آبِ حیات — قسط نمبر ۱۴ (تبارک الذی)

جبرل نیند سے فون کی آواز پر ہڑبڑا کر اٹھا تھا۔ اسے پہلا خیال ہاسپٹل کا آیا تھا لیکن اس کے پاس آنے والی وہ کال ہاسپٹل سے نہیں آئی تھی۔ اس پر نسا کا نام چمک رہا تھا۔ وہ غیر متوقع تھی۔ ایک ہفتے پہلے اسفند کی تدفین کے دوران اس کی ملاقات نسا سے ایک لمبے عرصے کے بعد ہوئی تھی اور اس کے بعد اس طرح رات کے اس وقت آنے والی کال…
کال ریسیو کرتے ہوئے دوسری طرف سے اس نے جبریل سے معذرت کی تھی کہ وہ رات کے اس وقت اسے ڈسٹرب کررہی تھی اور پھر بے حد اضطراب کے عالم میں اس نے جبریل سے کہا تھا۔
’’تم عائشہ کے لئے کچھ کرسکتے ہو؟‘‘
جبریل کچھ حیران ہوا۔ ’’عائشہ کے لئے، کیا؟‘‘
’’وہ پولیس کسٹڈی میں ہے۔‘‘
’’What?‘‘ وہ ہکا بکا رہ گیا۔ ’’کیوں؟‘‘
’’قتل کے کیس میں۔‘‘ وہ دوسری طرف سے کہہ رہی تھی۔
جبریل سکتہ میں رہ گیا۔ ’’کس کا قتل؟‘‘ وہ اب رونے لگی تھی۔
’’اسفد کا۔‘‘ جبریل کا دماغ گھوم کر رہ گیا۔
٭…٭…٭




لاک اپ میں بیٹھ کر اس رات عائشہ عابدین نے اپنی گزری زندگی کو یاد کرنے کی کوشش کی تھی، مگر اس کی زندگی میں اتنا بہت کچھ ہوچکا تھا کہ وہ اس کوشش میں ناکام ہورہی تھی، یوں جیسے وہ اٹھائیس سال کی زندگی نہیں تھی آٹھ سو سال کی زندگی تھی۔ کوئی بھی واقعہ اس ترتیب سے یاد نہیں آرہا تھا جس ترتیب سے وہ اس کی زندگی میں ہوا تھا اور وہ یاد کرنا چاہتی تھی۔
لاک اپ کے بستر پر چت لیٹے، چھت کو گھورتے، اس نے یہ سوچنے کی کوشش کی تھی کہ اس کی زندگی کا سب سے بدترین واقعہ کون سا تھا۔ سب سے تکلیف دہ تجربہ اور دور…
باپ کے بغیر زندگی گزارنا؟
احسن سعد سے شادی؟
اس کے ساتھ اس کے گھر میں گزارا ہوا وقت؟
ایک معذور بیٹے کی پیدائش؟
احسن سعد سے طلاق؟
اسفد کی موت؟ یا پھر اپنے ہی بیٹے کے قتل کے الزام میں دن دیہاڑے اسپتال سے پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہونا؟ اور ان سب واقعات کے بیچوں بیچ کئی اور ایسے تکلیف دہ واقعات جو اس کے ذہن کی دیوار پر اپنی جھلک دکھاتے ہوئے جیسے اس فہرست میں شامل ہونے کے لئے بے قرار تھے۔
وہ طے نہیں کرسکی۔ ہر تجربہ، ہر حادثہ اپنی جگہ تکلیف دہ تھا… اپنی طرز کا ہولناک… وہ ان کے بارے میں سوچتے ہوئے جیسے زندگی کے وہ دن جینے لگی تھی اور اگلے واقعہ کے بارے میں سوچنا شروع کرتے ہوئے اسے یہ اندازہ لگانا مشکل ہوگیا تھا کہ پچھلا واقعہ زیادہ تکلیف دہ تھا یا پھر وہ، جو اسے اب یاد آیا تھا۔
کبھی کبھی عائشہ عابدین کو لگتا تھا وہ ڈھیٹ ہے… تکلیف اور ذلت سہہ سہہ کر وہ اب شرمندہ ہونا اور درد سے متاثر ہونا چھوڑ چکی تھی۔ زندگی وہ اتنی ذلت اور تکلیف سہ چکی تھی کہ شرم اور شرمندگی کے لفظ جیسے اس کی زندگی سے خارج ہوگئے تھے… وہ اتنی ڈھیٹ ہوچکی تھی کہ مرنا بھی بھول گئی تھی۔ اسے کسی تکلیف سے کچھ نہیں ہوتا تھا۔ دل تھا تو وہ اتنے ٹکڑے ہوچکا تھا کہ اب اور ٹوٹنا اس کے بس میں نہیں رہا تھا۔ ذہن تھا تو اس پر جالے ہی جالے تھے… عزتِ نفس، ذلت، عزت جیسے لفظوں کو چھپا دینے والے جالے… یہ سوچنا اس نے کب کا چھوڑ دیا تھا کہ یہ سب اس کے ساتھ ہی کیوں ہوا تھا، ا س نے تو کسی کا کچھ نہیں بگاڑا تھا… اس سوال کا جواب ویسے بھی اسے احسن سعد نے رٹوا دیا تھا۔
’’لکھو اس کاغذ پر کہ تم گناہ گار ہو… اللہ سے معافی مانگو… پھر مجھ سے معافی مانگو… پھر میرے گھر والوں سے معافی مانگو…بے حیا عورت!‘‘
پتا نہیں یہ آواز اس کے کانوں میں گونجنا بند کیوں نہیں ہوتی تھی… دن میں… رات میں… سینکڑوں بار ان جملوں کی باز گشت اسے اس کے اس سوال کا جواب دیتی رہتی تھی کہ یہ سب اس کے ساتھ ہی کیوں ہوا تھا۔
وہ ایک گناہ گار عورت تھی… یہ جملہ اس نے اتنی بار اپنے ہاتھ سے کاغذ پر لکھ کر احسن سعد کو دیا تھا کہ اب اسے یقین ہوگیا تھا کہ وہ جملہ حقیقت تھا۔ اس کا گناہ کیا تھا؟ یہ اسے یاد نہیں آتا تھا، مگر اسے پھر بھی یقین تھا کہ جو بھی گناہ اس نے کبھی زندگی میں کیا ہوگا، بہت بڑا ہی کیا ہوگا۔ اتنا بڑا کہ اللہ تعالیٰ اسے یوں بار بار ’’سزا‘‘ دے رہا تھا۔ سزا کا لفظ بھی اس نے احسن سعد اور اس کے گھر میں ہی سنا اور سیکھا تھا… جہاں گناہ اور سزا کے لفظ کسی ورد کی طرح دہرائے جاتے تھے۔ ورنہ عائشہ عابدین نے تو احسن سعد کی زندگی میں شامل ہونے سے پہلے اللہ کو خود پر صرف ’’مہربان‘‘ دیکھا تھا۔
’’بے حیا عورت…!‘‘ وہ گالی اس کے لئے تھی۔ کسی مجسمے کی طرح، کھڑی کی کھڑی، یوں جیسے اس نے کوئی سانپ یا اژدھا دیکھ لیا ہو… وہ ناز و نعم میں پلی تھی۔ گالی تو ایک طرف اس نے کبھی اپنے نانا، نانی یا ماں سے اپنے لئے کوئی سخت لفظ بھی نہیں سنا تھا… ایسا لفظ جس میں عائشہ کے لئے توہین یا تضیحک ہوتی اور اب اس نے اپنے شوہر سے اپنے لئے جو لفظ سنا تھا اس میں تو الزام اور تہمت تھی۔
وہ ’’بے حیا‘‘ تھی… عائشہ عابدین نے اپنے آپ کو بہلایا تھا، سو تاویلیں دے کر کہ یہ گالی اس کے لئے کیسے ہوسکتی ہے… یا شاید اس نے غلط سنا تھا یا پھر ان الفاظ کا مطلب وہ نہیں تھا جو وہ سمجھ رہی تھی۔ وہ اس کیفیت پر ایک کتاب لکھ سکتی تھی، ان توجیہات، ان وضاحتوں پر جو پہلی گالی سننے کے بعد اگلے کئی دن عائشہ عابدین نے اپنے آپ کو دی تھیں۔ اپنی عزتِ نفس کو دوبارہ بحال کرنے کے لئے اینٹی بایوٹکس کے ایک کورس کی طرح لیکن یہ سب صرف پہلی گالی کی دفعہ ہوا تھا پھر آہستہ آہستہ عائشہ عابدین نے ساری توجیہات اور وضاحتوں کو دفن کردیا تھا… وہ اب گالیاں کھاتی تھی اور بے حد خاموشی سے کھاتی تھی اور بہت بری بری… اور اسے یقین تھا وہ ان گالیوں کی مستحق تھی کیونکہ احسن سعد اس سے یہ کہتا تھا… پھر وہ مار کھانا بھی اسی سہولت سے سیکھ گئی تھی… اپنی عزتِ نفس کو ایک اور دلاسادیتے ہوئے۔
پانچ افراد کا وہ گھرانہ اسے یہ یقین دلانے میں کامیاب ہوگیا تھا کہ اس کے ساتھ جو کچھ بھی ہورہا تھا وہ اسی قابل تھی۔
وہ مومنین کے ایک ایسے گروہ میں پھنس گئی تھی جو زبان کے پتھروں سے اسے بھی مومن بنانا چاہتے تھے کیونکہ وہ ’’گناہ گار‘‘ تھی۔
احسن سعد کی زندگی میں کیسے آیا تھا اور کیوں آگیا تھا…
ایک وقت تھا جب اسے لگتا تھا کہ وہ اس کی خوش قسمتی بن کر اس کی زندگی میں آیا ہے اور پھر ایک وہ وقت آیا جب اسے وہ ایک ڈراؤنا خواب لگنے لگا تھا، جس کے ختم ہونے کا انتظار وہ شدو مد سے کرتی تھی اور اب اسے لگتا تھا کہ وہ، وہ عذاب ہے جو اللہ تعالیٰ نے اسے اس کے کردہ ناکردہ گناہوں پر اس دنیا میں ہی دے دیا ہے۔
وہ ہاؤس جاب کررہی تھی جب احسن سعد کا پروپوزل اس کے لئے آیا تھا۔ عائشہ کے لئے یہ کوئی انوکھی بات نہیں تھی۔ اس کے لئے درجنوں پروپوزلز پہلے بھی آچکے تھے اور اس کے نانا نانی کے ہاتھوں رد بھی ہوچکے تھے۔ اس کا خیال تھا کہ یہ پروپوزل بھی کسی غو رکے بغیر رد کردیا جائے گا کیوں کہ اس کے نانا، نانی اس کی تعلیم مکمل ہوئے بغیر اسے کسی قسم کے رشتے میں باندھنے پر تیار نہیں تھے، مگر اس بار ایسا نہیں ہوا تھا… احسن سعد کے والدین کی میٹھی زبان عائشہ عابدین کی فیملی پر اثر کرگئی تھی اور اس پر بھی۔
’’ہمیں صرف ایک نیک اور اچھی بچی چاہیے اپنے بیٹے کے لئے… باقی سب کچھ ہے ہمارے پاس۔ کسی چیز کی کمی نہیں ہے اور آپ کی بیٹی کی اتنی تعریفیں سنی ہیں ہم لوگوں نے کہ بس ہم آپ کے ہاں جھولی پھیلا کر آئے بغیر رہ نہ سکے۔‘‘ احسن کے باپ نے اس کے نانا سے کہا تھا اور عائشہ عابدین کو تب پتا چلا تھا کہ اس کی ایک نند اس کے ساتھ میڈیکل کالج میں پڑھتی تھی۔ ان دونوں کا آپس میں بہت رسمی سا تعارف تھا، مگر اسے حیرت ہوئی تھی کہ اس رسمی تعارف پر بھی اس کی اتنی تعریفیں وہ لڑکی اپنی فیملی میں کرسکتی تھی جو کالج میں بالکل خاموش اور لئے دیئے رہتی تھی۔
عائشہ عابدین کے لئے کسی کی زبان سے اپنی تعریفیں سننا کوئی اچنبھے کی بات نہیں تھی۔ وہ کالج کی سب سے نمایاں اسٹوڈنٹس میں سے ایک تھی اور وہ ہر شعبے میں نمایاں تھی۔ اکیڈمک قابلیت میں نصابی اور غیر نصابی سرگرمیون میں اور پھر اپنی پرسنالٹی کی وجہ سے بھی… وہ اپنے بیچ کی نہ صرف حسین بلکہ بے حد اسٹائلش لڑکیوں میں گنی جاتی تھی… بے حد باعمل مسلمان ہوتے ہوئے بھی اور مکمل طور پر حجاب لئے ہوئے بھی… حجاب عائشہ عابدین پر سجتا بھی تھا۔ یہ اس کی کشش کو بڑھانے والی چیز تھی اور اس کے بارے میں لڑکے اور لڑکیوں کی یہ متفقہ رائے تھی اور اب اس لڑکی کے لئے احسن سعد کا پرپوزل آیا تھا جس کی فیملی کو اس کے نانا نانی نے پہلی ملاقات میں ہی اوکے کردیا تھا۔
پتا نہیں کون ’’سادہ ‘‘ تھا… ا س کے نانا، نانی جنہیں احسن کے ماں باپ بہت شریف اور سادہ لگے تھے یا پھروہ خود کہ ماں باپ کی دین داری کا پاس کیا تھا، لیکن اس کے باوجود انہوں نے شادی سے پہلے احسن سعد اور عائشہ کی ایک ملاقات کروانا ضروری سمجھا تھا۔ احسن سعد
اس وقت امریکا میں ریزیڈنسی کررہا تھا اور چھٹیوں میں پاکستان آیا ہوا تھا۔
احسن سعد سے پہلی ملاقات میں عائشہ کو ایک لمبے عرصے کے بعد جبریل یاد آیا تھا اور اسے وہ جبریل کی طرح کیوں لگا تھا؟ عائشہ کو اس سوال کا جواب نہیں ملا۔
وہ مناسب شکل و صورت کا تھا، تعلیمی قابلیت میں بے حد اچھا اور بات چیت میں بے حد محتاط… اس کا پسندیدہ موضوع صرف ایک تھا۔ مذہب، جس پر وہ گھنٹوں بات کرسکتا تھا اور اس کے اور عائشہ عابدین کے درمیان رابطے کی کڑی یہی تھا۔
پہلی ہی ملاقات میں وہ دونوں مذہب پر بات کرنے لگے تھے اور عائشہ عابدین اس سے مرعوب ہوئی تھی۔ وہ حافظ قرآن تھا اور وہ اسے بتارہا تھا کہ زندگی میں کبھی کسی لڑکی کے ساتھ اس کی دوستی نہیں رہی، وہ عام لڑکوں کی طرح کسی الٹی سیدھی حرکتوں میں نہیں پڑا۔ وہ مذہب کے بارے میں جامع معلومات رکھتا تھا اور وہ معلومات عائشہ کی معلومات سے بہت زیادہ تھیں، لیکن وہ ایک سادہ زندگی گزارنا چاہتا تھا اور عائشہ بھی یہی چاہتی تھی۔
ایک عملی مسلمان گھرانے کے خواب دیکھتے ہوئے وہ احسن سعد سے متاثر ہوئی تھی اور اس کا خیال تھا وہ اپنی عمر کے دوسرے لڑکوں سے بے حد میچور اور مختلف ہے۔ وہ اگر کبھی شادی کرنے کا سوچتی تھی تو ایسے ہی آدمی سے شادی کرنے کا سوچتی تھی۔ احسن سعد پہلی ملاقات میں اسے متاثر کرنے میں کامیاب رہا تھا۔ اس کی فیملی اس کے گھر والوں سے پہلے ہی متاثر تھی۔
شادی بہت جلدی ہوئی تھی اور بے حد سادگی سے… یہ احسن سعد کے والدین کا مطالبہ تھا۔ عائشہ اور اس کے نانا نانی اس پر بے حد خوش تھے۔ عائشہ ایسی ہی شادی چاہتی تھی اور یہ اسے اپنی خوش قسمتی لگی تھی کہ اسے ایسی سوچ رکھنے والا سسرال مل گیا تھا۔ احسن سعد کی فیملی کی طرف سے جہیز کے حوالے سے کوئی مطالبہ نہیں آیا تھا بلکہ انہوں نے سختی سے عائشہ کے نانا، نانی کو ان روایتی تکلفات سے منع کیا تھا، مگر یہ عائشہ کی فیملی کے لئے، اس لئے ممکن نہیں تھا کیونکہ عائشہ کے لئے اس کے نانا نانی بہت کچھ خرید تے رہتے تھے اور جس کلاس سے وہ تعلق رکھتی تھی، وہاں جہیز سے زیادہ مالیت کے تحائف دلہن کے خاندان کی طرف سے موصول ہوجاتے تھے اور عائشہ شادی کی تقریب میں بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ بہت سادگی سے کی جانے والی تقریب بھی شہرکے ایک بہترین ہوٹل میں منعقد کی گئی تھی۔ احسن سعد اور اس کے خاندان کو عائشہ اور اس کی فیملی کی طرف سے دیئے جانے والے تحائف کی مالیت بے شک لاکھوں میں تھی، مگر اس کے برعکس احسن سعد کی فیملی کی جانب سے شادی پر دیئے جانے والے عائشہ کے ملبوسات اور زیورات احسن سعد کے خاندانی رکھ رکھاؤ اور مالی حیثیت سے مطابقت نہیں رکھتے تھے۔ وہ بس مناسب تھے۔
عائشہ کی فیملی کا دل برا ہوا تھا، لیکن عائشہ نے انہیں سمجھایا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ ’’سادگی‘‘ سے شادی کرنا چاہتے تھے۔ اگر انہوں زیورات اور شادی کے ملبوسات پر بھی بہت زیادہ پیسہ خرچ نہیں کیا تو بھی یہ ناخوش ہونے والی بات نہیں تھی۔ کم از کم اس کا دل ان چھوٹی موٹی باتوں کی وجہ سے کھٹا نہیں ہوا تھا۔




Loading

Read Previous

ورثہ — ارم سرفراز

Read Next

صدقہ — ماہ وش طالب

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!