Author: misbah116@hotmail.com

  • آبِ حیات — قسط نمبر ۶ (حاصل و محصول)

    کسی اپنے کی موت انسان کو پل بھر میں کس طرح خاک کردیتی ہے یہ کوئی امامہ سے پوچھتا۔
    وسیم اور سعد کی موت نے اسے بتایا تھا کہ مارتی تو موت ہی ہے اور جیسی مار وہ انسان کو دیتی ہے کوئی اور تکلیف نہیں دیتی۔ آب حیات پی کر بھی انسان اپنی موت ہی روک سکتاہے پر ان کو جانے سے کیسے روک سکتا ہے جو جان سے بھی پیارے ہوتے ہیں۔
    وہ اس وقت نیویارک میں تھی۔ اس کے ہاں پہلا بچہ ہونے والا تھا۔ وہ ساتویں آسمان پر تھی کیوں کہ جنت پاؤں کے نیچے آنے والی تھی۔ نعمتیں تھیں کہ گنی ہی نہیں جارہی تھیں۔ تیسرا مہینہ تھا اس کی pregnancyکا، جب ایک رات سالار نے اسے نیند سے جگایا تھا۔ وہ سمجھ نہیں پائی تھی کہ وہ اسے نیند سے جگا کر کیا بتانے کی کوشش کررہا تھا اور شاید ایسی ہی کیفیت سالار کی تھی، کیوں کہ اس کی بھی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اسے کن الفاظ میں اتنے بڑے نقصان کی اطلاع دے۔ اس سے پہلے سکندر عثمان اور وہ یہی ڈسکس کرتے رہے تھے کہ امامہ کو اطلاع دینی چاہیے یا اس حالت میں اس سے یہ خبر چھپالینی چاہیے۔
    سکندر عثمان کا خیال تھا امامہ کو یہ خبر ابھی نہیں پہنچانی چاہیے، لیکن سالار کا فیصلہ تھا کہ وہ اس سے اتنی بڑی خبر چھپا کر ساری عمر کے لئے اسے کسی رنج میں مبتلا نہیں کرسکتا۔ وہ وسیم سے فون اور میسج کے ذریعے ویسے بھی رابطے میں تھی، یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ اسے ایک آدھ دن میں اس کے بارے میں اطلاع نہ مل جاتی۔
    وہ دونوں قادیانیوں کی ایک عبادت گاہ پر ہونے والی فائرنگ میں درجنوں دوسرے لوگوں کی طرح مارے گئے تھے اور امامہ چند گھنٹے پہلے ایک پاکستانی چینل پر یہ نیوز دیکھ چکی تھی، وہ اس جانی نقصان پر رنجیدہ بھی ہوئی تھی ایک انسان کے طور پر، مگر اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان لوگوں میں اس کے دو اتنے قریبی لوگ بھی شامل تھے۔ اسے شبہ ہوتا بھی کیسے۔ وہ اسلام آباد کی عبادت گاہ نہیں تھی ایک دوسرے شہر کی تھی۔ سعد اور وسیم وہاں کیسے پہنچ سکتے تھے اور وسیم تو بہت کم اپنی عبادت گاہ میں جاتا تھا۔





    وہ اگلے کئی گھنٹے گم صم آنسو بہائے بغیر سالار کے کسی سوال اور بات کا جواب دیئے بغیر ایک بت کی طرح وہیں بستر پر بیٹھی رہی تھی، یوں جیسے انسان نہیں برف کی سل بن گئی تھی۔ اور برف کی سل نہیں جیسے ریت کی دیوار تھی جو ڈھے گئی تھی۔ اسے لگا تھا وہ اب کبھی زندگی میں اپنی انگلی تک نہیں ہلاسکے گی۔ پاؤں پر کھڑی نہیں ہوسکے گی۔ سانس نہیں لے سکے گی۔ جی نہیں سکے گی۔ کوئی ایسے تو نہیں جاتا… ایسے… اس کی حالت دیکھ کر سالار کو شدید پچھتاوا ہوا تھا۔ اس نے سکندر عثمان کی بات نہ مان کر کتنی بڑی غلطی کی تھی، اسے اب سمجھ میں آیا تھا۔ سالار نے اپنے ایک ڈاکٹر کزن کو بلایا تھا گھر پر ہی اسے دیکھنے کے لئے۔
    اس کے بعد کیا ہوا تھا امامہ کو ٹھیک سے یاد نہیں تھا۔ سالار کو لمحہ لمحہ یاد تھا۔ وہ کئی ہفتے اس نے اسے پاگل پن کی سرحد پر جاتے اور وہاں سے پلٹتے دیکھا تھا۔ وہ چپ ہوتی تو کئی کئی دن چپ ہی رہتی، یوں جیسے اس گھر میں موجود ہی نہیں تھی۔ روتی تو گھنٹوں روتی۔ سوتی تو پورا دن اور رات آنکھیں نہیں کھولتی اور جاگتی دو دو دن بستر پر چند لمحوں کے لئے بھی لیٹے بغیر لاؤنج سے بیڈروم اور بیڈ روم سے لاؤنچ کے چکر کاٹتے کاٹتے اپنے پاؤں سجالیتی۔ یہ صرف ایک معجزہ تھا کہ اس ذہنی حالت اور کیفیت میں بھی جبریل کو کچھ نہیں ہوا تھا۔ وہ جیسے یہ فراموش ہی کر بیٹھی تھی کہ اس کے اندر ایک اور زندگی پرورش پارہی تھی۔ ذہن یادوں سے نکل پاتا تو جسم کو محسوس کرتا۔
    اور وحشت جب کچھ کم ہوئی تھی تو اس نے سالار سے پاکستان جانے کا کہا تھا۔ اسے اپنے گھر جانا تھا۔ سالار نے اس سے یہ سوال نہیں کیا تھا کہ وہ کس گھر کو اپنا کہہ رہی تھی۔ اس نے خاموشی سے دو سیٹیں بک کروالی تھی۔
    ’’مجھے اسلام آباد جانا ہے۔‘‘ اس نے سالار کے پوچھنے پر کہا تو سالار نے بحث نہیں کی تھی، اگر اس کے گھر والوں سے ملاقات اس کو نارمل کردیتی تو وہ اس ملاقات کے لئے کسی بھی حد تک جاسکتا تھا۔
    ہاشم مبین ان کے ہمسائے تھے۔ ان کے گھر میں آنے والی قیامت سے سالار سکندر کا خاندان بے خبر نہیں تھا۔ انہوں نے ہاشم مبین کے گھر جاکر ان سے دوسرے بہت لوگوں کے ساتھ تعزیت کی تھی۔ اس صدمے میں بھی ہاشم مبین نے بے حد سردمہری کے ساتھ ان کی تعزیت قبول کی تھی۔
    سکندر عثمان کوامید نہیں تھی کہ وہ امامہ سے ملیں گے۔ انہوں نے سالار سے اپنے خدشات کا ذکر ضرور کیا تھا، لیکن امامہ کو جس حالت میں انہوں نے دیکھا تھا، وہ سالار کو ایک کوشش کرلینے سے روک نہیں سکے تھے۔
    ہاشم مبین نے نہ صرف فون پر سکندر عثمان سے بات کرنے سے انکار کیا تھا، بلکہ سالار کو ان کے گھر پر گیٹ سے اندر جانے نہیں دیا گیا۔ سکندر عثمان اور وہ دونوں مایوسی کے عالم میں واپس آگئے تھے۔
    سالار اس کے سامنے بے بس تھا، لیکن وہ پہلا موقع تھا جب اس نے امامہ کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے تھے۔ اس نے امامہ کو اس کے گھر جانے کی کوشش بھی نہیں کرنے دی تھی۔
    ’’تمہیں اگر گھر جانا ہے تو پہلے اپنے باپ سے بات کرو۔ وہ اجازت دیں تو پھر میں تمہارے ساتھ چلوں گا، لیکن میں تمہیں بغیر اجازت کے وہاں گیٹ پر گارڈز کے ہاتھوں ذلیل ہونے کے لئے نہیں بھیج سکتا۔‘‘
    اس کے رونے اور گڑگڑانے کے باوجود سالار نہیں پگھلا تھا۔ امامہ نے اپنے باپ سے فون پر بات کرکے اجزت لینے کی ہامی بھرلی تھی، مگر اس فون کال نے سب کچھ بدل دیا تھا۔ جو چیز سالار اسے نہیں سمجھا سکا تھا وہ اس فون کال میں ہاشم مبین نے سمجھادی تھی۔
    ’’یہ جو کچھ ہوا ہے تمہاری وجہ سے ہوا۔ تم جن لوگوں کے ساتھ جا بیٹھی ہو ان ہی لوگوں نے جان لی ہے میرے دونوں بیٹوں کی، اور تم اب میرے گھر آنا چاہتی ہو۔ قاتلوں کے ساتھ میرے گھر آنا چاہتی ہو۔‘‘ وہ ہذیانی انداز میں چلاتے اور اسے گالیاں دیتے رہے تھے۔
    ’’تم لوگ۔‘‘ اور ’’ہم لوگ‘‘ فرق کتنا بڑا تھا امامہ کو یاد آگیا تھا۔ آج بھی۔ اس سب کے بعد بھی اس غم کے ساتھ بھی اسے پچھتاوا نہیں تھا کہ اس نے وہ مذہب چھوڑ دیا تھا۔ اسے یاد آیا تھا ایک بار اس کے باپ نے کہا تھا وہ ایک دن گڑگڑاتے ہوئے اس کے پاس آکر معافی مانگے گی، اور وہ آج یہی کرنے جارہی تھی۔ پر کیوں کرنے جارہی تھی؟
    خون کا رشتہ تھا۔ تڑپ تھی۔ وہ کھینچی تھی ان کی طرف۔ اب جب اسے ان سے پہلے کی طرح جان کا خوف نہیں رہا تھا، پر خون کا رشتہ صرف اسی کے لئے کیوں تھا۔ تڑپ تھی تو صرف اس کو کیوں تھی۔ شاید اس لئے کہ اس کے پاس ان لوگوں کے سوا اور کوئی خونی رشتہ نہیں تھا۔ وہ اپنے لوگوں کے پاس تھے۔ اس کے پاس سالار تھا، لیکن وہ خونی رشتہ نہیں تھا محبت کا رشتہ تھا۔ خون جیسی تڑپ پیدا ہونے کے لئے ابھی اس کو کئی سال چاہیے تھے،سوچنے سمجھنے کی ساری صلاحیتیں ماؤف ہونے کے باوجود اسے پہلی بار احساس ہورہا تھا کہ جو غم اسے وہاں کھینچ کر لایا تھا۔ وہ غم اس گھر میں جاکر پچھتاوے میں بدل جاتا۔
    ہاشم مبین کی مزید کوئی بات سننے کے بجائے اس نے فون رکھ دیا تھا۔ اس کے بعد وہ بلک بلک کر روئی تھی۔ اس گھر میں اور اس دنیا میں اب کا خونی رشتہ کوئی نہیں رہا تھا۔ اس گھر میں صرف وسیم اس کا تھا، اور وسیم جاچکا تھا۔ وہ ایک کھڑکی جو پچھواڑے میں کھلی تھی ٹھنڈی ہوا کے لئے، وہ آندھی کے زور سے بند ہوگئی تھی۔ اب اس کھڑکی کو دوبارہ کبھی نہیں کھلنا تھا۔
    وہ سالار سکندر کے ساتھ واپس نیویارک لوٹ آئی تھی۔ وہ سمجھ رہا تھا وہ نارمل ہورہی تھی، آہستہ آہستہ بالکل ٹھیک ہوجائے گی۔ کچھ وقت لگنا تھا۔ امامہ بھی ایسا ہی سمجھتی تھی، لیکن ایسا نہیں ہوا تھا۔ وہاں موجود تنہائی نے امامہ کے اعصاب کو ایک بار پھر مفلوج کرنا شروع کردیا تھا۔ سالار پی ایچ ڈی کررہا تھا اور ساتھ ایک آرگنائزیشن میں ہفتے میں تین دن کے لئے پارٹ ٹائم کام کرتا تھا۔ وہ صبح پانچ بجے گھر سے نکلتا تھا اور رات کو کہیں آٹھ نو بجے اس کی واپسی ہوتی تھی اور واپسی پر وہ اتنا تھکا ہوا ہوتا تھا کہ ایک دو گھنٹے ٹی وی دیکھ کر کھانا کھا کر وہ دوبارہ سوجاتا تھا۔
    امامہ بارہ چودہ گھنٹے ایک بیڈروم کے آٹھویں منزل کے اس اپارٹمنٹ میں بالکل تنہا ہوتی تھی اور تنہائی کا یہ دورانیہ سالار کے گھر آجانے کے بعد اس کے سوجانے پر اور بڑھ جاتا تھا۔ ایک بیڈروم، ایک لاؤنج اور کچن ایریا کے علاوہ جہاں کچھ بھی نہیں تھا جہاں وہ جاکر کچھ وقت گزارسکتی۔ گھر کا کام بھی بہت مختصر تھا کیوں کہ گھر چھوٹا تھا۔ نیند اسے آتی نہیں تھی اور گھر میں کوئی مشغلہ نہیں تھا، صرف سوچنے کے علاوہ۔
    وسیم اس کے ذہن سے نہیں نکلتا تھا وہ روز اپنے فون میں موجود اس کے اور اپنے میسجز کو جو سینکڑوں کی تعداد میں ہوتے بیٹھ کر پڑھنا شروع کرتی اور پھر گھنٹوں اسی میں گزار دیتی۔ اسے وہ سینکڑوں میسجز اب جیسے زبانی حفظ ہوچکے تھے، لیکن پتا نہیں خود اذیتی کی وہ کون سی سیڑھی تھی جس پر بیٹھی وہ ہر روز ایک ہی کام بھیگی آنکھوں کے ساتھ کرتی رہتی تھی۔
    اپنے وجود کے ناکارہ پن اور زندگی کی بے معنویت امامہ ہاشم نے جیسے اس دور میں محسوس کی تھی، اس سے پہلے کبھی نہیں کی تھی۔ اس کا اپنا وجود اس کے لیے سب سے بڑا بوجھ بن گیا تھا۔ اسے وہ کہاں پھینک آتی اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا۔ بستر پر صبح نیند سے آنکھ کھلتے ہی اسے یہ خیال آتا تھا۔ ایک اور دن۔ پھر وہی روٹین۔ پھر وہی تنہائی۔ وہی ڈپریشن۔ وہ آہستہ آہستہ ڈپریشن کی طرف جانا شروع ہوگئی تھی، اور سالار ایک بار پھر اپنے آپ کو بے حد بے بس محسوس کرنے لگا تھا۔ وہ اس کے لئے کیا کرتا اس کی سمجھ میں نہیں آتا تھا، جس سے وہ پھر پہلے جیسی ہوجاتی۔
    چودہ گھنٹے تک اپنے کاموں اور سفر سے خوار ہونے کے بعد وہ تھکا ہارا گھر آنے پر بھی امامہ کے کہنے پر کہیں بھی چلنے کے لئے تیار رہتا تھا اور کہیں نہیں تو اپارٹمنٹ کے باہر پارک تک، لیکن وہ اس سے کہیں جانے کا کہتی ہی نہیں تھی۔
    وہ صبح سویرے گھر سے اس کے بارے میں سوچتے ہوئے نکلتا اور رات کو جب گھر واپس آنے کے لئے ٹرین میں بیٹھتا تو بھی اس کے بارے میں سوچ رہا ہوتا تھا۔ امامہ کی ذہنی کیفیت نے جیسے اس کے اعصاب شل کرنے شروع کردیئے تھے۔ جبریل کی پیدائش میں ابھی بہت وقت تھا اور وہ اسے اس جہنم سے نکالنا چاہتا تھا جس میں وہ ہر وقت نظر آتی تھی۔
    اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہونے سے پہلے ہی ایک رات امامہ نے کہا تھا۔
    ’’مجھے پاکستان جانا ہے۔‘‘
    ’’کیوں؟‘‘ سالار کو اپنا سوال خود بے تکا لگا۔
    وہ بہت دیر چپ رہی، یوں جیسے اپنے الفاظ جمع کررہی ہو پھر اس نے جو کہا تھا اس نے سالار کا دماغ بھک سے اڑا دیا تھا۔
    ’’کل میں نے وسیم کو دیکھا… وہاں کچھ کاؤنٹر کے پاس وہ پانی پی رہا تھا… دو دن پہلے بھی میں نے اسے دیکھا تھا، وہ اس کھڑکی کے سامنے کھڑا تھا۔‘‘ بات کرتے ہوئے اس کی آواز بھرائی اور وہ شاید اپنے آنسوؤں پر قابو پانے کے لئے رکی تھی۔
    ’’مجھے لگتا ہے میں کچھ عرصہ اور یہاں رہی تو پاگل ہوجاؤں گی۔ یا شاید ہونا شروع ہوچکی ہوں لیکن میں یہ نہیں چاہتی۔‘‘
    اس نے چند لمحوں کے بعد دوبارہ بات کرنی شروع کی تھی۔ وہ اگر واہموں کا شکار ہورہی تھی تو وہ اس بات سے واقف بھی تھی اور اس سے فرار چاہتی تھی تو یہ جیسے ایک مثبت علامت تھی۔
    ’’ٹھیک ہے، ہم واپس چلے جاتے ہیں، مجھے صرف چند ہفتے دے دو سب کچھ وائنڈ اپ کرنے کے لئے۔‘‘
    سالار نے جیسے لمحوں میں فیصلہ کیا تھا۔ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے امامہ نے نفی میں سرہلایا۔
    ’’تم پی ایچ ڈی کررہے ہو، تم کیسے میرے ساتھ جاسکتے ہو؟‘‘
    ’’میں پی ایچ ڈی چھوڑ دوں گا… ڈاکٹر کی ڈگری ضروری نہیں ہے… تم اور تمہاری زندگی ضروری ہے۔‘‘
    سالار نے جواباً اس سے کہا، کچھ کہنے کی کوشش میں امامہ کی آواز بھرائی وہ کہہ نہیں پائی۔ اس نے دوبارہ بولنے کی کوشش کی اور اس بار وہ بلک بلک کر رونے لگی تھی۔
    ’’نہیں تم ساتھ نہیں آؤگے… یہ کیوں ضروری ہے کہ ساری زندگی تم قربانیاں ہی دیتے رہو میرے لئے… اب پی ایچ ڈی چھوڑو… اپنا کیرئیر چھوڑو… تمہاری زندگی ہے۔ قیمتی ہے تمہارا وقت، تم کیوں اپنی زندگی کے اتنے قیمتی سال میرے لئے ضائع کرو۔‘‘
    سالار نے کچھ کہنے کی کوشش کی، کوئی اور موقع ہوتا تو اس کا یہ اعتراف اس کو خوشی دیتا، لیکن اب اسے تکلیف ہورہی تھی۔ وہ روتے ہوئے اسی طرح کہہ رہی تھی۔
    ’’میں تم سے بہت شرمندہ ہوں، لیکن میں بے بس ہوں میں کوشش کے باوجود بھی اپنے آپ کو نارمل نہیں کر پارہی… اور اب … اب وسیم کو دیکھنے کے بعد تو میں اور بھی… اور بھی۔‘‘ وہ بولتے بولتے رک گئی، صرف اس کے آنسو اور ہچکیاں تھیں جو نہیں تھمی تھیں۔
    ’’سالار، تم بہت اچھے انسان ہو… بہت اچھے ہو تم بہت قابل ہو… تم مجھ سے بہتر عورت ڈیزرو کرتے ہو… میں نہیں۔I am a worthless woman…..I m a nobody تمہیں ایسی عورت ملنی چاہیے جو تمہارے جیسی ہو… تمہیں زندگی میں آگے بڑھنے میں سپورٹ کرے… میری طرح تمہارے پاؤں کی بیڑی نہ بن جائے۔‘‘
    ’’اور یہ سب کچھ تم آج کہہ رہی ہو جب ہم اپنا پہلا بچہ expect کررہے ہیں…؟‘‘
    ’’مجھے لگتا ہے یہ بچہ بھی مرجائے گا۔‘‘ اس نے عجیب بات کہی تھی سالار نے اس کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی اس نے ہاتھ چھڑالیا۔
    ’’تم کیوں اس طرح سوچ رہی ہو… اسے کچھ نہیں ہوگا۔‘‘ سالار پتا نہیں کس کو تسلی دینا چاہتا تھا لیکن اس وقت امامہ سے زیادہ اس کی اپنی حالت قابل رحم ہورہی تھی۔




  • بے غیرت — دلشاد نسیم

    پورے گاؤں کو سانپ سونگھ گیا۔ پنچایت کا فیصلہ تھا ہی ایسا… شاید ہی کوئی گھر ہو جس کا چولہا جلا ہو۔ ہر طرف سناٹا ہی سناٹا تھا۔ نہ اس شام پیپل کے درختوں کے نیچے حقہ گرم ہوا نہ کسی نے ہیر گائی۔ جمع سب ہوئے لیکن ’’ہک ہا‘‘ کہہ کر ایک دوسرے کو دیکھتے، ہاتھ ملتے رہے اور بس۔
    رخشی کا رو رو کر برا حال تھا۔ زلیخاں اس کو غصے سے گھورتی دانت پہ دانت جما کر کہہ رہی تھی:
    ’’مرن جوگے ایسا نہ ہو تیرا باپ صفیہ کے ساتھ ساتھ تجھے بھی جان سے مروا دے۔‘‘
    ’’تو مروا دے… مجھے کیوں نہیں مرواتا میں بھی تو عبداللہ سے محبت کرتی ہوں۔‘‘ رخشی نے تنک کر جواب دیا۔
    ’’بکواس نہ کر۔‘‘ ماں نے زور دار تھپڑ رخشی کے گال پہ مارا۔ لیکن وہ اپنی جگہ سے ہلی تک نہیں۔
    ’’کیوں؟ میں نبی بخش کی بیٹی ہوں اس لیے مجھے کاری کی سزا نہیں ملے گی؟‘‘
    ’’بے وقوفے تو عبداللہ کی بچپن کی منگ ہے، اس لیے یہ محبت و حبت کا بھوت اتار دے سرسے۔‘‘ ماں نے ماتھا پیٹتے ہوئے کہا۔
    رخشی نے ماں کے غضب کے تیور دیکھے تو نرمی سے بولی:
    ’’اماں تیرے سینے میں تو عورت کا دل ہے ناں! ذرا دل پہ ہاتھ رکھ اور بتا… یہ کہاں کا انصاف ہے کہ ایک لڑکی کو کسی پاگل کے پلے باندھ دیا جائے اور وہ احتجاج بھی نہ کرے۔ یہ نہ سوچ وہ پاگل تیرا بیٹا ہے۔ خدا کے لیے آپا کو بچالے اماں…‘‘ اس نے ہاتھ جوڑے مگر ماں نے اس کو قہرآلود نظروں سے دیکھا۔ اس وقت وہ محض عورت نہیں تھیں، زلیخاں نہیں تھیں صرف ایک پاگل بیٹے لاڈلے کی ماں تھیں۔ نبی بخش کی بیوی تھیں۔ زمین دار نبی بخش کی بیوی، جس کی پنچایت کا فیصلہ الٰہی مہر ہوتا تھا۔ کسی نے کبھی اس فیصلے کی حکم عدولی نہیں کی تھی تو زلیخاں کی کیا مجال تھی، گائوں بھر میں پھیلے سناٹے کی چاپ کو زلیخاں اپنی حویلی کی راہ داری میں محسوس کررہی تھیں۔ نوکر اسی طرح اپنے کاموں پر معمور تھے۔ مگر خاموش اور غم زدہ برسوں پرانی ملازمہ ماسی خیراں نے آج کھانا بھی نہیں کھایا تھا۔
    زلیخاں کو شبہ تھا کہ خیراں نے کھانا کیوں نہیں کھایا۔ اس نے پوچھا تو خیراں نے اپنی جھریوں والی آنکھیں میچیں اور دکھ سے بولیں:
    ’’برسوں حویلی کا نمک کھایاپر دل پتھر نہیں ہوا۔ پتھر ہوتا تو کچھ کھا لیتی…‘‘
    ’’خیراں تم بیمار رہتی ہو… دوا کھانی ہو گی۔‘‘ اماں نے فکرمندی سے کہا۔
    ’’خیراں کی خیر ہے زلیخا بی بی… اسے کیا ہونا ہے۔‘‘ خیراں نے سرد آہ بھر کر کہا۔





    ’’یہ دوا دارو سارے ایویں ہیں، جب مولا نے لے کے جانا ہے تو لے جانا ہے، اس نے کون سی عمر شمر دینی ہے۔ کسی کی موت کا کبھی کوئی حیلہ بن جاتا ہے اور کبھی کوئی وسیلہ بن جاتا ہے۔‘‘ زلیخاں خیراں کی بات سمجھ گئی تھی اس کے تن بدن میں آگ لگ جاتی ہے کہ اس کو ستانے کے لیے ایسا کہہ رہی ہے مگر خیراں عمر کے جس حصے میں تھی اس کو اب یہ فکر نہیں رہی تھی کہ اس کا کاٹ دار باتوں سے کوئی نقصان ہو گا۔ وہ بولے گئی۔
    ’’بہت مہربانی دھیے، ورنہ ہم غریبوں کا کون خیال کرتا ہے۔‘‘
    زلیخاں نے کچھ کہا نہیں، رنگین کرسی جس پر شیشے کا کام ہوا تھا، یہ کرسی ایسی جگہ پر رکھی تھی جہاں حتی الامکان حویلی کو دیکھا جاسکتا تھا۔ زلیخاں ہول ناک خاموشی سے گھبرا کر بولی:
    ’’بہت خاموشی ہے خیراں… لاڈلا سو گیا کیا؟
    ’’جی سو گیا… فرید کہہ رہا تھا آج اس نے بہت تنگ کیا تھا۔ دوائی دی تب سویا تھا۔‘‘ خیراں سپاٹ لہجے میں اسے بتا رہی تھی۔
    زلیخاں کے چہرے پہ دکھ کے نمایاں تاثرات تھے۔ اس نے افسردگی سے کہا:
    ’’سوچا تھا صفیہ آجائے گی تو میری فکر بانٹ لے گی، مگر اس نے تو ایسا چاند چڑھایا کہ بس! مرحوم اللہ بخش بھائی کی روح تڑپ گئی ہو گی…‘‘ خیراں نے سر ہلایا۔ کہا کچھ نہیں۔ زلیخاں بے چین ہوکر اٹھی۔ وہ آہستہ آہستہ چلتی جارہی تھی… جیسے روح پھر رہی ہو۔ نبی بخش ابھی مرنے سے واپس نہیں آیا تھا۔
    لاڈلے کے کمرے کے باہر فرید پہرا دیا کرتا تھا۔ لاڈلے کا کیا بھروسہ کب اُٹھ جائے اور شور مچا دے؟ کب اس کو کچھ کھانے کو دل چاہے اور کب…؟
    فرید نے ایک طرف ہوکر ادب سے سرجھکا کر زلیخا کو راستہ دیا۔ لاڈلا معصومیت کی تصویر بنا آنکھیں بند کیے پڑا تھا۔ چھبیس سال کے نوجوان کا ذہن سات آٹھ سال کے بچے سے زیادہ نہیں تھا۔ وہ کبھی کبھی سوتے میں سسکنے لگتا اور اس کا سارا جسم ہل جاتا۔ زلیخاں کی ممتاز تڑپ اٹھتی۔
    ’’کاش میں تیرے لیے خوشیاں خرید کے لا سکتی میرے لاڈلے۔ کاش اللہ نے مجھے ایسی آزمائش میں نہ ڈالا ہوتا۔ تو بھی عام لڑکوں کی طرح پڑھ لکھ کر پنچایت میں بیٹھتا۔ پھر تو خاص ہو جاتا۔ نبی بخش کا بازو، میری جان! تجھے لاڈلا کوئی نہ کہتا تو حبیب اللہ ہوتا… چودھری حبیب اللہ۔‘‘
    زلیخاں کے آنسو بسکٹی چادر کی تہوں میں ڈوب گئے۔
    صفیہ سے تیرا ہاتھ مانگتی تو چراغاں ہو جاتا، وہ تیری دلہن بن جاتی۔ پورے گائوں میں بتاشے بانٹتی تو… تو…‘‘ زلیخاں کی آواز بھرا گئی۔ اس نے لاڈلے کے بال سنوارے اور اٹھ گئی۔
    ٭…٭…٭
    رات گہری ہوتی جارہی تھی۔ صفیہ نے اپنے پیروں کو دیکھا اور سوچا۔
    ’’جو زنجیر آج میرے پیروں میں بندھی ہے کوئی وقت کے پیروں میں بھی باندھ دے۔ میں اپنے راجے بھائی عبداللہ کے پاس دوچار گھڑیاں اور گذار لوں۔‘‘ صفیہ کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔ اس نے عبداللہ کے بالوں میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کی اور کہا:
    ’’یہ کبھی نہ سوچنا کہ تُو نے آپا کو مار دیا ہے، بلکہ یہ سوچنا کہ غیرت نے بے غیرتی کو ماردیا۔ میں نے کوئی اچھا کام تھوڑی کیا ہے، روایت توڑی ہے… روایت! چاچے کے پاگل بیٹے سے بچپن کی منگنی توڑ کے ماسٹر جیسے سمجھ دار کے ساتھ بھاگ کر شادی کے خواب دیکھے، یہ تو گناہ ہے… سزا تو ملنی تھی۔‘‘
    عبداللہ خاموش تھا۔ صفیہ کی گود میں سر رکھے وہ کسی اور دنیا میں تھا جب کہ صفیہ کا چہرہ آنسوئوں سے تر تھا۔ چوبیس سال کی صفیہ اور صرف چوبیس منٹوں کی مہمان کی تھی دنیا میں… موت کے چوبیس منٹ بہت بھاری تھے۔ اسے یہ بھی دکھ تھا کہ اس کے جانے کے بعد اس کے بھائی کا کیا ہو گا۔
    اس لیے تو وہ عبداللہ سے کہہ رہی تھی کہ رخشی سے شادی کر لینا۔ عبداللہ کی آنکھوں سے آنسو نکلا اور محبت کرنے کے جرم میں کاری ہونے والی بہن کی گود میں گر گیا۔
    صفیہ نے محبت سے بوجھل اور موت کے غم سے ٹوٹتی آواز میں کہا تھا:
    ’’رخشی تیرا بہت خیال رکھے گی، کیا ہوا جو وہ لاڈلے کی بہن ہے۔ یہ تو قسمت کی بات ہے عبداللہ کہ میں تیرے سہرے کے گیت نہیں گاسکوں گی۔ تیرا ماتھا چوم کر سدا خوش رہ نہیں کہہ سکوں گی… پر میرے بعد اگر کوئی تجھے چاہتا ہے تو… تو…‘‘ صفیہ کی آواز بھرا گئی اور وہ سانس لے کر بولی:
    ’’وہی تو ہے، وہی جانتی ہے میرے بھائی کو کیا پسند ہے اور کیا ناپسند۔‘‘ مگر عبداللہ کچھ اور ہی سوچ رہا تھا۔
    ’’میں آپا کو کیسے گولی مار سکتا تھا… کیسے؟ اپنی آپا کو اپنے سامنے کیسے تڑپتا دیکھ سکتا تھا۔‘‘
    عبداللہ نے سر اٹھا کر دیکھا آپا کی آنکھیں خشک تھیں۔ اس نے بے ساختہ صفیہ کا ہاتھ چوم لیا۔
    ’’آپا… مجھے معاف کردینا، تیرے ہاتھوں کا لگا پودا ہوں۔ تیرا طفیل… مجھے تو اماں ابا کا چہرہ تک یاد نہیں… تو ہی میرے لیے ماں ہے، تو ہی باپ۔ مگر یہ پنچایت کا فیصلہ ہے، مجھے معاف کردینا۔‘‘ صفیہ کمال ضبط سے مسکرا رہی ہے۔
    ’’آپا مجھے یاد ہے جب بہت چھوٹا سا تھا تو میرے لیے ہینڈ پمپ چلاتی اور میں شرارت سے ہاتھ پر پانی کی دھار دیکھتا رہتا… پانی کا فوارہ بنتا اور میں ہنستا۔ تو نے کبھی نہیں کہا بس کر عبداللہ میرا ہاتھ تھک گیا ہے۔‘‘ وہ اب بھی روتے ہوئے کہہ رہا تھا۔
    صفیہ بھی اس ہینڈ پمپ کے فوارے کے چکر میں گم ہوگئی۔ رات کی سیاہی میں جانے کس نقطے میں صفیہ کھو گئی۔ کہنے لگی:
    ’’وہ کبھی تھکتی تو کہتی اور وہ یاد ہے جب میں توے کو چولہے سے اتارتی اور تم چمٹے کو الٹے توے پر لگا کر کہتے دیکھو آپا ستارے بن گئے ہیں۔‘‘ صفیہ نے آنکھیں بند کرلیں اور دکھ سے بولی:
    ’’اب وہ تو سارے ستارے آنسو بن گئے ہیں اور کیسے نہ بنتے جب ہم اصولوں کے خلاف چلیں گے، قانون قدرت کو للکاریں گے تو غضب تو ڈھایا جائے گا ناں۔‘‘
    عبداللہ اٹھ کر بیٹھ گیا۔
    ’’کون سا غضب… کیسا قانون… آپا…؟‘‘
    صفیہ خاموش رہی اور مسکرا دی
    ’’ابھی تو چھوٹا ہے بڑا ہو جائے گا تو تجھے بھی یقین آجائے گا تو نے جو کیا اچھا کیا۔ میرا مرجانا ہی اچھا ہے میری جان اور باتیں کرتے کرتے مگر اس کی سوچوں میں اٹھارہ سال کی صفیہ آگئی جس کو اپنی گڑیا سے بہت پیار تھا، جو اس کے دکھ سکھ کی ساتھی تھی۔ وہ چہرے پہ عشق کا نور اور آنکھوں میں محبوب کی محبت سے جدا ہونے کا دھڑکا گنگنایا کرتی تھی۔
    دل وج شوق ملن دا
    تیرے دی چڑھی
    کنڈے اتے مہر ماں وے میں کدوں دی کھڑی… کھڑی
    وہ گڑیا کو سینے سے لگائے مسلسل ایک ہی لفظ کی گردان کیے جارہی تھی۔
    دل وچ شوق ملن دا
    ہنیری عشق دی چڑھی
    عبداللہ نے شرارت سے آکر گڑیا جھپٹی اور ہنسنے لگا۔
    صفیہ نے جلدی سے اس کے ہاتھ سے گڑیا لینی چاہی تھی مگر عبداللہ کے لیے وہ بے جان سی گڑیا کے علاوہ کیا تھی بھلا؟ مگر صفیہ کی تو وہ سہیلی تھی۔
    ’’دیکھ اس کو کچھ مت کہنا یہ میری سہیلی ہے۔ میرے دکھ درد کی ساتھی…‘‘ صفیہ چیخ کر بولی۔
    چھوٹا سا عبداللہ رک گیا، پریشان ہوگیا اور آپا سے روہانسی انداز میں پوچھنے لگا۔
    ’’آپا تجھے کیا درد ہے، کبھی تو نے بتایا ہی نہیں۔‘‘ صفیہ کی آنکھیں نم ہوگئیں۔
    ’’سارے درد بتانے والی تھوڑی ہوتے ہیں۔ جس کو سہے جائو۔ سہے جائو۔ ٹھیک تھوڑی ہوتے ہیں۔‘‘
    عبداللہ کے چہرے پر غضب ناک غصہ تھا۔
    ’’مجھے معلوم ہے…تجھے لاڈلے کی وجہ سے پریشانی رہتی ہوگی۔ دیکھنا میں اس پاگل سے تیری شادی نہیں ہونے دوں گا۔ کبھی بھی نہیں۔‘‘ اس نے انگلی اٹھا کر کہا۔معصوم نے اپنی دانست میں بہت عقل کی بات کی تھی۔
    صفیہ حیران رہ گئی۔ اس نے لاڈلے کے بارے میں کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ وہ تو عشق کے سمندر میں ڈوبی ہوئی تھی۔ اسے یاد ہی نہیں یہ روگ بھی تو اس کے جان کو لگا ہوا ہے۔
    ’’آپا میں تیری شادی لاڈلے سے نہیں ہونے دوں گا۔ دیکھنا تو دل چھوٹا نہ کر۔ دفع کر گڑیا کو۔ اس کو دکھ درد کہنے کا کیا فائدہ۔ لاڈلا؟ واقعی بڑی دوراندیشی کی باتیں کر رہا تھا۔ یہ کوئی صلاح تھوڑی دے سکتی ہے۔ دکھ اس سے کہہ جو بتائے… بتائے کہ درد کا علاج کیا ہے۔‘‘صفیہ کا دل بھر گیا۔
    ’’ہائے میرا بھائی اتنا سیانا ہوگیا ہے۔ ‘‘عبداللہ خوش ہوکر چوڑا ہوگیا۔
    صفیہ نے پیار سے عبداللہ کو گلے لگایا اور پاس بٹھا کر کہنے لگی:
    ’’مجھے ڈر لگتا ہے۔ میں نے درد کہہ دیے تو یہ زیادہ نہ ہو جائیں۔




  • حاضری — کنیز نور علی

    وہ آج بھی ویسا ہی کھانا بناتیں ہیں جیسے دس سال پہلے بنایا کرتیں تھیں، یا اس سے بھی پہلے بیس سال پہلے…… اس سے بھی پہلے، کتنا زمانہ بیت گیا پکاتے ،کھلاتے، دھوتے، مانجھتے…….. باتیں کرتے اور خاموش رہتے……… سوچتے ہوئے اور جھگڑتے ہوئے، کبھی اپنے اندر سے جھگڑا… کبھی باہر سے……..
    ہانڈی بھونتے ہوئے وہ غور کر رہی تھیں کہ آج بھی سب ویسا ہی بنتا ہے، لیکن کھانے والے بدلتے گئے ہیں….. آہ!
    دل سے ہوک کیوں اٹھتی ہے؟
    ماضی یاد کیوں آتا ہے؟
    آخر انسان کیوں ماضی سے ہی بھاگتا ہے
    اور…
    اسی میں پناہ بھی لیتا ہے…..
    آخر میرے اندر اتنے سوال کیوں ابھرتے ہیں؟
    یہ سب وہ سوچے چلی جاتیں اور کھانا تیار ہو جاتا تھا؟
    "آپ تو زیادہ اچھی بریانی بناتی ہیں، پھر میری بریانی کی ایسے ہی اتنی زیادہ تعریف کر رہی تھیں”….. عائشہ نے آج ان کے ہاتھ کی بریانی چکھی تھی۔
    "تم واقعی زیادہ اچھی بناتی ہو کیوں کہ وہ تم بناتی ہو۔” چائے کپ میں ڈالتے ہو ئے وہ اداسی سے مسکرائیں۔
    "یہ کیا بات ہوئی؟” اب وہ دونوں لانج میں آکر بیٹھ چکی تھیں۔ چائے پی جائے گی، چند باتیں ہوں گی….. اور پھر عائشہ کو اپنے گھر کے کام، بچوں کا ہوم ورک اور شوہر کے لیے رات کا کھانا یاد آئے گا اور وہ بھاگ جائے گی۔ نورالنسا یہ سب کچھ بھگتا کر یہاں بیٹھی تھیں۔ اب اگلی نسل کی عورتیں ذمہ داریاں سنبھال چکی تھیں….
    "بس! یہی بات ہے… دس سال بعد تم اور اچھی بریانی بنانے لگو گی، لیکن تمہیں اپنی پکائی ہوئی کوئی شے بھائے گی نہیں……. کیوں کہ تب اس سے زیادہ اہم چیزیں تمہاری منتظر ہوں گی۔” ان کا لہجہ سنجیدہ تھا۔
    "کیسی باتیں کرتی ہیں آپ؟” عائشہ نے سادگی سے پوچھا۔
    ” بس! ایسی ہی بات ہے عورت کے کام نہ اس کے ہاتھ کی پکی بریانی آتی ہے، نہ اپنے ہاتھوں پلی اولاد… سب ہاتھ سے نکل جاتا ہے….. وقت بھی۔” وہ اپنی سوچوں میں مگن تھیں۔
    ’’کیا وقت واقعی ظالم ہے؟‘‘ وہ اپنی ہی سوچوں میں الجھ گئیں، اور اس سے پہلے کہ وہ رُکتیں، عائشہ نے ہی ان کی بات کاٹ دی:
    "بچے ٹیوشن سے آنے والے ہوں گے، میں چلتی ہوں۔ مغرب بھی ہونے والی ہے۔”
    اور وہ بس سوچتی رہ گئیں………… وقت ظالم ہے یا انسان؟ جو خود اپنے آپ کو ضائع کر دیتا ہے۔
    "میرے بچے بھی ٹیوشن سے آیا کرتے تھے اور میں بھی بھاگی بھاگی پھرا کرتی تھی، لیکن یہ کہ مغرب بھی ہونے والی ہے، یہ خیال مجھے کیوں نہ آیا؟ اب ساری دھول بیٹھ چکی ہے، بچے دنیا کے راستوں پر نکل گئے ہیں۔ میں نے کیا کھویا کیا پایا؟ کوئی ایک لو تو ایسی لگانا چاہئے تھی۔ کوئی ایک شاخ جو ہر موسم میں ہری رہے، ایک رابطہ ایسا ہوتا جو ہر ربط اور تعلق پر حاوی ہوتا۔ پھر تنہائی یوں تو نہ کاٹتی، پچھتاوے یوں تو نہ گھیرتے، ان کے اندر اک بازگشت ہوئی…..
    "اب ہم دونوں رہ گئے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ بھی اور تنہا بھی۔” اپنے ہم سفر کو دیکھ دیکھ کر وہ سوچتی رہتیں…..
    "ایک یہ شخص ہے اور اس گھر کا خالی پن… بس یہی میری زندگی ہے….. اور…… اور بچوں کے فون ہیں….. جو آتے رہتے ہیں۔”
    ساری عمر کا حاصل یہ خاموشی تھی جو کسی سمجھوتے کی مانند ان دونوں کے درمیان در آئی تھی۔ انہیں کبھی بہت پرُسکون لگتی، بہت بھاتی یہ خاموشی، کہ کائنات کا ساز بھی تو یہی ہے اور کوئی لمحہ ایسا آتا کہ انہیں یہی خاموشی کانٹے کی طرح چبھتی…… کھٹکتی….. اور زخمی کر ڈالتی…
    "کوئی بھی ایسی بات نہیں جو ہم آپس میں کر سکیں؟ بس میرے اندر ہی یہ جوار بھاٹا ہے….. یہ تو بہت پرُسکون…. اپنے انداز سے جی رہا ہے……… یہ کیسا انسان ہے جس کے ساتھ میں نے ساری زندگی بتا دی؟ لیکن کبھی ہمیں چین نا ملا……… ساری زندگی اک آپا دھاپی، اک رولا سا تھا۔”
    اور اب؟ اب کیا ہوا ہے؟ سارے رولے، لڑائی جھگڑے، آپس میں ہی بھڑتے ہوئے اس گھر کی دہلیز پار کر گئے تھے۔ باہر نکل گئے، گھر جھگڑوں سے خالی ہو گیا، اور رشتوں سے بھی۔ لوگوں سے بھی۔ لوگوں کی سانسوں کے دم سے ہی تو گرماگرمی ہے۔ تیری میری اور یہ وہ ہے۔ وہ سب چلے گئے۔ جو بڑے تھے وہ عمر پوری کر کے اگلے جہان سدھار گئے…. جو چھوٹے ہیں وہ پردیس کے لیے نکل گئے۔
    در اصل زندگی کے گزرنے کا ادراک ہر روح کو دکھی کر دیتا ہے۔ بیٹیاں بیاہ دی جاتی ہیں اور ماں سے دور اپنے بکھیڑوں میں بوڑھی ہو جاتی ہیں۔
    بیٹے محنت کا پھاوڑا لے کر گھر سے نکلتے ہیں اور دن رات مشقت کرتے ہیں۔
    ماں گھر بیٹھی یاد کرتی رہتی ہے…. بیٹی بیاہ دی تو پرائی ہوئی، بیٹا کمائی میں لگا تو وہ بھی پرایا ہی سمجھو۔ اب ان کاموں کے بغیر چارا بھی تو کوئی نہیں۔ بھلا بیٹیاں گھر میں رکھی جا سکتی ہیں؟ مچھلی جل کے بغیر رہی ہے کبھی؟ اور بیٹے…….. کمانے نہیں جائیں گے تو گہنے کہاں سے آئیں گے؟ بہو کیسے بیاہ کر لائی جائے گی……… عورت کے گہنے مرد کو مشقت تک لے جاتے ہیں، اور مرد کی مشقت عورت کو گھر گرہستی تک کھینچ لاتی ہے۔
    یوں زندگی گزر جاتی ہے یادیں، خسارے پچھتاوے، اداسی آخری عمر کے ساتھی ہیں……….
    نور النسا بھی اب اس عمر میں ماضی کے سفر پر نکلا کرتیں اور ان کو سمجھ ہی نہ آتی تھی کہ وہ کیا کریں؟ نمازیں پوری کرتیں وظیفے پڑہتیں….. پھر؟ پھر وہی تنہائیاں، وہی یادیں۔
    انہیں وہ وقت یاد آتا جب ان کاموں کے لیے ان کے پاس فرصت نہیں تھی۔ ہک ہا!
    خدا بھی تب یاد آیا جب بندوں نے جان چھڑا لی۔ "تنہائی سے گھبرا کر میں مصلے پر آبیٹھی
    "واہ نور النسا! کیا سودا کیا ہے تم نے بھی، تم جیسی بیبیوں کو ساری عمر گھاٹا ہی ملتا ہے۔ تم بندوں میں گھری خالق کو بھول جاتی ہو اور پھر شکوے کرتی ہو۔”
    نور النسا کا اندر اب بہت بولتا تھا۔ انھیں حیرانی ہوتی کہ اب یہ کون سا وقت ہے بولنے کا؟ ساری عمر اسے دبائے رکھا، باہر کے شور میں اس کی سنی ہی نہیں، اب اور کوئی بچا نہیں تو اسی سے یاری گانٹھ لی ہے میں نے…
    بیٹیوں کے فون آتے، بیٹے صبح شام بات کرتے۔ اب تو فاصلے ہی سمٹ گئے ہیں۔ دور بیٹھے بچوں کو وہ سامنے سکرین پر دیکھ لیتیں۔ دن رات وہ اپنی حاضری لگواتے تھے۔ ماں سے دور ہیں تو کیا ہوا، رابطہ دوری کو گھٹا دیتا ہے۔
    ابھی بھی سب سے چھوٹی بیٹی نائلہ کا فون آیا تھا، وہ امریکا ہوتی ہے۔ پہلے اپنے وقت کے حساب سے فون کیا کرتی تھی تو ماں سے خوب ڈانٹ کھاتی۔ اب ان کے حساب سے کرتی ہے۔
    "میں نے سوچا حاضری لگوا لوں، آج سب سے پہلے میں نے ہی فون کیا ہے ناں؟” وہ ہنس رہی تھی۔ یہاں صبح کے دس بجے تھے، وہاں اس وقت تو رات ہوگی…”
    نور النسا کے اندر سے ایک آہ نکلی… حاضری! ان کا دل ڈوب کر ابھرا….
    وہ دنیاوی لحاظ سے کامیاب گردانی جاتی تھیں۔ ساری اولاد ہی ٹھکانے لگ گئی۔ تسبیح پھرولتی وہ کھو جاتیں۔
    "میں کیسی کیسی پریشانیاں لیے پھرتی تھی؟ بیٹیوں کی شادیاں، بیٹوں کی نوکریاں سارا کچھ ہی تو سدھر گیا۔ ایک یہی کام ہے جو…… جو…… میرے کرنے میں نہ آیا …میری تو حاضری ہی پوری نہیں ہے” ان کی آنکھوں سے آنسو کی جھڑی لگ جاتی۔
    "کیوں ایسا گھاٹے کا سودا کیا میں نے؟”
    وہ خود اپنی ندامت پر حیران ہوتیں کہ ایسا خیال کہاں سے آلپکا انہیں۔ یوں ہی اچانک….. لیکن اچانک تو کچھ بھی نہیں ہوتا۔ جب سے عائشہ سامنے والے گھر میں آئی تھی، نئے کرائے دار…… انہیں بھی ایک سہارا مل گیا۔ آنا جانا ہونے لگا؟ عائشہ جب بھی آتی، اس کی باتوں کے اندر ہی کہیں ٹوٹے جڑے ہوتے
    "بچوں کے پیپرز ہو رہے ہیں… بہت بزی ہوں….. عصرہونے والی ہے”……. کبھی کہتی:
    "اچانک مہمان آگئے تھے ظہر پڑھ رہی تھی میں۔” میں ظہر پڑھ رہی تھی کہ اچانک مہمان آگئے۔
    کبھی اسے بیٹھے بیٹھائے یاد آجاتا:
    "عشا ادا کرنے کے بعد میں کپڑے استری کر رہی تھی کہ امی کا فون آگیا۔” اس کی ساری گفتگو کے دوران ان ٹوٹوں میں وہ الجھ جاتیں۔ عائشہ تو اپنی ساری گفتگو سمیت اپنے گھر لوٹ جاتی لیکن اس کی فجر، ظہر، عصر ان کے ارد گرد کہیں بازگشت کرنے لگتیں۔
    "عائشہ جیسی ہی میں تھی، اور مجھ جیسی ہی عائشہ ہے۔ وہی گھریلو عورت وہی روایتی ذمہ داریاں…. پھر کچھ تو فرق ہے نا….. میں ساری عمر اک بھاگم بھاگ میں ہی رہی۔ کام کام کام!
    ’’یہ بھی کرنا ہے، وہ بھی باقی ہے …..
    اتنا کر لیا ہے….. یہ ہو جائے گا……….. تو وہ کرنا ہے‘‘ کام آگے آگے تھے اور میں ان کے پیچھے ……..
    عائشہ بھی ایسی ہی ہے۔ میری اپنی بیٹیاں بھی دن رات انہی بکھیڑوں میں الجھی رہتی ہوں گی، بہویں بھی۔ لیکن یہ میری روٹین میں عائشہ کی طرح فجر ظہر عصر کیوں نہ تھیں؟ کاش! کبھی زندگی کی رنگا رنگی میں میں خالق کو نہ بھولی ہوتی۔ بچے گھر، شوہر، سسرال، ذمہ داریاں، رشتہ داریاں، محلے داریاں، دوستیاں…….. یہی رونا رہا ساری عمر…… کاش! اے کاش! اس سب میں میں نے اپنی حاضری تو یقینی بنائی ہوتی۔ بس اک حاضری….. ایک سجدہ جو نہ چھوٹا ہوتا۔ تو آج مجھے یہ ایسا جان لیوا پچھتاوا نہ ہوتا…….. سارے دھندے نپٹاتی رہی، بس اک مصلی بچھانا ہی دوبھر رہا میرے لیے۔ کیسا سودا کیا میں نے؟” وہ دن رات اسی سوچ میں گھلتی جاتیں۔

    ٭…٭…٭




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۵ (بیت العنکبوت)

    ’’باجی! آپ کہاں تھیں؟‘‘
    اگلی صبح وہ ملازمہ کے بیل دینے پر جاگی تھی۔ دروازہ کھولنے پر اسے دیکھتے ہی ملازمہ نے پوچھا۔
    ’’میں چند دن اپنے گھر رہنے کے لئے گئی ہوئی تھی۔‘‘ اس نے ٹالنے والے انداز میں کہا۔
    ’’طبیعت ٹھیک ہے آپ کی؟‘‘ ملازمہ نے اس کا چہرہ غور سے دیکھتے ہوئے کہا۔
    ’’ہاں! نہیں ، بس تھوڑا سا بخار ہے اور کچھ نہیں۔‘‘ اس نے مسکرانے کی کوشش کی۔
    ’’کوئی خوش خبری تو نہیں ہے باجی؟‘‘
    وہ بیڈ روم کی طرف جاتے جاتے ملازمہ کے جوش پر ٹھٹکی اور پھر بری طرح شرمندہ ہوئی۔
    ’’ایسی کوئی بات نہیں ہے، تم صفائی کرو۔‘‘
    فون کی بیل ہونے پر، وہ کچن میں اپنے لئے ناشتا بناتے ہوئے باہر نکل آئی۔ وہ سالار تھا جو عام طور پر اسی وقت اسے کال کیا کرتا تھا۔ اتنے دنوں کے وقفے کے بعد فون پر اس کی آواز اسے بے حد عجیب لگی تھی۔
    ’’کیسی طبیعت ہے تمہاری؟‘‘ وہ پوچھ رہا تھا۔
    ’’میں ٹھیک ہوں۔‘‘ اس نے کہا تھا۔
    ’’ناشتا کرکے گئے تھے آفس؟‘‘ اسے کچن میں کوئی استعمال شدہ برتن نظر نہیں آیا تھا۔
    ’’نہیں، لیٹ ہوگیا تھا۔ ناشتے کے لئے ٹائم نہیں تھا۔‘‘
    ’’مجھے جگادیا ہوتا، میں بنادیتی۔‘‘ اس نے کہا۔
    ’’نہیں، مجھے بھوک بھی نہیں تھی۔‘‘ رسمی جملوں کے بعد اب وہ خندق آگئی تھی جس سے دونوں بچنا چاہ رہے تھے اور بچ نہیں پارہے تھے۔ ایک دوسرے سے کچھ کہنے کے لئے ان کے پاس یک دم الفاظ نہیں رہے تھے۔
    ’’اور؟‘‘ وہ خود کوئی بات ڈھونڈنے میں ناکام رہنے کے بعد اس سے پوچھنے لگا۔
    ’’کچھ نہیں۔‘‘ وہ بھی اتنی ہی خالی تھی۔
    ’’رات کو کہیں باہر کھانا کھانے چلیں گے۔‘‘ اس نے کہا۔
    ’’اچھا۔‘‘ گفتگو پھرsquare one پر آگئی۔ سالار نے خدا حافظ کہہ کر فون بند کردیا۔
    وہ بہت دیر ریسیو پکڑے بیٹھی رہی۔ بہت فرق تھا اس گفتگو میں جو وہ ایک ہفتہ پہلے فون پر کرتے تھے اور اس گفتگو میں جو وہ اب کررہے تھے۔ دراڑیں بھرنا زیادہ مشکل تھا کیوں کہ نشان کبھی نہیں جاتے، وہ بھی یہی دقت محسوس کررہے تھے۔
    اس نے زندگی میں اس ایک ہفتے میں جو کچھ سیکھا تھا، وہ شادی کے اتنے مہینوں میں نہیں سیکھا تھا۔ کسی انسان کی محبت کبھی ’’غیر مشروط‘‘ نہیں ہوسکتی۔ خاص طور پر تب، جب کوئی محبت، شادی نام کے رشتے میں بھی بندھی ہو۔ سالار کی محبت بھی نہیں تھی۔ ایک ناخوشگوار واقعہ اسے آسمان سے زمین پر لے آیا تھا۔ وہ زمینی حقائق اسے پہلی بار نظر آئے تھے، جو پہلے اس کی نظروں سے اوجھل تھے۔ وہ صرف محبوبہ نہیں تھی، بیوی بن چکی تھی۔ ایک مرد کے لئے اسے اب زندگی ، دل اور ذہن سے نکالنا زیادہ آسان تھا۔ سالار نے دوسروں کی نظروں میں اس کی عزت ضرور رکھ لی تھی، لیکن اس کی اپنی نظروں میں اسے بہت بے وقعت کردیا تھا۔ خوش فہمیوں اور توقعات کا پہاڑ آہستہ آہستہ ریزہ ریزہ ہورہا تھا۔
    وہ شام کو جلدی گھر آگیا تھا اور وہ جانتی تھی کہ یہ ارادی طور پر تھا۔ ا س کے لئے بیرونی دروازہ کھولنے پر اس نے ہمیشہ کی طرح گرم جوش سے اسے اپنے ساتھ نہیں لگایا تھا۔ اس سے نظر ملانا، مسکرانا اور اس کے قریب آنا شاید اس کے لئے بھی بہت مشکل ہوگیا تھا۔ پہلے سب کچھ بے اختیار ہوتا تھا، اب کوشش کے باوجود بھی نہیں ہو پارہا تھا۔
    کھانے کے لئے باہر جاتے ہوئے بھی گاڑی میں ویسی ہی خاموشی تھی۔ دونوں وقفے وقفے سے کچھ پوچھتے پھر یک حرفی جواب کے بعد خاموشی ہوجاتے۔
    وہ پہلا ڈنر تھا جو انہوں نے ایک دوسرے کے سامنے بیٹھے اپنی ڈنر پلیٹ کو دیکھتے ہوئے کیا تھا اور دونوں نے کھانا کسی دلچسپی کے بغیر کھایا تھا۔
    واپسی بھی اسی خاموشی کے ساتھ ہوئی تھی۔ وہ ایک بار پھر سونے کے لئے بیڈروم میں اور وہ اسٹڈی روم میں چلا گیا۔
    ٭…٭…٭





    اگلے دن وہ تقریباً ایک ہفتے کے بعد ناشتے کی ٹیبل پر تھے۔ بات کرنا، نظر ملانے سے زیادہ آسان تھا اور وہ بات کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ شرمندگی اور ان تکلیف دہ احساسات کو ختم کرنے کی جدوجہد میں مصروف تھے جو اس ٹیبل پر بن بلائے مہمان کی طرح موجود تھے لیکن وہ مہمان ٹیبل چھوڑنے پر تیار نہیں تھے۔
    ایک ہفتہ کے بعد ہی وہ گھر کا بنا ہوا لنچ آفس لے کر جارہا تھا۔ وہ امامہ سے کہہ نہیں سکا کہ اس نے پورا ہفتہ ناشتے سمیت کھانا کھانا ہی چھوڑ دیا تھا۔ وہ گھر اتنے دن اس کے لئے بھوت بنگلہ بنارہا۔ گھر سے نکلتے ہوئے اس نے امامہ سے کہا۔
    ’’میرے دراز میں تمہاری رنگ ہے، وہ لے لینا۔‘‘ امامہ نے جیسے کرنٹ کھا کر اپنا ہاتھ دیکھا۔
    ’’میری رنگ…؟‘‘ وہ رنگ اسے پہلی بار یاد آئی تھی۔
    ’’وہ میں نے کہاں رکھ دی؟‘‘
    ’’میرے آفس کے واش روم میں۔‘‘ اس نے باہر نکلتے ہوئے بے تاثر لہجے میں کہا، وہ کھڑی رہ گئی۔
    ٭…٭…٭
    کئی دنوں کے بعد اس رات سالار نے رغبت سے کھانا کھایا تھا۔ وہ عام طور پر ایک چپاتی سے زیادہ نہیں کھاتا تھا، لیکن آج اس نے دو چپاتیاں کھائی تھیں۔
    ’’اور بنادوں؟‘‘ امامہ نے اسے دوسری چپاتی لیتے ہوئے دیکھ کر پوچھا۔ وہ خود چاول کھا رہی تھی۔
    ’’نہیں، میں پہلے ہی اوور ایٹنگ کررہا ہوں۔‘‘ اس نے منع کردیا۔
    امامہ نے اس کی پلیٹ میں کچھ سبزی ڈالنے کی کوشش کی، اس نے روک دیا۔
    ’’نہیں، میں ویسے ہی کھانا چاہ رہا ہوں۔‘‘ امامہ نے کچھ حیرانی سے اس کا چہرہ دیکھا۔ وہ بے حد گہری سوچ میں ڈوبا اس چپاتی کے لقمے لے رہا تھا۔ وہ جانتی تھی کہ اسے اس کے ہاتھ کی چپاتی پسند ہے، لیکن اس نے اسے صرف چپاتی کھاتے پہلی بار دیکھا تھا۔ اس دن پہلی بار اس نے آخری لقمہ اسے نہیں دیا۔ وہ کھانا کھانے کے بعد اٹھ گیا۔ وہ برتن اکٹھے کررہی تھی، جب وہ کچھ پیپرز لئے آیا تھا۔
    ’’یہ کیا ہے؟‘‘ امامہ نے کچھ حیرانی سے ان پیپرز کو دیکھا جو وہ اس کی طرف بڑھا رہا تھا۔
    ’’بیٹھ کر دیکھ لو۔‘‘ وہ خود بھی کرسی کھینچتے ہوئے بیٹھ گیا۔
    وہ بھی کچھ الجھے انداز میں پیپرز لے کر بیٹھ گئی۔
    پیپرز پر ایک نظر ڈالتے ہی اس کا رنگ فق ہوگیا تھا۔
    ’’طلاق کے پیپرز ہیں یہ؟‘‘ وہ بمشکل بول سکی۔
    ’’نہیں، میں نے اپنے وکیل سے ایک divorce deed تیار کروایا ہے۔ اگر کبھی خدانخواستہ ایسی صورت حال ہوگئی کہ ہمیں الگ ہونا پڑا تو یہ تمام معاملات کو پہلے سے کچھ خوش اسلوبی سے طے کرنے کی ایک کوشش ہے۔‘‘
    ’’مجھے تمہاری بات سمجھ نہیں آئی۔‘‘ وہ اب بھی حواس باختہ تھی۔
    ’’ڈرو مت… یہ کوئی دھمکی نہیں ہے۔ میں نے یہ پیپرز تمہارے تحفظ کے لئے تیار کروائے ہیں۔‘‘
    سالار نے اس کے کانپتے ہوئے ہاتھ کو پانے ہاتھ میں لیا۔
    ’’کیسا تحفظ ؟‘‘ اسے اب بھی ٹھنڈے پسینے آرہے تھے۔
    ’’میں نے علیحدگی کی صورت میں فنانشل سیکیورٹی اور بچوں کی کسٹڈی تمہیں دی ہے۔‘‘
    ’’لیکن میں تو طلاق نہیں مانگ رہی۔‘‘ اس کی ساری گفتگو اس کے سر کے اوپر سے گزر رہی تھی۔
    ’’میں بھی تمہیں طلاق نہیں دے رہا، صرف قانونی طور پر خود کو پابند کررہا ہوں کہ میں علیحدگی کے کیس کو کورٹ میں نہیں لے جاؤں گا۔ فیملی کے ذریعے معاملات کو طے کرنے کی کوشش کریں گے اور اگر نہ ہوئے تو میں تمہیں علیحدگی کا حق دے دوں گا اور اسی صورت میں اگر ہمارے بچے ہوئے تو ان کی کسٹڈی تمہیں دے دوں گا۔ ایک گھر اور کچھ رقم بھی تمہیں دوں گا۔ جو بھی چیزیں اس سارے عرصے میں حق مہر، تحائف، جیولری یا روپے اور پراپرٹی کی صورت میں تمہیں دوں گا، وہ سب خلع یا طلاق، دونوں صورتوں میں تمہاری ملکیت ہوں گی، میں ان کا دعویٰ نہیں کروں گا۔‘‘
    ’’یہ سب کیوں کررہے ہو تم؟‘‘ اس نے بے حد خائف انداز میں اس کی بات کاٹی۔
    ’’میں اپنے آپ سے ڈر گیا ہوں امامہ۔‘‘ وہ بے حد سنجیدہ تھا۔
    ’’میں کبھی سوچ نہیں سکتا تھا کہ مجھے تم پر اتنا غصہ آسکتا ہے۔ میں نے تمہیں گھر سے نہیں نکالا، لیکن میں نے اس رات یہ پروا نہیں کی کہ تم گھر سے جارہی ہو تو کیوں جارہی ہو اور کہاں جارہی ہو۔ میں اتنا مشتعل تھا کہ مجھے کوئی پروا نہیں تھی کہ تم بحفاظت کہیں پہنچی بھی ہو یا نہیں۔‘‘ وہ بے حد صاف گوئی سے کہہ رہا تھا۔
    ’’اور پھر اتنے دن میں نے ڈاکٹر صاحب کی بھی بات نہیں سنی۔ I just wanted to punish you.۔ ‘‘وہ ایک لمحہ کے لئے رکا۔
    ’’اور اس سب نے مجھے خوف زدہ کردیا۔ میرا غصہ ختم ہوا تو مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ میں اتنا گر سکتا ہوں، میں تمہارے ساتھ اس طرح بی ہیو کرسکتا ہوں، لیکن میں نے کیا۔ بہر حال میں انسان ہی ہوں، تم کو ساتھی کے بجائے حریف سمجھوں گا تو شاید آئندہ بھی کبھی ایسا کروں۔ ابھی شادی کو تھوڑا وقت ہوا ہے، مجھے بہت محبت ہے تم سے، میں بہت خوشی خوشی یہ سارے وعدے کرسکتا ہوں تم سے، سب کچھ دے سکتا ہوں تمہیں، لیکن کچھ عرصے بعد کوئی ایسی سچویشن آگئی تو پتا نہیں ہمارے درمیان کتنی تلخی ہوجائے۔ تب شاید میں اتنی سخاوت نہ دکھا سکوں اور ایک عام مرد کی طرح خودغرض بن کر تمہیں تنگ کروں۔ اس لئے ابھی ان دنوں، جب میرا دل بہت بڑا ہے تمہارے لئے، تو میں نے کوشش کی ہے کہ یہ معاملات طے ہوجائیں صرف زبانی وعدے نہ کروں تمہارے ساتھ۔ میری طرف سے میرے والد کےsignatures ہیں اس پر، تم ڈاکٹر صاحب سے بھی اس پر سائن کروالو۔ ڈاکٹر صاحب چاہیں تو یہ پیپرز وہ اپنے پاس رکھ لیں یا تم اپنے لاکر میں رکھوادو۔‘‘ وہ آنکھوں میں آنسو لئے اس کا چہرہ دیکھتی رہی۔
    ’’میں نے تو تم سے کوئی سیکیورٹی نہیں مانگی۔‘‘ اس کی آواز بھرائی ہوئی تھی۔
    ’’لیکن مجھے تو دینی چاہیے نا… میں یہ پیپرز جذبات میں آکر نہیں دے رہا ہوں تمہیں، یہ سب کچھ بہت سوچ سمجھ کر کررہا ہوں۔ تمہارے بارے میں بہت پوزیسو، بہت ان سیکیور ہوں امامہ…‘‘
    وہ ایک لمحہ کے لئے ہونٹ کاٹتے ہوئے رکا۔
    ’’اور اگر کبھی ایسا ہوا کہ تم مجھے چھوڑنا چاہوتو میں تمہیں کتنا تنگ کرسکتا ہوں، تمہیں اندازہ بھی نہیں ہے، لیکن مجھے اندازہ ہوگیا ہے۔‘‘ وہ پھر رک کر ہونٹ کاٹنے لگا تھا۔
    ’’تم میرا ایسا واحد اثاثہ ہو، جسے میں پاس رکھنے کے لئے فیئر اور فاؤل کی تمیز کے بغیر کچھ بھی کرسکتا ہوں اور یہ احساس بہت خوفناک ہے میرے لئے۔ میں تمہیں تکلیف پہنچانا چاہتا ہوں، نہ تمہاری حق تلفی چاہتا ہوں۔ ہم جب تک ساتھ رہیں گے، بہت اچھے طریقے سے رہیں گے اور اگر کبھی الگ ہوجائیں تو میں چاہتا ہوں ایک دوسرے کو تکلیف دیئے بغیرالگ ہوں ۔‘‘
    وہ اس کا ہاتھ تھپکتے ہوئے اٹھ کر چلا گیا تھا۔ وہ پیپرز ہاتھ میں لئے بیٹھی رہی۔
    ٭…٭…٭
    ’’پودوں کو پانی کب سے نہیں دیا؟‘‘ اگلی صبح اس نے ناشتے کی ٹیبل پر سالار سے پوچھا۔
    ’’پودوں کو ؟‘‘ وہ چونکا۔
    ’’پتا نہیں… شاید کافی دن ہوگئے۔‘‘ وہ بڑبڑایا تھا۔
    ’’سارے پودے سوکھ رہے تھے۔‘‘ وہ اس کا چہرہ دیکھتے ہوئے حیران ہوئی تھی۔ وہ جم سے آنے کے بعد روز صبح پودوں کو پانی دیا کرتا تھا۔ اس سے پہلے کبھی امامہ نے اسے اپنی روٹین بھولتے نہیں دیکھا تھا۔ وہ سلائس کھاتے کھتے یک دم اٹھ کر ٹیرس کا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا۔ چند منٹوں کے بعد وہ کچھ پریشان سا واپس آیا تھا۔
    ’’ہاں، مجھے خیال ہی نہیں رہا۔‘‘ اس صبح وہ پودوں کو پانی دے کر آئی تھی۔
    ’’تمہاری گاڑی فی الحال میں استعمال کررہا ہوں۔ دو چار دن میں میری گاڑی آجائے گی تو تمہاری چھوڑدوں گا۔‘‘ اس نے دوبارہ بیٹھتے ہوئے امامہ سے کہا۔
    ’’تمہاری گاڑی کہاں ہے؟‘‘
    ’’ورکشاپ میں ہے لگ گئی تھی۔‘‘ اس نے عام سے لہجے میں اسے کہا، وہ چونک گئی۔
    ’’کیسے لگ گئی؟‘‘
    ’’پتا نہیں کیسے لگ گئی، میں نے کسی گاڑی کے پیچھے مار دی تھی۔‘‘ وہ کچھ معذرت خواہانہ انداز میں اسے بتارہا تھا۔ وہ اس کا چہرہ دیکھتی رہی، وہ سلائس پر مکھن لگا رہا تھا۔ وہ ایکسپرٹ ڈرائیور تھا اور یہ ناممکن تھا کہ وہ کسی گاڑی کو پیچھے سے ٹکر مار دے۔
    گھر میں آنے والی دراڑیں مرد اور عورت پر مختلف طریقے سے اثر انداز ہوتی ہیں۔ عورت کی پریشانی آنسو بہانے، کھانا چھوڑ دینے اور بیمار ہوجانے تک ہوتی ہے۔ مرد ان میں سے کچھ بھی نہیں کرتا اس کا ہر ردعمل اس کے آس پاس کی دنیا پر اثر انداز ہوتا ہے، مگر وہ ایک رشتہ دونوں کے وجود پر اپنا عکس چھوڑتا ہے۔ مضبوط ہو تب بھی، کمزور ہو تب بھی، ٹوٹ رہا ہو تب بھی دونوں اپنی مرضی سے اس رشتے سے نکلنا چاہ رہے ہو ں ، تب بھی۔
    امامہ نے اس کے چہرے سے نظریں ہٹالیں۔
    ٭…٭…٭




  • سرہانے کا سانپ — شاذیہ خان

    صبح اُٹھ کر اس نے مُندی مُندی آنکھوں سے موبائل اُٹھایا اور Inboxمیں آئے ہوئے بہت سے میسجز کو چھوڑ کر احسن کا میسج پڑھا…
    ’’پیاری ربیعہ خوش رہو!
    آج کے بعد احسن نام کا کوئی شخص تمہاری زندگی میں نہیں رہے گا… بچپن سے اب تکبہت چاہا ہے میں نے تمہیں ۔ تمہارے سوا کبھی کسی کے بارے میں نہیں سوچا… اور تم نے ہی مجھے ٹھکرا دیا… یہ میں برداشت نہ کر پایا۔ میں جلد تمہاری دنیا سے دور چلا جائوں گا… خوش رہو… امید تو نہیں ہے کہ اللہ مجھے اس بات پر معاف کرے گا لیکن تم اللہ سیمیرے اس گناہ کی معافی ضرور طلب کرنا پلیز ربیعہ یہ میری آخری خواہش ہے۔
    احسن
    ربیعہ کی آنکھیں اس مسیج پر پوری طرح کھل گئیں۔یہ کیا کیا بے وقوف تم نے؟ وہ ہڑبڑا کر اُٹھ بیٹھی اور فون پر کال ملائی۔ دوسری طرف سے مطلوبہ نمبر بند آنے کی نوید سنائی دے رہی تھی…اس نے کافی دیر ٹرائی کیا، پھر خالا جی کے گھر کا نمبر ملایا جو کسی نے اٹینڈ نہ کیا۔ اس پر ربیعہ ہڑبڑا کر دروازے کی سمت بھاگی۔ جیسے ہی دروازہ کھولا دروازے پر اماں بوکھلائی ہوئی کھڑی تھیں۔
    ’’ربیعہ احسن نے نیند کی گولیاں کھالیں… ابھی باجی کا فون آیا تھا جلدی سے گاڑی نکالو۔‘‘ ان کے منہ سے آواز نہیں نکل رہی تھی۔
    ’’لیکن اماں کیوں کیا احسن نے ایسا…؟‘‘اس نے بھی بوکھلا کر پوچھا۔
    ’’یہ تو پوچھ رہی ہے؟ دیکھ ربیعہ اگر میرے احسن کو کچھ ہوا تو میں تجھے کبھی معاف نہیں کروں گی۔‘‘انہوں نے انگلی اُٹھا کر اُسے وارن کیا۔ اماں کی آنکھوں میں اس وقت وحشت ناچ رہی تھی… اور وہ اندر ہی اندر احسن کے لیے دعائیں کررہی تھی۔’’یا میرے مالک !احسن کو زندگی دے دے۔‘‘





    معمولی سی شکل صورت والا احسن ربیعہ کا خالہ زاد تھا۔ بچپن سے اس کے لیے بہت جذباتی اور بہت خیال رکھنے والا لیکن وہ اس کی حد سے زیادہ پروا کرنے کی وجہ سے اکثر چڑ جاتی… بے تحاشا حسین اور خوب صورت ربیعہ نے کبھی احسن کو اپنے ایک اچھے دوست سے زیادہ اہمیت نہ دی تھی… لیکن وہ اچھے دوست سے ایک خاص دوست بننے کی ہرممکن کوشش کرتا رہا۔ ہر جگہ جہاں ربیعہ کو اس کی مدد کی ضرورت ہوتی وہ بنا کہے پہنچ جاتا اور وہ حیران رہ جاتی کہ اس کو کیسے خبر ہوئی؟ وہ ربیعہ کے لیے اپنے دل میں جیسے بھی جذبات رکھے لیکن ربیعہ کے دل میں اس کے لیے کسی خاص جگہ کی گنجائش نہ تھی۔ وہ چاہ کر بھی اس سے محبت نہ کر پائی… اپنے آگے پیچھے پھرتے احسن سے اُسے چڑ ہونے لگی۔ خوامخوا ہر بات میں ٹانگ اڑاتا، اب اکثر وہ اسے چڑانے لگاتھا۔ اس نے اسی بات کا اظہار اپنی ماں سے بھی کردیا تو وہ ہنس پڑیں۔
    ’’پگلی ہم دونوں بہنیںتیرے اور اس کے بارے میں بہت کچھ سوچے بیٹھے ہیں۔ تیری خالہ تو تیرے لیے رشتہ بھی دے چکی ہیں۔‘‘انہوں نے انکشاف کیا۔
    ’’کیا سوچے بیٹھی ہیں اماں؟‘‘ اس نے حیرانی سے آنکھیں پھاڑتے ہوئے پوچھا۔
    ’’یہی کہ ہم دونوں بہنیں تم دونوں کی وجہ سے ایک نئے رشتے میں بندھ جائیں۔‘‘
    ’’No Never اماں کبھی سوچئے گا بھی مت کہ میں آپ کی بات پر سر جھکا دوں گی۔‘‘
    ’’کیوں کیا برائی ہے احسن میں؟‘‘انہیں حیرانی ہوئی۔
    ’’برائی تو کچھ نہیں، بس وہ مجھے پسند نہیں اور آپ کو پتا ہے بچپن سے ایک چیز اگر مجھے پسند نہیں تو کوئی قوت اس کے لیے مجھے راضی نہیں کرسکتی۔‘‘
    ’’احسن کوئی چیز نہیں ہے ربیعہ، ایک جیتا جاگتا انسان ہے اور بچپن سے تم دونوں ایک ساتھ پلے بڑھے ہو، ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھتے ہو۔‘‘انہوں نے سمجھایا۔
    ’’یہی تو مسئلہ ہے اماں کہ میں اُسے اچھی طرح سمجھتی ہوں، مجھے شوہر چاہیے ایک Puppyنہیں جو دم ہلائے میرے آگے پیچھے پھرتا رہے، میری ہر غلطی کو صحیح کہتا ہوا ہر بات مانتا ہوا… میں نے شوہر کے لیے بالکل الگ سا تصور بنایا ہوا ہے۔‘‘وہ چڑ گئی ان کی بات پر۔
    ’’ جب وہ شوہر بنے گا تو اس میں ساری خصوصیات شوہروں والی آجائیں گی یہ تو دیکھو کہ وہ کتنا چاہتا ہے تمہیں۔‘‘انہوں نے پیار سے اُس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
    ’’اماں آپ خالہ جی کو منع کردیں، میں نے نہیں کرنی احسن سے شادی…‘‘اس نے منہ بنایا۔
    ’’دیکھو ربیعہ جذباتی فیصلہ مت کرو… تھوڑا ٹائم لے لو سوچو اس سے بات کر لو پھر…‘‘
    ’’اماں میں نے کہہ دیا نا میرا فیصلہ تب بھی یہی ہوگا اور اب بھی یہی ہے، آپ صاف صاف خالہ جی کو منع کردیں کہ میں ان کی یہ خواہش پوری نہیں کرسکتی۔‘‘اس نے اماں کی بات کاٹ دی۔
    ’’تم بہت بڑی غلطی کررہی ہو ربیعہ اتنا چاہنے والا لڑکا قسمت والوں کو ملتا ہے۔‘‘وہ تاسف سے بولیں۔
    ’’ہاں تو ملنے دیں، کسی اور کی قسمت سنورنے دیں، جو میری قسمت میں ہوگا مجھے مل جائے گا۔‘‘اس نے تنفر سے جواب دیا اور وہ اُسے دیکھ کر رہ گئیں۔
    یہ کل کی بات تھی کہ کس دل سے انہوں نے بہن کو انکار کیا اور آج یہ خبر آگئی۔
    وہ دونوں ہسپتال پہنچیں تو خالہ کوریڈور میں ہی کھڑی رو رہی تھیں۔ وہ دونوں ان کے پاس آگئیں۔
    ’’دیکھ لیا تم نے اس انکار کا انجام میرا بیٹا آج موت کی کش مکش میں ہے۔… اگر اس کو کچھ ہوگیا تو ربیعہ یاد رکھنا ساری عمر میری بددعائوں کے سائے میں رہو گی۔‘‘ ان کے لہجے کی آگ ربیعہ کو جلا گئی۔ وہ خالہ جی جو کبھی دعائیں دیتے نہیں تھکتی تھیں اب منہ بھر بھر کر کوسنے دے رہی تھیں۔
    ’’خالہ جی کیسا ہے وہ؟‘‘ اب اُسے واقعی دکھ ہورہا تھا۔
    ’’مرنے کے قریب ہے ڈاکٹر نے کہا ہے کہ چوبیسگھنٹے اہم ہیں اس کے لیے کچھ بھی ہوسکتا ہے۔‘‘ یہ کہتے ہوئے وہ بہت کرب سے رو پڑیں اور پھر اس نے چوبیسگھنٹے صرف ایک دعا مانگنے میں وقف کردیئے کہ’’ اے میرے مالک اسے بچا لے۔‘‘ نہ جانے اللہ نے کہاں سے اس کے دل میں احسن کے لیے اتنی اپنائیت بھر دی تھی۔ اگلے دن چوبیسگھنٹے پورے ہوئے تو احسن نے آنکھیں کھول دیں اور اس نے بھی سکون کی سانس لی کہ ایک بے گناہ کا خون اس کے سرپر نہیں۔ورنہ وہ ساری عمر خالہ جی اور اپنے گھر والوں سے نظریں نہیں ملا سکتی تھی۔
    ان دونوں کی منگنی اگلے مہینے ہی طے پا گئی۔ منگنی کی رات احسن بہت خوش نظر آرہا تھا اور یہ خوشی اس کے چہرے پر بھی پوری طرح نظر آرہی تھی۔ ربیعہ بھی خوش تھی لیکن کہیں اندر ایک گہری سی اُداسی بھی تھی۔ شاید اس کے ذہن میں اپنے شوہر کے لیے جو خاکہ تھا احسن اس پر پورا نہیں اترتا تھا لیکن اس کی خودکشی نے ربیعہ کے دل میں کہیں نہ کہیں ایک نرم گوشہسا پیدا کردیا تھا کہ ایک شخص جو آپ کے لیے اپنی زندگی کو بھی خاطر میں نہیں لارہا اور زندگی جیسی چیز اس نے کتنی آسانی سے اس پر نثار کردی، کچھ تو ہے اس کی محبت میں… اور پھر اس نے بھی اپنی پوری زندگی اسی ایک شخص کے لیے وقف کرنے اور لُٹا نے کا فیصلہ کرلیا۔
    شادی کی ساری تیاریاں ان دونوں نے مل کر کیں۔ ساری چیزیں ربیعہ کی پسند سے خریدی گئیں اور بڑی دھوم دھام سے ربیعہ اس کی زندگی میں چلی آئی۔ اس کی خوشی چھپائے نہیں چُھپ رہی تھی۔ خالہ جی ہاتھ اُٹھا اُٹھا کر ان کے لیے دعائیں کررہی تھیں۔
    شوہر بننے کے بعد جیسے وہ اس کے بارے میں اور زیادہ possiveہوگیا تھا۔ربیعہ کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھتا، اُسے کیا کھانا ہے؟ کیا پہننا ہے؟ کب سونا ہے؟ یہ ساری تفصیلات اُس سے زیادہ احسن کو پتا ہوتیں۔ آفس جانے سے پہلے ربیعہ کو کبھی نہیں اٹھاتا بلکہ اکثر اس کا ناشتہ بنا کر بھی رکھ جاتا۔ وہ روز بہت شرمندہ شرمندہ سی اٹھتی اور خود کو بُرا بھلا کہتی کہ یار وہ تمہارا شوہر ہے اس کو تمہاری توجہ چاہیے، ٹائم چاہیے۔ صُبح اٹھنا اور اٹھ کر ناشتہ بنانا اس کو کبھی پسند نہ تھا لیکن آہستہ آہستہ اس نے احسن کے لیے اُٹھنا شروع کردیا۔ اس کی پسند کا ناشتہ بناتی اور دوپہر کے کھانے کے لیے بھی پوچھتی، پہلے تو وہ دوپہر کا کھانا آفس سے ہی منگوالیتا تھا لیکن اب وہ خود لنچ بکس بنا کر اُسے بھیجتی۔ جتنی محبت وہ اس سے کرتا تھا اس کی تھوڑی بہت مقدار تو وہ بھی اس کو لوٹا سکتی تھی۔ اکثر وہ رات کو باہر ہی کھانا کھاتے۔ گھر میں ایک کام والی آتی تھی۔ جو کچن اور صفائی کے کام کرتی اور ربیعہ کو اس سے کافی سہولت تھی۔
    خالہ اس کی شادی کے بعد بڑے بھائی کے پاس شفٹ ہوگئیں تھیں تاکہ ان دونوں کے درمیان under standingپیدا ہو جائے اور ان کی سٹریٹیجی کامیاب بھی ہوگئی۔ دونوں کے درمیان ایک دوسرے کی محبت اور خیال پختہ ہوتا جارہا تھا۔ محبت ’’خیال‘‘ کا نام ہی تو ہے کسی کا بے تحاشا خیال رکھنا، اس کے اُٹھنے، بیٹھنے، چلنے پھرنے، کھانے پینے یا اس کے ناراض ہونے پر دُکھی ہو جانا اور منانے کی ہرممکن کوشش کرنا اس کی چھوٹی سی بیپروائی کو بھی بہت زیادہ محسوس کرنا یہی تو محبت کی روح ہے۔
    وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم بن گئے تھے اب کبھی کبھی ربیعہ کو ہنسی آتی کہ کس طرح احسن کی جو باتیں اُسے Irretateکرتی تھیں اور آج اس رشتے نے انہی باتوں کو محبت کا روپ دے دیا۔ اب اگر ایک لمحہ بھی وہ اُس کی کسی بات کو بھول جاتا تھا تو وہ دُکھی ہو جاتی کہ اس نے خیال کیوں نہ کیا۔ جیسے آج دونوں بازار گئے اور دکان دکان پھرتے اُسے ایک انگوٹھی بہت پسند آئی۔ پسند کے رنگ ربیعہ کے آنکھوں میں اپنی پوری قوت سے جھلملائے جسے احسن نے بھی پوری طرح محسوس کرلیا لیکن مہینے کے آخری دنوں میں چالیس ہزار کی رقم نے اسے ایک لمحہ سوچنے پر مجبور کردیا۔ بہت بے دلی سے ربیعہ نے اس کی طرف دیکھا اور اس کی کش مکش کو محسوس کرتے ہوئے انگوٹھی واپس رکھ دی۔ دل میں تھوڑا غبار سا آگیا۔گھر آکر بھی وہ تھوڑا اُکھڑی اُکھڑی سی تھی۔ جسے وہ شدت سے محسوس کررہا تھا… کھانا بھی ربیعہ نے بے دلی سے کھایا۔ کمرے میں آتے ہی اس نے کپڑے چینج کیے اور ڈریسنگ پر بیٹھی منہ ہاتھ دھو کر لوشن لگا رہی تھی کہ وہ پاس ہی آکر کھڑا ہوگیا۔اور بہت غور سے اس کو دیکھتا رہا۔
    ’’کیا ہوا ناراض ہو؟‘‘ربیعہ کو اپنی طرف گھماتے ہوئے اُس نے پوچھا۔
    ’’نہیں ناراضگی کیسی؟‘‘ہاتھ میں موجود لوشن کہنیوں پر ملتے ہوئے وہ اپنے لہجے کے روکھے پن پر قابو نہ پاسکی۔
    ’’کیوں کہ تمہیں تمہاری پسند کی چیز نہیں لے کر دی۔‘‘وہ نہ جانے کیا پوچھنا چاہ رہا تھا۔
    ’’اتنا سب کچھ تو لے دیا ایک چیز رہ گئی تو کوئی بات نہیں‘‘ اس نے بے پروائی ظاہر کرنے کی پوری کوشش کی۔
    ’’بات کیسے نہیں تمہاری آنکھوں میں اس انگوٹھی کو دیکھ کر جو چمک ابھری تھی اتنا تو مجھے دیکھ کر بھی نہیں آتی۔‘‘ اس نے مزاحیہ انداز میں کہا۔
    ’’Very funny احسن زیادہ بکواس نہ کرو۔ ایسا کچھ نہیں تھا۔‘‘اس نے آنکھیں نکالیں۔
    ’’ایسا تھا میں تمہیں جانتا ہوں۔‘‘وہ بہت پختہ تھا اپنی بات میں اسی لیے پُریقین انداز میں بولا۔
    ’’کیا جانتے ہو؟‘‘اُس نے اسی انداز میں پوچھا۔
    ’’یہی کہ اول تو تمہیں کوئی چیز پسند نہیں آتی اور اگر آجائے تو تمہارے دل سے مشکل سے نکلتی ہے۔‘‘
    ’’تمہاری خام خیالی ہے، مجھے تو یاد بھی نہیں۔‘‘بے پروائی سے کندھے اُچکا کر بولی۔
    ’’ادھر دیکھو میری طرف۔‘‘ اس نے ربیعہ کا چہرہ اپنی طرف گھمایا تو ربیعہ نے ایک نظر ڈال کر اپنی نظریں جھکا لیں۔
    ‘‘جھوٹ بول رہی ہونا، جب ہی نظریں نہیں ملا رہیں۔‘‘وہ بہت پیار سے بولا۔
    اففف! احسن تمہاری آنکھوں میں detactor لگے ہوئے ہیں، کتنی آسانی سے سکین کرلیتے ہو بندے کے اندر اُتر کر کوئی جھوٹ بول ہی نہیں سکتا۔‘‘وہ ہتھیار ڈالنے والے انداز میں بولی۔
    ’’اچھا! جلدی سے آنکھیں بند کرو۔‘‘وہ زور دے کر بولا۔
    ’’کیوں؟‘‘اس نے حیرانی سے پوچھا۔
    ’’یار بند کرو آنکھیں پلیز!‘‘اس نے التجا کی۔




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۴ (بیت العنکبوت)

    وہ عید کے دوسرے دن رات کی فلائٹ سے واپس لاہور آگئی تھی کیوں کہ اگلی رات آٹھ بجے کی فلائٹ سے وہ واپس آرہا تھا۔ وہ زود رنجی اور حساسیت جو پچھلے چار ہفتوں سے اسے ناخوش رکھے ہوئے تھی، وہ یک دم جیسے کہیں غائب ہوگئی تھی۔
    اور چار ہفتے کے بعد بالآخر اس نے کیک کا وہ ٹکڑا اور وہ کین ڈسپوز آف کردیئے۔
    اگر فرقان کو سیدھا ہاسپٹل سے ائیر پورٹ نہ جانا ہوتا تو وہ خود اسے ریسیو کرنے چلی جاتی، وہ کچھ اتنی ہی ایکسائیٹڈ ہورہی تھی۔
    نو بج کر پینتالیس منٹ پر بالآخر ڈور بیل بجی، اسے دروازے تک پہنچنے میں سیکنڈز لگے تھے۔
    ’’خدایا! کیا خوشی اس کو کہتے ہیں جو اس شخص کے چہرے پر پہلی نظر ڈالتے میں نے محسوس کی ہے؟‘‘
    اس نے دروازہ کھول کر ڈور ہینڈل پر اپنا کپکپاتا ہاتھ رکھے سالار کو دیکھ کر اچنبھے سے سوچا تھا۔
    فرقان سے باتیں کرتا دروازہ کھلنے کی آواز پر وہ سیدھا ہوا اور ان دونوں کی نظریں ملیں۔ وہی گرم جوش مسکراہٹ، جس کی وہ عادی تھی اور ہمیشہ کی طرح سلام میں بھی پہل اسی نے کی تھی۔ وہ اسے دیکھتے ہی چند لمحوں کے لئے جیسے ساکت ہوگئی تھی۔
    ’’امامہ! سامان کی ڈلیوری دینے آیا ہوں، چیک کر لو کوئیbreakage یا damageتونہیں ہے۔‘‘ فرقان نے ایک سوٹ کیس کھینچ کر اندر لے جاتے ہوئے اس کو چھیڑا۔ سالار مسکرایا۔
    امامہ نے سلام کا جواب دینے کی کوشش کی تھی، لیکن اس کے گلے میں کوئی گرہ لگنے لگی تھی۔ بات گلے کی گرہ تک رہتی تو ٹھیک تھی، لیکن آنکھوں میں پانی کیسے اور کیوں آگیا تھا؟ وہ آگے بڑھا اور اس نے ہمیشہ کی طرح اسے گلے لگایا، جیسے وہ آفس سے آنے کے بعد لگایا کرتا تھا۔ بے اختیار،بے ساختہ آنسوؤں کا ایک اور ریلا آیا۔ یہی چیز تو وہ ڈھونڈ تی پھر رہی تھی، پچھلے چار ہفتوں سے یہی نرم لمس، اپنے گرد بازوؤں کا یہی حصار۔ اس کے ساتھ لگے اس نے پہلی بار محسوس کیا کہ اس کے جسم سے اٹھتی کلون کی مہک، ڈریسنگ ٹیبل پر کلون کی شیشی سے اٹھتی مہک سے بالکل الگ تھی۔ وہ اس کے جسم پر لگنے کے بعد زیادہ مسحور کن تھی، زیادہ جان لیو اتھی۔
    ’’کیسی ہو تم؟‘‘ وہ اس سے پوچھ رہا تھا۔ گلے کی گرہیں اور بڑھ گئیں تھیں۔ اس نے اب اسے خود سے الگ کیا اور اس کا چہرہ اور آنسو دیکھے۔
    ’’کیا ہوا؟‘‘ وہ ٹھٹکا اور سوٹ کیس اندر لے جاتے ہوئے فرقان نے پلٹ کر دیکھا۔





    ’’میں ابھی… ابھی سلاد کے لئے پیاز کاٹ رہی تھی۔‘‘ اس نے کچھ گھبراہٹ میں مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں کہا تھا۔ پھر شاید اسے خود ہی یہ بہانہ کمزور لگا۔ ’’وہ سر میں بھی کچھ درد تھا… اور فلو تھا۔‘‘ وہ فرقان کی مسکراتی ہوئی نظروں سے کچھ گڑبڑائی تھی۔
    سالار نے فرقان کو نظر انداز کیا اور اسے ایک بار پھر ساتھ لگاتے ہوئے کہا۔
    ’’تو یار! کوئی میڈیسن لینی چاہیے تھی۔‘‘
    ’’کوکنگ رینج پر کچھ رکھ کر آئی ہوں۔‘‘ وہ رکے بغیر کچن میں چلی آئی۔
    اس کے سامنے کھڑے رہ کر، اس سے نظریں ملاکر، جھوٹ بولنا بڑا مشکل ہوگیا تھا۔ سنک میں چہرے پر پانی کے چھپاکے مارنے کے بعد اس نے کچھ پانی پیا۔ آواز کی تھرتھراہٹ صرف اسی طرح ختم ہوسکتی تھی۔ وہ دونوں اب اس کے عقب، لاؤنج میں، کچن کاؤنٹر کے پاس کھڑے باتیں کررہے تھے اور ان میں سے کوئی بھی اس کی طرف متوجہ نہیں تھا۔ اپنا چہرہ کچن رول سے تھپتھپا کر اس نے چند گہرے سانس لے کر خود کو نارمل کیا۔
    ’’بیٹھو! کھانا کھا کر جاؤنا۔‘‘ وہ جب لاؤنج میں آئی تو سالار، فرقان سے کہہ رہا تھا۔
    ’’نہیں، اس وقت نہیں، کھانے پر انتظار کررہے ہوں گے بچے۔ کچھ دنوں کے بعد چلیں گے کہیں ڈنر کے لئے…‘‘ وہ بیرونی دروازہ کی طرف جاتے ہوئے بولا۔ سالار دروازے تک اسے چھوڑنے گیا۔ وہ کچن میں آکر کھانے برتن نکالنے لگی۔
    وہ دروازے سے واپسی پرکچن میں سیل فون پر بات کرتے ہوئے آیا تھا، فون پر سکندر تھے۔ امامہ نے اسے کچن کاؤنٹر پر رکھی پانی کی بوتل کو کھولتے دیکھا۔ فون، کندھے اور کان کے بیچ دبائے اس نے بوتل کا ڈھکن کھولا۔ امامہ نے اس کے گلاس کی طرف جانے سے پہلے، ایک گلاس لاکر اس کے سامنے کاؤنٹر پر رکھ دیا۔ سالار کے ہاتھ سے بوتل لے کر اس نے گلاس میں اس کے لئے پانی ڈالا۔ سالار نے سکندر سے بات کرتے ہوئے سرکے اشارے سے اس کاشکریہ ادا کیا اور پھر پانی کا گھونٹ بھرتے ہوئے کہا۔
    ’’پاپا، خیریت پوچھ رہے ہیں تمہاری۔‘‘
    فریج کا دروازہ کھولتے ہوئے وہ مسکرائی۔
    ’’میں اب ٹھیک ہوں۔‘‘ سالار نے اس کے جملے پر غور کئے بغیر سکندر تک اس کا جملہ پہنچادیا۔
    کاؤنٹر پر پڑے سلاد میں سے سیب کا ایک ٹکڑا کانٹے سے اٹھا کر منہ میں ڈالتے ہوئے وہ اسی طرح فون پر سکندر سے بات کرتے ہوئے کچن سے نکلا۔ امامہ نے اسے ٹیرس کا دروازہ کھول کر ٹیرس کے پودوں پر نظر دوڑاتے دیکھا۔ ٹیبل پر برتن رکھتے ہوئے اس کی آنکھوں میں ایک بار پھر نمی آنے لگی۔ ایک مہینہ کے بعد یہ جگہ اسے ’’گھر‘‘ لگی تھی اور اس کی وجہ گھر میں گونجتی وہ ’’آواز‘‘ اور اِدھر سے اُدھر جاتا اس کا وجود تھا۔ برتن رکھنے کے باوجود جیسے بے اختیاری کے عالم میں ٹیبل کے پاس کھڑی، فون کان سے لگائے، سالار کو ٹیرس پر اِدھر سے اُدھر ٹہلتے ہوئے دیکھ رہی تھی۔ بات محبت کی نہیں، عادت کی تھی۔ اسے اس کی عادت ہوگئی تھی اور عادت بعض دفعہ محبت سے بھی زیادہ جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔
    اسے اچانک خیال آیا کہ وہ کھانا کھانے سے پہلے کپڑے تبدیل کرے گا۔ بیڈروم میں جاکر وہ اس کے لئے کپڑے نکال کر واش روم میں لٹکا کر آئی۔
    وہ واش روم سے نکل رہی تھی، جب وہ بیڈروم میں داخل ہوا۔
    ’’میں شاور لے کر کھانا کھاؤں گا۔‘‘ اس نے جیسے اعلان کیا تھا۔
    وہ نہ بھی کہتا پھر بھی وہ جانتی تھی، وہ سفر سے واپسی پر ہمیشہ نہاکر ہی کھانا کھاتا تھا۔
    ’’میں نے تمہارے کپڑے اور ٹاولز رکھ دیئے ہیں اور یہ میں تمہارے لئے نئے سلیپرز لے کر آئی تھی۔‘‘ وہ سلیپرز کا ڈبا شوریک سے نکالتے ہوئے بولی۔
    ’’رہنے دو امامہ! میں خود ہی نکال لوں گا۔‘‘
    رسٹ واچ اتارتے ہوئے اس نے امامہ کو منع کیا۔ اسے کبھی بھی کسی دوسرے کا اپنے جوتے اٹھانا پسند نہیں تھا، وہ جانتی تھی۔ لیکن اس کے منع کرنے کے باوجود وہ سلیپرز نکال لائی تھی۔
    ’’کچھ نہیںہوتا۔‘‘ اس نے سلیپرز اس کے پاس رکھ دیئے۔
    وہ اب بیڈ پر بیٹھا اپنے جوتے اور جرابیں اتار رہا تھا اور وہ بے مقصد اس کے پاس کھڑی اسے دیکھ رہی تھی۔ شادی کے اتنے مہینوں میں آج پہلی بار وہ اس طرح بے مقصد اس کے پاس کھڑی تھی۔ سالار نے کچھ حیرانی سے نوٹس کیا تھا۔
    ’’یہ yellow کپڑے تم نے میرے انتظار میں پہنے ہیں؟‘‘ اس نے جرابیں اتارتے ہوئے امامہ کو چھیڑا۔ وہ بے وجہ ہنسی۔ وہ مسٹرڈ کو yellow کہہ رہاتھا لیکن آج اس نے اس کی تصحیح نہیں کی اور اس نے آج بھی اس کی تعریف نہیں کی تھی، مگر اسے یہ بھی برا نہیںلگا تھا۔
    ’’نائس سلیپرز!‘‘ اپنی جرابیں اور جوتے اٹھاتے ہوئے اس نے سلیپرز پہنے اور امامہ سے کہا۔
    ’’میں رکھتی ہوں۔‘ ‘ امامہ نے جوتے اور جرابیں اس سے لینے کی کوشش کی۔
    ’’کیوں یار، پہلے کون رکھتا ہے؟‘‘ سالار نے کچھ حیرانی سے اسے روکا، امامہ رک گئی۔ واقعی وہ اپنے جوتے خود اٹھانے کا عادی تھا۔ جوتے شوریک میں رکھتے ہوئے اس نے لانڈری باسکٹ میں جرابیں ڈالیں اور واش روم میں گھس گیا۔
    امامہ نے بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پڑی اس کی رسٹ واچ اور سیل فون کودیکھا۔ ہر خالی جگہ بھرنے لگی تھی۔
    وہ جب تک نہا کر آیا امامہ کھانا لگا چکی تھی۔ سالار نے ڈائننگ ٹیبل پر نظر ڈالتے ہی بے اختیار کہا۔
    ’’امامہ! کیا کیا پکا رکھا ہے یار!‘‘
    ’’جو ، جو تمہیں اچھا لگتا ہے۔‘‘ اس نے سادگی سے کہا۔
    ’’مجھے…؟‘‘ وہ کرسی کھینچ کر بیٹھتے ہوئے ٹیبل پر پھیلی ہوئی ڈشز دیکھ کر جیسے کسی سوچ میں پڑا۔
    ’’تم نے اپنا وقت ضائع کیا۔‘‘
    کوئی اور وقت ہوتا تو وہ پورے دن کی محنت پر، بولے جانے والے اس جملے پر بری طرح ناراض ہوتی لیکن آج اسے کچھ برا نہیں لگ رہا تھا۔ کسی بات پر غصہ نہیں آرہا تھا، وہ اتنی ہی سرشار تھی۔
    ’’میں نے اپنا وقت تمہارے لئے استعمال کیا۔‘‘ اس نے مدھم آواز میں سالار کی تصحیح کی۔
    ’’لیکن تم تھک گئی ہوگی…؟‘‘
    ’’نہیں… کیوں تھکوں گی میں؟‘‘ اس نے چاولوں کی ڈش سالار کی طرف بڑھائی۔
    سالار نے اس کی پلیٹ میں ہمیشہ کی طرح، پہلے چاول ڈالے۔ اپنی پلیٹ کے ایک کونے میں پڑے ان چاولوں کو دیکھ کر اس کا دل بھر آیا تھا۔ تو اتنے دنوں سے یہ ایک چیز تھی جو وہ مس کررہی تھی کھانے پر اور یہ ’’ایک‘‘ چیز نہیں تھی۔ وہ اب اپنی پلیٹ میں چاول ڈال رہا تھا۔ ایک مہینے کے بعد وہ اس کے اتنے قریب بیٹھی تھی۔ کھانا سرو کرتے اس کے ہاتھ دیکھ رہی تھی۔ سفید شرٹ کی آستینیں موڑے، اس کے ہاتھوں نے ہمیشہ کی طرح اسے اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔ اس کا دل بے اختیار اس کے ہاتھ چھونے کو چاہا، اس نے بہ مشکل نظر ہٹائی، خود کو سنبھالنے کی کوشش کی۔ اس کے لئے یہ یک دم بہت مشکل ہورہا تھاکہ وہ اس کے قریب ہواور وہ صرف کھانے کی طرف متوجہ رہے۔
    ’’پینٹنگز مکمل ہوگئی ہیں تمہاری؟‘‘
    وہ کھانا شروع کرتے ہوئے اس سے پوچھ رہا تھا۔ امامہ نے چونک کر ٹیبل پر پڑا کانٹا اور چمچ اٹھایا۔
    ’’کون سی پینٹنگز؟‘‘ اس نے بے خیالی میں کہا، وہ ٹھٹکا۔
    ’’تم بنارہی تھیں نا،کچھ؟‘‘ اس نے یاد دلایا۔
    ’’یہ بھی لو۔‘‘ جواب دینے کے بجائے اس نے ایک اور ڈش اس کی طرف بڑھائی۔
    ’’ڈر تو نہیں لگا تمہیں، یہاں اکیلے رہتے ہوئے؟‘‘ سالار نے اس سے پوچھا۔
    ’کھانا اچھا ہے؟‘‘ امامہ نے ایک بار پھر جواب گول کیا۔ وہ مزید جھوٹ نہیں بول سکتی تھی، بالکل ویسے ہی جیسے وہ سچ نہیں بول سکتی تھی۔
    ’’ہمیشہ اچھا ہوتا ہے۔‘‘ وہ مسکرایا تھا۔
    ’’کتنے ناولز پڑھے تم نے؟‘‘ وہ اب پوچھ رہاتھا۔
    ’’یہ چوپس بھی ہیں۔‘‘ اس نے ایک اور ڈش سرو کی۔
    ’’تمہاری فلائٹ ٹھیک رہی ؟‘‘
    اس سے پہلے کہ وہ اس سے کوئی مشکل سوال کرتا، اس نے پوچھنا ضروری سمجھا تھا۔
    ’’ہاں! اوور آل ، کچھ bumpyرہی… لیکن ٹھیک ہی تھی۔‘‘ اس نے بتایا۔
    ’’اور کانفرنس بھی اچھی رہی؟‘‘
    ’’Excellent!‘‘ اس نے بے اختیار کہا۔
    ’’کیا روٹین تھی تمہاری؟‘‘ وہ اسے موضوع سے ہٹانے میں کامیاب نہیں ہوئی تھی۔
    ’’میری روٹین…‘‘ وہ سوچ میں پڑی۔
    ’’ہاں! کیا کیا کرتی تھیں سارا دن ؟‘‘ وہ اب چپاتی کا ٹکڑا توڑتے ہوئے پوچھ رہاتھا۔
    ’’جو پہلے کیا کرتی تھی۔‘‘ اس نے نظریں چرا کر ایک اور ڈش اس کی طرف بڑھائی۔
    ’’لیکن تب تو بہت زیادہ وقت ہوتا ہوگا تمہارے پاس۔‘‘ اس نے کرید اتھا۔
    ’’بالکل ساری شام، ساری رات۔‘‘
    ’’پھر تو عیش ہوگئے ہوں گے تمہارے؟‘‘ اپنی پلیٹ میں قورمہ نکالتے ہوئے اس نے مسکر اکر کہا۔
    امامہ نے جواب دینے کے بجائے اپنی پلیٹ کو دیکھا، جس میں چیزوں کا ڈھیر بالکل اسی طرح پڑا تھا۔ اس سے کچھ کھایا نہیں جارہا تھا۔ سالار کو اتنی رغبت کے ساتھ کھاتے دیکھ کر اسے یوں لگ رہاتھا، جیسے اس کا پیٹ بھر رہا ہو۔
    ’’تم سعیدہ اماں کویہاں لے آتیں۔‘‘ سالار نے یک دم اس سے کہا۔ اسے پتا نہیں کیاخیال آیا تھا۔
    ’’میں نے کہا تھا ان سے، لیکن تمہیں تو پتا ہے وہ اتنے دنوں کے لئے اپنا گھر نہیں چھوڑ سکتیں۔‘‘
    اس نے جواب دیا۔
    "That’s understandable.” سالار نے کھانا کھاتے ہوئے بے اختیار ایک نوالہ اس کی طرف بڑھایا۔ وہ آخری لقمہ ہمیشہ اسے ہی کھلاتا تھا۔ ایک لمحے کے لئے وہ ٹھٹکی پھر اس نے لقمہ منہ میں لے لیا، لیکن وہ اسے چبا نہیں سکی۔ وہ لقمہ جیسے آخری حد ثابت ہوا، وہ بے اختیار رو پڑی۔ وہ پانی پیتے پیتے یک دم رک گیا۔
    ’’کیا ہوا؟‘‘ وہ ہکا بکا تھا۔ ہونٹوں پر ہاتھ رکھے وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر روتی گئی۔
    ’’کیا ہو ا ہے امامہ؟‘‘ وہ بری طرح بدحواس ہوا۔ کم از کم اس وقت اس طرح کی گفتگو کے دوران آنسو…؟ وہ ان کی وجہ تلاش نہیں کرسکا۔
    ایک دفعہ آنسو بہہ جانے کے بعد سب کچھ آسان ہوگیا تھا۔ مزید رونا، بے بسی کا اظہار اور کمزوری کا اعتراف ۔ اب مزید دیواریں کھڑی رکھنے کی ضرورت نہیں تھی۔
    ’’فار گاڈسیک… تم پاگل کردوگی مجھے، کیا ہوا ہے…؟ سب کچھ ٹھیک رہا میرے بعد؟ کسی نے تمہیں پریشان تو نہیں کیا؟‘‘ وہ اب مکمل طور پر حواس باختہ تھا۔ ٹشو پیپر سے آنکھیں رگڑتے ہوئے امامہ نے خود پر قابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے سرہلایا۔
    ’’تو پھر کیوں رو رہی ہو؟‘‘ سالار مطمئن نہیں ہوا تھا۔
    ’’ایسے ہی بس میں تمہیں بہت مس کرتی رہی اس لئے۔‘‘ وہ کہتے کہتے پھر رو پڑی۔




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۳ (بیت العنکبوت)

    ’’بیت العنکبوت ‘‘
    وہ اس ہفتے پھر اسے اپنے ساتھ کراچی لے کر گیا لیکن اس بار وہ رات کی فلائٹ سے واپس آگئے تھے۔ پہلے کی طرح اس بار بھی وہ اسی ہوٹل میں رہے۔ سالار اپنے آفس میں مصروف رہا، جبکہ وہ انیتا کے ساتھ گھومتی پھرتی رہی۔
    سالار سے اس کی دوبارہ ملاقات اسی طرح رات فلائٹ سے پہلے ہوئی تھی، و ہ کچھ چپ تھی۔ سالار نے نوٹس کیا تھا مگر اس کے ساتھ اس فلائٹ میں اس کے بینک کے کچھ غیر ملکی عہدے داران بھی سفر کررہے تھے۔ وہ لاؤنج میں ان کے ساتھ مصروف رہا۔ فلائٹ میں بھی وہ سیٹ بدل کر ان کے پاس چلا گیا۔
    امامہ سے اس کو بات کرنے کا موقع ائیر پورٹ سے واپسی پر ملا تھا۔ کار پارکنگ میں پڑی اپنی گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے امامہ سے پہلا سوال یہی کیا تھا۔
    ’’تم اتنی خاموش کیوں ہو؟‘‘
    ’’کس سے باتیں کروں… اپنے آپ سے؟ تم تو مصروف تھے۔‘‘ امامہ نے جواباً کہا۔
    ’’چلو، اب بات کرو۔‘‘ سالار نے موضوع بدلتے ہوئے کہا۔
    ’’کیسا رہا آج کا دن؟‘‘
    ’’بس ٹھیک تھا۔‘‘
    ’’بس ٹھیک تھا… کہاں گئی تھی آج تم؟‘‘
    اس نے سالار کو ان دو تین جگہوں کے نام بتائے، جہاں وہ انیتا کے ساتھ گئی تھی، مگر سالار کو اس کے انداز میںexcitement کا وہ عنصر اب نظر نہیں آیاتھا جو پچھلی بار تھا۔
    ’’تمہاری پے کتنی ہے سالار؟‘‘ وہ چند لمحوں کے لئے ٹھٹکا۔
    وہ بے حد سنجیدہ تھی۔ وہ بے اختیار ہنس دیا۔ فوری طور پر اس سوال کی وجہ اس کی سمجھ میں نہیں آئی تھی۔
    ’’No comments.‘‘
    ’’میں سیریس ہوں۔‘‘
    ’’میں بھی سیریس ہوں۔ میں شوہر ہوں تمہارا، لیکن بے وقوف نہیں ہوں۔‘‘
    ’’جس اپارٹمنٹ میں ہم رہ رہے ہیں، وہ تمہارا ذاتی ہے؟‘‘





    اگلے سوال نے سالار کو اور حیران کیا تھا۔ وہ اب بھی بے حد سنجیدہ تھی۔
    ’’نہیں، یہrented ہے لیکن تم کیوں پوچھ رہی ہو یہ سب کچھ…؟‘‘
    اپنے جواب پر اسے امامہ کے چہرے پر مایوسی اتنی صاف نظر آئی کہ وہ بھی یک دم سنجیدہ ہوگیا۔
    ’’ایسے ہی پوچھ رہی تھی۔ میں سمجھ رہی تھی ، تمہارا اپنا ہوگا۔‘‘
    وہ اب اسے کچھ سوچتی ہوئی لگی۔ سالار بہت غور سے اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔
    ’’میں سوچ رہی تھی کہ تم نے مجھے جو پیسے دیئے ہیں، اس سے کوئی پلاٹ لے لیں۔‘‘
    ’’امامہ… کیا پرابلم ہے؟‘‘ سالار نے اس بار اس کے کندھوں کے گرد اپنا بازو پھیلاتے ہوئے کہا۔
    ’’کوئی پرابلم نہیں ہے، اپنا گھر تو بنانا چاہیے نا ہمیں۔‘‘ وہ اب بھی سنجیدہ تھی۔
    ’’تم انیتا کا گھر دیکھ کر آئی ہو؟‘‘ ایک جھماکے کی طرح سالار کو ایک خیال آیا تھا۔ انیتا کچھ عرصے تک اپنے نئے گھر میں شفٹ ہونے والی تھی اور ان دنوں اس کے گھر کا انٹیرئیر ہورہا تھا۔
    ’’ہاں۔‘‘ امامہ نے سرہلایا، سالار نے گہرا سانس لیا۔ اس کا اندازہ ٹھیک نکلا تھا۔
    ’’بہت اچھا گھر ہے نا اس کا ؟‘‘ وہ اب سالار سے کہہ رہی تھی۔ اس کے لہجے میں بے حد اشتیاق تھا۔
    ’’ہاں، اچھا ہے۔‘‘ سالار نے ہاتھ ہٹاتے ہوئے کہا۔
    چار کنال پر محیط انیتا کے گھر کو کراچی کے ایک معروف آرکیٹیکٹ نے ڈیزائن کیا تھا۔ اس کے برے ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
    ’’تم نے سوئمنگ پول کی بوٹ دیکھی ہے؟‘‘
    ’’نہیں، میں نے کافی مہینوں پہلے اس کا گھر دیکھا تھا، تب انٹیرئیر شروع نہیں ہوا تھا۔‘‘
    ’’ویسے سوئمنگ پول میں بوٹ کا کیا کام؟‘‘
    ’’اصلی والی نہیں ہے، چھوٹی سی ہے، لکڑی کی لگتی ہے لیکن کسی اور مٹیریل کی ہے۔ اس پر ایک چھوٹی سی ونڈمل ہے اور وہ ہوا سے اس سارے سوئمنگ پول میں حرکت کرتی رہتی ہے۔‘‘ وہ مسکراتے ہوئے اس کا چہرہ دیکھتا، اس کی بات سنتا رہا۔ وہ اسے اس کشتی کی ایک ایک چیز بتارہی تھی۔
    ’’انیتا نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر۔‘‘ اس کے خاموش ہونے پر سالار نے کہا۔
    ’’کیوں؟‘‘ وہ چونکی۔
    ’’میری شادی کے تیسرے ہی ہفتے میری بیوی کو اپنا گھر دکھا دیا۔‘‘ وہ بڑبڑایا۔
    ’’کہیں زمین خرید لیتے ہیں سالار!ـ‘‘ امامہ نے اس کی بات نظر انداز کی۔
    ’’امامہ میرے پاس دو پلاٹ ہیں، پاپا نے دیئے ہیں۔ اسلام آباد میں تو گھر بنانا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے۔ جب بنانا ہوگا، بنالیں گے۔‘‘ سالار نے اسے تسلی دینے کی کوشش کی۔
    وہ یک دم پرجوش ہوئی۔ ’’کتنے بڑے پلاٹ ہیں؟‘‘
    ’’دس دس مرلے کے ہیں۔‘‘
    ’’بس…؟ کم از کم ایک ، دو کنال تو ہونا چاہیے۔‘‘ وہ مایوس سی ہوئی تھی۔
    ’’ہاں، دس مرلے کم ہیں۔ دو کنال تو ہونا ہی چاہیے۔‘‘ سالار نے تائید کی۔
    ’’نہیں، دو نہ ہو، ایک ہی ہوجائے۔ ایک بھی بہت ہے… اس میں ایک سبزیوں کا فارم بنائیں گے، جانور بھی رکھیں گے۔ ایک سمر ہاؤس بنائیں گے، ایک گزیبو بنائیں گے اور ایک فش فارم بھی بنالیں گے۔‘‘
    سالار کو لگا کہ امامہ کو جگہ کا اندازہ کرنے میں غلطی ہوئی تھی۔
    ’’ایک کنال میں یہ سب کچھ نہیں بن سکتا امامہ!‘‘ اس نے مدھم آواز میں اس سے کہا ، وہ چونکی۔
    ’’لیکن میں تو ایکڑ کی بات کررہی تھی۔‘‘
    وہ چند لمحے بھونچکا سارہ گیا۔
    ’’اسلام آباد میں تمہیں ایکڑ زمین کہاں سے ملے گی؟‘‘ چند لمحوں کے بعد اس نے سنبھل کر کہا۔
    ’’اسلام سے باہر تو مل سکتی ہے نا؟‘‘ امامہ سنجیدہ تھی۔
    ’’تم پھر گھر نہ کہو، یہ کہو کہ فارم ہاؤس بنانا چاہتی ہو تم۔‘‘
    ’’نہیں، فارم ہاؤس نہیں، ایک بڑی سی کھلی سی جگہ پر ایک چھوٹا سا گھر … جیسے کوئی وادی… اس طرح کی وادی میں گھر ۔‘‘
    ’’پاپا کا بھی ایک فارم ہاؤس ہے، کبھی کبھار جاتے ہیں ہم لوگ… تمہیں بھی لے جاؤں گا وہاں ۔‘‘
    سالار نے اسے پھر ٹالا۔
    ’’میں فارم ہاؤس کی بات نہیں کررہی، اصلی والے گھر کی بات کررہی ہوں۔‘‘
    امامہ اب بھی اپنی بات پر اڑی ہوئی تھی۔
    ’’جس طرح کا میرا پروفیشن ہے امامہ۔ اس میں میں فارم ہاؤس یا شہر سے باہر رہائش رکھنا افورڈ نہیں کرسکتا۔ کم از کم جب تک میں کام کررہاہوں، تب تک مجھے بڑے شہروں میں رہنا ہے اور بڑے شہروں میں اب بہت مشکل ہے ایکڑز میں شہرکے اندر کوئی گھر بنانا۔ یہ تمہارے ان رومانٹک ناولز میں ہو سکتا ہے لیکن رئیل لائف میں نہیں، جو چیز ممکن اور پریکٹیکل ہے وہ یہ ہے کہ چند سالوں کے بعد کوئی لگژری فلیٹ لے لیا جائے یا دو چار کنال کا کوئی گھر بنالیا جائے یا چلو پانچ چھے کنال بھی ہوسکتا ہے، لیکن کسی اچھی جگہ پر اس سے بڑا گھر افورڈ ایبل نہیں ہوگا۔ ہاں! یہ ضرور کرسکتا ہوں کہ پانچ دس سال بعد لاہور یا اسلام آباد سے باہر کہیں ایک فارم ہاؤس بنالیا جائے، لیکن میں جانتا ہوں، بیس یا تیس سال میں ہم دس یا بیس بار سے زیادہ نہیں جا پائیں گے وہاں۔ وہ بھی چند دنوں کے لئے، لیکن وہ ایک سفید ہاتھی ثابت ہوگا ہمارے لئے، جس پر ہر ماہ ہمارے اخراجات ہوں گے۔‘‘
    سالار کو اندازہ نہیں ہوا کہ اس نے ضرورت سے کچھ زیادہ ہی صاف گوئی کا مظاہرہ کردیا ہے۔ امامہ کا رنگ کچھ پھیکا سا پڑگیا تھا۔ وہ حقیقت تھی، جو وہ اسے دکھا رہا تھا۔ سالار نے اسے دوبارہ بولتے نہیں دیکھا۔ گھر پہنچنے تک وہ خاموش رہی اور پورا راستہ اس کی خاموشی اسے چبھی تھی۔
    ’’اچھا، تم گھر کا ایک اسکیچ بناؤ، میں دیکھوں گا اگر فیز یبل ہوا تو بنایا جاسکتا ہے۔‘‘
    یہ اس نے سونے سے پہلے سرسری انداز میں امامہ سے کہا تھا اور ایک سیکنڈ میں امامہ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوتے دیکھا۔ ایک چھوٹی سی بات اسے اتنا خوش کردے گی، اسے اس کا اندازہ نہیں تھا۔
    سحری کے وقت وہ جب الارم کی آواز پر اٹھا تو وہ بستر میں نہیں تھی۔
    ’’تم آج پہلے اٹھ گئیں۔‘‘
    وہ کچن میں کام کررہی تھی جب سالار سحری کے لئے وہاں گیا۔ وہ جواب دینے کے بجائے مسکرائی تھی۔ سالار کو حیرت ہوئی، آج اس نے سحری ختم کرنے میں بڑی عجلت دکھائی تھی اور کیوں دکھائی تھی، یہ راز زیادہ دیر تک راز نہیں رہا تھا۔ کھانا ختم کرتے ہی وہ اپنی اسکیچ بک اٹھا لائی تھی۔
    ’’یہ میں نے اسکیچ کرلیا ہے جس طرح کا گھر میں کہہ رہی تھی۔‘‘
    سحری کرتے ہوئے سالار بری طرح چونکا تھا۔ وہ اپنی کسی ہدایت پر اتنے فوری عمل درآمد کی توقع نہیں کررہا تھا۔ وہ اسکیچ بک اس کے سامنے کھولے بیٹھی تھی۔ ٹشو سے ہاتھ پونچھتے ہوئے،ا س اسکیچ بک کو تھامے، سالار نے ایک نظر اس پر ڈالی اور دوسری اس گھر پر ، جو سامنے اسکیچ میں نظر آرہا تھا۔ گھر سے زیادہ اسے ایک اسٹیٹ کہنا زیادہ بہتر تھا۔ اس نے گھر میں ہر وہ چیز شامل کی تھی جس کا ذکر اس نے اس رات کو کیا تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ پہلے وہ اسے زبانی بتارہی تھی، اب وہی سب کچھ ایک ڈرائنگ کی شکل میں اس کے سامنے تھا۔
    پہاڑوں کے دامن میں، کھلے سبزے میں، ایک چھوٹا سا گھر، جس کے سامنے ایک جھیل تھی اور اس کے اردگرد وہ چھوٹے چھوٹے اسٹرکچرز تھے جس کا وہ ذکر کررہی تھی، گزیبو اور سمر ہاؤس۔ اس نے اپنے اسکیچز کو کلر بھی کیا ہوا تھا۔
    ’’اور یہ آگے بھی ہے…‘‘ اس نے سالار کو اسکیچ بک بند کرتے دیکھ کر جلدی سے اگلا صفحہ پلٹ دیا۔
    وہ اس کے گھر کا یقینا عقبی حصہ تھا جہاں پر ایک اصطبل اور پرندوں کی مختلف قسم کی رہائش گاہیں بنائی گئی تھیں۔ اس میں وہ فش فارم بھی تھا، جس کا وہ رات کو ذکر کررہی تھی۔
    ’’تم رات کو سوئی نہیں؟‘‘ اسکیچ بک بند کرتے ہوئے سالار نے اس سے پوچھا۔
    وہ اسکیچز گھنٹوں کی محنت کے بغیر نہیں بن سکتے تھے۔ امامہ کو اس تبصرے نے جیسے مایوس کیا۔ وہ اسکیچز دیکھنے پر سالار سے کسی اور بات کے سننے کی توقع کررہی تھی۔
    ’’اچھا ہے نا؟‘‘ اس نے سالار کے سوال کا جواب دیئے بغیر کہا۔
    کانٹا ہاتھ میں لئے وہ بہت دیر تک اس کا چہرہ دیکھتا رہا۔ جو اس کے لئے گھر تھا، وہ اس کے لئے اب بھی فارم ہاؤس ہی تھا اور آسان نہیں تھا لیکن وہ ایک بار پھر اس بات پر بحث نہیں کرنا چاہتا تھا۔
    ’’بہت اچھا ہے۔‘‘ ایک لمبی سی خاموشی کے بعد کہے جانے والے اس جملے پر وہ بے اختیار کھل اٹھی تھی۔
    ’’تمہارے دونوں پلاٹس بیچ کر ہم کسی جگہ پر، ذرا بڑی جگہ…‘‘
    ’’ذرا بڑی جگہ…؟ ایک ایکڑ کی بات کررہی ہو کم از کم تم… اور زمین تو چلو کسی نہ کسی طرح آہی جائے گی لیکن اس گھر کی مینٹی نینس کے اخراجات… ویل… مجھے کم از کم کروڑ پتی ہوکر مرنا پڑے گا اگر ارب پتی نہیں تو…‘‘ سالار نے اس کی بات کاٹ کر کہا۔
    امامہ نے بے حد خفگی سے اسکیچ بک بند کردی۔
    ’’ٹھیک ہے، میں نہیں کروں گی اب گھر کی بات۔‘‘
    وہ پلک جھپکتے میں اٹھ کر، اپنی اسکیچ بک کے ساتھ غائب ہوگئی تھی۔
    وہ کانٹا ہاتھ میں پکڑے بیٹھا رہ گیا۔ یہ ایک بے حد مضحکہ خیز صورت حال تھی جس کا وہ سامنا کررہا تھا۔
    سالار سحر ی ختم کرکے بیڈ روم میں آگیا۔ امامہ صوفے پر اسکیچ بک کھولے بیٹھی تھی۔ سالار کو دیکھ کر اس نے اسکیچ بک بند کرکے سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی۔
    ’’اگر تمہیں فوری طور پر گھر چاہیے تو میں خرید دیتا ہوں تمہیں۔‘‘
    اس نے بے حد سنجیدگی سے اس کے پاس صوفے پر بیٹھتے ہوئے کہا۔
    ’’مجھے اس طرح کا گھر چاہیے۔‘‘ اس نے پھر اسکیچ بک اٹھالی۔
    ’’ایک ایکڑ ہو یا نہ ہو، لیکن ایسا ایک بنادوں گا میں تمہیں۔ وعدہ … لیکن اب یہ ہوم مینیاکو اپنے سر سے اتار دو۔‘‘ وہ امامہ کا کندھا تھپکتے ہوئے اٹھ کیا۔
    وہ بے اختیار مطمئن ہوگئی۔ وعدہ کا لفظ کافی تھا فی الحال اس کے لئے… ’’وعدہ‘‘ کو ’’گھر‘‘ بنانا زیادہ مشکل نہ ہوتا اس کے لئے۔
    ٭…٭…٭




  • چڑیا جیسی عورت — روحی طاہر

    عام سے گھر کے عام سے کمرے میں دوپلنگ ساتھ ساتھ بچھے ہوئے تھے۔ ایک پر چھے سالہ گڈی اور پانچ سالہ ننھی لیٹی ہوئی تھیں۔ پپو امی کے ساتھ چپک کر چھوٹے چھوٹے سوال کئے جا رہا تھا۔ چھوٹی پنگھوڑے پر سوئی ہوئی تھی۔ صبح کا وقت تھا۔ ننھی پکی نیند مگر گڈی آنکھ موندے پڑی تھی۔ سرکاری گھرکے اونچے چھتوں والے کمرے میں روشن دان تھا اور اُس روشن دان میں چڑیوں نے گھونسلا بنا یا ہوا تھا۔ یہ چڑیا نما فاختہ صبح سویرے اُٹھا نے آجاتی تھیں۔ اپنی بولی میں نجانے کیا پوچھ رہی تھیں ایک دوسرے سے۔ پپونے اپنی مدہم سی آواز میں پوچھا:
    ’’امی یہ کیا کہہ رہی ہیں؟‘‘ امی کی ایک ہی حسرت ہوتی: ’’پپو یہ تیری بیویاں ہیں اور تجھ سے خرچہ مانگ رہی ہیں۔‘‘
    امی سرکاری ہسپتال میں ڈاکٹر تھیں۔ سیدھا سادہ زمانہ سیدھے اور حلال کھانے والے لوگ صبح آٹھ بجے سے جو شام تک امی کو فرصت نہیں تھی۔ بچوں کے ساتھ یہی صبح کے چند لمحے یا پھر رات کے چند پل پپو لاڈلا کیوں کہ اکلوتا لڑکا تھا ویسے بھی کہاوت ہے ’’ایک بیٹے کی ماں اندھی۔‘‘ اسے بیٹے کے علاوہ کوئی بھی نظر نہیں آتا۔ صبح کے یہ کچھ لمحات امی پپو کے ساتھ گزارہ کرتی تھیںاس کی چھوٹی چھوٹی باتوں کا جواب، اس کے اندر سے اُٹھتے ہوئے سوال کی اٹھان پر خوش ہونے والی امی کو گڈی اور ننھی سے بھی پیار تھا مگر ننھی کی کم زور صحت اور بڑی آنکھیں انہیں ہمیشہ تشویش میں مبتلا رکھتی تھیں۔ ہاں بینا ابھی چھوٹی تھی آیا کے ساتھ ہوتے ہوئے بھی اپنا پورا وقت لے جاتی تھی۔ گڈی بڑی تھی اور چھے سالہ گڈی سے امی کو بڑی اُمید تھی کہ وہ ان کی جاں نشین بنے گی۔ انہی کی طرح سے تمام ذمہ داریاں اُٹھائے گی۔ ابا کی زندگی لااُبالی تھی وہ بھی اپنی ماں کے اکلوتے تھے اور اکلوتوں والی تمام بیماریاں ان میں موجود تھیں۔ وکیل ہوکر بھی وہ امی کی عدالت میں اپنا مقدمہ ہار جاتے تھے اس لئے اپنی اماں کے مرنے کے بعد انہوں نے بیوی میں ماں ڈھونڈنا شروع کر دی تھی۔ تقسیم کے خرابات سے متاثر یہ کنبہ صرف اماں کی ذمہ داری تھی۔ والد اور بڑے بہنوئی بٹوارے میں پیارے ہوگئے تھے اور ان دونوں خاندانوں کی واحد کفیل امی بن کر رہ گئی تھیں، تیسرا خاندان ان کا اپنا انہوں نے کزن سے شادی کی کہ وہ دکھ ہٹائیں گی اور ان کا ساتھ دیں گے۔ مگر اکلوتے ابا نے امی جوکہ ان سے ایک سال بڑی تھیں میں اپنی مرحوم والدہ ڈھونڈلی اور ایک تیسرا خاندان بھی امی کے حوالے کر دیا۔ گڈی کو امی بالکل روشن دان والی چڑیا نظر آتی تھیں۔ ہر وقت منہ میں دانا لئے کسی نہ کسی کے منہ میں ڈالنے کو تیار۔
    نماز کے وقت آنکھ امی کی لسّی بلونے کی آواز سے ہوتی تھی۔ گھر میں امی نے بھینس پالی ہوئی تھی گو کہ نوکر بھینس کا خیال رکھتے تھے مگر نوکر سرکاری اور بھینس گھر کی، اکثر کوتاہی ہوجاتی اور رات کے وقت گڈی کو بھوکی بھینس کو چرانے جانا پڑتا۔ صبح صبح ہسپتال کا ساراعملہ لسی کی لالچ میں آجاتا اور اماں ڈول بھر بھر کے انہیں دیے جاتیں۔ یہ بھی ان کا صدقہ ہوتا۔ چڑیا اپنے پروں کے نیچے بچوں کو بچانے کے لئے خدا سے دعا کئے جاتی اور صدقہ دیے جاتی۔ نانی کا گھر قریب تھا، صُبح صُبح خالص دودھ دینا گڈی کی ذمہ داری تھی کیوں کہ وہاں بھی چڑیا کے کچھ بچے رہتے تھے، بیوہ بہن کے بچے، نانی کے بچے۔ پھر تمام دن امی ہسپتال اور گھر کے درمیان گھن چکربنی رہتیں۔ چھوٹا شہر، صحت کی سہولتیں کم اور ہسپتال، ایک تمام دن کبھی زچہ بچہ، کبھی کھانسی نزلہ کی دوائی لکھ کر دیتی ہوئی امی۔ گڈی اسکول سے آکر چپکے سے امی کے ہسپتال چلی جاتی، کھڑکی سے لگی دیکھتی رہتی کب اماں کیا کرتی ہیں؟ اماںوہ پرچیاں لکھتیں، عورتوں کے دکھ درد سنتیں اور دلاسے دیتیں امی اسے فرشتہ سی لگتیں۔ کبھی کبھی اسے یہ بھی دکھائی دیتا کہ امی اپنا بڑا سا پرس کھول کر چند نوٹ نکال کر بھی کسی غریب مریض کو دیتیںکہ دودھ پی لینا۔ گڈی کو عجیب سا لگتا کہ دودھ سے کیا ہوگا۔ امی اسے دوائی کیوں نہیں دیتیںیا پھل کھانے کا کیوں کہتی ہیں؟ مگر وہ چڑیا جیسی عورت ہر ایک کا پیٹ بھرنے کی فکر میں رہتی تھی خود ان کی خوراک اتنی سادہ تھی کہ اس سادگی کی عادت بچوں کو بھی ہوگئی۔ یاد ہے وہ بچوں کو چوری بنا کر ایک ایک کے منہ میں نوالادیتی تھیں، خود لسی سے روٹی کھا کر رات کو ابا کے لئے دال چاول یا کوئی اور کھانا بنا کر سو جاتی تھیں۔ گڈی چولہے کے پاس بیٹھی ہوم ورک کرتی ابا کا انتظار کئے جاتی تھی اور جب ابا گھر اتے تو ان کو کھانا دینے کا کام گڈی کے سپرد تھا۔ رات کو ابا اکثر اپنے دفتر سے آتے تھے مگر کام تو تھا ان کے پاس مگر اماں کے لئے پیسے نہیں تھے۔ وہ جب بھی فیس لیتے اس کی فیس امی سے چھپاجاتے اس کے لئے تین خاندان والی عورت کو رات کو دیر تک کام کرنا پڑتا تھا۔ کسی قریب کے گاوُں میں بچے کی پیدائش پر جاتیں، کبھی کسی گاؤں میں اپنی چونچ میں فیس کے ساتھ اصلی گھی کا کنستر اور آموں یا کھجوروں کے ٹوکرے بھی ٹانگوں پر لدے ہوتے۔ ایک بار کنستر گر گیا اور سارا گھی زمین پر گر گیا۔ امی نے توڑی مل کے گھی کو بھینس کے چارے کے لئے رکھ لیا، بچے ساراسال گھی کانشان دیکھتے رہے اور بھینس اصلی گھی والا چارہ کھاتی رہی۔
    امی کی دوسرے شہر تبدیلی ہوگئی، ابا پرانے شہر رہ گئے اور وہ بچوں کی زندگی میں صرف عید تک محدودہوگئے۔ اماں نے تین خاندانوں کے بچے پال لئے۔ ننھی حسن میںیکتاتھی جو بڑی بڑی آنکھیں جو بچپن میں ترس کھانے پر مجبور کرتی تھیں دو آتشہ ہوگئیں۔ دوانشہ شراب ہوگیں۔ اماں نے بیاہ دیا۔ حسبِ معمول ابا نے بہت نخروں سے شرکت کی کہ کہیں اکلوتے کو ذمہ داری کا احساس نہ ہو۔ اس دن اماں نے اپنا زیور نکال کر ننھی کے آگے رکھ دیا۔ حسن کو اماں کے زیور نے چار چاند لگا دئیے دنیا نے اتنی خوب صورت دلہن کہا ںدیکھی تھی؟ جلنے والوں نے سولہ سالہ دلہن کی زندگی میں انگارے
    بھر دیئے اورچڑیا نے بے چین ہوکر یہ داغ لے لیا۔
    چہکنا بند ہوگئی۔ گڈی کواماں میں اپنا آپ نظر آتا تھا حالاں کہ اماں کہا کرتی تھیں کہ تو بالکل باپ جیسی ہے۔ گڈی کی شادی ہوگئی۔ شادی کے بعد اس نے بھی نوکری کرلی اور اپنی زندگی کے رنگ میں مصروف ہوگئی۔ اماں نے سارے ارمان نکال کر بیناکوبیاہا، اسے سسرال سے وہ لاڈ نہ ملا تو دوبارہ سے اماں کے گھر واپس آگئی، ایک داغ اور امی کے لئے۔ پھر پپو کوبیاہا لاڈلا اور اکلوتا ہونے نے اس کے پاس کوئی راستہ نہیں چھوڑا کہ وہ امی کو خوشی دیتا امی بیمار رہنا شروع ہوگئیں گڈی اپنی بھابھی سے مایوس ہوکر امی کو اپنے پاس لے آئی۔ زندگی نے گڈی کوبھی چڑیا بنا دیا تھا، چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ اس نے امی کو بھی اپنے پروں میں چھپالیا۔ آخری داغ اس چڑیا کے دل پر اس وقت لگا جب ننھی ایک دن اچانک سات بچے چھوڑکر اﷲکوپیاری ہوگئی۔ چڑیا چُپ ہو گئی۔ اس کے بعد چڑیا کو بولتے کسی نے نہیں سنا، بس گڈی تھی جس سے وہ بات کیا کرتی تھیں دل کی۔ ایک دن گڈی ان کو دوائی کھلا رہی تھی تین چار گولیاں دیکھ کر بولیں:
    ’’ائے ساریاں میں کھانیا ں نے؟‘‘ گڈی نے کہا:
    ’’آپ تو سب کو دواکھلاتی تھیں یہ شائد اس کی بددعا لگ گئی۔‘‘
    اماں مسکرا کر بولیں۔ ’’تو مجھے اپنے جیسی لگتی ہے گڈی کے لئے یہ ایک اعزاز تھا۔ اس کی آئیڈیل امی جوکہ ہمیشہ ان کی پڑھنے اور لکھنے کی عادت کے باعث اسے ابا سے تشبیہ دیتی تھیں۔ اسے اپنے جیسی کہہ رہی تھیں۔ اس نے ماں کے ہاتھ اور ماتھا چوم لیا، کافی دیران سے بیٹھ کر باتیں کرتی رہی اگلے دن وہ دفتر سے جلدی اُٹھ گئی کہ گھر کچھ پھل لیتی ہوئی جاؤ گھر میں مہمان آئے ہوئے تھے۔ امی کی وجہ سے گھر میں سب لوگ ان سے ملنے آتے تھے پھل لے کر وہ گھر پہنچی تو کہرام برپا تھا، بیٹی نے بتایا نانو فوت ہوگئی ہیں۔ اس کا دل ایک دم چھن سے ٹوٹا ہاتھ میں پھل کے تھیلے کو اس نے زمین پر رکھا اور سوچنے لگی ہر عورت چڑیا جیسی کیوں ہوتی ہے۔
    ٭…٭…٭




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۲ (آدم و حوّا)

    وہ پہلی صبح تھی جب اس کی آنکھ سالار سے پہلے کھلی تھی، الارم سیٹ ٹائم سے بھی دس منٹ پہلے۔ چند منٹ وہ اسی طرح بستر میں پڑی رہی۔ اسے اندازہ نہیں ہو رہا تھا کہ رات کا کون سا پہر ہے۔ بیڈ سائیڈ ٹیبل پر پڑا الارم کلاک اٹھا کر اس نے ٹائم دیکھا پھر ساتھ ہی الارم آف کر دیا۔ بڑی احتیاط سے وہ اٹھ کر بستر میں بیٹھی۔ سائیڈٹیبل کا لیمپ بڑی احتیاط سے آن کرتے ہوئے اس نے سلیپرز ڈھونڈے، پھر اس نے کھڑے ہوتے ہوئے سائیڈ ٹیبل کا لیمپ آف کیا۔ تب اس نے سالار کی سائیڈ کے لیمپ کو آن ہوتے دیکھا۔ وہ کس وقت بیدار ہوا تھا، امامہ کو اندازہ نہیں ہوا تھا۔
    ’’میں سمجھی تم سو رہے ہو۔‘‘ اس نے سالار کے سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا۔
    ’’میں ابھی اٹھا ہوں، کمرے میں آہٹ کی وجہ سے۔‘‘
    وہ اسی طرح لیٹے لیٹے اب اپنا سیل فون دیکھ رہا تھا۔
    ’’لیکن میں نے تو کوئی آواز نہیں کی۔ میں تو کوشش کر رہی تھی کہ تم ڈسٹرب نہ ہو۔‘‘ امامہ کچھ حیران ہوئی تھی۔
    ’’میری نیند زیادہ گہری نہیں ہے امامہ! کمرے میں ہلکی سے ہلکی آہٹ بھی ہو تو میں جاگ جاتا ہوں۔‘‘ اس نے گہرا سانس لیتے ہوئے سیل سائیڈ ٹیبل پر رکھا۔
    ’’میں آئندہ احتیاط کروں گی۔‘‘ اس نے کچھ معذرت خوانہ انداز میں کہا۔
    ’’ضرورت نہیں، مجھے عادت ہے اسی طرح کی نیند کی۔ مجھے اب فرق نہیں پڑتا۔‘‘ اس نے بیڈ پر پڑا ایک اور تکیہ اٹھا کر اپنے سر کے نیچے رکھا اور آنکھیں بند کر لیں۔ وہ واش روم میں جانے سے پہلے چند لمحے اسے دیکھتی رہی۔ ہر انسان ایک کتاب کی طرح ہوتا ہے۔ کھلی کتاب جسے کوئی بھی پڑھ سکتا ہے۔ سالار بھی اس کے لیے ایک کھلی کتاب تھا لیکن چائنیز زبان میں لکھی ہوئی کتاب۔
    اس دن اس نے اور سالار نے سحری اکٹھے کی اور ہر روز کی طرح سالار، فرقان کے ساتھ نہیں گیا۔ وہ شاید پچھلے کچھ دنوں کی شکایتوں کا ازالہ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ امامہ کا موڈ رات کو ہی بہت اچھا ہو گیا تھا اور اس میں مزید بہتری اس کی اس ’’توجہ‘‘ نے کی۔
    مسجد میں جانے سے پہلے آج پہلی بار اس نے اسے مطلع کیا۔
    ’’امامہ! تم میرا انتظار مت کرنا۔ نماز پڑھ کر سو جانا، میں کافی لیٹ آوؑں گا۔‘‘
    اس نے جاتے ہوئے اسے تاکید کی لیکن وہ اس کی تاکید کو نظر انداز کرتے ہوئے اس کے انتظار میں بیٹھی رہی۔
    وہ ساڑھے آٹھ بجے اس کے آفس جانے کے بعد سوئی تھی۔ دوبارہ اس کی آنکھ گیارہ بجے ڈور بیل کی آواز پر کھلی۔ نیند میں اپنی آنکھیں مسلتے ہوئے، اس نے بیڈ روم سے باہر نکل کر اپارٹمنٹ کا داخلی دروازہ کھولا۔ چالیس، پینتالیس سالہ ایک عورت نے اسے بے حد پُرتجسس نظروں سے دیکھتے ہوئے سلام کیا۔
    ’’مجھے نوشین باجی نے بھیجا ہے۔‘‘ اس نے اپنا تعارف کروایا۔
    امامہ کو ایک دم یاد آیا کہ اس نے نوشین کو صفائی کے لیے ملازمہ کو کل کے بجائے اگلے دن بھیجنے کے لیے کہا تھا۔ وہ اسے راستہ دیتی ہوئی دروازے سے ہٹ گئی۔
    ’’اتنی خوشی ہوئی جب نوشین باجی نے مجھے بتایا کہ سالار صاحب کی بیوی آگئی ہے۔ مجھے تو پتا ہی نہیں چلا کہ کب شادی کر لی سالار صاحب نے۔ ‘‘ امامہ کے پیچھے اندر آتے ہوئے ملازمہ کی باتوں کا آغاز ہو گیا تھا۔
    ’’کہاں سے صفائی شروع کرنی ہے تم نے؟‘‘
    امامہ کی فوری طور پر سمجھ میں نہیں آیا کہ اسے صفائی کے بارے میں کیا ہدایات دے۔
    ’’باجی! آپ فکر نہ کریں۔ میں کر لوں گی، آپ چاہے آرام سے سو جاؤ۔‘‘ملازمہ نے اسے فوری آفر کی۔ یہ شاید اس نے اس کی نیند سے بھری ہوئی آنکھوں کو دیکھ کر کہا تھا۔
    ’’نہیں، تم لاؤنج سے صفائی شروع کرو، میں ابھی آتی ہوں۔‘‘
    آفر بری نہیں تھی، اسے واقعی نیند آرہی تھی لیکن وہ اس طرح اسے گھر میں کام کرتا چھوڑ کر سو نہیں سکتی تھی۔
    واش روم میں آکر اس نے منہ پر پانی کے چھینٹے مارے، کپڑے تبدیل کر کے بال سمیٹے اور لاؤنج میں نکل آئی۔ ملازمہ ڈسٹنگ میں مصروف تھی۔ لاؤنج کی کھڑکیوں کے بلائنڈز اب ہٹے ہوئے تھے،سورج ابھی پوری طرح نہیں نکلا تھا لیکن اب ھند نہ ہونے کے برابر تھی۔ لاؤنج کی کھڑکیوں سے باہر پودے دیکھ کر اسے انہیں پانی دینے کا خیال آیا۔
    ملازمہ ایک بار پھر گفتگو کا آغاز کرنا چاہتی تھی لیکن وہ اسے بالکونی کی طرف جاتے دیکھ کر چپ ہو گئی۔
    جب وہ پودوں کو پانی دے کر فارغ ہوئی تو ملازمہ لاؤنج صاف کرنے کے بعد اب سالار کے اس کمرے میں جا چکی تھی جسے وہ اسٹڈی روم کی طرح استعمال کرتا تھا۔
    ’’’سالار صاحب بڑے اچھے انسان ہیں۔‘‘
    تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں اپارٹمنٹ کی صفائی کرنے کے بعد امامہ نے اس سے چائے کا پوچھا تھا۔ چائے پیتے ہوئے ملازمہ نے ایک بار پھر اس سے باتوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ امامہ اس کے تبصرے پر صرف مسکرا کر خاموش ہو گئی۔
    ’’آپ بھی ان کی طرح بولتی نہیں ہیں؟‘‘ ملازمہ نے اس کے بارے میں اپنا پہلا اندازہ لگایا۔
    ’’اچھا، سالار بھی نہیں بولتا۔‘‘ امامہ نے جان بوجھ کر اسے موضوع گفت گوبنایا۔
    ’’کہاں جی۔ حمید بھی یہی کہتا ہے صاحب کے بارے میں۔‘‘
    ملازمہ نے شاید سالار کے ملازم کا نام لیا تھا۔
    ’’لیکن باجی! بڑی حیا ہے آپ کے آدمی کی آنکھ میں۔‘‘
    اس نے ملازمہ کے جملے پر جیسے بے حد حیران ہو کر اس کا چہرہ دیکھا تھا۔ ملازمہ بڑی سنجیدگی سے بات کر رہی تھی۔
    ’’جیسے فرقان صاحب ہیں ویسی ہی عادت سالار صاحب کی ہے۔ فرقان صاحب تو خیر سے بال بچوں والے ہیں لیکن سالار صاحب تو اکیلے رہتے تھے ادھر۔ میں تو کبھی بھی اس طرح اکیلے مردوں والے گھروں میں صفائی نہ کروں۔ بڑی دنیا دیکھی ہے جی میں نے، لیکن یہاں کام کرتے ہوئے کبھی نظر اٹھا کر نہیں دیکھا صاحب نے مجھے۔ میں کئی بار سوچتی تھی کہ بڑے ہی نصیب والی عورت ہو گی، جو اس گھر میں آئے گی۔‘‘
    ملازمہ فراٹے سے بول رہی تھی۔
    ہیٹر کے سامنے صوفے پر نیم دراز زمامہ اس کی باتیں سنتی کسی سوچ میں گم رہی۔ ملازمہ کو حیرت ہوئی تھی کہ باجی اپنے شوہر کی تعریف پر خوش کیوں نہیں ہوئی۔ ’’باجی‘‘ کیا خوش ہوتی، کم از کم اسے اتنی توقع تو تھی اس سے کہ وہ گھر میں کام کرنے والی کسی عورت کے ساتھ کبھی انوالو نہیں ہو سکتا۔ وہ مردوں کی کوئی بری ہی بد ترین قسم ہوتی ہو گی، جو گھر میں کام کرنے والی ملازمہ پربھی نظر رکھتے ہوں گے اور سالار کم از کم اس قسم کے مردوں میں شمار نہیں ہو سکتا تھا۔
    ملازمہ اس کی مسلسل خاموشی سے کچھ بے زار ہو کر جلدی چائے پی کر فارغ ہو گئی۔ امامہ اس کے پیچھے دروازہ بند کرنے گئی تو ملازمہ نے باہر نکلنے سے پہلے مڑ کر اس سے کہا۔
    ’’باجی! کل ذرا جلدی آجاؤں آپ کے گھر؟‘‘
    امامہ ٹھٹک کر رک گئی۔ اس کے چہرے پر یقینا کوئی ایسا تاثر تھا جس نے ملازمہ کو کچھ بوکھلا دیا تھا۔
    ’’باجی! مجھے چھوٹے بچے کو ہسپتال لے کر جانا ہے، اس لیے کہہ رہی تھی۔‘‘ اس نے جلدی سے کہا۔
    ’’ہاں، ٹھیک ہے۔‘‘ امامہ نے بہ مشکل جیسے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا اور دروازہ بند کر دیا۔ کل جلدی آنے کے مطالبے نے اسے ساکت نہیں کیا تھا بلکہ اسے ساکت کیا تھا اس کے تین لفظوں نے… ’’آپ کے گھر‘‘ یہ ’’اس کا گھر ‘‘ تھا جس کے لیے وہ اتنی سالوں سے خوار ہوتی پھر رہی تھی۔ جس کی آس میں وہ کتنی بار جلال انصر کے پیچھے گڑ گڑانے گئی تھی۔ وہ بے یقینی سے لاؤنج میں آکر ان دیواروں کو دیکھ رہی تھی جنہیں دنیا ’’اس کے گھر‘‘ کے نام سے شناخت کر رہی تھی، وہ واقعی اس کا گھر تھا۔ وہ پناہ گاہیں نہیں تھیں جہاں وہ اتنے سال سرجھکا کر ممنون و احسان مند بن کر رہی تھی۔ آنسوؤں کا ایک ریلا آیا تھا اس کی آنکھوں میں… بعض اوقات انسان سمجھ نہیں پاتا کہ وہ روئے یا ہنسے… روئے ، تو کتنا روئے… ہنسے، تو کتنا ہنسے… وہ بھی کچھ ایسی ہی کسی کیفیت سے گزر رہی تھی۔ وہ بچوں کی طرح ہر کمرے کا دروازہ کھول کھول کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جا رہی تھی۔ وہ جا سکتی تھی وہاں… جو چاہے کر سکتی تھی… یہ اس کا گھر تھا۔ یہاں کوئی جگہ اس کے لیے ’’علاقہ غیر‘‘ نہیں تھی۔ اسے بس اتنی سی دنیا ہی چاہیے تھی اپنے لیے… کوئی ایسی جگہ جہاں وہ استحقاق کے ساتھ رہ سکتی ہو… سالار یک دم جیسے کہیں پیچھے چلا گیا تھا۔ گھر کے معاملے میں عورت کے لیے ہر مرد پیچھے رہ جاتا ہے۔
    سالار نے اسے دوبار وقفے وقفے سے سیل پر کال کی لیکن امامہ نے ریسیو نہیں کی… سالار نے تیسری بار پھر پی ٹی سی ایل پر کال کی، اس بار امامہ نے ریسیو کی لیکن اس کی آواز سنتے ہی سالار کو اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ رو رہی تھی۔ اسے اس کی آواز بھر آئی ہوئی لگی۔ وہ بہت پریشان ہوا۔
    ’’کیا ہوا؟‘‘
    ’’کچھ نہیں۔‘‘
    وہ دوسری طرف جیسے اپنے آنسوؤں اور آواز پر قابو پانے کی کوشش کر رہی تھی۔
    ’’کیوں رو رہی ہو؟‘‘
    سالار کی واقعی کچھ سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ کیوں رو رہی ہے۔ رات ہر جھگڑے کا اختتام بے حد خوشگوار انداز میں ہوا تھا۔ وہ صبح دروازے تک مسکرا کر اسے رخصت کرنے آئی تھی۔ پھر اب… ؟ وہ اُلجھ رہا تھا۔
    دوسری طرف امامہ کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ اسے اپنے رونے کا کیا جواز پیش کرے۔ اس سے یہ تو نہیں کہہ سکتی تھی کہ وہ اس لیے رو رہی ہے کہ کسی نے اسے ’’گھر والی‘‘ کہا ہے۔ سالار یہ بات نہیں سمجھ سکتا تھا… کوئی بھی مرد نہیں سمجھ سکتا۔
    ’’مجھے امی اور ابو یاد آرہے رہیں۔‘‘ سالار نے بے اختیار ایک گہرا سانس لیا۔
    یہ وجہ سمجھ میں آتی تھی… وہ یک دم پر سکون ہوا۔ ادھر وہ بالکل خاموش تھی۔ ماں باپ کا ذکر کیا تھا، جھوٹ بولا تھا لیکن اب رونے کی جیسے ایک اور وجہ مل گئی تھی۔ جو آنسو پہلے تھم رہے تھے، وہ ایک بار پھر سے برسنے لگے تھے۔ کچھ دیر وہ چپ چاپ فون پر اس کی سسکیاں اور ہچکیاںسنتا رہا۔
    وہ اس غیر ملکی بینک میں انویسٹمنٹ بینکنگ کو ہیڈ کرتا تھا۔ چھوٹے سے چھوٹا investment scam پکڑ سکتا تھا، خسارے میں جاتی بڑی سے بڑی کمپنی کے لیے بیل آؤٹ پلان تیار کر سکتا تھا۔ کمپنیز کے مرجر پیکجز تیار کرنا اس کے بائیں ہاتھ کا کام تھا۔ وہpoint one percentکیprecision کے ساتھ ورلڈ اسٹاک مارکیٹیں کے ٹرینڈز کی پیش بینی کر سکتاتھا۔ مشکل سے مشکل سرمایہ کار کے ساتھ سودا طے کرنے میں اسے ملکہ حاصل تھا لیکن شادی کے اس ایک ہفتے کے دوران ہی اسے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ امامہ کو روتے ہوئے چپ نہیں کرا سکتا، نہ وہ ان آنسوؤں کی وجہ ڈھونڈ سکتا تھا، نہ انہیں روکنے کے طریقے اسے آتے تھے۔ وہ کم از کم اس میدان میں بالکل اناڑی تھا۔
    ’’ملازمہ نے گھر صاف کیا تھا آج؟‘‘ ایک لمبی خاموشی کے بعد اس نے امامہ کی توجہ رونے سے ہٹانے کے لیے جس موضوع اور جملے کا انتخاب کیا وہ احمقانہ تھا۔ امامہ کو جیسے یقین نہیں آیا کہ یہ بتانے پر کہ اسے اپنے ماں باپ یاد آرہے ہیں، سالار نے اس سے یہ پوچھا ہے۔ پچھلی رات کے سالار کے سارے لیکچرز کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اس نے ریسیور کریڈل پر پٹک دیا اور فون منقطع ہوتے ہی سالار کو اپنے الفاظ کے غلط انتخاب کا احساس ہو گیا تھا۔ اپنے سیل کی تاریک اسکرین کو دیکھتے ہوئے اس نے بے اختیار گہرا سانس لیا۔
    اگلے پانچ منٹ وہ سیل ہاتھ میں لیے بیٹھا رہا۔ اسے پتا تھا اس نے اب کال کی تو وہ ریسیو نہیں کرے گی۔ پانچ منٹ کے بعد اس نے دوبارہ کال کی۔ خلاف توقع امامہ نے کال ریسیو کی۔ اس بار اس کی آواز میں خفگی تھی لیکن وہ بھرائی ہوئی نہیں تھی۔ وہ یقینا رونا بند کر چکی تھی۔
    ’’آئی ایم سوری!؟‘‘ سالار نے اس کی آواز سنتے ہی کہا۔
    امامہ نے جواب نہیں دیا۔ وہ اُس وقت اس کی معذرت نہیں سن رہی تھی۔ وہ صرف ایک ہی بات کا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھی، اسے سالار پر غصہ کیوں آجاتا تھا…؟ یوں چھوٹی چھوٹی باتوں پر… اتنے سالوں میں جس ایک احساس کو وہ مکمل طور پر بھول گئی تھی، وہ غصے کا احساس ہی تھا۔ یہ احساس اس کے لیے اجنبی ہو چکا تھا۔ اتنے سالوں سے اس نے اللہ کے علاوہ کسی سے بھی کوئی گلہ، کوئی شکایت نہیں کی تھی۔ کسی سے ناراض ہونا یا کسی کو خفگی دکھانا تو بہت دور کی بات ہے، پھر اب یہ احساس اس کے اندر کیوں جاگ اٹھا تھا۔ سعیدہ اماں، ڈاکٹر سبط علی اور ان کی فیملی… اس کے کلاس فیلوز… کولیگز… ان میں سے کبھی کسی پر اسے غصہ نہیں آیا تھا۔ ہاں، کبھی کبھار شکایت ہوتی تھی لیکن وہ شکایت کبھی لفظوں کی شکل اختیار نہیں کر سکی، پھر اب کیا ہو رہا تھا اسے؟
    ’’امامہ پلیز بولو… کچھ کہو۔‘‘ وہ چونکی۔
    ’’نماز کا وقت نکل رہا ہے، مجھے نماز پڑھنی ہے۔‘‘ اس نے اسی الجھے ہوئے انداز میں اس سے کہا۔
    ’’تم خفا نہیں ہو؟‘‘ سالار نے اس سے پوچھا۔
    ’’نہیں۔‘‘ اس نے مدھم آواز میں کہا۔
    وہ نماز کے بعد دیر تک اسی ایک سوال کا جواب ڈھونڈتی رہی اور اسے جواب مل گیا… نو سال میں اس نے پہلی بار اپنے لیے کسی کی زبان سے محبت کا اظہار سنا تھا۔ وہ احسان کرنے والوں کے ہجوم میں تھی، پہلی بار کسی محبت کرنے والے کے حصار میں آئی تھی۔ گلہ، شکوہ، ناز، نخرہ، غصہ، خفگی یہ سب کیسے نہ ہوتا، اسے ’’پتا‘‘ تھا کہ جب وہ روٹھے گی تو وہ اسے منا لے گا، خفا ہو گی تو وہ اسے وضاحتیں دے گا، مان تھا یا گمان… لیکن جو کچھ بھی تھا، غلط نہیں تھا۔ اتنے سالوں میں جو کچھ اس کے اندر جمع ہو گیا تھا، وہ کسی لاوے کی طرح نکل رہا تھا۔ آہستہ آہستہ وہ نارمل ہو رہی تھی۔
    ٭٭٭٭




  • آبِ حیات — قسط نمبر ۱ (آدم و حوّا)

    پیر کاملؐ سے آبِ حیات تک
    ’’آب حیات‘‘ پیر کاملؐ کا دوسرا حصہ ہے جسے میں نے 2004ء میں پیر کاملؐ کی اشاعت کے فوراً بعد لکھنے کے بجائے کچھ سال بعد آپ کے سامنے لانے کا فیصلہ اس لئے کیا تھا کہ پیر کاملؐ کی کامیابی کی گرد اور بازگشت میں آبِ حیات کا موضوع نظر انداز نہ ہوجائے۔
    ’’آب ِ حیات‘‘ کا موضوع ’’سود‘‘ ہے… وہ فتنہ جسے نبی کریمؐ نے اپنے آخری خطبے میں حرام قرار دیتے ہوئے اس کی بیخ کُنی کا حکم دیا لیکن ان واضح احکامات کے باوجود آج بھی مسلمانوں کی زندگی کا بالواسطہ اور بلاواسطہ حصہ بنا ہوا ہے۔
    بہت سے قارئین کو سود سے پاک ایک طاقتور اسلامی مالیاتی نظام کا وہ خاکہ جو ’’آبِ حیات‘‘ پیش کررہا ہے شاید ایک خیالی پلاؤ اور آئیڈیل ازم سے زیادہ کچھ نہ لگے، اس کے باوجود میں اپنے کرداروں اور کہانی کو اسی یقین اور آئیڈیل ازم کے ساتھ پیش کررہی ہوں کہ لکھے جانے والے الفاظ دنیا کی بڑی بڑی تحاریک کے آغاز کا باعث بنتے ہیں۔ کتابوں کے صفوں پر تخلیق ہونے والے ’’رول ماڈلز‘‘ حقیقی زندگی کے بہت سارے ’’ہیروز‘‘ کو جنم دینے کا باعث بنتے ہیں اور آنے والے زمانوں میں ایک زمانہ ایسا ضرور آئے گا جس میں سود سے پاک ایک اسلامی مالیاتی نظام سے دنیا بھر کے انسان اسی طرح مستفید ہوں گے جس طرح ہم آج مغرب کے دیئے ہوئے سودی نظام پر انحصار کررہے ہیں۔
    سود میں استحصال ہے، فلاح نہیں ہے اور قرآن میں اس کی ممانعت انسانوں کی اپنی بھلائی کے لئے ہے… بالکل اسی طرح جیسے قرآن کے باقی تمام احکامات۔
    لفظ آبِ حیات جن چھے حروف سے مل کر بنا ہے، ان میں ہر حرف انسانی زندگی کی ایک بنیادی اسٹیج کو بیان کرتا ہے :
    آ: آدم و حوّا
    ب: بیت العنکبوت
    ح: حاصل و محصول
    ی: یا مجیب السائلین
    ا: ابداً ابداَ
    ت: تبارک الّذی
    یہ چھے الفاظ پوری انسانی زندگی کا خلاصہ کرتے ہیں۔
    سالار اور امامہ آبِ حیات میں وہی سفر طے کرتے ہیں جو ہم سب کی زندگی کا سفر ہے۔
    آدم و حوّا کا ایک دوسرے کی محبت میں گرفتار ہوکر زندگی بھر کا ساتھی بن جانا۔
    دنیا میں اس جنت جیسا گھر بنانے کی خواہش اور سعی میں جت جانا جہاں سے وہ دونوں نکالے گئے تھے۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ ان کا گھر بیت العنکبوت (مکڑی کا جالا) جیسی ناپائیداری رکھتا ہے جو بننے میں عرصہ لیتا ہے اور ٹوٹنے میں لمحہ…
    حاصل و محصول کا چکر… کیا کھویا کیا پایا؟ کیا پانے کے لئے کیا کیا کھویا؟ کامیابی، خواب، خواہشات اور تمناؤں کا ایک گرداب جو زندگی کو گھن چکر بنادیتا ہے۔
    اس کے بعد اگلا مرحلہ جہاں آزمائشیں ہوتی ہیں… اتنی اور ایسی ایسی آزمائشیں کہ بس اللہ یاد آتا ہے اور وہی کام آتا ہے کیوں کہ وہ ہی مجیب السائلین ہے۔
    اور پھر وہ مرحلہ جب انسان اپنی اگلی نسل کے ذریعے اپنے عروج کا دوام چاہتا ہے اور اسے احساس ہوتا ہے کہ اس زندگی کو زوال ہے۔
    اور پھر وہ جو زندگی کے ان سارے مرحلوں سے نکل آتے ہیں، مومن بن کے انسانی پستیوں سے نکل کے۔ ان کے لئے تبارک الّذی… اللہ کی ذات جو تمام خوبیوں کی املک ہے۔ بزرگ و برتر ہے اور اپنے بندوں کو سب عطا کردینے پر قادر ہے… جس کی محبت ’’آبِ حیات‘‘ ہے جو انسان کو ابدی جنت میں لے جاتا ہے۔ دنیا ختم ہوجاتی ہے لیکن زندگی نہیں۔
    چند الفاظ آپ سب کے لئے… آپ سب سے ملنے والی عزت اور محبت وہ بیج ہے جس سے میری ہر تحریر پھوٹتی ہے۔ آپ سب کا بہت شکریہ… میں آپ کی داد و ستائش کا بدلہ نہ پہلے کبھی دے سکی، نہ اب دے سکتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی نعمتوں اور برکات سے نوازے اور وہی بہترین اجر دینے والا ہے۔
    والسلام
    عمیرہ احمد