Tag: urdu

  • یاد کا بوڑھا شجر

    یاد کا بوڑھا شجر
    قرۃ العین خرم ہاشمی

     

    ”ابا میاں کہاں ہیں؟“صبا نے آہستگی سے پوچھا تھاکیوں کہ بڑی بھابھی غضب ناک تیوروں سے اسے گھور رہی تھی۔
    ”آگیا تمہیں بڑے میاں کا خیال؟ پتا بھی ہے کہ بڑے میاں پچھلے کئی دنوں سے شدید بیمار ہیں۔ڈاکٹر نے انہیں مکمل آرام کا مشورہ دیا ہے مگر وہ ہیں کہ کچھ سنتے ہی نہیں!۔تھوڑی طبیعت بہتر ہوتی ہے چھڑی کے سہارے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے،پرانے سٹور روم میں پہنچ جاتے ہیں۔اللہ بخشے تمہاری مرحومہ اماں جان نے ضرور وہاں کوئی خزانہ یا راز چھپایا ہو گا۔ جس کی خبر صرف ان کو ہی ہے تب ہی وہ گھنٹوں وہاں کچھ نہ کچھ تلاش کرتے رہتے ہیں اور سمجھ دار اتنے ہیں کہ کچھ پوچھو تو خاموشی کی چادر اوڑھے ٹکر ٹکر چہرہ دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔“
    صبا نے گہری سانس لے کر اس کے چہرے سے نظر ہٹائی تھی۔لوگوں کو اکثر احساس نہیں ہوتا ہے کہ غصہ اور نفرت اچھے بھلے چہرے کے نقوش بگاڑ کر انہیں خوف ناک بنا دیتے ہیں۔
    ”میں ابا میاں کو دیکھتی ہوں!“صبا وہاں سے خاموشی سے اُٹھ کر اس بڑے سے گھر کے کونے میں بنے پرانے سٹور روم میں چلی آئی جہاں اماں کے زمانے کا پرانا سامان اور فرنیچر پڑا اپنی مدت پوری کر رہا تھا۔پیلے بلب کی روشنی میں صبا نے،سفید کپڑوں میں ملبوس،اپنے کمزور اور نحیف ہاتھوں سے اِدھر اُدھر پڑی چیزیں ہٹاتے کچھ ڈھونڈتے،ابا میاں کو اداسی سے دیکھا تھا۔صبا نہ جانے پچھلے کتنے برسوں سے اپنے باپ کو کسی ان دیکھی چیز کی تلاش میں برف کی سل کی طرح قطرہ قطرہ پگھلتے دیکھ رہی تھی۔تلاش کا سفر ظاہری مسافت رکھتا ہو یا باطن کی تہ در تہ پرتیں کھولتا ہو۔اس میں وجود اورجسم ایسے ہی گھلتے ہیں جیسے تیز دھوپ میں پگھلتی برف!تلاش اپنا خراج فنا کی صورت میں لیتی ہے۔اب یہ فنا کس پیمانے پر اور کتنی تیزی سے ہوتی ہے یہ اپنا اپنا نصیب ہوتا ہے!اپنی اپنی چاہ پر منحصر ہوتا ہے۔جس کی جتنی چاہت ہو گی اس کا حاصل بھی اتنا ہی ہوگا۔

    ”ابامیاں!کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟“صبا نے نرمی سے باپ کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے پوچھا تھا۔ابامیاں نے چونک کر خالی خالی نگاہوں سے اس کے چہرے کی طرف دیکھا تھا۔اس وقت اُن کے چہرے پر اتنی بے بسی تھی کہ صبا کا دل تڑپ کر رہ گیا۔
    ”ابامیاں!کیوں اپنے ساتھ ساتھ ہمیں بھی اذیت دے رہے ہیں؟سب کہتے ہیں کہ آخری عمر میں پروفیسر صاحب کسی ذہنی مرض کا شکار ہو گئے ہیں مگر ابامیاں!دنیا چاہے کچھ بھی کہے مگر ایک بیٹی کا دل جانتا ہے کہ اس کا باپ پاگل نہیں ہے! جو شخص آج بھی ماضی اورحال کی سب سمجھ بوجھ رکھتا ہو۔آج بھی اپنے طالب علموں میں علم کے خزانے بانٹتا ہو،ایسا شخص بھلا ذہنی طور پر ناکارہ کیسے ہوسکتا ہے؟میں نہیں جانتی کہ آپ کی تلاش کیا ہے، آخر آپ کی زبان تک یہ سچ کیوں نہیں آتا؟ مگر ابامیاں میں آپ کو اتنا بے بس اور لاچار بھی نہیں دیکھ سکتی!زندگی میں وہ مقام بہت تکلیف دہ ہوتا ہے جب ہم اپنے پیاروں کو بے بسی کی دلدل میں لمحہ بہ لمحہ اترتے دیکھتے ہیں اور کچھ بھی نہیں کر پاتے ہیں۔“صبا نے روتے ہوئے باپ کے جھریوں بھرے کمزور ہاتھوں کو تھاما تھا۔ابامیاں نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا اور اس کا سر تھپکتے ہوئے کمزور لہجے میں بولے:
    ”میں نے تمہاری اماں کو لیدر کا ایک چھوٹا بیگ دیا تھا جس میں۔۔۔!“اسی وقت آہٹ ہوئی تو دونوں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا،جہاں متجسس نظروں سے دیکھتی،بڑی بھابھی کھڑی تھی۔ان دونوں کے دیکھنے پر گڑبڑا کر غصے سے بولیں:
    ”اچھا تو بڑے میاں نے گاؤں والی زمین کے کاغذ کسی لیدر کے بیگ میں چھپائے ہیں۔ مجھے پہلے ہی شک تھا کہ زمین کے کاغذ گم ہونے والی بات سراسر جھوٹ پر مبنی ہے۔دیکھو! ذرا خدمت ہم لوگ کریں اور سارا اثاثہ بیٹی لے جائے۔واہ جی کیسا انصاف کیا بڑے میاں نے۔“
    بڑی بھابھی تیز تیز بولتی وہاں سے چلی گئی مگر صبا جانتی تھی کہ یہ بات یہاں پر ہی ختم نہیں ہوگی۔ایسا ہی ہوا شام تک عدالت لگ چکی تھی اور فردِ جرم اس پر عائد کرتے ہوئے اسے سب کچھ سچ سچ بتانے کو کہا گیا تو وہ افسردگی سے مسکرا کر اپنے بڑے بھائی سے بولی:
    ”بھائی!ابامیاں نے بہت پہلے ہی اپنے سب اثاثے،اپنا سب کچھ ہم تینوں بہن بھائیوں میں تقسیم کر دیا ہے۔احمد بھائی اپنا حصہ لے کر دبئی جا چکے ہیں، رہ گئے آپ اور میں تو ہمارے پاس بھی اللہ کا دیا سب کچھ ہے۔جہاں تک گاؤں والی زمین کی ملکیت کی بات ہے تو ابامیاں بہت سال پہلے ہی اس زمین کو گاؤں کے بچوں کے سکول کے لئے وقف کر چکے ہیں۔پھر ایسی بات کرنے یا سوچنے کا کیا فائدہ؟“
    ”ہاں میں جانتا ہوں مگر وہ تمہاری بھابھی کہہ رہی تھی کہ۔۔“بڑے بھائی نے شرمندہ لہجے میں کچھ کہنا چاہا تھا۔
    ”بھائی ہر رشتہ اپنی اپنی جگہ پر سچ اور جھوٹ کے تناسب سے مل کر ہی بنتا ہے مگر اصل بات یہ ہے کہ کس رشتے میں کتنا سچ ہے اور کس رشتے میں کتنا جھوٹ، اس کا فیصلہ ہر خردمند انسان خود کرتا ہے۔“

    اس رات صبا کو ابامیاں کی بگڑتی حالت کے پیشِ نظر وہاں رکنا پڑا۔ابامیاں تین دن زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا رہے اور پھر ایک صبح خاموشی سے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔موت کی آہٹ سے پھیلا سناٹا، اپنے پنجے بہت اندر تک گاڑ دیتا ہے کہ ایک بار ہی سہی مگر موت کی اذیت سارے جسم میں جمود ضرور طاری کر دیتی ہے۔مگر اس دل چیرتے سناٹے کو زندگی کی ایک چہکار ہی درہم برہم کرنے کے لئے کافی ہوتی ہے، شاید زندگی کی رونقیں اسی لئے ہیں کہ اپنے پیاروں کی موت کے غم کو کسی حد تک بھلایا جاسکے، موت کی سرد چاپ سے، زندگی کی آہٹ کشید کی جا سکے۔ابامیاں سے محبت کرنے والے، انہیں یاد کرنے والے بہت سے لوگ اور بھی تھے جن کی تربیت اور کامیابی میں ابامیاں کا بہت بڑا ہاتھ تھا۔وہ لوگ بھی اپنے پیارے اور شفیق استاد کی موت کا افسوس کرنے جوق در جوق آ رہے تھے۔
    ”پروفیسر صاحب جیسے نیک لوگ بہت کم ہوتے ہیں، میں ایسے بہت سے غریب اورمستحق طالب علموں کو جانتی ہوں،جن کے تعلیمی اخراجات پروفیسر صاحب نے بہ خوشی پورے کیے تھے۔“وہ خاتون کافی دیر سے وہاں بیٹھی رو رہی تھی۔ابامیاں کو آج اس دنیا سے گئے دس دن گزر چکے تھے۔
    ”ویسے مجھے ایک بات کی سمجھ نہیں آئی۔۔!سنا ہے کہ پروفیسر صاحب آخری دنوں میں عجیب بہکی بہکی سی باتیں کرتے تھے؟کیا یہ سچ ہے کہ وہ کسی ذہنی بیماری کا شکار ہوگئے تھے؟“اس عورت کے پوچھنے پر بڑے بھائی افسوس بھرے انداز میں بولے:

  • سعی

    سعی

    سحر ساجد

    وہ عجیب کیفیت میں تھی….. ناک کے نتھنوں سے، سانس کے نام پر خارج ہونے والی ہوا تپش لیے ہوئے تھی۔ وہ کہاں تھی، آسمان پر یا زمین پر؟ وہ اپنے وجود کو کسی سطح پر محسوس نہیں کرپارہی تھی۔ سر جس قدر بھاری تھا، وجود اسی قدر ہلکا۔ ذہن کسی ایک سوچ پر مرتکز نہیں ہوپارہا تھا۔ اس کے وجود پر ایک نظر ڈالو تو سانس کا اتار چڑھاؤ واضح طور پر محسوس کیا جاسکتا تھا۔ لمبے ادھ کھلے بال، کچھ شانوں پر، کچھ سینے پر اُلجھے، پریشان اور بے ترتیب بکھرے ہوئے تھے۔ خلافِ معمول دوپٹہ گلے میں، کہ ان کے ہاں گھر میں بھی دوپٹہ سر پر لیا جاتا تھا۔ دونوں بازو سیدھے پہلو میں گرے …… ہاتھ کی مٹھیاں سختی سے بند کیں۔ لاؤنج کے کنارے پر کھڑی اک اک چیز کو دیکھے جارہی تھی لیکن نہیں جانتی تھی کہ کیوں دیکھے جارہی تھی۔
    فیصلہ سخت تھا جو اس نے کرلیا تھا اور اس فیصلے کی یاد آتے ہی اس نے دائیں ہاتھ کی مٹھی کچھ اور سختی سے بھینچی تھی۔ ہونٹ لرزے اور آنکھ کے کنارے پر اک قطرہ آکر جم سا گیا تھا۔ دل پر جیسے کسی نے خنجر کا وار کیا تھا۔ لرزتے ہونٹوں کے ساتھ اس نے حلق سے نیچے کچھ اتارا تھا اور اس کی نظر ان چیزوں پر کسی آوارہ بد روح کی طرح بھٹکتی تھی ”آپی!….“
    اچانک لاؤنج کے کسی گوشے سے آواز ابھری تھی۔ وہ بُری طرح سے ڈری اور سہم کر آواز کی سمت دیکھا تھا لیکن اس کاارادہ دائیں ہاتھ کی مٹھی کو کمر کے پیچھے چھپانے کا تھا۔”آپی۔ دیکھیں میرا بے بلیڈ۔“

    اسے بھائی کی آواز کسی باز گشت کی طرح محسوس ہوئی تھی۔ اس نے دھندلی آنکھوں سے بھائی کو دیکھا جو لٹو سے کھیل رہا تھا۔ وہ کسی بے جان وجود کی مانند بھائی کی طرف بڑھی تھی۔ وہ نیچے قالین پر بیٹھا میز پر اپنا لٹو گھمارہا تھا اور وہ اس کے پیچھے موجود صوفے پر جاکر بیٹھی تھی۔ دونوں ہاتھوں کی بند مٹھیاں اب اس کے دائیں بائیں سختی سے صوفے پر جمی تھیں اور وہ اپنے بھائی کو دیکھے ہی چلی جا رہی تھی۔ اس کے بھائی نے بٹن دبایا، لٹو میز کی سطح سے ٹکرایا۔ وہ چونک کر آواز کی سمت متوجہ ہوئی۔ لٹو اب گھوم رہا تھا گول، گول اور تیزی سے…. اس کے بھائی نے مڑ کر اس کا گھٹنا ہلاکر اس سے کچھ کہا تھا۔ کیا؟ وہ محض آواز کااِک احساس ہی محسوس کرپائی تھی۔ لٹو گھوم رہا تھا گول گول اور پھر گھومتے گھومتے وہ یک دم بڑا ہوتا گیا۔ ہوتا گیا، ہوتا ہی چلاگیا۔ لٹو اتنا بڑا ہوگیا کہ وہاں موجود ہر چیز پر حاوی ہوچکا تھا۔ وہ ڈر کے مارے صوفے کی پشت سے ٹکرانے کے سے انداز میں جالگی تھی۔ لٹو ا س کے عین سامنے گھومے چلاجارہا تھا۔ وہ نظریں لٹو کیگھومتی دھاریو ں سے ہٹانا چاہتی تھی لیکن سر کو حرکت نہیں دے پارہی تھی۔ نظر گھوم رہی تھی، سر چکرارہا تھا اور اب اسے متلی محسوس ہورہی تھی، اتنی کہ پیٹ میں شدید بل پڑا۔ وہ بے اختیار آگے کو جھکی۔ اسے زور کی ابکائی آئی تھی۔ وہ سانس لینے کو سیدھی ہوئی اور پیروں تلے سے جیسے زمینیک دم نکلی ہو۔ لٹو عین اس کی آنکھوں کے سامنے ہوا میں معلق گھومے جارہا تھا۔ گھبراہٹ کا احساس شدید تھا۔ وہ ہانپتے ہوئے، کف بہتے منہ کے ساتھ، بری طرح سے خوف زدہ ہوکر اس لٹو کو دیکھتی جارہی تھی۔
    ’آپی۔ آپی!“ اس کا بھائی شانہ ہلارہا تھا لیکن وہ متوجہ نہ تھی۔ وہ متوجہ ہو بھی کیسے سکتی تھی۔
    تنفس کی بگڑی رفتار کے ساتھ وہ خوفزدہ سی لٹو کو دیکھے جارہی تھی۔
    ”مور، مور“ اس کا بھائی ماں کو بلانے بھاگا تھا اور ماں کے آنے تک وہ بے حد گھبراچکی تھی۔ اتنی خوف زدہ ہوچکی تھی کہ اس نے دائیں ہاتھ کی مٹھی کھولی اور اس میں موجود زہریلی گولیاں پھانک لیں۔ اچانک وہاں سناٹا چھاگیا تھا، اتنا کہ جیسے کائنات کی ہر متحرک چیز حالت قرار میں آچکی ہو…. وہاں اب کوئی لٹو نہ تھا۔ وہ بے یقینی سے کھڑی ہوئی لڑکھڑائی اور پھر اوندھے منہ گرگئی اور گرتے ہی تکلیف کی اک لہر، دھماکے کی صورت اس کے وجود سے آن ٹکرائی تھی۔ شدید دباؤ، اندھیرا،گھٹن، پیاس، حلق سوکھ رہا تھا اور وہ تڑپ رہی تھی لیکن کمال کی بات یہ کہ وہ خود ہی اپنے تڑپتے وجود کو ذرا فاصلے پر کھڑی دیکھ رہی تھی۔ وہ محسوس کرسکتی تھی کہ اسے کتنی تکلیف ہورہی تھی۔ وہاں زمین پر اس کا تڑپتا جسم تھا اور وہ دور بس، بہتی آنکھوں کے ساتھ کھڑی خود کو بے بسی سے تڑپتا دیکھ رہی تھی اور میز پر لٹو آہستہ ہوتے ہوتے بالکل ساکت ہوگیا تھا۔
    ٭٭٭٭
    یہ انگور کے باغوں کی سرزمین تھی۔ اس کے خاندان والے پتھریلے پہاڑوں کے درمیان بستے اور اک سخت زندگی گزارتے تھے۔ یہ قلعہ سیف اللہ تھا اور وہ اس کی ہونہار بیٹی جاناں کاکڑ۔ اونچی نیچی گھاٹیوں پر جب چلتی تو یوں محسوس ہوتا تھا گویا جنگل میں کسی ہرنی نے کلانچ بھری ہو۔ تعلیم حاصل کرنے کا اتنا شوق تھا کہ اس کی اماں کہتی تھیں۔ ”جاناں پاگل تو نیند میں بھی اسکول کا سبق دہراتی رہتی ہے۔“

    اور ہاں وہ اتنی ہی پاگل تھی۔ جنونی تھی۔ اسے پڑھنا تھا بہت سارا۔ ڈھیر سارا۔ اپنے نام کے ساتھ ڈاکٹر لکھا دیکھنا تھا۔ ڈاکٹر جاناں کاکڑ۔ ڈاکٹر۔ ڈاکٹر جاناں کاکڑ۔ قلعہ سیف اللہ، قبائل کی آماج گاہ تھا۔ جہاں روایات کی سختی سے پابندی کی جاتی تھی۔ وہ ساتویں جماعت میں تھی تب سے برقعہ پہن کر اسکول جاتی تھی۔ برقعے کے اوپر کالی چادر کے نقاب سے محض اس کی ایک آنکھ ہی نظر آیا کرتی تھی۔ وہ قلعہ سیف اللہ کی ان چندخوش نصیب لڑکیوں میں سے تھی جو پرائمری سے اوپر تعلیم حاصل کررہی تھیں۔ جاناں وہ طالبہ تھی جس نے اپنا ہر امتحان نمایاں درجے میں پاس کیا تھا۔ وہ برف زاروں میں پل کر بڑی ہوئی تھی لیکن خواہش، اک چنگاری کی صورت، طلب بن کر سینے میں بھڑکتی تھی۔ وہ خوش تھی، مگن تھی اور سمجھتی تھی کہ زندگی کا سفر اسی طرح کامیابی و کامرانی سے طے ہوتا چلا جائے گا۔ وہ امتحان پر امتحان پاس کرتی چلی جائے گی اور پھر…… پھر وہ دن ضرور آئے گا کہ جب وہ اسکالرز گاؤن پہنے اپنی Ph.D کی ڈگری وصول کرے گی۔ خوشی سے چیختے ہوئے اسکالرز کیپ کو ہوا میں اچھالے گی اور کوئی نامعلوم فوٹوگرافر اس کی آنکھ کی خوشی، اس کی ہنسی، اس کے چہرے کا جوش، طمانیت سب اک لمحے میں قید کرکے اسے زندہ جاوید بناڈالے گا۔ ہاں …… وہ ایسا ہی سوچتی تھی…… ایسا ہی سمجھتی تھی۔
    جب اس نے میٹرک میں پوزیشن حاصل کی تو خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ وہ اتنی خوش تھی اتنی کہ لگتا تھا کہ بس اب خوشی سے مر ہی جائے گی۔ وہ۔ وہ جاناں کاکڑ۔ اک پسماندہ علاقے کی گورنمنٹ اسکول کی طالبہ، اُسی جاناں کاکڑ نے میٹرک میں ٹاپ کیا تھا۔ ٹاپ۔ یہ پہلی بڑی کامیابی تھی۔ پہلی بڑی کامیابی اور اتنی بڑی خوشی جو اُسے مار بھی ڈالتی تو غم نہ تھا۔ لیکن اسے تو جینا تھا۔ بہت سارا ایک لمبی زندگی گزارنی تھی کیوں کہ اسے تو پڑھنا تھا۔ ڈھیر سارا۔ اتنا زیادہ کہ اس کے نام کے ساتھ لکھا جاتا… ڈاکٹر جاناں کاکڑ……
    ٭٭٭٭

  • خوبصورت آنکھیں

    خوبصورت آنکھیں

    منیر احمد فردوس

     

    ”سر جی…!“ اچانک میرے کانوں سے مانوس سی آواز ٹکرائی۔
    میں جو کافی دیر سے اپنے سامنے رکھی فائل میں سر دیئے کمپیوٹر پر ماہانہ اعداد و شمار بنانے میں بُری طرح سے اُلجھا ہواتھا، چونک اُٹھا۔ سراُٹھا کے دیکھا تو سامنے دفتر کانوجوان چپڑاسی شاکر تھا،جس کے ساتھ نقاب اوڑھے ایک خاتون کھڑی تھی اور اس کی نگاہوں نے میرے چہرے کا محاصرہ کر رکھا تھا۔ یک دم میرے ذہن سے تمام اعداد و شمار جھڑ سے گئے۔میں نے کی بورڈ پر جلدی جلدی انگلیاں چلائیں اور بجلی جانے کے ڈر سے اب تک کا کیا ہوا کام محفوظ کیا۔پھر اس خاتون پر ایک سرسری سی نگاہ ڈالتے ہوئے سوالیہ نظروں سے میں شاکر کی طرف دیکھنے لگا۔اس نے بھی شاید حیرت سے پھیلتی میری آنکھوں میں تیرتا سوال پڑھ لیا تھا۔
    ”سر جی!ہیڈ کلرک صاحب نے میڈم کو آپ کے پاس بھیجا ہے اور کہا ہے کہ ان کو کوئی سٹیٹمنٹ چاہئے۔“
    شاکر نے میڈم کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
    ”اچھا…ٹھیک ہے،میں دیکھتا ہوں۔“ میں نے آنکھوں سے حیرت جھاڑتے ہوئے خوش دلی سے کہا۔ میری بات سن کرشاکرچلا گیا۔
    میں نے طائرانہ نظروں سے خاتون کا لمحے بھر کے لئے جائزہ لیا، جس نے سفید چادراوڑھ رکھی تھی اور دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے ڈھیلے ڈھالے نقاب کو اپنے گالوں سے چپکا رکھا تھا۔کالے رنگ کا ایک بڑا سا پرس بھی ا س کے دائیں کاندھے پر لٹک رہا تھا۔
    ”میڈم! آپ بیٹھئے نا… کھڑی کیوں ہیں؟“
    میں نے اپنے دائیں جانب کونے میں رکھی ایک اکلوتی کرسی کی طرف ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے پُرتکلف انداز میں کہا-
    ”جی بہت شکریہ۔“ اس نے ملائمت سے کہا اور کسی تابع دار شاگرد کی طرح کرسی پربیٹھ گئی۔

    وہ درمیانے قد کی ایک نفیس خاتون تھی،جسے جوانی خیر باد کہنے کے لیے پر تول رہی تھی۔اس کا سڈول اور بھرا بھرا جسم چادر سے باہر بھی اپنے خطوط واضح کر رہا تھا۔ ہلکے پیلے سوٹ میں وہ بہت نکھری ہوئی لگ رہی تھی۔اس کے گھٹنوں سے لٹکتی قمیص کے گھیرے پر کسی ماہر کشیدہ کار کا فن بول رہا تھا۔اس کے بیٹھتے ہی میرے نتھنوں میں بھینی بھینی خوشبو کے قافلے سے اترنے لگے۔ اس نے بہت ہی عمدہ خوشبو لگا رکھی تھی۔ میں دل ہی دل میں اس کے اعلیٰ ذوق اور خوش لباسی کی داد دیئے بغیر نہ رہ سکا۔
    ”جی میڈم…! فرمائیے کون سی سٹیٹمنٹ چاہئے آپ کو؟“
    میں نے اپنے سامنے رکھی فائل میں فلیگ لگا کر اسے بند کیا اور ویل چیئر پر گھوم کر اس کی طرف دل جمعی سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔
    ”جی اصل میں‘ میں ایک این جی او سے منسلک ہوں اور مجھے ایک ہفتہ وار سٹیٹمنٹ اپنے دفتر میں جمع کروانی ہے اور یہ سٹیٹمنٹ اس پر فارمے پر بنا کر دینی ہے۔“ اس نے ایک تہ کیا ہوا پرفارما اپنی گود میں رکھے پرس سے نکال کر مجھے تھماتے ہوئے کہا۔
    اچانک دائیں طرف سے اس کا نقاب ڈھلک کر اس کے سرخ گالوں کی مکمل کہانی سنا گیا، جسے اس نے فوراً ہی دُرست کیا اور اس پر دوبارہ انگلیاں جما کرجھینپتی ہوئی مجھے یوں دیکھنے لگی جیسے اس کی کوئی چوری پکڑی گئی ہو۔
    میں نے پرفارما لیتے ہوئے نقاب سے باہر جھانکتی اس کی آنکھوں کو نظر بھر کے دیکھا۔ سرمے سے دھلی ہوئی اس کی روشن آنکھیں میری آنکھوں میں جیسے ٹھہر سی گئیں۔مجھے ان میں ایک عجیب سی کشش محسوس ہوئی اور اس کی آنکھیں مجھے خوب صورت لگنے لگیں۔ اس کے دیئے ہوئے پرفارمے پر نظریں گاڑے میں اس پر لگے کالمز کو غور سے دیکھنے لگا مگر پتا نہیں کہاں سے میرے دل میں اس کی آنکھوں کو پھر سے دیکھنے کی خواہش مچل اٹھی، جو پل بھر میں شدت اختیار کر گئی۔میں انہیں دوبارہ دیکھنے کے لئے دل ہی دل میں بات کرنے کا کوئی بہانہ تراشنے لگا۔ شاید میں اپنی آنکھوں کی تصدیق چاہتا تھا کہ واقعی وہ آنکھیں خوب صورت ہیں یا مجھے دھوکا ہوا ہے۔
    ”میڈم! آپ یہ بتائیں کہ یہ ڈیٹا آپ کو کب تک چاہئے؟“
    میں نے پرفارما میز پر رکھتے ہوئے اس سے پوچھا اور اس کی آنکھوں کوبڑے اہتمام سے دیکھنے لگا۔
    بہ ظاہر وہ آنکھیں زیادہ خوب صورت نہیں کہی جا سکتی تھیں مگرانہیں عام سی آنکھیں کہنا بھی ناانصافی تھی۔ان میں کوئی بات ایسی ضرور تھی کہ کھلم کھلا باتیں کرتی اس کی چمک دار آنکھیں مجھے بار بار اپنی طرف بلا رہی تھیں۔ کوئی کچھ بھی کہتا مگر میری نظر میں وہ آنکھیں خوب صورت قرار پا چکی تھیں۔ عجیب اتفاق تھا کہ کچھ دن پہلے پڑھا ہوا سعادت حسن منٹو کا افسانہ”آنکھیں“میرے دماغ میں گھوم گیا۔ جس میں منٹو نے ایک معمولی لڑکی کی عام سی آنکھوں کا ذکرکچھ ایسے خاص اندازمیں کیا تھا کہ مجھے بھی اس لڑکی کی آنکھیں خوبصورت لگنے لگی تھیں۔ مجھے یوں لگا جیسے یہ وہ آنکھیں تھیں جو منٹو کے افسانے سے نکل کر میرے روبرو تھیں۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اِن آنکھوں میں روشنیوں کے میلے تھے اور منٹو کے افسانے کی لڑکی نابینا تھی۔

    اس سے پہلے کہ میڈم میری بات کا جواب دیتیں، اچانک میرا اکاؤنٹنٹ ارشد دندناتا ہوا میرے کمرے میں گھس آیا، جس کے ساتھ میری کافی بے تکلفی تھی۔ اس نے آتے ہی بھر پور انداز میں میڈم کاجائزہ لیا جو میری بات کا جواب دیتے دیتے رُک گئی تھی اورمتجسس نظروں سے ارشد کو دیکھنے لگی۔مگر مجھے یہ سمجھنے میں ذرا بھی دیر نہیں لگی کہ وہ کمرے میں کیوں آیا ہے۔وہ داخل ہوتے ہی مجھ سے گویا ہوا:
    ”سوری شاہد صاحب! آپ کو ڈسٹرب کیا۔ میں صرف یہ بتانے کے لئے حاضرہوا تھا کہ آپ نے کرسیوں کے لئے جو ڈیمانڈ بھیجی تھی۔ آپ کے حکم کی تعمیل میں نئی کرسیاں آ گئی ہیں۔ اگر کہیں تو آپ کے کمرے میں بھجوا دوں…؟“
    ارشد نے مجھے دیکھتے ہوئے بڑے ہی سنجیدہ انداز میں کہا۔مگر اس کی سنجیدگی کے پیچھے چھپی شرارت کو میں اس کی آنکھوں میں چمکتا ہوا واضح طور پر محسوس کر رہا تھا۔ کیوں کہ نہ تو میں نے کرسیوں کی کوئی ڈیمانڈ کی تھی اور نہ ہی نئی کرسیاں آئی تھیں۔ بلکہ حقیقت تو یہ تھی کہ گذشتہ ہفتے میں نے اپنے کمرے میں اکلوتے بلب کی جگہ ایک ٹیوب لائٹ لگانے کو کہا تو اس نے معذرت کرتے ہوئے کہا تھا ”یار! بجٹ ہی نہیں ہے، کہاں سے لگوا کر دوں؟“
    خیر ابھی مجھے اس سے جان چھڑا نا تھی۔ میں نے ایک نظر میڈم کو دیکھا جو اس ساری صورتِ حال میں خالی خالی نظروں سے میری طرف دیکھ رہی تھی۔ اس کا یوں معصومیت سے دیکھنا مجھے بہت اچھا لگااور میرے اندر انجانی مسرت کی ایک لہر سی دوڑ گئی۔میں ارشد کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا:
    ”بہت شکریہ جناب! آپ کی مستعدی کی داد دیتا ہوں۔ بس گذارش ہے کہ آپ فی الحال کرسیوں کو اپنے پاس رکھیں، میں فارغ ہو کر ابھی آپ سے رابطہ کرتا ہوں۔“
    میری بات سُن کر ایک شریر سی مسکراہٹ اس کے لبوں پر یوں ناچنے لگی، جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ کیوں بچہ جمورا! پکڑ لیا نا؟ اکیلے اکیلے گپیں لگاتے ہو؟
    ”ٹھیک ہے سر! ہم تو حکم کے غلام ہیں۔ آپ نے حکم کیا اور فوراً اس کی تعمیل ہوئی۔بس آپ بھی ہمارا خیال رکھا کریں۔“
    ارشد نے دایاں ہاتھ اپنے سینے پر رکھ کر تابع دارانہ انداز میں مُسکراتے ہوئے کہااورکن انکھیوں سے میڈم کی طرف دیکھا، جو اصل حقیقت سے انجان خاموشی سے ہماری فرضی گفت گو سن رہی تھی۔جب کہ میں دل ہی دل میں ارشد کی حرکتوں پر ہنس رہا تھا۔
    ”جی جی جناب!آپ کا احسان ہے، بس میں ابھی آپ سے رابطہ کرتا ہوں“