اِک فیصلہ — حنادیہ احمد

’میں ناہید سے اکیلے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘
ارسلان کی بات سن کر سارے گھر والوں کو سانپ سونگھ گیا۔
’’کیا تمہیں لگتا ہے کہ تمہارے سمجھانے سے اس کا فیصلہ تبدیل ہوجائے گا؟؟‘‘ ارسلان کی ماں نے بیٹے پر چوٹ کرتے ہوئے کہا۔
’’مجھے نہیں معلوم پر ایک دفعہ کوشش کرنے میں تو کوئی حرج نہیں ہے نا؟‘‘ ارسلان نے ماں کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’ٹھیک ہے بیٹا! تم اس سے بات کرکے دیکھ لو مجھے کوئی اعتراض نہیں بلکہ میرے لئے اس سے بڑھ کر کیا خوشی ہوگی اگر وہ تمہاری بات مان لے۔‘‘ ناہید کی ماں نے اپنے بھانجے کو دیکھ کر کہا۔ وہ خود دِل سے چاہتی تھیں کہ ان کی بیٹی کا گھر دوبارہ سے بس جائے۔ وہ خود ناہید کو سمجھا سمجھا کر تھک گئی تھیں لیکن ناہید تھی کہ دوبارہ شادی کے لیے مان ہی نہیں رہی تھی۔
٭…٭…٭
آج اس کے بیٹے کا آفس میں پہلا دن تھا۔ وہ بہت خوش تھی۔ اسے لگا اس کا فیصلہ صحیح ثابت ہوگیا ہے۔ آج وہ دنیا اور اپنے مرحوم شوہر کے آگے سرخرو ہوگئی ہے۔ کاشف نے کراچی کی ایک مشہور یونیورسٹی سے M.B.A کیا تھا اور اِک ملٹی نیشنل کمپنی میں اچھے عہدے پر فائز تھا۔ ہر ماں کی طرح انہیں بھی چاند سی بہو لانے کی خواہش تھی، وہ اپنے بھانجی کو اپنی بہو بنانا چاہتی تھیں۔ پر کاشف نے مائرہ کو پسند کیا تھا جو اُس کی کلاس میٹ تھی۔ ان کا دل دکھی ہوا مگر مائرہ اور اس کے گھر والوں سے ملنے کے بعد وہ مطمئن سی ہوگئیں۔ اسی لئے وہ جلدی شادی کرنا چاہ رہی تھیں اور بالاآخر وہ دن آگیا جب اپنے بیٹے کاشف کے سر پر سہرا دیکھ کر ان کی خوشی کی کوئی انتہا نہ تھی۔ سب لوگ اسے ستائشی نظروں سے دیکھ رہے تھے کہ کس طرح ناہید اپنے بچوں کو کتنے اچھے طریقے سے پال کر بڑا کیا کہ آج ایک کی شادی ہورہی تھی جب کہ دوسرا بیٹا حارث M.B.B.S مکمل کرکے امریکا میں سپیشلائیزیشن کررہا تھا۔
٭…٭…٭




’’ناہید تم اس رشتے سے انکاری کیوں ہو؟؟‘‘ ارسلان آج ناہید سے بات کرکے خود اُس کو راضی کرنا چاہتا تھا۔
’’آپ آخر مجھ سے شادی کیوں کرنا چاہتے ہیں ارسلان؟ میں بیوہ ہوں، دو بچوں کا ساتھ ہے آپ چاہیں تو ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی مل سکتی ہے آپ کو، پھر میرا انتخاب کیوں؟ ‘‘ ناہید نے اپنے خالہ زاد ارسلان کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
’’جب ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی مجھ سے شادی پر راضی ہوسکتی ہے تو تم کیوں نہیں؟‘‘
ارسلان نے ناہید کو دیکھتے ہوئے رسانیت سے کہا۔
’’اس لئے کہ میں نہیں چاہتی کہ میرے بچوں کے ذہن پہ میرے نئے رشتے کی وجہ سے کوئی غلط فہمی جنم لے۔‘‘ ناہید نے اپنے بچوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا۔ وہ ماں تھی، اُسے اپنی ذات، اپنی خوشیوں سے زیادہ اپنے بچوں کی فکر تھی۔ وہ انہیں کسی قسم کی وسوسوں میں نہیں ڈالنا چاہتی تھی کہ اس کے بچوں کے ذہنوں میں یہ بات آئے کہ اب ان کی ماں پہ کسی اور کا حق ہوجائے گا۔ دونوں بچے اب بڑے ہورہے تھے۔ کاشف آٹھ سال کا اور حارث چھے سال کا ہونے کو تھا۔ دونوں اب اس بات کو تسلیم کرچکے تھے کہ ان کا باپ اب اس دنیا میں نہیں رہا اور اب ان کی ماں ہی ان کے لیے سب کچھ ہے، وہی ان کی ماں ہے اور وہی ان کا باپ۔
ایسے میں ناہید اپنے بچوں کے ذہنوں میں یہ تصور نہیں ڈالنا چاہتی تھی کہ اب ان کی ماں بھی ان کی اپنی نہیں رہی۔ ناہید خود کو اب صرف ایک عورت کے طور پر نہیں بلکہ ایک ماں کی طرح سوچ رہی تھی۔
’’کیا تمہیں مجھ پہ یقین نہیں ہے ناہید؟؟ تمہیں نہیں لگتا کہ زندگی ہمیں ایک اور موقع دے رہی ہے۔ برسوں پہلے ہمارا ساتھ جو نہ ہوسکا شاید قدرت کو وہ اب منظور ہو۔‘‘ ارسلان نے ناہید کو سارے وہ جھٹکنے کا کہا۔
’’آپ پہ اعتبار ہے، لیکن اعتبار ٹوٹتے دیر نہیں لگتی ارسلان، خاص طور پر تب جب ایک مرد کی ایک دوسرے مرد کی اولاد پالنے کو ملے، میں نہیں چاہتی کل کو جب آپ کی اپنی اولاد ہو اور اس سے آپ کی محبت دیکھ کر میرے بچے کسی احساس کم تری یا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوجائیں، میں ہی ان کا واحد سہارا ہوں اور کل کو وہ جب بڑے ہوں گے تو میرا سہارا بنیں گے۔‘‘ ناہید نے دو ٹوک انداز میں ارسلان کو ناامید کردیا۔
’’بچے سہارے بن سکتے ہیں ناہید لیکن ساتھی نہیں، آج سے دس سال پہلے جب اماں نے بتایا تھا کہ انہوں نے خالہ سے تمہیں میرے لیے مانگ لیا ہے، اس دن سے سمجھو تم میرے لیے خاص ہوگئی تھیں، کب احساسات بدلے پتا ہی نہیں چلا، کب تم خالہ زاد سے زیادہ ہوگئیں احساس ہی نہ ہوا، لیکن پھر ابا کے اچانک ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ان کو دکان چھوڑ کے گھر بیٹھنا پڑا، ایسے میں صبح یونیورسٹی شام میں دکان پہ بیٹھنا بہت مشکل تھا وہ وقت ہمارے لئے، زندگی میں جیسے جمود سا طاری ہوگیا تھا رزلٹ کے بعد بھی نوکری نہ ملنے پہ نہ صرف پریشانی نے ہمارے گھر پہ قبضہ کرلیا تھا بلکہ خالہ خالو بھی مجھ سے تمہارا رشتہ جوڑنے پہ پچھتا رہے تھے، ایسے حالات میں طارق کا دبئی جاکے قسمت آزمانے کا مشورہ مجھے سب سے بہترین لگا اور دکان کرائے پہ چڑھا کے میں دبئی چلا گیا، سوچا تھا دو تین سالوں میں واپس آجاؤں گا لیکن کاش! زندگی ویسی آسان ہوتی جیسی ہم سوچتے ہیں لیکن کہاں کسی کو سب ملتا ہے؟ کوئی نہ کوئی کمی رہ جاتی ہے۔
تین بہنوں کی شادی کرانی تھی، گھر کے اخراجات، ابا کی دوائیاں، اوپر سے اماں کا حکم تھا کہ جب تک اتنا جمع نہ ہوجائے کہ بہنوں کی شادی ہوسکے تب تک واپس نہ آنا اور سب کے لیے سب کرتے کرتے کب خالہ خالو نے میرا انتظار کرنا چھوڑا اور کب تمہیں اختر کے ساتھ رخصت کیا پتا ہی نہ چلا، نہ ہمارے گھر کا ماحول ایسا تھا کہ میں تم سے کوئی رابطہ کرپاتا، لیکن اس سارے معاملے میں خالہ خالو کا کوئی قصور نہ تھا، آخر ان کو بھی تمہارے بعد دو بیٹیاں اور رخصت کرنی تھیں، یہ ہماری قسمتوں کا فیصلہ تھا جس کو قبول کرنے کے سوا کوئی چارا نہ تھا۔ میں جو شروع کے ہر سال واپس پاکستان آنے کا سوچتا تھا تمہاری شادی کا سن کے پھر واپس آنے کا دل ہی نہیں کیا اور وہیں کا ہوکر رہ گیا، اس تمام عرصے میں اماں نے بہنوں کی شادیاں کرا دیں، گھر کی مرمت ہوگئی، ابا کا بائے پاس ہوگیا سب کچھ ہوگیا لیکن اک چیز کھو گئی تھی اور وہ تھی مری زندگی… میں دبئی میں زندگی جی نہیں رہا تھا گزار رہا تھا، وہ ارسلان جو دبئی گیا تھا اک نوجوان تھا اور اب جو تمہارے سامنے ارسلان کھڑا ہے وہ کب ان چھے سالوں میں نوجوان سے تیس برس کا مرد بن گیا پتا ہی نہیں چلا۔ ارسلان ماضی میں گم سا ہوگیا تھا۔ ان چھے سالوں کی مشقت اور تھکن اس کے چہرے پہ آگئی تھی۔




Loading

Read Previous

آبِ حیات — قسط نمبر ۱۵ (تبارک الذی) آخری قسط

Read Next

امّی — شاکر مکرم

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!