Author: misbah116@hotmail.com

  • نالائق — نورالسعد

    نالائق — نورالسعد

    سات بج کر پچپن منٹپر اس کی آنکھ کھل گئی ۔ سستی سے انگڑائی لیتی وہ اٹھ بیٹھی تھی ۔ بالوں کو پونی ٹیل میں سمیٹتی وہ نیچے آئی تو وہی مانوس سا منظر تھا۔چھوٹا سا لِونگ روم اور چمکتا ہوا اوپن کچن۔ اس کا مادی کمفرٹ زون۔گنگناتے ہوئے اس نے آملیٹ کے لیے سامان نکال کر کاؤنٹر پر رکھا۔کٹنگ بورڈ پر پیاز کاٹتے ہوئے وہ ٹھٹکی، آج گھر میں کچھ زیادہ ہی خاموشی اور خالی پن محسوس ہو رہا تھا۔ وہ دھیرے سے مسکرائی،اس کے بغیر تو وہ اب بھی کچھ نہیں کھاتی تھی۔
    ”رالف!” اس نے گردن ترچھی کر کے آواز لگائی۔
    ”ناشتا تیار ہونے والا ہے۔”
    اپنی پسند کا پھولا پھولا آملیٹ وہ پلیٹ میں نکال کر پلٹی تورالف کچن ڈائننگ ٹیبل کے دواطراف دھری کرسیوں میں سے ایک پر بیٹھا ہوا تھا۔ بڑھی ہوئی شیو کے ساتھ سرخ سوئیٹر پہنے۔ ہمیشہ کی طرح اس کے قدموں کی چاپ بھی سنائی نہ دی تھی۔
    ”گڈ مارننگ!” اْس نے مسکرا کر کہا۔
    ”ٹوسٹ اور آملیٹ لوگے یا میوزلی؟”
    اس نے سرپوری طرح اٹھا کر اُس پر اپنی سلیٹی آنکھیں جمائیں اور سخت لہجے میں بولا:
    ”تمہیں پتا ہونا چاہیے آگسٹا کہ میں سنڈے کوآملیٹ ہی کھاتا ہوں۔”آگسٹا کی مسکراہٹ دھیمی پڑی۔
    ”ہاں۔ مجھے پتا ہے، میں نے سوچا شاید آج تم۔”
    ”میری عادتیں نہیں بدلتیں آگسٹا ،تم جانتی ہو۔” اس کی آواز بھاری اور گونج دار تھی ۔ جیسے کوئی بھولابسرا خواب ۔ ”خیر، یہ بتاؤ کہ تم نے اس ہفتے کے الاؤنس کے لیے اپلائی کر دیا؟ویسے اور کتنا عرصہ بے روزگاری بینیفٹ پر پلنے کا ارادہ ہے ؟” آخری فقرے میں سوال کم اور طنز زیادہ تھا۔
    ”آج کر دوں گی۔” آگسٹاکی آواز خود اسے بھی مشکل سے سنائی دی۔ حلق میں کچھ پھنسا تھا شاید۔
    چند لمحے توقف کے بعدرالف نے اسے گہری نظروں سے دیکھا۔
    ”ناشتا کرو آگسٹا۔میں نے تمہاری پسند کا آملیٹ بنایا ہے۔” آواز اب نرم اور پُرسکون تھی۔




    ”دیکھو تمہارا شوہر تمہارا کتنا خیال رکھتا ہے۔”
    آنسوؤں کا گولا اس نے حلق سے اتارااور مسکرا دی۔
    ”بالکل! ” ایک ٹکڑا کانٹے میں پھنسا کر کھایا اور بولی:
    ”لذیذ! ہمیشہ کی طرح۔ کاش میں بھی تمہارے جیسا کھانا بنا سکوں کبھی۔ ”
    ”ایسا ہونا تو ممکن نظر نہیں آتا۔” رالف کی مخصوص یک طرفہ مسکراہٹ اس کے چہرے پر سجی ہوئی تھی۔
    ”تم جیسی نالائق عورت کیا مجھ جیسے عظیم شیف کو ڈیزرو کرتی ہے؟ ”
    آگسٹا نے جھکے سر کے ساتھ نفی میں سر ہلایا۔
    ”بالکل بھی نہیں۔” ایک زخمی مسکراہٹ اس کی طرف اچھالی اور اپنے ناشتے کی طرف متوجہ ہوگئی۔
    ناشتا ختم کر کے وہ کچھ جھاڑ پونچھ میں لگ گئی۔ رالف شاید اپنی اسٹڈی میں چلا گیا تھا، وہ زیادہ تر وہیں ہوتا تھا۔ اسے گند گی سے شدید چڑ تھی اس لیے آگسٹا صاف گھر کو بھی دن میں دو بار صاف کرتی۔لونگ روم کے کارپٹ پر ویکیوم کلینر چلاتے ہوئے اسے بہ مشکل ہی اپنے بجتے ہوئے فون کی آواز سنائی دی۔ کچھ جھنجھلاتے ہوئے اس نے فون کو دیکھا۔ ہیلینا کالنگ۔ہیلینا اس کی بچپن کی سہیلی تھی۔ ایک گہری سانس بھر کے اس نے فون اٹھا لیا۔
    ”ہاں اوگی ڈارلنگ؟” دوسری طرف سے آواز آئی۔
    ”کیسی ہو؟ طبیعت کیسی ہے؟”
    ”ہاں فلو بہتر ہے۔ ” آگسٹا منہ ہی منہ میں میں بڑبڑائی۔
    ”میں فلو کی بات نہیں کر رہی اوگی۔” دوسری طرف ایک لمحے کی خاموشی چھائی پھر وہ بولی۔
    ”خیر میں نے فون بھی اس لیے کیا تھا کہ میں آج ڈاؤن ٹاؤن جا رہی ہوں، میڈیکل سینٹر بھی جاؤں گی۔ تم کہو تو…”
    ”میں ٹھیک ہوں ہیلینا۔” آگسٹا نے خفگی سے بات کاٹی۔
    ”تم جاؤ اپنے گھٹنوں کے دردکا علاج کراؤ،مزیدسردیاں آنے والی ہیں۔” انداز جتانے والا تھا۔
    ”اور ٹی وی پر بتا رہے تھے کہ اس سال ناروے میں سردی کا دس سالہ ریکارڈ ٹوٹ جائے گا۔” اپنے تئیں بات میں وزن پیدا کر کے اس نے فون بند کیااور واپس اپنے کام میں جت گئی۔
    گھر کے اندر کی صفائی تو اس نے ایک گھنٹے میں ہی ختم کر لی۔ مشکل کام ابھی باقی تھا دروازے کے سامنے سے برف ہٹانے کا۔ اس نے اپنا شاکنگ پنک اوور کوٹ پہنا،لال کیپ اور لال ہی سنو بوٹ پہنے بیلچہ اٹھائے وہ باہر آگئی۔
    برف کے ساتھ دھینگا مشتی کرتے اسے آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا۔برگن (ناروے کا ایک قصبہ) کا کمزور سا سورج پوری طرح نکل تو آیا تھا، مگر اس کی روشنی بھی ٹھنڈی اور پھیکی سی تھی۔ وہ بیلچہ چلاتی گئی، چلاتی گئی مگر سورج کی طرح اس کی کاوشیں بھی بے سود رہیں، سوائے اس کے کہ اس کی کمر میں شدید ٹیسیں اٹھنے لگی تھیں۔ بے زار ہو کراس نے ہاتھ روک دیا۔ دفعتہ اسے کھڑکی کے شیشے سے رالف کا چہرہ جھانکتا نظر آیا۔ خفگی کے تاثرات شیشے کے پار سے بھی عیاں تھے، اسے گھر کی سامنے والی سیڑھیوں پر برف بھی سخت نا پسند تھی۔ آگسٹا نے دانت پیستے ہوئے بیلچے سے ایک اور وار کیا توبلبلا گئی۔ یوں لگا کہ ساری ریڑھ کی ہڈی جھٹکا کھا گئی ہو۔
    ”کیا میں آپ کی مدد کر سکتا ہوں؟” ایک خوش گوار مردانہ آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔
    آگسٹا نے سر اٹھا کے دیکھا۔ برابر والے گھر کی سیڑھیوں پر ایک چھبیس ستائیس سالہ خوش شکل لڑکا کھڑا تھا۔ وہ نیا پڑوسی تھا اور شاید کچھ گروسری لے کر واپس آرہا تھا۔ آگسٹا نے پچھلے ہفتے اسے اپنے کمرے کی کھڑکی سے دیکھا تھا۔کمر کا درد چھپاتے وہ یقینا سرخ پڑ رہی تھی۔کن انکھیوں سے گھر کی کھڑکی کی طرف دیکھا، رالف اب وہاں نہیں تھا۔
    ”نہیں میں کر رہی ہوں۔ کر لوں گی۔”وہ اپنی کیپ سر پے ٹھیک سے جماتے ہوئے بولی۔
    ”آپ رکیں۔میں یہ رکھ کے آتا ہوں۔” وہ مسکرا کر کہتا اپنے گھر داخل ہوگیا۔ آگسٹا وہیں کھڑی سرد ہوائیں کھاتی رہی۔ کوئی پانچ منٹ بعد وہ باہر آیا۔ اس کے ہاتھ سے بیلچہ لیا اور اس کے دروازے کے آگے سے برف ہٹانے لگا۔




  • صدقہ جاریہ — قرسم فاطمہ

    ”پیارے بچے! اگر کوئی چیز رائی کے دانے کے برابر ہو پھر وہ خواہ کسی چٹان میں ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں ہو اسے اللہ ضرور لائے گا۔اللہ بڑا باریک بین اور خبردار ہے۔” ( لقمان:16 )
    ”میرے دادا کہا کرتے تھے،پُتر! اللہ کے گھر کسی چیز کی کمی نہیں۔ اس کے گھر دیر ضرور ہے مگر اندھیر نہیں اور میں جواب میں کہتا: ابو جی! کیا اللہ کا بھی کوئی گھر ہوتا ہے؟ دادا بے اختیار ہنسنے لگتے پھر کہتے: پُتر! یہ پوری کائنات اس سوہنے رب کا گھر ہی تو ہے۔ مگر میں نہیں سمجھتا تھا پھر جب سمجھنے لگا تو اللہ اپنے گھر سے میرا گھر بھی بھرتا گیا۔جب اللہ اپنے گھر سے عطا کررہا ہے، تو میرے بیٹے ہم کیوں رزق کی تگ و دو میں پریشان ہوتے ہیں؟” لقمان احمد نے مسکراتے ہوئے اپنے بیٹے کو سمجھایا۔
    ”بابا جان! میں رزق کے لیے نہیں آپ کے لیے پریشان ہورہا ہوں۔اس عمر میں ایک بار پھر آپ محنت مزدوری میں لگ جائیں گے۔صرف اس لیے کہ میری خواہش پوری ہوجائے؟ نہیں،اب نہیں!” وہ اپنے باپ کے سامنے سر جھکائے بیٹھا انتہائی کمزور آواز میں کہہ رہا تھا۔ اس کے لہجے میں زمانوں کی تکان تھی۔
    ”بیٹے! اگر تم نہیں بھی چاہتے تو سمجھ لو تمہاری ماں کہہ رہی ہے۔اس کی خواہش تھی کہ تم لندن یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کرو۔تم اپنی ماں…”
    ”ایک تو ہر بات میں امی کو مت لایا کریں۔ میں جانتا ہوں اُن کی ایسی کوئی خواہش نہیں تھی اور اگر کوئی خواہش تھی تو وہ مرگئی۔” اس نے آخری لفظ کہتے ہوئے اپنے باپ کے چہرے کا بدلتا رنگ دیکھا۔ وہ کرسی سے اُٹھ کر ستاروں سے ڈھکا آسمان تکنے لگا۔
    ”انسان مرجاتے ہیں، خواہشیں نہیں۔ میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ پیسوں کا مسئلہ نہیں ہے بیٹے۔ میں نے ساری زندگی تمہارے لیے ہی محنت کی ہے، کیونکہ میں جانتا ہوں ایک دن تم میرے لیے صدقہ جاریہ بنو گے۔” بوڑھے باپ نے بیٹے کے کندھے پر ہاتھ رکھ اسے تسلی دی۔
    ”بابا جان! آپ میرے لیے اور کیا کیا کریں گے۔اتنے پیسے کہاں سے آئیں گے؟ دو سال مزید آپ میرے لیے پیسے اکٹھے کرتے رہیں گے۔ اتنا بوجھ نہ ڈالیں میرے کندھوں پر۔ میں نہیں اتارسکوں گا۔کبھی بھی نہیں۔ آپ کی ایک دن کی محنت کا بھی نہیں۔” ایان احمد نے اپنے بوڑھے باپ کے ہاتھ تھامتے ہوئے سر جھکا لیا۔اس کی آنکھوں میں نمی تیرنے لگی۔
    ”بیٹے! رزق کا وعدہ اللہ نے کیا ہے جو چیز ہمیں انتہائی قریب سے بھی دکھائی نہیں دیتی،وہ اس کے لیے تو کبھی مخفی ہوتی ہی نہیں۔ پیسے کہاں سے آئیں گے؟ زمین سے، آسمان سے؟یہ سوچنا ہماری ذمہ داری نہیں ہے۔ اگر رائی کے دانے کے برابر یا کسی پہاڑ کے برابر بھی رزق ہمارے لیے لکھا ہے نا تو وہ ہمارے تک پہنچ جائے گا۔ تم بس دعا کرو کہ جو ہمارے لیے لکھ دیا گیا ہے ہم اس تک پہنچ جائیں۔ اپنی زندگی کی سب سے بڑی خواہش پیسوں کی کمی کے باعث ترک کبھی مت کرنا۔” بوڑھے باپ نے حکیمانہ انداز میں ایان کو سمجھایا۔
    ”بابا جان! آپ …”وہ بہت کچھ کہنا چاہتا تھا، مگر ہمیشہ کی طرح باپ کی گود میں چہرہ ڈھانپ کر خاموش ہوگیا۔ لقمان احمد نے مسکراتے ہوئے ایان کی پیشانی چومی اور اس کی نم آنکھیں صاف کرنے لگے۔
    ٭…٭…٭




    اے میرے پیارے بیٹے! تو نماز قائم رکھنا اچھے کاموں کی نصیحت کرتے رہنا،برے کاموں سے منع کیا کرنا اور جو مصیبت تم پر آئے صبر کرنا کہ یہ بڑے تاکیدی کاموں میں سے ہے۔
    (لقمان:17)
    ٭…٭…٭
    جنوری کے مہینے میں لندن برف میں دب سا گیا تھا۔ شدید دھند نے تاریک آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا۔سیاہ روش پر سفید برف چمکنے کو تیار تھی۔سڑک پر اِکا دُکا لوگ نظر آرہے تھے۔
    ”یہ تم لوگ مجھے کہاں لے آئے ہو؟” گاڑی میں پانچ افراد بیٹھے تھے جن میں ایک مسلسل سوال کررہا تھا جبکہ باقی چار اُس پر ہنس رہے تھے۔
    ”آدھے گھنٹے سے بکواس کررہا ہوں، مجھے آدھی رات کو کہاں لے جارہے ہو؟ تم لوگ جانتے ہو میں…”
    ”اوئے فکر نہ کر تجھے زندہ ہی واپس لائیں گے۔” ڈرائیو کرنے والے لڑکے نے بریک لگاتے ہوئے کہا۔
    بارہ بجنے میں چند منٹ باقی تھے جب دھند میں لپٹی سڑک پر بنے ریستوران کے قریب گاڑی روک دی گئی۔ وہ پانچوں ایک ساتھ ریستوران میں داخل ہوئے جہاں ہر طرف اندھیرا چھایا ہوا تھا۔رات کے اس پہر خاموش اندھیرے میں ایان کا دم گْھٹنے لگا۔اس نے کچھ کہنے کے لیے لب کھولے ہی تھے کہ یکدم شور بلند ہوا۔
    ”ہیپی برتھ ڈے، ہیپی برتھ ڈے ایان۔” ایک ساتھ بے شمار آوازیں بلند ہوئیں۔ ڈانسنگ لائٹس سے ہال جگمگا اٹھا۔ تیز میوزک کے ساتھ جگمگ کرتی لائٹس اور ایک طرف سے اٹھتا ڈھیروں دھواں دیکھ کر ایان قدرے حیران ہوا۔اس کے تمام کلاس فیلو گول میز پر رکھے کیک کے گرد دائرہ بنائے کھڑے تھے۔
    ”اب کیا ایسے ہی حیران پریشان کھڑے رہو گے یا کیک بھی کاٹو گے؟”ثنا نے چٹکی بجاتے ہوئے ایان کو متوجہ کیا۔
    ”تھینک یو سو مچ۔تم لوگوں نے میرے لیے اتنا سب کیا۔” وہ قدرے بوکھلائے ہوئے انداز میں بولا۔
    ”اگر میں یہ بتادوں کہ اس چھوٹے بچے کو ہم یہاں کیسے لائے ہیں ،تو تم لوگوں کا ہنس ہنس کر برا حال ہوجائے۔” ایان کیک کاٹنے ہی لگا تھا جب اس کے دوست کی بات سن کر سب قہقہے لگانے لگے۔تیز میوزک اور طنزیہ قہقہوں کی گونج میں اس نے غصہ ضبط کرتے ہوئے کیک کاٹا۔وہ ان سب خرافات کا عادی کبھی بھی نہیں تھا، مگر اب اس کی مرضی سے کچھ بھی نہیں ہونا تھا۔
    ”یہ تمہارا پاکستان نہیں ہے اب تو بڑے ہوجاؤ ایان۔”
    ”یہ لندن ہے لندن! اور تم یہاں انجوائے کرنے آئے ہو۔اب تو ڈرنا چھوڑ دو یار۔” ایک ساتھ بے شمار آوازیں بلند ہوئیں جن کے لہجوں میں طنز و تمسخر تھا۔وہ خاموشی سے مسکراتا رہا۔جواب نہ اس کو دینا آتا تھا اور نہ وہ دینا چاہتا تھا۔لندن میں پچھلے ایک سال سے وہ ہر موقع پر یوں ہی غصہ ضبط کیا کرتا تھا مگر اب قوّتِ برداشت کا چپ کی زنجیروں سے آزاد ہونے کا وقت تھا۔
    ”یہ جوس لو ایان۔” باسط نے اس کے ہاتھ میں گلاس تھماتے ہوئے ثنا کے کان میں سرگوشی کی جس پر وہ قہقہہ لگانے لگی۔ ایان نے خاموشی سے گلاس تھام لیا جو اس کے لیے زہر ثابت ہوا۔
    ”یہ ۔یہ کیا ہے اس گلاس میں؟” ابھی گلاس سے اس کے لب چھوئے ہی تھے کہ وہ ٹھٹک گیا۔وہ اس بدبو سے واقف تھا۔
    ”یہ کیا گھٹیا حرکت ہے؟ تم جوس کے نام پر مجھے شراب پلا رہے ہو؟” وہ یکدم چیخنے لگا۔تیز میوزک کے باعث وہ بے حد بلند آواز میں باسط کا گریبان پکڑتے ہوئے غرّایا تھا۔
    ”ایان چھوڑ دے یار۔یہ صرف مذاق تھا۔ہم نے تمہیں بتا دینا تھا بس یہ چھوٹا سا مذاق تھا۔” اکبر ایان کے ہاتھ تھامتے ہوئے اسے سمجھانے لگا۔ دیارِ غیر میں اکبر اس کا واحد اچھا دوست تھا۔
    ”چھوٹا سا مذاق؟ مائی فٹ!” اس نے انتہائی غصے میں میز پر رکھا گلاس پوری قوت سے زمین پر دے مارا۔
    ”یہ تم لوگوں کے لیے مذاق ہوگا میرے لیے نہیں اور …اکبر! تم ۔تم بھی؟ تم جیسے گھٹیا انسان ایسی ہی گِری ہوئی حرکت کرسکتے ہیں۔” میوزک بند ہوچکا تھا۔ رات کے اس پہر بولنے والا اب صرف ایان احمد تھا۔
    ”ایک بات تم لوگ ہمیشہ یاد رکھنا میرا ایمان ابھی زندہ ہے۔تم لوگ چاہ کر بھی میرے اندر حرام نہیں اُنڈیل سکتے۔کبھی بھی نہیں ۔” اس کا چہرہ غصے سے لال ہوچکا تھا۔وہ ٹوٹے گلاس کو ٹھوکر مارتے ہوئے ریستوران سے باہر نکل آیا۔
    ”یان ۔ایان! میری بات سن یار۔” اکبر اس کے پیچھے بھاگا، مگر اب اُسے کسی کی پروا نہیں تھی۔ وہ یہاں سے بھاگ جانا چاہتا تھا۔دور بہت دور۔
    موسم شدید بگڑ چکا تھا۔ بارش بھی ایان کے آنسوؤں کے مانند برستی ہی جاری تھی۔جب ساتھ کوئی رونے والا نہ تھا تو بارش نے اس کا بھرپور ساتھ دیا تھا۔وہ مسلسل چلنے کے باعث تھک چکا تھا۔کتنا وقت گزر چکا تھا اور دن نکلنے میں کتنا وقت تھا اسے کچھ معلوم نہ تھا۔وہ کہاں پہنچ چکا تھا اور یہاں سے واپس کیسے جانا تھا وہ اس سوچ سے بھی بے پروا تھا۔ طویل مسافت کے بعد وہ ایک دکان کے باہر برآمدے کے نیچے فٹ پاتھ پر بیٹھ گیا۔
    ٭…٭…٭
    ”بابا جان! میں نے آپ سے کتنا کہا تھا مجھے صنم کدوں کے اس جہاں میں نہ بھیجیں۔ میں یہاں روز مرتا ہوں۔ ہر صبح،ہر شام،ہر رات۔ میں اتنے عرصے میں بھی ان لوگوں جیسا نہیں بن پایا، مگر میں پھر بھی مطمئن ہوں۔” وہ ہاتھ میں کاغذ تھامے خود کلامی کرنے لگا۔کاغذ پر لکھی قرآنی آیات پر نظریں جمائے وہ کہیں کھو گیا۔ماضی سایہ بن کر اس کی آنکھوں کے سامنے لہرانے لگا۔
    ”مگر بابا یہ تو قرآن پاک کی آیتیں لکھی ہوئی ہیں۔آپ تو کہہ رہے تھے آپ نے میرے لیے نصیحتیں لکھی ہیں۔” وہ بیگ کی زپ بند کرتے ہوئے باپ سے سوالیہ انداز میں پوچھ رہا تھا۔کل کی فلائٹ سے وہ لندن جانے کی تیاری مکمل کرچکا تھا۔
    ”یہ آیات میں نے اپنے ہاتھوں سے تمہارے لیے لکھی ہیں۔ مجھے یقین ہے اگر تم ان نصیحتوں پر عمل کرو گے تو ہمیشہ راہِ راست پر رہو گے میرے بچے۔ مجھ سے دور تو جارہے ہو، مگر اس صفحے کو ہمیشہ اپنے پاس رکھنا۔ اسے روز دیکھنا۔ بلاناغہ پڑھنا پھر دیکھنا تم خودبخود ان پر عمل بھی کرنے لگو گے۔” ماسٹر لقمان اداس تھے مگر پھر بھی مسکرانے لگے۔
    ”تمام والدین کو اپنی اولاد کی تربیت کرتے وقت حکیم لقمان کی اپنے بیٹے کو کی جانے والی یہ نصیحتیں یاد رکھنی چاہئیں پھر تربیت کرنا کافی آسان ہوجائے گا۔”
    ”جی جی بابا جان! آپ کی ساری باتیں میں ویسے بھی یاد رکھوں گا اور یہ آیات بھی ۔ہمیشہ اپنے پاس رکھوں گا۔” ایان نے عادتاً باپ کے دونوں ہاتھ تھام کر مان رکھ لیا۔ماضی بادلوں کے سنگ بہہ گیا۔ اس کی آنکھوں میں نمی سی تیرنے لگی۔
    ”آج آپ کو ایک راز کی بات بتاتا ہوں۔آپ کی ساری حکمتیں اور نصیحتیں تو ایک طرف مگر آپ کے ہاتھ سے لکھی قرآن کی یہ چند آیات ہمیشہ میرے ساتھ رہتی ہیں۔آج بھی میں ان کی برکت سے بچ گیا۔” وہ ہلکا سا مسکرایا۔
    ”آپ نے میرے اندر حلال رزق اور ایمان کی تپش کو ایسے بھر دیا ہے کہ میں ہمیشہ بھٹکنے سے پہلے ہی بچالیا جاتا ہوں، مگر بابا جان! اب میں تھکنے لگا ہوں۔اپنے نفس اور خواہشات کو دفن کرکے دوسروں کو راہِ راست پر لانے کی کوششیں کرتے کرتے تھک گیا ہوں۔ کوئی میری مانتا ہی نہیں۔ سب ہنستے ہیں مجھ پر ۔ پھر میں بھی سب کے سامنے ہنسنے لگتا ہوں۔”بارش قدرے تھم چکی تھی،ایان کے آنسوؤں کی طرح۔
    ”مگر بابا۔ آج میرا ضبط ٹوٹ گیا۔میں یہ سوچ سوچ کر کانپ رہا ہوں کہ اگر میں وہ گلاس پی لیتا تو جہنم کے کس گڑھے میں گرتا، لیکن میں یہ سوچ کر مزید کانپنے لگتا ہوں کہ کسی بیرونی قوت نے مجھے گناہ کرنے سے روک لیااور پھر جواب بھی فوراً مل گیا۔ آپ کی دعاؤں سے۔ وہ دعائیں جو میری ہر منزل کا راستہ آسان کردیتی ہیں۔”ایان دنیا سے بے پرواہ کاغذ تھامے اپنی سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا جب فجر کی پکار بلند ہوئی۔آواز بے حد مدھم قدرے دور سے آرہی تھی۔پکار جس قدر مدھم تھی پکارنے والا اتنا ہی قریب تھا۔
    ”میرے لیے یہ دعا بھی کیا کریں بابا جان کہ میرا دل بے شک مرجائے بس ضمیر نہ مرے۔دل مرتا ہے تو صرف انسان ہی مرتا ہے ۔ضمیر مرجائے تو انسانیت مرجاتی ہے۔” وہ فٹ پاتھ سے اٹھا تو اس کے جوتے اور جیکٹ برف سے بھر چکے تھے۔وہ مسکرانے لگا۔دل کا بوجھ کم ہوا، تو مسجد کی تلاش میں وہ ایک بار پھر چلنے لگا۔
    ”اپنی رفتار میں میانہ روی اختیار کر اور اپنی آواز پست کر یقینا آوازوں میں سب سے بدتر آواز گدھے کی ہے۔”(لقمان:19)
    ٭…٭…٭




  • چنگیزی ہاؤس — ایم زیڈ شیخ

    چنگیزی ہاؤس — ایم زیڈ شیخ

    ”ناظرین! سازشیں اپنے عروج پر ہیں۔ نانا جان کی جائیداد میں سے کس کو کیا کیا ملے گا، یہ فیصلہ سب سے پہلے سیفی نیوز کے ذریعے آپ تک پہنچے گا۔” سیف الرحمن سیفی کی آواز کمرے میں گونج رہی تھی۔
    ”چپ کر کمبخت مارے! اگر کسی نے سن لیا تونئی مصیبت گلے پڑ جائے گی ۔”رضیہ خاتون نے کم سن سیفی کو ڈانٹ پلائی مگر سیفی کہاں باز آنے والا تھا۔ وہ ہاتھ میں مائیک نما لکڑی کا ٹکڑا پکڑے بولتا رہا۔
    ”ناظرین ویلکم بیک! نانا جان کے واپس آنے تک ہم کوشش کرتے ہیں کہ ہمارا رابطہ لٹل بوائے اور فیٹ بوائے یعنی چھوٹے ماموں اور موٹے ماموں سے ہو جائے۔” اچانک اسے بریک لگانی پڑی کیونکہ امی کی چپل نے اس کے سر پر بوسہ دے دیا تھا۔
    ”ناظرین! میڈیا پر حملہ ہو چکا ہے۔ امی کی جانب سے ڈرون طیارے مسلسل سیفی نیوز پر بم برسا رہے ہیں ۔ اس سے پہلے کہ آزادانہ صحافت کی راہ میں مزید ڈرون پھینکے جائیں اور ہم کھبے سجے ہو کر ان سے اپنا آپ نہ بچاسکیں، یہاں سے بھاگ رہے ہیں ۔ کیمرہ مین کالو ماسی کے ساتھ سیف الرحمن سیفی…” وہ سچ مچ وہاں سے بھاگ کر سیڑھیوں کے ذریعے چھت پر پہنچ گیا۔ رضیہ کے لبوں پر مسکراہٹ تھی ۔
    ”اللہ بچائے تیری شرارتوںسے سیفی۔” وہ زیرِ لب بڑبڑائی ۔
    ٭…٭…٭




    نواب اسد علی خان تقسیم سے پہلے بھی نواب ابنِ نواب تھے اور بعد میں بھی ان کا شمار رؤسا میں ہوتا تھا ۔ پرانے وقتوں کے اصلی گھی والے بوڑھے تھے اسی لیے زندگی کی اسی بہاریں دیکھ کر بھی چاق و چوبند تھے ۔ دوستوں نے حرکتوں کے پیشِ نظر نام تبدیل کرکے نواب چنگیزی رکھ دیا تھا۔ پوتے پوتیوں تک سب انہیں چنگیزی دادا یا نواب چنگیزی ہی کہتے تھے ۔ شجرۂ نسب چنگیز خان سے ملتا تھا یا نہیں، مگر حرکتیں ویسی ہی تھیں۔ ان کی موجودگی میں تمام پھنے خان کونے کھدروں میں چھپ جاتے تھے اور کسی میں اتنی ہمت نہ تھی کہ ان سے نظر ملا کر بات کرسکے۔
    جوانی میں نجانے کونسا ایسا گناہ کیا تھا جو اولادِ نرینہ کی صورت میں اللہ میاں کی دو گائے ان کے پلے پڑ گئیں ۔ خلیل اور عقیل کی جوڑی بچپن ہی سے سب کی توجہ کا مرکز بنی رہی ۔ اپنی حرکتوں سے جو کسر بچی تھی، وہ ڈیل ڈول نے پوری کردی ۔ خلیل جسمانی لحاظ سے اتنا کمزور تھا کہ سب ترڈّا پہلوان یعنی ٹڈا پہلوان کہتے تھے جبکہ عقیل صحت کے معاملے میں اتنا خودکفیل تھا جتنا کرپشن کے معاملے میں وطن عزیز کے سیاستدان ۔ پورے گاؤں میں دونوں لٹل بوائے اور فیٹ بوائے یعنی چھوٹے خان اور موٹے خان کے نام سے مشہور تھے۔ تعلیم حاصل کرنے کے معاملے میں ان کا نقطہ نظر یہی تھا کہ تعلیم ایک زیور ہے اور زیور مردوں پر حرام ہے ۔ پس انہوں نے اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لیے فقط پرائمری اسکول تک ہی جانا گوارا کیا ۔ اولادِ نرینہ کے لیے بیسیوں منتیں مانی گئی تھیں اس لیے جب یکے بعد دیگرے دو بچوں کی پیدائش ہوئی تو نواب صاحب ففٹی کرچکے تھے۔ شادی کے بارے میں نواب صاحب کا فلسفہ تھا کہ یہ ایک بے وقوفی ہوتی ہے جو بیوقوفی کی عمر میں ہو جائے تو بہتر رہتا ہے ۔ اسی لیے دونوں کی شادی جلد ہی کردی گئی تھی کہ ممکن ہے سدھر جائیں مگر بے سود… آوارہ گردی اور صحبت کا اثر کبھی کبھار زندگی بھر کا روگ بنا جاتا ہے۔ ان دونوں کی عمر ابھی تیس سال بھی نہیں ہوئی تھی کہ بال بچے دار ہو چکے تھے۔ یہ الگ بات تھی کہ خود بچوں سے بھی دو ہاتھ آگے تھے۔ زمین، جائیداد، بینک بیلنس اور گاڑیوں کی کوئی کمی نہ تھی ۔ دولت گھر کی باندی تھی مگر عقل و دانش کے معاملے میں خاندان کا کوئی ایک فرد بھی نواب صاحب کا دل نہ جیت سکا تھا ۔ انہیں یہ دکھ کے ان کے بعد اس جائیداد کا کیا ہوگا جس کی ہر شاخ پہ الو بیٹھا تھا جبکہ بہو اور بیٹوں کو یہ دکھ کہ نواب صاحب کا رام رام ست ہو اور وہ آزادی سے سکون کا سانس لے سکیں۔ اپنا اپنا دکھ تھا اپنی اپنی سوچ تھی۔ نواب صاحب کی قابلِ رشک صحت دیکھ کر دور دور تک ان کے اگلے جہان جانے کا امکان نظر نہیں آتا تھا۔ یوں دونوں جانب آگ برابر لگی تھی ۔ اس رسہ کشی میں رضیہ ایک سایہ دار درخت تھی جسے بیوہ ہونے کے بعد نواب صاحب نے حویلی میں بلالیا تھا ۔ نواب چنگیزی کے اس فیصلے پر دونوں بہوؤں نے ناک بھوں تو چڑھائی مگر ان سمیت کسی کی اتنی مجال نہ تھی کہ کسی قسم کا احتجاج کرسکیں چنانچہ دل کے ارماں سینے میں ہی رہ گئے ۔ سیف الرحمن سیفی کو نانا سے بڑا لگاؤ تھا اور وہ واحد فرد تھا جو بچہ ہو کر بھی ہر بات نواب صاحب سے کہہ
    دیتا تھا ۔ اسی لیے اکثر لوگ اس کے سامنے کوئی بات کرتے ہوئے ڈرتے تھے کہ نواب صاحب تک نہ پہنچا دے۔ خلیل کے دو بیٹے تھے جبکہ عقیل کا ایک ہی بیٹا تھا اور حسبِ فطرت دونوں افراد کے بیٹے بھی اپنے اپنے والد کی فوٹو کاپی تھے۔ دونوں بھائیوں کی بیویاں آپس میں بہنیں تھیں ۔ شادی سے پہلے گلناز اور مہناز دونوں صحت مند ضرور تھی مگر شادی کے بعد کام کاج نہ کرنے اور بے فکری سے کھانے پینے کے باعث موٹاپے کا شکار ہو چکی تھیں ۔ ہر وقت کچھ نہ کچھ کھاتے رہنے کے باعث بقول سیفی، دور سے دونوں جگالی کرنے والی بھینسیں لگتی تھیں ۔ نوکر چاکر تو کافی سارے تھے اور وقتاً فوقتاً مزید بھی آتے رہتے تھے ۔ مالی کی ضرورت تھی تو نواب چنگیزی نے باقاعدہ اخبار میں اشتہار دے دیا تھا کہ پر کشش تنخواہ پر ایک مالی کی ضرورت ہے جس کی تعلیمی قابلیت کم از کم ایف اے ہونی چاہیے۔ گریجویشن والے کو ترجیح دی جائے گی ۔ اشتہار سب کے لیے باعثِ حیرت تھا۔ کچھ منچلے تو شوقیہ انٹرویو دینے چلے گئے جبکہ کچھ مالی حالات سے مجبور لوگ بھی قسمت آزمائی کرنے پہنچے ۔ نواب صاحب کو جاننے والوں نے ہر ایک کو منع کردیا تھا کہ ان کے ہاں ملازمت کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ نواب صاحب کی طبیعت کے آگے ملازمت کرنے سے بھوکے مر جانا بہتر سمجھتے تھے لوگ۔ اب کے بار کس کی شامت آنے والی تھی یہ فیصلہ اتوار کی شام تک ہو جانا تھا۔ انٹرویو کے دوران کسی کو دادا جان کے کمرے کے ارد گرد بنا بلائے آنے کی اجازت نہیں تھی۔ تمام احکامات ایسے صادر کئے گئے تھے جیسے گھر کے اندر صدر یا وزیراعظم کی آمد ہو۔ نواب صاحب کے اصول و ضوابط ایسے ہی عجیب ہوتے تھے ۔ اور آخر کار اتوار کا دن آن پہنچا۔
    ٭…٭…٭
    گلناز اور مہناز کی اماں جان اپنی ہونہاربیٹیوں سے ملنے چنگیزی ہاؤس پہنچ چکی تھیں۔ زیرِ بحث مسئلہ جبکہ دونوں نکھٹو داماد بھی ان کے ساتھ کمرے میں موجود تھے۔ قصہ چہار درویش کے چاروں درویشوں کی طرح وہ باری باری سب کی بپتا سننے سے پہلے ہی وہ اپنی کہے جارہی ہیں ۔اپنا تکیہ کلام ”میری بات غور سے سنو۔” ان کی زبان سے نکلا تو چھوٹا بول پڑا۔
    ”اماں جی! ہم ہمہ تن خرگوش ہیں، آپ کہیے جو کہنا ہے۔”
    ”ہمہ تن گوش ہوتا ہے بیٹا! کب آئے گا تم لوگوں کو بول چال کا طریقہ، مجھے تو ڈر ہے سچ مچ نواب صاحب عاق ہی نہ کردیں تم لوگوںکی سادگی دیکھ کر۔”
    ” وہ اماں تمہیں تو پتہ ہے نا چھوٹے کی پیدائش زرا کمزور ہے دماغ کام کرنا بند کردیتا ہے اکثر اوقات اسی لیے کچھ کا کچھ بول جاتا ہے ۔”
    ”اے ہے بیٹا! یک نہ شد دو شد! یہ پیدائش نہیں یادداشت ہوتا ہے۔ ایک سے بڑھ کر ایک نمونے ہو تم دونوں ۔ اللہ بخشے تمہاری ماں اگر زندہ ہوتی تو… خیر چھوڑو میں بھی کیا باتیں لے کر بیٹھ گئی۔ تو میں کیا کہہ رہی تھی؟”
    ”اماں آپ کی بھی پیدائش کمزور ہو گئی ہے۔” مہناز نے قہقہہ لگایا تو وہ دونوں دیدے پھاڑے دونوں بہنوں کو دیکھنے لگیں۔
    ” لو کر لو بات! تم لوگوں کو بھی ساتھ رہ رہ کر یہی بونگیاں مارنے کی عادت ہوچکی۔ اوہ ہاں! یاد آیا۔ میں کہہ رہی تھی کہ میری بات غور سے سنو ۔ چپ چاپ تماشہ دیکھنے سے کچھ بھی ہاتھ نہیں آنے کا۔” سب بڑھیا کی باتیں سننے لگے ۔
    ٭…٭…٭




  • عشق من محرم — علینہ ملک

    عشق من محرم — علینہ ملک

    جمال یار سے آنکھوں میں عکس بنتا ہے
    عکس جب روح میں اترے تو نقش بنتا ہے
    واعظ ! آئو میں سمجھائوں رقص کی تشکیل
    روح جب وجد میں آئے تو رقص بنتا ہے
    ہوا میں ہلکی ہلکی سی سرگوشی ابھری تھی۔ شاید یہ کسی نئی کہانی کے آغاز کا سندیسہ تھا۔ کہانیاں تو ازل سے تخلیق ہوتی چلی آرہی ہیں ، فرق صرف قلم کار کی سوچ کا ہے کہ وہ نوکِ قلم سے اسے کس سانچے میں ڈھال دے ورنہ زندگی تو ہمیشہ سے ایک ہی سمت رواں ہے، پیدائش سے موت تک… اور موت سے عالمِ بالا تک… ہاں یہ بھی حقیقت ہے کہ اصل کہانی کار تو اوپر والے کی ذات ہے جس کی لکھی کہانیوں میں کوئی جھول نہیں اور جس کے کردار اس کے پیدا کردہ چلتے پھرتے انسان ہیں۔ جو دنیا میں آتے ہیں اور اپنا کردار نبھا کر چلے جاتے ہیں۔ ہر شخص اپنی پیدائش کے ساتھ ایک نئی کہانی لاتا ہے مگر عمر بھر وہ یہ نہیں جان پاتا کہ اس کی کہانی کا انجام کیا ہوگا؟ ہے نہ حیرت کی بات کہ انسان ساری کائنات مسخر کر کے بھی اپنی کہانی کو تسخیر نہیں کر پایا۔ تو بات شروع ہوئی تھی کہانی کی اور کہانی بھی وہی عام تھی ۔وہ سیاہ داسی ،سیاہ پوش۔
    بھلا سوچنے والے بھی کہتے ہوں گے یہ کیسا نام ہوا۔ تو بات ہی ایسی تھی کہ وہ سیاہ داسی، سیاہ رنگ کی عاشق، سیاہ رنگ کی غلام تھی۔اس کے خیال میں سیاہ رنگ عشق کا رنگ ہوتا، وہی تو ایک رنگ ہے جو سارے رنگوں کو اپنے اندر سمو لیتا ہے۔ محبت، خلوص اور چاہت کا رنگ۔پھر سیاہ رنگ تو غلافِ کعبہ کا بھی ہے اور اسے تو کعبہ سے بھی عشق تھا۔ نام اس کا آمنہ نور، اور نور تو اس کے چہرے سے پھوٹتا تھا۔مگر سیاہ رنگ کی کشش نے اسے سیاہ داسی بنا ڈالا ۔
    کہتے ہیں جن کا عشق خدا ہو انہیں سپنے بھی سچے دکھائی دیتے ہیں۔آج تیسری بار وہ یہی خواب دیکھ رہی تھی۔وہ سر تا پا سیاہ لباس میں ملبوس صحرا کی گرد پیروں میں لپیٹے وہاں حرم میں موجود تھی، کعبہ کے عین سامنے مقام ابراہیم کے پاس ایک شفاف ستون سے سر ٹکائے وہ نجانے خدا سے کیا راز و نیاز میں مصروف تھی کہ اس کے عین عقب سے وہی جانی پہچانی آواز ابھری ۔
    ”کیوں بھاگتی پھر رہی ہو مجھ سے اے پاکیزہ روح؟ کیا تمہیں میری حالت پر ذرا رحم نہیں آتا؟ جانتی ہو نہ میں تمہیں دیکھ کر جیتا ہوں؟”
    ”مجھے دیکھ کر؟” اس نے سیاہ معصوم آنکھوں سے حیران ہو کر پوچھا تھا۔





    ”ہاں! ایک تمہارا سراپا ہی تو دیکھ پایا ہوں مگر تمہاری معصوم اور روشن آنکھیں اس بات کی عکاس ہیں کہ تمہارا چہرہ بھی تمہارے کردار کی طر ح شفاف آئینہ ہو گا۔”
    اس نے بے چینی سے پہلو بدلا اور نگاہیں فرش پر گاڑھ دیں۔ اتنی بے باک تعریف وہ بھی کسی اجنبی سے سننا، اسے کچھ ناگوار گزرا۔
    ”سنو ابن عبداللہ! تم کیوں ہاتھ دھو کر میرے پیچھے پڑ گئے ہو؟جاؤ چلے جاؤ یہاں سے مجھے انسانوں میں کوئی دلچسپی نہیں۔ میری زندگی صرف میرے رب کے لیے ہے اور پھر چار دن کی اس زندگی میں کسی اجنبی سے دل لگانا مجھے گوارہ نہیں۔” غصہ سے اس کی آنکھیں سرخ ہوئی تھیں۔
    ”میں تمہاری ایک نظر کا طالب ہوں اے سیاہ پوش حسینہ! مجھے دل میں تھوڑی سی جگہ دے دو۔ میں جی اٹھوں گا۔”وہ ملتجی ہوا تھا۔
    ”تم نے مجھے دیکھا ہی کب ہے جو میرے حسن کے قصیدے پڑھ رہے ہو؟ کیا میں نہیں جانتی کہ مرد عورت کو تعریفوں کے خوبصورت جال میں پھنساتا ہے اور پھر تمام عمر اس کو تنہا کر کے رلاتا ہے۔”
    ”تم غلط سوچتی ہو۔ میں ان مردوں میں سے نہیں۔ ایک بار مجھ پر بھروسہ کر کے تو دیکھو۔”
    ”ابن عبداللہ! تم دنیا کے آخری مرد بھی ہوئے نا تو میں تب بھی تم پر بھروسہ نہیں کروں گی۔” وہ منہ پھیر کر بولی تھی۔ مگر کون جانے کے اس کی کھائی ہوئی قسم کب ٹوٹ جائے کہ قدرت کے کھیل قدرت ہی بہتر جانتی ہے۔ وہ کب کسے توڑ دے اور کب توڑ کر جوڑ دے، سبھی اختیار اس کے ہیں۔
    وہ ابنِ عبداللہ جسے وہ خواب میں دیکھتی آئی تھی، اب حقیقت میں اس کی زندگی میں آچکا تھا۔ اسے نہیں یاد کہ اچانک وہ اجنبی کب،کیسے اور کیوں اس کی زندگی میں آیا ۔مگر یہ بھی سچ ہے کہ اس پہلی ملاقات کے بعد ابنِ عبداللہ نے اس کا پیچھا نہیں چھوڑا۔وہ ہر موڑ،ہر رستے اور ہر جگہ سائے کی طرح اس کے ساتھ تھا ۔
    ”تم آخر میرا پیچھا چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ بولو۔”
    ”بھلا پروانہ شمع کے پاس نہیں آئے گا تو اور کہاں جائے۔”
    ”پروانہ نہیں بھنورا کہو۔تم بھنورا صفت انسان ہو۔ ڈالی ڈالی، کلی کلی منڈلانے والے۔ تم کیا جانو کہ محبت کی حقیقت کیا ہے اور عشق کسے کہتے ہیں۔”
    ”جانتے ہو عشق کی حقیقت کیا ہے؟ عشق تو وہ ہے جب دوئی کا فرق مٹ جاتا ہے۔ سانس کوئی لیتا ہے تو نبض کسی کی چلتی ہے عشق تو روحوں کا ملن ہے۔جانتے ہو سچے عاشق تو ایک ہی در کے فقیر بن جاتے ہیں۔ پھر نہ آنکھوں کو کوئی دوسرا دکھائی دیتا ہے نہ کانوں کو کوئی اور سنائی دیتا ہے۔ بس تو ہی تو، تو ہی تو۔من مندر میں ایک خدا اور وہی دکھے جابجا۔” وہ روانی میں کہہ رہی تھی۔
    ”عشق سیکھنا ہے تو نرمگس سے سیکھو جو ایک ملکہ کی خواہش میں اپنی ساری زندگی یہاں تک کہ جان تک ہار بیٹھتا ہے اور ابنِ عبداللہ اسے ہر بار کچھ یوں اپنے سچ کی گواہی دیتا:
    ” تمہیں میری محبت پر یقین نہیں نا تو دیکھ لینا، ایک دن یقین بھی آجائے گا۔ میں تمہیں پاکر تمہارے ہر خدشے کو دھو ڈالوں گا۔” اور پھر وہ وہاں ٹھہرا نہیں۔ اس کی نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
    وقت کبھی ایک سا نہیں رہتا۔ انسان ہزار تاویلیں گھڑ لے مگر جو ہونا ہوتا ہے وہ ہو کر ہی رہتا ہے۔ دو سال گزر چکے تھے۔ اب اسے سچے خواب آنا بند ہو گئے تھے ۔ہاں وہ جاگتے میں خواب بننے لگی تھی۔ وہ خواب جو اس کی مرضی کے تھے۔ بھلا مرضی کے خواب بھی کبھی تعبیر پاتے ہیں۔ مگر وہ انسان ہی کیا جو زندگی میں ایک بار خطا نہ کرلے۔پھر وہ بھی تو عام انسان ہی تھی پھر کیونکر خطا وار نہ ٹھہرتی۔جس بات سے وہ ڈرتی تھی وہ بات پوری طرح اس کی ذات پر حاوی ہو چکی تھی۔کہتے ہیں پانی کی بوندیں اگر مسلسل پتھر پر گرتی رہیں تو اس میں بھی شگاف ڈال دیتی ہیں۔ پھر وہ تو موم سے بھی زیادہ نرم تھی۔ عبداللہ کی بار بار التفات نے اس کے دل میں بھی شگاف ڈال دیا۔
    ایسا شگاف جو کئی گنا گہرا تھا اور جس کو بھرنا۔ناممکن تھا ۔وہ بھی اب سر تا پیر عشق میں ڈوب چکی تھی۔
    دیکھو ابن عبداللہ! تم مجھے اپنا لو۔ وقت بہت گزر چکا ہے۔ میں خدا کی نافرمان بن کر نہیں جی سکتی کہ اس سے عشق بھی کروں اور حکم عدولی بھی۔ اسے بھی چاہوں اور غیر محرم کو بھی۔ میری سوچیں دن رات تمہارا طواف کرتی ہیں۔ آنکھیں صرف ایک تصور میں رہتی ہیں۔ خدا کے لیے مجھے اپنا نام دے دو۔ یوں بے راہ روی کی زندگی مت جیو میں۔ عمر بھر تمہاری داسی بن کے رہوں گی۔ وہ اپنی انا، خودداری سب کچھ تیاگ کر آج اس کے رو برو تھی۔ وقت گزر رہا تھا اور نا محرم محبت نے اسے اس کی اپنی نظر وں میں گرا ڈالا تھا۔
    ”لوٹ جاؤ آمنہ نور! میں بہت مجبور ہوں۔” وہ منہ پھیر کر دھیمے لہجے میں بولا۔
    ”کیوں ابن عبداللہ! کیوں مجبور ہو تم؟تم تو کہتے تھے عمر بھر ساتھ نبھاؤں گا۔”
    ”میں مجبور ہوں اس لیے کہ میں اپنی ماں کا حکم نہیں ٹال سکتا۔مجھے ان کی خواہش کا ہر حال میں احترام کرنا ہے۔ میں بہت شرمندہ ہوں۔”
    ”تو تم بھی وہی عام مرد نکلے ابنِ عبداللہ!جو معصوم عورت کے دل، جذبات اور احساسات سے کھیلتے ہیں۔پہلے محبت اور زندگی بھر ساتھ کے حسین خواب دکھاکر اپنے ساتھ چلاتے ہیں اور پھر دکھ کی اندھیری کھائی میں دھکیل جاتے ہیں۔اگر اتنا ہی ماں کی خواہش کا احترام تھا تو محبت بھی ماں سے پوچھ کر کرتے۔مگر نہیں، تم کو تو اپنے کنوارے پن کا وقت کاٹنا تھا سو میرے اجلے من کو سیاہ کر کے کاٹ لیا۔ اب تمہاری بلا سے میں جیو یا مروں۔ واہ ابنِ عبداللہ خوب محبت نبھائی ہے تم نے۔”وہ نم آلود لہجے میں بولی تھی۔
    ”بس کرو آمنہ نور! تم مجھ پر الزام پہ الزام لگا رہی ہو۔محبت کے اس پر خار رستے کو تم نے اپنی مرضی سے چنا تھا۔ میں نے تمہیں کبھی مجبور نہیں کیا تھا۔ہاں صرف دوستی کا ہاتھ ضرور بڑھایا تھا مگر تم عورتیں بھی عجیب ہوتی ہو۔ اگر کوئی محبت کر لے ان سے تو شادی کے در پے ہو جاتی ہو۔ ضروری تو نہیں ہر محبت کا انجام شادی ہو۔”وہ استہزایہ ہنسا تھا۔
    اور وہ آمنہ نور اپنی ہی نظروں میں منہ کے بل گری تھی ۔خاموشی نے اس کی زبان کو تالا لگا دیا تھا۔ اب نہ اس کے پاس کہنے کو الفاظ تھے اور نہ ہی بولنے کو زبان۔بس ایک زخمی سی نگاہ اوپر آسمان کی طرف اٹھی تھی اور پھر وہ واپسی کا رستہ ڈھونڈنے لگی۔
    واپسی بھی کتنی کٹھن ہوتی ہے، پاؤں تپتے صحرا کی خاک پر آبلہ پا اور آنکھیں رستے سے خار چنتے چنتے آلودہ۔
    زخم تو روح کو لگے تھے اور روح کو لگ جانے والے گھاؤ کب بھرتے ہیں۔
    سکون ختم ہو چکا تھا۔ آنکھیں سرخ رہنے لگی تھیں اس کی نمازوں میں سجدے طویل ہوتے جارہے تھے گناہ کی لذت بھی اور لت بڑی عجیب ہوتی ہے۔ جب لگتی ہے تو کچھ سجھائی نہیں دیتا مگر جب لذت ختم ہو جائے تو پھر زبان سے حلق تک کرواہٹ بھر جاتی ہے۔ وہ بھی ایک گناہ کر بیٹھی تھی، یہ جانتے ہوئے بھی کہ نامحرم مرد اور عورت دوست کبھی نہیں ہوتے ۔وہ یا تو محرم ہوتے ہیں یا پھر اجنبی۔ مگر اس نے اللہ کی قائم کردہ حدود جو توڑی تھی تو اب معافی ملنا بھی آسان نہیں تھا۔




  • بے اثر — سحرش مصطفیٰ

    وہ سب سے بے خبر خود کو دیکھے جارہی تھی اور پھر اس نے جیسے سبھی سے نظریں چرا کر اپنے اندر جھانکا تھا۔ یہ ایک بے حد مشکل اور کٹھن مرحلہ تھا، لیکن ہر انسان کی زندگی میں ایک نہ ایک عمر میں یہ مرحلہ آتا ہے جب اسے اپنے اندر جھانکنا پڑتا ہے ۔ وہ سردیوں کا عروج تھا، لیکن پھر بھی وہ پسینے میں نہا گئی تھی۔ صدف عثمان نے نظر بھر کر بسمہ کامران کو دیکھا تھا۔ چمکتا ہوا اُجلا چہرہ ہمیشہ کی طرح مطمئن۔ بہت کچھ کھو دینے کے باوجود غم سے عاری آنکھیں۔ اس نے اپنی آنکھیں بند کیں اور اپنے آپ کو ماضی کی بھول بھلیوں میں کھو جانے دیا تھا۔
    بچپن کی دھوپ چھاؤں سے لے کر جوانی کی نو بہار تک وہ بسمہ کامران سے خار کھاتی تھی۔ خار کا ذائقہ تلخ اور اثر زہریلا ہوتا ہے سوچ کو کڑوااور روح کو نیلا کردیتا ہے ۔ تکلیف کے وہ لمحات روز بہ روز اذیت ناک ہوتے جارہے تھے۔
    بارہواں یا شاید گیارہواں سال تھا ۔ جب اس کے دل میںخواہش پیدا ہوئی تھی۔ جب پہلی بار عاجزی کا غرور اس کی روح میں اترا تھا ۔
    اس کی ماں کے لہجے کی حلاوت اور مزاج میں موجود مروت بے مثال تھی۔ سارے خاندان کے لیے ایک مثال تھی۔ وہ خوب صورت انسانی صفات کا ایک مثالی نمونہ تھیں ۔جو پہلی بار ملتا وہ دوسری بار ملنے کی خواہش دل میں رکھتا ۔وہ ستائش پسند تھی ۔ اپنی ماں کے لیے لوگوں کے منہ سے نکلنے والے الفاظ اسے کسی تصوراتی دنیا کی سیر کراتے۔ وہ خود کو ان کی جگہ محسوس کرتی تھی ۔ یہ خیال اور خواہش اتنی پختگی اختیار کرگئی تھی کہ اس نے ماں کے نقش قدم کو اپنانا چاہا۔کم عمری میں روزے رکھے ۔پنج وقت نماز ادا کی۔ ماں باپ کی فرماں برداری اختیار کی۔ہر اچھی عادت کو اپنانے کے بعد ملنے والی دا د و تحسین اسے مزید نیکیوں پر اکساتی تھی ۔ وہ ہواؤں میں تھی کہ اچانک بسمہ کامران اسے زمین پر لے آئی۔ اس کی سگی چچا زاد اس کے روبرو آگئی تھی۔ وہ خوب صورت تھی ، چمک دار آنکھیں، صاف رنگت اور چہرے کے نقوش میں جمی ہوئی ملکوتی معصومیت۔ وہ ذہین تھی، ہر سال حاصل کی جانے والی اوّل پوزیشن اسے صدف کے مقابلے میں آگے لے آئی ۔ اس کے چھکے چھوٹ گئے تھے ۔ اس احساس کے ساتھ کہ کوئی اس سے آگے نکل رہا تھا۔ تعریف و توصیف کے ڈونگروں کی وہ اکلوتی حق دار نہیں تھی ۔ عمر کے بارہویں سال میں وہ روشنی میں نہائی تھی اور پندرہویں برس میں اس پر تاریکی کا سایہ لہرایا تھا۔ وہ ”صدف ” اور ”بسمہ” کے فرق کو پہچان سکتی تھی۔ بسمہ کے پاس ذہانت تھی۔ وہ ذہانت جودنیا کو چونکا دیتی ہے ۔جو کسی بھی خاندان کا فخر ہوتی ہے۔ وہ ذہانت جو برسوں میں پیدا ہوتی ہے اور فنا ہونے کے بعد بھی اپنی جزیات ہوا کے جھونکوں کو سپرد کرجاتی ہے۔ وہ سب کی آنکھ کا تارا تھی اور اس کی آنکھ کا تنکا۔ جھوٹ، حسد اور بغض کے تیزاب کو اپنے ذہن پر روز انڈیل دیتی اورآہستہ آہستہ گھلتی رہتی۔





    اس کی عبادت ایک مثال تھی ۔عبادت آخرت کا سہارا ہوتی ہے۔ اس نے اپنی عبادت کو دنیا میں آگے بڑھنے کی لاٹھی بنالی۔
    وہ عبادت گزار تھی روشنی میں نہائی ہوئی تھی۔ وہ اپنی عبادت پر نازاں تھی اس پر تاریکی کا ہلکا سا پہرہ تھا۔
    سترہویں سال میں ایک صبح بسمہ نے اسے میڈیکل میں داخلے کی خوش خبری سنائی اور اگلے دن صدف نے ایک خواب ”گھڑ” لیا۔
    ”چاچی میں نے دیکھا کہ اس کالج کے باہر ایک گڑھا ہے۔ کالے گدلے بدبو دار پانی والا اور بسمہ اس میں گر پڑی۔” جھوٹ کا بھوت اس کے سر پر سوار تھا۔
    اس کے اس خود کھدے خواب نے بسمہ کے خوبوں کو مٹی کردیا۔ اسے آرزو تھی اسے بلکتا ہوا دیکھنے کی جو آرزو ہی رہی ۔ بسمہ کامران بڑی ”پکی اور ہوشیار” نکلی اس نے صبر کا سہارا لیا اور جو صبر کرلے، تو دکھ کی کیا مجال کہ آنکھوں کو آنسوؤں سے تر کرلے۔ چاچا نے اس کے لیے ایک اور میڈیکل کالج منتخب کیا۔ اس نے چاچی کے کان بھرے۔
    ”میں نے خواب دیکھا چاچی کہ بسمہ کے میڈیکل کالج میں آگ لگ گئی ہے اور وہ اس کے دھویں میں گھری بری طرح کھانس رہی ہے ۔” چاچی دھک سے رہ گئیں۔ بسمہ کا خواب اس نام نہاد خواب نے تباہ کردیا ۔ وہ سب کی نظروں میں معتبر تھی۔ اس کی عبادتیں گنتے تھے وہ لوگ ۔ اس نے اس گنتی کا خوب فائدہ اٹھایا ۔طے ہوا کہ مسیحائی بسمہ کی قسمت میں نہیں ہے ۔
    بسمہ سسک کر رہ گئی ۔
    پھر تو یہ نیا وتیرہ بن گیا تھا۔ آئے دن اسے کوئی نہ کوئی خواب آتا جو بسمہ کے خواب چکنا چور کردیتا ۔ اس کی آنکھیں خواب دیکھ کر تھکتی ہی نہیں تھیں۔ بسمہ بس چپ تھی۔ بسمہ کے لیے آنے والا ہر اچھا رشتہ اس کے استخارہ کی روشنی میں ہمیشہ ہی ریجیکٹ ہوجاتا ۔ اس کے تقویٰ اورعبادت پر سب کو یقین تھا۔
    وہ نادان تھی یہ بات سمجھ نہ پائی کہ یہ سارے جھوٹے خواب اسے ایمان کی بستی کی حدود سے نکال کر انگار وادی میں دھکیل رہے تھے۔ حسد کی آگ سے تخلیق ہونے والی انگار وادی۔ وہ خوشی سے اس آلودہ بارش میں نہاتی رہی اور پھر خوابوں کا وہ سلسلہ رکا نہیں۔ بسمہ کی ہر کامیابی اور ہر نئے خواب کے بعد ایک خواب گڑھ لیا جاتا تھا ۔ابتدا میں اسے دقت ہوتی جھوٹ ”سوچنا” پڑتاتھا، لیکن پھر جھوٹ خود بہ خود اس کے منہ سے ”ادا” ہونے لگا ۔ وہ بے اختیار کچھ نہ کچھ برا کہہ دیتی ۔ کچھ ایسا جو بسمہ کو تکلیف پہنچائے ۔
    حیرت تو اسے بسمہ پر ہوتی تھی ۔ اسے لگتا تھا کبھی نہ کبھی وہ اسے برا بھلا کہے گی ۔ اسے شعلہ بار نظروں سے گھورتے ہوئے لفظوں سے آگ برسائے گی پر اس کا رویہ ویسا کا ویسا تھا۔ بس اس کی آنکھوں کی میں اداسی کی تہ گہری ہوتی جارہی تھی ۔
    ایک کے بعد ایک خواب، صدف عثمان بودی اور کھوکھلی ہوتی چلی گئی۔ بسمہ کامران گہری ہوتی گئی۔ وہ بغض اور جھوٹ کے سہارے چلتی گئی۔ بسمہ شکر ، صبر اور دعا پر انحصار کرنے لگی ۔
    اس کے نفلی روزوں کی تعداد بڑھنے لگی اس کی نماز کا دورانیہ طویل ہونے لگا ۔ وہ ایک ریس میں داخل ہوچکی تھی۔
    پھر زندگی کی ایک نئی ڈگر شروع ہوئی ایک نئے دور کا آغاز ۔ وہ بہار بن کر صارم کی زندگی میں داخل ہوئی اور اس کے کچھ عرصے بعد بسمہ بھی بسمہ کامران سے بسمہ اظفر بن گئی ۔
    شادی کے ایک سال بعد بسمہ کے پیروں تلے جنت آگئی اور وہ صدف عثمان اس نعمت سے محروم رہی ۔ محروم ہی رہی ۔ ایک سال تک اسے کوئی پریشانی نہیں ہوئی ۔ بسمہ کی اولاد نے اسے بے چین کیا ۔ پھر یاسیت ہی یاسیت تھی ۔ اداسی کے سارے رنگ اس کیے غم کے آگے پھیکے پڑ گئے ۔ وہ وظیفے کرتی ، دعائیں ، استخارہ ، علاج، پیر ، فقیر اور صدقہ خیرات لیکن سب بے سود ۔ کاش انسان اپنے گناہ کسی کو خیرات کرسکتا ۔ گزرتا ہوا ہر نیا دن ، گناہ کا بڑھتا ہوا ہر نیا احساس اس کے احساس جرم کو بڑھاتا رہا ۔ دس سال پر لگا کے اڑگئے تھے ۔ بسمہ تین بچوں کی ماں بن گئی اور چوتھا آنے والا تھا۔
    وہ اب پژمردگی کا شکار رہنے لگی تھی ۔ اس کی عبادتوں میں بے رغبتی آنے لگی۔ اس کی خاموشی سونے پن میں بدلنے لگی ۔ صارم بہت اچھا انسان تھا۔ وہ اسے دلاسے دیتا اس کی قدر کرتا تھا ۔ اسے اللہ پر یقین رکھنے کی تلقین کرتا تھا ۔ پھر بسمہ کی چوتھی اولاد دنیا میں آئی۔ وہ بیٹا تھا۔ پیدائش کے ساتویں دن اس بچے کے عقیقے والے دن بسمہ نے اپنی اولاد اسے تھمادی ۔ وہ حیران رہ گئی ۔ اس بچے کو ہاتھ میں تھامے اس نے بسمہ کو اس قدم سے روکنا چاہا، لیکن وہ نہ رکی۔ اس کی آواز گھٹ کر رہ گئی۔ اس ننھے وجود کی نرماہٹ نے اسے سر تا پا موم بنادیا ۔ اور اس دن اسے احساس ہوا کہ اللہ نے بسمہ کو اتنا کیوں نوازا تھا۔ ڈھول کی تھاپ پر سب خوشیاں منانے میں مصروف تھے ۔ کون کہاں اجڑا کون کہاں بسا کس کو پروا تھی، کس کو خبر تھی لیکن جس کو خبر تھی وہ ہول کھارہی تھی ۔عاجزی پر کیا گیا غرور سلو پوائزن کی طرح ہوتا ہے اور وہ سلو پوائزن ہماری روح کے اندر بہت سے سانپ تخلیق کرنے کی وجہ بنتا ہے اور وہ اسی لمحے کے حصار میں تھی۔ وہ حصار نہیں تھا قید تھی، ہر ایک لمحہ زنجیر تھا۔ ایک ہی چھت تلے دو نفوس تھے ۔ ایک نے نفس کو گرو بنایا تھا اور وہ نفس اس کی ساری عبادات اور ریاضات کو کھا چکا تھا ۔ ڈھول کی دھمک اور اونچی ہوتی جارہی تھی، لیکن وہ دھمک اس کے دل کی دھڑکن کو قابو کرنے میں ناکام تھی۔ وہ خوف زدہ ہوئے بغیر انہیں دیکھ رہی تھی ۔اُنہیں جنم دینے والا وجود اس کا تھا وہ کیسے ان سے خوف کھاتی۔ غرور بے وقوفی کی نشانی ہوتا ہے ۔ حسد ہمارے اندر موجود کم ظرفی کو بیان کرتا ہے ۔ صدف عثمانحسد، کم ظرفی اور غرور سے تخلیق کردہ ان سانپوں کو گھور رہی تھی ۔اس کا پنا آپ ایک سوالیہ نشان تھا ۔اس کی زندگی بھی سوالیہ نشان تھی ۔ سب کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔ پھولوں اور روشنیوں سے سجا گھر ، قہقہے ، سب کی مسکراتی نظریں اور اس ننھے وجود کے نرماہٹ جسے ابھی ابھی امی نے اسے تھمایا تھا۔
    شرمندگی تھی کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔ جو کچھ وہ کرتی رہی سب بے اثر تھا ۔
    کسی بھی چیز یا انسان کی دلکشی اور ذہانت اس کی اپنی تخلیق نہیں ہوتی ۔ اللہ کی دین ہوتی ہے۔ سب تعریفیں اللہ کے لیے ہوتی ہیں ۔ اس کی دین سے اختلاف کرنے والے کا کیا انجام ہوتا ہے ؟ وہ سوچنے لگی ۔ کیا تھا اگر بسمہ کامران کا چہرہ نگاہوں کو مقید رکھنے کی صلاحیت رکھتا تھا ۔ کیا تھا اگر اس کی ذہانت اسے درجنوں میں نمایاں کرتی تھی ۔ کیوں کیا اس نے ایسا ؟ آخر کیوں ؟ اسے اب حیرت ہورہی تھی کہ اس کی
    عبادت نے اسے یہ سب باز رکھنے کی طاقت کیوں نہیں دی تھی ۔ کیسے دے سکتی تھی ؟
    وہ عبادت جو خلق کی ”واہ” کی ”چاہ” میں کی جائے وہ بے اثر ہوتی ہے ۔ کئی سال پہلے اپنی ماں کی دنیاوی ساکھ سے متاثر ہوکر اس نے جو عبادت شروع کی تھی۔ وہ اسی دنیا میں کہیں ٹکراتی پھررہی تھی۔ وہ عبادت خالق کو راضی کرنے کا راستہ نہیں تھی ۔ تو اتنے سالوں تک میں نے کیا کیا صرف ایک ریہرسل۔ وہ ایک نئے خوف میں مبتلا ہوگئی تھی ۔ آنسو ایک مرتبہ پھر اس کے گالوں کو چھونے لگے تھے ۔ وہ کتنا رحیم ہے ۔ کتنا کریم ہے کہ اس نے آج تک اس کا پردہ رکھا تھا۔ اس نے صدف عثمان پر رحم کیا تھا، لیکن ساتھ ہی ساتھ بسمہ کامران کے ساتھ انصاف کیا تھا۔ اس نے ایک نظر اپنے وجود میں نیند کی وادی میں اترے ہوئے وجود کو دیکھا اور ایک نظر سامنے کھڑی بسمہ کو دیکھا تھا۔ بسمہ نے اس کی آنکھوں کی چمک کو تاک لیا تھا۔ وہ بے اختیار آگے بڑھی اور صدف عثمان کو گلے لگالیا۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر رودی تھی ۔ پچھتاوے کے آنسو اتنی آسانی سے کیسے تھم سکتے ہیں۔ دکھاوے اور دوسروں کو کم تر ثابت کرنے والی عبادت زہر آب ہوتی ہے۔ ہمارے سارے وجود کو گھٹن زدہ کردیتی ہے اور بے اثر ہوتی ہے۔ ہماری آنکھوں پر خوش فہمیوں کی طویل پٹی باندھ دیتی ہے ۔اس پٹی کے اترنے کے بعد بھی انسان کئی سال تک اس کی چبھن اور دھندلے پن کا شکار رہتا ہے ۔ وہ بھی ایسی ہی تکلیف میں مبتلا تھی۔

    ٭…٭…٭




  • شہربانو کا آخری خط — محمد انس حنیف

    شہربانو کا آخری خط — محمد انس حنیف

    کانپتے وجود کے ساتھ اُس نے شہر بانو کے خط کی آخری سطر پڑھی، اُس نے بہت مضبوطی سے اُس کاغذ کو تھاما ہوا تھا، لیکن ہاتھوں کی لرزش پر قابو نہ پانے کی وجہ سے خط اُس کے ہاتھوں سے زمین پر آن گرا۔ اُس نے اردگرد دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا۔ اُس نے جلدی سے کمرے کی چٹخنی لگائی اور نیچے جھکتے ہوئے خط اُٹھا لیا۔
    آنکھوں میں نمی اُتر آئی تھی۔ یہ اس کی شہربانو کے ہاتھوں سے لکھا ہوا خط تھا۔ وہ لکھائی پہچان سکتی تھی،وہ اُس کی ماں تھی اور کیسے ممکن تھا کہ وہ اپنی شہر بانو کی لکھائی نا پہچان پاتی…لیکن یہ اس کی شہربانو کے ہاتھ سے لکھا ہو ا آخری خط تھاکیونکہ شہر بانو اب دنیا میں نہیں رہی تھی۔
    ”شہربانو مر چکی تھی۔”
    اس نے خط کو اپنے ہونٹوں اور آنکھوں سے لگاتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو نا شروع کردیا اور کتنی ہی دیر وہ اسی طرح روتی رہی۔ اسے کوئی چپ کرانے والا تھا نا کوئی درد سمجھنے والا۔ درد تو اب اسی طرح رہنا تھا اور یہ درد تو روگ بننے والا تھا عمر بھر کا روگ،اُس نے لمبی گہری سانسیں لیتے ہوئے خود پر قابو پانے کی کوشش کی۔ وہ نہیں چاہتی تھی کہ باہر صحن میں لیٹے اُس کے شوہر، بیٹے یا بہو کو اُس کی اس حالت کا علم ہو۔
    اپنے آپ کو نارمل کرنے کے بعد وہ چپکے سے کمرے سے نکلی،وہ تینوں اب سو چکے تھے ۔اُن کی طرف دیکھتے ہوئے بہت احتیاط اور دبے قدموں کے ساتھ وہ کچن میں آئی۔ اُس نے پھر سے دو تین گہرے لمبے لمبے سانس لیے، اپنے اندر تھوڑی ہمت پیدا کرتے ہوئے چولہا جلایا، چند لمحے انتظار کے بعداپنی مٹھی میں بھینچا ہوا شہر بانو کا آخری خط اُس دہکتی آگ میں رکھ دیا۔ نظریں موڑ کر اُ س نے کھڑکی سے باہر صحن میں دیکھا جہاں اُس کی بہو،بیٹا اور شوہر چارپائیوں پر لیٹے نیند میں گم تھے۔
    اور اس کی نیند؟ نیند تو اُس سے اب روٹھ گئی تھی۔ شاید ہمیشہ ہمیشہ کے لیے۔
    آگ میں جلتے ہوئے شہر بانو کاخط اب مکمل طور پر راکھ میں بدل چکا تھا۔شہربانو کے گناہ پر پردہ ڈالنے کے لیے اس کاغذ کا راکھ بننا ضروری تھا۔ ہاں شہربانو کے گناہ کو چھپانے کے لیے۔ شہربانو کا گناہ؟ یا اُس کا اپنا گناہ یا پھر صحن میں لیٹے ہوئے اُس کے شوہر اور بیٹے کا گناہ … وہ کس کس کا گناہ چھپا رہی تھی؟
    ٭…٭…٭





    شہربانو کون تھی؟ ایک معصوم سی فرشتہ صفت لڑکی۔ کسی نازک سی گڑیا کے مانند۔ بالکل موم کی طرح، اپنے بھائی کی لاڈلی، باپ کی دُلاری، ماں کی رانی۔ جیسے آسمان پر چمکتا کوئی تارہ ہو۔ ہاںوہ ایسی ہی تھی، بالکل کسی ناول یا کہانی کی ہیروئن کی طرح۔
    اُس کی پیدائش پر موتی چو ر کے لڈو بانٹے گئے، دیگیں چڑھائی گئیں۔ آخر وہ ملی بھی تو کئی منتوں اور مرادوں کے بعد تھی۔ اپنے ماں باپ کی شادی کے سات سال بعد۔
    شمیم بیگم اور ولی احمد اپنی پہلی اولاد بیٹی چاہتے تھے۔ یہ ایک اتفاق ہی تھا کہ شمیم بیگم چار بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی اور ولی احمد کے بھی بس تین بھائی ہی تھے۔ ولی احمد نے ہمیشہ سے ایک بہن کی کمی محسوس کی تھی اور یہی وجہ تھی جب شمیم کے امید سے ہونے کی خبر ملی تو ولی احمدنے اُس کے ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا :
    ”شمیم اللہ سے دعا کرو ہماری پہلی اولاد بیٹی ہو۔” اپنے شوہر کی بات پر شمیم کی آنکھیں بھر آئیں تھیں۔ وہ بھی تو یہی چاہتی تھی ،لیکن دل کی اس بات کو اس نے ہمیشہ دل ہی میں رکھا تھا اور آج ولی احمد کی خواہش نے اسے عجیب سی خوشی دی تھی۔اُس نے دن رات اللہ سے بیٹی کی پیدائش کی دعائیں مانگنا شروع کر دیں، لیکن اللہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ اللہ نے انہیں بیٹا عطا کیا تھا اور اگلے چھے سال تک اُن کے ہاں کوئی اولاد پیدا نہیں ہوئی تھی۔
    ولی احمد زمیندار تھا،کئی مربعوں کا مالک ،سخت محنت کرکے خوب پیسا بھی کمایا تھااور اسی پیسے نے اُسے عزت دی تھی۔ گائوں والے اپنے لڑائی جھگڑوں کے فیصلے کروانے زیادہ تر اُسی کے پاس آتے تھے۔ ولی احمد اپنی زندگی سے خوش تھا،لیکن کئی دفعہ اُسے بیٹی کی کمی بُری طرح افسردہ کردیتی تھی۔
    شادی کے سات سال بعد دعا کی قبولیت کا وقت آیااور اللہ نے شمیم کی گود میں شہربانو کو ڈال دیا۔ گویا ولی احمد تو جیسے ساتویں آسمان پر پہنچ گیا۔ شہربانو کی پرورش کسی شہزادی کے مانند ہوئی تھی۔ ماں باپ اور بھائی سب اُس پہ صدقے واری جاتے تھے اور فضلو بھی اُس سے بہت پیار کرتا تھا۔
    فضلو شہربانو کا چچا تھا۔ سگا تو نہیں، لیکن اس کے ابا کا کزن تھا۔ ولی احمد سے پندرہ برس چھوٹاتھا۔ اس دنیا میں بالکل اکیلا ماں باپ اُس کے بچپن میں ہی چل بسے تھے۔ بہن بھائی اپنا اپنا گھر بسا کراپنی دنیا میں مگن تھے۔ فضلو نے بھی گھر بنانے کی کوشش کی ،لیکن فضلو کی بیوی شادی کے ایک سال بعد ہی کسی دوسرے مرد کے ساتھ بھاگ گئی۔ فضلو کا واحد قصور اُس کا غریب ہونا تھا،پہلی دفعہ گھر ٹوٹنے کے بعد فضلو کے اندر ہمت نہ تھی نہ گھر بنانے کی اور نہ ہی کسی ددوسری عورت پر اعتبار کرنے کی۔
    اُس کی تنہائی کا خیال کرتے ہوئے ولی احمداُسے اپنے گھر لے آیا تھا۔ یہاں اُس کا دل لگ گیا تھا۔ بھینسوں کی دیکھ بھال اور ولی احمد کے بچوں کے ساتھ کھیلنا اس کی دنیا بس اتنی سی ہی تھی اور وہ اسی دنیا میں بے حد خوش تھا۔
    شہربانو، بے حد لاڈ پیار میں پل کر بچپن سے جوانی کو پہنچی تھی اور اس لاڈ پیار نے شہر بانو کو بگاڑنے کے بجائے سنوار دیا تھا۔ اس کے لہجے میں شرم تھی حیا تھی،اُس کے ماں باپ اور بھائی جب جب اس کی طرف دیکھتے تو کلمہ شکر پڑھتے تھے۔
    شہربانو نے ایف اے کیا ،جب اس کے ماموں نے اپنے بیٹے کے لیے اس کا ہاتھ مانگا ۔ ولی احمد کو یہ بات بُری طرح چبھی، شہربانو سب سے الگ تھی وہ اپنی بیٹی کے لیے کوئی اُس جیسا لڑکا ہی چاہتا تھا۔ کوئی پڑھا لکھا،شریف پیسے والا عزت والا۔ اُس نے شہربانو کے لیے ایسا ہی مرد چاہا تھا جو ہر باپ اپنی بیٹی کے لیے چاہتا تھا اور ولی احمدکی یہ خواہش کوئی اتنی غلط بھی نہیں تھی۔
    ولی احمد نے شمیم بیگم سے اُس کے بھائی کو انکار کرنے کے لیے کہا،تو شمیم بیگم نے نہایت مناسب الفاظ میں اُسے انکار کردیا تھا۔ شمیم بیگم کی بھاوج نے اُس کے آگے جھولی پھیلا دی، لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ بھاوج پھر منتوں پر اُتر آئی تھی،مگر انکار اقرار میں نہ بدلا تھا۔
    شمیم کا بھائی اُس کا انکار سُن کر بھڑک اُٹھا تھا۔بظاہر اس کے بیٹے میں کوئی خامی تھی بھی نہیں۔ میٹرک کرنے کے بعد وہ اپنے باپ کے ساتھ زمین کی دیکھ بھال میں مصروف تھا۔ شکل کا بھی اچھا اورمالی لحاظ سے بھی ولی احمد کے لیول کا ،لیکن شمیم اور ولی احمد کو بس وہ اپنی شہربانو کے لیے پسند نہیں تھا اور اسی ناپسندیدگی نے حالات میں کشیدگی پیدا کردی۔ یہ کشیدگی شاید مزید بڑھتی چلی جاتی، لیکن اچانک شہربانو کا ایک رشتہ آیا اور جھٹ منگنی اور پٹ بیاہ ہوگیا۔
    یہ ویسا ہی رشتہ تھا جیسا رشتہ شہربانو کے والدین اس کے لیے چاہتے تھے۔ لڑکا سول انجینئر تھا اور شکل و صورت کا بھی اچھا تھا۔ شہربانو کو رخصت کرتے وقت جہاں شمیم اور ولی احمد اُداس تھے،وہاں ان کا دل خوشی سے باغ باغ بھی تھا۔
    لیکن ماں باپ بیٹیوں کے لیے اچھے مقدر کی دعا ہی کر سکتے ہیں۔ بیٹیوں کے لیے دنیا کی ہر چیز خریدنے کے باوجود وہ اُن کے کے لیے اچھا مقدر نہیں خرید سکتے۔ شمیم بیگم اور ولی احمد نے بیٹی کو لاکھوں کے جہیز کے ساتھ رخصت کرتے ہوئے کبھی سوچا تک نہ تھا کہ ان کی بیٹی دس ماہ بعد طلاق یافتہ ہونے کا لیبل لگوا کر واپس آجائے گی۔ ان کی بیٹی …ان کی شہزادی…نازو میں پلی شہربانو۔
    ٭…٭…٭

    بیس سال کی عمر میں شان و شوکت کے ساتھ رخصت ہونے والی شہر بانو دس ماہ میں طلاق یافتہ ہو کر باپ کے گھر لوٹ آئی تھی۔ اس دس مہینوں نے شہر بانو کو بہت حد تک توڑ دیا تھا۔
    طارق اپنی کلاس فیلو میں دلچسپی رکھتا تھا۔ شہربانو سے شادی اُس نے باپ کے دبائو میں آکر کی تھی۔ اُس کا باپ ہر صورت اپنے دوست کی بیٹی کو ہی بہو بنانا چاہتا تھا۔شہر بانو خوبصورت تھی ،طارق کو پہلی نظر میں اچھی بھی لگی تھی۔ طارق نے اُس کے ساتھ خوشحال زندگی گزارنے کی کوشش کی۔ شادی کا ابتدائی کچھ عرصہ وہ اس کوشش میں کامیاب رہا ،لیکن اُس کے لیے اپنی محبت کو بھلانا آسان نہیں تھا۔ شہربانو کی خوبصورتی کا جو نشہ اُسے چڑھا تھا وہ آہستہ آہستہ اُترنا شروع ہو گیا جو طلب تھی وہ مٹ گئی اور اُسے ایک مرتبہ پھر سے پرانی محبوبہ کی یاد ستانے لگی۔
    شہربانو نے اپنے شوہر میں واضح تبدیلی محسوس کی تھی۔ وہ پہلے کی طرح اُس کا ہاتھ نہیں تھامتا تھا۔ اُسے اپنے سینے کے ساتھ نہیں لگاتا تھا ،آخر کیا ہوا تھا؟ اور جو ہوا تھا اُس نے شہربانو کی نیندیں اُڑا دی تھیں۔شہربانو نے اس رشتے کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن طلاق یافتہ ہونے کا لیبل اُس کے ماتھے پر لگ کر ہی رہا تھا اور وہ طلاق لے کر روتی دھوتی اپنے باپ کے گھر آگئی تھی۔
    شہربانو کے ساتھ گھر میں سب کا رویہ نارمل تھا۔ابا ،امی،بھائی ،بھابی اور فضلو… سب اُس کے ساتھ ایسے ہی پیش آتے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو،جیسے سب کچھ نارمل ہو لیکن کچھ بھی نارمل نہیں تھا اور اس بات کو شہربانو اچھی طرح جانتی تھی۔
    شہربانو کی عدت پوری ہوئی تو شمیم بیگم نے اپنی بھابی سے اندر ہی اندر بات کی کہ وہ اپنے بیٹے کے لیے شہربانو کا ہاتھ مانگ لے آخر وہ شہربانو کو پسند کرتی تھی۔
    ”آئے ہائے میرے بیٹے کی قسمت میں طلاقن ہی رہ گئی ہے۔”
    بھابی کی بات نے شمیم بیگم کو ہکا بکا کر دیا تھا۔ اُسے یقین ہی نہیں آیا تھا کہ یہ بات اُس کی بھابی نے کہی جو شہربانو کو بہو بنانے کے لیے کبھی ترلے منتیں کیا کرتی تھی۔شمیم بیگم کو اُس دن احساس ہوا تھا کہ کسی لڑکی کی ساری خوبیاں صرف ایک لفظ پس پشت ڈال دیتا ہے۔ طلاق کا لفظ۔
    شمیم بیگم نے کسی رشتہ کروانے والی سے شہربانو کے لیے کوئی لڑکا ڈھونڈنے کو کہا اور رشتے والی چالیس سالہ لڑکے کا رشتہ لے آئی جو تین بچوں کا باپ تھا۔ولی احمد اس رشتے کا سُن کر جیسے حواس باختہ ہو گیا۔ وہ زور زور سے چلایا ،شمیم بیگم کے ساتھ جھگڑا کیا ،شمیم بیگم نے ڈرتے ڈرتے رشتے والی کو واپس بھیجا اور کوئی اور رشتہ ڈھونڈنے کو کہاتھا۔
    رشتے والی اور جتنے بھی رشتے لائی وہ سب ایسے ہی تھے۔ شادی شدہ بچوں کے باپ… ولی احمد اس سارے تماشے سے تنگ سا آگیا۔ آخر کار اُس نے دوٹوک اپنا فیصلہ سُنادیا تھا:
    ”میری بیٹی بوجھ نہیں مجھ پہ ،اس گھر میں کس چیز کی کمی ہے۔ آج کے بعد اس گھر میں شہر بانو کی شادی کی بات نہیں ہو گی۔”
    اور اُس دن کے بعد واقعی ہی شہر بانو کی شادی کی بات نہیں ہوئی۔ سب جیسے مطمئن سے ہو گئے۔ چند ماہ گزرے تھے جب شہربانو نے باپ سے کہا تھا:
    ”ابا جو آخری رشتہ آیا تھا،مجھے اُس پر کوئی اعتراض نہیں۔”
    شہربانو کی بات مکمل نہیں ہوئی تھی۔ ولی احمدکی آنکھوں میں آنسوآگئے۔ بیٹی خود کو بوجھ محسوس کررہی تھی۔
    ”بانو تو اپنے باپ پر بوجھ نہیں ہے۔”
    ”مگر ابا!” اُس نے کہنا چاہا تھا، مگر ولی احمد نے روک دیا۔
    ”اس گھر میں کس چیز کی کمی ہے ،روٹی ؟پانی ؟ کپڑا؟ ” ولی احمد پوچھ رہا تھا اور وہ سوچ رہی تھی کہ کاش وہ بتا سکتی۔
    ”اس گھر میں کس چیز کی کمی تھی ویسے؟”
    ولی احمد ٹھیک ہی تو تھا۔سب کچھ تھا ،روٹی ،پانی کپڑا،سب اُس پر جان وارتے تھے۔
    یہی سب تو چاہیے زندگی بسر کرنے کے لیے۔
    ہاں اور کیا تھا؟
    سب کچھ تو تھا۔
    ٭…٭…٭




  • قصّہ اُس حویلی کا — سارہ عمر

    گاڑی کے ٹائر چرچرائے اور زور دار دھماکے کی آواز آئی۔ شاید ٹائر پھٹ گیا تھا اور گاڑی سنبھالتے سنبھالتے بھی سامنے والے پر چڑھ گئی۔ اس نے زور دار چیخ ماری۔ وہ اسے مارنا نہیں چاہتا تھا، مگر سفید لباس میں ملبوس وہ انسان، اس کی گاڑی کے نیچے آگیا تھا۔ ایک دم گاڑی کی ونڈو اسکرین پر خون کی بارش ہونے لگی۔ تیز خون کی بارش کے ساتھ اولوں کی طرح پتھر بھی تھے جو گاڑی کی ونڈ اسکرین کو توڑ رہے تھے۔ وہ چیخیں مار مار کر بے ہوشی کی وادی میں اتر گیا۔
    ٭…٭…٭
    ”یار! میرے پاس ایک آئیڈیا ہے۔ سچ بتا رہا ہوں، بوریت دور ہوجائے گی۔” احمد نے چٹکی بجا کر کہا۔
    ایف ایس سی کے پیپرز کے بعد تینوں ہی فارغ تھے اور ان کا یہ پہلا ہفتہ تو برُی طرح بور گزرا۔
    ”کیا ہے؟ بول بھی دو۔” نوید نے بے زاری سے کہا۔
    ”سنو گے تو داد دو گے میری ذہانت کی۔”
    احمد کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ احمد نے دونوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کے سرگوشی کرتے ہوئے کچھ کہا وہ دونوں سُن کر ایسے پیچھے ہٹے جیسے بچھو نے کاٹ لیا ہو۔
    ”پاگل ہوگیا ہے کیا؟ کیوں جیتے جی مروائے گا؟” نوید نے کانوں کو ہاتھ لگاکر کہا، جب کہ شرجیل کے چہرے پر ایک رنگ آ اور ایک جارہا تھا۔
    ”تجھے مذاق سوجھ رہا ہے؟ پتا ہے میرے گھر میں تو اِس بات کا ذکر بھی ممنوع ہے۔ پاپا نے مجھے سختی سے منع کیا ہے، آج سے نہیں، بچپن سے۔” شرجیل کی بات سن کر اس نے قہقہہ مارا۔
    ”تُو تو ازل سے ہی بزدل ہے نوید، تجھ سے یہ امید نہیں تھی۔ یار زندگی میں کوئی تھرل، کوئی ایڈونچر بھی ہوناچاہیے۔” احمد خوب شوخی میں تھا۔
    ”اتنا شوق ہے خودکشی کرنے کا تو وہ نئی گیم کھیل لے نا، نیلی مچھلی والی۔” شرجیل نے چڑ کرکہا۔
    ”لو! میں نے کب کہا کہ مجھے خود کشی کرنے کا شوق ہے۔” احمد خوب بدمزہ ہوا۔
    ”یہ کام بھی خود کشی کے برابر ہی ہے۔ مجھے تو بچنے کے چانسز بھی نظر نہیں آتے۔” نوید نے بھی شرجیل کا ساتھ دیا۔
    ”اچھا خاصا پروگرام بنارہا تھا، فضول میں سب ستیاناس کردیا۔ ویسے مزہ بہت آنا تھا۔” احمد کو غصہ آنے لگا۔
    ”تجھے پتا تو ہے کہ میرے بابا سنتے ہی نہیں۔” شرجیل نے دلیل دی۔
    ”تو تجھے کہہ کون رہا ہے ان کو بتا کے جا ؟ بڑا ہوگیا ہے، اب اپنا کوئی کام خود بھی کرلے۔ کہہ دے کہ دوستوں کے ساتھ مری جارہا ہوں۔ ادھر کا بتانا ضروری ہے؟” احمد ہر صورت اسے راضی کرنا چاہتا تھا۔
    ”اچھا سوچتا ہوں، ویسے میرا دل نہیں مانتا۔” وہ اب بھی راضی نہیں تھا۔
    ”چل نوید! ہم پیکنگ کرلیتے ہیں۔” احمد نے کن انکھوں سے دیکھا۔





    ”نہیں! میں آجاؤں گا۔” شرجیل نے ہتھیار ڈال ہی دیے تھے۔ اتنے دن اسے دوستوں کے بغیر سانس کیسے آنی تھی؟ خیر، سانس تو اب ادھر جاکے بھی نہیں آنی تھی۔
    شرجیل، احمد اور نوید کی بہت پکی اور پرانی دوستی تھی۔ احمد اور شرجیل کزن تھے، لیکن برسوں پہلے کسی بزنس ڈیل کی وجہ سے دونوں گھروں میں کافی جھگڑا ہوگیا تھا اور اب دونوں کا ایک دوسرے کے گھر میں آنا جانا ختم ہوگیا تھا۔ بڑوں میں تو اختلافات ہوگئے لیکن بچوں کی دوستی نہ ٹوٹ سکی تھی۔ ان کی دوستی بہ دستور پہلے جیسی ہی تھی۔ کبھی خوشی غمی کے موقع پر ان کے والدین کی ملاقات ہو بھی جاتی تو دنیا کے دکھاوے کو رسمی سلام دعا ہی کرتے، ورنہ ایک دوسرے کی شکل بھی نہ دیکھتے۔ رشتے داروں نے ان کے والدین کو بتایا تھا کہ ان کے بیٹوں میں اب بھی دوستی قائم ہے۔ احمد کے والد نے تو اسے کچھ نہ کہا، مگر شرجیل کے پاپا نے تنبیہ کرتے ہوئے کہا۔
    ”تم احمد کے ساتھ کھاؤ پیو، اٹھو بیٹھو جو مرضی کرو، میں منع نہیں کروں گا، مگر کان کھول کے سن لو، کبھی اس حویلی کا نام مت لیتا۔”
    ”ایسا بھی کیا ہے وہاں؟” وہ متجسس ہوا تھا، مگر ان کے خاندانی مالی نے بتایا تھا کہ وہ بہت پُراسرار حویلی ہے۔ اس کی کہانی بھی بڑی دل چسپ تھی۔
    پرانی طرز کی بنی ہوئی قدیم حویلی، ملک اسفند یار کی ملکیت اور نتھیا گلی میں واقع تھی۔ برسوں پہلے اسفند یار نے بہت بڑی اراضی پر حویلی تعمیر کروائی تھی۔ پاکستان بننے کے بعد اسفند یار ہجرت کرکے آئے تو انہیں کلیم میں کافی اراضی ملی تھی۔ اس حویلی کے بعد، انہوں نے بیٹوں کے لیے تین گھر اسلام آباد میں بھی بنوائے۔ اب وہ تینوں انہی گھروں میں رہتے ہیں۔ کامران، سفیان اور فرحان، اسفند یار کے بیٹے تھے۔ وہ تینوں چھوٹے ہی تھے جب اسفندیارفیملی سمیت اسلام آباد شفٹ ہوگئے۔ وہ اپنی زندگی میں اکثر حویلی میں آتے جاتے رہتے۔ خوب رونق لگتی اور بڑی شاہانہ دعوتیں ہوتیں، لیکن اسفند یار کی وفات کے بعد تینوں بیٹوں نے حویلی جانا کم کردیا۔
    کامران اور سفیان اکثر حویلی چکر لگا لیتے تھے۔ ابھی صرف کامران کی ہی شادی ہوئی تھی۔ سفیان اور فرحان میں دس سال کا وقفہ تھا۔ فرحان بہت ہی لاابالی سانوجوان تھا جسے پڑھائی، نوکری، زمین اور نظام وانتظام سے کوئی غرض نہ تھی۔ بس دوستوں کے ساتھ گھومنا اور کھانا پینا ہی اس کی زندگی کا مقصد تھا۔ کامران نے تنگ آکر سفیان کے ساتھ ساتھ فرحان کی شادی بھی کردی کہ شاید وہ سدھر جائے، مگر اس کا لااُبالی پن ختم ہوا اور نہ ہی دوست چھوٹے تھے۔ہاں تھوڑی بہت تبدیلی ضرور آئی تھی۔ دونوں بھائیوں کے بچے بھی ساتھ ساتھ ہی ہوئے تھے۔ سب کچھ صحیح چل رہا تھا جب اچانک ایک واقعہ ہوا جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا۔
    سفیان اور فرحان نے بات چیت چھوڑ دی اور غیر آباد پڑی حویلی مزید ویران ہوتی گئی۔ صرف ایک چوکی دار ہی اپنی فیملی کے ساتھ وہاں رہ رہا تھا۔ کامران اور سفیان نے حویلی کی ملکیت اپنے نام کروا کے باقاعدہ طور پر فرحان کو اس حویلی کا حصہ دے کر بے دخل کردیا۔ فرحان کو اس حویلی سے کوئی غرض نہ تھی، سو اس اقدام سے بھی کوئی فرق نہ پڑا۔ وہ اپنا حصہ پا کر خوش تھا۔
    سفیان اور کامران نے حویلی ایک ہوٹل کو کرائے پر دے دی، لیکن پہلے ہی ماہ کمرے سے پراسرار طور پر دو لڑکوں کی لاشیں ملیں۔ یہ بہت عجیب بات تھی۔ دوسرے ماہ، ایک لڑکے نے کھڑکی سے کود کر خود کشی کرلی۔ اس واقعہ کے بعد لوگوں نے یہ یقین کرلیا کہ وہاں ماورائی مخلوق کا بسیرا ہے۔
    ہوٹل کی ساری ساکھ ختم ہوگئی۔ بالآخر ہوٹل کی انتظامیہ نے وہ حویلی خالی کردی۔ زیادہ تر لوگ اس ویران پڑی حویلی کو ”پُراسرار حویلی” کہنے لگے۔
    سفیان اور کامران چھٹیوں پر اکثر وہاں جاتے تھے، مگر ان لوگوں کو وہاں کبھی ڈر نہیں لگا۔ ایک مرتبہ احمد بھی کچھ دن حویلی میں رہ کر گیا تھا۔ اس حویلی میں فیملی کے ساتھ دو تین دن اسے بہت ہی مزہ آیا تھا ۔ اس لیے احمد چاہتا تھا کہ نوید اور شرجیل بھی اس کے ساتھ چلیں۔ اس کے نزدیک حویلی میں کچھ بھی نہیں تھا، صرف لوگوں کی اُڑائی ہوئی باتیں تھیں۔
    ٭…٭…٭
    ”احمد! تو ضد تو کررہا ہے اور مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔” شرجیل نے رو دینے والے لہجے میں کہا تو احمد اور نوید دونوں کو ہی ہنسی آگئی۔
    ”تو پاگل ہے، بس اور کچھ نہیں۔ مرد بن مرد۔” احمد نے اس کی مردانگی جگانے کی کوشش کی۔
    ”یار! تم دونوں کے تو اور بہن بھائی ہیں، لیکن میں اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا ہوں۔ کیوں مجھے موت کے کنویں میں دھکیل رہے ہو؟” شرجیل سامان رکھتے ہوئے بھی منمنانا رہا تھا۔
    ”ایسے بول رہے ہو، جیسے ہم تمہیں کنویں کی منڈیر سے دھکا دے کے واپس آگئے ہیں۔ خود بھی تو اس پُراسرار گھر میں مرنے جارہے ہیں۔” نوید نے مذاق کرتے ہوئے کہا۔ سارا سامان پیک کرلیا گیا تھا اور وہ لوگ نوید کے گھر سے روانہ ہورہے تھے۔ نوید نے گھر بتا دیا تھا کہ وہ احمد کی پرانی حویلی جارہے ہیں، لیکن احمد اور شرجیل نے اپنے گھروں میں صرف مری جانے کا ہی بتایا تھا۔ ظاہر ہے، حویلی میں قیام کی اجازت انہیں گھر والے کیسے دیتے۔
    انہیں نکلتے نکلتے سہ پہر ہوگئی۔ احمد نے بابا کی ڈائری سے نذیر چوکی دار کا نمبر لے لیا تھا، لیکن اسے آنے کی اطلاح نہیں کی تھی۔ یہ بھی ایک ایڈونچر تھا۔ احمد نے گاڑی شرجیل کے حوالے کردی کیوں کہ شرجیل کی ڈرائیونگ اچھی تھی۔
    وہ ابھی گاڑی چلانا شروع ہی ہوا تھا کہ گاڑی زوردار جھٹکے کھانے لگی۔ جیسے کوئی اسے اچھال رہا ہو۔ اس نے گاڑی بندکرکے دوبارہ اسٹارٹ کی تو وہ صحیح چلنے لگی۔ وہ تینوں مطمئن ہوگئے۔ پانچ منٹ کی مسافت کے بعد، شرجیل کی گاڑی کے سامنے کوئی آیا تھا کہ اس نے تیزی سے گاڑی موڑی۔ سڑک زیادہ کشادہ نہ ہونے کے باعث گاڑی درخت سے جالگی۔
    ”پاگل ہوگیا ہے؟” گاڑی درخت سے ٹکرانے کے بعد نوید نے غصے سے دہاڑ کر کہا۔
    ”یار! میرے سامنے بطخ آگئی تھی۔” شرجیل حواس باختہ سا ہوکر بولا تو وہ دونوں اس کا منہ دیکھنے لگے۔
    ”دن میں تارے دکھ رہے ہیں کیا؟” وہ دونوں ہی حیران تھے، مگر وہ یقین دلاتا رہا۔ نقصان کم ہی ہوا تھا، بس ٹائر پنکچر ہوگیا تھا۔ اب راستہ بھی تھوڑا تھا۔ احمد نے ٹائر تبدیل کرکے دوبارہ سے سیٹ سنبھال لی۔ خدا خدا کرکے وہ حویلی پہنچ گئے۔
    بڑا سا فولادی کا دروازہ لیے وہ نہایت خوب صورت قدیم سفید حویلی، درختوں اور جھاڑیوں کے بیچ عجیب پُراسرار سا منظر پیش کررہی تھی۔ شرجیل کا دل تو حلق میں آگیا تھا۔
    احمد نے چوکی دار کو کال ملائی، نمبر بند جارہا تھا۔
    ”اُف کیا مصیبت ہے؟” احمد نے جھلا کر موبائل جیب میں ڈالا۔
    ”کوئی ہے؟” وہ دروازہ پکڑ کے زور سے چلایا۔ دروازہ چرچراہٹ کے ساتھ کھلتا چلا گیا۔
    ”اندر آجاؤ۔” کسی آواز نے انہیں چونکا دیا، لیکن وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ ان تینوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور گاڑی میں بیٹھ کے حویلی کے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوگئے۔ دونوں طرف جھاڑیوں اور درختوں کی قطار تھی جو اندھیرے میں ڈوبی ہوئی تھی، صرف حویلی کے مرکزی دروازے پر لائٹ جل رہی تھی۔ وہ وہاں پہنچنے تو چوکی دار سامان اتارنے کھڑا تھا۔
    ”نذیرتم؟ تمہیں ہمارے آنے کا کس نے بتایا؟” احمد حیران ہوا تھا۔
    ”اطلاع مل گئی تھی۔” وہ اتنا کہہ کر سامان اتارنے لگا۔
    ”یہ… یہ دروازہ کس نے کھولا؟” شرجیل تو خوف سے باہر ہی نہیں نکل پارہا تھا۔
    ”میں نے ہی کھولا ہے۔ آجائیں، کمرے تیار ہیں۔” نذیر آگے چل کے راستہ دکھانے لگا۔
    ”نذیر! ہم ایک ہی کمرے میں رہیں گے، الگ الگ نہیں۔” احمد نے کہا، تو شرجیل نے سکھ کا سانس لیا۔
    کمرا صاف ستھرا تھا۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے لوگ ادھر آتے جاتے رہتے ہیں۔ حالاں کہ یہ وہ ریسٹ روم نہیں تھا جس میں احمد اپنی فیملی کے ساتھ ٹھہرا تھا۔ یہ کمرا اسے بہت الگ لگا۔ نہ جانے کیوں؟
    ”نذیر! کچھ کھانے کا بندوبست کرو، پھر ہم سوئیں گے۔” احمد نے کہہ کر دروازہ اندر سے بند کرلیا۔ یہ بڑا سا ہال کمرا تھا جس کی ایک کھڑکی باہر لان کی طرف کھلتی تھی۔ ایک طرف واش روم تھا۔ تین سنگل بیڈ، سائڈ ٹیبل کے ساتھ لگے ہوئے تھے۔ ایک طرف چھوٹی سی میز کے ساتھ تین کرسیاں رکھی تھیں۔ احمد کو حیرت ہوئی، تین بیڈ اور تین کرسیاں۔آخر تین ہی کیوں؟ اس کی فیملی کو جو کمرا ملا تھا، اس میں تو ماسٹر بیڈ تھا۔ وہ الجھ کے رہ گیا۔
    ”میں فریش ہوکر آتا ہوں۔” احمد منہ ہاتھ دھو کے نکلا، تو شرجیل کافی حد تک سنبھل چکا تھا۔
    شرجیل بھی اٹھ کر واش روم کی طرف بڑھ گیا۔ صاف ستھرا ٹائلوں والا واش روم دیکھ کے لگتا نہیں تھا کہ یہ کوئی پرانی حویلی ہے۔ اس نے نلکا کھولا تو بے اختیار بدبو کا بھبکا سا اٹھا۔ اس نے بے اختیار اپنا ہاتھ ناک پر رکھا اور ہاتھ نل کے نیچے کیا، تو اسے لگا کہ کسی نے تیزاب پھینک دیا ہو۔ شرجیل نے اپنے ہاتھ کی طرف دیکھا تو وہ خون سے بھرا ہوا تھا۔ اُس نے آنکھیں پھاڑے نلکے کی طرف دیکھا، تو وہاں سے پانی کی جگہ سُرخ خون نکل رہا تھا جس نے اس کا ہاتھ جلا دیا۔ شرجیل چیخ مار کر مڑا تو کسی سے ٹکرا گیا۔ لمبے بال کھولے ایک لڑکی جس کے منہ پر جگہ جگہ خون لگا تھا، اسے دیکھ کر ہنس رہی تھی۔ وہ چیخیں مارتا ہوا دروازے سے باہر نکلا۔ اس کی چیخیں سن کے وہ دونوں اس کی طرف بھاگے۔
    ”کیا ہوا؟ کیا ہوا؟” وہ دونوں ہی اس آفت پر حیران و پریشان تھے۔
    ”میرا ہاتھ، میرا ہاتھ۔” اس کے ہاتھ بالکل ٹھیک تھے، مگر وہ چلائے جارہا تھا۔
    ”اُف! جل گیا میرا ہاتھ۔” وہ خوف سے باقاعدہ کانپ رہا تھا۔ موسم سرد ہونے کے باوجود اس کی پیشانی پسینے سے تر تھی۔
    ”ہوا کیا ہے؟” ان دونوں نے اسے جھنجوڑا۔ اس نے آنکھیں کھول کے اپنا ہاتھ دیکھا، تو خود بھی حیران رہ گیا۔وہ بالکل ٹھیک تھا۔
    ”میرا ہاتھ! وہ نلکے سے خون آرہا تھا۔”وہ باتھ روم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اٹک اٹک کر بولا۔
    اس کی بات پر دونوں کی ہنسی کا فوارہ چھوٹ گیا۔انہیں لگا وہ انہیں ڈرانے کی کوشش کررہا ہے۔
    ”ہمیں بے وقوف بنا رہا ہے؟ چل! میں دوبارہ واش روم جاتا ہوں ۔” واش روم ویسا ہی تھا۔ وہ دروازہ بند کرکے دو منٹ اندر کھڑا رہا۔ اسے کچھ بھی ایسا ویسا محسوس نہ ہوا۔
    ”میں واش روم نہیں جاؤں گا۔” احمد نے اسے باہر آکر بتایا، تو شرجیل نے ویسے ہی ڈرے ڈرے انداز میں کہا۔
    ”ٹھیک ہے! باہر جھاڑیوں میں چلے جانا۔” احمد نے اس کا مذاق اڑایا۔ نوید بھی واش روم سے ہو آیا، تو احمد نے نوید کی طرف دیکھا۔ شرجیل اس کا اشارہ سمجھ گیا تھا۔ وہ دونوں اسے ڈرپوک اور جھوٹا سمجھ رہے تھے۔
    کھانا بھی خاموشی سے کھایا گیا۔ کھانے کے بعد وہ سونے کی تیاری کرنے لگے۔ شرجیل کو درمیان والا بیڈ دیا گیا تاکہ اگر دونوں طرف سے چڑیل آئے تو شرجیل کا نمبر بعد میں آئے۔ اس فیصلے سے شرجیل کو اطمینان ہوا، مگر یہ دیرپا نہیں تھا۔
    لائٹ بند ہوتے ہی شرجیل نے کمبل منہ تک اوڑھ لیا۔ پانچ منٹ بعد اسے لگا کہ کوئی اس کے پاؤں کا انگوٹھا مسلسل ہلا رہا ہے۔ اسے لگا شاید یہ اس کا وہم ہو، مگر انگوٹھا مسلسل ہل رہا تھا۔ کوئی اسے انگوٹھا پکڑ کر ہلا رہا تھا۔ وہ جی کڑا کیے لیٹا رہا۔
    ”شرجیل!” کوئی آہستہ سا اس کے کان میں بولا، تو اس نے دھیرے سے منہ کمبل سے ہٹایا۔ یک دم کوئی اس کے اوپر بیٹھ کر اس کا گلا دبانے لگا۔ اس کے گلے سے غرانے کی آوازیں نکلنے لگیں جسے سن وہ دونوں چونک گئے۔ احمد نے جلدی سے لائٹ آن کی تو شرجیل آنکھیں بند کیے، اپنے گلے سے کسی نادیدہ شے کو ہٹانے کی کوشش کررہا تھا۔ دونوں نے شرجیل کو پکڑ کر زور سے جھنجھوڑا تو وہ ہوش میں آیا۔
    ”چھوڑو مجھے؟” یہ کہہ کروہ بے ہوش ہوگیا۔ ساری رات وہ لائٹ جلا کر اس کے سرہانے بیٹھے رہے۔ وہ کبھی سوتا، کبھی اٹھتا، تو کبھی بے ہوشی میں ڈر کر عجیب عجیب سی آوازیں نکالتا۔ اس کا رویہ ان دونوں کے لیے بہت عجیب تھا۔ ڈرپوک تو وہ تھا ہی، مگر اتنا بھی نہیں۔
    صبح ہوئی تو انہوں نے سکھ کا سانس لیا۔
    ”چل بیٹا! صبح ہوگئی ہے۔ اب تُو بیٹھ، ہم زرا آرام کرلیں۔ اب تو نہیں ڈرے گا نا؟” نوید نے بستر پر لیٹے لیٹے نیند سے چور آنکھوں سے کہا۔
    ”میں رات کو تو نہیں ڈرا تھا۔” وہ منمنایا۔
    ”وہ تو ہم ڈرے تھے۔” احمد نے چڑ کرکہا اور موبائل پہ الارم لگا کر سوگیا۔ وہ حیرانی سے ان دونوں کو دیکھنے لگا۔
    آدھے گھنٹے بعد کسی نے دروازہ کھٹکایا اس نے سوچا کہ نذیر ہوگا اور دروازہ کھول دیا۔
    دروازہ کھلتے ہی یخ بستہ ہوا کا جھونکا اس کے منہ سے ٹکرایا۔ چہرے کے آگے بڑا سا گھونگھٹ کیے اورٹرے پکڑے وہ کوئی لڑکی تھی۔
    ”بابا نے بھیجا ہے۔” یہ کہہ کر اس نے گرم گرم ناشتا کمرے میں داخل ہوکر میز پر رکھ دیا۔ چہرے کے آگے تو گھونگھٹ تھا، البتہ آدھی آستین کی چولی سے اس کے گورے بازو دکھائی دے رہے تھے جن میں اس نے کانچ کی چوڑیاں پہنی ہوئی تھیں۔ گھیرے والے لہنگے کے نیچے سے اس کے گورے پاؤں بھی نمایاں تھے جن میں پہنی پائل، چلنے سے چھن چھن کی آواز دے رہی تھی۔
    ”پھر ملنا۔” وہ سرگوشی کرتی باہر نکل گئی تو وہ ہوش میں آیا۔ نہ جانے نذیر نے اسے کیوں بھیج دیا؟ شرجیل میز پر بیٹھا اور گرم گرم ناشتا دیکھ کر ہاتھ نہ روک سکا۔
    کھانا بہت لذیذ تھا۔ وہ باقی ناشتا ڈھک کر بستر پر لیٹ گیا۔ اسے اب پھر سے نیند آرہی تھی۔ اس کی آنکھ کسی کے لمس سے کھلی تھی۔ کوئی اس کے بالوں میں ہلکی ہلکی انگلیاں پھیر رہا تھا۔




  • خزاں کے پھول — محمد طاہر رفیق

    خزاں کے پھول — محمد طاہر رفیق

    میں ہرے بھرے کھیتوں کے درمیان ایک پگڈنڈی پر چلا جا رہا تھا۔ہر سو خزاں کا راج تھا۔
    چاروں طرف ہرے بھرے کھیت تھے لیکن ان کی حد پر لگے درخت ٹنڈ منڈ حیران و افسردہ کھڑے تھے۔ اداس اور پریشان، جیسے کسی کے گھر میت کا پرسہ دینے آئے ہوں۔ ان سے بچھڑے ہوئے سوکھے پتے میرے پاؤں کے نیچے آکر ہلکا سا احتجاج کرتے او ر پھر خاموش ہو جاتے۔
    مجھے ہمیشہ سے خزاں کا موسم بہت پسند تھا اور پھر خزاں کے بعد زندگی کی نوید سناتی بہار بھی۔ جب ٹنڈ منڈ درختوں اور بے جان ٹہنیوں سے ننھے ننھے شگوفے پھوٹتے تھے۔
    خزاں ہر بار کی طرح اس بار بھی غمگین، اداس اور پریشان لگ رہی تھی جیسے کوئی اپنے بچپن کے سنگی ساتھی کے بچھڑنے پر اداس ہوتا ہے۔
    میں کل رات ہی دو سال کے بعد د یارِ غیر سے وطن لوٹا تھا۔ اب صبح کی نماز کے بعد قبرستان جا رہا تھا۔ اسی قبرستان میں جہاں دادا جی، دادی جان اور اب میری پیاری امی جان بھی منوں مٹی کی چادر اوڑھے لیٹی تھیں اور بہت سارے دوسرے لوگوں کے ساتھ اپنا ایک الگ جہاں بسائے کب سے وہیں مقیم تھیں۔
    صبح کے ملگجے اجالے میں ہلکی ہلکی خنکی کی لہر تھی۔ کھیتوں میں لگی فصلوں پر شبنم کی چادر بچھی تھی۔ دور کھیتوں کے کنارے لگے بڑے بڑے درخت کسی خوفناک دیو کے مانند لگ رہے تھے۔
    آج امی جان کو ہم سے بچھڑے چار سال اور کچھ دن ہوگئے تھے۔ میں جب تک پاکستان میں تھا تو تقریباً روزانہ ہی ان کی قبر پر جا کر فاتحہ پڑھتا تھا۔ کبھی کبھار ہی اس عمل کا ناغہ ہوتا۔
    آج اتنے عرصے بعد جاتے ہوئے مجھے بہت عجیب لگ رہا تھا، جیسے کوئی اپنے بہت عزیز سے ملنے جا رہا ہو اور وہ عزیز آپ سے خفا ہو یا روٹھا۔ اس وجہ سے کہ اتنے عرصے بعد کیوں آئے ہو؟
    انہی سوچوںاور خیالوں میں غلطاں میں قبرستان آگیا تھا۔ میں نے دعا پڑھی اور امی جان کی قبر کی طرف بڑھنا شروع کیا۔ گو کہ ان دو سالوں میں امی جان کے ہمسایوں کی تعداد میں بہت اضافہ ہو گیا تھا، لیکن میں پھر بھی آسانی سے ان کی قبر تک پہنچ گیا تھا۔میں نے جونہی ان کی قبر کی طرف نگاہ کی تو حیران و پریشان رہ گیا۔
    …٭…





    امی جان فردوس خالہ کے گھر گئیں تھی اور میں انہیں لینے گیا تھا۔ وہ دروازے تک آ کر پھر اندر کی طرف پلٹ گئیں۔ پھر جب پانچ سات منٹ کے بعد آئیں تو ان کے ہاتھ میں سدا بہار کے چند پودے جڑوں سمیت دیکھ کر میں بولے بنا نہ رہ سکا:
    ”امی جان! آپ کہیں بھی جاتی ہیں تو واپسی پر لازمی سدا بہار کا پودا آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔ لگتا ہے پورا کھیت لگانا ہے۔”
    ”بیٹا کیا کروں جتنا مجھے یہ سدا بہار کے پھول پسند ہیں اتنا ہی یہ میرے آنگن سے خفا رہتے ہیں۔ لگتا ہے انہیں میرے آنگن کی مٹی راس نہیں آتی۔”
    انہوں نے ایک پیار بھری نظر سدا بہار کے پھولوں والی شاخوں پر ڈالی اور پھر بولیں۔
    ”اور کھیت کی بات بھی خوب کہی تم نے۔ ویسے اب تک میں جتنے پودے لگا چکی ہوں وہ سب کے سب لگ جاتے تو کسی کھیت سے بھی زیادہ ہوتے۔”
    امی جان نے ایک ٹھنڈی آہ بھری۔
    گھر آتے ہی امی جان بھوک پیاس کی پروا کیے بغیر پودے لگانے جت گئیں اور میں ٹھنڈا پانی پی کر اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا۔
    …٭…
    شام کو میں سو کر اٹھا تو امی جان دن کو لگائے ہوئے پودوں کو پانی دے رہی تھیں۔
    شاید ہفتہ گزرا ہوگا کہ میری نظر ان نئے لگائے پودوں پر پڑی تو وہ پتوں اور پھولوں سمیت مرجھائے پڑے تھے۔
    کچھ دن بعد امی جان دوبارہ سدا بہار کے پودے دوسری کیاری میں لگا رہی تھیں۔ یہ پودے بھی شاید وہ اپنی کسی سہیلی کے گھر سے لائی تھیں۔میرے پوچھنے پر بتایا کہ پہلے جو پودے لگائے تھے وہ مالٹے کے بڑے درختوں والی کیاری میں لگائے تھے۔ مجھے کسی نے بتایا ہے کہ بڑے درختوں کی جڑوں کی وجہ سے چھوٹے پودے وہاں پھلتے پھولتے نہیں۔ اسی لیے اب میں ان کو دوسری کیاری میں لگا رہی ہوں۔
    کچھ دن بعد ان پودوں کا بھی وہی حال تھا جو دوسرے پودوں کا ہوا تھا۔ اس بار پھر امی جان کا ارمان پورا نہ ہوا تھا۔
    اس بار امی جان کو اپنی ذاتی تحقیق سے پتا چلا کہ اس بار والے پودے پانی کی زیر زمین ٹینکی کے ساتھ والی کیاری میں لگائے گئے تھے اور یہی وجہ تھی کہ وہ بہت زیادہ نمی کی وجہ سے نمو نہ پا سکے اور جان کی بازی ہار گئے تھے۔
    خیر امی جان نے پھر بھی ہمت نہ ہاری اورکچھ ہفتے بعد جب بڑی باجی کا فون آیا ہوا تھا اور امی جان انہیں بھی کسی پودے کو اپنے ساتھ لانے کا کہہ رہی تھیں۔ پھر جب بڑی باجی آئیں تو اپنے ساتھ بہت سارے رنگوں کے سدا بہار کے پودے لائی تھیں۔ باجی نے اپنے سامان والے بیگ بعد میں کھولے اور امی جان کے سا تھ مل کر سدا بہارکے پودے لگانے بیٹھ گئی تھیں۔ اس بار امی جان اور باجی نے دوبارہ پہلے والی غلطی نہیں کی تھی بلکہ اس بار کے لائے گئے پودے بڑے بڑے مٹی کے گملوں میں میں لگائے گئے تھے۔
    اب کی بار کچھ دن رنگ برنگ پھولوں نے بہاردکھائی تھی۔ شاید اس بار محنت زیادہ ہوئی تھی یا گملوں کی وجہ سے، یا پھر کوئی اور وجہ تھی۔ لیکن کچھ دن تو وہ پودے ہرے بھرے رہے اور پھول بھی کھلے رہے۔
    امی جان ڈاکٹر کی دوائی کی طرح دن میں تین بار ان میں پانی ڈالتیں اور میرے چھوٹے بھائی سے دیسی کھادبھی منگوا کر ڈالتیں۔ امی جان کی تو جیسے عید ہوگئی تھی۔ وہ شام کی چائے انہی پھولوں والی جگہ بیٹھ کر پیتی تھیں اور محلے کی آئی گئی عورتوں سے گپ شپ بھی وہیں بیٹھ کر لگاتی تھیں۔
    دو تین ماہ تو ان پودوں نے بہار دکھائی پھر آہستہ آہستہ مرجھانے لگے۔ امی جان نے ہر ممکن طریقے سے انہیں بچانے کی کوشش کی لیکن ان کی کوشش کارگر ثابت نہ ہوئی۔
    اس کے بعد امی جان کئی دنوں تک اداس اداس پھرتی رہیں۔
    اس بار مجھ سے ان کی اداسی دیکھی نہ گئی۔ میں نے ایک اچھی نرسری سے سدا بہار کے مختلف رنگوں کے بیج اور کھاد خریدی اور ساتھ ہی ہر طرح کی احتیاطی تدابیر بھی ان سے پوچھیں۔
    گھر آکر امی جان کو خوشخبری سنائی کہ ایک بار پھر ان کا خواب شرمندۂ تعبیر ہونے والا تھا۔
    کئی گھنٹے لگا کر ہم نے گملوں کی پرانی مٹی نکال کر نئی مٹی اور کھاد تبدیل کی اور پھر کچھ دن ان میں پانی ڈال کر ان میں مناسب نمی آنے کا انتظا ر کرتے رہے۔ پھر کچھ دن بعد ہم نے ان میں بیج بو دیے۔




  • کفنی — خواجہ حسن نظامی

    کفنی — خواجہ حسن نظامی

    ”دلشاد گدگدیاں نہ کر مجھے سونے دے۔ نماز قضا ہوتی ہے، تو کیا کروں۔ آنکھ کھولنے کو جی نہیں چاہتا۔”
    بیوی: ”گدگدیاں میں نے نہیں کیں۔ یہ گلاب کا پھول تمہارے تلوؤں سے آنکھیں مل رہا ہے۔”
    ”میں اس پھول کو مسل ڈالوں گی۔ اتنی سویرے مجھے کیوں جگاتی ہے۔ میرا دل ابھی سونے کو چاہتا ہے۔ ذرا سندری کو بلا۔ بانسلی بجائے۔ ہلکے سروں میں بھیرویں سنائے۔ گل چمن کہاں ہے، چپی کرے، تو کوئی کہانی شروع کر۔”
    ”کہانی کہوں گی تو مسافر راستہ بھولیں گے۔ دن کو کہانی نہیں کہنی چاہیے۔ سندری حاضر ہے۔ گل چمن کو بلاتی ہوں، اماں جان آجائیں گی تو خفا ہوں گی کہ مہ جمال کو اب تک بے دار نہیں کیا، نماز کا وقت جاتا ہے۔”
    سندری بانسلی بجا رہی تھی کہ مہ جمال نے آنکھیں کھول دیں۔ بالوں کو سمیٹا، مسکرائی، کلمہ پڑھا، نرگس نے سلام کیا۔ جواب میں اس کے ایک چٹکی لی گئی، انگڑائی لے کر اُٹھ بیٹھی اور کہا:
    ”دلشاد! ہم نے نرگس کے چٹکی لی، تو یہ ہنسی نہیں۔ منہ بنالیا۔ آ تو آ۔ تیرے کان مروڑوں اور تو خوب ہنس۔”
    دلشاد اٹھ کر بھاگی، دور کھڑی ہوئی اور کہا: لیجیے میں کھلکھلا کر ہنستی ہوں، آپ سمجھ لیجیے کان مروڑ دیے۔”
    مہ جمال نے پھر انگڑائی لی اور مسکراتی ہوئی طشت چوکی پر گئی۔ وضو کیا، نماز ادا کی، صحن میں نکلی، باغ کے پاس تخت پر بیٹھی، قرآن شریف شروع کیا۔ سب لونڈیاں فرش کی درستی میں مصروف ہوئیں، ناشتے کا سامان کرنے لگیں۔
    مہ جمال تلاوت سے فارغ ہوئی تو مالن چنگیر میں چند ہری مرچیں لیے حاضر ہوئی۔ پہلے مہ جمال کی بلائیں لیں، دعائیں دیں، پھر بولی: سرکار آج حضور کے لگائے ہوئے پودوں میں یہ مرچیں لگی تھیں۔ نذر کے لیے لائی ہوں۔
    مہ جمال نے چنگیر لے لی۔ سب لونڈیوں کو پکارا اور مرچوں کی آمد سے محل میں ایک دھوم مچ گئی۔ نرگس نے کہا ”کیسی ہری ہری چکنی صورت ہے۔” دلشاد بولی”جیسے بیوی کے گال۔” سندری نے کہا ”کیسی چپ چاپ چنگیر میں لیٹی ہیں، جیسے بیوی چھپرکھٹ میں سوتی ہیں۔ گل چمن بولی”ڈالی سے ٹوٹی ہیں، گھر سے چھوٹی ہیں، اس لیے ذرا چپ چپ ہیں۔”
    مہ جمال نے کہا ”مالن کو جوڑا دو، کپڑے پہناؤ، پانچ روپے نقد بھی دینا، میرے درختوں کا پہلا پھل لائی ہے، اس کا منہ بھی میٹھا کرنا۔”
    مالن کو ریشمی جوڑا ملا۔ چاندی کے کڑے پہنائے گئے۔ لڈو کھلائے گئے۔ پانچ روپے نقد اور ایک پان کا بیڑا ملا۔ وہ دعائیں دیتی ہوئی اپنے گھر گئی۔ یہاں اماں جان کو لونڈی خبر دینے پہنچی کہ بیوی کے درختوں کا پہلا پھل آیا ہے۔ وہ برابر کے مکان سے آئیں۔ مغلانی ساتھ تھیں بیٹی کی بلائیں لیں۔ مہ جمال نے آداب کیا۔ اماں اور مغلانی نے مرچوں کی خوب تعریفیں کیں اور تھوڑی دیر تک مرچوں کا غلغلہ گھر میں برپا رہا۔





    مہ جمال خورشید جمال کی اکلوتی بیٹی تھی۔ اس کے والد میرزا نیلی شاہ عالم کے بیٹے اکبر شاہ ثانی کے بھائی تھے جو مرچکے تھے۔ خواصوں سے ان کے کئی بیٹے تھے مگر بیگم سے صرف مہ جمال ایک لڑکی پیدا ہوئی تھی اور وہ بھی بڑھاپا جانے کے بعد۔ جب میرزا نیلی مرے ہیں تو مہ جمال کی عمر پانچ سال تھی۔ اب ماشا اللہ پندرہویں سال میں ہے۔ صورت سانولی ہے، چہرہ کتابی ہے، قد میانہ ہے، آنکھیں سیاہ اور بے حد رسیلی اور مخمور ہیں۔ آواز میں قدرتی درد ہے۔ جب ہنس کے بولتی ہے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ کوئی مرثیہ پڑھا گیا۔ سن کر کلیجے پر چوٹ لگتی ہے۔ وہ بہت چنچل، شوخ، آرام طلب اور نازک مزاج ہے۔ لاڈ پیار میں پلی ہے۔ شہزادی ہے، بن باپ کی اکلوتی ہے اور کچھ فطرتاً ضدی اور ہٹیلی ہے۔ بدن بہت دبلا ہے۔ چلتی ہے تو غیر مصنوعی انداز سے بدن کو جھکاتی، پھولوں کی ٹہنی کی طرح اِدھر اُدھر جھکولے کھاتی ہے۔ ٹھوکر قدم قدم پر لگتی ہے۔ لونڈیاں ساتھ دوڑتی ہیں۔ بسم اللہ یا اللہ خیر کہتی جاتی ہیں۔
    پھول والوں کی سیر تھی۔ بہادر شاہ اپنے محل میں جو درگاہ حضرت خواجہ قطب صاحب کے دروازہ کے قریب بنا تھا، تشریف رکھتے تھے۔ بیگمات اندر تھیں، مگر خورشید جمال اور مہ جمال نے دوسرا مکان لیا تھا، کیوں کہ میرزا نیلی کے وقت سے ان کی اور بہادر شاہ کے ان بن تھی۔ بہادر شاہ کو انگریز لاکھ روپے دیتے تھے، اس میں سے ایک ہزار روپے مہینہ خورشید جمال کا علیحدہ بھیج دیا جاتا تھا۔ سستا سماں تھا، ہزار روپے آج کل کے لاکھ روپے کے برابر تھے اور خورشید جمال خوب عیش آرام سے زندگی بسر کرتی تھیں۔ جس شام کو پنکھا چڑھا۔ مہ جمال عصر کے وقت سے برآمدہ میں چلمن کے پاس بیٹھی تھی۔ نفیری بج رہی تھی۔ دہلی کے ہندو مسلمان زرق برق کپڑے پہنے پنکھے کے ساتھ تھے۔ دکانیں آراستہ تھیں، سقے کٹورے بجا رہے تھے۔
    مغرب کا وقت آیا تو خورشید جمال نے لونڈیوں سے کہلا بھیجا کہ پہلے آن کر نماز پڑھ لو پھر تماشا دیکھنا۔ مہ جمال اُٹھی تو چلتے وقت اس نے دیکھا اور ایک فقیر سفید کفنی پہنے، زرد چہرہ۔ ننگے سر، ننگے پاؤں، پنکھے کے پاس سے گزر کر اس کو دیکھتا ہوا چلا گیا۔ اس کی صورت اور کفنی دیکھ کر مہ جمال ڈر گئی۔ نماز میں بھی اسی کا خیال رہا۔ سیر سے فارغ ہوکر سوئی تو ہلکا ہلکا بخار تھا۔ ماں کو خبر ہوئی، اس نے کچھ پڑھ کر دم کیا۔ صندوقچہ سے ایک نقش نکال کر پیالے میں ڈالا، فقیروں کو خیرات بھجوائی۔
    دوپہر کو بخار تیز ہوگیا۔ مہ جمال چونکتی تھی اور کہتی تھی ”وہ کفنی والا آیا، وہ مجھ کو بلاتا ہے، اماں جی آنا وہ دیکھو کھڑا مسکراتا ہے۔”
    ماں نے لونڈیوں سے پوچھا۔ انہوں نے کہا: ایک فقیر کل شام کو کفنی پہنے جاتا تھا، بیوی نماز کے لیے اٹھیں تو چلمن کا پردہ ہٹ گیا۔ فقیر نے ان کو گھور کر دیکھا اور بیوی نے اس کو دیکھا۔ اس کے بعد وہ کہیں چلا گیا۔
    خورشید جمال نے نوکروں کو حکم دیا کہ اس حلیہ کا فقیر جہاں ملے اس کو لاؤ۔ نوکر سارے میلے میں ڈھونڈتے پھرے۔ شام کے قریب وہ ملا۔ اس کو ساتھ لے کر مکان پر لے آئے۔ خورشید جمال نے پردہ کے پاس بٹھا کر لڑکی کا حال کہا۔ وہ بولا مجھے اندر لے چلو میں دم کر دوں گا اچھی ہو جائے گی۔ خورشید جمال نے اندر پردہ کرادیا۔ فقیر کو پلنگ کے پاس کھڑا کیا۔ اس نے آنکھ بند کرکے دونوں ہاتھ اپنے رخساروں پر رکھے اور کچھ دیر چپ کھڑا رہا اور پھر کہا: ”لو لڑکی اچھی ہوگئی۔”
    دیکھا تو واقعی بخار اتر گیا تھا۔ مہ جمال اٹھ بیٹھی۔ خورشید جمال اور سب لونڈیاں حیران ہوگئیں۔ فقیر کو بٹھایا۔ کچھ روپے اور کپڑے کے دو تھان نذر کیے۔ فقیر نے کہا:
    ”یہ میں نہیں لیتا، مجھے لڑکی کی صورت دکھا دو، ورنہ پھر بیمار ہو جائے گی۔”
    خورشید جمال نے پہلے تو کچھ تامل کیا، پھر خیال آیا کہ فقیر تو ماں باپ ہوتے ہیں، پردہ ہٹایا۔ مہ جمال نے فقیر کو دیکھا اور سر جھکا لیا۔ فقیر نے مہ جمال کو دیکھا اور برابر دیکھتا رہا۔ کچھ دیر کے بعد ”بھلا ہو بابا” کہہ کر اٹھا اور چلا گیا۔
    یہ تیس برس کا جوان تھا، مگر بیمار معلوم ہوتا تھا۔ چہرے پر زردی بہت زیادہ تھی۔ سفید کفنی کے سوا کوئی کپڑا پاس نہ تھا۔ آنکھیں ایسی معلوم ہوتی تھیں گویا روتے روتے سوج گئی ہیں۔
    یہ شخص اس مالن کا بیٹا تھا جو مہ جمال کے باغ کی محافظ تھی۔ مہ جمال کو ایک سال پہلے اس نے باغ میں دیکھا تھا۔ اپنی غریبی اور مہ جمال کی شان کا خیال کرکے اس کو ہمت نہ ہوتی تھی کہ اس تکلیف کو کسی کے سامنے بیان کرے جوکہ جمال کے دیکھنے سے خود بہ خود اس کے اندر پیدا ہوگئی تھی۔
    چھے مہینے وہ اس خلجان میں پریشان رہا۔ اس کے بعد اس کو ایک ہندو جوگی ملا جس سے اس نے اپنا حال بیان کیا۔ جوگی نے ایک سفید کفنی دی کہ اس کو پہن لے تیرے سب کام پورے ہو جائیں گے۔ کفنی پہنتے ہی وہ مجذوب ہوگیا اور گھر بار چھوڑ کر جنگل میں نکل گیا۔ چھے مہینے تک جنگلوں میں پھرتا رہا۔ چھے ماہ بعد اب پھر وہ آبادی میں آیا تھا، جہاں اس نے پھر مہ جمال کو دیکھا، مگر اب اس کے دیکھن میں ایسی قوت پیدا ہوگئی تھی کہ مہ جمال کو اس نے نگاہ میں بیمار کردیا۔
    ١٤ ستمبر ١٨٥٧ء کو ایک رتھ نجف گڑھ کے قریب کھڑا تھا اور خاکی وردی کے فوجی سپاہی اس کو گھیرے ہوئے تھے۔ یہ سب لشکر سے تعلق رکھتے تھے۔ اس رتھ میں خورشید جمال، مہ جمال اور دو لونڈیاں سوار تھیں، باہر چار نوکر تلواریں لیے کھڑے تھے۔ فوج والے کہتے تھے ہم اندر کی تلاشی لیں گے، اس میں کوئی باغی پوشیدہ ہے۔ بیگم کے نوکر کہتے تھے، اندر عورتیں ہیں، ہم پردہ نہ کھولنے دیں گے۔ نوبت لڑائی کو پہنچی تو نوکروں نے تلوار چلائی اور وہ سب ایسے لڑے کہ ایک بھی زندہ نہ بچا۔ فوجیوں نے رتھ کا پردہ اُلٹ دیا۔ عورتوں کو دیکھا اور زیور کا صندوقچہ ان سے چھین لیا۔ اس کے علاوہ اور جس قدر اسباب تھا وہ بھی لوٹ کر آگے بڑھ گئے۔ رتھ بان بھاگ گیا تھا۔ بیگم لونڈیوں کو لے کر نجف گڑھ کی طرف ہو لیں کہ اتنے میں چند گوجر لٹھ لیے ہوئے آئے اور ان سے زیورات اور کپڑے مانگنے لگے۔ بیگم نے کہا: ہم کو تو فوج والوں نے لوٹ لیا ہے اب ہمارے پاس کچھ بھی باقی نہیں ہے، تم رتھ اور بیل لے لو۔ مگر گوجر نہ مانے اور انہوں نے زبردستی ان کے برقعے اتار ڈالے۔ پاجاموں کے سوا تمام کپڑے چھین لیے۔ خورشید جمال اور لونڈیوں نے ان کو برا کہنا شروع کیا۔ ایک گوجر نے خورشید جمال کے سر پر لکڑی ماری اور دوسرے نے لونڈیوں پر لکڑیوں کے وار کیے۔ مہ جمال ڈری سہمی چپ کھڑی تھی۔ اس کو کسی نے نہ چھیڑا۔ خورشید جمال کا سر پھٹ گیا اور تڑپ کر مر گئیں۔ لونڈیاں بھی دونوں چوٹ کے صدمے سے تمام ہوگئیں۔ مہ جمال اکیلی کھڑی تماشا دیکھتی تھی۔ ماں کو مرتے دیکھا تو چمٹ کر رونے لگی۔ گوجر تو مار کوٹ کر چلے گئے اور مہ جمال روتے روتے بے ہوش ہوگئی۔ ہوش آیا تو اس نے دیکھا نہ اس کی ماں کی لاش ہے نہ لونڈیوں کی لاشیں ہیں، نہ وہ جنگل ہے بلکہ وہ ایک گھر کے اندر چارپائی پر لیٹی ہے۔ سامنے ایک گائے بندھی کھڑی ہے۔ چند مرغیاں صحن میں پھر رہی ہیں اور ایک میواتی چالیس پچاس برس کی عمر کا سامنے بیٹھا اپنی بیوی سے باتیں کررہا ہے۔




  • مڈل کلاس — سارہ عمر

    مڈل کلاس — سارہ عمر

    ”لے زوباریہ پکڑ یہ کارڈ سیٹھ صاحب کے گھر سے آیا ہے۔” ہانپتی کانپتی امی نے دوپٹے سے پسینا پونچھتے ہوئے اس کی طرف کارڈ بڑھایا تھا۔
    ”سیٹھ ماموں کے گھر سے؟ کیسا کارڈ ہے؟” اس نے لپک کر کارڈ جھپٹا تھا۔
    ”ہزار بار کہا ہے تجھے مت بولا کر ماموں۔ سنیں گے تو غصہ کریں گے۔ کون سا تیرا سگا ماموں لگا ہے وہ۔ انکل بولا کر انکل، ایسے رشتہ نہیں پتا لگتا نا۔” اماں نے ایک تھپڑ کمر پر جڑتے اسے کھری کھری سنائی تھیں۔
    ”کیا ہے اماں؟میں تو بولوں گی ماموں۔ایک تو ان امیروں کو اپنے رشتے داروں میں سو کیڑے نظر آتے ہیں۔” وہ کارڈ کھولتے ہوئے بولی۔
    ”تو غریبوں سے بھلا کون رشتہ رکھتا ہے؟ بس عید تہوار، شادی تک کے لئے گھر بلا لیتے ہیں احسان ہے ان کا۔” اماں ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے بولی تھیں۔
    ”اُف اماں! اتنے بھی غریب نہیں ہیں۔ ہم مڈل کلاس ہیں مڈل کلاس۔” اس نے فخر سے اپنی کلاس بتائی تھی۔ جیسے کہہ رہی ہو ”منسٹر ہیں منسٹر۔”
    ”ان سے تو غریب ہیں نا۔ اچھا اب کھول بھی لے سعدیہ کی شادی کا کارڈ۔” وہ جو کارڈ کے اوپر بنے پھولوں میں گم تھی، ایک دم اُچھلی۔
    ”سعدیہ کی شادی؟ مگر کس سے۔” اس نے جلدی جلدی کارڈ کھول کر نام پڑھا تھا۔
    ”سکندر کریم شاہ، یہ کس سے ہورہی ہے اس کی شادی؟” وہ جھلا کر بولی۔
    ”تو کس سے ہونی تھی؟ اپنے جیسوں میں کررہے ہیں۔ وڈیرے ہیں، بڑی زمینوں والے ہیں۔ ڈیفنس میں بنگلہ ہے ان کا۔”
    ”مگر وہ تو…”بولتے بولتے اس نے زبان منہ میں دبالی ۔
    ”ہائے میری ہانڈی جل گئی ہوگی۔ چل سنبھال کر رکھ کارڈ، دس تاریخ ہے بھول نہ جائیو۔ ایک دن تو ڈھنگ کا کھانا کھانے کو ملے گا۔” اماں نے کچن کی طرف قدم بڑھائے تھے اور اس کا دماغ میں گھوڑے دوڑنے لگ گئے تھے۔
    ”چلو سعدیہ تمہاری محبت کا بھی یہی انجام ہوا۔ تم اپنے سیٹھ ابا کے حکم کے آگے سرنگوں ہوکر یہ زہر کا پیالہ پینے پر تیار ہو ہی گئیں۔ ایک اور محبت امیر اور غریب کی تفریق کے بھینٹ چڑھ گئی۔” اسے ماضی کے تمام واقعات یاد آنے لگے تھے۔
    ”پتا نہیں یہ محبت اتنی ارزاں کیوں ہے؟ سب سے پہلے سولی چڑھانے کو اسی کا خیال کیوں آتا ہے۔” سوال آہستہ آہستہ اس کے دماغ میں سراٹھانے لگے۔
    ٭…٭…٭




    ”زوباریہ ہوگئی تیار؟ باہر تیرے ابا ٹیکسی لے کر کھڑے ہیں وہ اور کرایہ مانگے گا، نکل بھی چک۔” اماں نے دروازے سے آواز دی۔
    ”آئی اماں! بس یہ بڑے والے جھمکے پہن لوں۔ کبھی بھی پہننے کا موقع نہیں ملتا۔” وہ جھمکا کان میں ڈال رہی تھی۔
    ”آئے ہائے اتار یہ لمبے لمبے جھمکے، چھوٹے پہن ذرا۔ پہلے ہی تیری سیما آنٹی کہتی ہے کہ اتنے بڑے بڑے جھمکے پینڈو عورتیں پہنتی ہیں۔ چھوٹے ear rings ماڈرن لُک دیتے ہیں۔”اماں نے ہاتھ نچا کر ”آنٹی” اور ”ماڈرن” پر خاص زور دیا تھا۔
    ”اچھا اچھا اتار رہی ہوں۔ ایک تو ان امیروں کے چونچلے، اب تیار بھی ان کی مرضی سے ہوکر جاؤ۔ ہونہہ!” اس نے دراز کھول کر چھوٹے ear rings نکالے۔
    ٭…٭…٭
    ”اُف! شکر ہے جان چھوٹی ان شادیوں کے چکر سے۔ ان امیروں کی شادیاں بھی نرالی ہی ہوتی ہیں۔ شروع ہوتی ہیں تو برسات کی طرح سات دن سے پہلے ختم ہی نہیں ہوتیں۔ یہ نہیں کہ نکاح پڑھائیں اور رخصت کریں۔ نہیں بھئی! چھے چھے ڈھولکیاں، مایوں ، مہندی، نکاح، رخصتی، ولیمہ، جوتا چھپائی، مکلاوہ ۔” اماں اس کے سر کی مالش کرتے ہاتھ کے ساتھ ساتھ زبان بھی چلا رہی تھیں۔
    ”اے زوبی تجھے کیا ہوا ہے؟ اتنی چپ کیوں ہے شادی کے بعد سے۔” اماں حیران ہوئیں۔
    ”اماں! سعدیہ کی شکل دیکھی تھی؟” وہ منمنائی تھی۔
    ”دیکھی تو تھی اتنی پیاری حور لگ رہی تھی۔ پچاس ہزار کا میک اپ اور دو لاکھ کاجوڑا تھا، حور تو لگنی ہی تھی۔” اماں نے بال کس کر اس کی چٹیا بنائی۔
    ”اماں وہ خوش نہیںتھی۔” وہ آہستہ سے بولی۔
    ”چل ہٹ! اتنا پیسے والا امیر کبیر میاں ملا ہے، اندر سے تو خوش ہوگی۔ اب کیا ناچنا شروع کردے؟ ہے تو مشرقی دُلہن نا! چاہے جتنی بھی امیر ہو۔” اماں نے خوش ہوکر کہا تھا۔
    ”امیر کبیر کے ساتھ ہٹا کٹا موٹا تازہ بھی کہیں نا۔” اسے دیو جیسا دلہا زہر لگا تھا۔
    ”پاگل ہوئی ہے، کھاتا پیتا گھرانا ہے ان کے سامنے مت بولیو! آئندہ گھر نہیں بلائیں گے۔ جاجاکر چائے بنا، باتیں سنو اس کی۔” اماں نے تیل کی بوتل بند کی اور اس کی سوچوں کا در کھول دیا۔
    ”کیا برائی تھی عدیل بھائی میں؟ پڑھے لکھے، ہینڈسم سے کزن تھے سعدیہ کے، بس ایک مڈل کلاس ہی برائی تھی۔ بس یہ مڈل کلاس انسان کو کہیں کا نہیں چھوڑتی۔” وہ بوتل اٹھاتی اٹھ کھڑی ہوئی۔ اماں کو کیا پتا اس کے دل کا روگ، وہ تو اس کی ہم راز تھی۔
    ٭…٭…٭
    ”اب دکھا بھی چک زوباریہ صبح سے ٹال رہی ہے۔” رمشا نے اسے کہنی ماری تھی جو کینٹین میں سموسا کھا رہی تھی۔
    ”صبر کرلے تھوڑا سا، ایک ہی موبائل ہے۔ کمیٹی ڈال کر خریدا ہے اماں نے۔ یہاں کسی Procter کے ہتھے چڑھ گیا تو واپس بھی نہیں ملنا۔” وہ اس کے کان میں منمنائی۔
    ”چلو باہر چلیں۔” باہر ایک سنسان گوشے میں آکر ا س نے موبائل آن کرکے تصویریں نکالیں۔
    ”اللہ! زوباریہ کتنی پیاری لگ رہی ہے اپنی سعدی۔”
    ”تو تو ایسے سعدی بول رہی ہے جیسے میری نہیں تیری کزن لگتی ہو۔” وہ جل کر بولی۔
    ”اچھا نا! ملی تو ہوں نا اتنی بار تیرے ساتھ کالج میں۔ جان پہچان ہے۔ پری لگ رہی ہے، میاں تو مر ہی گیا ہوگا دیکھ کر۔”
    ”اللہ کرے مر ہی جائے۔” وہ اور جل گئی۔
    ”ہائے کیسے بول رہی ہے، اس کا سہاگ ہے اب تو۔” رمشا نے منہ میں انگلی دبائی۔
    ”پتا تو ہے تجھے عدیل بھائی کو پسند کرتی تھی۔ تین بار رشتہ بھجوایا تھا لیکن سیٹھ ماموں نے اسی ڈر سے بی اے کے دوران ہی اس کی شادی کروا دی۔ سال تو ختم ہونے والا ہے پیپر تک رک جاتے مگر نہیں۔ زبردستی کی ہے۔” وہ اسے تفصیل بتارہی تھی۔
    ”اوہ! تب ہی میں کہوں اتنے میک اپ کے بعد بھی اُداسی چہرے پر تھی۔”
    ”چل چل ابھی تو بڑی پری لگ رہی تھی۔ اب اداس پری لگنے لگ گئی۔” وہ موبائل آف کرتے ہوئے بولی۔
    ”اچھا نا! اپنا موڈ تو صحیح کر۔”
    ”رمشا ایک بات بولوں؟ مجھے اپنی کلاس بہت اچھی لگتی ہے۔”
    ”لو اس میں اچھائی والی کون سی بات ہے؟” اس نے آنکھیں پھیلائیں۔
    ”دیکھ نا رمشا! بندہ اپنی مرضی کی زندگی تو گزارے۔ اپنی پسند نا پسند کا اختیار ہو۔ یہ سب سے اچھی کلاس ہے، مڈل کلاس۔ نہ امیر نہ غریب۔ ان کے پاس کبھی کبھی پیسے آجاتے ہیں تو اپنے شو ق پورے کرتے ہیں، گھر لینا گاڑی لینا وغیرہ وغیرہ مگر کبھی بھی امیر نہیں بن سکتے۔ ان کے لیول تک نہیں جاتے اور نہ ہی اتنے غریب ہوجاتے ہیں کہ فاقوں کی نوبت آئے۔ مگر بس ہر وقت اسی حال میں ہوتے ہیں کہ یا تو مقروض ہوتے ہیں یا کھینچ تان کر اپنی زندگی کی ضرورتوں کو پورا کررہے ہوتے ہیں۔”
    ”اس میں اچھائی والی کون سی بات ہے؟”
    ”دیکھ نا! اگر سعدیہ مڈل کلاس کی ہوتی تو اس کی شادی عدیل بھائی سے ہوجاتی۔” اس نے دلیل دی۔
    ”اور اگر عدیل امیر ہوتا تو بھی تو اس کی شادی سعدیہ سے ہوجاتی۔” رمشا نے جواب دیا۔
    ”لیکن کم از کم عدیل نے کوشش تو کی نا۔ اظہار تو کیا نا! سعدیہ کی طرح خاموشی اختیار نہیں کی۔” وہ بہ ضد تھی۔
    ”مڈل کلاس میں بھی شریف لڑکیاں کھل کر پسند کااظہار نہیں کرتیں۔” رمشا بولی۔
    ”مگر مڈل کلاس…”
    ”ہر جگہ مڈل کلاس رکاوٹ نہیں ہوتی، کہیں کہیں بیچ میں نصیب بھی آجاتاہے، جو جس کا نصیب۔” رمشا کی بات پر وہ چپ ہوگئی۔
    ٭…٭…٭
    زوباریہ اپنے ماںباپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ ابا کی گارمنٹس کی دکان تھی۔ مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والی زوباریہ کی واحد دوست رمشا ہی تھییا گھر میں اماں سے دوستی تھی۔
    وہ جس کالج میں پڑھتی تھی، وہ شہر کا سب سے اچھا گورنمنٹ کالج تھا۔ اس کا ایڈمیشن ادھر میرٹ پر ہوا تھا۔ فیس بھی کم تھی اور سارے شہر کی کریم ادھر ہی جمع ہوجاتی۔ سعدیہ نے بھی اپنا ایڈمیشن ادھر کروایا تھا۔ وہ زوباریہ سے ایک سال سینئر تھی۔ اب اس کا بی۔ اے ختم ہونے والا تھا۔ سعدیہ پڑھائی میں بہت اچھی نہیں تھی اور سیٹھ صاحب تو پرائیوٹ کالج کے حق میں تھے مگر سعدیہ کو بہت شوق تھا ادھر ایڈمیشن کااور میرٹ پر نام نہ آنے کی صورت میں انہوں نے پیسے دے کر اسپیشل سیٹ ارینج کرلی تھی۔ سیٹھ صاحب کی ٹیکسٹائل کی کئی ملیں تھیں مگر ان کے حصے میں کچھ غریب رشتے دار وراثت میں آگئے تھے جن کو وہ اکھاڑکر پھینک نہیں سکتے تھے۔ سو دور دور سے ہی سلام والا حال تھا۔ سعدیہ بھی کم گھلتی ملتی تھی مگر گھر پر ہونے والی ملاقاتوں میں ایک بار اس کے منہ سے عدیل کا ذکر نکل آیا اور وہ یہ راز زوباریہ کو بتا بیٹھی تھی۔ اس نے بھی اس راز کو راز ہی رکھا مگر سعدیہ اپنی محبت میں ناکام ہوگئی تھی جس کا غم زوباریہ کو بھی لگ گیا تھا اور وہ قصور وار صرف امارت کو ہی ٹھہرا رہی تھی۔
    ”زوباریہ تیرا اسپیچ میں اور ایمبرائیڈری میں پرائز ہے؟” رمشا نے تیزی سے آکر اس کے سامنے بریک ماری تھی اور اکھڑتی سانسوں سے بولی تھی۔
    ”ہاں ہے۔” اس نے بک سے سراٹھایا۔
    ”چل بھئی! فوٹو شوٹ کے لیے تیار ہوجا ہیرو کے ساتھ۔”
    ”کیا بکواس کررہی ہے؟ کون ہیرو؟” وہ منہ بناکر بولی۔
    ”ارے وہ رانا دلاور ہے نا نیا MNA، دیکھا ہے؟ وہ آرہا ہے annual prize distribution پر۔” وہ بہت ایکسائٹڈ تھی۔
    ”تو پرائز دینے آرہا ہے، سب لڑکیوں کو دے گا میں انوکھی ہوں کیا؟ میری طرف سے بھاڑ میں جائے۔ مجھے میرا کپ مل جائے بس۔ رانا سے ملے یا کسی اور سے مجھے مطلب نہیں۔” اُس نے بوریت سے کہا۔
    ”تجھے تو سدا سے امیروں سے چڑ ہے۔ ایسی کمال breaking news دی تھی میرا دل ہی توڑ دیا تو نے۔” رمشا نے منہ بنایا تو وہ دیکھ کر کھلکھلا کر ہنس پڑی۔
    ٭…٭…٭