اعتبار، وفا اور تم — نفیسہ سعید

سعدی کو منانے کی اُس کی ہر کوشش ناکام ہوگئی حالاں کہ وہ خود خاصی صلح جو قسم کی لڑکی تھی۔ بلاوجہ کسی سے نہ اُلجھتی جب کہ یہاں تو معاملہ اُس کا تھا جس کے ساتھ اُس نے اپنی ساری زندگی کا سفر طے کرنا تھا تو بھلا کیسے یہ چاہتی کہ سعدی اُس سے ناراض ہو۔ اُس شام گھر واپسی پر اُس نے سعدی کو یہ بتانے کی کوشش کی تھی کہ سر بخاری کی وجہ سے اُسے دیر ہوگئی اور یہ بھی کہ وہ اپنا کیلکولیٹر کلاس میں چھوڑ آئی تھی مگر سعدی ایسے تھا جیسے کچھ سن ہی نہ رہا ہو۔ اُس کے بعد حورعین نے ٹیکسٹ میسج کے ذریعے بھی اُس سے معافی مانگی جس کا جو اب صرف اوکے آیا۔ وہ ہمیشہ کوشش کرتی سعدی سے تعلق رکھے کیوں کہ وہ اس سے قطع تعلق نہ چاہتی تھی۔ مگر سعدی بہت بدل گیا تھا اُس کی طبیعت میں ایک سنجیدگی آگئی تھی۔ کہاں دن میں کئی کئی بار حورعین کو فون کرنا اور اُسے دیکھنے اُس سے ملنے کے لیے گھر آنا اور کہاں اب یہ عالم کہ اگر وہ فون کرتی تو بڑی مشکل سے ریسیو کرتا اور پھر جلد ہی کہہ دیتا کہ وہ کہیں مصروف ہے بعد میں بات کرے گا۔ اسی طرح اُس کے میسج کا جواب بھی بہت دیر بعد دیتا وہ بھی نہایت مختصر۔ اُسے کئی بار ایسا محسوس ہوا کہ سعدی کے اندر پیدا ہونے والی اس تبدیلی کی وجہ مقیت ہے اور جب وہ یہ سوچتی تو اُسے حیرت ہوتی اور یقین نہ آتا کہ سعدی جیسا لبرل بندہ ایک بات کو بلاوجہ اتنا بڑھا لے گا۔ اُس کی یونیورسٹی میں کئی ایسی لڑکیاں پڑھتی تھیں جو منگنی شدہ یا نکاح شدہ تھیں اس کے باوجود اپنی کلاس کے دیگر لڑکوں کے ساتھ بھی ان کی دوستیاں تھیں جس پر کبھی ان میں سے کسی کے منگیتر نے ایسا اعتراض نہیں کیا جب کہ مقیت تو ایک اچھا خاصا شریف سا لڑکا تھا اس کے لیے سعدی کچھ غلط سوچ رہا ہے۔ یہ سوچ کر حورعین کو افسوس کے ساتھ ساتھ غصہ بھی آتا خاص طور پر اس وقت یہ غصہ مزید بڑھ جاتا جب سعدی اُسے اگنور کرتا۔ اس کی اپنی دوستیاں بھی یونیورسٹی میں کئی لڑکیوں سے تھیں جن کے ساتھ وہ یونی ورسٹی سے لنچ کرنے باہر جاتا مگر جانے کیوں وہ حورعین کے معاملے میں بلاوجہ ہی اتنہا پسندی کی شدت کو چھو رہا تھا۔ اُس کے اِس غصہ اور ضد نے حور عین کو بھی زچ کردیا اور اس نے سعدی کی فکر کرنا چھوڑ دی اور یہ اُس کی زندگی کی ایک بہت بڑی غلطی تھی۔
٭…٭…٭





وہ اُس دن پھوپھو کی طرف آیا تو راشیل سے باتوں کے دوران اچانک ہی اُسے دیا یاد آگئی جس سے آج کل مقیت کی خاصی دوستی ہوچکی تھی اور اُس کے خیال میں وہ ایک اچھی لڑکی تھی یہ سوچ کر وہ راشیل سے اُس کے متعلق پوچھ بیٹھا۔
’’راج کماری دیا تمہاری دوست ہے؟‘‘
’’راج کماری دیا؟‘‘راشیل نے استعجاب بھرے انداز میں اُس سے پوچھا۔
’’آپ اُسے کیسے جاتے ہیں؟‘‘
’’میری فیس بک فرینڈ ہے، ریکوئسٹ آئی تھی میں نے دیکھا تم اُس کی دوستوں میں شامل ہو اس لیے میں نے بھی اُسے اپنی دوست بنالیا۔‘‘
راشیل کے سوال کا اُس نے بڑی تفصیل سے جواب دیا۔
’’ وہ تو ٹھیک ہے مگر پھر بھی آپ کو مجھ سے پوچھنا چاہیے تھا کہ دانیہ کو ایڈ کروں یا نہ کروں۔‘‘
اُسے لگا راشیل کو اُس کی یہ نئی دوستی ذرا پسند نہیں آئی مقیت کی سمجھ میں نہ آیا اب اُسے کیا جواب دے۔
’’ویسے کیا وہ تمہاری دوست نہیں ہے؟‘‘
’’نہیں صرف کلاس فیلو ہے اور عجیب چپکو سی لڑکی ہے۔‘‘
’’اچھا مگر اُس نے تو بتایا کہ وہ تمہارے گھر میں آتی ہے اور تمہاری بیسٹ فرینڈ بھی ہے۔‘‘ راشیل کا رویہ مقیت کو کچھ عجیب سا لگا۔
’’ زبردستی گُھس آتی ہے مگر مجھے ذرا پسند نہیں اور آپ بھی کوشش کریں اُس سے زیادہ دوستی نہ ہی گانٹھیں تو بہتر ہوگا ویسے وہ کوئی راج کماری نہیں ہے۔‘‘
اب مقیت کیا بتاتا کہ وہ تو زیادہ دوستی گانٹھ چکا ہے۔
’’بلکہ بہتر ہوگا پہلی فرصت میں اُسے اپنے دوستوں کی فہرست سے خارج کردیں کیوں کہ دانیہ عرف راجکماری دیا آپ کی دوستی کے قابل نہیں ہے۔‘‘
مقیت کے حوالے سے دانیہ کی گفتگو، راشیل بھولی نہیں تھی اور وہ نہیں چاہتی تھی کہ دانیہ اور مقیت کی دوستی آگے بڑھے، دوسری جانب مقیت کو یہ احساس ہوا کہ اُسے راشیل کی کسی بھی دوست سے دوستی کرنے سے قبل چاہیے تھا کہ وہ اس کے بارے میں راشیل سے ایک بار پوچھتا ضرور۔ راشیل کے اس قدر ناگوار رویے نے مقیت کو خاصا شرمندہ کردیا اور اُس نے دل ہی دل میں عہد کیا کہ جتنی جلد ممکن ہوسکے وہ دانیہ سے اپنی یہ بے ضرر دوستی ختم کرے گا۔
٭…٭…٭
’’یہ سعدی تم سے اتنا خفا کیوں ہے؟‘‘ممی کی بات پر اُس نے پلٹ کر دیکھا ۔
’’آپ سے کس نے کہا؟‘‘جواب کے بجائے سوال پوچھ کر وہ بڑے نارمل انداز میں اپنے فون کی ٹیون سیٹ کرنے میں مصروف ہوگئی۔
’’کل جویریہ آئی تھی اُس نے بتایا کہ سعدی اور تمہارے درمیان کوئی ناراضی چل رہی ہے۔‘‘
جویریہ، سعدی کی مما تھیں جو اُس کی ممی کی بہترین دوست ہونے کا اعزاز رکھتی تھیں اور شاید اُس کے اور سعدی کے درمیان طے ہوئے متوقع رشتہ کی پہلی وجہ یہ دوستی ہی تھی۔ محبت کا تعلق تو بہت بعد میں قائم ہوا اور پتا نہیں ہوا بھی کہ نہیں۔
’’ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ ناراضگی کی وجہ کیا ہے؟ کیوں کہ جب انہیں اُس ناراضگی کے بارے میں علم ہے تو یقینا اور بھی بہت کچھ معلوم ہوگا۔‘‘
فون سائیڈ پر رکھ کر وہ مکمل طور پر اپنی ممی کی جانب متوجہ ہوگئی۔
’’بات صرف اتنی ہے حورعین کہ ہر مرد کی فطرت دوسرے سے مختلف ہوتی ہے۔‘‘
مما کی تمہید اُسے بہت کچھ سمجھا گئی مگر وہ خاموش رہی، کیوں کہ وہ جاننا چاہتی تھی کہ سعدی نے اُس کے بارے میں کیا کہا۔
’’ محبت کے معاملے میں سعدی ایک انتہا پسند مرد ہے جو یہ چاہتا ہے کہ جس سے وہ پیار کرے اُسے کوئی دوسرا غلط نگاہ سے نہ دیکھے۔‘‘
’’ایکس کیوز می ممی…‘‘
اُسے اپنی ماں کا اندازِ گفت گو خاصا حیران کرگیا۔ اس لیے وہ ٹوکے بنا نہ رہ سکی۔
’’آپ انتہا پسندی کا مطلب سمجھتی ہیں۔ آپ جانتی ہیں کہ ہمارے مذہب میں انتہا پسندی کو کسی بھی معاملے میں پسند نہیں کیا جاتا خواہ وہ مذہبی ہو معاشرتی یا معاشی ہو پھر آپ کیسے سعدی کی انتہا پسندی کو محبت کا نام دے رہی ہیں اور دوسری بات یہ کہ اگر کوئی مرد یہ چاہتا ہے کہ وہ جس سے محبت کرے اُسے کوئی غلط نگاہ سے نہ دیکھے تو معاف کیجیے گا۔ آپ سعدی سے کہہ دیں وہ کسی ایسی لڑکی سے شادی کرے جو شرعی پردہ کرتی ہو یا پھر اُسے چاہیے تھا کہ وہ مجھے انٹر کے بعد آگے پڑھنے سے روک دیتا۔ حد ہوتی ہے آپ کسی ایسی لڑکی سے شادی کرنے والے ہیں جو شروع سے مخلوط درس گاہ میں پڑھتی ہے اور امید کرتے ہیں کہ اُسے کوئی غلط نگاہ سے نہ دیکھے۔‘‘ غصہ کرنے کے علاوہ وہ حیران بھی تھی۔
’’تم میری بات سمجھی نہیں۔‘‘ممی نے اس کا غصہ کم کرنے کی کوشش کی۔
’’اُس کا مطلب یہ ہے کہ تمہاری کسی لڑکے کے ساتھ دوستی ضرورت سے زیادہ ہے۔ دیکھو حورعین تمہیں زندگی اُسی کے ساتھ گزارنی ہے تو ظاہر ہے کہ اُس کی بات ماننی ہوگی اور پھر تم اُس دن اُسے چھوڑ کر مقیت کے ساتھ چلی گئیں تو وہ ناراض تو ہوگا نا۔‘‘
’’ایک سیکنڈ ممی کیا کسی لڑکے کے ساتھ دوستی پر اعتراض ہے سعدی کو یا صرف مقیت ہی اس زمرے میں آتا ہے اور اس دن وہ خود چلا گیا تھا ۔‘‘
’’ہاں وہ چاہتا ہے کہ تم مقیت سے اپنی دوستی ختم کردو۔‘‘
’’ آپ اُسے بتادیں کہ ایسا نہیں ہوسکتا مقیت اور سعدی دونوں اپنی الگ الگ حیثیت رکھتے ہیں اور میں اُن میں سے کسی کو ایک دوسرے کے مدمقابل نہیں سمجھتی اس لیے بہتر ہوگا کہ وہ اپنی فضول ضد چھوڑ دے اور اس دن مجھے مقیت سے بات کرتا دیکھ کر جو حرکت اُس نے کی تھی تو مجھے تو اس کی ذہنی حالت پر بھی شک ہے۔‘‘ ممی کو کھلے الفاظ میں ہر بات واضح کرکے وہ کمرے میں آگئی۔ اس نے دل ہی دل میں یہ عہد بھی کیا کہ اب وہ خود جاکر سعدی سے ہربات کرے گی اور کوشش کرے گی کہ اُس کے دل میں مقیت کے خلاف جو غلط فہمی ہے وہ دور کی جاسکے۔
٭…٭…٭
’’آپ مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔‘‘دانیہ کی جانب سے آنے والے اس پیغام کو پڑھ کر مقیت تھوڑا سا ٹھٹھک گیا۔
’’اچھا…‘‘
اُس نے سادہ سا جواب ٹائپ کرکے بھیج دیا۔
’’آپ مجھ سے دوستی کرلیں۔‘‘
’’تم پہلے بھی میری دوست ہو۔‘‘وہ دانیہ کی بات نہ سمجھا۔
’’میں اُس والی دوستی کی بات نہیں کررہی۔‘‘
’’تو پھر…‘‘اُسے احساس ہوا دانیہ کچھ غلط سوچ رہی ہے۔
’’اُفوہ! آپ میری بات سمجھ کیوں نہیں رہے میرا مطلب ہے کہ مجھے آپ سے محبت ہوگئی ہے۔‘‘
راشیل نے ٹھیک کہا تھا کہ دانیہ اس قابل نہیں کہ اُس سے زیادہ بات کی جائے اب مقیت کو افسوس ہوا کہ کیوں اُس نے پہلے ہی دانیہ کو اپنی دوستوں کی فہرست سے خارج نہ کردیا کیوں بلاوجہ میں اتنے ٹائم سے مروت و پاس داری نبھا رہا تھا۔ کیا ضرورت تھی جب راشیل نے منع کردیا تھا پھر کیوں فوراً اس کی ہدایت پر عمل نہیں کیا۔
’’کیا ہوا ناراض ہوگئے؟‘‘جواب دینے سے پہلے ہی ایک پیغام اور آگیا۔
’’میرا خیال ہے تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے جو اس طرح کی فضول باتیں کررہی ہو۔‘‘
’’اس میں فضول بات کون سی ہے۔‘‘دانیہ خاصی ڈھیٹ لڑکی تھی۔
’’میں تمہیں بچی سمجھتا ہوں کیوں کہ تم کم از کم مجھ سے آٹھ سال چھوٹی ہوگی۔‘‘
’’لیکن میں بچی نہیں ہوں یقین نہ آئے تو آپ مجھ سے مل کر خود دیکھ لیں۔‘‘
مقیت کا دل چاہا اس لمحہ یہ لڑکی اگر سامنے ہو تو گولی مار دے۔ اتنی بے باک اور کھلی لڑکی! اُسے حیرت ہوئی۔
’’ہا ہا ہا ناراض ہوگئے، ارے میں تو مذاق کررہی تھی، آپ شاید بھول گئے آج فرسٹ اپریل ہے۔‘‘
مقیت کے جواب دینے سے قبل ہی دانیہ کے آنے والے نئے پیغام نے اس کے غصہ کی شدت کو خاصا کم کر دیا اُس نے تاریخ دیکھی واقعی آج فرسٹ اپریل تھی۔
’’بہرحال میرے ساتھ دوبارہ ایسا فضول مذاق مت کرنا۔‘‘ مقیت نے تنبیہہ کی۔
’’اچھا آپ دونوں اس تصویر میں ایک ساتھ بہت اچھے لگ رہے ہیں زبردست جوڑی ہے۔‘‘
’’شکریہ…‘‘
مختصر جواب دے کر مقیت نے دیکھا تصویر اُس کی اور حورعین کی تھی جو پچھلے ہفتے یونی ورسٹی میں ہونے والے ایک فنکشن کے موقع پر لی گئی تھی۔ وہ دونوں بلیک کلر کے ڈریس میں بہت خوب صورت لگ رہے تھے۔ ایک ساتھ بیٹھے ہنس رہے تھے کہ جب کسی فوٹو گرافر نے وہ تصویر کھینچ کر اپنے پیج پر ڈال دی جہاں سے مقیت نے لے لی تھی اور اب وہی تصویر دانیہ دیکھ کر تعریف کررہی تھی اور اُس نے تصویر کے نیچے ایک دل بھی بنا دیا جسے مقیت نے لائک کیا۔
٭…٭…٭




Loading

Read Previous

سمیٹ لو برکتیں — مریم مرتضیٰ

Read Next

اپنا کون — تنزیلہ احمد

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!