آبِ حیات — قسط نمبر ۱۵ (تبارک الذی) آخری قسط

وہ بڑا ہلکا وجود لئے امریکہ واپس آئی تھی اور امریکہ پہنچ کر اس نے اپنا نمبر آن کیا تھا اور اس کا فون یک دم سارے رشتوں سے جاگنے لگا تھا۔ پیغامات کا انبار تھا اس کی فیملی کی طرف سے، ایئر پورٹ سے گھر تک پہنچتے پہنچتے وہ اس سب پیغام کو پڑھتی گئی تھی۔ نم آنکھوں کے ساتھ… ایک کے بعد ایک پیغام…
اور پھر ایک آخری پیغام ہشام کی طرف سے… بادشاہ نے تخت چھوڑ دیا تھا… کیوں؟… اس نے یہ نہیں لکھا تھا۔ اسے حمین یاد آیا تھا، اس کے لفظ۔
گھر کے باہر سالار کے ساتھ ساتھ حمین کی بھی گاڑی تھی۔ رئیسہ نے بیل بجائی… کچھ دیر بعد یہ سالار سکندر تھا جس نے دروازہ کھولا تھا۔
دونوں خاموشی سے ایک دوسرے کو دیکھتے رہے۔ پھر وہ آگے بڑھ کر سالار سے لپٹ گئی تھی، بالکل اس ہی طرح جب وہ ڈیڑھ سال کی عمر میں اس سے لپٹی تھی اور پھر الگ نہیں ہوئی تھی۔ سالار اسے بچوں کی طرح تھپکتا رہا۔ وہ امریکہ واپس آنے سے پہلے پاکستان میں ایک پریس کانفرنس میں اپنی ولدیت کا ٹیسٹ اور غلام فرید کا بیان میڈیا کے ساتھ شیئر کرکے آئی تھی اور ایک وکیل کے ذریعے اپنے خاندان کی واحد وارث ہونے کے طورپر اپنے باپ کو معاف کرنے کا حلف نامہ بھی۔ وہ طوفان جو سالار سکندر اور اس کے خاندان کو ڈبونے کے لئے آیا تھا، وہ اس بار رئیسہ نے روکا تھا۔
اور وہاں اب سالار سکندر کے سینے سے لگی بچوں کی طرح روتی رئیسہ کو دیکھتے ہوئے اسے کوئی دلیر نہیں کہہ سکتا تھا۔ وہ بھی سالار سکندر کا حصہ تھی۔ خون کا رشتہ نہ ہونے کے باوجود ، رحم اور مہربانی کے مضبوط ترین رشتوں سے ان کے ساتھ جوڑی گئی۔
اپنے نام کے ساتھ سالار کا نام استعمال کرتے ہوئے بھی وہ اپنے باپ کے نام سے واقف تھی مگر وہ باپ جیل میں سزائے موت کا ایک قیدی تھا، سالار کا دوست نہیں، وہ اس سے واقف نہیں تھی۔
اور اس ’’واقفیت‘‘ کے بعد اسے اس خاندان کی قید رو قیمت کا اندازہ ہوگیا تھا جو اس کا تعارف تھا۔
’’میں نے تمہیں رونا تو کبھی نہیں سکھایا رئیسہ… نہ ہی رونے کے لئے تمہاری پرورش کی ہے۔‘‘ سالار نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے کہا۔ وہ اب اپنے آنسوؤں پر قابوپارہی تھی اور اس نے سالار کے عقب میں کھلے دروازے سے حمین اور امامہ ، دونوں کو دیکھا تھا۔
’’آخری بار روئی ہوں بابا۔‘‘ اس نے گیلی آنکھوں کے ساتھ مسکراتے ہوئے کہنے کی کوشش کی اور اس کی آواز پھر بھرا گئی تھی۔
٭…٭…٭




وہ خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا… اور وہاں مقام ملتزم کے سامنے کھڑا تھا… کتنی بار وہ یہاں آیا تھا اور کتنی بار یہاں آکر کھڑا ہوا تھا، اسے اب گنتی بھی بھول چکی تھی لیکن ہربار کی طرح اس بار بھی وہ وہاں اسی حالت میں کھڑا تھا… ہیبت کے عالم میں… عجز کی کیفیت میں… دنیا کی کوئی جگہ سالار سکندر کو مٹی نہیں .کرتی تھی، صرف وہ جگہ تھی جو اسے خاک بنادیتی تھی اور وہ ’’خاک‘ ‘ بننے ہی وہاں آتا تھا… ہر بار اپنی اوقات جاننے اور اس کی یاد دہانی کے لئے… ہر بار جب دنیا اسے کسی چوٹی پر بٹھاتی تھی تو وہ اپنے فخر اور تکبر کو دفنانے یہاں آتا تھا… آج بھی آیا تھا… بلکہ بلایا گیا تھا۔
خانہ کعبہ کا دروازہ کھولاجارہا تھا… سیڑھی لگی ہوئی تھی… اور وہ دنیا کے مختلف خطوں سے آئے ان دس مسلمانوں میں شامل تھا، جنہیں خانہ کعبہ کے اندر ہونے والی صفائی کی سعادت کے لئے چنا گیا تھا… اور یہ اعزاز اس کے حصے، کس نیکی کے عوض آیا تھا، یہ ابھی تک سمجھ میں اس کی نہیں آرہا تھا۔ کرم… اور کرم تو اس پر اللہ کا ہمیشہ رہا تھا، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے نامہ اعمال میں ایسی کوئی نیکی کھوج رہا تھا جو ایسے کرم کا باعث بنتی۔
وہ شاہی خاندان کا مہمان بن کر پچھلے سالوں میں کئی بار حج اور عمرے کی سعادت حاصل کرچکا تھا۔ امامہ کے ساتھ بھی، اس کے بغیر بھی… مگریہ دعوت نامہ جو وہاں سے اس بار آیا تھا۔ وہ سالار سکندر کو کسی اور ہی کیفیت میں لے گیا تھا۔ ایسا انعام اور اتنا انعام… ایسا کرم اور اتنا کرم… وہ خطا کار اور گناہ گار تھا۔ ایسا کیا کر بیٹھا تھا کہ وہ اسے درگزر کررہا تھا، یوں عطا کررہاتھا، وہ بھی جو وہم و گمان میں بھی نہ آنے والی باتیں ہوں۔
امامہ بھی وہاں تھی، ایک دوسری قطار میں ان ہی افراد کی فیملیز کے ساتھ…
اور اب خانہ کعبہ کے کھلتے ہوئے دروازے سے وہ سالار سکندر کو سیڑھیاں چڑھ کر اندر جاتا دیکھ رہی تھی۔ وہ اندر جانے والاآخری شخص تھا۔
معجزہ ہی تھا، وہ زندہ تھا… صحت مند، تندرست، چاق و چوبند… اس عمر میں بھی بیس بائیس گھنٹے کام کرتے رہنے کی سکت کے ساتھ ۔
ڈاکٹر ز کہتے تھے اس کی زندگی معجزہ تھی اور اس کی ایسی صحت مند زندگی معجزے سے آگے کی کوئی شے… بیالیس سال کی عمر میں اسے ٹیومر ہوا تھا اور اب اٹھاون سال کا تھا ۔ جو ٹیومر اسے ہوا تھا، وہ سات سے دس سال کے اندر انسان کو ختم کردیتا تھا اور وہ سولہ سا ل سے زندہ تھا۔ ہر چھ مہینے کے بعد اپنی رپورٹس کو دیکھتا تھا… اس کے دماغ میں موجود ٹیومر آج بھی تھا… اسی جگہ پر… اس سائز میں… اور بس…
وہ رب جو سمندروں کو باندھ دیتا تھا اور انہیں ان کی حدوں سے باہر نکلنے نہیں دیتا تھا۔ اس کے سامنے وہ چند ملی میٹر کا ایک ناسور کیا شے تھا؟
موت اور اس کے بیچ زندگی نہیں دعائیں آکر کھڑی ہوئی تھیں اور سالار سکندر کو خانہ کعبہ کے اندر داخل ہوتے ہوئے بھی یہ یاد تھا کہ وہ کس کی دعاؤں کی وجہ سے وہاں آج بھی اپنے قدموں پر کھڑا تھا۔ وہ امامہ ہاشم کے علاوہ کسی اور کی دعائیں ہوہی نہیں سکتی تھیں جو اسے زندگی بن کر یوں لگی تھیں۔
’’کتنے سال سے میں نے اپنے لئے کوئی دعا ہی نہیں کی۔ جوبھی دعا کی ہے تمہارے اور بچوں سے شروع ہوکر تم اور بچوں پر ہی ختم ہوجاتی ہے۔ جب تک مجھے اپنا آپ یاد آتا ہے… مجھے دعا ہی بھول جاتی ہے۔‘‘ وہ اکثر اس سے ہنستے ہوئے کہا کرتی تھی۔ یوں جیسے ایک ماں اور بیوی کی پوری کہانی لکھ دیتی تھی۔
’’دیکھو اللہ تمہیں کہاں کہاں بلاتے ہیں، کہاں کہاں دعا کرنے کا موقع دے رہے ہیں۔‘‘
یہاں آتے ہوئے امامہ نے بڑی حسرت سے اس سے کہا تھا اور اب خانہ کعبہ کےاندر کھڑے وہ اس سے کہنا چاہتا تھا کہ وہ اسے جہاں بھی بلاتا تھا، وہ اسے ہر اس جگہ پر امامہ کو بھی یاد رکھواتا تھا جیسے اسے جتانا اور بتانا ہو کہ اسے کیسی درجے والی عورت کا ساتھ عطا کیا گیاتھا۔
اس گھر کے اندر کی دنیا اور دنیا تھی۔ اس کائنات کا حصہ ہوتے ہوئے بھی وہاں کروڑوں نہیں آئے تھے، لاکھوں نہیں ، ہزاروں نہیں… بس ہر صدی میں چند سو… اور ایک وہ صدی تھی جب وہاں پیغمبرﷺ آئے تھے۔
’’تم اندر جاکے کیا مانگو گے سالار؟ ‘‘ اس نے خانہ کعبہ آتے ہوئے اس سے پوچھا تھا۔
’’تم بتاؤ کیا مانگوں؟‘‘ سالار نے جواباً اس سے پوچھا۔
’’پتا نہیں کچھ سمجھ میں ہی نہیں آرہا۔‘‘ وہ رونے لگی… اور اس دعوت نامہ کو دیکھنے کے بعد بار بار یہی ہورہا تھا، وہ بار بار بات کرتے ہوئے رونے لگتی تھی۔ جیسے دل بھر آتا ہو… جیسے خوشی کی حد ختم ہوجاتی ہو۔
’’تم سارے ستونوں کو ہاتھ لگا کر آنا… ساری دیواروں کو… ان کو نبی پاک ﷺ نے بھی چھوا ہو گا،کسی نہ کسی کو… پھرتم باہر آؤگے تو سب سے پہلے میں تمہارے ہاتھ چھوؤں گی۔‘‘ وہ بچوں جیسے انداز میں کہہ رہی تھی۔
اور خانہ کعبہ کے اندر اس کی دیواروں ، ستونوں کو آب زم زم سے دھوتے ، چھوتے سالار سکندر کی سمجھ میں آگیا تھا، امامہ ہاشم کیوں یاد آتی ہے ایسی ہر جگہ پر… کیوں دعا والی ہر جگہ پر سب سے پہلے اس کے لئے دعا کرنا یاد آتا تھا۔ کیوں کہ وہ عشق رسول اللہﷺ تھا… خالص… غرض کے بغیر تھا… قربانیوں سے گندھا تھا، یہ کیسے ممکن تھا، وہاں سے جواب نہ ملتا… بھلادیا جاتا۔
وہاں اندر کھڑے سالار سکندر کو اپنی شادی سے پہلے کا وہ خواب یاد آیا تھا اور بالکل اسی وقت باہر حرم کے صحن میں کھڑی امامہ کو بھی وہی خواب یا دآیا تھا… خانہ کعبہ کا وہ کھلتا دروازہ جس سے اس نے آج سالار کو اندر جاتے دیکھا تھا اور تب اس خواب میں اس کھلتے ہوئے دروازے کے اندر وہ جھانک بھی نہیں سکی تھی۔
آدم و حوا کا وہ سفر وہیں سے شروع ہوا تھا اور اسی دائرے میں گردن کرتا آرہا تھا… وہ کل بھی بخشش اور نعمتوں کے طلبگار تھے، آج بھی اسی طرح ہاتھ پھیلانے کھڑے تھے۔
نم آنکھوں کے ساتھ امامہ نے اب سالار سکندر کو سیڑھیوں سے اترتے دیکھا۔ وہ اس کے پاس آیا تو اس کی آنکھیں بھی نم تھیں۔
دونوں کے پاس ایک دوسرے سے کہنے کے لئے الفاظ نہیں ، نم آلود نظریں اور مسکراہٹیں تھیں… برابر میں کھڑے وہ ایک بار پھر خانہ کعبہ کے اس دروازے کو دیکھ رہے تھے جو آہستہ آہستہ بند ہورہا تھا… مگر وہ جانتے تھے کہ ان کے رب کی رحمت کا دروازہ ہمیشہ کھلا رہنے والا تھا۔ ان پر بھی… انسانوں پربھی… اس کی محبت آبِ حیات تھی جس سے انہیں نوازا گیا تھا… وہ آبِ حیات جسے پینے والا اپنے رب کی جنت میں ابدی زندگی پاتا ہے۔
٭…٭…٭
ختم شد




Loading

Read Previous

جناح کا وارث — ریحانہ اعجاز

Read Next

اِک فیصلہ — حنادیہ احمد

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!