
باغی ۔۔۔۔۔ قسط نمبر ۶ ۔۔۔۔ شاذیہ خان
اگلے دن ماں اور مُنی ناشتہ کر رہی تھیں کہ منی نے ڈرتے ڈرتے بات شروع کی۔ ”اماں ایک بات کہوں؟ناراض تو نہیں ہوگی؟” ”ہاں
![]()

اگلے دن ماں اور مُنی ناشتہ کر رہی تھیں کہ منی نے ڈرتے ڈرتے بات شروع کی۔ ”اماں ایک بات کہوں؟ناراض تو نہیں ہوگی؟” ”ہاں
![]()

گلّو اور لومڑ عبداللہ اذفر کسی چراگاہ میں ایک چالاک لومڑ گھوم رہا تھا۔ وہ بہت بھوکا تھا لیکن اس کے پاس کھانے کو کچھ
![]()

اپنی دکان پر روبی سے باتیں کرتے ہوئے عابدایک دم طیش میں آ گیا کیوں کہ اسے لگ رہا تھا کہ روبی اسے روز ایک
![]()

گھوڑا، ہرن اورشکاری ضیاء الرحمن ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک ہرن اور گھوڑے میں گہری دوستی تھی۔ ایک دن کسی بات پر ان کی
![]()

غریب لکڑہارا احمر بخاطر تہران میں حامد نامی ایک بوڑھا لکڑ ہارا اور اس کی بیوی رہتے تھے۔ ایک دن حامد نے جنگل میں پرُانا
![]()

گائے کے سینگ باذلہ سردار ایران کے کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔ اُس کے دو بچے تھے۔ بیٹی کا نام نور اور بیٹے
![]()

چی چی کی توبہ زاہدہ عروج شہر سے بہت دور ایک باغ تھا جس میں ایک ننھی چیونٹی رہتی تھی۔ اُس کا نام چی چی
![]()

بھولو کی بے وقوفی معاویہ مومن ایک دفعہ کا ذکر ہے کسی گاؤں میں ایک بُڑھیا رہتی تھی۔ اُس کا بیٹا ”بھولُو” بڑا ہی بے
![]()

بدی کے بدلے نیکی ہما جاوید کسی گائوں میں ایک محنتی اور شریف چیونٹارہتا تھا۔ وہ ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتا۔
![]()

”سنو! مجھے تم مجھے لوریوں کا پیکٹ لا کر دے سکتی ہو؟” میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا ایک معصوم سا بچہ میلے سے کپڑوں
![]()