Tag: urdu

  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۲

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۲

    یہ سب کچھ اسکول میں ہونے والے ایک واقعے سے شروع ہوا تھا۔ اِمامہ اس وقت میٹرک کی اسٹوڈنٹ تھی اور تحریم اس کی اچھی دوستوں میں سے ایک تھی۔ وہ لوگ کئی سال سے اکٹھے تھے اور نہ صرف ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے بلکہ ان کی فیملیز بھی ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتی تھیں۔ اپنی فرینڈز میں سے امامہ کی سب سے زیادہ دوستی تحریم اور جویریہ سے تھی مگر اسے حیرت ہوتی تھی کہ اتنی گہری دوستی ہونے کے باوجود بھی جویریہ اور تحریم اس کے گھر آنے سے کتراتی تھیں۔ امامہ ہر سال اپنی سال گرہ پر انہیں انوائٹ کرتی اور اکثر وہ اپنے گھر پر ہونے والی دوسری تقریبات میں بھی انہیں مدعو کرتی، وہ گھر سے اجازت نہ ملنے کا بہانہ بنا دیتیں۔ چند بار امامہ نے خود ان دونوں کے والدین سے اجازت لینے کے لیے بات کی، لیکن اس کے بے تحاشا اصرار کے باوجود ان دونوں کے والدین انہیں اس کے گھر آنے کی اجازت نہ دیتے۔ ان کے اس رویے پر کچھ شاکی ہوکر اس نے اپنے والدین سے شکایت کی۔
    ”تمہاری یہ دونوں فرینڈز سید ہیں۔ یہ لوگ عام طور پر ہمارے فرقہ کو پسند نہیں کرتے۔ اسی لیے ان دونوں کے والدین انہیں ہمارے گھر آنے نہیں دیتے۔”
    ایک بار اس کی امی نے اس کی شکایت پر کہا۔
    ”یہ کیا بات ہوئی… ہمارے فرقے کو کیوں پسند نہیں کرتے…” امامہ کو ان کی بات پر تعجب ہوا۔
    ”اب یہ تو وہی لوگ بتا سکتے ہیں کہ وہ ہمارے فرقے کو کیوں پسند نہیں کرتے… یہ تو ہمیں غیر مسلم بھی کہتے ہیں۔” اس کی امی نے کہا۔
    ”کیوں غیر مسلم کہتے ہیں۔ ہم تو غیر مسلم نہیں ہیں۔” امامہ نے کچھ الجھ کر کہا۔
    ”ہاں بالکل۔ ہم مسلمان ہیں… مگر یہ لوگ ہمارے نبی پر یقین نہیں رکھتے۔” اس کی امی نے کہا۔
    ”کیوں…؟”
    ”اب اس کیوں کا میں کیا جواب دے سکتی ہوں۔ بس یہ لوگ یقین نہیں رکھتے۔ کٹر ہیں بڑے، یہ تو انہیں قیامت کے دن ہی پتہ چلے گا کہ کون سیدھے رستے پر تھا۔ ہم یا یہ۔۔۔۔”
    ”مگر امی! مجھ سے تو انہوں نے کبھی مذہب پر بات نہیں کی۔ پھر مذہب مسئلہ کیسے بن گیا… اس سے کیا فرق پڑتا ہے، پھر دوسرے کے گھر آنے جانے سے کیا ہوتا ہے۔” امامہ ابھی بھی الجھی ہوئی تھی۔
    ”یہ بات انہیں کون سمجھائے… یہ لوگ ہمیں جھوٹا کہتے ہیں، حالاں کہ خود انہیں ہمارے بارے میں کچھ پتا نہیں… بس مولویوں کے کہنے میں آکر ہم پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ انہیں ہمارے بارے میں اورہمارے نبی کی تعلیمات کے بارے میں کچھ پتا ہو تو یہ لوگ اس طرح نہ کہیں۔ شاید پھر انہیں کچھ شعور آجائے… اوریہ لوگ بھی ہماری طرح راہِ ہدایت پر آجائیں۔ تمہاری فرینڈز اگر تمہارے گھر نہیں آتیں تو تمہیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تم بھی ان کے گھر مت جایا کرو۔”
    ”مگر امی! ان کی غلط فہمیاں تو دور ہونی چاہئیں میرے بارے میں۔” اِمامہ نے ایک با رپھر کہا۔
    ”یہ کام تم نہیں کرسکتیں۔ ان لوگوں کے ماں باپ مسلسل اپنے بچوں کی ہمارے خلاف برین واشنگ کرتے رہتے ہیں۔ ان کے دلوں میں ہمارے خلاف زہر بھرتے رہتے ہیں۔”
    ”نہیں امی! وہ میری بیسٹ فرینڈز ہیں۔ ان کو میرے بارے میں اس طرح نہیں سوچنا چاہیے۔ میں ان لوگوں کو اپنی کتابیں پڑھنے کے لیے دوں گی، تاکہ ان کے دل سے میرے بارے میں یہ غلط فہمیاں دور ہوسکیں، پھر ہوسکتا ہے یہ ہمارے نبی کو بھی مان جائیں۔” امامہ نے کہا۔اس کی امی کچھ سوچ میں پڑ گئیں۔
    ”آپ کو میری تجویز پسند نہیں آئی؟”
    ”ایسا نہیں ہے… تم ضرور انہیں اپنی کتابیں دو… مگر اس طریقے سے نہیں کہ انہیں یہ لگے کہ تم اپنے فرقہ کی ترویج کے لیے انہیں یہ کتابیں دے رہی ہو۔ تم انہیں یہ کہہ کر کتابیں دینا کہ تم چاہتی ہو وہ ہمارے بارے میں جانیں۔ ہم کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکیں اوران سے یہ بھی کہنا کہ ان کتابوں کا ذکر وہ اپنے گھر والوں سے نہ کریں… ورنہ وہ لوگ زیادہ ناراض ہوجائیں گے۔” امامہ نے ان کی بات پر سر ہلا دیا۔
    ٭…٭…٭





    اس کے چند دنوں بعد اِمامہ اسکول میں کچھ کتابیں لے گئی تھی۔ بریک کے دوران وہ جب گراؤنڈ میں آکر بیٹھیں توامامہ اپنے ساتھ وہ کتابیں بھی لے آئی۔
    ”میں تمہارے اور جویریہ کے لیے کچھ لے کر آئی ہوں۔”
    ”کیا لائی ہو دکھاؤ؟” اِمامہ نے شا پر سے دو کتابیں نکال لیں اور انہیں دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ان دونوں کی طرف بڑھا دیا۔ وہ دونوں ان کتابوں پر ایک نظر ڈالتے ہی کچھ چپ سی ہوگئیں۔ جویریہ نے امامہ سے کچھ نہیں کہا مگر تحریم یک دم کچھ اکھڑ گئی۔
    ”یہ کیا ہے؟” اس نے سر دمہری سے پوچھا۔
    ”یہ کتابیں ہیں تمہارے لیے لائی ہوں۔” امامہ نے کہا۔
    ”کیوں…؟”
    ”تاکہ تم لوگوں کی غلط فہمیاں دورہوسکیں۔”
    ”کس طرح کی غلط فہمیاں؟”
    ”وہی غلط فہمیاں جو تمہارے دل میں، ہمارے فرقے کے بارے میں ہیں۔” اِمامہ نے کہا۔
    ”تم سے کس نے کہا کہ ہمیں تمھارے ”مذہب” یا تمہارے نبی کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں ہیں؟ تحریم نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا۔
    ”میں خود اندازہ کرسکتی ہوں۔ صرف اسی وجہ سے تو تم لوگ ہمارے گھر نہیں آتے۔ تم لوگ شاید سمجھتے ہو کہ ہم لوگ مسلمان نہیں ہیں یا ہم لوگ قرآن نہیں پڑھتے یا ہم لوگ محمدﷺکو پیغمبر نہیں مانتے حالاں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے… ہم لوگ ان سب چیزوں پر یقین رکھتے ہیں۔ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ محمدﷺکے بعد ہمارا ایک امتی نبی ہے اور وہ بھی اسی طرح قابل احترام ہے جس طرح محمدۖ۔” اِمامہ نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ وضاحت کرتے ہوئے کہا۔
    تحریم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتابیں اسے واپس تھما دیں۔ ”ہمیں تمہارے اور تمہارے مذہب کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہے… ہم تمہارے مذہب کے بارے میں ضرورت سے زیادہ جانتے ہیں۔ اس لیے تم کو کوئی وضاحت پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔” اس نے بڑے روکھے لہجے میں اِمامہ سے کہا۔ ”اورجہاں تک ان کتابوں کا تعلق ہے تو میرے اورجویریہ کے پاس اتنا بے کار وقت نہیں ہے کہ ان احمقانہ دعووں، خوش فہمیوں اور گمراہی کے اس پلندے پر ضائع کریں جسے تم اپنی کتابیں کہہ رہی ہو۔” تحریم نے ایک جھٹکے کے ساتھ رابعہ کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتابیں کھینچ کر انہیں بھی اِمامہ کے ہاتھ میں تھما دیا۔ اِمامہ کا چہرہ خفت اورشرمندگی سے سرخ پڑ گیا۔ اسے تحریم سے اس طرح کے تبصرے کی توقع نہیں تھی اگر ہوتی تو وہ کبھی اسے وہ کتابیں دینے کی حماقت ہی نہ کرتی۔
    ”اور جہاں تک اس احترام کا تعلق ہے تو اس نبی میں جس پر نبوت کا نزول ہوتا ہے اوراس نبی میں جو خود بخود نبی ہونے کی خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے زمین اورآسمان کا فرق ہوتا ہے۔ تم لوگوں کو اگر قرآن پر واقعی یقین ہوتا تو تمہیں اس کے ایک ایک حرف پر یقین ہوتا۔ نبی ہونے میں اورنبی بننے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔”
    ”تحریم! تم میری اورمیرے فرقہ کی بے عزتی کر رہی ہو۔” امامہ نے آنکھوں میں امڈتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ کہا۔
    ”میں کسی کی بے عزتی نہیں کر رہی۔ میں صرف حقیقت بیان کر رہی ہوں، وہ اگر تمہیں بے عزتی لگتی ہے تو اس کے بارے میں کچھ نہیں کرسکتی…” تحریم نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
    ”روزہ رکھنے میں اوربھوکے رہنے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ قرآن پڑھنے اور اس پر ایمان لانے میں بھی بڑا فرق ہوتا ہے۔ بہت سارے عیسائی اور ہندو بھی اسلام کے بارے میں جاننے کے لیے قرآن پاک پڑھتے ہیں تو کیا انہیں مسلمان مان لیا جاتا ہے اوربہت سے مسلمان بھی دوسرے مذہب کے بارے میں جاننے کے لیے دوسری الہامی کتابیں پڑھتے ہیں تو کیا وہ غیر مسلم ہوجاتے ہیں اورتم لوگ اگر حضورﷺکوپیغمبر مانتے ہو تو کوئی احسان نہیں کرتے۔ تم ان کی نبوت کو جھٹلاؤگے تو اور کیا کیا جھٹلاؤگے، پھر تو انجیل کو بھی جھٹلانا پڑے گا، جس میں حضورﷺکی نبوت کی خوش خبری دی گئی ہے، پھر تو توریت کو بھی جھٹلانا پڑے گا، جس میں ان کی نبوت کی بات کی گئی ہے، پھر قرآن پاک کو بھی جھٹلانا پڑے گا جو محمدﷺکو آخری نبی قرار دیتا ہے اورسب سے بڑی بات یہ ہے کہ اگر تمہارا نبی محمدﷺکی نبوت کو جھٹلاتا تو وہ ان مناظروں کی کیا توجیہہ پیش کرتا جو وہ نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے کئی سال عیسائی پادریوں سے محمدﷺ کی نبوت اور اسلام کے آخری دین ہونے پر کرتا رہا تھا۔ اس لیے امامہ ہاشم! تم ان چیزوں کے بارے میں بحث کرنے کی کوشش مت کرو، جن کے بارے میں تمہیں سرے سے کچھ پتا ہی نہیں ہے۔ تمہیں نہ اس مذہب کے بارے میں پتا ہے، جس پر تم چل رہی ہو اورنہ اس کے بارے میں جس پر تم بات کر رہی ہو۔”
    تحریم نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
    ”اورمیں ایک چیز بتادوں تمہیں… دین میں کوئی جبر نہیں ہوتا… تم لوگ محمد ﷺ کی نبوت کے حتمی ہونے کا انکار کرتے ہو تو ہمارے پیغمبر محمد ﷺ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔”
    ”مگر ہم محمدﷺکی نبو ت پر یقین رکھتے ہیں۔” اِمامہ نے اس با ت پر زور دیتے ہوئے کہا۔
    ”تو پھرہم بھی انجیل پر یقین رکھتے ہیں، اسے الہامی کتاب مانتے ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر یقین رکھتے ہیں تو کیا ہم کرسچن ہیں…؟ اور ہم تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اورحضرت داؤد علیہ السلام کی نبوت پر بھی یقین رکھتے ہیں تو کیا پھر ہم یہودی ہیں؟ "تحریم نے کچھ تمسخر سے کہا ”لیکن ہمارا دین اسلام ہے، کیوں کہ ہم محمد ﷺ کے پیروکا رہیں، اورہم ان پیغمبروں پر یقین رکھنے کے باوجود نہ عیسائیت کا حصہ ہیں نہ یہودیت کا، بالکل اسی طرح تم لوگوں کا نبی ہے کیوں کہ تم اس کے پیروکار ہو۔ ویسے تم لوگ تو ہمیں بھی مسلمان نہیں سمجھتے۔ ابھی تم اصرار کر رہی ہو کہ تم اسلام کا ایک فرقہ ہو… جب کہ تمہارے نبی اوراس کے بعد آنے والے تمہاری جماعت کے تمام لیڈرز کا دعویٰ ہے کہ جو مرزا کی نبوت پریقین نہیں رکھتا وہ مسلمان نہیں ہے… تو اسلام سے تو تم لوگ تمام مسلمانوں کو پہلے ہی خارج کر چکے ہو۔۔۔”
    ”ایسا کچھ بھی نہیں ہے… میں نے ایسا کب کہا ہے؟” امامہ نے قدرے لڑکھڑائے ہوئے لہجے میں کہا۔
    ”تو پھر تم اپنے والد صاحب سے ذرا اس معاملے کو ڈسکس کرنا… وہ تمہیں خاص اپ ٹو ڈیٹ انفارمیشن دیں گے، اس بارے میں … تمہارے مذہب کے خاصے سرکردہ رہ نما ہیں وہ …” تحریم نے کہا ”اور یہ جو کتابیں تم ہمیں پیش کر رہی ہو… انہیں خود پڑھا ہے تم نے … نہیں پڑھا ہوگا۔ ورنہ تمہیں پتا ہوتا ان سرکردہ رہ نماؤں کے بارے میں۔”
    جویریہ تحریم کی اس ساری گفتگو کے دوران خاموش رہی تھی، وہ صرف کن اکھیوں سے امامہ کو دیکھتی رہی تھی۔” اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ محمدﷺا س کے آخری نبی ہیں اورمیرے پیغمبرﷺاس پر گواہی دیتے ہیں کہ وہ اللہ کے آخری نبی ہیں اورمیری کتاب مجھ تک یہ دونوں باتیں بہت صاف واضح اور دو ٹوک انداز میں پہنچا دیتی ہے تو پھر مجھے کسی اورشخص کے ثبوت اور اعلان کی ضرورت نہیں ہے… سمجھیں۔”
    تحریم نے اپنے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
    ”بہتر ہے تم اپنے مذہب کو یا میرے مذہب کو زیر بحث لانے کی کوشش نہ کرو۔ اتنے سالوں سے دو ستی چل رہی ہے، چلنے دو۔۔۔”
    ”جہاں تک تمہارے گھر نہ آنے کا تعلق ہے تو ہاں یہ بالکل ٹھیک ہے کہ میرے والدین کو تمہارے گھر آنا پسند نہیں ہے۔ یہاں اسکول میں تم سے دوستی اور بات ہے۔ بہت سے لوگوں سے دوستی ہوتی ہے ہماری اور دوستی میں عام طورپر مذہب آڑے نہیں آتا لیکن گھر میں آنا جانا … کچھ مختلف چیز ہے… انہیں شاید میری کسی عیسائی یا یہودی یا ہندو دوست کے گھر جانے پر اعتراض نہ ہو لیکن تمہارے گھر جانے پر ہے… کیوں کہ وہ لوگ اپنے مذہب کو مانتے ہیں وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے، جس مذہب سے تعلق ہوتا ہے وہی بتاتے ہیں، اوریہ بھی حقیقت ہے کہ جتنا تم لوگوں کو ناپسند کیا جاتاہے اتنا ان لوگوں کو نہیں کیا جاتا کیوں کہ تم لوگ صرف پیسے کے حصول اوراچھے مستقبل کے لیے یہ نیا مذہب اختیار کر کے ہمارے دین میں گھسنے کی کوشش کر رہے ہو، مگر کرسچن، ہندو یا یہودی ایسا نہیں کرتے۔”
    امامہ نے بے اختیا رٹوکا ”کس پیسے کی بات کر رہی ہو تم…؟ تم ہماری فیملی کو جانتی ہو… ہم لوگ شروع سے ہی بہت امیر ہیں۔ ہمیں کون سا روپیہ مل رہا ہے اس مذہب پر رہنے کے لیے۔”
    ”ہاں تم لوگ اب بڑے خوش حال ہو، مگر شروع سے تو ایسے نہیں تھے تمہارے دادا مسلمان مگر غریب آدمی تھے۔ وہ کاشت کاری کیا کرتے تھے اورایک چھوٹے سے کاشت کار تھے۔ ربوہ سے کچھ فاصلے پر ان کی تھوڑی بہت زمین تھی پھر تمہارے تایا نے اپنے کسی دوست کے توسط سے وہاں جانا شروع کردیا اور یہ مذہب اختیار کرلیا اور بے تحاشا امیر ہوگئے کیوں کہ انہیں وہاں سے بہت زیادہ پیسہ ملا پھر آہستہ آہستہ تمہارے والد اورتمہارے چچا نے بھی اپنا مذہب بدل لیا پھر تم لوگوں کا خاندان اس ملک کے متمول ترین خاندانوں میں شما رہونے لگا اوریہ کام کرنے والے تم لوگ واحد نہیں ہو زیادہ تر اسی طریقے سے لوگوں کو اس مذہب کا پیرو کار بنایا جا رہا ہے۔”
    امامہ نے کچھ بھڑکتے ہوئے اس کی بات کو کاٹا ”تم جھوٹ بول رہی ہو۔”
    ”تمہیں یقین نہیں آرہا تو تم اپنے گھر والوں سے پوچھ لینا کہ اس قدر دولت کس طرح آئی ان کے پاس… اورابھی بھی کس طرح آرہی ہے۔ تمہارے والد اس مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ہر سال لاکھوں ڈالرز آتے ہیں، انہیں غیر ملکی مشنریز اوراین جی اوز سے …” تحریم نے کچھ تحقیر آمیز انداز میں کہا۔
    ”یہ جھوٹ ہے، سفید جھوٹ۔” امامہ نے بے اختیار کہا۔ ”میرے بابا کسی سے کوئی پیسہ نہیں لیتے۔ وہ اگر اس فرقہ کے لیے کام کرتے ہیں، تو غلط کیا ہے۔ کیا دوسرے فرقوں کے لیے کام نہیں کیا جاتا۔ دوسرے فرقوں کے بھی تو علماء ہوتے ہیں یا ایسے لوگ جو انہیں سپورٹ کرتے ہیں۔”
    ”دوسرے فرقوں کو یورپی مشنریز سے روپیہ نہیں ملتا۔”
    ”میرے بابا کو کہیں سے کچھ نہیں ملتا۔” امامہ نے ایک با رپھر کہا۔ تحریم نے اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
    اِمامہ نے اسے جاتے ہوئے دیکھا پھر گردن موڑ کر اپنے پاس بیٹھی جویریہ کی طرف دیکھا۔
    ”کیا تم بھی میرے بارے میں ایسا ہی سوچتی ہو؟”
    ”تحریم نے غصہ میں آکر تم سے یہ سب کچھ کہا ہے۔ تم اس کی باتوں کا برا مت مانو۔” جویریہ نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی۔
    ”تم ان سب باتوں کو چھوڑو… آؤ کلاس میں چلتے ہیں، بریک ختم ہونے والی ہے۔” جویریہ نے کہا تو وہ اٹھ کھڑی ہوگئی۔
    ٭…٭…٭




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۱

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۱

    پیش لفظ

    پیر کاملﷺکو میں نے آپ کے لیے لکھا ہے۔ آپ سب کی زندگی میں آنے والے اس موڑ کے لیے، جب روشنی یا تاریکی کے انتخاب کا فیصلہ ہم پر چھوڑ دیا جاتا ہے، ہم چاہیں تو اس راستے پر قدم بڑھادیں جو روشن ہے اور چاہیں تو تاریکی میں داخل ہو جائیں۔
    روشنی میں ہوتے ہوئے بھی انسان کو آنکھیں کھلی رکھنی پڑتی ہیں۔ اگر وہ ٹھوکر کھائے بغیر زندگی کا سفر طے کرنا چاہتا ہے تو تاریکی میں داخل ہونے کے بعد آنکھیں کھلی رکھیں یا بند کوئی فرق نہیں پڑتا، تاریکی ٹھوکروں کو ہماری زندگی کا مقدر بنا دیتی ہے۔
    مگر بعض دفعہ تاریکی میں قدم دھرنے کے بعد ٹھوکر لگنے سے پہلے ہی انسان کو پچھتاوا ہونے لگتا ہے۔ وہ واپس اس موڑ پر آنا چاہتا ہے جہاں سے اس نے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ تب صرف ایک چیز اس کی مدد کرسکتی ہے، کوئی آواز جو رہ نمائی کا کام کرے اور انسان اطاعت کے علاوہ کچھ نہ کرے۔
    پیر کاملﷺوہی آواز ہے، جو انسان کو تاریکی سے روشنی تک لاسکتی ہے اور لاتی ہے۔ اگر انسان روشنی چاہے تو اور ”یقینا ہدایت انہیں کو دی جاتی ہے جو ہدایت چاہتے ہیں۔”
    آئیے ایک بار پھر پیر کاملﷺکو سنیں!
    عمیرہ احمد




  • عمراں لنگیاں پباں پار — ماہ وش طالب

    عمراں لنگیاں پباں پار — ماہ وش طالب

    یہ لاہور کے جدیدپوش علاقے کا پچھلا حصہ ہے جہاں کہیں کہیں خودرو جھاڑیوں اور جنگلی گھاس کی بہتات ہے اور اسی حصے کے بیچوں بیچ قطار در قطار جھونپڑیاں ہیں۔ میلی گرد سے اٹی، پردہ اٹھائے، پردہ گرائے، بدبودار ، بدتمیزمیلے کچیلے انسان جس کے مکین ہیں۔ چار گز کے قطعے میں دس دس بیس بیس انسان، جنس کی تمیز کیے بغیر جہاں یوں ہمہ وقت طوفانِ بدتمیزی کھڑا کیے رکھتے ہیں جیسے کپڑے دھونے والی مشین اپنے پیٹ میں ہر طرح کے میل کچیل کو بھر کر گھر ر گھرر چلتی ہے۔ اس چھپر کی عورتیں سر ڈھانپے، برہنہ، نیم برہنہ سا جسم لیے پھرتی ہیں اور ان کے شیر خوار بچے ماں کی چھاتیوں سے لگے بِلکتے ہیں۔ بڑے بچے ٹانگوں سے چمٹے رہتے ہیں جن کی رال اور ناک ایک ساتھ بہتی ہے۔ یہاں کے مرد پھٹی ہوئی بنیانیں اور میلی شلواریں پہنے دیدہ دلیری اور بے شرمی سے بدن کھجاتے پھرتے ہیں۔
    اور یہ لوگ موسموں کی پروا کیے بغیر اپنے کام کیے چلے جارہے ہیں، مگر ان کے کاموں کی فہرست بھی کوئی اتنی طویل نہیں۔ بھیک اپنا حق سمجھ کر مانگنا، بچے پیدا کرنا اور عیش کرنا بس یہی کچھ انہوں نے اپنا مقدر سمجھ رکھا ہے۔ نہ انہیں کل کی فکر ستاتی ہے، نہ ماضی کا کوئی قلق انہیں ندامت میں مبتلا کرتا ہے۔ رتیں بدلتی ہیں، مگر ان کی مصروفیات کی نوعیت بدلتی ہے نہ ترتیب۔ یہاں تقریباً سب ہی ایک جیسے ہیں۔ ایک جیسا ناک نقشہ، ایک جیسی کسیلی رنگت اور مٹیالے اجڑے ہوئے بال، پھٹے اور گھسے ہوئے بدرنگ کپڑے اور قابلِ رحم چال۔ اس بستی کے باسیوں کا تہذیب سے کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ دنیا ترقی کی کس ڈگر پر چل نکلی ہے ان کا کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ وہی کام کر رہے ہیں جو ان کے ننگ دھڑنگ باپ دادا نے کیا اور ورثے کی صورت ان میں بھی جی بھر کے منتقل کردیا۔ پاکیزگی، عزت اور ایمانداری یہ کیا جانیں کہ یہ کن بلائوں کے نام ہیں بھلا۔ ان کے حال پر تو ان کے اوپر نیچے، دائیں بائیں منڈلاتی مکھیاں بھی اپنے گندم کے دانے جتنے پروں سے استہزائیہ اڑان بھرتی بھن بھن کرتی ہیں، مگر کیا یہاں بسنے والے سب ہی ایک جیسے ہوتے ہیں۔





    کیا واقعی…
    نہیں تو! کبھی کبھار نہ چاہتے ہوئے بھی حالات اور وقت آپ کو بے بسی کی زندگی گزاردینے پر مجبور کر دیتے ہیں جو آپ نہیں بننا چاہتے ہیں۔ حالات کی سختی آپ کو اس مقام پر لا کھڑا کرتی ہے کہ آپ ویسے بن جاتے ہیں اور اپنے وہاں ہونے پر بظاہر مطمئن بھی نظر آتے ہیں۔
    سو اسی بستی سے ذرا پرے ایک اور خیمہ لگا ہے۔ یہ جھونپڑی نسبتاً صاف اور کشادہ ہے۔ یہاں پر رہنے والے افراد کی تعداد کم ہے اور ان کے طور طریقے کسی حد تک مختلف ہیں مگر جس طرح کچرے کے ڈھیر کو اٹھا کر سونے کی طشتری میں سجا دینے سے بھی وہ کچرا ہی رہتا ہے۔ اسی طرح سے یہ جھونپڑی بھی بہر صورت رہے گی تو جھونپڑی ہی۔
    اس کی شخصیت میں بولتی آنکھوں اور سنجیدہ چہرے کا عجب امتزاج ہے۔ بھاری جثے اور خوبصورت قد کاٹھ کی مالک وہ بولتی کم اور سوچتی زیادہ ہے۔ اللہ جانے اتنی سی عمر میں کون سی فکریں ہیں جو ہمہ وقت اسے گھیرے رہتی ہیں۔ کبھی جو کریدنا بھی چاہو تو آہستگی سے دامن چھڑالیتی ہے، پھر پہاڑبن جاتی ہے اور ٹس سے مس نہیں ہوتی، مگر جب موڈ میں ہوتی ہے تو اس سے زیادہ زندہ دل بھی کوئی نہیں ملتا کہ سکھیوں کی سنگت میں سب کچھ بھول کر وہ بستی میں آوارہ گردی کرنے لگتی ہے یا فٹ پاتھ پر دائرہ بنا کر ہنسی ٹھٹھا کرتے ہوئے دو پل کے لیے ہی سہی، مگر وہ بے فکری ہوجاتی ہے۔
    وہ دیکھنے والی آنکھ کے لیے غروبِ آفتاب کا منظر ہی تو ہے۔ نرم گرم سی، پل میں اداس کرتی ہوئی اور پل میں امید دلاتی ہوئی اور رجو کو اس کا یونہی رہنا پسند ہے۔ وہ جو اُس کی ماں ہے جو خود غلطی سے پانچ جماعتیں پاس تھی۔ اس نے کب سوچا تھا کہ وہ بھی کبھی یونہی ان کے بیچ آجائے گی۔ انہی کی برادری کا حصہ کہلائے گی، مگر یہ بری قسمت بھی کسی جونک سے کم نہیں جو چمٹ جائے تو چھٹکارا پانا دوبھر ہو جاتا ہے۔ خیر رجو کی ایک بیٹی اور پانچ بیٹے ہیں۔ شوہر برائے نام ہے اس سے اب کوئی جسمانی ضرورت پوری کی جاسکتی ہے نہ معاشی۔ نشے کی لت نے اس کی مردانگی کو سب سے پہلے ٹھکانے لگایا تھا۔
    ’’اور مورل سپورٹ…‘‘
    ’’ہاہاہا یہ کیا پوچھ لیا؟‘‘
    ’’شش !! جن باتوں کا پتا نہ ہو،انہیں زیادہ نہیں کریدتے۔ خیر تسلی کے لیے بتائے دیتی ہوں کہ رجو خود تو کسی حد تک شائستہ ہے، مگر یہاں کے مرد… کوئی سن لے تو کہے کہ یہ چلتی زبانیں ان کی اپنی نہیں۔ وہ گلی کوچوں میں بنے کچے پکے مکانوں سے اٹھ کر آئی تھی۔ اس کا دیہاتی باپ اسے بھکارن بنانا چاہتا تھا اور ماں اپنے گھر والی، مگر شوہر نے اسے کہیں کا نہ چھوڑا۔ نہ وہ ٹھیک سے مانگ سکی نہ اپنے گھر والی بن سکی۔ (گھر ہوتا تو گھر والی کہلاتی نا۔) اس کا یہ جھونپڑا تو بنجارا تھا جہاں موسم اجازت دیتا وہیں چل پڑتا۔ ویسے بھی یہ لوگ موسموں کے مارے ہوتے ہیں، وقت کے نہیں۔ ان کے لیے سارے وقت ایک طرح کے ہوتے ہیں تسبیح کے دانوں کی مانند، انگلی کی پوروں سے ایک ایک کرکے پھسلتے جاتے ہیں، مگر درحقیقت موسم میں تغیر ہی ان کی رہائش گاہ اور مانگنے کی جگہ متعین کرتے رہنے کا باعث بنتا ہے اور اسے مانگنے کا سلیقہ ساری زندگی نہ آیا۔ سلیقہ تو خیر شوہر کو بھی نہ تھا کہ اسے سیدھا چوری کی عادت تھی، مگر بیوی کو ڈنڈے کے زور پر کسی نہ کسی طرح کمائی کا ذریعہ بنا لیا پہلے وہ اپنے تڑپتے ، ترستے بہن بھائیوں اور باپ کی دھمکیوں کی وجہ سے مجبور ہوتی رہی۔ پھر شوہر نے بھی اس کو خوب ہی ہتھیار بنایا۔ حالانکہ رجو کی اپنی ماں نے کتنے اچھے خواب دیکھ رکھے تھے اس کے لیے۔ مگر یہ مائیں بھی تو حد کرتی ہیں۔ اپنی ممتا سے فائدہ اٹھاتی ہیں، ایسی ایسی خواہشیں اولاد کے لیے پال لیتی ہیں کہ ان کے پورا ہونے کے لیے ایک نسل کو قربانی دینی پڑ جاتی ہے اور یہاں… وہ قربان شدہ نسل رجو تھی۔
    ’’اے نسرین ! کہاں مر گئی؟ یہ تیری پوستی ہمیں لے ڈوبے گی۔ کسی کام کی نہیں تو۔ نہ تیری ماں ہی مجھے آج تک کوئی فیض دے سکی۔ ابا تو بھی ایک ہی بات بار بار کرتا تھکتا نہیں۔ یہ دونوں بے غیرت عورتیں ہیں۔ اپنی عزت کے علاوہ انہیں کبھی کسی کی پروا نہ رہی۔ اپنے خاص دیہاتی لہجے میں پنجابی بولتا جیرا باپ کو ڈپٹتا درپردہ انہیں ذلیل کررہا تھا اور یہ باتیں نسرین کے لیے نئی ہر گز نہ تھیں۔ ماں کے پیٹ سے ہی ایسی باتیں اس کی نازک سماعت پر پڑتی رہی تھیں۔ وہ سماعت جو اب نازک بھی نہ رہی تھی بلکہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی تھی کہ اب ہر بات کان کے پردے سے ٹکراتی ہوئی جب دل پر پڑتی تو اسے ذرا کم ہی رُلاتی تھیں۔
    اس کی زندگی اپنی پہلی سانس پر ہی سِسکی تھی اور اب تک سِسک رہی تھی۔ نہ اس کے لیے پھولوں میں کوئی خوشبو تھی۔نہ چوڑیوں کی کھنک اس کی نازک کلائیوں کے لیے تھی اور اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ ایک پکھی واس تھی۔ مسئلہ اس ذرا سی آگاہی کا تھا جو اسے اپنی ماں سے ورثے میں ملی تھی۔ نہ وہ کھل کر اپنے ماحول میں جیتی تھی نہ اسے باہر کی لپک جھپک متاثر کرتی۔ اس کے لیے شعور عذاب ہی تو تھا۔ وہ بھکارن تھی۔ سفید میلی چادر سر پر ٹکائے، گرد سے اٹی ٹوٹی پلاسٹک کی چپل پہنے، ہاتھ میں کھلا سا برتن پکڑے جب وہ بڑے بڑے گھروں کے دروازے کھٹکھٹاتیتو خود کو بونوں سے چھوٹا محسوس کرتی۔
    وہ اپنے مخصوص انداز اور لہجے میں مانگتی۔ ہر بار نئے بہانے اور وجہ اس کے پاس موجود ہوتے حالانکہ اس کے باپ اور بھائیوں کی تین وقت کی روٹی بڑے آرام سے پوری ہوتی تھی کہ وہ چھے مرد خود کو اندھا بناکے، لنگڑا کے یتیم ظاہر کرکے اپنے زورِ بازو سے اچھی خاصی رقم اینٹھ لیتے تھے اور کبھی کبھی جب اس جاب سے بھی جی اکتا جاتا، تو جیب تراشی اور ہاتھ کی صفائی کام آتی۔
    مگر رجو کا آدمی خود کما کر اپنی بیوی کو عیش کرانے والوں میں سے ہر گز نہ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ گھر کا ہر فرد مصروف رہے اور یوں بھی گھر میں پیسہ آتا کسے برا لگتا ہے۔ سو رجو سمیت وہ یعنی نسرین بھی مصروف تھی اتنی کہ نیند میں بھی مانگتی رہتی۔ کبھی کسی کا در کھٹکھٹارہی ہوتی تو کبھی کہیں سے جھڑکیاں سن رہی ہوتی۔
    نامساعد حالات میں جب اسے سڑکوں پر نکل کر مانگنا پڑتا، تو یہ اس کے لیے حقیقتاً آزمائش کا وقت ہوتا۔ جب کسی گاڑی کا شیشہ بجاتی، کسی بڑی دکان یا شوروم کے ہجوم میں مانگنے گھستی تو لوگوں کی خود پر گڑی ہوئی چبھتی نظریں محسوس کرکے خود میں سمٹ کر رہ جاتی حالانکہ اس کی جگہ کوئی اور پکھی واسنی ہوتی تو خوب ان نظروں کا مفہوم سمجھتی اور جی بھر کر فائدہ بھی اٹھاتی، مگر یہاں مصیبت ہی یہ تھی کہ اس شعور سے بے بہرہ انسانوں کی بستی میں وہ ایک مافوق الفطرت پیدا ہوگئی تھی جو بس یہی سوچتی جاتی تھی کہ یہ بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومنے والے مردوں کی سوچ اس قدر چھوٹی کیسے ہوسکتی ہے؟ انہیں تو کسی شے (زر اور زن) کی کمی نہیں۔ پھر بھی یہ سارے اس قدر ندیدے کیوں ہیں ؟ مگر کملی اگر چار جماعتیں پڑھی ہوتی یا ماں جتنا تجربہ حاصل ہوتا، تو آپ ہی جان لیتی کہ مرد کسی بھی نسل کا ہو اور کتنا بھی امیر کیوں نہ ہو، نہتی عورت ذات کو دیکھ کر اس کا ندیدہ پن امنڈ کر سامنے آجاتا اور رال ٹپکنے لگتی ہے اور پھر وہ جتنا گھبراتی۔ لوگ اسے اتنا ستاتے اس کے فربہی مائل جسم، دودھیا رنگت اور گہری آنکھوں پر فقرے کستے ۔
    پھر بیچ میں ساتھ والی جھونپڑی کی چھیما کے کہنے پر اس نے پلاسٹک اکٹھا کرنے کا کام شروع کیا، مگر اس کام میں بھی کمائی کم اور رسوائی زیادہ تھی۔ گودام کا مالک چاہتا تھا کہ ہر روز مخصوص مقدار میں وہ اسے پلاسٹک لا کردے۔ خواہ اس کے لیے اسے ناک کے بل رینگنا پڑتا اور خواہ پلاسٹک کی جگہ وہ اسے کمیاب دھاتوں کی تھیلیاں تھمادیتی ، مگر اس کے ذمہ چونکہ صرف پلاسٹک اکٹھا کرنا تھا سو چنی آنکھوں اور گرد سے اٹی بھوری ڈاڑھی والا گودام کا لڑکا بڑی چالاکی سے چپ چاپ دھاتیں بھی ہتھیا لیتا اور اس کی ساری محنت نہایت ہلکے داموں خرید لیتا۔ خود چھیما تو من موجی تھی، دل کرتا تو ہفتہ بھر پلاسٹک اکٹھا کرکے دہاڑی بناتی، ورنہ مہینہ گزرجاتا اور اپنی کوئی خبر نہ دیتی۔ وہ نسرین سے تجربے اور عمر میں کافی بڑی تھی۔ سو راشد (گودام کا مالک ) کی غلط سلط باتوں کا دوبدو جواب دیتی۔ وہ ڈھیٹ بنا حِظ اٹھاتا رہتا۔ ان کے ساتھ والی دو اور لڑکیاں بھی کوڑا چھانتی تھیں مگر ان کا کام دھات (خالی ٹِن، پلیٹس ، سپیئر پارٹس وغیرہ ) ہی اکٹھے کرنا تھا اور اس کے عوض ناصرف وہ انہیں اچھی رقم دے کر خوش کرتا تھا بلکہ ان کے پاس بھی اس کی خوشی کا سارا سامان موجود ہوتا تھا، لیکن وہ بھی اُن جیسی ہوتی تو اسے بھی کوئی مسئلہ نہ ہوتا۔




  • وہ اپنی سی ۔۔۔ تنزیلہ احمد

    وہ اپنی سی ۔۔۔ تنزیلہ احمد

    آئیے! میں آپ کو اس پری پیکر سے متعارف کرواتا ہوں۔ میری اجلی صبح کا آغاز اس نازنین کے دیدار سے ہوتا ہے۔ سورج کی مندی آنکھوں اور پرندوں کی انگڑائیوں کے دوران منہ اندھیرے وہ سفید یونیفارم میں ملبوس دو بچیوں کو ساتھ لیے گھر سے نمودار ہوتی ہے اور تب تک پکی روش پہ کھڑی رہتی ہے جب تک بچیاں پہلے سے ان کے انتظار میں کھڑے تانگے میں سوار ہو کر نظروں سے اوجھل نہیںہوجاتیں۔
    بچیوں کو رخصت کرنے کے بعد گھر میں واپس داخل ہونے سے پہلے وہ گردوپیش پہ ایک تفصیلی نظر ڈالتی ہے اور اپنے کندھوں پہ شال کی مانند لپیٹا دوپٹا درست کرتی اندر چلی جاتی ہے۔ اس کے بعد کوئی ڈیڑھ دو گھنٹے میں وہ یونیفارم میں ملبوس ایک اور چھوٹی بچی کو لیے گھر سے وارد ہو گی اور اندر چلے جانے کے بعد کئی گھنٹوں کے لیے اپنا چہرہ نہیںں دکھائے گی۔
    بہت قلیل عرصے میں ہی وہ مجھے بہت پیاری، اپنی اپنی اور دل کے نزدیک لگنے لگی ہے۔ مجھے اس کا انتظار رہنے لگا ہے کہ کب دھوپ ڈھلے، کب جھولے پہ چھاؤں آئے اور وہ اپنا موبائل اور ہینڈز فری سنبھالے اینڑرنس کا ڈور کھولے خوشی سے لمبے لمبے ڈگ بھرتی لان میں نصب لکڑی کے بڑے سے جھولے پہ آبیٹھے۔
    ٭…٭…٭





    میرے چہار سو سب کچھ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ اجاڑ، ویران، بیابان جنگل آہستہ آہستہ زندگی، رنگوں اور پھول بوٹوں سے آباد ہوا ہے۔ ہر رنگ، نسل اور مذہب کے لوگوں کو میں نے یہاں آ کے بستا اور پھر جاتا دیکھا ہے۔
    کچھ جگہوں کی قسمت میں مستقل مکین نہیں ہوتے۔ اس بنگلے کا ظاہری رنگ و روغن اور تزئین و آرائش بہت بار بدلا ہے۔ جو یہاں رہنے آتا ہے اپنی مرضی کے رنگ بھر دیتا ہے مگر اس کی ہیئت آج بھی ویسی کی ویسی ہے جیسے میرے سامنے تعمیر کی گئی تھی۔
    وہ حسین دن میرے حافظے میں اچھے سے محفوظ ہے۔ جب وہ بہار کے پہلے جھونکے کی مانند خوش باش سی گاڑی سے اتری تھی اور ہر سو شگوفے چٹخنے لگے تھے۔ اسے دیکھتے ہی میری آنکھوں میں شناسائی کی چمک لہرائی کہ کوئی سال بھر پہلے بھی وہ چند دنوں کی مہمان بن کے آئی تھی اور جب گھر میں داخل ہونے سے پہلے دلچسپی سے ایک بھرپور نگاہ اس نے ہم سب پہ ڈالی تو شناسائی اس کی روشن آنکھوں سے بھی بخوبی چھلکی تھی۔
    سچ پوچھیے تو میں نے ایک صدی کی طویل مدت میں کیا کیا نہیں دیکھا ہے مگر خدا کو حاضر ناظر جان کے کہتا ہوں کہ میں نے اس کے جیسی اللہ پاک کی خوبصورت تخلیق پہلے نہیں دیکھی یا شاید پہلے کوئی مجھے اتنی منفرد لگی ہی نہیں۔
    ٭…٭…٭
    ادھر ڈھلتی دھوپ آہستہ آہستہ جھولے سے سرکنا شروع ہوتی ہے، ادھر وہ ہاتھوں میں گولڈن کلر کا موبائل، سفید ہینڈز فری اور کالے کور کی ڈائری تھامے سیدھی گارڈن میں نصب جھولے پہ کھنچی چلی آتی ہے۔
    جھولا جھولتے ہوئے اس کے لمبے کالے کھلے بال ہوا کے دوش پہ بے تحاشا سرگوشیاں کرتے جھولا آگے آتا تو اس کی ریشمی زلفیں کالی ناگن کی طرح سفید گالوں سے لپٹ لپٹ جاتیں۔
    میں جان گیا ہوں کہ اس کا پسندیدہ وقت وہ ہوتا ہے جو وہ اکیلی اپنی ذات کے ساتھ جھولے پہ بِتاتی ہے۔ وہ کسی سے بات نہیں کرتی، بس چپ چاپ جھولا جھولتی ہے۔ جب اس کی سیدھی نگاہ مجھ پہ ٹھہرتی ہے تو وہ میرے لیے دن کا سب سے بہترین وقت ہوتا ہے اور پورے دن میں اسی خوش قسمت گھڑی کا مجھے شدت سے انتظار رہتا ہے کہ بہرکیف اتنی توجہ سے تو آج تک ہمیں کسی نے نوازا ہی نہیں جتنی وہ دیتی ہے۔
    اپنی پرتجسس آنکھوں سے وہ ہر سو دیکھتے ہوئے حصار باندھتی جاتی ہے۔
    میں نے محسوس کیا ہے کہ لان کے بیچوں بیچ پوری شان و شوکت سے کھڑے درویش درخت پہ اڑتے طوطے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں بچوں کی سی چمک اور خوشی جھلکتی ہے۔
    مجھے تعجب ہوتا ہے کہ کانوں میں ہینڈز فری لگائے کچھ نا کچھ سنتے اور دھیمے سروں میں گنگناتے ہوئے بھی وہ کیسے اپنے گردوپیش سے اتنی باخبر رہتی ہے۔ درویش درخت سے گرتے بے جان خزاں رسیدہ پتے، آزادی سے اڑتے طوطے، شاخوں سے جھولتی عقاب کے سائز کی چمگاڈریں، دور درخت پہ کوکتی کوئل، گارڈن اور گردوپیش کا ہر پھول بوٹا وہ اتنے دھیان اور لگاوٹ سے دیکھتی ہے جیسے اس کے سوا اس کی زندگی کا کوئی مقصد ہی نہیں۔
    گلاب اور موتیے کے پھولوں پہ اس کی پرشوق نگاہیں پلٹ پلٹ کر آتی ہیں۔ خوبصورتی اور رنگینی کسے نہیں بھاتی۔ اب تو آپ سمجھ لیں کہ وہ مجھے اتنا کیوں بھاتی ہے۔’’وہ سر تا پا زندگی اور رنگین ہے۔‘‘
    ٭…٭…٭
    ویک اینڈ پہ بچوں کی اسکول کی چھٹی ہونے کے باعث لان میں بہت رونق ہوتی ہے اور اس کی وجہ بلاشبہ وہی ہے۔ جب تک وہ گھر کے اندر ہوتی ہے، کوئی بچہ باہر نہیں دکھتا اور ادھر وہ لکڑی کے پھٹوں سے بنے جھولے پہ آ کے بیٹھتی ہے اور کچھ ہی دیر میں ایک ایک کر کے بچیاں اینٹرینس کا دروازہ کھول کر باہر جھانکتی ہیں اور سیدھی اس کے پاس جھولے پہ بھاگی چلی آتی ہیں۔ وہ بیچ میں اور دو بچیاں اس کے دائیں بائیں بیٹھ کر جھولا جھولتے ہوئے نجانے کون کون سے قصے زیرِ بحث لاتی ہیں۔
    ان کی باتوں اور قہقہوں میں بچیوں کی ضد کرنے اور جھگڑنے کی آوازیں تب شامل ہو جاتی ہیں جب اندر سے بھاگ کے باہر آئی ہوئی تیسری بچی بھی جھولے پہ بیٹھنے کی ضد کرتی ہے۔ ایسی صورت میں وہ بخوشی ہتھیار ڈال کے اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور اپنی جگہ تیسری بچی کو دے دیتی ہے مگر آہ! یہ کیسی بات ہے کہ تھوڑی دیر میں ایک ایک کر کے اس کے پیچھے تینوں بچیاں بھاگتی چلی جاتی ہیں اور اس کے ساتھ کوئی نا کوئی گیم کھیلنے میں مگن ہو جاتی ہیں اور خالی جھولا میری طرح انہیں دلجمعی سے تکتا رہتا ہے۔ اسے دیکھ کے میں نے جانا ہے کہ کچھ لوگوں کو واقعی انسانوں کو جوڑے رکھنے کا ہنر آتا ہے۔
    وسیع و عریض گارڈن میں وہ بچیوں کے ساتھ بھاگتی دوڑتی رہتی ہے۔ بیڈمنٹن کی کئی باریاں کھیلتی اور جیتتی بھی ہے۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے اسے بچپن کے بعد سے بھولی سائیکلنگ بھی آگئی ہے۔ جس دن اسے سائیکل بیلنس کرنی اور چلانی آئی، اس دن اس کے چہرے پہ بچوں کی سی خوشی تھی جیسے اس نے کوئی معرکہ سرانجام دیا ہو۔
    انسان بھی کتنی دلچسپ مخلوق ہے۔ ہر وقت کسی نا کسی جستجو میں جتا رہتا ہے۔ کچھ سیکھنے کی جستجو، کچھ پانے کی، حاصل کرنے کی یا کسی کو تسخیر کرنے کی جستجو اور جب جستجو پوری ہو جاتی ہے تو خوشی سے نہال ہو جاتا ہے اور یوں اتراتا ہے جیسے اس نے دنیا فتح کرلی۔
    اب اسے ایک اور ایکٹیویٹی مل گئی ہے۔ وہ بچوں کے ساتھ آزادانہ سائیکل ریس لگاتی ہے۔ کبھی پکی روش پہ تو کبھی گھوڑوں کے اصطبل کے اطراف۔ ان کی آوازوں اور چیخوں سے کتنی رونق لگی رہتی ہے۔
    ٭…٭…٭




  • وادان — خدیجہ شہوار

    وادان — خدیجہ شہوار

    ’’تم یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘وہ درخت کے موٹے تنے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا کہ ایک دم سے چونک کر اٹھ بیٹھا۔گھبرا کر چاروں سمت نظریں دوڑا ئیں ۔
    ’’آواز کہاں سے آئی؟کون بولا؟‘‘وہ سمجھ نا پایا۔
    ’’کون ہے؟میرے سامنے آئے۔‘‘ اس نے بے ساختہ پکارا۔
    ’’میں ہوں ،’’وادان ‘‘ ایک درخت جس کی ٹھنڈی گھنی چھاؤں میں تم بیٹھے ہو۔ ‘‘ ساٹھ سالہ قد آور بوڑھا درخت بولا ۔اس نے حیرت زدہ آنکھوں سے درخت کی طرف دیکھا ۔
    ’’اوہو!تو تم بول رہے ہو۔‘‘ اس نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے درخت کو دیکھا۔
    ’’ہاں!اورتم کون ہو؟‘‘بوڑھے درخت نے پوچھا۔
    ’’میں انسان ہوں۔‘‘ اس نے جواباً کہا۔وہ بوڑھادرخت بے ساختہ مسکرایا۔
    ’’وہ ،جودنیا کی ہر چیز پہ قابض ہے؟دنیا پہ راج کرتا ہے اور ایک دن اسی مٹی میں دفن ہو جاتا ہے جس مٹی سے بنا ہے؟‘‘وہ بوڑھے درخت کی بات پے ہلکی سی ہنسی ہنسا اور چمکتی آنکھوں سے درخت کا اوپر سے نیچے تک پورا جائزہ لیا جیسے درخت کی بات نے اسے متاثر کیاہو۔
    ’’ہاں! تم انسان کا مطلب خوب سمجھتے ہو۔تم مجھ سے دوستی کرو گے؟‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
    ’’ہاں !میں دوستی کروں گا۔کیونکہ تم میرے لیے انجان نہیں ہو۔‘‘درخت نے جواباً کہا۔
    ’’تم میرے بارے میں کیا جانتے ہو؟‘‘ اس نے بوڑھے قد آور درخت سے استفسا ر کیا۔





    ’’یہی کہ تم اکثر یہاں سے گنگناتے ہوئے گزرتے ہو۔کبھی کبھار میری ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ کر آرام کرتے ہو۔کبھی کبھار میرے سائے میں بیٹھ کر کتاب بھی پڑھتے ہو۔اور تمہا را گھر سامنے نظر آتے کچے پکے مکانوں میں ہے۔ ‘‘ وہ درخت کے منہ سے اپنا تعارف سن کر چونکا اور بے اختیار ہنس دیا۔
    ’’تم بہت دلچسپ باتیں کرتے ہو۔تمہارے ساتھ میری خوب نبھے گی۔ویسے تمہیں کیا کرنا پسند ہے؟‘‘ اس نے درخت کے مضبوط چوڑے تنے سے ٹیک لگاتے ہوئے پوچھا۔
    ’’میں سارا دن سورج کی کرنوں سے باتیں کرتا ہوں۔بادلوں کواٹکھیلیاں کرتا دیکھتا ہوں ۔ پرندوں کو بیٹھنے کے لیے اپنے بازو فراہم کرتا ہوں ۔ آتے جاتے انسانوں کو چھاؤں دیتا ہوں۔دنیا میں سبز رنگ پھیلا کردل و دماغ کو ٹھنڈک کا احساس دیتا ہوں۔انسانوں کے لیے آکسیجن پیدا کرتا ہوں۔ ‘‘ درخت نے اعتماد سے کہا۔وہ درخت کی دلچسپی سے باتیں سنتے ہوئے مزہ لے رہا تھا۔
    ’’تم انسانوں سے زیادہ گہرے ہو۔تم وہ سب دیکھتے ہو جو انسان نہیں دیکھ سکتے۔‘‘اس نے درخت کو سراہا۔
    ’’یہ جو چھوٹے بڑے درخت تم میرے ارد گرد دیکھ رہے ہو ۔یہ میری برداری ہے۔میرے نو بھائی ،چھ بہنیں،چچازاد کزن،خالہ زاد کزن سبھی یہاں موجود ہیں۔جب وقت ملے تو ان سے بھی گپ شپ لگا لیتا ہوں۔میں ان سب سے بے حد پیار کرتا ہوں۔یہ میرے لیے بہت خاص ہیں۔اور وہ دیکھو چھوٹے چھوٹے ننھے پودے جو آج کل میں زمین کا سر پھاڑ کر باہر آئے ہیں میرے پوتے پوتیاں ہیں۔یہ بہت شرارتی ہیں۔لیکن میں انہیں کبھی نہیں ڈانٹتا۔ ‘ ‘ درخت نے پودوں کی طرف اشارہ کیا۔اس نے آنکھیں سکیڑے حیرانی سے سبھی چھوٹے بڑے پودوں کو دیکھا۔
    ’’جب آندھی یا طوفان آتے ہیں پھر تم کیا کرتے ہو؟ یہ ننھے پودے تو مرجھا جاتے ہوں گے نا؟‘‘ اس نے درخت سے استفسار کیا۔
    ’’ میں اور میری طرح دوسرے درخت سینا تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ طوفان ہم سے ڈر جاتا ہے اور کچھ کہے بغیر گزر جاتا ہے لیکن یہ ننھے پودے اس وقت خود کو ڈھیلا چھوڑ دیتے ہیں۔کچھ دیر کے لیے سر جھکا لیتے ہیں۔طوفان ان کی عزت کرتے ہوئے انہیں ایسے ہی قائم رہنے دیتا ہے اور گزر جاتا ہے۔‘‘بو ڑھے درخت نے بھاری بھرکم آواز میں بولتے ہوئے بتایا۔
    ’’ مجھے تمہاری فیملی کے بارے میں جان کر اچھا لگا۔ تمہاری فیملی کافی بڑی ہے۔‘‘ اس نے بوڑھے درخت کی برادری پر سرسری نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔بوڑھا درخت مسکرا یا۔
    ’’ہاں ! ایسا ہی ہے۔ ‘‘لمبے توانا بوڑھے وادان نے جواباً کہا۔
    اسی لمحے اسے کوئی ضروری کام یاد آ گیا اور اس نے وادان سے جانے کی اجازت لی اورچلا گیا۔کچھ دن ایسے ہی گزر گئے۔وادان روز اس کا انتظار کرتا۔کبھی انتظار میں راہ تکتا تو کبھی چاند کی چاندنی میں چند منٹ سو کر نیند پوری کر لیتا۔کبھی پوتے پوتیوں سے گپ شپ لگا لیتا اورکبھی بادلوں کا حال احوال پوچھ لیتا۔اور اسی طرح ایک دن وہ پھر وہاں سے گزرا اور وادان کا حال چال پوچھنے آ گیا۔بوڑھا درخت اسے دیکھ کر بہت خوش تھا۔وہ اب اکثر وادان کو ملنے آتا۔ ڈھیروں باتیں کرتا۔ دل کا بوجھ ہلکا کرتا۔کچھ اس کی سنتا کچھ اپنی سناتا۔ان دونوں کو آپس میں گپ شپ لگانے میں مزہ آنے لگا تھا۔
    ’’مجھے وقت نہیں ملا ورنہ میں تمہیں پہلے ملنے آجاتا۔کہو کیسے ہو۔؟‘‘ اس نے وادان کو مخاطب کیا۔
    ’ ’ تمہارے سامنے ہوں۔ ‘‘ وادان نے جواباً کہا ۔وہ آگے بڑھا اور وادان کی ٹھنڈی چھاؤں میں موٹے چوڑے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔و ہ اس قد آور درخت کے نیچے پہلے بھی بیٹھا کرتا تھا لیکن جب سے ان دونوں کی دوستی ہوئی تھی اسے بوڑھے درخت کے سائے میں بیٹھنے میں سرور آنے لگا تھا۔اسی لمحے ایک ننھی چڑیا وادان کی آسمان کو چھوتی شاخوں پے آن بیٹھی۔
    ’’وادان! یہ کون ہے جو تمہارے سائے میں بیٹھا ہے؟‘‘ چڑیا کچھ خوفزدہ تھی۔وادان چڑیاکے سوال پر بے ساختہ ہنسا۔
    ’’میرا دوست ہے۔‘‘ وادان نے جواب دیا۔ وہ بھی چڑیا کو چہچہاتا دیکھ کر متوجہ ہوا اورٹیک چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
    ’’یہ انسان ہے۔اس سے بچو۔‘‘ چڑیا نے تقریباً چلاتے ہوئے کہا۔وادان کی مسکراہٹ برقرارتھی۔
    ’’نہیںنہیں!ننھی چڑیایہ میرا دوست ہے۔اور مجھے اس سے کوئی خطرہ نہیں۔‘‘ وادان نے چڑیا کو تسلی دی۔ چڑیا مایوس کن آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی اور پھر پنکھ پھیلا کر دور فضا میں کہیں غائب ہو گئی۔وادان اسے آسمان میں غائب ہوتا دیکھتا رہا۔
    ’’یہ ننھی چڑیا کیا کہہ رہی تھی تم سے؟‘‘ اس نے تجسس میں پوچھا ۔
    ’’کچھ خاص نہیں۔‘‘ وادان نے اسے ٹالتے ہوئے کہا۔
    ’’جانتے ہو،میرا دل چاہتا ہے میں ایک پرندہ ہوتا ۔میں بھی جگہ جگہ اٹکھیلیاں کرتا ۔جب دل چاہتا گھونسلے میں آرام کرتا۔جب بھوک لگتی تو دانہ چگنے چلا جاتا۔ میں بھی درختوں کی لمبی لمبی شاخوں پے بیٹھ کر پوری دنیا کا نظارہ کرتا ۔ میری زندگی کتنی ہلکی پھلکی ہوتی ۔میری زند گی بھی پرندے کی طرح مشقت سے خالی ہوتی تو کیا ہی مزہ آتا ۔‘‘ اس نے حسرت لیے کہا۔وادان اس کی خواہش سن کر ہنس دیا۔
    ’’تم انسان بن کر خوش نہیں ہو؟‘‘ وادان نے پوچھا۔




  • پراسرار محبت — کوثر ناز

    پراسرار محبت — کوثر ناز

    ہوا کی سرسراہٹ اور وحشت زدہ سناٹے کو چیرتے ہوئے گھوڑے کے قدموں کی ٹاپ دور دور تک گونج رہی تھی۔ وہ ہر شے بے نیاز اڑتے بالوں کو کاندھے کے ایک طرف ڈالے سرپٹ دوڑتے گھوڑے کی لگام مضبوطی سے تھامے اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔
    وہ ہر روز کی مانندصبح کی سیر کو نکلی تھی۔ موسم گذشتہ رات ہونے والی بارش کے باعث ابھی تک نم آلود تھا اور فضا میں خنکی برقرار تھی۔ وہ گہری سانس خارج کرتے ہوئے جوگرز پہنے باہر نکلی تو مشرق کی جانب سے نکلتا ہوا سورج گہرے بادلوں کی اوٹ میں جا چھپااور اندھیرے نے ایک بار پھردن پر سرمئی چادر تان کرزمین کی جانب رخ کرتی سورج کی شعاعوں کا راستہ روکا۔ وہ اس بے اعتبار موسم کے تیور بدلتے دیکھ کر مسکرا دی۔ ایسے موسموں سے اسے عشق تھا۔ دل لبھاتا موسم اسے روحانی سکون بخشتا تھا۔ وہ جوگرز کی تسمے کستے ہوئے ایک طرف کھڑے گھوڑے کو دیکھ کر اس کی جانب بڑھی۔تو اس کے لبوں پر پُراسرار سی مسکراہٹ چھا گئی۔
    ’’تم پورے ایک ہفتے بعد آتے ہو ستم گر!‘‘ اس کا دل ایک ہی لے پر دھڑک رہا تھا اور وہ لے نغمہِ محبت کے علاوہ کسی شے کی نہیں ہوسکتی تھی۔
    گلابی رخسار اور آنکھوں میں محبوب سے ملاقات کی چاہ لیے وہ گھوڑے کو ایڑ لگا کر ایک ہی جست میں گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہوئی تو گھوڑا زرا سا ہنہنانے کے بعد اپنی منزل کی جانب پیش قدمی کرنے لگا۔ عجیب گھوڑا تھا کہ جس پر سفر کرتے ہوئے اسے کبھی خوف محسوس نہیں ہوا تھا۔ ہمیشہ لگا کہ محبوب کی مضبوط بانہوں کا حصار اس کے گرد تمام تر حفاظت کے لیے موجود ہے۔ وہ سرشاری کی سی کیفیت میں ڈوبی مغرب کی جانب سفر کرنے لگی۔ تیز چلتی ہوا کے تھپیڑے ، آندھی کے باعث درختوں سے جھڑتے ہوئے پتے اور چاروں جانب لہلہاتی ہریالی نے موسم کو اس قدر فسوں خیز بنا دیا تھا کہ ہر طرف ڈزنی لینڈ کا سا گمان ہونے لگا تھا۔ وہ ہر اس خوبصورت منظر کو نگاہوں میں قید کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگی جو قدرت کی عنایت کے باعث زمین کا حصہ بنا ہوا تھا۔
    یہ ایک سرسبز و شاداب وادی تھی جہاں آکر گھوڑے نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ محبوب یہیں کہیں ہوگا۔ وہ گھوڑے کی ایڑ پر پاؤں رکھتے ہوئے نیچے اتری تو گھوڑا ایک طرف کو چل دیا۔ اس نے گلے میں پڑا مفلر درست کرتے ہوئے بالوں کو ہاتھ کی کنگھی بنا کر سلجھایا اور اپنے مخصوص انداز میںسارے بال کاندھے کے ایک طرف ڈال کر گھاس کو کچلتے ہوئے آگے بڑھنے لگی ۔
    ٭…٭…٭





    وہ اس کی ہرنی کی سی چال دلچسپی سے دیکھ رہا تھا ۔ وہ دونوں ہاتھ ہوا میں پھیلائے سنبھلسنبھل کر قدم رکھتی آگے بڑھ رہی تھی۔ کل رات ہونے والی بارش کے باعث زمین نم آلود تھی اور یہی وجہ تھی کہ اس کے قدم آہستگی سے آگے بڑھ رہے تھے۔ وہ اسے اپنی جانب آتے ہوئے دیکھ کر چھپ گیا۔ وہ آس پاس اسے ڈھونڈنے کے بعد تھک ہار کر وہیں سنگی بنچ پر بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگی ۔وہ آہستہ سے درخت کی اوٹ سے نکلا توحسینہ نے شہزادے کی مسکراہٹ دیکھ کر چہرے پر خفگی کے تاثرات سجا لیے۔
    ’’روشنی! تنگ کررہا تھا یار بس!‘‘ وہ حسینہ کا ہاتھ تھامے مان سے کہہ رہا تھا وہ ہنس دی۔ اور پھر دیرتک اسکے سنگ بیٹھی باتیں کرتی رہی ۔ ہرمحبت کرنے والے جوڑے کی طرح اس کے سنگ مستقبل کے خواب بننے لگی۔ اس کے حسن کے قصیدے پڑھتے ہوئے اپنی تعریف پر شرمائے لجائے جاتی۔ اس کی باتیں اس قدر دل لبھانے والی ہوتیں کہ وہ گھنٹوں اسے بیٹھ کر سن سکتی تھی۔ابھی بھی یہی ہوا تھا وہ اس کے سنگ بیٹھی مستقبل کے خواب بن رہی تھی اور حسین لمحات پا کر راز و نیاز کررہی تھی۔ وہ اس کے بالوں کی آوارہ اڑتی لٹوں سے کھیلتے ہوئے اس کو اس قدر توجہ سے سن رہا تھا گویا اس سے زیادہ ضروری کوئی کا م ہی نہ ہو اور ایسا تھا بھی۔ انہیں ملتے ہوئے یہ چھٹاہفتہ تھا اور وہ ہر بار ایسے ہی فرصت سے بیٹھ جایا کرتا کہ دنیا کہ باقی کاموں سے بے فکر ہے اور سب سے زیادہ ضروری بس وہی ہے۔ وہ اس کی اس قدر توجہ اور چاہت پر نازاں ہوتی نہ تھکتی تھی۔ اکثر اپنی وادی کی سہیلیوں سے اس شہزادے کا ْذکر کرتی تو گردن فخر سے اٹھ جایا کرتی۔ اس کی چاہت کے قصے سناتی تو وہ اس دلچسپی سے گویا کسی اور زمانے کی داستان گڑھ رہی ہے۔
    روشنی اور وہ طلمساتی آنکھوں والا شہزادہ بنام اسرارحق اسے اسی جگہ ملا تھا ۔ وہ ایک طوفانی رات تھی جب روشنی اپنی سہیلیوں کے ہمراہ جگنو پکڑنے کی خواہش میں جنگل کی طرف نکل آئی تھی اور پھر راستہ بھٹک گئی۔ سہیلیاں اسے ڈھونڈتے ہوئے گھر کی جانب روانہ ہوگئیں اور وہ وہیں اندھیرے کے خوف سے سنگی بینچ سے چپک کر بیٹھ گئی۔ پراسرار ہوا اور تیز چلتی آندھی اور ہلکی بوندا باندی اور رات کے سناٹے نے ماحول کو یکدم خوفناک بنا دیا تھا۔ ایسے میں وہ تھا کہ جس کے قدموں کی آمد نے اسے سانس بحال کرنے پر مجبور کیاتھا۔ وہ کسی کی آمد کو محسوس کرتے ہوئے فوراً مدد کے لیے پکار نے لگی۔ تبھی وہ اس کی جانب بڑھا اور ہاتھ میں تھامے سارے جگنو ایک ایک کرکے اڑا دیے۔ پل بھر کے لیے ایسا سماں بند ھ گیا کہ وہ حیرت زدہ سی ماحول پر چھائی خوبصورتی کو ساکت سی ہوکر دیکھنے لگی۔ پھر اس شخص کا خیال آیا تو چونک کر اس کی جانب دیکھا۔
    ’’مجھے اسرار حق کہتے ہیں۔ یہاں جنگل کی سیر کو نکلا تھا، رات کب ہوئی اندازہ ہی نہیں ہوسکا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کوئی شہزادی یہاں تنہا اور خوفزدہ ہوگی ۔‘‘ وہ طلمساتی آنکھوں والا شہزادہ اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا اور اس کی مسکراہٹ میں بھی ایسا طلسم ضرور تھا کہ وہ پہلی ہی ملاقات میں اسے اپنے سنگ باندھ چکا تھا۔ اسے گھر تک چھوڑتے ہوئے اس نے بتایا تھا کہ وہ دوسرے شہر رہتا ہے، یہاں وادی میں سیر کو آیا تھا اور اسی رات واپسی کا ارادہ تھا لیکن اسے دیکھنے کے بعد ایک دن مزید اس کے ہمراہ گزار کر جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جسے روشنی نے بنا چوں چرا کیے مان لیا۔ وہ تو گویا کوئی اختلاف کر نے کے قابل ہی نہیں رہی تھی۔ وہ ساحرطلسم پھونک چکا تھا۔
    اگلے دن روشنی اپنے گھر سے کچھ فاصلے پر موجود ایک ٹیلے پر کھڑی اس کی منتظر تھی اور وہ گھوڑے پر سوار ایک طرف سے آتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ قریب پہنچا توروشنی اس کی ہمراہی میںاسی جگہ آن پہنچی جہاں وہ پہلے روز ملے تھے اور پھر اسی دن وہ سارے عہدو پیماں اسرار حق نے باندھ لیے جنہیں باندھنے کو ایک عرصہ درکار ہوتا ہے۔وہ تب سے اب تک ہر ہفتے اس سے ملنے آیا کرتا اور روشنی ہر ہفتے اس کی منتظر رہتی۔ وہ چند ہفتوں کے ساتھ میں برسوں کی سی پختگی محسوس کرنے لگی تھی۔ اسرار، روشنی کی روح تک میں سرائیت کرگیا تھا۔ اتنا، کہ وہ اپنی سہیلیوں سے اس کا ذکرکرنے کو معتبر خیال کرنے لگی۔
    ابھی بھی وہ رازو نیاز میں مصروف تھی۔ اس کی واپسی پر افسردہ تھی اور وہ اسے اگلے ہفتے آنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔ تبھی ایک طرف سے لڑکیوں کے قہقہوں کی آوازیں آنے لگی تو روشنی آنکھوں کی نمی صاف کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    عینی کو اپنی دوستوں کے ہمراہ پھولوں کی ٹوکریاں اٹھائے اپنی طرف آ تے دیکھا تو چہرے پر بشاشت لاتے ہوئے مسکرائی اور پھر اسرار حق کی جانب دیکھ کر آنکھ دبائی۔
    ’آؤ! تمہیں اپنی دوستوں سے ملواتی ہوں۔ یہ بہت خوش ہوں گی۔ بہت چاہ ہے انہیں تم سے ملنے کی۔‘ ‘ وہ چہکتے ہوئے اس کا ہاتھ تھامے عینی کی طرف بڑھنے لگی۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن روشنی سننے کو تیار نہیں تھی۔
    ’’ارے روشنی یہاں کیا کررہی ہو؟‘‘ عینی آس پاس دیکھتے ہوئے حیرانی سے پوچھ رہی تھی۔ حیا کی سرخی اس کے رخسار پر چھا گئی۔
    ’’اسرار سے ملنے آئی ہوں۔ تم بھی ملو ان سے اور اسرار یہ میری سہیلیاں ہیں۔‘‘ روشنی نے اسرار کا تھاما ہوا ہاتھ اٹھا کر اسرارکی جانب دیکھا۔ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا پریشان سا کھڑا تھا۔ عینی اور اس کی سہیلیاں اس کے خالی ہاتھ کو دیکھ کرقہقہہ لگا کر ہنس دیں۔

    ٭…٭…٭




  • محتاج — سارہ عمر

    محتاج — سارہ عمر

    ”نل میں پانی نہیں آ رہا۔ کیا مصیبت ہے؟ اب منہ کیسے دھوؤں؟”
    ریحان نے سنک پر کھڑے ہو کر شور مچایا تھا۔چہرے پر صابن ملے وہ بے زار سا کھڑا تھا جب شہلا بالٹی جھولاتی پہنچ گئی۔
    ”کیا مسئلہ ہے، روز کا تماشا ہے۔”ریحان نے منہ پر پانی ڈالتے شہلا پر غصہ اتارا تھا۔
    ”پتا ہے روز کا تماشا ہے پھر بھی کبھی جلدی مت اٹھنا۔”شہلا نے بھی دو بدو سنائی تھیں آخر بہن کس کی تھی۔
    ”جلدی اٹھ کر کیا کروں؟ رات کو موٹر چلایا کرو۔” وہ تولیے سے منہ پونچھ رہا تھا۔
    ”چلاتے تو ہیں روز مگر فرحان، نعمان اور ابا کے جانے کے بعد فوراً لائٹ چلی جاتی ہے۔اس لیے تمہارے نصیب میں بس بالٹی کا پانی ہی آتا ہے۔”
    شہلا نے ہنستے ہوئے کہا تو ریحان نے تولیا ٹانگتے اسے دیکھا۔
    ”جب میرے نصیب میں بالٹی کا پانی ہی ہے تو جلدی اٹھ کر کیا کروں ؟” ریحان نے آنکھیں دکھائیں ۔
    ” بالٹی میں منہ دیکھ لو۔”
    شہلا نے شرارت سے کہتے ہوئے بالٹی میں بچا پانی ریحان پر پھینک دیا تھا اور تیزی سے اندر بھاگی۔
    ”شہلا کی بچی۔”
    وہ دہاڑتا ہوا اس کے پیچھے بھاگا۔
    ”ابھی نہیں ہوئی۔ بچی کے ماموں۔”وہ بھی منہ چڑاتی ہوئی جلدی سے کمرے میں گھس گئی جبکہ ریحان دروازہ بجاتا رہ گیا تھا ۔
    ٭…٭…٭
    شکیل احمد کے چار بچے تھے۔تین بیٹے اور ایک بیٹی ۔ ریحان جاب کرتا تھا۔جبکہ شہلا نے والدہ کی وفات کے بعد تعلیم کا سلسلہ منقطع کر دیا تھا۔ وہ ایف اے کا امتحان دے کر فارغ ہوئی تھی جب خانگی حالات دیکھتے ہوئے اس نے گھر رہنے کو ہی ترجیح دی ۔ فرحان اور نعمان اسکول سے واپس آتے تو کھانے کے لیے شور مچا دیتے۔شکیل صاحب اور ریحان شام کو دفتر سے لوٹتے تھے۔شہلا نے ایک سلیقہ مند لڑکی کی طرح سارا گھر سنبھال لیا تھا۔والد اور بھائیوں کو وقت پہ کھانا پکا ہوا ملتا۔گھر صاف ستھرا اور کپڑے دھلے ہوئے ۔
    جس علاقے میں شکیل صاحب رہائش پذیر تھے وہاں پانی کی بندش کا مسئلہ رہتا تھا۔صبح صبح ریحان اور شہلا کی نوک جھوک بھی چلتی رہتی۔
    دن مہینوں میں بدلے اور مہینے سالوں میں۔
    شہلا بیاہ کر اپنے گھر رخصت ہو گئی تھی۔ریحان کی بھی ترقی ہو گئی تھی۔ریحان کے آفس کی ایک کولیگ شمائلہ اس میں دلچسپی لینے لگی تھی۔ریحان کتنے عرصے بے خبر رہا، مگر جب اسے معلوم ہوا تو وہ کچھ پریشان ہوا تھا۔
    شمائلہ کا تعلق امیر گھرانے سے تھا اور وہ جاب شوقیہ کر رہی تھی۔اور ریحان ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔وہ ہمیشہ سے یہی چاہتا تھا کہ اس کی بیوی اس کی ماں اور بہن کی طرح سادہ اور گھر کو بنانے والی ہو۔شمائلہ دیکھنے سے ہی بہت ماڈرن لگتی تھی۔سونے پہ سہاگا اس نے بلاجھجک ریحان کو شادی کی پیشکش کردی۔ ریحان اس اظہار پر حیران و پریشان رہ گیا ۔ اس نے بغیر سوچے سمجھے بہت سلیقے سے شمائلہ کو انکار کر دیا تھا۔
    ریحان کے انکار نے شمائلہ کو شدید اذیت میں مبتلا کر دیا تھا۔ وہ ان امیر لڑکیوں میں سے تھی جن کے ماں باپ ان کی کوئی فرمائش رد نہیں کرتے تبھی ان کے نزدیک انسان بھی ایک چیز کی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ریحان ایک خوش شکل، ہینڈسم اور اپنے کام سے کام رکھنے والا لڑکا تھا۔ اُس کے اِس لیے رویے نے شمائلہ کو بہت متاثر کیا تھا۔وہ جتنا اس کے قریب جاتی وہ اتنا ہی دور چلا جاتا، مگر اس کے انکار نے شمائلہ کو مزید سرکش بنا دیا تھا۔اُس نے بھی سوچ لیا کہ ریحان کو حاصل کر کے رہے گی۔
    ٭…٭…٭




    شمائلہ نے آہستہ آہستہ ریحان سے دوستی کرنے کی کوشش کی تھی۔دھیرے دھیرے وہ اس کے حواسوں پر چھانے لگی تھی۔ وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی۔جانتی تھی وہ جہاں کہے گی اس کے ماں باپ شادی کے لیے مان جائیں گے۔ شمائلہ نے اسے احساس دلایا تھا کہ پیسہ اس زندگی کے لیے بہت ضروری ہے ۔ اس دنیا میں عزت صرف پیسے والوں کی ہے۔تمہیں اگر دولت اور محبت ایک ساتھ ہی نصیب ہو رہی ہے، تو اسے موقع کو مت گنواؤ ۔ قسمت بار بار مہربان نہیں ہوتی۔
    شمائلہ کی باتوں نے ریحان کو سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔وہ کبھی اتنا مادیت پرست نہ تھا جتنا بنتا جا رہا تھا۔شمائلہ کی صحبت نے بہت بدل دیا تھا۔شمائلہ کی ضد کے باعث اس کے والدین خود ہی رشتہ لے آئے ۔اس کے والد کا اپنا بزنس تھا اور شمائلہ بھی صرف شوق کے باعث ان کے دوست کی کمپنی میں جاب کر رہی تھی۔وہ اپنی بیٹی کی خوشی کی خاطر آ تو گئے مگر انہیں گھر دیکھ کر انتہائی مایوسی ہوئی تھی ۔ شکیل صاحب اور ان کے تینوں بیٹے سادہ طبیعت اور ملنسار تھے، مگر گھر شہلا کے جانے کے بعد سے کافی توجہ طلب حالت میں تھا۔ ایک کام والی تو آتی تھی جو برائے نام صفائی کر کے چلی جاتی، لیکن گھر کو گھر بنانے والی موجود نہ تھی۔ریحان کو لگا تھا کہ شاید شمائلہ شادی کے بعد اس گھر کو گھر بنا دے، مگر اس کے والد نے تو انہیں مزید الجھن میں ڈال دیا تھا۔
    ”دیکھیں شکیل صاحب ریحان کو دیکھ کر مجھے کافی تسلی ہو گئی ہے اور ہمیں اس رشتے پر اعتراض نہیں، مگر معذرت کے ساتھ میری بیٹی شادی کے بعد اس گھر میں نہیں آ سکتی۔”
    ”مگر شبیر صاحب لڑکیاں تو رخصت ہو کر سسرال میں ہی آتی ہیں۔” شکیل صاحب نے جواب دیا۔
    ”جی آپ کی بات بجا ہے، مگر میں نے اپنی بیٹی کو بہت نازوں سے پالا ہے۔ وہ کبھی اتنے چھوٹے اور پرانے گھر میں نہیں رہ سکے گی، مگر میں چاہتا ہوں کہ اپنی بیٹی کی خواہش رد نہ کروں۔”
    شبیر صاحب پہلو بدل کر بولے وہ کچھ کہتے ہوئے جھجھک رہے تھے۔
    ”مگر کیسے؟ کیا کوئی حل ہے؟”
    ” حل تو ہے اگر آپ قبول کریں۔”
    شبیر صاحب کی بات نے ان سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”ابو پلیز ہمارے ساتھ چلیں۔”
    ریحان نے دسویں دفعہ التجا کی تھی، مگر شکیل صاحب گھر چھوڑنے پر رضا مند نہ تھے۔
    ”تم دونوں ہی کچھ بولو۔ابو کو منا لو۔”ریحان فرحان اور نعمان سے کہنے لگا۔
    شبیر صاحب نے شمائلہ کو جہیز میں گھر دینے کی آفر کی تھی۔وہ چاہتے تھے وہ سب لوگ ہی ادھر شفٹ ہو جائیں ۔ ریحان کے خواب تو لمحوں میں پورے ہو گئے ۔ سب کچھ بن مانگے مل گیا۔ خوبصورت امیر بیوی، بنا بنایا گھر، نوکر چاکر اور شبیر صاحب نے مستقبل میں اسے اپنا بزنس سنبھالنے کی بھی آفر کی تھی۔
    شکیل صاحب شادی کے لیے تو مان گئے تھے اور انہوں نے ریحان کو کہہ دیا تھا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ رہے، مگر وہ اسی گھر میں بہت خوش اور مطمئن ہیں کیونکہ یہاں ان کی شریک حیات کی یادیں ہیں۔
    ”ریحان بھائی ابو صحیح کہہ رہے ہیں ۔ ہم ادھر بہت خوش ہیں بس آپ بھابھی کے ساتھ نئی زندگی کی شروعات کریں۔بس ملنے آتے رہیے گا ۔”
    فرحان کی بات پر وہ بے اختیار بھائیوں کے گلے لگ گیا۔وہ ایسا چاہتا تو نہ تھا، مگر پیسے کی چمک نے اسے اپنے پیارے رشتوں سے دور کر دیا تھا۔پہلے پہل تو وہ مستقل آتا جاتا رہتا، مگر پھر یہ آنا کم ہوتے ہوتے ختم ہی ہو گیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    چھے سال بعد:
    ریحان نے شبیر صاحب کا بزنس سنبھال لیا تھا۔ان کے تین بچے تھے۔شمائلہ اچھی بیوی ثابت ہوئی تھی مگر بہت سی باتوں میں ابھی تک وہ خود سر اور ضدی ہی تھی۔
    آج کل ان کے علاقے میں نئی پائپ لائن بچھائی جارہی تھی تبھی صبح سے بجلی بند تھی۔ پانی ہلکا ہلکا آرہا تھا جب اس نے بے ساختہ ہی شمائلہ کو آواز دی تھی۔
    ”پانی نہیں آ رہا، منہ دھلا دو۔”
    ”بالٹی میں پانی رکھا ہے، خود ہی منہ دھو لیں بچے نہیں ہیں جو میں منہ دلاؤں۔ بہت شوق ہو رہا تو کسی ملازم کو بھیجتی ہوں۔”
    ”نہیں رہنے دو۔” اس نے جلدی جلدی منہ دھویا اور باہر نکل آیا۔ کوئی بہت شدت سے یاد آیا تھا۔وہ ناشتا کر کے ٹیرس پر کھڑا ہو گیا ۔آس پاس گھروں سے جنریٹر چلنے کی آواز آ رہی تھی۔ان کا جنریٹر خراب تھا جسے ٹھیک کرنے کوئی آدمی آیا تھا۔
    اس کے والد بھی کتنی چیزیں خود ہی ٹھیک کر لیتے تھے۔وہ ٹیرس سے نیچے جھانک کر دیکھنے لگا۔فرصت ملی تو بے سبب پرانے دن یاد آئے تھے۔اپنا گھر اپنے لوگ۔بھائیوں کا پیار، ان کی نوک جھوک۔
    ”نل میں پانی نہیں آ رہا۔”
    ایک آواز اسے ماضی سے حال میں واپس کھینچ لائی تھی۔
    وہ آواز اِس کے گھر کے سرونٹ کوارٹر سے سنائی دی تھی جس کے صحن کا کچھ حصہ اُس کے ٹیرس سے دکھ رہا تھا۔ اس کا چوکیدار منہ پر صابن لگائے زور زور سے بول رہا تھا۔
    ”نل میں پانی نہیں آرہا۔ اب لے بھی آؤ۔”
    چوکیدار کی بیوی بالٹی اٹھائے آئی تو چھم سے اسے شہلا یاد آئی تھی۔ وہ اب ڈونگے سے پانی ڈال کر اس کا ہاتھ منہ دھلا رہی تھی۔ جیسے ہی شوہر کا منہ دھلا تو بیوی نے ڈونگے میں بچا ہوا تھوڑا سا پانی اس کے منہ پہ اچھال دیا تھا اور دونوں میاں بیوی کھلکھلا کر ہنس پڑے تھے۔
    اس لمحے اسے ادراک ہوا تھا کہ محبت پیسے اور حالات کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ جہاں ہو اس چھوٹے سے گھر کو منور کر دیتی ہے۔

    ٭…٭…٭




  • نالائق — نورالسعد

    نالائق — نورالسعد

    سات بج کر پچپن منٹپر اس کی آنکھ کھل گئی ۔ سستی سے انگڑائی لیتی وہ اٹھ بیٹھی تھی ۔ بالوں کو پونی ٹیل میں سمیٹتی وہ نیچے آئی تو وہی مانوس سا منظر تھا۔چھوٹا سا لِونگ روم اور چمکتا ہوا اوپن کچن۔ اس کا مادی کمفرٹ زون۔گنگناتے ہوئے اس نے آملیٹ کے لیے سامان نکال کر کاؤنٹر پر رکھا۔کٹنگ بورڈ پر پیاز کاٹتے ہوئے وہ ٹھٹکی، آج گھر میں کچھ زیادہ ہی خاموشی اور خالی پن محسوس ہو رہا تھا۔ وہ دھیرے سے مسکرائی،اس کے بغیر تو وہ اب بھی کچھ نہیں کھاتی تھی۔
    ”رالف!” اس نے گردن ترچھی کر کے آواز لگائی۔
    ”ناشتا تیار ہونے والا ہے۔”
    اپنی پسند کا پھولا پھولا آملیٹ وہ پلیٹ میں نکال کر پلٹی تورالف کچن ڈائننگ ٹیبل کے دواطراف دھری کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھا ہوا تھا۔ بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ سرخ سوئیٹر پہنے۔ ہمیشہ کی طرح اس کے قدموں کی چاپ بھی سنائی نہ دی تھی۔
    ”گڈ مارننگ!” اْس نے مسکرا کر کہا۔
    ”ٹوسٹ اور آملیٹ لوگے یا میوزلی؟”
    اس نے سرپوری طرح اٹھا کر اُس پر اپنی سلیٹی آنکھیں جمائیں اور سخت لہجے میں بولا:
    ”تمہیں پتا ہونا چاہیے آگسٹا کہ میں سنڈے کوآملیٹ ہی کھاتا ہوں۔”آگسٹا کی مسکراہٹ دھیمی پڑی۔
    ”ہاں۔ مجھے پتا ہے، میں نے سوچا شاید آج تم۔”
    ”میری عادتیں نہیں بدلتیں آگسٹا ،تم جانتی ہو۔” اس کی آواز بھاری اور گونج دار تھی ۔ جیسے کوئی بھولابسرا خواب ۔ ”خیر، یہ بتاؤ کہ تم نے اس ہفتے کے الاؤنس کے لیے اپلائی کر دیا؟ویسے اور کتنا عرصہ بے روزگاری بینیفٹ پر پلنے کا ارادہ ہے ؟” آخری فقرے میں سوال کم اور طنز زیادہ تھا۔
    ”آج کر دوں گی۔” آگسٹاکی آواز خود اسے بھی مشکل سے سنائی دی۔ حلق میں کچھ پھنسا تھا شاید۔
    چند لمحے توقف کے بعدرالف نے اسے گہری نظروں سے دیکھا۔
    ”ناشتا کرو آگسٹا۔میں نے تمہاری پسند کا آملیٹ بنایا ہے۔” آواز اب نرم اور پُرسکون تھی۔




    ”دیکھو تمہارا شوہر تمہارا کتنا خیال رکھتا ہے۔”
    آنسوؤں کا گولا اس نے حلق سے اتارااور مسکرا دی۔
    ”بالکل! ” ایک ٹکڑا کانٹے میں پھنسا کر کھایا اور بولی:
    ”لذیذ! ہمیشہ کی طرح۔ کاش میں بھی تمہارے جیسا کھانا بنا سکوں کبھی۔ ”
    ”ایسا ہونا تو ممکن نظر نہیں آتا۔” رالف کی مخصوص یک طرفہ مسکراہٹ اس کے چہرے پر سجی ہوئی تھی۔
    ”تم جیسی نالائق عورت کیا مجھ جیسے عظیم شیف کو ڈیزرو کرتی ہے؟ ”
    آگسٹا نے جھکے سر کے ساتھ نفی میں سر ہلایا۔
    ”بالکل بھی نہیں۔” ایک زخمی مسکراہٹ اس کی طرف اچھالی اور اپنے ناشتے کی طرف متوجہ ہوگئی۔
    ناشتا ختم کر کے وہ کچھ جھاڑ پونچھ میں لگ گئی۔ رالف شاید اپنی اسٹڈی میں چلا گیا تھا، وہ زیادہ تر وہیں ہوتا تھا۔ اسے گند گی سے شدید چڑ تھی اس لیے آگسٹا صاف گھر کو بھی دن میں دو بار صاف کرتی۔لونگ روم کے کارپٹ پر ویکیوم کلینر چلاتے ہوئے اسے بہ مشکل ہی اپنے بجتے ہوئے فون کی آواز سنائی دی۔ کچھ جھنجھلاتے ہوئے اس نے فون کو دیکھا۔ ہیلینا کالنگ۔ہیلینا اس کی بچپن کی سہیلی تھی۔ ایک گہری سانس بھر کے اس نے فون اٹھا لیا۔
    ”ہاں اوگی ڈارلنگ؟” دوسری طرف سے آواز آئی۔
    ”کیسی ہو؟ طبیعت کیسی ہے؟”
    ”ہاں فلو بہتر ہے۔ ” آگسٹا منہ ہی منہ میں میں بڑبڑائی۔
    ”میں فلو کی بات نہیں کر رہی اوگی۔” دوسری طرف ایک لمحے کی خاموشی چھائی پھر وہ بولی۔
    ”خیر میں نے فون بھی اس لیے کیا تھا کہ میں آج ڈاؤن ٹاؤن جا رہی ہوں، میڈیکل سینٹر بھی جاؤں گی۔ تم کہو تو…”
    ”میں ٹھیک ہوں ہیلینا۔” آگسٹا نے خفگی سے بات کاٹی۔
    ”تم جاؤ اپنے گھٹنوں کے دردکا علاج کراؤ،مزیدسردیاں آنے والی ہیں۔” انداز جتانے والا تھا۔
    ”اور ٹی وی پر بتا رہے تھے کہ اس سال ناروے میں سردی کا دس سالہ ریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔” اپنے تئیں بات میں وزن پیدا کر کے اس نے فون بند کیااور واپس اپنے کام میں جت گئی۔
    گھر کے اندر کی صفائی تو اس نے ایک گھنٹے میں ہی ختم کر لی۔ مشکل کام ابھی باقی تھا دروازے کے سامنے سے برف ہٹانے کا۔ اس نے اپنا شاکنگ پنک اوور کوٹ پہنا،لال کیپ اور لال ہی سنو بوٹ پہنے بیلچہ اٹھائے وہ باہر آگئی۔
    برف کے ساتھ دھینگا مشتی کرتے اسے آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا۔برگن (ناروے کا ایک قصبہ) کا کمزور سا سورج پوری طرح نکل تو آیا تھا، مگر اس کی روشنی بھی ٹھنڈی اور پھیکی سی تھی۔ وہ بیلچہ چلاتی گئی، چلاتی گئی مگر سورج کی طرح اس کی کاوشیں بھی بے سود رہیں، سوائے اس کے کہ اس کی کمر میں شدید ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں۔ بے زار ہو کراس نے ہاتھ روک دیا۔ دفعتہ اسے کھڑکی کے شیشے سے رالف کا چہرہ جھانکتا نظر آیا۔ خفگی کے تاثرات شیشے کے پار سے بھی عیاں تھے، اسے گھر کی سامنے والی سیڑھیوں پر برف بھی سخت نا پسند تھی۔ آگسٹا نے دانت پیستے ہوئے بیلچے سے ایک اور وار کیا توبلبلا گئی۔ یوں لگا کہ ساری ریڑھ کی ہڈی جھٹکا کھا گئی ہو۔
    ”کیا میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں؟” ایک خوش گوار مردانہ آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔
    آگسٹا نے سر اٹھا کے دیکھا۔ برابر والے گھر کی سیڑھیوں پر ایک چھبیس ستائیس سالہ خوش شکل لڑکا کھڑا تھا۔ وہ نیا پڑوسی تھا اور شاید کچھ گروسری لے کر واپس آرہا تھا۔ آگسٹا نے پچھلے ہفتے اسے اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھا تھا۔کمر کا درد چھپاتے وہ یقینا سرخ پڑ رہی تھی۔کن انکھیوں سے گھر کی کھڑکی کی طرف دیکھا، رالف اب وہاں نہیں تھا۔
    ”نہیں میں کر رہی ہوں۔ کر لوں گی۔”وہ اپنی کیپ سر پے ٹھیک سے جماتے ہوئے بولی۔
    ”آپ رکیں۔میں یہ رکھ کے آتا ہوں۔” وہ مسکرا کر کہتا اپنے گھر داخل ہوگیا۔ آگسٹا وہیں کھڑی سرد ہوائیں کھاتی رہی۔ کوئی پانچ منٹ بعد وہ باہر آیا۔ اس کے ہاتھ سے بیلچہ لیا اور اس کے دروازے کے آگے سے برف ہٹانے لگا۔




  • صدقہ جاریہ — قرسم فاطمہ

    صدقہ جاریہ — قرسم فاطمہ

    ”پیارے بچے! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو پھر وہ خواہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں ہو اسے اللہ ضرور لائے گا۔اللہ بڑا باریک بین اور خبردار ہے۔” ( لقمان:16 )
    ”میرے دادا کہا کرتے تھے،پُتر! اللہ کے گھر کسی چیز کی کمی نہیں۔ اس کے گھر دیر ضرور ہے مگر اندھیر نہیں اور میں جواب میں کہتا: ابو جی! کیا اللہ کا بھی کوئی گھر ہوتا ہے؟ دادا بے اختیار ہنسنے لگتے پھر کہتے: پُتر! یہ پوری کائنات اس سوہنے رب کا گھر ہی تو ہے۔ مگر میں نہیں سمجھتا تھا پھر جب سمجھنے لگا تو اللہ اپنے گھر سے میرا گھر بھی بھرتا گیا۔جب اللہ اپنے گھر سے عطا کررہا ہے، تو میرے بیٹے ہم کیوں رزق کی تگ و دو میں پریشان ہوتے ہیں؟” لقمان احمد نے مسکراتے ہوئے اپنے بیٹے کو سمجھایا۔
    ”بابا جان! میں رزق کے لیے نہیں آپ کے لیے پریشان ہورہا ہوں۔اس عمر میں ایک بار پھر آپ محنت مزدوری میں لگ جائیں گے۔صرف اس لیے کہ میری خواہش پوری ہوجائے؟ نہیں،اب نہیں!” وہ اپنے باپ کے سامنے سر جھکائے بیٹھا انتہائی کمزور آواز میں کہہ رہا تھا۔ اس کے لہجے میں زمانوں کی تکان تھی۔
    ”بیٹے! اگر تم نہیں بھی چاہتے تو سمجھ لو تمہاری ماں کہہ رہی ہے۔اس کی خواہش تھی کہ تم لندن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرو۔تم اپنی ماں…”
    ”ایک تو ہر بات میں امی کو مت لایا کریں۔ میں جانتا ہوں اُن کی ایسی کوئی خواہش نہیں تھی اور اگر کوئی خواہش تھی تو وہ مرگئی۔” اس نے آخری لفظ کہتے ہوئے اپنے باپ کے چہرے کا بدلتا رنگ دیکھا۔ وہ کرسی سے اُٹھ کر ستاروں سے ڈھکا آسمان تکنے لگا۔
    ”انسان مرجاتے ہیں، خواہشیں نہیں۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ پیسوں کا مسئلہ نہیں ہے بیٹے۔ میں نے ساری زندگی تمہارے لیے ہی محنت کی ہے، کیونکہ میں جانتا ہوں ایک دن تم میرے لیے صدقہ جاریہ بنو گے۔” بوڑھے باپ نے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھ اسے تسلی دی۔
    ”بابا جان! آپ میرے لیے اور کیا کیا کریں گے۔اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے؟ دو سال مزید آپ میرے لیے پیسے اکٹھے کرتے رہیں گے۔ اتنا بوجھ نہ ڈالیں میرے کندھوں پر۔ میں نہیں اتارسکوں گا۔کبھی بھی نہیں۔ آپ کی ایک دن کی محنت کا بھی نہیں۔” ایان احمد نے اپنے بوڑھے باپ کے ہاتھ تھامتے ہوئے سر جھکا لیا۔اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
    ”بیٹے! رزق کا وعدہ اللہ نے کیا ہے جو چیز ہمیں انتہائی قریب سے بھی دکھائی نہیں دیتی،وہ اس کے لیے تو کبھی مخفی ہوتی ہی نہیں۔ پیسے کہاں سے آئیں گے؟ زمین سے، آسمان سے؟یہ سوچنا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ اگر رائی کے دانے کے برابر یا کسی پہاڑ کے برابر بھی رزق ہمارے لیے لکھا ہے نا تو وہ ہمارے تک پہنچ جائے گا۔ تم بس دعا کرو کہ جو ہمارے لیے لکھ دیا گیا ہے ہم اس تک پہنچ جائیں۔ اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش پیسوں کی کمی کے باعث ترک کبھی مت کرنا۔” بوڑھے باپ نے حکیمانہ انداز میں ایان کو سمجھایا۔
    ”بابا جان! آپ …”وہ بہت کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر ہمیشہ کی طرح باپ کی گود میں چہرہ ڈھانپ کر خاموش ہوگیا۔ لقمان احمد نے مسکراتے ہوئے ایان کی پیشانی چومی اور اس کی نم آنکھیں صاف کرنے لگے۔
    ٭…٭…٭




    اے میرے پیارے بیٹے! تو نماز قائم رکھنا اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا،برے کاموں سے منع کیا کرنا اور جو مصیبت تم پر آئے صبر کرنا کہ یہ بڑے تاکیدی کاموں میں سے ہے۔
    (لقمان:17)
    ٭…٭…٭
    جنوری کے مہینے میں لندن برف میں دب سا گیا تھا۔ شدید دھند نے تاریک آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔سیاہ روش پر سفید برف چمکنے کو تیار تھی۔سڑک پر اِکا دُکا لوگ نظر آرہے تھے۔
    ”یہ تم لوگ مجھے کہاں لے آئے ہو؟” گاڑی میں پانچ افراد بیٹھے تھے جن میں ایک مسلسل سوال کررہا تھا جبکہ باقی چار اُس پر ہنس رہے تھے۔
    ”آدھے گھنٹے سے بکواس کررہا ہوں، مجھے آدھی رات کو کہاں لے جارہے ہو؟ تم لوگ جانتے ہو میں…”
    ”اوئے فکر نہ کر تجھے زندہ ہی واپس لائیں گے۔” ڈرائیو کرنے والے لڑکے نے بریک لگاتے ہوئے کہا۔
    بارہ بجنے میں چند منٹ باقی تھے جب دھند میں لپٹی سڑک پر بنے ریستوران کے قریب گاڑی روک دی گئی۔ وہ پانچوں ایک ساتھ ریستوران میں داخل ہوئے جہاں ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا۔رات کے اس پہر خاموش اندھیرے میں ایان کا دم گْھٹنے لگا۔اس نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ یکدم شور بلند ہوا۔
    ”ہیپی برتھ ڈے، ہیپی برتھ ڈے ایان۔” ایک ساتھ بے شمار آوازیں بلند ہوئیں۔ ڈانسنگ لائٹس سے ہال جگمگا اٹھا۔ تیز میوزک کے ساتھ جگمگ کرتی لائٹس اور ایک طرف سے اٹھتا ڈھیروں دھواں دیکھ کر ایان قدرے حیران ہوا۔اس کے تمام کلاس فیلو گول میز پر رکھے کیک کے گرد دائرہ بنائے کھڑے تھے۔
    ”اب کیا ایسے ہی حیران پریشان کھڑے رہو گے یا کیک بھی کاٹو گے؟”ثنا نے چٹکی بجاتے ہوئے ایان کو متوجہ کیا۔
    ”تھینک یو سو مچ۔تم لوگوں نے میرے لیے اتنا سب کیا۔” وہ قدرے بوکھلائے ہوئے انداز میں بولا۔
    ”اگر میں یہ بتادوں کہ اس چھوٹے بچے کو ہم یہاں کیسے لائے ہیں ،تو تم لوگوں کا ہنس ہنس کر برا حال ہوجائے۔” ایان کیک کاٹنے ہی لگا تھا جب اس کے دوست کی بات سن کر سب قہقہے لگانے لگے۔تیز میوزک اور طنزیہ قہقہوں کی گونج میں اس نے غصہ ضبط کرتے ہوئے کیک کاٹا۔وہ ان سب خرافات کا عادی کبھی بھی نہیں تھا، مگر اب اس کی مرضی سے کچھ بھی نہیں ہونا تھا۔
    ”یہ تمہارا پاکستان نہیں ہے اب تو بڑے ہوجاؤ ایان۔”
    ”یہ لندن ہے لندن! اور تم یہاں انجوائے کرنے آئے ہو۔اب تو ڈرنا چھوڑ دو یار۔” ایک ساتھ بے شمار آوازیں بلند ہوئیں جن کے لہجوں میں طنز و تمسخر تھا۔وہ خاموشی سے مسکراتا رہا۔جواب نہ اس کو دینا آتا تھا اور نہ وہ دینا چاہتا تھا۔لندن میں پچھلے ایک سال سے وہ ہر موقع پر یوں ہی غصہ ضبط کیا کرتا تھا مگر اب قوّتِ برداشت کا چپ کی زنجیروں سے آزاد ہونے کا وقت تھا۔
    ”یہ جوس لو ایان۔” باسط نے اس کے ہاتھ میں گلاس تھماتے ہوئے ثنا کے کان میں سرگوشی کی جس پر وہ قہقہہ لگانے لگی۔ ایان نے خاموشی سے گلاس تھام لیا جو اس کے لیے زہر ثابت ہوا۔
    ”یہ ۔یہ کیا ہے اس گلاس میں؟” ابھی گلاس سے اس کے لب چھوئے ہی تھے کہ وہ ٹھٹک گیا۔وہ اس بدبو سے واقف تھا۔
    ”یہ کیا گھٹیا حرکت ہے؟ تم جوس کے نام پر مجھے شراب پلا رہے ہو؟” وہ یکدم چیخنے لگا۔تیز میوزک کے باعث وہ بے حد بلند آواز میں باسط کا گریبان پکڑتے ہوئے غرّایا تھا۔
    ”ایان چھوڑ دے یار۔یہ صرف مذاق تھا۔ہم نے تمہیں بتا دینا تھا بس یہ چھوٹا سا مذاق تھا۔” اکبر ایان کے ہاتھ تھامتے ہوئے اسے سمجھانے لگا۔ دیارِ غیر میں اکبر اس کا واحد اچھا دوست تھا۔
    ”چھوٹا سا مذاق؟ مائی فٹ!” اس نے انتہائی غصے میں میز پر رکھا گلاس پوری قوت سے زمین پر دے مارا۔
    ”یہ تم لوگوں کے لیے مذاق ہوگا میرے لیے نہیں اور …اکبر! تم ۔تم بھی؟ تم جیسے گھٹیا انسان ایسی ہی گِری ہوئی حرکت کرسکتے ہیں۔” میوزک بند ہوچکا تھا۔ رات کے اس پہر بولنے والا اب صرف ایان احمد تھا۔
    ”ایک بات تم لوگ ہمیشہ یاد رکھنا میرا ایمان ابھی زندہ ہے۔تم لوگ چاہ کر بھی میرے اندر حرام نہیں اُنڈیل سکتے۔کبھی بھی نہیں ۔” اس کا چہرہ غصے سے لال ہوچکا تھا۔وہ ٹوٹے گلاس کو ٹھوکر مارتے ہوئے ریستوران سے باہر نکل آیا۔
    ”یان ۔ایان! میری بات سن یار۔” اکبر اس کے پیچھے بھاگا، مگر اب اُسے کسی کی پروا نہیں تھی۔ وہ یہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا۔دور بہت دور۔
    موسم شدید بگڑ چکا تھا۔ بارش بھی ایان کے آنسوؤں کے مانند برستی ہی جاری تھی۔جب ساتھ کوئی رونے والا نہ تھا تو بارش نے اس کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔وہ مسلسل چلنے کے باعث تھک چکا تھا۔کتنا وقت گزر چکا تھا اور دن نکلنے میں کتنا وقت تھا اسے کچھ معلوم نہ تھا۔وہ کہاں پہنچ چکا تھا اور یہاں سے واپس کیسے جانا تھا وہ اس سوچ سے بھی بے پروا تھا۔ طویل مسافت کے بعد وہ ایک دکان کے باہر برآمدے کے نیچے فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۔
    ٭…٭…٭
    ”بابا جان! میں نے آپ سے کتنا کہا تھا مجھے صنم کدوں کے اس جہاں میں نہ بھیجیں۔ میں یہاں روز مرتا ہوں۔ ہر صبح،ہر شام،ہر رات۔ میں اتنے عرصے میں بھی ان لوگوں جیسا نہیں بن پایا، مگر میں پھر بھی مطمئن ہوں۔” وہ ہاتھ میں کاغذ تھامے خود کلامی کرنے لگا۔کاغذ پر لکھی قرآنی آیات پر نظریں جمائے وہ کہیں کھو گیا۔ماضی سایہ بن کر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرانے لگا۔
    ”مگر بابا یہ تو قرآن پاک کی آیتیں لکھی ہوئی ہیں۔آپ تو کہہ رہے تھے آپ نے میرے لیے نصیحتیں لکھی ہیں۔” وہ بیگ کی زپ بند کرتے ہوئے باپ سے سوالیہ انداز میں پوچھ رہا تھا۔کل کی فلائٹ سے وہ لندن جانے کی تیاری مکمل کرچکا تھا۔
    ”یہ آیات میں نے اپنے ہاتھوں سے تمہارے لیے لکھی ہیں۔ مجھے یقین ہے اگر تم ان نصیحتوں پر عمل کرو گے تو ہمیشہ راہِ راست پر رہو گے میرے بچے۔ مجھ سے دور تو جارہے ہو، مگر اس صفحے کو ہمیشہ اپنے پاس رکھنا۔ اسے روز دیکھنا۔ بلاناغہ پڑھنا پھر دیکھنا تم خودبخود ان پر عمل بھی کرنے لگو گے۔” ماسٹر لقمان اداس تھے مگر پھر بھی مسکرانے لگے۔
    ”تمام والدین کو اپنی اولاد کی تربیت کرتے وقت حکیم لقمان کی اپنے بیٹے کو کی جانے والی یہ نصیحتیں یاد رکھنی چاہئیں پھر تربیت کرنا کافی آسان ہوجائے گا۔”
    ”جی جی بابا جان! آپ کی ساری باتیں میں ویسے بھی یاد رکھوں گا اور یہ آیات بھی ۔ہمیشہ اپنے پاس رکھوں گا۔” ایان نے عادتاً باپ کے دونوں ہاتھ تھام کر مان رکھ لیا۔ماضی بادلوں کے سنگ بہہ گیا۔ اس کی آنکھوں میں نمی سی تیرنے لگی۔
    ”آج آپ کو ایک راز کی بات بتاتا ہوں۔آپ کی ساری حکمتیں اور نصیحتیں تو ایک طرف مگر آپ کے ہاتھ سے لکھی قرآن کی یہ چند آیات ہمیشہ میرے ساتھ رہتی ہیں۔آج بھی میں ان کی برکت سے بچ گیا۔” وہ ہلکا سا مسکرایا۔
    ”آپ نے میرے اندر حلال رزق اور ایمان کی تپش کو ایسے بھر دیا ہے کہ میں ہمیشہ بھٹکنے سے پہلے ہی بچالیا جاتا ہوں، مگر بابا جان! اب میں تھکنے لگا ہوں۔اپنے نفس اور خواہشات کو دفن کرکے دوسروں کو راہِ راست پر لانے کی کوششیں کرتے کرتے تھک گیا ہوں۔ کوئی میری مانتا ہی نہیں۔ سب ہنستے ہیں مجھ پر ۔ پھر میں بھی سب کے سامنے ہنسنے لگتا ہوں۔”بارش قدرے تھم چکی تھی،ایان کے آنسوؤں کی طرح۔
    ”مگر بابا۔ آج میرا ضبط ٹوٹ گیا۔میں یہ سوچ سوچ کر کانپ رہا ہوں کہ اگر میں وہ گلاس پی لیتا تو جہنم کے کس گڑھے میں گرتا، لیکن میں یہ سوچ کر مزید کانپنے لگتا ہوں کہ کسی بیرونی قوت نے مجھے گناہ کرنے سے روک لیااور پھر جواب بھی فوراً مل گیا۔ آپ کی دعاؤں سے۔ وہ دعائیں جو میری ہر منزل کا راستہ آسان کردیتی ہیں۔”ایان دنیا سے بے پرواہ کاغذ تھامے اپنی سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا جب فجر کی پکار بلند ہوئی۔آواز بے حد مدھم قدرے دور سے آرہی تھی۔پکار جس قدر مدھم تھی پکارنے والا اتنا ہی قریب تھا۔
    ”میرے لیے یہ دعا بھی کیا کریں بابا جان کہ میرا دل بے شک مرجائے بس ضمیر نہ مرے۔دل مرتا ہے تو صرف انسان ہی مرتا ہے ۔ضمیر مرجائے تو انسانیت مرجاتی ہے۔” وہ فٹ پاتھ سے اٹھا تو اس کے جوتے اور جیکٹ برف سے بھر چکے تھے۔وہ مسکرانے لگا۔دل کا بوجھ کم ہوا، تو مسجد کی تلاش میں وہ ایک بار پھر چلنے لگا۔
    ”اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز پست کر یقینا آوازوں میں سب سے بدتر آواز گدھے کی ہے۔”(لقمان:19)
    ٭…٭…٭




  • چنگیزی ہاؤس — ایم زیڈ شیخ

    چنگیزی ہاؤس — ایم زیڈ شیخ

    ”ناظرین! سازشیں اپنے عروج پر ہیں۔ نانا جان کی جائیداد میں سے کس کو کیا کیا ملے گا، یہ فیصلہ سب سے پہلے سیفی نیوز کے ذریعے آپ تک پہنچے گا۔” سیف الرحمن سیفی کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔
    ”چپ کر کمبخت مارے! اگر کسی نے سن لیا تونئی مصیبت گلے پڑ جائے گی ۔”رضیہ خاتون نے کم سن سیفی کو ڈانٹ پلائی مگر سیفی کہاں باز آنے والا تھا۔ وہ ہاتھ میں مائیک نما لکڑی کا ٹکڑا پکڑے بولتا رہا۔
    ”ناظرین ویلکم بیک! نانا جان کے واپس آنے تک ہم کوشش کرتے ہیں کہ ہمارا رابطہ لٹل بوائے اور فیٹ بوائے یعنی چھوٹے ماموں اور موٹے ماموں سے ہو جائے۔” اچانک اسے بریک لگانی پڑی کیونکہ امی کی چپل نے اس کے سر پر بوسہ دے دیا تھا۔
    ”ناظرین! میڈیا پر حملہ ہو چکا ہے۔ امی کی جانب سے ڈرون طیارے مسلسل سیفی نیوز پر بم برسا رہے ہیں ۔ اس سے پہلے کہ آزادانہ صحافت کی راہ میں مزید ڈرون پھینکے جائیں اور ہم کھبے سجے ہو کر ان سے اپنا آپ نہ بچاسکیں، یہاں سے بھاگ رہے ہیں ۔ کیمرہ مین کالو ماسی کے ساتھ سیف الرحمن سیفی…” وہ سچ مچ وہاں سے بھاگ کر سیڑھیوں کے ذریعے چھت پر پہنچ گیا۔ رضیہ کے لبوں پر مسکراہٹ تھی ۔
    ”اللہ بچائے تیری شرارتوںسے سیفی۔” وہ زیرِ لب بڑبڑائی ۔
    ٭…٭…٭




    نواب اسد علی خان تقسیم سے پہلے بھی نواب ابنِ نواب تھے اور بعد میں بھی ان کا شمار رؤسا میں ہوتا تھا ۔ پرانے وقتوں کے اصلی گھی والے بوڑھے تھے اسی لیے زندگی کی اسی بہاریں دیکھ کر بھی چاق و چوبند تھے ۔ دوستوں نے حرکتوں کے پیشِ نظر نام تبدیل کرکے نواب چنگیزی رکھ دیا تھا۔ پوتے پوتیوں تک سب انہیں چنگیزی دادا یا نواب چنگیزی ہی کہتے تھے ۔ شجرۂ نسب چنگیز خان سے ملتا تھا یا نہیں، مگر حرکتیں ویسی ہی تھیں۔ ان کی موجودگی میں تمام پھنے خان کونے کھدروں میں چھپ جاتے تھے اور کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ ان سے نظر ملا کر بات کرسکے۔
    جوانی میں نجانے کونسا ایسا گناہ کیا تھا جو اولادِ نرینہ کی صورت میں اللہ میاں کی دو گائے ان کے پلے پڑ گئیں ۔ خلیل اور عقیل کی جوڑی بچپن ہی سے سب کی توجہ کا مرکز بنی رہی ۔ اپنی حرکتوں سے جو کسر بچی تھی، وہ ڈیل ڈول نے پوری کردی ۔ خلیل جسمانی لحاظ سے اتنا کمزور تھا کہ سب ترڈّا پہلوان یعنی ٹڈا پہلوان کہتے تھے جبکہ عقیل صحت کے معاملے میں اتنا خودکفیل تھا جتنا کرپشن کے معاملے میں وطن عزیز کے سیاستدان ۔ پورے گاؤں میں دونوں لٹل بوائے اور فیٹ بوائے یعنی چھوٹے خان اور موٹے خان کے نام سے مشہور تھے۔ تعلیم حاصل کرنے کے معاملے میں ان کا نقطہ نظر یہی تھا کہ تعلیم ایک زیور ہے اور زیور مردوں پر حرام ہے ۔ پس انہوں نے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے فقط پرائمری اسکول تک ہی جانا گوارا کیا ۔ اولادِ نرینہ کے لیے بیسیوں منتیں مانی گئی تھیں اس لیے جب یکے بعد دیگرے دو بچوں کی پیدائش ہوئی تو نواب صاحب ففٹی کرچکے تھے۔ شادی کے بارے میں نواب صاحب کا فلسفہ تھا کہ یہ ایک بے وقوفی ہوتی ہے جو بیوقوفی کی عمر میں ہو جائے تو بہتر رہتا ہے ۔ اسی لیے دونوں کی شادی جلد ہی کردی گئی تھی کہ ممکن ہے سدھر جائیں مگر بے سود… آوارہ گردی اور صحبت کا اثر کبھی کبھار زندگی بھر کا روگ بنا جاتا ہے۔ ان دونوں کی عمر ابھی تیس سال بھی نہیں ہوئی تھی کہ بال بچے دار ہو چکے تھے۔ یہ الگ بات تھی کہ خود بچوں سے بھی دو ہاتھ آگے تھے۔ زمین، جائیداد، بینک بیلنس اور گاڑیوں کی کوئی کمی نہ تھی ۔ دولت گھر کی باندی تھی مگر عقل و دانش کے معاملے میں خاندان کا کوئی ایک فرد بھی نواب صاحب کا دل نہ جیت سکا تھا ۔ انہیں یہ دکھ کے ان کے بعد اس جائیداد کا کیا ہوگا جس کی ہر شاخ پہ الو بیٹھا تھا جبکہ بہو اور بیٹوں کو یہ دکھ کہ نواب صاحب کا رام رام ست ہو اور وہ آزادی سے سکون کا سانس لے سکیں۔ اپنا اپنا دکھ تھا اپنی اپنی سوچ تھی۔ نواب صاحب کی قابلِ رشک صحت دیکھ کر دور دور تک ان کے اگلے جہان جانے کا امکان نظر نہیں آتا تھا۔ یوں دونوں جانب آگ برابر لگی تھی ۔ اس رسہ کشی میں رضیہ ایک سایہ دار درخت تھی جسے بیوہ ہونے کے بعد نواب صاحب نے حویلی میں بلالیا تھا ۔ نواب چنگیزی کے اس فیصلے پر دونوں بہوؤں نے ناک بھوں تو چڑھائی مگر ان سمیت کسی کی اتنی مجال نہ تھی کہ کسی قسم کا احتجاج کرسکیں چنانچہ دل کے ارماں سینے میں ہی رہ گئے ۔ سیف الرحمن سیفی کو نانا سے بڑا لگاؤ تھا اور وہ واحد فرد تھا جو بچہ ہو کر بھی ہر بات نواب صاحب سے کہہ
    دیتا تھا ۔ اسی لیے اکثر لوگ اس کے سامنے کوئی بات کرتے ہوئے ڈرتے تھے کہ نواب صاحب تک نہ پہنچا دے۔ خلیل کے دو بیٹے تھے جبکہ عقیل کا ایک ہی بیٹا تھا اور حسبِ فطرت دونوں افراد کے بیٹے بھی اپنے اپنے والد کی فوٹو کاپی تھے۔ دونوں بھائیوں کی بیویاں آپس میں بہنیں تھیں ۔ شادی سے پہلے گلناز اور مہناز دونوں صحت مند ضرور تھی مگر شادی کے بعد کام کاج نہ کرنے اور بے فکری سے کھانے پینے کے باعث موٹاپے کا شکار ہو چکی تھیں ۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے رہنے کے باعث بقول سیفی، دور سے دونوں جگالی کرنے والی بھینسیں لگتی تھیں ۔ نوکر چاکر تو کافی سارے تھے اور وقتاً فوقتاً مزید بھی آتے رہتے تھے ۔ مالی کی ضرورت تھی تو نواب چنگیزی نے باقاعدہ اخبار میں اشتہار دے دیا تھا کہ پر کشش تنخواہ پر ایک مالی کی ضرورت ہے جس کی تعلیمی قابلیت کم از کم ایف اے ہونی چاہیے۔ گریجویشن والے کو ترجیح دی جائے گی ۔ اشتہار سب کے لیے باعثِ حیرت تھا۔ کچھ منچلے تو شوقیہ انٹرویو دینے چلے گئے جبکہ کچھ مالی حالات سے مجبور لوگ بھی قسمت آزمائی کرنے پہنچے ۔ نواب صاحب کو جاننے والوں نے ہر ایک کو منع کردیا تھا کہ ان کے ہاں ملازمت کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ نواب صاحب کی طبیعت کے آگے ملازمت کرنے سے بھوکے مر جانا بہتر سمجھتے تھے لوگ۔ اب کے بار کس کی شامت آنے والی تھی یہ فیصلہ اتوار کی شام تک ہو جانا تھا۔ انٹرویو کے دوران کسی کو دادا جان کے کمرے کے ارد گرد بنا بلائے آنے کی اجازت نہیں تھی۔ تمام احکامات ایسے صادر کئے گئے تھے جیسے گھر کے اندر صدر یا وزیراعظم کی آمد ہو۔ نواب صاحب کے اصول و ضوابط ایسے ہی عجیب ہوتے تھے ۔ اور آخر کار اتوار کا دن آن پہنچا۔
    ٭…٭…٭
    گلناز اور مہناز کی اماں جان اپنی ہونہاربیٹیوں سے ملنے چنگیزی ہاؤس پہنچ چکی تھیں۔ زیرِ بحث مسئلہ جبکہ دونوں نکھٹو داماد بھی ان کے ساتھ کمرے میں موجود تھے۔ قصہ چہار درویش کے چاروں درویشوں کی طرح وہ باری باری سب کی بپتا سننے سے پہلے ہی وہ اپنی کہے جارہی ہیں ۔اپنا تکیہ کلام ”میری بات غور سے سنو۔” ان کی زبان سے نکلا تو چھوٹا بول پڑا۔
    ”اماں جی! ہم ہمہ تن خرگوش ہیں، آپ کہیے جو کہنا ہے۔”
    ”ہمہ تن گوش ہوتا ہے بیٹا! کب آئے گا تم لوگوں کو بول چال کا طریقہ، مجھے تو ڈر ہے سچ مچ نواب صاحب عاق ہی نہ کردیں تم لوگوںکی سادگی دیکھ کر۔”
    ” وہ اماں تمہیں تو پتہ ہے نا چھوٹے کی پیدائش زرا کمزور ہے دماغ کام کرنا بند کردیتا ہے اکثر اوقات اسی لیے کچھ کا کچھ بول جاتا ہے ۔”
    ”اے ہے بیٹا! یک نہ شد دو شد! یہ پیدائش نہیں یادداشت ہوتا ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک نمونے ہو تم دونوں ۔ اللہ بخشے تمہاری ماں اگر زندہ ہوتی تو… خیر چھوڑو میں بھی کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی۔ تو میں کیا کہہ رہی تھی؟”
    ”اماں آپ کی بھی پیدائش کمزور ہو گئی ہے۔” مہناز نے قہقہہ لگایا تو وہ دونوں دیدے پھاڑے دونوں بہنوں کو دیکھنے لگیں۔
    ” لو کر لو بات! تم لوگوں کو بھی ساتھ رہ رہ کر یہی بونگیاں مارنے کی عادت ہوچکی۔ اوہ ہاں! یاد آیا۔ میں کہہ رہی تھی کہ میری بات غور سے سنو ۔ چپ چاپ تماشہ دیکھنے سے کچھ بھی ہاتھ نہیں آنے کا۔” سب بڑھیا کی باتیں سننے لگے ۔
    ٭…٭…٭