
پراڈکٹ – نظیر فاطمہ
سبزی منڈی کے ایک جانب گلی سڑی سبزیوں کے ڈھیر تھے، جن پر مکھیاں اور مچھر بھنبھنا رہے تھے ۔ ارد گرد ناقابلِ برداشت بد
![]()

سبزی منڈی کے ایک جانب گلی سڑی سبزیوں کے ڈھیر تھے، جن پر مکھیاں اور مچھر بھنبھنا رہے تھے ۔ ارد گرد ناقابلِ برداشت بد
![]()

فتور ماہ وش عدیل کرمانی ”اری نابکار! کچھ تو کام کر لیا کر۔ سارا بوجھ ماں کے کندھوں پر ڈال دیا ہے، کام کی نہ
![]()

باز فریال سید "مورے! میں ٹھیک ہو جاؤں گا ناں ؟” اس نے بڑی بڑی آنکھوں میں ڈھیروں ا مید سموتے ہوئے اپنی ضعیف ماں
![]()

عالیشان محل جیسے گھر میں رہنا کس کی آرزو نہیں ہوتی ؟بڑی لاگت اور مشقت کے بعد یہ مکان تعمیر تو کر لیے جاتے ہیں
![]()

تحریر:مدیحہ شاہد ”استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ) ”لاہور لاہور ہے” باب8 ہم مقررہ وقت پر استنبول سے جدہ جانے والے جہاز میں سوار ہوئے۔
![]()

تحریر:مدیحہ شاہد استنبول سے انقرہ تک ” (سفرنامہ)” انقرہ کی روشنیاں باب7 صبح سویرے ہم ناشتہ کرنے کے بعد کپاڈوکیہ سے انقرہ کے لئے روانہ
![]()

تحریر:نوید احمد قسط نمبر7 ”چنبیلی کے پھول” ”تم یہاں؟” بہت دیر بعد اُس کی آواز آئی۔ برسوں بعد دھوکہ دے کر چلے جانے والے لوگ
![]()

قسط نمبر5 ”چنبیلی کے پھول” سب کچھ آناً فاناً ہوا تھا کہ رانیہ کو سمجھ ہی نہیں آئی کہ اچانک کیا ہوگیا ۔ برسوں پرانی
![]()

قسط نمبر4 ”چنبیلی کے پھول“ اُسے اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آیا۔ کچھ لمحوں کے لئے اس کے حواس منجمد ہوگئے۔ وہ اتنی بے
![]()

تحریر:نوید احمد قسط نمبر3 ”چنبیلی کے پھول“ زوار نے اُس کی طرف دیکھا تو اُس کی مسکراہٹ گہری ہوگئی مگر وہ مسکرا بھی نہ سکی۔
![]()