Author: misbah116@hotmail.com

  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۳

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۳

    ”یہ احمقانہ تجویز اسجد کے علاوہ کسی دوسرے کی ہو ہی نہیں سکتی۔ اسے احساس نہیں ہے کہ ابھی میں پڑھ رہی ہوں۔” امامہ نے اپنی بھابھی سے کہا۔
    ”نہیں اسجد نے یا اس کے گھر والوں نے ایسا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ بابا خود تمہاری شادی کرنا چاہ رہے ہیں۔” اِمامہ کی بھابھی نے رسانیت سے جواب دیا۔
    ”بابا نے کہا ہے؟ مجھے یقین نہیں آرہا۔ جب میں نے میڈیکل میں ایڈمیشن لیا تھا تب ان کا دور دور تک ایسا کوئی خیال نہیں تھا۔ وہ تو انکل اعظم سے بھی یہی کہتے تھے کہ وہ میرے ہاؤس جاب کے بعد ہی میری شادی کریں گے۔ پھر اب اچانک کیا ہوا؟” اِمامہ نے بے یقینی سے کہا۔
    ”کوئی دباؤ ہوگا مگر مجھے تو امی نے یہی بتایا تھا کہ یہ خود بابا کی خواہش ہے۔” بھابھی نے کہا۔
    ”آپ انہیں بتا دیں کہ مجھے ہاؤس جاب سے پہلے شادی نہیں کرنی۔”
    ”ٹھیک ہے میں تمہاری بات ان تک پہنچادوں گی مگر بہتر ہے تم اس سلسلے میں خود بابا سے بات کرو۔” بھابھی نے اسے مشورہ دیا۔
    بھابھی کے کمرے سے جانے کے بعد بھی وہ کچھ پریشان سی وہیں بیٹھی رہی۔ یہ اطلاع اتنی اچانک اور غیر متوقع تھی کہ اس کے پیروں کے نیچے سے محاورتاً نہیں حقیقتاً زمین نکل گئی تھی۔ وہ مطمئن تھی کہ اس کی ہاؤس جاب تک اس کی شادی کا مسئلہ زیر بحث نہیں آئے گا اور ہاؤس جاب کرنے کے بعد وہ اس قابل ہوجائے گی کہ خود کو سپورٹ کرسکے یا اپنی جلال سے شادی کے بارے میں فیصلہ کرسکے۔ تب تک جلال بھی اپنی ہاؤس جاب مکمل کر کے سیٹ ہو جاتا اور ان دونوں کے لیے کسی قسم کا کوئی مسئلہ کھڑا نہیں ہوتا مگر اب اچانک اس کے گھر والے اس کی شادی کی بات کر رہے تھے۔ آخر کیوں؟
    ”نہیں اسجد اور اس کے گھر والوں نے مجھ سے اس طرح کا کوئی مطالبہ نہیں کیا۔ میں نے خود ان سے بات کی ہے۔”
    اس رات وہ ہاشم مبین کے کمرے میں موجود تھی۔ اس کے استفسار پر ہاشم مبین نے بڑے اطمینان کے ساتھ کہا۔
    ”بات بھی کرلی ہے؟ بابا! آپ مجھ سے پوچھے بغیر کس طرح میری شادی ارینج کرسکتے ہیں۔” امامہ نے بے یقینی سے کہا۔
    ہاشم مبین نے کچھ سنجیدگی سے اسے دیکھا۔ ”یہ نسبت تمہاری مرضی سے ہی طے ہوئی تھی۔ تم سے پوچھا گیا تھا۔” انہوں نے جیسے اسے یاد دہانی کروائی۔
    ”منگنی کی بات اور تھی… شادی کی بات اور ہے… آپ نے مجھ سے کہا تھا کہ ہاؤس جاب سے پہلے آپ میری شادی نہیں کریں گے۔” امامہ نے انہیں ان کا وعدہ یاد دلایا۔
    ”تمہیں اس شادی پر اعتراض کیوں ہے۔ کیا تم اسجد کو پسند نہیں کرتیں؟”
    ”بات پسند یا ناپسند کی نہیں ہے۔ اپنی تعلیم کے دوران میں شادی نہیں کرنا چاہتی۔ آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ میں آئی اسپیشلسٹ بننا چاہتی ہوں۔ اس طرح آپ میری شادی کردیں گے تو میرے تو سارے خواب ادھورے رہ جائیں گے۔”





    ”بہت سی لڑکیاں شادی کے بعد تعلیم مکمل کرتی ہیں۔ تم اپنی فیملی میں دیکھو… کتنی…” ہاشم مبین نے اسے سمجھانے کی کوشش کی۔”
    امامہ نے ان کی بات کاٹ دی۔ ”وہ لڑکیاں بہت ذہین اور قابل ہوتی ہوں گی۔ میں نہیں ہوں۔ میں ایک وقت میں ایک ہی کام کرسکتی ہوں۔”
    ”میں اعظم بھائی سے بات کرچکا ہوں، وہ تو تاریخ طے کرنے کے لیے آنے والے ہیں۔” ہاشم مبین نے اس سے کہا۔
    ”آپ میری ساری محنت کو ضائع کر رہے ہیں۔ اگر آپ کو میرے ساتھ یہی کرنا تھا تو آپ کو چاہئے تھا کہ آپ اس طرح کا کوئی وعدہ ہی نہ کرتے۔” امامہ نے ان کی بات پر ناراضی سے کہا۔
    ”جب میں نے تم سے وعدہ کیا تھا تب کی بات اور تھی… تب حالات اور تھے اب۔۔۔۔”
    امامہ نے ان کی بات کاٹی۔ ”اب کیا بدل گیا ہے… حالات میں کون سی تبدیلی آئی ہے جو آپ میرے ساتھ یہ سلوک کر رہے ہیں؟”
    ”میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ اسجد تمہاری تعلیم میں تمہارے ساتھ پورا تعاون کرے گا اور تمہیں کسی چیز سے منع نہیں کرے گا۔” ہاشم مبین نے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے کہا۔
    ”بابا مجھے اسجد کے تعاون کی ضرورت نہیں ہے مجھے آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔ آپ مجھے میری تعلیم مکمل کرنے دیں۔” امامہ نے اس بار قدرے ملتجیانہ انداز میں کہا۔
    ”اِمامہ تم فضول ضد مت کرو… میں وہی کرں گا جو میںطے کر چکا ہوں۔” ہاشم مبین نے دو ٹوک انداز میں کہا۔ ”میں ضد نہیں کر رہی درخواست کر رہی ہوں۔ پلیز بابا میں ابھی اسجد سے شادی کرنا نہیں چاہتی۔” اس نے ایک بار پھر اسی ملتجیانہ انداز میں کہا۔
    ”تمہارے نسبت کو چار سال ہونے والے ہیں اور یہ ایک بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے۔ اگر انہوں نے خود کچھ عرصے کے بعد کسی نہ کسی وجہ سے منگنی توڑ دی تو۔”
    ”تو کوئی بات نہیں کوئی قیامت نہیں آئے گی وہ منگنی توڑنا چاہیں تو توڑ دیں بلکہ ابھی توڑ دیں۔”
    ”تمہیں اس شرمندگی اور بے عزتی کا احساس نہیں ہے، جس کا سامنا تمہیں کرنا پڑے گا۔”
    ”کیسی شرمندگی بابا! یہ ان لوگوں کا اپنا فیصلہ ہوگا۔ اس میں ہماری تو کوئی غلطی نہیں ہوگی۔” اس نے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی۔
    ”تمہارا دماغ خراب ہوگیا ہے یا پھر تم عقل سے پیدل ہو۔” ہاشم مبین نے اسے جھڑکتے ہوئے کہا۔
    ”بابا! کچھ نہیں ہوگا لوگ دو چار دن باتیں کریں گے پھر سب کچھ بھول جائیں گے۔ آپ اس بارے میں خوامخواہ پریشان ہو رہے ہیں۔” اِمامہ نے قدرے بے فکری اور لاپروائی سے کہا۔
    ”تم اس وقت بہت فضول باتیں کر رہی ہو۔ فی الحال تم یہاں سے جاؤ، ہاشم مبین نے ناگواری سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔
    امامہ بادل نخواستہ وہاں سے چلی آئی مگر اس رات وہ خاصی پریشان رہی۔
    اگلے دن وہ واپس لاہور چلی آئی ہاشم مبین نے اس سلسلے میں دوبارہ بات نہیں کی لاہور آکر وہ قدرے مطمئن ہوگئی اور ہر خیال کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے اپنے امتحان کی تیاری میں مصروف ہوگئی۔
    ہاشم مبین نے اس واقعہ کو ذہن سے نہیں نکالا تھا، وہ ایک انتہائی محتاط طبیعت کے انسان تھے۔
    وہ اِمامہ کے بارے میں پہلی بار اس وقت تشویش میں مبتلا ہوئے تھے، جب اسکول میں تحریم کے ساتھ جھگڑے والا واقعہ پیش آیا تھا۔ اگرچہ وہ کوئی ایسا غیر معمولی واقعہ نہیں تھا مگر اس واقعے کے بعد انہوں نے احتیاطی تدابیر کے طور پر امامہ کی نسبت اسجد کے ساتھ طے کردی تھی۔ ان کا خیال تھا اس طرح اس کا ذہن ایک نئے رشتے کی جانب مبذول ہوجائے گا اور اگر اس کے ذہن میں کوئی شبہ یا سوال پیدا ہوا بھی تو اس نئے تعلق کے بعد وہ اس بارے میں زیادہ تردد نہیں کرے گی۔ ان کا یہ خیال اور اندازہ صحیح ثابت ہوا تھا۔
    اِمامہ کا ذہن واقعی تحریم کی طرف سے ہٹ گیا تھا۔ اسجد میں وہ پہلے بھی کچھ دلچسپی لیتی تھی مگر اس تعلق کے قائم ہونے کے بعد اس دلچسپی میں اضافہ ہوگیا تھا۔ ہاشم نے اسے بہت مطمئن اور مگن دیکھا تھا۔ وہ پہلے ہی کی طرح تمام مذہبی سرگرمیوں میں دلچسپی لیتی تھی۔
    مگر اس بار جو کچھ وسیم نے انہیں بتایا تھا اس نے ان کے پیروں کے نیچے سے زمین نکال دی تھی۔ وہ فوری طور پر یہ نہیں جان سکے مگر انہیں یہ ضرور علم ہوگیا کہ امامہ کے عقائد اور نظریات میں خاصی تبدیلی آچکی تھی اور یہ نہ صرف ان کے لیے بلکہ ان کے پورے خاندان کے لیے بڑی تشویش کا باعث تھا۔
    وہ اپنی بڑی بیٹیوں کی طرح اسے بھی اعلیٰ تعلیم دلوانا چاہتے تھے اور یہ اس لیے بھی اہم تھا کہ اسے شادی کے بعد خاندان ہی میں جانا تھا۔ وہ خاندان بہت تعلیم یافتہ تھا۔ خود ان کا ہونے والا داماد اسجد بھی امامہ کو اعلی تعلیم یافتہ دیکھنا چاہتا تھا۔ ہاشم مبین کے لیے اس کی تعلیم کا سلسلہ منقطع کر کے اسے گھر بٹھا لینا آسان نہ تھا، کیوں کہ اس صورت میں اسے اعظم مبین کو اس کی وجہ بتانی پڑتی اور امامہ سے سخت ناراض ہونے کے باوجود وہ نہیں چاہتے تھے کہ اعظم مبین اور ان کا خاندان امامہ کے ان بدلے ہوئے عقائد کے بارے میں جان کر برگشتہ اور بدظن ہوں اور پھر شادی کے بعد وہ اسجد کے ساتھ بری زندگی گزارے۔ انہوں نے ایک طرف اپنے گھر والوں کو اس بات کو راز رکھنے کی تاکید کی تو دوسری طرف امامہ کی منت سماجت پر اسے اپنی تعلیم جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔
    امامہ صبیحہ کے لیکچر اٹینڈ کرنے اور اس کے ہاں جانے یا جلال سے ملنے کے معاملے میں اس قدر محتاط تھی کہ اس کا یہ میل جول ان لوگوں کی نظروں میں نہیں آسکا۔ شاید اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ وہ جویریہ اور رابعہ کو بھی ہر چیز کے بارے میں اندھیرے میں رکھے ہوئے تھی۔ ورنہ اس کے بارے میں ضرور کوئی نہ کوئی خبر ادھر ادھر گردش کرتی اور ہاشم مبین تک بھی پہنچ جاتی مگر ایسا نہیں ہوا ہاشم مبین اس کی طرف سے مطمئن ہوگئے تھے، مگر امامہ کے اندر آنے والی ان تبدیلیوں نے انہیں تشویش میں مبتلا کر دیا تھا۔
    ان کے دماغ میں جو واحد حل آیا تھا وہ اس کی شادی تھی۔ ان کا خیال تھا کہ اس کی شادی کردینے سے کم از کم وہ خود امامہ کی ذمہ داری سے مکمل طور پر آزاد ہوجائیں گے۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اس طرح اچانک اس کی شادی کا فیصلہ کرلیا تھا۔
    ”جلال! میرے پیرنٹس اسجد سے میری شادی کر دینا چاہتے ہیں۔” لاہور آنے کے بعد امامہ نے سب سے پہلے جلال سے ملاقات کی تھی۔
    ”مگر تم تو کہہ رہی تھیں کہ وہ تمہاری ہاؤس جاب تک تمہاری شادی نہیں کریں گے۔” جلال نے کہا۔
    ”وہ ایسا ہی کہتے تھے، مگر اب وہ کہتے ہیں کہ میں اپنی تعلیم شادی کے بعد بھی جاری رکھ سکتی ہوں۔ اسجد لاہور میں گھر لے لے گا تو میں زیادہ آسانی سے اپنی تعلیم مکمل کرسکوں گی۔”
    جلال اس کے چہرے سے اس کی پریشانی کا اندازہ کرسکتا تھا۔ جلال بھی ایک دم فکر مند ہوگیا۔ ”جلال! میں اسجد سے شادی نہیں کرسکتی۔ میں کسی صورت اسجد سے شادی نہیں کرسکتی۔” وہ بڑبڑائی۔
    ”پھر تم اپنے پیرنٹس کو صاف صاف بتادو۔” جلال نے ایک دم کسی فیصلے پر پہنچتے ہوئے کہا۔
    ”کیا بتادوں؟”
    ”یہی کہ تم مجھ سے شادی کرنا چاہتی ہو۔”
    ”آپ کو اندازہ نہیں ہے کہ وہ کس طرح ری ایکٹ کریں گے… مجھے انہیں پھر سب کچھ ہی بتانا پڑے گا۔” وہ بات کرتے کرتے کچھ سوچنے لگی۔
    ”جلال! آپ اپنے پیرنٹس سے میرے سلسلے میں بات کریں۔ آپ انہیں میرے بارے میں بتائیں۔ اگر میرے پیرنٹس نے مجھ پر اور دباؤ ڈالا تو پھر مجھے اپنا گھر چھوڑنا پڑے گا، پھر مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہوگی۔”
    ”امامہ! میں اپنے پیرنٹس سے بات کروں گا۔ وہ رضا مند ہوجائیں گے۔ میں جانتا ہوں میں انہیں منا سکتا ہوں۔” جلال نے اسے یقین دلایا پوری گفتگو کے دوران پہلی بار امامہ کے چہرے پر مسکراہٹ ابھری۔
    ”اگلے چند ہفتے وہ اپنے پیپرز کے سلسلے میں مصروف رہی، جلال سے بات نہ ہوسکی۔ آخری پیپر والے دن وسیم اسے لینے کے لیے لاہور آگیا تھا۔ وہ اسے وہاں یوں دیکھ کر حیران رہ گئی۔
    ”وسیم! میں ابھی تو نہیں جاسکتی۔ آج تو میں پیپرز سے فارغ ہوئی ہوں مجھے ابھی یہاں کچھ کام ہیں۔”
    ”میں کل تک یہیں ہوں۔ اپنے دوست کے ہاں ٹھہر جاتا ہوں جب تک تم اپنے کام نمٹا لو پھر اکٹھے چلیں گے۔” وسیم نے اس کے لیے مدافعت کا آخری راستہ بھی بند کر دیا۔
    ”میں چلتی ہوں تمہارے ساتھ۔” امامہ نے کچھ بے دلی سے فیصلہ کرتے ہوئے کہا۔ اسے اندازہ تھا کہ وسیم اسے ساتھ لے کر ہی جائے گا۔
    ”تم اپنی چیزیں پیک کرلو۔ اب تم ساری چھٹیاں وہاں گزار کر ہی آنا۔” اسے واپس مڑتے دیکھ کر وسیم نے کہا۔
    ”اس نے سر ہلا دیا مگر اس کا اپنی تمام چیزیں پیک کرنے یا اسلام آباد میں ساری چھٹیاں گزارنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔ اس نے طے کیا تھا کہ وہ چند دن وہاں گزار کر کسی نہ کسی بہانے سے واپس لاہور آجائے گی اور یہ ہی اس کی غلط فہمی تھی۔
    رات کے کھانے پر وہ سب گھر والوں کے ساتھ کھانا کھا رہی تھی اور سب خوش گپیوں میں مصروف تھے۔
    ”پیپر کیسے ہوئے تمہارے؟” ہاشم مبین نے کھانا کھاتے ہوئے اس سے پوچھا۔
    ”بہت اچھے ہوئے۔ ہمیشہ کی طرح۔” اس نے چاول کا چمچ منہ میں ڈالتے ہوئے کہا۔
    ”ویری گڈ۔ چلو کم از کم پیپرز کی ٹینشن تو ختم ہوئی۔ اب تم کل سے اپنی شاپنگ شروع کردو۔”
    امامہ نے حیرانی سے انہیں دیکھا۔ ”شاپنگ؟ کیسی شاپنگ؟”
    ”فرنیچر کی اور جیولرز کے پاس پہلے چلے جانا تم لوگ۔ باقی چیزیں تو آہستہ آہستہ ہوتی رہیں گی۔” ہاشم مبین نے اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے اس بار اپنی بیوی سے کہا۔
    ”بابا! مگر کس لیے؟” امامہ نے ایک بار پھر پوچھا۔ ”تمہاری امی نے بتایا نہیں تمہیں کہ ہم نے تمہاری شادی کی تاریخ طے کردی ہے۔”
    امامہ کے ہاتھ سے چمچ چھوٹ کر پلیٹ میں جاگرا۔ ایک لمحہ میں اس کا رنگ فق ہوگیا تھا۔
    ”میری شادی کی تاریخ؟” اس نے بے یقینی سے باری باری سلمیٰ اور ہاشم کو دیکھا جو اس کے تاثرات پر حیران نظر آرہے تھے۔
    ”ہاں تمہاری شادی کی تاریخ…” ہاشم مبین نے کہا۔
    ”یہ آپ کیسے کرسکتے ہیں؟ مجھ سے پوچھے بغیر۔ مجھے بتائے بغیر۔” وہ ہونق چہرے کے ساتھ انہیں دیکھ رہی تھی۔
    ”تم سے پچھلی دفعہ بات ہوئی تھی، اس سلسلے میں۔” ہاشم مبین یک دم سنجیدہ ہوگئے۔
    ”اور میں نے انکار کر دیا تھا۔ میں۔”
    ہاشم مبین نے اسے بات مکمل نہیں کرنے دی۔ ”میں نے تمہیں بتا دیا تھا کہ مجھے تمہارے انکار کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ میں اسجد کے گھر والوں سے بات کرچکا ہوں۔” ہاشم مبین نے تیز آواز میں کہا۔
    ”ڈائننگ ٹیبل پر یک دم گہری خاموشی چھا گئی تھی کوئی بھی کھانا نہیں کھا رہا تھا۔
    امامہ یک دم اپنی کرسی سے کھڑی ہوگئی۔ ”آئی ایم سوری بابا، مگر میں اسجد سے ابھی شادی نہیں کر سکتی۔ آپ نے یہ شادی طے کی ہے۔ آپ ان سے بات کر کے اسے ملتوی کردیں۔ ورنہ میں خود ان سے بات کرلوں گی۔” ہاشم مبین کا چہرہ سرخ ہوگیا۔
    ”تم اسجد سے شادی کروگی اور اسی تاریخ کو جو میں نے طے کی ہے۔ تم نے سنا؟” وہ بے اختیار چلائے۔
    ”It’s not fair” امامہ نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا۔
    ”تم اب مجھے یہ بتاؤگی کیا فیئر ہے اور کیا نہیں۔ تم بتاؤگی مجھے؟” ہاشم مبین کو اس کی بات پر اور غصہ آیا۔
    ”بابا! جب میں نے آپ سے کہا تھا کہ مجھے ابھی شادی نہیں کرنی تو آپ زبردستی کیوں کر رہے ہیں میرے ساتھ۔” امامہ بے اختیار رونے لگی۔
    ”کر رہا ہوں زبردستی پھر میں حق رکھتا ہوں۔” وہ چلائے۔ امامہ اس بار کچھ کہنے کے بجائے اپنے ہونٹ بھینچتے ہوئے سرخ چہرے کے ساتھ تیزی سے ڈائننگ روم سے نکل گئی۔
    ”میں اس سے بات کرتی ہوں، آپ پلیز کھانا کھائیں۔ اتنا غصہ نہ کریں۔ وہ جذباتی ہے اور کچھ نہیں۔” سلمیٰ نے ہاشم مبین سے کہا اور خود وہ اپنی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئیں۔
    ان کے کمرے سے نکلتے ہی وسیم کو دیکھ کر امامہ بے اختیار اٹھ کھڑی ہوئی۔
    ”تم دفع ہوجاؤ یہاں سے۔ نکل جاؤ۔” اس نے تیزی سے وسیم کے پاس جاکر اسے دھکا دینے کی کوشش کی۔ وہ پیچھے ہٹ گیا۔
    ”کیوں؟ میں نے کیا کیا ہے؟”
    ”جھوٹ بول کر اور دھوکا دے کر تم مجھے یہاں لے کر آئے ہو۔ مجھے اگر لاہور میں پتہ چل جاتا کہ تم اس لیے مجھے اسلام آباد لا رہے ہو تو میں کبھی یہاں نہ آتی۔” وہ دھاڑی۔
    ”میں نے وہی کیا جو مجھ سے بابا نے کہا۔ بابا نے کہا تھا میں تمہیں نہ بتاؤں۔” وسیم نے وضاحت پیش کرنے کی کوشش کی۔
    ”پھر تم یہاں میرے پاس کیوں آئے ہو۔ بابا کے پا س جاؤ۔ ان کے پاس بیٹھو۔ بس یہاں سے دفع ہوجاؤ۔” وسیم ہونٹ بھینچے اسے دیکھتا رہا پھر کچھ کہے بنا کمرے سے نکل گیا۔
    امامہ اپنے کمرے میں جاکر بیڈ پر بیٹھ گئی۔ اس وقت اس کے پیروں کے نیچے سے صحیح معنوں میں زمین نکل چکی تھی۔ یہ اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس کے گھر والے اس کے ساتھ اس طرح کرسکتے ہیں۔ وہ اتنے قدامت پرست یا کٹر نہیں تھے جتنے وہ اس وقت ہوگئے تھے۔ اسے ابھی بھی یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ سب اس کے ساتھ ہو رہا تھا۔ اس کا دل ڈوبنے لگا۔ "مجھے اس صورت حال کا سامنا کرنا ہے۔ مجھے ہمت نہیں ہارنی۔ مجھے کسی نہ کسی طرح فوری طور پر جلال سے کانٹیکٹ کرنا ہے۔ وہ یقینا اب تک اپنے پیرنٹس سے بات کرچکا ہوگا۔ اس سے بات کر کے کوئی نہ کوئی راستہ نکل آئے گا۔”
    وہ بے چینی سے کمرے میں ٹہلتے ہوئے سوچتی رہی۔ اس کے کمرے میں دوبارہ کوئی نہیں آیا۔
    رات بارہ بجے کے بعد وہ اپنے کمرے سے نکلی۔ وہ جانتی تھی۔ اس وقت تک سب سونے کے لیے جاچکے ہوں گے۔ اس نے جلال کے گھر کا نمبر ڈائل کرنا شروع کر دیا۔ فون کسی نے نہیں اٹھایا۔ اس نے یکے بعد دیگرے کئی بار نمبر ملایا۔ آدھ گھنٹہ تک اسی طرح کالز کرتے رہنے کے بعد اس نے مایوسی کے ساتھ فون رکھ دیا۔ وہ جویریہ یا رابعہ کو فون نہیں کرسکتی تھی۔ وہ دونوں اس وقت ہاسٹل میں تھیں۔ کچھ دیر سوچتے رہنے کے بعد اس نے صبیحہ کا نمبر ڈائل کرنا شروع کر دیا۔ اس کے والد نے فون اٹھایا تھا۔




  • جزدان میں لپٹی دعائیں — آدم شیر

    تین گھنٹے قطار میں کھڑا رہنے کے بعد میری باری آنے والی تھی مگر بڑی اماں کب سے آگے کھڑی شناختی کارڈ کا فارم وصول کرنے والی خاتون سے بحث میں مصروف تھیں ۔بڑی اماں کے یہ الفاظ میرے کانوں سے کئی بار ٹکرائے۔
    ’’بیٹا! مجھے حج پر جانا ہے۔ دن بڑے تھوڑے ہیں۔ بار بار چکر نہ لگوائو۔‘‘
    ’’تصدیق کرنے والی کا شناختی کارڈ نمبر صحیح نہیں۔ ٹھیک کرا کے لائیں تو فارم جمع ہوگا۔‘‘ بڑی اماں کو کائونٹر والی کی بات سمجھ نہیں آ رہی تھی اور کائونٹر والی انہیں ہٹا کر باقی لوگوں کو بھگتانا چاہتی تھی۔ اس نے بڑی اماں کو انتہائی بے زاری سے ایک طرف ہونے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا اور مجھے فارم پکڑانے کا اشارہ کیا مگر بڑی اماں آگے بڑھنے کی بہ جائے تھوڑا سا کھسک کر ایک جانب کھڑی گئیں اور میں نے بازو دوسری طرف سے گھما کر فارم پکڑا دیا۔ کائونٹر والی خاتون نے فارم اور اس سے منسلک نقول دیکھ کر اصل بھی مانگیں اور تھوڑی سی نکتہ چینی کے بعد میرا فارم جمع کر لیا جس پر مجھ سے پیچھے کھڑے دو افراد نے مبارک باد دی۔ بڑی اماں وہیں ایک طرف کھڑی فارم کو تکے جا رہی تھیں۔ میں نے واپس جانے کے لئے مڑتے ہوئے انہیں دیکھا تو وہ مجھے متوجہ پا کر جھٹ سے بولیں۔
    ’’بیٹا!ایک فون کر دو گے؟‘‘
    ’’جی ماں جی۔‘‘ میں اپنی جیب سے فون نکال رہا تھا کہ اتنی دیر میں بڑی اماں نے اپنا سمارٹ فون مجھے پکڑا دیا جو کافی قیمتی معلوم دیا۔
    ’’بیٹا! میڈم ناصرہ کا نمبر ڈھونڈ کر فون ملا دو۔ ‘‘
    تین بار نمبر ملایا مگر ہر بار گھنٹی بجتی رہی، کسی نے فون اُٹھایا نہیں۔ بڑی اماں کو بتایا تو انہوں نے خودکلامی کی کہ اب فلاں سکول جانا پڑے گا۔ سکول کا نام سُن کر چونکا کیوں کہ وہ میرے راستے میں پڑتا تھا۔ میں نے بڑی اماں کو سفری خدمت کی پیشکش کی تو وہ خوشی خوشی دعائیں دیتی ساتھ چل پڑیں۔ گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ مختلف سوالات کرنے لگیں اور میں بے زاری سے جواب دیتا رہا۔
    جب سکول پہنچے تو بڑی اماں مجھے تھوڑی دیر رکنے کا کہہ کر اندر چلی گئیں لیکن جلد ہی واپس آگئیں کہ میڈم ناصرہ جا چکی تھیں۔ بڑی اماں نے بتایا: ’’پاس ہی میرا گھر ہے۔ وہاں چھوڑ دو۔کل بھانجے کے ساتھ سکول آئوں گی۔‘‘
    میں نے بڑی اماں کی ناک پر ٹکے موٹے شیشوں والے چشمے میں سے ان کی آنکھوں کو دیکھا جو ملتجی تھیںاور اثبات میں سر ہلادیالیکن خود کو کوسا کہ نیکی کے چکر میں کہاں پھنس گیا۔ ایک تسلی بھی تھی کہ کچھ دیر سکون سے بیٹھوں گا۔ تھکاوٹ سے برُا حال ہے۔ گھر گیا تو بیگم کے احکامات کی بجاآوری سے فرصت نہ ملے گی۔ جب ہم سکول سے تھوڑا آگے جا کر ایک گھر کے سامنے رُکے تو میں نے ایک نظر بڑی اماں پر ڈالی اور دوسری جدید طرز تعمیر سے بنے مکان پر… کوئی میل نظر نہ آیا۔ بڑی اماں نے جس کمرے میں بٹھایا، اس کی مدت سے کسی نے جھاڑ پونچھ نہ کی تھی۔ میں نے صوفہ نما کرسی پر بیٹھنے سے پہلے اس کی نشست اور پشت پر خود ہی ہاتھ پھیر کر تسلی کر لی تھی کہ دوسرے صوفے شان دار نظر آنے کے باوجود مٹی سے اٹے نظر آ رہے تھے۔ پورے کمرے میں بس ایل سی ڈی کی سکرین صاف تھی یا ایک طرف جدت سے بھرپور آڑے ترچھے شیلف پر شیشے کے فریم میں سجی تصویرچمک رہی، جس میں کئی چہرے قید تھے۔
    دیواروں پر لکڑی کا کام کیا گیا تھا جو اب تک جاذب نظر تھا گو غبار نے کچھ دھندلا دیا تھا۔ چھت کے چاروں کونے مکڑی کی بے مثال کاری گری کے نمونے پیش کر رہے تھے۔ فانوس کی چار لڑیوں کے درمیان بھی مکڑیوں نے جال کسا ہوا تھا۔ میز پر رکھے شیشے کے کناروں میں مٹی اور بھی نمایاں تھی۔ گل دان میں رکھے مصنوعی آرائشی پھولوں کا رنگ بڑی اماں کے بالوں کی طرح بدل چکا تھا۔ بڑی اماں کی عینک کے شیشوں کے پیچھے نظر آنے والے سیاہ حلقوں کی پرچھائیں نرم و ملائم سُرخ قالین پر پڑ رہی تھیں اور میں ان میں کھویا ہوا تھا کہ بڑی اماں شیشے کا جگ اور گلاس لئے آئیں۔ میں ٹھنڈے مشروب سے پیاس بجھانے لگا اور وہ یادوں کے چراغ جلانے لگیں۔
    بڑی اماں نے آغاز مرحوم شوہر کے آخری ایام کی بپتا سے کیا، جو پیسوں اور دوائوں کی فراوانی کے باوجود کسی کے انتظار میں روتے روتے کٹے تھے۔ پھر پوتوں کی شرارتوں اور پوتیوں کے لاڈ بھرے قصے سنا سنا کر ہنسنے لگیں۔ کبھی دبئی میں رہنے والے بڑے بیٹے کی کہانی چھیڑدیتیں تو کبھی جاپان میں مقیم لاڈلے کی… اس کی ختم ہوتی تو امریکا میں بسے منجھلے کی باری آجاتی۔ بھانجے کی خوب تعریف سنی کہ کہیں آنا جانا ہو، وہ گاڑی لے آتا ہے۔ گھر کا سودا سلف بھی وہی لاتا ہے۔ بڑی اماں کو بھانجی سے شکوہ تھا کہ اس نے کبھی گھر کی صفائی میں حصّہ نہیں لیا۔ اب وہ بوڑھے ہاتھوں سے کتنی گرد جھاڑ سکتی ہیں۔ بھانجی کو کبھی توفیق نہیں ہوئی کہ کبھی کچھ پکا کر دے جائے حالاں کہ قریب ہی رہتی ہے البتہ اسی بھانجی کی اماں کا ذکر کرکے نہال ہوتی رہیں کہ جب کبھی آتی ہے، کچھ نہ کچھ کر جاتی ہے اور بہت کچھ اپنی ملازمہ سے کرا دیتی ہے۔ میں نے کہا: ’’آپ بھی ایک کام والی رکھ لیں۔‘‘ تو بڑی اماں بولیں: ’’اس عمر میں کہاں نوکروں پر نظر رکھتی پھروں گی۔ ‘‘ اور لگے ہاتھ انہوں نے دو سابق ملازموں کی کہانیاں بڑی تفصیل سے سُنا دیں جن میں سے ملازمہ کا ذکر زیادہ دلچسپ تھا۔ میں حیران تھا کہ بڑی اماں نے پوتے پوتیوں سے لے کر بہن بھائیوں کے نام تک گنوا دیئے ہیں مگر اپنی بہوئوں کے متعلق کچھ بھی نہیں کہہ رہیں، تعریف تو دور کی بات… ایک آدھ جلی کٹی ہی ہو جائے لیکن ان کی باتیں گھوم پھر کر بیٹوں کے نیک و صالح ہونے پر آجاتیں ۔ میں نے تنگ آ کر بڑی اماں سے پوچھا: ’’آپ کے فرماں بردار بچے کبھی پاکستان نہیں آتے؟‘‘
    بڑی اماں کچھ دیر کے لئے فانوس میں بنے جال میں جھولنے لگیں، پھر ہولے سے بولیں: ’’آتے تھے۔ جب سے بیوی بچوں کے ساتھ گئے ہیں، واپس نہیں لوٹے۔ اب پیسے آتے ہیں یا کبھی فون آ جاتا ہے۔ تسلی مل جاتی ہے مگر … ‘‘
    ’’تو آپ ان کے پاس چلی جائیں۔‘‘ میرے منہ سے یہ بات برملا نکل گئی جو بڑی اماں کو گولی کی طرح اندر سے چھلنی کر گئی۔ وہ دو گھنٹے سے لگا تار باتیں کئے جا رہی تھیں، اب اچانک خاموش ہو کررہ گئیں اور قالین سے چپکی پرچھائیاں دیکھنے میں ایسے کھو گئیں کہ مجھے محسوس ہوا جیسے ہم دونوں میں سے کوئی ایک وہاں موجود نہیں گو ان کے پاس کہنے کے لئے ڈھیر ساری باتیں تھیں جنہیں سنتے سنتے شام ہو سکتی تھی اور رات کا سحر توڑتا سویرا ہو سکتا تھا مگر انہیں چُپ لگ گئی تھی۔ وہ نظریں جھکائے پرچھائیوں میں روشنی ڈھونڈ رہی تھیں۔ میں اور کچھ دیر بیٹھ سکتا تھا مگر اون سے بُنے قالین پربل کھاتی سیاہی جیسی خاموشی مجھے ڈسنے لگی اور میں بوجھل دل کے ساتھ کرسی سے اٹھ گیا۔
    بڑی اماں مجھے چھوڑنے دروازے تک آئیں۔ وہ کواڑ کھولے اندر اور میں باہر کھڑا تھا۔ ان کے لب مسلسل ہل رہے تھے اور میری نگاہیں متحرک تھیں۔ جب دعائوں کی گٹھڑی کافی بھاری ہو گئی تو میں گاڑی میں بیٹھ گیا۔ بڑی اماں پر آخری نگاہ ڈالی اور گاڑی آگے بڑھا دی۔ میرا دھیان کہیں اور تھا اور میں جا کہیں اور رہا تھا۔ تھوڑا آگے جا کر موڑ کاٹ ہی رہا تھا کہ ایک سائیکل سوار سامنے آگیا ۔ میں نے بروقت بریک لگائی لیکن سائیکل سوار ڈر کر توازن کھو بیٹھا اور پیچھے بیٹھی خاتون سمیت گر گیا۔ گاڑی سے نکل کر دیکھا تو اچھی قامت مگر بری صحت کا مالک نوجوان اپنی اماں کو سنبھال رہا تھا۔ چند راہ گیر بھی رک گئے تھے اور غصیلی آوازیں آنا شروع ہو گئی تھیں ۔ میں شش و پنچ کے بعد گاڑی کا دروازہ بند کر کے آگے بڑھا اور بھیڑ میں راستہ بناتے ہوئے پوچھا۔
    ’’کسی کو چوٹ تو نہیں لگی۔‘‘
    ’’بائو تُو کسر تے کوئی نئیں سی چھڈی۔‘‘کسی کی آواز آئی اور میرے ماتھے پرپسینے کے اٹھکھلیاں کرتے قطرے ناک سے ہوتے ہوئے ہونٹ تر کرنے لگے، جو اس وقت زیادہ ہی خشک ہو رہے تھے۔ میں معذرت کے لیے الفاظ ٹٹول رہا تھا مگر دوسری طرف سے کچھ آنکھیں اور زبانیں چھید پر چھید کئے جا رہی تھیں۔ سائیکل سوار ابھی اپنی اماں کو ایک راہ گیر سے ملی پانی کی بوتل سے پانی پلا رہا تھا اور میں سوچ رہا تھا کہ جب اس کا دھیان میری طرف جائے گا تو کیا ہوگا گو میرے سامنے اس کی کیا حیثیت … لیکن موقع پر کچھ بھی ہو سکتا تھا ۔میرا خدشہ صحیح ثابت ہوا کہ نوجوان پانی پلا کر جونہی پلٹا، اس نے میرا گریبان پکڑ لیا اور میں نے اس کی کلائیوں پر ہاتھ جما دیئے۔ وہ گریبان بھنبھوڑتے ہوئے ایسے الفاظ سے نوازنے لگا جولڑائی کے دوران میں استعمال ہوتے رہتے ہیں۔ راہ گیروں نے ہم دونوں کو پیچھے سے پکڑ لیا اور اس سے پہلے کہ وہ مجھے گھونسا مارتا یا میں اس کی پسلی میں مکا رسید کرتا ، بڑی اماں چیختی ہوئی آگے آئیں اور اسے کھینچ کر پیچھے لے گئیں۔
    ’’چھڈ پُت ، نہ لڑ، رہن دے ، اے گڈیاں والے تے ہندے ای انھے نیں۔‘‘
    ایک بڑی اماں سے رخصت ہوا تھا تو کسی شاعر کا مصرع بھٹکا رہا تھا ۔دوسری نے وداع کیا تو تھپڑ جُھلسا رہا تھا۔




  • سراب — زارا رضوان

    جیسے ہی میسج کی بیپ بجی اس نے فورا موبائل اٹھایا اور میسج پڑھنے لگی۔ چہرے پر مدھم مسکراہٹ بکھر گئی۔ الٹے ہاتھ سے بریڈآملیٹ کھاتے ہوئے سپیڈ سے میسج ٹائپ کرنے لگی۔ رقیہ بیگم نے تیکھی نظروں سے دیکھا۔ان کے چہرے پر ناگواری کے اثرات واضح تھے۔
    ’’کبھی چھوڑ بھی دیا کرو اِس منحوس کاپیچھا۔ جسے دیکھو اِسی میں گھسارہتا ہے جیسے کھانے کو پیسے دیتا ہو۔‘‘
    ’’امی جان ضروری نہیں ہر چیز کھانے کے لیے پیسے دے۔ کچھ چیزیں اِنسان کوتفریح اور سکون دینے کے لیے ہوتی ہیں۔‘‘ ساتھ ساتھ ٹائپنگ جاری تھی۔
    ’’اِس میں سکون کہاں ہے؟ سکون چاہیے تو نماز پڑھو، قرآن پڑھو ، اللہ کو یاد کرو۔‘‘رقیہ صابرنے بریڈ پر جیم لگا کر اس کی پلیٹ میں رکھا۔ وہ خاموشی سے میسج ٹائپ کرتی رہی۔
    ’’بعد میں بات ہوگی۔ آئی ایم ہیونگ بریک فاسٹ ۔‘‘ میسج سینڈ کیا پھر ٹیبل پر پڑی چیزوں کی تصاویر بنانے لگی۔ موبائل ایپ سے اچھی طرح امیج کو ایڈٹ کیا، کیپشن لگا کرپوسٹ کا بٹن دبا دیا۔وہ جانتی تھی تھوڑی ہی دیر میں لائک اور کمنٹس کا سلسلہ شروع ہو جائے گا۔ اُس نے موبائل واپس ٹیبل پر رکھ دیا۔
    ’’یہ لیں رکھ دیامنحوس کو، اب خوش۔‘‘ر قیہ بیگم نے اس کی طرف دیکھ کر منہ بنایا اور پھر چائے پینے لگ گئیں۔ مسکراہٹ اب تک اس کے چہرے پر رقص کر رہی تھی۔
    ٭…٭…٭
    ’’حد ہے تھوڑا صبر نہیں کر سکتے ناشتہ کر رہی تھی۔‘‘ گاڑی کا ہارن سُن کر ایمن بھاگی بھاگی آئی۔ سانس پھولا ہوا تھا چہرہ دھوپ کی تمازت سے چمک رہا تھا۔
    ’’تھوڑا سا ؟ میڈم پچھلے بیس منٹ سے کھڑا ہوں۔روز مجھے آفس کے لیے لیٹ کروا دیتی ہو۔ اب بیٹھو بھی۔ ‘‘ اسے کھڑا دیکھ کر بولا تو وہ فوراً بیٹھ گئی۔
    ’’یہ تم کیا ہر وقت فیس بک میں گُھسی رہتی ہو۔ جب دیکھو موبائل ہاتھ میں رہتا ہے۔ کبھی تو جان بخش دیا کرو۔‘‘ ایمن کے ہاتھ میں موبائل دیکھ کرراحیل جل ہی تو گیا۔
    ’’جان کس کی بخشوں؟ فیس بک کی یا موبائل کی؟‘‘ بات کاٹ کر ٹائپنگ کرتے ہوئے ایمن نے شوخی سے کہا۔
    ’’ہوسکے تو دونوں کی۔‘‘ راحیل نے تپ کرجواب دیا۔ اس کی شوخی راحیل کو ایک آنکھ نہ بھائی مگر ایمن نے کوئی جواب نہ دیا اور کمرے کی جانب بڑ گئی۔
    ٭…٭…٭





    مسٹر فیک بک کی طرف سے ایک شعر ٹیگ کیے جانے پرکتنی دیر وہ اِن لفظوں کے حصار میں کھوئی رہی۔ لائک کا بٹن دبا کر پوسٹ میں دِل والا آئی کن منتخب کیا۔
    ’’کیا تمہیں مجھ پر بھروسہ نہیں جو ابھی تک اپنی تصویر نہیں دِکھائی نہ ہی اپنا نمبر دیا؟‘‘تھوڑی دیر بعد مسٹر فیک بک کامیسنجرپر میسج آیا ۔
    ’’تو تم نے کون سا اپنا نام بتایا ہے اب تک؟‘‘ فوراً جواب دیا۔
    ’’اُف! تم بھی کمال کرتی ہو۔ میری تصاویر مع میری فیملی کی تصاویر دیکھ لیں ۔ اب بھی نام کی گنجائش رہ جاتی ہے؟ ‘‘
    ’’بالکل‘‘ مختصر سا جواب ملا۔
    ’’تم نے بھی تو اپنے نام پر آئی ڈی نہیں بنائی۔ سوئٹ پرنسز میں نے کبھی اعتراض کیا؟ نہیں نا۔ کیوں کہ میرے لیے تم پرنسز ہی ہو۔‘‘ سوئٹ پرنسزکا دِل دھڑکا۔
    ’’میری بات اور ہے۔ تم مجھے پرنسز کہتے ہو وہ ٹھیک ہے لیکن مجھے تمہیں مسٹر فیک بک کہہ کر مخاطب کرنا بہت عجیب لگتا ہے۔ آئی مین تم خود سوچو نقلی کتاب۔‘‘
    ’’حقیقت ہے جناب! فیس بک میں سب فیک ہوتا ہے، اسٹیٹس، تصاویر، جنس، جگہ ،سب نقلی دنیا ہے حقیقت سے کوسوں دور۔‘‘
    ’’خیر اب ایسا بھی نہیں۔ یہاں بہت سے ایسے لوگ بھی موجود ہیں جنہوں نے فریب و جھوٹ کی بہ جائے اپنا اصل پیش کیا ہے اور فیس بک چلا رہے ہیں۔‘‘ سوئٹ پرنسز نے اس کی بات سے اِختلاف کیا۔
    ’’میں نے کب اِنکار کیا اِس بات سے۔ وہ لوگ سیلیبرٹی ہیں یا شاعر، رائٹر یا سنگر وغیرہ جن کو سب جانتے ہیں۔ اکثریت ایسے لوگوں کی بھی ہے جو فیملی فرینڈز سے فرینڈز تک چلے آرہے ہیں۔‘‘ مسٹر فیک بک کی بات پر اس نے لائک کا آئی کن بنایا۔
    ’’اچھا! چلو اِک کام کرتے ہیں۔ تم مجھے اپنی تصویر دِکھاؤ، میں تمہیں اپنا نام بتا دوں گا۔ ٹھیک ہے؟‘‘ مسٹر فیک بک نے ڈیل کی۔ کافی دیر تک وہ لیپ ٹاپ کو تکتا رہا لیکن میسنجرمیں کوئی میسج نہ آیا۔
    ’’یہ کیسی شرط ہے؟‘‘کافی دیر بعد اس نے جواب دیا۔
    ’’شرط؟ محبت شرط سے ماورا ہوتی ہے پرنسز۔‘‘
    ’’محبت؟ ہم اچھے دوست ہیں۔ محبت کے لیے ایک دوسرے کو جاننا ضروری ہے، مراسم ضروری ہیں۔ ایسے کیسے محبت ہو سکتی ہے؟‘‘ مسٹر فیک بک کے اِس میسج نے اس کے اندر ایک عجیب سی بے چینی بھر دی۔
    ’’تم مجھے جانتی ہو۔ مجھے دیکھا ہوا ہے۔ کیا جاب کرتا ہوں اس سے واقف ہو۔ مجھے دیکھو صرف تمہاری آئی ڈی کو لے کر چل رہا ہوں مگر پھر بھی محبت ہو ہی گئی جس دِن تمہارا میسج نہیں آتا دِل بے چین ہو جاتا ہے۔ صبح ، دوپہر، شام، رات تمہارے میسج کی ڈوز چاہیے ہوتی ہے۔ اپنافون، کمپیوٹر اور لیپ ٹاپ ادھورا لگتا ہے بلکہ نہیں ادھورا تومیں خود ہو جاتا ہوں۔‘‘
    میسج دیکھ کر اس کا دِل دھڑکا۔ کافی دیر ٹٹولا تو پتا چلا ایسا تو اس کے ساتھ بھی ہوتا ہے۔ جب تک مسٹر فیک بک کا میسج نہ آئے وہ بے چین رہتی ہے، بار بار موبائل چیک کرتی ہے۔ اپنا اِنٹرنیٹ پیکج کبھی ختم ہونے نہیں دیتی جب کہ باقی فرینڈز کے لیے اس کی سوچ ایسی نہیں ہے اور نہ ہی دِل یوں دھڑکتا ہے۔
    ’’کہاں گئی؟‘‘ کافی دیر تک جواب نہ ملنے پر میسج آیا۔
    ’’بعد میں بات کرتی ہوں۔ کھانا کھا لوں۔‘‘ جلدی سے رپلائی کیا اور کرسی کھسکا کر بیٹھ گئی۔
    ’’سمجھ بیٹھاکہ تمہیں محبت ہوگئی ہے مجھ سے، ہائے میں تو غلط فہمی کا شکار ہوا۔
    میسج کی بیپ ہوئی تو منہ تک جاتا نوالہ رک گیا۔ کھانا کھاتے میسج پڑھا تو دِل کو بے سبب، بے وجہ بے قرار پایا۔اُلجھی سوچیں ، منتشر دھڑکن اور بے چین پل، کھانے میں رغبت ختم ہوچکی تھی۔
    اُس کے دل کی آنکھوں نے یہ منظر بہت غور سے دیکھا۔
    ٭…٭…٭
    ’’ایمن۔‘‘
    ’’جی ابو۔‘‘ صابر صاحب کے پکارنے پر کمرے تک جاتے اُس کے قدم رُک گئے۔
    ’’بیٹا اگرکسی ٹیسٹ وغیرہ کی تیاری نہیں کر رہی تو ایک کپ چائے بنا دو۔ تمہاری امی کپڑے پریس کر رہی ہیں۔‘‘ قریب کی عینک اتار کراس کو بہ غور دیکھتے ہوئے بولے۔
    ’’جی ابو! ابھی لائی۔‘‘ موبائل کو سائیڈ ٹیبل پر رکھ کر وہ کچن کی جانب بڑھ گئی۔
    حرکت کافی غیراِخلاقی تھی مگرنہ چاہتے ہوئے بھی ان کو موبائل اٹھا نا پڑا۔ کال ہسٹری ، میسجز یہاں تک کانٹیکٹس چیک کیے لیکن کوئی مشکوک نمبر ملا نہ ہی ایسا میسج جس سے وہ غلط اندازہ لگا سکتے۔ موبائل واپس رکھا، قریب کی عینک سیٹ کی اوردوبارہ کتاب میں گم ہو گئے۔
    ’’یہ لیں ابو آپ کی ادرک والی چائے۔‘‘ ایمن نے چائے کا کپ تھمایا۔
    ’’جیتی رہو بیٹا۔‘‘
    ’’ہر چیز کی زیادتی نقصان دہ ہوتی ہے ایمی۔‘‘ وہ جانے ہی کو تھی جب انہوں نے مخاطب کیا۔
    ’’میں سمجھی نہیں ابو۔‘‘ وہ حقیقتاً نہ سمجھ سکی کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔
    ’’بیٹھو بیٹا! دیکھو تمہاری امی کو شکایت ہے کہ تم موبائل بہت زیادہ استعمال کرنے لگی ہو۔ یہ اچھی بات نہیں۔ اِس سے آئی سائیٹ متاثر ہو سکتی ہے اوربھی کئی نقصانات ہیں۔‘‘ کتاب بند کی اورعینک اتار کر ٹیبل پر رکھ دی۔
    ’’ایسی تو کوئی بات نہیں ابو وہ بس کسی فرینڈ کا میسج آجائے تو الگ بات ہے ورنہ اِتنا تویوز نہیں کرتی۔‘‘
    ’’بہرحال اعتدال میں رہ کر استعمال کرو۔‘‘ عینک لگا کر دوبارہ کتاب کھول لی ساتھ ساتھ چائے پینے لگ گئے۔ ان کی خاموشی کا مطلب تھا وہ جاسکتی ہے۔
    ’’کوئی مجھیایسا نمبر نہیں ملا جو مشکوک ہو۔ کُل ستائیسنمبرز ہیں زیادہ ترفیملی ممبرز کے ہیں یا اس کی دوستوں کے۔تمہیں پورا یقین ہے کہ…‘‘ انہوں نے بات ادھوری چھوڑ دی
    ’’ماں کی نظریں وائی فائی کے سگنل سے زیادہ تیزہوتی ہیں صابر صاحب۔ وہ سب کچھ معمول سے ہٹ کرکررہی ہے’’۔ چائے کا کپ پکڑتے ہوئے کہا۔
    ’’کیا کہوں کچھ سمجھ نہیں آرہا۔‘‘ چشمہ اتار کر میز پر رکھااور سر مسلنے لگے۔
    ’’سمجھنا کیا ہے۔ پیپرزکے فورا بعد شادی کردینی چاہیے۔‘‘ انہوں نے اپنے تئیں فیصلہ کیا۔
    ’’یہ کیا بات کر رہی ہورقیہ؟ ایک شک کی بنیاد پرایسا کرنا قطعاً ٹھیک نہیں یا تو اس سے کھل کر بات کی جائے۔‘‘ وہ ایک دم کھڑے ہو کر ٹہلنے لگے۔ اپنی بیٹی پر ان کو خود سے زیادہ بھروسہ تھامگررقیہ بیگم کی بات بھی نظرانداز نہ کر سکتے تھے۔ آخر کو وہ ماں ہیں اور اولاد کو ماں سے بڑھ کر کوئی نہیں جانتا۔
    ’’نکاح تو کر سکتے ہیں نا؟‘‘ رقیہ بیگم نے سوالیہ نظروں سے دیکھا۔
    ’’ہاں اِس پر غور کیا جا سکتا ہے۔‘‘ وہ ابھی تک کش مکش میں تھے۔
    ’’غور نہیں صابرصاحب عمل کرنا ہے۔ میں آج ہی بلکہ ابھی جا کرراحیل سے بات کرتی ہوں۔‘‘
    ’’جیسے آپ کی مرضی پر ایمن کی رضامندی بھی ضروری ہے رقیہ بیگم۔‘‘
    ’’آپ بے فکر رہیں۔ میں اس کی مرضی کے بغیر کچھ نہیں کروں گی۔‘‘
    ٭…٭…٭




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۲

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۲

    یہ سب کچھ اسکول میں ہونے والے ایک واقعے سے شروع ہوا تھا۔ اِمامہ اس وقت میٹرک کی اسٹوڈنٹ تھی اور تحریم اس کی اچھی دوستوں میں سے ایک تھی۔ وہ لوگ کئی سال سے اکٹھے تھے اور نہ صرف ایک ہی اسکول میں پڑھتے تھے بلکہ ان کی فیملیز بھی ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتی تھیں۔ اپنی فرینڈز میں سے امامہ کی سب سے زیادہ دوستی تحریم اور جویریہ سے تھی مگر اسے حیرت ہوتی تھی کہ اتنی گہری دوستی ہونے کے باوجود بھی جویریہ اور تحریم اس کے گھر آنے سے کتراتی تھیں۔ امامہ ہر سال اپنی سال گرہ پر انہیں انوائٹ کرتی اور اکثر وہ اپنے گھر پر ہونے والی دوسری تقریبات میں بھی انہیں مدعو کرتی، وہ گھر سے اجازت نہ ملنے کا بہانہ بنا دیتیں۔ چند بار امامہ نے خود ان دونوں کے والدین سے اجازت لینے کے لیے بات کی، لیکن اس کے بے تحاشا اصرار کے باوجود ان دونوں کے والدین انہیں اس کے گھر آنے کی اجازت نہ دیتے۔ ان کے اس رویے پر کچھ شاکی ہوکر اس نے اپنے والدین سے شکایت کی۔
    ”تمہاری یہ دونوں فرینڈز سید ہیں۔ یہ لوگ عام طور پر ہمارے فرقہ کو پسند نہیں کرتے۔ اسی لیے ان دونوں کے والدین انہیں ہمارے گھر آنے نہیں دیتے۔”
    ایک بار اس کی امی نے اس کی شکایت پر کہا۔
    ”یہ کیا بات ہوئی… ہمارے فرقے کو کیوں پسند نہیں کرتے…” امامہ کو ان کی بات پر تعجب ہوا۔
    ”اب یہ تو وہی لوگ بتا سکتے ہیں کہ وہ ہمارے فرقے کو کیوں پسند نہیں کرتے… یہ تو ہمیں غیر مسلم بھی کہتے ہیں۔” اس کی امی نے کہا۔
    ”کیوں غیر مسلم کہتے ہیں۔ ہم تو غیر مسلم نہیں ہیں۔” امامہ نے کچھ الجھ کر کہا۔
    ”ہاں بالکل۔ ہم مسلمان ہیں… مگر یہ لوگ ہمارے نبی پر یقین نہیں رکھتے۔” اس کی امی نے کہا۔
    ”کیوں…؟”
    ”اب اس کیوں کا میں کیا جواب دے سکتی ہوں۔ بس یہ لوگ یقین نہیں رکھتے۔ کٹر ہیں بڑے، یہ تو انہیں قیامت کے دن ہی پتہ چلے گا کہ کون سیدھے رستے پر تھا۔ ہم یا یہ۔۔۔۔”
    ”مگر امی! مجھ سے تو انہوں نے کبھی مذہب پر بات نہیں کی۔ پھر مذہب مسئلہ کیسے بن گیا… اس سے کیا فرق پڑتا ہے، پھر دوسرے کے گھر آنے جانے سے کیا ہوتا ہے۔” امامہ ابھی بھی الجھی ہوئی تھی۔
    ”یہ بات انہیں کون سمجھائے… یہ لوگ ہمیں جھوٹا کہتے ہیں، حالاں کہ خود انہیں ہمارے بارے میں کچھ پتا نہیں… بس مولویوں کے کہنے میں آکر ہم پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ انہیں ہمارے بارے میں اورہمارے نبی کی تعلیمات کے بارے میں کچھ پتا ہو تو یہ لوگ اس طرح نہ کہیں۔ شاید پھر انہیں کچھ شعور آجائے… اوریہ لوگ بھی ہماری طرح راہِ ہدایت پر آجائیں۔ تمہاری فرینڈز اگر تمہارے گھر نہیں آتیں تو تمہیں پریشان ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تم بھی ان کے گھر مت جایا کرو۔”
    ”مگر امی! ان کی غلط فہمیاں تو دور ہونی چاہئیں میرے بارے میں۔” اِمامہ نے ایک با رپھر کہا۔
    ”یہ کام تم نہیں کرسکتیں۔ ان لوگوں کے ماں باپ مسلسل اپنے بچوں کی ہمارے خلاف برین واشنگ کرتے رہتے ہیں۔ ان کے دلوں میں ہمارے خلاف زہر بھرتے رہتے ہیں۔”
    ”نہیں امی! وہ میری بیسٹ فرینڈز ہیں۔ ان کو میرے بارے میں اس طرح نہیں سوچنا چاہیے۔ میں ان لوگوں کو اپنی کتابیں پڑھنے کے لیے دوں گی، تاکہ ان کے دل سے میرے بارے میں یہ غلط فہمیاں دور ہوسکیں، پھر ہوسکتا ہے یہ ہمارے نبی کو بھی مان جائیں۔” امامہ نے کہا۔اس کی امی کچھ سوچ میں پڑ گئیں۔
    ”آپ کو میری تجویز پسند نہیں آئی؟”
    ”ایسا نہیں ہے… تم ضرور انہیں اپنی کتابیں دو… مگر اس طریقے سے نہیں کہ انہیں یہ لگے کہ تم اپنے فرقہ کی ترویج کے لیے انہیں یہ کتابیں دے رہی ہو۔ تم انہیں یہ کہہ کر کتابیں دینا کہ تم چاہتی ہو وہ ہمارے بارے میں جانیں۔ ہم کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھ سکیں اوران سے یہ بھی کہنا کہ ان کتابوں کا ذکر وہ اپنے گھر والوں سے نہ کریں… ورنہ وہ لوگ زیادہ ناراض ہوجائیں گے۔” امامہ نے ان کی بات پر سر ہلا دیا۔
    ٭…٭…٭





    اس کے چند دنوں بعد اِمامہ اسکول میں کچھ کتابیں لے گئی تھی۔ بریک کے دوران وہ جب گراؤنڈ میں آکر بیٹھیں توامامہ اپنے ساتھ وہ کتابیں بھی لے آئی۔
    ”میں تمہارے اور جویریہ کے لیے کچھ لے کر آئی ہوں۔”
    ”کیا لائی ہو دکھاؤ؟” اِمامہ نے شا پر سے دو کتابیں نکال لیں اور انہیں دو حصوں میں تقسیم کرتے ہوئے ان دونوں کی طرف بڑھا دیا۔ وہ دونوں ان کتابوں پر ایک نظر ڈالتے ہی کچھ چپ سی ہوگئیں۔ جویریہ نے امامہ سے کچھ نہیں کہا مگر تحریم یک دم کچھ اکھڑ گئی۔
    ”یہ کیا ہے؟” اس نے سر دمہری سے پوچھا۔
    ”یہ کتابیں ہیں تمہارے لیے لائی ہوں۔” امامہ نے کہا۔
    ”کیوں…؟”
    ”تاکہ تم لوگوں کی غلط فہمیاں دورہوسکیں۔”
    ”کس طرح کی غلط فہمیاں؟”
    ”وہی غلط فہمیاں جو تمہارے دل میں، ہمارے فرقے کے بارے میں ہیں۔” اِمامہ نے کہا۔
    ”تم سے کس نے کہا کہ ہمیں تمھارے ”مذہب” یا تمہارے نبی کے بارے میں کچھ غلط فہمیاں ہیں؟ تحریم نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا۔
    ”میں خود اندازہ کرسکتی ہوں۔ صرف اسی وجہ سے تو تم لوگ ہمارے گھر نہیں آتے۔ تم لوگ شاید سمجھتے ہو کہ ہم لوگ مسلمان نہیں ہیں یا ہم لوگ قرآن نہیں پڑھتے یا ہم لوگ محمدﷺکو پیغمبر نہیں مانتے حالاں کہ ایسی کوئی بات نہیں ہے… ہم لوگ ان سب چیزوں پر یقین رکھتے ہیں۔ہم تو صرف یہ کہتے ہیں کہ محمدﷺکے بعد ہمارا ایک امتی نبی ہے اور وہ بھی اسی طرح قابل احترام ہے جس طرح محمدۖ۔” اِمامہ نے بڑی سنجیدگی کے ساتھ وضاحت کرتے ہوئے کہا۔
    تحریم نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتابیں اسے واپس تھما دیں۔ ”ہمیں تمہارے اور تمہارے مذہب کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہے… ہم تمہارے مذہب کے بارے میں ضرورت سے زیادہ جانتے ہیں۔ اس لیے تم کو کوئی وضاحت پیش کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔” اس نے بڑے روکھے لہجے میں اِمامہ سے کہا۔ ”اورجہاں تک ان کتابوں کا تعلق ہے تو میرے اورجویریہ کے پاس اتنا بے کار وقت نہیں ہے کہ ان احمقانہ دعووں، خوش فہمیوں اور گمراہی کے اس پلندے پر ضائع کریں جسے تم اپنی کتابیں کہہ رہی ہو۔” تحریم نے ایک جھٹکے کے ساتھ رابعہ کے ہاتھ میں پکڑی ہوئی کتابیں کھینچ کر انہیں بھی اِمامہ کے ہاتھ میں تھما دیا۔ اِمامہ کا چہرہ خفت اورشرمندگی سے سرخ پڑ گیا۔ اسے تحریم سے اس طرح کے تبصرے کی توقع نہیں تھی اگر ہوتی تو وہ کبھی اسے وہ کتابیں دینے کی حماقت ہی نہ کرتی۔
    ”اور جہاں تک اس احترام کا تعلق ہے تو اس نبی میں جس پر نبوت کا نزول ہوتا ہے اوراس نبی میں جو خود بخود نبی ہونے کی خوش فہمی میں مبتلا ہو جاتا ہے زمین اورآسمان کا فرق ہوتا ہے۔ تم لوگوں کو اگر قرآن پر واقعی یقین ہوتا تو تمہیں اس کے ایک ایک حرف پر یقین ہوتا۔ نبی ہونے میں اورنبی بننے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔”
    ”تحریم! تم میری اورمیرے فرقہ کی بے عزتی کر رہی ہو۔” امامہ نے آنکھوں میں امڈتے ہوئے آنسوؤں کے ساتھ کہا۔
    ”میں کسی کی بے عزتی نہیں کر رہی۔ میں صرف حقیقت بیان کر رہی ہوں، وہ اگر تمہیں بے عزتی لگتی ہے تو اس کے بارے میں کچھ نہیں کرسکتی…” تحریم نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
    ”روزہ رکھنے میں اوربھوکے رہنے میں بڑا فرق ہوتا ہے۔ قرآن پڑھنے اور اس پر ایمان لانے میں بھی بڑا فرق ہوتا ہے۔ بہت سارے عیسائی اور ہندو بھی اسلام کے بارے میں جاننے کے لیے قرآن پاک پڑھتے ہیں تو کیا انہیں مسلمان مان لیا جاتا ہے اوربہت سے مسلمان بھی دوسرے مذہب کے بارے میں جاننے کے لیے دوسری الہامی کتابیں پڑھتے ہیں تو کیا وہ غیر مسلم ہوجاتے ہیں اورتم لوگ اگر حضورﷺکوپیغمبر مانتے ہو تو کوئی احسان نہیں کرتے۔ تم ان کی نبوت کو جھٹلاؤگے تو اور کیا کیا جھٹلاؤگے، پھر تو انجیل کو بھی جھٹلانا پڑے گا، جس میں حضورﷺکی نبوت کی خوش خبری دی گئی ہے، پھر تو توریت کو بھی جھٹلانا پڑے گا، جس میں ان کی نبوت کی بات کی گئی ہے، پھر قرآن پاک کو بھی جھٹلانا پڑے گا جو محمدﷺکو آخری نبی قرار دیتا ہے اورسب سے بڑی بات یہ ہے کہ اگر تمہارا نبی محمدﷺکی نبوت کو جھٹلاتا تو وہ ان مناظروں کی کیا توجیہہ پیش کرتا جو وہ نبوت کا دعویٰ کرنے سے پہلے کئی سال عیسائی پادریوں سے محمدﷺ کی نبوت اور اسلام کے آخری دین ہونے پر کرتا رہا تھا۔ اس لیے امامہ ہاشم! تم ان چیزوں کے بارے میں بحث کرنے کی کوشش مت کرو، جن کے بارے میں تمہیں سرے سے کچھ پتا ہی نہیں ہے۔ تمہیں نہ اس مذہب کے بارے میں پتا ہے، جس پر تم چل رہی ہو اورنہ اس کے بارے میں جس پر تم بات کر رہی ہو۔”
    تحریم نے دو ٹوک انداز میں کہا۔
    ”اورمیں ایک چیز بتادوں تمہیں… دین میں کوئی جبر نہیں ہوتا… تم لوگ محمد ﷺ کی نبوت کے حتمی ہونے کا انکار کرتے ہو تو ہمارے پیغمبر محمد ﷺ کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔”
    ”مگر ہم محمدﷺکی نبو ت پر یقین رکھتے ہیں۔” اِمامہ نے اس با ت پر زور دیتے ہوئے کہا۔
    ”تو پھرہم بھی انجیل پر یقین رکھتے ہیں، اسے الہامی کتاب مانتے ہیں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی نبوت پر یقین رکھتے ہیں تو کیا ہم کرسچن ہیں…؟ اور ہم تو حضرت موسیٰ علیہ السلام اورحضرت داؤد علیہ السلام کی نبوت پر بھی یقین رکھتے ہیں تو کیا پھر ہم یہودی ہیں؟ "تحریم نے کچھ تمسخر سے کہا ”لیکن ہمارا دین اسلام ہے، کیوں کہ ہم محمد ﷺ کے پیروکا رہیں، اورہم ان پیغمبروں پر یقین رکھنے کے باوجود نہ عیسائیت کا حصہ ہیں نہ یہودیت کا، بالکل اسی طرح تم لوگوں کا نبی ہے کیوں کہ تم اس کے پیروکار ہو۔ ویسے تم لوگ تو ہمیں بھی مسلمان نہیں سمجھتے۔ ابھی تم اصرار کر رہی ہو کہ تم اسلام کا ایک فرقہ ہو… جب کہ تمہارے نبی اوراس کے بعد آنے والے تمہاری جماعت کے تمام لیڈرز کا دعویٰ ہے کہ جو مرزا کی نبوت پریقین نہیں رکھتا وہ مسلمان نہیں ہے… تو اسلام سے تو تم لوگ تمام مسلمانوں کو پہلے ہی خارج کر چکے ہو۔۔۔”
    ”ایسا کچھ بھی نہیں ہے… میں نے ایسا کب کہا ہے؟” امامہ نے قدرے لڑکھڑائے ہوئے لہجے میں کہا۔
    ”تو پھر تم اپنے والد صاحب سے ذرا اس معاملے کو ڈسکس کرنا… وہ تمہیں خاص اپ ٹو ڈیٹ انفارمیشن دیں گے، اس بارے میں … تمہارے مذہب کے خاصے سرکردہ رہ نما ہیں وہ …” تحریم نے کہا ”اور یہ جو کتابیں تم ہمیں پیش کر رہی ہو… انہیں خود پڑھا ہے تم نے … نہیں پڑھا ہوگا۔ ورنہ تمہیں پتا ہوتا ان سرکردہ رہ نماؤں کے بارے میں۔”
    جویریہ تحریم کی اس ساری گفتگو کے دوران خاموش رہی تھی، وہ صرف کن اکھیوں سے امامہ کو دیکھتی رہی تھی۔” اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ محمدﷺا س کے آخری نبی ہیں اورمیرے پیغمبرﷺاس پر گواہی دیتے ہیں کہ وہ اللہ کے آخری نبی ہیں اورمیری کتاب مجھ تک یہ دونوں باتیں بہت صاف واضح اور دو ٹوک انداز میں پہنچا دیتی ہے تو پھر مجھے کسی اورشخص کے ثبوت اور اعلان کی ضرورت نہیں ہے… سمجھیں۔”
    تحریم نے اپنے ایک ایک لفظ پر زور دیتے ہوئے کہا۔
    ”بہتر ہے تم اپنے مذہب کو یا میرے مذہب کو زیر بحث لانے کی کوشش نہ کرو۔ اتنے سالوں سے دو ستی چل رہی ہے، چلنے دو۔۔۔”
    ”جہاں تک تمہارے گھر نہ آنے کا تعلق ہے تو ہاں یہ بالکل ٹھیک ہے کہ میرے والدین کو تمہارے گھر آنا پسند نہیں ہے۔ یہاں اسکول میں تم سے دوستی اور بات ہے۔ بہت سے لوگوں سے دوستی ہوتی ہے ہماری اور دوستی میں عام طورپر مذہب آڑے نہیں آتا لیکن گھر میں آنا جانا … کچھ مختلف چیز ہے… انہیں شاید میری کسی عیسائی یا یہودی یا ہندو دوست کے گھر جانے پر اعتراض نہ ہو لیکن تمہارے گھر جانے پر ہے… کیوں کہ وہ لوگ اپنے مذہب کو مانتے ہیں وہ اپنے آپ کو مسلمان نہیں کہتے، جس مذہب سے تعلق ہوتا ہے وہی بتاتے ہیں، اوریہ بھی حقیقت ہے کہ جتنا تم لوگوں کو ناپسند کیا جاتاہے اتنا ان لوگوں کو نہیں کیا جاتا کیوں کہ تم لوگ صرف پیسے کے حصول اوراچھے مستقبل کے لیے یہ نیا مذہب اختیار کر کے ہمارے دین میں گھسنے کی کوشش کر رہے ہو، مگر کرسچن، ہندو یا یہودی ایسا نہیں کرتے۔”
    امامہ نے بے اختیا رٹوکا ”کس پیسے کی بات کر رہی ہو تم…؟ تم ہماری فیملی کو جانتی ہو… ہم لوگ شروع سے ہی بہت امیر ہیں۔ ہمیں کون سا روپیہ مل رہا ہے اس مذہب پر رہنے کے لیے۔”
    ”ہاں تم لوگ اب بڑے خوش حال ہو، مگر شروع سے تو ایسے نہیں تھے تمہارے دادا مسلمان مگر غریب آدمی تھے۔ وہ کاشت کاری کیا کرتے تھے اورایک چھوٹے سے کاشت کار تھے۔ ربوہ سے کچھ فاصلے پر ان کی تھوڑی بہت زمین تھی پھر تمہارے تایا نے اپنے کسی دوست کے توسط سے وہاں جانا شروع کردیا اور یہ مذہب اختیار کرلیا اور بے تحاشا امیر ہوگئے کیوں کہ انہیں وہاں سے بہت زیادہ پیسہ ملا پھر آہستہ آہستہ تمہارے والد اورتمہارے چچا نے بھی اپنا مذہب بدل لیا پھر تم لوگوں کا خاندان اس ملک کے متمول ترین خاندانوں میں شما رہونے لگا اوریہ کام کرنے والے تم لوگ واحد نہیں ہو زیادہ تر اسی طریقے سے لوگوں کو اس مذہب کا پیرو کار بنایا جا رہا ہے۔”
    امامہ نے کچھ بھڑکتے ہوئے اس کی بات کو کاٹا ”تم جھوٹ بول رہی ہو۔”
    ”تمہیں یقین نہیں آرہا تو تم اپنے گھر والوں سے پوچھ لینا کہ اس قدر دولت کس طرح آئی ان کے پاس… اورابھی بھی کس طرح آرہی ہے۔ تمہارے والد اس مذہب کی تبلیغ کرتے ہیں۔ ہر سال لاکھوں ڈالرز آتے ہیں، انہیں غیر ملکی مشنریز اوراین جی اوز سے …” تحریم نے کچھ تحقیر آمیز انداز میں کہا۔
    ”یہ جھوٹ ہے، سفید جھوٹ۔” امامہ نے بے اختیار کہا۔ ”میرے بابا کسی سے کوئی پیسہ نہیں لیتے۔ وہ اگر اس فرقہ کے لیے کام کرتے ہیں، تو غلط کیا ہے۔ کیا دوسرے فرقوں کے لیے کام نہیں کیا جاتا۔ دوسرے فرقوں کے بھی تو علماء ہوتے ہیں یا ایسے لوگ جو انہیں سپورٹ کرتے ہیں۔”
    ”دوسرے فرقوں کو یورپی مشنریز سے روپیہ نہیں ملتا۔”
    ”میرے بابا کو کہیں سے کچھ نہیں ملتا۔” امامہ نے ایک با رپھر کہا۔ تحریم نے اس کی بات کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی۔
    اِمامہ نے اسے جاتے ہوئے دیکھا پھر گردن موڑ کر اپنے پاس بیٹھی جویریہ کی طرف دیکھا۔
    ”کیا تم بھی میرے بارے میں ایسا ہی سوچتی ہو؟”
    ”تحریم نے غصہ میں آکر تم سے یہ سب کچھ کہا ہے۔ تم اس کی باتوں کا برا مت مانو۔” جویریہ نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی۔
    ”تم ان سب باتوں کو چھوڑو… آؤ کلاس میں چلتے ہیں، بریک ختم ہونے والی ہے۔” جویریہ نے کہا تو وہ اٹھ کھڑی ہوگئی۔
    ٭…٭…٭




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۱

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۱

    پیش لفظ

    پیر کاملﷺکو میں نے آپ کے لیے لکھا ہے۔ آپ سب کی زندگی میں آنے والے اس موڑ کے لیے، جب روشنی یا تاریکی کے انتخاب کا فیصلہ ہم پر چھوڑ دیا جاتا ہے، ہم چاہیں تو اس راستے پر قدم بڑھادیں جو روشن ہے اور چاہیں تو تاریکی میں داخل ہو جائیں۔
    روشنی میں ہوتے ہوئے بھی انسان کو آنکھیں کھلی رکھنی پڑتی ہیں۔ اگر وہ ٹھوکر کھائے بغیر زندگی کا سفر طے کرنا چاہتا ہے تو تاریکی میں داخل ہونے کے بعد آنکھیں کھلی رکھیں یا بند کوئی فرق نہیں پڑتا، تاریکی ٹھوکروں کو ہماری زندگی کا مقدر بنا دیتی ہے۔
    مگر بعض دفعہ تاریکی میں قدم دھرنے کے بعد ٹھوکر لگنے سے پہلے ہی انسان کو پچھتاوا ہونے لگتا ہے۔ وہ واپس اس موڑ پر آنا چاہتا ہے جہاں سے اس نے اپنا سفر شروع کیا تھا۔ تب صرف ایک چیز اس کی مدد کرسکتی ہے، کوئی آواز جو رہ نمائی کا کام کرے اور انسان اطاعت کے علاوہ کچھ نہ کرے۔
    پیر کاملﷺوہی آواز ہے، جو انسان کو تاریکی سے روشنی تک لاسکتی ہے اور لاتی ہے۔ اگر انسان روشنی چاہے تو اور ”یقینا ہدایت انہیں کو دی جاتی ہے جو ہدایت چاہتے ہیں۔”
    آئیے ایک بار پھر پیر کاملﷺکو سنیں!
    عمیرہ احمد




  • عمراں لنگیاں پباں پار — ماہ وش طالب

    یہ لاہور کے جدیدپوش علاقے کا پچھلا حصہ ہے جہاں کہیں کہیں خودرو جھاڑیوں اور جنگلی گھاس کی بہتات ہے اور اسی حصے کے بیچوں بیچ قطار در قطار جھونپڑیاں ہیں۔ میلی گرد سے اٹی، پردہ اٹھائے، پردہ گرائے، بدبودار ، بدتمیزمیلے کچیلے انسان جس کے مکین ہیں۔ چار گز کے قطعے میں دس دس بیس بیس انسان، جنس کی تمیز کیے بغیر جہاں یوں ہمہ وقت طوفانِ بدتمیزی کھڑا کیے رکھتے ہیں جیسے کپڑے دھونے والی مشین اپنے پیٹ میں ہر طرح کے میل کچیل کو بھر کر گھر ر گھرر چلتی ہے۔ اس چھپر کی عورتیں سر ڈھانپے، برہنہ، نیم برہنہ سا جسم لیے پھرتی ہیں اور ان کے شیر خوار بچے ماں کی چھاتیوں سے لگے بِلکتے ہیں۔ بڑے بچے ٹانگوں سے چمٹے رہتے ہیں جن کی رال اور ناک ایک ساتھ بہتی ہے۔ یہاں کے مرد پھٹی ہوئی بنیانیں اور میلی شلواریں پہنے دیدہ دلیری اور بے شرمی سے بدن کھجاتے پھرتے ہیں۔
    اور یہ لوگ موسموں کی پروا کیے بغیر اپنے کام کیے چلے جارہے ہیں، مگر ان کے کاموں کی فہرست بھی کوئی اتنی طویل نہیں۔ بھیک اپنا حق سمجھ کر مانگنا، بچے پیدا کرنا اور عیش کرنا بس یہی کچھ انہوں نے اپنا مقدر سمجھ رکھا ہے۔ نہ انہیں کل کی فکر ستاتی ہے، نہ ماضی کا کوئی قلق انہیں ندامت میں مبتلا کرتا ہے۔ رتیں بدلتی ہیں، مگر ان کی مصروفیات کی نوعیت بدلتی ہے نہ ترتیب۔ یہاں تقریباً سب ہی ایک جیسے ہیں۔ ایک جیسا ناک نقشہ، ایک جیسی کسیلی رنگت اور مٹیالے اجڑے ہوئے بال، پھٹے اور گھسے ہوئے بدرنگ کپڑے اور قابلِ رحم چال۔ اس بستی کے باسیوں کا تہذیب سے کوئی تعلق واسطہ نہیں۔ دنیا ترقی کی کس ڈگر پر چل نکلی ہے ان کا کوئی لینا دینا نہیں۔ یہ وہی کام کر رہے ہیں جو ان کے ننگ دھڑنگ باپ دادا نے کیا اور ورثے کی صورت ان میں بھی جی بھر کے منتقل کردیا۔ پاکیزگی، عزت اور ایمانداری یہ کیا جانیں کہ یہ کن بلائوں کے نام ہیں بھلا۔ ان کے حال پر تو ان کے اوپر نیچے، دائیں بائیں منڈلاتی مکھیاں بھی اپنے گندم کے دانے جتنے پروں سے استہزائیہ اڑان بھرتی بھن بھن کرتی ہیں، مگر کیا یہاں بسنے والے سب ہی ایک جیسے ہوتے ہیں۔





    کیا واقعی…
    نہیں تو! کبھی کبھار نہ چاہتے ہوئے بھی حالات اور وقت آپ کو بے بسی کی زندگی گزاردینے پر مجبور کر دیتے ہیں جو آپ نہیں بننا چاہتے ہیں۔ حالات کی سختی آپ کو اس مقام پر لا کھڑا کرتی ہے کہ آپ ویسے بن جاتے ہیں اور اپنے وہاں ہونے پر بظاہر مطمئن بھی نظر آتے ہیں۔
    سو اسی بستی سے ذرا پرے ایک اور خیمہ لگا ہے۔ یہ جھونپڑی نسبتاً صاف اور کشادہ ہے۔ یہاں پر رہنے والے افراد کی تعداد کم ہے اور ان کے طور طریقے کسی حد تک مختلف ہیں مگر جس طرح کچرے کے ڈھیر کو اٹھا کر سونے کی طشتری میں سجا دینے سے بھی وہ کچرا ہی رہتا ہے۔ اسی طرح سے یہ جھونپڑی بھی بہر صورت رہے گی تو جھونپڑی ہی۔
    اس کی شخصیت میں بولتی آنکھوں اور سنجیدہ چہرے کا عجب امتزاج ہے۔ بھاری جثے اور خوبصورت قد کاٹھ کی مالک وہ بولتی کم اور سوچتی زیادہ ہے۔ اللہ جانے اتنی سی عمر میں کون سی فکریں ہیں جو ہمہ وقت اسے گھیرے رہتی ہیں۔ کبھی جو کریدنا بھی چاہو تو آہستگی سے دامن چھڑالیتی ہے، پھر پہاڑبن جاتی ہے اور ٹس سے مس نہیں ہوتی، مگر جب موڈ میں ہوتی ہے تو اس سے زیادہ زندہ دل بھی کوئی نہیں ملتا کہ سکھیوں کی سنگت میں سب کچھ بھول کر وہ بستی میں آوارہ گردی کرنے لگتی ہے یا فٹ پاتھ پر دائرہ بنا کر ہنسی ٹھٹھا کرتے ہوئے دو پل کے لیے ہی سہی، مگر وہ بے فکری ہوجاتی ہے۔
    وہ دیکھنے والی آنکھ کے لیے غروبِ آفتاب کا منظر ہی تو ہے۔ نرم گرم سی، پل میں اداس کرتی ہوئی اور پل میں امید دلاتی ہوئی اور رجو کو اس کا یونہی رہنا پسند ہے۔ وہ جو اُس کی ماں ہے جو خود غلطی سے پانچ جماعتیں پاس تھی۔ اس نے کب سوچا تھا کہ وہ بھی کبھی یونہی ان کے بیچ آجائے گی۔ انہی کی برادری کا حصہ کہلائے گی، مگر یہ بری قسمت بھی کسی جونک سے کم نہیں جو چمٹ جائے تو چھٹکارا پانا دوبھر ہو جاتا ہے۔ خیر رجو کی ایک بیٹی اور پانچ بیٹے ہیں۔ شوہر برائے نام ہے اس سے اب کوئی جسمانی ضرورت پوری کی جاسکتی ہے نہ معاشی۔ نشے کی لت نے اس کی مردانگی کو سب سے پہلے ٹھکانے لگایا تھا۔
    ’’اور مورل سپورٹ…‘‘
    ’’ہاہاہا یہ کیا پوچھ لیا؟‘‘
    ’’شش !! جن باتوں کا پتا نہ ہو،انہیں زیادہ نہیں کریدتے۔ خیر تسلی کے لیے بتائے دیتی ہوں کہ رجو خود تو کسی حد تک شائستہ ہے، مگر یہاں کے مرد… کوئی سن لے تو کہے کہ یہ چلتی زبانیں ان کی اپنی نہیں۔ وہ گلی کوچوں میں بنے کچے پکے مکانوں سے اٹھ کر آئی تھی۔ اس کا دیہاتی باپ اسے بھکارن بنانا چاہتا تھا اور ماں اپنے گھر والی، مگر شوہر نے اسے کہیں کا نہ چھوڑا۔ نہ وہ ٹھیک سے مانگ سکی نہ اپنے گھر والی بن سکی۔ (گھر ہوتا تو گھر والی کہلاتی نا۔) اس کا یہ جھونپڑا تو بنجارا تھا جہاں موسم اجازت دیتا وہیں چل پڑتا۔ ویسے بھی یہ لوگ موسموں کے مارے ہوتے ہیں، وقت کے نہیں۔ ان کے لیے سارے وقت ایک طرح کے ہوتے ہیں تسبیح کے دانوں کی مانند، انگلی کی پوروں سے ایک ایک کرکے پھسلتے جاتے ہیں، مگر درحقیقت موسم میں تغیر ہی ان کی رہائش گاہ اور مانگنے کی جگہ متعین کرتے رہنے کا باعث بنتا ہے اور اسے مانگنے کا سلیقہ ساری زندگی نہ آیا۔ سلیقہ تو خیر شوہر کو بھی نہ تھا کہ اسے سیدھا چوری کی عادت تھی، مگر بیوی کو ڈنڈے کے زور پر کسی نہ کسی طرح کمائی کا ذریعہ بنا لیا پہلے وہ اپنے تڑپتے ، ترستے بہن بھائیوں اور باپ کی دھمکیوں کی وجہ سے مجبور ہوتی رہی۔ پھر شوہر نے بھی اس کو خوب ہی ہتھیار بنایا۔ حالانکہ رجو کی اپنی ماں نے کتنے اچھے خواب دیکھ رکھے تھے اس کے لیے۔ مگر یہ مائیں بھی تو حد کرتی ہیں۔ اپنی ممتا سے فائدہ اٹھاتی ہیں، ایسی ایسی خواہشیں اولاد کے لیے پال لیتی ہیں کہ ان کے پورا ہونے کے لیے ایک نسل کو قربانی دینی پڑ جاتی ہے اور یہاں… وہ قربان شدہ نسل رجو تھی۔
    ’’اے نسرین ! کہاں مر گئی؟ یہ تیری پوستی ہمیں لے ڈوبے گی۔ کسی کام کی نہیں تو۔ نہ تیری ماں ہی مجھے آج تک کوئی فیض دے سکی۔ ابا تو بھی ایک ہی بات بار بار کرتا تھکتا نہیں۔ یہ دونوں بے غیرت عورتیں ہیں۔ اپنی عزت کے علاوہ انہیں کبھی کسی کی پروا نہ رہی۔ اپنے خاص دیہاتی لہجے میں پنجابی بولتا جیرا باپ کو ڈپٹتا درپردہ انہیں ذلیل کررہا تھا اور یہ باتیں نسرین کے لیے نئی ہر گز نہ تھیں۔ ماں کے پیٹ سے ہی ایسی باتیں اس کی نازک سماعت پر پڑتی رہی تھیں۔ وہ سماعت جو اب نازک بھی نہ رہی تھی بلکہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن گئی تھی کہ اب ہر بات کان کے پردے سے ٹکراتی ہوئی جب دل پر پڑتی تو اسے ذرا کم ہی رُلاتی تھیں۔
    اس کی زندگی اپنی پہلی سانس پر ہی سِسکی تھی اور اب تک سِسک رہی تھی۔ نہ اس کے لیے پھولوں میں کوئی خوشبو تھی۔نہ چوڑیوں کی کھنک اس کی نازک کلائیوں کے لیے تھی اور اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ ایک پکھی واس تھی۔ مسئلہ اس ذرا سی آگاہی کا تھا جو اسے اپنی ماں سے ورثے میں ملی تھی۔ نہ وہ کھل کر اپنے ماحول میں جیتی تھی نہ اسے باہر کی لپک جھپک متاثر کرتی۔ اس کے لیے شعور عذاب ہی تو تھا۔ وہ بھکارن تھی۔ سفید میلی چادر سر پر ٹکائے، گرد سے اٹی ٹوٹی پلاسٹک کی چپل پہنے، ہاتھ میں کھلا سا برتن پکڑے جب وہ بڑے بڑے گھروں کے دروازے کھٹکھٹاتیتو خود کو بونوں سے چھوٹا محسوس کرتی۔
    وہ اپنے مخصوص انداز اور لہجے میں مانگتی۔ ہر بار نئے بہانے اور وجہ اس کے پاس موجود ہوتے حالانکہ اس کے باپ اور بھائیوں کی تین وقت کی روٹی بڑے آرام سے پوری ہوتی تھی کہ وہ چھے مرد خود کو اندھا بناکے، لنگڑا کے یتیم ظاہر کرکے اپنے زورِ بازو سے اچھی خاصی رقم اینٹھ لیتے تھے اور کبھی کبھی جب اس جاب سے بھی جی اکتا جاتا، تو جیب تراشی اور ہاتھ کی صفائی کام آتی۔
    مگر رجو کا آدمی خود کما کر اپنی بیوی کو عیش کرانے والوں میں سے ہر گز نہ تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ گھر کا ہر فرد مصروف رہے اور یوں بھی گھر میں پیسہ آتا کسے برا لگتا ہے۔ سو رجو سمیت وہ یعنی نسرین بھی مصروف تھی اتنی کہ نیند میں بھی مانگتی رہتی۔ کبھی کسی کا در کھٹکھٹارہی ہوتی تو کبھی کہیں سے جھڑکیاں سن رہی ہوتی۔
    نامساعد حالات میں جب اسے سڑکوں پر نکل کر مانگنا پڑتا، تو یہ اس کے لیے حقیقتاً آزمائش کا وقت ہوتا۔ جب کسی گاڑی کا شیشہ بجاتی، کسی بڑی دکان یا شوروم کے ہجوم میں مانگنے گھستی تو لوگوں کی خود پر گڑی ہوئی چبھتی نظریں محسوس کرکے خود میں سمٹ کر رہ جاتی حالانکہ اس کی جگہ کوئی اور پکھی واسنی ہوتی تو خوب ان نظروں کا مفہوم سمجھتی اور جی بھر کر فائدہ بھی اٹھاتی، مگر یہاں مصیبت ہی یہ تھی کہ اس شعور سے بے بہرہ انسانوں کی بستی میں وہ ایک مافوق الفطرت پیدا ہوگئی تھی جو بس یہی سوچتی جاتی تھی کہ یہ بڑی بڑی گاڑیوں میں گھومنے والے مردوں کی سوچ اس قدر چھوٹی کیسے ہوسکتی ہے؟ انہیں تو کسی شے (زر اور زن) کی کمی نہیں۔ پھر بھی یہ سارے اس قدر ندیدے کیوں ہیں ؟ مگر کملی اگر چار جماعتیں پڑھی ہوتی یا ماں جتنا تجربہ حاصل ہوتا، تو آپ ہی جان لیتی کہ مرد کسی بھی نسل کا ہو اور کتنا بھی امیر کیوں نہ ہو، نہتی عورت ذات کو دیکھ کر اس کا ندیدہ پن امنڈ کر سامنے آجاتا اور رال ٹپکنے لگتی ہے اور پھر وہ جتنا گھبراتی۔ لوگ اسے اتنا ستاتے اس کے فربہی مائل جسم، دودھیا رنگت اور گہری آنکھوں پر فقرے کستے ۔
    پھر بیچ میں ساتھ والی جھونپڑی کی چھیما کے کہنے پر اس نے پلاسٹک اکٹھا کرنے کا کام شروع کیا، مگر اس کام میں بھی کمائی کم اور رسوائی زیادہ تھی۔ گودام کا مالک چاہتا تھا کہ ہر روز مخصوص مقدار میں وہ اسے پلاسٹک لا کردے۔ خواہ اس کے لیے اسے ناک کے بل رینگنا پڑتا اور خواہ پلاسٹک کی جگہ وہ اسے کمیاب دھاتوں کی تھیلیاں تھمادیتی ، مگر اس کے ذمہ چونکہ صرف پلاسٹک اکٹھا کرنا تھا سو چنی آنکھوں اور گرد سے اٹی بھوری ڈاڑھی والا گودام کا لڑکا بڑی چالاکی سے چپ چاپ دھاتیں بھی ہتھیا لیتا اور اس کی ساری محنت نہایت ہلکے داموں خرید لیتا۔ خود چھیما تو من موجی تھی، دل کرتا تو ہفتہ بھر پلاسٹک اکٹھا کرکے دہاڑی بناتی، ورنہ مہینہ گزرجاتا اور اپنی کوئی خبر نہ دیتی۔ وہ نسرین سے تجربے اور عمر میں کافی بڑی تھی۔ سو راشد (گودام کا مالک ) کی غلط سلط باتوں کا دوبدو جواب دیتی۔ وہ ڈھیٹ بنا حِظ اٹھاتا رہتا۔ ان کے ساتھ والی دو اور لڑکیاں بھی کوڑا چھانتی تھیں مگر ان کا کام دھات (خالی ٹِن، پلیٹس ، سپیئر پارٹس وغیرہ ) ہی اکٹھے کرنا تھا اور اس کے عوض ناصرف وہ انہیں اچھی رقم دے کر خوش کرتا تھا بلکہ ان کے پاس بھی اس کی خوشی کا سارا سامان موجود ہوتا تھا، لیکن وہ بھی اُن جیسی ہوتی تو اسے بھی کوئی مسئلہ نہ ہوتا۔




  • وہ اپنی سی ۔۔۔ تنزیلہ احمد

    وہ اپنی سی ۔۔۔ تنزیلہ احمد

    آئیے! میں آپ کو اس پری پیکر سے متعارف کرواتا ہوں۔ میری اجلی صبح کا آغاز اس نازنین کے دیدار سے ہوتا ہے۔ سورج کی مندی آنکھوں اور پرندوں کی انگڑائیوں کے دوران منہ اندھیرے وہ سفید یونیفارم میں ملبوس دو بچیوں کو ساتھ لیے گھر سے نمودار ہوتی ہے اور تب تک پکی روش پہ کھڑی رہتی ہے جب تک بچیاں پہلے سے ان کے انتظار میں کھڑے تانگے میں سوار ہو کر نظروں سے اوجھل نہیںہوجاتیں۔
    بچیوں کو رخصت کرنے کے بعد گھر میں واپس داخل ہونے سے پہلے وہ گردوپیش پہ ایک تفصیلی نظر ڈالتی ہے اور اپنے کندھوں پہ شال کی مانند لپیٹا دوپٹا درست کرتی اندر چلی جاتی ہے۔ اس کے بعد کوئی ڈیڑھ دو گھنٹے میں وہ یونیفارم میں ملبوس ایک اور چھوٹی بچی کو لیے گھر سے وارد ہو گی اور اندر چلے جانے کے بعد کئی گھنٹوں کے لیے اپنا چہرہ نہیںں دکھائے گی۔
    بہت قلیل عرصے میں ہی وہ مجھے بہت پیاری، اپنی اپنی اور دل کے نزدیک لگنے لگی ہے۔ مجھے اس کا انتظار رہنے لگا ہے کہ کب دھوپ ڈھلے، کب جھولے پہ چھاؤں آئے اور وہ اپنا موبائل اور ہینڈز فری سنبھالے اینڑرنس کا ڈور کھولے خوشی سے لمبے لمبے ڈگ بھرتی لان میں نصب لکڑی کے بڑے سے جھولے پہ آبیٹھے۔
    ٭…٭…٭





    میرے چہار سو سب کچھ ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا۔ اجاڑ، ویران، بیابان جنگل آہستہ آہستہ زندگی، رنگوں اور پھول بوٹوں سے آباد ہوا ہے۔ ہر رنگ، نسل اور مذہب کے لوگوں کو میں نے یہاں آ کے بستا اور پھر جاتا دیکھا ہے۔
    کچھ جگہوں کی قسمت میں مستقل مکین نہیں ہوتے۔ اس بنگلے کا ظاہری رنگ و روغن اور تزئین و آرائش بہت بار بدلا ہے۔ جو یہاں رہنے آتا ہے اپنی مرضی کے رنگ بھر دیتا ہے مگر اس کی ہیئت آج بھی ویسی کی ویسی ہے جیسے میرے سامنے تعمیر کی گئی تھی۔
    وہ حسین دن میرے حافظے میں اچھے سے محفوظ ہے۔ جب وہ بہار کے پہلے جھونکے کی مانند خوش باش سی گاڑی سے اتری تھی اور ہر سو شگوفے چٹخنے لگے تھے۔ اسے دیکھتے ہی میری آنکھوں میں شناسائی کی چمک لہرائی کہ کوئی سال بھر پہلے بھی وہ چند دنوں کی مہمان بن کے آئی تھی اور جب گھر میں داخل ہونے سے پہلے دلچسپی سے ایک بھرپور نگاہ اس نے ہم سب پہ ڈالی تو شناسائی اس کی روشن آنکھوں سے بھی بخوبی چھلکی تھی۔
    سچ پوچھیے تو میں نے ایک صدی کی طویل مدت میں کیا کیا نہیں دیکھا ہے مگر خدا کو حاضر ناظر جان کے کہتا ہوں کہ میں نے اس کے جیسی اللہ پاک کی خوبصورت تخلیق پہلے نہیں دیکھی یا شاید پہلے کوئی مجھے اتنی منفرد لگی ہی نہیں۔
    ٭…٭…٭
    ادھر ڈھلتی دھوپ آہستہ آہستہ جھولے سے سرکنا شروع ہوتی ہے، ادھر وہ ہاتھوں میں گولڈن کلر کا موبائل، سفید ہینڈز فری اور کالے کور کی ڈائری تھامے سیدھی گارڈن میں نصب جھولے پہ کھنچی چلی آتی ہے۔
    جھولا جھولتے ہوئے اس کے لمبے کالے کھلے بال ہوا کے دوش پہ بے تحاشا سرگوشیاں کرتے جھولا آگے آتا تو اس کی ریشمی زلفیں کالی ناگن کی طرح سفید گالوں سے لپٹ لپٹ جاتیں۔
    میں جان گیا ہوں کہ اس کا پسندیدہ وقت وہ ہوتا ہے جو وہ اکیلی اپنی ذات کے ساتھ جھولے پہ بِتاتی ہے۔ وہ کسی سے بات نہیں کرتی، بس چپ چاپ جھولا جھولتی ہے۔ جب اس کی سیدھی نگاہ مجھ پہ ٹھہرتی ہے تو وہ میرے لیے دن کا سب سے بہترین وقت ہوتا ہے اور پورے دن میں اسی خوش قسمت گھڑی کا مجھے شدت سے انتظار رہتا ہے کہ بہرکیف اتنی توجہ سے تو آج تک ہمیں کسی نے نوازا ہی نہیں جتنی وہ دیتی ہے۔
    اپنی پرتجسس آنکھوں سے وہ ہر سو دیکھتے ہوئے حصار باندھتی جاتی ہے۔
    میں نے محسوس کیا ہے کہ لان کے بیچوں بیچ پوری شان و شوکت سے کھڑے درویش درخت پہ اڑتے طوطے دیکھ کر اس کی آنکھوں میں بچوں کی سی چمک اور خوشی جھلکتی ہے۔
    مجھے تعجب ہوتا ہے کہ کانوں میں ہینڈز فری لگائے کچھ نا کچھ سنتے اور دھیمے سروں میں گنگناتے ہوئے بھی وہ کیسے اپنے گردوپیش سے اتنی باخبر رہتی ہے۔ درویش درخت سے گرتے بے جان خزاں رسیدہ پتے، آزادی سے اڑتے طوطے، شاخوں سے جھولتی عقاب کے سائز کی چمگاڈریں، دور درخت پہ کوکتی کوئل، گارڈن اور گردوپیش کا ہر پھول بوٹا وہ اتنے دھیان اور لگاوٹ سے دیکھتی ہے جیسے اس کے سوا اس کی زندگی کا کوئی مقصد ہی نہیں۔
    گلاب اور موتیے کے پھولوں پہ اس کی پرشوق نگاہیں پلٹ پلٹ کر آتی ہیں۔ خوبصورتی اور رنگینی کسے نہیں بھاتی۔ اب تو آپ سمجھ لیں کہ وہ مجھے اتنا کیوں بھاتی ہے۔’’وہ سر تا پا زندگی اور رنگین ہے۔‘‘
    ٭…٭…٭
    ویک اینڈ پہ بچوں کی اسکول کی چھٹی ہونے کے باعث لان میں بہت رونق ہوتی ہے اور اس کی وجہ بلاشبہ وہی ہے۔ جب تک وہ گھر کے اندر ہوتی ہے، کوئی بچہ باہر نہیں دکھتا اور ادھر وہ لکڑی کے پھٹوں سے بنے جھولے پہ آ کے بیٹھتی ہے اور کچھ ہی دیر میں ایک ایک کر کے بچیاں اینٹرینس کا دروازہ کھول کر باہر جھانکتی ہیں اور سیدھی اس کے پاس جھولے پہ بھاگی چلی آتی ہیں۔ وہ بیچ میں اور دو بچیاں اس کے دائیں بائیں بیٹھ کر جھولا جھولتے ہوئے نجانے کون کون سے قصے زیرِ بحث لاتی ہیں۔
    ان کی باتوں اور قہقہوں میں بچیوں کی ضد کرنے اور جھگڑنے کی آوازیں تب شامل ہو جاتی ہیں جب اندر سے بھاگ کے باہر آئی ہوئی تیسری بچی بھی جھولے پہ بیٹھنے کی ضد کرتی ہے۔ ایسی صورت میں وہ بخوشی ہتھیار ڈال کے اٹھ کھڑی ہوتی ہے اور اپنی جگہ تیسری بچی کو دے دیتی ہے مگر آہ! یہ کیسی بات ہے کہ تھوڑی دیر میں ایک ایک کر کے اس کے پیچھے تینوں بچیاں بھاگتی چلی جاتی ہیں اور اس کے ساتھ کوئی نا کوئی گیم کھیلنے میں مگن ہو جاتی ہیں اور خالی جھولا میری طرح انہیں دلجمعی سے تکتا رہتا ہے۔ اسے دیکھ کے میں نے جانا ہے کہ کچھ لوگوں کو واقعی انسانوں کو جوڑے رکھنے کا ہنر آتا ہے۔
    وسیع و عریض گارڈن میں وہ بچیوں کے ساتھ بھاگتی دوڑتی رہتی ہے۔ بیڈمنٹن کی کئی باریاں کھیلتی اور جیتتی بھی ہے۔ میرے دیکھتے ہی دیکھتے اسے بچپن کے بعد سے بھولی سائیکلنگ بھی آگئی ہے۔ جس دن اسے سائیکل بیلنس کرنی اور چلانی آئی، اس دن اس کے چہرے پہ بچوں کی سی خوشی تھی جیسے اس نے کوئی معرکہ سرانجام دیا ہو۔
    انسان بھی کتنی دلچسپ مخلوق ہے۔ ہر وقت کسی نا کسی جستجو میں جتا رہتا ہے۔ کچھ سیکھنے کی جستجو، کچھ پانے کی، حاصل کرنے کی یا کسی کو تسخیر کرنے کی جستجو اور جب جستجو پوری ہو جاتی ہے تو خوشی سے نہال ہو جاتا ہے اور یوں اتراتا ہے جیسے اس نے دنیا فتح کرلی۔
    اب اسے ایک اور ایکٹیویٹی مل گئی ہے۔ وہ بچوں کے ساتھ آزادانہ سائیکل ریس لگاتی ہے۔ کبھی پکی روش پہ تو کبھی گھوڑوں کے اصطبل کے اطراف۔ ان کی آوازوں اور چیخوں سے کتنی رونق لگی رہتی ہے۔
    ٭…٭…٭




  • وادان — خدیجہ شہوار

    ’’تم یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘وہ درخت کے موٹے تنے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا کہ ایک دم سے چونک کر اٹھ بیٹھا۔گھبرا کر چاروں سمت نظریں دوڑا ئیں ۔
    ’’آواز کہاں سے آئی؟کون بولا؟‘‘وہ سمجھ نا پایا۔
    ’’کون ہے؟میرے سامنے آئے۔‘‘ اس نے بے ساختہ پکارا۔
    ’’میں ہوں ،’’وادان ‘‘ ایک درخت جس کی ٹھنڈی گھنی چھاؤں میں تم بیٹھے ہو۔ ‘‘ ساٹھ سالہ قد آور بوڑھا درخت بولا ۔اس نے حیرت زدہ آنکھوں سے درخت کی طرف دیکھا ۔
    ’’اوہو!تو تم بول رہے ہو۔‘‘ اس نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے درخت کو دیکھا۔
    ’’ہاں!اورتم کون ہو؟‘‘بوڑھے درخت نے پوچھا۔
    ’’میں انسان ہوں۔‘‘ اس نے جواباً کہا۔وہ بوڑھادرخت بے ساختہ مسکرایا۔
    ’’وہ ،جودنیا کی ہر چیز پہ قابض ہے؟دنیا پہ راج کرتا ہے اور ایک دن اسی مٹی میں دفن ہو جاتا ہے جس مٹی سے بنا ہے؟‘‘وہ بوڑھے درخت کی بات پے ہلکی سی ہنسی ہنسا اور چمکتی آنکھوں سے درخت کا اوپر سے نیچے تک پورا جائزہ لیا جیسے درخت کی بات نے اسے متاثر کیاہو۔
    ’’ہاں! تم انسان کا مطلب خوب سمجھتے ہو۔تم مجھ سے دوستی کرو گے؟‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
    ’’ہاں !میں دوستی کروں گا۔کیونکہ تم میرے لیے انجان نہیں ہو۔‘‘درخت نے جواباً کہا۔
    ’’تم میرے بارے میں کیا جانتے ہو؟‘‘ اس نے بوڑھے قد آور درخت سے استفسا ر کیا۔





    ’’یہی کہ تم اکثر یہاں سے گنگناتے ہوئے گزرتے ہو۔کبھی کبھار میری ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ کر آرام کرتے ہو۔کبھی کبھار میرے سائے میں بیٹھ کر کتاب بھی پڑھتے ہو۔اور تمہا را گھر سامنے نظر آتے کچے پکے مکانوں میں ہے۔ ‘‘ وہ درخت کے منہ سے اپنا تعارف سن کر چونکا اور بے اختیار ہنس دیا۔
    ’’تم بہت دلچسپ باتیں کرتے ہو۔تمہارے ساتھ میری خوب نبھے گی۔ویسے تمہیں کیا کرنا پسند ہے؟‘‘ اس نے درخت کے مضبوط چوڑے تنے سے ٹیک لگاتے ہوئے پوچھا۔
    ’’میں سارا دن سورج کی کرنوں سے باتیں کرتا ہوں۔بادلوں کواٹکھیلیاں کرتا دیکھتا ہوں ۔ پرندوں کو بیٹھنے کے لیے اپنے بازو فراہم کرتا ہوں ۔ آتے جاتے انسانوں کو چھاؤں دیتا ہوں۔دنیا میں سبز رنگ پھیلا کردل و دماغ کو ٹھنڈک کا احساس دیتا ہوں۔انسانوں کے لیے آکسیجن پیدا کرتا ہوں۔ ‘‘ درخت نے اعتماد سے کہا۔وہ درخت کی دلچسپی سے باتیں سنتے ہوئے مزہ لے رہا تھا۔
    ’’تم انسانوں سے زیادہ گہرے ہو۔تم وہ سب دیکھتے ہو جو انسان نہیں دیکھ سکتے۔‘‘اس نے درخت کو سراہا۔
    ’’یہ جو چھوٹے بڑے درخت تم میرے ارد گرد دیکھ رہے ہو ۔یہ میری برداری ہے۔میرے نو بھائی ،چھ بہنیں،چچازاد کزن،خالہ زاد کزن سبھی یہاں موجود ہیں۔جب وقت ملے تو ان سے بھی گپ شپ لگا لیتا ہوں۔میں ان سب سے بے حد پیار کرتا ہوں۔یہ میرے لیے بہت خاص ہیں۔اور وہ دیکھو چھوٹے چھوٹے ننھے پودے جو آج کل میں زمین کا سر پھاڑ کر باہر آئے ہیں میرے پوتے پوتیاں ہیں۔یہ بہت شرارتی ہیں۔لیکن میں انہیں کبھی نہیں ڈانٹتا۔ ‘ ‘ درخت نے پودوں کی طرف اشارہ کیا۔اس نے آنکھیں سکیڑے حیرانی سے سبھی چھوٹے بڑے پودوں کو دیکھا۔
    ’’جب آندھی یا طوفان آتے ہیں پھر تم کیا کرتے ہو؟ یہ ننھے پودے تو مرجھا جاتے ہوں گے نا؟‘‘ اس نے درخت سے استفسار کیا۔
    ’’ میں اور میری طرح دوسرے درخت سینا تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ طوفان ہم سے ڈر جاتا ہے اور کچھ کہے بغیر گزر جاتا ہے لیکن یہ ننھے پودے اس وقت خود کو ڈھیلا چھوڑ دیتے ہیں۔کچھ دیر کے لیے سر جھکا لیتے ہیں۔طوفان ان کی عزت کرتے ہوئے انہیں ایسے ہی قائم رہنے دیتا ہے اور گزر جاتا ہے۔‘‘بو ڑھے درخت نے بھاری بھرکم آواز میں بولتے ہوئے بتایا۔
    ’’ مجھے تمہاری فیملی کے بارے میں جان کر اچھا لگا۔ تمہاری فیملی کافی بڑی ہے۔‘‘ اس نے بوڑھے درخت کی برادری پر سرسری نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔بوڑھا درخت مسکرا یا۔
    ’’ہاں ! ایسا ہی ہے۔ ‘‘لمبے توانا بوڑھے وادان نے جواباً کہا۔
    اسی لمحے اسے کوئی ضروری کام یاد آ گیا اور اس نے وادان سے جانے کی اجازت لی اورچلا گیا۔کچھ دن ایسے ہی گزر گئے۔وادان روز اس کا انتظار کرتا۔کبھی انتظار میں راہ تکتا تو کبھی چاند کی چاندنی میں چند منٹ سو کر نیند پوری کر لیتا۔کبھی پوتے پوتیوں سے گپ شپ لگا لیتا اورکبھی بادلوں کا حال احوال پوچھ لیتا۔اور اسی طرح ایک دن وہ پھر وہاں سے گزرا اور وادان کا حال چال پوچھنے آ گیا۔بوڑھا درخت اسے دیکھ کر بہت خوش تھا۔وہ اب اکثر وادان کو ملنے آتا۔ ڈھیروں باتیں کرتا۔ دل کا بوجھ ہلکا کرتا۔کچھ اس کی سنتا کچھ اپنی سناتا۔ان دونوں کو آپس میں گپ شپ لگانے میں مزہ آنے لگا تھا۔
    ’’مجھے وقت نہیں ملا ورنہ میں تمہیں پہلے ملنے آجاتا۔کہو کیسے ہو۔؟‘‘ اس نے وادان کو مخاطب کیا۔
    ’ ’ تمہارے سامنے ہوں۔ ‘‘ وادان نے جواباً کہا ۔وہ آگے بڑھا اور وادان کی ٹھنڈی چھاؤں میں موٹے چوڑے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔و ہ اس قد آور درخت کے نیچے پہلے بھی بیٹھا کرتا تھا لیکن جب سے ان دونوں کی دوستی ہوئی تھی اسے بوڑھے درخت کے سائے میں بیٹھنے میں سرور آنے لگا تھا۔اسی لمحے ایک ننھی چڑیا وادان کی آسمان کو چھوتی شاخوں پے آن بیٹھی۔
    ’’وادان! یہ کون ہے جو تمہارے سائے میں بیٹھا ہے؟‘‘ چڑیا کچھ خوفزدہ تھی۔وادان چڑیاکے سوال پر بے ساختہ ہنسا۔
    ’’میرا دوست ہے۔‘‘ وادان نے جواب دیا۔ وہ بھی چڑیا کو چہچہاتا دیکھ کر متوجہ ہوا اورٹیک چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
    ’’یہ انسان ہے۔اس سے بچو۔‘‘ چڑیا نے تقریباً چلاتے ہوئے کہا۔وادان کی مسکراہٹ برقرارتھی۔
    ’’نہیںنہیں!ننھی چڑیایہ میرا دوست ہے۔اور مجھے اس سے کوئی خطرہ نہیں۔‘‘ وادان نے چڑیا کو تسلی دی۔ چڑیا مایوس کن آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی اور پھر پنکھ پھیلا کر دور فضا میں کہیں غائب ہو گئی۔وادان اسے آسمان میں غائب ہوتا دیکھتا رہا۔
    ’’یہ ننھی چڑیا کیا کہہ رہی تھی تم سے؟‘‘ اس نے تجسس میں پوچھا ۔
    ’’کچھ خاص نہیں۔‘‘ وادان نے اسے ٹالتے ہوئے کہا۔
    ’’جانتے ہو،میرا دل چاہتا ہے میں ایک پرندہ ہوتا ۔میں بھی جگہ جگہ اٹکھیلیاں کرتا ۔جب دل چاہتا گھونسلے میں آرام کرتا۔جب بھوک لگتی تو دانہ چگنے چلا جاتا۔ میں بھی درختوں کی لمبی لمبی شاخوں پے بیٹھ کر پوری دنیا کا نظارہ کرتا ۔ میری زندگی کتنی ہلکی پھلکی ہوتی ۔میری زند گی بھی پرندے کی طرح مشقت سے خالی ہوتی تو کیا ہی مزہ آتا ۔‘‘ اس نے حسرت لیے کہا۔وادان اس کی خواہش سن کر ہنس دیا۔
    ’’تم انسان بن کر خوش نہیں ہو؟‘‘ وادان نے پوچھا۔




  • پراسرار محبت — کوثر ناز

    ہوا کی سرسراہٹ اور وحشت زدہ سناٹے کو چیرتے ہوئے گھوڑے کے قدموں کی ٹاپ دور دور تک گونج رہی تھی۔ وہ ہر شے بے نیاز اڑتے بالوں کو کاندھے کے ایک طرف ڈالے سرپٹ دوڑتے گھوڑے کی لگام مضبوطی سے تھامے اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔
    وہ ہر روز کی مانندصبح کی سیر کو نکلی تھی۔ موسم گذشتہ رات ہونے والی بارش کے باعث ابھی تک نم آلود تھا اور فضا میں خنکی برقرار تھی۔ وہ گہری سانس خارج کرتے ہوئے جوگرز پہنے باہر نکلی تو مشرق کی جانب سے نکلتا ہوا سورج گہرے بادلوں کی اوٹ میں جا چھپااور اندھیرے نے ایک بار پھردن پر سرمئی چادر تان کرزمین کی جانب رخ کرتی سورج کی شعاعوں کا راستہ روکا۔ وہ اس بے اعتبار موسم کے تیور بدلتے دیکھ کر مسکرا دی۔ ایسے موسموں سے اسے عشق تھا۔ دل لبھاتا موسم اسے روحانی سکون بخشتا تھا۔ وہ جوگرز کی تسمے کستے ہوئے ایک طرف کھڑے گھوڑے کو دیکھ کر اس کی جانب بڑھی۔تو اس کے لبوں پر پُراسرار سی مسکراہٹ چھا گئی۔
    ’’تم پورے ایک ہفتے بعد آتے ہو ستم گر!‘‘ اس کا دل ایک ہی لے پر دھڑک رہا تھا اور وہ لے نغمہِ محبت کے علاوہ کسی شے کی نہیں ہوسکتی تھی۔
    گلابی رخسار اور آنکھوں میں محبوب سے ملاقات کی چاہ لیے وہ گھوڑے کو ایڑ لگا کر ایک ہی جست میں گھوڑے کی پیٹھ پر سوار ہوئی تو گھوڑا زرا سا ہنہنانے کے بعد اپنی منزل کی جانب پیش قدمی کرنے لگا۔ عجیب گھوڑا تھا کہ جس پر سفر کرتے ہوئے اسے کبھی خوف محسوس نہیں ہوا تھا۔ ہمیشہ لگا کہ محبوب کی مضبوط بانہوں کا حصار اس کے گرد تمام تر حفاظت کے لیے موجود ہے۔ وہ سرشاری کی سی کیفیت میں ڈوبی مغرب کی جانب سفر کرنے لگی۔ تیز چلتی ہوا کے تھپیڑے ، آندھی کے باعث درختوں سے جھڑتے ہوئے پتے اور چاروں جانب لہلہاتی ہریالی نے موسم کو اس قدر فسوں خیز بنا دیا تھا کہ ہر طرف ڈزنی لینڈ کا سا گمان ہونے لگا تھا۔ وہ ہر اس خوبصورت منظر کو نگاہوں میں قید کرتے ہوئے آگے بڑھنے لگی جو قدرت کی عنایت کے باعث زمین کا حصہ بنا ہوا تھا۔
    یہ ایک سرسبز و شاداب وادی تھی جہاں آکر گھوڑے نے آگے بڑھنے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ محبوب یہیں کہیں ہوگا۔ وہ گھوڑے کی ایڑ پر پاؤں رکھتے ہوئے نیچے اتری تو گھوڑا ایک طرف کو چل دیا۔ اس نے گلے میں پڑا مفلر درست کرتے ہوئے بالوں کو ہاتھ کی کنگھی بنا کر سلجھایا اور اپنے مخصوص انداز میںسارے بال کاندھے کے ایک طرف ڈال کر گھاس کو کچلتے ہوئے آگے بڑھنے لگی ۔
    ٭…٭…٭





    وہ اس کی ہرنی کی سی چال دلچسپی سے دیکھ رہا تھا ۔ وہ دونوں ہاتھ ہوا میں پھیلائے سنبھلسنبھل کر قدم رکھتی آگے بڑھ رہی تھی۔ کل رات ہونے والی بارش کے باعث زمین نم آلود تھی اور یہی وجہ تھی کہ اس کے قدم آہستگی سے آگے بڑھ رہے تھے۔ وہ اسے اپنی جانب آتے ہوئے دیکھ کر چھپ گیا۔ وہ آس پاس اسے ڈھونڈنے کے بعد تھک ہار کر وہیں سنگی بنچ پر بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگی ۔وہ آہستہ سے درخت کی اوٹ سے نکلا توحسینہ نے شہزادے کی مسکراہٹ دیکھ کر چہرے پر خفگی کے تاثرات سجا لیے۔
    ’’روشنی! تنگ کررہا تھا یار بس!‘‘ وہ حسینہ کا ہاتھ تھامے مان سے کہہ رہا تھا وہ ہنس دی۔ اور پھر دیرتک اسکے سنگ بیٹھی باتیں کرتی رہی ۔ ہرمحبت کرنے والے جوڑے کی طرح اس کے سنگ مستقبل کے خواب بننے لگی۔ اس کے حسن کے قصیدے پڑھتے ہوئے اپنی تعریف پر شرمائے لجائے جاتی۔ اس کی باتیں اس قدر دل لبھانے والی ہوتیں کہ وہ گھنٹوں اسے بیٹھ کر سن سکتی تھی۔ابھی بھی یہی ہوا تھا وہ اس کے سنگ بیٹھی مستقبل کے خواب بن رہی تھی اور حسین لمحات پا کر راز و نیاز کررہی تھی۔ وہ اس کے بالوں کی آوارہ اڑتی لٹوں سے کھیلتے ہوئے اس کو اس قدر توجہ سے سن رہا تھا گویا اس سے زیادہ ضروری کوئی کا م ہی نہ ہو اور ایسا تھا بھی۔ انہیں ملتے ہوئے یہ چھٹاہفتہ تھا اور وہ ہر بار ایسے ہی فرصت سے بیٹھ جایا کرتا کہ دنیا کہ باقی کاموں سے بے فکر ہے اور سب سے زیادہ ضروری بس وہی ہے۔ وہ اس کی اس قدر توجہ اور چاہت پر نازاں ہوتی نہ تھکتی تھی۔ اکثر اپنی وادی کی سہیلیوں سے اس شہزادے کا ْذکر کرتی تو گردن فخر سے اٹھ جایا کرتی۔ اس کی چاہت کے قصے سناتی تو وہ اس دلچسپی سے گویا کسی اور زمانے کی داستان گڑھ رہی ہے۔
    روشنی اور وہ طلمساتی آنکھوں والا شہزادہ بنام اسرارحق اسے اسی جگہ ملا تھا ۔ وہ ایک طوفانی رات تھی جب روشنی اپنی سہیلیوں کے ہمراہ جگنو پکڑنے کی خواہش میں جنگل کی طرف نکل آئی تھی اور پھر راستہ بھٹک گئی۔ سہیلیاں اسے ڈھونڈتے ہوئے گھر کی جانب روانہ ہوگئیں اور وہ وہیں اندھیرے کے خوف سے سنگی بینچ سے چپک کر بیٹھ گئی۔ پراسرار ہوا اور تیز چلتی آندھی اور ہلکی بوندا باندی اور رات کے سناٹے نے ماحول کو یکدم خوفناک بنا دیا تھا۔ ایسے میں وہ تھا کہ جس کے قدموں کی آمد نے اسے سانس بحال کرنے پر مجبور کیاتھا۔ وہ کسی کی آمد کو محسوس کرتے ہوئے فوراً مدد کے لیے پکار نے لگی۔ تبھی وہ اس کی جانب بڑھا اور ہاتھ میں تھامے سارے جگنو ایک ایک کرکے اڑا دیے۔ پل بھر کے لیے ایسا سماں بند ھ گیا کہ وہ حیرت زدہ سی ماحول پر چھائی خوبصورتی کو ساکت سی ہوکر دیکھنے لگی۔ پھر اس شخص کا خیال آیا تو چونک کر اس کی جانب دیکھا۔
    ’’مجھے اسرار حق کہتے ہیں۔ یہاں جنگل کی سیر کو نکلا تھا، رات کب ہوئی اندازہ ہی نہیں ہوسکا۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ کوئی شہزادی یہاں تنہا اور خوفزدہ ہوگی ۔‘‘ وہ طلمساتی آنکھوں والا شہزادہ اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا اور اس کی مسکراہٹ میں بھی ایسا طلسم ضرور تھا کہ وہ پہلی ہی ملاقات میں اسے اپنے سنگ باندھ چکا تھا۔ اسے گھر تک چھوڑتے ہوئے اس نے بتایا تھا کہ وہ دوسرے شہر رہتا ہے، یہاں وادی میں سیر کو آیا تھا اور اسی رات واپسی کا ارادہ تھا لیکن اسے دیکھنے کے بعد ایک دن مزید اس کے ہمراہ گزار کر جانے کی خواہش کا اظہار کیا تھا جسے روشنی نے بنا چوں چرا کیے مان لیا۔ وہ تو گویا کوئی اختلاف کر نے کے قابل ہی نہیں رہی تھی۔ وہ ساحرطلسم پھونک چکا تھا۔
    اگلے دن روشنی اپنے گھر سے کچھ فاصلے پر موجود ایک ٹیلے پر کھڑی اس کی منتظر تھی اور وہ گھوڑے پر سوار ایک طرف سے آتا ہوا دکھائی دیا۔ وہ قریب پہنچا توروشنی اس کی ہمراہی میںاسی جگہ آن پہنچی جہاں وہ پہلے روز ملے تھے اور پھر اسی دن وہ سارے عہدو پیماں اسرار حق نے باندھ لیے جنہیں باندھنے کو ایک عرصہ درکار ہوتا ہے۔وہ تب سے اب تک ہر ہفتے اس سے ملنے آیا کرتا اور روشنی ہر ہفتے اس کی منتظر رہتی۔ وہ چند ہفتوں کے ساتھ میں برسوں کی سی پختگی محسوس کرنے لگی تھی۔ اسرار، روشنی کی روح تک میں سرائیت کرگیا تھا۔ اتنا، کہ وہ اپنی سہیلیوں سے اس کا ذکرکرنے کو معتبر خیال کرنے لگی۔
    ابھی بھی وہ رازو نیاز میں مصروف تھی۔ اس کی واپسی پر افسردہ تھی اور وہ اسے اگلے ہفتے آنے کی یقین دہانی کرواتے ہوئے مسکرا رہا تھا۔ تبھی ایک طرف سے لڑکیوں کے قہقہوں کی آوازیں آنے لگی تو روشنی آنکھوں کی نمی صاف کرتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔
    عینی کو اپنی دوستوں کے ہمراہ پھولوں کی ٹوکریاں اٹھائے اپنی طرف آ تے دیکھا تو چہرے پر بشاشت لاتے ہوئے مسکرائی اور پھر اسرار حق کی جانب دیکھ کر آنکھ دبائی۔
    ’آؤ! تمہیں اپنی دوستوں سے ملواتی ہوں۔ یہ بہت خوش ہوں گی۔ بہت چاہ ہے انہیں تم سے ملنے کی۔‘ ‘ وہ چہکتے ہوئے اس کا ہاتھ تھامے عینی کی طرف بڑھنے لگی۔ وہ کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن روشنی سننے کو تیار نہیں تھی۔
    ’’ارے روشنی یہاں کیا کررہی ہو؟‘‘ عینی آس پاس دیکھتے ہوئے حیرانی سے پوچھ رہی تھی۔ حیا کی سرخی اس کے رخسار پر چھا گئی۔
    ’’اسرار سے ملنے آئی ہوں۔ تم بھی ملو ان سے اور اسرار یہ میری سہیلیاں ہیں۔‘‘ روشنی نے اسرار کا تھاما ہوا ہاتھ اٹھا کر اسرارکی جانب دیکھا۔ وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا پریشان سا کھڑا تھا۔ عینی اور اس کی سہیلیاں اس کے خالی ہاتھ کو دیکھ کرقہقہہ لگا کر ہنس دیں۔

    ٭…٭…٭




  • محتاج — سارہ عمر

    محتاج — سارہ عمر

    ”نل میں پانی نہیں آ رہا۔ کیا مصیبت ہے؟ اب منہ کیسے دھوؤں؟”
    ریحان نے سنک پر کھڑے ہو کر شور مچایا تھا۔چہرے پر صابن ملے وہ بے زار سا کھڑا تھا جب شہلا بالٹی جھولاتی پہنچ گئی۔
    ”کیا مسئلہ ہے، روز کا تماشا ہے۔”ریحان نے منہ پر پانی ڈالتے شہلا پر غصہ اتارا تھا۔
    ”پتا ہے روز کا تماشا ہے پھر بھی کبھی جلدی مت اٹھنا۔”شہلا نے بھی دو بدو سنائی تھیں آخر بہن کس کی تھی۔
    ”جلدی اٹھ کر کیا کروں؟ رات کو موٹر چلایا کرو۔” وہ تولیے سے منہ پونچھ رہا تھا۔
    ”چلاتے تو ہیں روز مگر فرحان، نعمان اور ابا کے جانے کے بعد فوراً لائٹ چلی جاتی ہے۔اس لیے تمہارے نصیب میں بس بالٹی کا پانی ہی آتا ہے۔”
    شہلا نے ہنستے ہوئے کہا تو ریحان نے تولیا ٹانگتے اسے دیکھا۔
    ”جب میرے نصیب میں بالٹی کا پانی ہی ہے تو جلدی اٹھ کر کیا کروں ؟” ریحان نے آنکھیں دکھائیں ۔
    ” بالٹی میں منہ دیکھ لو۔”
    شہلا نے شرارت سے کہتے ہوئے بالٹی میں بچا پانی ریحان پر پھینک دیا تھا اور تیزی سے اندر بھاگی۔
    ”شہلا کی بچی۔”
    وہ دہاڑتا ہوا اس کے پیچھے بھاگا۔
    ”ابھی نہیں ہوئی۔ بچی کے ماموں۔”وہ بھی منہ چڑاتی ہوئی جلدی سے کمرے میں گھس گئی جبکہ ریحان دروازہ بجاتا رہ گیا تھا ۔
    ٭…٭…٭
    شکیل احمد کے چار بچے تھے۔تین بیٹے اور ایک بیٹی ۔ ریحان جاب کرتا تھا۔جبکہ شہلا نے والدہ کی وفات کے بعد تعلیم کا سلسلہ منقطع کر دیا تھا۔ وہ ایف اے کا امتحان دے کر فارغ ہوئی تھی جب خانگی حالات دیکھتے ہوئے اس نے گھر رہنے کو ہی ترجیح دی ۔ فرحان اور نعمان اسکول سے واپس آتے تو کھانے کے لیے شور مچا دیتے۔شکیل صاحب اور ریحان شام کو دفتر سے لوٹتے تھے۔شہلا نے ایک سلیقہ مند لڑکی کی طرح سارا گھر سنبھال لیا تھا۔والد اور بھائیوں کو وقت پہ کھانا پکا ہوا ملتا۔گھر صاف ستھرا اور کپڑے دھلے ہوئے ۔
    جس علاقے میں شکیل صاحب رہائش پذیر تھے وہاں پانی کی بندش کا مسئلہ رہتا تھا۔صبح صبح ریحان اور شہلا کی نوک جھوک بھی چلتی رہتی۔
    دن مہینوں میں بدلے اور مہینے سالوں میں۔
    شہلا بیاہ کر اپنے گھر رخصت ہو گئی تھی۔ریحان کی بھی ترقی ہو گئی تھی۔ریحان کے آفس کی ایک کولیگ شمائلہ اس میں دلچسپی لینے لگی تھی۔ریحان کتنے عرصے بے خبر رہا، مگر جب اسے معلوم ہوا تو وہ کچھ پریشان ہوا تھا۔
    شمائلہ کا تعلق امیر گھرانے سے تھا اور وہ جاب شوقیہ کر رہی تھی۔اور ریحان ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔وہ ہمیشہ سے یہی چاہتا تھا کہ اس کی بیوی اس کی ماں اور بہن کی طرح سادہ اور گھر کو بنانے والی ہو۔شمائلہ دیکھنے سے ہی بہت ماڈرن لگتی تھی۔سونے پہ سہاگا اس نے بلاجھجک ریحان کو شادی کی پیشکش کردی۔ ریحان اس اظہار پر حیران و پریشان رہ گیا ۔ اس نے بغیر سوچے سمجھے بہت سلیقے سے شمائلہ کو انکار کر دیا تھا۔
    ریحان کے انکار نے شمائلہ کو شدید اذیت میں مبتلا کر دیا تھا۔ وہ ان امیر لڑکیوں میں سے تھی جن کے ماں باپ ان کی کوئی فرمائش رد نہیں کرتے تبھی ان کے نزدیک انسان بھی ایک چیز کی حیثیت اختیار کر جاتے ہیں۔ریحان ایک خوش شکل، ہینڈسم اور اپنے کام سے کام رکھنے والا لڑکا تھا۔ اُس کے اِس لیے رویے نے شمائلہ کو بہت متاثر کیا تھا۔وہ جتنا اس کے قریب جاتی وہ اتنا ہی دور چلا جاتا، مگر اس کے انکار نے شمائلہ کو مزید سرکش بنا دیا تھا۔اُس نے بھی سوچ لیا کہ ریحان کو حاصل کر کے رہے گی۔
    ٭…٭…٭




    شمائلہ نے آہستہ آہستہ ریحان سے دوستی کرنے کی کوشش کی تھی۔دھیرے دھیرے وہ اس کے حواسوں پر چھانے لگی تھی۔ وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی۔جانتی تھی وہ جہاں کہے گی اس کے ماں باپ شادی کے لیے مان جائیں گے۔ شمائلہ نے اسے احساس دلایا تھا کہ پیسہ اس زندگی کے لیے بہت ضروری ہے ۔ اس دنیا میں عزت صرف پیسے والوں کی ہے۔تمہیں اگر دولت اور محبت ایک ساتھ ہی نصیب ہو رہی ہے، تو اسے موقع کو مت گنواؤ ۔ قسمت بار بار مہربان نہیں ہوتی۔
    شمائلہ کی باتوں نے ریحان کو سوچنے پر مجبور کر دیا تھا۔وہ کبھی اتنا مادیت پرست نہ تھا جتنا بنتا جا رہا تھا۔شمائلہ کی صحبت نے بہت بدل دیا تھا۔شمائلہ کی ضد کے باعث اس کے والدین خود ہی رشتہ لے آئے ۔اس کے والد کا اپنا بزنس تھا اور شمائلہ بھی صرف شوق کے باعث ان کے دوست کی کمپنی میں جاب کر رہی تھی۔وہ اپنی بیٹی کی خوشی کی خاطر آ تو گئے مگر انہیں گھر دیکھ کر انتہائی مایوسی ہوئی تھی ۔ شکیل صاحب اور ان کے تینوں بیٹے سادہ طبیعت اور ملنسار تھے، مگر گھر شہلا کے جانے کے بعد سے کافی توجہ طلب حالت میں تھا۔ ایک کام والی تو آتی تھی جو برائے نام صفائی کر کے چلی جاتی، لیکن گھر کو گھر بنانے والی موجود نہ تھی۔ریحان کو لگا تھا کہ شاید شمائلہ شادی کے بعد اس گھر کو گھر بنا دے، مگر اس کے والد نے تو انہیں مزید الجھن میں ڈال دیا تھا۔
    ”دیکھیں شکیل صاحب ریحان کو دیکھ کر مجھے کافی تسلی ہو گئی ہے اور ہمیں اس رشتے پر اعتراض نہیں، مگر معذرت کے ساتھ میری بیٹی شادی کے بعد اس گھر میں نہیں آ سکتی۔”
    ”مگر شبیر صاحب لڑکیاں تو رخصت ہو کر سسرال میں ہی آتی ہیں۔” شکیل صاحب نے جواب دیا۔
    ”جی آپ کی بات بجا ہے، مگر میں نے اپنی بیٹی کو بہت نازوں سے پالا ہے۔ وہ کبھی اتنے چھوٹے اور پرانے گھر میں نہیں رہ سکے گی، مگر میں چاہتا ہوں کہ اپنی بیٹی کی خواہش رد نہ کروں۔”
    شبیر صاحب پہلو بدل کر بولے وہ کچھ کہتے ہوئے جھجھک رہے تھے۔
    ”مگر کیسے؟ کیا کوئی حل ہے؟”
    ” حل تو ہے اگر آپ قبول کریں۔”
    شبیر صاحب کی بات نے ان سب کو ورطہ حیرت میں ڈال دیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”ابو پلیز ہمارے ساتھ چلیں۔”
    ریحان نے دسویں دفعہ التجا کی تھی، مگر شکیل صاحب گھر چھوڑنے پر رضا مند نہ تھے۔
    ”تم دونوں ہی کچھ بولو۔ابو کو منا لو۔”ریحان فرحان اور نعمان سے کہنے لگا۔
    شبیر صاحب نے شمائلہ کو جہیز میں گھر دینے کی آفر کی تھی۔وہ چاہتے تھے وہ سب لوگ ہی ادھر شفٹ ہو جائیں ۔ ریحان کے خواب تو لمحوں میں پورے ہو گئے ۔ سب کچھ بن مانگے مل گیا۔ خوبصورت امیر بیوی، بنا بنایا گھر، نوکر چاکر اور شبیر صاحب نے مستقبل میں اسے اپنا بزنس سنبھالنے کی بھی آفر کی تھی۔
    شکیل صاحب شادی کے لیے تو مان گئے تھے اور انہوں نے ریحان کو کہہ دیا تھا کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ رہے، مگر وہ اسی گھر میں بہت خوش اور مطمئن ہیں کیونکہ یہاں ان کی شریک حیات کی یادیں ہیں۔
    ”ریحان بھائی ابو صحیح کہہ رہے ہیں ۔ ہم ادھر بہت خوش ہیں بس آپ بھابھی کے ساتھ نئی زندگی کی شروعات کریں۔بس ملنے آتے رہیے گا ۔”
    فرحان کی بات پر وہ بے اختیار بھائیوں کے گلے لگ گیا۔وہ ایسا چاہتا تو نہ تھا، مگر پیسے کی چمک نے اسے اپنے پیارے رشتوں سے دور کر دیا تھا۔پہلے پہل تو وہ مستقل آتا جاتا رہتا، مگر پھر یہ آنا کم ہوتے ہوتے ختم ہی ہو گیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    چھے سال بعد:
    ریحان نے شبیر صاحب کا بزنس سنبھال لیا تھا۔ان کے تین بچے تھے۔شمائلہ اچھی بیوی ثابت ہوئی تھی مگر بہت سی باتوں میں ابھی تک وہ خود سر اور ضدی ہی تھی۔
    آج کل ان کے علاقے میں نئی پائپ لائن بچھائی جارہی تھی تبھی صبح سے بجلی بند تھی۔ پانی ہلکا ہلکا آرہا تھا جب اس نے بے ساختہ ہی شمائلہ کو آواز دی تھی۔
    ”پانی نہیں آ رہا، منہ دھلا دو۔”
    ”بالٹی میں پانی رکھا ہے، خود ہی منہ دھو لیں بچے نہیں ہیں جو میں منہ دلاؤں۔ بہت شوق ہو رہا تو کسی ملازم کو بھیجتی ہوں۔”
    ”نہیں رہنے دو۔” اس نے جلدی جلدی منہ دھویا اور باہر نکل آیا۔ کوئی بہت شدت سے یاد آیا تھا۔وہ ناشتا کر کے ٹیرس پر کھڑا ہو گیا ۔آس پاس گھروں سے جنریٹر چلنے کی آواز آ رہی تھی۔ان کا جنریٹر خراب تھا جسے ٹھیک کرنے کوئی آدمی آیا تھا۔
    اس کے والد بھی کتنی چیزیں خود ہی ٹھیک کر لیتے تھے۔وہ ٹیرس سے نیچے جھانک کر دیکھنے لگا۔فرصت ملی تو بے سبب پرانے دن یاد آئے تھے۔اپنا گھر اپنے لوگ۔بھائیوں کا پیار، ان کی نوک جھوک۔
    ”نل میں پانی نہیں آ رہا۔”
    ایک آواز اسے ماضی سے حال میں واپس کھینچ لائی تھی۔
    وہ آواز اِس کے گھر کے سرونٹ کوارٹر سے سنائی دی تھی جس کے صحن کا کچھ حصہ اُس کے ٹیرس سے دکھ رہا تھا۔ اس کا چوکیدار منہ پر صابن لگائے زور زور سے بول رہا تھا۔
    ”نل میں پانی نہیں آرہا۔ اب لے بھی آؤ۔”
    چوکیدار کی بیوی بالٹی اٹھائے آئی تو چھم سے اسے شہلا یاد آئی تھی۔ وہ اب ڈونگے سے پانی ڈال کر اس کا ہاتھ منہ دھلا رہی تھی۔ جیسے ہی شوہر کا منہ دھلا تو بیوی نے ڈونگے میں بچا ہوا تھوڑا سا پانی اس کے منہ پہ اچھال دیا تھا اور دونوں میاں بیوی کھلکھلا کر ہنس پڑے تھے۔
    اس لمحے اسے ادراک ہوا تھا کہ محبت پیسے اور حالات کی محتاج نہیں ہوتی۔ یہ جہاں ہو اس چھوٹے سے گھر کو منور کر دیتی ہے۔

    ٭…٭…٭