اعتبار، وفا اور تم — نفیسہ سعید

’’وقت گزر چکا ہے حور عین میں پہلے شاید تمہاری کوئی بات سن لیتا اور یقین بھی کرلیتا مگر اب نہیں۔‘‘
حورعین نے حیرت سے اپنے سامنے کھڑے اُس شخص کو دیکھا جس کے ساتھ وہ پچھلے چار سالوں سے منسوب تھی مگر اب اُسے دیکھ کر ایسے لگ رہا تھا جیسے وہ کوئی اجنبی ہو۔
’’ان چار سالوں میں صرف میں نے تم سے محبت کی جوابی طور پر تم نے کبھی مجھے یہ احساس نہ دلایا کہ تمہیں بھی مجھ سے محبت ہے۔‘‘ سعدی نے خفگی سے کہا۔
حورعین کم گو لڑکی تھی اور یہ بات سعدی نہ صرف جانتا تھا بلکہ اسے حورعین کی خوبی بھی گردانتا تھا مگر آج اُس کی یہ عادت اس کی برائی بن کر سامنے آگئی تھی۔ سچ ہے اگر آپ کا دل کسی کو اچھا سمجھے تو ہر برُا شخص بھی اچھا اور اگر دل نہ مانے تو اچھا بھی برُا۔ اس بات کا درست اندازہ آج حورعین کو بھی ہوگیا۔
’’تم اچھی طرح جانتے ہو سعدی میں محبت میں اظہار کی قائل نہیں کیوں کہ یہ تو وہ خوب صورت جذبہ ہے جو آپ اپنے دل کی گہرائیوں سے محسوس کرتے ہیں۔ محبت ایک احساس ہے سعدی صرف احساس جسے ہر وہ شخص محسوس کرسکتا ہے جو یہ جذبہ اپنے دل میں رکھتا ہے۔‘‘
’’ٹھیک ہے محبت ایک احساس ہے مگر تم نے مجھے کبھی یہ احساس تو نہیں دلایا۔‘‘
سعدی کے لہجہ میں شکوہ ضرور تھا مگر اس کا چہرہ بالکل پرُ سکون تھا۔
’’اورمقیت وہ خوش نصیب شخص ہے جو تمہارے اس احساس کو نہ صرف محسوس کرچکا ہے بلکہ شاید وہاں تو تم نے اظہار بھی کردیا ہوگا۔‘‘
اُسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ سارے الفاظ اس کے سامنے کھڑے سعدی کے منہ سے ادا ہورہے ہیں۔ وہ ہکا بکا کھڑی اس کی شکل تکتی رہی اور وہ بڑے سفاک الفاظ میں اپنا تجزیہ پیش کرتا رہا۔
’’تمہارے پاس میرے لیے کبھی ٹائم ہی نہ تھا حور عین، جب کہ مقیت کے ساتھ تم یونیورسٹی آف ہونے کے بعد بھی دیر تک مصروف رہتی تھی ۔تمہیں کبھی میرے فون یا میسج کا جواب دینے کی فرصت بھی نہ ملی۔ مجھے چھوڑ کر تم مقیت کے ساتھ باہر گھومنے میں زیادہ خوشی محسوس کرتی تھیں اور میں بے وقوفوں کی طرح اِسے تمہاری شرم و حیا سمجھ کر خوش ہوتا رہا کہ تمہیں شاید شادی سے قبل اپنے منگیتر کے ساتھ گھومنا پھرنا پسند نہیں۔‘‘
وہ سانس لینے کے لیے رکا۔ حورعین چاہتی تو اُسے ٹوک سکتی تھی مگر وہ خاموشی سے سنتی رہی ۔
’’ تمہاری بے اعتنائی نے مجھے ہمیشہ بہت تکلیف دی ہے مگر اب ان شاء اللہ ایسا نہ ہوگا کیوں کہ مجھے تمہارا نعم البدل مل گیا ہے۔‘‘
’’محبت میں نعم البدل؟‘‘
’’پہلے میں تم سے محبت کرتا تھا یک طرفہ، سپاٹ اور بے رنگ محبت مگر اب کوئی اور ہے جو مجھ سے بھی محبت کرتا ہے اور اتنی محبت کہ اگر میں اس سے ایک منٹ بات نہ کروں تو شاید وہ مر جائے۔ اُسی نے مجھے احساس دلایا کہ محبت کیا ہوتی ہے؟ بنا اظہار کی جانے والی محبت بے کار ہے کیوں کہ ہر فرد آپ کے احساس کو نہیں سمجھ سکتا۔‘‘





سعدی کی آج کی گفت گو ہمیشہ سے مختلف تھی اس کی باتیں حورعین کو حیران کررہی تھیں۔
’’اب تم کس کے ساتھ پھرتی ہو، یونیورسٹی کے بعد کیا کیا کرتی ہو، یقین جانو مجھے اس سے کوئی دل چسپی نہیں رہی، کیوں کہ میری دل چسپی کا محور تبدیل ہوچکا ہے۔ بہتر ہے کہ تم بھی اپنے لیے وہ راستہ چن لُو جو تمہیں سکون دے۔ بلاوجہ دوسروں کی خوشی کے لیے یہاں وہاں مت بھٹکو۔‘‘
سعدی کو جو کہنا تھا کہہ دیا حورعین نے اُس کی جانب دیکھ کر ایک گہری سانس لی۔
’’دیکھو سعدی اگر تم یہ سمجھ رہے ہو کہ تمہاری اس طرح کی باتیں میرے اندر کسی انجان لڑکی کے لیے حسد اور جلن بھر دیں گی تو یقینا تمہاری سوچ غلط ہے۔ کیوں کہ تم اچھی طرح جانتے ہو میں اس طرح کی لڑکی نہیں اس لیے پلیز اب یہ مذاق ختم کرو جو ہوگیا اُسے بھول جاؤ۔ میرے اور مقیت کے بارے میں تمہارے دل میں جو کچھ بھی ہے وہ محض غلط فہمی ہے اور کچھ نہیں۔‘‘
’’میں مذاق نہیں کررہا حورعین اب تم جاؤ یہاں سے اور سمجھنا کہ ہمارے درمیان کبھی کچھ نہیں تھا۔‘‘
حورعین نے دیکھا وہ بہت زیادہ سنجیدہ تھا۔
’’مجھے اتنے سالوں بعد آج پتا چلا کہ محبت کا تعلق شکل و صورت سے نہیں ہوتا بلکہ کسی کا اچھا اخلاق، آپ کو چاہا جانا اور اس کا اظہار آپ کے لیے سب کچھ ہوتا ہے اور یہ سب کچھ اب مجھے مل گیا ہے۔‘‘
اب حورعین کے پاس مزید کچھ کہنے کے لیے نہ بچا تھا۔ سعدی کے ان آخری لفظوں نے اُس سے شاید حق ملکیت کا دعویٰ چھین کر سعدی کو ایک اجنبی شخص بنا دیا تھا اور کسی اجنبی کے آگے اپنے دلی احساسات کو بیان کرنا محض اپنی بے عزتی سے زیادہ کچھ نہیں ہوتا۔ اس سوچ نے اُسے مزید کچھ کہنے سے روک دیا اور وہ اپنا ہینڈ بیگ اُٹھا کر سعدی کے کمرے سے باہر نکل آئی۔ اُسے جویریہ آنٹی سیڑھیوں پر ہی مل گئیں۔
’’ارے تم کہاں جارہی ہو؟ میں تمہارے لیے بریانی بنا رہی ہوں کھا کر جانا۔‘‘
’’ سوری آنٹی میرا اس وقت کچھ بھی کھانے کو دل نہیں کررہا۔‘‘
اُس کی آواز بھیگی ہوئی تھی۔
’’کیا ہوا حورعین، سعدی نے کچھ کہا ہے؟‘‘آنٹی نے بازو سے تھام کر اُسے روکا۔
اُس نے خاموشی سے جویریہ آنٹی کے ہاتھوں سے اپنا ہاتھ چھڑوایا اور تیزی سے سیڑھیاں اتر گئی اور پھر اگلے چند دنوں میں جویریہ آنٹی کے آنے والے فون نے بتا دیا کہ فی الحال سعدی شادی نہیں کرنا چاہتا کیوں کہ وہ مزید تعلیم حاصل کرنے باہر جارہا ہے۔ یہ خبر دوسروں کے لیے حیران کُن ضرور تھی مگر حورعین کے لیے نہیں کیوں کہ وہ ذہنی طور پر سعدی کو خود سے جدا کرچکی تھی۔
٭…٭…٭
آج وہ کئی دنوں بعد آن لائن آیا تو ان باکس دانیہ کے پیغامات سے بھرا ہوا تھا جنہیں کھول کر مقیت نے پڑھا ضرور مگر جواب دینا ضروری نہ سمجھا۔ وہ ویسے بھی اس وقت خاصا مصروف تھا کیوں کہ اُسے کسی ویب سائٹ پر کام کرنا تھا۔ اُس نے اپنی مطلوبہ ویب سائٹ ڈھونڈی ہی تھی کہ دانیہ کا نیا پیغام آگیا۔
’’السلام علیکم کیسے ہیں آپ‘‘ پیغام کے ساتھ ایک عدد مسکراتا ہوا چہرہ تھا۔ اگلے دوسیکنڈ بعد ایک اور نیا پیغام آگیا۔
’’لگتا ہے آپ مجھ سے ناراض ہیں۔‘‘اس دفعہ اس کی جانب سے ناراضی والا چہرہ آیا تھا ۔
’’نہیں بھئی میں تم سے کیوں ناراض ہونے لگا۔‘‘نہ چاہتے ہوئے بھی مقیت نے جواب لکھ بھیجا۔
’’پھر مجھے مسلسل نظرانداز کیوں کررہے ہیں؟‘‘
’’کیوں کہ میں اپنی ایک اسائنمنٹ کی تیاری میں مصروف ہوں۔‘‘
’’اس لیے کہتی ہوں کہ مجھ سے فون پر بات کرلیا کریں مگر آپ کے پاس تو اس کا وقت بھی نہیں ہوتا۔‘‘ایک اور نیا شکوہ۔
’’آپ صرف میرے ساتھ ہی اتنے روکھے ہوکر بات کرتے ہیں یا سب سے آپ کا رویہ ایسا ہی ہوتا ہے۔ کیا آپ حورعین سے بھی اسی طرح بات کرتے ہیں؟ ‘‘دو منٹ تک شاید اُس نے مقیت کے جواب کا انتظار کیا اور پھر اگلامیسج بھیج دیا۔
’’نہیں میں اپنے دوستوں کے ساتھ ہمیشہ اچھی طرح بات کرتا ہوں اور تمہیں یقینا کوئی غلط فہمی ہوئی ہے۔‘‘ مقیت نے وضاحت کی۔
’’مجھے کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی بلکہ آپ کا رویہ پہلے سے خاصا تبدیل ہوگیا ہے اور اب آپ مجھ سے اچھی طرح بات نہیں کرتے۔‘‘ دانیہ نے خفگی سے شکوہ کیا۔
’’اچھا…‘‘
مقیت اب مزید بات کرنے کے موڈ میں نہ تھا۔وہ چاہ رہا تھا کہ اپنی چیٹ بند کردے کہ فوراً ہی دانیہ کا میسج پھر سے آگیا۔
’’اور میں اس کی وجہ بھی جانتی ہوں۔‘‘
’’اچھا…‘‘اب مقیت تنگ آنے لگا تھا۔
’’جی! اور میرا خیال ہے کہ آپ کا مجھ سے بات کرنا حورعین کو نہیں پسند اور چوں کہ آپ اس سے محبت کرتے ہیں اس لیے اُس کی خاطر مجھے نظر انداز کررہے ہیں۔‘‘
’’واٹ! کیا بکواس ہے یہ حورعین کہاں سے آگئی بیچ میں۔‘‘
’’جو سچ ہے وہ کہہ رہی ہوں اور ویسے بھی ایسی باتوں سے آپ ڈرتے ہوں گے میں نہیں۔‘‘
’’کاش یہ لڑکی میرے سامنے ہوتی تو میں آج اُس کا منہ ہی توڑ دیتا۔‘‘ شدت سے یہ خواہش مقیت کے دل میں جاگی۔
’’ہاہا ڈریں مت میں آپ کے دل میں چھپی یہ بات کسی کو نہیں بتاؤں گی۔‘‘
آج پہلی بار مقیت کو شدت سے یہ احساس ہوا کہ راشیل نے دانیہ کے متعلق جو کچھ کہا وہ بالکل درست تھا۔دانیہ نا صرف ڈھیٹ اور ضدی بلکہ خاصی چپکو لڑکی تھی اُسے چاہیے تھا کہ وہ اس لڑکی کو پہلے ہی اپنے دوستوں کی فہرست سے خارج کردیتا۔
’’مجھے بالکل پسند نہیں جب کوئی بلاوجہ کسی کی خاطر مجھے نظر انداز کرے۔‘‘
اپنے دل میں سمائے ہر خیال کو وہ اپنی سوچ کے مطابق الفاظ دے رہی تھی جب کہ مقیت اب اُس سے مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتا تھا۔ یہ سوچ کر وہ اپنی فرینڈ لسٹ میں جاپہنچا تاکہ فوراً اُسے اپنے دوستوں کے نام سے خارج کرسکے مگر یہ دیکھ کر اُسے خاصی حیرت ہوئی کہ دانیہ نے پہلے ہی مقیت کو اَن فرینڈ کردیا تھا۔ دانیہ جیسی لڑکی اور اتنی آسانی سے پیچھا چھوڑ دے۔ مقیت کو یقین نہیں آرہا تھا اور اس کی یہ بے یقینی درست تھی جس کا اندازہ اگلے آنے والے چند دنوں میں ہی اُسے ہوگیا اور ساتھ ہی یہ احساس کہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے کوئی اتنا بھی گر سکتا ہے۔
٭…٭…٭
’’وہ کون لڑکی تھی جس نے اُس سے سعدی کی چار سالہ محبت کو چھین لیا‘‘ حورعین کو یہ جاننے میں قطعی کوئی دل چسپی نہ تھی ویسے بھی وہ خاصی حقیقت پسند لڑکی تھی جس کے نزدیک بے کار کے جذبات کی کوئی اہمیت نہ تھی۔ اس کا ہمیشہ سے یہ نظریہ رہا کہ دنیا کا ہر کام مشیت ایزدی کا محتاج ہے۔ اس نے آج تک کبھی کسی بات کی ٹینشن نہ لی تھی جو مل گیا اس پر شکر کیا اور جو نہ ملا وہ اللہ کی رضا جان کر صبرکرلیا۔ اپنی اسی عادت کی بنا پر وہ خاصی پرسکون تھی۔ ایک دن یونیورسٹی کی طرف سے وزٹ پر کسی بینک جاتے ہوئے اُسے سعدی نظر آگیا۔ اس وقت وہ مقیت کی گاڑی میں تھی مگر اب اُسے اس بات سے کوئی فرق نہ پڑتا تھا۔ مقیت سے بات کرتے کرتے جب وہ اچانک رک گئی تو مقیت نے اس طرف دیکھا جہاں حورعین دیکھ رہی تھی سامنے فٹ پاتھ کے ساتھ کھڑی گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھا ہوا شخص یقینا سعدی تھا۔ اس کے ساتھ کوئی لڑکی بھی تھی جس کی ہلکی سی جھلک گاڑی چلاتے ہوئے مقیت کو نظر آئی اور ایک پل میں ہی اُسے لگا جیسے اس لڑکی کو اس نے پہلے بھی کہیں دیکھا ہے مگر کہاں فی الحال اُسے یاد نہیں آرہا تھا۔ اس وقت اس کی توجہ کا مرکز حورعین تھی جو شاید اتنے دنوں بعد سعدی کو اپنے سامنے دیکھ کر کچھ پریشان یا دل برداشتہ ہوگئی تھی۔
’’ایک بات پوچھوں حورعین؟‘‘
’’پوچھو…‘‘وہ مسلسل کھڑکی سے باہر دیکھ رہی تھی۔
’’تم نے سعدی کی بات مانتے ہوئے مجھ سے دوستی ختم کیوں نہیں کی؟‘‘
’’میں جانتی تھی کہ تم یہی پوچھو گے۔‘‘مقیت نے دیکھا وہ مسکرا رہی تھی۔
’’جانتے ہو مقیت جس دن پہلی بار سعدی نے مجھ سے یہ بات کی تھی میں نے اُس دن بھی اپنے دل میں یہ عہد کرلیا تھا کہ چاہے کچھ بھی ہو جائے جو یہ چاہتا ہے وہ میں نے کبھی نہیں ہونے دینا۔‘‘
’’وجہ…؟‘‘
ایک ہلکی سی امید مقیت کے دل میں جاگی اُس کی دھڑکنوں کو تیز کرگئی۔
’’اُس کی اِس خواہش کے پیچھے بے اعتباری چھپی تھی اور جب کسی شخص کو آپ پر اعتبار نہ ہو تو پھر اس سے محبت کا کوئی فائدہ نہیں۔ ایسے انسان کا ساتھ آپ کو زندگی میں کبھی کوئی دلی خوشی نہیں دے سکتا میں یہ بات بہت پہلے جان چکی تھی اور جس دن میں نے یہ سمجھ لیاسعدی اُسی دن ہی میرے دل سے اتر گیا تھا۔‘‘
مقیت نے حیرت سے اپنے ساتھ بیٹھی اس چھوٹی سی لڑکی پر نظر ڈالی جس کی اتنی گہری باتوں نے اُسے حیران کردیا۔
’’ اِس کا مطلب یہ ہوا کہ تمہیں اُس سے محبت تھی ہی نہیں کیوں کہ جن سے محبت کی جائے ان کی ہر بات ماننا محبوب کا حق ٹھہرتا ہے۔‘‘
’’یہ سب باتیں کتابوں میں لکھی جانے والی محبت کی ہوتی ہیں ورنہ اپنی عزت اور انا سے بڑھ کر دنیا میں کوئی چیز قیمتی نہیں ہوتی کم از کم میرے نزدیک نہیں۔ تم جانتے ہو میں ایک حقیقت پسند لڑکی ہوں اور میری زندگی میں کسی فلمی محبت کی کوئی گنجائش نہیں۔‘‘
’’شکر ہے یہ بات تم نے مجھے پہلے ہی بتادی۔‘‘
اپنی بات کہہ کر وہ زور سے ہنس دیا اور اس ساری گفتگو کے دوران وہ یکسر بھول گیا کہ سعدی کے ساتھ بیٹھی لڑکی کو اُس نے کہاں دیکھا اور شاید اُسے کبھی یاد ہی نہ آتا اگر اس دن راشیل کے گھر اتفاقیہ طور پر اس کی ملاقات دانیہ سے نہ ہوتی۔ جسے حقیقی طور پر اُس نے پہلی بار دیکھا تھا اور وہ فیس بک کی ایڈٹ کی گئی تصویروں سے قدرے مختلف ایک چھوٹی سی عام شکل و صورت کی لڑکی تھی۔ اس میں سوائے تیزی اور چالاکی کے کوئی بات نمایاں نہ تھی۔ اسے دیکھتے ہی مقیت کو ایسا لگا جسے دو دن قبل سعدی کے ساتھ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھی لڑکی دانیہ کے سوا کوئی اور نہیں تھی مگر بنا تصدیق کے وہ یہ بات کسی سے نہیں کرسکتا تھا۔ وہ جاننا چاہتا تھا کہ سعدی اور دانیہ کے درمیان کیا چل رہا ہے؟ اور اگر واقعی وہ دانیہ تھی تو پھر وہ سعدی تک کیسے پہنچی اب یہ جاننا مقیت کے لیے بہت ضروری ہوگیا تھا۔
سعدی کے فیصلے نے اس سے زیادہ ممی اور جویریہ آنٹی کو دکھی کیا۔ ممی جو شروع میں یہ سمجھ رہی تھیں کہ اس فیصلہ سے حورعین ٹوٹ کر بکھر جائے گی۔ اس وقت حیران رہ گئیں، جب انہوں نے اپنے سامنے پہلے والی حورعین کو ہی پایا۔ بیپروا اور اپنے آپ میں مگن مگر جویریہ آنٹی کی پریشانی کی وجہ سعدی کی نئی محبت تھی جس کی وجہ سے اس نے حورعین سے قطع تعلق کیا۔ ان کا خیال تھا کہ سعدی صرف اپنی ضد اور انا کی خاطر یہ سب کر رہا ہے جس کا مقصد محض حورعین کو نیچا دکھانا تھا۔ کیوں کہ بہ قول ان کے سعدی پہلے سے خاصا تبدیل ہوگیا تھا جب کہ حورعین حیران تھی کہ کیا کبھی کوئی مرد صرف کسی ایسی عورت کو نیچا دکھانے کے لیے جس سے وہ محبت کرتا ہو اس قدر بھی گر سکتا ہے اور اس مسئلہ پر جتنا وہ سوچتی اتنا ہی حیران ہوتی، مگر وہ اللہ کا شکر بھی ادا کرتی جس نے خود بہ خود اس کے ہر مسئلہ کو حل کردیا تھا۔ وہ میڈیا کی طالبہ تھی جس نے اپنے مستقبل کے لیے اچھی خاصی پلاننگ کر رکھی تھی مگر شاید سعدی جیسا شخص اسے کبھی آگے نہ بڑھنے دیتا کیوں کہ اس فیلڈ میں تو اس کا واسطہ ہر دم مردوں سے پڑنے والا تھا ایسے میں کس طرح ممکن تھا کہ سعدی کے ساتھ رہتے ہوئے وہ اپنا مقصد حاصل کرسکتی۔ یہ رشتہ بزرگوں کی رضامندی سے طے ہوا تھا اس کے گھر والے شروع سے ہی سعدی کو بہت پسند کرتے تھے اور اسی وجہ سے اسے کبھی کسی سے اختلاف نہ کرنے دیا لہٰذا وہ چپ چاپ سعدی کو برداشت کرتی رہی اور اگر سعدی خود اس کا ساتھ نہ چھوڑتا تو یقینا وہ کبھی بھی اسے چھوڑنے کا نہ سوچتی۔
اب ممی کی رضامندی سے اس نے آگے ایم ایس میں داخلہ لے لیا۔ یونیورسٹی میں بھی وہ اور مقیت ہم قدم تھے۔ حورعین کو ایک نجی چینل پر جاب بھی مل گئی تھی جب کہ ایم ایس مکمل کرکے اس کا ارادہ لندن بابا کے پاس جانے کا تھا۔ اس سلسلے میں وہ اپنی تعلیم کے حوالے سے وہاں کی کئی یونیورسٹیاں سرچ کرچکی تھی۔ ممی اور جویریہ آنٹی دونوں کی ابھی بھی یہ خواہش تھی کہ وہ سعدی کو منا لے۔ اس سے معافی مانگ لے۔ یہ دونوں خواتین اپنی بیس سالہ دوستی کا صلہ اپنے بچوں کی شادی کی صورت میں دیکھنا چاہتی تھیں مگر اب شاید یہ ممکن نہ رہا تھا۔
٭…٭…٭




Loading

Read Previous

سمیٹ لو برکتیں — مریم مرتضیٰ

Read Next

اپنا کون — تنزیلہ احمد

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!