جھوک عشق – ایم رضوان ملغانی – داستانِ محبت 

چلا گیا۔وہ نماز پڑھ کر باہر آئی تو پوچھا۔

ہاں چلا گیا۔راشدہ خاتون نے بے حد عجیب موڈ میں جواب دیا۔

اماں اس روز کے بعد سے مجھ سے بات کیوں نہیں کرتی آخر ہوا کیا ہے! مجھے بھی تو کچھ پتا چلے۔وہ ان کے پاس آکر بیٹھ گئی۔

میرے پاس تیرے کسی سوال کا جواب نہیں۔راشدہ خاتون نے چہرہ دوسری جانب موڑ لیا۔

کیوں جواب نہیں ہے اماں۔اس نے پوچھا۔

جب وقت آئے گا بتادوں گی فی الحال میری ایک التجا ہے تجھ سے اپنے دل سے روحیل کا خیال نکال دے۔انہوں نے برہمی سے کہا۔

کیسے اماں میں محبت کرتی ہوں اس سے۔اس نے بے چارگی سے جواب دیا۔

تم کرتی ہو نا، وہ تو نہیں کرتا نا اس سے پہلے کہ اسے بھی عشق کا ناگ ڈسے تم اپنی محبت سے دستبردار ہوجا۔راشدہ خاتون نے ایسے آرام سے کہا۔ جیسے بے حد عام سی بات ہو۔

اماں میں اسے نہ دیکھوں تو مجھے کچھ نظر نہیں آتا، اندھی ہوجاتی ہوں میں، اس کی آواز نہ سنوں تو بہری ہوجاتی ہوں میں، وہ میرے وجود کا حصہ ہے اسے کیسے کاٹ کر پھینک دوں۔اس نے اک ٹرانس میں کہا۔

کمینی بدذات، شرم کر ماں کے آگے بیٹھ کر ایسی باتیں کرتی ہو۔راشدہ خاتون نے اُسے تھپڑ رسید کر دیا۔

خود ہی تو کہا تھا اماں کہ سہیلی ہو میری پھر یہ تھپڑ؟ اپنے من کی بات بتانا جرم ہے بھلا؟اس نے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا۔ 

میں کب کہتی ہوں کہ سہیلی نہیں ہوں تمہاری، میں تو بس اتنا کہتی ہوں، تیرا دل، دل لگنے والی جگہ نہیں لگا۔ دل کو سمجھا، بجھا، منا کے راضی کرکے پھر جائے اس طرف سے ورنہ تیرے ابا کی قسم کھا کر کہتی ہوں پچھتائے گی۔راشدہ خاتون نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔

دل تو دل ہے، اسے کیسے چھیڑوں میں جس طرف کو مڑ جائے مڑجاتا ہے پھر لاکھ منتیں ترلے کرو وہاں سے ٹس سے مس تک نہیں ہوتا۔اس نے جنون میں کہا۔

کب سے چل رہا ہے یہ سب؟راشدہ نے بہت پہلے ہی کردینے والا سوال آج کیا اور بے موقع بے محل۔

برسوں سے اماں جب میں وہ بچپن میں ساتھ کھیلتے تھے۔ اپنے گڈے گڈی کی شادی کرواتے تھے۔ اسکول ساتھ جاتے تھے، واپس ساتھ آتے تھے، ٹکی ٹافی مل کر کھاتے تھے۔ تب سے لیکن اسے خبر کیوں نہ ہوئی میں ہر وقت سوچتی ہوں۔وہ پھر سے اک ٹرانس میں چلی گئی۔

بے شرم ایک اور کھائے گی مجھ سے۔راشدہ سے برداشت نہ ہورہا تھا یہ سب۔

مارلو اماں کھالوں گی۔اس نے ترکی بہ ترکی جواب دیا۔

اتنی ڈھیٹ پہلے تو نہ تھی۔اماں بولی۔

اتنی ہٹ دھرمی تم میں بھی نہیں تھی اماں۔اس نے صاف گوئی سے کہا۔

بعض دفعہ یہی ہٹ دھرمی ہی بھلی ہوتی ہے، بڑے بڑے طوفانوں کو آنے سے روک لیتی ہے۔راشدہ نے ہولے سے کہا۔

میں نے اپنا راز دار تمہیں بنایا اماں، تم بھی مجھے اپنا ہم راز بنالو۔اس نے منت کی۔ 

تم بس اپنے عشق کے ٹھاٹھیں مارتے پانی کے آگے پل باندھو مجھ سے یہ نہ پوچھو۔

کیسے نہ پوچھوں اماں بڑی اُلجھن والی بات ہے۔

زیادہ الجھن تیرے عشق کی ہے، اسے اپنے دماغ سے چلتا کر۔

اماں بالی ہوگئی ہو۔

پورے ہوش و حواس میں ہوں، تو بھی ہوش کے ناخن لے عقل کر سجاول کو پتا چلا تو مار ڈالے گا تجھے۔

عجیب ہے اماں تو بھی، جب خود سے کچھ نہ ہوا تو سجاول کی دھمکی دے ڈالی۔ اُسے بول دے آئے کوئی ایسی نکیل اور ڈال کے دکھائے مجھے۔ قسم کھا کر کہتی ہوں بھاویں لاکھ لگامیں ڈالے، ہتھکڑیاں پہنائے، رسی سے باندھے یا مار ہی ڈالے پر رہوں گی تو اسی کی ہی نا۔اس نے پھر ڈھٹائی کا مظاہرہ کیا۔

بے غیرت کیوں کررہی ہے اپنی من مانی۔ تجھے بتارہی ہوں تھام کے رکھ خود کو ورنہ تیرا ویاہ کرکے چلتا کردوں گی تجھے۔ایک اور تھپڑ کے ساتھ الٹی میٹم بھی۔

واہ اماں واہ تیری شان۔ تھام کے تو رکھ لوں گی خود کو پر رب دی سوں نکاح خواں کے تینوں بار قبول ہے، قبول ہے، قبول ہے، کہنے پر نہیں، نہیں نہیں کی گردان نہ کی تو میرا نام بدل کر کچھ اور رکھ دینا ڈولی میں بیٹھوں گی تو صرف اسی کی۔

چٹاخ۔ایک اور زناٹے دار تھپڑ۔

بس اماں آج کے لیے اتنا ہی کافی ہے، تو تو روز مجھے مناتی رہے گی اور میں روز ڈھٹائی سے تھپڑ کھاتی رہوں گی۔اس نے ہاتھ کے اشارے سے بس ہی کردی۔

آخری چٹاخ کی گونج اور آواز بلند تھی۔ باہر گیٹ سے گزرتے روحیل مشتاق نے سن لی تھی۔

٭….٭….٭

Loading

Read Previous

ٹیپو اور سنہری پری ۔ الف نگر

Read Next

عشق”لا“ – فریال سید -داستانِ محبت

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!