من و سلویٰ — قسط نمبر ۶

کرم علی کو شیخ سعد بن جابر کے اصطبل میں کام کیسے ملا اور کیوں ملا یہ شیخ جابر کا ملازم بننے کے تین دن تک کرم کو پتا نہیں چلا۔ اور صرف وہی نہیں کویت میں اس کے شناسا باقی سارے لوگ بھی اس کی قسمت پر رشک کر رہے تھے۔ تین دن تک خود وہ بھی اپنی قسمت پر رشک کرتا رہا تھا۔ تیسرے دن سب بدل گیا تھا۔
سعود بن جابر کا اصطبل کویت کے سب سے بہترین اصطبلوں میں سے ایک تھا اور وہاں کا کوئی ملازم ایسا نہیں تھا جو تربیت یافتہ یا تجربہ کار نہ ہو، صرف کرم علی ایسا تھا جس نے گھوڑوں کی تصویریں دیکھی تھیں یا پھر انہیں پاکستان میں تانگے میں جتا دیکھتا تھا مگر کسی گھوڑے کو ہاتھ لگانا تو ایک طرف وہ کبھی کسی گھوڑے کے قریب تک نہیں گیا تھا اور اب وہ دنیا کے مہنگے ترین گھوڑوں والے اصطبل میں ایک سائیس کے نائب کے طور پر متعین کر دیا گیا تھا۔
اور اس حیثیت میں اسے رہائش کے لیے جو کمرہ اور سہولیات دی گئی تھی، انہوں نے کرم علی کو زندگی میں پہلی بار صحیح معنوں میں حواس باختہ کر دیا تھا۔ وہ کویت کی سبزی منڈی میں سبزیوں کی دکان میں سوتے سوتے اب جس اصطبل کی رہائش گاہ میں آیا تھا وہ دو کمرے اور اٹیچ باتھ روم اور کچن پر مشتمل ایک ائیر کنڈیشنڈ اور فلی فرنشڈ کوارٹر تھا۔ کرم علی کم از کم ایک گھنٹہ ایک ہی جگہ کھڑے ادھر سے اُدھر اپنے پیروں پر گھومتا رہا اس کوارٹر میں بلاشبہ سب سے عجیب اور غیر موزوں چیز خود وہی تھا۔ کرم کو خود سے اعتراف کرنے میں کوئی عار نہیں ہوا۔
سبزی منڈی سے اصطبل کا سفر اس کے لئے جیسے حقیقت سے خواب تک کا سفر تھا۔ وہ اس دن بھی منڈی میں کریٹ ہی اٹھا رہا تھا جب ایک کویتی اور ایک پاکستانی اس کے پاس آئے تھے۔
”شیخ سعود بن جابر کے اصطبل میں کام کرو گے؟”
اس پاکستانی نے اس کا نام دریافت کرتے ہی اس سے پوچھا۔ وہ ہونقوں کی طرح ان دونوں کا منہ دیکھتا رہا۔ اسے لگا کہ انہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔
”آپ مجھ سے کہہ رہے ہیں؟” کرم علی نے اٹکتے ہوئے اس پاکستانی سے پوچھا۔
”ہاں… شیخ کے اصطبل میں ایک کام کرنے والے کی ضرورت ہے۔” اس پاکستانی نے اس کی حیرت اور تعجب کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کہتا۔ اس کی دکان کا پاکستانی مالک بڑی تیزی سے اس کے قریب آگیا اور اس نے کرم علی سے کہا۔
”تمہیں ضرور شیخ کے لیے کام کرنا چاہیے۔ ایسا موقع روز روز تھوڑی ملتا ہے۔” کرم علی نے اس بار حیرانی سے آصف بھٹہ کا چہرہ دیکھا تھا۔ اسے توقع نہیں تھی کہ وہ اتنی سہولت سے اسے یہ آفر قبول کرنے کو کہے گا۔
”آپ جانتے ہیں انہیں؟” کرم علی نے آصف بھٹہ سے پوچھا۔
”میں کیا پورا کویت جانتا ہے شیخ سعود جابر کو۔ تم بس دیر نہ کرو۔ فوراً ان کے ساتھ چلے جاؤ۔” اسے آصف بھٹہ کے انداز پر حیرت ہوئی۔ آخر اتنی جلدی کیا تھی ان کے ساتھ بھیجنے کی۔ وہاں کام کرنے والے دوسرے مزدور بھی اب ان کے آس پاس کھڑے ہوئے تھے۔
”لیکن میں اس اصطبل میں کیا کام کروں گا؟ مجھے تو۔۔۔۔”
پاکستانی نے اس بار اس کی بات کاٹ دی۔
”یہ تمہیں وہاں جا کر پتہ چلے گا۔ یہاں کھڑے کھڑے کیسے بتائیں۔”





”ہاں ہاں، تم اطمینان سے ان لوگوں کے ساتھ چلے جاؤ۔ جو بھی کام ملے کر لینا۔” آصف بھٹہ نے ایک بار پھر مداخلت کی۔ ”تم جاؤ۔ اپنا سامان اٹھاؤ اور ان کے ساتھ چلے جاؤ۔”
”ابھی…؟” کرم علی نے کچھ کہنا چاہا مگر اس پاکستانی نے ایک بار پھر اس کی بات کاٹ دی۔
”ہاں ابھی اور اسی وقت ہم صرف تمہیں لینے ہی آئے ہیں۔”
کرم علی مجمع میں کھڑا کچھ نہ سمجھنے والے انداز میں باری باری آصف بھٹہ اور ان دو لوگوں کو دیکھ رہا تھا۔ وہ اسے لینے آئے تھے مگر کیوں؟ کیا انہیں اصطبل میں کسی کام کرنے والے کی ضرورت تھی؟ یا پھر صرف اسی کی ضرورت تھی؟ اور وہ کیا وہ اسے پہلے سے کسی حوالے سے جانتے تھے؟ کس حوالے سے؟ اور وہ اس کا نام کیسے جانتے تھے۔ ایک کے بعد ایک سوال، اس کا ذہن الجھ رہا تھا۔ مگر اس کے پاس اب وہاں بیٹھے ان سوالوں کا جواب ڈھونڈنے کے لیے وقت نہیں تھا۔
پندرہ منٹوں میں اپنا سامان اٹھا کر جس گاڑی میں وہ شیخ سعود بن جابر کے اصطبل کی طرف روانہ ہوا تھا وہ ایک لیموزین تھی۔
اکیس سال کی عمر میں کرم علی نے پہلی بار لیموزین میں سفر کیا تھا۔ اس وقت اس کا خیال تھا وہ لیموزین میں اس کا آخری سفر بھی تھا۔
اور پھر وہ اس کوارٹر میں آگیا تھا۔ وہاں اس جیسے کوارٹرز کی ایک لمبی قطار تھی اور اس جیسے ملازمین کی ایک بڑی تعداد مگر ان میں اور کرم علی میں فرق یہ تھا کہ ان سب کو اپنے اپنے کاموں کا پتہ تھا۔ صرف کرم علی تھا جسے یہ پتا نہیں تھا کہ اسے کس کام کے لیے رکھا گیا تھا اور اسے کیا کرنا تھا۔ وہ ہر روز صبح اصطبل چلا جاتا اور پھر منتظر رہتا کہ کوئی اسے کوئی کام کرنے کو کہے گا مگر کوئی اسے کوئی کام نہیں کہتا تھا۔ ہر ایک میکانکی انداز میں اپنے اپنے کام میں مصروف رہتا اور وقتاً فوقتاً اس کو عجیب نظروں سے دیکھتا رہتا۔ ان کی نظریں عجیب تھیں یہ کرم علی کو وہاں پہلے دن آتے ہی اندازہ ہو گیا تھا۔
اصطبل میں ایک آدھ کے علاوہ کوئی پاکستانی نہیں تھا اور کرم علی کو شش کے باوجود ان پاکستانیوں سے بات نہیں کر سکا یا یہ کہنا زیادہ بہتر تھا کہ انہوں نے اس سے بات نہیں کی۔ وہ ان کے رویے بھی سمجھ نہیں سکا۔ مگر وہاں کی باقی چیزیں بھی کہاں سمجھ پا رہا تھا۔
شیخ سعود بن جابر کے اصطبل میں گھوڑوں کی تعداد اتنی زیادہ نہیں تھی۔ کویت میں بہت سے دوسرے اصطبلوں میں سینکڑوں کی تعداد میں گھوڑے تھے۔ مگر سعود کے اصطبل میں دنیا کی ہر بہترین نسل کا گھوڑا موجود تھا۔
سواری سے لے کر ریس کے گھوڑوں تک ، ہر نایاب قسم کا گھوڑا اس کے پاس تھا اور ان گھوڑوں کے لیے اس نے دنیا کی بہترین سہولیات اور بہترین عملہ مہیا کر رکھا تھا۔ پھر ان میں کرم علی اپنے آپ کو مس فٹ نہ سمجھتا تو کیا سمجھتا۔
شیخ سعود بن جابر کو اس نے وہاں اپنے آنے کے تیسرے دن ہی دیکھ لیا تھا۔ وہ اس سائیس کے ساتھ چند گھوڑوں کو باہر لا رہا تھا۔ جب رائڈنگ گیئر میں ملبوس ایک آدمی گھوڑا دوڑاتا ہوا ان کی طرف آیا تھا۔ اس نے سائیس اور آس پاس کے چند دوسرے ملازمین کو یک دم محتاط ہوتے دیکھا۔ اس وقت تک اسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ وہ شیخ سعود بن جابر ہو سکتا تھا کیونکہ وہ اسے کوئی ادھیڑ عمر بوڑھا آدمی سمجھ رہا تھا مگر وہ چالیس سال کی عمر کا ایک بے حد ہینڈسم اور لمبا مرد تھا۔
اس کے قریب آنے پر دوسرے ملازموں کی طرح اس نے بھی اسے سلام کیا تھا۔
سعود بن جابر کی نظریں کچھ دیر تک اس پر جمی رہیں پھر اس نے سائیس سے انگریزی میں کچھ کہا۔ سائیس نے جواباً کچھ کہا اس بار سعود بن جابر نے اسے دیکھا اور پھر بے حد صاف اردو میں اس سے کہا۔
”اپنی شرٹ اتار دو۔”
”کرم علی کو اس کے منہ سے اردو سن کر جتنا جھٹکا لگا تھا، اس جملے کو سن کر اس سے زیادہ شاک لگا۔ وہ اس وقت نیکر اور شرٹ میں ملبوس تھا۔ وہ تقریباً اسی طرح کا لباس تھا جو وہاں کام کرنے والے زیادہ تر ملازم پہنے ہوئے تھے اور اب شیخ سعود بن جابر اسے سب کے سامنے شرٹ اتارنے کے لیے کہہ رہا تھا۔ کرم نے پچھلے کئی سالوں میں برص کا مرض ظاہر ہونے کے بعد کبھی کسی کے سامنے اپنی شرٹ نہیں اتاری تھی اور کہاں یہ کہ یہاں کھلے عام سب کے سامنے وہ اپنی شرٹ اتار دیتا۔ گویا جو راز وہ پچھلے اٹھارہ سالوں سے چھپائے پھر رہا تھا، اسے بیچ چوراہے میں فاش کر دیتا۔ اس کا حلق یک دم خشک ہو گیا تھا اسے شدید ہتک کا احساس ہوا تھا۔
”اپنی شرٹ اتار دو۔”
اس بار سعود بن جابر نے بے حد کرخت لہجے میں اس سے کہا اور اس سے پیشتر کہ وہ کچھ کہتا یا کرتا دو ملازم آگے بڑھے تھے اور انہوں نے چند سکینڈز میں کرم علی کی شرٹ اتار دی۔ کرم علی نے مزاحمت نہیں کی۔ مزاحمت بے کار تھی۔ وہاں موجود ہر شخص کی نظریں کرم علی کے پیٹ اور کمر پر موجود برص پر جم گئی تھیں اور کرم علی کی نظریں سعود بن جابر کے گھوڑے کے پیروں پر۔
اس نے اپنے جسم کے بال کھڑے ہوتے ہوئے محسوس کیے تھے۔ سعود بن جابر اب اپنے گھوڑے پر بیٹھا اسے آہستہ آہستہ حرکت دیتے ہوئے کرم علی کے گرد چکر لگا رہا تھا اور چکر لگانے کے ساتھ ساتھ وہ بڑی سنجیدگی سے کرم علی کے جسم پر موجود ان نشانات کو دیکھ رہا تھا، پھر جیسے کچھ مطمئن ہوتے ہوئے اس نے کرم علی سے پوچھا۔
”جسم پر اور بھی کہیں برص کے داغ ہیں؟” اس بار اس کے لہجے میں پہلے جیسی کرختگی نہیں تھی۔ کرم علی نے گھوڑے کے پیروں سے نظریں اٹھا کر سعود کو دیکھا اور پھر خشک ہوتے ہوئے حلق کے ساتھ کہا۔
”نہیں۔”
”شرٹ پہن لو۔” سعود نے اس سے کہا اور پھر سائیس سے ایک بار پھر انگلش میں کچھ کہنے لگا۔ کرم علی نے اس دوسرے ملازم کے ہاتھ سے شرٹ لے کر پہن لی، جس نے اس کی شرٹ اتار دی تھی۔
سعود بن جابر کا رویہ اس کے لیے ناقابل فہم تھا۔ مگر باقی سب کچھ کہاں اس کی سمجھ میں آرہا تھا۔ سعود بن جابر صرف چند منٹ اور وہاں ٹھہرا تھا۔ پھر اسی طرح گھوڑا دوڑاتے اور کرم علی پر ایک نظر ڈالتے ہوئے وہاں سے چلا گیا۔
کرم علی کا خیال تھا کوئی نہ کوئی اب اسے وہاں سے چلے جانے کے لیے کہے گا۔ برص دیکھنے کے بعد یہی ہونا چاہیے تھا، اس کا خیال ایک بار پھر غلط نکلا تھا۔ کسی نے اسے وہاں سے جانے کے لیے نہیں کہا۔ برص کے ان داغوں کو دیکھ کر بھی نہیں، کچھ نہ کچھ غلط ضرور تھا مگر غلط کیا تھا؟ یہ کرم کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔
وہاں کام کرنے والا ہر شخص اس سے کچھ فاصلے پر تھا۔ مگر اس فاصلے میں کرم کو نفرت یا حقارت کی جھلک نہیں آرہی تھی اور یہ چیز بھی اسے الجھا رہی تھی یہ نفرت اور حقارت نہیں تھی تو پھر کیا چیز تھی جو ان سب کو اس سے دور رکھ رہی تھی۔ وہاں آمد کے ساتویں دن اسے یہ بھی پتا چل گیا تھا۔
اس دن اپنے کوارٹر میں جا کر بہت دیر تک کرم اس پورے واقعہ کے بارے میں سوچتا رہا تھا۔ ہتک کا احساس بے حد شدید تھا مگر ‘پیسے کی ضرورت’ اس سے زیادہ شدید۔ اس کا جی چاہ رہا تھا کہ وہ ایک لمحہ ضائع کیے بغیر وہاں سے چلا جائے اور اس کا دماغ اس سے کہہ رہا تھا وہ یہ حماقت نہ کرے۔ آخر اس کا گیا ہی کیا ہے۔ صرف اس کی شرٹ ہی تو بارہ پندرہ لوگوں کے بیچ میں اتروائی گئی تھی اور تو کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔
وہ اب ایک عربی شیخ کا ملازم تھا اور وہ چاہتا تو اس کے ساتھ اس سے بھی برا سلوک کر سکتا تھا۔ وہ اپنے میل جول کے لوگوں سے عربوں کے اپنے ملازموں کے ساتھ بد سلوکی کے قصے سنتا رہا تھا اور یہ بدسلوکی تو ان قصوں کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھی۔ کم از کم ایسی نہیں کہ وہ اس ملازمت کو چھوڑ کر چلا جائے۔
وہ بار بار خود کو تسلیاں دے رہا تھا۔ مگر اس کے اندر ہونے والی چبھن بے حد شدید تھی وہ ساری رات روتا رہا تھا۔ اپنے گھر سے نکلنے کے بعد وہ کویت آنے کے بعد کئی بار رویا تھا۔ مگر زندگی میں پہلی بار یہاں آکر وہ بے بسی کے احساس سے رو رہا تھا۔ پہلی بار اسے وہ ساری زنجیریں تکلیف دینے لگی تھیں۔ جنہوں نے اس کے مقدر اور رزق کو شیخ سعود بن جابر کے اصطبل کا حصہ بنا دیا تھا۔




Loading

Read Previous

من و سلویٰ — قسط نمبر ۵

Read Next

من و سلویٰ — قسط نمبر ۷

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!