Tag: urdu

  • گھوڑا، ہرن اورشکاری

    گھوڑا، ہرن اورشکاری

    گھوڑا، ہرن اورشکاری
    ضیاء الرحمن

    ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک ہرن اور گھوڑے میں گہری دوستی تھی۔ ایک دن کسی بات پر ان کی لڑائی ہوگئی۔ ہرن بہت پُھرتیلا تھا اس نے خوب اُچھل اُچھل کر گھوڑے کو مارا پیٹا۔
    گھوڑے کو بہت غصّہ آیا۔ اس نے سوچا کہ ہرن سے بدلہ لینا چاہیے۔ اچانک اس کی نظر ایک شکاری پر پڑی جو تیر کمان لیے شکار کی تلاش میں گھوم رہا تھا۔ گھوڑے نے شکاری سے کہا:
    ”دیکھو بھیا! اگر میں تمہیں شکار بتاؤں تو کیا تم اُسے مار سکتے ہو؟”
    ”ہاں کیوں نہیں، یہی تو میرا کام ہے۔” شکاری نے خوش ہوکر کہا۔ گھوڑے نے اسے ہرن کا بتا دیا۔
    شکاری نے کہا: ”میں ہرن کو مار تو سکتا ہوں لیکن وہ بہت چالاک ہے میں اس کا پیچھا کیسے کروں گا؟”
    ”تم میری پیٹھ پر بیٹھ جاؤ میں تمہیں ہرن کے پاس لے جاؤں گا۔” گھوڑے نے کہا۔
    چناں چہ شکاری گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہوگیا۔ تھوڑی دیر بعد شکاری بولا: ”گھوڑے میاں! اگر تمہیں تکلیف نہ ہو تو میں تمہارے منہ میں لگام ڈال لوں؟”
    ”اِس سے کیا ہوگا؟” گھوڑے نے پوچھا۔
    جہاں مجھے ہرن نظر آئے گا تو میں تمہاری لگام اسی طرف موڑ دوں گا پھر تم اس طرف بھاگنا۔ اس طرح ہم شکار کو قابو کرلیں گے۔”
    گھوڑا راضی ہوگیا اور شکاری نے اسے لگام ڈال دی۔
    کچھ دیر بعد شکاری کو ہرن نظر آیا۔ وہ گھوڑا دوڑا کر ہرن کے قریب پہنچا اور نشانہ لے کر تیر چھوڑ دیا۔ تیر سیدھا ہرن کے سینے پر جالگا اور وہ وہیں ڈھیر ہوگیا۔ گھوڑا خوش ہوگیا اور کہنے لگا:
    ”بھائی شکاری! تمہارا شکریہ!”
    شکاری بولا: ”اس میں شکریہ کی کیا بات ہے۔ مجھے شکار ملا اور ساتھ ایک فائدہ اور بھی ہوگیا۔”
    گھوڑے نے پوچھا: ”کیسا فائدہ؟”
    شکاری نے کہا: ”مجھے تمہارے بارے میں زیادہ پتا نہیں تھا مگر اب معلوم ہوا کہ تم بھی بڑے کام کے جانور ہو۔” یہ کہہ کر شکاری نے لگام کھینچی اور گھوڑے کو اپنی بستی میں لے آیا۔ گھوڑا بے چارا حیران، پریشان اور بے بس تھا۔ وہ اپنی بے وقوفی پر افسوس کرتا رہ گیا۔
    ٭…٭…٭

  • غریب لکڑہارا

    غریب لکڑہارا

    غریب لکڑہارا
    احمر بخاطر

    تہران میں حامد نامی ایک بوڑھا لکڑ ہارا اور اس کی بیوی رہتے تھے۔ ایک دن حامد نے جنگل میں پرُانا اور جُھکا ہوا برگد دیکھا۔ حامد نے اُس پر کلہاڑے کا ایک وار کیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں دھواں نکلا اور ایک جن حاضر ہوگیا۔
    ”ہو ہو ہو… ہا ہا ہا… اے انسان! برگد پر میرا گھر ہے، تم اسے کیوں گِرا رہے ہو؟” جن نے غصے سے کہا تو حامد کانپتے ہوئے بولا: ”میں غریب اور بوڑھا ہوں۔ اب زیادہ محنت نہیں کرسکتا اس لیے پرانے درخت کو کاٹ رہا تھا۔” حامد کی بات سن کر جن نے کہا: ”اے بوڑھے انسان! تم فکر نہ کرو۔ میں تمہیں ایک جادوئی چکّی دیتا ہوں۔ جب تمہیں کوئی ضرورت ہوتو کہنا: ”چکّی ری چکّی چل پیس” فوراً چکّی سے آٹا نکلنا شروع ہوجائے گا۔ تم وہ آٹا بازار میں بیچ دینا۔” یہ کہہ کر جن نے لکڑ ہارے کو چکّی دی اور اِس بارے میں کسی کو بھی بتانے سے منع کیا۔
    حامد خوشی خوشی گھر روانہ ہوگیا۔ گھر جاتے ہی اس نے چکّی سے کہا: ”چکّی ری چکّی، چل پیس” اچانک چکّی سے آٹا نکلنا شروع ہوگیا۔ حامد نے آٹے کی بوریاں بھریں اور انہیں بیچنے بازار چلا گیا۔ واپسی پر اس نے کھانے کا سامان، کپڑے، جوتے اور بہت سا پھل خریدا پھر وہ روز ایسا کرنے لگا۔
    اُن کے پڑوس میں ایک مچھیرا رہتا تھا۔ اُس نے حامد کو دن بہ دن امیر ہوتے دیکھا تو حیران رہ گیا۔ جلد ہی مچھیرے نے اپنی چالاکی سے جادوئی چکّی کا راز جان لیا۔
    ایک دن مچھیرے نے حامد سے کہا: ”بھائی جی! ایک دن کے لیے مجھے اپنی چکّی ادھار دے دو۔” حامد نے اُسے چکّی دے دی۔ شام کو مچھیرے نے جادوئی چکّی کی بہ جائے حامد کو دوسری چکّی واپس کی۔ جب حامد کو اپنے ساتھ ہونے والے دھوکے کا احساس ہوا تو اُس نے مچھیرے سے اپنی چکّی کے بارے میں پوچھا۔ مچھیرا صاف مُکر گیا اور کہنے لگا: ”بھائی! تم نے مجھے یہی چکی دی تھی۔”
    حامد بے چارا روتا ہوا جن کے پاس گیا اور ساری بات بتائی۔ جن نے اسے ایک جادوئی ڈنڈا تحفے میں دیا۔ اب حامد جلدی سے گھر آیا۔ اُس نے مچھیرے کو اپنے گھر دعوت پر بلایا۔ جب وہ کھانا کھانے گھر آیا تو حامد کہنے لگا: ”بھائی مچھیرے! تم نے میری جو چکّی چھپائی ہے وہ واپس کردو۔” لیکن مچھیرا اِس بار بھی مُکر گیا۔ حامد نے جادوئی ڈنڈے کو حکم دیا: ”مار ڈنڈے مار۔” بس پھر کیا تھا! ڈنڈے نے زور زور سے مچھیرے کے سر پر ضربیں لگانا شروع کردیں۔ وہ چیخنے چلانے لگا۔ ”ہائے مر گیا… اف مر گیا… میں ابھی چکّی واپس کرتا ہوں۔” یہ کہہ کر مچھیرا اپنے گھر کی طرف بھاگا اور اصلی چکّی لاکر حامد کو واپس کردی۔ اپنی جادوئی چکّی دیکھ کر لکڑ ہارا اور اس کی بیوی خوش ہوگئے۔

    ٭…٭…٭

  • گائے کے سینگ

    گائے کے سینگ

    گائے کے سینگ
    باذلہ سردار

    ایران کے کسی گاؤں میں ایک کسان رہتا تھا۔ اُس کے دو بچے تھے۔ بیٹی کا نام نور اور بیٹے کا نام عمر تھا۔ کسان نے ایک خوب صورت گائے پال رکھی تھی۔ اُس کا بچھڑا بھی بہت گول مٹول اور پیارا تھا۔
    کسان روزانہ گائے کو کھیتوں میں چرانے کے لیے لے جاتا۔ گائے بہت سا دودھ تو دیتی لیکن وہ بہت چالاک اور لڑاکا تھی۔ اپنے سینگوں سے روزانہ کسی نہ کسی کو زخمی کردیتی۔ ایک دن گائے نے اپنے مالک ہی کو ٹکر مار دی۔ سینگ لگنے سے کسان زخمی ہوگیا۔ اُس نے غصّے میں گائے کے سینگ کاٹنے کا ارادہ کرلیا۔ کسان نے سوچا کہ یہ کام وہ اگلے دن کھیتوں سے واپسی پر کرے گا۔
    دوسرے دن وہ گائے کے ساتھ اپنے بچوں کو بھی چراگاہ لے گیا۔ دوپہر میں کسان نے گائے کو چرنے کے لیے کُھلا چھوڑا اور خود کسی کام میں مصروف ہوگیا۔ اُس کے دونوں بچّے گائے کے بچھڑے سے کھیلنے لگے۔ اچانک قریبی جھاڑیوں سے ایک بھیڑیا نکل آیا۔ اُسے دیکھتے ہی کسان کے بچے چیخنے لگے۔ بھیڑیے نے آتے ہی بچھڑے پر حملہ کردیا۔ گائے نے جب بچھڑے کو مصیبت میں دیکھا تو وہ فوراً بھیڑیے کی طرف لپکی اور اُس پر حملہ کردیا۔ کچھ ہی دیر میں گائے نے اپنے بڑے بڑے سینگوں کی مدد سے بھیڑیے کو زخمی کردیا۔ بھیڑیا وہاں سے دُم دبا کے بھاگ نکلا۔
    شور سُن کر کسان بھی بھاگتا ہوا وہاں آپہنچا۔ یہ ساری صورتِ حال دیکھ کر اُس نے اپنے بچوں کو گلے لگایا اور پھر بچھڑے کو پیار کرنے لگا۔ بات اس کی سمجھ میں آگئی کہ اللہ نے کوئی شے بنا حکمت کے نہیں بنائی۔ یہ سوچ کر اس نے گائے کو تھپکی دی اور اس کے سینگ کاٹنے کا ارادہ ترک کردیا۔
    ٭…٭…٭

  • چی چی کی توبہ

    چی چی کی توبہ

    چی چی کی توبہ
    زاہدہ عروج

    شہر سے بہت دور ایک باغ تھا جس میں ایک ننھی چیونٹی رہتی تھی۔ اُس کا نام چی چی تھا۔ چی چی کی ماں اُس سے بہت پیار کرتی تھی۔ چی چی تھی تو بہت اچھی مگر اُس میں ایک برُی عادت بھی تھی۔ اُس کی ماں جو بھی کھانا لاتی وہ چی چی کے حلق سے نہ اُترتا مگر باہر پڑی گندی چیزیں وہ بڑے شوق سے کھاجاتی۔
    چیونٹی بی نے کئی بار اُسے سمجھایا کہ بیٹا! اچھے بچے گری پڑی چیز نہیں کھاتے۔ بہت سی چیزیں زہریلی بھی ہوتی ہیں جن کے کھانے سے ہم بیمار ہو سکتے ہیں۔”
    چی چی اُس وقت تو بات مان لیتی مگر جیسے ہی کھانے کی کوئی چیز دیکھتی تو ماں کی نصیحت بھول جاتی۔ آج بھی چی چی ماں سے نظر بچا کر گھر سے نکلی۔ باغ میں پہنچی تو وہاں سفید پاؤڈر کی ایک تھیلی پڑی تھی۔ چی چی کو اُس کی خُوش بو بہت پسند آئی۔ وہ جلدی سے پاؤڈر کھانے لگی۔ ابھی اُس نے پاؤڈر چکھا ہی تھا کہ پیچھے سے چیونٹی بی کی آواز سُنائی دی جو چی چی کو سفید پاؤڈر کھاتے دیکھ چکی تھی۔ یہ پاؤڈر باغ سے کیڑے مکوڑے ختم کرنے کے لیے ڈالا گیا تھا۔
    پاؤڈر کھاتے ہی چی چی کے پیٹ میں درد شروع ہوگیا اور وہ رونے لگی۔ چی چی کی ماں اُسے گھر لے آئی اور جلدی سے دوا پلائی۔ دوا پینے سے چی چی کو چند اُلٹیاں ہوئیں تو طبیعت کچھ بہتر ہوئی۔ چی چی ایک ہفتہ تک بیمار رہی اور بیماری میں اُسے اُبلے اور پھیکے کھانے کھانا پڑے۔ چی چی نے اپنی ماں سے معافی مانگی اور باہر جاکر گندی چیزیں کھانے سے توبہ کرلی کیوں کہ اُس دن اگر چیونٹی بی وقت پر نہ پہنچتی تو زیادہ پاؤڈر کھانے سے چی چی کی جان بھی جا سکتی تھی۔

    ٭…٭

  • بھولو کی بے وقوفی

    بھولو کی بے وقوفی

    بھولو کی بے وقوفی
    معاویہ مومن

    ایک دفعہ کا ذکر ہے کسی گاؤں میں ایک بُڑھیا رہتی تھی۔ اُس کا بیٹا ”بھولُو” بڑا ہی بے وقوف تھا۔ ایک دن بُڑھیا نے بھولُو کو کچھ سامان خریدنے بازار بھیجا۔ بھولُو نے بُڑھیا سے دو سِکّے لیے اور بازار کی طرف چل پڑا۔ چلتے چلتے اسے ٹھوکر لگی اور دونوں سِکّے کہیں گر گئے۔ بھولُو بہت پریشان ہوا۔ اُس نے واپس آکر اپنی امّی کو بتایا کہ سکّے گم گئے ہیں۔ بُڑھیا نے سمجھایا: ”بیٹا اس طرح کی چیزوں کو جیب میں رکھتے ہیں۔”
    دوسرے دن بُڑھیا نے بھولُو کو گھی لانے کے لیے بازار بھیجا۔ اِس بار بھولُو نے دکان سے گھی لیا اور اپنی جیب میں ٹھونس لیا۔ گھر پہنچتے پہنچتے سارا گھی پگھل کر بہ گیا۔ بھولُو نے دیکھا تو پریشان ہوگیا۔ بُڑھیا نے اُسے پھر سمجھایا: ”بیٹا! اِس طرح کی چیزوں کو مرتبان یا ڈبے میں ڈال کر لاتے ہیں۔” اگلے دن بھولُو ایک بار پھر بازار گیا۔ اُس نے دو چوزے خریدے اور انہیں ڈبے میں بند کرکے گھر لے آیا۔ جیسے ہی بُڑھیا نے ڈبہ کھولا، اندر سے دو چوزے نکلے جو دم گھٹنے سے مرچکے تھے۔
    بُڑھیا نے افسردہ ہوکر کہا: ”بیٹا ایسی چیزیں ہاتھوں میں اٹھا کر لاتے ہیں۔” چناں چہ اگلے دن بھولُو نے بازار سے گدھے کا ایک بچہ خریدا اور اسے اپنے کندھوں پر سوار کرلیا۔ گدھے کا بچہ اُس کے کندھوں پر ٹِک ہی نہیں رہا تھا۔ بھولُو بڑی مشکل سے اپنے گھر کی جانب روانہ ہوا۔
    راستے میں ایک اُداس شہزادی کا محل تھا۔ شہزادی نے اُس دن اعلان کر رکھا تھا کہ جو بھی اُسے ہنسائے گا وہ اِسے انعام دے گی۔ شام ہونے کو تھی لیکن کوئی بھی شہزادی کو ہنسانہ سکا۔ ایسے میں محل کے سامنے سے بھولُو کا گزر ہوا جس نے بڑی مشکل سے اپنے کندھوں پر گدھے کا بچہ اُٹھا رکھا تھا۔ یہ دیکھتے ہی شہزادی کی ہنسی چھوٹ گئی۔ اُس نے بھولو کو بلا کر بہت سارے انعامات دیے۔

    ٭…٭…٭

  • بدی کے بدلے نیکی

    بدی کے بدلے نیکی

    بدی کے بدلے نیکی
    ہما جاوید

    کسی گائوں میں ایک محنتی اور شریف چیونٹارہتا تھا۔ وہ ہر وقت کسی نہ کسی کام میں مصروف رہتا۔ کبھی اپنے بِل کی مرمت کررہا ہے تو کبھی منہ میں اناج کادانہ اٹھائے چلاآرہا ہے۔ وہ کاہلی کو گناہ سمجھتا اور ہرکام بڑی محنت سے کرتا تھا۔ کسی کام سے باہر نکلتا توراہ چلتے دوستوں سے بے مقصد بات چیت نہ کرتا، وہ جانتا تھا کہ عقل مند زیادہ نہیں بولتے۔ راستے میں اگر کوئی جان پہچان والا مل بھی جاتا تو چیونٹا دور ہی سے سلام دعا لے کر آگے روانہ ہوجاتا تھا ۔
    اس چیونٹے کے بل کے قریب ہی گندے پانی کاایک جوہڑتھا۔جہاںشریر اور آوارہ بچے گھنٹوں اس گندے پانی میں نہاتے رہتے۔ ان بچوں کے ساتھ بہت سی بھینسیں بھی سارا دن پانی میں بیٹھی رہتی تھیں۔ چیونٹا بڑا پریشان تھاکیوں کہ بھینسیںوہاںسارا دن پھرتی رہتی تھیں۔ چیونٹے کو خطرہ تھا کہ کہیں اُس کا کوئی بچہ اِن کے پاؤں تلے کچلا نہ جائے۔ اب وہ زیادہ تر گھر میں ہی رہتا تھا۔ اگر کبھی کسی ضروری کام سے باہر جاتا بھی تو اپنے بیوی بچوں کو سختی سے کہہ جاتا کہ وہ باہر نہ نکلیں۔
    ایک دن چیونٹا بہت تھکاہوا تھا۔ وہ دوپہرکاکھانا کھا کر کچھ دیر آرام کرنے لگا۔ ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی تھی کہ اچانک کسی نے اسے جھنجھوڑدیا۔ وہ چونک کر اٹھا اور دیکھا کہ اس کی بیوی اس کے سر پر کھڑی ہے۔ وہ بہت گھبرائی ہوئی تھی۔ چیونٹے نے جب اس کی طرف دیکھا تووہ بولی: ”آپ مزے سے سو رہے ہیں اور گھر میں پانی بھرا جارہاہے۔ ”
    ”ہیں …؟کیا کہاپانی …؟” کہاں سے آرہا ہے؟ چیونٹاگھبرا کر بولااور پھر وہ باہر کی طرف بھاگا۔ وہاں پہنچا تو اس نے دیکھا کہ بِل کے بالکل قریب جوہڑ میں ایک بھینس بیٹھی بار بار اپنی دم پانی پرمار رہی ہے جس سے چھینٹے اُڑ اُڑ کر چیونٹے کے بل میں داخل ہورہے ہیں۔ چیونٹے نے یہ منظر دیکھا تو پریشان ہوگیا۔ اِس طرح تو ہماری خوراک کا ذخیرہ برباد ہوجائے گااور جاڑوں کے موسم میں ہم بھوکے مرجائیں گے۔ چیونٹے نے یہ سوچاپھر دوڑ کر بھینس کے قریب ایک پتھر پر چڑھ کر بولا:
    ”بی بھینس! میری ایک بات سنوگی؟”
    ”کیا ہے بھئی؟” بی بھینس نے اکڑکرجواب دیا۔
    ”دیکھو بہن! میں ایک غریب اور کمزور ساچیونٹا ہوں۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ تم جانتی ہو کہ ہم اپنی بِل میں برے وقت کے لیے پہلے ہی سے خوراک ذخیرہ کرلیتے ہیں۔”
    ”تو پھر میں کیا کروں؟” بھینس روکھے پن سے بولی۔
    ”اچھی بہن !تم بار بار اپنی دم پانی میں مارہی ہو۔ اس سے میرے گھر میں پانی داخل ہورہاہے اور ہمیں خوراک کاذخیرہ تباہ ہونے کااندیشہ ہے۔ خدا کے لیے میرے بچوں پر ترس کھائو ۔ میں زندگی بھر تمہارا احسان مندرہوں گا۔” وہ بھینس بڑی بد اخلاق تھی۔ اُس پرچیونٹے کی اِن باتوں کا کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ آنکھیں نکال کر بولی:
    ”چل بھاگ یہاں سے… میں اپنی مرضی کی مالک ہوں۔ جب تک چاہوں دُم ہلاتی رہوں تُو مجھ پر حکم چلانے والا کون ہوتا ہے؟ نکل جا ورنہ کچل کررکھ دوں گی۔” چیونٹے نے یہ سنا تو اس کی آنکھوں میں آنسو بھرآئے۔ وہ سمجھ گیاکہ اس ظالم بھینس سے مزید کچھ کہنا بے کار ہوگا۔ چناںچہ وہ سرجھکا کرلوٹ آیا۔ گھر میں بہت زیادہ پانی بھر نے کے باعث خوراک کا سارا ذخیرہ تباہ ہوچکا تھا ۔ چیونٹے کے بچے خوف سے چیخیں ماررہے تھے۔ اس نے بڑی مشکل سے بچوں کوپانی سے نکالا اور باہر لے آیا پھر ایک حسرت بھری نظر اپنے گھر پر ڈال کر کسی انجانی منزل کی طرف چل دیا۔
    اب اس کے پاس کھانے کو خوراک تھی اور نہ سرچھپانے کو ٹھکانا۔ وہ سخت پریشان تھا ۔چلتے چلتے وہ ایک ٹیلے کے پیچھے جانکلا۔ اس جگہ چیونٹے کے بہت سے دوست رہتے تھے۔ انہیں جب سارا حال معلوم ہوا تو سب نے چیونٹے سے کہا:” پیارے بھائی!آپ ہمارے محسن ہیں۔ہر برے وقت میں آپ نے ہماری مدد کی ہے۔ اب قدرت نے ہمیں موقع دیا ہے کہ ہم ان احسانوں کا بدلہ اتار سکیں۔”
    یہ کہہ کر بہت سے چیونٹے مل کر ایک مکان کی تعمیر میں لگ گئے۔ وہی کام جو چیونٹاا کیلا کئی دنوں میں مکمل کرتا اب گھنٹے بھر میں ہوگیا تھا۔ ان سب نے چیونٹے کے لیے بڑاسا مکان بنادیا۔ مکان کے بعد غذا کامسئلہ حل کرنے کے لیے سب چیونٹے اپنے گھروں سے تھوڑاتھوڑا اناج لے آئے ۔اب غلے کا ایک بڑا ڈھیربن گیاتھا۔ اس طرح چیونٹے کے پاس ایک آرام دہ گھر اور ڈھیر ساراغلہ جمع ہوچکاتھا۔ اس نے اپنے سب دوستوںکا شکریہ ادا کیا۔
    ایک دن چیونٹا کسی کام سے جوہڑ کی طرف جارہا تھا۔ اس نے دیکھا کہ وہی بھینس ندی کے باہر کھڑی رورہی تھی اور بار بار اپنے سرکو جھٹک رہی تھی جیسے وہ سخت تکلیف میں ہو۔ چیونٹے نے اس کو تکلیف میں دیکھا تو اسے بھینس پربڑا ترس آیا۔ وہ آگے بڑھا اور بھینس سے خیریت دریافت کی۔ بھینس سخت شرمندہ تھی۔ وہ روتے ہوئے بولی: ”بھائی چیونٹے مجھے معاف کردو۔ میں نے تم پر ظلم کیا تھا۔ اب اس کی سز ا بھگت رہی ہوں۔ ”چیونٹا بے چینی سے بولا :”مگر تمہیں کیا تکلیف ہے؟”
    ”میں صبح بھوسا کھارہی تھی کہ ایک چھوٹا سا تنکا اڑ کر میری آنکھ میں چلاگیا۔ تب سے میری آنکھ میں تکلیف ہے۔ مجھے کسی پل چین نہیں آرہا۔ تنکا کسی بھی طرح نکل نہیں رہا۔” بھینس نے بتایا ۔
    ”میں تمہاری مدد کرسکتا ہوں۔ تم اپنا سرزمین پر رکھو۔” چیونٹا نے کہا۔
    بھینس نے جھٹ اپنا سرزمین پر رکھ دیا۔ اب چیونٹا اس پر چڑھ گیااور آنکھ کے قریب جاکر تھوڑی دیر میں وہ تنکا باہر نکال لایا ۔ تنکا نکلنے سے بھینس کو بے حد سکون ملااور اس کی آنکھوں میںندامت کے آنسو اُمڈ آئے ۔اس نے شکریہ ادا کیااوربولی:”چیونٹے میاں! میں نے تم پر ظلم کیا لیکن اس کے باوجود تم نے مجھ پر احسان کیا، آخر کیوں؟”
    چیونٹا بولا: ”سنو بہن اگر تمہاری بدی کرنے پر میںبھی بدی سے جواب دیتا تو تم میں اور مجھ میں کیا فرق رہ جاتا ۔اس طرح تو دنیا سے نیکی ہی مٹ جائے ۔ویسے بھی اگر تمہیں اُس خوشی کا احساس ہو جائے جو بھلائی کر کے ملتی ہے تو تمہارے سوال کا جواب تمہیں خود مل جائے گا۔” یہ سن کر بھینس نے شرمندگی سے سر جھکا لیا پھر اس نے وعدہ کیا کہ اب وہ کسی کو تنگ نہیں کرے گی اور سب کے ساتھ نیکی سے پیش آئے گی۔

  • پراڈکٹ – نظیر فاطمہ

    سبزی منڈی کے ایک جانب گلی سڑی سبزیوں کے ڈھیر تھے، جن پر مکھیاں اور مچھر بھنبھنا رہے تھے ۔ ارد گرد ناقابلِ برداشت بد بو پھیلی ہوئی تھی ۔ ہلکی سی ہوا چلتی تو بدبو کے یہ بھبھکے اس کے ساتھ لپٹ کر دور دور تک چلے جاتے اور لوگوں کو ناک پر ہاتھ رکھنے پر مجبور کر دیتے ۔ گندے مندے حلیے والے پانچ سات بچّے ان ڈھیر وں میں سے قدرے کم گلی سڑی سبزیاں اکٹھی کر کے اپنی بوریوں میں ڈال رہے تھے۔یہ گلی سڑی سبزیاں ان کا پیٹ بھرنے کا وسیلہ تھیں ۔ بھوک شاید سب سے بڑی بیماری ہے یا پھر غریب سب سے ڈھیٹ مخلوق ۔۔۔تبھی تو یہ گلی سڑی سبزیاں، گندا پانی اور باسی کھانا ان لوگوں کا کچھ نہیں بگاڑ پاتے۔ جب کہ لوگ گلی سڑی سبزیوں کے ان ڈھیروں کے پاس سے گزرنے سے بھی پرہیز کرتے تھے۔





    ایک سیاہ چمچمائی لینڈ کروزران ڈھیروں کے قریب آ کر رکی ۔ گاڑی اتنی چمک دار تھی کہ سیاہ رنگ ہونے کے باوجود اس میں آئینے کی طرح ہر چیز کا عکس دیکھا جاسکتا تھا۔ گاڑی سے ایک شخص اُترا۔اُس کے چہرے پر صحت مندی اور آسودگی کی چمک تھی۔گلے میں نئے ماڈل کا مہنگا ترین کیمرہ لٹک رہا تھا۔ ایک ہاتھ میں بڑا سا شاپر تھا۔ پیروں میں امپورٹڈ جاگرز جو اپنی قیمت کا چیخ چیخ کر اعلان کر رہے تھے ۔مہنگی جینز اور ٹی شرٹ میں ملبوس اس شخص نے گویا آسمان سے سیدھا زمین پر پائوں رکھا تھاجس پر زمین کی کسی مشکل یا گندگی کا ذرا برابر اثر نہیں ہوا تھا۔بدبو کا تیز بھبھکا اس کے نتھنوں سے ٹکرایا۔ اس بدبو کو بڑی مشکلوں سے برداشت کر کے وہ آگے بڑھا۔وہ کوڑے کے ڈھیروں کے قریب پہنچا تو وہاں گلی سڑی سبزیاں چنتے بچّے اپنی بوریاںچھوڑ کر اُٹھ کھڑے ہوئے اور حیرت سے اُسے دیکھنے لگے۔قریب تھا کہ وہ بچّے اپنی بوریاں اُٹھا کر بھاگ جاتے، اُس شخص نے پیش بندی کی۔
    ”ارے، ارے، بچّو! کہاں جا رہے ہو؟ ٹھہرو شاباش! یہ دیکھو میں تمہارے لیے کیا لایا ہوں؟” اُس نے ایک پھولا سا شاپر اُن کے سامنے لہرایا جسے دیکھ کر بچّے وہیں ٹھہر گئے ۔
    ” اوئے کچھ کھانے والا ہو گا۔ رک جاتے ہیں۔” وہ بچّے جن کے چہروں سے بھوک لپٹی ہوئی تھی ، آپس میں کھسر پھسر کرنے لگے۔
    ” اس میں تم لوگوں کے لیے کھانے پینے کی بہت سی چیزیں ہیں، کھائو گے؟” اُن کے ٹھہرنے پر اُس شخص نے اُنھیں جیسے لالچ دیا۔بچّے شرم اور جھجھک کے مارے ایک دوسرے سے لپٹ گئے اور اپنے پیلے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے ہاں میں سر ہلانے لگے۔
    ” پہلے تم لوگوں کو میرا ایک کام کرنا ہو گا۔بولو کرو گے؟”کھانے کی چیزوں کے لالچ میں بچّے سب کچھ کرنے کو راضی تھے۔
    ”شاباش! ٹھیک ہے۔ پہلے میں تم لوگوں کی کچھ تصویریں اُتاروں گا ۔ پھر یہ ساری چیزیں میں تم لوگوں میں بانٹ دوں گا۔ چلو اب میں جیسے تمہیں کہتا ہوں ویسے کرتے جائو شاباش۔” اُس نے اپنا کیمرہ ہاتھوں میں پکڑ کر سیٹ کرنا شروع کیا۔
    ” چلو تم سب اپنی اپنی بوریاں پکڑ کر اس ڈھیر سے سبزیاں تلاش کرو۔”
    بچّے جھٹ پٹ اپنا کام کرنے لگے، یہ ان کا روز کا کام تھا۔ وہ شخص ہر ہر زاویے سے انہیں فوکس کرنے لگا ۔کوئی دس بارہ تصویریں اُس نے گروپ میں اُتاریں۔ ہر تصویر اُتارتے وقت اُس نے بچّوں کو مختلف ہدایات دی تھیں۔
    ”اب تم یہ گلا ہوا ٹماٹر اس طرح منہ میں ڈالو۔” اُس نے ایک لڑکے کو ہدایت دی۔
    وہ بچّے تو گلی سڑی سبزیاں کچی کھا جانے میں ماہر تھے۔ اُس نے بالکل اُسی طرح وہ ٹماٹر منہ میں ڈالا جس طرح اُسے ہدایت کی گئی تھی۔
    ”گڈ۔” اُس شخص نے حسبِ منشا نتائج ملنے پر خوش ہو کر بچّے کو سراہا۔
    پھر اُس نے ہر بچّے کو انفرادی طور پر ہدایات دے کر فوکس کیا ۔ہر تصویر کو دیکھنے کے بعد وہ شخص جیسے خوشی سے جھوم رہا تھا۔ اُس کا جوش اُس کے چہرے سے چھلک رہا تھا۔ تقریبا ً ایک گھنٹے کی محنت کے بعد اُس شخص نے اپنا کام مکمل کیا، کیمرہ بند کیا اور بڑا شاپر کھول کر اس میں سے چھوٹے چھوٹے شاپر نکالے ۔ ہر شاپر میں دو دو چکن پیٹیزاورجوس کا ایک ایک چھوٹا ڈبہ تھا۔
    ” آئو ، یہ لو ” اُس نے ایک ایک شاپر ہربچّے کو دیا۔
    اس کے بعد اس نے اپنی جیب سے والٹ نکالا اور ہر بچّے کو سو سو روپے کا نوٹ دیا۔ وہ ایک گھنٹے سے یہاں تصویریں اُتار رہا تھا ۔ اُس کو دیکھ کر کئی لوگ وہاں جمع ہو گئے تھے۔ وہ سب دم سادھے اُس شخص کی فیاضی ملاحظہ کر رہے تھے، جو کوڑا کرکٹ چن کر اپنا رزق تلاش کرنے والے بچّوں پر اتنا مہربان ہو رہا تھا۔
    ” اچھا بچّو! اللہ حافظ” وہ پلٹ کر اپنی گاڑی کی طرف جانے لگا تو ایک ادھیر عمر شخص نے اُسے پکارا:
    ”صاب! یہ سب تو غریب بچّے ہیں، ان سے اتنی محبت کیوں؟”اُس نے پلٹ کر سوال کرنے والے کو دیکھا۔
    ”یہ بچّے میرے لیے بہت قیمتی ہیں۔” اُس نے مسکرا کر سامنے دیکھا جہاں وہ بچّے کھانے کے ساتھ نبرد آزما تھے ۔ پھر اُس نے اطمینان بھری گہری سانس کھینچی اور گاڑی کی طرف بڑھ گیا۔ تھوڑی دیر بعد اس نے گاڑی بھگائی اور گاڑی کے پہیوں سے سے اُڑنے والی دھول نے چند لمحوں کے لیے سارے منظر کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
    ٭…٭…٭





    پیرس میں فوٹو گرافی کے عالمی مقابلے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس مقابلے میں پوری دنیا کے مشہور فوٹو گرافرزنے حصّہ لیا تھا ۔پہلی پوزیشن حاصل کرنے والے فوٹو گرافر کو لاکھوں ڈالر انعام دیا جاناتھا ۔ ہال لوگوں سے بھرا ہوا تھا اور تھوڑی دیر میں مقابلے کے نتائج کا اعلان ہونے والا تھا۔ نمائش میں حصہ لینے والے تمام فوٹو گرافرز یہاں موجود تھے۔سب کی کھینچی گئی تصاویر ہال کی دیواروں پر آویزاں تھیں۔ مقابلے کا عنوان تھا ”ٹاکنگ فوٹو گرافس”۔ مقابلے کے نتائج کا اعلان شروع ہوا ۔ تیسری اور دوسری پوزیشن کا اعلان ہونے لگا۔ان پوزیشن ہولڈر زکی بڑی اسکرین پر دکھائی جانے والی تصویریں واقعی بولتی ہوئی تھیں۔ تالیوں کا شور تھما تو سب دل تھام کر پہلی پوزیشن کے اعلان کا انتظار کرنے لگے۔
    ”پہلی پوزیشن جاتی ہے عالم گیر جیلانی کو۔”
    انگریزی زبان میں اعلان ہو رہا تھا اور ساتھ ہی بڑی اسکرین پر عالم گیر جیلانی کی کھینچی گئی تصاویر ایک ایک کر کے دکھائی جا رہی تھیں۔کوڑے سے کھانے پینے کی چیزیں چنتے ہوئے بچّے،وہ گلی سڑی سبزیاں کھاتے ہوئے ننگ دھڑنگ بچّے جو جانور بھی سونگھنے کے بعد چھوڑ کر چلے جاتے تھے ۔ عالمگیر جیلانی کی تصاویر”ٹاکنگ فوٹو گرافس’ ‘نہیں بلکہ ”شائوٹنگ فوٹو گرافس” تھیں جوغربت، بھوک، محرومی اور حسرت کا چیخ چیخ اعلان کر رہی تھیں۔
    عالم گیر جیلانی نے تالیوں کی گونج میں دو لاکھ ڈالر کا چیک فخر سے مسکراتے ہوئے وصول کیا۔ دو ہزار کی سرمایہ کاری کر کے اُس نے دو لاکھ ڈالر کمائے تھے۔ آرٹسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ وہ بڑا کاروباری ذہن رکھتا تھا اور ایک کاروباری شخص کے لیے اس کی پراڈکٹ سب سے قیمتی ہوتی ہے۔ کیونکہ اس کی کامیابی کا انحصار اُس کی پراڈکٹ پر ہوتا ہے۔ غربت اور کسمپرسی کا چلتا پھرتا اشتہار یہ بچّے عالم گیر کے لیے بہت قیمتی تھے، کیوں کہ وہ اس کی پراڈکٹ تھے۔




  • فتور – ماہ وش عدیل کرمانی

    فتور – ماہ وش عدیل کرمانی

    فتور
    ماہ وش عدیل کرمانی

    ”اری نابکار! کچھ تو کام کر لیا کر۔ سارا بوجھ ماں کے کندھوں پر ڈال دیا ہے، کام کی نہ کاج کی دشمن اناج کی، کھا کھا کر مسٹنڈی ہو گئی ہے۔” ماجدہ بیگم چھت کی سیڑھیوں کے ذریعے صحن میں آتا بارش کا پانی خشک کرنے میں مگن ہونے کے ساتھ سا تھ بیٹی کو کوس کر اپنا فرض بھی پورا کر رہی تھیں۔
    مگر ان کی صاحبزادی شبانہ عرف شبو صاحبہ دنیا و ما فیہا سے بے خبر اس طوفانی بارش سے لطف اندوز ہو رہی تھیں۔
    ”اب چھت پر کھڑی بھیگتی ہی رہے گی کیا؟ نیچے آجائو یسے بھی کالی بھینس ہے پوری، جو بجلی گر پڑی تجھ پر تو سر پر جو چار بال ہیں وہ بھی گر جائیں گے۔” لیکن ان کی باتوں کا کہاں اثر ہونا تھا۔
    دراصل چھت پر سیر سپاٹے کی وجہ نہ صرف موسلادھار بارش تھی بلکہ گردو نواح کی چھتوں پر کھڑے دو چار چھڑے چھانٹوں کی موجودگی بھی تھی اور دوسری طرف کے احوال یہ تھے کہ وہ بھی بارش سے زیادہ شبو سمیت مزید کچھ دوشیزاؤں کی بارش کے باعث ”ٹرانسپیرنسی” کے جلوے سے مستفید ہونے میں مصروف تھے۔ اللہ اللہ کرکے بارش رکی اور شبو پکوڑے پکوڑے کے نعرے لگاتے نیچے آئی۔ دوسرے لفظوں میں عرش سے فرش پر آئی اور فوراً اپنا آتشی اور زرد جوڑا نکال کر پہنا، میچنگ کی لپ سٹک لگائی ، خود پر پرفیوم انڈیلا، گیلے بالوں کو شانو پر پھیلائے بے نیازانہ انداز میں دوپٹے کو بے وقعت سی چیز سمجھ کر کندھے پر ڈالا اور پکوڑے کی پلیٹ اٹھا جو کے اماں تل رہی تھیں، یہ جا وہ جا۔
    سلیم موبائل پر کوئی رومانی گیت سیٹ کرتے ہوئے بے تابی سے اس کا انتظار کر رہا تھا، کیوں کہ شبانہ اسے پہلے ہی یہ سگنل دے چکی تھی کہ پکوڑوں کے ساتھ اپنے درشن کروانے اس کے غریب خانے پر تشریف فرما ہونے والی ہے۔ لہٰذا سلیم کی باچھیں کھلی جا رہی تھیں اور پھر اسے دیکھ کر بلکہ سجے سنورے دیکھ کر وہ خود بھی کھل گیا۔ وہ کچھ دیر تک سلیم کی بہن اور اپنی نامزد نند فوزیہ سے باتیں کرنے کے بعد شاداں و فرحاں گھر واپس آئی جہاں اس کی والدہ ماجدہ اسے آڑے ہاتھوں لینے کی تیاری کر رہی تھیں مگر ان کی کس نے سننی تھی۔ اس نے جھٹ سے ریڈیو آن کیا جہاں برسات کے گانے اِس کی سماعتوں میں رس گھولنے کے لئے بے تاب تھے جب کہ ماجدہ کی سماعتوں میں زہر گھلنے لگا تھا۔
    اس گھر میں کل تین افراد تھے۔ ایک بوڑھی والدہ ماجدہ جو سارا دن بڑبڑاتی رہتیں، ایک ہنسوڑ طبیعت کی شبانہ جس کا دوسرا نام چکنی مٹی کا گھڑا تھا اور اس کا ایک بھائی رشید، جو صبح گھر سے نکلتا اور رات گئے تک لوٹتا، وہ سنار تھا۔
    آمدنی اتنی تھی کے گھر کا خرچہ تو کسی طرح پورا ہو ہی جاتا تھا مگر اسے اپنی اور شبانہ کی شادی کی بڑی فکر رہتی تھی اس لئے دن رات ایک کر رہا تھا۔ البتہ سارا دن گھر میں کیا گل کھلتے ہیں اس بات کی کوئی اسے فکر تھی نہ ذکر تھا۔ شبانہ نام کی چڑیا محلے کے ہر آنگن میں چہچہاتی پھرتی اور ہر روز ایک نئی ذائقے کا گرم مسالا اپنی لگائی بجھائی کی مکس پلیٹ پر چھڑک کر سارے محلے میں بانٹتی پھرتی۔
    ”اری ہڈحرام اُٹھ جا بارہ بج رہے ہیں، سورج منہ کو آ جاتا ہے اور یہ اوندھی پڑی رہتی ہے۔ سارے گھر میں نحوست پھیلا رکھی ہے۔ نہ نماز کی نہ روزے کی۔ بس اپنے حسناپے میں غرق رہتی ہے یا بستر توڑتی ہے۔” ماجدہ نے اسے ہانکا۔
    ”اماں تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے مصلے سے اٹھتی ہی نہ ہو۔ آئیں بڑی تہجد گزار۔” وہ منہ بسورتی چارپائی سے اٹھی اور اماں کو دو ٹوک سناتی کمرے سے نکل گئی اور اماں حسبِ معمول اس کی اس خوش گفتاری پر کُڑھتی کام میں جت گئیں۔ اپنے ہی ہاتھوں انہوں نے اس پتنگ کو ڈھیل دی تھی پھر کس کے سامنے اپنی پریشانی کا رونا روتیں؟
    ”اچھا سُن ذرا! ثابت مسور کی دال تو پکا لے۔ دیکھ میں کپڑے دھو رہی ہوں، اس واشنگ مشین کو جانے کیا بیماری لگ گئی ہے اب ہاتھ سے کپڑے دھونے پڑیں گے سارے۔” باورچی خانے میں چائے نکالتے ہوئے شبو نے ناگواری سے اماں کا یہ فرمان سنا۔
    ”لو اب میں بیٹھ کر ثابت مسور کی دال بنائوں؟ کتنی بار کہا ہے دوپہر کے کھانے کا مجھ سے مت کہا کرو۔” اس کی جلی بھنی آواز اماں کے کانوں سے ٹکرائی۔
    ”دوپہر کے کھانے کا تو ایسے کہہ رہی ہے جیسے رات کا کھانا بلا نا غہ خود بناتی ہے موئی۔” انہوں نے سوچا اور اٹھ کر برآمدے میں آگئیں جہاں وہ پھسکڑا مار کر بیٹھی ناشتہ کر رہی تھی۔
    ”کیوں ری؟ کیا اپنے سسرال میں اپنے ساتھ کوئی غلام لے جائے گی یا مجھے ہی لے جائے گی۔”
    ”نہیں کوئی نہیں جائے گا میرے ساتھ ہڈیاں تڑوانے کے لیے۔” اس نے اطمینان سے جواب دیا۔
    ”وہاں جاتے ہی سب کی کھٹیا کھڑی کر دوں گی۔”
    ”دوسروں کی کھٹیا کھڑی کرے گی؟ صبح اپنی ہی کھٹیا سے اٹھنے میں تجھ کو موت پڑ جاتی ہے۔” اماں بڑبڑائیں۔
    ”میں تو صاف کہہ دوں گی کہ میرے آنے سے پہلے اس تندور کا عذاب جس کے سر پر تھا وہی سنبھالے گا اور صفائی کوئی تو کرتا ہوگا تو کیا اب اس کو انڈے دینے ہیں میں تو جس کام کے لئے لائی گئی ہوں وہی کروں گی یعنی اپنے مجازی خدا کی دلجوئی۔” مستقبل کی صورتِ حال کا خاکہ بناتے ہوئے اور باقاعدہ ایکٹنگ سے نمونہ اپنی ماں کے سامنے پیش کرنے کے بعد وہ خود کو زبردست داد دیتی ہوئی دوبارہ دن کے ڈیڑھ بجے ناشتے میں مصروف ہو گئی۔
    ماجدہ کو تو یہ فکر تھی کہ ان ساری باتوں کی نوبت تو اس وقت آئے گی جب یہ سسرال جائے گی۔ ایک رشتہ آیا بھی تھا اس کا مگر لوگ خاصے شریف تھے۔ اب ظاہر ہے شریف لوگ تھے تو شبو کو کس طرح پسند کر لیتے۔ اس نے بھی تو ان لوگوں کو اپنے وہ جو ہر دکھائے تھے کہ سر پر پیر رکھ کر بھاگے تھے جیسے گولی کی آواز سے گھوڑا بدک جاتا ہے۔ بھلا اس کی ماں کو کیا خبر تھی کہ پڑوس والے سلیم کی آس پر وہ یہ سب کر رہی ہے جس نے اپنی اماں کو منانے کا وعدہ کر رکھا ہے شبانہ سے۔
    شبانہ اپنی زندگی کی تیس بہاریں دیکھ چکی تھی جب کہ اس کی اماں اس کی پیدائش کے بعد سے خزاں ہی دیکھ رہی تھیں کیوں کہ شبانہ کے بچپن میں ہی اس کے ابا چل بسے تھے۔ خیر وہ وقت گزر گیا کسی طرح مگر اب شبانہ کی بڑھتی ہوئی عمر کے ساتھ اماں کی فکر میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔
    چناں چہ وہ اس جنجال کو جلد از جلد اپنے گھر کا کر دینا چاہتی تھیں مگر جو نصیب… مجال ہے جو کوئی ڈھنگ کا رشتہ آجائے۔ بہر حال شبانہ نے اپنی دانست میں ایک کاری گری سرانجام دی تھی کہ اپنی عمر کے حساب سے 5 سے 6 سال چھوٹی لڑکیوں سے دوستی کر رکھی تھی۔ ان کے جھرمٹ میں وہ بھی 24 سے 25 کی لگنے کی پوری کوشش کرتی تھی۔
    حاجرہ اس کی اچھی سہیلی اور رازدان تھی۔ شبانہ اسے دھڑلے سے دوچوٹی والی سلیم کی سالی کہہ کر پکارتی تھی یہ فقرہ اس نے خود سکول کے زمانے سے ہی مشہور کر رکھا تھا۔ جب سلیم اور شبانہ کے سفارتی تعلقات کی بحالی کا چرچاعام ہوا تھا اور سالیوں کی تعداد میں اضافہ اور پھر محلے کی ہر محفل میں بھی یہی سالیاں پیغام رسانی کا کام کیا کرتی تھیں۔
    پٹ سے دروازہ کھلا، مگر وہاں سلطان راہی مع مولا بخش نہیں بلکہ اماں راشن اٹھائے کھڑی تھیں، اور ان کا خون برآمدے کامنظر ملاحظہ کرتے ہی کھول گیا تھا۔ شبانہ صاحبہ مزے سے کھیرے کی قاشیں آنکھوں پر رکھے تخت پر کسی ملکہ کی طرح لیٹی ہوئی تھیں، ساتھ ہی جگالی بھی کر رہی تھیں شاید کھیرے کے ساتھ بھرپور انصاف کیا جا رہا تھا۔
    دروازہ کھلنے کی آواز پر اس نے ایک نظر میں اماں کی آمد کا جائزہ لیا اور پھر پہلے والی پوزیشن سنبھال لی۔ باورچی خانے میں سے کچھ جلنے کی بو اور کھڑ پٹر کی آواز سے اماں سیدھی اس طرف گئیں کہ اللہ جانے کون گھس آیا ہے؟ پر وہاں قدم رکھتے ہیں ان کی مرغی رانی پھڑپھڑاتی ہوئی باہر نکل گئی۔ سارے برآمدے میں رانی کی پھیلائی ہوئی گندگی کے نقش و نگار دیکھ کر ان کا پارہ مزید چڑھ گیا۔
    ”موئی یہ سب کیا ہے؟” انہوں نے شبانہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔
    ”اری بد بخت دروازے کی کنڈی لگائے بغیر ہی پڑی ہوئی ہے۔ دیکھتی نہیں زمانہ کتنا خراب ہے اور تو۔”
    ”افوہ ہ ہ…!”
    شبانہ کی ایک طویل سی اف کا مطلب یہ تھا کہ حسبِ معمول وہ تقریر سننے کے موڈ میں نہیں ہے۔
    ”ایک تو یہ آگئیں۔” وہ بڑبڑائی۔
    ”اچھا سن! رسید کہاں ہے؟”
    ماجدہ نے تخت کے سرہانے رکھی صراحی سے پانی نکالتے ہوئے پوچھا۔
    ”لو بتائو بھلا میں پچھلے ہفتے کی راشن کی رسید سنبھالے رکھوں گی کیا اب تک؟ پھینک دی میں نے وہ نری نحوست۔” وہ جلے کٹے انداز میں بولی۔
    ”جسے دیکھ کر تم جلتی کڑھتی رہتی ہو کہ اتنا بھر بھر راشن آتا ہے اور پھر مجھے کوسنے دیتی ہو کہ کتنا کھاتی ہے۔”
    ”اپنی ہی ہانکے جائے گی بکواسی۔ ماں کا مذاق بناتی ہے بے سرم میں اپنے رسیدے کا پوچھ رہی ہوں ابھی تک نہیں آیا؟ انہوں نے ادھر ادھر جھانکتے ہوئے کہا۔”
    ”صبح تو کہہ کر گیا تھا کہ آج جلدی آئے گا اماں رشید بھائی کو تم نے رسید بنا کر رکھ دیا ہے۔”
    شبانہ ہنسی دباتے ہوئے بولی۔ اسی دوران رشید بوتل کے جن کی طرح نمودار ہوا۔
    ”آہا…! آگیا میرا رسیدہ۔” گھر میں گھستے ہی اماں اس کی بلائیں لینے لگیں۔
    ”اماں تمہارا رسیدا اب عمر رسیدہ ہوتا جا رہا ہے کچھ سوچو بھی اس کے بارے میں؟”
    رشید کی اس بات پر شبانہ کھی کھی کرنے لگی اور اماں نے لاحول بھیجا۔
    ”اؤئے مرد اور گھوڑے کبھی بوڑھے ہوئے ہیں؟ اللہ بخسے اپنے باپ کو نہیں دیکھا تو نے؟ سٹھیانے کے قریب تھا مگر دوسری سادی کے لئے پر تول رہا تھا جو ابھی حیاتی باقی رہ جاتی اس کی تو دو چار کھوتے اس گھر میں ہماری زندگی جہنم بنا رہے ہوتے۔” وہ ناممکن واقعات کی منظر کشی کرنے لگیں۔
    ”لو یہ تم بھی کہاں پہنچ گئیں اماں؟” رشید کے دبے ہوئے غصے میں ہلکی سی کھول آئی۔
    ”ہائے پرانے لوگ صحیح کہہ گئے وکھت ہی کھوٹا ہو جائے ہے لونڈا مرا جا رہا ہے سادی کرنے کو۔ اب خود بیل منڈھیر چڑھنا چاہے تو کوئی کیا کرے؟” اماں سر پہ ہاتھ رکھے بولے جا رہی تھیں۔
    ”اماں تم گھوڑے اور بیل کو رہنے دو رشید کی شادی کا سوچونا۔” اس بار شبانہ بھی اماں کی مخبوط الحواسی پر چڑگئی۔
    رشید کے لئے ایک لڑکی تو ان کی نظر میں پہلے ہی جچ گئی تھی۔ سو رشید کی بے قراری کے پیشِ نظر جھٹ پٹ رشتہ طے کر دیا گیا۔
    رشتہ طے کرنے کے دو ماہ بعد ہی رشید نے شادی کی رٹ لگا لی۔ شبانہ نے روز ریڈیو پر شادی کے گانے لگانے شروع کر دئیے کہ اسی طرح اماں کی طرف سے پیش رفت ہو گی شادی کی تیاری میں۔
    اور وہ دن بھی آگیا جب شادی کی تاریخ طے کرنے جانا تھا۔
    ”ہائے میں مر گئی. یہ کیا ہے سبو؟”
    چمکیلی سی دوپہر میں بھڑکیلی سی شبانہ کو دیکھ کر اماں سینے پر ہاتھ دھرے رہ گئیں۔
    ”تیری بارات تو نہیں آ رہی پھر یہ سب کیا ہے موئی؟ اتنا گہرا اورنج کلر کا جوڑا چڑھا لیا غضب کی دھوپ میں دھکتا ہوا کوئلہ لگ رہی ہے ارے تجھے کس نے مسورہ دیا تھا کہ یہ پہن لے؟
    وہ اسے بے نقط سنانے کے موڈ میں تھیں۔
    ”ابھی نہیں پہنوں گی تو کیا تمہاری عمر میں پہنوں گی ؟ ہمیشہ ٹوکتی رہنا مجھے بس اپنی خنس نکالنے کے لئے ہی تو۔ پیدا کیا تھا تم نے ؟ پہلے اپنی لال لگام دیکھ لو۔”
    وہ اماں کے سراپے کو اوپر سے نیچے تک دیکھتی اور ہاتھ ہلا ہلا کر بولتی رہی۔
    ”کوئی خوشی کا موقع ہو مجھے گالیاں دیئے بغیر تو تمہارا کھانا ہضم نہیں ہوتا کلیجہ ٹھنڈا ہو جاتا ہے مجھے ذلیل کرکے تمہارا۔”
    زہر آلود لہجے میں بولتی ہوئی صراحی سے ٹکراتی کمرے کے اندر چلی گئی اور پھر آدھے گھنٹے بعد باقی ماندہ بنائو سنگھار کے ساتھ برآمد ہوئی۔
    چند ایک رشتہ دار خواتین بھی آچکی تھیں اور ماں بیٹی کی مہابھارت کا نظارہ دیکھ رہی تھیں۔ ماجدہ بیگم کو اپنے ہی گھر میں منہ چھپانے کے لئے جگہ نہیں مل رہی تھی۔ بہر حال منہ چھپاتے چھپاتے ہی جانے کی تیاری مکمل کی۔ اسی دوران رشید نے اندر آکر سوزوکی کی آمد کا اعلان کیا اور شبانہ پھرتی سے مٹھائی کا ٹوکرا سنبھالے اماں کے پاس آئی۔
    ”اماں وہ… سلیم کے گھر والوں کو نہیں پوچھا تم نے کیا؟”
    ”آئے ہائے… آج کیا سادی ہے جو انہیں بلاوا دیتی؟ ویسے بھی وہ بلاوا دینے پر بھی نہیں آتے ہیں۔” انہوں نے چپل پاؤں میں اڑستے ہوئے کہا۔
    ”کیوں نہ آتے وہ لوگ؟” شبانہ پوچھے بغیر کہاں رہ سکتی تھی بھلا؟
    فوجی (فوزیہ) کے سسرالی آرہے ہیں نا آج بلکہ اس کی ماں تو یہ کہہ رہی تھی کے فوجی (فوزیہ) کی نند سے سلیم کا رستہ (رشتہ) بھی ڈال دیا ہے۔ بات وات پکی ہو جائے گی آج۔” اماں جانے اور کیا کیا کہہ رہی تھی مگر اسے کہاں سنائی پڑتا۔ مٹھائی کا ٹوکرا وہیں اماں کے پاؤں پر چھوڑ دیا۔ وہ بلبلا کر رہ گئیں اور وہ سب چھوڑ چھاڑ دندناتی ہوئی کمرے میں واک آؤٹ کر چکی تھی۔
    ”کیا پخراٹ ڈالی ہے تم لوگوں نے؟” رشید غصہ دباتا ہوا اماں کی طرف آیا۔
    ”ارے دیکھ اس نامراد کو ؟ پہلے تو ایسے تیار ہوئی تھی جیسے رکھستی (رخصتی) ہے اس کی اور اب اچانک رونا دھونا نہ جانے کس کی میت کا سوگ منانے لگی ہے یہ۔”
    ”لاحول ولا… یہ کیسی نحو ست والی باتیں کر رہی ہو تم اس وقت۔” رشید نے قدرے جل کر کہا۔
    ”وہ تو ہے ہی ایسی رہنے دو تم اسے، تم جاؤ میں ہوں نا یہاں۔” وہ ان کا ہاتھ پکڑ کر گھر سے باہر لے گیا۔ سوزوکی میں بٹھاکر گھر آیا تو اندر سے اٹھا پٹخ کی آوازیں آرہی تھیں۔ ایسے عذاب میں وہ کہاں بیٹھ سکتا تھا بھلا۔ دوبارہ چلا گیا گھر میں۔
    کچھ ہی دیر میں شبانہ کمرے سے باہر آئی۔ گھر حسبِ توقع خالی تھا اور گلی میں بھی کوئی خطرہ نہ پا کر اس نے سلیم کے پاس جانے کا سوچا، پھر کچھ خیال کر کے رک گئی اور گلی میں کھیلتے ہوئے ایک بچے کو بھیج کر سلیم کو بلوایا۔ کچھ ہی دیر بعد سلیم اپنے گھر کے دروازے پر موجود تھا۔ اس کے گلے میں گلاب کا ہار لٹکتا دیکھ کر شبانہ کے دل میں کانٹے چبھے۔ اس نے سلیم کو گھر کے اندر آنے کا اشارہ کیا۔ سلیم نے منع کیا تو وہ گھر سے نکلنے لگی۔ مارے خوف کے سلیم کو خود ہی آنا پڑا کہ کہیں وہ لڑکی ہنگامہ ہی نہیں کردے۔
    ”کیا بے چینی ہے تمہیں؟”
    شبانہ اور وہ ایک دوسرے کو غیر معمولی تیاریوں پر اوپر سے نیچے تک دیکھ رہے تھے۔
    ”یہ میں کیا سُن رہی ہوں سلیم؟ تمہاری بات طے ہو رہی ہے آج؟” وہ شیرنی کی طرح دھاڑی۔
    ”شبو! اماں نے زبردستی مجھے اپنی جان کی قسم دے دی ہے۔ تمہارے لئے وہ کسی صورت راضی نہیں ہودے گی۔”
    ”بھاڑ میں گئیں تمہاری اماں اور ان کی قسمیں…” وہ دانت پیستے ہوئے کہہ رہی تھی۔
    چپ ہو جا! ایک لفظ نہیں سنوں گا میں اپنی ماں کے خلاف۔ تمہاری زبان اور باتیں شروع سے ہی بے لگام ہیں۔ شاید اسی لئے میری اماں جی نے…” سلیم کہتے کہتے رکا۔
    شبانہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ سلیم یوں اسے آئینہ دکھا سکتا ہے۔ جس طرح کھڑے کھڑے اس نے ذلیل کیا تھا سے شبانہ کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ہنسی ہنسی میں دیئے گئے جھانسے پر سلیم جیسے بھتنے کا سر توڑ دے۔
    ”ایسا نہیں کر سکتے تم پھسڈی کہیں کے۔” وہ جانے کے لئے مڑا تبھی شبانا نے اس کا ہاتھ پکڑ کے کہا۔
    ”دیکھو شبو! ہماری عزت اسی میں ہے گو کہ میں میں نے بہت کچھ سنا تھا تمہارے بارے میں پھر بھی اس پر یقین نہیں کیا اور اماں جی سے تمہارے لئے ضد کی مگر تمہارے متعلق انہوں نے بس اتنا ہی کہا کہ جس لڑکی نے کبھی اپنی ماں کو سکھ نہیں دیا وہ کسی اور کی زندگی میں کیا سکھ لائے گی میں جانتا ہوں وہ میری خوشی چاہتی ہیں، مگر نا جانے کیوں تمہارے لئے راضی نہیں ہوتیں اور میں خود غرض نہیں ہوں مجھے ہر حال میں تم سے زیادہ اپنی جنت عزیز ہے۔” سلیم نے اپنے گھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے آخری الفاظ کہے۔
    ”چھوڑوں گی نہیں، زندگی عذاب کر دوں گی میں تمہاری۔” وہ چلائی تھی۔
    ”کیا کرو گی؟”

  • باز – فریال سید

    باز – فریال سید

    باز
    فریال سید

    "مورے! میں ٹھیک ہو جاؤں گا ناں ؟”
    اس نے بڑی بڑی آنکھوں میں ڈھیروں ا مید سموتے ہوئے اپنی ضعیف ماں کے چہرے پہ یقین کی ایک رمق تلاش کی۔
    "ہاں میرے بچے تم بالکل ٹھیک ہو جائو گے ۔ اللہ بہت بڑا ہے ، وہ کوئی حل نکال لے گا۔ ”
    روشن بی بی نے اپنے چہرے پے مصنوعی خوش امیدی سجاتے ہوئے جنید کو ا مید دلائی ۔
    جنید خان، روشن بی بی کا واحد سہارا، ان کا اکلوتا بیٹا تھا، جو پیدائشی طور پر دل کے عارضے میں مبتلا تھا۔ ا س کے والد کا انتقال جنید کے بچپن میں ہی ہو گیا تھا ۔ تب سے اب تک روشن بی بی لوگوں کے گھروں میں کام کر کے اپنا گزر بسر کر رہی تھی اور جنید کی تعلیم کا خرچہ اٹھا رہی تھی ۔ تب ہی ایک دن اسکول سے واپسی پر جنید کی طبیعت بگڑ گئی۔ سرکاری ہسپتال پہنچنے پر پتا چلا کہ جنید کی بیماری خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے اور اگر جلد از جلد آپریشن نہ کیا گیا تو اس کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس آپریشن کے لئے کم سے کم پانچ لاکھ روپے درکار تھے۔
    5لاکھ روپے "جو روشن بی بی نے کبھی خواب میں بھی نہ دیکھے تھے، کجا ا نکا بند و بست کرنا۔
    مگر چودہ سالہ معصوم جنید جس کاسارا بچپن اپنی بیماری سے لڑ لڑ کر گزرا تھا وہ آنکھوں میں مکمل صحت یاب ہونے کا خواب سجائے بیٹھا تھا اور روشن بی بی ا س کی خوش امیدی دیکھ کے صرف ایک بار، ایک کوشش کرنا چاہتی تھیں۔
    تب ہی جنید کو جلدی واپس آنے کا کہہ کر وہ اپنی مالکن کے پاس آگئیں۔ ان سے کوئی خاص امید تو نہ تھی مگر پھر بھی وہ ایک کوشش کرنا چاہتی تھی۔
    مالکن کے گھر تو عجیب جشن کا سماں تھا۔ صاحب اور بیگم صاحبہ مٹھائی بانٹ رہے تھے ۔ خوشی تھی کہ ان کے چہروں سے عیاں تھی ۔ وہ کچھ دیر اور وہیں کھڑی رہتی اگر بیگم صاحبہ کی نظر ا س پر نہ پڑتی۔
    "ارے آؤ آؤ روشن! ادھر کیوں کھڑی ہو؟ آئو تم بھی مٹھائی کھائو۔ دیکھو تمہارے صاحب اپنا کیس جیت گئے۔” جوش سے کہتی بیگم صاحبہ نے روشن کی آنکھوں کے آنسو نہ دیکھے ، ورنہ اِ س طرح مٹھائی نہ تھماتیں۔
    "وہ بی بی جی میں نے کہنا تھا کہ۔۔ وہ جی میرا جنید ہسپتال میں ہے۔ اگر آپ میری تھوڑی مدد کردیتے تو۔۔۔”
    روشن کے لہجے کی کپکپاہٹ اس کی گھبراہٹ کی غماز تھی۔
    ” ہاں! کیوں نہیں۔ بتائو کتنے پیسے چاہئیں تمہیں۔”
    بیگم صاحبہ نے خوش دلی سے کہا تو روشن کی تھوڑی ہمت بندھی ۔
    "وہ جی، اس کے آپریشن کے لیے پانچ لاکھ روپے کی ضرورت ہے اور ڈاکٹر نے کہا ہے کہ اگر جلدی پیسوں کا بندوبست نہ ہوا تو۔۔۔”
    روشن کی آواز آنسوئوں میں ڈوب گئی اور وہ بات مکمل نہ کر سکی۔ ا س نے ڈرتے ڈرتے نظریں اٹھا کر بیگم صاحبہ کے چہرے کو دیکھنا چاہا تھا۔ آنسوئوں کی دھند کے پار ا سے بیگم صاحبہ کے نقوش سپاٹ ہوتے نظر آئے۔ خوف کی ایک سرد لہر اس کے وجود میں سرائیت کر گئی ۔ جس انکار کا ا سے خوف تھا ، شاید بیگم صاحبہ وہی کرنے والی تھیں ، اور ا س سے آگے وہ سوچنا نہیں چاہتی تھی ۔
    "ایسا ہے روشن کہ۔۔” بیگم صاحبہ نے ٹانگ پہ ٹانگ رکھتے ہوئے تمہید باندھی۔
    "تمہارے صاحب آج جو یہ ضروری کیس جیتے ہیں، اِس کے لیے ا نھوں نے وکیل کو پانچ لاکھ روپے فیس دی ہے۔ تو۔۔۔” وہ ایک ثانیے کو ر کیں۔
    "تو اگر تم پہلے آجاتی تو شاید کچھ ہو بھی جاتا ، پر اب تو ناممکن ہے۔”
    بیگم صاحبہ نے اپنی انگلی میں موٹے ہیرے کی انگوٹھی گھماتے ہوئے بات مکمل کی اور روشن بی بی کی آنکھوں سے آنسو ٹوٹ کے برسے تھے۔ وہ بنا کچھ کہے واپسی کے لیے پلٹی۔
    "اے میرے پاک خدا! اب میں کیا کروں گی ۔ یہ تو نے مجھے کیسی آزمائش میں ڈال دیا ہے؟ میں کہاں سے لائوں پانچ لاکھ؟ کیا کروں میں آخر؟ شاید میں پہلے آجاتی تو بیگم صاحبہ پیسے دے بھی دیتیں، پر اب تو وہ وکیل کو۔۔۔ وکیل!!!”
    روشن بی بی کی آنکھوں میں امید کی لو ٹمٹمائی۔ وہ تیزی سے مڑی اور بیگم صاحبہ تک آئی ۔
    "بیگم صاحبہ! وہ جی ا س وکیل کا پتا مل سکتا ہے؟ آپ کی بڑی مہربانی ہو گی جی ۔ خدا کے لیے۔”
    بیگم صاحبہ نے تھوڑی دیر ا سے ترش نگاہوں سے گھورا ، پھر صاحب سے ایک کارڈ لے کے اس کی طرف بڑھا دیا۔
    خوشی سے نہال ہوتی روشن بی بی نے عجلت میں ان کا شکریہ ادا کیا اور تیزی سے باہر کی طرف بڑھ گئی۔ اس کا ر خ بس اسٹینڈ کی طرف تھا۔ وہاں بس کے انتظار میں کھڑی ایک طالبہ سے کارڈ پہ درج پتے کے بابت پوچھا۔ اس نے خوش دلی سے پتا سمجھایا۔
    روشن بی بی کے دل میں امید اور خوف کے ملے جلے احساسات جاگ رہے تھے جن میں شرمندگی کی آمیزش بھی تھی۔ پہلی دفعہ کسی کے سامنے ہاتھ پھیلا نے سے زیادہ ایک خود ار انسان کے لیے اِس دنیا میں کچھ بھی مشکل نہیں۔
    اپنے خیالوں میں گم وہ اپنی منزلِ مقصود پہ پہنچ چکی تھی۔
    کپکپاتے قدموں کے ساتھ ا س صاف ستھرے آفس میں پہلا قدم رکھا تو گارڈ تیزی سے اس کی طرف بڑھا۔ وہ جانتی تھی اگر ا س نے اپنا مدعا گارڈ کو کہہ سنایا تو اندر کبھی نہ جا پائے گی۔ اِس لئے اسے کارڈ دکھا کر کہا کہ صاحب نے خود بلایا ہے۔
    گارڈ نے پہلے جانچتی نگاہوں سے ا سے دیکھا پھر اندر جانے کی اجازت دے دی ۔ وہ ڈرتے ڈرتے اندر کی طرف بڑھی۔
    کالے سوٹ میں ملبوس کئی نوجوان وہیں اپنے کام میں مصروف بیٹھے تھے ۔ ان میں سے ایک اس کی طرف متوجہ ہوا۔
    "خیر ہے اماں! کس سے ملنا ہے آپ کو؟”
    "وہ بیٹا مجھے اِن صاحب سے ملنا ہے۔”
    روشن بی بی نے ڈرتے ڈرتے ہاتھ میں پکڑا کارڈ ا س تیکھے نین نقش والے نوحوان کی طرف بڑھایا۔
    "ارے اماں آپ کو سر سے ملنا ہے تو یوں کہیں ناں۔ چلیں آجائیں میں ملاتا ہوں آپ کو سر سے۔”
    خوش اخلاقی سے کہتا ہو وہ انہیں اپنے ساتھ لیے اپنے سرکے کمرے تک لے آیا۔ ہلکی سی دستک کے بعد اس نوجوان نے دروازہ کھولا تو سامنے کا منظر واضح تھا۔
    سیاہ سوٹ میں ملبوس ایک پینتیس چھتیس سال کے ایک نوجوان لڑکے نے مسکراتے چہرے کے ساتھ کھڑے ہوکر اس کا استقبال کیا۔ وہ دل ہی دل میں شرمندہ ہوتی ان کے سامنے والی کرسی پہ آکے بیٹھ گئیں۔
    وکیل صاحب نے شائستہ لہجے میں ان کے آنے کی وجہ دریافت کی۔ وکیل صاحب کا پوچھنا تھا کہ روشن بی بی پھوٹ پھوٹ کے رو دی اور اپنی مشکل بیان کر کے مدد مانگی۔ وکیل صاحب ان کو تسلی دیتے ہوئے ان کے ساتھ باہر تک آئے اور جو تیکھے نقش والا نوجوان انہیں کمرے تک لے گیاتھا، اسے مخاطب کرتے ہوئے روشن بی بی کے ساتھ جانے کی ہدایت کی اور پتا کرنے کو کہا کہ آیا روشن بی بی جھوٹ تو نہیں کہہ رہیں؟
    وہ نوجوان روشن بی بی کوساتھ لئے اپنی ہی گاڑی میں ہسپتال تک آیا ۔ وہاں جنید اور ڈاکٹر صاحب سے مل کے جنیدکی ساری معلومات اکٹھی کرکے چلا گیا۔ روشن بی بی کے دل میں خوش امیدی جاگی تھی۔
    جب کہ نوجوان واپس آفس پہنچا اور وکیل صاحب کو ساری معلومات سے آگاہ کیا ۔ وکیل صاحب تھوڑی دیر خاموش بیٹھے رہے، پھراپنی دراز سے آج صبح ہی ملنے والا پانچ لاکھ روپے کا چیک نکالا اور نوجوان کی طرف بڑھا دیا۔ نوجوان نے سوالیہ نظروں سے ان کی طرف دیکھتے ہوئے چیک تھام لیا۔
    "یہ لے جائو اور ا س اماں کے بیٹے کا آپریشن جلد سے جلد کرانے کے انتظامات کرو۔”
    نوجوان جونیئر وکیل نے حیرانی سے استفسار کیا:
    "لیکن سر یہ آپ کی پہلی بڑی فیس ہے ۔ آپ ایسے کیسے اپنے سارے پیسے۔۔۔”
    اس سے پہلے کہ نوجوان وکیل کی بات مکمل ہوتی، سر نے اپنا ہاتھ ا ٹھا کے اسے مزیدکچھ کہنے سے روک لیا۔
    "زوئے! (پشتو میں بیٹے کو کہتے ہیں) ایسا نہیں کہتے ۔ کیا پتا خدا میرا امتحان لے رہا ہو۔ میں اسے کیا جواب دوں گا؟”
    سر کی بات پہ نوجوان وکیل خاموش ہو گیا۔
    جنید کا آپریشن ہو گیا اور وہ مکمل صحت یاب بھی ہو گیا۔ اپنے پیروں پہ چل کے ایک دن وہ اور روشن بی بی وکیل صاحب کا شکریہ ادا کرنے بھی آئے تھے۔ روشن بی بی انہیں ڈھیروں دعائیں دیتیں، جنید کو ساتھ لئے چلی گئیں لیکن پھر وکیل صاحب کی کامیابیوں کا سلسلہ نہ ر کا۔
    گو کہ یہ پہلا واقعہ نہیں تھا جب وکیل صاحب نے یوں کسی کی مدد کی تھی ۔ اِ س سے پہلے بھی انہوں نے کئی لوگوں کی ایسے ہی مدد کی تھی۔ آفس کے باہر کھڑے ہونے والے خوانچہ فروشوں کے قریب سے صبح جب گزرتے تو جیب میں ہاتھ ڈالتے، جتنے پیسے ہاتھ میں آتے ا نہیں دیتے جاتے۔ اپنے ہی گروپ میں کام کرنے والے جونیئر وکلا کی بھی ہر ضرورت کا خیا ل رکھتے۔ ان کی ہر ممکن مدد کرتے۔ یوں دعائیں اور عزت کماتے کماتے، وکیل صاحب بلوچستان بار ایسوسی ایشن کے صدر نامزد ہو گئے۔ وہ اپنے مخالف سے بہت نمایاں ووٹ حاصل کرکے جیتے گئے۔ وقت گزرتا گیا۔ وکیل صاحب بی بی اے کے موجودہ صدر سے سابق صدر ہو گئے لیکن ان کی کامیابیوں کا سلسلہ ر کا نہیں۔
    وہ اب سپریم کورٹ کے وکیل تھے۔ جس کیس کے لیے انہیں منتخب کیا جاتا، جیت ا ن کے موکل کے نصیب میں لکھ دی جاتی۔ اتنی عزت، دولت اور شہرت نے بھی ان کی فطرت نہ بدلی۔ بلکہ اب وہ پہلے سے بھی زیادہ لوگوں کی مدد کرنے لگے تھے اور وقت یونہی گزرتا گیا۔
    پھر ایک دن بی بی اے کے موجودہ صدر بلال قاسی کو فائرنگ کر کے شہید کر دیا گیا ۔
    وکیل صاحب ا س وقت کیسے پیچھے رہتے ۔ اپنے ساتھی وکلا کو اپنے ساتھ لیے ہسپتال پہنچے جہاں پہلے ہی وکلااور میڈیا کا جمِ غفیر موجود تھا۔ وکیل صاحب اور ان کے ساتھی وکلا بلال قاسی صاحب کی میت لینے میں پیش پیش تھے کہ اچانک ہجوم تھوڑا سا بڑھ گیا۔
    وکیل صاحب کے ساتھ ہی اس تیکھے نقش والے نوجوان کو ہجوم نے پیچھے دھکیل دیا تھا۔ انہوں نے ارد گرد نگاہ دوڑائی، باقی سب ہی ساتھی موجود تھے، نہ تھا تو وہ جو ان کا سب سے چہیتا شاگرد اور ساتھی تھا۔ وہ یقینا اسے فون ملاتے اگر میت نکالنے کا شور نہ مچتا۔ وہ سب چھوڑ چھاڑ باقی ہجوم کی طرح بلال قاسی شہید کی میت کی طرف متوجہ ہو گئے اسی اثنا میں ایک زور دار ھماکا ہو گیا ۔ ہر سو بارود کی تیز بو اور دھوئیں کے کالے بادل چھا گئے۔ وکیل صاحب بھی زمین پہ گرے ہوئے تھے۔ انہوں نے آنکھیں کھول کے اطراف کا منظر دیکھنا چاہا مگر۔۔
    ان کی آنکھوں میں مسلسل بہتا خون ہرمنزل کو دھندلا رہا تھا ۔ کانوں میں تیز سیٹی سی بج رہی تھی۔ کچھ لوگ ا ن کی طرف تیزی سے بڑھے تھے اور پھر ا نہیں کسی چیز کا ہوش نہیں رہاتھا۔
    ”تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دھماکہ خودکش تھا ، جس میں وکلا کو نشانہ بنایا گیا ۔ ملک دشمنوں کی ایک اور سازش ، جس میں وکلا بری طرح سے متاثر ہوئے ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق ، دشمن نے سازش کے تحت صدر بلوچستان بار ایسوسی ایشن بلال قاسی کو شہید کیا اور جب وکلا بڑی تعداد میں میت لینے ہسپتال پہنچے تو دہشت گرد نے خود کو دھماکے سے ا ڑا دیا ۔ اب تک کی اطلاعات کے مطابق بھاری جانی نقصان ہونے کا خدشہ ہے۔ ہمارے نمائندے وقاص علی جائے وقوعہ پہ موجود ہیں آئیے جانتے ہیں ان سے زیادہ ترین صورتِ حال:
    ”جی وقاص! اب تک کی اطلاعات کے مطابق تقریباً کتنے جانی نقصان کا خدشہ ہے؟”
    "جی نادیہ میں اس وقت جائے وقوعہ پہ موجود ہوں، یہاں قیامت کا سا منظر ہے ہر طرف انسانی اعضاء بکھرے پڑے ہیں ۔ جائے وقوعہ کودیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ بھاری تعداد میں جانی نقصان کا خدشہ ہے۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق پینتیس افراد اس افسوس ناک حادثے میں شہیداور ستر زخمی ہوئے ہیں۔”
    "جی وقاص کچھ پتا چل سکا ہے کہ زخمیوں میں کتنوں کی حالت نازک ہے ؟”
    "جی نادیہ اس وقت تو یہ کہنا مشکل ہو گا لیکن ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت بہت خراب ہے اورا یک زخمی کی شناخت بہ طور باز محمد کاکڑ ،سابق صدر بلوچستان بار ایسوسی ایشن کی جا رہی ہے ۔ بازمحمد کا کڑ جو اپنے ساتھیوں سمیت بلال قاسی کی میت لینے سول ہسپتال آئے تھے اس بدترین دہشت گردی میں شدید زخمی ہوئے ہیں۔ جی نادیہ ۔ ۔”
    "بہت شکریہ وقاص ہمارے ناظرین کو تازہ ترین صورت حال سے اپ ڈیٹ کرنے کا۔”
    ناظرین یہ افسوس ناک مناظر جو آپ اس وقت اپنی ٹی وی سکرینزپردیکھ رہے ہیں یہ کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ہونے والے خودکش دھماکے کے ہیں ۔ جس میں تازہ تر ین اطلاعات کے مطابق پینتیس افراد شہید اور ستر کے قریب زخمی ہیں ۔ زخمیوں میں سابق صدر بی بی اے باز محمدکاکڑبھی شامل ہیں۔”
    آئیے بات کر تے ہیں ایک دفعہ پھر اپنے نمائندے وقاص سے۔
    "جی وقاص! تازہ ترین صورتِ حال سے اپ ڈیٹ کیجئے گا”
    "جی نادیہ! ایک افسوسناک خبر سے آپ کو آگاہ کرتا چلوں کر ہسپتال زرائع کے مطابق سابق صدر بی بی اے اور بلوچستان کے جانے مانے وکیل باز محمد کاکڑ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہوگئے ہیں ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق شہدا کی تعداد 50 جبکہ زخمیوں کی تعداد 90 ہوگئی ہے۔ زخمیوں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے کچھ زخمیوں کو سی ایم ایچ شفٹ کیا جا رہا ہے۔ آئیے بات کرتے ہیں اس واقعے کے عینی شاہد نوجوان سے۔”
    "جی شاہ صاحب! آپ اس دھماکے میں زخمی ہوئے ہیں اور آپ کے بہت سے دوست اور ساتھی وکلا اس واقعے میں شہید ہوئے ہیں ، آپ کیا کہنا چاہتے ہیں؟”
    صحافی نے تیکھے نقوش والے نو جوان کے سامنے مائک کیا ۔ نوجوان ایمبولینس میں لیٹا ہوا تھا ، اس کا ایک بازو اور ایک ٹانگ پٹیوں میں جکڑے ہوئے تھے ۔ رنگت بے حد زرد تھی لیکن چہرے پر بہادری کا ڈیرہ تھا۔
    "جی بس اللہ معاف کرے قیامت تھی جو آکر گزر گئی۔ یہ ایک پری پلینڈ سازش تھی ہمارے خلاف۔ میرے سارے ساتھی شہید ہو گئے اپنے گروپ میں سے میں واحد بچا ہوں ۔ ہمارے سر باز محمد کاکڑ صاحب ایک بہترین انسان تھے ان کی شہادت سے جو خلا۔ ۔ ۔”
    "جی آپ کا بہت بہت شکریہ۔”
    نادیہ جیسا کہ آپ نے عینی شاہد کی باتیں سنی ۔ انہوں نے اس واقعہ کو پری پلینڈ سازش قرار دیا ۔ میں اپنے ناظرین کو بتاتا چلوں کہ کسی عینی شاہد سے سب سے پہلے بات ہمارے چینل نے کی ہے ۔ جی ہاں! ہم نے اپنی روایت قائم رکھتے ہوئے سب سے پہلے آپ کو اس خبر سے آگاہ کیا۔ ۔ ۔ ۔ ۔”
    نمائندہ اب بھی بہت کچھ کہہ رہا تھا یہ سوچے بنا کہ وہ تیکھے نقوش والا عینی شاہد اِ س وقت کیاسوچ رہا ہے اور وہ عینی شاہد نمائندے کی پیٹھ دیکھ کر سوچ رہا تھاکیاواقعی انہیں کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہماراباز ، پاکستان کا باز اب نہیں رہا؟
    کیا انہیں اندازہ ہے کہ وہ باز کتنے لوگوں کے لئے مسیحا تھا ؟
    المیہ یہ نہیں کہ کسی نے باز کی شہادت سے ہونے والے نقصان پر افسوس نہیں کیا ، المیہ تو یہ ہے کہ اس دھماکے میں اور ہر دھماکے میں جانے کتنے باز شہید ہوتے ہیں۔ ایسے باز جوسچے پاکستانی اور نیک مسلمان ہوتے ہیں ۔ دشمن ہمیشہ ہمارے بازوں پر ہی حملہ کرتی ہے ۔
    لیکن ہمیں نہ خبر ہوتی ہے نہ فرق پڑتا ہے ۔ ہاں دوسے تین دن افسوس ہوتا ہے۔ ہم احتجاج کرتے ہیں، سوگ مناتے ہیں اور پھر زندگی دوبارہ اپنی ڈگر پر چل پڑتی ہے ۔ فرق صرف تب پڑتا ہے جب ہم یاہمارا کوئی اپنا ایسی د ہشتگردی کی زد میں آتا ہے۔
    وہ نوجوان سوچ رہا تھا کہ کہیں یونہی ہمارے باز شہید ہوتے گئے تو ہمارے ملک میں باز ختم نہ ہوجائیں ۔ پھر اس ملک کے جنیدوں کی امدادکون کرے گا ؟
    وہ تیکھے نقوش والا نوجوان وکیل سوچ رہاتھا اور سوچے جا رہا تھا، کیوں کہ اس حادثے نے ا سکی زندگی میں جو خلا کیا تھا، وہ کبھی پرُ نہیں ہونا تھا۔ یہ سانحہ اس کی زندگی میں ہمیشہ کے لئے آکر ٹھہر چکا تھا۔

  • دیارِ خلیل – فرحین خالد

    عالیشان محل جیسے گھر میں رہنا کس کی آرزو نہیں ہوتی ؟بڑی لاگت اور مشقت کے بعد یہ مکان تعمیر تو کر لیے جاتے ہیں مگر ان کو ”گھر ” بنانے کے لیے مزید قربانیاں درکار ہوتی ہیں۔گھر کے مکینوں کی اطراف میں کھنچی ان کی محافظ کہیے یا رکاوٹ، ایک دیوار بھی حائل رہتی ہے جس کو مزّین اور آراستہ تو خوب کیا جاتا ہے مگر اس کی نفسیات کو نہیں سمجھا جاتا ۔آیئے آج ایک ایسی ہی دیوار سے اس کی بپتا سنتے ہیں۔





    مجھ سے ملئے …میں، دیارِ خلیل میں کھڑی ایک ساکت دیوار ہوں جو خود کو اس گھر کا اہم جز سمجھتی ہے ۔میں ہوں تو پتھر جیسی مگر دل میرا ، آپ ہی کی طرح نرم ہے۔ یہ بات سن کے آپ کو حیرت ہوئی ؟ کیوں..؟ جب آپ یہ مانتے ہیں کہ دیواروں کے کان ہوتے ہیں، جب آپ یہ مانتے ہیں کہ روز جزا ہر ہر پتھر گواہی دے گا تو یہ ماننے میں بھی حرج نہیں ہونا چاہیے کہ میرا ایک دل بھی ہے جو اپنے مکینوں کے لیے دھڑکتا ہے۔ ہاں ، مجھے ان سے سچی محبت ہے ۔ جب یہاں حزن بسیرا کرتا ہے تو میرا گریہ نہیں رکتا اور جب یہاں شادیانے بجتے ہیں تو میں ان کے قہقہوں کی گونج ہوتی ہوں۔میں جب تک اپنے مکینوں کو نہیں اپناتی ان کی اجنبیت دور نہیں ہوتی ۔
    پچھلے دنوں جب مجھ پہ روغن ہوا تو یہ اندازہ ہوا کہ میرا پھر سے سودا ہوگیا ہے… سوچتی ہوں کہ یہ کیسے سپنوں کے بیوپاری ہیں کہ جب اتنے چاؤ سے میری ایک ایک اینٹ میں خلوص و وفا کا گارا لگا کر مجھے بلندکرتے ہیں تو آخر مجھے بیچ کیوں جاتے ہیں ؟ میں، اپنے خمیر میں گندھی خصلتوں سے مجبور… اپنے ہر ایک باسی سے پیماں نبھاتی ہوں۔بہرحال آج میں خوش ہوں کہ میری ویرانی دور ہو رہی ہے ۔





    صبح سے چہل پہل تھی۔میں اپنی مقابل دیوار پہ بنتے ہیولے دیکھ رہی تھی۔ کچھ اندیشے تھے ، جو بڑھ رہے تھے کچھ آرزوئیں تھیںجو زور پکڑ رہیں تھیںکیوںکہ مزدور قطار در قطار سامان اٹھائے اندر چلے آ رہے تھے۔مجھے بھی اپنے مکینوں کو دیکھنے کا بہت اشتیاق تھا کہ کون ہوں گے؟ کیسے ہوں گے ؟ اللہ کرے کہ بچوں والے ہوں، مجھے ننھے بچوں کی گونجتی کلکاریاں بہت اچھی لگتی ہیں ۔ میں نے دیکھا کہ پہیے جیسی گول گول چیز بھی ہوا میں لہرائی ہے۔ضرور گھر کے کسی بزرگ کی سائیکل ہوگی جو صبح ہی صبح پارک لے کر جائیں گے اور واپسی میں سودا لیتے ہوئے گھر آئیں گے ۔آوازیں تو آ رہی ہیں مگر سمجھ نہیں آ رہا کس زبان میں بول رہے ہیں۔مجھے ایک لمحے کے لیے فکر ہوئی کہ میں اکیلی رہ جاؤں گی مگر دوسرے ہی لمحے میںنے تہیہ کر لیا کہ کوئی بات نہیں میں سیکھ لوں گی اسی ٹی وی لاؤنج میں تو بیٹھیں گے سارا دن یہ لوگ۔
    اب سائے ڈھل گئے تھے اور آوازیں بھی مدھم ہو گئیں تھیں۔ مجھے ابھی تک کسی کی جھلک نہیں دکھائی دی تھی۔ اچانک گھٹنوں گھٹنوں رینگتا ہوا ایک بچہ دکھائی دیا۔میری خوشی کی انتہا نہ تھی کہ خدا نے میری سن لی ہے ۔میری ممتا اس بچے کو اپنی نگاہ میں بھرنے کی مشتاق تھی۔ اچانک ایک سایہ اس کے پیچھے پیچھے کمرے میں نمودار ہوا اور اس نے آواز لگائی ….
    ” بیبو ..بیبو..ارے وہاں کہاں چلی گئیں ؟”
    میںنے سوچا، بڑے فلمی لوگ ہیں!کیسا نام رکھا ہے منے بچے کا؟ مگر جیسے ہی روشنی کا جھماکا ہوا میری آنکھیں خیرہ ہو گئیں۔ اتنے دن ہو گئے تھے اندھیرے میں رہتے ہوئے۔ غور کیا تو نگاہوں پہ یقین نہیں آیا۔ زمین پہ ایک بزرگ خاتون بیٹھی سفید ریشمی بالوں والے بچے کو سہلا رہی تھیں۔ مجھے پانچ دن لگ گئے یہ یقین کرنے میں کہ یہ کوئی بچہ نہیں ایک پالتو بلی ہے، جو بڑی بی کی بے حد لاڈلی ہے۔ اگر وہ میاؤں میاؤں کی آواز نہ نکالتی تو میری ساتھی دیواریں مجھے اندھا کہہ کے ٹال دیتیں ۔
    یہ تین لوگوں کی ایک چھوٹی سی فیملی ہے۔ سونیا گھر کی بہو ہے ،سمیر اس گھر کا واحد مرد اور تابع دار بیٹا ہے ، ایک بیوہ بوڑھی ماں اور ان کی ایرانی نسل کی خوبصورت بلی… بیبو۔ ممی جی اور سمیر کی تو اس میں جان اٹکی رہتی ہے۔ اس کی ایک ایک ادا کو محبت سے دیکھتے ہیں اور ناز نخرے اٹھاتے نہیں تھکتے۔ اسے جب بھی موقع ملتا، سونیا اور سمیر کے بیچ میں آ کے پسر جاتی ۔سونیا کی تو جان ہی جل جاتی تھی ۔ جتنا وہ بیبو سے الرجک تھی اتنا ہی بیبو اس کی التفات کی منتظر رہتی۔ در اصل سونیا گھر میں جانور رکھنے کی قائل نہیں تھی اور دوسرے اس کو سمیر کی توجہ حاصل کرنے کے لیے یہ مقابلہ منظور نہیں تھا، گویا ایک میان میں دو تلواریں نہیں رہ سکتیں۔ روز کا ایک ہی ٹنٹا تھا ، بیبو چیزیں لڑھکاتی ، گند مچاتی ، صبح صبح شور کر کے ان کو جگاتی ، فرنیچر خراب کرتی، ہر چیز میں مخل ہوتی مگر سمیر کو سب ”کیوٹ ”لگتا اور ممی جی ، وہ تو ا س کی ہر ہر ادا کو دس دس بار دہراتے نہ تھکتیں۔ سونیا پیج و تاب کھا کے رہ جاتی۔ میں یہ سلسلہ بہ غور دیکھ رہی تھی اور ان ماں بیٹے کے اس لگاؤ کی وجہ سمجھ رہی تھی۔ صاف ظاہر تھا کہ گھر میں کوئی بچہ نہیں تھا جو ان کا دل لبھاتا یا دھیان بٹاتا … مگر سونیا کو کون سمجھاتا اس کے اندر ایک لاوا پک رہا تھا اور مجھے ڈر تھا کہ یہ گھر آباد ہونے سے پہلے نہ ٹوٹ جائے ۔





    سونیا نے بارہا اور برملا سمیر سے اپنی نا پسندیدگی کا اظہار بھی کیا تھا مگر وہ ماں کی طرف دیکھتا تو مجبور ہو جاتا کیوںکہ ان کو اپنی بلی سے ایک لمحے کی دوری گوارا نہ تھی ۔دراصل وہ ان کی بارہ سالہ پرانی رفیقہ تھی، جس نے ان کی زندگی میں موجود خلا کو پُر کیا تھا اور اب وہ اس کی اتنی عادی تھیں کہ اس کو اپنا جزو لاینفک سمجھتی تھیں۔سمیر مخمصے کا شکار ہوگیا تھا۔ماں کو خوش کرتا تو بیوی ناراض ، بیوی کو خوش کرنے کا مطلب تھا کہ ماں کی دل آزاری ۔ بادی النظر میں رب کی رضا بھی مطلوب تھی۔کرتا تو کیا کرتا ۔میں دیکھ رہی تھی کہ وہ خاموش طبیعت تھا سگریٹ کے ساتھ ساتھ خود بھی سلگ رہا ہوتا تھا ۔
    سونیا بری نہیں تھی۔مشیتِ ایزدی کے آگے مجبور تھی۔ ساس سے شکایت نہیں تھی ، بس ان کے شوق سے تھی ۔بیبو بھی تو نت نئے بہانے ڈھونڈتی تھی اس کو زچ کرنے کے ۔ایک روز جب سونیا نے اپنے کرسٹل کا سامان الماری میں لگانا شرو ع کیا تو میں نے خود دیکھا کہ بیبو صاحبہ آ کے اسی ڈبے میں براجمان ہو گئیں…سونیا کو صفائی اور سجاوٹ کا خبط تھا۔ ایک ہاتھ میں کپڑا اور دوسرے ہاتھ میں کرسٹل اٹھائے وہ جیسے ہی کچھ اور نکالنے جھکی تو بیبونے اندر سے باہر کی جانب چھلانگ لگا دی، اس اچانک حرکت سے سونیا کا توازن بگڑ گیا اور وہ دھڑام سے گر گئی … میرے منہ سے بھی چیخ نکل گئی ۔ آواز سن کے سمیر آیا تو سونیا کا پارہ اور چڑھ گیا اس نے کہا: ”تم کب اس عذاب سے میری جان چھڑاؤ گے! دیکھو ، کتنا نقصان کردیا اس نے میرا”سمیر نے کرسٹل کے ٹکڑوں کو دیکھ کر کہا ”کوئی بات نہیں اور آ جائے گا۔” سونیا کو اس کا اطمینان کو دیکھ کر آگ لگ گئی اس نے تو آؤ دیکھا نہ تاؤ اگلے پچھلے سارے حساب برابر کر دیئے۔ اس کا کہنا تھا کہ اسے چار سال ہو گئے ہیں اس بلی کو برداشت کرتے ہوئے اور اب اُسے کسی قیمت پہ بیبو کی حکمرانی منظور نہیں۔ اس بلی کی وجہ سے سونیا کو الرجی رہنے لگی تھی جو سخت تکلیف کا باعث تھی۔ جواب میں سمیر نے بس اتنا ہی کہا: ”ممی کے کمرے میں چھوڑ آتا ہوں۔” اس نے پیار سے بیبو کو گود میں بھرا اور باہر لے گیا۔سونیا نے اپنے گرد بکھرے کرسٹل کو دیکھا اور پھوٹ پھوٹ کے رو دی ۔ میرا دل کٹ کر رہ گیا ۔مجھے پتا تھا ان ٹوٹے ہوئے ٹکڑوں میں وہ اپنا دل اور مان دیکھ رہی تھی، جو سمیر نے نہیں رکھا تھا ۔میں سوچ رہ رہی تھی کہ کیا جانور کو انسان پر فوقیت دینا درست ہے ؟ میں تو بس وہی جانتی تھی جس کا مجھے ادراک تھا ۔ باہر کی دنیا جانے کس طرح ایسی گتھی سلجھاتی ہوگی ..؟





    بانو آپا کئی دن سے بیٹے کی گہری خاموشی اور سونیا کا اس سے الگ تھلگ رہنا دیکھ رہیں تھیں ۔ سونیا سے بات کرنے کی کوشش کی تو اس نے رکھائی سے جواب دیا جس سے ان کا قلق بڑھ گیا۔ بیبو نے جب انہیں اُداس بیٹھا دیکھا تو پاس پڑی بال سے خوب کھیل کھیل کر دکھایا اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا مگر وہ گہری سوچ میں ڈوبی رہیں۔ ان کی آنکھوں سے جو مو تی جھڑ رہے تھے وہ اپنے دوپٹے میں سمیٹتی رہیں۔ بیبو بھی آزردہ سی ہو کے پیروں میں بیٹھ گئی ۔
    شام جب سمیر گھر آیا تو نہ بانو آپا تھیں نہ بیبو۔اس نے سونیا سے پوچھا تو اس نے بھی لا علمی کا اظہار کیا۔ وہ دونوں بیٹھے ٹی وی دیکھ رہے تھے اور مجھے اچھا لگ رہا تھا، جب وہ کبھی کبھی ایک ساتھ کسی بات پہ ہنس دیتے ۔جونہی گھنٹی بجی مجھے لگا آ گئے کوئی مہمان کباب میں ہڈی بننے ، کم ہی ہوتا تھا جب وہ دونوں اتنے پرسکون دکھائی دیتے تھے مگر اندر آنے والی کوئی اور نہیں بانو آپا تھیں اور ان کے ہاتھ میں ایک پنجرہ تھا جس میں دو خوبصورت طائرِ محبت کی جوڑی تھی ۔ پوچھنے پہ چہک چہک کے بتانے لگیں کہ وہ اسلم بھائی کو بیبو دے آئیں ہیں، جو ان دنوں بالکل اکیلے تھے اور بدلے میں دو پنچھی لائی ہوں دیکھو تو… سمیر اور سونیا دونوں پنجرے پہ جھکے ہوئے ان کا چہچہانا اور پُھدکنا دیکھ رہے تھے ۔سونیا نے ان سے پوچھا کہ کیا نام رکھیں گی ان کے تو سوچ کے بولیں مشیل اور اوباما ۔ تینوں نے ایک ساتھ فلک شگاف قہقہہ لگایا اور میں بھی یہ منظر دیکھ کر ہنس پڑی … ہنستے ہنستے بانو آپا کی آنکھیں چھلک پڑیں تو بہ مشکل میرے رُکے آنسو بھی رواں ہوگئے مگر آج میں نے ایک نئی بات سیکھی تھی کہ بڑا پن کیا ہوتا ہے۔بانو آپا نے گھر کی خوشیوں کی خاطر اپنی چاہت قربان کی تھی۔ گھر والوں کو جوڑے رکھنے کے لیے ایسی ہی ان گنت قربانیاں دینی پڑتی ہیں تب کہیں جا کر وہ خوشیوں کا گہوارہ بنتا ہے ۔ خدا کرے کہ یہ گھر اور خوشیاں ان کو راس آ جائیں۔