اعتبار، وفا اور تم — نفیسہ سعید

اُس نے راج کماری دیا کو اپنے دوستوں کی فہرست میں شامل کرلیا۔ اس کا بار بار میسج کرکے یہ درخواست کرنا کہ پلیز اب میری فرینڈ ریکویسٹ قبول کرلیں۔ تو اس میں کوئی حرج نہ سمجھتے ہوئے مقیت نے قبول کرلی اب وہ جب بھی آن لائن ہوتا، ہمیشہ دوسری جانب دیا ضرور موجود ہوتی۔ جس کا اصل نام بھی وہ اب تک جان پایا تھا اور نہ ہی اُسے جاننے کی کوئی خواہش تھی۔ اس کی فرینڈ لسٹ میں بہت سارے ایسے لوگ شامل تھے جنہیں وہ جانتا نہیں تھا اس لیے اُس نے دیا کو بھی اس میں شامل کرلیا آج جب وہ آن لائن ہوا توحسبِ روایت دیا پہلے سے موجود شاید اس کی تصویروں میں گھسی ہوئی تھی، جس کا اندازہ مقیت کو اپنے پاس آنے والے نوٹیفیکیشن سے ہوا۔
’’کیا بات ہے آج تم خاصی فارغ لگ رہی ہو۔‘‘
مقیت نے اپنا نوٹیفکیشن دیکھنے کے بعد اُسے میسج کیا۔
’’ویسے ہی دل چاہ رہا تھا کہ آپ کی اچھی اچھی تصویریں دیکھوں۔‘‘
دوسری طرف وہ فوراً جان گئی کہ مقیت کیا کہنا چاہ رہا ہے جس کا اندازہ اُس کی جانب سے آنے والے جواب سے ہوگیا۔
’’یہ لڑکی کون ہے جو ہر تصویر میں آپ کے ساتھ ہوتی ہے۔‘‘ساتھ ہی اس نے ایک تصویر بھی بھیج دی۔
’’ میری دوست ہے ساتھ ہی پڑھتی ہے۔‘‘
’’صرف دوست؟‘‘
سوالیہ نشان کے ساتھ منہ بھی بنا ہوا آگیا۔
’’ہاں یار صرف دوست اور وہ بھی بہت اچھی والی۔‘‘
’’شکر ہے ورنہ میں تو کچھ اور ہی سمجھی تھی۔‘‘
’’خیر جو تم سمجھی تھیں وہ غلط نہ تھا، پہلے سے منگنی شدہ نہ ہوتی تو…‘‘ مقیت نے بات ادھوری چھوڑ دی ۔اُس نے ایک مسکراتا ہوا چہرہ بھی بنادیا۔
’’اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ اسے پسند کرتے ہیں؟‘‘
’’ہاں…‘‘
اُس کے نزدیک دیا سے ایسی کوئی بات شیئر کرنے میں حرج نہ تھا کیوں کہ دیا کا کوئی بھی تعلق اسی کی یا حورعین کی ذاتی زندگی سے نہ تھا اور شاید اس کی زندگی کی دوسری بڑی بھول تھی۔





’’ یہ تو بڑی غلط بات ہے اپنے منگیتر کے ہوتے ہوئے بھی یہ لڑکی آپ کو لائن دے رہی ہے۔‘‘ دیا کی جانب سے آنے والا جواب خاصا حیران کن تھا۔
’’ لائن دے رہی ہے مطلب؟‘‘
جملہ بڑا چیپ تھا مگر شاید دیا کی عمر کو مدنظر رکھتے ہوئے مقیت نے قطعی نظر انداز کردیا۔
’’بھئی ظاہر ہے جب تک وہ لڑکی آپ میں دل چسپی نہ لے بھلا آپ کیسے خود سے اُس میں دل چسپی لے سکتے ہیں۔‘‘
’’تم سے کس نے کہا کہ وہ مجھ میں دل چسپی لے رہی ہے‘‘ اُسے دیا کے جواب نے حیران کردیا۔
’’ایسا کچھ نہیں ہے اور نہ وہ مجھ میں کوئی دل چسپی رکھتی ہے بغیر کسی کو جانے اپنے تجزیے پیش مت کرو خوامخوا فضول باتیں۔‘‘
بلاوجہ ہی مقیت کو غصہ آگیا۔
’’اوہ سوری! اگر آپ کو میری کوئی بات برُی لگی ہو تو…‘‘ دیا نے بات ادھوری چھوڑی۔
’’ٹھیک ہے مگر آیندہ خیال رکھنا ایسی کوئی بات مت کرنا جس سے دوستی کا احترام مجروح ہو۔‘‘ اُسے اچھی طرح سمجھاتے ہوئے مقیت مطمئن ہوگیا کیوں کہ فیس بک پر ہونے والی اس حالیہ دوستی کے نتیجہ میں وہ فی الحال نہیں جانتا تھا کہ دیا کس ٹائپ کی لڑکی ہے اور نہ اُس نے ابھی تک راشیل سے اُس کے بارے میں کوئی بات کی تھی۔اس کی وجہ یہبھی تھی کہ فیس بک پر ہونے والی دوستی اس کے نزدیک کوئی خاص معنی نہ رکھتی تھی کہ دوست بناتے وقت پہلے ان کے بارے میں تمام تفصیل حاصل کی جائے۔ اس معاملے میں کسی حد تک شاید وہ درست بھی تھا مگر یقینا اُسے علم نہ تھا کہ دنیا میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو محض اپنی تسکین اور اندھی خواہشات کی آڑ میں کس طرح لوگوں کو نقصان پہنچانے کے درپے رہتے ہیں اور ان ہی لوگوں میں سے ایک دیا بھی تھی جس کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتا تھا۔
آج انٹر کا آخری پیپر تھا راشیل نے باہر نکل کر دیکھا ابھی تک اُسے لینے کوئی نہ آیا تھا ویسے بھی گیٹ کے باہر رش بہت زیادہ تھا۔ وہ اندر ہی رک گئی تاکہ رش کم ہونے کی صورت میں باہر نکل کر دیکھے گاڑی آئی ہے یا نہیں۔ اُسی وقت اس کے پاس دانیہ آکر کھڑی ہوئی ۔’’ہیلو… پیپر کیسا ہوا۔‘‘
’’اچھا …اور تمہارا۔‘‘
’’میرا کچھ خاص نہیں ہوا لیکن پھر بھی پاس ہوجاؤں گی کیوں کہ مس نے بورڈ آفس میں بات کررکھی ہے۔ کچھ پیسے دینے ہیں ان کا انتظام ہوجائے تو اپنے مزے۔‘‘
وہ اسی طرح بولتی تھی بے معنی اور عجیب و غریب گفت گوجسے سمجھنے میں راشیل کو کوئی خاص دل چسپی نہ تھی۔
’’تم بتاؤ ہمارے ساتھ فارم ہاؤس چل رہی ہو؟‘‘
اپنی باتوں میں راشیل کو قطعی دل چسپی نہ لیتا دیکھ کر اُس نے فوراً ہی اپنا ٹریک تبدیل کردیا۔
’’کب؟ اور کون کون جارہا ہے؟‘‘
بنا سوچے سمجھے ہی راشیل کے منہ سے نکل گیا۔
’’اس ویک اینڈ پر جائیں گے۔ میں اور میرے سارے دوست جارہے ہیں، عمران کا اپنا فارم ہے سچ بہت مزہ آئے گا۔ گاڑی بھی اُسی کی ہے بس ہم نے تو صرف جانا اور مزے کرنا ہے تم بھی چلو۔‘‘
عمران غالباً اس کے نئے بوائے فرینڈ کا نام تھا۔
’’سوری دانیہ میں اس طرح گھر میں بتائے بنا نہیں جاسکتی اور وہ بھی لڑکوں کے ساتھ۔‘‘
’’ارے تو بتا دو گھر میں کہ کالج والے پکنک پر لے جارہے ہیں اور ہم سب نے بھی تو اپنے گھروں میں یہ ہی کہا ہے اب بھلا کس کے پاس اتنا ٹائم ہے جو کالج آکر تصدیق کرے۔‘‘
’’کسی کا تو مجھے نہیں پتا مگر میری ماں کے پاس بہت ٹائم ہے یہی وجہ ہے جو وہ مجھے بنا تصدیق کیے کہیں نہیں جانے دیتیں، اچھا اللہ حافظ میری گاڑی آگئی ہے۔‘‘
جو اب کے دوران راشیل کی نگاہ گیٹ کے باہر کھڑے اپنے ڈرائیور پر پڑگئی۔ اس لیے وہ خدا حافظ کرتی ہوئی تیزی سے آگے بڑھی جب پیچھے سے آئی دانیہ کی آواز نے اُس کے قدم روک دیئے۔
’’راشیل…‘‘
دانیہ تیزی سے چلتی ہوئی اس کے ہم قدم ہوگئی۔
’’یار پلیز ذرا مجھے بھی گھر تک ڈراپ کردو جانے کیوں مجھے لینے نہیں آئے ابھی تک۔‘‘
’’آجاؤ…‘‘
راشیل کے جواب دیتے ہی وہ گاڑی میں بیٹھ گئی اس سے قبل راشیل نے اس کا گھر نہیں دیکھا تھا یہ ہی وجہ تھی جب دانیہ کے بتائے ہوئے ایڈریس پر گاڑی پہنچی تو وہ علاقہ دیکھ کر ہی راشیل حیران ہوگئی اُسے امید نہ تھی کہ دانیہ ایسے علاقے میں رہتی ہوگی جب کہ اس کا حلیہ تو ہمیشہ ایسا ہوتا تھا جیسے کسی لگژری علاقے سے اُٹھ کر آرہی ہو۔ راشیل کو حیرت ہوئی کہ اتنا روپیہ جو دانیہ خرچ کرتی ہے وہ اس کے پاس کہاں سے آتا ہے۔
’’تم یہاں رہتی ہو؟‘‘
دانیہ کے کہنے پر جیسے ہی گاڑی رکی راشیل نے حیرت سے سوال کیا حالاں کہ جس جگہ وہ کھڑے تھے وہ ایک عام شاہراہ تھی جس کے پیچھے چھوٹی چھوٹی کئی بستیاں آباد تھیں۔
’’نہیں، میں یہاں سے رکشہ لے کر پانچ منٹ میں گھر پہنچ جاؤں گی کیوں کہ اگر میں گاڑی میں اپنے گھر گئی اور میرے بڑے بھائی نے دیکھ لیا تو یقین جانو میرا خون پی جائے گا۔‘‘
ہر پل قول اور فعل کا تضاد، ظاہر اور باطن کا فرق اُسے ہمیشہ دانیہ میں ہی دکھائی دیا۔ یہ بات اُس کے لیے اب کچھ نئی نہ رہی تھی یہی وجہ تھی کہ وہ خاموش رہی اور پھر دانیہ کے گاڑی سے نکلتے ہی ڈرائیور نے گاڑی واپس اس راستے کی جانب موڑ لی جو راشیل کے گھر کو جاتا تھا۔
٭…٭…٭




Loading

Read Previous

سمیٹ لو برکتیں — مریم مرتضیٰ

Read Next

اپنا کون — تنزیلہ احمد

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!