بس عشق ہو — کشاف اقبال (دوسرا اور آخری حصّہ)

اس زندہ نعش نے اٹھنے کی بھرپور کوشش کی اور آفس کا دروازہ اندر سے بند کر دیا۔اس نے ایک کاغذاور قلم اٹھایا اور لرزتی ہوئی انگلیوں سے لکھنے لگی۔
’’میں تو جا رہی ہوں برہان پر تمہیں زندہ رہنا ہوگا۔میری سادگی کے قاتلوں کا تمہیں پتا لگانا ہوگا۔ تمہیں غرور تھا ناں میری سادگی پر؟بہت غرور؟دیکھو آج میری سادگی کس طرح سے کچل دی گئی۔میں نے اس سادگی کو صرف تمہارے لیے سنبھال کر رکھا تھا پر…‘‘اس کے ہاتھوں میں طاقت نہ رہی، وہ پوری جان لگا کر اپنی محبت کے نام وہ آخری خط لکھ رہی تھی۔
’’میں یہ حرام قدم اٹھانے جا رہی ہوں،کیوں کہ میرے پاس اب اور کوئی راستہ نہیں میں تمہارا سامنا نہیں کر سکتی اپنے اس ناپاک وجود کے ساتھ۔ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا۔جانتی ہوں نہیں کرو گے پر میں بھی نہیں کروں گی مزید جینے کا گناہ۔تم نے مجھ سے عشق میری سادگی کی بنا پر کیا اور دیکھو، میں تمہارے عشق کا پاس نہ رکھ سکی۔تمہیں قسم ہے میری،میرے بعد تم میرے جیسا قدم مت اٹھانا۔میں تمہیں جیتا دیکھنا چاہتی ہوں۔ایک خوشحال زندگی۔خدا حافظ۔
تمہاری ممتحنہ۔‘‘
اللہ بخش کے نرسری آنے میں ابھی وقت تھا کہ برہان وہاں آ پہنچا۔
’’زارا… زارا کیا ہو گیا تمہیں؟‘‘نرسری پہنچتے ہی اس کی نظر سب سے پہلے زارا پر پڑی جو لان میں بے ہوش پڑی تھی۔اتنے میں اسے اپنی بیوی کا خیال آیا۔ممتحنہ کا خیال آتے ہی وہ زارا کو بے ہوشی کی حالت میں چھوڑکر آفس کی طرف دوڑا۔
آفس کا دروازہ اندر سے بند تھا۔ برہان ممتحنہ کو پکارتے ہوئے دروازہ توڑنے کی کوشش کرنے لگا۔ممتحنہ کے قریب ہی وہ بندوق پڑی تھی جو نمیر علی جلد بازی میں چھوڑ گیا تھا۔ وہ خود کو گھسیٹتی اس بندوق تک پہنچنے لگی۔ برہان نے توڑنے میں اپنی جان لگا د ی۔
’’ممتحنہ…ممتحنہ مجھے جواب دو۔ میں آ گیا ہوں۔ تمہارا شوہر تمہارے پاس آگیا ہے پلیز مجھے اپنی آواز سنا دو۔‘‘برہان اُسے پکارتا رہا پر ممتحنہ نے اپنی آواز نکالنے کی جرأت نہیں کی۔اس میں ہمت جو باقی نہیں رہی تھی،اپنے شوہر کا سامنا کرنے کی۔
بالآخر وہ بندوق تک پہنچ ہی گئی جو کہ پہلے ہی سے لوڈ تھی۔ اتنے میں اللہ بخش بھی وہاں آ گیا اور بغیر کچھ سوچے سمجھے برہان کے ساتھ دروازہ توڑنے میں اس کی مدد کرنے لگا۔
وہ بندو ق اپنی کن پٹی پر رکھ چکی تھی اور اپنی آنکھیں بند کرنے لگی۔اس کی آنکھیں بند ہوتے ہی دروازہ بھی کھل گیا اور برہان نے پہلی ہی فرصت میں اس کے سر سے بندوق ہٹائی جو کچھ ہی لمحوں میں فائر ہونے کو تھی۔
برہان اس کے سر سے بندوق ہٹاتے ہی کچھ پرسکون ہوا۔ اسے یقین نہیں آ رہا تھا کہ اس نے ممتحنہ کو بچالیا ہے۔ اسے کچھ وقت لگا اس حقیقت سے آشنا ہونے کے لیے کہ وہ وقت پر پہنچ گیا پر اسے کچھ وقت مزید درکار تھا اس حقیقت سے آشنا ہونے کے لیے کہ اسے بہت دیر ہوگئی۔
وہ جسے کچھ لمحہ پہلے صرف ممتحنہ کی جان بچانے کے سوا کچھ نظر نہیں آرہا تھا،اب اس کے وجود پر لگے درندگی کے داغ کو دیکھنے لگا۔
اللہ بخش وہاں سے پہلے ہی رخصت ہو گیا تھا یہ جان لینے کے بعد کہ اس کی میڈم کے ساتھ درندگی ہوئی ہے اور وہ زارا کے پاس چلا گیا۔
برہان نے اپنا بلیک کوٹ جو اس نے انٹرویو کی نیت سے زیب تن کیا تھا،ممتحنہ پر ڈال دیا اور اب وہ اس زندہ نعش کو حسرت سے دیکھنے لگا۔





’’ممتحنہ، کچھ بھی نہیں ہوا،سمجھیں! کچھ بھی نہیں۔ میں تمہارے ساتھ،ساتھ ہوں اور ہمیشہ ساتھ رہوں گا۔میں قسم کھاتا ہوں۔‘‘اس نے فوراً اس سادگی کے جیتے جاگتے مجسمے کو ،جو اب صرف مجسمہ رہ گیا تھا،نہ اس میں سادگی رہی تھی اور نہ وہ جی رہا تھا،اپنے گلے سے لگا لیا۔
’’یہ مت سمجھنا کہ تم مجھے اس حال میں قبول نہیں ہو،تم تو مجھے ہر حال میں قبول ہو۔’قبول ہے‘ کے الفاظ رسم نہیں تھے،قسم تھی،دل سے کھائی گئی قسم کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے ،ہماری محبت میں کمی واقع نہیں ہوگی اب اگریہ واقعہ ہو بھی گیا ہے تو اس سے ہماری محبت پر کچھ فرق نہیں آئے گا۔‘‘وہ اسے اپنے گلے سے لگا کر اسے یقین دلانے لگا کہ وہ اسے ہر حال میں قبول ہے پر وہ تو واقعی مجسمہ بن چکی تھی،اس کی زبان ایک حرف بھی ادا کرنے کی جرأت نہیں کر رہی تھی۔
برہان کی نظر اس کاغذ پر پڑی جو ممتحنہ کے دوسرے ہاتھ میں موجود تھا۔ اس خط کو پڑھتے ہی برہان نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہوا میں اڑاد یا ۔
’’کیوں کرتی ہو ہمیشہ مرنے کی باتیں؟سوچ بھی کیسے لیا تھا تم نے کہ تمہارے جانے کے بعد میری حالت تمہاری قبر پر آنے والی رہ جائے گی؟بے وفائی کرنے چلی تھی؟کس سے؟خو دسے؟مجھ سے؟ہمارے عشق سے؟ محبت میں وفا کرنا محبت کے ادب میں ہے۔عقیدہ ترک کر دینا بتاؤ مجھے کس مذہب میں ہے؟‘‘وہ اسے جھنجھوڑنے لگا۔اس سے کچھ سوال کرنے لگا پر وہ جواب کیا دیتی،وہ سن ہی کب رہی تھی،وہ تو پلک تک نہیں جھپکا رہی تھی۔
’’ممتحنہ؟ممتحنہ کچھ بو لو ؟آئی ایم سوری اگر میری باتیں بری لگیں،دیکھو میں اپنے کان پکڑ رہا ہوں،مار رہا ہوں اپنے آپ کو ،معاف کر دو مجھے۔بولو نا۔ چپ کیوں ہو؟تمہیں میری قسم،کسی قسم کا اشارہ ہی کر دو پر کچھ تو بولو۔‘‘وہ اس کی موجود ہ حالت دیکھ کر دیوانہ سا ہوگیا۔
’’میں تمہارے عشق کا پاس نہ رکھ سکی۔‘‘ایسا کیسے ہو سکتا تھا کہ برہان اسے اپنی قسم دے اور وہ اس کا پاس نہ رکھ سکے۔
’’رکھا ہے تم نے پاس میرے عشق کا، میری طرف دیکھو، تمہیں میری آنکھوں میں میری محبت میں کمی نظر آ رہی ہے یا زیادتی؟تمہارے ساتھ زیادتی ہونا میری محبت میں کوئی کمی نہ لاسکا،دیکھ رہی ہونا میری آنکھوں میں؟‘‘وہ ایک بار پھر اس کا بازو پوری قوت سے پکڑے اسے اپنی محبت کا یقین دلانے لگا۔
’’میں تمہارے عشق کا پاس نہ رکھ سکی۔‘‘اس کی زبان پر صرف ایک ہی جملہ تھا۔وہ برہان کے ہزاروں جملے سننے سے قاصر تھی۔
’’م…مم…ممتحنہ۔‘‘اتنے میں وہاں اللہ بخش کے ساتھ زارا بھی آگئی اور اپنی سہیلی کی یہ حالت دیکھ کر پہچان گئی جو آدمی وہا ں آئے تھے کس مقصد کے لیے آئے تھے۔
’’تم گھر چلو اپنے،تمہاری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اور تم دونوں ایک بات کان کھول کر سن لو،یہاں کیا ہوا،یہ بات صرف ہم چاروں کے بیچ رہے گی،اگر باہر نکلی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔‘‘وہ زارا اور اللہ بخش کو دھمکی دیتا اسے اپنے ساتھ گھسیٹتا ہوا لے جانے لگا۔
وہ اسے فی الحال ڈاکٹر کے پاس نہیں لے گیا۔وہ جان چکا تھا کہ اس کی موجودہ حالت کوئی ڈاکٹر ٹھیک نہیں کر سکتا۔ زندہ نعش کو ڈاکٹر کے پاس نہ لے جانے کی ایک اور وجہ یہ بھی تھی کہ ڈاکٹر کو شک ہوجاتا کہ برہان ندیم کی بیوی رخصتی سے پہلے ہی زیادتی کا شکار ہو گئی اور اگلے ہی روز اس کی بیوی اخبار کی سرخیوں اور سوشل میڈیا کے مسالے دار اسکینڈلز کا حصہ بنی ہوتی۔اور وہ یہ ہرگز نہیں چاہتا تھا کہ اس کی بیوی بدنام ہو، ہرگز نہیں!
٭…٭…٭
’’ــکیا ہوا میری بیٹی کے ساتھ؟ یہ کس حالت میں لا رہے ہو تم میری بیٹی کو؟‘‘عنایہ بیگم ممتحنہ کو اس حالت میں دیکھ کر بوکھلا گئیں۔
’’آپ پہلے اسے اندر آنے دیں،پھر بتاتا ہو ں سب۔‘‘وہ عنایہ بیگم کے ساتھ مل کر اسے سہارا دے کر اس کے کمرے میں لے جانے لگا۔
’’یہ کیا ہو گیا میری بچی کے ساتھ؟اب کیا ہو گا اس کا؟یہ تو کہیں کی نہیں رہی۔ میری بچی۔‘‘ممتحنہ کو اس کے بستر پر لٹا کر عنایہ بیگم برہان کے کہنے پر لاؤنج میں آ گئیں اور برہان نے انہیں سب کچھ بتا دیا۔
’’آپ کی نظر میں شاید اس کے ساتھ بہت کچھ ہوا ہو،پر میری نظر میں وہ آج بھی وہی ہے جو کل تھی۔ آپ نے کیسے کہہ دیا کہ وہ کہیں کی نہیں رہی؟وہ وہیں کی ہے جہاں کی پہلے تھی،میری بیوی ہے وہ،میری بیوی ہی رہے گی،بس آپ نے میرا ایک کام کرنا ہوگا،پلیز۔‘‘وہ اُنہیں دلاسا دیتا ہوا ان سے اس کے بھلے کے لیے ایک فیور مانگنے لگا،اپنی ساس کے آگے ہاتھ جوڑنے لگا۔
عنایہ بیگم یہ دیکھ کر حیران رہ گئیں کہ برہان کی محبت میں کوئی کمی نہیں آئی پر وہ تو عشق کرتا تھا ممتحنہ سے،محبت میں کمی آسکتی ہے،پر عشق میں کبھی نہیں!عشق یا تو ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔
’’ت… تم سچ کہہ رہے ہو نا برہان؟وہ اب بھی تمہاری ہی ہے نا؟ میر ے سر کی قسم کھا کر کہو۔‘‘ عنایہ بیگم کو یقین نہیں آرہا تھا کہ برہان اس بدنامی کے داغ کے ساتھ نکاحی بیوی کو اپنانے کے لیے تیار تھا۔
’’مجھے اسے اپنانے کے لیے قسم کھانے کی ضرورت نہیں،میرے نکاح میں ہے وہ۔بس آپ نے میرا ایک کام کرنا ہے،آپ بھلے حارث انکل سے مشورہ کر لیجیے گا پر پلیز،نا مت کیجیے گا۔‘‘محبت میں کمی عزت کے لٹ جانے سے نہیں آتی،محبت کے لٹ جانے سے آتی ہے ،پر محبت کہاں لٹی تھی؟وہ تو لٹاتا پھر رہا تھا اس پر اپنی محبت کو ۔پر وہ بے حس ،اس کی ایک نہیں سن رہی تھی،نہ جانے کون سی دنیا میں گم تھی۔
’’بیٹا مجھے یقین ہے تم جو کہو گے ،اس کے بھلے کے لیے کہو گے۔مجھے بتاؤ کیا کام ہے؟‘‘وہ اس کے جڑے ہوئے ہاتھ دور کرنے لگیں۔
’’مجھے لگتا ہے کہ وہ ایک بہت بڑے زخم یعنی ٹراما سے گزر رہی ہے،میں نہیں چاہتا کہ دیر ہوجائے۔ اس کا علاج پہلی ہی فرصت میں کروانا چاہتا ہوں اور آپ میرا یقین کیجیے،وہ ایک ماہ کے اندر اندر ہی صحت یاب ہو جائے گی۔ اسے یاد بھی نہیں رہے گا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا تھا،بس کل اسے سادگی سے رخصت کر دیں۔پھر میں اسے کل ہی دبئی لے جاؤں گا، اپنی پھوپھو کے پاس علاج کے لیے۔‘‘ برہان نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ وہ ممتحنہ کو اس حال میں رخصت کرکے لے جائے گا پر محبت ایسے حالات پیدا کر دیتی ہے جہاں اپنا حال نہیں دیکھا جاتا محبوب کو خوش حال کرنے کے لیے۔
’’تم نے تو بجا کہا بیٹا، پر ایسی حالت میں تمہارے ساتھ ساتھ اس کے ماں باپ کا اس کے پاس ہونا بہت ضروری ہے،تم سمجھ سکتے ہو۔‘‘عنایہ بیگم اس کی کہی ہوئی باتوں کو سمجھ گئی تھیں پر اسے کچھ اور بھی سمجھانا چاہ رہی تھیں۔
’’ہونہہ۔آپ بالکل ٹھیک کہہ رہی ہیں۔پھر یہ تو اور اچھا ہو گیا۔آپ تینو ں میرے ساتھ دبئی جائیں گے اور ممتحنہ کے ٹھیک ہوتے ہی یہاں آکر اس کی رخصتی کر دیں گے۔‘‘
وہ غم کے ماحول میں عنایہ بیگم کو خوشی کی ایک وجہ فراہم کرنے لگا۔
’’تمہاری بات میں کچھ غلط نہیں،میں حارث سے بات کر کے بتاؤں گی۔‘‘وہ بظاہر اس کے آگے جھکنا نہیں چاہتی تھیں پر وہ دل سے برہان کی شکرگزار تھیں کہ اُس نے اِس حال میں بھی ان کی بیٹی کو قبول کیا۔
’’اس کا بہت خیال رکھیے گااور آپ ذرا فکر مت کریں،وہ بالکل ٹھیک ہو جائے گی۔‘‘وہ چاہ کر بھی اس کے پاس نہیں رک سکتا تھا۔وہ بیوی تو بن چکی تھی اس کی،پر فی الحال اس کے ساتھ رخصت نہیں ہوئی تھی۔
٭…٭…٭
’’بے چاری ممتحنہ،اس کا تو ایسا حا ل کیا میں نے کہ بس، میرا حال کرنے والے تھے نا تم؟موت بھی آ جائے گی اور جنازہ بھی نصیب نہیں ہو گا؟لو جی! یہی حال میں نے تمہاری محبت کا کر دیا۔اب پڑھو فاتحہ،کہاں کی محبت؟کہاں کا عشق؟سب کو موت آ گئی۔نہ محبت رہی ،نہ عشق اور نہ اس کی سادگی رہی۔‘‘وہ شیطانی ہنسی ہنسنے لگی،اس کا جو ہمیشہ سے مقصد رہا وہ پورا جو ہو گیا تھا پر اسے کیا پتا کہ عشق کیا ہوتا ہے،وہ انجان تھی ممتحنہ اور برہان کے عشق سے۔
’’اب تمہیں قبول کرے گی برہان کی جوتی۔‘‘وہ سگریٹ پر سگریٹ پینے لگی اور اپنی پلاننگ کی تکمیل پر خوش ہو نے لگی۔
٭…٭…٭
’’میں جانتا ہوں وہ سب تم نے کیا ہے،تمہارا معاملہ اپنے دل پر ہزار پتھر رکھ کر اللہ کے حوالے کرتا ہوں۔‘‘وہ ممتحنہ کے گھر سے نکلتے ہی حیال کے گھر آ پہنچا۔
’’میں نے کیا کیا؟‘‘وہ اس کے آگے انجان بن کر کھڑی ہو گئی۔
’’چپ کر کے میری بات سنو۔‘‘برہان نے اس کا گلا دبا دیا اور دبائے رہا،اس وقت تک جب تک کہ اس نے اپنی بات پوری نہ کرلی۔
’’اگر تم نے یہ بات پھیلانے کی کوشش کی یا کسی بھی ذرائع سے یہ بات منظر عام پر آئی کہ اس کے ساتھ وہ سب کچھ ہوا،تو یاد رکھو، وہ بندوق میرے پاس محفوظ ہے جس پر اس درندے کی انگلیوں کے نشان ہیں۔میر ا شک جن جن پر ہے،اگر ان میں سے کسی ایک کے وہ نشان ہوئے تو وہ خود تو پھنسے گا ہی پر تمہیں بھی نہیں چھوڑے گاسمجھی!‘‘وہ کھانسنے لگی،اسے سانس لینے میں دشواری ہورہی تھی۔
’’اپنے آپ کو بچانا ہے،اپنے کیرئیر کو بچانا ہے تو اپنی آواز بند کرنا ہوگی۔ ورنہ قانون تمہاری آواز ہمیشہ کے لیے بند کر دے گا۔‘‘برہان کے ذہن و دل پر اگر کچھ تھا تو بس اپنی شریک ِ حیات کی عزت اور وہ جانتا تھا کہ اسے اس عزت کی حفاظت کس طرح کرنی ہے۔وہ اس کے گلے پر سے اپنا ہاتھ ہٹاتا ہوا وہاں سے روانہ ہو گیا اور اگر وہ اس وقت وہاں سے روانہ نہ ہوتا تب حیال کی سانسوں کو اس کے دل سے ضرور روانہ ہو جانا تھا۔
’’تم وہاں بندوق چھوڑ کر آ گئے اپنی؟تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے؟‘‘حیال نے برہان کے جاتے ہی نمیر علی کو فون کیا۔
’’وہ…وہ دراصل میں بھول گیا تھا،راستے میں یاد آیا،پر اس وقت تک بہت دیر ہوچکی تھی۔خیر!آپ کا کام تو پورا ہو گیا نا اب میرا کام بھی جلدی سے پورا کریں۔‘‘وہ خود بھی حیال کو فون کرنے ہی والا تھا۔
’’نہیں کروں گی تمہارا کام۔تم اتنے لاپروا کیسے ہو سکتے ہو کہ وہاں بندوق ہی چھوڑ کر آ گئے؟‘‘وہ نمیر علی سے لڑنا شروع ہو گئی۔
’’کام تو آپ نے میرا کرنا ہی ہوگا حیال صاحبہ۔ آپ کی ایک ایک ریکارڈنگ جو میرے پاس محفوظ ہے۔اب یہ آپ کے اوپر ہے کہ میرا کرئیر سنوارنا پسند کریں یا جیل جانا۔‘‘حیال کا تو آج برا دن تھا۔بچنے کے آثار کہیں سے بھی دکھائی نہیں دے رہے تھے۔
’’بڑے کم ظرف انسان ہو۔مل جائے گا جو تمہیں چاہیے۔ پر ریکارڈنگز میری آنکھوں کے سامنے ڈیلیٹ ہونی چاہئیں۔‘‘
’’جیسے آپ کا حکم حیال صاحبہ۔ـ‘‘نمیر علی کا تو مقصد پورا ہو چکا تھا پر حیال کا مقصد پورا ہو کر بھی پورا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا تھا۔
٭…٭…٭
’’نہیں!مجھے کچھ مت کرنا۔میں صرف برہان کی ہوں پلیز مجھے کچھ مت کرنا۔ نہیں…‘‘وہ چیختی ہوئی اپنی نیند سے جاگ گئی پر عنایہ بیگم اور حار ث تو اس رات سوئے ہی نہیں تھے۔
’’نہیں میرا بیٹا،کچھ نہیں ہوا ہے،تمہارے ابو تمہاری امی ہیں نا تمہارے پاس؟کچھ نہیں ہوا میری بیٹی کو۔‘‘حارث نے اسے سینے سے لگا لیا پر اسے سکون نہیں آیا۔
’’نہیں ابو، اس نے میرے ساتھ بہت برا کیا ہے۔ اس نے مجھے بہت درد دیا ہے،اب میں برہان کو کیا منہ دکھاؤں گی؟‘‘وہ اپنے باپ کے سینے سے لگ کر رونے لگی۔حارث نے بھی اسے رونے دیا۔اس کے خیال میں اسے تھوڑا بہت رو کر ہی سکون ملنے والا تھا۔رونا فی الحال اس مجسمے کے حق میں بہتر تھا۔
’’نہیں دکھا پاؤں گی اپنا منہ اسے،نہیں دکھا پاؤں گی۔‘‘وہ اپنے کہے آخری جملوں کو دہراتی اپنے باپ کے سینے پر سر رکھ کر سو گئی۔
’’برہان نے صحیح کہا ہے،یہ ٹراما سے گزر رہی ہے،اسے علاج کی ضرورت ہے اورہم جائیں گے دبئی،اس کے علاج کے لیے۔ویسے ایک بات تو طے ہے عنایہ،برہان ہماری سوچ سے بھی کہیں زیادہ سنسیئر ہے،اس حال میں تو شادی شدہ شوہر اپنی بیوی کو چھوڑ دیتا ہے پھر یہ تو اس کی فی الحال نکاحی بیوی ہے۔‘‘اپنی بیٹی کی موجودہ حالت کا خود معائنہ کرنے کے بعد حارث نے دبئی جانے والی بات پر حامی بھری۔
٭…٭…٭
’’کیسی طبیعت ہے اب تمہاری؟‘‘وہ اسے اپنے ساتھ دبئی لے جانے اگلی صبح اس کے گھر پہنچا۔
’’ٹراما سے گزر رہی ہوں،آپ تو ایسے ٹریٹ کر رہے ہیں جیسے میں ذہنی مریضہ بن گئی ہوں اور پلیز، مجھ سے اتنا کلوز مت ہوا کریں،مجھے اچھا نہیں لگتا۔‘‘عنایہ بیگم اور حارث سامان رکھنے میں مصروف تھے کہ برہان ممتحنہ کے کمرے میں آگیا۔
’’کیوں نہ ہوں کلوز تمہارے؟بیوی ہو میری۔بھول گئی کیا کہ دو دون پہلے ہی نکاح ہوا ہے ہمارا؟‘‘وہ دور رہنے کی بات کر رہی تھی پر وہ اس کے مزید پاس آ گیا،اس کے بہت قریب۔
’’میں نے کہا نا کہ مجھ سے دور رہیں،سمجھ نہیں آرہی میری بات؟‘‘اس نے برہان کو پوری قوت سے دھکا دیا۔کچھ اس طرح سے کہ وہ بستر سے گرتے گرتے بچا۔
’’تم مجھ سے جتنی نفرت کر لو ممتحنہ،بدلے میں میرے طرف سے تمہیں محبت ہی ملے گی۔‘‘ممتحنہ کی نفرت کا جواب وہ محبت سے دینے لگا۔وہ یہ بات اچھی طرح جانتا تھا کہ ممتحنہ اس سے نفرت کر ہی نہیں سکتی فی الحال وہ نفرت بیماری سے کر رہا تھا،بیمار سے نہیں،ٹھیک اسی طرح جس طرح نفرت گناہ سے کی جاتی ہے،گناہ گار سے نہیں۔
’’کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے؟‘‘ممتحنہ کے چلانے پر حارث اور عنایہ بیگم دوڑتے ہوئے اس کے کمرے میں آ گئے۔
’’ہو جائے گا ٹھیک۔آپ ممتحنہ کو نیچے لے کر آجائیں،میں گاڑی میں انتظار کر رہا ہوں۔‘‘وہ ممتحنہ کے چہرے پر آئی زلفوں کو اس کے کان کے پیچھے اڑسنے لگاکہ ممتحنہ نے اس کے ہاتھ پر زور سے مار دیا۔
’’کہا نا، دور رہیں!‘‘عنایہ بیگم اور حارث کو ممتحنہ کا برہان کے ساتھ رویہ نہایت روکھا اور بہت عجیب لگا۔ وہ چڑنے لگی اپنے شوہر سے،اس کی محبت سے۔
٭…٭…٭
’’She is suffering from PTSD, Post Tramantic Stress Disorder.‘‘ برہان کی پھوپھو ڈاکٹر فاخرہ نے ممتحنہ کے ساتھ دس منٹ کے سیشن کے بعد اس کی بیماری کا اندازہ لگا لیا۔
’’مجھے نہیں پتا کہ یہ کیا ہوتا ہے،آپ مجھے بس اتنا بتائیے کہ وہ ٹھیک ہو جائے گی؟‘‘ حارث اپنی بیٹی کے بارے میں پریشان ہو گیا۔
’’گھبرائیے مت، ہر دو میں سے ایک شخص اس بیماری سے دو چار ہو تا ہے۔ زندگی کے کسی بھی موڑ پر ،یہ بیماری تو کافی کامن ہو چکی ہے اور اس کا بہتر سے بہتر علاج بھی موجود ہے۔PTSD is one of the most common mental disorders. ریسرچرز کچھ ایسے کیمیکلز دریافت کرنے میں مصروف ہیں جن کے ذریعے اس بیماری سے فوراً نجات حاصل کی جا سکے ،پر فی الحال اس بیماری کا علاج تھیراپی (Therapy)سے ہوتا ہے اور میں بھی ممتحنہ کا علاج تھیراپی سے ہی کروں گی۔‘‘ڈاکٹر فاخرہ وہ ساری باتیں ممتحنہ سے علیحدہ ہو کر اس کے ماں باپ سے کر رہی تھیں تا کہ اس کے دماغ پر کچھ غلط اثرنہ پڑے۔
’’آپ ہمیشہ میرے سامنے کیوں آ جاتے ہیں؟آپ جا رہے ہیں یا میں اندر چلی جاؤں امی ابو کے پاس؟‘‘وہ اسے دھمکی دینے لگی۔
’’اچھا اچھا جا رہا ہوں پر یہاں سے کہیں مت جانا۔‘‘وہ اس کے کہنے پر وہاں سے چلا گیا اور کنارے پر کھڑا اس کی نظروں سے چھپتے چھپاتے ہوئے دیکھنے لگا۔
’’یہ کیا ہو گیا ہے تمہارے ساتھ؟تمہارے ہونٹوں پر جو ہنسی ہوتی تھی،جو مسکراہٹ جو زندگی ہوتی تھی،کہاں چلی گئی وہ ہنسی،وہ مسکراہٹ وہ زندگی؟‘‘وہ ممتحنہ کے دل سے خود کو اترتا ہوا دیکھ رہا تھا۔
’’میں برداشت کر لوں گا تمہاری بے رخی،کیوں کہ میں جانتا ہوں کہ یہ بے رخی یہ بے اعتنائی وقتی ہے پھر تمہیں ٹھیک ہو جاناہے ،میرا ہوجاناہے اور پھر میں تمہیں سانسوں کی طرح سنبھال کر رکھوں گا اپنے دل میں۔‘‘وہ محبت میں تھا اور محبت میں تو لوگ محبوب کی بے وفائی تک برداشت کر لیتے ہیں پھر وہ تو صرف بے رخی تھی،وہ بھی عارضی۔
’’کیسی تھیراپی ڈاکٹر صاحبہ؟‘‘عنایہ بیگم تھیراپی کا نام سنتے ہی بوکھلا گئیں۔
’’میں نے تھیراپی ہی کہا ہے، آپریشن نہیں جو آپ اس طرح پریشان ہو رہی ہیں۔خیر پی ٹی ایس ڈی(PTSD) کو کیور (Cure) کرنے کا بیسٹ آپشن تھیراپی ہی ہے۔اس میں دو قسم کی تھراپیز ہوتی ہیں،کوگنیٹو پروسیسنگ تھیراپی(Cognitive Processing Therapy) جس میں صرف باتوں کے ذریعے، گپ شپ کے ذریعے اس کا رویہ درست کروں گی،اس کے دماغ میں جو منفی خیالات،جو نیگیٹو تھنکنگ ہے اسے تبدیل کروں گی۔ دوسری تھیراپی ہے پرولانگڈ ایکسپوژر (Prolonged Exposure) جس کے ذریعے میں اس کا مائنڈ سیٹ اس طرح تبدیل کروں گی کہ جب جب اس واقعے کا ذکر ہو گا یا جب جب اسے وہ واقعہ یاد آئے گا وہ ڈرے گی نہیں،بلکہ آہستہ آہستہ اسے فراموش کر دے گی۔‘‘ عنایہ بیگم کو ٹریٹمنٹ کے بارے میں سننے کے بعد کچھ حوصلہ ہوا۔
’’وہ ٹھیک تو ہوجائے گی نا؟‘‘عنایہ بیگم کی پریشانی اتنی جلدی دور ہونے والی کہاں تھی۔
’’وہ خراب ہوئی ہی کب ہے؟وہ تو اب بھی بالکل نارمل ہے،پی ٹی ایس ڈی سے متاثر مریض ذہنی مریض ضرور ہوتے ہیں پر اس قسم کے ذہنی مریض نہیں ہوتے جس طرح آپ لوگ سمجھ رہے ہیں۔She is absolutely normal. بس پانچ سے چھے نشستوں (Sittings) کے بعد آپ دیکھیے گا کہ وہ کیسے ٹھیک ہوجاتی ہے۔ ویسے تو اس تھیراپی کو مکمل ہونے میں تین ماہ لگ جاتے ہیں پر آپ لوگ اسے بہت صحیح وقت پر، بالکل ابتدائی اسٹیج پر یہاں لے آئے ہیں۔ اس لیے میں یہی کہوں گی کہ ان شاء اللہ ایک ماہ کے اندر اندر وہ بالکل ٹھیک ہو جائے گی۔‘‘ عنایہ بیگم کو کم از کم اتنا یقین ضرور آ گیا تھا کہ ان کی بیٹی اب ٹھیک ہو جائے گی،کچھ وقت بعد ہی سہی۔




Loading

Read Previous

بس عشق ہو — کشاف اقبال (حصّہ اوّل)

Read Next

آدھی روٹی — محمد طاہر رفیق

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!