Author: misbah116@hotmail.com

  • ہدایت — ساجدہ غلام محمد

    ہدایت — ساجدہ غلام محمد

    ’’دیکھو تو ذرا اس کے کپڑے!‘‘ سمیرا نے خرد کی طرف اپنا موبائل بڑھایا۔ سکرین پر پاکستانی شوبز کا صفحہ کھلا تھا جس میں ملک کی معروف ایکٹریس شیمی کی قابلِ اعتراض تصویر کے ساتھ ایک کار حادثے میں زخمی ہوجانے کی خبر تھی۔
    ’’توبہ! حلیہ تو دیکھو ذرا۔ نجانے اس کے والدین کیا سوچتے ہوں گے جب انہیں اس کی فلموں اور حرکتوں کے بارے میں پتا چلتا ہوگا۔‘‘ خرد نے تصویر کو تعجب سے دیکھتے ہوئے تبصرہ کیا۔دونوں یونیورسٹی کینٹین کے سامنے بنے ایک بنچ پر بیٹھی تھیں۔
    ’’غیرت کہاں ہوتی ہے ان میں۔ ایک بار پیسے اور شہرت کا نشہ لگ جائیتو پھر کچھ قابلِ اعتراض نہیں لگتا۔ خیر! ہمیں کیا۔‘‘ سمیرا نے کیپری کٹ ٹراؤزر والی ایک ٹانگ پر دوسری ٹانگ رکھ کر جھلاتے ہوئے کہا۔ بائیں والے نے افسوس سے دائیں والے کو دیکھا اور رجسٹر کھول کر اس میں کچھ درج کرنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    ’’اف!ان کا حلیہ دیکھو ذرا۔‘‘ شگفتہ نے حلیمہ کو ٹہوکا دیتے ہوئے کینٹین کے سامنے بنے بنچ پر بیٹھی خرد اور سمیرا کی طرف آنکھوں سے اشارہ کیا۔
    ’’توبہ! ٹراؤزر میں اتنا لمبا کٹ؟ حد ہی ہو گئی۔ کیا ان کے والدین کو اپنی بیٹیوں کا لباس نظر نہیں آتا ؟ نہ جانے ان کی مائیں انہیں اتنے واہیات فیشن کیسے کرنے دیتی ہیں۔‘‘ جینز کی پینٹ کے اوپر لمبی اور کُھلی سی قمیص پہنی حلیمہ نے ناگواری سے خرد اور سمیرا کی جانب دیکھا تھا۔
    ’’ سب تربیت کی بات ہوتی ہے۔ ہم بھی تو ہیں، ہم بھی فیشن کرتی ہیں لیکن ایک حد میں رہ کر۔ خیر! ہمیں کیا۔‘‘شگفتہ نے کہا اور دونوں کینٹین کے اندر چلی گئیں۔بائیں والے نے افسوس سے دائیں والے کو دیکھا اور رجسٹر کھول کر اس میں کچھ درج کرنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    ’’حلیہ دیکھو ذرا ان کا۔‘‘کوثر نے چاٹ کھاتی اسود کو ایک جانب متوجہ کیا تو اسود نے بھی اس کی نظروں کے تعاقب میں کینٹین کے دروازے کی جانب دیکھا۔ وہاں سے شگفتہ اور حلیمہ اندر داخل ہوئی تھیں اور اب کینٹین والے سے چیزیں خرید رہی تھیں۔
    ’’توبہ! دوپٹہ بھی نہیں لیا ہوا انہوں نے تو۔اتنی بے شرمی!حد ہے بھئی۔‘‘اسود کی آنکھوں اور لہجے میں ناگواری در آئی۔
    ’’آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔ ان کے ماں باپ کو نظر نہیں آتا کہ اور کچھ نہیں تو کم از کم دوپٹا تو اوڑھا دیں انہیں۔‘‘کوثر نے سر کے کونے پر ٹکے دوپٹے سے جھانکتے بالوں کو کان کے پیچھے اڑسا۔
    ’’ خیر! ہمیں کیا۔ ابھی کلاس شروع ہونے میں تھوڑا وقت رہتا ہے۔ آؤ فوٹو کاپی شاپ سے ہو آئیں۔ میں نے کچھ نوٹس کی فوٹو کاپی کروانا تھے۔‘‘ اسود نے چاٹ کا آخری لقمہ لے کر اٹھتے ہوئے کہا تھا۔ کوثر بھی بیگ سنبھالتے اٹھ کھڑی ہوئی۔ بائیں والے نے افسوس سے دائیں والے کو دیکھا اور رجسٹر کھول کر اس میں کچھ درج کرنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    ’’یہ دیکھو ذرا، دوپٹے کا مذاق۔‘‘ فوٹو کاپی دکان سے آتی ارم نے سامنے سے آتی کوثر اور اسود کو دیکھتے ہوئے منہ بنایا۔ اس کے ساتھ چلتی شمامہ نے بھی دونوں کو گھورا۔
    ’’بس دوپٹہ سر پر ڈال لیتی ہیں اور سمجھتی ہیں کہ یہ کافی ہے۔ سارے بال نظر آ رہے ہیں، سینہ بھی دوپٹے سے صحیح طرح نہیں ڈھانپتیں۔حیرت ہے ان کی امی کو نظر نہیں آتا کیا؟ یہ لمبا سا دوپٹا فیشن کے طور پر لے لیتی ہیں، سنبھالا جاتا نہیں ہے۔‘‘شمامہ نے بھی دبے دبے لہجے میں تبصرہ کیا تھا۔دونوں لڑکیاں ان کے پاس سے گزر چکی تھیں۔
    ’’دل تو میرا بھی کرتا ہے کہ بس دوپٹہ ہی لے لیا کروں۔ اتنی گرمی میں یہ عبایا اور پھر اس کے اوپر سکارف، ٹھیک ٹھاک پسینہ آ جاتا ہے لیکن پھر یہی سوچتی ہوں کہ اچھا نہیں لگتا۔ اب اتنی عادت ہو گئی ہے عبائے اور سکارف کی کہ ان کے بغیر اپنا آپ ادھورا سا لگتا ہے اور انہیں دیکھو تو اپنی طرف سے پردہ کیے بیٹھی ہیں۔ خیر! ہمیں کیا۔‘‘ ارم نے ٹشو سے ماتھے پر آتا پسینہ پونچھا اور دونوں کلاس روم کی جانب بڑھ گئیں۔ بائیں والے نے افسوس سے دائیں والے کو دیکھا اور رجسٹر کھول کر اس میں کچھ درج کرنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    ’’لاحول ولا قوۃ الا باللہ۔‘‘ نورین کے منہ سے بے اختیار نکلا۔
    ’’کیا ہوا؟‘‘ طیبہ نے چونک کر اس کی جانب اور پھر اس کی نظروں کے تعاقب میں سامنے کی طرف دیکھا۔سامنے ارم اور شمامہ ہنستی بولتی ہوئی ایک کلاس روم میں داخل ہو رہی تھیں۔
    ’’عبایہ دیکھا تھا تم نے ان کا؟ اتنا چست اور فیشن ایبل سا۔ کہیں سے نہیں لگ رہا تھا کہ یہ پردے کے لیے پہنا گیا ہے۔‘‘ نورین نے چہرے سے کھسکتے نقاب کو دوبارہ سیٹ کرتے ہوئے کہا۔
    ’’اس طرح کے پردے کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس پردے کا بھی پردہ ہونا چاہیے۔‘‘ طیبہ تمسخرانہ لہجے میں ہنسی۔ اس کی بات سن کر نورین بھی ہنس پڑی۔
    ’’ہاں تو اور کیا۔ اتنے جھلمل کرتے عبائے سے کیا خاک پردے کا مقصد پورا ہو گا۔مجھے تو بس کالے رنگ کا سادہ سا عبایہ اور نقاب پسند ہے۔کسی کو بُرا لگے تو لگے، مجھے دنیا کو تھوڑی دکھانا ہے۔ افسوس تو ان لڑکیوں اور ان کے ماں باپ پر ہوتا ہے، پردے کے نام پر زیادہ پُرکشش عبائے پہن لیتی ہیں اور والدین سوچتے بھی نہیں۔‘‘نورین نے کہا تھا۔
    ’’خیر! ہمیں کیا۔قیامت کے دن پتا چل جائے گا کہ اس طرح کا شوخ پردہ کرنے سے کتنا ثواب کما لیا انہوں نے۔‘‘ طیبہ نے بھی اس کی ہاں میں ہاں ملائی تھی۔ بائیں والے نے افسوس سے دائیں والے کو دیکھا اور رجسٹر کھول کر اس میں کچھ درج کرنے لگا۔
    ٭…٭…٭
    ’’اللہ!!! میرے اللہ!!! ‘‘ اس کا وجود کانپ رہا تھا۔ وہ زاروقطار رو رہی تھی۔
    ’’میرے مالک! مجھے معاف کر دے! میرے مولا! بس مجھے معاف کر دے، میں بہت زیادہ بھٹک گئی تھی۔ اس دنیا کی لذت نے میری آنکھوں پر پٹی باندھ دی تھی۔ مجھے اس چمک دمک میں تُو یاد ہی نہ آیا، اس دنیا کی شہرت نے مجھے اپنے جال میں پھنسا لیا تھا۔ میرے رب! مجھے معاف کر دے۔ میں تیرے در پر سچی توبہ لے کر آئی ہوں، میں اس شوبز کی گند بھری دنیا سے توبہ کرتی ہوں۔ بس میرے مالک! میرے دل کو نور اور ہدایت سے بھر دے۔ میرے اللہ! مجھے معاف کر دے! مجھے بس ایک بار معاف کر دے۔ میں تجھ سے معافی کی، ہدایت کی طلب گار ہوں۔ اے اللہ! ‘‘ پٹیوں میں لپٹے ہاتھوں سے اپنا منہ ڈھانپے شیمی ہچکیوں کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں سچی توبہ کر رہی تھی۔ بائیں کندھے پر بیٹھے فرشتے نے خوشی سے دائیں کندھے پر بیٹھے فرشتے کی جانب دیکھا۔شیمی کا گناہوں سے بھرا ہوا سیاہ رجسٹر یک لخت بالکل صاف ہو گیا تھا!
    اور اللہ جسے چاہے ہدایت سے نواز دے۔ ہمیں دوسروں کے لیے ہدایت کی دعا کرنے سے زیادہ پُرکشش کام ان پر منفی تبصرہ کرنا ہے۔کیا واقعی ان منفی تبصروں کی اللہ کے نزدیک کوئی اہمیت ہے؟
    ٭…٭…٭




  • اخوّت و احساس — عمارہ کامران

    ماہا آج بہت خوش تھی کیوں کہ چھٹیاں شروع ہو چکی تھیں اور اس بار تو عید بھی چھٹیوں میں آنی تھی۔ بڑی عید بھی آنے والی تھی اور اس بار تو وہ دو تین مہینے پہلے ہی قربانی کے لیے بکرا لانے والی تھی۔ اس کے بابا نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ اگلی گرمیاں شروع ہوتے ہی اسے اس کی پسند کا بکرا لے دیں گے۔ ہر سال دونوں عیدیں خوب دھوم دھام سے منائی جاتیں اور اس بار تو وہ اپنی دوستوں اور کلاس فیلوز کو بھی بلانے والی تھی۔
    آج اتوار کا دن تھا۔ اس کے بابا جانی کی آج آفس سے چھٹی تھی جس کا صاف مطلب تھا کہ آج وہ اسے بکرا لے کر دینے والے ہیں، پھر مما کے ساتھ ڈھیروں شاپنگ اور من پسند کھلونے، آج تو اسے خوب مزا آنے والا تھا۔
    صبح سے ہی ماہا ادھر ادھر ہنستی مسکراتی اچھلتی کودتی پھر رہی تھی۔ کبھی بابا کو یاد دہانی کرواتی کہ آج اسے کلرز، گلیٹرز اور اسٹیکرز وغیرہ لینے ہیں تاکہ وہ اپنی دوستوں کے لیے دعوتی کارڈز بنا سکے تو کبھی مما کو بتاتی کہ اسے اپنی دوستوں کے لیے گفٹ بھی لینے ہیں۔ ایک لمبی لسٹ تھی اس کے پاس فرمائشوں کی۔ ہمیشہ کی طرح اس بار بھی وہ چاہتی تھی کہ سب کو بڑی عید کے لیے دعوت دے۔
    اچانک ماہا کا دھیان دادی امی کی طرف گیا۔ آج اماں جی کمرے سے باہر آئیں اور نہ اس کے ساتھ باغ میں ہی گئیں۔ اس نے تو انہیں ناشتا کی ٹیبل پر بھی نہیں دیکھا۔ ویسے تو وہ ہمیشہ صبح کا ناشتا اپنے کمرے میں ہی کرتیں لیکن اتوار کو وہ بابا اور اس کے گھر پر ہونے کی وجہ سے ان سب کے ساتھ ناشتا کرتیں تو پھر آج وہ کیوں نہیں آئیں اس نے سوچا کہیں دادی امی بیمار تو نہیں۔
    مما! اماں جی نے ناشتا کر لیا؟‘‘ اس نے اُبلا ہوا انڈا کھاتے ہوئے سوال کیا۔
    ’’نہیں! ابھی نہیں کیا۔ کہہ رہی ہیں ان کا دل نہیں چاہ رہا۔‘‘ اس کی بریڈ پر مکھن لگاتے ہوئے مما نے جواب دیا۔
    ’’کیوں نہیں دل چاہ رہا؟ کہیں وہ بیمار تو نہیں؟‘‘ اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا۔ اسے یاد تھا پچھلی بار جب اس کی دادی امی بیمار ہوئی تھیں تو انہیں ہاسپٹل لے جایا گیا تھا۔ اسے ہسپتال بالکل اچھے نہیں لگتے تھے۔ کتنے بڑے بڑے انجیکشن اور ڈرپس لگائی تھیں ہسپتال والوں نے دادی امی کو، انہیں کتنا درد ہوا ہو گا۔ اس نے سوچ کر جھرجھری لی۔
    ’’ارے نہیں چندا !تمہاری اماں جی بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں۔ تم فکر نہ کرو اور چلو جلدی سے ناشتا مکمل کرو پھر آپ نے شاپنگ کرنے بھی تو جانا ہے نا۔‘‘ اس کی مما نے پیار سے پچکارتے ہوئے اسے تسلی دی۔
    اس نے جلدی جلدی اُبلا ہوا انڈا نگلا اور دودھ کے دو تین بڑے بڑے گھونٹ بھر کر ٹیبل سے اٹھ گئی:
    ’’کر لیا ممی بس اور نہیں۔‘‘ یہ کہتے ہی وہ وہاں سے بھاگ گئی۔ اسے پتا تھا ممی نے پھر سے پکڑ کر اسے زبردستی کھانے کے لیے بٹھا لینا ہے۔
    دادی امی کے کمرے کے دروازے پر دستک دے کر وہ اندر داخل ہوئی۔ ’’اماں جی! السلام علیکم‘‘ وہیں کھڑے کھڑے اس نے اماں جی کو جاسوسوں والے انداز میں دیکھا۔
    ’’وعلیکم السلام میری چندا! جیتی رہ میری جان۔ آ ادھر آ جا میرے پاس۔‘‘ دادی نے اسے دیکھ کر ہمیشہ کی طرح اپنی بانہیں پھیلا دیں۔
    وہ دوڑ کر اماں جی کے بیڈ پر چڑھ کر ان کی کھلی بانہوں میں چھپ گئی۔
    ’’اماں جی آپ نے ناشتا کیوں نہیں کیا؟‘‘ اس نے سوال کیا۔
    ’’دل نہیں چاہ رہا تھا، بعد میں کر لوں گی آپ نے کر لیا ناشتا؟‘‘انہوں نے جواباً اس سے پوچھا۔
    ’’جی کر لیا لیکن مزہ نہیں آیا آپ کے بغیر۔‘‘ اس نے کہا اور مزید تفتیش جاری رکھی۔
    ’’آپ صبح لان میں کیوں نہیں آئیں؟ وہاں گلاب کے پودے پر جو کلیاں ہیں وہ ساری آج پھول بن گئی ہیں۔ اتنے بڑے بڑے پھول کھلے ہیں اور موتیا کے کئی پھول نیچے گرے ہوئے تھے۔ میں نے سنبھال لیے، آپ میرے لیے گجرا بنا دیں گی نا۔‘‘ اس نے لاڈ دکھاتے ہوئے پوچھا۔
    ’’بالکل بنا دوں گی اور آپ کی پونی میں لگا بھی دوں گی۔‘‘انہوں نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پیار سے کہا۔
    ماہا نے اپنی آنکھیں سکیڑ کر انہیں دیکھا ۔’’ گھٹنے میں درد ہے کیا؟‘‘
    اپنی ننھی جاسوس کے سوال پر وہ مسکرائیں۔ وہ جانتی تھیں جب تک اس کو وجہ نہیں بتائیں گی وہ یوں ہی ان کے پاس بیٹھی سوال پر سوال کرتی رہے گی۔
    ’’نہیں! گھٹنے میں درد نہیں ہے۔ بس صبح صبح اخبار پڑھا تو پھر کچھ کرنے کو دل نہیں کیا۔‘‘
    ’’اچھا!‘‘ اس نے اچھا کو لمبا کیا۔ ابھی وہ اتنی بڑی نہیں ہوئی تھی کہ خبروں میں دل چسپی لیتی لیکن جب دادی یا بابا خبریں سنتے تو وہ بھی چپ چاپ بیٹھی ٹی وی پر نظر آتی تصویروں سے کہانیاں بناتی رہتی۔
    اماں جی نے محسوس کیا کہ وہ باہر جانے کو بے چین ہے اس لیے اس کے ساتھ اٹھ کھڑی ہوئیں۔’’ چلو باہر چلتے ہیں دیکھوں احمر اور بہو کیا کر رہے ہیں اور تم وہ پھول بھی لے آئو میں مالا میں پرو دوں۔‘‘ اماں جی کی بات سن کر وہ دوڑتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف بھاگ گئی۔
    ’’احمر بیٹا فارغ ہو؟ ایک بات کہنی تھی تم سے۔‘‘ اماں جی کچھ بات کرنے لگی تھیں کہ اچانک خبروں پر دھیان گیا۔ ٹی وی پر مختلف مناظر دکھائی دے رہے تھے۔ برما اور شام میں ہوتے مسلمانوں پر ظلم و ستم کا ذکر، ٹوٹے پھوٹے گرتے تباہ شدہ مکان اور سیمنٹ اور گرد سے اٹے بے بس اور معصوم بچوں کے چہرے۔ اماں جی نے عینک کے شیشے صاف کیے اور چادر کے پلو سے اپنی آنکھیں بھی پونچھیں۔ ہمیشہ کی طرح آج بھی وہ یہ خبریں دیکھتے ہوئے رو رہی تھیں اور ساتھ ہی دعا کے لیے ہاتھ اُٹھا لیے۔
    ’’اے اللہ! اے میرے مالک! مسلمانوں کی مدد فرما، انہیں اس ظلم سے بچا، ان کی حفاظت کے لیے درد دل رکھنے والے اپنے بندوں کی مدد بھیج دے اے اللہ!‘‘
    ماہا نے اپنی امی اورابو کو بھی دادی کی دعا پر آمین کہتے ہوئے سنا۔
    اس کے ابو کہہ رہے تھے کہ یہ تو روز کا معمول بن گیا ہے۔ ہر جگہ مسلمان تکلیف اور آزمائش کا شکار ہیں۔ اس کے جواب میں ماہا کی ممی بولیں برما کے حالات تو بہت برے ہیں، روہنگیا کے مسلمانوں سے تو رہنے کی جگہ بھی چھین لی۔ دنیا میں زمین کا کوئی ٹکڑا نہیں جسے وہ لوگ اپنا ملک کہہ سکیں۔
    اس کے ابو اب اماں جی کی بات سن رہے تھے لیکن اس کا ننھا سا ذہن ان سب کی باتوں میں اُلجھا ہوا تھا۔
    وہ چپ چاپ کمرے سے باہر نکل گئی۔ اس کے ہاتھ میں اخبار تھا جسے وہ پڑھ تو نہیں سکتی تھی لیکن اس میں پٹیوں میں لپٹی بچی اسے بالکل اپنے جیسی لگی اس کی طرح چھوٹی سی، بکھرے بکھرے بالوں والی۔ وہ شاید رو رہی تھی لیکن اس کے منہ پر اتنی گرد لگی تھی تو پتا کیسے چلتا۔




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۱۰ (آخری قسط)

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۱۰ (آخری قسط)

    وہ اس سے تین قدم آگے کھڑا تھا۔ اتنا قریب کہ وہ ہاتھ بڑھاتی تو اس کا کندھا چھولیتی۔ وہاں ان دونوں کے علاوہ اور کوئی نہیں تھا۔ وہ اس کے کندھے سے اوپر خانہ کعبہ کے کھلتے ہوئے دروازے کو دیکھ رہی تھی۔ وہ نور کے اس سیلاب کو دیکھ رہی تھی جس نے وہاں موجود ہر چیز کو اپنی لپیٹ میں لینا شروع کردیا تھا۔ وہ خانہ کعبہ کے غلاف پر تحریر آیات کو بآسانی دیکھ سکتی تھی۔ وہ آسمان پر موجود ستاروں کی روشنی کو یک دم بڑھتے محسوس کرسکتی تھی۔
    اس سے آگے کھڑا شخص تلبیہ پڑھ رہا تھا۔ وہاں گونجنے والی واحد آواز اسی کی آواز تھی۔ خوش الحان آواز… اس نے بے اختیار اپنے آپ کو اس کے پیچھے وہی کلمات دہراتے پایا۔ اسی طرح جس طرح وہ پڑھ رہا تھا، مگر زیر لب پھر وہ اپنی آواز اس کی آواز میں ملانے لگی۔ اسی کی طرح مگر زیرلب… پھر اس کی آواز بلند ہونے لگی پھر اس کو احساس ہوا… وہ اپنی آواز اس کی آواز سے بلند نہیں کرپارہی تھی۔ اس نے کوشش ترک کردی۔ وہ اس کی آواز میں آواز ملاتی رہی۔
    خانہ کعبہ کا دروازہ کھل چکا تھا۔ اس نے اس شخص کو آگے بڑھ کر دروازے کے پاس جاکر کھڑے ہوتے دیکھا۔ اس نے اسے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھاتے دیکھا۔ وہ دعا کررہا تھا۔ وہ اسے دیکھتی رہی پھر اس نے ہاتھ نیچے کرلئے۔ اب وہ نیچے بیٹھ کر زمین پر سجدہ کررہا تھا، کعبہ کے دروازے کے سامنے۔ وہ اسے دیکھتی رہی۔ اب وہ کھڑا ہورہا تھا۔ وہ پلٹنے والا تھا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھنا چاہتی تھی۔ اس کی آواز شناسا تھی مگر چہرہ، چہرہ دیکھے بغیر… وہ اب مڑرہا تھا۔
    ٭…٭…٭
    وہ یک دم ہڑبڑا کراٹھ بیٹھی۔ کمرے میں تاریکی تھی۔ چند لمحوں کے لئے اسے لگا وہ وہیں ہو، خانہ کعبہ میں، پھر جیسے وہ حقیقت میں واپس آگئی۔ اس نے اٹھ کر کمرے کی لائٹ جلادی اور پھر بیڈپر آکر دوبارہ بیٹھ گئی۔ اسے خواب اپنی پوری جزئیات سمیت یاد تھا، یوں جیسے اس نے کوئی فلم دیکھی ہو، مگر اس آدمی کا چہرہ وہ اسے نہیں دیکھ سکی تھی۔ اس کے مڑنے سے پہلے اس کی آنکھ کھل گئی تھی۔
    ”خوش الحان آواز، جلال انصر کے سوا کس کی ہوسکتی ہے۔” اس نے سوچا۔
    مگر وہ شخص دراز قد تھا۔ جلال انصر سانولا تھا، اس شخص کے احرام میں سے نکلے ہوئے کندھے اور بازوؤں کی رنگت صاف تھی اور اس کی آواز شناسا تھی۔ وہ یہ پہچان نہیں پارہی تھی کہ وہ آواز جلال کی تھی یا کسی اور کی۔
    خواب بہت عجیب تھا مگر اس کے سر کادرد غائب ہوچکا تھا اور وہ حیران کن طورپر پر سکون تھی۔ اس نے اٹھ کر کمرے کی لائٹ آن کی۔ وال کلاک ایک بجارہا تھا۔ امامہ کو یاد آیا وہ رات کو عشاء کی نماز پڑھے بغیر ہی سوگئی تھی۔ اس نے کپڑے بھی تبدیل نہیں کئے تھے نہ ہی سونے سے پہلے وضو کیا تھا۔ اس نے کپڑے تبدیل کئے اور اپنے کمرے سے باہر آگئی۔ سعیدہ اماں کے کمرے میں روشنی نہیں تھی۔ وہ سورہی تھیں۔ پورے گھر میں گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ صحن میں بلب جل رہا تھا۔ ہلکی ہلکی دھند کی موجودگی بھی بلب کی روشنی میں محسوس کی جاسکتی تھی۔ صحن کی دیواروں کے ساتھ چڑھی سبز بیلیں، سرخ انیٹوں کی دیواروں کے ساتھ بالکل ساکت تھیں۔ وہ وضو کرنے کے لئے صحن کے دوسری طرف موجود باتھ روم میں جانا چاہتی تھی مگر صحن میں جانے کے بجائے وہ برآمدے کے ستون کے پاس آکر بیٹھ گئی۔ اپنے سوئیٹر کی آستینوں کو اوپر کرتے ہوئے اس نے اپنی شرٹ کی آستینوں کے بٹن کھولتے ہوئے انہیں اوپر فولڈ کردیا۔ چند لمحوں کے لئے اسے جھرجھری آئی۔ خنکی بہت زیادہ تھی پھر وہ ان بیلوں کو دیکھنے لگی۔ ایک بار پھر جلال انصر کے ساتھ شام کو ہونے والی ملاقات اسے یاد آرہی تھی مگر اس بار اس کی باتوں کی گونج اسے اشک بار نہیں کررہی تھی۔





    دستگیری میری تنہائی کی تونے ہی تو کی
    میں تو مرجاتا اگر ساتھ نہ ہوتا تیرا
    تہ بہ تہ تیرگیاں ذہن پرجب ٹوٹتی ہیں
    نور ہوجاتا ہے کچھ اور ہویدا تیرا
    کچھ نہیں مانگتا شاہوں سے یہ شیدا تیرا
    اس کی دولت ہے فقط نقشِ کفِ پا تیرا
    ایک افسردہ سی مسکراہٹ اس کے ہونٹوں پر نمودار ہوئی۔ گزرے ہوئے پچھلے ساڑھے آٹھ سالوں میں یہ آواز… اور یہ الفاظ اس کے ذہن سے کبھی معدوم نہیں ہوئے تھے اور پھر اسے کچھ دیر پہلے کے خواب میں سنائی دینے والی وہ دوسری آواز یاد آئی۔
    ”لبیک اللھم لبیک، لبیک لاشریک لک لبیک، ان الحمد والنعمتہ لک والملک لا شریک لک.”
    وہ آواز مانوس اور شناسا تھی مگر جلال انصر کی آواز کے علاوہ اور کسی آواز سے واقف نہیں تھی۔ آنکھیں بند کرکے اس نے خواب میں دیکھے ہوئے اس منظر کو یاد کرنے کی کوشش کی۔ مقام ملتزم، خانہ کعبہ کا کھلا دروازہ، غلاف کعبہ کی وہ روشن آیات… وہ پرسکون، ٹھنڈی معطررات… خانہ کعبہ کے دروازے سے پھوٹتی وہ دودھیا روشنی اور سجدہ کرتا تلبیہ پڑھتا وہ مرد… امامہ نے آنکھیں کھول دیں۔ کچھ دیر تک وہ صحن میں اتری دھند میں نظریں جمائے اس آدمی کے بارے میں سوچتی رہی۔
    اس آدمی کے برہنہ کندھے کی پشت پر ہلکے ہلکے بالوں میں زخم کا ایک مندمل شدہ نشان تھا۔ امامہ کو حیرت ہورہی تھی۔ خواب کی اس طرح کی جزئیات اسے پہلے کبھی یاد نہیں رہی تھیں۔ اس نے زندگی میں پہلی بار خانہ کعبہ کو خواب میں دیکھا تھا اور وہاں بیٹھے اسے خواہش ہوئی تھی کہ کاش وہ کبھی اسی طرح مسجد نبوی ﷺ میں روضہء رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے کھڑی ہو۔ اسی طرح مسجد نبوی ﷺ لوگوں سے خالی ہو، وہاں صرف وہ ہو، وہ اندازہ نہیں لگاسکی وہ کتنی دیر وہاں اسی طرح بیٹھی رہی۔ وہ اپنے گرد و پیش میں تب لوٹی تھی جب سعیدہ اماں تہجد پڑھنے کے لئے وضو کرنے کی خاطر باہر صحن میں نکلی تھیں۔ امامہ کو وہاں اس وقت دیکھ کر وہ حیران ہوئی تھیں۔
    ”تمہارے سرکا درد کیسا ہے؟” اس کے پاس کھڑے ہوکر انہوں نے پوچھا۔
    ”اب تو درد نہیں ہے۔” امامہ نے سراٹھاکر انہیں دیکھا۔
    ”رات کو کھانا کھائے بغیر ہی سوگئی تھی؟” وہ اس کے پاس برآمدے کے ٹھنڈے فرش پر بیٹھتے ہوئے بولیں۔
    وہ خاموشی رہی۔ سعیدہ اماں ایک گرم اونی شال اوڑھے ہوئے تھیں۔ امامہ نے ان کے کندھے پر اپنا چہرہ ٹکادیا۔ اس کے سن چہرے کو گرم شال سے ایک عجیب سی آسودگی کا احساس ہوا۔
    ”اب تم شادی کرلو آمنہ!” سعیدہ اماں نے اس سے کہا۔ وہ اسی طرح گرم شال میں اپنا چہرے چھپائے رہی۔ سعیدہ اماں پہلی بار یہ بات نہیں کہہ رہی تھیں۔
    ”آپ کردیں۔” وہ ہمیشہ ان کی اس بات پر خاموشی اختیار کرلیتی تھی۔ کیوں؟ وجہ خود بھی نہیں جانتی تھی لیکن آج پہلی بار وہ خاموش نہیں رہی تھی۔
    ”تم سچ کہہ رہی ہو؟” سعیدہ اماں اس کی بات پر حیران ہوئی تھیں۔
    ”میں سچ کہہ رہی ہوں…” امامہ نے سر ان کے کندھے سے اٹھالیا۔
    ”تمہیں کوئی پسند ہے؟” سعیدہ اماں نے اس سے پوچھا۔ وہ سر جھکائے صحن کے فرش کو دیکھ رہی تھی۔
    ”کوئی مجھے پسند ہے؟ نہیں مجھے کوئی بھی پسند نہیں ہے۔” سعیدہ اماں کو اس کی آواز بھرّائی ہوئی لگی۔ اس سے پہلے کہ وہ اس سے کچھ کہتیں اس نے ایک بارپھر ان کی شال میں اپنا چہرہ چھپالیا۔
    ”تمہاری شادی ہوجائے تو میں بھی انگلینڈ چلی جاؤں گی۔”
    انہوں نے اس کے سر کو تھپتھپاتے ہوئے کہا اور اس کے سرکو تھپتھپاتے ہوئے ہی انہیں احساس ہواکہ وہ ان کی شال میں منہ چھپائے ہچکیوں سے رورہی تھی۔
    ”آمنہ! آمنہ بیٹا کیا ہوا؟” انہوں نے پریشان ہوکر اس کا چہرے اٹھانے کی کوشش کی۔ وہ کامیاب نہیں ہوئیں۔ وہ اسی طرح ان کے ساتھ لگ کر روتی رہی۔
    ”اللہ کے لئے… کچھ تو بتاؤ، کیوں رورہی ہو؟” وہ دل گرفتہ ہوگئیں۔
    ”کچھ نہیں… بس ایسے ہی… سر میں درد ہورہا ہے۔” انہوں نے زبردستی اس کا گیلا چہرہ اوپر کیا تھا۔ وہ اب اپنی آستینوں سے چہرہ پونچھتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ اس نے سعیدہ اماں سے آنکھیں نہیں ملائی تھیں۔ سعیدہ اماں کی اس کی شادی کی بات کرنے والی اکیلی نہیں تھیں۔ اس کی تعلیم مکمل ہونے کے بعد ڈاکٹر سبط علی نے ایک بارپھر اس سے شادی کا ذکر کیا تھا۔ وہ نہیں جانتی تب اس نے کیوں انکار کردیا تھا۔ یہ جاننے کے باوجود کہ وہ اب آزاد تھی۔
    ”مجھے کچھ عرصہ جاب کرلینے دیں اس کے بعد میں شادی کرلوں گی۔” اس نے ڈاکٹر سبط علی سے کہا تھا۔ شاید یہ پچھلے کئی سالوں سے ڈاکٹر سبط علی پر مالی طورپر ایک بوجھ بننے کا احساس تھا، جس سے وہ نجات حاصل کرنا چاہتی تھی یا پھر کہیں اس کے لاشعور میں یہ چیز تھی کہ ڈاکٹر سبط علی کو اس کی شادی پر ایک بارپھر اخراجات کرنے پڑیں گے اور وہ یہ چاہتی تھی کہ وہ ان اخراجات کے لئے خود کچھ جمع کرنے کی کوشش کرلے۔ اس نے یہ بات ڈاکٹر سبط علی کو نہیں بتائی تھی مگر اس نے ان سے جاب کی اجازت لے لی تھی۔
    شاید وہ ابھی کچھ عرصہ مزید جاب کرتی رہتی، مگر جلال انصر سے اس ملاقات کے بعد وہ ایک تکلیف دہ ذہنی دھچکے سے دوچار ہوئی تھی اور اس نے یک دم سعیدہ اماں کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔ وہ نہیں جانتی۔ سعیدہ اماں نے ڈاکٹر سبط علی سے اس بات کا ذکر کیا یا نہیں مگر وہ خود ان دنوں مکمل طورپر اس کے لئے رشتے کی تلاش میں سرگرداں تھیں اور اس کوشش کا نتیجہ فہد کی صورت میں نکلا تھا۔ فہد ایک کمپنی میں اچھے عہدے پر کام کررہا تھا اور اس کی شہرت بھی بہت اچھی تھی۔ فہد کے گھروالے اسے پہلی بار دیکھ کر ہی پسند کرگئے تھے اور اس کے بعد سعیدہ اماں نے ڈاکٹر سبط علی سے اس رشتے کی بات کی۔
    ڈاکٹر سبط علی کو کچھ تامل ہوا… شاید وہ اس کی شادی اب بھی اپنے جاننے والوں میں کرنا چاہتے تھے، مگر سعیدہ اماں کی فہد اور اس کے گھر والوں کی بے پناہ تعریفوں کے بعد اور فہد اور اس کے گھر والوں سے خود ملنے کے بعد انہوں نے سعیدہ اماں کی پسند پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا، البتہ انہوں نے فہد کے بارے میں بہت چھان بین کروائی تھی اور پھر وہ بھی مطمئن ہوگئے تھے۔
    فہد کے گھروالے ایک سال کے اندر شادی کرنا چاہتے تھے لیکن پھر اچانک انہوں نے چند ماہ کے اندر شادی پر اصرار کرنا شروع کردیا۔ یہ صرف ایک اتفاق ہی تھا کہ ڈاکٹر سبط علی اسی دوران اپنی کچھ مصروفیات کی وجہ سے انگلینڈ میں تھے جب فہد کے گھر والوں کے اصرار پر تاریخ طے کردی گئی تھی۔ سعیدہ اماں فون پر ان سے مشورہ کرتی رہی تھیں اور ڈاکٹر سبط علی نے انہیں اپنا انتظار کرنے کے لئے کہا تھا۔ وہ فوری طور پر وہاں سے نہیں آسکتے تھے، البتہ انہوں نے کلثوم آنٹی کو واپس پاکستان بھجوادیا تھا۔
    اس کی شادی کی تیاری کلثوم آنٹی اور مریم نے ہی کی تھی جو راولپنڈی سے کچھ ہفتوں کے لئے اپنی سسرال لاہور آگئی تھی۔ ڈاکٹر سبط علی نے اس کی شادی کی تاریخ طے ہوجانے کے بعد فون پر اس سے طویل گفتگو کی تھی۔ ان کی تینوں بیٹیوں کی شادی ان کے اپنے خاندان میں ہی ہوئی تھی اور ان کے سسرال میں سے کسی نے بھی جہیز نہیں لیا تھا، مگر ڈاکٹر سبط علی نے تینوں بیٹیوں کے جہیز کے لئے مخصوص کی جانے والی رقم انہیں تحفتاً دے دی تھی۔
    ”ساڑھے آٹھ سال پہلے جب آپ میرے گھر آئیں تھیں اور میں نے آپ کو اپنی بیٹی کہا تھا تو میں نے آپ کے لئے بھی کچھ رقم رکھ دی تھی۔ وہ رقم آپ کی امانت ہے۔ آپ اسے ویسے لے لیں یا پھر میں مریم اور کلثوم سے کہہ دوں گا کہ وہ آپ کے جہیز کی تیاری پر اسے خرچ کریں۔ سعیدہ آپا کی خواہش تھی کہ شادی ان کے گھر پر ہو ورنہ میں چاہتا تھا کہ یہ شادی میرے گھر پر ہو۔ آپ کے گھر پر۔۔۔۔”
    انہوں نے اس سے کہا تھا۔
    ”مجھے اس بات پر بہت رنج ہے کہ میں اپنی چوتھی بیٹی کی شادی میں شرکت نہیں کرسکوں گا مگر شاید اس میں ہی کوئی بہتری ہے۔ میں پھر بھی آخری وقت تک کوشش کروں گا کسی طرح شادی پر آجاؤں۔”
    وہ ان کی باتوں کے جواب میں بالکل خاموش رہی تھی۔ اس نے کچھ بھی نہیں کہا تھا نہ ہی یہ اصرار کیا تھا کہ وہ اپنی شادی پر اپنی رقم خرچ کرے گی اور نہ ہی یہ کہ وہ شادی ان کی رقم سے نہیں کرنا چاہتی۔ اس دن اس کا دل چاہا تھا ان کا ایک اور احسان لینے کو۔ وہ اس پر اتنے احسان کرچکے تھے کہ اب اسے ان احسانوں کی عادت ہونے لگی تھی۔ اسے صرف ان سے ایک گلہ تھا وہ آخر اس کی شادی میں شرکت کیوں نہیں کررہے تھے۔
    ٭…٭…٭
    فہد کے گھر والوں کا اصرار تھا کہ شادی سادگی سے ہو اور اس پر کسی کو بھی اعتراض نہیں ہوا تھا۔ امامہ خود بھی شادی سادگی سے کرنا چاہتی تھی مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ فہد کے گھر والوں کا سادگی پر اصرار دراصل کچھ اور وجوہات کی بناء پر تھا۔
    اس کا نکاح مہندی والی شام کو ہونا تھا، مگر اس شام کو سہ پہر کے قریب فہد کے گھر والوں کی طرف سے یہ اطلاع دی گئی کہ نکاح اگلے دن یعنی شادی والے دن ہی ہوگا۔ تب تک اسے یا سعیدہ اماں کوکوئی اندازہ نہیں ہوا تھا کہ فہد کے گھر میں کوئی مسئلہ تھا۔ مہندی کی ویسے بھی کوئی لمبی چوڑی تقریب نہیں تھی۔ صرف سعیدہ اماں کے بہت قریبی لوگ تھے یا پھر نزدیکی ہمسائے۔ نکاح کی تقریب کے لئے جس کھانے کا اہتمام کیا گیا تھا وہ ان لوگوں کو سرو کردیا گیا۔
    شادی کی تقریب بھی سادگی سے گھرپر ہی ہونی تھی۔ چار بجے بارات کو آجانا تھا اور چھے بجے کے قریب رخصتی تھی لیکن بارات آنے سے ایک گھنٹہ پہلے فہد کے گھر والوں نے سعیدہ اماں کو فہد کی روپوشی کے بارے میں اطلاع دیتے ہوئے اس رشتے سے معذرت کرلی۔
    امامہ کو چار بجے تک اس سارے معاملے کے بارے میں کچھ پتا نہیں تھا۔ فہد کے گھر سے عروسی لباس پہلے بھجوا دیا گیا تھا اور وہ اس وقت وہ لباس پہنے تقریباً تیار تھی جب مریم اس کے کمرے میں چلی آئی، اس کا چہرہ ستا ہوا تھا۔ اس نے امامہ کو کپڑے تبدیل کرنے کے لئے کہا، اس نے امامہ کو فوری طورپر یہ نہیں بتایا تھا کہ فہد کے گھروالے انکار کرکے جاچکے تھے۔ اس نے امامہ سے صرف یہی کہا کہ فہد کے گھر والوں نے شادی کینسل کردی ہے اس کے گھر میں کسی قریبی عزیز کا انتقال ہوگیا ہے۔ وہ یہ بتاکر بہت افراتفری میں کمرے سے نکل گئی۔ امامہ نے کپڑے تبدیل کرلئے لیکن اس وقت اس کی چھٹی حس نے اسے اس پریشانی سے آگاہ کرنا شروع کردیا تھا۔ اسے مریم کی بات پر یقین نہیں آیا تھا۔
    کپڑے تبدیل کرکے وہ اپنے کمرے سے باہر نکل آئی اور باہر موجود لوگوں کے تاثرات نے اس کے تمام شبہات کی تصدیق کردی تھی۔ وہ سعیدہ اماں کے کمرے کی طرف چلی گئی۔ وہاں بہت سے لوگ جمع تھے۔ کلثوم آنٹی، میمونہ نورالعین آپا… ہمسائے میں رہنے والی چند عورتیں، مریم اور سعیدہ اماں… مریم سعیدہ اماں کو پانی پلارہی تھی۔ وہ بہت نڈھال نظر آرہی تھیں۔ ایک لمحے کے لئے اس کے دل کی دھڑکن رکی۔ انہیں کیا ہوا تھا۔ اس کے اندر داخل ہوتے ہی سب کی نظریں اس پر پڑیں۔ میمونہ آپا اس کی طرف تیزی سے بڑھیں۔
    ”آمنہ! تم باہر آجاؤ۔” انہوں نے اسے ساتھ لے جانے کی کوشش کی۔
    ”اماں کو کیا ہوا ہے؟” وہ ان کی طرف بڑھ گئی۔ کلثوم آنٹی نے کمرے میں موجود لوگوں کو باہر نکالنا شروع کردیا۔ وہ سعیدہ اماں کے پاس آکر بیٹھ گئی۔
    ”انہیں کیا ہواہے؟” اس نے بے تابی سے مریم سے پوچھا۔
    اس نے جواب نہیں دیا۔ سعیدہ اماں کا چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا۔ وہ امامہ کو دیکھ رہی تھیں مگر اسے یوں لگا جیسے وہ اس وقت اسے دیکھ نہیں پارہی تھیں۔ گلاس ہاتھ سے ہٹاتے ہوئے انہوں نے اسے ساتھ لگا کر رونا شروع کردیا۔
    کمرہ خالی ہوچکا تھا۔ صرف ڈاکٹر سبط علی کی فیملی وہاں پر تھی۔
    ”کیا ہوا ہے اماں؟ مجھے بتائیں۔” امامہ نے انہیں نرمی سے خود سے الگ کرتے ہوئے کہا۔
    ”فہد نے اپنے گھر والوں کو بتائے بغیر گھر سے جا کر کسی اور کے ساتھ شادی کرلی ہے۔” مریم نے مدھم آواز میں کہا۔”وہ لوگ کچھ دیر پہلے معذرت کرنے آئے تھے۔ وہ لوگ یہ رشتہ ختم کرگئے ہیں۔”
    چند منٹ تک وہ بالکل ساکت رہی تھی۔ خون کی گردش، دل کی دھڑکن، چلتی ہوئی سانس… چند سیکنڈز سب کچھ جیسے رک گیا تھا۔”
    ”کیا میرے ساتھ یہ بھی ہونا تھا؟” اس نے بے اختیار سوچا۔
    ”کوئی بات نہیں اماں! آپ کیوں رورہی ہیں؟” اس نے بڑی سہولت سے سعیدہ اماں کے آنسو صاف کئے۔ سب کچھ ایک بار پھر بحال ہوگیا تھا سوائے اس کی رنگت کے وہ فق تھی۔
    ”آپ پریشان نہ ہوں۔” سعیدہ اماں کو اس کی باتوں پر اور رونا آیا۔
    ”یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے… میں…” امامہ نے انہیں بات مکمل کرنے نہیں دی۔
    ”اماں! چھوڑیں ناں۔ کوئی بات نہیں، آپ پریشان نہ ہوں۔ آپ لیٹ جائیں۔ کچھ دیر آرام کرلیں۔” وہ انہیں پرسکون کرنے کی کوشش کررہی تھی۔
    ”میں تمہارے دل کی حالت کو سمجھ سکتی ہوں۔ میں تمہارے غم کو جانتی ہوں۔ آمنہ! میری بچی مجھے معاف کردو۔ یہ سب میری وجہ سے ہی ہوا ہے؟” انہیں تسلی نہیں ہوپارہی تھی۔
    ”مجھے کوئی غم نہیں ہے اماں! کوئی تکلیف نہیں ہے۔ میں بالکل ٹھیک ہوں۔” اس نے مسکراتے ہوئے سعیدہ اماں سے کہا۔
    سعیدہ اماں یک دم روتے ہوئے اٹھ کر باہر نکل گئیں۔
    امامہ کسی سے کوئی بات کہے بغیر ایک بارپھر اپنے کمرے میں چلی آئی۔ اس کے بیڈ پر تمام چیزیں اسی طرح پڑی ہوئی تھیں۔ اس نے انہیں سمیٹنا شروع کردیا۔ اس کی جگہ کوئی اور لڑکی ہوتی تو اس وقت وہاں بیٹھی رورہی ہوتی مگر وہ غیر معمولی طور پر پرسکون تھی۔
    ”اگر میں جلال کے نہ ملنے پر صبر کرسکتی ہوں تو یہ تو پھر ایک ایسا شخص تھا جس کے ساتھ میری کوئی جذباتی وابستگی نہیں تھی۔” اس نے اپنے عروسی لباس کوتہ کرتے ہوئے سوچا۔
    ”زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا، یہاں بھی لوگوں کے سامنے نظریں چراکر اور سرجھکا کر چلنا پڑے گا۔
    کچھ باتیں اور بے عزتی برداشت کرنی پڑے گی تو پھر کیا ہوا۔ اس میں میرے لئے نیا کیا ہے۔”
    مریم کمرے میں داخل ہوئی اور اس کے ساتھ چیزیں سمیٹنے لگی۔
    ”ابو کو فون کردیا ہے۔” اس نے امامہ کو بتایا۔
    وہ پہلی بار کچھ جھنجھلائی۔
    ”کیوں خواہ مخواہ تم لوگ انہیں تنگ کررہے ہو۔ انہیں وہاں سکون سے رہنے دو۔”
    ”اتنا بڑا حادثہ ہوگیا ہے اور تم۔۔۔”
    اس نے مریم کی بات کاٹ دی۔
    ”مریم میری زندگی میں اس سے بڑے حادثے ہوچکے ہیں۔ یہ کیا معنی رکھتا ہے۔ مجھے تکلیف سہنے کی عادت ہوچکی ہے۔ تم سعیدہ اماں کو تسلی دو۔ مجھے کچھ نہیں ہوا میں بالکل ٹھیک ہوں اور ابو کو بھی خوا مخواہ تنگ نہ کرو۔ وہ وہاں پریشان ہوں گے۔”




  • معصوم سوال — ناہید حیات

    ’’دادی دیکھیں پھر میری گاڑی لے کر بھاگ رہی ہے۔ مجھے دے نہیں رہی۔‘‘ عون، ماہا کے پیچھے بھاگتا ہوا دادی کے کمرے میں داخل ہوا جو نماز پڑھنے کے بعد وظیفے میں مصروف تھیں۔
    ’’اِدھر آئو دونوں‘‘ دادی نے دونوں کو جائے نماز پر ہی اپنے دائیں بائیں بٹھایا۔ ماہا نے بھی گاڑی نیچے رکھ دی جسے عون نے جلدی سے اٹھا کر اپنی طرف رکھا اور تمیز سے دادی کے پاس بیٹھ گئے۔ دادی نے ان سے کلمہ اور نماز سنی، جو انہوں نے کچھ اٹک اٹک کے سنا دی۔ ’’چلو اب دُعا مانگو‘‘ دونوں نے اپنے ہاتھ دُعا کے انداز میں بلند کیے ’’اللہ میاں ہمیں بھائی دے دے‘‘ آنکھیں بند کر کے انہوں نے طوطے کی طرح رٹی رٹائی دعا مانگی کیوں کہ آج کل گھر میں ہر کوئی ان بچوں سے یہی دعا منگوا رہا تھا۔ دادی نے جوش سے آمین کہا۔ ’’اُلو تمھارے تو پہلے ہی دو بھائی ہیں۔‘‘ پٹاخہ سی ماہا نے کہا۔
    ’’مگر دادی کہتی ہیں میں تم سب کا بڑا بھائی ہوں۔ کیوں دادی؟‘‘ عون نے چہرے پر رعب طاری کر کے کہا۔
    ’’تم میرے کزن ہو اور ہم دونوں سکس ایئر اولڈ ہیں‘‘ ماہا نے جتایا۔
    ’’میں سکس اینڈ آ ہاف ہوں‘‘ عون کو اپنا چھے مہینے کا بڑا پن بھی نہیں بھولتا تھا ان دونوں کو بحث کرتا چھوڑ کر دادی خشوع و خضوع سے دعا مانگنے لگئیں۔
    اچھے وقتوں کے بنے اس چھوٹے سے شہر کے بڑے سے گھر میں دادی اپنے تین بیٹوں ساجد، راشد اور واجد کے ساتھ رہ رہی تھیں جب کہ تین شادی شدہ بیٹیاں اپنے اپنے گھر میں خوشحال زندگی گزار رہی تھیں۔ دادا کا کچھ عرصہ پہلے ہی انتقال ہوا تھا۔ ساجد اور راشد کی اکٹھی ہی شادی ہوئی تھی۔ ان کی مین بازار میں اچھی چلتی ہوئی کپڑے کی دُکان تھی جب کہ واجد ابھی غیر شادی شدہ تھا اور لاہور میں پڑھ رہا تھا۔
    اوپر تلے بچوں کی پیدائش سے گھر کا کام اور ذمہ داریاں بڑھنے کے باوجود مجموعی طور پر گھر کا ماحول خوش گوار ہی تھا جس کی وجہ دونوں بہوئوں مریم اور آسیہ کا آپس میں سگی بہنیں ہونے کے علاوہ دادی کی نرم اور صلح جو طبیعت بھی تھی۔ ساجد اور مریم کے تین بیٹے تھے بڑا عون اور اس سے دو سال چھوٹے جڑواں سعد اور فہد، جو اب چار سال کے ہو چکے تھے۔ راشد اور آسیہ کی تین بیٹیاں تھیں۔ ماہا، زویا اور پھر حبہ۔ حبہ کی پیدائش کے وقت کچھ پیچیدگیوں کی وجہ سے ڈاکٹر نے آئندہ احتیاط کرنے کو کہا۔ چوں کہ آسیہ مرتے مرتے بچی تھی تو بیٹے کی شدید خواہش ہونے کے باوجود راشد نے کہہ دیا کہ تین بچے ہی بہت ہیں خود آسیہ نے بھی بہت دعائیں کی تھیں مگر اللہ کی مرضی کے آگے سر جُھکا لیا اور اب تو حبہ بھی ڈھائی سال کی ہو چکی تھی۔ دادی کو پوتیوں سے بے حد پیار تھا مگر جب راشد کو دیکھتیں ایک سرد آہ ان کے لبوں سے نکل جاتی۔ راشد کو بھی بیٹیوں سے بہت لگائو تھا آسیہ کا بھی خیال رکھتا مگر جب جب ساجد اپنے بیٹوں کو دکان پر لے جاتا یا مسجد میں وہ اس کے ساتھ جاتے تو وہ بڑی حسرت سے ان کو دیکھتا۔ ساجد ہمیشہ بچیوں کے سر پر شفقت کا ہاتھ رکھتا اور راشد سے کہتا رہتا تھا کہ تمہیں ان کی فکر کی ضرورت نہیں۔ دادی کو بھی تسلی تھی کہ دونوں بھائیوں کا اتفاق قائم رہا تو وہ یہ ذمہ داریاں مل بانٹ کر اٹھالیں گے مگر پھر بھی راشد کے دل میں کوئی کسک تھی، حسرت تھی یا خواہش جو دن بدن بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ اس کے رویے میں ایک کھچائو سا آگیا تھا۔ جو گھر میں سب نے ہی محسوس کیا تو آسیہ کیسے نہ کرتی اور تب ہی اس نے ایک بار اور قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ راشد نے بھی حبہ کی پیدائش پر جذبات میں آکر کہہ تو دیا تھا کہ تین بچے بہت ہیں مگر اب آسیہ کی خواہش کی مخالفت نہیں کی۔ مریم نے بہت سمجھایا مگر وہ نہ مانی۔ جلد ہی اللہ نے امید لگائی تو دادی اور مریم نے اسے مکمل آرام دیا اور ہر طرح سے ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرایا۔ جوں جوں دن قریب آرہے تھے لگتا تھا سب نے جائے نماز سنبھال لی۔ صدقہ، خیرات اور دعائیں جاری تھیں کوئی بچہ کچھ کھانے کو بھی مانگتا تو کہا جاتا پہلے دعا کرو اللہ چاچو کو بیٹا دے اور ماہا تو خود ہی پہلے دعا مانگتی: ’’اللہ میاں ہمیں بھائی دینا‘‘ اور پھر اگلی بات شروع کرتی مگر جب دعائیں قبول نہیں ہوتیں تو اس کی مصلحت صرف اللہ جانتا ہے، انسان تو صرف رونا پیٹنا ڈال دیتا ہے۔
    ایک عام سی صبح ماہا اور عون سو کر اٹھے تو گھر میں عجیب طرح کی خاموشی تھی روز والی بھاگ دوڑ نہیں مچی تھی۔ دادی بالکل خاموش اپنے بستر پر لیٹی چھت کو گھور رہی تھیں اور مریم زوہا اور حبہ کو خاموشی سے ناشتہ کروا رہی تھی۔
    ’’امی کہاں ہیں۔‘‘ ماہا کو اُٹھتے ہی آسیہ کی غیرموجودگی کا احساس ہو گیا تھا۔
    ’’وہ ہسپتال میں ہیں۔‘‘ آسیہ نے بتایا۔
    ’’تمھاری بہن پیدا ہوئی ہے۔‘‘ آسیہ نے یہ خبر جتنے غمناک انداز میں سنائی ماہا اور عون نے اتنی ہی خوشی کا اظہار کیا۔
    ’’ہمارے گھر چھوٹا بے بی آیا ہے۔‘‘ دونوں ہی یہ بھول گئے تھے کہ ’’بے بی‘‘ لڑکا ہے یا لڑکی۔ ان کے لیے یہ کافی تھا کہ اب کھیلنے کے لیے ایک کھلونا آرہا ہے۔
    ’’اچھا جلدی سے ناشتہ کر کے تیار ہوئے سکول جائو تاکہ میں ہاسپٹل جا سکوں۔‘‘ مریم نے کہا۔
    ’’ہم نے بھی بے بی دیکھنا ہے۔‘‘ ماہا نے ضد کی۔
    ’’نہیں بیٹا۔ ابھی اس کی طبیعت نہیں ٹھیک، شام کو چلے جانا۔‘‘ مریم نے بچوں کو تیار کر کے سکول بھیجا تاکہ سکون سے کام کر کے ہاسپٹل جا سکے۔
    تین دن ہاسپٹل رہ کر آسیہ ننھی سی لائبہ کو لے کر گھر آگئی۔ اپنی جان پر کھیل کر دنیا میں لانے والے وجود سے آسیہ تو زیادہ دیر غافل نہ رہ سکی مگر راشد نے تو اپنے جذبات چھپانے کی بھی کوشش نہیں کی۔ ساجد اور تینوں بہنوں نے ہر طرح سے سمجھانے اور دل جوئی کرنے کی کوشش کی مگر اس کے چہرے پر جامد تاثرات رہتے۔ ڈھیر سارے دن ایسے ہی گزر گئے مگر راشد کے رویے میں فرق نہ آیا۔ دکان سے بھی وہ اکثر غائب رہتا۔ ساجد کافی عرصے سے دیکھ رہا تھا کہ اس کا اٹھنا، بیٹھنا کچھ اچھے لوگوں میں نہیں ہے۔ اس نے سمجھانے کی کافی کوشش کی مگر کوئی فائدہ نہ ہوا۔ یہ یار دوست ہی تھے جنہوں نے راشد کو گھر سے دور کیا ہوا تھا اور وہی ایسے الٹے سیدھے مشورے دیتے رہتے تھے کہ وہ تو مرد ہے کیا ہوا کہ ایک بیوی بیٹا نہیں دے سکی وہ دوسری لا سکتا ہے جب تک یہ باتیں گھر پہنچتیں اور گھر والے کچھ کر پاتے پتا چلا کہ راشد نے دوسری شادی کر لی ہے اپنے انہی دوستوں میں سے کسی ایک کی طلاق یافتہ بہن کے ساتھ۔ چھوٹے سے شہر میں یہ بات کب تک چھپتی اور راشد نے چُھپانے کی کوشش بھی نہیں کی۔ آسیہ پر تو جو قیامت گزری سو گزری باقی گھر والے بھی ہکّا بکّا رہ گئے۔ سب نے ہی اس کے خوب لتے لیے مگر وہ ڈھیٹ بنا سنتا رہا۔ گھر میں عجیب ٹینشن بھرا ماحول تھا، جس میں بچے بُری طرح نظرانداز ہو رہے تھے۔ آسیہ سارا سارا دن روتی رہتی راشد گھر آتا تو دونوں کی زوروں کی لڑائی ہوتی۔ مریم پھرکی بن گھر کے کام کرتی، آسیہ کو بھی سنبھالتی اور دادی پوتیوں کو دیکھ دیکھ کر آہیں بھرتیں ایسے میں ماہا اور عون دعا کرتے کہ چاچو ہی آجائیں کیوں کہ وہ ان سب سے خوب لاڈ کرتے اور باہر بھی لے جاتے مگر آج کل واجد کے ایگزامز ہو رہے تھے اس لیے وہ گھر نہیں آرہا تھا۔
    جاتی گرمیوں کی خوش گوار سی شام میں دادی باہر صحن میں چارپائی پر بیٹھی بچوں کو کوئی کہانی سنا رہی تھیں جب ساجد کے ساتھ بہت دنوں بعد راشد گھر آیا۔ زوہا اور حبہ باپ کے ساتھ لیٹ گئیں جب کہ ماہا دادی کے پاس بیٹھی رہی۔ لائبہ کمرے میں سو رہی تھی۔ آسیہ کچن سے دیکھ رہی تھی باہر نکلی اور حبہ اور زوہا کو کھینچ کر راشد سے الگ کیا۔




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۹

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۹

    لاہور پہنچنے کے بعد اس کے لیے اگلا مرحلہ کسی کی مدد حاصل کرنے کا تھا مگر کس کی؟ وہ ہاسٹل نہیں جاسکتی تھی۔ وہ جو یریہ اور باقی لوگوں سے رابطہ نہیں کرسکتی تھی، کیوںکہ اس کے گھر والے اس کے دوستوں سے واقف تھے اور چند گھنٹوں میں وہ اسے لاہور میں ڈھونڈنے والے تھے، بلکہ ہوسکتا تھا اب تک اس کی تلاش شروع ہوچکی ہو اور اس صورت حال میں ان لوگوں سے رابطہ کرنا خطرے سے خالی نہیں تھا۔ اس کے لئے صبیحہ کی صورت میں واحد آپشن رہ جاتا تھا، مگر وہ اسے بات اس واقف نہیں تھی کہ وہ ابھی پشاور سے واپس آئی تھی یا نہیں۔
    صبیحہ کے گھر پر ملازم کے سوا اور کوئی نہیں تھا۔ وہ لوگ ابھی پشاور میں ہی تھے۔
    ”واپس کب آئیں گے؟” اس نے ملازم سے پوچھا۔ وہ اسے جانتا تھا۔
    ”یہ تو مجھے معلوم نہیں ہے مگر ایک دو دن تک آجائیں گے۔” اس نے امامہ کو بتایا۔
    ”کیا آپ کے پاس وہاں کا فون نمبر ہے؟” اس نے قدرے مایوسی کے عالم میں پوچھا۔
    ”جی، وہاں کا فون نمبر میرے پاس ہے۔” ملازم نے اس سے کہا۔
    ”وہ آپ مجھے دے دیں۔ میں فون پر اس سے بات کرنا چاہتی ہوں۔”
    اسے کچھ تسلی ہوئی۔ ملازم اسے اندر لے آیا۔ ڈرائنگ روم میں اسے بٹھا کر اس نے وہ نمبر لادیا۔ اس نے موبائل پر وہیں بیٹھے بیٹھے صبیحہ کو رنگ کیا۔ فون پشاور میں گھر کے کسی فرد نے اٹھایا تھا اور اسے بتایا کہ صبیحہ باہر گئی ہوئی ہے۔
    امامہ نے فون بند کردیا۔
    ”صبیحہ سے میری بات نہیں ہوسکی۔ میں کچھ دیر بعد اسے دوبارہ فون کروں گی۔” اس نے پاس کھڑے ملازم سے کہا۔
    ”تب تک میں یہیں بیٹھوں گی۔”
    ملازم سرہلاتے ہوئے چلاگیا۔ اس نے ایک گھنٹے کے بعد دوبارہ صبیحہ کو فون کیا۔ وہ اس کی کال پر حیران تھی۔
    اس نے اسے مختصر طورپر اپنا گھر چھوڑ آنے کے بارے میں بتایا۔ اس نے اسے سالار سے اپنے نکاح کے بارے میں نہیں بتایا کیونکہ وہ نہیں جانتی تھی صبیحہ اس سارے معاملے کو کس طرح دیکھے گی۔
    ”امامہ! تمہارے لئے سب سے بہتر یہ ہے کہ تم اس معاملے میں کورٹ سے رابطہ کرو۔ تبدیلی مذہب کے حوالے سے پروٹیکشن مانگو۔” صبیحہ نے اس کی ساری گفتگو سننے کے بعد کہا۔
    ”میں یہ کرنا نہیں چاہتی۔”
    ”کیوں؟”
    ”صبیحہ! میں پہلے ہی اس مسئلے کے بارے میں بہت سوچ چکی ہوں۔ تم میرے بابا کی پوزیشن اور اثرور سوخ سے واقف ہو۔ پریس تو طوفان اٹھادے گا۔ میری فیملی کو بہت ساری پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ میں یہ تو نہیں چاہتی کہ میرے گھر پر پتھراؤ ہو، میری وجہ سے میرے گھر والوں کی زندگی کو خطرہ ہو اور آج تک جتنی لڑکیوں نے اسلام قبول کرکے کورٹ پروٹیکشن لینے کی کوشش کی ہے ان کے ساتھ کیا ہوا ہے۔ کورٹ دارالامان بھجوادیتی ہے۔ جو کہ جیل بھجوانے کے مترادف ہے۔ کیس کا فیصلہ کتنی دیر تک ہو، کچھ پتا نہیں۔
    گھر والے ایک کے بعد ایک کیس فائل کرتے رہتے ہیں۔ کتنے سال اس طرح گزر جائیں، کچھ پتا نہیں ہوتا اگر کسی کو کورٹ آزاد رہنے کی اجازت دے بھی دے تو وہ لوگ اتنے مسئلے کھڑے کرتے رہتے ہیں کہ بہت ساری لڑکیاں واپس گھر والوں کے پاس چلی جاتی ہیں۔ میں نہ تو دارالامان میں اپنی زندگی برباد کرنا چاہتی ہوں نہ ہی لوگوں کی نظروں میں آنا چاہتی ہوں۔ میں نے خاموشی کے ساتھ گھر چھوڑا ہے اور میں اسی خاموشی کے ساتھ اپنی زندگی گزارنا چاہتی ہوں۔”
    ”میں تمہاری بات سمجھ سکتی ہوں امامہ! لیکن مسائل تو تمہارے لئے ابھی بھی کھڑے کئے جائیں گے۔ وہ تمہیں تلاش کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگادیں گے اور ان لوگوں کے لئے مسائل پیدا ہوں گے جو تمہیں پناہ دیں گے اور وہ جب تمہیں ڈھونڈنا شروع کردیں گے تو مجھ تک پہنچنا تو ان کے لئے بہت آسان ہوگا۔ تمہاری مدد کرکے ہمیں بہت خوشی ہوگی مگر میرے ابو یہی چاہیں گے کہ مدد چھپ کر کر نے کے بجائے کھل کر کی جائے اور کورٹ اس معاملے میں یقینا تمہارے حق میں اپنا فیصلہ دے گا۔ تم ابھی میرے گھر پر ہی رہو۔ میں اس بارے میں ملازم کو کہہ دیتی ہوں اور آج میں اپنے ابو سے بات کرتی ہوں ہم کوشش کریں گے، کل لاہور واپس آجائیں۔”
    امامہ نے ملازم کو بلا کر فون اس کے حوالے کردیا۔ صبیحہ نے ملازم کو کچھ ہدایات دیں اور پھر رابطہ منقطع کردیا۔
    ”میں صبیحہ بی بی کا کمرہ کھول رہا ہوں، آپ وہاں چلی جائیں۔” ملازم نے اس سے کہا۔
    وہ صبیحہ کے کمرے میں چلی آئی مگر اس کی تشویش اور پریشانی میں اضافہ ہوگیا تھا۔ وہ صبیحہ کے نقطہء نظر کو سمجھ سکتی تھی۔ وہ یقینا یہ نہیں چاہتی تھی کہ خود صبیحہ اور اس کی فیملی پر کوئی مصیبت آئے۔ اس معاملے میں صبیحہ کے اندیشے درست تھے۔ اگر ہاشم مبین کو یہ پتا چل جاتا کہ اسے صبیحہ کی فیملی نے پناہ دی تھی تو وہ ان کے جانی دشمن بن جاتے۔ شاید اس لئے صبیحہ نے اس سے قانون کی مدد لینے کے لئے کہا تھا مگر یہ راستہ اس کے لئے زیادہ دشوار تھا۔
    جماعت کے اتنے بڑے لیڈر کی بیٹی کا اس طرح مذہب چھوڑ دینا پوری جماعت کے منہ پر طمانچے کے مترادف تھا اور وہ جانتے تھے کہ اس سے پورے ملک میں جماعت اور خود ان کے خاندان کو کتنی زک پہنچے گی اور وہ اس بے عزتی سے بچنے کے لئے کس حدتک جاسکتے تھے، امامہ جانتی نہیں تھی، مگر اندازہ کر سکتی تھی۔
    وہ صبیحہ کے کمرے میں داخل ہورہی تھی جب اس کے ذہن میں ایک جھما کے کے ساتھ سیدہ مریم سبط علی کا خیال آیا تھا۔ وہ صبیحہ کی دوست اور کلاس فیلو تھی۔ وہ اس سے کئی بار ملتی رہی تھی۔ ایک بار صبیحہ کے گھر پر ہی مریم کو اس کے قبول اسلام کا پتا چلا تھا۔ وہ شاید صبیحہ کی واحد دوست تھی جسے صبیحہ نے امامہ کے بارے میں بتا دیا تھا اور مریم بہت حیران نظر آئی تھی۔
    ”تمہیں اگر کبھی میری کسی مدد کی ضرورت ہوئی تو مجھے ضرور بتانا بلکہ بلا جھجک میرے پاس آجانا۔”
    اس نے بڑی گرم جوشی کے ساتھ امامہ سے ہاتھ ملاتے ہوئے کہا۔ بعد میں بھی امامہ سے ہونے والی ملاقاتوں میں وہ ہمیشہ اس سے اسی گرم جوشی کے ساتھ ملتی رہی تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے اس کا کیوں خیال آیا تھا یا وہ کس حد تک اس کی مدد کرسکتی تھی مگر اس وقت اس نے اس سے بھی رابطہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس نے موبائل سے فون کرنا چاہا مگر موبائل کی بیٹری ختم ہوچکی تھی۔ اس نے اسے ری چارج کرنے کے لئے لگایا اور خود لاؤنج میں آکر اپنی ڈائری سے مریم کا نمبر ڈائل کرنے لگی۔
    فون ڈاکٹر سبط علی نے اٹھایا تھا۔
    ”میں مریم سے بات کرنا چاہتی ہوں، میں ان کی دوست ہوں۔”
    ”اس نے اپنا تعارف کروایا۔ اس نے پہلی بار مریم کو فون کیا تھا۔
    ”میں بات کرواتا ہوں۔” انہوں نے فون ہولڈ رکھنے کا کہا۔ کچھ سیکنڈز کے بعد امامہ نے دوسری طرف مریم کی آواز سنی۔
    ”ہیلو۔۔۔”
    ”ہیلو مریم! میں امامہ بات کررہی ہوں۔”
    ”امامہ… امامہ ہاشم؟” مریم نے حیرانی سے پوچھا۔
    ”ہاں، مجھے تمہاری مدد کی ضرورت ہے۔”
    وہ اسے اپنے بارے میں بتاتی گئی۔ دوسری طرف مکمل خاموشی تھی جب اس نے بات ختم کی تو مریم نے کہا۔
    ”تم اس وقت کہاں ہو؟”
    ”میں صبیحہ کے گھر پر ہوں، مگر صبیحہ کے گھرپر کوئی نہیں ہے۔ صبیحہ پشاور میں ہے۔”
    اس نے صبیحہ کے ساتھ ہونے والی گفتگو کے بارے میں اسے نہیں بتایا۔
    ”تم وہیں رہو۔ میں ڈرائیور کو بھجواتی ہوں۔ تم اپنا سامان لے کر اس کے ساتھ آجاؤ… میں اتنی دیر میں اپنی امی اور ابو سے بات کرتی ہوں۔”
    اس نے فون بند کرتے ہوئے کہا۔ یہ صرف ایک اتفاق تھا کہ اس نے ڈاکٹر سبط علی کے گھر کی جانے والی کال سالار کے موبائل سے نہیں کی تھی ورنہ سکندر عثمان ڈاکٹر سبط علی کے گھر بھی پہنچ جاتے اور اگر امامہ کو یہ خیال آجاتا کہ وہ موبائل کے بل سے اسے ٹریس آؤٹ کرنے کی کوشش کریں گے تو وہ لاہور آکر ایک بار بھی موبائل استعمال نہ کرتی۔
    یہ ایک اور اتفاق تھاکہ ڈاکٹر سبط علی نے اپنے آفس کی گاڑی اور ڈرائیور کو اسے لینے کے لئے بھجوایا تھا، ورنہ صبیحہ کا ملازم مریم کی گاڑی اور ڈرائیور کو پہچان لیتا کیونکہ مریم اکثر وہاں آیا کرتی تھی اور صبیحہ کے ساتھ ساتھ وہ لوگ بھی یہ جان جاتے کہ وہ صبیحہ کے گھر سے کہاں گئی تھی۔
    ٭…٭…٭
    آدھ گھنٹہ کے بعد ملازم نے ایک گاڑی کے آنے کی اطلاع دی۔ وہ اپنا بیگ اٹھانے لگی۔
    ”کیا آپ جارہی ہیں؟”
    ”ہاں۔۔۔”
    ”مگر صبیحہ بی بی تو کہہ رہی تھیں کہ آپ یہاں رہیں گی۔”
    ”نہیں… میں جارہی ہوں… اگر صبیحہ کا فون آئے تو آپ اسے بتادیں کہ میں چلی گئی ہوں۔”
    اس نے دانستہ طورپر اسے یہ نہیں بتایا کہ وہ مریم کے گھر جارہی تھی۔
    ٭…٭…٭
    وہ پہلی بار مریم کے گھر گئی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ اسے وہاں جاکر ایک بارپھر مریم اور اس کے والدین کو اپنے بارے میں سب کچھ بتانا پڑے گا۔ وہ ذہنی طورپر خود کو سوالوں کے لئے تیار کررہی تھی مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔
    ”ہم لوگ تو ناشتہ کرچکے ہیں تم ناشتہ کرلو۔”
    مریم نے پورچ میں اس کا استقبال کیا تھا اور اسے اندر لے جاتے ہوئے کہا۔ اندر لاؤنج میں ڈاکٹر سبط علی اور ان کی بیوی سے اس کا تعارف کروایا گیا۔ وہ بڑے تپاک سے ملے۔ امامہ کے چہرے پر اتنی سراسیمگی اور پریشانی تھی کہ ڈاکٹر سبط علی کو اس پر ترس آیا۔
    ”میں کھانا لگواتی ہوں۔ مریم تم اسے اس کا کمرہ دکھادو… تاکہ یہ کپڑے چینج کرلے۔” سبط علی کی بیوی نے مریم سے کہا۔
    وہ جب کپڑے بدل کر آئی تو ناشتہ لگ چکا تھا۔ اس نے خاموشی سے ناشتہ کیا۔
    ”امامہ! اب آپ جاکر سوجائیں۔ میں آفس جارہا ہوں، شام کو واپسی پر ہم آپ کے مسئلے پر بات کریں گے۔”
    ڈاکٹر سبط علی نے اسے ناشتہ ختم کرتے دیکھ کر کہا۔
    ”مریم! تم اسے کمرے میں لے جاؤ۔” وہ خود لاؤنج سے نکل گئے۔
    وہ مریم کے ساتھ اپنے کمرے میں چلی آئی۔
    ”امامہ! اب تم سوجاؤ… تمہارے چہرے سے لگ رہا ہے کہ تم پچھلے کئی دنوں سے نہیں سوئیں۔ عام طورپر تھکن اور پریشانی میں نیند نہیں آتی اور تم اس وقت اس کا شکار ہوگی۔ میں تمہیں کوئی ٹیبلٹ لاکر دیتی ہوں اگر نیند آگئی تو ٹھیک ہے ورنہ ٹیبلٹ لے لینا۔”
    وہ کمرے سے باہر نکل گئی، کچھ دیر بعد اس کی واپسی ہوئی، پانی کا گلاس اور ٹیبلٹ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے اس نے کہا۔
    ”تم بالکل ریلیکس ہوکر سوجاؤ۔ سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ تم سمجھوکہ تم اپنے گھر میں ہو۔” وہ کمرے کی لائٹ آف کرتی ایک بارپھر کمرے سے باہر نکل گئی۔
    صبح کے ساڑھے نوبج رہے تھے مگر ابھی تک باہر بہت دھند تھی اور کمرے کی کھڑکیوں پر پردے ہونے کی وجہ سے کمرے میں اندھیرا کچھ اور گہرا ہوگیا تھا۔ اس نے کسی معمول کی طرح ٹیبلٹ پانی کے ساتھ نگل لی۔ اس کے بغیر نیند آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اس کے ذہن میں اتنے بہت سے خیالات آرہے تھے کہ بیڈپر لیٹ کر نیند کا انتظار کرنا بہت مشکل ہوجاتا۔ چند منٹوں کے بعد اس نے اپنے اعصاب پر ایک غنودگی طاری ہوتی محسوس کی۔
    ٭…٭…٭
    وہ جس وقت دوبارہ اٹھی اس وقت کمرہ مکمل طور پر تاریک ہوچکا تھا۔ وہ بیڈ سے اٹھ کر دیوار کی طرف آئی اور اس نے لائٹ جلادی، وال کلال رات کے ساڑھے گیارہ بجارہا تھا۔ وہ فوری طورپر اندازہ نہیں کرسکی کہ یہ اتنی لمبی نیند ٹیبلٹ کا اثر تھی یا پھر پچھلے کئی دنوں سے صحیح طورپر نہ سوسکنے کی۔
    جو کچھ بھی تھا وہ صبح سے بہت بہتر حالت میں تھی۔ اسے بے حد بھوک لگ رہی تھی، مگر وہ یہ نہیں جانتی تھی کہ گھر کے افراد اس وقت جاگ رہے ہوں گے یا نہیں۔ بہت آہستگی سے وہ دروازہ کھول کر لاؤنج میں نکل آئی۔ ڈاکٹر سبط علی لاؤنج کے ایک صوفے پر بیٹھے کوئی کتاب پڑھ رہے تھے۔ دروازہ کھلنے کی آواز سن کر انہوں نے سراٹھا کر دیکھا اور اسے دیکھ کر مسکرائے۔
    ”اچھی نیند آئی؟” وہ بڑی بشاشت سے بولے۔
    ”جی…!” اس نے مسکرانے کی کوشش کی۔
    ”اب ایسا کریں کہ وہ سامنے کچن ہے،وہاں چلی جائیں۔ کھانا رکھا ہوا ہے۔ گرم کریں۔ وہاں ٹیبل پر ہی کھالیں اس کے بعد چائے کے دوکپ بنائیں اور یہاں آجائیں۔”
    وہ کچھ کہے بغیر کچن میں چلی گئی۔ فریج میں رکھا ہوا کھانا نکال کر اس نے گرم کیا اور کھانے کے بعد چائے لے کر لاؤنج میں آگئی۔ چائے کا ایک کپ بناکر اس نے ڈاکٹر سبط علی کو دیا۔
    وہ کتاب میز پر رکھ چکے تھے۔ دوسرا کپ لے کر وہ ان کے بالمقابل دوسرے صوفے پر بیٹھ گئی۔ وہ اندازہ کرچکی تھی کہ وہ اس سے کچھ باتیں کرنا چاہتے تھے۔
    ”چائے بہت اچھی ہے۔”
    انہوں نے ایک سپ لے کر مسکراتے ہوئے کہا وہ اتنی نروس تھی کہ ان کی تعریف پر مسکراسکی نہ شکریہ ادا کرسکی۔ وہ صرف انہیں دیکھتی رہی۔
    ”امامہ! آپ نے جو فیصلہ کیا ہے اس کے صحیح ہونے میں کوئی دورائے نہیں ہوسکتی مگر فیصلہ بہت بڑا ہے اور اتنے بڑے فیصلے کرنے کے لئے بہت ہمت کی ضرورت ہوتی ہے۔ خاص طورپر اس کم عمری میں، مگر بعض دفعہ فیصلے کرنے کے لئے اتنی جرأت کی ضرورت نہیں ہوتی جتنی ان پر قائم رہنے کے لئے ہوتی ہے۔ آپ کو کچھ عرصہ بعد اس کا اندازہ ہوگا۔”
    وہ بڑے ٹھہرے ہوئے لہجے میں کہہ رہے تھے۔
    ”میں آپ سے یہ جاننا چاہتا ہوں کہ کیا مذہب کی تبدیلی کا فیصلہ صرف مذہب کے لئے ہے یا کوئی اور وجہ بھی ہے۔”
    وہ چونک کر انہیں دیکھنے لگی۔
    ”میرا خیال ہے مجھے زیادہ واضح طورپر یہ سوال پوچھنا چاہئے کہیں ایسا تو نہیں کہ آپ کسی لڑکے میں دلچسپی رکھتی ہیں اور اس کے کہنے پر یا اس کے لئے آپ نے گھر سے نکلنے کا فیصلہ کیا ہو یا مذہب بدلنے کا۔ اس سوال کا جواب دینے سے پہلے آپ یہ مت سوچنا کہ اگر ایسی کوئی وجہ ہوگی تو میں آپ کو برا سمجھوں گا یا آپ کی مدد نہیں کروں گا۔ میں یہ صرف اس لئے پوچھ رہا ہوں کہ اگر ایسا ہوا تو پھر مجھے اس لڑکے اور اس کے گھر والوں سے بھی ملنا ہوگا۔”
    ڈاکٹر سبط علی اب سوالیہ نظروں سے اسے دیکھ رہے تھے۔ اس وقت امامہ کو پہلی بار مریم سے اتنی دیر سے رابطہ کرنے پر پچھتاوا ہوا اگر سالار کے بجائے ڈاکٹر سبط علی، جلال سے یا اس کے گھر والوں سے بات کرتے تو شاید…” اس نے بوجھل دل سے نفی میں سرہلادیا۔
    ”ایسا کچھ نہیں ہے۔”
    ”کیا آپ کو واقعی یقین ہے کہ ایسا کچھ نہیں ہے؟” انہوں نے ایک بارپھر پر سکون انداز میں اس سے کہا۔
    ”جی… میں نے اسلام کسی لڑکے کے لئے قبول نہیں کیا۔” وہ اس بار جھوٹ نہیں بول رہی تھی، اس نے اسلام واقعی جلال انصر کے لئے قبول نہیں کیا تھا۔
    ”پھر آپ کویہ اندازہ ہونا چاہئے کہ آپ کو کتنی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔”
    ”مجھے اندازہ ہے۔”




  • کیوئیں جاناں میں کون — مصباح علی سیّد

    اٹخ پٹخ، جھاڑ پونچھ، چیزیں یہاں سے اٹھا وہاں رکھ، وہاں کی اٹھائی سٹور میں اور سٹور کا فالتو سامان ردی والے کو، مہینوں سے رکھیں اوپر والوں کی چیزیں واپس جارہی تھیں اورعرصے دراز بعد اوپر سے نیچے والوں کا سامان واپس آرہا تھا۔ افراتفری کا ایسا عالم تھا جیسے کوئی نیا نیا مالک مکان آئے یا پھر چھوڑ کر جارہا ہو۔ چیزیں فرش پر بکھری اور بچے دیواروں پر ٹنگے، کیلیں مختلف چیزیں لگانے کے لیے ٹھونک رہے تھے۔ عرصے بعد شام کا بھولا گھر آرہا تھا بدنظر سے بچاؤ کے تعویز اور نقش خاص طور پر پیر جی سے لگاتے تھے اور ایسی جگہ لٹکانے تھے جہاں سے وہ گزرے۔
    ’’خالا…‘‘
    فارحہ اپنی قدرتی صور پھونکتی آواز میں ہانک لگاتی آئی اور کیل ٹھونکتے احمد کی ہتھوڑی کیل کے بجائے اس کے ناخن پر، صد شکر تکلیف سے توازن نہ بگڑا ورنہ وہ خالہ سمیت زمین پر ہوتا اس نے گردن گھما کر اُسے گھورا مگر وہ اطمینان سے استفسار کررہی تھی۔
    ’’امی پوچھ رہی ہیں، ہادی ماموں کو لینے کون کون جائے گا؟‘‘
    ’’وہ تو بارہا منع کررہا ہے، خود ہی آجاؤں گا۔ مگر میں سوچ رہی ہوں‘‘
    انہوں نے کان پر دوپٹہ اڑستے گویا مطلع کیا تھا ’’احمد اور علی دونوں کو بھیج دوں۔‘‘
    ’’خالا میں بھی چلی جاؤں… علی بھائی اور …‘‘ وہ قدرے جھجک کر بولی ’’احمد کے ساتھ…، اس کی شرماتی نگاہ احمد کی پیٹھ پر گئی اپنے نام پر اُس نے بھی مڑ کر دیکھا تھا اس کی آواز گرم پانیوں میں تیرنے لگی تھی۔
    ’’ارے… تم کیا کرو گی…؟‘‘
    خالہ نے گھورا اور ایک کیل احمد کو پکڑاتے متوجہ کیا تھا ’’برابر دو کیلیں لگا، سبز تعویز لٹکانا ہے، پیر جی نے کہا تھا، سبزے کے چھاؤں ہاری کو ہرا بھرا کردے گی۔‘‘
    ’’اے اچھا چلی جانا…‘‘ قدرے محبت سے دیکھا جیسے ہی مڑنے لگی خالہ نے ہانک لگائی۔
    ’’اس سوکھے بدن پر اپنا کالا جوڑا نہ لٹکا لینا، کالا رنگ سوگ کی علامت…‘‘
    اس کی فرما رواہلتی گردن پر احمد کا دل مسوس کررہ گیا۔
    ’’ہائے! کیا غضب ڈھاتی ہے، اس سوٹ میں، سیدھی دل میں لگتی ہے… ٹھاہ‘‘
    اس کا سارا غصہ کیل اور دیوار پر نکلا تھا…
    ’’ہادی ماموں، ہادی بھیا‘‘ ہر جانب اک ہی ورد تھا۔ ہادی، ہادی، ہادی… جیسے ہی وہ گھر میں داخل ہوا بڑی آپانے سات دانے سرخ ڈوڈی مرچ کے اس پر سے وار کے آگ میں پھینکے۔ گھر کی پالتو بلی کو بہ طورِ خاص آج باندھ کر رکھا گیا تھا منحوس رستہ ہی نہ کاٹ دے۔ خوب ڈیل ڈول والی چھوٹی آپا بھی اِدھر اُدھر ڈولتی بڑھیں لمبی سی سبز بوتل سے چوکھٹ کے دونوں اطراف تیل ڈالا بھائی کی بلائیں لیں۔
    ’’امی یہ کیا…! فارحہ کی آواز اُبھری ’’تیل ڈال دیا تاکہ ماموں آتے ہی چوکھٹ رسید ہوجائیں۔‘‘
    امی سے پہلے خالہ کا چھانپڑ پشت پر لگا ’’کم بخت، منحوس ماری، بدفعال کیوں نکال رہی ہے، میرا لاڈلا بھائی کیوں گرنے لگا…‘‘
    فرطِ جذبات سے آگے بڑھیں پہلے ہادی کو گلے لگایا پھر پچڑ پچڑ پیشانی سے گال پر بوسے دے ڈالے۔
    ساتوں بھانجے بھانجیاں صوفے پر بیٹھے ہادی کے گرد حلقہ بنائے ہوئے تھے۔ کوئی گری پھانکتا، کوئی موبائل پر میسج ٹائپ کرتا، کوئی میسج پڑھتی اور کوئی ماموں کے ساتھ سیلفی بناتا۔ گزرے دنوں کی یادیں تازہ کررہے تھے۔ بڑی اور چھوٹی آپا دونوں بہنیں ہونے کے ساتھ دیورانی جیٹھانی بھی تھیں۔ منٹ منٹ بعد اس کے واری صدقے جائیں۔ بس نہیں چل رہا تھا کہ ہر چیز سے نظر اتار لیں۔ حالاں کہ چیزوں سے نظر اتارنے کہ بہ جائے خود کو اس پروار دیتیں یا کم از کم دل ہی بڑا کرلیتیں تو شاید آج ہادی کی زندگی میں سکون ہی ہوتا اور اس کی اجڑی صورت دیکھ کر غمزدہ نہ ہوتیں۔ غم بھی عجیب تھا سات سمندر پار سے برسوں بعد بھائی کی صورت دیکھنے کو ملی تھی۔ بڑا بھائی اللہ نے دیا نہیں چھوٹے کو ہی بھیا کہہ کر دل کی تسکین کرتی رہیں۔ دل کی تسکین بھی عجیب چیز ہے وہاں سے ہوتی ہے جہاں خواہشات ساتھ چھوڑ جائیں اور خواہشات کب مٹھی میں آتیں ہیں۔ اتنی جلدی ہاتھ سے ریت نہیں پھسلتی جتنی جلدی خواہشات پھسل کر سامنے منہ چڑھاتیں ہیں۔ چھوٹی اور بڑی دونوں کی شدید آرزو تھی ہادی کی خندہ پیشانی پر سنہری تاروں والا سہرا لہرائے پر خدا کی پناہ مجال کیا جو کوئی ڈھنگ کی لڑکی اس کے دل میں ٹھہری ہو، نظر سے گزری ہو، یا کسی معقول پر انگشت اشارہ ہی کیا ہو کتنا پوچھا مگر روزہ نہ کُھلا اور عمر پچیس سے بھاگتی پچاس کو چھونے لگی۔
    ’’ماموں آپ نے ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا۔‘‘
    احمد نے موبائل آف کرتے ہوئے ہمیشہ کی طرح درمیان سے جملہ نکالا ’’ہمیں اکلوتی ممانی سے محروم رکھ کر‘‘
    ہادی پوری بات سن کر دھیما سا مسکرا دیئے۔
    سدرہ نے بھی موبائل آف کرتے ہوئے احمد کی ہاں میں ہاں ملائی۔
    ’’تو اور کیا… قسمت سے ایک ہی آنی تھی، وہ بھی نہ آئی…‘‘
    ’’اے کم بخت… آہستہ بولا کر…‘‘
    بڑی آپا نے انگلی کی پورکان کے سوراخ پر رکھی اور اسے نخوت سے گھورا ’’جس دن منحوس پیدا ہوئی تھی اس دن منڈیر پر اتنا کوا بولا کہ دم دینے کو ہوگیا اور اپنی ساری نخوت بھری آواز اس مصیبت کو ہدیہ کرگیا، جواب ہمارے کانوں کے پیچھے پڑی ہے‘‘
    بڑی آپا اس کی آواز سے انتہائی عاجز تھیں۔ مسلسل اُسے گھورتے کہتی رہیں ’’لو بھلا آوازنہ ہوگئی ایف 16- ہوکیا، کان کے پردے پھاڑ ایک سے گھس دوسرے سے نکل…‘‘
    احمد ماں کے تبصرے پر دل مسوس کررہ جاتا اُسے تو اتنی سریلی لگتی تھی کیا کوئل کی کوک ہو، دل کے ہر خانے میں ڈیرہ ڈالتی سی اُس تاسفانہ ماں کو دیکھا۔
    ’’جانے امی کو اس کی آواز سے کیا مسئلہ ہے، بھلا میرے دل سے پوچھے کوئی…‘‘
    احمد کی بڑابڑاہٹ سدرہ نے سن لی اور پلکیں پٹپٹاتے رخساروں پر گلال پھیلتا ہادی ماموں نے اُس کے چہرے پر محسوس کیا تھا پھر مونچھوں تلے ہونٹ مبہم سے پھیل گئے۔
    ’’ابھی کون سا بوڑھا ہوگیا ہے، لوگ ساٹھ ساٹھ کے شادی کرتے ہیں۔‘‘
    چھوٹی آپا ابھی تک پرانے موضوع میں الجھی تھیں۔ ’’اتنے برس پردیس لگایا، کرلیتا کوئی گوری پسند۔‘‘
    دل کو چیرتی تیز لہر سے بے قرار ہوکر اُس نے چھوٹی آپا کو دیکھا تھا وہ سوئے بیلو کے تکیے تلے لوہے کی چُھری چُھپانے میں مصروف تھیں۔ غالباً اُس کی شباب کی عمر آرہی تھی۔ رات کو بار بار کروٹیں بدلتا آنکھ کُھلتی، بے چین رہتا اور آپا کا کہنا تھا اوپری چیزیں ڈراتیں ہیں، لوہے کی کوئی تیز دھار اگر پاس ہو تو چیزیں بھاگ جاتیں ہیں، ہونہ آپا اور اُن کا تضاد۔
    ’’آپا، وہاں کی گوریاں مذہب اغیار سے ہوتیں ہیں۔‘‘




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۷

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۷

    پیرس سے واپسی پر اس کی زندگی کے ایک نئے فیز کا آغاز ہوا تھا۔ ابتدائی طورپر وہ اسلام آباد میں اس غیر ملکی بینک میں کام کرتا رہا۔ پھر کچھ عرصے کے بعد وہ اسی بینک کی ایک نئی برانچ کے ساتھ لاہور چلا آیا۔ اسے کراچی جانے کا موقع بھی مل رہا تھا مگر اس نے لاہور کا انتخاب کیا تھا۔ اسے یہاں ڈاکٹر سبط علی کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع بھی مل رہا تھا۔
    پاکستان میں اس کی مصروفیات کی نوعیت تبدیل ہوگئی تھی مگر ان میں کمی نہیں آئی تھی۔ وہ یہاں بھی دن رات مصروف رہتا تھا۔ ایکExceptionalماہر معاشیات کے طورپر اس کی شہرت اس کے ساتھ ساتھ سفر کررہی تھی۔ حکومتی حلقوں کے لئے اس کا نام نیا نہیں تھا مگر پاکستان آجانے کے بعد فنانس منسٹری مختلف مواقع پر وقتاً فوقتاً اپنے زیر تربیت آفیسرز کو دئیے جانے والے لیکچرز کے لئے اسے بلواتی رہتی۔ لیکچرز کا سلسلہ بھی اس کے لئے نیا نہیں تھا۔Yaleمیں زیر تعلیم رہنے کے بعد وہ وہاں مختلف کلاسز کو لیکچر دیتا رہا تھا یہ سلسلہ نیویارک منتقل ہوجانے کے بعد بھی جاری رہا۔ جہاں وہ کو لمبیا یونیورسٹی میں ہیومن ڈویلپمنٹ پر ہونے والے سیمنیارز میں حصہ لیتا رہا بعد میں اس کی توجہ ایک بارپھر اکنامکس کی طرف مبذول ہوگئی۔
    پاکستان میں بھی بہت جلد وہ ان سیمینارز کے ساتھ انوالو ہوگیا تھا۔ جو IBA،LUMS اور FAST جیسے ادارے کروارہے تھے۔ اکنامکس اور ہیومن ڈویلپمنٹ واحد موضوعات تھے جن پر وہ خاموشی اختیار نہیں کیا کرتا تھا۔ وہ اس کے پسندیدہ موضوع گفتگو تھے اور سیمینارز میں اس کے لیکچرز کا فیڈبیک ہمیشہ بہت زبردست رہا تھا۔
    وہ مہینے کا ایک ویک اینڈ گاؤں میں اپنے اسکول میں گزارا کرتا تھا اور وہاں رہنے کے دوران وہ زندگی کے ایک نئے رخ سے آشنائی حاصل کررہا تھا۔
    ”ہم نے اپنی غربت اپنے دیہات میں چھپادی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے لوگ مٹی کو کارپٹ کے نیچے چھپا دیتے ہیں۔”
    ”اس اسکول کی تعمیر کا آغاز کرتے ہوئے فرقان نے ایک بار اس سے کہا تھا اور وہاں گزارے جانے والے دن اسے اس جملے کی ہولناکی کا احساس دلاتے۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ پاکستان میں غربت کی موجودگی سے ناآشنا تھا۔ وہ یونیسکو اور یونی سیف میں کام کے دوران دوسرے ایشیائی ممالک کے ساتھ ساتھ پاکستان کے بارے میں بھی بہت ساری رپورٹس دیکھتا رہا تھا مگر پاکستان میں غربت کی آخری حدوں کو بھی پار کرنے والے لوگوں کو وہ پہلی بار ذاتی طورپر دیکھ رہا تھا۔
    ”پاکستان کے دس پندرہ بڑے شہروں سے نکل جائیں تو احساس ہوتا ہے کہ چھوٹے شہروں میں رہنے والے لوگ تیسری دنیا میں نہیں دسویں بارھویں دنیا میں رہتے ہیں۔ وہاں تو لوگوں کے پاس نہ روزگار رہے، نہ سہولتیں۔ وہ اپنی آدھی زندگی خواہش میں گزارتے ہیں اور آدھی حسرت میں مبتلا ہوکر کون سی اخلاقیات سیکھا سکتے ہیں آپ اس شخص کو جس کا دن سوکھی روٹی سے شروع ہوتا ہے اور فاقے پر ختم ہوجاتا ہے اور ہم… ہم لوگوں کی بھوک مٹانے کے بجائے مسجدیں تعمیر کرتے ہیں۔ عالی شان مسجدیں، پر شکوہ مسجدیں، ماربل سے آراستہ مسجدیں۔ بعض دفعہ تو ایک ہی سڑک پر دس دس مسجدیں کھڑی ہوتی ہیں۔ نمازیوں سے خالی مسجدیں۔”
    فرقان تلخی سے کہتا تھا۔
    ”اس ملک میں اتنی مسجدیں ہوچکی ہیں کہ اگر پورا پاکستان ایک وقت کی نماز کے لئے مسجدوں میں اکٹھا ہوجائے تو بھی بہت سی مسجدیں خالی رہ جائیں گی۔ میں مسجدیں بنانے پر یقین نہیں رکھتا جہاں لوگ بھوک سے خودکشیاں کرتے پھررہے ہوں جہاں کچھ خاص طبقوں کی پوری پوری نسل جہالت کے اندھیروں میں بھٹکتی پھر رہی ہو وہاں مسجد کے بجائے مدرسے کی ضرورت ہے۔ اسکول کی ضرورت ہے، تعلیم اور شعور ہوگا اور رزق کمانے کے مواقع تو اللہ سے محبت ہوگی ورنہ صرف شکوہ ہی ہوگا۔”
    وہ فرقان کی باتیں خاموشی سے سنتا رہتا تھا۔ اس نے مستقل طورپر گاؤں میں جانا شروع کیا تو اسے اندازہ ہوا فرقان ٹھیک کہتا تھا۔ غربت لوگوں کو کفر تک لے گئی تھی۔ چھوٹی چھوٹی ضرورتیں ان کے اعصاب پر سوار تھیں اور جو ان معمولی ضرورتوں کو پورا کردیتا وہ جیسے اس کی غلامی کرنے پر تیار ہوجاتے۔ اس نے جس ویک اینڈ پر گاؤں جانا ہوتا اسکول میں لوگ اپنے چھوٹے موٹے کاموں کے لئے جمع ہوتے۔ بعض دفعہ لوگوں کی قطاریں ہوتیں۔
    ”بیٹے کو شہر کی کسی فیکٹری میں کام پر رکھوادیں۔ چاہے ہزار روپیہ ہی مل جائے مگر کچھ پیسہ تو آئے۔”
    ”دو ہزار روپے مل جاتے تو میں اپنی بیٹی کی شادی کردیتا۔”
    ”بارش نے ساری فصل خراب کردی۔ اگلی فصل لگانے کے لئے بیج خریدنے تک کے لئے پیسے نہیں ہیں۔ آپ تھوڑے پیسے قرض کے طورپر دے دیں، میں فصل کٹنے کے بعد دے دوں گا۔”
    ”بیٹے کو پولیس نے پکڑلیا ہے، قصور بھی نہیں بتاتے، بس کہتے ہیں ہماری مرضی جب تک چاہیں اندر رکھیں، تم آئی جی کے پاس جاؤ۔”
    ”پٹواری میری زمین پر جھگڑا کررہا ہے۔ کسی اور کوالاٹ کررہا ہے۔ کہتا ہے میرے کاغذ جعلی ہیں۔”
    ”بیٹا کام کے لئے پاس کے گاؤں جاتا ہے۔روز آٹھ میل چل کر آنا جانا پڑتا ہے۔ آپ ایک سائیکل لے دیں تو مہربانی ہوگی۔”
    ”گھر میں پانی کا ہینڈ پمپ لگوانا ہے۔ آپ مدد کریں۔”
    وہ تعجب سے ان درخواستوں کو سنتا تھا۔ کیا لوگوں کے یہ معمولی کام بھی ان کے لئے پہاڑ بن چکے ہیں۔ ایسا پہاڑ جسے عبور کرنے کے لئے وہ زندگی کے کئی سال ضائع کر دیتے ہیں۔ وہ سوچتا۔
    مہینے کے ایک ویک اینڈ پر جب وہ وہاں آتا تو اپنے ساتھ دس پندرہ ہزار روپے زیادہ لے کر آتا وہ روپے چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں بہت سے لوگوں کو بظاہر بڑی لیکن حقیقتاً بہت چھوٹی ضرورتیں پوری کردیتے۔ ان کی زندگی میں کچھ آسانیاں لے آتے، اس کے لکھے ہوئے چند سفارشی رقعے اور فون کالز ان لوگوں کے کندھوں کے بوجھ اور پیروں میں پڑی نہ نظر آنے والی بیڑیوں کو کیسے اتار دیتے۔ اس کا احساس شاید سالار کو خود بھی نہیں تھا۔
    ٭…٭…٭





    لاہور میں اپنے قیام کے دوران وہ باقاعدگی سے ڈاکٹر سبط علی صاحب کے پاس جاتا تھا۔ ان کے ہاں ہر رات عشاء کی نماز کے بعد کچھ لوگ جمع ہوتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کسی نہ کسی موضوع پر بات کیا کرتے تھے۔ بعض دفعہ اس موضوع کا انتخاب وہ خود کرتے بعض دفعہ ان کے پاس آنے والے لوگوں میں سے کوئی ان سے سوال کرتااور پھر یہ سوال اس رات کا موضوع گفتگو بن جاتا۔ عام اسکالرز کے برعکس ڈاکٹر سبط علی صرف خود نہیں بولتے تھے، نہ ہی انہوں نے اپنے پاس آنے والے لوگوں کو صرف سامع بنا دیا تھا بلکہ وہ اکثر اپنی بات کے دوران ہی چھوٹے موٹے سوالات کرتے رہتے اور پھر ان سوالات کا جواب دینے کے لئے نہ صرف لوگوں کی حوصلہ افزائی کرتے بلکہ ان کی رائے کو بہت زیادہ اہمیت دیتے ان کے اعتراضات کو بڑے تحمل اور برد باری سے سنتے۔ ان کے پاس آنے والوں میں صرف سالار سکندر تھا، جس نے ان سے کبھی سوال کیا تھا نہ کبھی ان کے کسی سوال کا جواب دینے کی کوشش کی تھی۔ وہ کبھی کسی بات پر اعتراض کرنے والوں میں شامل ہوا نہ کسی بات پر رائے دینے والوں میں۔
    وہ فرقان کے ساتھ آتا۔ فرقان نہ آتا تو اکیلا چلا آتا، کمرے کے آخری حصے میں اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھ جاتا، خاموشی سے ڈاکٹر صاحب اور وہاں موجود لوگوں کی گفتگو سنتا۔ بعض دفعہ اپنے دائیں بائیں آ بیٹھنے والے لوگوں کے استفسار پر اپنا ایک جملہ تعارف پیش کرتا۔
    ”میں سالار سکندر ہوں، ایک بینک میں کام کرتا ہوں۔”
    وہ جب تک امریکہ میں رہا تب تک ہر ہفتے ایک بار وہاں سے ڈاکٹر سبط علی کو فون کرتا رہا مگر فون پر ڈاکٹر صاحب کے ساتھ ہونے والی اس کی گفتگو بہت مختصر اور ایک ہی نوعیت کی ہوتی تھی۔ وہ کال کرتا، ڈاکٹر صاحب کال ریسیو کرتے اور ایک ہی سوال کرتے۔
    وہ پہلی بار اس سوال پر تب چونکا تھا جب وہ پاکستان سے چند دن پہلے ہی امریکہ آیا تھا اور ڈاکٹر صاحب اس کی واپسی کا پوچھ رہے تھے۔ اسے تعجب ہوا تھا۔
    ”ابھی تو نہیں…” اس نے کچھ نہ سمجھتے ہوئے کہا تھا۔ بعد میں وہ سوال اسے کبھی عجیب نہیں لگا کیونکہ وہ لاشعوری طور پر جان گیا تھا کہ وہ کیا پوچھ رہے تھے۔
    آخری بار انہوں نے وہ سوال اس سے تب کیا تھا جب وہ امامہ کی تلاش میں ریڈ لائٹ ایریا میں پہنچا تھا۔ پیرس واپس پہنچنے کے ایک ہفتے کے بعد اس نے ہمیشہ کی طرح انہیں کال کیا تھا۔ ہمیشہ جیسی گفتگو کے بعد گفتگو اسی سوال پر آ پہنچی تھی۔
    ”واپس پاکستان کب آ رہے ہیں؟”
    بے اختیار سالار کا دل بھر آیا۔ اسے خود کو کمپوز کرنے میں کچھ دیر لگی۔
    ”اگلے ماہ آجاؤں گا۔ میں ریزائن کر رہا ہوں۔ واپس آکر پاکستان میں ہی کام کروں گا۔”
    ”پھر ٹھیک ہے، آپ سے اگلے ماہ ملاقات ہوگی۔” ڈاکٹر صاحب نے تب کہا تھا۔
    ”دعا کیجئے گا۔” سالار آخر میں کہتا۔
    ”کروں گا کچھ اور …؟”
    ”اور کچھ نہیں۔ اللہ حافظ …” وہ کہتا۔
    ”اللہ حافظ۔” وہ جواب دیتے۔ گفتگو کا یہ سلسلہ پاکستان آنے تک جاری رہا جب وہ ان کے پاس باقاعدگی سے جانے لگا تو یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔
    ٭…٭…٭
    لاہور آنے کے بعد وہ باقاعدگی سے ان کے پاس جانے لگا تھا۔ اسے ان کے پاس سکون ملتا تھا۔ صرف ان کے پاس گزارا ہوا وقت ایسا ہوتا تھا جب وہ کچھ دیر کے لئے مکمل طور پر اپنے ڈیرپشن سے سے آزادی حاصل کرلیتا تھا۔ بعض دفعہ ان کے پاس خاموش بیٹھے بیٹھے بے اختیار اس کا دل چاہتا وہ ان کے سامنے وہ سب کچھ اگل دے جسے وہ اتنے سالوں سے اپنے اندر زہر کی طرح بھرے پھر رہا تھا۔ پچھتاوا، احساس جرم… بے چینی، بے بسی، شرمندگی، ندامت، ہر چیز۔ پھر اسے خوف پیدا ہوتا ڈاکٹر سبط علی اس کو پتا نہیں کن نظروں سے دیکھیں گے۔ اس کی ہمت دم توڑ جاتی۔
    ڈاکٹر سید سبط علی ابہام کو دور کرنے میں کمال رکھتے تھے۔ وہ ان کے پاس خاموش بیٹھا رہتا۔ صرف سنتا، صرف سمجھتا، صرف نتیجے اخذ کرتا۔ کوئی دھند تھی جو چھٹ رہی تھی۔ کوئی چیز تھی جو نظر آنے لگی تھی۔ جن سوالوں کو وہ کئی سالوں سے سر پر بوجھ کی صورت میں لئے پھر رہا تھا ان کے پاس ان کے جواب تھے۔
    ”اسلام کو سمجھ کر سیکھیں تو آپ کو پتا چلے گا کہ اس میں کتنی وسعت ہے۔ یہ تنگ نظری اور تنگ دل کا دین نہیں ہے نہ ہی ان دونوں چیزوں کی اس میں گنجائش ہے۔ یہ میں سے شروع ہوکر ہم پر جاتا ہے۔ فرد سے معاشرے تک۔ اسلام آپ سے یہ نہیں کہتا کہ آپ چوبیس گھنٹے سر پر ٹوپی، ہاتھ میں تسبیح پکڑے ہر جگہ مصلےٰ بچھائے بیٹھے رہیں۔ ہر بات میں اس کے حوالے دیتے رہیں۔ نہیں، یہ تو آپ کی زندگی سے… آپ کی اپنی زندگی سے حوالہ چاہتاہے۔ یہ تو آپ سے راست بازی اور پارسائی کا مطالبہ کرتاہے۔ دیانت داری اور لگن چاہتا ہے۔ اخلاص اور استقامت مانگتا ہے۔ ایک اچھا مسلمان اپنی باتوں سے نہیں اپنے کردار سے دوسروں کو متاثر کرتاہے۔”
    سالار ان کی باتوں کو ایک چھوٹے سے ریکارڈر میں ریکارڈ کر لیتا پھر گھر آکر بھی سنتا رہتا۔ اسے ایک رہبر کی تلاش تھی، ڈاکٹر سبط علی کی صورت میں اسے وہ رہبر مل گیا تھا۔
    ٭…٭…٭
    ”سالار آؤ، اب آ بھی جاؤ۔ کتنی منتیں کر واؤگے؟” انیتا نے اس کا بازو کھینچتے ہوئے ناراضی سے کہا۔
    وہ عمار کی شادی میں شرکت کے لئے اسلام آباد آیا ہوا تھا۔ تین دن کی چھٹی لے کر حالانکہ اس کے گھر والوں کا اصرار تھا کہ وہ ایک ہفتے کے لئے آئے۔ شادی کی تقریبات کئی دن پہلے شروع ہوچکی تھیں۔ وہ ان تقریبات کی ”اہمیت” اور ”نوعیت” سے واقف تھا۔ اس لئے گھر والوں کے اصرار کے باوجود وہ تین دن کی رخصت لے کر آیا اور اب وہ عمار کی مہندی کے فنکشن میں شرکت کر رہا تھا جو عمار اور اس کے سسرال والے مل کر کر رہے تھے۔ عمار اور اسریٰ دونوں کے عزیز و اقارب اور دوست مختلف اور پاپ گانوں پر رقص کرنے میں مصروف تھے۔ ایک طوفان بدتمیزی تھا جو وہاں برپا تھا۔ سلیو لیس شرٹس، کھلے گلے، جسم کے ساتھ چپکے ہوئے کپڑے، باریک ملبوسات ، سلک اور شیفون کی ساڑھیاں، نیٹ کے بلاؤز، اس کی فیملی کی عورتیں بھی دوسری عورتوں کی طرح اسی طرح کے ملبوسات پہنے ہوئے تھیں۔
    مکسڈ گید رنگ تھی اور وہ تقریب شروع ہونے پر اس ہنگامے سے کافی دور کچھ ایسے لوگوں کے پاس بیٹھا ہوا تھا جو کارپوریٹ یا بینکنگ سیکٹر سے تعلق رکھتے تھے اور سکندر یا اس کے اپنے بھائیوں کے شناسا تھے۔
    مگر پھر مہندی کی رسومات کا آغاز ہونے لگا اور انیتا اسے اسٹیج کی طرف لے گئی۔ اسریٰ اور عمار بے تکلفی سے اسٹیج پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ وہ پہلی بار اسریٰ سے مل رہا تھا۔ عمار نے اس کا اور اسریٰ کا تعارف کروایا۔ مہندی کی رسومات کے بعد اس نے وہاں سے جانے کی کوشش کی مگر کامران اور طیبہ نے اسے زبردستی روک دیا۔
    ”بھائی کی مہندی ہو رہی ہے اور تم اس طرح وہاں کونے میں بیٹھے ہو۔” طیبہ نے اسے ڈانٹا تھا۔ ”تمہیں یہاں ہونا چاہئے۔”
    وہ ان کے کہنے پر وہیں کامران اور اس کی بیوی کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ اس کے ایک کزن نے ایک بار پھر وہ دو پٹہ اس کے گلے میں ڈالنے کی کوشش کی جو وہ سب ڈالے ہوئے تھے۔ اس نے ایک بار پھر قدرے ناگواری سے اس کا ہاتھ جھٹکتے ہوئے اسے تنبیہ کی۔
    اگلے چند منٹوں کے بعد وہاں رقص شروع ہوچکا تھا۔ عمار سمیت اس کے سارے بہن بھائی اور کنزنز رقص کر رہے تھے اور انیتا نے اسے بھی کھینچنا شروع کردیا تھا۔
    ”نہیں انیتا! میں نہیں کرسکتا۔ مجھے نہیں آتا۔”
    اس نے اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کرتے ہوئے معذرت کی مگر اس کی معذرت قبول کرنے کے بجائے وہ اور عمار اسے کھینچ کر رقص کرنے والوں کے ہجوم میں لے آئے تھے۔ کامران اور معیز کی شادی میں وہ بھی ایسے ہی رقص کرتا رہاتھا، مگر عمار کی مہندی پر وہ پچھلے سات سالوں میں اتنا لمبا ذہنی سفر طے کر چکا تھا کہ وہاں اس ہجوم کے درمیان خالی بازو کھڑے کرنا بھی اس کے لئے دشوار تھا۔ قدرے بے بس مسکراہٹ کے ساتھ وہ اسی طرح ہجوم کے درمیان کھڑا رہا پھر اس نے انیتا کے کان میں کہا۔
    ”انیتا… میں ڈانس بھول چکا ہوں۔ Please Let me go (براہِ مہربانی مجھے جانے دو)۔”
    ”تم کرنا شروع کرو… آجائے گا۔” انیتا نے جواباً اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔ اب اسریٰ بھی اس ہجوم میں شامل ہوچکی تھی۔
    ”میں نہیں کرسکتا۔ تم لوگ کرو۔ میں انجوائے کر رہا ہوں۔ مجھے جانے دو۔”
    اس نے مسکراتے ہوئے نکلنے کی کوشش کی۔ اسریٰ کی آمد نے اسے اس کوشش میں کامیاب کردیا۔
    ”عروج ہر قوم، ہر نسل کا خواب ہوتا ہے اور پھر وہ قومیں جن پر الہامی کتابیں نازل ہوئی ہوں وہ تو عروج کو اپنا حق سمجھتی ہیں مگر کبھی بھی کسی قوم پر عروج صرف اس بنا پر نہیں آیا کہ اسے ایک کتاب اور نبی دے دیاگیا جب تک اس قوم نے اپنے اعمال اور افعال سے عروج کے لئے اپنی اہلیت ثابت نہیں کردی وہ کسی مرتبہ، کسی مقام، کسی فضیلت کے قابل نہیں ٹھہریں۔ مسلمان قوم یا امت کے ساتھ بھی ایسا ہوتا رہا ہے اور ہورہا ہے۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ ا ن کے اعلیٰ طبقات تعیش اور نفس پرستی کا شکار ہیں۔ یہ دونوں چیزیں وبا کی طرح ہوتی ہیں۔ ایک سے دوسرے، دوسرے سے تیسرے اور پھر یہ سلسلہ کہیں رُکتا نہیں۔” اسے وہاں کھڑے ان ناچتے ہوئے عورتوں اور مردوں کے ہجوم کو دیکھتے ہوئے بے اختیار ڈاکٹر سبط علی کی باتیں یاد آنے لگیں۔
    ”مومن عیاش نہیں ہوتا نہ تب جب وہ رعایا ہوتاہے نہ تب جب وہ حکمران ہوتا ہے۔ اس کی زندگی کسی جانور یا کیڑے کی زندگی جیسی نہیں ہوتی۔ کھانا پینا، اپنی نسل کو آگے بڑھانا اور فنا ہوجانا۔ یہ کسی جانور کی زندگی کا انداز تو ہوسکا ہے مگر کسی مسلمان کی نہیں۔” سالار بے اختیار مسکرایا۔ وہ آج پھر ”جانوروں” اور ”حشرات الارض” کاایک گروہ دیکھ رہا تھا۔ اسے خوشی ہوئی، وہ بہت عرصہ پہلے ان میں سے نکل چکا تھا۔ وہاں ہر ایک خوش باش، پرسکون اور مطمئن نظر آرہا تھا۔ بلند قہقہے اور چمکدار چہرے اور آنکھیں۔ اس کے سامنے طیبہ عمار کے سسر کے ساتھ رقص کر رہی تھیں۔ انیتا اپنے سب سے بڑے بھائی کامران کے ساتھ۔




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۶

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۶

    نیوہیون واپس آنے کے بعد اس نے زندگی کے ایک نئے سفر کو شروع کیا تھا۔
    اس رات اس جنگل کے ہولناک اندھیرے اور تنہائی میں اس درخت کے ساتھ بندھے بلکتے ہوئے کئے گئے تمام وعدے اسے یاد تھے۔
    وہ سب سے بالکل الگ تھلگ رہنے لگا تھا۔ معمولی سے رابطے اور تعلق کے بھی بغیر۔
    ”مجھے تم سے نہیں ملنا۔”
    وہ صاف گو تو ہمیشہ سے ہی تھا مگر اس حد تک ہوجائے گا اس کے ساتھیوں میں سے کسی کو بھی اس کی توقع نہیں تھی۔ چند ہفتے اس کے بارے میں اس کا گروپ چہ میگوئیاں کرتا رہا پھر یہ چہ میگوئیاں اعتراضات اور تبصروں میں تبدیل ہوگئیں اور اس کے بعد طنزیہ جملوں اور ناپسندیدگی میں پھر سب اپنی اپنی زندگی میں مصروف ہوگئے۔ سالار سکندر کسی کی زندگی کا مرکز اور محور نہیں تھا نہ دوسرا کوئی اس کی زندگی کا۔ اس نے نیوہیون میں پہنچنے کے بعد جو چند کام کئے تھے اس میں جلال انصر سے ملاقات کی کوشش بھی کی تھی۔ وہ پاکستان سے واپس آتے ہوئے اس کے گھر سے امریکہ میں اس کا ایڈریس لے آیا تھا۔ یہ ایک اتفاق ہی تھا کہ اس کا ایک کزن بھی اسی ہاسپٹل میں کام کررہا تھا جہاں جلال کام کررہا تھا۔ باقی کاکام بہت آسان ثابت ہوا۔ ضرورت سے زیادہ آسان۔
    وہ اس سے ایک بار مل کر اس سے معذرت کرنا چاہتا تھا۔ اسے ان تمام جھوٹوں کے بارے میں بتا دینا چاہتا تھا جو وہ اس سے امامہ کے بارے میں اور امامہ سے اس کے بارے میں بولتا رہاتھا۔ وہ ان دونوں کے تعلق میں اپنے رول کے لئے شرمندہ تھا۔ وہ اس کی تلافی کرنا چاہتا تھا۔ وہ جلال انصر تک پہنچ چکا تھا اور وہ امامہ ہاشم تک پہنچنا چاہتا تھا۔
    وہ جلال انصر کے ساتھ ہاسپٹل کے کیفے ٹیریا میں بیٹھا ہوا تھا۔ جلال انصر کے چہرے پر بے حد سنجیدگی تھی اور اس کے ماتھے پر پڑے ہوئے بل اس کی ناراضی کو ظاہر کررہے تھے۔
    سالار کچھ دیر پہلے ہی وہاں پہنچا تھا اور جلال انصراسے اپنے سامنے دیکھ کر ہکابکا رہ گیا تھا۔ اس نے جلال سے چند منٹ مانگے تھے۔ وہ دوگھنٹے انتظار کروانے کے بعد بالآخر کیفے ٹیریا میں آگیا تھا۔
    ”سب سے پہلے تو میں یہ جاننا چاہوں گا کہ تم نے مجھے ڈھونڈا کیسے؟” اس نے آپ جناب کے تمام تکلفات کو برطرف رکھتے ہوئے ٹیبل پر بیٹھتے ہی سالار سے کہا۔
    ”یہ اہم نہیں ہے۔”
    ”یہ بہت اہم ہے۔ اگر تم واقعی یہ چاہتے ہو کہ میں کچھ دیر تمہارے ساتھ یہاں گزاروں تو مجھے پتا ہونا چاہئے کہ تم نے مجھے کیسے ڈھونڈا؟”
    ”میں نے اپنے کزن سے مدد لی ہے۔ وہ ایک ڈاکٹر ہے اور اس شہر میں بہت عرصے سے کام کررہا ہے۔ میں یہ نہیں جانتا کہ اس نے آپ کو کیسے ڈھونڈا ہے۔ میں نے صرف اس کو آپ کا نام اور کچھ دوسری معلومات دی تھیں۔” سالار نے کہا۔
    ”لنچ…..؟جلال نے بڑے رسمی انداز میں کہا، وہ ٹیبل پر آتے ہوئے اپنی لنچ ٹرے ساتھ لیکر آیا تھا۔
    ”نہیں، میں نہیں کھاؤں گا۔” سالار نے شکریہ کے ساتھ معذرت کرلی۔
    جلال نے کندھے اچکائے اور کھانا شروع کردیا۔
    ”کس معاملے میں بات کرنا چاہتے تھے تم مجھ سے؟”
    ”میں آپ کو چند حقائق سے آگاہ کرنا چاہتا تھا۔”
    جلال نے اپنی بھنویں اچکائیں۔”حقائق؟”
    ”میں آپ کو یہ بتانا چاہتا تھا کہ میں نے آپ سے جھوٹ بولا تھا۔ میں امامہ کا دوست نہیں تھا۔ وہ میرے دوست کی بہن تھی، صرف میری نیکسٹ ڈور ”neighbour… جلال نے کھانا جاری رکھا۔
    ”میری اس سے معمولی جان پہچان تھی۔ وہ بھی صرف اس لئے کیونکہ ایک بار اس نے مجھے فرسٹ ایڈ دے کر میری جان بچائی تھی۔ وہ مجھے پسند نہیں کرتی تھی خود میں بھی اسے پسند نہیں کرتا تھا اور یہی وجہ تھی کہ میں نے آپ پریوں ظاہر کیا جیسے وہ میری بہت گہری دوست تھی۔ میں آپ دونوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتا تھا۔”
    جلال سنجیدگی سے اس کی بات سنتے ہوئے کھانا کھاتا رہا۔
    ”اس کے بعد جب امامہ گھر سے نکل کر آپ کے پاس آنا چاہتی تھی تو میں نے اس سے جھوٹ بولا۔ آپ کی شادی کے بارے میں۔”
    اس بار جلال کھانا کھاتے کھاتے رک گیا۔” میں نے اس سے کہا کہ آپ شادی کرچکے ہیں۔ وہ آپ کے پاس اسی لئے نہیں آئی تھی۔ مجھے بعد میں احساس ہواکہ میں نے بہت نامناسب حرکت کی ہے مگر اس وقت تک دیر ہوچکی تھی۔ امامہ سے میرا کوئی رابطہ نہیں تھا مگر یہ ایک اتفاق ہے کہ آپ سے میرا رابطہ ہوگیا۔ میں آپ سے ایکسکیوز کرنا چاہتا ہوں۔”




    ”میں تمہاری معذرت قبول کرتا ہوں مگر میں نہیں سمجھتا کہ تمہاری وجہ سے میرے اور امامہ کے درمیان کوئی غلط فہمی پیدا ہوئی، میں پہلے ہی اس سے شادی نہ کرنے کا فیصلہ کرچکا تھا۔” جلال نے بڑی صاف گوئی سے کہا۔
    ”وہ آپ سے بہت محبت کرتی تھی۔” سالار نے دھیمی آواز میں کہا۔
    ”ہاں میں جانتا ہوں مگر شادی وغیرہ میں صرف محبت تو نہیں دیکھی جاتی اور بھی بہت کچھ دیکھا جاتا ہے۔” جلال بہت حقیقت پسندانہ انداز میں کہہ رہا تھا۔
    ”جلال! کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ اس سے شادی کرلیں۔”
    ”پہلی بات یہ کہ میرا اس کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں ہے اور دوسری بات یہ کہ میرا اس کے ساتھ رابطہ ہوتا بھی تب بھی میں اس کے ساتھ شادی نہیں کرسکتا۔”
    ”اس کو آپ کے سہارے کی ضرورت ہے۔” سالار نے کہا۔
    ”میں نہیں سمجھتا کہ اسے میرے سہارے کی ضرورت ہے۔ اب تو بہت عرصہ گزرچکا ہے اب تک وہ کوئی نہ کوئی سہارا تلاش کرچکی ہوگی۔” جلال نے اطمینان سے کہا۔
    ”ہوسکتا ہے اس نے ایسا نہ کیا ہو۔ وہ ابھی بھی آپ کا انتظار کررہی ہو۔”
    ”میں اس طرح کے امکانات پر غور کرنے کا عادی نہیں ہوں۔ میں نے تمہیں بتایا ہے کہ میرے لئے اپنے کیرئیر کی اسٹیج پر شادی کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ وہ بھی اس سے۔”
    ”کیوں…؟”
    ”اس کیوں کا جواب میں تمہیں کیوں دوں۔ تمہارا اس سارے معاملے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں اس سے کیوں شادی نہیں کرتا چاہتا۔ میں تب ہی اسے بتا چکا ہوں اور اتنے عرصے کے بعد تم دوبارہ آکر پھر وہی پینڈوراباکس کھولنے کی کوشش کررہے ہو۔” جلال نے قدرے ناراضی سے کہا۔
    ”میں صرف اس نقصان کی تلافی کرنے کی کوشش کررہا ہوں، جو میری وجہ سے آپ دونوں کا ہوا۔” سالار نے نرمی سے کہا۔
    ”میرا کوئی نقصان نہیں ہوا اور امامہ کا بھی نہیں ہوا ہوگا۔ تم ضرورت سے زیادہ حساس ہورہے ہو۔”
    جلال نے سلاد کے چند ٹکڑے منہ میں ڈالتے ہوئے اطمینان سے کہا۔ سالار اسے دیکھتا رہا۔ وہ نہیں سمجھ پارہا تھا کہ وہ اسے اپنی بات کیسے سمجھائے۔
    ”میں اس کو ڈھونڈنے میں آپ کی مدد کرسکتا ہوں۔” اس نے کچھ دیر بعد کہا۔” مگر میں اسے ڈھونڈنا نہیں چاہتا۔ شادی مجھے اس سے نہیں کرنی تو پھر ڈھونڈنے کا فائدہ۔”
    سالار نے ایک گہرا سانس لیا۔” آپ جانتے ہیں اس نے کس لئے گھر چھوڑا تھا؟”
    ”میرے لئے بہرحال نہیں چھوڑا تھا۔” جلال نے بات کاٹی۔
    ”آپ کے لئے نہیں چھوڑا تھا، مگر جن وجوہات کی بناپر چھوڑا تھا کیا ایک مسلمان کے طورپر آپ کو اس کی مدد نہیں کرنی چاہئے جب کہ آپ یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ لڑکی آپ سے بہت محبت کرتی ہے۔ آپ سے بہت انسپائرڈ ہے۔”
    ”میں دنیا میں کوئی واحد مسلمان نہیں ہوں اور نہ ہی مجھ پر یہ فرض کردیا گیا ہے کہ میں اس کی مدد ضرور کروں۔ میری ایک ہی زندگی ہے اور میں اسے کسی دوسرے کی وجہ سے تو خراب نہیں کرسکتا اور پھر تم بھی مسلمان ہو، تم کیوں نہیں شادی کرتے اس سے؟ میں نے توتب بھی تم سے کہا تھا کہ تم اس سے شادی کرلو۔ تم ویسے بھی اس کے لئے نرم گوشہ رکھتے ہو۔”
    جلال انصر نے قدرے چبھتے ہوئے انداز میں کہا۔ سالار اسے خاموشی سے دیکھتا رہا۔ وہ اسے بتا نہیں سکتا تھا کہ وہ اس سے شادی کرچکا ہے۔
    ”شادی…؟ وہ مجھے پسند نہیں کرتی۔” اس نے کہا۔
    ”میں اس سلسلے میں اسے سمجھا سکتا ہوں۔ تم میرا اس سے رابطہ کرو ادو تو میں اسے تم سے شادی پر تیار کرلوں گا۔ اچھے آدمی ہو تم…اور خاندان وغیرہ بھی ٹھیک ہی ہوگا تمہارا۔ کار تو ڈیڑھ سال پہلے بھی بڑی شاندار رکھی ہوئی تھی تم نے۔ اس کا مطلب ہے روپیہ وغیرہ ہوگا تمہارے پاس۔ ویسے یہاں کس لئے ہو؟”
    ”ایم بی اے کررہاہوں۔”
    ”پھر تو کوئی مسئلہ ہی نہیں۔ جاب تمہیں مل جائے گی۔ روپیہ ویسے بھی تمہارے پاس ہے۔ لڑکیوں کو اور کیا چاہئے۔ امامہ تو ویسے بھی تمہیں جانتی ہے۔” جلال نے چٹکی بجاتے مسئلہ حل کیا تھا۔
    ”سارا مسئلہ تو اسی”جاننے” نے ہی پیدا کیا ہے۔ وہ مجھے ضرورت سے زیادہ جانتی ہے۔” سالار نے جلال کو دیکھتے ہوئے سوچا۔
    ”وہ آپ سے محبت کرتی ہے۔” سالار نے جیسے اسے یاد دلایا۔
    ”اب اس میں میرا تو کوئی قصور نہیں ہے۔ لڑکیاں کچھ زیادہ جذباتی ہوتی ہیں اس معاملے میں۔” جلال نے قدرے بیزاری سے کہا۔
    ”یہ ون سائیڈڈ لوافیئر تو نہیں ہوگا۔ آپ کسی نہ کسی حدتک اس میں انوالو تو ضرور ہوں گے۔” سالار نے قدرے سنجیدگی سے کہا۔
    ”ہاں تھوڑا بہت انوالو تھا، مگر وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ ترجیحات بھی بدلتی رہتی ہیں انسان کی۔”
    ”اگر آپ کو وقت اور حالات کے ساتھ اپنی ترجیحات بدلنی تھیں تو آپ کو اس کے بارے میں امامہ کو انوالو ہوتے ہوئے ہی بتا دینا چاہئے تھا۔ کم از کم اس سے یہ ہوتا کہ وہ آپ سے مدد کی توقع رکھتی نہ ہی آپ پر اس قدر انحصار کرتی۔ میں امید کرتا ہوں آپ یہ تو نہیں کہیں گے کہ آپ نے اس سے شادی کے حوالے سے کبھی کوئی بات یا وعدہ کیا ہی نہیں تھا۔”
    جلال کچھ کہنے کے بجائے خشمگیں نظروں سے اسے دیکھتا رہا۔
    ”تم مجھے کیا جتانے اور بتانے کی کوشش کررہے ہو؟” اس نے چند لمحوں کے بعد اکھڑے ہوئے انداز میں اس سے کہا۔
    ”اس نے جب مجھ سے پہلی بار رابطہ کیا تھا تو آپ کا فون نمبر اور ایڈریس دے کر اس نے مجھ سے کہا تھا کہ میں آپ سے پوچھوں آپ نے اپنے پیرنٹس سے شادی کی بات کرلی ہے۔ میں نے اسے اپنا فون دیا تھا کہ وہ آپ سے یہ بات خود پوچھ لے۔ یقینا اسلام آباد آنے سے پہلے آپ نے اس سے یہ کہا ہوگا کہ آپ اس سے شادی کے لئے اپنے پیرنٹس سے بات کریں گے۔ آپ نے یقینا پہلے محبت وغیرہ کے اظہار کے بعد اسے پروپوز کیا ہوگا۔”
    جلال نے کچھ برہمی سے اس کی بات کاٹی۔”میں نے اسے پروپوز نہیں کیا تھا۔ اس نے مجھے پروپوز کیا تھا۔”
    ”مان لیتا ہوں اس نے پروپوز کیا۔ آپ نے کیا کیا؟ انکار کردیا؟” وہ چیلنج کرنے والے انداز میں پوچھ رہا تھا۔
    ”انکار نہیں کیا ہوگا۔” سالار عجیب سے انداز میں مسکرایا۔
    ”اس نے مجھے بتایا تھا کہ آپ نعت بہت اچھی پڑھتے ہیں اور آپ کو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بھی بہت محبت ہے۔ آپ کو بھی بتایا ہوگا اس نے کہ وہ آپ سے محبت کیوں کرتی تھی مگر آپ سے مل کر اور آپ کو جان کر مجھے بہت مایوسی ہوئی۔ آپ نعت بہت اچھی پڑھتے ہوں گے مگر جہاں تک حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا تعلق ہے میں نہیں سمجھتا وہ آپ کوہے۔ میں خود کوئی بہت اچھا آدمی نہیں ہوں اور محبت کے بارے میں زیادہ بات نہیں کرسکتا۔ خاص طورپر اللہ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کے بارے میں مگر اتنا میں ضرور جانتا ہوں کہ جو شخص اللہ یا اس کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے یا لوگوں کو یہ امپریشن دیتا پھرتا ہے وہ مدد کے لئے پھیلے ہوئے ہاتھ کو نہیں جھٹک سکتا نہ ہی وہ کسی کو دھوکا اور فریب دے گا۔” سالار اٹھ کر کھڑا ہوگیا۔
    ”اور میں تو آپ سے ریکویسٹ کررہا ہوں اس کی مدد کے لئے۔ ہوسکتا ہے اس نے بھی ڈیڑھ سال پہلے کی ہو،پھر بھی اگر آپ انکار پر مصر ہیں تو…میں یا کوئی آپ کو مجبور تو نہیں کرسکتا مگر آپ سے مل کر اور آپ سے بات کرکے مجھے بہت مایوسی ہوئی۔”
    اس نے الوداعی مصافحہ کے لئے جلال کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ جلال نے اپنا ہاتھ نہیں بڑھایا، وہ تنفر بھرے انداز میں ماتھے پر بل لئے اسے دیکھتا رہا۔
    ”خدا حافظ۔” سالار نے اپنا ہاتھ پیچھے کرلیا۔ جلال اسی انداز میں اسے جاتا دیکھتا رہا اور پھر اس نے خود کلامی کی۔”It’s really an idiots world out there۔”
    وہ دوبارہ لنچ ٹرے کی طرف متوجہ ہوگیا۔ اس کا موڈبے حد آف ہورہا تھا۔
    ٭…٭…٭




  • ساتواں سکّہ — فیصل سعید خان

    ساتواں سکّہ — فیصل سعید خان

    شاہ میر ڈائننگ ٹیبل پر بیٹھا کھانے کا بے چینی سے انتظار کررہا تھا!
    کفگیر سے اُٹھنے والا شور اور چوڑیوں کی کھنک آپس میں مدغم ہو کر فضا میں جلترنگ بجا رہے تھے۔ شاہ میرکن انکھیوں سے ایک آدھ بار لائونج سے متصل باورچی خانے کی جانب دیکھتا۔ جہاں دانیہ مشینی انداز میں ہنڈیا میں کفگیر چلا کر روٹی بیلتی، اسے جلتے توے پر ڈال کر دوپٹے کے پلو سے اپنے ماتھے کا پسینہ خشک کرتی جلدی جلدی ہاتھ چلا رہی تھی۔
    شاہ میر پیشے کے اعتبار سے ایک نفسیاتی معالج ہے۔ وہ کچھ عرصہ قبل ہی اس نئے شہر میں آکرآباد ہوا۔ شہر کے پوش علاقے میں اس کا کلینک انتہائی قلیل عرصہ میں اپنی ساکھ قائم کرچکا تھا۔ شاہ میر اپنے والدین کا اکلوتی اولاد تھی۔ شومئی قسمت کے شاہ میر کے والدین اس کے بچپن ہی میں چل بسے۔ دانیہ سے اس کی شادی کو ابھی چند ماہ ہی گذرے تھے۔ دونوں کا ایک دوسرے کے بغیر ایک لمحہ گزارنا محال تھا۔ جب شاہ میر کلینک میں ہوتا تو ہر ایک گھنٹے بعد دانیہ مختلف حیلے بہانوں سے اسے فون کرتی اور اس کے جلد گھر آنے کی تاکید کرتی۔ شاہ میر آج کلینک سے جلد واپس آگیا تھا۔ اس نے لباس تبدیل کیا اور فریش ہونے کے بعد کھانے کی میز پر آکر بیٹھ گیا۔ دانیہ نے جلدی جلدی کھانا ٹرے میں رکھا اور اسے بڑے سلیقے سے میز پر سجا دیا۔ دانیہ ٹیبل کی دوسری جانب بیٹھ کر شاہ میر کا پہلا لقمہ لئے جانے کا انتظار کرنے لگی۔ دانیہ نے شاہ میر کی پسند و ناپسند جانچنے کا ایک انوکھا پیمانہ کھوج لیا تھا۔ ایک روز دانیہ نے شاہ میر سے کہا:
    "جب آپ ڈیڑھ روٹی سے زیادہ کھاتے ہیں تو میں سمجھ جاتی ہوں کہ آج کھانا بہت اچھا پکا ہے۔” یہ بات شاہ میر کے علم میں آجانے کے بعد اس نے کبھی ڈیڑھ روٹی سے کم کھانا نہیں کھایا۔ خواہ کھانا اس کی پسند کا بنا ہو یا نہیں۔
    دانیہ نے پانی کا گلاس شاہ میر کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا: "شاہ میر آپ کا کام بھی کتنا صبر آزما ہے نا۔ دن بھر طرح طرح کے مریضوں سے ملنا اور گھنٹوں بیٹھ کر ان کے مسائل سننا۔ اف خدایا کتنا بورنگ کام ہے۔ اگر کوئی میرے قدموں میں دنیا کی ساری دولت بھی رکھ دے تو میں یہ کام نہ کروں۔ سچ کہوں شاہ میرمجھے تو کبھی کبھی آپ پر رحم آنے لگتا ہے۔ قسم سے آپ کی ہمت کو بھی داد دینا ہوگی۔ آپ کا پورا دن کلینک میں مریضوں کی عجیب و غریب باتیں سُنتے ہوئے گذرجاتا ہے اور رات میں میری بکواس۔”
    یہ کہہ کر دانیہ ہنسنے لگی شاہ میر بھی مُسکرائے بغیر نہ رہ سکا۔ اپنے پروفیشن پر دانیہ کا تبصرہ سننا اسے اچھا لگ رہا تھا۔ دانیہ کی باتوں سے شاہ میر کی سماعت اس کی معصومیت کا لُطف کشید کر رہی تھی۔ دانیہ نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:
    "شاہ میر آپ نے اب تک سینکڑوں مریضوں کا علاج کیا ہوگا۔ کیا کبھی کوئی ایسا مریض بھی آیا کہ جسے آپ کبھی بھلا نہ سکے ہوں۔”





    شاہ میر نے دوسری روٹی کا آخری لقمہ لیتے ہوئے سر ہلا کر ہاں کہنے پر ہی اکتفا کیا۔ اس کے ہاں کہنے کی دیر تھی کہ دانیہ نے شاہ میر کا بازو اپنے ہاتھوں میں جکڑ لیا اور کسی چھوٹے بچے کی طرح ضد کرنے لگی۔۔۔۔۔۔ "پلیز شاہ میر مجھے بھی اس مریض کے بارے میں کچھ بتائیے نا۔۔ پلیز۔” شاہ میر نے خالی پلیٹ ٹرے میں واپس رکھی اور ٹشو پیپر سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کہا:” ہاں کیوں نہیں! بھلا میں تمھاری کوئی بات ٹال سکتا ہوں لیکن ایک شرط ہے ۔ پہلے ایک گرما گرم چائے ہوجائے۔۔۔”
    اتنا کہہ کر شاہ میر ٹیبل سے اٹھ کھڑا ہوا۔ دانیہ نے جلدی جلدی برتن سمیٹتے ہوئے کہا: "بس اتنی سی بات، یہ تو بڑا سستا سوادا کیا آپ نے۔ ٹھیک ہے پھر آپ ہاتھ دھو لیجئے میں کمرے میں آپ کے لئے چائے لے کر آتی ہوں۔۔” دانیہ کے چہرے پر خوشی دیدنی تھی۔
    شاہ میر کمرے میں آکر ریلیکسنگ چئیر پر بیٹھا چائے کا انتظار کررہا تھا۔ چند ہی منٹوں بعد دانیہ شاہ میر کے لئے چائے اور اپنے لئے کافی بنا کر لے آئی۔ دانیہ نے چائے کا کپ شاہ میر کوتھمایا اور اپنا کافی کا مگ لئے وہیں نیچے قالین پر شاہ میر کے سامنے بیٹھ گئی۔۔۔۔۔۔ شاہ میر نے دانیہ کے دمکتے چہرے کو نگاہ بھر کر دیکھا۔ دانیہ کی آنکھوں میں بے چینی صاف دکھائی دے رہی تھی۔ وہ کسی بچے کی طرح شاہ میر کے قدموں میں بیٹھی کہانی سُننے کا انتظار کرنے لگی۔ شاہ میر نے چائے کا کپ اٹھایا اور پھر اپنے سامنے لگی پینٹنگ پر نظریں گاڑ دیں۔۔ شاہ میر کی آنکھوں میں وہ بیتے دن روشنی کے چھوٹے چھوٹے نقطوں کی صورت بڑھتے بڑھتے ایک جگہ مرکوز ہوکر ہیبت ناک روشنی کے گولوں میں بدل گئے۔ سیکنڈ کے ہزارویں حصہ میں وہ روشنی کا گولہ اس کی پیشانی سے ٹکرا گیا۔ کرب میں ڈوبی آوز کے ساتھ جو نام فضا میں گونجا وہ تھا۔۔۔۔
    سجل۔۔۔۔
    "کون سجل؟” دانیہ کے سوال نے رنگ و نور کے آتش فشاں کے دہانے پر جیسے پتھر رکھ دیا۔۔۔۔ کہانی ندی کی طرح ڈھلوان کی جانب بہنے لگی۔۔۔۔۔ شاہ میر نے اپنی توجہ سامنے لگی پینٹنگ پر ہی مرکوز رکھی اور کہا۔
    "میری پیشنٹ”
    "تو وہ پیشنٹ ایک لڑکی تھی؟”
    "ہاں۔۔۔”
    "دانیہ وہ عام لڑکیوں سے بالکل مختلف تھی۔ خدا نے سجل کی مٹی کو پانی سے نہیں بلکہ خلد بریں میں بہتی کسی دودھ کی نہر سے گوندھا تھا۔ دن کو رات کرتے ہوئے خوب صورت بال خدوخال میں وہ پاکیزگی اور لطافت تھی کہ حوریں شرما جائیں—”
    "کیا وہ واقعی اتنی خوبصورت تھی۔ کیا مجھ سے بھی زیادہ ؟ ” دانیہ کا اپنے شوہر کے منہ سے کسی اور لڑکی کی تعریف سُن کر یہ سوال پوچھنا ایک فطری رد عمل تھا، جسے شاہ میر نے سنی ان سنی کرکے اپنی کہانی جاری رکھی:” ہاں دانیہ وہ واقعی بہت خوبصورت تھی۔ سجل کے سہانے مکھڑے پر ہمیشہ موہنی اور دل نواز اُداس سی مسکراہٹ کھیلتی رہتی، بس یوں سمجھو کہ وہ حسن کی ایک بہتی ندی تھی۔”
    "تو جناب کا دل آگیا تھا اپنی مریضہ پر۔ اچھا ذرا یہ تو بتائیے کہ اگر وہ اتنی ہی خوبصورت تھی تو آپ نے اس سے شادی کیوں نہیں کی۔”۔۔۔۔
    "سچ کہوں دانیہ پہلی بار اسے دیکھ کرتو میرا دل بھی بہت زور سے دھڑکا تھا لیکن پریوں کو شہزادے چُرا لے جاتے ہیں یا پھر دیو اُن پر اپنا حق جماتے ہیں اور مجھے تلاش تھی ایک مٹی سے بنی گڑیا کی۔ جو تمھارے مل جانے سے ختم ہوئی۔”
    "اچھا ڈاکٹر صاحب اب زیادہ باتیں نہ بنائیں۔ مجھے کچھ اور بتائیں اپنی اس خوبصورت مریضہ سجل کے بارے میں”۔۔۔
    "سجل اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ بی اے کا امتحان دینے کے بعد وہ گھر میں فراغت کے دن گذار رہی تھی۔ سجل شام میں اپنا وقت مکان کی چھت پرایک کپ کافی کے ساتھ گذرا کرتی وہ کافی ایڈیکٹیڈ تھی۔ یہ اس کا روز کا معمول تھا۔ اپنے گھونسلوں کی جانب واپس پلٹتے ہوئے پرندوں کو دیکھنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا لیکن پھر ایک روز شام کے گہرے سائے اس کی ساری خوشیاں نگل گئے۔ مدھم پڑتا سورج اس کے چہرے کی بشاشت اور موہنی مسکراہٹ اپنے ساتھ لے کر ڈوب گیا۔” اتنا کہہ کر شاہ میر خاموش۔ دانیہ نے کافی کے مگ سے ایک گھونٹ لیا اور شاہ میر سے تجسس بھرے انداز میں پوچھا۔۔۔۔
    "کیا ہوا تھا اس شام کو ؟” شا ہ میر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا: "وہ ایک سرد شام تھی۔ اس روز ہوا بھی معمول سے ذرا کچھ زیادہ ہی تیز چل رہی تھی۔ سرد ہوائیں دائروں میں گھومتی ہوئی زمین پر اٹھکھیلیاں کر رہیں تھی۔ ہر روز کی طرح سجل اپنا کافی کا کپ لے کر چھت پر آئی اور بید سے بنی کرسی پر بیٹھ گئی۔ دوسری کرسی کو خود سے قریب کیا اور اپنی کمر کو تھوڑا نیچے سرکا کر اپنے پیر دوسری کرسی پر رکھ لیے۔ سجل کے لمبے سیاہ بال ہوا کے جھونکوں سے اُڑ کر اس کے چہرے پر بار بار بکھر نے لگے۔ اس نے کافی کا مگ بید کی لکڑیوں سے بنی میز پر رکھا اور بڑی نفاست سے اپنے بالوں کا جوڑا گوندھ لیا۔ آسمان پر اُڑتے ہوئے پرندوں کو دیکھتے دیکھتے کب سجل کی آنکھ لگ گئی اسے پتا ہی نہیں چلا۔ سارے پرندے اپنے گھونسلوں کی جانب لوٹ چکے تھے۔ سورج کب کا اپنی روشنیاں سمیٹ کر آسمان سے غائب ہوگیا تھا۔ جب سجل نیند سے جاگی تو اپنے چاروں جانب اندھیرا دیکھ کر سٹپٹا گئی۔ اسے محسوس ہوا کہ جیسے کوئی اس کے بالوں میں انگلیاں پھیر رہا ہے۔ وہ سمجھی کہ اس کی والدہ اس کی پشت پر کھڑی ہیں لیکن جب سجل نے پلٹ کر دیکھا تو وہاں کسی کو نہ پا کر گھبرا گئی۔ سیکنڈ کے ہزارویں حصّے میں اس کے ذہن میں کئی خیال آئے اورگئے۔ بدحواس ہو کر وہ کرسی سے اٹھی اور سیڑھی سے نیچے کی جانب دوڑ لگادی۔ سجل تیزی سے اپنے کمرے میں داخل ہوئی اور کمرے کا دروازہ بند کرلیا۔۔۔۔
    اس دن کے بعد وہ سارا سارا دن اپنے کمرے میں بند رہا کرتی یا پھر اپنی والدہ کی گود میں سر رکھے روتی رہتی۔ اپنی چاند سی بیٹی کو یوں گہن لگتا دیکھ کر سجل کی والدہ کا دل دُکھ سے بھر جاتا۔۔۔۔ اس کی والدہ کے دل میں سو طرح کے وسوسے جنم لے رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔
    "کیا ہوا تھا سجل کو۔۔۔؟ وہ اس طرح کیوں behave کر رہی تھی؟۔۔۔۔ "دانیہ اپنی بے چینی پر قابو نہ رکھ سکی اور جھٹ سے سوال کر ڈالا۔۔۔۔۔
    "اس شام جب سجل نے کمرے میں داخل ہوکر دروازہ بند کیا تو اسے ایسا محسوس ہوا کہ جیسے وہ ان دیکھا سایہ بھی اس کا تعاقب کرتے ہوئے کمرے میں داخل ہوگیا۔ سجل دُبک کر اپنے بستر پر لیٹ گئی اور خود کو کمبل سے ڈھانپ لیا۔ سجل نے محسوس کیا کہ پورے کمرے میں ایک پُر اسرار سی خوشبو پھیل گئی ہے۔ وہ خوفِ کی شدت سے کانپ رہی تھی۔ دسمبر کی سرد ہوائوں کے باوجود اس کا پورا بدن پسینے سے بھیگ رہا تھا۔ ڈر اور خوف سے اس کا حلق خشک ہوگیا ۔ وہ چلّا کر اپنی والدہ کو بلانا چاہتی تھی لیکن پھر اسے خیال آیا کہ گھر میں اس وقت کوئی اور موجود نہیں۔ والد دکان سے رات دس بجے کے بعد آئیں گے اور والدہ پڑوس میں کسی کی مزاج پرسی کے لئے گئی ہوئی ہیں۔ اسے اپنے اکیلے پن کا شدت سے احساس ہونے لگا۔ چند منٹوں بعد کمرے سے وہ پُراسرار خوشبو غائب ہوگئی۔ سجل کو ایسا محسوس ہوا کہ اب سے کچھ دیر پہلے جو کوئی بھی کمرے میں تھا وہ اب موجود نہیں۔ اس نے ہمت کرکے کمبل کا کونا اپنے چہرے سے ہٹایا اور کمرے میں چاروں جانب دیکھنے لگی۔ اسی لمحے ڈور بیل بجی ۔ اس نے اپنے بیڈ سے چھلانگ لگائی اور سیدھا دروازے کی جانب دوڑی۔ گھر کا دروازہ کھولا تو سامنے اپنی والدہ کو کھڑا پاکر ان سے لپٹ کر زور زور سے رونے لگی۔ سجل کی والدہ اس اچانک افتاد سے گھبرا گئیں۔ بیٹی کی یہ حالت دیکھ وہ گھبرا گئیں۔ انھوں نے دروازے پر کھڑے رہ کر ہی گھر کے اندر جھانکا اور کسی چور کے موجود نہ ہونے کی تسلی ہوجانے پر سجل کو اپنے ساتھ لے کر گھر میں داخل ہوگئیں۔ سجل نے روتے روتے سارا ماجرا اپنی والدہ کو کہہ سنایا۔ رات کو جب سجل کے والد دکان سے گھر آئے تو اس کی والدہ نے پورا قصہ دسترخوان پر ہی ان کے سامنے دُہرا دیا۔ سجل کے والد کُھلے ذہن کے مالک تھے اور دقیانوسی خیالات سے ان کا دور دور تک کوئی واسطہ نہیں تھا۔ انہوں نے سجل کا ماتھا چوما اور اسے سجل کا وہم قرار دیا لیکن سجل کے دل میں خوف اب بھی ڈیرہ جمائے بیٹھا تھا۔ اس واقعہ کے بعد سجل دن میں کئی بار اس پراسرار خوشبو کو اپنے آس پاس محسوس کرتی۔۔۔۔ وہ پُراسرار خوشبو سجل کی آنکھیں بن چکی تھیں۔۔۔۔۔۔ وہ سایہ جب سجل کے نزدیک آتا تو خوشبو اور تیز ہوجاتی۔ یہاں تک کہ اس کی گرم سانسیں بھی سجل اپنے چہرے پر محسوس کرسکتی تھی۔ سجل اس ان دیکھے سائے کو اپنے اتنا قریب پاکر خوف زدہ ہوجایا کرتی اور پاگلوں کی طرح چیختی چلاتی۔۔۔۔۔۔ ہر رات خوف کا بھیانک پرندہ سجل کے وجود کو اپنے بڑے بڑے پنجوں سے دیوانہ وار کُھرچتا اور اپنی بدصورت چونچ سے سجل کی روح تک نوچ لیتا تھا۔۔۔
    ٭٭٭٭




  • پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۴

    پیر کامل صلی اللہ علیہ والہٰ وسلم — قسط نمبر ۴

    گاڑی اس بڑی سڑک پر دوڑ رہی تھی جو تقریباً سنسان تھی۔ ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھا۔
    اسٹیئرنگ پر دایاں ہاتھ رکھے اس نے بائیں ہاتھ کو منہ کے سامنے رکھ کر جماہی روکی اور نیند کے غلبے کو بھگانے کی کوشش کی۔ اس کے برابر کی سیٹ پر بیٹھی ہوئی امامہ بے آواز رو رہی تھی اور سالار اس بات سے باخبر تھا۔ وہ وقتاً فوقتاً اپنے ہاتھ میں پکڑے رومال سے اپنی آنکھیں پونچھتی اور ناک رگڑ لیتی… اور پھر سامنے ونڈ اسکرین سے باہر سڑک پر نظریں جما کر رونا شروع کردیتی۔
    سالار وقفے وقفے سے اس پر اچٹتی نظر ڈالتا رہا۔ اس نے امامہ کو کوئی تسلی دینے یا چپ کروانے کی کوشش نہیں کی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ وہ خود ہی کچھ دیر آنسو بہا کر خاموش ہوجائے گی، مگر جب آدھا گھنٹہ گزر جانے کے بعد بھی وہ اسی رفتار سے روتی رہی تو وہ کچھ اکتانے لگا۔
    ”اگر تمہیں گھر سے اس طرح بھاگ آنے پر اتنا پچھتاوا ہونا تھا تو پھر تمہیں گھر سے بھاگنا ہی نہیں چاہئے تھا۔”
    سالار نے خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا۔ امامہ نے اس کی بات کا کوئی جواب نہیں دیا۔
    ”ابھی بھی کچھ نہیں بگڑا، ابھی تو شاید تمہارے گھر میں کسی کو تمہاری غیر موجودگی کا پتا بھی نہیں چلا ہوگا۔” اس نے کچھ دیر اس کے جواب کا انتظار کرنے کے بعد اسے مشورہ دیا۔
    ”مجھے کوئی پچھتاوا نہیں ہے۔” اس بار اس نے چند لمحے خاموش رہنے کے بعد قدرے بھرائی ہوئی مگر مستحکم آواز میں کہا۔
    ”تو پھر تم رو کیوں رہی ہو؟” سالار نے فوراً پوچھا۔
    ”تمہیں بتانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔” وہ ایک بار پھر آنکھیں پونچھتے ہوئے بولی۔ سالار نے گردن موڑ کر اسے غور سے دیکھا اور پھر گردن سیدھی کرلی۔
    ”لاہور میں کس کے پاس جاؤگی؟”
    ”پتا نہیں۔” امامہ کے جواب پر سالار نے قدرے حیرانی سے اسے دیکھا۔
    ”کیا مطلب… تمہیں پتا نہیں ہے کہ تم کہاں جا رہی ہو؟”
    ”فی الحال تو نہیں۔”
    ”تو پھر تم آخر لاہور جا کیوں رہی ہو؟”
    ”تو پھر اور کہاں جاؤں؟”
    ”تم اسلام آباد میں ہی رہ سکتی تھیں۔”
    ”کس کے پاس؟”
    ”لاہور میں بھی تو کوئی نہیں ہے جس کے پاس تم رہ سکو… اور وہ بھی مستقل… جلال کے علاوہ۔” سالار نے آخری تین لفظوں پر زور دیتے ہوئے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
    ”اس کے پاس جا رہی ہو تم۔” کچھ دیر بعد اس نے قدرے چبھتے ہوئے انداز میں کہا۔
    ”نہیں، جلال میری زندگی سے نکل چکا ہے۔” سالار اندازہ نہیں کرسکا کہ اس کی آواز میں مایوسی زیادہ تھی یا افسردگی۔ ”اس کے پاس کیسے جاسکتی ہوں میں۔”
    ”تو پھر اور کہاں جاؤگی؟” سالار نے ایک بار پھر تجسس کے عالم میں پوچھا۔
    ”یہ تو میں لاہور جانے پر ہی طے کروں گی کہ مجھے کہاں جانا ہے، کس کے پاس جانا ہے۔” امامہ نے کہا۔
    سالار نے کچھ بے یقینی کے عالم میں اسے دیکھا۔ کیا واقعی وہ نہیں جانتی تھی کہ اسے کہاں جانا تھا یا پھر وہ اسے بتانا نہیں چاہتی تھی۔ گاڑی میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔




    ”تمہارا فیانسی… کیا نام ہے اس کا… ہاں اسجد… کافی اچھا، ہینڈسم آدمی ہے۔” ایک بار پھر سالار نے ہی اس خاموشی کو توڑا۔ ”اور یہ جو دوسرا آدمی تھا… جلال… اس کے مقابلے میں تو کچھ بھی نہیں ہے… کچھ زیادتی نہیں کردی تم نے اسجد کے ساتھ؟”
    اِمامہ نے اس کے سوال کے جواب میں کچھ نہیں کہا۔ وہ صرف سامنے سڑک کو دیکھتی رہی۔ سالار کچھ دیر گردن موڑ کر اس کے جواب کے انتظار میں اس کا چہرہ دیکھتا رہا مگر پھر اسے احساس ہوگیا کہ وہ جواب دینا نہیں چاہتی۔
    ”میں تمہیں سمجھ نہیں پایا… جو کچھ تم کر رہی ہو، اسے بھی نہیں… تمہاری حرکتیں بہت … بہت عجیب ہیں… اور تم اپنی حرکتوں سے زیادہ عجیب ہو۔” سالار نے کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا۔
    اس بار امامہ نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔
    ”کیا تمہاری حرکتوں سے زیادہ عجیب ہیں میری حرکتیں… اور کیا میں تم سے زیادہ عجیب ہوں…” بڑے دھیمے مگر مستحکم لہجے میں پوچھے گئے اس سوال نے چند لمحوں کے لیے سالار کو لاجواب کر دیا تھا۔
    ”میری کون سی حرکتیں عجیب ہیں… اور میں کس طرح عجیب ہوں؟” چند لمحے خاموش رہنے کے بعد سالار نے کہا۔
    ”تم جانتے ہو، تمہاری کون سی حرکتیں عجیب ہیں۔” امامہ نے واپس ونڈاسکرین کی طرف گردن موڑتے ہوئے کہا۔
    ”یقینا میری خود کشی کی ہی بات کر رہی ہو تم۔” سالار نے خود ہی اپنے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا۔ ”حالاں کہ میں خود کشی نہیں کرنا چاہتا، نہ ہی میں خود کشی کی کوشش کر رہا ہوں۔ میں تو صرف ایک تجربہ کرنا چاہتا تھا۔”
    ”کیسا تجربہ؟”
    ”میں ہمیشہ لوگوں سے ایک سوال پوچھتا ہوں، مگر کوئی بھی مجھے اس کا تسلی بخش جواب نہیں دے سکا، اس لیے میں اس سوال کا جواب خود ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہوں۔” وہ بولتا رہا۔
    ”کیا پوچھتے ہو تم لوگوں سے؟”
    ”بہت آسان سا سوال ہے مگر ہر ایک کو مشکل لگتا ہے۔” What is next to ecstasy? اس نے گردن موڑ کر امامہ سے پوچھا۔
    وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی پھر اس نے مدھم آواز میں کہا۔ ”Pain”
    ”And what is next to pain?” سالار نے بلا توقف ایک اور سوال کیا۔
    "Nothingness”۔
    "What is next to nothingness?” سالار نے اسی انداز میں ایک اور سوال کیا۔
    ”Hell” امامہ نے کہا۔
    ”And what is next to hell?”اس بار امامہ خاموشی سے اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
    ”What is next to hell?” سالار نے پھر اپنا سوال دہرایا۔
    ”تمہیں خوف نہیں آتا۔” سالار نے امامہ کو قدرے عجیب سے انداز میں پوچھتے سنا۔
    ”کس چیز سے۔” سالار حیران ہوا۔
    ”Hellسے… اس جگہ سے جس کے آگے اور کچھ بھی نہیں ہوتا… سب کچھ اس کے پیچھے ہی رہ جاتا ہے… معتوب اور مغضوب ہوجانے کے بعد باقی بچتا کیا ہے جسے جاننے کا تمہیں تجسس ہے۔” امامہ نے قدرے افسوس سے کہا۔
    ”میں تمہاری بات سمجھ نہیں سکا… سب کچھ میرے سر کے اوپر سے گزرا ہے۔” سالار نے جیسے اعلان کرنے والے انداز میں کہا۔
    ”فکر مت کرو… آجائے گی… ایک وقت آئے گا… جب تمہیں ہر چیز کی سمجھ آجائے گی پھر تمہاری ہنسی ختم ہوجائے گی… تب تمہیں خوف آنے لگے گا… موت سے بھی اور دوزخ سے بھی… اللہ تمہیں سب کچھ دکھا اور بتادے گا… پھر تم کسی سے یہ کبھی نہیں پوچھا کروگے۔ "What is next to ecstasy?” امامہ نے بہت رسانیت سے کہا۔
    ”یہ تمہاری پیش گوئی ہے؟” سالار نے اس کی بات کے جواب میں کچھ چبھتے ہوئے لہجے میں کہا۔
    ”نہیں۔؛؛ امامہ نے اسی انداز میں کہا۔
    ”تجربہ؟” سالار نے گردن سیدھی کرلی۔
    ”ہاں، یہ تمہارا تجربہ ہی ہوسکتا ہے… کی تو تم نے بھی خود کشی ہی ہے… میرا مطلب ہے کرنے کی کوشش کی ہے… میں نے اپنے طریقے سے یہ کوشش کی تھی… تم نے اپنے طریقے سے کی ہے۔” سالار نے سرد مہری سے کہا۔
    ”امامہ کی آنکھوں میں ایک بار پھر آنسو آگئے۔ گردن موڑ کر اس نے سالار کو دیکھا۔
    ”میں نے کوئی خود کشی نہیں کی ہے۔”
    “کسی لڑکے کے لیے گھر سے بھاگنا ایک لڑکی کے لیے خود کشی ہی ہوتی ہے… وہ بھی اس صورت میں جب وہ لڑکا شادی پر تیار ہی نہ ہو… دیکھو، میں خود ایک لڑکا ہوں… بہت بڑاڈ مائنڈڈ اور لبرل ہوں اور میں بالکل برا نہیں سمجھتا اگر ایک لڑکی گھر سے بھاگ کر کسی لڑکے کے ساتھ کورٹ میرج یا شادی کرلے… مگر وہ لڑکا اس کا ساتھ تو دے، ایک ایسے لڑکے کے لیے گھر سے بھاگ جانا جو شادی کر چکا ہو … چچ چچ… میری سمجھ میں نہیں آتا اور پھر تمہاری عمر میں بھاگنا… بالکل حماقت ہے۔”
    ”میں کسی لڑکے کے لیے نہیں بھاگی ہوں۔”
    ”جلال انصر!” سالار نے اس کی بات کاٹ کر اسے یاد دلایا۔
    ”میں اس کے لیے نہیں بھاگی ہوں۔” وہ بے اختیار آواز میں چلائی۔ سالار کا پاؤں بے اختیار بریک پر جا پڑا۔ اس نے حیرانی سے امامہ کو دیکھا۔
    ”تو مجھ پر کیوں چلا رہی ہو، مجھ پر چلانے کی ضرورت نہیں ہے۔” سالار نے ناراضی سے کہا۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔
    ”یہ جو تمہاری مذہب والی تھیوری یا فلاسفی یا پوائنٹ یا جو بھی ہے I don’t get it کیا فرق پڑتا ہے۔ اگر کوئی کسی اور پیغمبر کو ماننا شروع ہوگیا ہے… زندگی ان فضول بحثوں کے علاوہ بھی کچھ ہے… مذہب، عقیدے یا فرقے پر لڑنا … What rubbish”
    امامہ نے گردن موڑ کر ناراضی کے عالم میں اسے دیکھا۔ ”جو چیزیں تمہارے لیے فضول ہیں، ضروری نہیں وہ ہر ایک کے لیے فضول ہوں۔ میں اپنے مذہب پر قائم رہنا نہیں چاہتی اور نہ ہی اس مذہب کے کسی شخص سے شادی کرنا چاہتی ہوں۔ تو یہ میرا حق ہے کہ میں ایسا کروں، میں تم سے ایسی چیزوں کے بارے میں بحث نہیں کرنا چاہتی جسے تم نہیں سمجھتے… اس لیے تم ان معاملات کے بارے میں اس طرح کے تبصرے مت کرو۔”
    ”مجھے حق ہے کہ میں جو چاہے کہوں Freedom of expression (اظہار کی آزادی)” سالار نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔ امامہ نے جواب دینے کے بجائے خاموشی اختیار کی۔ وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ سالار بھی خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرنے لگا۔
    یہ جلال انصر … میں اس کی بات کر رہا تھا۔” وہ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد ایک بار پھر اپنے اسی موضوع کی طرف آگیا۔
    ”اس میں کیا خاص بات ہے؟”اس نے گردن موڑ کر امامہ کو دیکھا۔ وہ اب ونڈاسکرین سے باہر سڑک کو دیکھ رہی تھی۔
    ”جلال انصر اور تمہارا کوئی جوڑ نہیں ہے… وہ بالکل بھی ہینڈسم نہیں ہے۔ تم ایک خوب صورت لڑکی ہو، میں حیران ہوں، تم اس میں کیسے دلچسپی لینے لگیں… کیا وہ بہت زیادہ intelligent ہے؟” اس نے امامہ سے پوچھا۔
    امامہ نے حیرانی سے اسے دیکھا۔ intelligent…” کیا مطلب؟”
    ”دیکھو یا تو کسی کی شکل اچھی لگتی ہے… میں نہیں سمجھتا تمہیں جلال کی شکل اچھی لگی ہوگی یا پھر کسی کا فیملی بیک گراؤنڈ… پیسہ وغیرہ کسی میں دلچسپی کا باعث بنتا ہے… اب جلال کا فیملی بیک گراؤنڈ یا مالی حالت کے بارے میں، میں نہیں جانتا مگر خود تمہارا فیملی بیک گراؤنڈ جتنا ساؤنڈ ہے، یہ بھی تمہارے لیے اس میں دلچسپی کا باعث نہیں بن سکتا… واحد بچ جانے والی وجہ کسی کی ذہانت، قابلیت وغیرہ ہے… اس لیے پوچھ رہا ہوں کہ کیا وہ بہت intelligentہے… کیا بہت آؤٹ اسٹینڈنگ اور brilliant ہے؟”
    ”نہیں۔” امامہ نے مدھم آواز میں کہا۔
    سالار کو مایوسی ہوئی۔ ”تو پھر… تم اس کی طرف متوجہ کیسے ہوئی امامہ ونڈاسکرین سے باہر ہیڈ لائٹس کی روشنی میں نظر آنے والی سڑک دیکھتی رہی۔ سالار نے اپنا سوال دوبارہ نہیں دہرایا۔ صرف کندھے اچکاتے ہوئے وہ دوبارہ ڈرائیونگ پر توجہ دینے لگا۔ گاڑی میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔
    ”وہ نعت بہت اچھی پڑھتا ہے۔” تقریبا پانچ منٹ بعد خاموشی ٹوٹی تھی۔ ونڈاسکرین سے باہر دیکھتے ہوئے مدھم آواز میں امامہ یوں بڑبڑائی تھی جیسے خود کلامی کر رہی ہو۔ سالار نے اس کا جملہ سن لیا تھا مگر اسے وہ ناقابل یقین لگا۔
    ”کیا؟” اس نے جیسے تصدیق چاہی۔
    ”جلال نعت بہت اچھی پڑھتا ہے۔” اسی طرح ونڈاسکرین سے باہر جھانکتے ہوئے کہا مگر اس بار اس کی آواز کچھ بلند تھی۔
    ”بس آواز کی وجہ سے… سنگر ہے؟” سالار نے تبصرہ کیا۔