ادھوری زندگانی ہے —- لعل خان (پہلا حصّہ)

تین جنوری بروز منگل (2013ء)
شام کے سائے لمبے ہو کر اب گھر کی کچی دیواروں کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے۔سورج اپنی آب و تاب کھو کر بچی کھچی روشنی کو دیواروں کی منڈیر سے بس کھینچنے ہی والا تھا۔میں نے صحن کے بیچوں بیچ لکڑی کی چارپائی پر دونوں ہاتھوں کا تکیہ بنا کر لیٹے ہوئے ابا جی کی طرف دیکھا ،وہ آسمان کی جانب دیکھ رہے تھے۔ شاید موازنہ کر رہے تھے اپنا اور آسمان کا۔ آسمان چھیاسٹھ برس پہلے بھی اسی طرح تھا،تاحدِ نظر پھیلا ہوا… رات کے آنگن میں ستاروں سے سجی ہوئی دلہن کی طرح اور بنا سہارے کے کھڑا ہوا مگر ان چھیاسٹھ برسوں نے ابا جی سے بہت کچھ چھین لیا تھا۔ بچپن ،جوانی اور اب صحت بھی۔ وہ بیمار بیمار سے رہنے لگے تھے۔
دن مٹی سے بنے ہوئے کچے گھر کے چھوٹے سے کمرے میں لٹکے میلے کچیلے تین پروں والے پنکھے کو گھورتے ہوئے گزار دیتے تھے اور رات ستاروں کی گنتی میں… مگر ان کی یہ گنتی ہر رات ادھوری رہ جاتی تھی۔ ستاروں کی چمک ماند پڑتے پڑتے مر جاتی اور سورج تازہ دم ہو کر لوٹ آتا تھا۔ تب ابا اپنی چارپائی اٹھا کر پھر سے کمرے میں گھس جاتے۔ میں نے نظروں کا رخ بدلا تو سامنے لکڑی کے بیرونی دروازے کے دائیں طرف جلتے ہوئے تندور میں تندہی سے روٹیاں پکاتی اماں نظر آئیں۔ اماں کا چہرہ بھی تندور کی تپش سے سرخ ہو رہا تھا۔ وہ کندھے پر مفلر کی طرح ڈالے گئے دوپٹے نما کپڑے سے بار بار چہرہ صاف کرتی اور پھر سے تندور پر جھک جاتیں۔
’’کاش! میری کوئی بہن ہوتی۔‘‘ بے اختیار ہی دل نے اک اور کاش کو جگہ دے دی ۔
میں اماں اور ابا کی اکلوتی اولاد تھا جسے دونوں نے بہت لاڈ پیار سے بڑا کیا تھا۔ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے میرے ماں باپ نے میری چھوٹی سی خواہش کو بھی اپنی جان گروی رکھ کر پورا کیا تھا۔ ابا بتاتے ہیں ان کی شادی کے آٹھ سال بعد جب میں پیدا ہوا تو انہوں نے اپنی ساری زمین بیچ کر یہ مٹی کا گھر بنایا تھا تا کہ ان کے شہزادے کو اس جھونپڑے میں نہ رہنا پڑے جس میں ابا میری ماں کو بیاہ کر لائے تھے۔ وہ جھونپڑا ابا کی زمین میں ہی بنا ہوا تھا اور وہاں کھیتی باڑی کرکے وہ اپنا اور اماں کا پیٹ پالتے تھے۔ زمین بک جانے کے بعد ان کے شہزادے کو گھر تو مل گیا مگر اس کے بعد ابا کو نت نئے لوگوں کے آگے مزدوری کر کے اپنا گھر چلانا پڑا لیکن وہ یہ سب بہت خوشی خوشی برداشت کر رہے تھے۔ میری آمد نے ان کے اندر ایک نئی روح پھونک دی تھی۔ وہ اپنی زندگی کے صحرا میں مجھے ایک نوخیز پودا سمجھتے تھے جس نے ایک دن سایہ دار درخت بن کر انہیں اپنی چھاؤں میں پناہ دینی تھی۔





اماں بتاتی ہیں جب میرا نام رکھنے کا مرحلہ آیا تو دونوں میں خوب لے دے ہوئی۔ اماں نے میرے لیے اپنے مرحوم بھائی پرویز کا نام سوچا ہوا تھا اور ابا مجھے گلزار کہہ کر بلانا چاہتے تھے۔ یوں کئی دن تک یہ جھگڑا چلتارہا اور آخر کار دونوں نے تیسرا رستہ نکالا اور میرا نام پرویز گل رکھ دیا گیا۔
ابتدائی پانچ سال تک ابا کی دہاڑی سے گھر بھی چل جاتا اور میرے نخرے بھی آرام سے برداشت ہو جایا کرتے تھے مگر جب مجھے اسکول میں داخل کروانے کا وقت آیا تو ابا اور اماں دونوں ایک بار پھر متفکر ہو گئے۔ ان کی خواہش تھی کہ میں اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کروں تاکہ جوان ہو کر ابا کی طرح دہاڑی کرنے کی بجائے کوئی بڑا افسر بنوں گا اور میری جوانی اور اُن کا بڑھاپا سدھر جائے، مگر اب جب میں پانچ سال کا ہو کر ا ن سے پوچھ رہا تھا کہ میں کب اسکول جاؤں گا، تو دونوں ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے تھے۔
تب پہلی بار اماں نے ابا کا ساتھ دینے کے لیے کمر کس لی اور محلے کے وہ تمام گھر جہاں جھاڑو پونچھے اور برتن دھونے کے لیے نوکرانیوں کی ضرورت پڑتی تھی وہاں پہنچ گئیں اور آخر کار ایک گھر میں انہیں نوکری مل ہی گئی۔یوں اب گھر کا خرچہ ابا کے ذمے ہو گیا اور میری پڑھائی کا خرچ اماں کے ذمے۔ اماں روز مجھے ناشتا کروانے کے بعد گاؤں کے واحد پرائمری اسکول میں چھوڑنے کے بعد اپنے کام پر چلی جاتی اور جب چھٹی کا وقت ہوتا تو ابا مجھے لینے آجایا کرتے۔ یوں زندگی کی گاڑی اپنی ڈگر پر چل پڑی۔ میرے آنے کے بعد ہماری فیملی مکمل ہو گئی تھی۔ ابا، اماں اور میں ۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب میں نے میٹرک میں اپنی کلاس میں دوسری پوزیشن لی تھی۔ اس دن ابا نے ایک بار پھر اپنی ساری جمع پونجی لگا کر پورے محلے میں مٹھائی بانٹی تھی ۔
میٹریکولیٹ ہونے تک مجھے اس بات کا اچھی طرح ادراک ہو چکا تھا کہ میں ایک لوئر مڈل کلاس فیملی کا لڑکا ہوں۔ میرے ابا دہاڑی کرتے اور اماں لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرتی ہیں۔میں اب اپ سیٹ رہنے لگا تھا۔ مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ میں مزے سے رہوں اور میرے ماں باپ محنت مزدوری کرکے میرا پیٹ بھرتے رہیں۔ اسی لیے میں نے سوچ رکھا تھا کہ میٹرک پاس کرتے ہی کوئی کام ڈھونڈنا شروع کر دوں گا۔ جب میں نے ابا اور اماں سے بات کی تو دونوں کا غصہ آسمان چھونے لگا۔ وہ مجھے کسی بھی صورت پڑھائی چھوڑ کر کام پر لگنے نہیں دینا چاہتے تھے ۔ابا نے اس دن پہلی بار مجھے شدید غصے میں انگلی اٹھا کر وارننگ دیتے ہوئے کہا:
’’کان کھول کر سن لو گل! پڑھائی چھوڑ کر کام کا خیال دوبارہ دل میں کبھی مت لانا۔میں نے تمہارے لیے کچھ خواب دیکھے ہیں اور وہ تب ہی پورے ہوں گے جب تم تعلیم مکمل کر کے افسر بن جاؤ گے۔ میں ابھی بوڑھا نہیں ہوا تم سے زیادہ طاقت ور ہوں۔ میں تمہاری پڑھائی کا خرچ برداشت کر لوں گا۔‘‘ ابا کی بات ختم ہوتے ہی اماں بھی مجھ پر برس پڑی تھیں۔
’’تم نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ ہم دونوں کے ہوتے ہوئے تم پڑھائی چھوڑ کر کام پر کرو گے۔ تمہیں ابھی اور پڑھنا ہے جیسے وہ خالد صاحب کا بیٹا پڑھ رہا ہے شہر جا کر… تم بھی شہر جا کر پڑھو گے اور تب تک نہیں لوٹو گے جب تک بڑے افسر نہ بن جاؤ۔‘‘
یہ سنتے ہی ابا نے اماں کو ڈپٹ دیا تھا۔
’’تم بھی کما ل کرتی ہو نیک بخت! کیوں نہ لوٹے ،ہزار بار لوٹے، اس کا گھر ہے یہ مگر صرف چھٹیاں گزارنے کے لیے، دہاڑیاں کرنے کے لیے نہیں۔‘‘
میںخاموشی سے سر جھکائے اپنے ماں باپ کی باتیں سن رہا تھا جن کے غصے میں بھی میرے لیے پیار کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔
مجھے ا ن کی سادہ لوحی پر رشک بھی آتا تھا۔ یہ صرف اتنا جانتے تھے کہ ڈھیر سارا پڑھنے سے لوگ بڑے افسربن جاتے ہیں مگر میں جانتا تھا صرف ڈھیر ساری پڑھائی افسر بننے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔
وہ مجھے ڈاکٹر، انجینئر یا وکیل نہیں بنا سکتے تھے۔ ان کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ وہ مجھے ایم بی بی ایس یا ایل ایل بی کروا پاتے، مگر میں ان کی امیدوں کو توڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اسی لیے میں نے سوچ رکھا تھا کہ میں شہر جا کر پڑھائی کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم جاب کروں گا تا کہ میں ان پر بوجھ نہ بنوں۔ مگر اللہ کی زمین میں صرف وہی ہوتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ ہم انسان صرف منصوبے بنا سکتے ہیں۔ بہ قول اشفاق احمد… ’’انسان اتنا غافل منصوبہ ساز ہے جو اپنی موت کو اپنے منصوبے میں شامل ہی نہیں کرتا۔‘‘ میرے منصوبوں کے راستے میں موت تو حائل نہ ہو سکی، مگر ابا کی اچانک بیماری نے ان کے تمام خواب چکناچور کر دیے جو انہوں نے میرے لیے دیکھے تھے۔
میرے شہر جانے کے ڈیڑھ سال بعد ہی ابا کو ایسی بیماری لگی کہ وہ چارپائی کے ہو کر رہ گئے۔ اماں اکیلی ابا کو سنبھال نہیں سکتی تھیں، چارو ناچار مجھے انٹر ادھورا چھوڑ کر گھر واپس آنا پڑا۔ گھر کے اخراجات کے ساتھ ساتھ اب مجھے ابا کی بیماری سے بھی لڑنا تھا جو مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ ابا نے بولنا تقریباً چھوڑ ہی دیا تھا۔ وہ اپنی شکست کے احساس کے ساتھ روز بہ روز زندگی سے مایوس ہوتے جا رہے تھے۔ میں نے ابا کی جگہ دہاڑی لگانا شروع کر دی۔ اماں ابھی تک محلے کے کچھ گھروں میں جھاڑ پونچھ کر کے تھوڑا بہت کما رہی تھی مگر ہم ماں بیٹے کی کمائی گھر کو چلانے اور ابا کو چارپائی سے اٹھانے کے لیے ناکافی تھی۔ میں شہر جا کر اچھی نوکری ڈھونڈنا چاہتا تھا مگر ابا کی حالت نے میرے پاؤں میں زنجیر ڈالی ہوئی تھی۔ مجھے دہاڑی پر کام کرتے تین سال ہو چلے تھے لیکن ابا کی حالت نہ سدھر سکی اور اب اماں بھی کام کے لائق نہ رہی تھیں۔ میں نے خود ہی ان سے کہہ کر کام چھڑوا دیا تھا۔ ابا کو شاید اب علاج کی ضرورت نہ رہی تھی اور مزدوری کرنے سے دو وقت کی روٹی کا بندوبست ہو ہی جاتا تھا۔ میں نے خود کو وقت اور حالات کے سپرد کر دیا۔ میں سمجھ چکا تھا کہ میرا امتحان میری غریبی لے رہی ہے۔ مجھے اب بس اس وقت کا انتظار تھا جب ابا نے چارپائی چھوڑنی اور شاید قبر میں سونا تھا۔
٭…٭…٭




Loading

Read Previous

خلا — ایم اے ایقان

Read Next

انشاء اللہ — سحرش مصطفیٰ

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!