انشاء اللہ — سحرش مصطفیٰ

میں نے ایک آخری مرتبہ قد آدم آئینے میں اپنے عکس کو دیکھا۔ میں بالکل تیار تھا۔جینز بلیک ٹی شرٹ اور اس کے ساتھ فینسی بلیک لیدر جیکٹ ۔ یہ کنسرٹ ممبئی کی ایک یوتھ آرگنائیزیشن کی طرف سے ارینج کیا گیا تھا۔ اسٹیج پر ایک نیا ابھرتا ہوا مقامی گلوکار اپنی آواز کا جادو جگا رہا تھا۔ اس وقت بیک اسٹیج پر میرے آخری لمحات تھے۔ میری اینٹری قدرے لیٹ تھی۔ میں بڑا ستارہ تھا، چاند جتنا بڑا۔ میرے لئے لوگوں کو انتظار کرایا جاتا تھا تاکہ ان کا جوش و خروش عروج پر پہنچ جائے۔یہ ایک بہت ہی پرُانا اور روایتی سا حربہ تھا، جو ہر بار کام دکھاتا اور کیا خوب دکھاتا تھا۔ اچانک اسٹیج پر آنے والی آواز بند ہوگئی میں نے چونک کر اپنی کلائی پر بندھی ہوئی گھڑی کو دیکھا، ابھی میری اینٹری میں دس منٹ باقی تھے اور پھر ایک عجیب و غریب شور اُبھرا۔ چیخ و پکار، شورو غل اور قدموں کے شور میں میں نے شو کے فنانسر اور ڈائریکٹر کو اپنے فیلڈ مینیجر کے ساتھ ڈریسنگ روم میں داخل ہوتے دیکھا۔ ان کے ساتھ دو سیکیورٹی اہلکار بھی تھے۔ مجھے کچھ سمجھ نہیں آیا۔ میرا مینیجر گھبرایا ہوا تیزی سے میری جانب بڑھا۔
’’باہر ہنگامہ شروع ہوگیا ہے، ممبئی کی ایک سیاسی جماعت کے کچھ لوگ آپ کے خلاف مظاہرہ کررہے ہیں اور انہوں نے اس جگہ کو گھیرے میں لے لیا ہے۔ ان کے ساتھ شو میں موجود بہت سے تماشائی بھی شریک ہوگئے ہیں، لیکن آپ فکر نہ کریں شو کے مینیجر نے پولس کی مدد لے لی ہے۔وہ ہمیں باحفاظت ائیرپورٹ تک پہنچا دیں گے۔‘‘ اب وہ مجھے تسلی دے رہا تھا۔آج رات ویسے بھی میری اسلام آباد کی فلائٹ تھی۔ ہنگامے کی وجہ کیا تھی؟ میرا پاکستانی ہونا؟ میں نے بہت سارے آرٹسٹس کے ساتھ ایسا ہوتا سنا تھا لیکن میرے ساتھ یہ سب پہلی بار ہوا۔ میں بہت پریشان تھا اور میں نے بیٹھے بیٹھے اپنے مالی نقصان کا اندازہ لگایا۔ آج کے شو کا تو نہیں ہاں البتہ مجھے مستقبلِ میں کچھ نقصان ضرور ہوگا۔
پندرہ منٹ بعد چند سیکیورٹی اہلکار مجھے حفاظتی تحویل میں لے کر باہر نکالنے لگے۔ باہر بہت سارے صحافی جمع تھے، جنہیں سیکیورٹی اہلکاروں نے اگنور کیا۔ ڈریسنگ روم سے راہ داری، راہ داری سے پچھلا گیٹ اور گیٹ سے گاڑی۔ اچانک نہ جانے کہاں سے وہ سامنے آگیا۔
ہنگامہ آرائی کرنے کُرتے پاجامے میں ملبوس اور اورنج پٹی ماتھے پر باندھے ایک کارکن نے مجھے دیکھا اور زمین پر تھوکا۔ گاڑی میں بیٹھتے بیٹھتے میں جیسے سکتے میں آگیا۔ میں نے کہاں ایسی ذلت دیکھی تھی۔ میں تو ایک سٹار تھا، سرحدوں اور مجبوریوں سے اوپر اپنے فن کے ذریعے بلندی پر پہنچنے والا سٹار جسے اس دشمن سر زمین پر بھی ہمیشہ پیار ملا۔
اس نے مجھے دیکھ کر زمین پر نہیں تھوکا تھا بلکہ اب اس کا ہدف پاکستان تھا۔ وہ مسلسل پاکستان کو گالیاں دے رہا تھا اور ساتھ ہی مجھے اور میرے ملک کو نیست و نابود کرنے کی باتیں کر رہا تھا۔ اس کا وہ چہرہ میں کبھی نہیں بھلا سکا اور وہ اُس کا اصلی چہرہ تھا، اس کی آنکھوں میں کتنی نفرت تھی۔ ایک مستقل رہنے والی نفرت جس نے میرے ذہن کو جھنجوڑ دیا۔ مالی نقصان اور اگلے آنے والے شوز سب کچھ بہت پیچھے رہ گیا، بس ذلت باقی رہ گئی۔ مجھے گاڑی میں بٹھا کر ائیرپورٹ پہنچا دیا گیا۔ میری فلائیٹ چار بجے کی تھی تب تک مجھے یہاں رہنا تھا۔ میں سکتے میں تھا اور میرا مینیجر مجھے تسلی دے رہا تھا مگر میں تو مرچکا تھا۔ بہت سی آوازیں میرے کانوں میں گونجیں آنکھوں سے پٹیاں اُتریں۔ کوئی میرے اندر سے اٹھ کر باہر آگیا تھا اور مجھ سے پوچھ رہا تھا کہ اب بتا میں نے صحیح کہا یا غلط؟ میں نے بے اختیار انتظار حسین سے آنکھیں چرائی تھیں۔
’’اعتبار بھی آہی جائے گا چلو تو سہی۔ ’’راستہ کوئی مل ہی جائے گا چلو تو سہی چلوتو سہی‘‘ میں آنکھیں بند کرکے جذب سے گارہا تھا۔ مکمل خاموشی تھی، گانے کا آخری شعر تھا میں نے آنکھیں کھولیں پھر میری سماعتوں نے وہی سنا تھا، جو ہمیشہ سنتی آئی ہیں تالیوں کی زوردار گونج۔ یہ میری اسکول فئیر ویل کا فنکشن تھا۔ میرا خون بڑھ گیا تھا۔ میری آواز میں جادو تھا ۔ میں خوشی خوشی گھر آیا تھا اور دروازے سے اندر داخل ہوتے ہی ایک آواز نے میرے قدم جکڑ لئے تھے۔ ’’انتظار حسین کہاں ہو تم صُبح سے میری آنکھیں ترس گئی ہیں۔‘‘ یہ میرے بوڑھے دادا کی آواز تھی میں مریل قدموں سے ’’جی دادا جی آیا۔‘‘ کہتا ان کے قریب آکر بیٹھ گیا۔ اب روزانہ کی طرح مجھے انتظار نامہ سننا تھا۔ میں تین بہن بھائیوں میں سب سے بڑا تھا۔ دادا کے اور بھی پوتے پوتیاں تھیں لیکن انہیں مجھ سے خاص محبت تھی اور وجہ میری ان کے چھوٹے بھا ئی انتظار حسین سے مشابہت تھی۔ کہنے والے کہتے تھے کہ نہ صرف شکل بلکہ میری آواز بھی ان جیسی تھی مگر یہ مشابہت میرے لئے روز کا عذاب بن گئی۔
داداجی عجیب سے تھے۔ ان کی ساری حسّیات اور باتیں صرف ایک ہی نام کے گرد گھومتیں اور وہ نام تھا انتظار حسین۔ میری ذاتی رائے میں داداجی کی دماغی سوئی انتظار حسین پر آکر رُک چکی تھی۔ اپنے سب سے چھوٹے، لائق، خوبصورت اور نوجوان بھائی کی اندوہناک موت کا صدمہ جڑپکڑ کر ان کے اندر جم چکا تھا۔ دادا جی کو سمجھ کیوں نہیں آتا ہے کہ میں انتظار حسین نہیں ہوں۔ جو ہوگیا سو ہوگیا زندگی کو آگے بڑھنا چاہیئے۔ کبھی کبھی میں چڑ جاتا۔ میرا نام انتظار حسین رکھا گیا تھا۔ لیکن شکر ہے کہ امی کی فرمائش پر اریب کا اضافہ کر دیا گیا۔ دوستوں کے حلقے میں میں اریب حسین کی پہچان رکھتا تھا۔ خاندان کے بزرگ کہتے تھے کہ میر ا قد کاٹھ، ظاہری شخصیت اور خاص طور پر پروقار گونج دار آواز بالکل انتظار حسین کی کاربن کاپی تھی۔ دادا جی نے صرف میرا نام ہی انتظار حسین نہیں رکھا تھا بلکہ میرے اندر پرانے انتظار حسین کو فکس کردیا تھا۔ یہ میرے ذاتی خیالات تھے۔ وہ رو ز مجھے بٹھاکر انتظار حسین کی فصاحت و بلاغت اور ذہانت کے قصّے دُہراتے اور نہ چاہتے ہوئے بھی مجھے ہمہ تن گوش ہونا پڑ تا کیوں کہ یہ پاپا کا حُکم تھا اور میں ان کی ہر بات مانتا تھا سو چار و ناچار مجھے روزانہ کی بنیا د پر دادا کی زبانی نصف صدی کے اس قصّے کا روز نامہ سننا پڑتا تھا کبھی کبھار تو مجھے لگتا تھا کہ جیسے انتظار حسین کی روح تک میرے اندر حلول کر چکی ہے۔ انتظار حسین دو ٹوک بات کرتا تھا۔ وہ دور اندیش تھا۔ اس کے پاس دلائل کی کمی نہیں تھی اور ناجانے ایسے اور کتنے قصّے کہانیاں تھے مگر روز روز ایک ہی نام سننے سے انسان کیسی ذہنی اذیت سے گزرتا ہے آپ اندازہ نہیں لگاسکتے۔
میں اب فلائٹ میں بیٹھ چکا تھا۔ یہ فلائٹ جو پاکستان جارہی تھی، ’’پاکستان…!‘‘ میں نے زیر لب دُہرایا ایک مرتبہ پھر میرے ذہن میں ان گندی گالیوں کی گونج اُبھری اور ایک مرتبہ دوبارہ میں نے کوئی سایہ اپنے ساتھ محسوس کیا، انتظار حسین کا سایہ۔
’’وہ کہتا تھا کہ بھائی جان دنیا کی کوئی دولت، عزت اور عزتِ نفس کا نعم البدل نہیں ہوسکتی۔ یہ انتظار حسین کا نظریہ تھا وہی انتظار حسین جس نے آزادی کی جدو جہد کی تھی۔بے حد مدلل اور جامع انداز سے وہ جیسے اس کھیل کے ماسٹر مائینڈز میں سے ایک تھا۔ صرف جذباتی باتیں نہیں تھیں اسے قیامِ پاکستان کی ضرورت اور اہمیت کے متعلق لوگوں کے ابہام دور کرنے میں کمال حاصل تھا۔ وہ اس وقت بی اے کے طالب علم تھے، جب مسلمانوں کے اندر پائی جانے والی بے چینی بڑھ چکی تھی۔ تب انتظار حسین جیسے لوگ تھے، جو اس راہ کو ہموار کرنے کے لئے ایک جنگ لڑرہے تھے مگر نظریاتی جنگ ختم نہ ہونے والی تھی۔ ان کی آواز جو آزادی کی جدوجہد میں خاص طور پر نعرہ کے لیے مشہور تھی۔ ’’بن کے رہے گا پاکستان، اِن شا ء اللہ‘‘ یہ وہ نعرہ تھا، جو ان کی پہچان تھا یاپھر شاید وہ اس کی پہچان تھے۔ لوگ سمجھتے تھے کہ بہت ہی ٹھنڈے اور دھیمے مزاج کا لڑکا ہے۔ وہ تو میں ہی جانتا تھا کہ کتنا جذباتی تھا، پاکستان کے معاملے میں۔ اپنی پرُ زور اور پرُ اثر آواز میں جب ہر جلسے کے بعد وہ نعرہ لگاتا تھا ’’بن کے رہے گا پاکستان اِن شاء اللہ‘‘ تو رونگٹے کھڑے ہوجاتے تھے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے داداجی کی بوڑھی آنکھوں میں یوں جذبات ابھر آتے، گویا انتطار حسین سامنے ہی کھڑے تھے اور میں دل ہی دل میں خوب ہنستا تھا۔ اُف یہ جذباتی لوگ اور مجھے افسوس ہوتا انتظار حسین پر جس نے اپنی جوانی کے دن ایسے ملک کے لئے قربان کردیئے جہاں جگہ جگہ گندگی ڈھیر تھے، آئے دن رستے پر چلتے ہوئے انسان اپنی جان کھو دے۔ لو بھلا اس طرح ملک کے لئے بھی کوئی اپنی زندگی قربان کرتا ہے۔




Loading

Read Previous

ادھوری زندگانی ہے —- لعل خان (پہلا حصّہ)

Read Next

ادھوری زندگانی ہے — لعل خان (دوسرا اور آخری حصّہ)

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!