جھوک عشق – ایم رضوان ملغانی – داستانِ محبت 

صبح کا سورج طلوع ہوا تو یہ بات جنگل کی آگ کی طرح پورے جھوک میں پھیل گئی تھی۔ روحیل اور صفیہ کو علم ہوا ،صفیہ توآپے میں ہی نہ رہی تھی۔ بار بار بے ہوش ہوجاتی تھی اور روحیل کا تو خون ہی کھول اٹھا تھا۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ جاکر ان سب درندوں کو گولی مار دے جنہوں نے اپنی سربراہی میں ناجی کے ساتھ یہ سب کیا تھا۔

ٹی وی چینلز کے رپورٹرز کا ہجوم لگ گیا تھا، لائیو کوریج کی جارہی تھی۔چیخ چیخ کر بتایا جارہا تھا کہایک اور حوا کی بیٹی کو غیرت کے نام پر قتل کردیا گیا، زندہ جلادیا گیا۔

ناظرین ہم آپ کو وہ جگہ دکھا رہے ہیں جہاں رات کی تاریکی میں ناجیہ کو یہاں لایا گیا اور اس پر مٹی کا تیل چھڑک کر آگ لگادی گئی۔

ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ جرگے کے سرپنچسردار خالد خاناور ناجیہ کے والدمشتاق احمدکو پولیس نے اپنی حراست میں لے لیا ہے اور ان کا بیان ریکارڈ کیا جارہا ہے۔

ناجیہ کا قصور کیا تھا! فقط اتنا کہ اس نے پسند کی شادی کی تھی۔

ناظرین ہم آپ کو دکھا رہے ہیں،یہ وہ جگہ ہے جہاں ناجیہ کے ساتھ اتنا ظالمانہ سلوک کیا گیا۔ آپ دیکھ سکتے ہیں،یہ وہ گیلن ہیں جن کے اندر مٹی کا تیل تھا۔

ہر چینل اپنی اپنی کوریج کررہا تھا۔ اپنے اپنے الفاظ میں بتارہا تھا۔

اور پھرکیمرے کی آنکھ نے دور سے بھاگ کر آتی ہوئی عورت کو فوکس کیا۔ عورت اپنے حواسوں میں نہیں لگ رہی تھی۔ وہ پاگل پن کی آخری حدوں کو چھو رہی تھی۔ 

میڈی دھی ناجی اُٹھ، ناجی گھر چل میکوں کوئی اعتراض نئیں تیری شادی پر، تو کرلے سجاول سے ویا،ناجی اٹھی ناجی ہا ہا ہا ۔وہ وہاں دوزانوں ہوکر بیٹھ گئی جہاں ناجی کے وجود کی راکھ پڑی تھی۔

ناجی کتنی بے پرواہے تو،دیکھ تو اپنی بالیاں اتھے چھڈ گئی۔اب اس نے جلی ہوئی بالیاں اٹھالی تھیں۔

میری ناجی تاں بہوں سیانی ہے،ناجی سویر ہوگئی اسکول نئیں جائے گی۔

ناجی آکے بیٹھ ناں میرے پاس، میں تیکوں کرامت کا قصہ سناتی ہوں۔

ناجی اتنا تیار کیوں ہوئی ہے شرم کر ،جھلی ہوئی ہے۔

ناجی بس کر ابھی تک کھیڈ کھیڈ کے تیرا دل نہیں بھرا آ روٹی کھالے۔

وہ اپنی ہی جون میں،اپنی ہی لہر میں،اپنی ہی مستی میںنہ جانے کیا کیا کہے جارہی تھی۔ کیمروں نے اپنا رخ اس کی جانب کرلیا تھا۔

ناظرین یہ ناجیہ کی والدہ ہیں جو اس وقت اپناذہنی توازن کھوچکی ہیں۔ناظرین آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اس وقت ایک ماں کی حالت کیا ہوگی۔

پھر صفیہ جھٹ سے اٹھی اور رپورٹرز سے مائیک چھیننے اور ان پر حملہ کرنے لگی۔ وہ بار بار ان پر جھپٹ رہی تھی۔ پھر روحیل آیا اور ماں کو لے جانے لگا۔ وہ زارو قطار رو رہا تھا۔ اس کی آنکھیں سوجی ہوئی لگ رہی تھیں ،سرخ انگارہ آنکھیں جن سے وحشت ٹپک رہی تھی۔

صفیہ چلاتی جارہی تھی۔

جھوک عشق دی، عشق دی خیر ہو۔

جھوک عشق دی ،عشق دی خیر ہو۔

٭….٭….٭

Loading

Read Previous

ٹیپو اور سنہری پری ۔ الف نگر

Read Next

عشق”لا“ – فریال سید -داستانِ محبت

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!