تسکین — امینہ خان سعد

میرا بھائی سامی جو مجھ سے عمر میںنوسال چھوٹا تھااس سال نیو ایئر منانے کی ضد کر رہا تھا- میری ماما اس کو سمجھانے کی کو شش کر رہی تھیں کہ نیو ایئرنائٹ پر باہر جانا محفوظ نہیںہے ۔اس کی ضد کی وجہ سے مجھے اس پر بہت غصّہ آرہا تھا بلکہ اپنے ہی بھائی سے نفرت سی ہورہی تھی۔ یہ احساس نیا نہیںتھا۔ کم ازکم سال میں دو مرتبہ میراجی اسے دل کھول کر مارنے اور نوچنے کا چاہتا تھا۔
’’امّی میرے سب دوست اپنے گھر والوںکے ساتھ نئے سال کاجشن مناتے ہیں ـ،گھومتے پھرتے ہیں ،پٹاخے پھوڑتے ہیں۔ ایک تو ہم کہیں جاتے نہیںاوپر سے بابا ہر سال دس گیارہ بجے تک گھر کی سب لائٹیںبند کرکے ہمیںزبردستی سلا دیتے ہیں۔‘‘ سامی نے ماما کا ہاتھ پکڑ کر کہا۔
’’ ارے بھئی! ہم مسلمان ہیں یہ کوئی ہمارا نیو ایئرتھوڑی ہے اور اسلام میں سادگی کو پسند کیا گیا ہے۔‘‘ماما سامی کو بہلانے لگیں۔
’’ ما ما ذرا اس سے پوچھیںتو صحیح کہ اس نے آپ کو امّی کیوں کہا ،اگر میںنے بابا کو شکایت کردی تو نئے سال پر تو کیا یہ کسی دن بھی باہر نہیں جاسکے گا ۔‘‘ میں غصّے سے بولتی ہوئی اپنے کمرے میں چلی گئی۔
بعض اوقات مجھے احساس ہوتاکہ میں سامی کے ساتھ زیادتی کر جا تی ہوں پر غصّے میں مجھے کچھ سمجھ نہیں آتا۔ سامی کو اجازت نہیں تھی کہ وہ امّی کو امّی پکارے۔ یہ پابندی بھی میں نے لگائی تھی کہ ماما کو ہم دونوں صرف ماما بولیں گے۔ یہ فیصلہ تو سامی کے پیدا ہونے کے چھ ماہ بعد ہی ہوگیا تھا۔ عام حالات میں ہم لوگوں کی کوئی خاص لڑائی نہیں ہوتی تھی ۔ ویسے بھی ماما بابا ہم دونوں میں سے کبھی کسی ایک کی طرف داری نہیں کرتے تھے۔ دونوں کو ہی سمجھا کر یا جس کی غلطی ہو اس کو ڈانٹ کر لڑائی فوراً ختم کروا دیتے تھے۔
سال 2015ختم ہونے میں ابھی پندرہ دن باقی تھے۔ ہر نئے سال کی آمد مجھے چڑچڑا بنا دیتی تھی۔
’’اُف نیا سال۔۔۔‘‘ میںیہ سوچ ہی رہی تھی کی ماما دستک دے کر کمرے میں داخل ہوئیں۔
’’ سکینہ ـ۔‘‘
’’ جی ماما ۔‘‘
’’ بیٹا مجھے آپ سے ایک ضروری بات کرنی ہے۔‘‘
’’ ابھی؟‘‘
’’ ہاں بیٹا، صرف دو چار منٹ لگیں گے۔‘‘
’’ ماما میںسونا چاہتی ہوں۔‘‘ میں نے رک رک کے بولا۔
’’ ٹھیک ہے تو آپ لیٹ جائو، میں مختصر سی بات کرکے چلی جائوں گی۔‘‘
میں سمجھ گئی کہ ماما کچھ خاص بات کرنے والی ہیں۔میں فوراً لیٹ گئی تاکہ ماما جلدی جلدی اپنی بات ختم کرلیں۔




’’بیٹاسامی بچّہ ہے ، باقی بچّوں سے قصّے کہانیاں سنتا ہے تو اس کا دل بھی تفریح کرنا چاہتا ہے۔ آپ حسّاس ہونے کے ساتھ سمجھدار بھی تو ہو۔‘‘ ماما نے جھک کر میرے ماتھے پر پیار کیا اور وہیں میرا غصّہ پانی کے بلبلے کی طرح غائب ہوگیا۔
’’ دوسری بات جو کہ کافی خاص ہے وہ یہ کہ ایک بہت اچھی فیملی آپ کے لیے اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر آنا چاہتی ہے۔‘‘ ماما جملہ مکمّل کرکے چند سیکنڈ کے لیے رکیں پر جب میں چپ رہی تو انھوں نے بات جار ی رکھی ۔
’’ بیٹا ہم نہیں چاہیں گے کہ آپ ہر ایک کے آگے ٹرے سجا کر لائو۔ آپ کے بابا تو انجان لوگوں کے منہ اٹھا کر چلے آنے کے سخت خلاف ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پہلے آپ لڑکے کی تصویر دیکھ لو اور لڑکا آپ کی۔اور شکل و صورت پسند آنے کی صورت میں ہی بات آگے بڑھائی جائے۔‘‘
’’پر آپ لوگوں کو اچانک شادی کی کیوں پڑگئی؟ کہیں سامی کی دلہن بھی ابھی سے لانے کا ارادہ تو نہیں ہو گیا؟‘‘ میں نے بات ٹالنا چاہی۔
’’ شریر لڑکی اس میں ابھی بہت وقت ہے۔ وہ تو تم ہمارے داماد کے ساتھ مل کر خود ڈھونڈنا۔ بیٹا تمہاری پڑھائی مکمّل ہو چکی ہے،ماشااللہ سے تیئس برس کی ہوگئی ہو، یہ بالکل صحیح عمر ہے شادی کی۔‘‘ماما مجھے زیادہ تر آپ کہہ کر مخاطب کرتی تھیںاور مذاق کے موڈ میں تم۔
تو یہ تھی مختصر بات جو ابھی تک مکمّل ہی نہیں ہوئی؟
’’سکینہ بیٹا۔ بابا کے دوست کے بیٹے کا رشتہ تو آپ نے قبول نہیںکیا تھا، چلو اس وقت تو آپ پڑھ بھی رہی تھیںمگر اب سنجیدگی سے سوچئے گا۔‘‘ ماما کو سنجیدہ دیکھ کر میں اٹھ کر بیٹھ گئی۔
’’ بیٹا سعیدہ آپا جنہوں نے سارہ کا رشتہ کروایا تھا انہوں نے ایک بہت اچھا رشتہ بتایا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ تصویر چھوڑواوران پر اعتماد کرکے لڑکے والوں کو گھر بلالو۔‘‘
سارہ آپی ماما کی بھانجی تھیں۔ ان کی شادی پچھلے سال ایک بہت اچھے گھرانے کے نہایت شریف اور پڑھے لکھے شخص سے ہوئی تھی۔وہ اپنی شادی شدہ زندگی سے پوری طرح مطمئن تھیں اور اٹھتے بیٹھتے رشتے والی سعیدہ آپاکو دعائیں دیتی تھیں۔
’’ اچھا وہ کتنے بہن بھائی ہیں ؟ ماں باپ کیسے ہیں؟کہاں رہتے ہیںجو بابا نے پہلے تصویر دیکھنے کا کہا ہے‘‘ میں نے اپنے ذہن میں موجود سوال ایک سانس میںپوچھ ڈالے۔
’’سکینہ CID سانس تو لے لو ، اگر ہماری شہزادی کی اجازت ہو تو تفتیش کے لیے اس ویک اینڈ بلوا لیتے ہیں ۔ سعیدہ آپا کے مطابق وہ لوگ لڑکے کے بارے میں مل کرکچھ خاص بات بتانا چاہتے ہیںاور ویسے بھی ہمیںبھی ان کو حقیقت سے آگاہ کرنا ہوگا۔ رشتے سچ کی بنیاد پر ہی رکھنا چاہئیں۔‘‘ماما نے گہرا سانس لیا۔’’اور ہاں جہاں تک تمھارے سوالات کا تعلّق ہے، آمنے سامنے بیٹھ کرتمام سوالات بھی کر لیں گے اور ان کوان کے سوالات کے جوابات بھی دے دیں گے۔‘‘
میں نے ماما کوزور سے گلے لگا لیااور ماما مجھے پیار کرکے کمرے سے باہر چلی گئیں۔جاتے جاتے کمرے کی ڈم لائٹ اور دروازہ بند کر گئیں۔
حقیقت، نیا گھر، نئے انجان لوگ اور نئے سال کی آمد،یہ سب خیالات مجھے بے چین کرنے کے لیے کافی تھے۔
ماما اور بابا دونوں ہی بہت شفیق تھے۔ میں نے ہمیشہ ان کی آنکھوں میں پیار اور لہجے میں نرمی پائی۔ سامی اور مجھے ایک جیسا پیاردیا۔ جب بھی مجھے غصّہ آتا ،میں سامی کو چڑاتی کہ بابا مجھے زیادہ پیار کرتے ہیں پر مجھے معلوم ہوتا کہ سامی کو اس بات پر کبھی یقین نہیں آئے گاکیوں کہ مامابابا بیلنس رکھنے میں ماہر تھے۔
میں نے دھیان بٹانے کو اپنی دراز سے کتاب نکالی، لحاف اوڑھا اور لیٹ کر کتاب پڑھنا شروع کردی۔ مجھے رومانوی کتابیں پڑھنا بہت پسند تھا مگر ابھی تو جیسے میں الفاظ رومانوی پڑھ رہی تھی اور کہانی میرے دماغ میںڈرائونی چل رہی تھی۔
ایک دم یادیں مجھے سولہ سال پیچھے دھکیل کر لے گئیں۔سال 2000 نے میری زندگی بدل کر رکھ دی تھی ،ہاں شاید اچھے کے لیے پر اس سال رونما ہونے والے واقعات نے میرا اب تک پیچھا نہیں چھوڑا تھا۔
اس نئے سال2000 کا سب کو بڑی بے چینی سے انتطار تھا۔
ہر کوئی میلینیئم ) (Milleniumمیلینیئم (Millenium)کر رہا تھا۔ چونکہ میری عمر اس وقت صرف سات برس تھی اور مجھے اسکول میں کلاس ٹیچر کی باتیں سن کر یہ لگنے لگا تھا کہ سال 2000ء شروع ہوتے ہی دنیا بدل جائے گی اور پھر حقیقتاً میری دنیا ہی بدل گئی۔ ہم حیدرآباد میں رہتے تھے کیوں کہ ابّو کی وہاں نوکری تھی۔میں نے ابّو سے ضد کی کہ نیا سال منانے ماموں کے گھر کراچی چلیں۔
’’بھئی اس سال ایسی کیا خاص بات ہے ؟‘‘ابّو نے پوچھا۔
’ابّونئے سال کے ساتھ نئی صدی شروع ہو رہی ہے‘، میں نے بڑے جوش سے بتایا۔
پہلے توابّو خرچے کا سوچ کر پریشان ہوئے مگرمیرے پیچھے پڑنے پر راضی ہو گئے۔
ہم اکتیس دسمبر 1999کی دوپہر ایک بجے کراچی پہنچے۔ ماموں ہمیں اپنے ساتھ گھر لے گئے۔ماموں اچھے تھے مگر ممانی سے نہ جانے کیوںمجھے ڈر لگتا تھا۔ اس وقت بھی مجھے خوف تھا کہ ممانی کہیں گھومنے پھرنے پر پابندی نہ لگادیں۔ماموں ممانی کا ایک ہی بیٹا تھا، نادر۔نادر بھائی مجھ سے چھ سال بڑے تھے۔وہ بہت ہی پڑھاکو تھے اور ہر وقت ’’جی امّی، جی امّی‘‘ کرتے رہتے تھے۔
شام کی چائے پر ابّو نے ذکر چھیڑا۔
’’بھئی بچّے سمندر کی سیر کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
’’بھائی جان آپ نے ہمیں کراچی کی نئے سال کی رونقیں دکھانی ہیں۔‘‘ امّی بولیں۔
میں بہت پُرجوش ئٹڈ ہو گئی پر وہی ہواجس کا مجھے ڈر تھا۔ ممانی فوراً بولیں:
’’رونقیں کیا، بے ہودگی ہوتی ہے ، بائیک والے سائیلنسر نکال کر سڑکوں پر ہلڑ بازی کرتے پھرتے ہیں۔ ایسا کرتے ہیں سمندر پر کل دوپہر کو چلیں گے، میں بریانی اور کباب بنالوں گی اور پکنک بھی ہو جائے گی۔ ممانی نے تجویز پیش کی۔ نادر بھائی اپنی امّی کی بات سن کر کھل اُٹھے۔
’’بریانی، پکنک،یاہوووو۔‘‘
دوسری طرف میرا چہرہ اتر گیا۔میں نئے سال کی آمد پر باہر جانا چاہتی تھی۔ میں دیکھنا چاہتی تھی کہ ملینیئم کیا تبدیلی لاتا ہے۔ کیا آسمان کا رنگ بدل جائے گا؟ ایسی کیا تبدیلی ہوگی جس کا حیدرآباد میں موجود میری دوستوں کو بھی انتظار تھا؟ایک دم میرے ننھے دماغ میں خیال آیا کہ کیا پتا چاکلیٹ کی بارش ہو ویسے بھی کراچی اتنا بڑا شہر ہے یہاں تو کچھ بھی ہو سکتا ہے۔
’’ماموں جان آج ہی چلیں نہ سمندر پر۔‘‘ میں نے آہستہ سے کہا۔
ماموں مسکراتے ہوئے بولے:
’’بیٹا آج رات تو سمندر کا راستہ بند ہوتا ہے، کنٹینر لگے ہوتے ہیں، پھر بھی کچھ من چلے کچھ نہ کچھ کرکے کر پہنچ ہی جاتے ہیں۔ لیکن ہم کہیں اور چلیں گے فکر نہ کرو بڑا مزہ آئے گا۔‘‘
’’ہاںبھئی سنا ہے اس دفعہ تو لوگوں کا کچھ ذیادہ ہی موج مستی کا ارادہ ہے، نئی صدی میں جو داخل ہورہے ہیں۔ ہم تو نئی صدی اور نئے سال کا استقبال کرنے آپ کے پاس آگئے ہیں۔‘‘ ابّو بڑے جوش سے بولے۔
’’بہت اچھا کیا بھائی صاحب، ہمارا نادر ویسے بھی اکیلا ہوتا ہے۔ آپ سب کے آجانے سے اس کے بھی مزے ہوگئے ہیں۔‘‘ ممانی نے خوشی خوشی جوا ب دیا۔
اس رات سب رات کا کھانا دس بجے تک کھا کر تیّار ہوگئے۔ اس زمانے میں کراچی کے علاقے کلفٹن میں ایک نیا مال بنا تھا۔ہم چوں کہ حیدرآباد سے آئے تھے لہذا ہم نے مال نہیں دیکھا تھا۔ماموں نے ہمیں مال گھمانے کا ارادہ کیا۔ نادر بھائی نے مال کی اتنی تعریف کی تھی کہ مجھ سے تو صبر نہیں ہو رہا تھا۔
رات گیارہ بجے کے قریب جب ہم وہاں پہنچے توپتا چلا کہ مال تو بند تھا۔ ماموں کا خیال تھا کہ نئے سال کی تقریبات رات گئے تک مال میں ہو رہی ہوں گی مگر وہاں پہنچ کر معلوم ہوا کہ اس رات تو مقامی حکومت نے مال کھلنے ہی نہیں دیا تھا۔
ہم بچّے رونے والے ہوگئے۔ماموں نے ہماری حالت دیکھ کر کہا کہ اب یہاں تک آگئے ہیں تو کسی طرح راستے عبور کرکے سی ویو جانے کی کوشش ضرور کریں گے۔ یہ سن کر میری خوشی کا ٹھکانا نہ رہا اور میں نے خوشی میں امّی کو چومنا شروع کر دیا۔
’’سکینہ بس کرو بیٹھ جائو، گاڑی چلے گی تو گر جائوگی‘، امّی نے کہا۔
’’امّی دیکھ لیں یہ موقع اس سال پھر نہیں آئے گا۔ اب تو میں آپ کو اگلی صدی میں ہی پیار کروں گی۔‘‘
میری بات سن کر سب ہنس پڑے۔
ماموں نے دوبارہ گاڑی چلانا شروع کی۔ابھی تھوڑا ہی آگے گئے تھے کی ابّو بولے :
’’یہاں قریب میں بڑا مزار بھی ہے نا؟‘‘‘
’’’جی جی۔‘‘ ماموں نے جواب دیا۔




Loading

Read Previous

نصیب — تنزیلہ احمد

Read Next

آبِ حیات — قسط نمبر ۹ (یا مجیب السائلین)

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!