Tag: urdu

  • چچا غالب طلبا کی نظر سے — عائشہ تنویر

    چچا غالب کو کون نہیں جانتا؟ ادب کا ذوق تو ہر ایک کو نہیں ہوتا، لیکن اردو لازمی پڑھنے والوں کے لئے بھی غالب وہ چچا ہیں جو ہر وقت بھتیجے، بھتیجیوں کی جان کے درپے رہتے ہیں۔
    میٹرک میں ان کے خطوط، اسلوب، شاعری کی تشریح پر جان کھپائی تو، اور آگے جا کر ان کی شاعری کے حسنِ بیان و خواص کو بھی سراہا۔ یہ غالب ہی ہیں جنہوں نے کتنے فیل ہونے والوں کو بچایا ہے اور پاس ہونے والوں کو فیل کرایا ہے۔




    سچ تو یہ ہے کہ طلبا تو پھر طلبا ہی ہوتے ہیں، لیکن اردو ادب کے نقاد بھی غالب کے لئے متضاد آرار رکھتے ہیں۔ کوئی ان کی نثر کا قائل ہے، تو کوئی ان کی شاعری کا دلدادہ ہے۔ نیرنگ خیال کے تو کیا ہی کہنے مگر کوئی ہم سے پوچھے تو ہم تو غالب کی پسند کو پسند کرتے ہیں۔ جی ہاں! آم جن کے بارے میں غالب اور ہماری رائے یکساں ہے کہ "آم ہوں اور بے حد ہوں”
    عموماً سائنس کے طلبا جو محض کسی خاص پیشے میں جانے کا ارادہ رکھتے ہیں، چچا غالب ان کے لئے کسی خوف سے کم نہیں، قصور اس میں چچا کا بھی نہیں کہ طلبا ہی دھیان سارا اپنے ان مضامین پر دیتے ہیں جن کا امتحان ہونا ہو اور لازمی مضامین میں دلچسپی نہیں رکھتے اور یہاں غالب کی انا کے کیا کہنے، بے توجہی تو انہیں گوارا نہیں۔ اپنی ذات کا غرور تو ان کا خاصہ ہے کہ خود فرماتے ہیں:
    ہیں اور بھی دنیا میں سخن ور بہت اچھے
    کہتے ہیں کہ غالب کا ہے انداز بیاں اور
    جب خود شناسی کا یہ عالم ہو تو طلبا پر وہ کیوں کر رحم کریں گے؟ سو نمبر کم کروا کر طلبا کا دل دکھاتے ہیں۔ اسی لئے طلبا غالب سے خائف ہی رہتے ہیں۔
    ویسے یہ بات تو ہمارے والدین اور اساتذہ کے سوچنے کی ہے کہ ایک طرف ہمیں عاجزی کا سبق دیتے ہیں، عشق معشوقی سے دور رہنے کا مشورہ دیتے ہیں تو دوسری جانب غالب پڑھاتے ہیں جو خود فرماتے ہیں:
    عشق نے غالب نکما کر دیا
    ورنہ ہم بھی آدمی تھے کام کے
    سو اگر ہماری نئی نسل کا پسندیدہ مشغلہ عشق و عاشقی ہو، تو ان سے کیا شکوہ؟ ابھی تو یہ شکر ہے کہ غالب کے اشعار طلبہ کو من و عن سمجھ ہی نہیں آتے اور بہت سے معنی و مفہوم کے مبہم رہ جانے کے سبب وہ محبوب کے پیچھے غالب کی طرح خوار نہیں ہوتے، بلکہ "ایک جائے گا تو دوسرا آئے گا” کے قائل ہیں۔
    کچھ دن پہلے ہمارا ایک محفل میں جانا ہوا۔ وہاں چند طلبا بیٹھے خدا جانے غالب کے اشعار کی گہرائی میں اترنا چاہتے تھے یا اس سے انتقام لینا چاہتے تھے، ہم جان نہ سکے۔ لیکن یہ ضرور ہے کہ ان کی تشریحات اتنی "گہری” تھی کہ شعر خود اس میں ڈوب کر مر گیا۔
    چند تشریحات آپ کو بھی سناتے ہیں، کیا معلوم آپ کو امتحان میں ضرورت پڑ جائے۔
    شعر عرض کیا:
    کی میرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
    ہائے اس زود پشیمان کا پشیمان ہونا




    اب خوب صحت کے حامل ایک طالب علم کے، جن کی جسامت دیکھ کر قتل تو دور کی بات انہیں گھورتے بھی ڈر لگے، بولنا شروع ہوئے.
    ” دراصل شاعر اس شعر میں اس بلی جیسے قاتل کی حالتِ زار پر روشنی ڈال رہے ہیں، جو نو سو چوہے کھا کر حج کو چلی تھی۔ اب قاتل صاحب بھی جب ایک بندے کو قتل کرنے پہنچے تو وہ باتوں میں ماہر تھا۔ اس نے قاتل کو سیدھی راہ دکھانے کو یوں دل پذیر تقریر کی کہ قاتل کو بھی اپنی عاقبت سنوارنے کا خیال آیا لیکن اس نے اپنے آخری شکار کو کہا:
    "جناب باتیں آپ کی ساری درست ہیں، لیکن مسئلہ یہ ہے کہ میں تو آپ کے قتل کا ایڈوانس لے کر رنگ والے کو دے بھی چکا، نیا گھر بس تیار ہے، تھوڑی بہت آرائش باقی ہے.اب ایڈوانس واپس تو کر نہیں سکتا تو آپ کو تو مرنا پڑے گا۔ آئندہ کے لئے میں توبہ کرتا ہوں۔ پکا وعدہ کہ آپ کی آخری خواہش کا احترام کیا جائے گا۔”
    اب مقتول میاں اپنی حالت زار پر خوب روئے کہ کیا ہوتا اگر قاتل نے ایڈوانس نہ کھایا ہوتا، یا ان کے محبوب نے ہی یہ کام اس قاتل کا گھر مکمل ہونے کے بعد اسے سونپا ہوتا۔ کچھ تو بچت کی راہ نکل آتی۔ اب تو مرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ساری محنت اور تقریر رائیگاں گئی۔
    ہائے تیری پشیمانی میرے کسی کام کی نہیں۔
    ابھی ہم ان پہلوان کی تشریح کی تشریح ہی کر رہے تھے کہ ان کا دوسرا ساتھی بولا:
    "میں تو یہ کہتا ہوں کہ آخر لوگ اس طور تحقیق کیوں نہیں کرتے کہ غالب کی موت طبعی نہ تھی۔ دھمکیاں تو عرصے سے مل رہی تھیں۔ آخر ایک دن ایک با ذوق نے عقیدت رکھنے کے باوجود پاپی پیٹ کے لئے ان کی جان لے لی۔”
    ان صاحب کا تعلق یقینا کراچی سے تھا اور ارادہ بھی پولیس میں جانے کا تھا، تب ہی تو شعر سے تفتیش کا آغاز کیا۔
    ان کی بات سُن کر ہم غالب کے دور کے امن و امان کے مسائل کے بارے میں سوچ ہی رہے تھے کہ کسی ٹی وی پروگرام کے شوقین نے بروقت مداخلت کی۔
    "ارے چھوڑو یار، تم شبیر سے پوچھ لو، کوئی جانے نہ جانے شبیر تو جانتا ہو گا ناں، اس کی معلومات غضب کی ہیں، تم ذرا مجھے اس دوسرے شعر کے معنی سمجھاؤ۔
    آہ کو چاہئے اک عمر اثر ہونے تک
    کون جیتا ہے تیری زلف کے سر ہونے تک
    "ہممم!!!”
    بہت دیر سوچ بچار کے بعد ایک عاشق گویا ہوئے:
    "دراصل تم اس بات کو یوں لو کہ اب دلی وِلّی کو تو ہم جانتے نہیں، لیکن سر نے کہا تھا غالب کی شاعری زمان ومکان سے آزاد ہے۔”




  • ہڑپہ اور موہنجو دڑو کی کہانی

    ہڑپہ اور موہنجو دڑو کی کہانی

    ہڑپہ اور موہنجو دڑو کی کہانی
    کہانی بڑی پرانی!
    سمیع اللہ حامد۔ بحرین

    اِدھر آؤ بچو! کہانی سنو!
    کہانی ہماری زبانی سنو!

    کہانی یہ ماضی کی سوغات ہے
    یہ صدیوں پرانی ملاقات ہے

    کنارے پہ راوی کے اِک ملک تھا
    اور آباد و خوش حال، اچھا بھلا

    بنے تھے ہر اِک سمت پکے مکاں
    سرِ شام اُٹھتا تھا جن سے دھواں

    وہاں منڈیاں اور بازار تھے
    کساں تھے، جولاہے تھے، کمہار تھے

    بنے تھے فِصیلوں پہ کچھ دَمدمے
    کہ جلتے تھے شب بھر وہاں قمقمے

    وہاں کا جو تھا بادشاہ دوستو!
    وہ رکھتا تھا سب پر نگاہ دوستو!

    ہری رُوپا تھا اُس کی بیٹی کا نام
    کِیا کرتی تھی سلطنت کے وہ کام

    وہ شہزادی قدرت کا اظہار تھی
    وہ حُسن و ذہانت کا شہکار تھی

    رعایا تھی خوش اُن سے بے انتہا
    وہ کرتے تھے جاں اپنی اُن پر فدا

    کہیں دُور بہتا تھا دریا ”سواں”
    وہاں کا تھا شہزادہ موہن جہاں
    تھا شہزادہ موہن بہت خُوبرو
    نہایت بہادر، بڑا جنگ جُو

    یونہی ایک دن اُس نے یہ ٹھان لی
    کروں کیوں نہ میں سیر ہر ملک کی

    اجازت جو گھر والوں سے مل گئی
    تو موہن کے دل کی کلی کِھل گئی

    کہا اُس کی امّی نے بیٹے مرے!
    سپاہی بھی کچھ ساتھ ہوں گے ترے

    کمر بستہ سب تھے سفر کے لیے
    پھر اِک دن سفر پر سبھی چل پڑے

    تھکن سے وہ گرتے سنبھلتے رہے
    مگر سب مسلسل ہی چلتے رہے

    اسی طرح سیّاحوں کے بھیس میں
    وہ پہنچے ہری روپا کے دیس میں

    وہیں اک سرائے میں رہنے لگے
    ہے اچھی جگہ، سب یہ کہنے لگے

    کبھی گھومنے جاتے گُل زار میں
    کبھی پھرتے دن بھر وہ بازار میں

    وہ دولت بھی لے آئے تھے ساتھ ہی
    سبھی نے خریداری جی بھر کے کی

    انھوں نے خریدے کچھ اوزار بھی
    لیے سیپیوں سے بنے ہار بھی

    سبھی نے خریدیں نئی کنگھیاں
    جو ہاتھی کے دانتوں سے بنتی تھیں واں
    ہر اِک نے پسندیدہ محفل چُنی
    کچھ اپنی سنائی، کچھ اُن کی سنی

    نہ جانے خبر کس طرح اُڑ گئی
    کہ موہن نہیں عام سا آدمی

    وہ جو دور بہتا ہے دریا ”سواں”
    وہاں کا ہے شہزادہ موہن جہاں

    خبر جب یہی بادشاہ کو ملی
    تو فوراً ہی دوڑائے دو ایلچی

    محل میں پھر اُس نے بلایا انھیں
    مزے دار کھانا کھلایا انھیں

    سبھی نے پھر اُن سے ملاقات کی
    انھی سب میں رُوپا بھی موجود تھی

    چلا اُن کی باتوں کا اِک سلسلہ
    تو رُوپا نے بھی اِس میں حصہ لیا

    جو موہن سے رُوپا نے کی بات چیت
    لگا اُس کو جیسے وہ گاتی ہو گیت

    کِیا دل میں موہن نے اِک فیصلہ
    قریب آکے پھر بادشاہ سے کہا

    اگر آپ کی ہو اجازت حضور!
    تو رُوپا کو دلہن بناؤں ضرور

    سبھی کو پسند آئی موہن کی ذات
    ہوئی پکی یوں اُن کے رشتے کی بات

    رہے اُس جگہ کچھ دن آرام سے
    تھی آزادی سب کو ہر اِک کام سے
    محل ہی میں سب نے گزارے وہ دن
    تھے سوچوں سے بھی بڑھ کے پیارے وہ دن

    جدائی جو گھر کی ستانے لگی
    وطن کی انھیں یاد آنے لگی

    پھر اِک دن وہ رختِ سفر باندھ کر
    چلے، کیونکہ لمبا تھا اُن کا سفر

    لیے سب نے جب خوب آنسو بہا
    تو موہن نے فوراً ہی اُن سے کہا

    میں واپس نہ آئوں، مری کیا مجال
    کریں گے یہ شادی ہم اگلے ہی سال

    مسافت تھی اُن کی بہت ہی طویل
    سفر اُن کو درپیش تھا چھے سو میل

    اکہتر دنوں میں وہ پہنچے وطن
    تھکاوٹ سے تھے چُور اُن کے بدن

    جو آئے ملاقات کرنے سبھی
    سنی پھر کہانی ہری رُوپا کی

    وہ موہن کی منگنی پہ خوش ہو گئے
    خیالوں میں شادی کے وہ کھو گئے

    مگر باپ نے یہ کِیا فیصلہ
    میں خود جائوں گا لے کے اِک قافلہ

    کِیا بادشاہ نے جو عزمِ سفر
    تو ہنستی تھی اُس پر قضا و قدر

    ہری رُوپا کے دیس پہنچا وہ جب
    وہاں اُس نے نظّارے دیکھے عجب

    کہ وہ سب تھے خوش حال بے انتہا
    ملا تھا انھیں مال بے انتہا
    بہت خوش ہوئے اُن کی آمد سے لوگ
    انہیں کیا پتا تھا کہ کل ہو گا سوگ

    رہے اُن کے مہمان خانے میں وہ
    معزز تھے کیونکہ زمانے میں وہ

    ہوئی بادشاہ کی جو نیّت خراب
    تو حملے کا اُس نے کیا اِرتکاب

    مکینوں کو تلواروں پر دھر لیا
    نہتوں کو بھی قتل اُس نے کِیا

    ہری رُوپا کے والد اور والدہ
    نہ تھی اُن کے بچنے کی کوئی جگہ

    غرض خون اُس نے بہایا بہت
    ڈرایا بہت اور ستایا بہت

    جو دریائے راوی نے دیکھا ستم
    تو غصے میں وہ آگیا ایک دم

    بہاؤ کا رُخ اُس نے موڑا اِدھر
    جہاں پر تھا واقع ہری کا نگر

    درختوں کو ٹیلوں کو ڈھاتا ہوا
    پرانی فصیلیں گِراتا ہوا

    وہ داخل ہوا اُس طرح شہر میں
    کہ طغیانی تھی اُس کی ہر لہر میں

    تھی رفتار اُس کی بہت تند و تیز
    درندہ ہو جیسے کوئی خون ریز

    وہ آبادیوں کو کچلتا گیا
    ہر اِک شے کو گویا نگلتا گیا
    جہاں تھے کبھی کچے پکے مکاں
    وہاں اب تھا ہر سمت پانی رواں

    جو موہن کو پہنچی یہی داستاں
    تو لُٹ ہی گیا اُس کے دل کا جہاں

    وہ گھبرا کے دریا ”سواں” پر گیا
    بالآخر وہیں ڈوب کر مر گیا

    خفا ہو گیا واں بھی دریا سواں
    تو دہرائی اُس نے وہی داستاں

    پھنسا ملک موہن کا گرداب میں
    ہوا غرق سارا ہی سیلاب میں

    یہ دونوں وطن مٹ گئے اِس طرح
    کہ موجود تھے ہی نہیں جس طرح

    سنو پیارے بچو! سناتا ہوں میں
    کہانی کا مقصد بتاتا ہوں میں

    ہڑپہ جسے آج کہتے ہیں سب
    ہری رُوپا لڑکی ہے اِس کا سبب

    وطن تھا جو موہن کا اے دوستو!
    اُسے کہتے ہیں اب موہنجو دڑو

    ہُوا ساتھیو! اب یہ قصّہ تمام
    کہ دنیا کو حاصل نہیں ہے دوام

    کوئی بھی ہمیشہ نہ رہ پائے گا
    کسی روز حامد بھی مر جائے گا

    یہ دنیا بھی کیا ہے، فقط خار و خس
    ہے اللہ بس اور باقی ہَوس
    ٭…٭…٭

    مشکل الفاظ
    1۔ فِصیلیں (دیواریں)
    2۔ دمدمے (مورچے)
    3۔ خوبرو (خوبصورت)
    4۔ رختِ سفر (سفر کا سامان)
    5۔ ارتکاب (غلط کام)
    6۔ طغیانی (سیلاب)
    7۔ خون ریز (خون بہانے والا)
    8۔ دوام (ہمیشہ)
    9۔ خاروخس (کانٹے اور گھاس)
    نوٹ
    پیارے دوستو! اس ”نظم کہانی” کو غور سے پڑھیں اور پوری کہانی کو اپنے ذہن میں دہرا کر اس کا خلاصہ اپنے الفاظ میں لکھیں۔

  • عکس — قسط نمبر ۷

    اپنے تنے ہوئے جسم کو حتی الامکان ریلیکس کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اس نے پہلی بار اس آئینے کو دیکھا، وہ اب بھی ویسے ہی وہاں کھڑا تھا۔ اپنے اسی استقبالی، خیرمقدمی انداز میں… اسی غرور اور طنطنے کے ساتھ… اسی پراسراریت میں لپٹے جس نے پہلی بار اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ برآمدے میں قدم بڑھاتے ہوئے اس نے آئینے پر ایک نظر اور دوڑائی تھی۔




    اس گھر میں اس کی آمد 26 سال بعد ہوئی تھی اور ان 26 سالوں کو اس نے جیسے ایک مونو سیکنڈ میں calculate کر لیا تھا۔ گھر کے اندرونی دروازے کو اس کے انتظار میں کھڑے ملازم نے کھولتے ہوئے اسے سلام کیا تھا۔ اس نے سانس روک کر اس دروازے سے اندر قدم رکھا تھا۔ اس کا ماتحت عملہ اس کے ہمراہ تھا۔ اس کا پی اے اس گھر کی تفصیلات سے اسے آگاہ کر رہا تھا۔ ایک لمحے کے لیے اس کا دل چاہا وہ اسے روک دے۔ اسے اس گھر کے تعارف کی ضرورت نہیں تھی۔ وہ گھر اس کی یادداشت کا انمٹ حصہ تھا جسے کھرچ کھرچ کر مٹا دینے کی ہر کوشش ناکام رہی تھی۔
    ہال میں پہنچ کر چند لمحوں کے لیے اس کے قدم فریز ہو گئے تھے۔ وہ سیڑھیاں اب اس کے سامنے تھیں۔ سیڑھیاں، چیخیں اور…
    ”وہ وہاں کچن کا دروازہ ہے۔” پی اے کا جملہ اسے جیسے کرنٹ کی طرح لگا تھا جو اسے حال میں واپس لے آیا تھا۔ اس نے چونک کر ان سیڑھیوں سے نظریں ہٹائیں اور پی اے کو دیکھا۔
    ”پانی مل سکتاہے؟” اپنے اعصاب اور حواس پر بیک وقت قابو رکھنے کی کوشش میں اس نے لگاتار بولتے پی اے کو ٹوکا۔ پی اے فوری طورپر اس کی پیاس بجھانے کے انتظامات میں مصروف ہو گیا۔ اسے اپنے گرد جو خاموشی چاہیے تھی وہ چند منٹوں کے لیے ہی سہی لیکن مل گئی تھی۔ جسم میں سے گزرتی خوف کی ایک لہر کو اس نے جیسے خود کو ساکت رکھتے ہوئے earth کیا۔ غیر محسوس انداز میں اپنے ہاتھوں کی مٹھیاں بھینچتے ہوئے اس نے ایک نظر اپنی کلائی پر ڈالی۔ اس کے رونگٹے کھڑے ہو رہے تھے۔ اسی غیر محسوس انداز میں ہاتھ جھٹکتے اور نظریں چراتے ہوئے اس نے پانی کا وہ گلاس تھاما جو اس کے سامنے ایک ٹرے میں پیش کیا گیا تھا۔ اس نے ایک سانس میں وہ گلاس خالی کیا تھا۔ وہ گھر اسے کس طرح ہیبت زدہ کرنے والا تھا یہ اس کے لیے کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ اس نے وہاں پوسٹ نہ ہونے کی مقدور بھر کوشش کی تھی مگر کامیابی نہیں ہوئی تھی۔ وہ آسیب زدہ گھر 26 سالوں کے بعد جیسے اسے ایک بار پھر اپنی طرف کھینچ رہا تھا۔
    ”مجھے اس گھر کو ایک نظر دیکھنے دیں۔”پی اے نے اس کے پانی کا گلاس رکھتے ہی دوبارہ بولنا شروع کیا ہی تھا جب کہ اس نے اسے ٹوک دیا اور قدم آگے بڑھا دیے۔ ماتحت عملے نے کچھ حیران نظروں کا تبادلہ کیا لیکن پھر کچھ کہے بغیر اس کے ہمراہ ہو لیے۔
    گھر بہت تبدیل ہو چکا تھا لیکن وہاں موجود پرانی چیزوں میں سے کوئی بھی ایسی نہیں تھی جسے اس نے ایک ہی نظر میں نہ پہچان لیا ہو۔ اسے رہائشی عمارت کا جائزہ لینے میں زیادہ دیر نہیں لگی تھی۔ اس گھر نے اس کی زندگی میں idealاور idealism نام کی چیز کو چھین لیا تھا اور بہت سارے سوال دے دیے تھے جنہیں اس کا دماغ بہت سالوں تک کھوجتا رہا… الجھتا رہا… ناکام ہوتا رہا… اور پھر جب بالآخر اسے جواب ملا تھا تو بے یقینی کی ایک عجیب سی کیفیت نے اگلے کئی سال اسے اپنے حصار میں رکھا اور بے یقینی وہ واحد شے نہیں تھی جو بہت عرصے اس کے ہمراہ رہی تھی… ایک ناقابل بیان اذیت بھی، شرم اور دکھ کا ایک عجیب احساس بھی اور ان تمام احساسات کے درمیان وہ ایک چہرہ بھی جو اپنی آنکھوں میں خوف اور دہشت لیے اسے دیکھ رہاتھا۔ صرف چند سیکنڈز کے لیے ملنے والی وہ نگاہ جس کا تصور بھی اسے ٹھنڈے پسینے دلانے کے لیے کافی تھا۔
    اوپر والے فلور کے تقریباً تمام کمرے لاکڈ تھے۔ اس نے کسی کمرے کو نہیں کھلوایا۔ وہاں اب ایسا کچھ نہیں تھا جسے دیکھنے کی اسے خواہش تھی۔ اس گھر کا ماسٹر بیڈ روم بھی لاکڈ تھا اور صرف وہ واحد کمرا تھا جس کے دروازے کے باہر اس کے قدم چند لمحوں کے لیے فریز ہوئے تھے۔ ایک لمحے کے لیے اس کمرے میں جانے کی شدید خواہش نے اسے آن گھیرا تھا پھر اس نے اسی رفتار سے اس خواہش کو جھٹک دیا تھا۔
    ”باہر چلتے ہیں۔” اس نے جیسے منٹوں میں عمارت کے اندرونی جائزے کو مکمل کرتے ہوئے کہا۔ وہاں اندر کھڑے بہت سی چیزوں اور یادوں کا ایک سیلاب تھا جو اسے بہائے لیے جارہا تھا۔ اس نے اپنے وجود کو غرق ہونے سے بچانے کی جیسے ایک اور کوشش کی تھی۔
    عمارت کے اردگرد موجود لان پہلی نظر میں اسے ویسا ہی لگا تھا… اور دوسری نظر نے اسے وہ خاردار جھاڑیاں، کھوکھلے ہوتے تنے اور سوکھے ہوئے پیڑ پودے دکھانے شروع کر دیے تھے جو بظاہر اس تراش خراش کے دم پر کھڑے تھے جو یقینا اس کی آمد سے ایک دن پہلے کی گئی تھی۔ 26 سال پہلے وہ لان اس حالت میں نہیں تھا… نہ وہ لان نہ وہاں کے درخت اور پودے اور نہ ٹینس کا وہ کورٹ جس پر آخری میچ یقینا سالوں پہلے کھیلا گیا تھا۔ سب کچھ بوسیدہ اور خستہ حال تھا ان تکلیف دہ یادوں کی طرح جو اس کے اندر سرکنڈوں کی طرح سر نکالے ہمہ وقت موجود رہنے کے باوجود ایک لمبے عرصے سے وہ کاٹ اور چبھن کھو چکی تھیں جس نے اس کے بچپن کے ایک بڑے حصے کو بے حد بے رحمی سے لہولہان اور مسخ کیا تھا۔
    ”اس طرف سرونٹ کوارٹرز ہیں۔” پی اے نے اسے کسی رہنمائی کا انتظار کیے بغیر لان کے عقبی حصے میں کسی سدھائے ہوئے جانور کی طرح جاتے ہوئے دیکھ کر کچھ حیرانی کے ساتھ کہا۔ اس کو ڈی سی کے انداز میں اس عمارت کے لیے ایک عجیب سی familiarity (مانوسیت، واقفیت) نظر آرہی تھی۔
    ”پتا ہے۔”اس کے انداز میں واقعی ہی ایک عجیب سی مانوسیت تھی اس گھر کے لیے۔ کوئی اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ دیتا تب بھی اس کے لیے عمارت کے عقبی حصے میں اس جگہ جانا دشوار نہ ہوتا۔ اس کے قدم اب جس رستے پر تھے وہاں اس کی زندگی کی بہترین اور بدترین یادیں بکھری تھیں۔ کچن کے عقبی دروازے سے کئی فرلانگ دور۔ عمارت کے بالکل عقب میں، وہاں اب وہ کوارٹر نہیں تھا۔ چند لمحوں کے لیے اس نے اپنے آپ کو اسی شاک اور بے بسی کی حالت میں پایا جو اس نے 26 سال پہلے اس رات محسوس کی تھی۔
    وہ closure اب بھی نہیں ہوا تھا جس کی خواہش اسے وہاں تک لے آئی تھی۔ وہ آسیب اب بھی اس کے وجود کے اندر ہی رہنے والا تھا۔
    ……٭……




    ہال تالیوں سے گونج رہا تھا۔ ایبک فرنٹ رو میں اس مباحثے کے دوسرے مقررین کے ساتھ بیٹھا اسٹیج کی سیڑھیاں چڑھتی فاطمہ کو دیکھ رہا تھا۔ وہ پہلی بار ایچی سن کی ٹیم میں شامل ہو کر کسی انٹرکالجیٹ مقابلے میں شریک ہونے آیا تھا۔ کنیئرڈ کی ٹیم ہمیشہ سے ہی ایک سخت حریف رہی تھی ان کے لیے… اور ہوم گراؤنڈ اور ہوم کراؤڈ کے اضافی advantage کے ساتھ وہ اس بار کچھ اور بھی deadly ہو سکتی تھی۔ اس کے برابر بیٹھے اس کے ٹیم میٹ اکبر علی نے اسے اسٹیج پر چڑھتی ہوئی فاطمہ کے بارے میں انفارم کرنا شروع کیا۔ وہ کنیئرڈ کالج کا Ace تھی۔ کم سے کم اکبر کی باتوں سے اس نے یہی اندازہ لگایا تھا۔ وہ بہت سے مقابلوں میں اس لڑکی کے ہاتھوں ٹرافی گنوا چکا تھا۔ فلک شگاف تالیوں کی گونج میں اس سے آٹھ دس گز دور اس کے تقریباً بالمقابل اس لڑکی نے روسٹرم سنبھال لیا تھا۔
    ہال میں اب پن ڈراپ سائلنس ہو گئی تھی۔ اس لڑکی پر نظریں جمائے ایبک کے ہونٹوں پر بے اختیار ایک مسکراہٹ رینگی۔ یہ وہ پروٹوکول تھا جو آڈیئنس صرف ایک چیمپئن ڈبیٹر کو دیتا تھا۔ اس لڑکی کی تقریر میں اس کی دلچسپی اور تجسس کچھ اور بڑھ گیا تھا۔ وہ اب روسٹرم پر لگا مائیک ٹھیک کر رہی تھی اور اس وقت پہلی بار ایبک نے اسے نروس محسوس کیا… اور اگر ایسا تھا تو ایک حریف کے طور پر یہ مقابلہ شروع ہونے سے پہلے کی سب سے اچھی خبر تھی۔ وہ اتنا ہی mean تھا جتنا کسی بھی مقابلے کے حریف ایک دوسرے کے لیے ہو سکتے تھے خاص طور پر اس صورت میں جب مدمقابل صنف نازک ہو اوراس کی کامیابی کے قوی امکانات ہوں۔ ایبک کو وہاں نیچے بیٹھے اگر کسی بات کا اندازہ نہیں ہوا تھا تو وہ یہ تھا کہ اس لڑکی کی نروس نیس کی وجہ وہ خود تھا۔وہ اگر اسٹیج سے نیچے بیٹھا اس پر نظریں جمائے اس کی حرکات و سکنات کا جائزہ لینے میں مصروف تھا تو وہ روسٹرم کے سامنے کھڑی اس کو نہ دیکھنے کے باوجود اس کے وجود سے کسی پہاڑ میں دبے آتش فشاں کی طرح باخبر تھی۔
    ایبک نے مباحثے کے آغاز میں چند ہی جملوں کے بعد اسے پہلی بار یک دم خاموش ہوتے دیکھا۔ وہ واضح طور پر تقریر بھولی تھی اور اس سے پہلے کہ وہ غلطی نوٹس ہوتی کنیئرڈ کی ٹیم اور ہال میں بیٹھی آڈیئنس نے تالیاں پیٹنا شروع کر دیا تھا۔ کسی مقرر کی غلطی کو کوراپ کرنے کا سب سے بہترین طریقہ… ایبک اور وہاں بیٹھے دوسرے کالجز کے مقررین میں خوشی کی ایک لہر سی دوڑی تھی۔ تقریر بھولنا اور شروع کے چند سیکنڈز میں ہی بھولنا کسی مقرر کے لیے کتنا demoralising تھا وہ سب جانتے تھے۔ فاطمہ کی تقریر میں سب کا انہماک پہلے ہی تھا۔ اب اشتیاق بھی بڑھ گیا تھا۔




  • عکس — قسط نمبر ۶

    عکس نے گاڑی سے اتر تے ہوئے سر اٹھا کر اس آئینے کو دیکھا جو اس گھر کے برآمدے میں دروازے کے پاس رکھا تھا اور جس میں اس وقت شیر دل اور شہر بانو کی پشت نظر آرہی تھی۔ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے وہ کمشنر اور اس کی بیوی کا استقبال کررہے تھے جن کی گاڑی اس وقت پورچ میں داخلی برآمدے کے بالکل سامنے کھڑی تھی، خود اس کی گاڑی پورچ کی چھت سے باہر تھی۔ نظریں آئینے سے ہٹا کر اس نے ایک لمحے کے لیے سر اٹھا کر آسمان کو دیکھا جہاں سے ہلکی بوندا باندی ہورہی تھی ۔پانی کی ہلکی پھوار نے اس کے چہرے، بالوں اور لباس کو ذرا سا نم کیا اور برآمدے میں کمشنر اور اس کی بیوی سے ملتے ہوئے شیر دل نے بالکل اس لمحے گردن موڑ کر اسے دیکھا تھا۔ وہ سیاہ موتیوں سے ایمبرائڈرڈ ایک فٹنگ والا سیاہ شیفون کا لباس پہنے ہوئے تھی جو اس کے متناسب جسم کو کچھ اور بھی متناسب کررہا تھا۔ عام طور پر کھلے رہنے والے گھنے سیاہ بال اس وقت ایک سیاہ نیٹ میں ڈھیلے جوڑے کی شکل میں اس کی گردن کے پیچھے سمٹے اس کی پتلی اور لمبی گردن کو نمایاں کیے ہوئے تھے۔ دائیں کندھے پر اسٹول کی شکل میں تہ شدہ دوپٹا ڈالے وہ بائیں ہاتھ میں ایک بہت چھوٹا اور خوب صورت سیاہ پرس پکڑے ہوئے تھی۔ شیر دل نے اس سے نظریں ہٹائیں مشکل کام تھا یہ اور اس نے مشکل سے ہی کیا۔ وہ کمشنر اور ان کی فیملی کے ساتھ آئی تھی اس لیے کمشنر اور ان کی بیوی گاڑی سے اتر کر سیدھا اندر جانے کے بجائے چند لمحوں کے لیے وہیں برآمدے میں رک گئے تھے۔ کمشنر کا استقبال کرنے کے بعد شیر دل برآمدے سے نکل کر اس کی گاڑی کی طرف بڑھا۔ اس کی طرف جاتے ہوئے غیر محسوس انداز میں اس نے اپنی جیب میں پڑا ٹشو پیپرٹٹولا تھا۔




    ڈرائیور سے کچھ کہتے ہوئے عکس جب تک پلٹی وہ اس کے سامنے تھا۔ دونوں بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائے۔ بلیک ڈنر سوٹ کے ساتھ ایک سرخ Striped ٹائی لگائے، سلور کف لنکس اور ٹائی پر ایک کرسٹل کی ٹائی پن لگائے وہ اپنے اس حلیے میں اس کے سامنے کھڑا تھا جو اس کی ایک وجہ شہرت تھا۔ اکیڈمی میں کوئی اور کامنر اپنی ڈریسنگ سینس میں شیر دل کے سامنے نہیں ٹھہر سکتا تھا۔ عکس مراد علی نے اپنے اتنے سال کی سروس میں بھی شیر دل سے زیادہ خوش لباس مرد نہیں دیکھا تھا۔
    عکس نے گہری مسکراہٹ کے ساتھ ستائشی نظروں سے شیر دل کو دیکھا۔ ہوا کے ایک جھونکے نے شیر دل کی ٹائی کو اڑایا۔ عکس کی نظر بھٹکی۔ اس کی ٹائی کو بے اختیار اڑنے سے روک دینے کی خواہش کو اس نے اتنی ہی بے اختیاری کے ساتھ دبایا جس طرح وہ ابھری تھی۔
    دونوں کے درمیان اب خیر مقدمی کلمات کا تبادلہ ہورہا تھا۔ وہی رسمی جملے… اور وہی ان کہے مفہوم… وہ ہمیشہ کی طرح اس کے چہرے پر نظریں جمائے ہوئے بات کررہا تھا۔ اور اس کے چہرے پر نظریں جمائے شیر دل کے لیے یہ اندازہ لگانا مشکل ہورہا تھا کہ اس کے چہرے پر موجود کون سی شے کس کو ماند کررہی تھی۔ اس کے کانوں کی لوؤں میں دمکتے سفید موتیوں کےstuds اس کی شفاف چمکدار سیاہ آئی لائنز سے سجی آنکھوں کو یا اس کی آنکھیں سرخ لپ اسٹک سے رنگے ہونٹوں سے چھلکتی دودھیا دانتوں کی قطار کو جو اس کی مسکراہٹ کو اور بھی دلکش کررہی تھی۔ بارش کی پھوار کے ننھے ننھے قطرے اوس کے قطروں کی طرح اس کے بالوں اور چہرے پر چمک رہے تھے۔ ایک لمحے کے لیے شیر دل کا دل چاہا وہ ہاتھ بڑھا کر اس کے چہرے کو اپنی انگلیوں کی پوروں سے صاف کردے… صرف ایک لمحے کے لیے پھر اس نے نظر چرائی تھی…جیب سے ایک ٹشو نکال کر غیر محسوس انداز میں عکس کی طرف بڑھاتے ہوئے شیر دل نے کہا۔
    ”تم نے بڑا رسک لیا۔” عکس نے کسی سوال کے بغیر وہ ٹشو تھام کر اسی غیر محسوس انداز میں چہرہ اور سر تھپتھپاتے ہوئے کچھ حیرانی سے اس سے پوچھا۔
    ”کیا؟ ”وہ دونوں اب ساتھ چل رہے تھے۔
    ”بارش میں گاڑی سے نکل آئیں۔” قدم بڑھاتے ہوئے شیر دل نے کچھ سنجیدگی سے کہا۔
    ”تو؟” وہ الجھی۔
    ”اگر میک اپ بہہ جاتا تو؟”اس بار شیر دل کے ہونٹوں اور آنکھوں میں شرارت لہرائی تھی یہ جاننے کے باوجود کہ وہ ایک سیاہ آئی لائنز اور لپ اسٹک کے سوا شاید ہی کچھ لگائے ہوئے تھی۔
    ”ہاں رسک تو تھا، میک اپ صاف ہوجاتا تو تم اس سے زیادہ گھورتے مجھے… جتنا ابھی گھوررہے تھے۔” عکس نے ہاتھ میں پکڑے ٹشو کوبڑی نفاست سے لپیٹ کر پرس میں بے نیازی سے رکھتے ہوئے کہا۔جواب ویسا ہی آیا تھا جیسا سوال کیا تھا۔ اسے دیکھے بغیر شیر دل نے بے اختیار سر جھکا کر اپنی مسکراہٹ چھپائی۔ وہ باقی لوگوں کے قریب پہنچ چکے تھے اور وہ اسے جواباً کچھ نہیں کہہ سکتا تھا۔
    کمشنر کی بیوی کے ساتھ بات کرتی شہر بانو عکس کے استقبال کے لیے چند قدم آگے بڑھ آئی تھی۔




    ”شہر بانو… ”عکس مراد علی…” ایک لفظ میں شیر دل نے باری باری دونوں کو ایک دوسرے سے متعارف کروایا۔ دونوں ناموں کے ساتھ کوئی سیاق و سباق نہیں تھا پھر بھی دونوں ایک دوسرے کو اس سے کہیں زیادہ جانتی تھیں جتنا شیر دل نے ان کاتعارف کروایا تھا۔
    سفید شیفون کے کلیوں والے کرتے اور چوڑی دار پاجامے میں شہر بانو ایک باربی ڈول لگ رہی تھی۔دودھیا رنگت، سیاہ لمبی خمدار پلکیں، ننھی سی نوک والی تیکھی ناک اور بے حد باریک مسکراتے ہونٹ۔ عکس کے ہونٹوں پر موجود مسکراہٹ کچھ اور گہری ہوئی تھی اس کو دیکھ کر۔ شیر دل کو اس سے زیادہ پرفیکٹ لڑکی نہیں مل سکتی تھی۔ وہ واقعی صرف شیر دل کے ساتھ سجتی تھی۔ اس کی طرف بڑھتے ہوئے عکس نے سوچا تھا۔
    شہر بانو نے اس سے پہلے عکس مراد علی کا نام سنا تھا یا اس کو شیر دل کی گروپ فوٹو گرافس میں دیکھا تھا۔ جہاں وہ لاکھ غور کرنے کے باجود بھی اس کی شکل وصورت اور حلیے میں وہ خاص چیز کھوجنے میں ناکام رہی تھی جو اس کے ذہن میں کسی خدشے یا اندیشے کو جنم دیتی لیکن آج اس پر پہلی نظر ڈالتے ہی وہ عکس مراد علی سے بری طرح خائف ہوئی کیوں ہوئی؟ یہ اسے کئی دن سمجھ نہیں آیا۔ نہ اسے شیر دل سے کوئی خدشہ تھا نہ عکس مراد علی اس حسن وجمال کی مالک تھی جس سے اسے کوئی احساس کمتری ہونے لگتا لیکن اس کے باوجود اسے یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ عکس مراد علی کو نظر انداز کرنا بے حد مشکل تھا اور اس کو پسند نہ کرنا اس سے بھی زیادہ دشوار۔
    بر آمدے کی انٹرنس پر ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے وہ دونوں شہر بانو کو کسی فوٹو فریم کا حصہ لگے تھے۔ ایک پرفیکٹ پکچر، دراز قد، اٹریکٹو، پراعتماد، اسمارٹ… سیاہ لباس میں ملبوس وہ ایک ایسا کپل لگے تھے جو گھر سے نکلتے ہوئے پرفیکٹ میچنگ کر کے آئے تھے۔کوئی بھی ایک نظر میں دیکھ لیتا کہ عکس کے ہونٹوں کی لپ اسٹک کا رنگ شیر دل کی ٹائی کے رنگ کا ایک حصہ لگ رہا تھا… شہر بانو نے بھی نوٹس کیا تھا۔ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے کسی رشتے اور تعلق کے بغیر بھی ان دونوں کی باڈی لینگویج میں ایک عجیب کیمسٹری تھی۔ ایک عجیب سا ربط اور تعلق جس کو نہ چھپانے کی کوشش تھی نہ دکھانے کی…لیکن پھر بھی وہ چھپ چھپ کر دِکھ رہا تھا۔ شہر بانو الجھی ٹھٹکی… اور پھر چاہنے کے باوجود وہ عکس سے ویسی گرم جوشی کا مظاہرہ نہیں کرسکی جو وہ دوسرے مہمانوں کے ساتھ کررہی تھی۔ وہ نپے تلے انداز میں عکس کی طرف بڑھی تھی اور عکس نے بھی مصافحے کے لیے اس کا ہاتھ گرم جوشی پر اسی احتیاط سے پکڑا تھا جس کے ساتھ وہ بڑھایا گیا تھا۔ شہر بانو نے اس کے ہاتھ کے لمس کی حدت اور نرمی کو بیک وقت محسوس کیا۔دونوں کی نظریں ملیں۔
    ”آپ کیسی ہیں؟” اس نے عکس کو کہتے سنا۔ اس کی آواز کی ملائمت نے شہر بانو کے وجود کی سرد مہری کو عجیب انداز میں پگھلایا۔
    ‘‘I am fine. How are you ”اس نے جواباً اپنی مسکراہٹ کو کچھ گرم جوش کرنے کی کوشش کی۔
    ‘‘I am good too ”عکس نے جواباً ایک دھیمی مسکراہٹ کے
    ساتھ کہا۔ شیر دل اب کمشنر کے ساتھ اندر جارہا تھا۔ شہر بانو نے ایک عجیب سا اطمینان محسوس کیا اس فوٹو فریم کے ایک حصے کو ہٹتے دیکھ کر۔
    ”شیر دل سے بہت سنا ہے میں نے آپ کے بارے میں ۔” عکس نے شہر بانو سے کہا۔




  • صلیب — ثمینہ طاہر بٹ

    بعض اوقات انسان جو سوچتا ہے، جو کرنا چاہتا ہے وہ کر نہیں پاتا۔ کبھی زمانے کی زبانیں راہ کی رکاوٹ بن جاتی ہیں، تو کبھی ذات برادری کے خود ساختہ، بے بنیاد اور کھوکھلے اصول، کہیں انا کی دیوار بیچ میں آ جاتی ہے، تو کہیں ضد اور غصہ اپنا کام دکھا جاتے ہیں۔ پھر یوں ہوتا ہے کہ انسان کو اپنی صلیب خود اپنے شانوں پر اٹھا نی پڑتی ہے۔ اس وقت اسے اپنے ارد گرد نہ تو کوئی اپنا ہم درد دکھائی دیتا ہے اور نہ ہی رہ نما نظر آتا ہے۔ بس وہ انسان ہوتا ہے اور اس کے ناکردہ گناہوں کا بوجھ، جسے وہ اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھائے چلتا چلا جاتا ہے۔




    شہر کے سب سے بڑے سرکاری اسپتال کے برن یونٹ کے اندر پڑی ادھ جلی لڑکی کی کرب ناک چیخیں اب آہستہ آہستہ دم توڑ رہی تھیں۔ وہ شاید غنودگی میں جا رہی تھی یا پھر بے ہوشی میں، دور سے دیکھنے پر کچھ خاص اندازہ نہیں ہو رہا تھا۔ اس برن یونٹ میں اس حالت میں لائی جانی والی وہ پہلی لڑکی نہیں تھی۔ یہاں تو روزانہ ہی اس طرح کے کئی مریض آتے جاتے رہتے تھے۔ برن یونٹ کی سرد اور خاموش دیواریں دن میں کئی بار ایسے ہی اندوہ ناک اور دل دوز مناظر دیکھتی تھیں۔ تیزاب پھینک کر جلائی جانے والی دوشیزائیں، پٹرول اور تیل چھڑک کر زندہ جلائے جانے والی بہوویں اور ان کے درد سے تڑپتے اپنے مُنہ سے موت مانگتے وجود دیکھ دیکھ کر ان دیواروں کی آنکھیں بھی پتھرا چکی تھیں۔ ان مریضوں کے خلق سے نکلنے والی کرب ناک چیخیں ، آہیں اور کراہیں برداشت کرنا ان دیواروں ہی کا کام تھا یا پھر اس وارڈ میں مشینی انداز میں اپنے اپنے کام میں منہمک نرسوں اور ڈاکٹرز کا حوصلہ ، جو شاید اب ان دیواروں کی طرح ہی سرد اور بے حس ہو چکے تھے۔ وارڈ کے اندر وہ جان کنی کے عالم میں مبتلا تھی۔ کمرے کے باہر سفید بالوں اور جھکے شانوں والا اس کا پریشان حال باپ سنگی مجسمے کی صورت سر جھکائے حزن و ملال کی تصویر بنا بیٹھا تھا۔ اس کی گود میں قطرہ قطرہ گرنے والے بے بسی کے آنسوؤں کو دیکھ کر احساس ہو رہا تھا کہ اس کے پتھرائے وجود میں ابھی بھی زندگی کے کچھ آثار باقی ہیں۔
    ”ڈاکٹر!! اب کیسی حالت ہے اس burn victum کی؟ کیا ہم اس کا بیان لے سکتے ہیں؟” سنگی مجسمے کے کانوں میں ایک جانی پہچانی آواز پڑی تو جیسے اس کے بے جان ہوتے وجود میں زندگی کی لہر دوڑ گئی۔ بعض اوقات ایسے بھی تو ہوتا ہے ناں کہ جب ہم مایوسی اور دکھ کی اتھاہ گہرائیوں میں خود کو دھنستا ہوا محسوس کرتے ہیں، تو اسی وقت ہمارے آس پاس ہی ہمارے قریب، بہت قریب امید کے جگنو ٹمٹمانے لگتے ہیں۔ جب خوف اور اکیلا پن اپنے نوکیلے پنجے ہماری روح میں گاڑنے لگتے ہیں، تو ہماراکوئی اپنا، کوئی بہت ہم درد ایک دم ہاتھ بڑھا کر ہمیں اس خوف، اس اکیلے پن کے پنجے سے چھڑوا کر دور، بہت دور لے جاتا ہے۔ اس وقت بھی یہی ہوا تھا۔
    ”بلال۔” ان کے مضطرب ہونٹوں نے بے آواز جنبش کی تھی، مگر یہ آواز شاید دل سے نکلی تھی اس لیے سیدھی دل تک ہی پہنچی تھی۔
    ”پروفیسر صاحب آپ؟ آپ یہاں… کیسے… کیوں…؟” بلال نے یک لخت پلٹ کر دھیمی لرزتی آواز کی سمت دیکھا اور پھر کچھ اور دیکھنے کے قابل ہی نہ رہا۔ اسے لگ رہا تھا کہ اس کا وجود پتھر میں ڈھل چکا ہے۔ خوف کی بھاری صلیب نے اس کی روح، اس کے دل کو اپنے بوجھ تلے دبا لیا تھا۔ وہ اندھوں کی طرح گرتا پڑتا پروفیسر صاحب تک پہنچا اور اب ان کے قدموں میں بیٹھا ان کے بے بسی سے بہتے آنسو چن رہا تھا۔
    S.P بلال احمد اور جان بہ لب مریضہ کا مجبور باپ… یہ کیسا کنکشن تھا۔ پولیس کی بھاری نفری سمیت وہاں موجود ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کے کان بھی کھڑے ہو چکے تھے۔ وہ سب تجسس بھرے انداز سے SP بلال صاحب کو اس ادھ جلی مریضہ کے باپ کے آنسو پونچھتے، انہیں گلے لگاتے، ان کے ہاتھ چومتے دیکھ رہے تھے۔
    ”سر! یہ اُسی مریضہ کے والد ہیں، جن کے بارے میں آپ investigation کرنے آئے ہیں۔” ڈاکٹر فاریہ نے ان کے پاس آتے ہوئے دھیمے لہجے میں کہا تو بلال احمد کا سارا وجود پتھر سے بھربھری ریت میں تبدیل ہو گیا۔ اسے لگا وہ وہیں، اسی کاریڈور میں ننھے ننھے ذرات بن کر بکھرتا جا رہا ہو۔ اس کے اپنے وجود کی ریت اُڑ اُڑ کر اس کی حیران آنکھوں میں چبھ رہی تھی۔




    ”قندیل!!” حیرت اور خوف کے غلبے کے زِیر اثر اس کی آواز بھی کہیں دم توڑتی جا رہی تھی۔
    ”بلال! قندیل جل گئی۔ میری قندیل جل گئی۔ بلال… میری قندیل بجھ گئی۔” پروفیسر صاحب اس کے شانے پر سر رکھ کر نوحہ کناں ہوئے تو وہ بھی جیسے ہوش میں آگیا۔
    ”نہیں بابا! قندیل نہیں بجھے گی۔ قندیل کبھی نہیں بجھ سکتی بابا، کبھی بھی نہیں!” پروفیسر صاحب نے ایک دم چونک کر اس کی طرف دیکھا۔ ان کی ساکت نگاہیں بلال احمد کے پر عزم روشن چہرے کا طواف کر رہی تھیں۔ وہ روشن چہرہ جسے انہوں نے اپنے ہاتھوں خود سے دور کر دیا تھا۔
    پروفیسر عالم صاحب کا شمار ان اساتذہ میں ہوتا تھا جوعِلم کا عَلم اٹھائے نسل ِ انسانی کے لیے مشعلِ راہ بنے ہر طرف روشنی کی کرنیں بکھیرتے رہتے ہیں۔ ان کے بے شمار شاگرد تھے اور ان کے گھر اور دل کے دروازے علم کی پیاس رکھنے والوں کے لیے ہر وقت کھلے رہتے تھے۔ جس طرح پہاڑوں کے درمیان بہنے والا چشمہ ، بل کھاتا اپنی دھن میں مگن لوگوں کی پیاس بجھاتا چلتا چلا جاتا ہے، اسی طرح پروفیسر عالم صاحب بھی اپنے شاگردوں میں بلا امتیاز و تفریق علم کی دولت لٹا رہے تھے اور لوٹنے والے دونوں ہاتھوں سے جھولیاں بھر بھر کر لوٹ رہے تھے۔
    بلال بھی ان کا ایسا ہی ایک شاگرد تھا۔ بلا کا ذہین اور سیلف میڈ انسان۔ بلال جیسے لوگوں کے لیے زندگی کبھی بھی مہربان دوست ثابت نہیں ہوتی۔ انہیں اپنی راہ میں پڑے پتھروں پر قدم جما جما کر چلنا پڑتا ہے۔ کبھی گرتے، کبھی سنبھلتے کسی نہ کسی طرح وہ لوگ بھی منزل پر پہنچ ہی جاتے ہیں، مگر یہ خوش نصیبی بھی صرف چند لوگوں کے حصے میں ہی آتی ہے اور بلال بھی بلا شبہ ان ہی خوش نصیبوں میں سے ایک تھا۔
    اس کا اس بھری دنیا میں بوڑھی دادی کے سوا اور کوئی بھی نہیں تھا۔ وہ اپنے والدین اور دادی کے ساتھ گاؤں میں رہتا تھا۔ شاید وہ ہمیشہ ہی وہیں رہ کر پلتا بڑھتا اور جوان ہو کر اپنے باپ دادا کی طرح اپنی آبائی زینیں سنبھالتا، مگر ایسا نہیں ہوا تھا۔ ایسا ہو بھی نہیں سکتا تھا کیوں کہ اگر ایسا ہو جاتا تو وہ نہ ہوتا جو تقدیر میں لکھا جا چکا تھا۔ بلال اگر ان پڑھ دیہاتی ہی رہتا، تو وہ ”بیت العلم ” کا مکین کیسے بنتا؟
    پروفیسر عالم نے اپنی رہایش گاہ کو ”بیت العلم” کا نام دے رکھا تھا۔ وہ اپنی بیگم اور اکلوتی بیٹی کے ساتھ بڑی مطمئن زندگی گزار رہے تھے۔ اگر ان کا اوڑھنا بچھونا درس تدریس تھا تو مہک عالم کی زندگی کا محور عالم صاحب اور چھے سالہ قندیل کی خوشیوں کا خیال رکھنا تھا۔ سب ٹھیک چل رہا تھا، مگر اچانک چلتے چلتے ان کی زندگی جیسے رک سی گئی۔ مہک کو موسمی بخار نے جکڑ لیا۔ وہ اپنی گھریلو ذمہ داریوں میں مصروف خود پر کوئی خاص توجہ نہیں دیتی تھیں اور یہی بے توجہی ان کے ساتھ ساتھ ان کے شوہر اور بیٹی پر بہت بھاری پڑی۔ مسلسل رہنے والا بخار کسی بڑی بیماری کا پیشِ خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا اور جب سارے ٹیسٹ کروائے گئے، تو وقت ہاتھ سے ریت کی طرح نکل چکا تھا۔ مہک کو کینسر جیسے موذی مرض نے اپنا نشانہ بنا لیا تھا۔ پروفیسر صاحب نے بڑی ہمت سے حالات کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی اور اپنے فرائضِ منصبی کے ساتھ ساتھ مہک کے علاج پر بھی پوری توجہ مرکوز کر دی، مگر اب واقعی دیر ہو چکی تھی۔ مہک کے پاس وقت بہت کم بچا تھا اور اسے اپنے سے زیادہ قندیل اور عالم صاحب کی فکر ستاتی تھی۔
    ادھر بلال کے ساتھ بھی قسمت نے عجیب کھیل کھیلا تھا۔ وہ اپنی دادی کے ساتھ ان کی دور پرے کی عزیزہ ” مہک عالم” کی عیادت کے لیے شہر آیا تھا کہ پیچھے سے اس کی دنیا ہمیشہ کے لیے اجاڑ دی گئی۔ وہی گاؤں کی دشمنیاں اور زمین جائیداد کے بکھیڑے۔ اس کے داد کے شریکوں نے پیچھے اس کے ماں باپ اور بہن کو مار ڈالا اور ان کے گھر اور زمینوں پر قبضہ کر لیا۔ دادی جو مہک کی دور پرے کی پھپھو تھیں یہ خبر سن کر ہوش وحواس کھو بیٹھیں۔ وہ تو اپنی مرتی بھتیجی کی آخری بار عیادت کو گئی تھیں اور اب خود اسی ہسپتال میں بستر علالت پر آن پڑی تھیں۔ عالم صاحب کا نرم دل بھی ان پر گزرنے والی قیامت سے لرز سا گیا۔ اس پر جب بلال کے باپ کے شریکوں نے اس کی حوالگی کا مطالبہ کیا، تو وہ اور زیادہ پریشان ہو گئے۔ دس سالہ معصوم بلال کی موہنی اور معصوم صورت ان کے دل میں ایسی بسی کہ انہوں نے اس کے رشتے داروں کو صاف انکار کر دیا۔
    عالم صاحب کے اس انکار نے دوسری طرف آگ سی بھڑکا دی تھی۔ وہ لوگ تو دشمنیاں پالنے کے عادی تھے، انہوں نے عالم صاحب کو بھی اپنا دشمن مان لیا، مگر یہاں بلال کی دادی نے عقل مندی کا ثبوت دیا اور عالم صاحب اور بلال کے سر سے اس دشمنی کا بوجھ اتارنے کے لیے اپنی ساری زمینیں، گھر، مال مویشی سب کچھ شریکوں کے نام لگا دیا۔ سب معامالات کورٹ کچہری میں ہوئے۔ پکے کاغذات پر انگوٹھے لگے اور بوا رحمت نے اپنی کل دنیا، اپنے پوتے کی جان اس دشمنی کے گرداب سے بچالی۔
    بلال کی جان تو بچ گئی، مگر مہک کو مزید مہلت نہ ملی اور وہ ایک دن باتیں کرتے کرتے اس سکون سے سوئی کہ پھر آنکھ ہی نہ کھول پائی۔ قندیل کے سر سے ممتا کی چھاؤں چھن گئی، مگر بوا جی نے اسے اپنی محبت بھری آغوش میں بھر لیا۔ اب بوا جی کی زندگی کا مقصد بلال کے ساتھ ساتھ قندیل بھی بن چکی تھی۔ پروفیسر عالم، مہک کی ابدی جدائی کو بڑی جی داری سے جھیل گئے تھے۔ انہوں نے خود کو پہلے سے زیادہ مصروف کر لیا۔ اپنے گھر کو اکیڈمی میں تبدیل کر دیا اور خود درس وتدریس میں کھو گئے۔
    ”بابا! بلال کا رزلٹ آگیا، دیکھیں اس نے پورے صوبے میں ٹاپ کیا ہے! ” قندیل بے حد خوش تھی۔ اس کے مسکراتے چہرے پر ایک انوکھی سی خوشی پھیلی تھی جیسے بلال کا نہیں اس کا اپنا رزلٹ آگیا ہو۔ پروفیسر صاحب نے کتاب سے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا اور پھر اس کی خوشی کو محسوس کرتے ہوئے خود بھی خوش ہو گئے۔ بلال ان کے لیے سگی اولاد سے کم نہیں تھا اور پھر اس کی ذہانت، شرافت اور تابع داری اسے اور زیادہ ان کے دل کے قریب کرتی تھی۔




  • عکس — قسط نمبر ۵

    اس اسٹینڈنگ مرر میں اپنے عکس پر پہلی نظر ڈالتے ہی اس نے اپنی یادداشت کے سارے خانوں کو جسم سے اترے ہوئے لباس کی جیبوں کی طرح کھنگالنا اور جھاڑنا شروع کردیا تھا۔ کتنے سال بعد اس نے اس مرر کو دیکھا تھا اور اس مرر میں کیا کیا دیکھا تھا۔




    آئینہ اتنے سالوں کے بعد آج بھی وہیں کا وہیں کھڑا تھا۔ کم آب و تاب کے ساتھ لیکن اسی وقار کے ساتھ جس کے ساتھ اس نے اسے پہلی بار دیکھا تھا۔گھر کا ایکسٹیرئر مکمل طور پر بدل چکا تھا۔ وہ آئینہ جیسے کسی شہزادی کا رومال تھا جسے وہ پھاڑ کر پھٹنے اور غائب ہونے سے پہلے شہزادے کی رہنمائی کے لیے باہر چھوڑ گئی تھی۔ واحد سراغ … ہر ہر بھید تک لے جانے اور اسے پانے والا۔ چند لمحوں کے لیے اس آئینے کو دیکھتے ہوئے اسے یوں لگا تھا جیسے وہ بھی تب ہی وہاں سے ہٹے گا۔ غائب ہوگا جب حضرت سلیمان کے عصا کی طرح اسے بھی کھڑے کھڑے دیمک لگ جائے گی، پھر ایک دن وہ برادے کے ایک ڈھیر اور آئینے سے شیشے کے ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں میں تبدیل ہو کر وہاں سے ہٹادیا جاتا۔ پتا نہیں وہاں کھڑا وہ کس کس کا عکس دیکھتا اور دکھاتا رہا تھا۔ وہ نم آنکھوں کے ساتھ اس آئینے میں نظر آتی عمارت کے بیرونی حصے کے عکس کو دیکھنے لگی۔ انگلیوں کی پوروں پر اس نے جیسے وہ سال گنے تھے جب وہ آخری بار اس گھر سے گئی تھی۔ وہ گھر جو اس کی زندگی کا خوب صورت ترین اور سیاہ ترین باب تھا۔ وہ گھر جس سے زیادہ محبت اور نفرت اسے کبھی کسی جگہ سے نہیں ہوئی تھی لیکن وہ گھر جو وہاں آکر بسنے والے انسانوں کے تمام احساسات سے بے نیاز آج بھی اسی تمکنت سے وہاں کھڑا تھا۔
    اور پھر آئینے میں اپنے اور اس گھر کے عکس کے درمیان اس نے یک دم کسی کو نمودار ہوتے دیکھا۔ وہ نم آنکھوں کے ساتھ بے اختیار مسکرائی۔ اس نے زندگی میں اس مرد کے علاوہ صرف ایک مرد کو …وہ آگے کچھ سوچ نہیں پائی، وہ اب اس کے عقب میں کھڑا اس کے دونوں کندھوں پر ہاتھ رکھے اس کو آئینے میں دیکھتے ہوئے کہہ رہا تھا
    ”You look lovely ”وہ بے ساختہ ہنس پڑی۔
    ”Thank you for flattering me”اس نے جواباً کہا۔ وہ اس کے عکس پر نظر جمائے ہوئے بے اختیار مسکرایا۔ گہری، گرم جوش، بہت کچھ یاد دلادینے والی آنکھیں… بے حد باریک ہونٹوں پر آنے اور کھیلنے والی بے ساختہ اور خمدار مسکراہٹ… اور یہ مسکراہٹ کیا کیا طوفان نہیں اٹھادیتی تھی۔ کون کون سی قیامت تھی جو بپا نہیں کردیتی تھی۔
    ”You are more than welcome” اس نے ذرا ساہنس کر اس کی بات پر جیسے کسی ندامت کا اظہار کیے بغیر دھڑلے سے کہا۔
    ”تمہیں پتا ہے میں پہلی بار اس گھر میں کب آئی تھی؟” اس نے آئینے میں اس کے عکس کے عقب میں موجود عمارت پر ایک نظر ڈالتے ہوئے مدھم آواز میں کہا۔ وہ اب بھی اس کے کندھے پر اسی طرح دونوں ہاتھ جمائے ،ٹکائے کھڑا تھا۔وہ اس کے ہاتھوں کا دباؤ محسوس کررہی تھی، نرم ،سہارا دیتا ہوا دباؤ۔ چند لمحوں کے لیے جیسے اس کا دل اس سے لپٹ جانے کو چاہا تھا۔
    ”جب…” اس نے کچھ کہنا چاہا لیکن آواز حلق سے نہیں نکل سکی۔ آنسوؤں کے ایک ریلے نے اس کی قوت گویائی اور بینائی دونوں کو بیک وقت مفلوج کیا تھا۔ یادیں تھیں… درد کے آبلے تھے جو گرم پانی کے چشموں کی سطح پر ابھرنے والے بلبلوں کی طرح پھٹنے لگے تھے۔ کندھوں پر ٹکے وہ دونوں ہاتھ سرعت سے بازوؤں پر آئے پھر انہوں نے اسے اپنے حصار میں لے لیا۔ وہ حصار جس نے زندگی میں کبھی اس کو اکیلا نہیں چھوڑا تھا، وہ حصار جواس کے لیے ایک عطا تھا کسی کا تحفہ۔ اس کے بازوؤں کے حصار میں روتے ہوئے اس کی سمجھ میں نہیں آیا وہ کون سے کانٹے پہلے نکال کر اس کو دکھائے… وہ جو پاؤں میں تھے یا وہ جو دل میں تھے۔ سمجھ میں یہ بھی نہیں آرہا تھا کہ وہ جو یاد کرنے کی کوشش کررہی تھی۔ اس کو دوبارہ بھلانے کے لیے وہ کیا کرے گی۔
    اس گھر کے برآمدے میں لگا وہ آئینہ، شہزادی تک پہنچانے والا واحد سراغ، اب جیسے شہزادے کو اس کے پاس لے آیا تھا، پہاڑ کی اس کھوہ میں جہاں ایک شہزادی کو کئی سال پہلے گہری نیند سلادیاگیا تھا۔
    ……٭……




    شیر دل نے اس کو کاریڈور میں داخل ہوتے ہی بہت دور سے دیکھ لیا تھا۔ وہ کمشنر آفس کے میٹنگ روم کے داخلی دروازے پر کھڑی اپنے عملے کے کسی رکن کو ہدایت دینے میں مصروف تھی۔
    چیف کمشنر کے ساتھ ڈویژن کے تمام ڈی سیز کی دس بجے ہونے والی میٹنگ کا انتظام اس کی ذمے داری تھی۔ شیر دل کے ہونٹوں پر بے ساختہ ایک مسکراہٹ رینگی تھی اور ایسا کیوں تھا وہ کبھی سمجھ نہیں پایاتھا۔
    عکس مراد علی کو اپنے سامنے پاکر اسے ہمیشہ خوشی ہوتی تھی یا پھر غصہ آتا تھا لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا تھا کہ وہ بے تاثر رہ پایا ہو… خوشی کا وہ حال ہوتا تھا کہ وہ بہت دن تک اس کے ٹرانس سے باہر نہیں نکل پاتا تھا… اور غصہ سمندر کی ایک شوریدہ لہر کی طرح آکر گزر جاتا تھا۔
    ایمرلڈگرین لانگ شرٹ میں سیاہ چوڑی دار پاجامے اور دوپٹے میں کندھوں سے کافی نیچے تک جاتے اسٹیپس میں کٹے ہوئے گھنے سیاہ بالوں کو وہ اب بھی بات کرتے ہوئے اپنے مخصوص انداز میں جھٹک رہی تھی۔ وہ اس کو کئی سالوں بعد دیکھ رہا تھا لیکن شیر دل کو کم از کم دور سے اس میں کوئی فرق محسوس نہیں ہوا تھا۔ اس نے اپنے سامنے کھڑے شخص کے ساتھ بات کرتے کرتے اپنا رخ موڑا تھا اور تب اس نے بھی شیر دل کو دیکھ لیا تھا۔ ایک لمحے کے لیے شیر دل نے اس کو بھی بات کرتے کرتے ٹھٹکتے دیکھا پھر اس کے ہونٹوں پر بھی ایک مسکراہٹ آئی تھی۔ نظروں اور مسکراہٹوں کے تبادلے کے بعد اس نے عملے کے اس فرد کو کچھ آخری ہدایات دیں۔ شیر دل کے اس کے قریب پہنچتے پہنچتے اس کا عملہ وہاں سے رخصت ہوچکا تھا۔ اس کے بالمقابل جا کر کھڑے ہوتے ہوئے شیر دل کا دل بے اختیار مچلا تھا کہ وہ اپنے عقب میں آنے والے اپنے اسٹاف کو وہاں سے رخصت کردے… کم سے کم چند لمحوں کے لیے۔ عکس کو دیکھ کراس کے دل میں ہر قسم کی احمقانہ اور بچگانہ خواہشات پیدا ہوتی رہتی تھیں اور یہ ہمیشہ سے تھا۔ ہاں پہلے کبھی اس نے اپنی ان تمام خواہشات کو احمقانہ اور بچگانہ کا لیبل نہیں لگا یا تھا، اب لگانے لگا تھا۔ یہ کام وہ نہ کرتا تو وہ کرتی جو اس سے تین فٹ کے فاصلے پر اس کے سامنے کھڑی اپنی سیاہ، چمکدار، شفاف، گہری آنکھوں اور بے حدجان لیوا مسکراہٹ کے ساتھ اسے دیکھ رہی تھی۔
    ”ہیلو!اس کے خیر مقدمی کلمات کے آغاز سے پہلے ہی شیر دل نے کہا تھا۔
    ”سر آپ کیسے ہیں؟
    ”I am good آپ کیسی ہیں میم؟”
    ”I am fine too، آپ کا سفر ٹھیک رہا؟”
    ”جی، چیف آچکے ہیں؟”
    ”وہ بس راستے میں ہیں، دس منٹ میں پہنچ جائیں گے۔” کمشنر آفس میں کھڑے ادھر سے ادھر جاتے ہوئے انتظامی عملے کے بیچ میں وہ ایک دوسرے سے یہی کہہ سکتے تھے جو کہہ رہے تھے… فارمل انداز اور کلمات۔ صرف ان کی مسکراہٹ اور آنکھیں تھیں جو ایک دوسرے کو وہ پہنچارہی تھیں جو ان کے احساسات تھے۔ صرف چند منٹ وہ وہاں کھڑا رہا تھا پھر میٹنگ روم میں چلا گیا تھا، اس کے پاس سے نہ ہلنے کی خواہش کے باوجود…
    میٹنگ ٹھیک وقت پر شروع ہوئی تھی۔ شیر دل کمشنر کے بائیں جانب میز کی پہلی کرسی پر تھا اور وہ اس کے بالمقابل کمشنر کے داہنی جانب پہلی سیٹ پر براجمان تھی۔ اور اس سیٹنگ ارینجمنٹ سے شیر دل کو کم از کم یہ اندازہ ہوگیا تھا کہ اس کے لیے ٹیبل کے سرے پر بیٹھے ہوئے کمشنر اور میٹنگ پر توجہ مرکوز رکھنا آج کافی مشکل ثابت ہونے والا تھا اور ایسا ہی ہوا تھا… وہ بار بار بھٹک رہا تھا، اسے دیکھتے اور سنتے ہوئے۔ وہ اب بھی اسی طرح بات کررہی تھی جس طرح ہمیشہ کرتی تھی۔ نپا تلا انداز، تول کر بولنے کی عادت، بے حد ٹھہراؤ والا دھیما، ملائم لہجہ اور بے حد شستہ اور مدلل گفتگو۔




  • عکس — قسط نمبر ۴

    اس نے اسٹینڈنگ مرر میں اپنے آپ کو دیکھا، اپنے خوبصورت بالوں کو دیکھا، اپنے بے حد نازک گولائی میں پھولے ہوئے پنک فراک کو ذرا گھوم کر دیکھا پھر اس نے بے حد فخریہ انداز میں چند قدم پیچھے کھڑی چڑیا کو دیکھا جو بے حد ستائشی نظروں سے اس ساڑھے تین سالہ باربی ڈول کو دیکھ رہی تھی۔یہ وہ نام تھا جس سے وہ اس کو پکارتی تھی اور یہی وہ نام تھا جو اس نے پہلی بار اسے دیکھتے ہی دے دیا تھا۔ اس کے تمام ساتھی بونوں کو بھی باربی ڈول سے اتنا ہی عشق تھا جتنا چڑیا کو اور وہ بھی اس کو پہلی بار دیکھتے ہی اس پر اسی طرح فریفتہ ہوئے تھے جس طرح چڑیا کو دیکھ کر ہوئی تھی۔
    ”میں اچھی لگ رہی ہوں؟” اب باربی ڈول چڑیا سے پوچھ رہی تھی۔




    ”بہت، بہت، بہت، بہت اچھی اور پیاری۔” چڑیا نے دونوں ہاتھ پھیلا کر اس کی خوبصور تی اور ستائش کی جیسے پیمائش پیش کی۔ باربی ڈول کا رنگ سرخ ہوا، اس نے ناک کو ہلکا سا دائیں طرف سکیڑ کر اپنے ہونٹوں کو بھینچ کر جیسے اپنی خوشی اور مسکراہٹ کو ایک ساتھ چھپانے کی کوشش کی۔
    ”میں تمہاری پونی کر دوں؟” چڑیا نے باربی ڈول کے بکھرے ہوئے سیاہ ریشمی بالوں کو نرمی سے چھوتے ہوئے پوچھا۔ باربی ڈول سر ہلاتی فوراً پونی بنوانے پر تیار ہو گئی تھی۔ چڑیا نے اپنے بالوں سے ربڑ بینڈ اتارا اور آئینے کے سامنے باربی ڈول کے عقب میں جا کر بڑے انہماک سے اس کی پونی بنانے لگی۔ ان دونوں کے اس تعلق کا آغاز باربی ڈول کے اس کے اسکول میں ایڈمیشن کے ساتھ ہوا تھا۔
    چڑیا کلاس مانیٹر تھی اور وہ اس دن اپنی کلاس سے کسی کام سے باہر نکلی تھی جب اس نے مانیٹسوری کے لنچ بریک کے دوران پلے ایریا کے سامنے سے گزرتے ہوئے باربی ڈول کو وہاں لنچ باکس ہاتھ میں پکڑے see saw پر جھولتے دو بچوں کے پاس کھڑے دیکھا۔ چند لمحوں کے لیے چڑیا کو جیسے اپنی آنکھوں پر یقین ہی نہیں آیا تھا۔ وہ باربی ڈول جس کے بالوں کو چھونے اور جس کے ساتھ بات کرنے اور کھیلنے کی خواہش میں وہ کئی بار ڈی سی ہاؤس میں لان کے اس حصے میں منع کرنے کے باوجود جاتی رہتی تھی جہاں وہ اپنی ماں اور کبھی کبھار باپ کے ساتھ بھی شام کو کھیلنے کے لیے نکلتی تھی۔ باربی ڈول کے قریب جا کر اس سے کچھ کہنے کی ہمت اسے کبھی نہیں ہوئی تھی لیکن دور سے بہت باران دونوں کے درمیان خاموش نظروں اور مسکراہٹوں کا تبادلہ ہوا تھا۔ وہ اس گھر کے مستقل رہائشی دو واحد بچے تھے۔ یہ ممکن نہیں تھا کہ دونوں ایک دوسرے کے بارے میں تجسس کا شکار نہ ہوتے اور ایک دوسرے کو مستقل طور پر اگنور کر پاتے۔ چڑیا فرینڈلی تھی، باربی ڈول نہیں تھی۔ وہ اپنے ماں باپ کی طرح بہت مہذب اور سلجھی ہوئی ہونے کے باوجود بے حد ریزورڈ تھی۔ پتا نہیں یہ طبعاً تھا یا اس کے ماں باپ نے اسے بھی کچھ ہدایات دی تھیں۔ چڑیا سوچتی رہتی تھی لیکن کچھ اندازہ نہیں کر سکی تھی اور اب وہی باربی ڈول اس سے چند گز کے فاصلے پر کھڑی تھی۔ چڑیا کے لیے کیسے یہ ممکن تھا کہ وہ اسے اگنور کر کے گزر جاتی۔ اگر اس کا بس چلتا تو وہ شاید باربی ڈول کو بھی اپنے ہی اسکول میں دیکھ کر خوشی سے چھلانگیں لگاتی۔
    ”ہیلو۔” وہ ایکسائٹمنٹ کے باوجود کچھ ڈرتی جھجکتی باربی ڈول کے پاس پہنچ گئی تھی اور ہیلو کا چھوٹا سا لفظ کہنے کے لیے اسے پتا نہیں کتنی ہمت کرنی پڑی تھی۔ باربی ڈول نے چونک کر گردن گھما کر اسے دیکھا اور پھر اس نے بھی اسی برق رفتاری سے چڑیا کا چہرہ پہچانا تھا جس طرح چڑیا نے اس کا… وہ چڑیا کو فراموش کر بھی کیسے سکتی تھی۔ وہ گھر میں اس کے لیے دلچسپ چیزوں میں سے ایک تھی۔ لان میں کھیلتے اچانک کسی پھولدار جھاڑی یا پودے کی شاخ کے درمیان سے جھانکتا ہوا پرتجسس آنکھوں والا ایک معصوم چہرہ، کبھی راہداری کی کھڑکیوں میں یک دم نمودار ہونے والی وہ روشن شرارتی آنکھیں جو باربی ڈول کے ساتھ اس کی ماں یا باپ کو دیکھ کر اسی طرح جھپاکے سے غائب ہو جاتی تھیں۔ بہت دفعہ پودوں سے جھانکتی چڑیا کو دیکھ کر وہ ٹھٹکی تھی… اپنے کھلونوں کے ساتھ لان میں کھیلتے یا سائیکل چلاتے ہوئے اور شروع شروع میں وہ اپنی ممی کو چڑیا کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش بھی کرتی تھی لیکن وہ اس کوشش میں ہمیشہ ناکام رہی۔ وہ جب تک اپنی ممی کو اس پودے یا جھاڑی کی طرف متوجہ کر پاتی جہاں اس نے چڑیا کو دیکھا تھا چڑیا وہاں سے غائب ہو چکی ہوتی۔
    ”ممی وہاں ایک Girl ہے۔” اس نے پہلی بار چڑیا کو دیکھنے پر فٹ بال کو کک لگاتے لگاتے رک کر اپنی ماں کو اشارے سے بتایا تھا لیکن جب تک وہ اس پودے کی ان شاخوں کو دوبارہ فوکس کر پاتی جن میں سے اسے چڑیا کا چہرہ نظر آیا تھا، چڑیا غائب ہو چکی تھی۔ اس کی ماں نے چند لمحوں کے لیے چونک کر اس پودے کو دیکھا پھر پوچھا۔
    ”کہاں؟”




    ”وہاں… پر وہ اب نہیں ہے۔” وہ اب فٹ بال کھیلنا بھول گئی تھی۔
    ”ہاں وہی بچی ہو گی جو اس دن ملنے آئی تھی… وہی بچی تھی کیا؟” اس کی ممی نے کسی خاص حیرت اور تعجب کے اظہار کے بغیر کہا۔ ”وہ جو ہمارے کک کے ساتھ آئی تھی۔” باربی ڈول نے ماں کے سوال پر اتنا غور نہیں کیا تھا نہ ہی اس نے اس بچی کے خدوخال کو ذہن میں لانے کی کوشش کی جسے اس نے کک کے ساتھ ملاقات میں دیکھا تھا۔ اسے زیادہ تجسس اس بات پر تھا کہ وہ اس پودے کے پیچھے سے اچانک کیسے غائب ہو گئی تھی اور کہاں غائب ہو گئی تھی۔ یہ چڑیا سے اس کے تعارف کا آغاز تھا اور پھر جیسے یہ ایک معمول ہو گیا تھا۔ اس نے کئی بار چڑیا کو پودوں کے پیچھے چھپے ہوئے دیکھا تھا۔ شروع شروع میں وہ ایکسائٹڈ ہو کر اپنی ممی کو بتانے کی کوشش کرتی تھی لیکن آہستہ آہستہ اسے اندازہ ہو گیا کہ اس کی ایسی ہر کوشش کے دوران چڑیا غائب ہو جاتی تھی اور اس کی ممی کو بھی لان کی جھاڑیوں اور پودوں میں چھپی ہوئی کسی بچی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ پھر اس نے اپنا یہ معمول بہت جلد بدل لیا تھا اب وہ لان میں کھیلنے کے لیے داخل ہوتے ہی دور تک پھیلے ہوئے پودوں اور جھاڑیوں میں چڑیا کی تلاش شروع کر دیتی تھی اور اکثر بڑی آسانی سے اسے ڈھونڈ لیتی تھی پھر وہ اپنی ماں کو کچھ بھی کہے بغیر اس طرح کھیل میں مصروف رہتی اور وقتاً فوقتاً کھیل سے دھیان ہٹا کر چڑیا کو بھی دیکھتی رہتی۔
    چڑیا نے اب پہلے کی طرح غائب ہونا بند کر دیا تھا۔ خاموش نظروں کا تبادلہ آہستہ آہستہ مسکراہٹوں کے تبادلے میں بدلنے لگا تھا۔ اگر کچھ نہیں ٹوٹا تھا تو ان دونوں کے بیچ خاموشی نہیں ٹوٹی تھی۔ ڈی سی کی بیوی لان میں کرسی پر بیٹھی یا تو کوئی کتاب پڑھتی رہتی یا پھر پینٹنگ کرتی رہتی اوروہ لان میں سائیکل چلاتے یا فٹ بال کھیلتے ہوئے دور پودوں میں چھپی چڑیا کو دیکھ کر مسکراتی رہتی۔ کبھی کبھار وہ سائیکل چلاتے چلاتے جان بوجھ کر چڑیا کے بہت قریب سے ہو کر گزرتی اور کبھی وہ کھیلتے ہوئے جان بوجھ کر پودے کے قریب بال پھینک دیتی جہاں چڑیا چھپی ہوتی، یہ جیسے چڑیا کو کھیل کی دعوت دینے کی ایک غیر ارادی کوشش تھی جسے چڑیا نے کبھی قبول نہیں کیا تھا، وہ یہ جرأت کر ہی نہیں سکتی تھی کہ لان میں صاحب یا ان کی بیوی کی موجودگی میں وہ باہر نکل آتی۔ خیر دین نے اسے سختی سے منع کیا تھا، وہ ایک بچگانہ تجسس کی وجہ سے وہاں آ تو جاتی تھی لیکن وہ یہ نہیں چاہتی تھی کہ اس کی وجہ سے کبھی اس کے نانا کو ڈانٹ پڑے۔ اس نے بہت بار مختلف آفیسرز کے ہاتھوں اپنے نانا کو ڈانٹ کھاتے دیکھا تھا اور یہ اسے کبھی بھی اچھا نہیں لگا تھا اگرچہ خیر دین ہر بار ایسے کسی موقع پر ا سکی موجودگی پر بعد میں اسے بٹھا کر اپنے صاحب کو صحیح ثابت کرنے کی کوشش کرتا تھا۔
    ”دیکھو چڑیا جب غلطی ہوتی ہے تو ڈانٹ پڑتی ہے اور نہ ہر ڈانٹنے والا برا ہوتا ہے نہ ہی ہر ڈانٹ۔”
    ”پر نانا… آپ کی زیادہ غلطی تو نہیں تھی۔” وہ اپنا نانا کا دفاع کرتی۔
    ”تھوڑی تھی پر تھی تو سہی نا… اب اگر صاحب غلطی پر کسی کو بھی نہ ڈانٹا کرے تو ہر ایک کام خراب کرنا شروع کر دے گا۔” چڑیا خیر دین کی بات پر سر ہلا دیتی لیکن اس کے باوجود خیر دین جانتا تھا کہ وہ خیر دین کو پڑنے والی کسی ڈانٹ پر بہت ناخوش ہوتی تھی۔
    ”ہیلو۔” باربی ڈول نے جواباً مسکرا کر کہا تھا۔ اسکول میں پہلے دن وہ پہلا شناسا چہرہ تھا جو اسے نظر آیا تھا۔ اس کا بس چلتا تو وہ چڑیا سے لپٹ ہی جاتی۔
    ”تم یہاں اسٹڈی کے لیے آئی ہو؟” چڑیا اس کے ہیلو پر مسکرائی تھی، باربی ڈول نے سر ہلایا۔
    ”ممی پاپا کے ساتھ آئی ہو؟” باربی ڈول کا سر ایک بار پھر ہلا لیکن ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو آئے تھے۔ اسے یک دم یاد آ گیا تھا کہ اس کے ممی پاپا اسے صبح وہاں چھوڑ گئے تھے اور وہ وہاں اکیلی تھی۔ چڑیا اس کے آنسو دیکھ کر جیسے تڑپ اٹھی تھی۔
    ”رونا نہیں باربی ڈول۔ اچھے بچے تو نہیں روتے نا۔” اس نے آگے بڑھ کر باربی ڈول کے گالوں پر لڑھکتے آنسو پہلے اپنے ہاتھوں سے پونچھے پھر اپنے فراک کی جیب سے رومال نکال کر اس سے باربی ڈول کا چہرہ صاف کیا۔




  • عکس — قسط نمبر ۳

    ایبک اس شیول مرر کے سامنے کھڑا اپنا ریکٹ گھماتے گھماتے رک گیا تھا۔ یہ آئینے میں ابھرنے والا ایک عکس تھا جس نے اسے روکا تھا اور وہ یہ نہیں جانتا تھاوہ چہرہ ساری عمر ہر بار سامنے آنے پر اسی طرح اسے فریز کر دیا کرے گا۔ اس نے چڑیا کو پہلی بار اسی آئینے میں دیکھا تھا لیکن وہ یہ نہیں جانتا تھا کہ چڑیا پچھلے کئی دنوں سے اسے کئی بار دیکھ چکی تھی… ٹینس کورٹ پر صاحب کے ساتھ ٹینس کھیلتے… لان میں صاحب کی بیٹی اور اپنے بہن بھائیوں کے ساتھ کھیلتے… Frisbeeپکڑنے میں ناکامی پر اپنے چھوٹے بہن بھائی پر چلاتے اور خفا ہوتے ہوئے… وہ صاحب کے گھرآئے ہوئے مہمان تھے اور صاحب کے گھر ویک اینڈ پر مہمانوں اور ان کے ساتھ ان کے بچوں کا آنا کوئی انوکھی بات نہیں تھی مگر یہ صاحب کے ہاں لمبی چھٹیاں گزارنے کے لیے آئے ہوئے مہمان تھے۔




    صاحب کے گھر کا سناٹا ان تین بہن بھائیوں کی سرگرمیوں سے ٹوٹنے لگا تھا جن میں سے ایک ایبک سب سے بڑا تھا۔ آٹھ سالہ وہ بچہ اپنے قدوقامت سے دس سال کا لگتا تھا… وہ جب بھی گھر سے باہر نظر آتا اس کے ہاتھ میں زیادہ تر ٹینس ریکٹ ہی ہوتا جسے وہ بے مقصد گھماتا ، ٹینس شاٹس کی پریکٹس کرتا رہتا… کبھی کبھار اس کی چھ سالہ بہن اس کے ساتھ ٹینس کھیلتی لیکن وہ کسی اعتبار سے ایبک کا مقابلہ نہیں کر پاتی تھی۔ وہ جسمانی طور پر بہت مضبوط تھا… لڑکا تھا… بہن سے عمر میں دو سال بڑا تھا… اور تکنیک کے اعتبار سے بہت Soundتھا… اور پانچ سال کی عمر سے ٹینس ریکٹ اٹھائے ہوئے تھا۔ ٹینس جیسے ان کا خاندانی کھیل تھا، ان کی ننھیالی اور ددھیالی فیملی میں کوئی ایسا نہیں تھا جو ٹینس نہ کھیلتا ہو… مگر ان میں سے کسی میں بھی ٹینس کے لیے ایبک جیسا پیشن نہیں تھا… وہ سوئمنگ کرتا تھا یا پھر ٹینس کھیلتا تھا اور اس گھر میں آنے کے ایک ہفتے میں ہی چڑیا یہ جان چکی تھی۔
    ایبک کے آنے کے بعد صاحب باقاعدگی سے شام کے وقت اس کے ساتھ لان ٹینس کھیلا کرتے کبھی کبھار ایبک کی ممی، بہن بھائی اور صاحب کی بیوی اور بیٹی بھی وہاں موجود ہوتے لیکن عام طور پر صرف صاحب اور ایبک ہی کھیل رہے ہوتے اور صاحب مسلسل ایبک کو ہدایات دے رہے ہوتے۔ ایبک صاحب سے کبھی جیت نہیں پاتا تھا لیکن کبھی کبھار وہ کوئی اچھا شاٹ مار دیتا اور صاحب اس شاٹ کو Missکر دیتے اور تب کورٹ میں فاتحانہ انداز میں چلانے والا صرف ایبک نہیں ہوتا تھا کسی پودے یا درخت کے پیچھے چھپی ہوئی چڑیا بھی اتنی ہی مسرور ہوتی تھی اور اس کے سات بونے بھی… وہ آٹھوں اس کے اس اتفاقی شاٹ کو بھی اس طرح سلیبریٹ کرتے جیسے وہ ایک پوائنٹ نہیں میچ جیت گیا ہو۔ ایبک چڑیا کو کیوں اچھا لگا تھا؟ اس وقت اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ وہ Aweمیں تھی۔ اس وقت تک وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ وہ اس کا ہم عمر تھا… اس کے لیے متاثر ہونے کے لیے یہ کافی تھا کہ وہ ٹینس کھیلتا تھا اور بہت اچھی کھیلتا تھا اور جب وہ فریز لی پھینکتا تھا تو کوئی نوکر بھی اس کو نہیں پکڑ پاتا تھا۔ وہ ان تین بچوں کا سردار تھا جو اس وقت اس گھر میں تھے اور وہ جس طرح ان تینوں بچوں کو کنٹرول کرتا تھا۔ وہ کہیں سے بھی ایک آٹھ سالہ بچہ نہیں لگتا تھا۔
    چڑیا ، صاحب کے ریکٹ کو دیکھ کر ہمیشہ فیسینیٹ ہوتی تھی لیکن وہ کبھی خواہش کے باوجود اس ریکٹ کو ہاتھ بھی نہیں لگا سکی تھی۔ اس کے ساتھ کھیلنا تو خیر بہت دور کی بات تھی۔ اس وقت تک اسے وہ ٹینس ریکٹ بہت ہلکی پھلکی کوئی چیز لگتا تھا کیونکہ اس نے صاحب کو اسے ایک ہلکی پھلکی چیز ہی کی طرح اٹھائے اور کھیلتے ہوئے دیکھا تھا۔ اسے اندازہ تک نہیں تھا کہ وہ اس ریکٹ کو موقع مل جانے پر اٹھا کر گھما بھی نہیں سکے گی۔
    ایبک اپنا ریکٹ اکثر لان میں چھوڑ کر چلا جاتا تھا اور موقع ہونے کے باوجود چڑیا اس ریکٹ کے قریب جانے کی ہمت بھی نہیں کر پاتی تھی۔ اسے خوف ہوتا تھا کہ ایبک کسی بھی وقت نمودار ہو سکتا تھا اور چند بار واقعی ایسا ہوا تھا کہ وہ ہمت کر کے اس ٹیبل کے پاس جانے کی تیاری کر رہی ہوتی جہاں ایبک اپنا ریکٹ چھوڑ کر گیا تھا اور ایبک کھانے پینے کی کوئی چیز لیے یک دم دوبارہ لان میں آ جاتا۔ وہ ہمیشہ اتنے دبے قدموں میں آتا تھا کہ چڑیا اس سے خائف رہنے لگی تھی اسے لاشعوری طور پر یہ یقین ہو گیا تھا کہ وہ جب بھی اس کے ریکٹ کو پکڑنے کے لیے اس ٹیبل کے پاس جائے گی۔ ایبک وہاں آ جائے گا۔
    وہ اب پہلے کی طرح کیاریوں میں سے ٹینس بالز بھی نہیں نکال پاتی تھی کیونکہ ایبک کھیل ختم ہونے کے بعد تمام بالز خود ڈھونڈ کر ٹینس بالز کے ڈبے میں بالز پوری کر کے ہی لان سے روانہ ہوتا۔ اس نے چڑیا کی زندگی کی ایک سب سے پسندیدہ سرگرمی چھین لی تھی لیکن اس کے باوجود چڑیا کو ایبک اچھا لگتا تھا۔ وہ اکیلے ٹینس شاٹس کی پریکٹس کرتے ہوئے کورٹ پر خود ہی اپنے آپ سے باتیں کرتا رہتا… چڑیا اور اس کے سات بونے اس کی ان خود کلامیوں سے محظوظ ہوتے رہتے۔ چڑیا نے پہلی بار اپنے علاوہ کسی دوسرے کو خود سے گفتگو کا شوقین پایا تھا اور ایبک کے لیے اس کی پسندیدگی میں کچھ اور اضافہ ہو گیا تھا۔ کبھی کبھار اس کی باتیں سنتے ہوئے اس کا دل چاہتا وہ ان کی باتوں کا جواب دے اور وہ دیتی بھی لیکن سرگوشی میں اپنے بونوں کو۔ لیکن ایبک کی وہ ساری باتیں، جھلاہٹیں، خود کلامیاں چڑیا کے لیے جیسے ایک شاندار تفریح تھی۔ وہ اس کی Vocabularyبڑھا رہا تھا… ایبک کے منہ سے سننے والا ہر نیا لفظ وہ خیر دین کے سامنے رکھ دیتی تھی اور ان میں سے زیادہ تر لفظ خیر دین کے لیے بھی نئے تھے۔ چڑیا خیر دین کو یہ نہیں بتاتی تھی کہ اس نے وہ لفظ کہاں سنا تھا لیکن وہ خیر دین کی لاعلمی اور کم علمی کو کسی اعتراض کے بغیر قبول کر لیتی تھی۔




    بعض دفعہ ایبک کو اپنے بہن بھائیوں یا اکیلے کھیلتے ہوئے دیکھ کر چڑیا کا بے تحاشا دل چاہتا تھا کہ وہ خود بھی اس کے ساتھ جا کر کھیلنے لگے۔ ایبک کی اچھالی ہوئی ہوا میں اڑتی ہوئی اس فریز بی کو جسے کوئی پکڑ نہیں پاتا وہ پکڑ لے۔ ایبک کی ٹینس Serve کو وہ دوسرے کورٹ سے اتنی ہی طاقت کے ساتھ Return کرے جس قوت سے وہ پھینکی گئی تھی اور اسے یقین تھا وہ ایسا کر سکتی تھی۔ ایک بچے کی معصومیت اور خوش فہمی اسے یہ بتا ہی نہیں پا رہے تھے کہ کھیل کھیلنے اور اچھا کھیلنے کے لیے صرف خواہش اور موقع نہیں Skillکی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ ٹینس کا وہ ریکٹ جسے ایبک بڑی آسانی سے گھماتا اور ہلاتا نظر آتا تھا اس کے پیچھے Will نہیں Skill تھی۔ اس کے تین سالوں کا تجربہ تھا۔ فریز بی کی وہ ڈسک تھی جو ہوا میں تیرتی کسی کے ہاتھ نہیں آتی تھی۔ وہ اس کے ہاتھ سے بھی اسی طرح چھوٹ کر گرتی جس طرح دوسروں کے ہاتھوں سے… لیکن بچے آدھی زندگی اور آدھی خواہشات خوابوں اور فینٹسی میں پوری کرتے ہیں… نہ نپولین کی ڈکشنری میں ناممکن کا لفظ تھا نہ اس کی زندگی میں ہوتا ہے… اور چڑیا کے ساتھ تو سات دوست بونے بھی تھے۔
    ”نانا جب میں بڑی ہو جاؤں گی تو میں ٹینس کی پلیئر بنوں گی۔” ایبک کے آنے کے چند دنوں کے بعد ایک دن چڑیا نے خیر دین سے ریکٹ کی فرمائش کرتے ہوئے اسے اپنے کیئریئر میں تبدیلی کا عندیہ دیا۔
    ”نہیں بیٹا، لڑکیاں ٹینس نہیں کھیلتیں۔” خیر دین نے فوراً اسے ٹوکا۔
    ”ٹی وی پر تو کھیلتی ہیں… وہ جو ومبلڈن ہوتا ہے۔” چڑیا نے پی ٹی وی پر دیکھے جانے والے کسی میچ اور ٹورنامنٹ کی اسے یاد دلائی۔
    ”ہاں پر وہ تو انگریزوں کے ملک میں ہوتا ہے اور انگریز عورتیں کھیلتی ہیں۔” خیر دین جواب دیتے ہوئے صاحب کی بیوی اور اب ایبک کی ممی کو بھول گیا تھا چڑیا نہیں، اس نے خیر دین کو یاد دلانے میں دیر نہیں کی۔
    ”بیٹا وہ صاحب لوگ ہیں، وہ کھیل سکتے ہیں ہم نہیں کھیل سکتے۔” خیر دین نے بے اختیار گہری سانس لیتے ہوئے اس سے کہا۔ چڑیا کو اب بار بار صاحب اور اپنی کلاس کا فرق سمجھانا اور بتانا خیر دین کو بڑا مشکل لگتا تھا۔ خاص طور پر اس لیے کیونکہ ساری عمر وہ چڑیا کے سامنے ایک ”بڑا آدمی” بنا رہا تھا اور اب اس بڑے آدمی کو اس بچی کے سامنے یہ خول اتارنا پڑ رہا تھا اور یہ آسان نہیں تھا مگر اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ وہ اسے اپنی استطاعت سے بڑھ کر کھلا پلا رہا تھا۔ اسے انگلش میڈیم اسکول بھی بھیج رہا تھا۔ اس انگلش میڈیم اسکول میں جہاں اس جیسا آدمی اپنی اولاد کو بھیجنے کے صرف خواب دیکھ سکتا تھا لیکن اس کے باوجود وہ چڑیا کے پاؤں زمین پر بھی رکھنا چاہتا تھا۔ اس کو پرواز سے روکنا چاہتا تھا۔
    ”بہت سارے کام صاحب لوگ کر سکتے ہیں لیکن ہم نہیں…” چڑیا کو اس فلاسفی کی سمجھ آئی تھی یا نہیں لیکن یہ ایک جملہ اس نے کسی طوطے کی طرح اپنے سسٹم میں بغیر بحث کے فیڈ کیا تھا۔




  • عکس — قسط نمبر ۲

    وہ اس اسٹینڈنگ مرر کے سامنے کھڑی چند لمحوں کے لیے جیسے فریز ہو گئی تھی۔ خیر دین ہمیشہ اسے نصیحت کیا کرتا تھا۔
    ”بیٹا۔ شام کے بعد کبھی گھر میں لگے آئینوں کے سامنے مت جانا اور خاص طور پر برآمدے میں پڑے اس بڑے آئینے کے سامنے۔” چڑیا، خیر دین کی نصیحت پر کچھ حیران ہو گئی تھی۔
    ”پر کیوں نانا؟”
    ”کہتے ہیں شام کے بعد وہ آئینے دیکھنے آتے ہیں۔” خیر دین نے کچھ اٹک کر اسے بتایا۔ چڑیا نے وہ کا حدوداربہ نہیں پوچھا تھا۔ وہ جانتی تھی، وہ کون تھے؟ اس کا چہرہ خوشی اور جوش سے سرخ پڑ گیا تھا۔ خیر دین کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ اپنی احتیاطوں میں اس نے چڑیا کو جیسے خزانے کی کنجی دے دی تھی۔ تو بالآخر اب سارے گھر میں ماری، ماری پھرنے کے بجائے اسے صرف شام کے بعد گھر میں لگے ہوئے آئینوں کے آس پاس رہنا تھا۔ چڑیا نے دل ہی دل میں اپنی نئی حکمت عملی طے کی۔
    نانا آپ نے کبھی ان آئینوں میں ان کو دیکھا؟” چڑیا نے جیسے بڑی احتیاط کے عالم میں سرگوشی کی۔ خیر دین نے اسے سمجھا دیا تھا کہ بار بار ان کا نام نہیں لینا چاہیے ورنہ وہ ناراض ہو سکتے ہیں تو چڑیا اب اکیلے میں بھی ان کو بونا نہیں کہتی تھی البتہ ان بونوں کے نام لینے میں اسے تامل نہیں ہوتا تھا۔




    ”نہیں، میں نے تو نہیں دیکھا لیکن گھر میں رہنے والے دوسرے نوکروں نے دیکھا ہے… خاص طور پر وہ باہر والے بڑے آئینے میں۔” خیر دین روانی میں بتاتا گیا۔ چڑیا کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ اسی وقت چڑیا کی طرح اڑتے ہوئے ان آئینوں کے اردگرد منڈلانے لگے۔
    اگلے دن ڈی سی ہاؤس میں آتے ہی چڑیا نے سب سے پہلے گھر کے آئینے گننے شروع کر دئیے تھے۔ بیرونی آئینے کے علاوہ گھر کے مرکزی ہال، اندرونی برآمدے اور چند دوسرے کمروں میں ملا کر پانچ چھوٹے بڑے آئینے تھے۔ کچھ کمرے جو بند تھے وہ وہاں کے آئینے نہیں گن سکتی تھی اور ان میں سے صرف ایک آئینہ تھا جو چڑیا شام کے بعد آسانی سے دیکھ سکتی تھی اور وہ مرکزی دروازے کے باہر برآمدے میں لگا… شیول اسٹینڈنگ مرر تھا۔ اس آئینے نے سات آٹھ سال کی اس بچی کو پہلے کبھی اس طرح فیسینیٹ نہیں کیا تھا جس طرح اب کرنے لگا تھا۔ وہ دن میں بھی کئی بار اب اس آئینے کے پاس جانے لگی تھی۔ کئی بار آئینے کے سامنے کھڑی وہ اس کے اکھڑے ہوئے پینٹ بیکنگ میں کنٹا، منٹا، شنٹو، ڈیڈو، ٹوفو، ٹوکو، کیٹو کو ڈھونڈنے کی کوشش کرتی رہتی… بعض دفعہ گلیکسی کے ستاروں کی شکل کی طرح وہ بھی اس پینٹ میں ان سات بونوں کو کسی نہ کسی حد تک ڈھونڈ ہی لیتی… اور بعض دفعہ وہ اسے حرکت کرتے بھی نظر آتے صرف اسٹیٹک نہیں… لیکن پھر بھی اس کا لاشعور کہیں نہ کہیں اس سے کہہ رہا تھا کہ جو وہ آئینے میں پہچان رہی ہے وہ غیر مرئی نہیں ہے… وہ ویسا پراسرار اور مافوق الفطرت نہیں تھا جتنا گھر میں خودبخود حرکت کرنے والی چیزیں جو اب اس کے لیے para normal چیز نہیں رہی تھی۔ وہ ان حرکت کرنے والی چیزوں کے تعاقب میں جاتی تھی، تجسس اور اشتیاق کے عالم میں… خیر دین کی طرح آیات نہیں پھونکتی تھی… بلکہ کئی دفعہ اس حرکت کرنے والی چیز کو بعد میں بھی الٹ پلٹ کر دیکھتی رہتی یوں جیسے وہ اس نظر نہ آنے والے بونے کی کوئی نشانی اس چیز پر دیکھنا چاہتی تھی جو اسے حرکت دیتا رہا تھا۔ اسے کبھی کچھ نظر نہیں آیا تھا… کیونکہ وہ یہ طے نہیں کر پائی تھی کہ آخر وہ ان گلاسوں، پلیٹوں اور دوسری چیزوں پر دیکھنا چاہتی تھی… کوئی بڑا شاید ان چیزوں پر فنگر پرنٹس تلاش کرتا کوئی دوسرا نشان یا پھر کوئی بالوں کا ٹکڑا… چڑیا ان بونوں کے کپڑوں، جوتوں اور پہنی ہوئی دوسری چیزوں کا کوئی حصہ دیکھنا چاہتی تھی… ان کی رنگین پُھندنے والی ٹوپی کے کوئی دھاگے، ان کے رنگین رومال ، کوئی سونے یا چاندی کا سکہ… کوئی بٹن… یا کوئی ایسی چیز جسے وہ اپنے پاس فخریہ طور پر رکھ سکے اور پھر سب کو دکھا سکے۔
    لیکن دن گزرتے گئے اور اسے وہاں کوئی بونا نظر نہیں آیا اور جب وہ انتظار اور امید ختم کر بیٹھی تب یک دم اس شام اسے باہر برآمدے میں لگے آئینے میں پہلی بار کچھ نظر آیا تھا۔ وہ اس شام خیر دین اور گھر کے دوسرے ملازمین کے ساتھ نئے ڈپٹی کمشنر کے انتظار میں گھر کے باہر کھڑی تھی۔ نیا ڈپٹی کمشنر اس گھر میں منتقل ہونے سے پہلے اس گھر کا جائزہ لینے کے لیے اس شام وہاں آنے والا تھا اور خیر دین اس کے اصرار پر اسے بھی وہاں ساتھ لے آیا تھا۔ وہ خود دوسرے ملازمین کے ساتھ گپ شپ لگانے لگا اور چڑیا ہمیشہ کی طرح سامنے والے لان میں بیٹھی ہوئی بلیوں کے ساتھ کھیلنے لگی۔ ان بلیوں کے ساتھ دوڑتے بھاگتے وہ پسینے سے شرابور ہو گئی تھی اور کسی بلی کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہی وہ لان سے ڈرائیو وے اور وہاں سے برآمدے میں آئی تھی اور برآمدے میں آتے ہی بلی کو بھول کر وہ اس آئینے کی طرف آئی تھی۔ شام ہو رہی تھی، پھولی ہوئی سانس اور پسینے سے شرابور وہ آ کر آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی۔ وہ اس وقت آئینے میں اپنے بال اور چہرہ صاف کرنا چاہتی تھی لیکن اس نے آئنے میں کچھ دیکھا تھا۔ ایک نظر میں وہ اسے اپنا وہم لگا تھا لیکن وہاں آئینے میں کچھ تھا… کوئی کھڑا تھا… وہاں کسی کا عکس تھا… بہت چھوٹے سے قد کا کوئی…
    اس سے پہلے کہ وہ غور کر پاتی خیر دین نے اسے آواز دی تھی۔ ڈپٹی کمشنر کی گاڑی گھر کے اندر داخل ہو رہی تھی۔ تمام ملازمین مستعد ہو گئے تھے۔ چڑیا نے خیر دین کی آواز پر لاشعوری طور پر ایک لمحے کے لیے پلٹ کر دیکھا پھر وہ دوبارہ گردن موڑ کر اس آئینے کو دیکھا… وہاں اب وہ نہیں تھا… جو اسے نظر آیا تھا… سیاہ رنگت والا ایک بے حد چھوٹے قد اور بڑی بڑی موٹی آنکھوں اور سرخ موٹے ہونٹوں والا ایک آدمی… جو اسے دیکھ رہا تھا… نظریں جمائے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے… وہ بے حد بدصورت تھا… اور ایک لمحے کے لیے چڑیا کا جسم پتے کی طرح کانپا تھا۔ اس نے زندگی میں اس جسامت کا کوئی انسان پہلی بار دیکھا تھا… لیکن اس کا تجسس غائب نہیں ہوا تھا… خوف اور تجسس… لیکن اس کے نظر ہٹاتے ہی وہ آئینے سے غائب ہو گیا تھا… اور اب جب وہ دوبارہ آئینے کو دیکھ رہی تھی تو وہ وہاں نہیں تھا… آئینے پر برآمدے میں جلنے والی روشنیوں کا عکس پڑ رہا تھا۔ چڑیا چند قدم اور آگے بڑھ آئی یوں جیسے وہ آئینہ کوئی دیوار تھا جس کے پار و ہ دیکھنا چاہتی تھی… وہاں اس آئینے میں اب اس کا اپنا عکس تھا… اپنے چہرے اور آنکھوں کی حیرانی کے ساتھ… اس کے ذہن نے اس آدمی کو بونا نہیں سمجھا تھا… بونے ایسے نہیں ہو سکتے تھے… وہ کیوٹ، شرارتی ، رنگین کپڑوں اور معصوم چہروں والی مخلوق تھی چڑیا کے ذہن میں… اور آئینے میں نظر آنے والے آدمی کا سیاہ جسم کسی ریچھ کے جسم کی طرح بالوں سے ڈھکا ہوا تھا صرف اس کا چہرہ تھا جو نسبتاً صاف تھا۔
    ایک لمحے کے لیے اس نے آنکھیں بند کیں پھر آہستہ آہستہ آنکھیں کھولتے ہوئے اس نے دوبارہ آئینے کو دیکھا اور اس بار اس کی آنکھیں ایک بار پھر حیرانی کے عالم میں کھلی تھیں۔
    آئینے میں اب ایک بے حد خوبرو، دراز قد آدمی کا عکس تھا جو برآمدے میں داخل ہو رہا تھا۔ چڑیا نے حیرانی سے آئینے کو دیکھا۔ وہ ٹھگنا، بدصورت آدمی اتنا خوبصورت اور لمبا کیسے ہو گیا تھا…؟ وہ ایک لمحے کے لیے حیران ہوئی… پھر اس نے اس آدمی کے پیچھے خیر دین اور دوسرے لوگوں کا عکس دیکھا اور وہ جیسے کرنٹ کھا کر حال میں واپس آئی تھی۔ وہ نیا ڈپٹی کمشنر تھا۔
    ”سر یہ میری نواسی ہے۔” چڑیا نے پلٹ کر دیکھا۔ نیا ڈپٹی کمشنر اور باقی تمام لوگ اب اس کے سامنے تھے اور خیر دین بڑے عاجزانہ انداز میں ڈپٹی کمشنر سے اس کا تعارف کروا رہا تھا جو پہلے ہی اسے دیکھ رہا تھا۔ چڑیا نے خیر دین کے تعارف پر سلام کرتے ہوئے پُراعتماد انداز میں آپنا ہاتھ اس ڈپٹی کمشنر کی طرف بڑھایا تھا جس نے کچھ دلچسپی سے اسے دیکھا۔ ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اس سے ہاتھ ملایا پھر خیر دین سے کہا۔
    ”ہاں۔ عابد نے بتایا تھا مجھے۔” وہ کہتے ہوئے اندرونی دروازے کی طرف بڑھ گیا۔ چڑیا نے ایک لمحے کے لیے ان تمام لوگوں کو اندر جاتے ہوئے دیکھا پھر وہ دوبارہ پلٹ کر اس آئینے کو دیکھنے لگی جس میں اس نے آج ایک بونا دیکھا تھا لیکن وہ اسے پہچان نہیں پائی تھی۔
    …٭٭…




  • تالاب کا مینڈک

    تالاب کا مینڈک

    تالاب کا مینڈک

    ایک دفعہ کا ذکر ہے۔ ایک شہزادی تالاب کے کنارے سونے کی گیند سے کھیل رہی تھی۔ کہ اچانک اس کی گیند پانی میں گر گئی۔
    شہزادی روتے ہوئے کہنے لگی: ”کوئی ہے جو تالاب سے ہماری گیند نکال دے؟ کوئی ہے؟” یہ سُن کر ایک مینڈک تالاب سے باہر آیا اور کہنے لگا:
    ”اے شہزادی! اگر آپ مجھے اپنے ساتھ شاہی محل میں رہنے دیں اور اپنی پلیٹ میں کھانے کی اجازت دیں تو میں گیند تالاب سے نکال کر لاسکتا ہوں۔”
    شہزادی نے فوراً مینڈک کی شرط قبول کرلی۔ مینڈک تالاب میں کود کر گیند باہر لے آیا۔ شہزادی نے گیندلی اور خوشی خوشی محل واپس جانے لگی۔ مینڈک نے پیچھے سے آواز دی:
    ”اے پیاری شہزادی! اپنا وعدہ پورا کریں اور مجھے بھی ساتھ محل میں لے جائیں۔” مگر شہزادی نے اس کی ایک نہ سنی۔ اگلے روز محل کے دروازے پر دستک ہوئی اور مینڈک کی کمزور سی آواز آئی:
    ”دروازہ کھولیے، پیاری شہزادی! یاد کیجیے اپنا وعدہ جو آپ نے تالاب کے کنارے کیا تھا۔”
    یہ سن کہ شہزادی نے دربانوں کو دروازہ بند رکھنے کا حُکم دیا۔ بادشاہ سلامت نے شہزادی کو سہماہوا دیکھا تو پوچھا:
    ”کیا بات ہے شہزادی! آپ گھبرائی ہوئی لگ رہی ہیں؟” شہزادی نے پورا واقعہ سنایا۔
    بادشاہ نے شہزادی سے کہا: ”شہزادی آپ کو اپنا وعدہ پورا کرنا چاہیے۔”
    چناں چہ شہزادی نے بادشاہ سلامت کی بات مان کر مینڈک کے لیے دروازہ کھلوا دیا۔ دروازہ کھلتے ہی مینڈک پھدکتا ہوا کمرے میں داخل ہوا اور میز کے قریب پہنچ گیا جہاں شہزادی کھانا کھا رہی تھی۔ اس نے شہزادی سے کہا: ”براہِ کرم مجھے اپنے ساتھ والی کرسی پر بٹھائیں اور اپنی پلیٹ سے کھانے دیں۔”
    مجبوراً شہزادی نے اسے کرسی پر بٹھایا اور اپنی پلیٹ اس کے سامنے رکھ دی۔ جب وہ پیٹ بھر کر کھا چکا تو محل میں ہی غائب ہوگیا۔ جب صبح ہوئی تو شہزادی حیران رہ گئی۔ اس نے دیکھا کہ ایک خوب صورت شہزادہ محل میں موجود ہے۔
    شہزادے نے شہزادی کو بتایا کہ ایک ظالم جادوگرنی نے اُس پر جادو کرکے اسے مینڈک بنا دیا تھا۔ اس جادوگرنی نے یہ شرط رکھی تھی کہ جب تک وہ ایک شہزادی کے ساتھ اس کی پلیٹ میں کھانا نہیں کھائے گا تب تک مینڈک ہی رہے گا۔
    تو بچو! آپ نے دیکھا کس طرح شہزادی نے وعدہ نبھا کر شہزادے کو ظالم جادوگرنی کے جادو سے نجات دلائی۔ ہمیں بھی ہمیشہ دوسروں کی مدد کرتے رہنا چاہیے۔
    ٭…٭…٭