بنتِ حوّا — عزہ خالد

’’آج تو میں اس کی جان لے لوں گا… دیکھتا ہوں کون روکتا ہے مجھے…‘‘
اظہر قہر برساتی نظروں سے گھورتا ہوا سویراکی طرف بڑھا تھا۔
سویرا اس اچانک افتاد پر گھبرا کر اماں کی اوٹ میں چلی گئی تھی۔
اماں نے اظہر کے غصّے کی وجہ جاننی چاہی تھی وہ ابھی گھر آیا تھا اور آتے ہی سویرا کو پکارا: ’’کیا ہوگیا…؟‘‘
’’یہ کالج کے بہانے گاڑیوں میں گھومتی پھرتی ہے یوں اپنی عزت کا تماشا نہیں بننے دوں گا…‘‘
’’یہ کیا کہہ رہا ہے تُو…؟؟‘‘
’’پوچھ لیجئے اس لاڈلی سے… آج کس یار کے ساتھ آئی ہے کالج سے…‘‘
اظہر کے پاس تعلیم کے نام پر آٹھ نو جماعتیں تھیں، جو اسے نہ بولنے کا ڈھنگ سکھا سکیں نہ تمیز…
اماں نے مُڑ کر پیچھے کھڑی سویرا کو دیکھا سویرا کا دل چاہا ایسے بے ہودہ الزام پر ڈوب مرے…
’’اماں میں اپنی دوست نازش کی گاڑی میں آئی تھی…
’’آج… وین… نہیں تھی…‘‘ تھوک نگلتے ہوئے اس نے مشکوک نظروں کا سامنا کیا۔
’’وہ لڑکا کون تھا… جو گاڑی چلا رہا تھا…؟‘‘
اظہر نے کھا جانے والی نظروں سے گھورتے ہوئے پوچھا۔
’’وہ نازش کا… بھائی تھا…‘‘ ڈرتے ہوئے اس نے بتایا۔
’’دیکھ رہی ہیں… آزادی کا نتیجہ…‘‘ اظہر نے غصے سے ماں کو دیکھا۔ ’’دوستوں کے بھائیوں کے ساتھ گاڑیوں میں گھومتی پھرتی ہے…
’’میں… میں منع کردوں گی… سمجھا دوں گی کہ آئندہ کسی کے ساتھ نہ آئے… تو غصہ نہ کر…‘‘
اماں نے بیٹے کا غصہ ٹھنڈا کرنا چاہا۔
’’سمجھا دینا اسے… آئندہ اگر ایسی کوئی بات سُنی میں نے…
تو کتابوں کو آگ لگا دوں گا… اور ٹانگیں توڑ دوں گا اس کی۔‘‘
’’ہاں… سمجھاتی ہوں… تو جا… جاکر کھانا کھالے… شکیلہ اظہر کو کھانا دے دے…‘‘ اماں نے بہو کو آواز دیتے ہوئے کہا۔
’’جی اماں…‘‘ شکیلہ کی آواز کچن سے آئی تھی وہ خود بھلے کچن میں تھی مگر اس کے کان صحن میں ہونے والی گفتگو سن رہے تھے اماں کا لیکچر شروع ہوچکا تھا۔ خاندان کی عزت، بھائیوں کی عزت… کسی غیر مرد کی طرف نظر اٹھا کر نہیں دیکھنا… یہ لیکچر گھنٹے دو گھنٹے چلنا تھا۔
سویرا خاموشی سے سر جھکائے سُن رہی تھی، ایسے لیکچر وہ پہلے بھی کئی مرتبہ سن چکی تھی اس لیے اسے حرف حرف یاد تھا۔
ساری پابندیاں صرف لڑکیوں کے لیے ہوتی ہیں۔





کیوں کہ وہ خاندان کی عزت ہوتی ہیں اور انہی سے خاندان کی عزت ہوتی ہے۔
مرد ہر قسم کی پابندی سے آزاد ہے۔
وہ اس وقت ڈائری لیے چھت پر بیٹھی تھی۔
چھت کے چاروں طرف سات فٹ دیوار تھی اور اس دیوار کے بننے میں اظہر کا ہی مشورہ تھا۔
جب کبھی نیچے دم گُھٹتا تو وہ چھت پر آجاتی دیوار کے پار دیکھنا تو تقریباً ناممکن تھا۔
وہ آسمان پر آزادی سے اُڑتے پرندوں کو ہی دیکھ کر خوش ہوجاتی تھی۔
وہ خوش ہوتی یا اداس… فوراً کچھ لکھنے کو دل مچلنے لگتا…
اس کی ڈائری میں پہلے بھی کئی نظمیں لکھی ہوئی تھیں جو اس کی اپنی تھیں وہ اس ڈائری کو بہت سنبھال کر رکھتی تھی…
کاش…
کاش میں ایک پرندہ ہوتی…
آسمان پر پرندوں کے غول کو آزادی سے گھومتے دیکھ کر اس نے اپنی حسرتوں کو لفظوں میں کی شکل دیتے ہوئے ڈائری میں اتارا۔
’’میں ان فضاؤں میں آزادی سے سانس لینا چاہتی ہوں…
ان بند دیواروں میں میرا دم گھٹتا ہے…
سورج روز طلوع ہوتا ہے…
پر جانے کون میرے حصے کی روشنی لے جاتا ہے…
میں سویرا ہوں…
ایسا سویرا… جو روشنی کو ترستا ہے…
مجھے اندھیرے میں رکھ کر…
سویرے کا نام دے دینا…
ایک مذاق ہو جیسے…
’’سویرا… سویرا…‘‘ نیچے سے اماں کی تیز آواز پر اس نے جھنجھلائے ہوئے ڈائری بند کی۔
’’جی اماں‘‘ کہتی ہوئی سیڑھیاں اتری۔
’’کہاں تھی…؟‘‘
’’اوپر چھت پر…‘‘
’’کیوں…؟‘‘
اس کیوں کا کیا جواب دیتی بس خاموش رہی تھی۔
اس گھر میں کوئی رات رات بھر گھر نہ آئے تو ’’کہاں تھے…؟‘‘
یہ کبھی نہیں پوچھا جاتا… اور اس کی چھوٹی چھوٹی حرکتوں پر نظر رکھی جاتی ہے سو سوال کیے جاتے ہیں۔
وہ نیچے آکر بھول گئی تھی کہ وہ جلدی میں اپنی عزیز ترین دوست اپنی ڈائری اوپر چھوڑ آئی تھی۔
اور یہی اس کی سب سے بڑی غلطی تھی۔
وہ ڈائری اظہر کے ہاتھ لگ گئی تھی گھر میں قیامت آگئی۔
’’یہ دیکھیں لاڈلی کے کارنامے… عشقیہ شعر لکھے ہوئے ہیں اس میں… کالج جاکر کتنی بے حیا ہوگئی ہے…‘‘
اظہر کے ہاتھ میں اپنی ڈائری دیکھ کر سویرا کی جان نکل گئی تھی۔
اس کا رنگ ایسے فق ہوگیا تھا جیسا کوئی بڑا گناہ سر زد ہوگیا ہو…
اظہر بلند آواز میں ڈائری میں لکھی نظمیں، غزلیں اور چھوٹے بڑے پیرا گراف پڑھ رہا تھا۔
بھابھی حیرت سے آنکھیں پھاڑے سُن رہی تھیں، اماں اسے گھور رہی تھیں اور وہ شرمندگی سے سرجھکائے کھڑی تھی۔
’’شاعری بھی کرتی ہے یہ… سُن رہی ہیں کیسی کیسی بکواس لکھی ہوئی ہے اس نے… اب تو میری بات مان لیں… یہ دن بہ دن بگڑتی جارہی ہے… کسی دِن کوئی چاند چڑھا دے گی… اتنی آزادی اچھی نہیں ہوتی…‘‘
’’آزادی… یہ آزادی ہے…؟ ایک پنچھی کے پیر باندھ کر اسے چھوڑ دیا جائے… وہ بس حسرت سے باہر کی دنیا دیکھے… اسے تو آزادی نہیں کہا جاسکتا…
اور ہر وقت خوف کے سائے منڈلاتے رہتے تھے کہ کب کون سی بات پر پکڑ ہوجائے… حالاں کہ وہ بہت محتاط رہتی تھی کالج میں ایک دو سے زیادہ دوستیں بھی نہیں بنائی تھیں مگر پھر بھی کوئی نہ کوئی بات ایسی ہو ہی جاتی تھی…
اور پھر اس دن کے بعد سے وہ کالج نہیں گئی۔
پنچھی کو اٹھا کر پنجرے میں قید کردیا تھا۔
ایک طرح سے ٹھیک ہی ہوا تھا باہر کی دنیا میں لوگوں کے ہنستے مُسکراتے چہرے دیکھ کر وہ احساسِ کمتری کا شکار ہوجاتی تھی۔
’’اماں… اماں…‘‘ اظہر آج بہت خوش تھا
اس کا خوش گوار موڈ دیکھ کر اماں کو حیرت ہوئی تھی…
اس کے ہاتھ میں شاپر دیکھ کر وہ چونکیں۔ وہ شاپر ان کی طرف بڑھا رہا تھا۔
’’اس میں کیا ہے؟‘‘
’’وہ جو مین روڈ پر بڑی والی بیکری ہے نا… اس سے برفی لے کر آیا ہوں…‘‘
اماں نے شاپر تھامتے ہوئے بڑے غور سے اسے دیکھا۔
اس کا غصّہ اس کی بدتمیزی پورے خاندان میں مشہور تھی…
اور کہاں یہ خوش مزاجی…؟
’’کس خوشی میں لایا ہے…؟‘‘
’’آج تیرے بیٹے نے بڑی محنت کی ہے… یہ میری محنت کی پہلی کمائی تھی تو سوچا سب کا منہ میٹھا کروا دیا جائے…‘‘




Loading

Read Previous

ادھوری زندگانی ہے — لعل خان (دوسرا اور آخری حصّہ)

Read Next

تھالی کا بینگن — کرشن چندر

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!