گئے ہوں گے؟”
    ”ہاں مل تو گئے ہوں گے اللہ کو سب مل جاتا ہے۔”
    ”کتنے خط بھیجے ہیں تم نے اللہ کو؟”
    ‘تیس۔”
    ”یہ تو بہت سارے ہیں۔”
    ”اللہ کو جواب تو دینا چاہیے۔”
    ”ہاں ٹیچر کہتے ہیں، اللہ سب کی سنتا ہے اور سب کو جواب بھی دیتا ہے۔” مومن نے اس بار بے حد یقین سے کہا تھا۔ وہ اس دن اسکول کے گراوؑنڈ میں اپنے دو قریبی دوستوں کے ساتھ بیٹھا اپنا یہ راز شیئر کر رہا تھا جو وہ عام طور پر نہیں کرتا تھا اور وہ دونوں بچے بے حد پرجوش اور متاثر ہوئے تھے ان خطوں کے بارے میں بات کر رہے تھے جو مومن نے اللہ کو بھیجے تھے۔
    ”تم لوگ کسی کو بتانا مت۔” ان سے بات کرتے کرتے مومن کو ہر بار کی طرح انہیں خبردار کرنا یاد تھا۔ دونوں نے بیک وقت نفی میں سرہلا کر اس سے راز نہ کھولنے کا وعدہ کیا تھا۔
    ”مومن اگر اللہ نے کبھی بھی جواب نہ دیا تو؟” ان دونوں بچوں میں سے ایک بچی ردا نے اس سے پوچھا تھا۔
    ”وہ ضرور دیں گے۔” مومن نے بے حد یقین اور اعتماد سے کہا تھا۔
    ”ہاں مومن! لیکن اگر جواب نہ آیا تو؟” اس بار دوسرے بچے بلال نے بھی جیسے اس بچی کی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔
    ”پھر میں اللہ سے خفا ہو جاوؑں گا۔” مومن نے یک دم اپنا پلاسٹر میں لپٹا بازو گود میں رکھتے ہئے کہا۔
    ”اور خفا ہو کر پھر تم کیا کرو گے؟” ردا کو پھر تجسس ہوا۔ قلبِ مومن ان کے لیے پراسرار چیز تھا۔
    ”میں دوبارہ اللہ کو کبھی خط نہیں لکھوں گا۔” اس نے بے حد سنجیدگی سے کہا۔دونوں بچوں کو جیسے تسلی نہیں ہوئی۔
    ”بس؟” ردا نے دوبارہ پوچھا۔
    ”ہاں اور میں نماز بھی نہیں پڑھوں گا۔ دعا بھی نہیں کروں گا۔” مومن نے جیسے مزید بتایا۔
    ”بس؟” ان بچوں کی جیسے ابھی بھی تسلی نہیں ہو پا رہی تھی۔
    ”اور ہمیشہ جھوٹ بولوں گا اور برے کام کروں گا۔” مومن نے اس بار پہلے سے بھی زیادہ سنجیدگی سے کہا۔
    ردا اور بلال نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر ردا نے بڑی ہمدردی سے اپنے لنچ باکس میں سے لنچ کھاتے ہوئے اس سے کہا۔
    ”میں دعا کروں گی، تمہارے لیٹر کا جواب ضرور ملے۔”
    ردا نہ بھی کہتی تو بھی مومن کو یقین تھا، اسے اللہ تعالیٰ خط کا جواب ضرور دیں گے۔ وہ دیر کر سکتے ہیں ،لیکن اسے نظرانداز نہیں کرسکتے تھے۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • الف — قسط نمبر ۰۴

    الف — قسط نمبر ۰۴

    میری پیاری بیٹی حسنِ جہاں!
    السلام علیکم
    تمہاراحال پوچھنا چاہتا ہوں۔ پوچھنے کی ہمت نہیں کر پا رہا۔ تمہارا حال تو جانتا ہوں میں اور میں ہی تو وجہ بنا ہوں تمہیں اس حال میں لانے کی۔ تمہیں کیا لکھوں۔ میری بیٹی کیا لکھوں؟
    بہت ساری باتیں ہیں جو تم سے کہنا چاہتا ہوں لیکن لفظ، لفظ اس کاغذ پر وہ لکھنے سے قاصر ہیں جو میرے دل میں ہے۔ لیکن تمہارا دوبارہ سامنا کرنے سے تمہارے نام یہ خط لکھنا آسان ہے میرے لیے۔
    تم سے کیا کہوں؟ کہ میں شرمندہ ہوں یا یہ اعتراف کروں کہ تم سے کہ میں گناہ گار ہوں کہ حسنِ جہاں تمہارا وہ گھاوؑ بھر جائے جو میرے ہاتھوں لگا اور تم مجھے معاف کر سکو۔
    میں نے اپنی ساری زندگی کینوس اور کاغذ پر صرف اللہ کی بڑائی اور صناعی بیان کرتے گزاری ہے۔ روشنائی اور رنگوں سے خطاطی کرتے عمربسر کی ہے، مگر یہ سمجھ نہیں پایا کہ اللہ کی بڑائی بیان کرتے کرتے غرور کا وہ کون سا لمحہ تھا جس میں میں خود کو بھی ”بڑا” مان بیٹھا تھا۔ نیک، متقی، پرہیزگار۔ گناہ نہ کر سکنے والا۔ یاد نہیں حسنِ جہاں! میں مومن سے کافر کس وقت ہوا تھا لیکن کبھی نہ کبھی کچھ تو ایسا کر بیٹھا تھا میں کہ ٹھوکر کھائی تو اللہ نے سنبھال نہیں، گرنے دیا۔ اور میں گرتا ہی چلا گیا۔
    اور اب جب یہ خط لکھنے بیٹھا ہوں تو یہ کاغذ آئینہ بن کر مجھے میرا وہ عکس دکھا رہے ہیں جن سے میں نظریں نہیں ملا سکتا۔
    اس عمر میں اکلوتی جوان اولاد کو کھو دینے کے بعد میری ز ندگی کا وہ محور گم ہو گیا ہے جس کے گرد میری زندگی گھومتی تھی۔ اب کچھ بھی یاد نہیں رہتا مجھے۔ نہ کھانا نہ پینا نہ سونا جاگنا، نہ ہی دنیا کی کوئی اور چیز، طہٰ سب کچھ لے گیا ہے میرا۔ بس میرا وجود چھوڑ گیا ہے اپنے اس پچھتاوے کے ساتھ جو ہر وقت میرا گلا گھونٹتا رہتا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا، اب اس پچھتاوے کا کروں کیا اور اس وجود کا مصروف کیا رہ گیا ہے۔
    وہ خطاطی جو کئی نسلوں سے خون کی طرح ہماری رگوں میں بہتی آئی تھی، طہٰ کے جانے کے بعد سوکھنے لگی ہے۔ اب میری اگلی نسلوں میں کوئی اللہ کی کبریائی اور بڑائی بیان کرنے والا نہیں آئے گا۔ یہ میری سزا ہے۔ میرے غرور کی۔ میں اس کی شکایت کسی سے نہیں کر سکتا۔
    طہٰ مٹی ہو گیا۔ میں مٹی بھی نہیں ہو سکتا۔ اس دنیا سے جانے کی باری میری تھی۔ مہلت اس کو نہیں ملی۔ اس عمر میں جو غم میرے حصے میں آیا ہے، وہ جھیلا نہیں جا رہا۔ یہ جو گھر ہے ،جس میں میں رہتا ہوں، یہاں کی ہر شے، ہر دیوار کے ساتھ اس کی یادیں لپٹی ہیں۔ میں ہر روز صبح اس کی یادوں کو درختوں کی بڑھی ہوئی شاخوں کی طرح کاٹ کر باہر پھینک آتا ہوں۔ وہ رات تک پھر سے اُگ آتی ہیں، پرانی یادوں کی رہ جانے والی جڑوں میں سے۔ میں یہ فصل کاٹتے کاٹتے تھکنے لگا ہوں۔ گھر طہٰ سے خالی ہو گیا اس کی یادوں سے خالی ہونے کو تیار نہیں۔
    وہ تمہارے ساتھ چلا گیا تھا تو اس گھر میں اس کی یادیں اس طرح نہیں اُگتی تھیں۔ میری نفرت اور غصہ ہر اُگنے والی یاد کو کھا جاتے تھے۔ اب ایسا نہیں ہوتا۔ اب میرے اندر کچھ بھی نہیں رہا۔ فخر، غرور، آن، غصہ سب ختم ہو گیا۔ اگر کچھ بچا ہے تو روشنی کی وہ کرن جو قلبِ مومن کے نام سے تمہارے گھر کو روشن کیے ہوئے ہے۔ میں ہر وقت اس کے بارے میں سوچتا ہوں جب اپنے اندر ،باہر ہر طرف اندھیرا ہو جاتا ہے تو اُس کے چہرے کی روشنی مجھے راستہ دکھانے لگتی ہے۔ کیا اسے اپنا یہ بوڑھا دادا یاد آتا ہے؟ مگر میں اسے کیوں یاد آوؑں گا؟ میں نے اُس کو دیا ہی کیا ہے؟ اسے پہلی بار دیکھا تو مجھے لگا طہٰ کا بچپن لوٹ آیا، وہ بچپن میں قلبِ مومن جیسا ہی تھا۔ ویسا ہی معصوم چہرہ، ویسی ہی میٹھی آواز، ویسے ہی سوال اورویسی ہی شرارتیں۔ پر قلبِ مومن تو شرارتیں نہیں کرتا۔ وہ تو بس طہٰ کیا کرتا تھا، قلبِ مومن تو بس سوال کرتا ہے اور ان سوالوں کا میرے پاس کوئی جواب نہیں۔ اس کا مجرم ہوں میں۔ میں نے اُس سے شرارتیں چھین کر یہ سوال تھما دیے۔ میں نے بڑا ظلم کیا۔
    میری بیٹی حسنِ جہاں۔ تم مجھے معاف کر دو۔ دل سے معاف کر دو۔ قلبِ مومن کو میرا بہت پیار دینا۔ اُس سے کہنا وہ اللہ کو ایک خط اپنے دادا کے لیے بھی لکھے۔ اللہ سے کہے۔ اُس کے دادا کا ہنر اُسے واپس کر دے۔ قلبِ مومن کا ہر خط اللہ کو پہنچ جاتا ہے، وہ تمہارا بیٹا ہے نا اس لیے۔
    والسلام
    قلبِ مومن کا دادا
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    قلبِ مومن نے اسٹریچر پر لیٹی حسنِ جہاں کو دیکھا جسے پیرامیڈکس گھر سے باہر کھڑی ایمبولینس کی طرف لے جا رہے تھے اور پھر اُس نے اپنے دادا کو دیکھا جو بہتے آنسوؤں کے ساتھ اُس اسٹریچر کے پیچھے آرہا تھا۔ قلبِ مومن اور اُن کی نظریں ملی تھیں اور قلبِ مومن کے چہرے کا خوف جیسے عبدالعلی کی آنکھوں میں جھلکا تھا۔ مومن سائیکل سے گرنے کے بعد اپنی چوٹوں کو بھول گیا تھا اور اپنی اُس سائیکل کو بھی جو رستے میں گری پڑی تھی۔ وہ بس ایمبولینس کی طرف بھاگا تھا اور دادا نے اُسے روک لیا تھا۔
    ”ممی کو کیا ہوا؟ میری ممی کو کیا ہوا؟” عجیب خوف کے عالم میں اُس نے عبدالعلی سے پوچھا تھا۔
    ”دعا کرو کچھ نہ ہو۔” عبدالعلی نے اُسے ساتھ لپٹاتے ہوئے کہا تھا۔
    ایمبولینس اب دور جا رہی تھی اور قلبِ مومن کو عبدالعلی کی ٹانگوں سے لپٹ کر جیسے عجیب سکون کا احساس ہوا تھا وہ کسی چڑیا کے بچے کی طرح کانپ رہا تھا۔ عبدالعلی نے اُسے گود میں اٹھا لیا۔ وہاں کھڑے آس پاس کے گھروں میں رہنے والے لوگ اب وہاں سے آہستہ آہستہ جانے لگے تھے۔ دادا کی گود میں چڑھے قلبِ مومن کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ ان لوگوں کی آنکھوں میں اس کے لیے ترس کیوں تھا۔ وہ اس عمر میں بھی اُس احساس کو پہچان سکتا تھا۔
    ”ممی کے پاس جانا ہے۔” اُسے ایک دم ماں کی یاد دوبارہ آئی تھی اور تب ہی اس نے عبدالعلی کی آنکھوں سے مسلسل بہتے ہوئے آنسو بھی دیکھے تھے۔ وہ شاید اُس کی ممی کے لیے رو رہے تھے۔ قلبِ مومن نے خود ہی سوچ لیا تھا، اُن آنسوؤں نے قلبِ مومن کے دل کو جیسے کچھ اور نرم کیا تھا عبدالعلی کے لیے۔
    آئی سی یو میں حسنِ جہاں بے ہوش پڑی ہوئی تھی اور عبدالعلی کے ساتھ قلبِ مومن بھی اُسے شیشے سے دیکھ کر بُری طرح بے چین ہوا تھا۔
    ”ممی کو کیا ہوا ہے دادا؟” اس نے عبدالعلی کو ہاتھ کو بے تابی سے ہلایا تھا۔ اپنی آنکھوں کو رگڑتے ہوئے عبدالعلی نے اُس سے کہا۔
    ”وہ بیمار ہو گئی ہیں۔” اُسے بتاتے ہوئے ان کی آواز بھر آئی۔
    قلبِ مومن نے اس بار ان آنسوؤں پر غور کیا۔ ”آپ کیوں رو رہے ہیں؟” اس بار وہ جیسے پوچھے بغیر نہیں رہ سکا۔
    ”مجھ سے ایک گناہ ہو گیا ہے مومن۔” عبدالعلی کا جیسے حوصلہ جواب دے گیا۔
    مومن کو یک دم یاد آیا، اُس کی ماں نے بھی تو کسی گناہ کی بات کی تھی جس کو اُس کے باپ نے معاف نہیں کیا تھا اور اب دادا بھی کسی گناہ کی بات کر رہے تھے۔
    ”ممی نے کہا تھا، اُن سے بھی کوئی گناہ ہوا تھا۔” اس نے بے اختیار عبدالعلی سے کہا۔
    ”نہیں تمہاری ممی نے کوئی گناہ نہیں کیا مومن۔ یہ میرے گناہ کی سزا ہے۔” وہ بلک بلک کر رونے لگے تھے۔
    قلب مومن کو اُس لمحے عبدالعلی پر بہت زیادہ ترس آیا۔ اس کا دل چاہا، وہ انہیں اپنے ساتھ لگا کر تھپکے جیسے وہ اُسے تھپکتے تھے۔
    ”اللہ تعالیٰ کیا ہم سب کو سزا دیتے ہیں؟ مجھے اُن سے بہت ڈر لگتا ہے دادا۔” عبدالعلی کا ہاتھ دوبارہ تھامتے ہوئے قلبِ مومن نے جیسے اپنا خوف اُن کی جھولی میں ڈالا۔
    ”اللہ سزا نہیں دیتا۔ ہم سب دیتے ہیں۔” انہوں نے جیسے اس ننھے بچے کے دل سے اُس خوف کو مٹانے کی کوشش کی۔
    ”کیا اللہ تعالیٰ ہم سے سزا دینے کو کہتے ہیں؟”
    ”مومن! مجھ سے وہ سوال مت پوچھو جس کا جواب میرے پاس نہیں۔” اس نے عبدالعلی کو ایک بار پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے دیکھا تھا۔ آئی سی یو کے شیشے سے اُس نے بستر پر آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی حسنِ جہاں کو دیکھا۔ قلبِ مومن کو اُس وقت احساس ہوا اُسے صرف حسنِ جہاں کی ضرورت تھی بابا کی نہیں وہ اُن کے بغیر رہنا سیکھ چکا تھا۔ وہ حسنِ جہاں کے بغیر رہنا سیکھنا نہیں چاہتا تھا۔
    اگلے دو دن وہ دادا کے ساتھ ہاسپٹل جاتا رہا اور پھر اُس نے بالآخر حسنِ جہاں کو آنکھیں کھولتے دیکھ لیا تھا۔ لیکن یہ وہ آنکھیں نہیں تھیں جنہیں وہ ہمیشہ سے دیکھتا آیا تھا۔ یہ آنکھیں خالی تھیں، اُن میں کچھ بھی نہیں تھا۔
    اُس آٹھ سال کے بچے نے وہ تبدیلی محسوس کی تھی اور بڑی شدت سے کی تھی۔ کچھ ہوا تھا اُس کی ماں کو مگر کیا ہوا تھا۔ یہ وہ جان نہیں پا رہا تھا۔
    ”ممی! آپ ٹھیک ہو گئیں میں نے اتنی دعائیں کی تھیں۔” اُس نے حسنِ جہاں سے لپٹ کر جیسے اُس میں وہی گرمی، وہی تمازت ڈھونڈنے کی کوشش کی جو ہمیشہ سے وہ اُس کی آغوش میں محسوس کرتا تھا۔ حسنِ جہاں نے اُسے لپٹا لیا تھا۔ قلبِ مومن نے اُسے کہتے سنا۔
    ”میں نے بھی بڑی دعائیں کی تھیں۔ میری تو کوئی دعا قبول نہیں ہوئی۔”
    قلبِ مومن نے حسنِ جہاں کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی مگر عبدالعلی کی آواز نے اُسے اپنی طرف متوجہ کر لیا، اُس نے انہیں ہاتھ جوڑتے۔ حسنِ جہاں سے کہتے سنا۔
    ”آپ کو معاف کر دوں گی۔ اپنے آپ کو کیسے کروں گی؟” وہ کیا پہیلی تھی جو عبدالعلی اور حسنِ جہاں کی گفتگو میں پنہاں تھی۔ وہ کیا گناہ تھا جو انہیں سزا دے کر گیا تھا اور وہ کیا شے تھی جس سے وہ محروم ہوئے تھے۔ قلبِ مومن سمجھ نہیں پایا۔ سمجھ میں آئی تھی تو صرف ایک بات۔ وہ دونوں اب اُس کے باپ کی بات نہیں کرتے تھے اور اُس کو پہلے کی طرح ڈھونڈ بھی نہیں رہے تھے مگر قلبِ مومن اب حسنِ جہاں سے کوئی ایسی بات نہیں پوچھنا چاہتا تھا جو اُس کی ماں کو رلاتی اور پتا نہیں کیوں اُسے لگتا تھا، وہ یہ سوال کرے گا تو اُس کی ماں روئے گی۔
    اللہ کو ایک اور خط لکھنا ضروری ہو گیا تھا کیوں کہ قلبِ مومن کو کوئی جواب اپنی دنیا اور اپنے رشتوں سے نہیں مل رہا تھا۔
    ”جب غلطیاں ہو جاتی ہیں تو وہ کیا وہ کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتیں اور جب گناہ ہو جائیں تو کیا ہمیشہ اُن کی سزا ملتی ہے۔ کیا اللہ معاف نہیں کر سکتا؟”
    قلبِ مومن کو اب اللہ تعالیٰ سے یہی سوال کرنے تھے کیوں کہ وہ اپنے گھر میں دو لوگوں کو تکلیف میں دیکھ رہا تھا اور وہ اُس تکلیف کی جڑ کو کھوجنا چاہتا تھا۔
    جنگل میں تنے پر دھرا اس کا لیٹر باکس غائب تھا۔ قلبِ مومن کو چند لمحے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آیا۔وہ شاید کسی غلط جگہ پر آگیا تھا راستہ بھول کر۔ آخر وہ اتنے دنوں کے بعد آیا تھا اُس جنگل میں۔ مگر قلبِ مومن کبھی راستہ نہیں بھولتا تھا۔ صدمے کی کیفیت میں وہ اُس درخت کے گرے ہوئے تنے کے ساتھ ساتھ آس اپس بہت سارے دوسرے گرے ہوئے درختوں پر بھی چڑھ چڑھ کر اپنے لیٹرباکس کو ڈھونڈتا رہا۔ اُسے اپنے لیٹر باکس کا کہیں نام و نشان بھی نہیں ملا تھا۔ بے حد مایوسی کے عالم میں وہ اُس دن واپس گھر آیا تھا اور اپنے کمرے میں جاتے ہی وہ جامد ہو گیا تھا۔ وہ لیٹرباکس ایک بیگ میں پڑا تھا۔ بیگ کی کھلی زپ سے آدھا اندر اور آدھا باہر۔ قلبِ مومن بے یقینی کی کیفیت میں اُس لیٹرباکس کو دیکھتا رہا۔ ممی کو کیسے پتا تھا کہ اُس نے وہ لیٹرباکس وہاں اُس جنگل میں اُس درخت پر رکھا تھا اور وہ اس کے اندر خط ڈالتا تھا۔ کیا انہیں یہ بھی پتا تھا کہ…
    اُسے مزید سوچنے کا موقع نہیں ملا۔ وہ حسنِ جہاں کی آواز تھی جس نے اُسے چونکایا تھا۔
    ”مومن! ہم پاکستان جا رہے ہیں۔”وہ بے اختیار پلٹا تھا۔ حسن جہاں کمرے کے دروازے میں کھڑی تھی۔
    ”کیوں؟” وہ حیران ہوا تھا۔ وہ جانتا تھا اُس کی ماں کا تعلق پاکستان سے تھا مگر اُس کا تو نہیں تھا۔
    ”رہنے کے لیے۔ اب ہم یہاں نہیں رہیں گے۔ پاکستان میں رہیں گے۔”
    مدھم آواز میں جو اُس نے حسنِ جہاں کی زبان سے سنا اس نے مومن کو دہلا دیا تھا۔ اُس کی ماں اسے وہاں سے کیوں کسی اور جگہ لے جانا چاہتی تھی، یہ اس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ وہ مزید سوال کرنا چاہتا تھا مگر وہ چلی گئی تھی۔ وہ جب سے ہاسپٹل سے آئی تھی، اس سے بہت کم بات کرتی تھی۔ اگر کسی سے بات کرتی تھی تو وہ دادا تھے مگر وہ ساری باتیں سرگوشیوں اور آنسوؤں کی زبان میں ہوتیں اور قلبِ مومن اُن دونوں چیزوں سے بے زار ہو گیا تھا۔ اُس پہیلی سے بھی اس کھیل سے بھی۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • الف — قسط نمبر ۰۳

    الف — قسط نمبر ۰۳

    میرے پیارے اللہ!
    آپ کیسے ہیں؟
    میرا نام قلبِ مومن ہے۔ میری عمر آٹھ سال ہے اور میں اپنی ممی کے ساتھ رہتا ہوں۔
    آپ مجھے جانتے ہیں نا ؟کیوں کہ آپ نے مجھے پیدا کیا۔ لیکن میں پھر بھی آپ کو اپنی ایک تصویر بھیج رہا ہوں تاکہ میں آپ کو یاد آجائوں۔
    آپ نے اتنے بہت سارے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ ہوسکتا ہے آپ مجھے بھول گئے ہوں حالانکہ ممی کہتی ہیں۔ ہم تو اللہ کو بھول سکتے ہیں، لیکن اللہ ہمیں کبھی نہیں بھولتا۔
    آپ کو بہت سارے لوگ خط لکھتے ہوں گے۔ میں سوچتا ہوں آپ اتنے سارے خط کیسے پڑھتے ہوں گے۔۔ پر ممی کہتی ہیں آپ اپنا ہر خط پڑھتے ہیں۔۔ وہ بھی خود۔۔۔
    مجھے یہ نہیں پتا کہ آپ کہاں رہتے ہیں لیکن ممی کہتی ہیں آپ وہاں رہتے ہیں جہاں کوئی نہیں رہتا۔۔آسمان پر۔۔ میں تو آسمان تک نہیں جا سکتا لیکن آپ کو خط یہاں سے بھیج رہا ہوں کیونکہ آپ تو اپنی ڈاک ہر جگہ سے لے لیتے ہیں۔۔ یہ بھی مجھے ممی نے ہی بتایا۔
    میرا خط جلدی سے پڑھ لیں اور پھر مجھے خط کا جواب ھیجیں۔ مجھے آپ سے ایک کام ہے۔۔ اور یہ کام کوئی اور نہیں کرسکتا۔ آپ میرے خط کا جواب بھیجیں گے تو پھر اگلے خط میں آپ کو وہ کام بتائوںگا۔
    میں نے خط پرurgent بھی لکھا ہے تاکہ آپ خط جلدی سے پڑھ لیں لیکن ممی کہتی ہیں، ہر کام صبر سے کرنا چاہیے کیونکہ صبر کرنا نیکی ہے، میں بھی صبر سے آپ کے خط کا انتظار کروں گا، تاکہ ایک نیکی بھی کرلوں کیونکہ ممی نے مجھے بتایا ہے، آپ کو نیکیاں اچھی لگتی ہیں، مجھے بھی اچھی لگتی ہیں۔
    میرے پاس ایک ڈائری ہے جس میں، میں ہر روز اپنی ہر نیکی لکھتا ہوں۔۔۔ اور اُسی ڈائری میں اپنے گناہ بھی لکھتا ہوں۔
    ممی کہتی ہیں۔ اس طرح کرنے سے مجھے یاد رہے گا کہ میں ہر روز اچھے کام زیادہ کرتا ہوں کہ بُرے کام۔
    میں روز رات کو اپنی ڈائری چیک کرتا ہوں اور اگر بُرے کام زیادہ کیے ہوں تو پریشان ہوتا ہوں۔
    ممی کہتی ہیں اگر میں توبہ کرلیا کروں تو میرے بُرے کام اور گناہ غائب ہو جائیں گے۔
    میں ہر روز ایسا ہی کرتا ہوں۔ توبہ کرکے سوتا ہوں تو صبح میری ڈائری خالی ہوتی ہے۔ ممی کہتی ہیں وہ آپ کے کہنے پر ربر سے میرے سارے گناہ مٹا دیتی ہیں۔
    Thank you for that.
    آپ بہت اچھے ہیں۔ اب آپ تھک گئے ہوں گے۔ میں بھی تھک گیا ہوں۔ آپ آرام کریں، میں بھی سونے جارہاہوں۔
    آپ کا قلبِ مومن!
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    دروازے کے باہر جو شخص کھڑا تھا، اُسے مومن نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اگر کبھی دیکھا بھی تھا تو اپنے باپ کی دکھائی ہوئی کسی تصویر میں اُس کا چہرہ اور اس کے سر داڑھی کے بال ایک جیسے سفید تھے۔ بہت ہلکی داڑھی، بہت گھنے سر کے بال اور بڑھاپے میں بھی ہیرے کی کنی جیسی چمکتی خوب صورت شہد رنگ آنکھیں جو قلبِ مومن پر جمی تھیں۔ کسی مقناطیس کی طرح۔
    ”قلبِ مومن؟” قلبِ مومن نے اُس دراز قد بوڑھے آدمی کی زبان سے اپنا نام سُنا، ایک اشتیاق بھرے لہجے میں۔۔۔ لیکن اُس نے جواب دینے کے بجائے اُس بوڑھے آدمی کے عقب میں اپنے باپ کے وجود کو کھوجنے کی کوشش کی۔
    وہاں کوئی نہیں تھا۔ صرف وہی بوڑھا شخص تھا اور اُس کا ایک بیگ۔ قلبِ مومن نے بے اختیار پلٹ کر اپنی ماں کو دیکھا۔ اُس کے چہرے پر آنکھوں میں اُسے وہی مایوسی نظر آئی جو اُس کے اپنے چہرے اور آنکھوں میں تھی۔
    ”مومن! تمہارے دادا۔۔” اُس نے ماں کو بالآخر کچھ بولتے سُنا۔
    وہ اب اُس کا ہاتھ پکڑے اُس شخص کی طرف بڑھا رہی تھی۔ مومن نے سر اُٹھا کر ماں کو دیکھا پھر سامنے کھڑے اُس شخص کو جو اب پنجوں کے بل اُس کے سامنے بیٹھ گیا تھا۔ اُس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے، اُسے دیکھتے ہوئے۔
    ”میرے بابا کہاں ہیں؟” اُس نے اُس شخص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پوچھا تھا۔
    ”وہ میرے پاس نہیں ہے۔” مومن کے سوال کا جواب اُس نے مومن کو نہیں دیا۔ اُس کے عقب میں کھڑی حسنِ جہاں کودیا تھا۔
    ”وہ میرے پاس کبھی نہیں آیا۔۔” اُس نے اس بار وہ جملہ قلبِ مومن کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ قلبِ مومن کو لگا اُس کے پیچھے کھڑی حسنِ جہاں پیچھے ہٹی ہے، بے اختیار گردن موڑ کر اُس نے ماں کو دیکھا۔ وہ واقعی اب اُس کے پیچھے نہیں تھی۔ وہ دروازے کی چوکھٹ سے پشت لگائے کھڑی تھی، یوں جیسے اپنے آپ کو سہارا دے رہی ہو۔ مومن نے پلٹ کر اُس بوڑھے شخص کی آنکھوں میں بھر آنے والے پانی کو حیرت سے دیکھا۔ وہ کیوں رو رہا تھا اُسے خود سے لپٹا کر۔۔۔ کیوں۔۔۔
    اُس کے سینے سے لگے، اُس کی آنکھوں سے گرتے آنسوئوں کی نمی کو اپنے چہرے پر محسوس کرتے ہوئے بھی مومن کو بے تاب کرنے والا واحد خیال اور احساس ماں کا تھا۔ عبدالعلی سے ملنے والا پہلا لمس اُس نے ”محسوس” ہی نہیں کیا تھا۔
    ”ڈیڑھ سال ہونے والا ہے اُسے مجھے اور مومن کو چھوڑ کر گئے ۔۔۔آپ کہتے ہیں، وہ آپ کے پاس نہیں آیا۔۔۔ پھر وہ کہاں گیا؟”
    اُس نے عبدالعلی کے ساتھ اندر کمرے میں آنے کے بعد حسنِ جہاں کے منہ سے یہ پہلا جملہ سُنا۔ اُس نے یہ جملہ عبدالعلی سے کہا تھا پھر اچانک اُسے مومن کا خیال آیا اور اُس نے مومن کو وہاں سے جانے کے لیے کہا۔
    ”مومن! تم اپنے کمرے میں جائو۔” اس نے ماں کی تحکمانہ آواز سُنی اور ایک لفظ کہے بغیر وہ وہاں سے اندر کمرے میں آگیا، مگر دروازے کی جھری کو بند کیے بغیر وہ اُس کمرے میں جھانکتا رہا۔ جہاں عبدالعلی اور حسنِ جہاں کھڑے تھے۔ وہ دونوں اس وقت اُسے ایک راز کی طرح لگ رہے تھے۔۔۔ ایک معمہ۔۔۔ جسے وہ حل کرکے اپنے باپ تک پہنچنا چاہتا تھا مگر ہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے چُپ تھے۔
    ”آپ بیٹھیں۔” اُس نے حسنِ جہاں کو کہتے سُنا اور عبدالعلی کو ایک کُرسی پر بیٹھتے دیکھا، وہ دیواروں پر لگی طہٰ کی بنائی ہوئی خطاطی دیکھ رہا تھا۔
    ”آپ کہتے ہیں، وہ آپ کے پاس نہیں آیا پھر وہ کہاں گیا؟” اُس نے بالآخر حسنِ جہاں کو بولتے دیکھا۔ وہ آگے آئی اور عبدالعلی کے قدموں میں بیٹھ گئی تھی۔ اُس نے عبدالعلی کے پائوں کو چھو کر روتے ہوئے کہا۔
    ”اب بس۔۔۔ جو بھی سزا ہے۔۔ کاٹ لی میں نے۔۔اُس سے کہیں، معاف کر دے مجھے۔۔”
    دروازے کی جھری سے اندر جھانکتے قلبِ مومن کا وجود پتے کی طرح لرزنے لگا۔ اُسے ماں کا کسی کے سامنے جُھکنا اچھا نہیں لگا، کسی کے سامنے بھی۔
    عبدالعلی بے اختیار اپنی جگہ سے اُٹھے تھے۔ انہوں نے حسنِ جہاں کے سر پر ہاتھ رکھا پھر روتی ہوئی حسنِ جہاں کو بازوئوں سے پکڑ کر اُٹھایا۔
    ”تم میرا یقین کرو بیٹا، وہ میرے پاس نہیں آیا۔۔۔ ڈیڑھ سال وہ میرے پاس رہتا اور میں اُسے تم دونوں کے بغیر رہنا دیتا۔۔۔ میں بے رحم نہیں ہوں۔۔۔ اتنا تو نہیں ہوں۔۔۔” اُس نے عبدالعلی کو عجیب بے چارگی کے عالم میں کہتے سُنا۔
    ”پھر کہاں گیا ہے وہ۔۔۔؟ میرے پاس نہیں۔۔۔ آپ کے پاس نہیں تو کہاں ہے وہ۔۔۔” حسنِ جہاں اب عجیب ہذیانی انداز میں کہہ رہی تھی۔
    قلبِ مومن نے دروازے کی جھری کو بند کردیا۔ اُس سے اپنی ماں کو اس حالت میں دیکھا نہیں جارہا تھا۔ وہ اتنے دن نہیں روئی اور آج رو رہی تھی تو۔۔۔ آخری جملہ جو اُس نے عبدالعلی کو کہتے سُنا تھا وہ ایک ہی تھا۔
    ”میں اس کو ڈھونڈوں گا۔۔۔ شاید وہ قونیہ چلا گیا ہو۔۔۔ اپنے درویش ساتھیوں کے پاس۔” یہ وہ آخری جملہ تھا جو مومن نے اُن دونوں کی گفتگو کا سُنا تھا۔ وہ اُس وقت بے حد رنجیدہ تھا۔ بے حد ناراض، بہت اُداس۔۔۔۔ اور وہ کسی بھی کیفیت کو سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔۔۔ اُسے بس رونا آرہا تھا بالکل اُسی طرح جیسے اُس نے حسنِ جہاں کو روتے دیکھا تھا۔۔۔۔ ہچکیوں کے ساتھ۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • الف — قسط نمبر ۰۲

    الف — قسط نمبر ۰۲

    پیارے بابا!
    میں جانتا ہوں، اس خط کے لفافے پر میرا نام دیکھ کر آپ چونکے ہوں گے پھر بہت دیر تک آپ نے اس لفافے کو کھولا نہیں ہو گا۔ میرا نام دیکھتے رہے ہوں گے اور آپ کو سب کچھ یاد آتا رہا ہو گا۔ جو میں آپ سے کہہ کر گیا تھا اور جس پر میں آپ سے نادم ہوں۔ آپ نے سوچا ہو گا، خط کھولے بغیر لفافے کو پھاڑکر پھینک دیں مگر یہ آپ سے ہو نہیں سکے گا کیوں کہ میں آپ کا اکلوتا بیٹا ہوں۔ طہٰ عبدالعلی۔ جسے آپ نے میری ماں کے جانے کے بعد چڑیا کے بچے کی طرح تن تنہا پالا اور جس کے لیے آپ نے اپنی زندگی وقف کر دی۔ لفافہ پھاڑ کر پھینک دیتے تو بھی دوبارہ ٹوکری سے نکال کر کاغذ کے ٹکڑوں کو جوڑ لیتے۔ دل تو ہے نہیں یہ کہ ٹوٹ کر نہ جڑتا۔
    کیا لکھوں آپ کے نام اس خط میں؟ اپنی شرم ساری، اپنی ندامت یا اپنی بے بسی۔ بابا !آپ کو چھوڑ کر گیا تھا پر آپ سے کٹ کر رہا نہیں جا رہا۔ آپ یاد آتے رہتے ہیں، زیادہ نہیں بس ہر سانس کے ساتھ۔
    آپ کا دل دکھایا ہے پر میرے پاس اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ کیا کرتا؟ آپ کو چھوڑ کر کم از کم زندہ تو رہ رہا ہوں۔ حسنِ جہاں کو چھوڑ دیتا تو یہ بھی نہ کر پاتا۔ خط پڑھ رہے ہوں گے تو حسنِ جہاں کے نام پر آپ کے ماتھے پر بل آیا ہو گا۔ میں جانتا ہوں، آپ اب بھی اس کے لیے اپنا دل بڑا نہیں کر پائے ہوں گے۔ میں نے زندگی میں پہلی بار آپ کو کسی سے نفرت کرتے دیکھا ہے اور وہ بھی اس سے جس سے محبت ہے۔ مجھے تو اندازہ ہی نہیں تھا بابا! آپ نفرت نام کی کسی شے سے واقف بھی ہیں۔
    آپ تو اللہ سے محبت کرتے ہیں اور اللہ کی کائنات سے۔ اس کائنات میں ایک حسنِ جہاں بھی ہے جسے اللہ نے دنیا میں پیدا کر کے اس کو میرے دل میں رکھ دیا ہے۔ وہ ویسی ہی ”روح” رکھتی ہے جیسی آپ اور میں، ویسا ہی دل جیسا آپ اور میں۔ پھر بابا! آپ مجھے حسنِ جہاں سے محبت کرنے کے لئے معاف کیوں نہیں کر سکتے۔
    میرے بس میں ہوتا اسے پیار نہ کرتا تو میں کبھی نہ کرتا۔ میرے بس میں ہوتا اس سے ترک تعلق کرنا تو میں کب کا کر چکا ہوتا۔ پر میرے بس میں کچھ بھی نہیں۔ اسے دل سے نہیں نکال پاتا اور آپ کو دماغ سے۔ میں آج کل دل اور دماغ کی اس جنگ میں صرف ایک بے کار وجود بن کر رہ گیا ہوں۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    آپ کی بددعائیں لگ رہی ہیں مجھے۔ میں جانتا ہوں، یہ پڑھتے ہوئے آپ بے قرار ہوئے ہوں گے کیوں کہ آپ تو مجھے بددعا دے ہی نہیں سکتے نا لیکن آپ کا دل دکھایا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے، اللہ ناراض نہ ہوا ہو مجھ سے۔
    اب اللہ کا نام نہیں لکھ پاتا میں۔ لکھتا بھی ہوں تو وہ نام میری روح سے نہیں بس ہاتھوں سے لکھا جاتا ہے۔ لوگ میرے ہاتھ سے بنی خطاطی کو اب نہیں دیکھتے، دنگ ہونا تو دور کی بات ہے اور خریدنا تو اس سے بھی دور کی بات۔
    میں جانتا ہوں، آپ کہیں گے۔ دل میں حسنِ جہاں بسا کر اللہ کا نام لکھو گے تو یہی ہو گا۔ شاید شرک کر بیٹھا ہوں مگر توبہ کی توفیق بھی نہیں ہو پا رہی۔ طہٰ عبدالعلی بڑی تکلیف میں ہے آج کل۔ اللہ کو پکارتا ہوں تو وہ نہیں سنتا۔ آپ کو پکار رہاہوں کیوں کہ اللہ آپ کی ہمیشہ سنتا ہے۔ اس سے کہیں طہٰ کو معاف کر دے۔ طہٰ کے دل سے حسن جہاں مٹا دے، وہاں اپنا ٹھکانا بنائے۔ طہٰ کے ہاتھوں اور روح کو اس قابل رہنے دے کہ وہ اللہ کے نام لکھے تو لوگوں کے دلوں کو موم کر دے۔ اللہ کی کبریائی کے خوف سے۔ منور کرے اللہ کی محبت کے نور سے۔ پر یہ تب ہی ہو گا جب آپ طہٰ کو معاف کریں گے۔ بابا مجھے معاف کر دیں۔
    آپ کا نافرمان بیٹا
    طہٰ عبدالعلی
    ٭…٭…٭
    قلبِ مومن نے بے یقینی کے عالم میں اپنی ماں کے ہاتھوں سے وہ لفافہ لیا۔ اس پر اس کا نام لکھا تھا بے حد خوبصورت رسم الخط میں۔
    ”اللہ تعالیٰ کی ہینڈرائٹنگ کتنی خوب صورت ہے۔”
    اس نے اس لفافے پر نظر ڈالتے ہوئے ایک لمحہ کے لیے سوچا۔ پھر سر اٹھا کر اپنی ماں کو دیکھا جس کے ہاتھوں کی کپکپاہٹ اس نے لفافہ لیتے ہوئے نوٹس کی تھی۔ وہ سرتاپا لرز رہی تھی۔ اپنی مسکراہٹ کو ہونٹوں میں اور آنسووؑں کو آنکھوں میں چھپانے کی کوشش کرتے ہوئے اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا یا شنگرفی یا گلابی۔ پتا نہیں وہ کون سا رنگ تھا۔ کلر بیلٹ کے سارے رنگوں سے زبانی واقف ہونے کے باوجود مومن بوجھ نہیں سکا مگر کم از کم وہ زرد رنگت نہیں تھی۔ وہ زرد رنگت جو وہ اپنے باپ کے جانے کے بعد اپنی ماں کے چہرے پر دیکھنے کا عادی ہو گیا تھا۔
    وہ ایک خوب صورت سرخ گلاب کی طرح کھل اٹھی تھی یا شاید جی اٹھی تھی۔ وہ ماں کو مبہوت دیکھتا رہا۔
    ”تم خط نہیں پڑھوگے؟” اس کی ماں نے جیسے اسے یاد دلایا۔
    ”ہاں، مگر اسے کھولا کس نے؟” اس نے یک دم لفافہ پلٹا اور اس کا اٹھا ہوا فلیپ دیکھا۔
    ”میں نے۔” کچھ مجرمانہ سے انداز میں اس کی ماں نے کہا۔ وہ راز جو اس کے اور اللہ کے درمیان تھا وہ اس کی ماں بھی جان گئی تھی اور یہ بات اس وقت مومن کو اچھی نہیں لگی تھی۔ وہ چپ چاپ خط لیے اندر آگیا۔
    میرے پیارے قلبِ مومن!
    تمہارے سارے خط اللہ تک پہنچ گئے ہیں اور انہوں نے پڑھ بھی لیے ہیں۔ وہ تمہیں خود ان سب کا جواب بھیجنا چاہتے تھے لیکن پھر انہوں نے سوچا، وہ تمہارا جواب میرے ذریعے تم تک پہنچا دیں۔ میں 15تاریخ کو آرہا ہوں۔ تمہاری سب باتوں کا جواب لے کر۔
    تمہارا دادا
    عبدالعلی
    ٭…٭…٭
    جس بے قراری اور بے چینی سے اس نے لفافہ کھول کر خط پڑھنا شروع کیا تھا۔ اسی بے قراری کے ساتھ ہی اس نے خط ختم بھی کیا۔ بے حد مایوسی کے ساتھ۔
    ”تو یہ خط اللہ تعالیٰ نے لکھ کر نہیں بھیجا۔” اس نے عجیب مایوسی سے سوچا۔
    ”پردادا یہاں کیوں آرہے ہیں؟”
    اس کے ذہن میں اگلا سوال ابھرا۔ مگر اس سے بھی بڑا سوال یہ تھا کہ دادا کو یہ کیسے پتا چلا کہ اس نے اللہ تعالیٰ کو خط بھیجا تھا اور دادا کو کیوں اس کے خطوں کا جواب دینے کے لیے اللہ نے چنا۔ کیا وہ بھی اللہ کے پاس رہتے ہیں۔
    سوالات کا ایک انبار تھا جس نے اس کے ذہن کا گھیراؤ کیا ہوا تھا۔
    ”مومن۔” وہ اپنی ماں کی آواز پر بے اختیار پلٹا۔ وہ پتا نہیں کب اس کے پیچھے کمرے میں آگئی۔
    ”اللہ تعالیٰ نے خود خط کیوں نہیں لکھا مجھے؟” اس نے ماں کو دیکھتے ہی بے ساختہ کہا۔
    ”خود نہیں لکھتے وہ، ان کے پاس بہت سارے لوگ ہوتے ہیں کام کرنے کے لیے۔ انہوں نے کسی کو کہہ دیا ہو گا یہ کام کرنے کے لیے۔” اس کی ماں نے اس کے ہاتھ میں پکڑا خط اس کے ہاتھ سے لے کر اسے بڑی احتیاط سے تہہ کر کے لفافے میں ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”انہوں نے دادا سے کہا ہے۔” مومن کو لگا جیسے اس کی ماں نے خط دھیان سے نہیں پڑھا تھا۔
    ”ہاں، میں جانتی ہوں۔” مدھم آواز اسے سنائی دی۔ اس کی ماں اب خط کو اس کی اسٹڈی ٹیبل پر رکھتے ہوئے اس پر ایک پیپر ویٹ رکھ دی تھی۔
    ایک لمحہ مومن کو خیال آیا، وہ ماں کو بتا دے کہ اس نے خط میں اپنے باپ کو بھیجنے کا کہا تھا۔ ایک لمحہ کے لیے ہی وہ جھجکا اور پھر اس نے ماں سے کہہ دیا۔
    ”لیکن میں نے تو بابا کو بلایا تھا، دادا کو تو نہیں بلایا تھا۔” اس کے شکوے کا جواب اس کی ماں نے ایک پراسرار مسکراہٹ سے دیا مگر اس مسکراہٹ کے ساتھ اس کی آنکھوں میں بہت سارے قمقے سے روشن ہوئے تھے۔
    ”وہ بھی تو آرہے ہیں۔”
    وہ ساکت ہوا پھر خوشی سے بے قابو۔
    ”آپ کو کیسے پتا چلا؟” مومن بے اختیار چلایا تھا۔
    جواب میں ایک اور مسکراہٹ آئی اور پھر ایک ہنسی۔ اس نے باپ کے جانے کے بعد آج پہلی بار ماں کو کھلکھلا کر ہنستے دیکھا تھا۔ سرخ ہوتے، چمکتے چہرے کے ساتھ۔ مومن کو یقین آگیا تھا کہ اللہ تعالیٰ واقعی اس کے بابا کو بھیج رہے تھے اور وہ بھی اس کے دادا کے ساتھ جن سے وہ کبھی نہیں ملا۔ مگر اس سے بھی زیادہ ناقابل یقین بات یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کو اس کے سارے خط مل گئے اور انہوں نے اس کے خط پڑھ بھی لیے۔
    اس کی ماں کمرے سے جا چکی تھی اور مومن وہیں کھڑا تھا۔ اپنے دل کی دھڑکنوں کو گنتا۔ وہ کل اسکول میں سب کو بتا سکتا تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ کو جو خط لکھتا تھا، وہ اللہ کو مل گئے تھے اور اسے ان کا جواب بھی ملنے والا تھا مگر اس سے پہلے اسے ایک کام کرنا تھا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • الف — قسط نمبر ۰۱

    الف — قسط نمبر ۰۱

    انتساب

    خدا آسمانوں اور زمین کا نور ہے۔ اس کے نور کی مثال ایسی ہے کہ گویا ایک طاق ہے جس میں چراغ ہے اور چراغ ایک قندیل میں ہے اور قندیل (ایسی صاف شفاف ہے کہ) گویا موتی کا سا چمکتا ہوا تارہ ہے اس میں ایک مبارک درخت کا تیل جلایا جاتا ہے (یعنی) زیتون کہ نہ مشرق کی طرف ہے نہ مغرب کی طرف (ایسا معلوم ہوتا ہے کہ)اس کا تیل خواہ آگ اسے نہ بھی چھوئے جلنے کو تیار ہے(پڑی)روشنی ہی روشنی(ہورہی ہے) خدا اپنے نور سے جس کو چاہتا ہے سیدھی را ہ دکھاتا ہے اور خدا (جو مثالیں) بیان فرماتا ہے تو لوگوں کے(سمجھانے کے) لئے اور خدا ہر چیز سے واقف ہے۔
    سورة النور آیت نمبر ٣٥
    ——————————————————————————————————————————————————————————-
    پیش لفظ

    بچپن میں اردو کی کتاب میں ایک کہانی پڑھی تھی۔ ایک بچہ اللہ کے نام خط لکھتا ہے جو پوسٹ آفس والوں کو ملتے ہیں تو پوسٹ آفس والے اُس غریب اور یتیم بچے کو اللہ کی طرف سے خط اور پیسے بھیجنا شروع کردیتے ہیں۔ وہ کہانی ہمیشہ مجھے یاد رہی کیونکہ اللہ سے میرے سوال اور جواب بھی آپ سب کی طرح ہمیشہ چلتے رہتے ہیں اور بہت دفعہ اللہ کو خط لکھنے کو دل چاہتا ہے۔۔۔
    یہ بتانے کے لئے کہ مجھے اس سے بہت محبت ہے۔۔۔۔۔ویسی محبت اور کسی سے نہیں۔۔۔تو الف اسی محبت سے میری اسی دائمی محبت کے نام۔۔۔
    عمیرہ احمد

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • میری ٹیڑھی زلفیں — غزالہ پرویز

    میری ٹیڑھی زلفیں — غزالہ پرویز

    ’’سیدھی مانگ نکالو ، سیدھا میاں ملے گا۔‘‘
    میرے گھنگھریالے بالوں میں چنبیلی کے تیل کی چمپی کرتے ہوئے میری معصوم سی ماں کی معصومانہ التجا ہوتی ۔ پلنگ پر بیٹھی میری ماں مجھے اپنے دونوں پاؤں سے جکڑ کر فرش میں بٹھا لیتیں۔ نہ چوں کرنے کی اجازت ہوتی اور نہ چاں اور سیدھی سادھی، بھولی بھالی ، نادان نادیہ سی میں سر جھکائے ’’آہ، اوہ اور آؤچ‘‘ کو حلق سے باہر نکلنے نہ دیتی۔ چنبیلی کے تیل کی چبھتی ہوئی تیز خوشبو جسے میں بدبو گردانتی تھی اس پر ناک سکیڑنے پر بھی ایک چپت پڑتی اور’’چھچھوندر‘‘سننے کو ملتا اور وہ میری ناک کے اوپر کنگھے کا آخری دندانہ رکھتیں اور پیشانی کے بیچوں بیچ کنگھا گھسیٹتی پیچ در پیچ، خم در خم زلفوں میں سے کنگھے کو کھینچتے کھانچتے ، کھوپڑی پر رگڑ ڈالتی بلکہ کھرچتی ہوئی گردن کی گدی تک پہنچ کہ دم لیتیں اور ایسے حساب کتاب سے آدھی زلفوں کو دائیں اور آدھی کو بائیں جانب کر لیتیں کہ مجال ہوتا کہ ایک بھی لٹ آوارہ گردی کی مرتکب ہو۔
    ’’جانے کِس پر گئے ہیں تمہارے بال؟ ایسے جیسے الجھا اون کا گولا۔‘‘
    وہ تیل سے چپڑے بالوں کو مزید کھینچ تان کے سیدھا کر لیتیں اور نیلے، لال ربن کو چٹیا میں لپیٹتی چھپکلی کی دم کے مانند بالوں کی نوک تک کس دیتیں اور پھر اسے بل دے کر دونوں کانوں کے اوپر ایک پھول سا بنا دیتیں اور ساتھ ہی ایک پیار بھری چپت رسید کرتے ہوئے کہتیں:
    ’’اللہ سیدھا سا شہزادہ دُلہا دے۔‘‘
    اور لفظ ’’دُلہا‘‘ پر میں دوپٹے کا کونا دانتوں تلے دبا لیتی اور آنکھیں بند کیے تصورات میں خود کوطلسماتی دنیا میں پاتی اور ریپنزل سی ٹاور کی کھڑکی میں خود کو کھڑا پاتی اور شہزادہ میرے تیل سے چپڑی چٹیا تھامے نیچے کھڑا نظر آتا اور پھر اچانک میرے اسپرنگ نما گھنگھریالے بال اوپر کے جانب آجاتے اور شہزادہ اس پر مزے سے گول جھولتا اوپر میرے پاس۔ ’’ہائے‘‘ میں ہنس پڑتی، لیکن امی کو توجیسے ستھرے ،کھینچ کے سیدھے ہوئے بالوں کی چٹیا کو دیکھ کر سکوں ہوتا کیوں کہ ستھرے بال جیسے کہ ستھرے مستقبل کے ضامن ہوں۔ اگرچہ کہ آرام سے کبھی نہ چٹیا بنی میری مگر غلطی سے ایک لٹ بھی رہ جاتی اور اسپرنگ کے مانند جھولنے لگتی، تو امی مستقبل کے اندیشوں میں غوطے کھانے لگتیں۔ ان کا خیال تھا کہ:
    اس زلف کے پھندے سے نکلنا نہیں ممکن
    ہاں مانگ کوئی راہ نکالے تو نکالے
    اور ہائے رے ہائے ایسی راہ نکالی کہ بس

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    میری امی کی زندگی کے مقاصد میں سے ایک مقصد تھا میرے زلفوں کو سیدھا کرنا۔ کنگھا ہاتھ کیا لگتا کہ میں پکڑ میں آجاتی میرے بالوں سے جنگ شروع ہوجاتی۔
    ’’ہائے امی میں ایسی ہی بھلی۔‘‘اب وہ کیا سمجھتیں کہ ۔۔۔ یاں پلیتھن نکل گیا واں غیر ٭ اپنی مکی لگائے جاتا ہے ۔
    بچپن گزرا اور وقت کے ساتھ میں چلی چھٹک کے دامن ان کے دستِ ناتواں سے۔
    اور میرے گیسو امی کے ہاتھوں سے پھسلے تو بالکل ہی آوارہ ہوئے۔
    ’’اری بیٹی کیا کورا سر اور کورے بال لیے گھوم رہی ہو۔ تیل ڈالو بالوں میں، بنا تیل کے صورت سے ہی ابلا سبلا لگتی ہو۔‘‘ میں اِٹھلاتی اور انہیں کا جملہ انہیں پر ٹکا دیتی۔
    ’’چھچھوندر کے سر میں چنبیلی کا تیل، سبحان تیری قدرت، سبحان تیرے کھیل‘‘ اور وہ معصومیت سے کہتیں:
    ’’کیا بادام کے تیل کی مالش کردوں؟‘‘ اور میں کھلکھلاتی پھر اِدھر پھر ادھر اڑنچھو ہو جاتی۔ اب اماں بے چاری کیا جانیں روکھے ، پھولے، بکھرے بال فیشن ہیں۔
    ہماری اماں سدا کی سیدھی اور معصوم۔ شاید پرانے وقتوں کی عورتیں ایسی ہی ہوتی ہوں گی لکیر کی فقیر سی لیکن نہیں! پھر کٹنی کسے کہتے تھے؟ ارے بھئی میری بلا سے۔ ہاں تو میری امی کے لیے بال بنانا انتہائی اہم کام تھا جسے وہ بڑی فرصت اور فراغت اور محبت سے سر انجام دیتی تھیں۔ سکون و اطمینان سے تیل، کنگھی، سرمہ اور آئینہ لے کے بیٹھتیں اور ساتھ گنگناہٹ جاری رہتی اور وہ بھی رخصتی کے گیت گیتوں کی اور لازماً آنسو آنکھوں کے کونے بھگو دیتے۔ کنگھی چوٹی ہی ان کے لیے بال بنانا تھا اور یہی ان کا سنگار تھا۔ سیدھی مانگ، سیدھے سمٹے بال اور سیدھی چٹیا اور آخر میں اس پر گھر کے موتیے کے پھولوں کو دھاگے میں پرو کر لڑیاں بناتیں اور چوٹی میں لپیٹ لیتیں اور ساتھ گنگناتی ’’جومیں ہوتی راجا بیلا چنبیلیا ، مہک رہتی راجا تورے بنگلے پر۔‘‘اور میں مبہوت سی بیٹھی انہیں دیکھتی رہتی اورکبھی چھیڑ بھی دیتی:
    ’’کس کے بنگلے پر نظر ہے؟‘‘ اور وہ مسکرادیتیں۔ میں اکثر سوچتی اور ایک دن پوچھ ہی بیٹھی آخر منہ پھٹ جو ٹھہری یعنی گز بھر لمبی زبان جو تھی۔
    ’’امی آپ کی تو ہمیشہ سے مانگ ستھری سیدھی رہی، سجے سنورے بال تو پھر سیدھا میاں کیوں نہ ملا؟‘‘
    بس جناب چپت تو چپت تین حرف بھی سن لیے۔
    ’’زبان چلتی ہے قینچی سی تمہاری تالو سے زبان کو لگا۔ اپنے باپ کے لیے ایسا بول؟‘‘
    پھر خود ہی ذرا روہانسی سی ہوکر بولیں:
    ’’کیا پتاکس کج رو سے بچ گئی۔‘‘
    فوراً موضوع پلٹ کر کہنے لگیں:
    ’’اپنی خیر منا یوں سر جھاڑ منہ پھاڑ نہ بنی رہا کرو۔‘‘
    لیکن میں ٹھہری چکنا گھڑا سوچا سیدھی مانگ پر ایسے غصے والے جلالی شوہر سے تو میری ٹیڑھی مانگ ہی بھلی اور زلفِ پرخم کو دل کھول کہ خوب آوارہ کیا۔ چوٹی سے ربن نکال پھینکا، دو چوٹیاں بنیں ایک، پھر چٹیا کھلی تو پونی بنی، پونی کھلی تو شانوں تک چڑھ آئی اور پھر لیڈی ڈیانا کٹ اور زندگی ہوئی ڈن ڈنا ڈن ڈن اور امی بے چاری کئی وسوسوں کے فشار میں میری لٹوریوں سے الجھتی ہی رہ گئیں۔
    ’’کیا جٹا دھاری فقیرنی بنی گھومتی ہو، تیل ڈالو، سیدھی مانگ نکالو سیدھا میاں ملے گا۔‘‘
    اور میں آڑے ٹیڑھے مانگ کے ساتھ لچھے دار گیسوں کو دائیں بائیں جھلاتی گنگناتی ’’لوگ کہیں موہے باوری، میرے الجھے لمبے بال۔‘‘ امی کی نظروں سے اِدھر ادھر ہوجاتی اور وہ بے چاری بڑبڑاتی رہ جاتیں۔
    ’’مل گیا نہ لچھے دار تو نہ کہنا۔ ہنہ۔ تری مرضی ہے اگر یونہی تو لے یونہی سہی بنا لو دل کھول کر مجھے نکو۔‘‘
    جانے کیوں ایسا لگنے لگا مجھے دیکھتے ہی امی کو ڈھولک کی تھاپ، گیندے کے پھول،سہرا، ابٹن، رت جگے اور گلگلے کی کڑاہی نظر آنے لگتی ہے اور مکھ پر رمال دھرے۔ ’’امی جان سلام‘‘ کہتے دُلہا میاں نظر آنے لگتے ہیں۔
    اور پھر امی نے میری ضد بازیوں کے آگے یہ بولنا بھی چھوڑ دیا اور یوں یہ خیال بھی عین غین ہوا۔
    وقت کے ساتھ ساتھ درمیان کی سیدھی مانگ کبھی دائیں جانب جھکی تو کبھی بائیں جانب کھسکی، کبھی ننھی سی مانگ ہوئی تو کبھی سرے سے ہی غائب ہوئی اور پھر ’’زگ زیگ مانگ‘‘ فیشن میں آگئی۔ میں اور فیشن سے ایک قدم بھی پیچھے نہ نہ اللہ نہ کرے۔
    اسکول تھا یا کالج یا پھر یونیورسٹی میری زلفوں کے بل مذاق کے نشانے پر رہتے، خوب لطیفے بنتے، ٹھٹھے لگتے۔
    ’’بالوں کا گچھا‘‘، بھیڑ کی دم، برتن دھونے کا جونا، ’’جھاڑ جھنکار‘‘ الغرض جتنے منہ اتنے نام۔ کسی نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ میرے ایسے آڑے ٹیڑھے بال ہوتے تو خودکشی ہی کرلیتی۔
    اور میں نے جل کر ترکی بہ ترکی جواب دیا:
    ’’شکر ہے تمہاری بچت ہوئی۔‘‘
    میں لڑکیوں کے سانپوں سے چمک دار، چکنے سیدھے بالوں کو دیکھتی رہ جاتی، نظر پھسل پھسل جاتی اور بہ ظاہر میں خوب اترا اترا کے اپنے اسپرنگ نما بالوں سے کھیلتی اب اپنی چھاچھ کو کون کھٹی کہتا ہے بھئی لیکن بال زلفوں کے میرے سب سے کجی رکھنے لگے۔ وقت گزرتا رہا اور اچانک یہ پیچ دار زلف فیشن میں آگئے۔
    ’’ہائے اللہ تم کتنی خوش قسمت ہو کہ تمہیں ’’کرل‘‘ نہیں کروانے پڑتے!‘‘
    اور میں اچانک سے اڑی اڑی طاق پر جا بیٹھی۔ اب تھوڑا سا اترانا تو بنتا تھا نا اور پھر میری سہیلیاں کالج ختم ہونے پر یادگار کے طور پر میرے بالوں کی لٹ مانگنے لگیں۔ خیر وقت آگے بڑھتا گیا۔ زلف کبھی الجھی، کبھی سلجھی، کبھی چٹیا، کبھی پونی، کبھی شانے پر لہرائی تو کبھی کمر کو چھو آئی۔ پر رہی وہی سرکش، وہی برہم وہی پیچ کہ اوپر پیچ چڑھا۔ خیال ہی رہا کہ
    مرے ہاتھ سلجھا ہی لیں گے کسی دن
    ابھی زلف ہستی میں خم ہے تو کیا غم
    ٭…٭…٭
    اور وہ وقت بھی آگیا جس کا انتظار میری ماں کو میری پیدائش کے دن سے تھا ’’ایک شہزادہ آئے گا سفید گھوڑے پہ میری شہزادی کو لینے۔‘‘
    مجھے آج تک وہ جملہ نہیں بھولتا اپنے بھائی کا جب وہ ایک تصویر لیے میرے پاس آیا۔
    ’’سچ کہوں آپی بہت سیدھے ہیں دُلہا بھائی آگے وہ کیا کہہ رہا تھا مجھے سنائی نہیں دیا بس اپنی کھوپڑی کے بیچوں بیچ کھجلی سی ہونے لگی۔ یعنی باقی زندگی اللہ میاں کی گائے کے ساتھ یعنی ’’گائے؟‘‘
    ڈھولک کی تھاپ تھی، سہاگ کے گیت تھے، سہرا تھا اور جدائی تھی اور میرا خوف۔
    ’’کہیں ایسا نہ مل جائے، کہیں ویسا نہ مل جائے۔‘‘
    میرے سیدھے میاں، میری امی کو خدا کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے کے چہیتے داماد ٹھہرے۔
    درویشِ خدا مست نہ شرقی ہے نہ غربی اور دو پاٹوں میں الگ ہوئے گیسو نہ اب شرقی رہے نہ غربی۔ ایک جوڑے میں سمٹ گیا زلف کا بل۔ اب کس کو فکر کاکلِ پرخم کی کہ اب کاکلِ گیتی سنوارنا تھا۔ وہ زلف کے بل میں یوں الجھے کہ کبھی نہ سلجھے۔
    ’’ھ‘‘ میں ملا۔ ’’الف‘‘اور زیست ہوئی ھا ھا ھا۔
    پچیس سال پرخم راستوں پر ایک دوسرے کے ساتھ گزار دیے
    یہاں تک آ گئے آگے خدا کا نام ہے ساقی

    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});