Tag: urdu

  • اسپیس شپ کا فرار | علینا ملک

    اسپیس شپ کا فرار | علینا ملک

    اسپیس شپ کا فرار

    علینا ملک

    بازل، وہاج اور فاتح بلا کے شرارتی اور بے حد ذہین بچے تھے۔ پورا محلہ ان کی شرارتوں سے واقف تھا۔ ایک دن وہاج نے فاتح اور بازل کو ساتھ لیا اور دادا جان کی لائبریری کی طرف چل پڑے۔
    ”داداجان! ہمیں ضروری بات کرنی ہے۔” تینوں نے لائبریری میں داخل ہوتے ہی کہا۔ ”ہاں بولو! ” دادا جان اپناچشمہ درست کرتے ہوئے بچوں کے چہروں کا جائزہ لینے لگے۔
    ”دادا جان! اِس بار ہم آپ کے ساتھ شکار پر جائیں گے۔” بازل نے کہا۔
    ”ارے! کیوں بھئی؟ تم لوگ تو بہت شرارتی ہو۔ تمہارے والدین نہیں مانیں گے۔ انہوں نے صاف انکار کردیا۔ ”دادا جان! پلیز ، ہم وعدہ کرتے ہیں کہ وہاں کوئی شرارت نہیں کریں گے۔” تینوں کے اصرار پر دادا جان خاموش ہوگئے۔ دادا جان کے دوست قریشی صاحب کا شہر سے دورایک بہت بڑا فارم ہائوس تھا۔ اِس کے تین اطراف گھنا جنگل تھا۔
    قریشی صاحب اور اُن کے دوست مہینے میں ایک بار شکار کے لیے وہاں جاتے تھے۔ ”بچو! ایک بات یاد رکھنا۔ فارم ہائوس کے اطراف میں خوف ناک جنگل ہے۔ وعدہ کرو کہ تم اُس کے کاٹیج سے باہر نہیں نکلو گے۔” دادا جان نے مقررہ دن فارم ہاؤس پہنچ کر بچوں کو نصیحت کی۔ ”جی دادا جان! ہم ایسا ہی کریں گے۔ آپ بے فکر رہیں۔”
    فارم ہائوس واقعی کسی جادوئی محل یا پرستان سے کم نہ تھا۔ چاروں طرف سبزہ، خوب صورت باغات، بے شمار پھل دار درخت اور خوش نما پھول، پودے اِس پیارے منظر کو چار چاند لگا رہے تھے۔ دادا جان بچوں کو سمجھا کر دوستوں کے ہمراہ شکار کے لیے چل دیے۔
    ُہرّرے… اب آئے گا مزہ! تینوں نے جیپ کونظروں سے اوجھل ہوتے ہی نعرہ لگایا اور باغ کے پچھلے حصّے میں نکل آئے۔ ”اوہ… تم دونوں ادھر آئو، دیکھو یہ کیا چیزہے؟” بازل نے فاتح اور وہاج کو پکارا۔ ”ہائیں! یہ کوئی خفیہ دروازہ لگتا ہے۔” تینوں کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
    ”اس کے پیچھے شایدجنگل ہے جس کا ذکر دادا جان کر رہے تھے ۔” فاتح نے کہا۔ دروازے کو تالا لگا دیکھ کر وہ تینوں رسی کے ذریعے دوسری طرف کود گئے اور کسی ماہر جاسوس کی طرح وہ جنگل میں آگے بڑھنے لگے۔ اچانک انہیں عجیب و غریب آوازیں سنائی دیں۔ وہ تینوں سہم گئے۔ پھر ایک طرف سے آہنی ہاتھ ان کی طرف بڑھے۔ انہوں نے ڈر کے مارے آنکھیں بند کرلیں اور آہنی ہاتھ انہیں گھسیٹتے ہوئے لے گئے۔ ”اوہ …اوہ … ہم اس وقت کہاں ہیں؟” ہوش میں آتے ہی بازل کی آواز گونجی۔ چاروں طرف شیشے اور اسٹیل کی دیواریں تھیں۔ چھت کے ساتھ ایک بڑی اسکرین نصب تھی۔ یہ کوئی اسپیس شپ تھی جس کے آہنی پنجے اِنہیں پکڑ کر شپ میں لے آئے تھے۔وہ تینوں خوف زدہ تھے۔
    اچانک دیوار ذرا آگے کو سرکی اور ایک لمبا روشن راستہ دکھائی دیا۔ اس راہ داری کی دوسری طرف کچھ فولادی مشینیں نصب تھیں۔ چند عجیب و غریب روبوٹ نما بلائیں کمرے میں داخل ہوئیں۔ ”مجھے لگتا ہے یہ ہماری زمین پر کوئی خطرناک منصوبہ لے کر آئے ہیں ۔”وہاج نے کہا۔
    ”ہاں! تم ٹھیک کہہ رہے ہووہاج! ہمیں کچھ کر نا ہوگا، لیکن پہلے یہاں سے فرار ہونے کاراستہ تلاش کرناچاہیے ۔” بازل نے کہا۔ ”دیکھو! نیچے فرش پر کچھ ہندسے لکھے ہو ئے ہیں۔ یہ ہندسے راستہ کھلنے کا کوڈ ہوگا۔” فاتح نے ذہن لڑایا۔ ابھی وہ باتیں کررہے تھے کہ جادوئی دروازہ ایک بار پھر کھلا کوئی روبوٹ نما مخلوق اندر داخل ہوئی۔ اُن کے ہاتھوں میں فائلیں اور الیکٹرک پیڈ زتھے۔
    اندر آنے والے یہ عجیب و غریب روبوٹ ایک اسکرین کے سامنے کھڑے ہو گئے۔ بازل اُن کی حرکات کو غور سے دیکھ رہا تھا۔ اُن کے واپس جاتے ہی بازل نے فرش پر لکھا کوڈ ملایا تو دروازہ خود بہ خود کھل گیا۔ انہیں سامنے ایک سیڑھی نظر آئی۔ وہ جلدی سے سیڑھی کے ذریعے نیچے اُتر گئے۔ کچھ دیر رینگنے کے بعد انہوں نے دوڑ لگادی اور اسپیس شپ سے کافی دُور نکل آئے۔
    ابھی وہ اپنی سانسیں بحال کر رہے تھے کہ ایک دم سے ان کے قدم زمین کے ساتھ چپک کررہ گئے۔ سامنے دادا جان کی جیپ کھڑی تھی۔ ”اُف! دادا جان تو آگئے۔ اب کیا ہوگا!” فاتح نے گھبرا کر پوچھا۔ ابھی وہ پریشانی کے عالم میں تھے کہ اچانک ایک آواز نے انہیں چونکا دیا۔ ”تم لوگوںنے تو وعدہ کیا تھا مجھ سے؟ تم واقعی اعتبار کے قابل نہیں ہو۔” دادا جان کی آنکھیں غصّے سے سرخ تھیں۔
    ”دادا جان! ہمیںمعاف کر دیں۔ ہم سے واقعی غلطی ہوگئی۔” فاتح نے سر جھکاتے ہوئے کہا پھر بازل نے سارا واقعہ سنا یا تو دادا جان حیران رہ گئے۔ ”دادا جان! ہمیں اس مخلوق کو یہاں سے بھگانا ہوگا۔” یہ کہہ کر تینوں نے اپنا منصوبہ دادا جان کو بتا دیا۔ پھر سب نے مل کر بہت سی لکڑیاں جمع کیں اور اُنہیں اسپیس شپ کے چاروں طرف پھیلا کر آگ لگا دی۔
    جیسے ہی آگ بھڑکی، اسپیس شپ میں ہل چل مچ گئی۔ ہر طرف دھواں اُٹھنے لگا۔ کچھ دیر بعد دھویں کے بادل چھٹنا شروع ہوئے تو بچوں کو اسپیس شپ آسمان کی طرف جاتی دکھائی دی۔ سب نے زور دار نعرے لگانا شروع کردیے۔ دادا جان نے تینوں کو پیار سے گلے لگا لیا۔
    ”داداجان! آپ ہم سے ناراض تو نہیں ہیں نا۔” واپسی پر بچوں نے دادا جان سے سوال کیا ۔
    ”دیکھو بچو! تم لوگوںنے وعدہ خلافی کی جس کا مجھے افسوس ہے۔ میں تم سب سے خفا ہوں۔ ہاں! البتہ مجھے خوشی ہے کہ تم نے اپنی ذہنی صلاحیتوں کو استعمال کرکے ایک بڑا کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ اس پر میں تم سب کو شاباش دیتا ہوں لیکن یاد رکھنا کہ قسمت ہمیشہ مہربان نہیں ہوتی اس لیے بڑوں کا کہنا ماننا سیکھو۔ اسی میںتمہاری کامیابی ہے۔”
    ”جی دادا جان! ہم آیندہ کہنا مانیں گے۔” تینوں نے یک زبان ہوکر کہا اور گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔
    ٭…٭…٭

  • سونے کا انڈا | احمد عدنان طارق

    سونے کا انڈا | احمد عدنان طارق

    سونے کا انڈا
    احمد عدنان طارق

    ایک کھیت کے کنارے ایک بھوری مرغی رہا کرتی تھی جو روز بھورے رنگ کا ایک انڈا دیتی۔ ایک دن مرغی نے سوچا: ”اے کاش! میں کبھی سونے کا انڈا دے سکوں تاکہ ساری زندگی سکون سے گزرے۔” دوسری مرغیوں نے اُس کی یہ خواہش سنی تو آپس میں سرگوشی کرنے لگیں۔
    ”ذرا اسے تو دیکھو! یہ سونے کا انڈا دینا چاہتی ہے! اتنے اچھے تو ہوتے ہیں بھورے انڈے!” رفتہ رفتہ یہ خبر سارے جانوروں نے سن لی۔
    آخر بھوری مرغی کی یہ خواہش کسان کی بیوی تک بھی پہنچ گئی۔ وہ مسکرائی۔ اُسے پتا تھا کہ اُسے کیا کرنا ہے۔ موسم بہار تھا اور گائوں کا میلہ نزدیک آگیا تھا۔ میلے میں انڈوں کو رنگنے کا مقابلہ بھی ہوتا تھا۔ کسان کی بیوی نے ٹوکری میں بھورے انڈے اکٹھے کیے اور اُن پر بہت خوب صورت رنگ کرکے مقابلے کے لیے کسان کو دے دیئے۔
    صرف سب سے بڑا ایک بھورا انڈا اس نے اپنے پاس رکھ لیا اور اس پر انتہائی خوب صورت سنہری رنگ کر دیا۔ جب دوبارہ انڈے اکٹھے کرنے کے لیے کسان کی بیوی بھوری مرغی کے پاس آئی تو اس نے چپکے سے وہ سنہری انڈا بھوری مرغی کے نیچے رکھ دیا۔
    کچھ دیر کے بعد جب بھوری مرغی انڈوں سے نیچے اُتری تو اُس کی نظر چمکتے ہوئے سنہری انڈے پر پڑی۔ اس نے خوشی سے اُچھل اُچھل کر شور مچانا شروع کر دیا۔
    ”میری خواہش پوری ہو گئی۔ میں نے سونے کا انڈا دیا ہے۔ اب میں بہت خوش ہوں۔”
    بھوری مرغی نے کسان کی بیوی سے درخواست کی کہ اس چمکتے انڈے کو کھڑکی میں رکھ دے تاکہ وہ جب چاہے اُسے دیکھ سکے۔ تب سے آج تک انڈا کھڑکی میں ہی پڑا ہے۔

    ٭…٭…٭

  • شامو اور بابو | رِدا سلیم

    شامو اور بابو | رِدا سلیم

    شامو اور بابو
    رِدا سلیم

    علی پور کے گاؤں میں دو گھوڑے شامو اور بابو رہتے تھے۔ بابو صحت اور جسامت میں خوب تھا جب کہ شامو بے چارا دبلا پتلا۔ ان دونوں کی آپس میں بہت دوستی تھی۔ ایک دن بابو نے شامو سے کہا:
    ”شامو! تم تو ایک عام نسل کے گھوڑے ہو جب کہ میں خوب صورت اور طاقت ور ہوں۔ میرے چارے میں طرح طرح کے میوے ہوتے ہیں اور تمہاری خوراک صرف گھاس پھوس ہی ہوتی ہے۔ میری ٹانگیں مضبوط اور میرے کُھر مہارت سے کٹے ہوئے ہیں جب کہ تمہارے پاؤں تو مٹی گارے سے لتھڑے رہتے ہیں۔ تم نے میری گردن دیکھی ہے نا! خوب صورت اور ملائم، جب کہ تمہاری گردن بھدی اور کھردری ہے۔ میری کھال ریشم کی طرح چمکتی ہے اور تمہاری پسینے میں شرابور، اب بتاؤ ہم میں کون زیادہ خوب صورت ہے؟” اس بات پر شامو کو سخت غصہ آگیا۔ وہ کہنے لگا: ”بابو! اگر یہی بات ہے تو ہم دوڑ لگا لیتے ہیں۔ دیکھتے ہیں کون آگے نکلتا ہے۔”
    چناں چہ وہ دونوں اُسی وقت مقابلے کے لیے تیار ہوگئے۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ دونوں میدان میں چکر لگائیں گے اور تب تک نہیں رکیں گے جب تک کوئی ایک اپنی ہار تسلیم نہیں کرلیتا۔”
    دونوں نے ایک ساتھ دوڑنا شروع کیا۔ بابو ذرا گردن اکڑا کر دوڑ رہا تھا۔ وہ پہلے تین چار چکر شامو سے آگے رہا لیکن جلد ہی اس کی ہمت جواب دینے لگی۔ شامو نے بابو سے پوچھا ”کیوں بھئی! تھک گئے؟”
    ”ارے! میں تھکا نہیں، بس میرے پاؤں میں ذرا موچ آگئی ہے۔” بابو نے جھوٹ بولا۔
    اگلے چکر کے دوران شامو دوڑتا ہوا بابو سے کافی آگے نکل گیا۔
    ”میرے دوست! کیا تم تھک گئے ہو؟” شامو نے پوچھا۔
    ”نہیں، مجھے کُچھ یاد آگیا۔” بابو کی سانس اُکھڑی ہوئی تھی لیکن وہ مسلسل جھوٹ بول رہا تھا پھر اچانک وہ رک گیا اور زمین پر لیٹ گیا۔
    اِدھر شامو دسواں چکر لگانے گیا تو اُدھر بابو چپکے سے لنگڑاتا ہوا قریبی جھاڑیوں کے پیچھے جاکر گھاس چرنے لگا۔ وہ شامو سے کترا رہا تھا۔ اچانک اس نے آواز لگائی: ”شامو! تم تھوڑی دیر کے لیے آرام کرلو۔”
    ”مجھے آرام کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں تو ابھی دوڑنے کے لیے صرف گرم ہوا ہوں۔ ابھی میں دس چکر مزید لگائوں گا۔” شامو نے جواب دیا۔ اس کی بات سن کر بابو اتنا شرمندہ ہوا کہ آئندہ کبھی اس کے سامنے اپنا سر نہ اٹھا سکا۔

    ٭…٭…٭

  • درزی اور راجا | انعم سجیل

    درزی اور راجا | انعم سجیل

    درزی اور راجا
    انعم سجیل

    کسی جنگل میں راجہ نام کا ایک ہاتھی رہتا تھا۔ وہ روز نہانے کے لیے ندی پر جایا کرتا۔ راستے میں درزی کی دکان تھی۔ راجہ روزانہ اُس درزی کی دکان پر کچھ دیر ٹھہر جاتا کیوں کہ درزی اُسے کھانے کے لیے ڈبل روٹی دیا کرتا تھا۔ راجہ مزے لے لے کر ڈبل روٹی کھاتا اور پھر نہانے چلا جاتا۔
    ایک دن راجہ درزی کی دکان پر آیا اور اپنی سُونڈ کھڑکی کے اندر کی تاکہ درزی سے روٹی لے سکے۔ اسی دوران درزی کو شرارت سُوجھی۔ اس نے ڈبل روٹی کی بجائے ایک باریک اور نوک دار سوئی راجہ کی سونڈ میں چبھودی۔ راجہ تو ایک دَم تڑپ ہی اٹھا۔ سوئی چبھنے سے اُسے بہت درد ہوا۔ اُس کی آنکھوں میں آنسو آگئے لیکن راجہ نے درزی کو کچھ نہ کہا اور حُپ چاپ ندی پر نہانے چلا گیا۔ درزی اپنی شرارت پر خوب ہنسا۔
    راجہ جب ندی پر پہنچا تو اُس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی۔ وہ درزی سے بدلہ لینا چاہتا تھا۔ خوب اچھی طرح نہانے کے بعد راجہ نے ندی کے کنارے سے بہت سا کیچڑ اپنی لمبی سُونڈ میں بھر لیا اور تیز تیز چلتا ہوا درزی کی دُکان پر پہنچ گیا۔ درزی اپنی دُھن میں مگن رنگ برنگے پیارے پیارے کپڑے سی رہا تھا۔
    راجہ نے کھڑکی سے اپنی سُونڈ اندر کی اور سارا کیچڑ پھینک دیا۔ درزی کی دکان میں رکھے سارے کپڑے کیچڑ سے خراب ہوگئے۔ پہلے تو درزی کو بہت غصہ آیا لیکن جب اُسے اپنی شرارت یاد آئی تو وہ بہت شرمندہ ہوا۔ اُس نے راجہ سے معافی مانگی اور آئندہ شرارت سے توبہ کرلی۔
    ٭…٭…٭

  • پڑھاکو روبینہ | لبنیٰ حمید

    پڑھاکو روبینہ | لبنیٰ حمید

    پڑھاکو روبینہ

    لبنیٰ حمید

    کسی قصبے میں روبینہ نام کی ایک لڑکی رہتی تھی۔ اُس کے پاس ڈھیر ساری کتابیں تھیں لیکن اُسے اِن کتابوں سے کوئی دل چسپی نہ تھی۔ ایک دن روبینہ کا کتا اُس کی کتابوں والی الماری پرچڑھ گیا۔ روبینہ اُسے نیچے اتارنے لگی تو ساری کتابیں زمین پر گر گئیں اور اُن کے صفحات پھٹ گئے۔ کتابوں کے صفحوں سے جانور نکل کر باہر آنے لگے۔ روبینہ حیرانی سے سب کو دیکھ رہی تھی۔ ہاتھی میز پر ناچ رہا تھا۔ بندروں نے پردے پھاڑ کر پگڑیاں بنالی تھیں۔ خرگوش اِدھر اُدھر بھاگ رہے تھے جب کہ دُنبہ ایک طرف کھڑا رو رہا تھا۔
    ”رکو! تم سب واپس آجاؤ۔” روبینہ غصے سے چلّائی مگر اِس شور میں کسی نے اُس کی آواز نہ سنی۔
    اچانک روبینہ کو ایک خیال آیا۔ اُس نے ایک کتاب کھول کر کہانی پڑھنا شروع کی: ”ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی ملک میں…” سب جانور قریب آکر روبینہ کی کہانی سننے لگے۔ اچانک روبینہ نے دوسرا صفحہ پلٹا تو بندر اُچھلنے لگے:
    ”یہ ہمارے بارے میں لکھا ہے۔” اِس کے بعد وہ چھلانگیں لگاتے ہوئے کتاب کے اندر غائب ہوگئے۔ روبینہ یہ دیکھ کر حیران ہوئی لیکن وہ کہانی پڑھتی رہی۔ یوں ایک ایک کرکے سب جانور دوبارہ کتابوں میں بند ہوگئے۔ اب پورے گھر میں خاموشی تھی۔ ”میں انہیں دوبارہ کیسے دیکھ پاؤں گی؟” روبینہ افسردگی سے بولی مگر پھر اچانک اُسے ایک خیال آیا اور وہ مُسکرانے لگی۔
    اب وہ روزانہ اپنے اسکول کی کتابیں اور کہانیاں بہت شوق سے پڑھنے لگی۔ اُسے کتابیں پڑھنے میں مزا آنے لگا۔ اب وہ روزانہ کتابوں میں سب جانورں سے ملاقات کرلیتی تھی۔

  • ننّھا زرّافہ | نور الہدٰی افضل

    ننّھا زرّافہ | نور الہدٰی افضل

    ننّھا زرّافہ
    نور الہدٰی افضل

    کسی جنگل میں ایک ننھا زرافہ ظرفی رہتا تھا۔ جنگل کے جانور اُس کی لمبی گردن کا خوب مذاق اُڑاتے ۔ ظرفی دُکھ سے سوچتا کہ کاش اُس کی گردن چھوٹی ہو سکتی۔ ایک دن وہ اسی سوچ میں اُداس بیٹھا تھا کہ اچانک ایک پری اُس کے پاس سے گزری۔ پری نے ظرفی سے پوچھا:
    ”تم اُداس کیوں ہو؟” وہ بولا: ”سب جانور میری لمبی گردن کا مذاق اُڑاتے ہیں۔”
    پری نے کہا ”لو! اس میں اُداسی کی کیا بات ہے۔ اگر تم چاہو تو میں ابھی تمہاری گردن چھوٹی کر دیتی ہوں لیکن… تمہاری گردن دوبارہ لمبی نہیں ہو پائے گی۔”
    ”سچ پیاری پری! کیا ایسا ہوسکتا ہے؟” ظرفی خوشی سے چلّایا۔
    پری نے جادو کی چھڑی گھمائی اور اُس کی گردن چھوٹی کردی۔ اگلے دن جب وہ گھر سے نکلا تو جنگل کے سب جانور بہت حیران ہوئے مگر وہ پھر سے اُس کا مذاق اڑانے لگے۔ انہیں نظرانداز کرکے ظرفی آگے چل پڑا۔
    پہلے جو جانور اُس کی لمبی گردن کا مذاق اڑاتے تھے، اب وہی اُس کی چھوٹی گردن پر بھی ہنس رہے تھے۔ وہ سوچ میں گُم آگے بڑھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد اسے بھوک ستانے لگی۔ وہ جلدی سے درخت کی طرف بڑھا تا کہ پھل کھا سکے مگر اُس کا منہ پھلوں تک نہ پہنچ سکا۔ پہلے لمبی گردن کی وجہ سے اُسے آسانی تھی۔ وہ اونچے درختوں سے مزے مزے کے پھل کھا سکتا تھا لیکن اب ایسا نہیں تھا۔ بھوک کی وجہ سے وہ رونے لگا۔ اچانک اُس کی آنکھ کھل گئی۔
    ”اوہ! تو یہ ایک خواب تھا!” اپنی لمبی گردن دیکھ کر وہ بہت خوش ہوا۔ اس نے عزّم کیا کہ اب وہ کبھی دوسروں کے مذاق اڑانے پر اُداس نہ ہو گا کیوں کہ اللہ نے اُسے بہت خوب صورت بنایا ہے۔
    ٭…٭…٭

  • مالی کا گدھا | طاہرہ احمد

    مالی کا گدھا | طاہرہ احمد

    مالی کا گدھا
    طاہرہ احمد

    پرانے زمانے کی بات ہے شہر بغداد میں رستم نامی ایک مالی رہتا تھا۔ ایک دن رستم اپنے گدھے کو لے کر بازار سے گزر رہا تھا۔
    بازار میں اُسے ایک ٹھگ ملا، ٹھگ نے رستم سے پوچھا: ”میاں! گدھے کو کہاں لے جارہے ہو؟” رستم بولا: ”یہ بہت تنگ کرتا ہے۔ میں اسے بیچنے جارہا ہوں۔” ٹھگ نے کہا:
    ”ارے بھئی کیوں نقصان کرتے ہو اپنا؟ میں اسے انسان بنا سکتا ہوں لیکن اس کے بدلے پانچ سونے کے سِکّے لوں گا۔” رستم یہ سن کر بہت خوش ہوا۔ اس نے گدھا ٹھگ کے حوالے کیا اور چھے ماہ بعد آنے کا وعدہ کرکے چلا گیا۔
    دن گزرتے گئے۔ اُدھر ٹھگ نے رُستم کا گدھا بیچ ڈالا۔ چھے ماہ بعد رستم ٹھگ کے پاس گیا۔ اس نے جاتے ہی ٹھگ سے گدھے کے متعلق پوچھا: ”بھائی میرا گدھا انسان بن گیا؟”
    یہ سن کر ٹھگ پہلے تو گھبرایا پھر اُس نے سوچا کہ یہ تو بے وقوف ہے۔ کیوں نا اس کی بے وقوفی کا فائدہ اٹھایا جائے؟
    اُس نے مالی سے کہا: ”دیکھو بھائی! میں نے تمہارے گدھے کو انسان بنادیا تھا اور اب وہ شہر جاکر گورنر لگ گیا ہے۔ تم گورنر کے محل چلے جاؤ لیکن یاد رکھنا وہ خود کو گدھا نہیں مانے گا۔ اس لیے تم اُس کی کسی بات پر یقین نہ کرنا۔ بس اس کے سامنے چارہ لہرا دینا، ہوسکتا ہے وہ تمہیں پہچان لے۔”
    ٹھگ کی بات سن کر رُستم نے اپنے ہاتھ میں چارہ لیا اور گورنر کے محل میں چلا گیا۔ وہاں جاکر مالی نے گورنر کے سامنے چارہ لہرایا اور بولا: ”چل بھئی میرے گدھے! تُو انسان بن گیا ہے۔ چل میرے ساتھ میں تجھے لینے آیا ہوں۔”
    گورنر نے یہ بات سنی تو اسے بہت غصّہ آیا وہ چیخ کر بولا: ”کون ہو تم؟ کہاں سے آئے ہو؟ کون سا گدھا؟ چلو بھاگو یہاں سے…” رُستم نے گورنر کو پچکارنا شروع کردیا۔
    ”ارے میرے پیارے گدھے! اتنا غصہ کیوں کرتا ہے۔ تُو اپنے مالک کو ہی بھول بیٹھا۔ دیکھ یاد کر جب تو میرے ڈنڈے کھایا کرتا تھا میں ہی تیرا مالک ہوں۔” یہ کہہ کر رستم نے اُچھل کر گورنر کو دبوچ لیا۔ گورنر نے اپنے سپاہی بلالیے جنہوں نے مالی کو گرفتار کرلیا۔ رستم کے رونے دھونے پر گورنر نے اُس سے سارا واقعہ سنا تو اس کی ہنسی چُھوٹ گئی۔ اس نے سپاہی بھیج کر اس ٹھگ کو گرفتار کروایا اور رُستم کو آزاد کر دیا۔

  • خالہ بلی اور ننھے چوہے | افشاں شاہد

    خالہ بلی اور ننھے چوہے | افشاں شاہد

    خالہ بلی اور ننھے چوہے
    افشاں شاہد

    کسی جنگل میں ٹومی اور ٹمی دو ننھے چوہے رہتے تھے۔ ایک دن دونوں نے اپنے امی ابو سے میلے پر جانے کی اجازت لی اور قریبی گاؤں کی طرف چل پڑے۔ ابھی وہ کچھ قدم ہی چلے تھے کہ انہیں صُبح سے بھوکی خالہ بلی مل گئیں۔ ننھے چوہوں کو دیکھ کر ان کے منہ میں پانی آگیا۔
    ”آہا…!! آج تو شکار خود چل کر پاس آیا ہے۔ بہت مزہ آئے گا!” خالہ بلی خوش ہوکر بُڑبُڑائی۔ ٹومی اور ٹمی خوف زدہ ہوگئے اور ٹمی رونے لگی۔
    ”میں تم دونوں کو کھا جاؤں گی۔” خالہ بلی نے پنجے لہراتے ہوئے کہا۔
    ”خالہ بلی! خالہ بلی! ہم آتے ہوئے کیچڑ میں گرگئے تھے۔ یہ دیکھیں! ہمارے ہاتھ پاؤں بھی گندے ہوگئے ہیں۔ ہمیں ابھی کھائیں گی تو آپ کے پیٹ میں درد ہوگا۔ ہم تالاب سے نہا کر آتے ہیں۔ پھر آپ چاہیں تو بے شک ہمیں کھالیں۔” ٹومی ہمت کرکے بولا۔
    ”تم اتنے چالاک نہ بنو! مجھے پتا ہے تم دونوں موقع ملتے ہی بھاگ جاؤ گے۔” خالہ بلی نے کہا۔
    ”خالہ بلی! ہم ایک ایک کرکے جائیں گے اور نہا کر واپس آجائیں گے۔” ٹومی نے کہا تو خالہ بلی نے اجازت دے دی۔ ٹومی تالاب کی طرف چل پڑا۔ ٹومی کو جاتا دیکھ کر ٹمی پریشان ہوگئی۔ خالہ بلی کو تسلی تھی کہ ٹمی اُس کے پاس ہی ہے۔ تھوڑی دیر بعد ٹومی بھاگتا ہوا واپس آیا۔ اُسے دیکھ کر خالہ بلی نے اپنی زبان ہونٹوں پر پھیرنا شروع کردی۔
    اچانک ڈبو انکل کی خوف ناک غرّاہٹ گونجی جو ٹومی کے پیچھے پیچھے چلا آرہا تھا۔ ڈبو انکل کو دیکھ کر خالہ بلی گھبرا گئی اور دیکھتے ہی دیکھتے وہاں سے دُم دبا کر بھاگ نکلی۔ وہ سمجھ گئی کہ ٹومی ڈبو کو بلا کر لایا ہے۔ خالہ بلی کو بھاگتے دیکھ کر ٹومی نے آواز دی: ”خالہ بلی! خالہ بلی! رک جاؤ، بھاگ کیوں گئی۔ کیا ہمیں کھانا نہیں؟”
    خالہ بلی نے بھاگتے ہوئے جواب دیا: ”نہیں نہیں! تم لوگ بہت گندے ہو۔ میں تمہیں کھاؤں گی تو میرے پیٹ میں درد ہوگا۔” یہ سن کر ٹومی، ٹمی اور ڈبو انکل کی ہنسی چھوٹ گئی۔

  • جِن کے تین سنہری بال | سارہ قیوم

    جِن کے تین سنہری بال | سارہ قیوم

    جِن کے تین سنہری بال
    سارہ قیوم

    کسی ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ ایک مرتبہ وہ ایسا بیمار ہوا کہ کسی دوا سے ٹھیک نہ ہوا۔ حکیموں نے کہا: ”اگر بادشاہ کو جن کے تین سونے کے بال پیس کر کھلائے جائیں تو ہ ٹھیک ہو جائے گا۔” لیکن جن کے بال لائے کون؟ آخر دوردیس سے ایک شہزادہ آیا اور اس نے جن کے تین سونے کے بال لانے کا وعدہ کیا۔ جن بہت دور ایک پہاڑ پر اپنی نانی کے ساتھ رہتا۔ شہزادہ پہاڑ کی طرف چل پڑا۔ چلتے چلتے وہ ایک شہر میں پہنچا۔ اس شہر کے لوگ بہت اداس تھے۔ شہزادے نے پوچھا: ”تم لوگ اتنے اداس کیوں ہو؟
    انہوں نے جواب دیا: ”ہمارے شہر میں ایک بہت بڑا فوارہ ہے جس کا پانی شہد کی طرح میٹھا ہے۔ سارا شہر اسی فوارے سے پانی لیتا ہے۔ اب کچھ دنوں سے فوارے میں پانی آنا بند ہو گیا ہے۔ ہماری سمجھ میں نہیں آرہا کہ اس کی کیا وجہ ہے؟”
    شہزادے نے کہا: ”میں جن کے تین سنہری بال لانے جا رہا ہوں۔ اگر ہو سکا تو تمہارے اس مسئلے کا حل بھی تلاش کر لائوں گا۔”
    شہر کے لوگوں نے شہزادے کو ایک خوب صورت ہیروں کا ہار تحفے میں دیا۔ شہزادہ دوبارہ اپنے سفر پر روانہ ہو گیا۔ سفر کے دوران وہ ایک اور شہر میں پہنچا جہاں کے لوگ بہت پریشان تھے۔ شہزادے نے پوچھا ”تم لوگ پریشان کیوں ہو؟” انہوں نے جواب دیا: ”ہمارے شہر میں ایک بہت بڑا انار کا درخت ہے جس پر بے حد میٹھے اور رس دار انار لگتے ہیں۔ اب وہ درخت مرجھا رہا ہے۔ سمجھ نہیں آتی اس کو کیا ہو گیا ہے اور ہم اس کو کیسے ٹھیک کریں۔”
    شہزادے نے کہا: ”میں جن کے تین سنہری بال لانے جا رہا ہوں۔ ہو سکا تو تمہارے مسئلے کا حل بھی ڈھونڈ لائوں گا۔”
    شہر والوں نے شہزادے کو ایک خوب صورت سرخ ریشمی دوپٹہ تحفے میں دیا جس پر سونے چاندی کی تاروں سے کڑھائی بنی تھی۔ شہزادہ آگے چل پڑا۔ چلتے چلتے وہ ایک دریا کے کنارے پہنچا جہاں ایک ملاح اپنی کشتی میں بیٹھا تھا۔ شہزادہ دریا کرنے کے لیے اس کی کشتی میں بیٹھ گیا اور ملاح چپو چلانے لگا۔ جب دوسرے کنارے پر پہنچے تو ملاّح نے کہا: ”لگتا ہے آپ کسی خاص سفر پر جا رہے ہیں۔ کیا آپ میرے ایک سوال کا جواب تلاش کر لائیں گے؟”
    شہزادے نے کہا ”ضرور کیا سوال ہے؟”
    ملاح نے کہا: ”میں اس کشتی کا قیدی ہوں۔ اس سے نکل نہیں سکتا۔ دن رات اسی میں بیٹھے رہنے پر مجبور ہوں۔ کیا کوئی ایسا طریقہ ہو سکتا ہے کہ میری اس سے جان چھوٹ جائے؟”
    شہزادے نے جواب ڈھونڈنے کا وعدہ کیا۔ ملاح نے شہزادے کو سونے کی ایک انگوٹھی تحفے میں دی۔ شہزادہ کئی دن سفر کرتا رہا۔ آخر اُس پہاڑ تک پہنچا جہاں جن کا گھر تھا۔ شہزادہ پہاڑ پر چڑھا اور اس نے جن کے دروازے پر دستک دی۔ جن کی نانی نے دروازہ کھولا۔
    شہزادے نے کہا: ”السلام علیکم نانی جان۔”
    بے چاری بوڑھی نانی سارا دن اکیلی رہتی تھی۔ شہزادے کو دیکھ کر بہت خوش ہوئی اور بولی: ”ارے کتنے اچھے لڑکے ہوتم کتنی تمیز سے سلام تم کون کرتے ہو بیٹا؟ کہاں آئے ہو؟ کیا کام ہے؟”
    شہزادے نے کہا ”نانی جان میں ایک شہزادہ ہوں۔ آپ کے پاس جو جن رہتا ہے اس کے سر میں سونے کے تین بال ہیں۔ میں وہ بال لینے آیا ہوں۔ اگر آپ وہ بال مجھے دے دیں تو میں آپ کو تین تحفے دوں گا۔”
    نانی یہ سن کر بہت خوش ہوئی اور بولی: ”آج تک کوئی میرے لیے تحفہ نہیں لایا۔ جلدی سے دکھاؤ کیا تحفے ہیں؟”
    شہزادے نے کہا: ”ہر تحفے کے ساتھ ایک سوال بھی ہے جس کا جواب آپ کو دینا ہو گا۔”
    نانی خوشی سے تالیاں بجا کر بولی ”ارے واہ! یہ تو بہت مزے کا کھیل ہے۔ تحفے کے ساتھ سوال کا جواب۔ بتاؤ کیا سوال ہیں؟”
    شہزادے نے کہا: ”پہلا سوال یہ ہے کہ ایک شہر میں ایک فوارہ ہے جس کا پانی شہد کی طرح میٹھا ہے۔ اس فوارے کا پانی بند کیوں ہو گیا ہے؟”
    یہ کہہ کر اس نے ہیروں کا ہار نکال کر نانی کی خدمت میں پیش کیا۔ نانی خوشی سے اچھل پڑی۔ جلدی سے ہار لے کر گلے میں ڈال لیا اور کہنے لگی: ”اتنا خوب صورت ہار تو میں نے زندگی میں نہیں دیکھا۔ بیٹا جلدی سے بتاؤ دوسرا سوال کیا ہے؟”
    شہزادے نے دوسرا سوال بتایا: ”ایک شہر ہے، جہاں انار کے درخت پر میٹھے انار لگتے ہیں، وہ درخت کیوں سوکھتا جا رہا ہے؟”
    یہ کہہ کر سرخ ریشمی دوپٹہ نکال کر نانی کے حوالے کیا۔ نانی نے جلدی سے دوپٹہ اوڑھ لیا اور خوشی سے بولی: ”ارے واہ کس قدر خوب صورت دوپٹہ ہے۔”
    تیسرا سوال شہزادے نے کہا: ”وہ جو دریا میں ملاح ہے، وہ اپنی کشتی کی قید سے کیسے نکل سکتا ہے؟” یہ کہہ کر سونے کی انگوٹھی نانی کو دی۔ نانی نے انگوٹھی پہن لی اور بولی: ”ان تین سوالوں کے جواب میں تمہیں تین سنہری بالوں کے ساتھ دوںگی۔ اب تم جلدی سے چھپ جاؤ جن کے آنے کا وقت ہو گیا ہے۔”
    نانی نے شہزادے کو ایک الماری میں چھپا دیا۔ تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ جن آگیا۔

    ”آدم بو… آدم بو۔” اس نے آتے ہی شور مچا دیا ”مجھے کسی انسان کی بو آرہی ہے۔”
    نانی نے کہا: ”ارے یہ تو میں نے تمہارے لیے پراٹھے پکائے ہیں، یہ خوشبو ان پراٹھوں کی ہے۔ آجلدی سے کھانا کھا لے۔”
    جن نے ایک سو بیس پراٹھے کھائے اور بولا: ”واہ نانی! آج تو آپ نے بڑے مزے کا کھانا بنایا ہے۔ کھانے کھا کر تو اب نیند آنے لگی ہے۔”
    نانی پیار سے بولی: ”آجا میرا بچہ۔ یہاں میری گود میں سر رکھ کر سو جا۔”
    جن نانی کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔ نانی آہستہ آہستہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔ تھوڑی ہی دیر میں جن کے خراٹے گونجنے لگے۔ اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے پھیرتے نانی نے ایک سنہری بال تلاش کیا اور جھٹکے سے توڑ لیا۔ جن گھبرا کر اٹھ بیٹھا۔
    ”کیا ہوا نانی؟” اس نے گھبرا کر کہا ”بال کیوں کھینچ رہی ہو میرے؟”
    نانی بولی: ”ارے معاف کرنا بیٹا! وہ دراصل میں کچھ سوچ رہی تھی۔ غلطی سے تمہارے بال کھینچ لیے۔”
    جن جمائی لے کر بولا: ”کیا سوچ رہی تھی نانی؟”
    ”میں سوچ رہی تھی کہ دور وہ جو ایک شہر ہے جس میں ایک میٹھے پانی کا فوارہ ہے، وہ فوارہ کیوں بند ہو گیا ہے؟”
    جن نے قہقہہ لگایا: ”ہا ہا ہا… اس سوال کا جواب صرف مجھے معلوم ہے۔ اس فوارے کے سوراخوں میں مٹی پھنس گئی ہے۔ اگر وہ بے وقوف لوگ فوارے کو کھول کر صاف کر لیں تو پانی پھر سے چل پڑے گا۔”
    نانی نے خوش ہو کر کہا: ”ارے تم کتنے عقل مند ہو میرے بچے۔ چلو اب تم سو جاؤ۔ سو جاؤ میرے بچے۔”
    جن دوبارہ نانی کی گود میں سر رکھ کر سو گیا اور خراٹے لینے لگا۔ نانی دوبارہ اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔ انگلیاں پھیرتے پھیرتے اس نے دوسرا سنہری بال پکڑا اور جھٹکے سے توڑ لیا۔ جن اچھل پڑا۔
    ”نانی” اس نے غصے سے کہا: ”کیا ہو گیا آپ کو؟ پھر سے بال نوچ لیے میرے؟”
    نانی بولی: ”معاف کرنا بیٹا! اصل میں یہ سوچ رہی تھی کہ دور وہ جو ایک شہر ہے جس میں میٹھے اناروں کا درخت ہے، وہ درخت کیوں سوکھتا جا رہا ہے؟”
    جن نے کہا: ”اس سوال کا جواب صرف مجھے معلوم ہے۔ اس درخت کی جڑوں میں ایک بہت موٹا چوہا بیٹھا جڑوں کو کتر رہا ہے۔ شہر والوں کو چاہیے کہ وہاں سے کھود کر اس چوہے کو مار ڈالیں۔ درخت پھر سے ہرا بھرا ہو جائے گا۔”
    نانی خوش ہو کر بولی: ”واہ واہ! تم کتنے عقل مند ہو میرے بچے چلو اب تم پھر سے سوجاؤ۔”
    جن نے کہا: ”دیکھنا اب میرے بال نہ کھینچنا نانی ورنہ میں یہاں سے اٹھ کر چلا جائوں گا۔”
    نانی بولی: ”نہیں نہیں بیٹا! تم بے فکر ہو کر سوجاؤ… سو جاؤ میرے بچے۔”
    جن خراٹے لینے لگا۔ نانی نے اس کے بالوں میں انگلیاں پھیرتے ہوئے تیسرا سونے کا بال تلاش کیا اور جھٹکے سے توڑ لیا۔ جن تڑپ کر اٹھ بیٹھا۔
    ”کیا کرتی ہو نانی؟” اس نے تڑپ کر پوچھا۔
    نانی بولی: ”ارے معاف کرنا بیٹا۔ دراصل میں سوچ رہی تھی کہ بڑے دریا میں جو ملاح کشتی چلاتا ہے، وہ اپنی کشتی سے اترتا کیوں نہیں؟”
    جن بولا: ”کیا ہو گیا ہے نانی؟ آج ساری دنیا کے سوال آپ ہی کیوں سوچ رہی ہیں۔ وہ ملاح اصل میں ایک بادشاہ ہے جسے اس کے دشمن نے جادوکے زور سے ملاح بنا دیا تھا اور خود اس کے تخت پر قبضہ کر لیا تھا۔ اگر یہ ملاح اپنا چپو کسی کو پکڑا دے تو وہ آزاد ہو جائے گا اور چپو پکڑنے والا کشتی میں قید ہو جائے گا۔”
    نانی بولی: ”واہ واہ! بہت اچھی بات کی تم نے… چلو اب تم سو جاؤ میرے بچے۔”
    جن نے کہا: ”میری توبہ نانی! میں اپنے کمرے میں جا کر سوئوں گا۔ یہاں رہا تو آپ میرے سارے بال نوچ ڈالو گی۔”
    جن چلا گیا تو نانی نے شہزادے کو الماری سے نکالا اور کہا: ”یہ رہے جن کے تین سنہری بال اور سوالوں کے جواب تو تم نے سن ہی لیے ہوں گے۔”
    شہزادے نے نانی کا شکریہ ادا کیا اور واپسی کے سفر پر روانہ ہو گیا۔ سب سے پہلے وہ دریا پر پہنچا۔ ملاح نے پوچھا: ”میرے سوال کا جواب لائے؟” شہزادے نے کہا: ”ہاں مگر دوسرے کنارے پر پہنچ کر بتائوں گا۔” ملاح نے اسے کشتی میں بٹھا کر دوسرے کنارے پر پہنچا دیا۔ شہزادہ کشتی سے اتر کر کنارے پر کھڑا ہوا اور ملاح کو وہ جواب بتایا جو اس نے جن سے سنا تھا۔ ملاح نے پوچھا: ”یہ بات تم نے مجھے کشتی ہی میں کیوں نہ بتائی؟” شہزادہ مسکرایا اور وہاں سے چلا گیا ۔
    شہزادہ کئی دن چلتا رہا۔ پھر وہ انار کے درخت والے شہر میں پہنچا۔ وہاں کے لوگ اس کا انتظار کر رہے تھے۔ شہزادے نے ایک بیلچہ منگوایا اور درخت کی جڑوں کو کھودنے لگا۔ وہاں ایک واقعی موٹا تازہ چوہا بیٹھا جڑیں کتر رہا تھا۔ شہزادے نے اسے مار ڈالا۔ درخت پھر سے ہرا بھرا ہو گیا۔ شہر کے لوگ خوشی سے جھوم اٹھے۔ انہوں نے ڈھیر سارے ہیرے جواہرات شہزادے کو تحفے میں دیئے۔
    شہزادہ اپنے سفر پر چل پڑا۔ کئی دن بعد وہ فوارے والے شہر میں پہنچا۔ لوگ بے چینی سے اس کی راہ تک رہے تھے۔ شہزادے نے فوارے کو کھول کر اس کے سوراخوں میں پھنسی مٹی صااف کر دی اور فوارہ پھر سے چل پڑا۔ لوگ بے حد خوش ہوئے۔ انہوں نے بہت سا مال و دولت تحفے میں شہزادے کو دیا۔
    کئی دن کے سفر کے بعد شہزادہ بیمار بادشاہ کے پاس پہنچا اور جن کے تین سنہری بال اس کے حوالے کیے۔ جونہی وہ بال پیس کر بادشاہ کو کھلائے گئے۔ وہ اسی وقت صحت یاب ہوگیا۔ بادشاہ نے شہزادے کے پاس اتنا مال و دولت دیکھا تو اس کے دل میں لالچ آگیا۔ وہ سمجھا کہ شاید شہزادہ یہ مال و دولت جن سے لے کر آیا۔
    اس نے اسی وقت سفر کی تیاری کی اور جن کے گھر جانے کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ کئی دن چلتے رہنے کے بعد آخر وہ اس دریا پر پہنچا جہاں ملاح اپنی کشتی میں بیٹھا تھا۔ دریا پار کرنے کے لیے بادشاہ کشتی میں بیٹھا تو ملاح نے کہا: ”بھائی ذرا یہ چپو تو پکڑنا بادشاہ نے بے خیالی میں چپو پکڑ لیا۔ ملاح اسی وقت کشتی سے اتر کر دریا کے کنارے کھڑا ہو گیا۔ بادشاہ نے غصے سے کہا: ”کہاں جا رہے ہو ملاح؟ مجھے دریا پار کروائو۔” ملاح نے ہنس کرکہا ”اے دوست! ملاح اب میں نہیں تم ہو۔ مجھے غور سے دیکھو۔ میں وہی بادشاہ ہوں جسے تم نے جادو کے زور سے اسی کشتی میں قید کر دیا تھا اور خود میری جگہ بادشاہ بن بیٹھے تھے۔ اب تم اس کشتی کے قیدی ہو۔ میں اپنا تخت و تاج لینے واپس جا رہا ہوں۔”
    یوں اس ظالم شخص نے اپنے کیے کا پھل پایا اور تمام زندگی ملاح بن کر کشتی چلاتا رہا۔
    ٭…٭…٭

  • جادوئی جنگل | سمیعہ علی

    جادوئی جنگل | سمیعہ علی

    جادوئی جنگل
    سمیعہ علی

    کسی پہاڑی علاقے میں پانچ دوست رہتے تھے۔ وہ مل جل کر پڑھتے اور ایک ساتھ ہی کھیلتے تھے۔ حمزہ اور عادل بہت شرارتی اور چالاک تھے۔ پنکی اپنے نام کی طرح گلابی سی اور بھولی بھالی لڑکی تھی۔ قاسم ذراسُست مزاج اور دانیال گول مٹول سابچہ تھا۔ ان پانچوں کی دوستی بڑی مثالی تھی۔ ایک دن وہ سب پہاڑی علاقے کی سیر کو نکلے اور گھومتے پھرتے ایک خوب صورت وادی میں داخل ہوگئے۔ اس نئے علاقے کا حُسن دیکھ کر اُن کی آنکھیں حیرت سے پھیل گئیں۔
    ”کیاخیال ہے دوستو! اگر ہم اسی جگہ اپنے خیمے لگا لیں۔” عادل نے ایک جگہ رک کر پوچھا۔ پھر سب نے اپنے اپنے خیمے اسی جگہ لگالیے۔ اچانک ٹھنڈی ہوا چلنے لگی۔ دیکھتے ہی دیکھتے ہوا نے تیز طوفان کی شکل اختیار کرلی۔ آخر کچھ دیر بعد طوفان کی شدت کم ہوئی۔ اب وہ ایک ہرے بھرے علاقے میں تھے۔ ہر طرف خوش نما پھول اورمہکتی فضا، ایسا دل کَش منظر انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ اچانک عادل نے زور سے ہنسنا شروع کر دیا:
    ”ہاہاہا…ہاہاہا… ارے دیکھو! دانیال بھالو بنا ہوا ہے۔” سب نے حیران ہوکر دیکھا۔ واقعی ایسا ہی تھا۔ سب ہنسنے لگے۔
    ”اوہ… وہ دیکھو! پنکی کتنی پیاری خرگوشنی بن چکی ہے۔” حمزہ چلا ّیا۔ دانیال اب ہنستے ہوئے بولا: ”ہاہاہا!!! عادل! تم ذرا اپنی شکل تو دیکھو… بندر بن چکے ہو تم۔”
    اِدھر حمزہ ایک شاطر لومڑ کا روپ دھار چکا تھا۔ سب حیرانی سے اپنے جسم پر ہاتھ پھیر رہے تھے۔ اچانک انہیں قاسم کا خیال آیا تو وہ چونک گئے۔
    ”ارے! میں یہاں ہوں، نیچے دیکھو!” سب نے نیچے دیکھا تو زمین پر ایک پیارا سا کچھوا رینگ رہا تھا۔
    ”دوستو!لگتا ہے ہم کسی جادوئی دنیا میں آ گئے ہیں۔” دانیال بھالو نے کہا۔ ”ہاں شاید… لیکن جلد ہی باہر نکل جائیں گے فکر مت کرو… ہمیں کوئی نہ کوئی راستہ مل ہی جائے گا۔” پنکی نے کہا تو سب کو حوصلہ ہوا۔
    پھر وہ سب ذرا آگے بڑھے تو وہاں ایک خوب صورت جھیل نظر آئی۔ وہ سبھی جھیل میں موجود کشتی میں سوار ہو گئے۔ کشتی خود بہ خود چلنے لگی۔ پانی میں پیاری پیاری مختلف رنگوں والی مچھلیاں تیر رہی تھیں، جو خوشی سے دائرہ بناتی ہوئی ان کی کشتی کے پاس آتیں اور پھر تیزی سے دور چلی جاتیں۔ جھیل کے پاراُترتے ہی بندر یعنی عادل سیب کے درخت پر چڑھ گیا۔
    ”ارے بھائی! ہمیں بھی کھانے ہیںسیب ۔”خرگوشنی،کچھوا اور بھالو نے آواز لگائی۔ بندر نے یہ سن کر درخت کو زور زور سے ہلانا شروع کر دیا۔ اِس طرح بہت سارے سیب نیچے گرگئے۔ اچانک ایک تیز آواز اُن کے کانوں میں پڑی۔ ”رک جاؤ… کون ہو تم؟ پھل ضائع کرنے پر تمہیں سزا ملے گی۔” کرخت آواز سنتے ہی اُن سب نے دوڑ لگا دی۔ اتنے میں آسمان پر موجود بادل کا ایک ٹکڑا اُن کے سروں پر منڈلانے لگا۔ اسے دیکھ کر لومڑ کو خیال آیا: ”دوستو! یہ بادل ہمیں کہیں لے کر جانا چاہتا ہے۔ دیکھو! یہ نیچے آرہاہے ہماری طرف…” لومڑ کی بات سُن کر سب چوکنا ہوگئے۔
    ”چلوبھئی! بادل آہستہ آہستہ سوار ہوجاؤ۔” بادل کے نیچے آنے پر خرگوشنی نے کہا تو سب سوار ہوگئے۔ بادل نے انہیںایک خوف ناک باغ کے باہر لا کر اُتار دیا۔ اِس باغ میں بے ہنگم پتھر تھے جِن پر پاؤں رکھ کرانہیں آگے بڑھنا تھا۔ اِن پتھروں کے درمیان کہیں آگ تھی تو کہیں پانی اور کہیں رینگتے جانور۔ سب نے اللہ کا نام لے کر پتھر پر پاؤں رکھا اور احتیاط سے آگے بڑھے۔
    سامنے ایک بڑی کھائی آگئی۔ بندر نے ایک درخت کے ساتھ لٹک کر اپنی دم سے انہیں وہ کھائی پار کروائی۔ پھر کچھوا اپنے خول میں سمٹا تو سب نے اُس کے سخت خول پر پاؤں رکھ کر وہ ندی پار کی۔ سامنے دور استے تھے۔ ایک راستے پر خاردار جھاڑیاں اور دوسرے پرسُلگتی ہوئی آگ تھی۔ لومڑ نے سمجھ داری سے کام لیا۔ وہ سب کو لے کر جھاڑیوں والے راستے کی طر ف چل پڑا۔ اچانک بندر کو ایک جادوئی چراغ نظر آیا۔ اس نے بھاگ کر چراغ اُٹھا لیا۔ جیسے ہی اس نے چراغ رگڑا اُس میں سے ایک جن نکلا۔ ”ہوہوہو… ہاہاہا… کیا حکم ہے میرے آقا؟”
    ”اوہ…ج… ج… جن بھائی! ہمارا ایک کام تو کردیں۔” خرگوشنی ذرا ڈر تے بولی۔ ”آقا! میں آپ کا ہر حکم مانوں گا۔”
    بھالو بولا: ”مجھے ایک ایسا گھڑا چاہئے جس میں بہت سارا شہد بھرا ہو۔” خرگوشنی بولی: ”مجھے ایک نیک پری بنا دو۔” کچھوا بولا: ”میں تیز تیراک بننا چاہتا ہوں۔” ”خاموش…” بندر چلّایااور بولا: ”ہمیں اس جادوئی دنیا سے باہر جانا ہے جن بھائی! آپ ہمیں باہر جانے کا راستہ دکھادو بس۔”
    ”جو حکم میرے آقا! تعمیل ہوگی۔” اتنا کہہ کر جن نے کوئی منتر پڑھا تو اطراف سے دھواں اُٹھنے لگا۔ ایک دم کسی چیز نے ان سب کو ہوا میں اُچھالا تو ان کی چیخیں نکل گئیں۔ کچھ دیر بعد پائوں زمین پر لگے تو انہوں نے آنکھیں کھول دیں۔ آس پاس کا منظر دیکھ کر ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی۔ وہ جادوئی دنیا سے باہر آچکے تھے۔ انہوں نے مل کر ایک عزم کیا کہ وہ آئندہ کبھی گھر والوں کے بغیر اتنی دور کا سفر نہیں کریں گے۔
    ٭…٭…٭