Tag: bol entertainment

  • الف — قسط نمبر ۱۲ (آخری قسط)

    الف — قسط نمبر ۱۲ (آخری قسط)

    جانِ جہاں!
    یہ خط تمہیں حسنِ جہاں نہیں لکھ رہی۔ قلبِ مومن کی ماں لکھ رہی ہے۔ آج میں نے قلبِ مومن کے وہ خط پڑھے جو اُس نے اللہ کے نام لکھے ہیں۔۔۔ تمہیں یاد ہے وہ لیٹر باکس جو میں نے اُسے بنا کر دیا تھا۔ وہ اُسے جنگل میں رکھ آیا ہے اور اُس میں روز خط ڈالتا ہے۔ جو خط آج میں نے پڑھا ہے۔ وہ اُس کا 30 واں خط ہے۔ اُس نے اللہ سے تمہیں واپس بھیجنے کا کہا ہے۔
    تمہارے اور میرے جھگڑے میں قلبِ مومن کا کوئی قصور نہیں تھا۔ وہ بوجھ جو تمہارے جانے کے بعد میرے سینے پر آپڑا تھا۔ وہ یہ خط پڑھ کر اور بڑھ گیا ہے۔
    میں تمہاری مجرم ہوں طہٰ اور میں تمہارے بیٹے کی بھی مجرم ہوں۔ مجھے وہ تصویریں نہیں بیچنی چاہیے تھیں اور بیچتی تو بھی تم سے پوچھ کر ۔
    تم اُس دن سفید گلاب لائے تھے میرے لیے اور قلبِ مومن کے لیے بہت ساری چیزیں تمہارے جانے کے بعد پتہ چلا تھا مجھے، اور یہ بھی یقین ہے تم کو کام مل گیا ہوگا۔ بہت پچھتائی تھی میں تمہارے جانے کے بعد۔ سوچا تھا تمہارے پیچھے عبدالعلی صاحب کے گھر جاؤں اور تمہیں منالوں۔
    میں جانتی تھی مجھے چھوڑ کر واپس اُن ہی کے پاس گئے ہوگے لیکن پھر تمہارے لفظ میرے پیروں کی زنجیر بن گئے۔ اُن کی بازگشت ختم ہی نہیں ہوئی تھی۔
    میں نے سوچا مجھے تمہارے پیچھے نہیں جانا چاہیے۔ اگر میں تمہارے اور اللہ کے درمیان آئی ہوں تو مجھے نہیں آنا چاہیے۔ اگر میری وجہ سے تم خطاطی کرنے کے قابل نہیں رہے تو مجھے تمہارے ہاتھوں کی یہ بیڑی اُتار دینی چاہیے۔
    پر آج قلبِ مومن کے اس لیٹر باکس نے میری انا کے ہر بُت کو توڑ دیا۔ میں اپنے لیے خود غرض ہوسکتی ہوں بیٹے کے لیے نہیں ۔
    یہ خط مومن کے خطوں کے ساتھ عبدالعلی صاحب کے پتے پر بھیج رہی ہوں۔ جانتی ہوں تم وہاں ہو تو تمہیں مل جائیں گے اور جب تمہیں مل جائیں اور تم اُنہیں پڑھو تو آجانا تمہارا بیٹا تم سے بہت پیار کرتا ہے۔ مجھ سے کہیں زیادہ۔۔۔ تمہارے لیے وہ اللہ کو خط لکھنے بیٹھ گیا۔ مجھے یقین ہے میرے لیے وہ کبھی اللہ کو خط نہیں لکھے گا۔ اُسے تمہاری ضرورت ہے۔۔۔ مجھے بھی اور کیا کہوں تم سے طہٰ۔۔۔
    بس اس بار بھی آنا تو سفید گلاب لے کر آنا۔
    تمہاری حسنِ جہاں
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    مومنہ سلطان سے اتنا قریبی رشتہ نکل آئے گا یہ کبھی قلبِ مومن نے سوچا بھی نہیں تھا مگر یہ اب وہ سوچنا چاہتا بھی نہیں تھا۔ صرف وہی نہیں تھا جس نے سلطان کو پہچان لیا تھا۔ سلطان بھی اُسے اُن ہی نظروں سے دیکھ رہا تھا جن میں شناخت تھی۔
    ”ارے مجھے تو تعارف ہی نہیں کروانا پڑا تم دونوں کا۔۔۔ تم دونوں نے پہلے ہی ایک دوسرے کو پہچان لیا ہے شاید۔” ثریا بالکل اُسی وقت ہیڈ فون لئے لاؤنج میں داخل ہوئی تھی اور قلبِ مومن اور سلطان کو کھڑے دیکھ کر اُس نے جیسے خود ہی سوچ لیا تھا کہ وہ متعارف ہوچکے تھے۔
    ”آپ کھڑے کیوں ہیں بیٹھ جائیں۔” سلطان لنگڑاتا ہوا آگے بڑھا تھا اور اُس نے بے حد نروس انداز میں قلب،مومن سے کہا تھا۔ قلبِ مومن نے گردن موڑ کر مومنہ کو دیکھا تھا۔ وہ خاموش کھڑی تھی۔ اُس کے چہرے پر کوئی ندامت ، کوئی شرمندگی نہیں تھی جو وہ دیکھنا چاہتا تھا۔ اُس کی غلطی بے شک نہیں تھی ۔ سلطان کا جرم تو تھا۔ قلبِ مومن کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے چیخے چلائے بھاگ جائے یا سلطان کا گریبان پکڑلے۔
    ”ثریا یہ حسنِ جہاں کے بیٹے ہیں ۔۔۔ قلبِ مومن۔” سلطان ثریا کو اُس سے متعارف کروا رہا تھا اور ثریا کے ہاتھ سے ہیڈ فون گر پڑا تھا۔
    ”ہماری حسنِ جہاں کے۔۔۔؟” اُس نے عجیب بے یقینی سے دونوں ہاتھ سینے پر رکھتے ہوئے کہا تھا۔ پھر لپک کر مومن کے پاس آئی اور اُس کا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا۔
    ”وہ آنکھیں، وہی ناک ۔۔۔ وہی پیشانی ۔۔۔ میں کیوں نہیں پہچانی۔۔۔ رہ گئی ثریا۔۔۔بس رہ گئی ثریا۔”وہ قلبِ مومن کا چہرہ دیکھتے ہوئے بے اختیار ہوئی پھر اپنے آپ کو کوسنے لگی۔
    مومن پلٹ کر کچھ بھی کہے بغیر صوفہ پر بیٹھ گیا تھا۔ یہ closureکا وقت تھا یا شاید show downکا۔
    سلطان بھی آگے بڑھ کر ایک صوفے پر بیٹھ گیا تھا۔ ثریا رُکے بغیر چائے لینے بھاگی تھی یوں جیسے پہلی بار اُسے احساس ہوا تھا اُس کے گھر پر کوئی بہت اہم مہمان آگیا تھا۔
    ”مومنہ نے بتایا تھا مجھے۔۔۔تمہاری کہانی میں میرے کردار کے بارے میں۔” سلطان نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بات کرنا شروع کی تھی۔
    ”میں تمہاری کہانی کا ولن نہیں ہوں مومن۔ حسنِ جہاں اور طہٰ میری وجہ سے علیحدہ نہیں ہوئے تھے۔” مومن نے بے حد خفگی سے اُس کی بات کاٹی تھی۔
    ”مجھے اُن چیزوں کے بارے میں جھوٹی وضاحتیں نہ دیں جو میں جانتا ہوں۔”
    ”کیا جانتے ہو تم؟” سلطان بھی برہم ہوا تھا۔
    ”میراباپ تم سے نفرت کرتا تھا۔” مومن نے آپ سے تم کا فاصلہ پل بھر میں طے کرلیا تھا۔ سلطان اُس کا چہرہ دیکھتا رہا۔
    ”میں بھی نفرت کرتا ہوں تمہارے باپ سے اور تم سے بھی۔۔۔ تو کیا ہوا۔۔۔؟ کیا یہ مجھے مجرم بناتاہے؟” سلطان نے جواباً اُتنے ہی کاٹ دار انداز میں کہا تھا۔
    ”میری بیٹی اُس فلم آڈیشن کے بعد تم سے نفرت کرتی تھی کیا یہ تمہیں مجرم اور گناہ گار بناتا ہے؟” مومن کو اُس کے جملے اب تپانے لگے تھے۔ وہ صرف حسنِ جہاں اور طہٰ کی بات کرتا وہ اُس کی اور مومنہ کی بات کیوں کرنے لگا تھا۔
    ”تمہیں اپنے گھر پر حسنِ جہاں کے ساتھ دیکھا تھا میں نے اور اُس کے بعد ہمارے گھر میں تباہی آئی تھی۔ تم پھر بھی چاہتے ہو میں تمہارا جھوٹ سن کر تمہیں ولن نہ سمجھوں۔” مومن نے بے حد تندوتیز لہجے میں اُس سے کہا تھا۔ وہ چند لمحوں کے لئے جیسے یہ بھول گیا تھا کہ وہ کہاں بیٹھا تھا اور کیا کرنے آیا تھا اور جو کچھ وہ کہہ رہاتھا اُس کا اُس کی فلم پر کیا اثر پڑسکتا تھا۔
    ”تم کیا جانتے ہو مومن۔۔۔ تم کچھ بھی نہیں جانتے۔۔۔ یہ میں نہیں تھا جس کی وجہ سے حسنِ جہاں اور طہٰ الگ ہوئے تھے۔۔۔ یہ تم تھے جو اُس گھر کی تباہی کی وجہ بنا۔”
    سلطان نے دو بدو اُس سے کہا تھا اور مومنہ نے باپ کو روکنے کی کوشش کی تھی۔
    ”ابا۔” سلطان نے اُسے بولنے نہیں دیا تھا۔
    ”بتانے دو مجھے مومنہ۔۔۔ یہ اب بچہ نہیں ہے اور نہ ہی میں حسنِ جہاں کہ ہر چیز اس لئے اس سے چھپاتا رہوں کہ اس کا دل ٹوٹ جائے گا۔”
    ”میرے ماں باپ مجھ سے شدید محبت کرتے تھے۔ میرے لئے کیوں علیحدہ ہوتے وہ۔۔۔ یہ تم تھے سلطان۔۔۔ تمہارے خط اور تمہارا میری ماں کے ساتھ افیئر جو۔۔۔”
    سلطان نے بے حد طیش کے عالم میں اُس سے کہا تھا۔
    ”ایک بھی لفظ اور مت کہنا میرے اور اپنی ماں کے بارے میں۔۔۔ میرا اور اُس کا رشتہ تم جیسوں کو سمجھ میں نہیں آسکتا۔ تمہارے باپ کو میرے اور اُس کے رشتے پر شک نہیں تھا۔ خطوں پر اعتراض تھا حسنِ جہاں کے کردار پر شک وہ نہیں کرتا تھا تم کررہے ہو۔
    خوف تھا اُس کو تو یہ تھا کہ میں خط لکھتا رہوں گا تو وہ کبھی نہ کبھی سب کچھ چھوڑ کر واپس پاکستان چلی جائے گی دوبارہ شوبز کی دنیا میں۔ خوف اُسے یہ نہیں تھا کہ وہ میرے ساتھ بھاگ جائے گی۔” مومن یک دم بے حد غضب ناک اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا تھا۔ اُنگلی اُٹھا کر اُس نے سلطان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
    ”مجھے کہانیاں مت سناؤ اپنی اور حسنِ جہاں کی عظمت کی۔۔۔ کیوں آئے تھے تم ہمارے گھر۔۔۔ کیوں۔۔۔؟”
    ”تم اللہ کو خط لکھ لکھ کر چیزیں مانگا کرتے تھے نا۔۔۔ تمہاری ماں سے برداشت نہیں ہوا وہ۔ مجھے بلوایا تھا اُس نے کہ میں تمہارے باپ کی بنائی ہوئی اُس کی تصویریں یہاں پاکستان لاکر بیچ دوں اور پیسے اُسے بھیج دوں کیونکہ ترکی میں اُن تصویروں کو کوئی نہیں خریدتا اور طہٰ سے وہ سب کچھ چھپانا چاہتی تھی۔ وہ بے روزگار تھا اُن دنوں مگر اُسے کبھی وہ تصویریں بیچنے نہ دیتا۔۔۔ تمہارے لئے اُس نے طہٰ کی محبت کے شاہکار بیچے تھے ۔۔۔ کیونکہ ماں تھی وہ تمہاری۔۔۔بھول گئی تھی کہ محبوب اور شوہر کیا کرسکتا ہے اُس کے ساتھ۔”
    سلطان بولتا چلا گیا تھا۔ قلبِ مومن ہونٹ بھینچے صرف سن رہا تھا۔ وہ اُ س میں سے کسی بھی بات کا یقین نہیں کرنا چاہتا تھا اور نہ ہی کررہا تھا۔ وہ آگے بڑھا تھا۔ اُس نے سلطان کا گریبان پکڑا تھا۔ مومنہ لپکتی ہوئی آئی تھی اور اُس نے سلطان کا گریبان اُ س کے ہاتھوں سے چھڑانے کی کوشش کی۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • الف — قسط نمبر ۱۱

    الف — قسط نمبر ۱۱

    پیارے بابا جان
    السلام و علیکم
    میںجانتی ہوں یہ خط دیکھ کر آپ حیران ہوجائیں گے لیکن شاید آپ کی خوشی آپ کی حیرت سے زیادہ ہوگی۔
    آپ کو خط لکھنے کا خیال روز آتا تھا۔ اُس دن سے جب سے میں قلبِ مومن کو لے کر ترکی سے پاکستان آگئی تھی۔ روز میرا دل چاہتا تھا میں آپ سے آپ کا حال پوچھوں۔ میں جاننے کی کوشش کروں کہ آپ کے دن رات کیسے گزر رہے ہیں؟ کیا وہ بھی ویسے ہی ویران ہیں جیسے میرے ؟ کیا آپ کا غم بھی ابھی تک ویسا ہی ہے جیسا میرا؟ کیا درد اب بھی تھمنے کا نام نہیں لے رہا؟
    آپ سے بہت کچھ پوچھنا چاہتی تھی بہت کچھ کہنا اور بتانا چاہتی تھی پر کبھی وقت آڑے آ گیا کبھی انا اور کبھی میری شرمندگی۔
    اور اب زندگی نے بالآخر مجھے مجبور کردیا کہ میں آپ کو یہ خط لکھوں اور آپ سے مددمانگوں۔ وہ کام جو کبھی کرنے سے پہلے میں مرجانا چاہتی تھی۔ آپ سے ناراضگی اور آپ پر غصہ بہت سال رہا تھا مجھے۔
    آپ نے میرے اور طہٰ کے درمیان آنے کی کوشش کی تھی۔ ہمیں جُدا رکھنے کی خواہش تھی آپ کی۔ اور وہ سب کچھ جو آپ نے میرے بارے میں کیا تھا وہ سُننے کے بعد اگر میں آپ سے نفرت کرتی تھی تو میری جگہ کوئی بھی ہوتا یہی کرتا۔
    پر آج سوچتی ہوں۔ آپ غلط نہیں تھے۔ غلط میں اور طہٰ بھی نہیں تھے۔ یہ سب کچھ ایسے ہی لکھا تھا جیسے ہوا۔ طہٰ میری زندگی میں نہ آتا تو میں اس سفر سے آشنانہ ہوتی جو میں نے کیا اور اس سفر پر مجھے کوئی ندامت کوئی رنج کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔
    میں خطاطوں کے قبیلے کے جانشین کی محبت میں گرفتار ہوئی تھی۔ پارسائی کی خواہش تھی۔ اللہ کے قریب ہوجانے کا یقین تھا۔ پر اس سفر کے دوران پتہ چلا کہ کسی پارسا اور نیک کا ساتھ پارسائی اور نیکی کی طرف مائل کرسکتا ہے نیک اور مومن بنا نہیں سکتا۔ اللہ سے اپنی قربت کسی دوسرے کو عطا نہیں کرسکتا۔ میری بھول تھی میں اس راستے کو اتنا آسان سمجھ بیٹھی تھی۔ اب اتنے سالوں بعد سمجھ آیا ہے اللہ سے قریب ہونے کے لئے ہر آزمائش خود جھیلنی پڑتی ہے۔
    میں زوال کی گرفت میں ہوں اور بے حد خوش ہوں۔ واپس آکر دوبارہ عروج مل جاتا تو پچھلے سارے سال ضائع ہی سمجھتی میں۔ اب یہ زوال مجھے سمجھا رہا ہے کہ یہ راستہ میرا نہیں ہے نہ میرے لئے اب رہا ہے۔ میں طے کرچکی ہوں وہ پہلی منزل جس کے بعد آگے کہیں اجر ہوتا ہے۔
    اللہ نے راستہ بدل دیا ہے میرا کیونکہ دل بدل دیا ہے اُس نے میرا۔ وہ اب موم کا بن گیا ہے۔ پتھر کا نہیں رہا۔ غرض ختم ہوگئی ہے اُس میں سے۔۔۔غرور چلا گیا ہے اُس میں سے۔ میں بھی نہیں رہی اُس میں۔۔۔ اور کبھی کبھار لگتا ہی نہیں یہ میرا ہی دل ہے۔۔۔ حسنِ جہاں کا دل۔
    آپ کے لئے کئی سال سخت کئے رکھا تھا اس دل کو۔۔۔ اب طہٰ کے غم نے نرم کردیا ہے۔ معاف کردیا میں نے آپ کو بابا جان۔ اُسی دن کردیا تھا جب طہٰ کی موت کا پتہ چلا تھا۔ کوئی خسارے کی فصل میں کھڑا ہوکر اور خسارہ کیا بوتا۔
    میرا قلبِ مومن آپ کے پاس ہے۔ اُس کا دل میرے لئے پتھر ہے۔ میں اپنے پاس رکھے رکھتی تو پتھر سے کوئلہ ہوجاتا پر موم نہ ہوتا۔ میں نے ماں ہوتے ہوئے بھی اُسے آپ کے پاس بھیج دیا تھا۔ آپ کے قبیلے کا ایک جانشین میری وجہ سے راستے سے بھٹکا۔ میں رہ جانے والے آپ کی نسل کے اس واحد چشم و چراغ کے بھٹکے جانے کا گناہ اپنے سر نہیں لے سکتی تھی۔
    آپ کو خط لکھ رہی ہوں کیونکہ میں نکلنا چاہتی ہوں ۔ اس سب سے جس میں میں اپنی نادانی کے ہاتھوں دوبارہ آپھنسی ہوں۔ آپ کے اور مومن کے پاس آکر رہنا چاہتی ہوں۔ وہاں زندگی گزارنا چاہتی ہوں۔
    آپ کے لئے ممکن ہو تو حسنِ جہاں کے لئے کچھ کیجئے گا۔ نہ بھی کرسکیں تو مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں۔ میرا قلبِ مومن میرا مستقبل آپ کے پاس محفوظ ہے۔ میرے لئے اتنا کافی ہے بابا جان۔
    مومن کے لئے بہت سا پیار
    آپ کی بیٹی
    حسنِ جہاں
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    قلبِ ِ مومن ٹینا اور داؤد کے ساتھ بیٹھے ہوئے آفس میں کام کررہے تھے۔ جب عباس دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا تھا۔ وہ اُن کی پچھلی فلم کا ہیرو تھاا ور الف کو شروع میں سائن کرکے پھر کانٹریکٹ ختم کرچکا تھا لیکن مومنہ سلطان کے فلم سائن کرتے ہی وہ اُڑجانے والے سارے موسمی پرندے اگلی بہار کے نظارے کے لئے واپس آنا شروع ہوگئے تھے۔
    وہ بڑی گرم جوشی سے سیدھا مومن کے پاس آکر اُس سے گلے ملا تھا پھر اُس نے مصافحہ کرکے ہاتھ اپنے سینے پر یوں رکھے جیسے اُس کے لئے قلبِ مومن سے مصافحہ کرنا اور گلے لگنا بھی سعادت کی بات تھی۔
    ”آپ کو پتہ ہے مومن بھائی۔۔۔ آپ کے کام کافین ہوں میں۔۔۔ آپ کے ساتھ پراجیکٹس کرنے کے لئے دس پراجیکٹس چھوڑ کر آسکتا ہوں میں۔” اُس نے اس انداز میں کہا تھا جیسے اُس نے الف سے علیحدگی اختیار کی ہی نہ تھی اور اس فلم کے بارے میں پہلی بار ہی پتہ چلا تھا اُسے۔
    ٹینا اور داؤد نے معنی خیز نظروں کا تبادلہ کیا تھا اور قلبِ مومن نے کچھ بھی نہیں کہا تھا۔
    ”آپ نے مومنہ سلطان کے ساتھ مجھے اس فلم میں کاسٹ کرکے میری زندگی کی سب سے بڑی خواہش پوری کردی ہے۔” اُس نے کرسی کھینچ ک ربیٹھتے ہوئے بھی اپنی بات جاری رکھی۔
    ”سکرپٹ ڈسکس کرتے ہیں۔” مومن نے اُس کی کسی لفّاظی کا جواب نہیں دیا تھا۔ اُس نے بس سکرپٹ کھول لیا تھا۔ عباس کچھ گڑبڑایا تھا۔ مومن جال میں نہیں آیا تھا۔
    ”رول چھوٹا ہے اور ایک بچے کے باپ کا ہے۔۔۔ کوئی اعتراض؟” اُس نے بے حد واضح اور غیر مبہم انداز میں کہا۔
    ”مومنہ سلطان کے Oppositeہے؟” عباس نے جھٹ پوچھا تھا۔
    ”ہاں۔” مومن کا جواب مختصر تھا۔
    ”مجھے کوئی اعتراض نہیں۔” اُس نے فوراً کہا۔
    ”اور پھر مومن بھائی آپ کی فلم ہے مجھے پتہ ہے آپ کچھ نہ کچھ کر واہی لیں گے مجھ سے۔ آپ پر اندھا اعتماد ہے مجھے۔”
    مومن نے اُس کی خوشامد کا نیاسلسلہ بیچ میں ہی کاٹتے ہوئے داؤد سے کہا۔
    ”کانٹریکٹ کروالو دوبارہ۔۔۔”
    ٭…٭…٭
    وہ رات کے وقت گھر کے لاؤنج میں تھکا ہارا داخل ہوا تھا۔ شکور چند دنوں کے لئے چھٹی پر گیا ہوا تھا اور گھر کی خاموشی پہلے سے زیادہ گہری تھی۔
    لاؤنج میں وہ دیوار خالی تھی جس پر وہ خطاطی اتنے سالوں سے لگی ہوئی تھی۔ مومن نے اُس کی جگہ کچھ بھی نہیں لگایاتھا۔
    LCDآن کرکے وہ کچن کی فریج سے پانی کی بوتل نکال کر لے آیا تھا۔ اُسے پیتے ہوئے وہ چینلز سرفنگ کرنے لگا۔ ایک چینل پر اُس کی فلم کے حوالے سے خبر چل رہی تھی۔
    "The Academy Award winning actress MOMINA SULTAN signs her new film in Pakistan leaving Hector’s upcoming merit Urban Saga.”
    قلبِ مومن نے چینل بدل دیا۔ وہ اب جس چینل پر گیا تھا وہاں پریس کانفرنس کی کوریج کے ساتھ خبر چل رہی تھی۔
    ”مومنہ سلطان نے بالاآخر اپنی اگلی فلم کا اعلان کردیا اور اس بار وہ لوکل سکرین پر جلوہ گر ہوں گی۔ قلبِ مومن کی اگلی فلم ”الف” میں۔۔۔ یاد رہے کہ یہ فلم پچھلے سال اناؤنس ہوئی تھی مگر پھر تعّطل کا شکار ہوگئی۔ اب مومنہ سلطان کے اس فلم کا حصہ بننے پر قلبِ مومن کی قسمت کا ستارہ ایک بار پھر چمکا ہے اور اس بار بین الاقوامی طور پر ۔”قلبِ مومن نے وہ چینل بھی بدلتے ہوئے TV بند کردیا تھا۔ وہ اوب بوتل سے پانی غٹاغٹ پی رہا تھا۔ یوں جیسے مومنہ سلطان کے نام کی یہ تکرار اُسے پریشان کرنے لگی تھی۔ اُس کااحسان مند ہونے کے باوجود۔
    فون اُٹھا کر اُس نے یک دم مومنہ کو کال کرنی شروع کردی تھی۔ دوسری طرف سے کسی نے کال ریسیو نہیں کی۔ قلبِ مومن کو اُس وقت احساس ہوا کہ وہ رات کا پچھلا پہر تھا۔ لیکن کال کا ریسیو نہ ہوناو پھر بھی اُس کی انا کو مجروح کرگیا تھا۔
    ”میں تو بھول گیا تھا۔۔۔ آسکرا یوارڈ یافتہ اداکارہ ہے وہ۔۔۔ پہلی کال پر ڈائریکٹر کی کال کیسے لے گی وہ۔۔۔ وہ بھی قلبِ مومن جیسے ڈائریکٹر کی۔” اُس نے بڑبڑاتے ہوئے خود ہی فون بند کرتے ہوئے اُسے دور پھینک دیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    میک اپ آرٹسٹ نے اُس کے چہرے پر Puffingسے آخری ٹچ دیتے ہوئے مومنہ سے کہا۔
    ”اب دیکھیں اپنے آپ کو۔” وہ کہتے ہوئے سامنے سے ہٹ گئی تھی۔ مومنہ نے آئینے میں اپنے آپ کو دیکھا اور پہلی نظر میں اُسے لگا وہ حسنِ جہاں ہی تھی۔
    ”مومن بھائی نے جو lookدینے کو دی تھی بالکل ویسی ہی lookدی ہے میں نے آپ کو۔” وہ اپنے آپ کو آئینے میں دیکھتے ہوئے میک اپ آرٹسٹ کی با ت پر چونکی تھی۔
    ”کون سی Look۔۔۔ تمہیں کوئی تصویریں دی تھیں اُس نے؟” اُس نے میک اپ آرٹسٹ کو کُریدا تھا۔
    ”ہاں۔۔۔ یہ دیکھیں یہ میرے فون میں ہیں تصویریں۔” میک اپ آرٹسٹ نے فوراً سے پہلے اپنے فون جیسے اُس کے سامنے کردیا تھا۔
    وہ حسنِ جہاں کی تصویریں تھیں اور مومنہ کو حیرت تھی حسنِ جہاں کو نہ جاننے کا دعویٰ کرنے کے باوجود اُس نے میک اپ آرٹسٹ کو وہ تصویریں کیسے دے دی تھیں کیا اُسے یہ اندازہ نہیں تھا کہ مومنہ وہ تصوریں دیکھ سکتی تھی۔
    ”سبیکا۔۔۔ مومنہ کی Lookہوگئی تو پھر ہمیں۔۔۔” وہ ڈریسنگ روم کا دروازہ بجا کر روانی میں اندر آیا تھا اور آئینہ میں مومنہ کا عکس دیکھ کر فریز ہوگیا تھا۔ وہ جیسے اپنی بات بھی پوری نہیں کرسکا تھا۔ اُسے حسنِ جہاں یاد آئی تھی ۔ وہ اس وقت بالکل اُسی روپ میں تھی جس میں مومن حسنِ جہاں کو پاکستان آنے کے بعد دیکھا کرتا تھا۔
    ”مومن بھائی ٹھیک ہے نا گیٹ اپ۔۔۔ یہی lookچاہ رہے تھے نا آپ۔” میک اپ آرٹسٹ نے اُس کی محویت توڑی تھی۔ اُس نے ہڑبڑا کر جیسے نظریں اُس کے چہرے سے ہٹالی تھیں۔ وہ چلتا ہوا اب مومنہ سلطان کے پاس آگیا تھا۔ سامنے ڈریسنگ کاؤنٹر پر پڑے سفید گلابوں میں سے اُس نے کچھ اُٹھا کر مومنہ کے بالوں کے جوڑے میں لگاتے ہوئے میک اپ آرٹسٹ سے کہا تھا۔
    ” یہ بھی لگانے ہیں۔”
    ”اوہ۔۔۔ اوہ ۔۔۔یہ میں کیسے بھول گئی۔۔۔ ہاں یہ بھی لگاتی ہوں۔” میک اپ آرٹسٹ نے جواباً وہ پھول اُس کے ہاتھ سے لیتے ہوئے کہا تھا جو اُس نے مومنہ کے جوڑے پر رکھ کر اُسے وہ جگہ بتائی تھی جہاں وہ پھول لگتے تھے۔ مومنہ خاموشی سے آئینے میں اُس کے اور میک اپ آرٹسٹ کے درمیان ہونے والی گفتگو کسی تبصرے کے بغیر سنتی رہی تھی۔
    ”اب دیکھیں۔” میک اپ آرٹسٹ نے چند لمحوں میں وہ پھول اُس کے جوڑے میں لگا کر دوبارہ مومن سے رائے لی تھی۔
    اس بار مومن مومنہ کی کرسی کے پیچھے کھڑا اُسے آئینے میں دیکھ رہا تھا۔ جوڑے میں سجے اُن سفید گلابوں کے ساتھ اور مومنہ آئینے میں اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھ رہی تھی۔ یوں جیسے اُس کی رائے سننا چاہتی ہو۔ اُس نے صرف ایک لمحہ کے لئے آئینے میں مومنہ کو دیکھا تھا۔ پھر وہ نظریں چرا کر برق رفتاری سے وہاں سے نکل گیا تھا۔
    ”کاسٹیومز دیکھنے ہیں مجھے۔۔۔ ڈیزائنر آیا ہوا ہے۔” وہ عجیب سے لہجے میں کہہ کر وہاں سے چلا گیا تھا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • الف — قسط نمبر ۱۰

    الف — قسط نمبر ۱۰

    میرے پیارے اللہ
    السلام و علیکم
    آپ کیسے ہیں؟ میں بھی ٹھیک ہوں۔ آپ کو میں یاد ہوں نا؟ میں قلبِ مومن ہوں۔ آپ کو خط لکھتا تھا۔ پھر خط لکھنا بند کردیا۔ لیکن آپ کو بھولا نہیں ہوں میں۔ بس آپ سے ناراض تھا۔ اُس کے لئے سوری۔ مجھے ناراض نہیں ہونا چاہیے تھا پر میں آپ سے ناراض ہوجاتا ہوں کبھی کبھی۔ اب توبہ کررہا ہوں۔ مجھے پتہ ہے آپ میری توبہ فوراً قبول کرلیں گے۔ یہ مجھے دادا نے بتایا ہے۔ پہلے مجھے ساری باتیں ممی بتاتی تھیں۔ اب دادا بتاتے ہیں۔
    میں واپس ترکی آگیا ہوں۔ آپ کا شکریہ آپ کو خط لکھا کرتا تھا میں کہ میں نے دادا کے پاس جانا ہے۔ آپ نے میری دُعا قبول کرلی۔ لیکن اب میں یہاں بہت اُداس ہوں۔ یہاں سب کچھ ٹھیک ہے۔ دادا پیار کرتے ہیں میں سکول جاتا ہوں۔ خطّاطی سیکھ رہا ہوں۔ میرا اچھا سا کمرہ ہے۔ نئے دوست ہیں ۔ بہت سارے کھلونے ہیں ۔لیکن اللہ میاں میں بہت اُداس ہوں کیونکہ یہاں ممی نہیں ہیں۔
    وہ مجھے بہت یاد آتی ہیں۔ حالانکہ میں اُن سے جھگڑا کرکے آیا ہوں۔ خفا بھی ہوں۔ پھر بھی وہ مجھے بہت یاد آتی ہیں۔
    میں جانتا ہوں وہ اب مجھ سے پیار نہیں کرتیں۔ اُن کی زندگی میں اب بس ڈانس ہے۔۔۔اور وہ آدمی سلطان بھی جس سے مجھے بہت نفرت ہے۔
    میں آج بھی ممی سے پیار کرتا ہوں۔ اُن کے ساتھ رہنا چاہتا ہوں۔ لیکن پاکستان میں نہیں یہاں ترکی میں۔
    یہاں بابا کی قبرہے۔ میں اور دادا ہر ہفتے قبر پر جاتے ہیں۔ دُعا مانگتے ہیں۔ میں وہاں بہت پیار ے پھول رکھ کر آتا ہوں۔ ممی کو سفید گلاب اچھے لگتے ہیں اور بابا کو Redگلاب میں بابا کی قبر پر سفید اور Redدونوں گلاب لے کر جاتا ہوں۔۔۔ ایک ایک۔۔۔
    ممی یہاں آجائیں تو پھر میں دادا اور ممی تینوں بابا کی قبر پر جایا کریں گے۔
    مجھے لگتا ہے بابا ممی کا انتظار کرتے رہتے ہیں۔ پتہ نہیں مجھے کیوں ایسا لگتا ہے۔
    میرے پیارے اللہ کیا آپ ممی کو میرے پاس ہمیشہ کے لئے ترکی بھیج سکتے ہیں؟ میں اور دادا اُن کے ساتھ بہت خوشی سے رہیں گے۔آپ کو پتہ ہے میں ساری چیزیں آپ سے مانگتا ہوں کسی اور سے نہیں ۔ یہ مجھے ممی نے سکھایاتھا۔
    آپ اگر میری ممی کو میرے پاس بھیج دیں تو میں آپ کو ایک بہت پیارا Birds flowersاور butterfliesوالاکارڈ بناکر بھیجوں گا اور اُس کے اوپر خطاطی میں آپ کا نام بھی لکھوں گا جو میں نے دادا سے سیکھا ہے۔۔۔ بہت پیارا سا نام لکھوں گا آپ کا۔۔۔ اچھے سے رنگوں میں۔
    اور ہاں اب میں نے آپ کے نام کا الف بھی سیدھا لکھنا سیکھ لیا ہے۔
    دادا کہتے ہیں میں ممی کو خط لکھ کر اپنے پا س بلاؤں لیکن مجھے پتہ ہے وہ میرے کہنے سے نہیں آئیں گی مگر آپ کے کہنے پر آجائیں گی۔ اس لئے میں آپ کو خط لکھ رہا ہوں۔
    میں آپ سے ڈھیر سارا پیار کرتا ہوں۔ اور زیادہ کروں گا۔ بس آپ ممی کو یہاں بھیجدیں۔
    اپنا خیال رکھیں۔
    آپ کا قلبِ مومن
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    لاؤنج میں داخل ہوتے ہی جس پہلی چیز نے مومنہ کی نظروں کو اپنی طرف کھینچا تھا۔ وہ دیوار پر لگی اھدنا الصراط المستقیم والی پینٹنگ تھی۔ عبدالعلی کا نام دیکھے بغیر بھی وہ یہ اندازہ کرسکتی تھی کہ اُس کو بنانے والا عام آرٹسٹ نہیں تھا۔ وہ آنکھوں کو نہیں جیسے دل کو مٹھی میں لینے والا آرٹ تھا۔
    ”آپ بیٹھیں میں صاحب کو بلا کر لاتا ہوں۔”
    شکور نے بے حد مودبانہ انداز میں اُس سے کہا۔ اُس کا چہرہ مومنہ سلطان کو اپنے گھر پر دیکھ کر خوشی سے چمکنے لگا تھا۔ اتنے مہینوں بعد اُس کے صاحب کے گھر پر کوئی ”بڑا سٹار” آیا تھا اور وہ بھی وہ جو اس وقت 24گھنٹے کسی نہ کسی حوالے سے TVکی خبروں کاحصہ بنی ہوئی تھی۔
    مومنہ شکور کے جانے کے بعد اُس کیلی گرافی کی طرف جیسے کھینچی چلی گئی تھی۔ اُس پینٹنگ کے سامنے کھڑے اُس کے سحر میں گرفتار اُس نے آرٹسٹ کا نام ڈھونڈنا شروع کیا اور بالکل نیچے ایک کونے میں عبدالعلی کے مخصوص انداز میں کئے گئے دستخط دیکھ کر وہ ساکت ہوگئی تھی۔ وہ اُن کے نام اور کام سے واقف تھی۔ بے حد مخصوص انداز میں کئے جانے والے اُن کے دستخط سے بھی وہ انٹرنیٹ کی وجہ سے متعارف تھی اور وہ یہ یقین نہیں کرپارہی تھی کہ وہاں قلبِ مومن کے گھر پر عبدالعلی کی خطاطی دیکھنے والی تھی۔
    ”عبدالعلی صاحب کی خطاطی اور قلبِ مومن۔۔۔ کیا تعلق ہے ان دونوں کا۔۔۔ یا پھر وہ بھی صرف ایک مداح ہے اُن کے کام کا۔۔۔میری طرح۔”اُس نے پینٹنگ کے سامنے کھڑے کھڑے سوچا تھا۔
    ”السلام علیکم ۔” وہ یک دم اُس کی آواز پر پلٹی تھی۔
    وہ کس وقت اندر آیا تھا،مومنہ کو اندازہ نہیں ہوا۔ کچھ دیر کے لئے مومنہ کو جیسے اُس کے سلام کا جواب دینا بھی یاد نہیں رہا تھا۔ وہ دونوں ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑے ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔
    ”وعلیکم السلام۔” مومنہ کو بالا آخر خیال آیا۔
    ”میں شاید کچھ جلدی آگئی۔” اُس نے قلبِ مومن سے نظریں ہٹاتے ہوئے اپنی کلائی میں بند ھی گھڑی پر نظر ڈالی تھی۔
    ”صرف سات منٹ۔۔۔ پاکستان میں بہت جلدی ہے ۔ ۔۔پلیز بیٹھیں۔” مومن نے مسکراتے ہوئے اُس سے کہا تھا۔ گفتگو کسی موضوع کے بغیر شروع ہوگئی تھی۔ مومن کا خیال تھا اُنہیں موضوع ڈھونڈنے اور بات شروع کرنے میں دقت ہوگی۔ وہ نروس تھا اور زندگی میں پہلی بار کسی لڑکی کے سامنے نروس ہورہا تھا۔ یہ مومنہ سلطان کا auraتھا ۔ اُس کی کامیابی کا اثر۔
    ”داؤد لیٹ تھا ورنہ اُسے ساتھ لے کر آتی تو پندرہ منٹ لیٹ ہوتی۔” مومنہ نے بیٹھتے ہوئے کہا تھا۔ اُس نے اپنا ہینڈ بیگ صوفہ کے سامنے پڑی میز پر رکھ دیا تھا۔
    ”میں آدھ گھنٹہ سے آپ کے انتظار میں تھا اس لئے مجھے فرق نہیں پڑا۔۔۔ کافی۔۔۔؟ چائے؟” اُس نے کہتے ہوئے موضوع بدلا۔
    ”پانی۔”مومنہ نے جواباً کہا تھا اور تب ہی اُس نے شکور کو بھی دیکھ لیا تھا جسے وہ مومن کے ساتھ بات کرتے ہوئے دیکھ نہیں پائی تھی۔
    ”کافی اور پانی۔”
    قلبِ مومن نے شکور سے کہا تھا اور وہ سرہلاتے ہوئے وہاں سے چلا گیا تھا۔ مومن نے اُس کے جانے کے بعد میز پر پڑا ایک لائٹر اور سگریٹ جھک کر اُٹھایا تھا اور خود بھی صوفہ پر اُس کے بالمقابل بیٹھ گیا تھا۔
    ”مجھے تمباکو سے الرجی ہے۔” اس سے پہلے کہ وہ لائٹر کو آن کرتا مومنہ نے اُس سے کہا تھا۔
    قلبِ مومن نے چونک کر اُسے دیکھا۔ اُس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ لہرائی تھی۔
    ”یہ سگریٹ پینے کے لئے نہیں ہے۔ میں جب نروس ہوتا ہوں تو صرف لائٹر جلاتا رہتا ہوں۔” اُس نے کہتے ہوئے لائٹر رگڑا تھا۔ شعلہ سا نمودار ہوا اور لہراتا رہا۔ مومنہ کی نظر اُس کے انگوٹھے اور اُنگلیوں کے درمیان دبے ہوئے لائٹر اور اُس سے نکلتے ہوئے شعلہ پر لحظہ بھر کے لئے جمی رہی پھر اُس نے نظریں ہٹالیں۔
    ”آپ نے پوچھا نہیں میں کیوں نروس ہوں؟” مومن کو اُس کی خاموشی اور بے اعتنائی کھلی۔
    ”مجھے دلچسپی نہیں ہے یہ جاننے میں۔” جواب بے حد ٹھنڈا تھا اور لہجہ سرد مہری لئے۔
    مومن جیسے اپنے سوال پر پچھتایا تھا۔ وہ دونوں دوست نہیں تھے اُن کے تعلق کی تاریخ قابل رشک نہیں تھی۔
    کچھ دیر کے لئے لاؤنج میں خاموشی چھائی رہی تھی۔ قلبِ مومن اُس سے دوبارہ کچھ کہنے کے لئے جیسے الفاظ ڈھونڈنے لگا تھا۔
    ”میں آپ سے ایکسکیوز کرنا چاہتا ہوں۔” اُس نے یک دم کسی تمہید کے بغیر کہا۔
    ”ہم فلم کی بات کریں۔۔۔یہ کس کی کہانی ہے؟” مومنہ نے اُس کی بات کاٹ دی تھی یوں جیسے اُسے توقع تھی کہ وہ اُس سے معذرت کرنے کی کوشش کرے گا اور وہ جیسے اُس کی معذرت سننا ہی نہیں چاہتی تھی۔ قلبِ مومن کو جھٹکا لگا تھا۔ وہ اُس کے پروجیکٹ میں کام کرنے کے لئے تیار ہوگئی تھی لیکن اُس کی معذرت سننے پر تیار نہیں تھی۔
    ”کیا مطلب؟” وہ اُس سوال پر اُلجھا تھا جو مومنہ نے اُس سے کہا تھا۔
    ”یہ حسنِ جہاں کی کہانی ہے؟” اُس نے یک دم مومنہ کو کہتے سنا۔
    قلبِ مومن کے پیروں کے نیچے سے زمین جیسے لحظہ بھر کے لئے کھسکی تھی۔ آخری جملہ جو وہ مومنہ سے توقع کرسکتا تھا۔ وہ یہی تھا۔ وہ اُس کہانی میں حسنِ جہاں کو کیسے پہچانی تھی اور وہ حسنِ جہاں کو جانتی کیسے تھی۔ وہ کہانی انٹرنیٹ پر پڑی حسنِ جہاں کی سوانح عمری سے میل نہیں کھاتی تھی پھر مومنہ سلطان نے آدھا سکرپٹ پڑھنے پر اُس کردار اور اُس کہانی کو کیسے پہچانا تھا۔ قلبِ مومن کا دماغ اس وقت جیسے بھنور بنا ہوا تھا۔
    ”وہ کون ہے؟” مومنہ سلطان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے قلبِ مومن نے دھڑلے سے جھوٹ بولتے ہوئے کہا تھا اور ایک لمحہ کے لئے اُس کے سوال نے جیسے مومنہ کو حیران کیا تھا۔
    ”ماضی کی ایک مشہور فلم ایکٹریس اور ڈانسر۔” مومنہ نے بالا آخر کہا۔
    ”میں اُسے نہیں جانتا۔ اس کہانی کے تمام کردار اور واقعات فرضی ہیں۔” مومن نے دو ٹوک انداز میں اُس سے کہا۔
    ”مومن بھائی آپ کا پانی۔۔۔ مومنہ جی آپ کی کافی۔” شکور نے زندگی میں پہلی بار غلط وقت پر صحیح اینٹری کی تھی اور قلبِ مومن کو صحیح وقت پر صحیح چیز دی تھی یہ جاننے کے باوجود کہ کافی مومن نے اپنے لئے منگوائی تھی مگر وہ اُسے مومنہ سلطان کے سامنے رکھ کر پانی اُس کے پاس لے آیا تھا اور مومن نے ایک لمحہ ضائع کئے بغیر گلاس اُٹھا کر اُسے ایک ہی سانس میں خالی کیا تھا۔ وہ اگر مومنہ کو خود نہ بھی اپنے نروس ہونے کے بارے میں بتا چکا ہوتا تب بھی مومنہ کو اُسے دیکھتے ہوئے یہ بوجھ لینا مشکل نہ ہوتا۔
    کافی کے کپ سے اُٹھتے بھاپ کو دیکھتے ہوئے اُس نے حیرانی سے سوچا تھا ۔ قلبِ مومن اُس سے کیا اور کیوں چھپانے کی کوشش کررہا تھا یا پھر وہ کہانی واقعی حسنِ جہاں کی نہیں تھی اور وہ صرف اتفاقی مماثلت تھی۔ خود کو دی جانے والی دوسری توجیہہ اُسے خود ہی بھودی لگی تھی۔ وہ سلطان سے بات نہ کرچکی ہوتی تو اُس مماثلت کو اتفاقی ہی سمجھ لیتی۔ پر اُس کے پاس ”گواہ” تھا۔ اُس آدھے سکرپٹ کے انٹرول کا۔
    ”مجھے لگا یہ کسی کی زندگی کی کہانی ہے۔” اُس نے مومن سے بحث کئے بغیر کہنا شروع کیا تھا۔ وہ اُس پر نظریں جمائے بیٹھا ہوا تھا۔
    ”بے حد خوبصورت کہانی ہے ۔ عالیہ اور عالیان کی۔۔۔ اور زین کی۔۔۔ اور پھر عبداللہ کا کریکٹر ۔۔۔ آدھا سکرپٹ تھا۔۔۔ باقی آدھا کب مل سکتا ہے؟”
    ”آپ حسنِ جہاں کو کیسے جانتی ہیں؟” قلبِ مومن نے یک دم اُسے ٹوکا تھا۔
    وہ پلکیں جھپکائے بغیر اُسے دیکھتی رہی۔
    ”کون حسنِ جہاں؟” بے حد ہموار لہجے میں اُس نے قلبِ مومن سے پوچھا تھا۔
    ”جس کی بات کررہی تھیں آپ؟” قلبِ مومن کو اُس کی بے نیازی بُری لگی تھی۔
    ”میں اُنہیں نہیں جانتی۔” اُس کے جواب نے قلبِ مومن کو زچ کیا تھا۔
    اُس نے جھوٹ بولا تھا اور وہ اُس کے جھوٹ کا جواب جھوٹ سے ہی دے رہی تھی اور قلبِ مومن کی ہمت نہیں ہورہی تھی کہ وہ اُسے یہ کہہ پاتا کہ وہ جھوٹ بول رہی تھی۔
    ”مومن بھائی کوئی خالق علی صاحب آئے ہیں۔” شکور نے ایک بار پھر اینٹری دی تھی۔
    ”Gosh۔۔۔ میں نے تو اُنہیں بھی آج ہی کا ٹائم دیا ہوا تھا۔” مومن بڑبڑاتے ہوئے گڑبڑایا تھا۔ خالق علی کو اُس نے آج بلایا ہوا تھا ۔ یہ اُسے یاد ہی نہیں رہا تھا۔
    ”آپ کو بُرا نہ لگے تو میں اُن سے مل لوں۔ صرف چند منٹوں میں فارغ کردیتا ہوں میں اُنہیں۔” اُس نے بڑی شائستگی سے مومنہ سے پوچھا تھا۔ مومنہ نے سرہلادیا۔
    ”لے آؤ اُنہیں۔” وہ شکور سے کہتے ہوئے وہاں سے اُٹھ کر لاؤنج کے دوسرے حصے میں چلا گیا تھا۔ مومنہ نے اُسے اور شکور کو جاتے دیکھا اُس کی جگہ کوئی اور ایکٹریس ہوتی تو اس بے توجہی پر ہنگامہ کھڑا کردیتی کہ اُس کے ساتھ ہونے والی میٹنگ کو چھوڑ کر کسی دوسرے کے ساتھ میٹنگ شروع کردی گئی مگر قلبِ مومن کے لئے دل میں ہر طرح کے شک و شبہات رکھنے کے باوجود مومنہ کو یہ خیال نہیں آیا تھا کہ وہ اُسے کمتر اور کم حیثیت ثابت کرنے کی کوشش کررہا تھا۔ مگر یہ خیال قلبِ مومن کو آیا تھا کہ وہ یقینا یہ سمجھے گی کہ وہ اُسے یہ احساس دلانے کی کوشش کررہا تھا۔ لاؤنج کے دوسرے حصے میں خالق علی کا انتظار کرتے ہوئے بھی قلبِ مومن کا ذہن مومنہ سلطان میں اُلجھا ہوا تھا۔
    وہ اُدھیڑ عمر دراز قد بے حد متمول نظر آنے والا شخص تھا جسے لے کر شکور لاؤنج میں داخل ہوا تھا۔
    ”خالق علی۔” ایک بے حد گرم جوش مسکراہٹ کے ساتھ اُس نے قلبِ مومن کے سامنے آتے ہی جیسے اپنے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنا تعارف کروایا تھا۔ قلبِ مومن نے جواباً اپنا نام لیتے ہوئے اُس سے مصافحہ کے لئے اپنا ہاتھ بڑھایا ۔ جسے خالق علی نے بے حد گرم جوشی کے ساتھ تھاما تھا۔
    ”میں کچھ جلدی میں ہوں قلبِ مومن صاحب مجھے اپنی فلائٹ پکڑنی ہے۔ اس لئے آپ کا زیادہ وقت نہیں لوں گا۔” خالق نے اُس سے ملنے کے بعد صوفہ پر بیٹھتے ہوئے قلبِ مومن سے خود ہی گفتگو کا آغاز کیا تھا۔
    ”میرے لئے آپ سے ملاقات اعزاز اور سعادت کی بات ہے۔ آپ کے دادا عبدالعلی صاحب ہمیشہ بڑی محبت سے آپ کا ذکرکرتے تھے اور میں ہر بار آپ سے ملنے کا سوچتے ہوئے بھی مل نہیں پایا اور اب دیکھیں کن حالات میں آپ سے ملاقات ہورہی ہے۔”
    لاؤنج کے دوسرے حصے میں بیٹھی مومنہ سلطان دم سادھے خالق علی کی آواز سن رہی تھی جو لاؤنج کے اُس حصہ میں بھی آ رہی تھی جہاں وہ بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ جس عبدالعلی کا ذکر کررہا تھا وہ اُس خطاط عبدالعلی کے علاوہ کوئی اور نہیں ہوسکتا تھا۔
    اُسے اھدنا الصراط المستقیم کی اُس Paintingکے سامنے بیٹھے اُسے دیکھتے ہوئے اب یہ شبہ تو نہیں رہاتھا ۔ وہ یہ بھی جانتی تھی کہ سکرپٹ لکھنے والے کا حسنِ جہاں سے کیا تعلق تھا۔ مگر اس تعلق میں کہیں عبدالعلی بھی ایک زینہ تھے یہ اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہوسکتا تھا۔ وہ عبدالعلی اور اُن کے آبا و اجداد سے واقف تھی ۔ مگر وہ عبدالعلی کی اگلی نسل میں قلبِ مومن کو دیکھ کر شاک میں آگئی تھی۔
    ”عبدالعلی صاحب نے اپنی وفات سے چند ہفتے پہلے مجھ سے ذکر کیا تھا کہ آپ کے پاس خطاطی کے سات شاہکار ہیں جو آپ بیچنا چاہتے ہیں اور میں اُسی سلسلے میں حاضر ہوا ہوں۔ آپ کو یہ بات میں نے messageکے ذریعے بھی بتائی تھی۔ ” خالق علی کچھ ابتدائی تعزیتی کلمات کے بعد اب لمبی چوڑی تمہید کے بغیر اصل مدعا پر آگیا تھا۔
    ”ہاں دادا نے مجھے بھی آپ کا نمبر دیا تھا اُن ہی Paintingsکے لئے کہ میں جب اُنہیں بیچنا چاہوں تو آپ لینا چاہیں گے۔” قلبِ مومن نے جواباً کہا۔
    ”لینا چاہیں گے؟ میں سر کے بل اُنہیں لینے کے لئے آپ کے در پر موجود ہوں جناب۔۔۔ عبدالعلی کے ان شاہکاروں کے لئے جوتے گھساسکتا ہوں آپ کے گھر آ آ کے۔’ ‘ خالق علی نے اُس کا جملہ بیچ میں سے ہی اُچکا تھا۔
    ”شکور وہ سٹور والی پینٹنگز لاکر انہیں دکھا دو۔” قلبِ مومن نے خالق علی کی بات کے جواب میں کوئی بھی تبصرہ کئے بغیر اندر آتے ہوئے شکور سے کہا جو خالق علی کے لئے مشروبات لے کر آیا تھا۔ شکور نے عجیب سی نظروں سے قلبِ مومن کو دیکھا تھا۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • الف — قسط نمبر ۰۹

    الف — قسط نمبر ۰۹

    میرے اُستاد محترم!
    اُمید ہے آپ خیریت سے ہوں گے۔ آپ سے مل کر آیا ہوں اور ابھی تک سحرزدہ پھر رہا ہوں۔ پیرس فیشن ویک میں شرکت کے لیے پیرس آیا ہوا ہوں اور ہر شام شانزے لیزے پر دُنیا کی چکاچوند میں سے گزرتے ہوئے آپ کو یاد کرتا ہوں۔
    خوب صورت عورتوں کے ہجوم میں مہنگے ترین برانڈز کی یلغار میں دُنیا کی اس بھیڑ میں سکون صرف اس تخلیق میں ہے جو آپ کرتے ہیں، وہاں ترکی کے اس چھوٹے سے گھر کی خاموشی اور سکون شانزے لیزے کی اس چکاچوند پر بھاری پڑتی ہے۔
    آپ کے پاس اس گھر میں بیٹھ کر مجھے نہ پیرس یاد آتا تھا، نہ میلان مگر یہاں اس دنیا میں گھومتے ہوئے آپ کی باتیں اور آپ کی خطاطی میرے ساتھ گھومتی ہے، میرا سایہ بن کر۔ نہ میں کان بند کر سکتا ہوں نہ آنکھیں کر بھی لوں تو کیا فرق پڑے گا، آپ تو کہیں دل اور دماغ کا حصہ بن گئے ہیں۔ یا شاید روح کا۔
    بڑا غلط کیا آپ نے اسے بیدار کر کے۔ اب یہ اس ہجوم کے بیچ میں رہنا نہیں چاہتی جہاں میں رہتا ہوں، مجھ سے اپنے جیسوں کی محبت مانگتی ہے۔ وہ میں اسے کہاں سے لا کر دوں عبدالعلی صاحب؟ میں تو آپ کے علاوہ کسی دوسرے کو جانتا ہی نہیں جس کے پاس یہ خوش ہو جائے اور اسے خوش کرنے کی تلاش میں نکلوں گا تو دنیا چھوڑنی پڑے گی، وہ میں چھوڑ نہیں سکتا کیوں کہ اس ”دنیا” کو پانے کے لیے میں نے بہت محنت کی ہے۔ اس دنیا کو پاکر کھو دینے کی ہمت مجھ میں نہیں ہے۔ آپ تو مومن ہیں، آپ نے کبھی ”دنیا” کی تمنا کی ہی نہیں۔ وہ بار بار چل کر آپ کے پاس آئی بھی تو آپ نے اپنی روح کے دروازے بند رکھے۔ مگر آپ کسی ایسے کو جانتے ہیں جو دنیا کو پاکر اسے خود کھودے؟ کوئی ایسا ملے تو مجھے ضرور ملوائیں اُس سے۔ ابراہیم کی مشکل شاید وہ ہی آسان کر دے۔
    اس بار آپ کو دیکھ کر دل بڑا بوجھل ہوا، شاید اس لیے بھی زیادہ یاد آرہے ہیں آپ۔ آپ کو غم زدہ اور رنجیدہ دیکھ کر مجھے اپنے ماں باپ یاد آتے رہے۔
    میں نے پہلی بار جانا، میرے یورپ آجانے اور پیچھے سارے رابطے ختم کر دینے کے بعد وہ کیسے تڑپتے ہوں گے۔ طہٰ تو مر گیا، مگر میں نے تو زندہ ہوتے ہوئے بھی انہیں ترسا دیا۔ پتا نہیں کیا ہوا تھا عبدالعلی صاحب کہ یورپ آکر پیچھے رہ گئے رشتوں کو بھول ہی گیا تھا میں۔ گاؤں، گھر، ماں، باپ، بہن، بھائی، سب۔ آزاد پرندہ بن کر جینا چاہتا تھا میں، پر یہ یاد ہی نہیں رہا تھا مجھے کہ آزاد پرندہ اُڑتا آسمان میں ہے مگر گھونسلہ وہ بھی درخت پر ہی بناتا ہے جس کی جڑیں مٹی میں ہوتی ہیں۔
    آپ کے طہٰ کے لیے غم کو دیکھ کر مجھے اپنے ماں باپ نہیں بھول رہے۔ آپ ظالم نہیں تھے پر میں ظالم تھا۔ ظالم کو اپنے ظلم کا احساس ہو پر تب تک مظلوم ہی نہ رہے تو پھر ظالم کیا کرے؟ میرے ماں باپ سالوں پہلے دنیا سے چلے گئے اور مجھے احساسِ زیاں آج ہو رہا ہے۔ اب اگر توبہ بھی کروں تو کس منہ سے کروں؟
    میرا دل چاہتا ہے، میں آپ سے آپ کا غم بانٹ لوں۔ کاش غم کوئی چیز ہوتا جو میں آپ سے لے کر کہیں دور پھینک آتا۔
    میں نہیں جانتا، آپ کا پچھتاوا کیا ہے جس کا بار بار ذکر کر کے آپ چُپ ہو جاتے تھے مگر میں یہ بھی نہیں جانتا، طہٰ آپ کے پاس کیوں واپس نہیں آیا مگر میں اندازہ لگا سکتا ہوں کہ اس نے جو کیا کیوں کیا ہو گا۔ پیار بہت کچھ بھلا دیتا ہے۔۔۔ رب سب سے پہلے۔۔۔ ماں باپ اس کے بعد۔۔۔ دنیا سب سے آخر میں۔۔۔ میں گزرا ہوں اس راستے سے۔ ۔۔اس کے سب نشیب جانتا ہوں اور فراز تو اس راستے میں کہیں ہے ہی نہیں اس کا کیا ذکر کروں۔
    طہٰ کی بدقسمتی بس اتنی کہ اس کی قسمت میں شوبزنس کی عورت لکھی تھی۔ میں پاکستان کے شوبزنس کو نہیں جانتا۔ اٹلی اور یورپ کے شوبزنس کو جانتا ہوں۔ شوبزنس کی عورت میں حیا نہیں رہتی۔ یہ اس پیشے کی مجبوری ہے پر وفا کیوں نہیں ہوتی؟ یہ وہ خود بھی نہیں جانتیں۔ طہٰ نیک روح تھا، بھٹک گیا۔ شوبزنس بڑی ظالم دنیا ہے اور اس دنیا سے جڑنے والے بھی۔ یہ سراب بن کر نظروں کو بہکاتا ہے اور تب تک بہکاتا ہی رہتا ہے جب تک انسان اندھا نہ ہو جائے۔
    آپ کی بہو ایک بُری عورت تھی، اس لیے آپ کے لیے آزمائش بن کر آئی لیکن عبدالعلی صاحب یہ آزمائش آپ کی زندگی میں نہ آتی تو آپ کا مرتبہ کیسے بڑھتا۔ نیکوں کے راستے میں آزمائشیں آتی ہیں اور بُروں کے راستے میں مخمل۔ یہ آپ ہی نے کہا تھا نا مجھے؟
    اُستاد محترم! آپ کی باتیں آپ ہی کو لکھتے ہوئے شرم سے پانی پانی ہو رہا ہوں۔ پر کیا کروں، آپ کو دلاسا دینا چاہتا ہوں اور اس کے لیے میرے پاس لفظوں کے علاوہ اور کچھ نہیں۔
    اگر میں کچھ کر سکتا ہوں آپ کے لیے تو مجھے حکم دیجئے۔ سید ابراہیم اُڑتا ہوا آئے گا۔ آپ کا بیٹا نہیں بن سکتا مگر آپ کا فرماں بردار ضرور ہو سکتا ہوں۔
    ایک گمراہ
    سید ابراہیم
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    وہ میز بہت سارے کاغذات سے بھری ہوئی تھی اور ان کاغذات میں کیا کیا تھا، کوئی پہلی نظر میں جان بھی نہیں سکتا تھا۔قلبِ مومن نے اس میز پر ہمیشہ کھانا دیکھا تھا یا قہوہ یا پھر اخبار مگر اب ان تینوں چیزوں میں سے کوئی چیز دوبارہ اس میز پر نہیں آنے والی تھی۔
    وہ کتنے دن سے وہاں اس گھر میں تعزیت کے لیے آنے والوں سے مل رہا تھا۔ وہ گنتی بھول گیا تھا۔ وہ کتنے دن سے وہاں آنے والی ڈاک بغیر کھولے اس میز پر ڈھیر کرتا جا رہا تھا۔ اسے یہ بھی یاد نہیں تھا۔ وہ غم میں نہیں تھا وہ حیرت میں بھی نہیں تھا۔ وہ صرف یہ بوجھنے کی کوشش کر رہا تھا اور کسی سوال کا کوئی جواب نہیں مل رہا تھا۔
    اس نے آخری بار انہیں آئی سی یو میں دیکھا تھا اور اس کے وہاں پہنچنے کے چند گھنٹوں بعد ان کا انتقال ہو گیا تھا۔ وہ اس ہاسپٹل میں ان کو ان آخری چند گھنٹوں میں ملنے کے لیے آنے والا واحد شخص نہیں تھا۔ وہ ہاسپٹل اس کے آنے سے پہلے عبدالعلی کے ان شاگردوں سے بھرا ہوا تھا جو ان کے ہاسپٹل میں ہونے کا سن کر پتا نہیں کہاں کہاں سے آئے تھے اور قلبِ مومن کا عبدالعلی سے رشتہ جان کر اس سے تعزیت کرنے لگے تھے۔
    قلبِ مومن کا خیال تھا، اسے اب عبدالعلی کی تدفین کے انتظامات کرنے پڑیں گے۔ اسے یہ بھی نہیں کرنا پڑا تھا۔ اسٹیٹ کی طرف سے ان کی آخری رسومات ادا کی جا رہی تھیں اور اس سب میں قلبِ مومن کی جیسے کوئی ضرورت ہی نہیں رہی تھی۔ وہ بیک گراؤنڈ میں چلا گیا تھا۔ ایک خاموش تماشائی کے طور پر۔۔۔ یا شاید اچنبھے میں آجانے والے تماشائی کے طور پر۔
    انہیں اپنی زندگی میں قلبِ مومن کی ضرورت شاید رہی ہو۔ موت کے بعد نہیں رہی تھی۔ وہ مجمع جو انہیں دنیا سے رخصت کرنے کے لیے آیا تھا وہ کہاں کہاں سے آرہا تھا اور کیوں آرہا تھا۔ قلبِ مومن ششدر تھا۔ وہ جانتا تھا۔ عبدالعلی نامور خطاط تھے مگر وہ ناموری کتنی تھی۔ قلبِ مومن نے اتنے سالوں میں یہ کبھی جاننے کی کوشش ہی نہیں کی اور اب جب وہ ان کا مقام دیکھ رہا تھا تو وہ ششدر تھا۔
    آدھی رات کو وہ اس میز پر پڑے ان لفافوں کو باری باری کھولنے لگا تھا۔ وہ مختلف ممالک کے کلچر منسٹریز کی طرف سے آئے ہوئے تعزیتی پیغامات تھے۔ دنیا کے بڑے بڑے آرٹ میوزیمز اور گیلریز سے آئے ہوئے تعزیتی خطوط۔ عبدالعلی کا کام کہاں کہاں نہیں رکھا ہوا تھا اور وہ ان کا اکلوتا پوتا اس سب سے بے خبر تھا۔
    اس گھر میں رات کے اس پہر عجیب سی خاموشی تھی اور اس خاموشی میں اگر کچھ تھا تو کاغذ کی آوازیں یا آتش دان میں چٹختی لکڑیوں کی آواز۔
    قلبِ مومن نے ہاتھ میں پکڑا وہ سرکاری خط میز پر رکھ دیا جس میں حکومت جاپان نے عبدالعلی کے لیے بعد از مرگ ایک سول ایوارڈ دینے کی اطلاع دی تھی۔ اس خط میں اس سے پہلے دیے جانے والے ایک اور ایوارڈ کا ذکر بھی تھا اور اس گھر میں قلبِ مومن نے کبھی کہیں ان ایوارڈز میں سے کسی کو نہیں دیکھا تھا۔ اس گھر کی دیواروں پر مکمل اور نامکمل خطاطی کے نمونوں کے علاوہ کچھ اور تھا ہی نہیں۔ قلبِ مومن کے اپارٹمنٹ کے برعکس جو اس نے ہر اس ”ثبوت” سے سجا رکھی تھیں جو دنیا نے اسے اس کی نام وری کے لیے دیے تھے۔ اشتہار کی طرح۔
    اور اس ہی اپارٹمنٹ میں کھڑے ہو کر وہ عبدالعلی سے پوچھتا رہا تھا کہ انہیں ان کے کام نے اتنے سالوں میں کیا دیا اور عبدالعلی بغیر گنوائے چپ کھڑے اس کی باتیں سنتے رہے تھے اور اب ان کے جانے کے بعد ان کے سامان میں قلبِ مومن وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا۔ جو دنیا نے انہیں دیا تھا۔
    وہ کتنے دن اور کتنی راتوں سے نہیں سویا تھا، وہ جیسے گنتی بھول گیا تھا۔ اسے عبدالعلی کے بارے میں سوچنے کا بھی موقع نہیں ملا تھا۔ رونے کا بھی نہیں۔ پچھتانے کا بھی نہیں اور اب اتنے دنوں کے بعد رات کے اس پہر میں وہ جیسے یہی سارے کام کر رہا تھا۔
    ”تو دادا! یہ تھے آپ۔۔۔ اور میں قلبِ مومن کبھی آپ کو جان ہی نہیں پایا۔۔۔ یا آپ نے جاننے دیا ہی نہیں۔”
    ایک کے بعد ایک لفافہ کھولتے، ان تعزیتی پیغامات پر نظر ڈالتے قلبِ مومن نے سن ذہن کے ساتھ سوچا تھا۔
    ”مجھے ساری دنیا جانتی ہے۔۔۔ آپ کو کون جانتا ہے۔۔۔آپ نے زندگی کے اتنے سال جس کام کو دیے اس نے آپ کو کیا دیا؟ اور مجھے دیکھیں۔۔۔ مجھے کون نہیں جانتا۔” اس نے دادا سے کہا تھا۔
    Lourve میوزیم میں اُس ہفتہ کو The Last Master of Mohaqqiq کے نام کیا گیا تھا۔ قلبِ مومن نے ہاتھ میں پکڑے اس اطلاع نامہ کو بھی بے حد خاموشی کے ساتھ کاغذوں کے اسی ڈھیر پر رکھ دیا جنہیں کھولتے کھولتے اس کے ہاتھ تھکنے لگے تھے۔
    Lourve سے برٹش میوزیم، برٹش میوزیم سے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی۔ عبدالعلی کا کام ہر جگہ موجود تھا اور اب ان کے کام کی تصاویر اخبارات کے اس ڈھیر میں مختلف ہیڈنگز کے ساتھ تھیں جو اس گھر میں سالوں سے آتا اور اتنے دنوں میں جمع ہوتے ہوئے ردی کے ایک ڈھیر کی شکل اختیار کر گیا تھا اور اس ردی کے ڈھیر کو قلبِ مومن اب کھنگال رہا تھا۔ اس شخص کے بارے میں جاننے کے لیے جس کو اس نے ساری عمر جاننے کی کوشش نہیں کی تھی۔
    وہ اسے ترکی کے بہترین بورڈنگ اسکول میں پڑھانا کیسے افورڈ کر پائے تھے۔ اسے امریکہ کی اس مہنگی ترین یونیورسٹی میں کیسے پڑھاتے رہے تھے۔ قلبِ مومن کو آج اندازہ ہوا تھا۔ عبدالعلی کے لیے ”دنیا” جمع کرنا اتنا آسان تھا۔ چٹکی بجاتے جتنا۔ اور وہ پھر بھی اس کی طرح اس پینٹ ہاؤس میں نہیں رہتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی اسی لکڑی کے چھوٹے سے گھر میں گزار دی تھی۔ وہ سارے ایوارڈز جو انہیں دنیا بھر کی حکومتوں اور آرٹ ایسوسی ایشنز کی طرف سے ملتے رہے تھے، وہ اسی گھر میں پڑے چند بکسوں میں بند تھے۔ دھول مٹی اور جالوں میں اٹے ہوئے۔ یوں جیسے لینے والے نے اپنے اُن اعزازات کو کبھی کھول کر دیکھا تک بھی نہ ہو۔ وہ گھر زندگی میں پہلی بار قلبِ مومن کے لیے بھول بھلیاں بن گیا تھا۔ وہاں پڑی ہر چیز عقل کو خیرہ کرنے والی اور اس گھر کا جانے والا مالک اس کو سارے جواب دیتے ہوئے گونگا کر گیا تھا۔
    وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا۔ دیواروں پر لگی کیلی گرافیز کو اس نے پہلی بار بغور دیکھنا شروع کیا۔
    ”اور میں قلبِ مومن ”عزت” اور شہرت میں کبھی تمیز ہی نہیں کر سکا۔ نام اور ناموری کا فرق ہی نہیں پہچان سکا۔ کامیابی کا مفہوم ہی نہیں سمجھ پایا۔”

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • الف — قسط نمبر ۰۸

    الف — قسط نمبر ۰۸

    میرے پیارے سلطان!
    اتنے مہینوں بعد میرا خط دیکھ کر تم حیران ہو گئے نا؟
    میں جانتی تھی۔ تم کو لگا ہو گا میں تمہیں بھول گئی۔ دیکھ لو نہیں بھولی۔ ہاں دُنیا کو بھلا دیا میں نے۔ اُس دنیا کو جو میرے حسن اور جسم کا طواف کرتی تھی۔ میں مشرک تھی۔۔۔ موحد ہو گئی! جانتی ہوں، یہ باتیں تمہاری سمجھ میں کہاں آتی ہوں گی پھر بھی لکھ رہی ہوں۔ تم ہی سے تو سب کچھ کہا کرتی تھی میں۔ تمہارے علاوہ کسی سے ہر راز کہہ دینے کا حوصلہ پیدا نہیں ہوا حسنِ جہاں میں۔ کوئی تمہاری طرح میرے رازوں کے لیے کنواں بننے کی ہمت بھی تو نہیں رکھتا تھا۔
    اپنی خوشی کا عالم تمہیں کیسے بتاؤں؟ میں اور طہٰ بہت اچھی زندگی گزار رہے ہیں۔ ایک کمرے کے گھر میں۔۔۔ ہاں، میں جانتی ہوں تم ہنسو گے مگر مجھے پروا نہیں۔
    میں یہ بھی جانتی ہوں تم کہو گے ”محل سے جھونپڑی میں آگئیں آپ حسن جہاں جی اور پھر بھی کہہ رہی ہیں کہ خوش ہیں؟” پر میں شاید تم کو یہ نہیں بتا پائی کبھی کہ محل میں جو سوئیاں چبھتی تھیں شہزادی کو،وہ یہاں اس جھونپڑی میں نہیں چبھتیں۔
    اس گھر کو اپنے ہاتھوں سے سجایا ہے میں نے۔۔۔ اس کا ایک ایک کونہ، ایک ایک دیوار۔۔۔سارا دن یہی کرتی رہتی ہوں یہاں۔ پیچھے گھر کے صحن میں سبزیاں اُگاتی ہوں اور آگے باغیچے میں پھول۔۔۔ آج کل بہار آئی ہوئی ہے ہمارے گھر کے ہر کونے میں اور زندگی میں بھی۔
    میں اُمید سے ہوں۔ طہٰ کہتا ہے بیٹا ہو گا ہمارے گھر میں اور اس کا نام قلبِ مومن رکھنا ہے۔۔۔ طہٰ جو بھی کہتا ہے، وہ سچ ثابت ہو جاتا ہے۔ مجھے ایسا اندھا یقین ہے اُس پر۔ ۔۔پیار بھی اندھا تھا۔۔۔ اعتبار بھی۔۔۔ اللہ قائم رکھے۔
    لیکن پتا نہیں کیوں طہٰ نے خطاطی چھوڑ دی۔۔۔ جب سے ہماری شادی ہوئی ہے، اُس نے میری تصویروں کے علاوہ کچھ نہیں بنایا۔ جب جب خطاطی کرنے بیٹھتا ہے، بس بیٹھا ہی رہتا ہے۔ پریشان ہوتا ہے لیکن مجھ سے کچھ نہیں کہتا۔
    میں ہر روز نماز پڑھ کر اُس کے لیے دعا کرتی ہوں کہ وہ دوبارہ سے خطاطی کرنے لگے۔ وہ کہتا ہے وہ قلبِ مومن کو بھی خطاط ہی بنائے گا اور اسے اپنے باپ کے پاس بھیج دے گا۔ میں قلبِ مومن کو کہیں نہیں جانے دوں گی۔ وہ میری اولاد ہو گی، میں اسے اپنی آنکھوں سے دور کیسے کروں گی اور وہ بھی عبدالعلی کے پاس بھیج کر جنہوں نے آج تک طہٰ اور مجھ سے کبھی رابطے کی کوشش تک نہیں کی۔ کوئی اپنی اکلوتی اولاد کو اس طرح کیسے بھول سکتا ہے جیسے انہوں نے بھلا دیا اور طہٰ۔۔۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب وہ ان کا ذکر نہ کرتا ہو۔ اس نے ان کی باتیں کر کر کے میرے دل سے اُن کے لیے غصہ اور نفرت بھی ختم کر دی ہے۔ ورنہ میں پتا نہیں کیا کیا سوچے بیٹھی تھی اُن سے بدلہ لینے کے لیے۔
    ”دُنیا” میں رہتی تھی تو ”دُنیا” جیسی تھی، طہٰ کے ساتھ رہنے لگی ہوں تو پتا نہیں کیسی ہو گئی ہوں۔ اس کی دُنیا اور ہی دُنیا ہے۔ ۔۔اس کی باتیں اور ہی باتیں ہیں۔ طہٰ میری زندگی میں نہ آتا تو یہ سب کہاں کھوجنے بیٹھتی میں۔۔۔رب کے بارے میں کہاں سوچتی اور اب جب سوچنے بیٹھی ہوں تو فرصت ہے۔ لگتا ہے دُنیا کا ہر کام ختم ہو گیا ہے۔ میرا دل چاہتا ہے قلبِ مومن، مومن بنے۔۔۔اپنے دادا کی طرح۔ لیکن پھر سوچتی ہوں جو مومن ہوتا ہے، کیا وہ بھی معاف نہیں کرتا۔۔۔ مومن ہو کے بھی؟
    تم کو اگلا خط جلد لکھوں گی۔ میرا پتا کسی کو نہ دینا۔ میں جانتی ہوں۔ میں نہ بھی کہتی تو بھی تم کسی کو نہ دیتے۔
    تمہاری حسنِ جہاں۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    عبدالعلی اُس کا چہرہ دیکھتے رہے پھر انہوں نے مدھم آواز میں مومن سے کہا۔
    ”اب اس سے کیا فرق پڑتا ہے مومن۔۔۔ وقت گزر گیا۔ سب کچھ بہت پیچھے رہ گیا۔ اب اگر تم جان بھی لو تو بھی کیا کرو گے؟”
    اُس لمحہ مومن کو احسا س ہوا وہ ٹھیک کہہ رہے تھے۔ اسے یہ جان کر اب کیا کرنا تھا۔
    ”تم ملنا چاہتے ہو اُس سے؟” انہوں نے یک دم مومن سے پوچھا۔
    ”نہیں۔” اس نے بے اختیار سوچے سمجھے بغیر کہا۔ اُسے اب اُس شخص سے مل کر کرنا بھی کیا تھا۔
    ”تو پھر جاننے کی جستجو نہ کرو۔” وہ کہتے ہوئے اُس کے کمرے سے چلے گئے۔
    مومن اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھا میز پر بکھرے اُن کاغذوں کو دیکھتا رہا جن پر وہ اُس فلم کی کہانی لکھ رہا تھا جو وہ بنانا چاہتا تھا۔ سب کچھ بکھرا ہوا تھا۔ کردار، کہانی، سچویشنز۔۔۔ سب کچھ اُس کی اپنی زندگی کی طرح۔ سب کچھ سامنے تھا اور سرا پھر بھی غائب تھا۔ ایک عجیب سی تھکن نے اسے اپنے حصار میں لیا تھا اور اُس نے میز پر اپنا ماتھا ٹکا دیا تھا اور تب ہی اُسے اپنا بچپن یاد آیا تھا۔ وہ تب بھی یہی کیا کرتا تھا۔ جب بہت تھک جاتا تو کاغذ قلم رکھ کر میز پر ماتھا ٹکا کر آنکھیں بند کر لیتا۔ یہ جیسے زندگی کے سامنے ہتھیار ڈالنے کا اظہار ہوتا تھا۔ زندگی آج بھی ویسی ہی تھی اکھڑ، خودسر، اپنی من مانی کرنے والی، وہ آج بھی ویسا ہی تھا کمزور، بے بس، نڈھال۔
    اُس کے ذہن کی اسکرین پر کچھ اور منظر جھماکوں کی شکل میں نمودار ہونے لگے تھے۔ لاشعور جیسے اُس رات اس کے سامنے سب کچھ ہی لا کر رکھ دینے پر تُلا ہوا تھا۔
    وہ چودہ پندرہ سال کا تھا جب اُس نے حسنِ جہاں کو دادا کے گھر پر دیکھا تھا۔ وہ اُس سے کئی سال بعد ملنے آئی تھی، اپنے شوہر کے ساتھ نہیں تھی۔ وہ وہاں اکیلی آئی تھی اور قلبِ مومن کی سمجھ میں نہیں آیا، اُسے کیا ہوا تھا۔ وہ بس اپنے کمرے کو اندر سے بند کیے ہوئے چلاتا اور کمرے میں موجود چیزیں توڑتا رہا تھا۔
    ”انہیں کہیںیہ جائیں یہاں سے اور دوبارہ کبھی نہ آئیں۔۔۔ میں نہیں ملنا چاہتا ان سے۔۔”
    وہ اندر کمرے سے چیخ چیخ کر بولتا رہا تھا اور دروازے کے باہر کھڑے دادا کی منت سماجت کے باوجود اُس نے نہ اُن کے لیے دروازہ کھولا تھا نہ حسنِ جہاں کے لیے۔
    ”میں نفرت کرتا ہوں ان سے۔۔۔ میں بہت خوش ہوں ان کے بغیر۔۔۔ ان سے کہیں یہ جائیں۔ اپنے شوہر کے ساتھ رہیں۔۔۔ عیش کریں۔۔۔ میرے بابا کو تو مار دیا انہوں نے۔۔۔ اب کیا مجھے بھی مارنا چاہتی ہیں یہ؟”
    اُس کے دل میں جو آیا وہ اپنے بند کمرے میں چیزوں کو پھینکتے توڑتے ہوئے بلند آواز میں چلا چلا کر کہتا چلا گیا تھا۔ باہر سے اسے عبدالعلی کی وضاحتیں اور منتیں سنائی دیتی رہی تھیں مگر حسنِ جہاں کی نہیں۔ اُس کی خاموشی قلبِ مومن کو جیسے پاگل کر رہی تھی۔ وہ ماں سے کچھ سننا چاہتا تھا۔۔۔ کچھ بھی۔۔۔ندامت ۔۔۔پچھتاوا۔۔۔ افسوس۔۔۔ اور اس سے محبت کا اظہار مگر وہاں اسے کچھ بھی نہیں ملا تھا۔
    ”ان سے کہیں جائیں اور پھر کبھی مجھ سے ملنے نہ آئیں۔”
    اُسے اپنے اس جملے کی گنتی بھی یاد نہیں تھی کہ اُس نے کتنی بار یہ دُہرایا تھا اور ہر بار عبدالعلی اُسے جواب میں کچھ نہ کچھ کہتے لیکن پھر ایک بار اُسے اس جملے کے جواب میں باہر سے کچھ سنائی نہیں دیا تھا۔اُس نے رُک کر جیسے خاموشی میں باہر اُبھرنے والی آوازوں کو سننا چاہا تھا۔ باہر کوئی آواز نہیں تھی سوائے بیرونی دروازہ کھلنے کے اور دو انسانوں کے باہر جانے کے۔ عجیب طیش کے عالم میں قلبِ مومن اپنے کمرے کا دروازہ کھول کر باہر آیا تھا اور اُس نے بڑے کمرے کی میز پر ایک بہت خوب صورت گفٹ ریپر میں لپٹا ہوا ایک گفٹ باکس دیکھا تھا۔ بے حد غضب ناک ہو کر اُس نے اُس گفٹ باکس اُٹھایا تھا اور لپکتا ہوا بیرونی دروازے کی طرف گیا۔
    اس نے گھر کے باہر ایک ٹیکسی کے پاس عبدالعلی اور حسنِ جہاں کو کھڑا دیکھا تھا جنہوں نے گھر کا دروازہ کھلنے پر بیک وقت دروازے کی طرف دیکھا تھا۔ مومن نے دروازہ کھولتے ہی وہ گفٹ باکس پوری قوت سے باہر سڑک پر ٹیکسی کی طرف اُچھال دیا تھا پھر حسنِ جہاں اور دادا سے کچھ کہے بغیر وہ اندر آگیا تھا۔ اپنے کمرے میں آکر بھی اُسے جیسے سکون نہیں ملا تھا۔ اُس نے کمرے کی کھڑکی سے باہر اُس سڑک کو دیکھنے کی کوشش کی تھی۔
    حسنِ جہاں اب ٹیکسی میں بیٹھ رہی تھی اور وہ رو رہی تھی۔ عبدالعلی اس سے کچھ کہہ رہے تھے۔ قلبِ مومن کو حسنِ جہاں کے آنسوؤں نے جیسے عجیب سا سکون دیا تھا۔ یوں جیسے جو وہ کرنا چاہتا تھا، وہ کر پایا تھا۔ اُسے ماں کو رُلانا تھا، تکلیف پہنچانی تھی اور وہ ان دونوں کاموں میں کامیاب ہوا تھا۔
    ٹیکسی میں بیٹھ کر حسنِ جہاں نے کھڑکی سے اُس کے کمرے کی کھڑکی کو دیکھا تھا۔ چند لمحوں کے لیے دونوں کی نظریں ملی تھیں۔ قلبِ مومن نے کھڑکی سے ہٹنا چاہا تھا۔ وہ ہٹ نہیں سکا تھا۔ ٹیکسی چل رہی تھی اور حسنِ جہاں اُس پر نظریں جمائے ہوئے تھی اور قلبِ مومن۔۔۔ وہ پہلے آگ سے برف پھر برف سے پانی ہوا تھا۔۔۔
    وہ آخری بار تھا جب اُس نے حسنِ جہاں کو اور حسنِ جہاں نے اُسے دیکھا تھا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • الف — قسط نمبر ۰۷

    الف — قسط نمبر ۰۷

    جانِ طہٰ!
    آج ایک لمبے عرصہ بعد تمہیں سوتے دیکھ کر میری نظر تمہارے چہرے پر ٹھہر گئی۔ تم سو رہی ہو اور کھڑکی سے آتی چاندنی تمہارے چہرے پر نور بن کر اتری ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ سہیلی بن کر آنے والے ہوا کے جھونکے تمہارے بالوں کو چھو کر جیسے چوم کر گزر رہے ہیں، انہیں بکھیر رہے ہیں، پھر سمیٹ رہے ہیں۔ ہوا سے ہلتا یہ کھڑکی پہ پڑا سفید جالی کا پردہ تم تک آنے کی کوشش کر رہا ہے، یوں جیسے ایک بار تمہیں چھونا چاہتا ہو اور ہر بار تمہیں چھونے میں ناکام ہو کر ہار مانتا واپس کھڑکی تک جاتا ہے اور ہوا اسے پھر تمہارے پاس بھیج دیتی ہے۔
    اور اس سب کے درمیان کمرے کے اس کونے میں چھت سے لٹکے اس بلب کے نیچے کینوس رکھے میں کچھ پینٹ کرنے بیٹھا ہوں اور میں پینٹ نہیں کر پا رہا، بس تمہیں دیکھے جا رہا ہوں۔ کئی بار اسی طرح رات کو بیٹھ کر تمہیں دیکھتا رہتا ہوں اسی محبت سے جس سے پہلی بار دیکھا تھا۔
    تم حُسنِ جہاں ہو۔ سارے جہاں کا حُسن تمہارے پاس ہے اور میں طہٰ عبدالعلی جس کے پاس اب وہ بھی نہیں ہے جو کبھی تھا۔
    میں تمہارا مجرم ہوں حُسنِ جہاں اور یہ ہی احساس مجھے تم سے نظریں نہیں ملانے دیتا، میں تم کو ساری دُنیا لا کر تھما دینا چاہتا تھا اور میں نے تمہیں کہاں لاکھڑا کر دیا ہے۔
    تم پچھتاتی تو ہو گی۔ میں غلط ثابت ہوا ہوں نا تمہارے لیے۔ کیا کہہ کر لایا تھا تمہیں اور کیا دے پایا ہوں۔ مال و زر کی تمہیں تمنا نہیں پر اب میری زبان پر تمہارے لیے محبت کے وہ گلاب بھی نہیں کھلتے جنہیں دیکھ کر تم میرے لیے پاگل ہوئی تھیں۔ دل میں سب کچھ تمہارے لیے وہی ہے ویسا ہی ہے مگر زبان پتا نہیں اسے کیا ہو گیا ہے۔ حسنِ جہاں یہ تم سے بہت کچھ کہنا چاہتی ہے، کہہ نہیں پاتی اور جو نہیں کہہ پا رہی وہ مجھے اندر سے زخمی کیے چلا جا رہا ہے۔
    مجھے ڈر لگتا ہے کہ تم مجھے چھوڑ کر چلی نہ جاوؑ۔ میں کیا کروں گا تمہارے بغیر جانِ طہٰ۔ ایک اثاثہ گنوا آیا۔ دوسرا گنواوؑں گا تو مر جاؤں گا۔ تمہارے نام پاکستان سے آنے والا ہر خط مجھے خوف زدہ کرتا ہے۔ میں خود غرض ہوں چاہتا ہوں تم وہ شہزادی بن جاوؑ جو واپسی کا راستہ یاد رکھنے کے لیے وہاں نشانیاں چھوڑ کر نہ آئی ہو۔ میں تمہارے قابل نہیں تھا حسنِ جہاں۔
    یہ جو ”میں” ہوں نا۔ اسے میں خود بھی نہیں جانتا اور یہ جو تم ہو نا اسے شاید تم بھی نہیں پہچان پاتی ہو گی۔ میں نے تمہیں کیا بنا دیا۔
    یہ سارے اعتراف جو کاغذ کے اس ٹکڑے پر رات کے اس پہر کر رہا ہوں۔ یہ دن کے اُجالے میں تم سے کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتا۔ انا کا قیدی نہیں ہوں، احساس جرم کا مارا ہوں۔ تمہارے لیے چاہتے ہوئے بھی وہ چاند ستارے توڑ کر نہیں لا پا رہا جن کا تم سے وعدہ کیا تھا۔ جانتا ہوں تم چاند ستاروں کی خواہش اور چاہ میں میری زندگی کا حصہ نہیں بنیں پھر بھی حسنِ جہاں میں، تمہارے لیے اپنے دل، اپنی خواہشات کا کیا کروں۔
    مجھے لگتا ہے۔ تم ایک خوب صورت پرندہ ہو جسے میں قید کر بیٹھ اہوں۔ کھلے آسماں میں اُڑنے والا خوش نما پرندہ جو اپنی دُنیا اور زندگی میں ناچتا، گیت گاتا ہوا مست تھا اور میں۔ میں اُسے آسماں سے اس پنجرے میں لے آیا۔ کئی بار تمہاری اداس آنکھیں ایسی ہی کہانیاں کہتی ہیں مجھ سے اور میں اُن کہانیوں کو پڑھنے سے انکار کر دیتا ہوں۔ کیا کروں؟ حسنِ جہاں! میں کیا کروں، میرے بس میں کچھ نہیں۔ وہ ہنر میرے ہاتھ سے چلا گیا ہے جو اللہ کی عطا ہے اور رزق اس کے لیے میں خوار ہو گیا ہوں اور نام وری اس کا تو سوچنا ہی چھوڑ دیا ہے میں نے۔
    میں بیسویں صدی میں طہٰ عبدالعلی بن کر پیدا ہوا تھا اور طہٰ عبدالعلی ہی مر جاؤں گا۔ میرا نام سننے پر کسی کو کچھ یاد نہیں آئے گا۔ کسی کا سر احترام سے نہیں جھکے گا۔ میں استادوں میں شمار نہیں ہوں گا۔ وہ ہما جو میرے سر پر بیٹھنے آیا تھا۔ میں نے اڑا دیا۔ اب وہ دوبارہ نہیں آئے گا۔ مجھے نام وری کھونے کا رنج نہیں ہے۔ دلوں کو توڑنے کا غم ہے۔ پہلے وہ دل بابا کا تھا اب تمہارا ہے،میں جس سے محبت کرتا ہوں اسے خوش رکھ نہیں پاتا، کیا یہ صرف میرا المیہ ہے یا ہر محبت کرنے والے کا؟
    تم نے کروٹ لے لی ہے، مجھ سے منہ پھیر لیا ہے۔ اب میں تمہارا چہرہ دیکھ نہیں پا رہا۔ چاندنی دل فریب نہیں رہی۔ ہوا اپنی مستی کھونے لگی ہے۔ سفید جالی کا وہ پردہ تم تک پہنچنے کی جدوجہد میں تھکنے لگا ہے۔ رات گزر گئی ہے اور میں طہٰ عبدالعلی آج بھی خالی کینوس لیے بیٹھا رہ گیا ہوں۔ یہ میری ہر رات کی کہانی ہے۔ کوئی طہٰ عبدالعلی جیسی قسمت لے کر نہ آئے اور آئے تو اُس میں حسنِ جہاں نہ آئے جو نہ اس کے ساتھی جس کے، نہ اس کے بغیر۔
    تمہارا مجرم
    تمہارا طہٰ
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    قلبِ مومن نے سر اٹھا کر عبدالعلی کو دیکھا تھا۔ وہ اس کی طرف متوجہ نہیں تھے۔ اس صندوقچی کے اندر موجود خطوں کو نم ناک آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔
    ”یہ سارے خط وہ ہیں جن کا جواب نہیں دیا میں نے۔ کچھ پڑھ کے کچھ بغیر پڑھے رکھ دیے۔ جن خطوں کے جواب نہیں ملتے، وہ زندگیاں بدل دیتے ہیں لکھنے والے کی بھی اور اس کی بھی جس کے نام لکھے گئے ہوں۔”
    عبدالعلی اب لرزتے ہاتھوں سے ان خطوں کو چھو رہے تھے۔ اتنی نرمی سے۔ یوں جیسے انہیں ڈر ہو، وہ ان کے ہاتھوں میں تتلی کے پروں کی طرح بکھر جائیں گے۔
    ”آؤ قلبِ مومن! میں تمہیں تمہارے باپ کی کہانی سناتا ہوں۔ اپنی اور تمہارے باپ کی۔ میں تمہیں بتاتا ہوں۔ غرور کے ایک لمحے نے میرے ساتھ کیا کیا تھا۔”
    وہ اس کے سامنے میز کے دوسری طرف ایک اسٹول پر بیٹھ گئے تھے۔ کسی بُت کی طرح ان کے چہرے کی جھریاں اس لیمپ کی روشنی میں یک دم سینکڑوں سے ہزاروں اور ہزاروں سے لاکھوں میں تبدیل ہو گئی تھیں جو ان کے سر پر اس میز کے اوپر لٹک رہا تھا۔
    ایک پرانے قصہ گو کی طرح وہ ماضی میں ڈوبے ہوئے سامنے والے کو بھی وہیں لے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ قلبِ مومن اب ان کے مقابل بیٹھا پلکیں جھپکائے بغیر اس چہرے کو دیکھ رہا تھا جس سے وہ کبھی کسی غلطی کی توقع نہیں کرتا تھا، گناہ تو بہت دور کی بات تھی۔
    ٭…٭…٭
    وہ رات کے پچھلے پہر ان کے گھر کے صحن کے بیچوں بیچ اپنے سفید لباس، سیاہ لمبی ٹوپی اور سیاہ چوغہ نما چادر میں ملبوس گھومتا جا رہا تھا، گھومتا ہی چلا جا رہا تھا۔ نظر تھی کہ اس پر ٹھہر ہی نہیں رہی تھی۔ صرف چاندنی تھی جو اس پر رات کے اس پچھلے پہر اتر رہی تھی، ٹھہر بھی رہی تھی۔ اپنے بائیں پیر پر پھرکی کی طرح گھومتا بائیں ہاتھ کی ہتھیلی کو زمین کی طرف جھکائے، دائیں ہاتھ کی ہتھیلی آسماں کی طرف اٹھائے طہٰ عبدالعلی کہیں اور ہی پہنچا ہوا تھا۔ برآمدے میں کھڑے عبدالعلی نے اسے دیکھا تھا اور مسکرا دیے تھے۔
    وہ رات کے اس پہر تہجد کے لیے اٹھتے تھے اور وہ رات کے اس پہر سماع کر رہا ہوتا تھا۔ ان کے خاندان میں وہ پہلا تھا جو مولانا جلال الدین رومی کے اُن مریدوں میں شامل ہوا تھا جو رقص کرتے ہوئے درویش (Whirling Darvesh)کہلاتے تھے۔ وہ رقص اللہ سے ان کی محبت کا اظہار تھا۔ اللہ سے تعلق باندھنے کا اُن کا طریقہ۔ گول چکر کاٹتے ہوئے جیسے ان پر حال آجاتا تھا اور اس ”حال” میں ہی وہ گھومتے جاتے، چکر کاٹتے رہتے یہاں تک کہ ان کا وجود جیسے دنیا کے جھمیلوں اور زمینی گردش سے کہیں نکل جاتا اور وہ کہیں اور پہنچ جاتے اور جب یہ سماع خوانی اور رقص ختم ہوتا تو وہ رقص کرنے والے درویش جیسے خود کو معرفت کی کسی اور منزل پر پاتے تھے۔
    طہٰ عبدالعلی رومی کا مداح تھا اور مداح سے عقیدت مندی اور مُریدی کا وہ سفر اس نے بڑی برق رفتاری سے طے کیا تھا۔ عبدالعلی نے اسے روکا تھا اور نہ ہی انہیں کوئی خوف محسوس ہوا تھا کہ خطاطی سے اس کا دھیان ہٹ جائے گا۔
    وہ شروع شروع میں سماع خانہ ان ہی رقص کرنے والے درویشوں کا رقص دیکھنے جایا کرتا تھا اور پھر وہ ان میں شامل ہو گیا تھا۔ وہ رقص بھی اتنا ہی مشقت طلب کام تھا جتنا محقق انداز میں کی جانے والی خطاطی جس میں ان کا خاندان مشہور تھا۔
    محقق خطاطی، خطاطی کے چھ بنیادی، مشکل ترین اور خوبصورت ترین اسٹائلز میں سے ایک تھا۔ ایک زمانہ میں مملوک خاندان کے دورِ حکومت میں نہ صرف اس کا طوطی بولتا تھا بلکہ اسے قرآن پاک کے نسخے لکھنے کے لیے بار بار استعمال کیا جاتا تھا۔ عبدالعلی کا خاندان شام سے تعلق رکھتا تھا اور ان کے آباؤ اجداد محقق خطاطی کے لیے پورے عرب میں جانے جاتے تھے۔ محقق خطاطی میں ”اُستاد” کا درجہ حاصل کرنے والے زیادہ تر لوگ ان ہی کے خاندان کے مختلف نسلوں میں ایک کے بعد ایک آتے رہے تھے۔ عرب قومیت رکھتے ہوئے ان کے آباؤ اجداد شام سے ہجرت کرتے ہوئے مملوک خاندان کے دور حکومت میں ان بہت سے ملکوں میں ہجرت کرتے رہے جہاں 1205ئ سے1505ء تک مملوک خاندان حکومت کرتا رہا اور ان کے آباؤ اجداد میں سے ہی کچھ کو الحمرا کے محلات اور قرطبہ کی مساجد میں مورسلطنت کے زمانہ میں خطاطی کرنے کا موقع ملا۔ اسپین میں مسلمانوں کی سلطنت کے زوال کے بعد ان کے آباؤ اجداد ترکی آکر بسے تھے اور ترکی میں اس وقت سلطنت عثمانیہ نے خطاطی کے نسخ اور تالوت اسٹائلز کو فروغ دینا شروع کر دیا تھا۔
    محقق آہستہ آہستہ اپنا مقام کھونے لگا اور اُس سے منسلک افراد اور خاندانوں میں ہونے والی کمی نے جیسے اسے متروک کر دینے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا مگر عبدالعلی کے دادا اور باپ ان حالات میں بھی محقق خطاطی ہی کرتے رہے اور یہ پچان اب کئی نسلوں سے عبدالعلی کے ساتھ چل رہی تھی۔ وہ محقق خطاطی کے زندہ رہ جانے والے واحد ”استاد” تھے اور یہی اثاثہ اب وہ اپنے اکلوتے بیٹے طہٰ کو سونپ رہے تھے جو بچپن سے ان کے ساتھ خطاطی کرتا آرہا تھا اور اپنے کام میں اپنی عمر سے زیادہ مہارت اور کمال رکھتا تھا۔ اس رقص نے بھی اس کی توجہ کو خطاطی سے ہٹایا تھا نہ بھٹکایا تھا۔
    اسے رقص کی حالت میں دیکھتے ہوئے عبدالعلی بہت دیر تک اسی طرح کھڑے رہے تھے۔ یہاں تک کہ وہ گھومتے گھومتے رُک گیا تھا۔ جب وہ رک گیا تو اُس نے سر اٹھا کر عبدالعلی کو دیکھا۔ وہ پسینے سے شرابور تھا سر سے پیر تک۔ وہ عبدالعلی کو دیکھ کر مسکرایا تھا۔ وہ بھی جواباً مسکرائے۔
    ”آپ کل میری پرفارمنس دیکھنے آئیں گے؟” اس نے برآمدے کی طرف بڑھتے ہوئے عبدالعلی سے پوچھا۔ وہ اب وہاں پڑا ہوا وہ کیسٹ پلیئر بند کر رہا تھا جس میں چلنے والے میوزک پر وہ رقص کر رہا تھا۔
    ”دیکھ تو لوی تمہاری پرفارمنس۔ بہت خوب صورت۔” عبدالعلی نے دونوں ہاتھوں سے داد دینے والے انداز میں اس کے لیے تالی بجائی۔
    ”آپ نے کبھی اسٹیج پر لوگوں کے سامنے میری پرفارمنس نہیں دیکھی۔ وہ بھی تو دیکھیں بابا۔ طہٰ نے ان کے پاس آتے ہوئے بڑے شوق سے کہا تھا۔ عبدالعلی نے اپنے دراز قد تیکھے نین نقش والے بیٹے کو دیکھا۔ انہیں اپنی بیوی کی یاد آئی۔
    ”لوگوں کے لیے نہیں ناچتے ہو تم طہٰ۔ تم تو اللہ کے لیے ناچتے ہو۔ اُس کی محبت اُس کے عشق میں۔ میں دیکھوں نہ دیکھوں، لوگ دیکھیں نہ دیکھیں کیا فرق پڑتا ہے۔” انہوں نے اس سے کہا تھا۔ وہ دونوں اب ساتھ چلتے ہوئے گھر کے اندر والے حصے میں آگئے تھے۔
    ”لوگوں کے لیے تو نہیں ناچ رہا بابا۔ میں تو اپنے ملک کی نمائندگی کر رہا ہوں فیسٹیول ہے دوسرے ملکوں سے بھی لوگ آکر پرفارم کر رہے ہیں، میں بھی اپنے ملک کے لیے پرفارم کر رہا ہوں۔ سب انتظار میں ہیں میری پرفارمنس دیکھنے کے لیے۔ نیوز پیپرز نے آج اتنی بڑی بڑی خبریں لگائی ہیں۔” اس نے بڑے فخریہ انداز میں کہا تھا۔
    ”شہرت ہنر کو دیمک کی طرح کھانے لگتی ہے۔ پتا بھی نہیں چلتا۔ کیا ضرورت ہے تمہیں اس سب کی۔” عبدالعلی نے مدھم آواز میں جیسے اسے اُس راستے کے نشیب و فراز سے ڈرایا تھا جہاں وہ پاؤں رکھ رہا تھا۔
    ”میری قسمت میں ہے شہرت بابا۔ آپ کی طرح خاموشی سے اس گھر میں بیٹھ کر خطاطی کرنا میرا مقدر نہیں ہے۔ میں چاہوں بھی تو بچ نہیں سکتا۔” وہ مسکراتے ہوئے باپ سے کہہ رہا تھا۔
    وہ مسکرا دیے تھے۔ طہٰ سے بحث نہیں کرتے تھے وہ، اس کے سامنے کمزور پڑ جاتے تھے وہ۔ اپنی بیوی کی وفات کے بعد انہوں نے اسے اکیلے ہی پالا تھا اور اب اس عمر میں وہ اس کے لیے باپ سے زیادہ ماں بن کر رہ گئے تھے۔ نرم دل۔ مشفق، مہربان۔ خوف زدہ۔
    ”تمہاری نمائش سر پر کھڑی ہے اور تمہارا ”شاہکار” ابھی بھی مکمل نہیں ہوا۔” عبدالعلی نے اس کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے وہاں کینوس پر دھری اس خطاطی کی طرف اس کی توجہ مبذول کروائی جو نامکمل تھی۔
    ”اللہ نور السموات والارض۔” اس خاندان کا ہر خطاط اپنی پہلی نمائش میں خطاطی کر کے ضرور رکھتا تھا۔ اس آیت کی خطاطی جیسے وہ ”اجاذہ” تھی جس کے بعد اس خطاط کو اپنا کام نمائشوں کی شکل میں لوگوں کے سامنے لے آنے کی اجازت مل جاتی تھی۔ طہٰ عبدالعلی بھی ان دنوں اپنی پہلی نمائش کے لیے خطاطی کر رہا تھا اور اللہ نور السموات والارض اس کی وہ آخری خطاطی تھی جس کے مکمل ہونے کے ساتھ ہی اس کا کام پورا ہو جاتا۔
    طہٰ نے ایزل پر دھرے اُس کینوس کو دیکھا۔ جہاں وہ آیت نامکمل حالت میں بھی خطاطی کرنے والے کی مہارت کا منہ بولتا ثبوت بنی ہوئی تھی۔
    ”کل رات مکمل کر لوں گا اسے بابا اور پرسوں آپ کو دکھاؤں گا لیکن آپ وعدہ کریں مجھ سے پوچھے بغیر آپ اسے نہیں دیکھیں گے۔” طہٰ نے باپ کا ہاتھ پکڑ کر ان سے وعدہ لیا تھا اور عبدالعلی نے مسکرا کر اس سے وعدہ کر لیا تھا۔
    طہٰ عبدالعلی کو اندازہ نہیں تھا۔ وہ اس آخری خطاطی کو کبھی مکمل نہیں کرنے والا تھا۔ کیوں کہ اگلی رات اس کی دنیا میں حسنِ جہاں کی آمد ہونے والی تھی۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • الف — قسط نمبر ۰۶

    الف — قسط نمبر ۰۶

    میری پیاری حسنِ جہاںجی!
    آپ کا خط ملا اور دل کٹ گیا۔ وہ بے وفا نکلا نا، میں نے پہلے ہی کہا تھا آپ سے طہٰ عبدالعلی پر بھروسا نہ کریں۔ سلطان کی محبت کے سوا کسی پر بھروسا نہ کریں۔ مگر آپ نے ہمیشہ طہٰ کے نام کی تسبیح کی۔ سلطان کو آزمایا ہی نہیں۔ میں آپ کا خط پڑھ کر روتا رہا ہوں۔ پرندہ ہوتا تو اڑ کر آجاتا آپ کے پاس، لیکن انسان ہوں اور انسانوں کو جانے میں لمحہ لگتا ہے، آنے میں وقت لگتا ہے۔ پھر بھی سلطان آئے گا آپ کے پاس، بس چند مہینوں یا ہفتوں کا انتظار کر لیں، اپنے آپ کے اور قلبِ مومن کے ٹکٹوں کے لیے پیسے جمع کر لوں تو آتا ہوں آپ کے پاس۔
    پر میرے آنے تک طہٰ کے جانے کا غم نہ کریں، نہ اس کے لیے آنسو بہائیں، اپنی دنیا میں واپس آجائیں۔ فلم انڈسٹری آج بھی آپ کو ڈھونڈ رہی ہے۔ لوگ آج بھی آپ کو یاد کرتے ہیں، سینما کی اسکرین پر آج بھی کوئی اداکارہ حسنِ جہاں کی طرح دلوں پر راج نہیں کرتی۔ طہٰ عبدالعلی نے قدر نہیں کی آپ کی، آپ نے اس کے لیے اپنی ”سلطنت” چھوڑ دی تھی۔ اس نے پروا نہیں کی تو آپ کب تک پروا کرتی رہیں گی اس کی۔
    جانتا ہوں، دل سے کسی کو بھلانا آسان ہوتا ہے، مٹانا نہیں لیکن میں آپ سے کہتا ہوں آپ نہ اس کو بھولیں نہ اس کو مٹائیں، بس اپنی دنیا میں لوٹ آئیں۔
    حسنِ جہاں جی! یہ جو ہم جیسے ہوتے ہیں نا یہ ہمیشہ مٹی کے ہی رہتے ہیں۔ ہمیشہ جسم ہی عروج دیتا ہے ہمیں اور یہی زوال۔ ہم روح اور روحانیت کے لیے بنے ہی نہیں ہوتے۔ اس راستے پر چلنے والے اور ہوتے ہیں۔ ان کا خمیر بھی اور جگہ سے اٹھا ہوتا ہے، میں اور آپ زیادہ سے زیادہ نیک ہو سکتے ہیں، اپنی اولادوں کا نام قلبِ مومن اور مومنہ رکھ سکتے ہیں مگر بس اتنا ہی۔ اس سے آگے جائیں تو پر جلنے لگتے ہیں ہمارے اور تپش سہہ نہیں پاتے ہم۔
    آپ کو روکا تھا میں نے بہت۔۔۔ اسی لیے روکا تھا کیوں کہ وہاں آگے آپ کے ہاتھ کچھ نہیں آنا تھا اور جس دنیا میں آپ تھیں وہاں آپ کا سکہ چلتا تھا۔ آپ نے سلطان کی بات نہیں سنی۔
    سکہ بدل گیا ہے اب آپ کے جانے کے بعد یہاں کا۔۔۔ پر کوئی بات نہیں۔۔۔ آپ چاہیں تو پھر آپ کا راج ہو گا یہاں اور میں سلطان آپ کے ساتھ ہوں۔ اچھے اور برے سارے دنوں میں آپ کے ساتھ سایہ بن کر چلوں گا کیوں کہ آپ سے پیار کرتا ہوں۔و ہی پاگلوں والا پیار جو آپ طہٰ سے کرتی ہے۔۔۔ نہ آپ بدلیں گی نہ میں بدلوں گا۔
    خط لکھ رہا ہوں تو دل کھول کر رکھ دیا ہے آپ کے سامنے، ورنہ اتنے سالوں میں ہر بار آپ سے بات کرتے ہوئے کبھی آپ نظریں چراتی تھیں کبھی میں۔۔۔ میں جانتا ہوں سلطان کو آپ بھی بھول نہیں سکتیں۔ طہٰ کے بعد اگر کوئی یاد آتا ہو گا تو سلطان ہی یاد آتا ہو گا آپ کو۔
    میری خوش فہمی دیکھیں، کیا لکھ رہا ہوں آپ کو۔ نہ اپنی شکل دیکھ رہا ہوں۔ نہ اپنی اوقات۔۔۔ لیکن پیار کا کیا کریں حسن جہاں جی، یہ میرے جیسوں کو بھی اوقات سے باہر کر دیتا ہے۔ سلطان ہی سمجھنے لگ گیا ہوں اپنے آپ کو۔۔۔ آپ نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر۔۔۔ بیچ راستے میں مجھے چھوڑ کر اتنے سالوں میں سلطان آسمان سے زمین پر آگیا مگر نہیں بدلا تو اس کے دل میں آپ کا مقام۔ آپ آج بھی سلطان کے دل کے تخت پر وہیں بیٹھی ہیں، جہاں اس نے پہلی بار آپ کو بٹھایا تھا اور یہ مقام سلطان کبھی کسی کو نہیں دے گا۔ طہٰ اور سلطان میں بس یہی فرق رہے گا ہمیشہ۔ ۔۔وہ آپ کو چھوڑ سکتا ہے، سلطان نہیں۔
    آپ کا سلطان۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    ”تم جا رہے ہو؟” قلبِ مومن صبح سویرے اپنا سامان پیک کر رہا تھا جب عبدالعلی اس کے کمرے کے دروازے پر دستک دے کر اندر آئے تھے اور اسے سامان پیک کرتے دیکھ کر ان کا دل کسی دیے کی طرح بجھا تھا۔
    ”جانے کے لیے ہی آیا تھا دادا۔” قلبِ مومن ان کی طرف متوجہ ہوئے بغیر کھلے بیگ میں اپنی چیزیں ڈالتا رہا۔
    ”ناراض ہو کر جا رہے ہو؟” انہوں نے چند لمحوں کے بعد اس سے کہا۔ قلب مومن ٹھٹکا اور اس نے سیدھا کھڑے ہوتے ہوئے ان سے کہا۔
    ”ناراض کس بات پر ہوں گا؟” وہ سنجیدہ تھا۔ عبدالعلی نے اس کا چہرہ دیکھا۔
    ”کل رات تمہارے اور میرے درمیان۔” انہوں نے کچھ کہنا چاہا، قلب مومن نے بات کاٹ دی۔
    ”کل رات آپ کے اور میرے درمیان ایسا کچھ نہیں ہوا جس پر میں آپ سے خفا ہوتا، چیلنج تھا جو آپ نے دیا اور میں نے چیلنج قبول کر لیا، اس سب میں خفگی والی بات کہاں سے آگئی؟”
    وہ کہہ کر دوبارہ جھک کر اپنے بیگ کی زپ بند کرنے لگا تھا۔ عبدالعلی کی سمجھ میں نہیں آیا، وہ اس کی بات کے جواب میں کیا کہیں، کچھ دیر کھڑے وہ جیسے کوئی الفاظ ڈھونڈتے رہے پھر انہوں نے کہا۔
    ”قلب مومن میں تم سے بہت زیادہ محبت کرتا ہوں۔ تمہارا دل کبھی بھی دکھانا نہیں چاہتا میں اور مجھے لگا شاید پچھلی رات میں تمہارا دل دکھا بیٹھا ہوں۔”
    انہوں نے بالآخر وہ الفاظ ڈھونڈ لیے تھے جو وہ اس سے کہنا چاہتے تھے۔ قلبِ مومن نے اپنی پیکنگ ختم کر لی تھی۔ اپنے بیگز کو ایک طرف اوپر نیچے رکھتے ہوئے اس نے بے حد اطمینان سے عبدالعلی کی بات سنی، اس کے انداز میں ایک عجیب سردمہری تھی۔ لاتعلقی کا ایک عجیب سا عالم تھا۔
    ”آپ کا پتا ہے دادا! آپ مجھے کیوں کمتر سمجھتے ہیں؟” اس کے جملے نے عبدالعلی کو بچھو بن کر کاٹا تھا۔
    ”آپ مجھے اس لیے کمتر سمجھتے ہیں کیوں کہ میں حسنِ جہاں کی اولاد ہوں جس کے پاس حسن اور جسم کے استعمال کے علاوہ کچھ اور تھا ہی نہیں۔ آپ اسی لیے ان سے بابا کی شادی نہیں کرنا چاہتے تھے کیونکہ وہ ایک ڈانسر تھیں۔”
    قلب مومن کی آنکھوں اور چہرے پر جیسے ”میں سب جانتا ہوں” لکھا تھا۔ عبدالعلی نے تڑپ کر اسے روکا تھا۔
    ”حسنِ جہاں سے شادی سے روکنے کی وجہ نہ اس کا اداکارہ ہونا تھا، نہ رقاصہ ہونا۔ تمہیں کس نے بتایا کہ میں تمہیں اس لیے کمتر سمجھتا ہوں اور کس نے کہہ دیا کہ حسنِ جہاں کے پاس حسن اور جسم کے علاوہ کچھ اور تھا ہی نہیں؟” عبدالعلی کے انداز میں اب عجیب سی برہمی تھی۔
    ”اس کے پاس نیک روح تھی۔ جو تم نے کھو دی۔”
    قلب مومن ان کے جملے پر ہنس پڑا۔ ”حسنِ جہاں کے پاس تھی۔ میں نے کھو دی۔” اس نے ان کا جملہ استہزائیہ میں دہرایا تھا۔
    ”آپ کے نزدیک نیک روح صرف ان کے پاس ہوتی ہے جو یہ کام چھوڑ دیتے ہیں یا پھر ان کے پاس جو آپ کی طرح خطاطی کرتے رہتے ہیں۔ دادا spirituality کسی کی میراث نہیں ہے۔” وہ ایک بار پھر ان سے الجھ پڑا تھا۔ پتا نہیں کہاں چوٹ پڑی تھی مومن کو۔
    ”بے شک نہیں ہے۔ مگر اللہ کی عطا ہے اور اللہ اسے صرف اس کی قدر جاننے والوں کو عطا کرتا ہے۔”
    قلبِ مومن انہیں دیکھتا رہا، ایک لاوا تھا جو ان کے اس جملے پر اس کے اندر سے پھٹ پڑنا چاہتا تھا۔ اس نے عبدالعلی سے نظریں چرا لیں۔ وہ اس بوڑھے شخص کا اتنا احترام کرتا تھا کہ وہ لاوا ان پر الٹانا نہیں چاہتا تھا۔ وہ اس لاوے کی وجہ نہیں تھے اور جسے وہ ”نیک روح” کہہ رہے تھے، قلبِ مومن اسے کبھی ”جسم” کے علاوہ کچھ ماننے پر تیار ہی نہیں تھا چاہنے کے باوجود بھی۔
    ”میں چلتا ہوں۔ رکوں گا تو اور بحث ہو گی ہماری۔” وہ آگے بڑھا اور اس نے دادا کو گلے لگایا۔
    ”جب تم یوں گلے لگاتے ہو تو طہٰ یاد آتا ہے مجھے۔”
    وہ عبدالعلی کی آواز پر جیسے ٹھٹھک گیا تھا، پھر الگ ہوتے ہوئے ہنسا۔
    ”جانتا ہوں میں۔ بابا ہی کے لیے اداس ہوتے ہیں آپ۔ میرے لیے کہاں ہوتے ہوں گے۔”
    اس نے اپنا بیگ اٹھایا اور جیسے وہ عبدالعلی کا جواب سنے بغیر تیزی سے باہر نکل گیا تھا۔ عبدالعلی کو رنج ہونا چاہیے تھا۔ وہ رنجیدہ ہونے کے بجائے مسکرائے تھے۔ وہ ہمیشہ سے ایسا ہی تھا۔ برف کی طرح سرد نظر آتا تھا، مگر آگ کی طرح گرم تھا، سمندر کی طرح گہرا تھا مگر ریگستان کے سراب کی طرح اشتباہ نظر کا شکار کرتا تھا۔ قلبِ مومن تھا، مگر مومن بننے کے راستے سے پرے۔
    ٭…٭…٭
    ”وہ جو لوکیشنز کہی تھیں آپ نے، سب ہی مارک کر لی ہیں اور سب پر ہی کام ہو گیا ہے۔” داوؑد اور ٹینا اسے استنبول میں گزارے پچھلے کچھ دنوں میں کیے جانے والے کام کے بارے میں اپ ڈیٹ دے رہے تھے اور قلبِ مومن اس ہوٹل کے لاؤنج میں پڑے ایک صوفہ پر بیٹھا ان کی باتیں سنتے ہوئے کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔
    ”استنبول کی نائٹ لائف کی عکاسی کرنے کے لیے نائٹ کلبز کی بھی ریکی کر لی ہے ہم نے۔” اب ٹینا اپنے لیپ ٹاپ پر اسے ان جگہوں کی تصویریں دکھانے لگی تھی جو وہ اپنی فلم کی شوٹنگ کے لیے منتخب کر چکے تھے۔ قلبِ مومن آج ہی عبدالعلی کے پاس سے واپس استنبول آیا تھا اور اس وقت داؤد اور ٹینا کے ساتھ اس کی پہلی ملاقات تھی۔
    ”ڈیٹس فائنل کر کے کل سے ای میلز کا کام ختم کر لیں گے، شوٹنگ کوآرڈینیشن کے لیے۔ پوسٹ پروڈکشن کا کام بھی یہاں ایک اسٹوڈیو کے ساتھ۔”
    قلب مومن نے داؤد کو پہلی بار ٹوکا۔
    ”میں اس فلم کی شوٹنگ کچھ عرصہ کے لیے postpone کر رہا ہوں۔”
    اس نے اعلان کرنے والے انداز میں کہا تھا۔ ٹینا اور داؤد بیک وقت چونکے تھے اور انہوں نے کچھ بے یقینی کے عالم میں اسے دیکھا، قلبِ مومن مذاق یقینا نہیں کر رہا تھا۔
    ”میں اس فلم سے ایک اور فلم بنانا چاہتا ہوں کیوں کہ میرے پاس ایک بے حد یونیک آئیڈیا ہے۔”
    قلب مومن کے اگلے جملے پر ٹینا بے حد ایکسائیٹڈ ہوئی تھی۔
    ”ایک سال میں دو فلمز۔Fantastic!میں تو پہلے ہی کہہ چکی تھی کہ سال میں ایک کے بجائے دو فلمز کرنی چاہئیں آپ کو۔ جب انویسٹرز، انویسٹ کرنے کو تیار ہیں۔ برانڈنگ اورproduct placement کے لیے تیار ہیں تو پھر بے وقوفی ہی ہے بس ایک ہی فلم کرتے جانا۔ کیاsubject ہے دوسری فلم کا؟”
    ٹینا جوش و خروش میں بات کرتے کرتے ابsubject کے بارے میں دریافت کرنے لگی۔ داؤد اس ساری گفتگو کے دوران خاموش ہی رہا تھا۔
    قلبِ مومن نے میز پر پڑے گلاس سے پانی کا ایک گھونٹ بھرا اور کہا ”Spirituality”
    ٹینا چپ ہو گئی۔ داؤد کو پہلے ہی لگی ہوئی تھی۔ مگر وہ ایک دوسرے کو دیکھے بغیر نہیں رہ سکے تھے۔
    ”کیا کہتے ہیں اسے اُردو میں؟”
    قلب مومن نے جیسے کچھ الجھ کر یاد کرنے کی کوشش کی تھی۔ وہ ایک لمحہ کے لیے بھول گیا تھا، داؤد نے کچھ کہنے کے بجائے لیپ ٹاپ پر گوگل پر اس لفظ کا اُردو ترجمہ ڈھونڈا اور پھر کہا ”روحانیت۔”
    ”بس اسی کے بارے میں فلم بنانی ہے مجھے۔” قلبِ مومن نے بے ساختہ کہا۔
    ”یہ جس کے نام کا مطلب ابھی گوگل سے ڈھونڈا ہے؟” ٹینا نے بے یقینی سے قلبِ مومن سے پوچھا۔ اس نے جواباً اثبات میں سرہلایا۔
    ”مگر اس میں دکھائیں گے کیا؟” ٹینا نے بے ساختہ کہا اور اس بار تینوں کو بیک وقت چُپ لگی تھی۔
    خاموشی کے ایک لمبے وقفے کے بعد قلب مومن نے جیسے اپنی خجالت مٹانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
    ”سوچو۔” وہ کہتے ہوئے اٹھ کر گیا۔
    ”باس! یہ میرا آئیڈیا نہیں تھا۔” داؤد نے جیسے کراہتے ہوئے اسے پکارا تھا، مگر وہ تب تک کافی دور جا چکا تھا۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • الف — قسط نمبر ۰۵

    الف — قسط نمبر ۰۵

    میرے پیارے اللہ!
    آج میں نے بابا کو پھر خواب میں ستارہ بنتے دیکھا۔ جیسے ترکی میں دیکھا تھا۔ تب میں نے انہیں ستارہ بنتے دیکھا تھا پھر وہ آگ کا گولہ بن گئے اور پھر وہ بہت دور چلے گئے۔ آج پھر میں نے انہیں دور جاتے دیکھا اور میری آنکھ کھل گئی۔ بابا کہیں بھی نہیں تھے۔ میں بہت اداس ہوں۔ بہت زیادہ۔
    میں نے آپ کو اپنے بارے میں نہیں بتایا۔ پہلے اپنے بارے میں بتانا چاہیے تھا۔ میرا نام قلبِ مومن ہے۔ آپ کو یاد ہے، کئی مہینے پہلے میں آپ کو خط لکھا کرتا تھا۔ تب میں ترکی میں رہتا تھا، اب پاکستان میں رہتا ہوں۔
    آپ نے میرے خطوں کے جواب میرے دادا کو بھیجے تھے مگر دادا نے وہ مجھے نہیں دیے۔ آپ کو میں یاد آگیا نا؟ مجھے پتا تھا میں آپ کو یاد آجاؤں گا کیوں کہ ممی کہتی ہیں، آپ کبھی کوئی چیز بھول ہی نہیں سکتے، خاص طور پر ان کو جو آپ سے پیار کرتے ہوں اور میں تو آپ سے بہت پیار کرتا ہوں۔ دیکھیں میں نے آپ کے لیےhearts بھی بنائے ہیں اور ہمیشہ کی طرح اس خط پر پھول اور ستارے بھی بنائے ہیں رنگین پینسلوں سے۔
    آپ سوچتے ہوں گے اگر میں آپ سے اتنا پیار کرتا ہوں تو پھر آپ کو اتنے مہینوں سے خط کیوں نہیں لکھ رہا۔ میں آپ کو بھولا نہیں ہوں، بس پاکستان آگیا ہوں لیکن آپ سے روز باتیں کرتا ہوں، رات کو بستر پر لیٹ کر سونے سے پہلے۔ جب سپارہ پڑھتا ہوں تب بھی آپ کو یاد کرتا ہوں اور جب نماز پڑھتا ہوں تب بھی۔ نمازیں ساری نہیں پڑھتا اور روز بھی نہیں پڑھتا لیکن سیکھ رہا ہوں، آپ ناراض مت ہونا۔ مجھے پتا ہے آپ ناراض نہیں ہوں گے کیوں کہ میں بچہ ہوں اور آپ بچوںسے بہت پیار کرتے ہیں۔
    ہم اب بہت بڑے گھر میں رہتے ہیں لیکن میں یہاں خوش نہیں ہوں۔۔۔ مجھے اپنا اسکول یاد آتا ہے ، اپنے دوست بھی۔۔۔ اور وہ جنگل بھی جہاں میں آپ کے لیے خط چھوڑ کر آتا تھا۔ میں نے یہاں بھی ایک جگہ ڈھونڈ لی ہے جہاں میں آپ کے لیے خط چھوڑ سکتا ہوں۔
    میرے پیارے اللہ! میرا دل پاکستان میں نہیں لگتا۔۔۔ یہاں اب ہمارے پاس وہ سب کچھ ہے جو میں آپ سے مانگتا تھا۔ بڑا سا گھر، گاڑی اور وہ ساری چیزیں جو میں آپ سے مانگتا تھا، وہ ممی مجھے بازار سے لے دیتی ہیں۔ سب کچھ مل گیا ہے مجھے لیکن ممی کھو گئی ہیں۔۔۔ یہ میری والی ممی نہیں ہیں۔ وہ الگ کمرے میں رہتی ہیں اور میں الگ کمرے میں۔۔۔ اور کبھی کبھی وہ کئی کئی دن گھر بھی نہیں آتیں۔ مجھے لگتا ہے، انہیں اب میری اور بابا کی پروا نہیں ہے۔ وہ اب بابا کو مِس نہیں کرتیں۔ ان کے لیے پہلے کی طرح روتی بھی نہیں ہیں۔ اب بہت اچھے اور مہنگے کپڑے پہنتی ہیں۔ زیور بھی، میک اپ بھی اور وہ بہت ہنستی ہیں۔ بہت بہت زیادہ۔ کبھی کبھی وہ اتنا ہنستی ہیں کہ مجھے ان پر غصہ آتا ہے۔
    مجھے ان کے بارے میں بہت ساری خراب باتوں کا بھی پتا چل گیا ہے لیکن وہ میری ممی ہیں اس لیے میں آپ کو نہیں بتا سکتا۔ اس کے لیے سوری۔
    مجھے اب بابا بہت یاد آتے ہیں اور دادا بھی۔
    میرے پیارے اللہ! کیا آپ مجھے ان دونوں کے پاس ترکی نہیں بھیج سکتے؟ میرا دل ممی کے پاس نہیں لگتا۔۔۔ وہ مجھے ایک چڑیل لگتی ہیں۔ مجھے پتا ہے مجھے ممی کو یہ نہیں کہنا چاہیے لیکن مجھے ان پر غصہ آتا ہے۔ مجھے لگتا ہے انہوں نے میرے بابا کو جان بوجھ کر ناراض کیا ہے۔ اگر وہ ترکی میں رہتیں تو بابا مل جاتے۔ میں خود ڈھونڈ لیتا ان کو۔۔۔ مجھے ہر کھو جانے والی چیز کو ڈھونڈنا آتا ہے۔
    میرے پیارے اللہ! میں نے آپ سے کہا تھا، آپ میری ممی اور بابا کی صلح کروا دیں اور ہم سب اکٹھے رہیں لیکن آپ نے مجھے جو جواب بھیجا تھا، وہ دادا نے مجھے نہیں دیا اور اب دادا بھی کہیں گم ہو گئے ہیں۔
    میں بہت اداس ہوں یہاں پاکستان میں۔ آپ کو خط اس لیے لکھ رہا ہوں تاکہ آپ میرے لیے کچھ کریں۔
    کیا آپ میرے پَر اُگا سکتے ہیں تاکہ میں اڑ کر ترکی چلا جاوؑں اور ممی مجھے ڈھونڈتی رہ جائیں؟ مجھے پتا ہے آپ سب کچھ کر سکتے ہیں۔ آپ کب مجھے اپنے بابا اور دادا سے ملوائیں گے؟ جلدی ملوا دیں۔۔۔ میں بڑا ہو گیا تو وہ مجھے نہیں پہچانیں گے۔ اب میں سونے لگا ہوں۔ آپ بھی سو جائیں۔
    آپ کا قلبِ مومن
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    بستر پر لیٹے رات کے اِس پچھلے پہر اس کاجسم کچھ دیر جھٹکے کھاتا رہا تھا یوں جیسے وہ نیند میں کسی چیز سے ڈر رہا تھا اور پھر یک دم اُس کی آنکھ کھلی تھی۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔ وہ کانپ رہا تھا۔ کمرے میں نائٹ بلب کی روشنی تھی اور بہت دور سے کسی میوزک کی آواز آرہی تھی۔ کچھ عورتوں اور مردوں کے قہقہوں کی بھی۔
    قلبِ مومن بستر سے نکل آیا۔ اس نے کمرے کی لائٹ آن کر لی تھی۔ باہر سے آنے والی موسیقی اور ان قہقہوں کی آوازوں کا اب وہ عادی ہو چکا تھا۔ وہ ان کی وجہ سے نہیں جاگا تھا اور نہ ہی وہ آوازیں کبھی اس کی نیند کو روک سکتی تھیں۔
    وہ بہت بڑا اور آرام دہ کمرہ تھا جس میں وہ اس وقت موجود تھا۔ وہاں بہترین فرنیچر تھا اور کوئی بھی بچہ اس کمرے میں رہ کر خوش ہوتا۔ اپنے بستر سے اٹھ کر وہ کمرے میں دیوار کے ساتھ پڑی ایک اسٹڈی ٹیبل پر جا بیٹھا۔ دراز کھول کر اس نے ایک رائٹنگ پیڈ نکالا اور پھر لیمپ آن کر لیا۔ کاغذ پر وہ کچھ لکھنے لگا تھا۔ وہی سب کچھ جو وہ رات کے اس پہر اس طرح خواب میں ڈر جانے پر لکھتا تھا۔ اللہ تعالیٰ کے نام ایک اور خط۔۔۔ وہ خط شاید اس کی روح میں کہیں بہت پہلے لکھے گئے تھے جو اب اس پر اتر رہے تھے۔ قلبِ مومن کو ہر بات پر صرف اللہ یاد آتا تھا۔۔۔ خوش ہونے پر بھی، خفا ہونے پر بھی، کوئی چیز مل جانے پر بھی اور کچھ کھو دینے پر بھی، کسی چیز کی طلب ہونے پر اور کسی چیز کو پا نہ سکنے پر بھی۔
    اس کا خاندان کئی نسلوں سے اللہ کے ناموں کی خطاطی کرتا آیا تھا، پر قلبِ مومن کو خطاطی نہیں کرنا تھی، خط لکھنے تھے۔۔۔ اللہ کے ناموں اور اس کی آیات کی خوبصورتی نہیں بیان کرنا تھی۔ اس سے باتیں کرنا تھیں اور باتوں کا وہ سلسلہ ترکی سے پاکستان آکر رک گیا تھا۔ کئی مہینے رکا رہا تھا اور پھر دوبارہ شروع ہو گیا تھا۔ وہ تنہا رہ گیا تھا اور اداس بھی اور ناخوش بھی اور ناراض بھی اور اس کے پاس اللہ کو لکھنے کے لیے بہت کچھ تھا۔ پہلے اس کے خطوں میں شکوے اور شکایتیں نہیں ہوتی تھیں صرف ضرورتیں ہوتی تھیں۔ اب ضرورتیں پوری ہو گئی تھیں تو ان کی جگہ شکووں اور شکایتوں نے لے لی تھی۔ مگر مومن کو اللہ سے کوئی شکوہ نہیں تھا۔ اس کے سارے شکوے حسنِ جہاں سے تھے۔ اس کی ممی سے۔
    ٭…٭…٭
    وہ بڑی احتیاط سے گھر کے مین دروازے سے عقبی لان میں نکلا تھا۔ وہاں ایک درخت پر اس نے وہ لیٹر باکس کچھ ہفتوں پہلے ہی اس طرح رات کو لٹکایا تھا تاکہ کسی کو اس کے بارے میں پتا نہ چل سکے۔ عقبی لان کی باڑھ کے پار سوئمنگ پول کے گرد اس وقت وہ پارٹی جاری تھی جس کا شور اس کے کمرے تک آرہا تھا اور باہر لان میں وہ شور بہت بڑھ گیا تھا۔
    قلبِ مومن کو اس باڑھ کے سامنے سے گزر کر لان کے آخر میں آم کے اس درخت تک جانا تھا جس پر اس نے وہ لیٹرباکس لٹکایا ہوا تھا۔ اس قد آدم باڑھ کے سامنے سے گزرتے ہوئے مومن نے باڑھ کے درمیان جگہ جگہ چھوٹے بڑے سوراخوں سے پول کے اردگرد موجود مردوں اور عورتوں کو شراب کے گلاس پکڑے، جھومتے دیکھا وہ وہاں رکا نہیں۔
    آم کے درخت کے نیچے اندھیرا تھا۔ اس نے ہاتھ میں پکڑا ہوا لفافہ اپنے دانتوں میں دبا لیا اور درخت پر چڑھنے لگا۔ اسے اس پر چڑھنے کی اچھی خاصی پریکٹس ہو گئی تھی۔ وہ چند ہی منٹوں میں درخت کی ایک اونچی والی شاخ پر تھا اور اس شاخ پر بیٹھ کر اس نے سوئمنگ پول کے دوسری جانب دیکھا۔ وہاں بہت سارے مرد اور عورتیں جھوم رہی تھیں لیکن ناچنے والی عورت صرف ایک تھی اور وہ حسنِ جہاں تھی۔ تیز بے ہنگم موسیقی کے ساتھ ناچتے ہوئے وہ مومن کو بہت بری لگی اور اس نے اس سے نظریں چرائیں اوراپنے سر پر موجود ایک دوسری شاخ کے ساتھ بندھے لیٹر باکس میں اپنے منہ میں دبا لفافہ نکال کر ڈالنے کی کوشش کی تھی۔ اس کا پاوؑں یک دم سلپ ہوا۔ اس نے شاخ پکڑ کر سنبھلنے کی کوشش کی۔ وہ ناکام ہوا اور پھر خوف کے عالم میں اس نے اپنے آپ کو اس اوپر کی شاخ سے نیچے گرتے پایا۔ اس نے بے اختیار ایک چیخ ماری تھی۔ زمین پر گرتے ہوئے اس نے ہوا میں اڑتے اس لفافے کو دیکھا جو ایک لمحہ کے لیے باہر گیٹ پر لگی روشنیوں میں آسمان سے نیچے گرتا نظر آیا تھا اور پھر قلبِ مومن کو ہوش نہیں رہا تھا۔
    ٭…٭…٭
    اس کی آنکھ جب دوبارہ کھلی تو وہ اپنے بستر میں تھا اور اس کا بازو ایک پلاسٹر میں لپٹا ہوا تھا۔ درد کی ایک لہر اس کے بازو میں اٹھی تھی مگر اس سے زیادہ گہری وہ شرمندگی تھی جو اسے حسنِ جہاں کو اپنے اسٹڈی ٹیبل پر بیٹھے ان خطوں کو پڑھتے دیکھ کر ہوئی تھی۔
    ”آپ نے میرے لیٹرز کیوں پڑھے؟ یہ آپ کے لیے نہیں تھے۔” وہ بے اختیار ماں پر خفا ہوا تھا اور اس کی آواز پر کرسی پر بیٹھی حسنِ جہاں نے پلٹ کر اسے دیکھا تھا۔ اس کی آنکھوں میں کوئی ایسا تاثر تھا جس نے قلبِ مومن کے غصے اور خفگی کو پل بھر میں غائب کیا تھا۔
    ”تم دادا کے پاس جانا چاہتے ہو؟” وہ کرسی سے اٹھ کر اس کے پاس آکر بیٹھ گئی تھی۔
    ”نہیں۔ میں بابا کے پاس جانا چاہتا ہوں۔” اس نے لیٹے لیٹے ماں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے کہا۔
    وہ اسے دیکھتی رہی پھر اس نے نظریں چراتے ہوئے کہا۔ ”تم ان کے پاس نہیں جا سکتے۔”
    ”وہ تو آسکتے ہیں۔” قلبِ مومن نے بے ساختہ کہا تھا۔
    ”وہ بھی نہیں آسکتے۔” اسے گمان ہوا اس نے حسنِ جہاں کی آنکھوں میں پانی دیکھا تھا۔ پانی ہی ہو سکتا تھا آنسو تو نہیں ہو سکتے تھے۔
    ”کیوں نہیں آسکتے؟” وہ بے چین ہوا۔
    ”اس لیے نہیں آسکتے کیوں کہ آپ سے ایک غلطی ہوئی ہے اور وہ آپ کو معاف نہیں کر سکتے۔” مومن کو جیسے کئی بار دہرائی بات یاد آئی۔
    حسن جہاں نے اس کی بات کاٹ دی۔ ”تمہارے بابا اللہ کے پاس چلے گئے ہیں۔”
    ”مجھے پتا ہے اسی لیے میں نے اللہ کو لیٹرز لکھے ہیں۔” قلبِ مومن نے بھی اسی اطمینان سے کہا تھا۔
    وہ اس کا چہرہ دیکھتی رہی پھر اس نے مومن کا وہ ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا تھا جو پلاسٹر میں جکڑا ہوا نہیں تھا۔
    ”تم بابا کو ستارہ بنتے دیکھتے تھے نا؟ تمہارے بابا واقعی ستارہ بن گئے ہیں۔ آنہیں سکتے وہ اب ہمارے پاس۔” قلبِ مومن نے اس کی آواز بڑی دقت سے سنی تھی۔ وہ بہت مدھم آواز میں بول رہی تھی یوں جیسے وہ یہ سب کہنا بھی نہیں چاہتی تھی۔ دہرانا بھی نہیں چاہتی تھی۔
    ”ہم بھی نہیں جا سکتے؟” قلبِ مومن الجھا۔
    ”تم نہیں۔ شاید میں چلی جاوؑں۔” اس نے ماں کو کہتے سنا، وہ یک دم خوف کے عالم میں اٹھ کر ماں سے لپٹا تھا۔ حسنِ جہاں سے نفرت کرنے کے باوجود ناراض اور خفا ہونے کے باوجود۔
    ”میں آپ کو کبھی جانے نہیں دوں گا۔” وہ حسنِ جہاں سے لپٹ کر کہتا جا رہا تھا۔
    ”تم دادا کے پاس چلے جاؤ مومن۔” وہ اس سے کہہ رہی تھی۔ مومن اس کا چہرہ نہیں دیکھ سکتا تھا مگر اندازہ کر سکتا تھا۔ وہ اس بار آنسو بہا رہی تھی، پانی نہیں۔
    ”نہیں، میں دادا کے پاس نہیں جاؤں گا، آپ کے ساتھ رہوں گا۔” اس نے ماں سے وعدہ کیا تھا یا شاید اپنے آپ سے وعدہ کیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”کوئی جواب آیا؟”
    ”نہیں۔”
    ”میں نے پہلے ہی کہا تھا۔”
    ”تم کو یقین ہے وہ خط اللہ کو مل گئے ہوں گے؟”
    ”ہاں مل تو گئے ہوں گے اللہ کو سب مل جاتا ہے۔”
    ”کتنے خط بھیجے ہیں تم نے اللہ کو؟”
    ‘تیس۔”
    ”یہ تو بہت سارے ہیں۔”
    ”اللہ کو جواب تو دینا چاہیے۔”
    ”ہاں ٹیچر کہتے ہیں، اللہ سب کی سنتا ہے اور سب کو جواب بھی دیتا ہے۔” مومن نے اس بار بے حد یقین سے کہا تھا۔ وہ اس دن اسکول کے گراوؑنڈ میں اپنے دو قریبی دوستوں کے ساتھ بیٹھا اپنا یہ راز شیئر کر رہا تھا جو وہ عام طور پر نہیں کرتا تھا اور وہ دونوں بچے بے حد پرجوش اور متاثر ہوئے تھے ان خطوں کے بارے میں بات کر رہے تھے جو مومن نے اللہ کو بھیجے تھے۔
    ”تم لوگ کسی کو بتانا مت۔” ان سے بات کرتے کرتے مومن کو ہر بار کی طرح انہیں خبردار کرنا یاد تھا۔ دونوں نے بیک وقت نفی میں سرہلا کر اس سے راز نہ کھولنے کا وعدہ کیا تھا۔
    ”مومن اگر اللہ نے کبھی بھی جواب نہ دیا تو؟” ان دونوں بچوں میں سے ایک بچی ردا نے اس سے پوچھا تھا۔
    ”وہ ضرور دیں گے۔” مومن نے بے حد یقین اور اعتماد سے کہا تھا۔
    ”ہاں مومن! لیکن اگر جواب نہ آیا تو؟” اس بار دوسرے بچے بلال نے بھی جیسے اس بچی کی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔
    ”پھر میں اللہ سے خفا ہو جاوؑں گا۔” مومن نے یک دم اپنا پلاسٹر میں لپٹا بازو گود میں رکھتے ہئے کہا۔
    ”اور خفا ہو کر پھر تم کیا کرو گے؟” ردا کو پھر تجسس ہوا۔ قلبِ مومن ان کے لیے پراسرار چیز تھا۔
    ”میں دوبارہ اللہ کو کبھی خط نہیں لکھوں گا۔” اس نے بے حد سنجیدگی سے کہا۔دونوں بچوں کو جیسے تسلی نہیں ہوئی۔
    ”بس؟” ردا نے دوبارہ پوچھا۔
    ”ہاں اور میں نماز بھی نہیں پڑھوں گا۔ دعا بھی نہیں کروں گا۔” مومن نے جیسے مزید بتایا۔
    ”بس؟” ان بچوں کی جیسے ابھی بھی تسلی نہیں ہو پا رہی تھی۔
    ”اور ہمیشہ جھوٹ بولوں گا اور برے کام کروں گا۔” مومن نے اس بار پہلے سے بھی زیادہ سنجیدگی سے کہا۔
    ردا اور بلال نے ایک دوسرے کو دیکھا پھر ردا نے بڑی ہمدردی سے اپنے لنچ باکس میں سے لنچ کھاتے ہوئے اس سے کہا۔
    ”میں دعا کروں گی، تمہارے لیٹر کا جواب ضرور ملے۔”
    ردا نہ بھی کہتی تو بھی مومن کو یقین تھا، اسے اللہ تعالیٰ خط کا جواب ضرور دیں گے۔ وہ دیر کر سکتے ہیں ،لیکن اسے نظرانداز نہیں کرسکتے تھے۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • الف — قسط نمبر ۰۴

    الف — قسط نمبر ۰۴

    میری پیاری بیٹی حسنِ جہاں!
    السلام علیکم
    تمہاراحال پوچھنا چاہتا ہوں۔ پوچھنے کی ہمت نہیں کر پا رہا۔ تمہارا حال تو جانتا ہوں میں اور میں ہی تو وجہ بنا ہوں تمہیں اس حال میں لانے کی۔ تمہیں کیا لکھوں۔ میری بیٹی کیا لکھوں؟
    بہت ساری باتیں ہیں جو تم سے کہنا چاہتا ہوں لیکن لفظ، لفظ اس کاغذ پر وہ لکھنے سے قاصر ہیں جو میرے دل میں ہے۔ لیکن تمہارا دوبارہ سامنا کرنے سے تمہارے نام یہ خط لکھنا آسان ہے میرے لیے۔
    تم سے کیا کہوں؟ کہ میں شرمندہ ہوں یا یہ اعتراف کروں کہ تم سے کہ میں گناہ گار ہوں کہ حسنِ جہاں تمہارا وہ گھاوؑ بھر جائے جو میرے ہاتھوں لگا اور تم مجھے معاف کر سکو۔
    میں نے اپنی ساری زندگی کینوس اور کاغذ پر صرف اللہ کی بڑائی اور صناعی بیان کرتے گزاری ہے۔ روشنائی اور رنگوں سے خطاطی کرتے عمربسر کی ہے، مگر یہ سمجھ نہیں پایا کہ اللہ کی بڑائی بیان کرتے کرتے غرور کا وہ کون سا لمحہ تھا جس میں میں خود کو بھی ”بڑا” مان بیٹھا تھا۔ نیک، متقی، پرہیزگار۔ گناہ نہ کر سکنے والا۔ یاد نہیں حسنِ جہاں! میں مومن سے کافر کس وقت ہوا تھا لیکن کبھی نہ کبھی کچھ تو ایسا کر بیٹھا تھا میں کہ ٹھوکر کھائی تو اللہ نے سنبھال نہیں، گرنے دیا۔ اور میں گرتا ہی چلا گیا۔
    اور اب جب یہ خط لکھنے بیٹھا ہوں تو یہ کاغذ آئینہ بن کر مجھے میرا وہ عکس دکھا رہے ہیں جن سے میں نظریں نہیں ملا سکتا۔
    اس عمر میں اکلوتی جوان اولاد کو کھو دینے کے بعد میری ز ندگی کا وہ محور گم ہو گیا ہے جس کے گرد میری زندگی گھومتی تھی۔ اب کچھ بھی یاد نہیں رہتا مجھے۔ نہ کھانا نہ پینا نہ سونا جاگنا، نہ ہی دنیا کی کوئی اور چیز، طہٰ سب کچھ لے گیا ہے میرا۔ بس میرا وجود چھوڑ گیا ہے اپنے اس پچھتاوے کے ساتھ جو ہر وقت میرا گلا گھونٹتا رہتا ہے۔ میری سمجھ میں نہیں آتا، اب اس پچھتاوے کا کروں کیا اور اس وجود کا مصروف کیا رہ گیا ہے۔
    وہ خطاطی جو کئی نسلوں سے خون کی طرح ہماری رگوں میں بہتی آئی تھی، طہٰ کے جانے کے بعد سوکھنے لگی ہے۔ اب میری اگلی نسلوں میں کوئی اللہ کی کبریائی اور بڑائی بیان کرنے والا نہیں آئے گا۔ یہ میری سزا ہے۔ میرے غرور کی۔ میں اس کی شکایت کسی سے نہیں کر سکتا۔
    طہٰ مٹی ہو گیا۔ میں مٹی بھی نہیں ہو سکتا۔ اس دنیا سے جانے کی باری میری تھی۔ مہلت اس کو نہیں ملی۔ اس عمر میں جو غم میرے حصے میں آیا ہے، وہ جھیلا نہیں جا رہا۔ یہ جو گھر ہے ،جس میں میں رہتا ہوں، یہاں کی ہر شے، ہر دیوار کے ساتھ اس کی یادیں لپٹی ہیں۔ میں ہر روز صبح اس کی یادوں کو درختوں کی بڑھی ہوئی شاخوں کی طرح کاٹ کر باہر پھینک آتا ہوں۔ وہ رات تک پھر سے اُگ آتی ہیں، پرانی یادوں کی رہ جانے والی جڑوں میں سے۔ میں یہ فصل کاٹتے کاٹتے تھکنے لگا ہوں۔ گھر طہٰ سے خالی ہو گیا اس کی یادوں سے خالی ہونے کو تیار نہیں۔
    وہ تمہارے ساتھ چلا گیا تھا تو اس گھر میں اس کی یادیں اس طرح نہیں اُگتی تھیں۔ میری نفرت اور غصہ ہر اُگنے والی یاد کو کھا جاتے تھے۔ اب ایسا نہیں ہوتا۔ اب میرے اندر کچھ بھی نہیں رہا۔ فخر، غرور، آن، غصہ سب ختم ہو گیا۔ اگر کچھ بچا ہے تو روشنی کی وہ کرن جو قلبِ مومن کے نام سے تمہارے گھر کو روشن کیے ہوئے ہے۔ میں ہر وقت اس کے بارے میں سوچتا ہوں جب اپنے اندر ،باہر ہر طرف اندھیرا ہو جاتا ہے تو اُس کے چہرے کی روشنی مجھے راستہ دکھانے لگتی ہے۔ کیا اسے اپنا یہ بوڑھا دادا یاد آتا ہے؟ مگر میں اسے کیوں یاد آوؑں گا؟ میں نے اُس کو دیا ہی کیا ہے؟ اسے پہلی بار دیکھا تو مجھے لگا طہٰ کا بچپن لوٹ آیا، وہ بچپن میں قلبِ مومن جیسا ہی تھا۔ ویسا ہی معصوم چہرہ، ویسی ہی میٹھی آواز، ویسے ہی سوال اورویسی ہی شرارتیں۔ پر قلبِ مومن تو شرارتیں نہیں کرتا۔ وہ تو بس طہٰ کیا کرتا تھا، قلبِ مومن تو بس سوال کرتا ہے اور ان سوالوں کا میرے پاس کوئی جواب نہیں۔ اس کا مجرم ہوں میں۔ میں نے اُس سے شرارتیں چھین کر یہ سوال تھما دیے۔ میں نے بڑا ظلم کیا۔
    میری بیٹی حسنِ جہاں۔ تم مجھے معاف کر دو۔ دل سے معاف کر دو۔ قلبِ مومن کو میرا بہت پیار دینا۔ اُس سے کہنا وہ اللہ کو ایک خط اپنے دادا کے لیے بھی لکھے۔ اللہ سے کہے۔ اُس کے دادا کا ہنر اُسے واپس کر دے۔ قلبِ مومن کا ہر خط اللہ کو پہنچ جاتا ہے، وہ تمہارا بیٹا ہے نا اس لیے۔
    والسلام
    قلبِ مومن کا دادا
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    قلبِ مومن نے اسٹریچر پر لیٹی حسنِ جہاں کو دیکھا جسے پیرامیڈکس گھر سے باہر کھڑی ایمبولینس کی طرف لے جا رہے تھے اور پھر اُس نے اپنے دادا کو دیکھا جو بہتے آنسوؤں کے ساتھ اُس اسٹریچر کے پیچھے آرہا تھا۔ قلبِ مومن اور اُن کی نظریں ملی تھیں اور قلبِ مومن کے چہرے کا خوف جیسے عبدالعلی کی آنکھوں میں جھلکا تھا۔ مومن سائیکل سے گرنے کے بعد اپنی چوٹوں کو بھول گیا تھا اور اپنی اُس سائیکل کو بھی جو رستے میں گری پڑی تھی۔ وہ بس ایمبولینس کی طرف بھاگا تھا اور دادا نے اُسے روک لیا تھا۔
    ”ممی کو کیا ہوا؟ میری ممی کو کیا ہوا؟” عجیب خوف کے عالم میں اُس نے عبدالعلی سے پوچھا تھا۔
    ”دعا کرو کچھ نہ ہو۔” عبدالعلی نے اُسے ساتھ لپٹاتے ہوئے کہا تھا۔
    ایمبولینس اب دور جا رہی تھی اور قلبِ مومن کو عبدالعلی کی ٹانگوں سے لپٹ کر جیسے عجیب سکون کا احساس ہوا تھا وہ کسی چڑیا کے بچے کی طرح کانپ رہا تھا۔ عبدالعلی نے اُسے گود میں اٹھا لیا۔ وہاں کھڑے آس پاس کے گھروں میں رہنے والے لوگ اب وہاں سے آہستہ آہستہ جانے لگے تھے۔ دادا کی گود میں چڑھے قلبِ مومن کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا۔ ان لوگوں کی آنکھوں میں اس کے لیے ترس کیوں تھا۔ وہ اس عمر میں بھی اُس احساس کو پہچان سکتا تھا۔
    ”ممی کے پاس جانا ہے۔” اُسے ایک دم ماں کی یاد دوبارہ آئی تھی اور تب ہی اس نے عبدالعلی کی آنکھوں سے مسلسل بہتے ہوئے آنسو بھی دیکھے تھے۔ وہ شاید اُس کی ممی کے لیے رو رہے تھے۔ قلبِ مومن نے خود ہی سوچ لیا تھا، اُن آنسوؤں نے قلبِ مومن کے دل کو جیسے کچھ اور نرم کیا تھا عبدالعلی کے لیے۔
    آئی سی یو میں حسنِ جہاں بے ہوش پڑی ہوئی تھی اور عبدالعلی کے ساتھ قلبِ مومن بھی اُسے شیشے سے دیکھ کر بُری طرح بے چین ہوا تھا۔
    ”ممی کو کیا ہوا ہے دادا؟” اس نے عبدالعلی کو ہاتھ کو بے تابی سے ہلایا تھا۔ اپنی آنکھوں کو رگڑتے ہوئے عبدالعلی نے اُس سے کہا۔
    ”وہ بیمار ہو گئی ہیں۔” اُسے بتاتے ہوئے ان کی آواز بھر آئی۔
    قلبِ مومن نے اس بار ان آنسوؤں پر غور کیا۔ ”آپ کیوں رو رہے ہیں؟” اس بار وہ جیسے پوچھے بغیر نہیں رہ سکا۔
    ”مجھ سے ایک گناہ ہو گیا ہے مومن۔” عبدالعلی کا جیسے حوصلہ جواب دے گیا۔
    مومن کو یک دم یاد آیا، اُس کی ماں نے بھی تو کسی گناہ کی بات کی تھی جس کو اُس کے باپ نے معاف نہیں کیا تھا اور اب دادا بھی کسی گناہ کی بات کر رہے تھے۔
    ”ممی نے کہا تھا، اُن سے بھی کوئی گناہ ہوا تھا۔” اس نے بے اختیار عبدالعلی سے کہا۔
    ”نہیں تمہاری ممی نے کوئی گناہ نہیں کیا مومن۔ یہ میرے گناہ کی سزا ہے۔” وہ بلک بلک کر رونے لگے تھے۔
    قلب مومن کو اُس لمحے عبدالعلی پر بہت زیادہ ترس آیا۔ اس کا دل چاہا، وہ انہیں اپنے ساتھ لگا کر تھپکے جیسے وہ اُسے تھپکتے تھے۔
    ”اللہ تعالیٰ کیا ہم سب کو سزا دیتے ہیں؟ مجھے اُن سے بہت ڈر لگتا ہے دادا۔” عبدالعلی کا ہاتھ دوبارہ تھامتے ہوئے قلبِ مومن نے جیسے اپنا خوف اُن کی جھولی میں ڈالا۔
    ”اللہ سزا نہیں دیتا۔ ہم سب دیتے ہیں۔” انہوں نے جیسے اس ننھے بچے کے دل سے اُس خوف کو مٹانے کی کوشش کی۔
    ”کیا اللہ تعالیٰ ہم سے سزا دینے کو کہتے ہیں؟”
    ”مومن! مجھ سے وہ سوال مت پوچھو جس کا جواب میرے پاس نہیں۔” اس نے عبدالعلی کو ایک بار پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے دیکھا تھا۔ آئی سی یو کے شیشے سے اُس نے بستر پر آنکھیں بند کیے لیٹی ہوئی حسنِ جہاں کو دیکھا۔ قلبِ مومن کو اُس وقت احساس ہوا اُسے صرف حسنِ جہاں کی ضرورت تھی بابا کی نہیں وہ اُن کے بغیر رہنا سیکھ چکا تھا۔ وہ حسنِ جہاں کے بغیر رہنا سیکھنا نہیں چاہتا تھا۔
    اگلے دو دن وہ دادا کے ساتھ ہاسپٹل جاتا رہا اور پھر اُس نے بالآخر حسنِ جہاں کو آنکھیں کھولتے دیکھ لیا تھا۔ لیکن یہ وہ آنکھیں نہیں تھیں جنہیں وہ ہمیشہ سے دیکھتا آیا تھا۔ یہ آنکھیں خالی تھیں، اُن میں کچھ بھی نہیں تھا۔
    اُس آٹھ سال کے بچے نے وہ تبدیلی محسوس کی تھی اور بڑی شدت سے کی تھی۔ کچھ ہوا تھا اُس کی ماں کو مگر کیا ہوا تھا۔ یہ وہ جان نہیں پا رہا تھا۔
    ”ممی! آپ ٹھیک ہو گئیں میں نے اتنی دعائیں کی تھیں۔” اُس نے حسنِ جہاں سے لپٹ کر جیسے اُس میں وہی گرمی، وہی تمازت ڈھونڈنے کی کوشش کی جو ہمیشہ سے وہ اُس کی آغوش میں محسوس کرتا تھا۔ حسنِ جہاں نے اُسے لپٹا لیا تھا۔ قلبِ مومن نے اُسے کہتے سنا۔
    ”میں نے بھی بڑی دعائیں کی تھیں۔ میری تو کوئی دعا قبول نہیں ہوئی۔”
    قلبِ مومن نے حسنِ جہاں کا چہرہ دیکھنے کی کوشش کی مگر عبدالعلی کی آواز نے اُسے اپنی طرف متوجہ کر لیا، اُس نے انہیں ہاتھ جوڑتے۔ حسنِ جہاں سے کہتے سنا۔
    ”آپ کو معاف کر دوں گی۔ اپنے آپ کو کیسے کروں گی؟” وہ کیا پہیلی تھی جو عبدالعلی اور حسنِ جہاں کی گفتگو میں پنہاں تھی۔ وہ کیا گناہ تھا جو انہیں سزا دے کر گیا تھا اور وہ کیا شے تھی جس سے وہ محروم ہوئے تھے۔ قلبِ مومن سمجھ نہیں پایا۔ سمجھ میں آئی تھی تو صرف ایک بات۔ وہ دونوں اب اُس کے باپ کی بات نہیں کرتے تھے اور اُس کو پہلے کی طرح ڈھونڈ بھی نہیں رہے تھے مگر قلبِ مومن اب حسنِ جہاں سے کوئی ایسی بات نہیں پوچھنا چاہتا تھا جو اُس کی ماں کو رلاتی اور پتا نہیں کیوں اُسے لگتا تھا، وہ یہ سوال کرے گا تو اُس کی ماں روئے گی۔
    اللہ کو ایک اور خط لکھنا ضروری ہو گیا تھا کیوں کہ قلبِ مومن کو کوئی جواب اپنی دنیا اور اپنے رشتوں سے نہیں مل رہا تھا۔
    ”جب غلطیاں ہو جاتی ہیں تو وہ کیا وہ کبھی ٹھیک نہیں ہو سکتیں اور جب گناہ ہو جائیں تو کیا ہمیشہ اُن کی سزا ملتی ہے۔ کیا اللہ معاف نہیں کر سکتا؟”
    قلبِ مومن کو اب اللہ تعالیٰ سے یہی سوال کرنے تھے کیوں کہ وہ اپنے گھر میں دو لوگوں کو تکلیف میں دیکھ رہا تھا اور وہ اُس تکلیف کی جڑ کو کھوجنا چاہتا تھا۔
    جنگل میں تنے پر دھرا اس کا لیٹر باکس غائب تھا۔ قلبِ مومن کو چند لمحے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آیا۔وہ شاید کسی غلط جگہ پر آگیا تھا راستہ بھول کر۔ آخر وہ اتنے دنوں کے بعد آیا تھا اُس جنگل میں۔ مگر قلبِ مومن کبھی راستہ نہیں بھولتا تھا۔ صدمے کی کیفیت میں وہ اُس درخت کے گرے ہوئے تنے کے ساتھ ساتھ آس اپس بہت سارے دوسرے گرے ہوئے درختوں پر بھی چڑھ چڑھ کر اپنے لیٹرباکس کو ڈھونڈتا رہا۔ اُسے اپنے لیٹر باکس کا کہیں نام و نشان بھی نہیں ملا تھا۔ بے حد مایوسی کے عالم میں وہ اُس دن واپس گھر آیا تھا اور اپنے کمرے میں جاتے ہی وہ جامد ہو گیا تھا۔ وہ لیٹرباکس ایک بیگ میں پڑا تھا۔ بیگ کی کھلی زپ سے آدھا اندر اور آدھا باہر۔ قلبِ مومن بے یقینی کی کیفیت میں اُس لیٹرباکس کو دیکھتا رہا۔ ممی کو کیسے پتا تھا کہ اُس نے وہ لیٹرباکس وہاں اُس جنگل میں اُس درخت پر رکھا تھا اور وہ اس کے اندر خط ڈالتا تھا۔ کیا انہیں یہ بھی پتا تھا کہ…
    اُسے مزید سوچنے کا موقع نہیں ملا۔ وہ حسنِ جہاں کی آواز تھی جس نے اُسے چونکایا تھا۔
    ”مومن! ہم پاکستان جا رہے ہیں۔”وہ بے اختیار پلٹا تھا۔ حسن جہاں کمرے کے دروازے میں کھڑی تھی۔
    ”کیوں؟” وہ حیران ہوا تھا۔ وہ جانتا تھا اُس کی ماں کا تعلق پاکستان سے تھا مگر اُس کا تو نہیں تھا۔
    ”رہنے کے لیے۔ اب ہم یہاں نہیں رہیں گے۔ پاکستان میں رہیں گے۔”
    مدھم آواز میں جو اُس نے حسنِ جہاں کی زبان سے سنا اس نے مومن کو دہلا دیا تھا۔ اُس کی ماں اسے وہاں سے کیوں کسی اور جگہ لے جانا چاہتی تھی، یہ اس کی سمجھ میں نہیں آیا تھا۔ وہ مزید سوال کرنا چاہتا تھا مگر وہ چلی گئی تھی۔ وہ جب سے ہاسپٹل سے آئی تھی، اس سے بہت کم بات کرتی تھی۔ اگر کسی سے بات کرتی تھی تو وہ دادا تھے مگر وہ ساری باتیں سرگوشیوں اور آنسوؤں کی زبان میں ہوتیں اور قلبِ مومن اُن دونوں چیزوں سے بے زار ہو گیا تھا۔ اُس پہیلی سے بھی اس کھیل سے بھی۔
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

  • الف — قسط نمبر ۰۳

    الف — قسط نمبر ۰۳

    میرے پیارے اللہ!
    آپ کیسے ہیں؟
    میرا نام قلبِ مومن ہے۔ میری عمر آٹھ سال ہے اور میں اپنی ممی کے ساتھ رہتا ہوں۔
    آپ مجھے جانتے ہیں نا ؟کیوں کہ آپ نے مجھے پیدا کیا۔ لیکن میں پھر بھی آپ کو اپنی ایک تصویر بھیج رہا ہوں تاکہ میں آپ کو یاد آجائوں۔
    آپ نے اتنے بہت سارے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ ہوسکتا ہے آپ مجھے بھول گئے ہوں حالانکہ ممی کہتی ہیں۔ ہم تو اللہ کو بھول سکتے ہیں، لیکن اللہ ہمیں کبھی نہیں بھولتا۔
    آپ کو بہت سارے لوگ خط لکھتے ہوں گے۔ میں سوچتا ہوں آپ اتنے سارے خط کیسے پڑھتے ہوں گے۔۔ پر ممی کہتی ہیں آپ اپنا ہر خط پڑھتے ہیں۔۔ وہ بھی خود۔۔۔
    مجھے یہ نہیں پتا کہ آپ کہاں رہتے ہیں لیکن ممی کہتی ہیں آپ وہاں رہتے ہیں جہاں کوئی نہیں رہتا۔۔آسمان پر۔۔ میں تو آسمان تک نہیں جا سکتا لیکن آپ کو خط یہاں سے بھیج رہا ہوں کیونکہ آپ تو اپنی ڈاک ہر جگہ سے لے لیتے ہیں۔۔ یہ بھی مجھے ممی نے ہی بتایا۔
    میرا خط جلدی سے پڑھ لیں اور پھر مجھے خط کا جواب ھیجیں۔ مجھے آپ سے ایک کام ہے۔۔ اور یہ کام کوئی اور نہیں کرسکتا۔ آپ میرے خط کا جواب بھیجیں گے تو پھر اگلے خط میں آپ کو وہ کام بتائوںگا۔
    میں نے خط پرurgent بھی لکھا ہے تاکہ آپ خط جلدی سے پڑھ لیں لیکن ممی کہتی ہیں، ہر کام صبر سے کرنا چاہیے کیونکہ صبر کرنا نیکی ہے، میں بھی صبر سے آپ کے خط کا انتظار کروں گا، تاکہ ایک نیکی بھی کرلوں کیونکہ ممی نے مجھے بتایا ہے، آپ کو نیکیاں اچھی لگتی ہیں، مجھے بھی اچھی لگتی ہیں۔
    میرے پاس ایک ڈائری ہے جس میں، میں ہر روز اپنی ہر نیکی لکھتا ہوں۔۔۔ اور اُسی ڈائری میں اپنے گناہ بھی لکھتا ہوں۔
    ممی کہتی ہیں۔ اس طرح کرنے سے مجھے یاد رہے گا کہ میں ہر روز اچھے کام زیادہ کرتا ہوں کہ بُرے کام۔
    میں روز رات کو اپنی ڈائری چیک کرتا ہوں اور اگر بُرے کام زیادہ کیے ہوں تو پریشان ہوتا ہوں۔
    ممی کہتی ہیں اگر میں توبہ کرلیا کروں تو میرے بُرے کام اور گناہ غائب ہو جائیں گے۔
    میں ہر روز ایسا ہی کرتا ہوں۔ توبہ کرکے سوتا ہوں تو صبح میری ڈائری خالی ہوتی ہے۔ ممی کہتی ہیں وہ آپ کے کہنے پر ربر سے میرے سارے گناہ مٹا دیتی ہیں۔
    Thank you for that.
    آپ بہت اچھے ہیں۔ اب آپ تھک گئے ہوں گے۔ میں بھی تھک گیا ہوں۔ آپ آرام کریں، میں بھی سونے جارہاہوں۔
    آپ کا قلبِ مومن!
    ٭…٭…٭

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});
    دروازے کے باہر جو شخص کھڑا تھا، اُسے مومن نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اگر کبھی دیکھا بھی تھا تو اپنے باپ کی دکھائی ہوئی کسی تصویر میں اُس کا چہرہ اور اس کے سر داڑھی کے بال ایک جیسے سفید تھے۔ بہت ہلکی داڑھی، بہت گھنے سر کے بال اور بڑھاپے میں بھی ہیرے کی کنی جیسی چمکتی خوب صورت شہد رنگ آنکھیں جو قلبِ مومن پر جمی تھیں۔ کسی مقناطیس کی طرح۔
    ”قلبِ مومن؟” قلبِ مومن نے اُس دراز قد بوڑھے آدمی کی زبان سے اپنا نام سُنا، ایک اشتیاق بھرے لہجے میں۔۔۔ لیکن اُس نے جواب دینے کے بجائے اُس بوڑھے آدمی کے عقب میں اپنے باپ کے وجود کو کھوجنے کی کوشش کی۔
    وہاں کوئی نہیں تھا۔ صرف وہی بوڑھا شخص تھا اور اُس کا ایک بیگ۔ قلبِ مومن نے بے اختیار پلٹ کر اپنی ماں کو دیکھا۔ اُس کے چہرے پر آنکھوں میں اُسے وہی مایوسی نظر آئی جو اُس کے اپنے چہرے اور آنکھوں میں تھی۔
    ”مومن! تمہارے دادا۔۔” اُس نے ماں کو بالآخر کچھ بولتے سُنا۔
    وہ اب اُس کا ہاتھ پکڑے اُس شخص کی طرف بڑھا رہی تھی۔ مومن نے سر اُٹھا کر ماں کو دیکھا پھر سامنے کھڑے اُس شخص کو جو اب پنجوں کے بل اُس کے سامنے بیٹھ گیا تھا۔ اُس کے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے، اُسے دیکھتے ہوئے۔
    ”میرے بابا کہاں ہیں؟” اُس نے اُس شخص کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے پوچھا تھا۔
    ”وہ میرے پاس نہیں ہے۔” مومن کے سوال کا جواب اُس نے مومن کو نہیں دیا۔ اُس کے عقب میں کھڑی حسنِ جہاں کودیا تھا۔
    ”وہ میرے پاس کبھی نہیں آیا۔۔” اُس نے اس بار وہ جملہ قلبِ مومن کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا تھا۔ قلبِ مومن کو لگا اُس کے پیچھے کھڑی حسنِ جہاں پیچھے ہٹی ہے، بے اختیار گردن موڑ کر اُس نے ماں کو دیکھا۔ وہ واقعی اب اُس کے پیچھے نہیں تھی۔ وہ دروازے کی چوکھٹ سے پشت لگائے کھڑی تھی، یوں جیسے اپنے آپ کو سہارا دے رہی ہو۔ مومن نے پلٹ کر اُس بوڑھے شخص کی آنکھوں میں بھر آنے والے پانی کو حیرت سے دیکھا۔ وہ کیوں رو رہا تھا اُسے خود سے لپٹا کر۔۔۔ کیوں۔۔۔
    اُس کے سینے سے لگے، اُس کی آنکھوں سے گرتے آنسوئوں کی نمی کو اپنے چہرے پر محسوس کرتے ہوئے بھی مومن کو بے تاب کرنے والا واحد خیال اور احساس ماں کا تھا۔ عبدالعلی سے ملنے والا پہلا لمس اُس نے ”محسوس” ہی نہیں کیا تھا۔
    ”ڈیڑھ سال ہونے والا ہے اُسے مجھے اور مومن کو چھوڑ کر گئے ۔۔۔آپ کہتے ہیں، وہ آپ کے پاس نہیں آیا۔۔۔ پھر وہ کہاں گیا؟”
    اُس نے عبدالعلی کے ساتھ اندر کمرے میں آنے کے بعد حسنِ جہاں کے منہ سے یہ پہلا جملہ سُنا۔ اُس نے یہ جملہ عبدالعلی سے کہا تھا پھر اچانک اُسے مومن کا خیال آیا اور اُس نے مومن کو وہاں سے جانے کے لیے کہا۔
    ”مومن! تم اپنے کمرے میں جائو۔” اس نے ماں کی تحکمانہ آواز سُنی اور ایک لفظ کہے بغیر وہ وہاں سے اندر کمرے میں آگیا، مگر دروازے کی جھری کو بند کیے بغیر وہ اُس کمرے میں جھانکتا رہا۔ جہاں عبدالعلی اور حسنِ جہاں کھڑے تھے۔ وہ دونوں اس وقت اُسے ایک راز کی طرح لگ رہے تھے۔۔۔ ایک معمہ۔۔۔ جسے وہ حل کرکے اپنے باپ تک پہنچنا چاہتا تھا مگر ہ دونوں ایک دوسرے کے سامنے کھڑے چُپ تھے۔
    ”آپ بیٹھیں۔” اُس نے حسنِ جہاں کو کہتے سُنا اور عبدالعلی کو ایک کُرسی پر بیٹھتے دیکھا، وہ دیواروں پر لگی طہٰ کی بنائی ہوئی خطاطی دیکھ رہا تھا۔
    ”آپ کہتے ہیں، وہ آپ کے پاس نہیں آیا پھر وہ کہاں گیا؟” اُس نے بالآخر حسنِ جہاں کو بولتے دیکھا۔ وہ آگے آئی اور عبدالعلی کے قدموں میں بیٹھ گئی تھی۔ اُس نے عبدالعلی کے پائوں کو چھو کر روتے ہوئے کہا۔
    ”اب بس۔۔۔ جو بھی سزا ہے۔۔ کاٹ لی میں نے۔۔اُس سے کہیں، معاف کر دے مجھے۔۔”
    دروازے کی جھری سے اندر جھانکتے قلبِ مومن کا وجود پتے کی طرح لرزنے لگا۔ اُسے ماں کا کسی کے سامنے جُھکنا اچھا نہیں لگا، کسی کے سامنے بھی۔
    عبدالعلی بے اختیار اپنی جگہ سے اُٹھے تھے۔ انہوں نے حسنِ جہاں کے سر پر ہاتھ رکھا پھر روتی ہوئی حسنِ جہاں کو بازوئوں سے پکڑ کر اُٹھایا۔
    ”تم میرا یقین کرو بیٹا، وہ میرے پاس نہیں آیا۔۔۔ ڈیڑھ سال وہ میرے پاس رہتا اور میں اُسے تم دونوں کے بغیر رہنا دیتا۔۔۔ میں بے رحم نہیں ہوں۔۔۔ اتنا تو نہیں ہوں۔۔۔” اُس نے عبدالعلی کو عجیب بے چارگی کے عالم میں کہتے سُنا۔
    ”پھر کہاں گیا ہے وہ۔۔۔؟ میرے پاس نہیں۔۔۔ آپ کے پاس نہیں تو کہاں ہے وہ۔۔۔” حسنِ جہاں اب عجیب ہذیانی انداز میں کہہ رہی تھی۔
    قلبِ مومن نے دروازے کی جھری کو بند کردیا۔ اُس سے اپنی ماں کو اس حالت میں دیکھا نہیں جارہا تھا۔ وہ اتنے دن نہیں روئی اور آج رو رہی تھی تو۔۔۔ آخری جملہ جو اُس نے عبدالعلی کو کہتے سُنا تھا وہ ایک ہی تھا۔
    ”میں اس کو ڈھونڈوں گا۔۔۔ شاید وہ قونیہ چلا گیا ہو۔۔۔ اپنے درویش ساتھیوں کے پاس۔” یہ وہ آخری جملہ تھا جو مومن نے اُن دونوں کی گفتگو کا سُنا تھا۔ وہ اُس وقت بے حد رنجیدہ تھا۔ بے حد ناراض، بہت اُداس۔۔۔۔ اور وہ کسی بھی کیفیت کو سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔۔۔ اُسے بس رونا آرہا تھا بالکل اُسی طرح جیسے اُس نے حسنِ جہاں کو روتے دیکھا تھا۔۔۔۔ ہچکیوں کے ساتھ۔

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});

    (adsbygoogle = window.adsbygoogle || []).push({});