وادان — خدیجہ شہوار

’’تم یہاں کیا کر رہے ہو؟‘‘وہ درخت کے موٹے تنے سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا کہ ایک دم سے چونک کر اٹھ بیٹھا۔گھبرا کر چاروں سمت نظریں دوڑا ئیں ۔
’’آواز کہاں سے آئی؟کون بولا؟‘‘وہ سمجھ نا پایا۔
’’کون ہے؟میرے سامنے آئے۔‘‘ اس نے بے ساختہ پکارا۔
’’میں ہوں ،’’وادان ‘‘ ایک درخت جس کی ٹھنڈی گھنی چھاؤں میں تم بیٹھے ہو۔ ‘‘ ساٹھ سالہ قد آور بوڑھا درخت بولا ۔اس نے حیرت زدہ آنکھوں سے درخت کی طرف دیکھا ۔
’’اوہو!تو تم بول رہے ہو۔‘‘ اس نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے درخت کو دیکھا۔
’’ہاں!اورتم کون ہو؟‘‘بوڑھے درخت نے پوچھا۔
’’میں انسان ہوں۔‘‘ اس نے جواباً کہا۔وہ بوڑھادرخت بے ساختہ مسکرایا۔
’’وہ ،جودنیا کی ہر چیز پہ قابض ہے؟دنیا پہ راج کرتا ہے اور ایک دن اسی مٹی میں دفن ہو جاتا ہے جس مٹی سے بنا ہے؟‘‘وہ بوڑھے درخت کی بات پے ہلکی سی ہنسی ہنسا اور چمکتی آنکھوں سے درخت کا اوپر سے نیچے تک پورا جائزہ لیا جیسے درخت کی بات نے اسے متاثر کیاہو۔
’’ہاں! تم انسان کا مطلب خوب سمجھتے ہو۔تم مجھ سے دوستی کرو گے؟‘‘ اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔
’’ہاں !میں دوستی کروں گا۔کیونکہ تم میرے لیے انجان نہیں ہو۔‘‘درخت نے جواباً کہا۔
’’تم میرے بارے میں کیا جانتے ہو؟‘‘ اس نے بوڑھے قد آور درخت سے استفسا ر کیا۔





’’یہی کہ تم اکثر یہاں سے گنگناتے ہوئے گزرتے ہو۔کبھی کبھار میری ٹھنڈی چھاؤں میں بیٹھ کر آرام کرتے ہو۔کبھی کبھار میرے سائے میں بیٹھ کر کتاب بھی پڑھتے ہو۔اور تمہا را گھر سامنے نظر آتے کچے پکے مکانوں میں ہے۔ ‘‘ وہ درخت کے منہ سے اپنا تعارف سن کر چونکا اور بے اختیار ہنس دیا۔
’’تم بہت دلچسپ باتیں کرتے ہو۔تمہارے ساتھ میری خوب نبھے گی۔ویسے تمہیں کیا کرنا پسند ہے؟‘‘ اس نے درخت کے مضبوط چوڑے تنے سے ٹیک لگاتے ہوئے پوچھا۔
’’میں سارا دن سورج کی کرنوں سے باتیں کرتا ہوں۔بادلوں کواٹکھیلیاں کرتا دیکھتا ہوں ۔ پرندوں کو بیٹھنے کے لیے اپنے بازو فراہم کرتا ہوں ۔ آتے جاتے انسانوں کو چھاؤں دیتا ہوں۔دنیا میں سبز رنگ پھیلا کردل و دماغ کو ٹھنڈک کا احساس دیتا ہوں۔انسانوں کے لیے آکسیجن پیدا کرتا ہوں۔ ‘‘ درخت نے اعتماد سے کہا۔وہ درخت کی دلچسپی سے باتیں سنتے ہوئے مزہ لے رہا تھا۔
’’تم انسانوں سے زیادہ گہرے ہو۔تم وہ سب دیکھتے ہو جو انسان نہیں دیکھ سکتے۔‘‘اس نے درخت کو سراہا۔
’’یہ جو چھوٹے بڑے درخت تم میرے ارد گرد دیکھ رہے ہو ۔یہ میری برداری ہے۔میرے نو بھائی ،چھ بہنیں،چچازاد کزن،خالہ زاد کزن سبھی یہاں موجود ہیں۔جب وقت ملے تو ان سے بھی گپ شپ لگا لیتا ہوں۔میں ان سب سے بے حد پیار کرتا ہوں۔یہ میرے لیے بہت خاص ہیں۔اور وہ دیکھو چھوٹے چھوٹے ننھے پودے جو آج کل میں زمین کا سر پھاڑ کر باہر آئے ہیں میرے پوتے پوتیاں ہیں۔یہ بہت شرارتی ہیں۔لیکن میں انہیں کبھی نہیں ڈانٹتا۔ ‘ ‘ درخت نے پودوں کی طرف اشارہ کیا۔اس نے آنکھیں سکیڑے حیرانی سے سبھی چھوٹے بڑے پودوں کو دیکھا۔
’’جب آندھی یا طوفان آتے ہیں پھر تم کیا کرتے ہو؟ یہ ننھے پودے تو مرجھا جاتے ہوں گے نا؟‘‘ اس نے درخت سے استفسار کیا۔
’’ میں اور میری طرح دوسرے درخت سینا تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ طوفان ہم سے ڈر جاتا ہے اور کچھ کہے بغیر گزر جاتا ہے لیکن یہ ننھے پودے اس وقت خود کو ڈھیلا چھوڑ دیتے ہیں۔کچھ دیر کے لیے سر جھکا لیتے ہیں۔طوفان ان کی عزت کرتے ہوئے انہیں ایسے ہی قائم رہنے دیتا ہے اور گزر جاتا ہے۔‘‘بو ڑھے درخت نے بھاری بھرکم آواز میں بولتے ہوئے بتایا۔
’’ مجھے تمہاری فیملی کے بارے میں جان کر اچھا لگا۔ تمہاری فیملی کافی بڑی ہے۔‘‘ اس نے بوڑھے درخت کی برادری پر سرسری نظر دوڑاتے ہوئے کہا۔بوڑھا درخت مسکرا یا۔
’’ہاں ! ایسا ہی ہے۔ ‘‘لمبے توانا بوڑھے وادان نے جواباً کہا۔
اسی لمحے اسے کوئی ضروری کام یاد آ گیا اور اس نے وادان سے جانے کی اجازت لی اورچلا گیا۔کچھ دن ایسے ہی گزر گئے۔وادان روز اس کا انتظار کرتا۔کبھی انتظار میں راہ تکتا تو کبھی چاند کی چاندنی میں چند منٹ سو کر نیند پوری کر لیتا۔کبھی پوتے پوتیوں سے گپ شپ لگا لیتا اورکبھی بادلوں کا حال احوال پوچھ لیتا۔اور اسی طرح ایک دن وہ پھر وہاں سے گزرا اور وادان کا حال چال پوچھنے آ گیا۔بوڑھا درخت اسے دیکھ کر بہت خوش تھا۔وہ اب اکثر وادان کو ملنے آتا۔ ڈھیروں باتیں کرتا۔ دل کا بوجھ ہلکا کرتا۔کچھ اس کی سنتا کچھ اپنی سناتا۔ان دونوں کو آپس میں گپ شپ لگانے میں مزہ آنے لگا تھا۔
’’مجھے وقت نہیں ملا ورنہ میں تمہیں پہلے ملنے آجاتا۔کہو کیسے ہو۔؟‘‘ اس نے وادان کو مخاطب کیا۔
’ ’ تمہارے سامنے ہوں۔ ‘‘ وادان نے جواباً کہا ۔وہ آگے بڑھا اور وادان کی ٹھنڈی چھاؤں میں موٹے چوڑے تنے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا۔و ہ اس قد آور درخت کے نیچے پہلے بھی بیٹھا کرتا تھا لیکن جب سے ان دونوں کی دوستی ہوئی تھی اسے بوڑھے درخت کے سائے میں بیٹھنے میں سرور آنے لگا تھا۔اسی لمحے ایک ننھی چڑیا وادان کی آسمان کو چھوتی شاخوں پے آن بیٹھی۔
’’وادان! یہ کون ہے جو تمہارے سائے میں بیٹھا ہے؟‘‘ چڑیا کچھ خوفزدہ تھی۔وادان چڑیاکے سوال پر بے ساختہ ہنسا۔
’’میرا دوست ہے۔‘‘ وادان نے جواب دیا۔ وہ بھی چڑیا کو چہچہاتا دیکھ کر متوجہ ہوا اورٹیک چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
’’یہ انسان ہے۔اس سے بچو۔‘‘ چڑیا نے تقریباً چلاتے ہوئے کہا۔وادان کی مسکراہٹ برقرارتھی۔
’’نہیںنہیں!ننھی چڑیایہ میرا دوست ہے۔اور مجھے اس سے کوئی خطرہ نہیں۔‘‘ وادان نے چڑیا کو تسلی دی۔ چڑیا مایوس کن آنکھوں سے اسے دیکھتی رہی اور پھر پنکھ پھیلا کر دور فضا میں کہیں غائب ہو گئی۔وادان اسے آسمان میں غائب ہوتا دیکھتا رہا۔
’’یہ ننھی چڑیا کیا کہہ رہی تھی تم سے؟‘‘ اس نے تجسس میں پوچھا ۔
’’کچھ خاص نہیں۔‘‘ وادان نے اسے ٹالتے ہوئے کہا۔
’’جانتے ہو،میرا دل چاہتا ہے میں ایک پرندہ ہوتا ۔میں بھی جگہ جگہ اٹکھیلیاں کرتا ۔جب دل چاہتا گھونسلے میں آرام کرتا۔جب بھوک لگتی تو دانہ چگنے چلا جاتا۔ میں بھی درختوں کی لمبی لمبی شاخوں پے بیٹھ کر پوری دنیا کا نظارہ کرتا ۔ میری زندگی کتنی ہلکی پھلکی ہوتی ۔میری زند گی بھی پرندے کی طرح مشقت سے خالی ہوتی تو کیا ہی مزہ آتا ۔‘‘ اس نے حسرت لیے کہا۔وادان اس کی خواہش سن کر ہنس دیا۔
’’تم انسان بن کر خوش نہیں ہو؟‘‘ وادان نے پوچھا۔




Loading

Read Previous

پراسرار محبت — کوثر ناز

Read Next

وہ اپنی سی ۔۔۔ تنزیلہ احمد

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!