Author: misbah116@hotmail.com

  • ادھوری زندگانی ہے —- لعل خان (پہلا حصّہ)

    تین جنوری بروز منگل (2013ء)
    شام کے سائے لمبے ہو کر اب گھر کی کچی دیواروں کو اپنی لپیٹ میں لے رہے تھے۔سورج اپنی آب و تاب کھو کر بچی کھچی روشنی کو دیواروں کی منڈیر سے بس کھینچنے ہی والا تھا۔میں نے صحن کے بیچوں بیچ لکڑی کی چارپائی پر دونوں ہاتھوں کا تکیہ بنا کر لیٹے ہوئے ابا جی کی طرف دیکھا ،وہ آسمان کی جانب دیکھ رہے تھے۔ شاید موازنہ کر رہے تھے اپنا اور آسمان کا۔ آسمان چھیاسٹھ برس پہلے بھی اسی طرح تھا،تاحدِ نظر پھیلا ہوا… رات کے آنگن میں ستاروں سے سجی ہوئی دلہن کی طرح اور بنا سہارے کے کھڑا ہوا مگر ان چھیاسٹھ برسوں نے ابا جی سے بہت کچھ چھین لیا تھا۔ بچپن ،جوانی اور اب صحت بھی۔ وہ بیمار بیمار سے رہنے لگے تھے۔
    دن مٹی سے بنے ہوئے کچے گھر کے چھوٹے سے کمرے میں لٹکے میلے کچیلے تین پروں والے پنکھے کو گھورتے ہوئے گزار دیتے تھے اور رات ستاروں کی گنتی میں… مگر ان کی یہ گنتی ہر رات ادھوری رہ جاتی تھی۔ ستاروں کی چمک ماند پڑتے پڑتے مر جاتی اور سورج تازہ دم ہو کر لوٹ آتا تھا۔ تب ابا اپنی چارپائی اٹھا کر پھر سے کمرے میں گھس جاتے۔ میں نے نظروں کا رخ بدلا تو سامنے لکڑی کے بیرونی دروازے کے دائیں طرف جلتے ہوئے تندور میں تندہی سے روٹیاں پکاتی اماں نظر آئیں۔ اماں کا چہرہ بھی تندور کی تپش سے سرخ ہو رہا تھا۔ وہ کندھے پر مفلر کی طرح ڈالے گئے دوپٹے نما کپڑے سے بار بار چہرہ صاف کرتی اور پھر سے تندور پر جھک جاتیں۔
    ’’کاش! میری کوئی بہن ہوتی۔‘‘ بے اختیار ہی دل نے اک اور کاش کو جگہ دے دی ۔
    میں اماں اور ابا کی اکلوتی اولاد تھا جسے دونوں نے بہت لاڈ پیار سے بڑا کیا تھا۔ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے میرے ماں باپ نے میری چھوٹی سی خواہش کو بھی اپنی جان گروی رکھ کر پورا کیا تھا۔ ابا بتاتے ہیں ان کی شادی کے آٹھ سال بعد جب میں پیدا ہوا تو انہوں نے اپنی ساری زمین بیچ کر یہ مٹی کا گھر بنایا تھا تا کہ ان کے شہزادے کو اس جھونپڑے میں نہ رہنا پڑے جس میں ابا میری ماں کو بیاہ کر لائے تھے۔ وہ جھونپڑا ابا کی زمین میں ہی بنا ہوا تھا اور وہاں کھیتی باڑی کرکے وہ اپنا اور اماں کا پیٹ پالتے تھے۔ زمین بک جانے کے بعد ان کے شہزادے کو گھر تو مل گیا مگر اس کے بعد ابا کو نت نئے لوگوں کے آگے مزدوری کر کے اپنا گھر چلانا پڑا لیکن وہ یہ سب بہت خوشی خوشی برداشت کر رہے تھے۔ میری آمد نے ان کے اندر ایک نئی روح پھونک دی تھی۔ وہ اپنی زندگی کے صحرا میں مجھے ایک نوخیز پودا سمجھتے تھے جس نے ایک دن سایہ دار درخت بن کر انہیں اپنی چھاؤں میں پناہ دینی تھی۔





    اماں بتاتی ہیں جب میرا نام رکھنے کا مرحلہ آیا تو دونوں میں خوب لے دے ہوئی۔ اماں نے میرے لیے اپنے مرحوم بھائی پرویز کا نام سوچا ہوا تھا اور ابا مجھے گلزار کہہ کر بلانا چاہتے تھے۔ یوں کئی دن تک یہ جھگڑا چلتارہا اور آخر کار دونوں نے تیسرا رستہ نکالا اور میرا نام پرویز گل رکھ دیا گیا۔
    ابتدائی پانچ سال تک ابا کی دہاڑی سے گھر بھی چل جاتا اور میرے نخرے بھی آرام سے برداشت ہو جایا کرتے تھے مگر جب مجھے اسکول میں داخل کروانے کا وقت آیا تو ابا اور اماں دونوں ایک بار پھر متفکر ہو گئے۔ ان کی خواہش تھی کہ میں اعلیٰ سے اعلیٰ تعلیم حاصل کروں تاکہ جوان ہو کر ابا کی طرح دہاڑی کرنے کی بجائے کوئی بڑا افسر بنوں گا اور میری جوانی اور اُن کا بڑھاپا سدھر جائے، مگر اب جب میں پانچ سال کا ہو کر ا ن سے پوچھ رہا تھا کہ میں کب اسکول جاؤں گا، تو دونوں ایک دوسرے کا منہ دیکھنے لگے تھے۔
    تب پہلی بار اماں نے ابا کا ساتھ دینے کے لیے کمر کس لی اور محلے کے وہ تمام گھر جہاں جھاڑو پونچھے اور برتن دھونے کے لیے نوکرانیوں کی ضرورت پڑتی تھی وہاں پہنچ گئیں اور آخر کار ایک گھر میں انہیں نوکری مل ہی گئی۔یوں اب گھر کا خرچہ ابا کے ذمے ہو گیا اور میری پڑھائی کا خرچ اماں کے ذمے۔ اماں روز مجھے ناشتا کروانے کے بعد گاؤں کے واحد پرائمری اسکول میں چھوڑنے کے بعد اپنے کام پر چلی جاتی اور جب چھٹی کا وقت ہوتا تو ابا مجھے لینے آجایا کرتے۔ یوں زندگی کی گاڑی اپنی ڈگر پر چل پڑی۔ میرے آنے کے بعد ہماری فیملی مکمل ہو گئی تھی۔ ابا، اماں اور میں ۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب میں نے میٹرک میں اپنی کلاس میں دوسری پوزیشن لی تھی۔ اس دن ابا نے ایک بار پھر اپنی ساری جمع پونجی لگا کر پورے محلے میں مٹھائی بانٹی تھی ۔
    میٹریکولیٹ ہونے تک مجھے اس بات کا اچھی طرح ادراک ہو چکا تھا کہ میں ایک لوئر مڈل کلاس فیملی کا لڑکا ہوں۔ میرے ابا دہاڑی کرتے اور اماں لوگوں کے گھروں میں کام کاج کرتی ہیں۔میں اب اپ سیٹ رہنے لگا تھا۔ مجھے بالکل بھی اچھا نہیں لگ رہا تھا کہ میں مزے سے رہوں اور میرے ماں باپ محنت مزدوری کرکے میرا پیٹ بھرتے رہیں۔ اسی لیے میں نے سوچ رکھا تھا کہ میٹرک پاس کرتے ہی کوئی کام ڈھونڈنا شروع کر دوں گا۔ جب میں نے ابا اور اماں سے بات کی تو دونوں کا غصہ آسمان چھونے لگا۔ وہ مجھے کسی بھی صورت پڑھائی چھوڑ کر کام پر لگنے نہیں دینا چاہتے تھے ۔ابا نے اس دن پہلی بار مجھے شدید غصے میں انگلی اٹھا کر وارننگ دیتے ہوئے کہا:
    ’’کان کھول کر سن لو گل! پڑھائی چھوڑ کر کام کا خیال دوبارہ دل میں کبھی مت لانا۔میں نے تمہارے لیے کچھ خواب دیکھے ہیں اور وہ تب ہی پورے ہوں گے جب تم تعلیم مکمل کر کے افسر بن جاؤ گے۔ میں ابھی بوڑھا نہیں ہوا تم سے زیادہ طاقت ور ہوں۔ میں تمہاری پڑھائی کا خرچ برداشت کر لوں گا۔‘‘ ابا کی بات ختم ہوتے ہی اماں بھی مجھ پر برس پڑی تھیں۔
    ’’تم نے یہ سوچ بھی کیسے لیا کہ ہم دونوں کے ہوتے ہوئے تم پڑھائی چھوڑ کر کام پر کرو گے۔ تمہیں ابھی اور پڑھنا ہے جیسے وہ خالد صاحب کا بیٹا پڑھ رہا ہے شہر جا کر… تم بھی شہر جا کر پڑھو گے اور تب تک نہیں لوٹو گے جب تک بڑے افسر نہ بن جاؤ۔‘‘
    یہ سنتے ہی ابا نے اماں کو ڈپٹ دیا تھا۔
    ’’تم بھی کما ل کرتی ہو نیک بخت! کیوں نہ لوٹے ،ہزار بار لوٹے، اس کا گھر ہے یہ مگر صرف چھٹیاں گزارنے کے لیے، دہاڑیاں کرنے کے لیے نہیں۔‘‘
    میںخاموشی سے سر جھکائے اپنے ماں باپ کی باتیں سن رہا تھا جن کے غصے میں بھی میرے لیے پیار کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔
    مجھے ا ن کی سادہ لوحی پر رشک بھی آتا تھا۔ یہ صرف اتنا جانتے تھے کہ ڈھیر سارا پڑھنے سے لوگ بڑے افسربن جاتے ہیں مگر میں جانتا تھا صرف ڈھیر ساری پڑھائی افسر بننے کے لیے کافی نہیں ہوتی۔
    وہ مجھے ڈاکٹر، انجینئر یا وکیل نہیں بنا سکتے تھے۔ ان کے پاس اتنے وسائل نہیں تھے کہ وہ مجھے ایم بی بی ایس یا ایل ایل بی کروا پاتے، مگر میں ان کی امیدوں کو توڑنا نہیں چاہتا تھا۔ اسی لیے میں نے سوچ رکھا تھا کہ میں شہر جا کر پڑھائی کے ساتھ ساتھ پارٹ ٹائم جاب کروں گا تا کہ میں ان پر بوجھ نہ بنوں۔ مگر اللہ کی زمین میں صرف وہی ہوتا ہے جو وہ چاہتا ہے۔ ہم انسان صرف منصوبے بنا سکتے ہیں۔ بہ قول اشفاق احمد… ’’انسان اتنا غافل منصوبہ ساز ہے جو اپنی موت کو اپنے منصوبے میں شامل ہی نہیں کرتا۔‘‘ میرے منصوبوں کے راستے میں موت تو حائل نہ ہو سکی، مگر ابا کی اچانک بیماری نے ان کے تمام خواب چکناچور کر دیے جو انہوں نے میرے لیے دیکھے تھے۔
    میرے شہر جانے کے ڈیڑھ سال بعد ہی ابا کو ایسی بیماری لگی کہ وہ چارپائی کے ہو کر رہ گئے۔ اماں اکیلی ابا کو سنبھال نہیں سکتی تھیں، چارو ناچار مجھے انٹر ادھورا چھوڑ کر گھر واپس آنا پڑا۔ گھر کے اخراجات کے ساتھ ساتھ اب مجھے ابا کی بیماری سے بھی لڑنا تھا جو مناسب علاج نہ ہونے کی وجہ سے بڑھتی چلی جا رہی تھی۔ ابا نے بولنا تقریباً چھوڑ ہی دیا تھا۔ وہ اپنی شکست کے احساس کے ساتھ روز بہ روز زندگی سے مایوس ہوتے جا رہے تھے۔ میں نے ابا کی جگہ دہاڑی لگانا شروع کر دی۔ اماں ابھی تک محلے کے کچھ گھروں میں جھاڑ پونچھ کر کے تھوڑا بہت کما رہی تھی مگر ہم ماں بیٹے کی کمائی گھر کو چلانے اور ابا کو چارپائی سے اٹھانے کے لیے ناکافی تھی۔ میں شہر جا کر اچھی نوکری ڈھونڈنا چاہتا تھا مگر ابا کی حالت نے میرے پاؤں میں زنجیر ڈالی ہوئی تھی۔ مجھے دہاڑی پر کام کرتے تین سال ہو چلے تھے لیکن ابا کی حالت نہ سدھر سکی اور اب اماں بھی کام کے لائق نہ رہی تھیں۔ میں نے خود ہی ان سے کہہ کر کام چھڑوا دیا تھا۔ ابا کو شاید اب علاج کی ضرورت نہ رہی تھی اور مزدوری کرنے سے دو وقت کی روٹی کا بندوبست ہو ہی جاتا تھا۔ میں نے خود کو وقت اور حالات کے سپرد کر دیا۔ میں سمجھ چکا تھا کہ میرا امتحان میری غریبی لے رہی ہے۔ مجھے اب بس اس وقت کا انتظار تھا جب ابا نے چارپائی چھوڑنی اور شاید قبر میں سونا تھا۔
    ٭…٭…٭




  • خلا — ایم اے ایقان

    وہ ملنگ چلا جارہا تھا بغیر کوئی صدا لگائے۔ کشکول ہاتھ کی بہ جائے گردن میں لٹک رہا تھا جیسے کوئی طوق پہن رکھا ہو۔ بکھرے ہوئے لمبے گرد سے اٹے بال شانوں تک آرہے تھے۔ بڑھی ہوئی ڈاڑھی، مونچھیں، لمبی سی قمیص، کئی جگہوں سے ٹانکے لگی چپلیں اور ہاتھ میں لکڑی کا عصا جو دیگر عام ملنگوں کا حلیہ ہوتا ہے۔ عُمر میں جوانی کی منزل سے گزر کر اُدھیڑ عمری کے راستے میں پڑاؤ ڈالے دِکھتا تھا۔ عام ملنگوں سے انفرادیت کی بات یہ تھی کہ وہ گردو پیش سے بے نیاز چُپ چاپ چلا جارہا تھا۔ وہاں ’’اللہ کے نام پر دے دو بابا‘‘ والی کوئی صدا نہ تھی اور یہ بے نیازی تو اُس کی ادا میں شامل تھی ورنہ درحقیقت ہر چیز اُس کے دل و دماغ میں اُترتی جارہی تھی۔ غور سے دیکھا جاتا تو آنکھوں میں یاسیت تھی۔ صاف ستھری سڑک تھی۔ دونوں اطراف بنگلے بنے ہوئے تھے جن کے سامنے قیمتی گاڑیاں کھڑی تھیں۔ سکون آمیز سناٹا چھایا ہوا تھا۔ ان بڑے لوگوں کے مہنگے علاقوں میں ایسی ہی خاموشی اور سکون ہوتا ہے وہاں پہنچ کر یوں لگتا ہے کہ جیسے زندگی میں ٹھہراؤ سا آگیا ہو۔ ان کی زندگیوں میں کتنا سکون ہے ہوتا ہے؟ کون جانتا ہے۔ وہ دو آنکھیں جو ملنگ کو دیکھ رہی تھیں اُن میں اُداس اور اضطراب ہلکورے لے رہا تھا۔ وہ ایک عالیشان بنگلے کے ادھ کُھلے دروازے میں کھڑی لڑکی تھی۔ خوبصورت، دلکش سراپے کی حامل، قیمتی لباس میں ملبوس، آنکھوں میں اُداسی لیے۔ تپتی دوپہر میں اُس گلی کے سو نے پن کی طرح اُس کے دل میں بھی سُونا پن تھا۔ وہ غور سے ملنگ کو دیکھ رہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اس ملنگ کی زندگی کتنی پرُ سکون ہے۔ اسے کسی چیز کی پروا نہیں۔ یہ اپنے حال میں مست اور راضی ہے۔ اس کی زندگی اسے ڈگر سے شروع ہوئی اور اسی ڈگر پر ختم ہوجائے گی۔ اُس کے ذہن میں کئی سوالات اُبھر رہے تھے۔ کیا یہ واقعی اپنے حال میں خوش ہے؟ کیا اس کے دل میں کبھی کوئی جذبہ پیدا نہیں ہوا ہوگا اور کوئی خواہش جنم نہ لی ہوگی؟ اس کو دل کی بے کلی نے کبھی بے چین نہیں کیا ہوگا؟ کیا کبھی اس کا دل اُچاٹ نہیں ہوتا اس زندگی سے؟ اُس کی بے چینی عروج پر پہنچ چکی تھی۔ اُس کی بے چینی گاہ بہ گاہ اُس کو پریشان کرتی۔ شاید یہ اُس کی فطرت کا حصہ تھی۔ فطرت یا عادت؟ ایک اور سوال اُس کے ذہن میں اُمڈ آیا تھا۔ اُس نے کہیں پڑھ رکھا تھا کہ عادت ہر بار انجام دینے کے بعد مزید پُختہ ہوجاتی ہے اور ایک مرحلے پر آکر یہ عادت فطرتِ ثاینہ میں تبدیل ہوجاتی ہے۔ ’’فطرت میں سب کی جبلتیں ہی ہوتی ہیں اور جبلتیں یکساں ہوتی ہیں۔ شاید یہ عادت ہے جو میری فطرت ثاینہ بن چُکی ہے‘‘ اپنے تئیں اُس نے فطرت و عادت کے جھگڑے کا مقفیہ کرلیا تھا۔ ایک عرصے سے اُسے شدت سے اس بے چینی کا احساس ہورہا تھا۔ اُس نے کئی بار اپنے دل سے اس بے چینی کی وجہ جاننے کی کوشش کی تھی۔ اس وقت بھی وہ اس ادھیڑ بُن میں مصروف تھی۔ امیر کبیر خاندان سے تعلق رکھنے کے باعث کبھی دولت کی کمی نہیں رہی تھی۔ زندگی کی تمام ضروریات اور آسائشات دسترس میں تھیں۔ امیر باپ کے گھر سے شادی کرکے شوہر کے گھر آئی تو وہاں بھی دولت و قسمت کی دیوی مہربان رہی۔ دولت، بنگلہ، گاڑی سب کچھ دسترس میں تھا۔ سب سے بڑھ کر محبت کرنے والا شوہر جس کے دل اور گھر پر وہ بلاشرکت غیرے مالک تھی۔ اس کے باوجود یہ بے چینی، سمجھ سے بالاتر تھی۔ ’’آخر کون سا خلا ہے میرے وجود میں۔‘‘ اپنے اندر کی اس جنگ سے وہ عاجز آچکی تھی۔ رُوح کا کرب اُس کی سانسوں کو چھلنی کررہا تھا۔ اُس کا شوہر بھی اُس کے رویّے کو محسوس کرنے لگا تھا۔ اُس نے کئی دفعہ اُس سے جاننے کی کوشش بھی کی تھی اور سے سمجھایا بھی تھا۔ اُسے خود سمجھ نہیں آرہا تھا تو وہ شوہر کو کیا بتاتی۔ آخر دل کا سکون کس چیز سے مشروط ہے۔ دنیا کی کوئی سائنس آج تک خواہشات کے پورا ہونے کے معیار کو جانچ نہ سکی۔ کبھی کبھی اُسے اس دنیا کی ہر چیز سے اُکتاہٹ ہونے لگتی۔ اُسے لگتا کہ اُس کی رُوح بدن کا قفس توڑ کر باہر نکل آئے گی۔ کئی بار اُس کے کچھ جاننے والوں نے کہا کہ اُسے کسی ماہر نفسیات کی ضرورت ہے۔ وہ سوچتی، ’’ماہر نفسیات؟‘‘۔ اس نے خود نفسیات و فلسفہ کی اتنی کتابیں پڑھ ڈالیں تھیں کہ اُس کے ذہن میں ان کا ایک ملغوبہ سا بن گیا تھا اور ملغوبہ میں سالم کیا چیز ملتی؟۔ شعور و لاشعور کے تجزیے میں اب اُس کو اپنا شعور کہیں کھویا ہوا محسوس ہوتا اور لاشعور کا تو پیدا کردہ یہ سارا عذاب تھا۔ کبھی اُلجھی ہوئی ڈوریں اتنی اُلجھی ہوئی نہیں ہوتیں۔ جتنی اُلجھی نظر آتی ہیں۔ اُن کا سلجھا نا آسان ہوتا ہے بس ذرا باریک بینی اور تحمل سے سرا ڈھونڈو۔ سلیقے اور ترتیب سے سُلجھانا شروع کرو ڈور سلجھتی چلی جاتی ہے لیکن نظریں دھوکا کھا جاتی ہیں۔ نظروں سے پہلے احساس دھوکا کھاتا ہے اور اُس اُلجھی ہوئی ڈور کو اُلجھن سے جلدی جلدی سلجھایا جاتا ہے۔ ڈور نہیں سلجھتی سلجھانے والا مزید اُلجھ جاتا ہے۔ وہ بھی الجھ گئی تھی لاینحل مضمون میں۔ کسی شے کی کوئی سمت مقرر ہیں تھی۔ احساسات و خیالات بے سمت پنچھی تھے جس جانب چاہتے اُڑتے جہاں چاہتے بسیرا کرتے۔ اُس وقت ملنگ کو دیکھتے دیکھتے اچانک اُس کے ذہن میں ایک جھماکا ہوا۔ شاید کوئی تصویر تھی جو کیمرے کے فریم میں آگئی تھی۔ وہ سوچنے لگی کہ میں نے کبھی خود کو صرف ایک ناظر کی منظر سے نہیں دیکھا۔ میں ہمیشہ یوں اُلجھی رہی کہ میں نے ہمیشہ اپنے آپ کو اپنا محسوس کرکے اپنی نظر سے دیکھا۔ مجھے اپنے آپ کو ایک ناظر کی نظر سے دیکھنا چاہیے۔ وہ کھڑے کھڑے اپنے اندر جھانکنے لگی۔ وہ اپنے اندر کا نظارہ اس طرح کررہی تھی کہ جیسے کسی دوسرے شخص کو دیکھا جائے یا فلم میں کوئی فلم دیکھے۔ جہاں ناظر اور منظر ایک نہیں ہوتے بلکہ دونوں کا وجود الگ الگ ہوتا ہے۔ ایک تماشا ہوتا ہے اور ایک تماشائی۔ گزرے وقت کی جب فلم چلنی شروع ہوئی تو پہلا منظر بچپن کا تھا۔ وہاں اُسے مالی لحاظ سے ایک خوش حال گھرانہ نظر آیا۔ اُس کے والد صبح اپنے ذاتی دفتر جاتے اور شام کو گھر لوٹ آتے۔ اُس کی ماں کم سِنی میں ہی فوت ہوگئی۔ وہ ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھی۔ اُس کے باپ نے دوسری شادی کرلی لیکن ماں کی وفات کے بعد دوسرے ماں کے آنے سے اُسے خاص فرق نہیں پڑا تھا۔ اُس کے وہی روز و شب رہے۔ سوتیلی ماں اور اُس کے درمیان ہمیشہ ایک فاصلہ رہا تھا۔ سوتیلی ماں نے اُس سے کبھی محبت جتائی اور نہ اُس پر ظُلم کیا اور نہ ہی کبھی اُس کے امور میں مداخلت کی۔ اُس کا باپ شام کو گھر آتا تو کبھی اُس کا سامنا اپنے باپ سے ہوتا اور کبھی نہیں اور پھر کاروباری مصروفیت کے بعد اُس کا زیادہ تر وقت اپنی دوسری بیوی کے ساتھ گزرتا۔ لیکن اُس کے باپ نے کبھی اُس کی ضروریات میں کمی نہیں کی تھی۔ اچھے اسکول میں تعلیم پائی۔ خدمت کے لیے گھر میں نوکر چاکر تھے۔ ایک گورننس تھی جو اُس کے لیے مختص تھی۔ کمی رہی تو صرف باپ کی توجہ و شفقت اور ماں کی ممتا کی۔ وہ سارا وقت خود اپنے ساتھ یا پھر اپنی کتابوں کے ساتھ گزارتی۔ وقت بھی نجانے کتنی تیزی سے گزر جاتا ہے۔ وہ بچپن سے لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی کی دہلیز پر آگئی اور اب وہ شادی کے بعد کسی کی توجہ کا مرکز بھی بن گئی تھی۔ شادی کے وقت اُس کے باپ نے اُسے بہت سا جہیز دیا تھا اور ہوش و حواس سنبھالنے کے بعد پہلی بار گلے بھی لگایا تھا۔ جس نے اپنی ساری زندگی۔ زندگی کو کامیاب اور پر آسائش بنانے اور پھر اپنی دوسری بیوی کے ساتھ گزار دی تھی اور بھول گیا تھا کہ اُس کی ایک بیٹی بھی اُس کی توجہ کی مستحق ہے۔ شاید اُس کی نگاہ میں دولت و آسائشات محبت کا نعم البدل تھی۔ یوں صرف توجہ کی کمی کے علاوہ بچپن کی کوئی بڑی یاد نہیں تھی اُس کے ذہن میں۔ ’’شاید یہی خلا ہے میری زندگی میں۔ اُس نے سوچا۔ ’’یہ سب میرا ماضی ہے۔ موجودہ وقت میرا حال ہے۔ مجھے اپنے اندر کے اس طوفان پر قابو رکھنا ہوگا کہیں یہ میرے موجودہ وقت اور صحبت کو بھی ساتھ بہانہ لے جائے۔‘‘ جس لمحے اُس لڑکی نے اپنے اندر کی عدالت ختم کی اُسی لمحے وہ ملنگ اپنے دل پر جبر کر رہا تھا لیکن اُس کا مقدمہ ذرا مختلف تھا۔ وہ اپنے دل کو ان اونچے اور خوبصورت مکانوں کو دیکھ کر بہکنے سے روک رہا تھا۔ حسرتِ نا تمام اُس کی آنکھوں سے چھلکنے لگی تھی۔ وہ وہیں کنارے پر ایک درخت کے نیچے سستا کر دوبارہ اُٹھ رہا تھا۔ اُٹھ کر اُس نے ایک انگڑائی لی اور ڈنڈا اُٹھا کر چلنے کی تیاری کرنے لگا۔ لڑکی کی توجہ پھر اُس طرف ہوئی تو جانے اُس کے جی میں کیا آئی کہ جلدی سے اندر گئی اور جب باہر آئی تو اُس کے ایک ہاتھ میں پانی کا گلاس تھا اور دوسری مٹھی میں ایک نوٹ بند تھا۔ اُس نے ملنگ کو آواز دی ملنگ جو آگے جاچکا تھا پلٹ کر دھیرے دھیرے قدم اُٹھاتا ہوا آیا۔ لڑکی نے پہلے پانی کا گلاس پیش کیا۔ ملنگ نے ایک نظر اُس کو دیکھا اور گلاس تھام لیا۔ وہ جب پانی پی چکا اور گلاس واپس کیا تو لڑکی نے دوسرا ہاتھ آگے بڑھایا تو اُس کے ہاتھ میں پانچ سو ایک کڑک نوٹ گویا چمک رہا تھا۔ ملنگ کے چہرے پر حیرت نمودار ہوئی پھر اُس کے ہونٹوں پر ایک خفیف سی مسکراہٹ اُبھری۔ نوٹ لے کر وہ اپنے رستے پر چل دیا۔ لڑکی بھی دروازہ بند کرکے گھر کے اندر چلی گئی لیکن ملنگ کے دل میں برسوں سے بُجھی پڑی آگ کی راکھ سُلگنا شروع ہوچکی تھی۔ وہ نوٹ دیکھتا، چلتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اب وہ اس نوٹ کو خرچ نہیں کرے گا اور اپنے پاس سنبھال کررکھے گا۔
    ٭…٭…٭




  • جنریشن گیپ — ثناء شبیر سندھو

    ’’فارگاڈسیک مام۔۔۔ مجھے ٹھیک سے ریڈی تو ہونے دیں۔۔ آپ کے لیکچر کے لیے میں الگ سے ٹائم نکال لوں گی جانے سے پہلے۔۔‘‘ بلش آن لگاتی ماہم پلٹ کر غصے سے بولی۔
    ’’بیٹا میں کیا کہہ رہی ہوں۔۔ صرف یہی تو کہا ہے کہ اتنے میک اپ کی آخر ضرورت کیا ہے۔۔۔ سالگرہ کی تقریب ہی تو ہے کون سا شادی میں جارہی ہو۔۔۔؟‘‘ نسیم نے منت بھرے انداز میں کہا۔۔۔
    ’’گاڈ۔۔‘‘ ماہم نے برش ڈریسنگ ٹیبل پر پٹخا۔
    ’’آپ کا پرابلم کیا ہے۔۔؟ یہ رات کا فنکشن ہے اور مجھے اس کے مطابق تیار ہونا ہے۔ مجھے وہاں ماسی نہیں لگنا۔‘‘ اُس نے پلٹ کر فرصت سے جواب دیا۔
    ’’میں سمجھتی ہوں لیکن۔۔ ارے یہ۔۔‘‘ اس سے پہلے کہ وہ مزید کچھ بولتیں اُن کی نظر اُس کی ٹانگوں پر پڑی۔
    ’’ماہم یہ پاجامہ زیادہ ٹائٹ نہیں ہوگیا؟ بیٹا آپ کی شرٹ بھی کافی اونچی ہے۔۔۔ پلیز کچھ بہتر پہن لو۔۔۔ کچھ اور ۔۔۔۔‘‘
    ’’مما۔۔۔‘‘ ماہم کی پکار کسی شیخ سے کم نہ تھی۔
    ’’آپ کو ہوتا کیا جارہا ہے۔۔۔؟ اتنا میک اپ مت کرو۔ شرٹ اونچی ہے۔ فٹنگ زیادہ ہے۔۔ آپ کی روک ٹوک کی عادت کچھ زیادہ نہیں ہوگئی؟۔ ماہم نے اُکتا کر جواب دیا۔
    ’’لیکن۔۔۔
    ’’واٹ لیکن۔۔۔؟ آپ کو پتا بھی ہے آج کل کیا فیشن چل رہا ہے۔۔۔؟ باہر کیا ہورہا ہے فارمل وئیر میں کیا چل رہا ہے اینڈ ان فارمل میں کیا۔۔۔؟
    ’’مام یہ 2016ء ہے۔۔۔ 1970ء نہیں۔۔۔ میرا ایک سوشل سرکل ہے۔۔ ایک کلاس ہے۔۔۔ میں آپ کے مطابق ڈریسنگ کرکے اپنا مذاق نہیں بنوا سکتی۔۔۔‘‘ ماہم نے بدتمیزی سے جو اب دیا۔ ’’ماہم۔۔۔ اتنا سیخ پا ہونے والی کون سی بات کردی میں نے۔۔؟ میں تمہاری ماں ہوں۔۔ تمہارا براتو نہیں چاہوں گی نا۔۔۔؟ نہ ہی مجھے یہ اچھا لگے گا کہ تم کسی فنکشن میں بری لگو۔۔ لیکن بیٹا سادگی کا اپنا ایک حسن ہوتا ہے۔‘‘ نسیم کا لہجہ نجانے کیوں آزردہ ہوگیا۔۔
    ’’مما۔۔ مجھے پتا ہے کہ آپ میرے لیے اتنی فکر مند کیوں ہورہی ہیں مگر میں ایسا کچھ نہیں کررہی۔ جو دوسرے کرتے ہیں، بس وہی کرتی ہوں۔ آپ جا کر دیکھیں باہر آج کل کیسے تیار ہوکر آتی ہیں لڑکیاں۔ سب ایسا ہی لباس پہنتی ہیں، تو میں کیوں نہ پہنوں‘‘؟ اس دفعہ ماہم کا لہجہ قدرے نرم تھا۔ اُس نے ماں کو کندھوں سے پکڑ کر سمجھایا۔
    ’’ماما، میں گریجویشن کرچکی ہوں اور میری اپنی بھی کوئی پہچان اور رائے ہے۔ یہ روک ٹوک اور پابندیاں مجھے بالکل اچھی نہیں لگتیں۔۔۔ مجھے میری لائف انجوائے کرنے دیں اینڈ ڈونٹ وری۔۔۔ میں ایسا کچھ نہیں کررہی جو آپ کی پریشانی کا سبب بنے۔۔۔‘‘ اُس نے نسیم کو بیڈ پر بٹھا کر مزید سمجھایا۔۔۔ اسی اثنا میں باہر سے گاڑی کے ہارن کی آواز آئی۔
    ’’اوہ مائی گاڈ لگتا ہے کہ سام مجھے لینے آگیا ہے۔‘‘ وہ فوراً اُٹھی۔۔ آئینے کے سامنے خود پر تنقیدی اور تفصیلی نظر ڈالی۔۔ ہئیر برش سے اپنے بال ٹھیک کیے اور اپنا نازک سا کلچ اُٹھا کر دروازے کی جانب بھاگی۔ ’’اینڈ مام۔۔ پلیز۔۔ مجھے بار بار کال کرنے کی ضرورت نہیں۔۔ میں جلد واپس آجاؤں گی۔۔ سام مجھے چھوڑ دے گا۔ میرے لیے جاگنے کی ضرورت نہیں۔۔ آپ بار بار کال کرتی ہیں تو میں بہت شرمندہ ہوجاتی ہوں فرینڈز کے سامنے۔۔ آپ کو تو اس بات کا اندازہ بھی نہیں ہوگا۔‘‘ ماہم بالآخراب جاچکی تھی۔۔ ’’میرا فون کرنا اسے شرمندگی لگتا ہے؟ کیوں؟‘‘ نسیم نے اپنا سر تھام لیا۔
    انہوں نے اپنا چہرہ آئینے میں دیکھا۔۔ بال اُڑے سے تھے، چہرے پر جھریاں ان کی عمرعیاں کرنے لگی تھیں۔۔ نیلے رنگ کے سوٹ کے ساتھ اُنہوں نے کسی اور رنگ کا دوپٹہ اوڑھ رکھا تھا۔۔ وہ اتنی بوڑھی تھیں نہیں جتنی پچھلے کچھ عرصے سے خود کو محسوس کرنے لگی تھیں۔
    اچانک ہی کچھ ہوا تھا۔
    کچھ دن پہلے کی بات تھی جب وہ اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر لان کا جائزہ لے رہی تھیں کہ ماہم کو کسی لڑکے نے ڈراپ کیا۔ ماہم نے گاڑی سے اُتر کے باقاعدہ اُس سے ہاتھ ملایا اور پھر اتراتی ہوئی لاؤنج کی طرف بڑھنے لگی۔ انہیں یاد آیا کہ یہ پوچھنے پر کہ وہ لڑکا کون تھا؟ ماہم نے کیسا طوفان اُٹھایا تھا کہ وہ روایتی اور پرانی ماؤں کی طرح اُس سے سوال جواب کررہی ہیں۔۔ اُس پر شک کررہی ہیں۔۔۔ اُس کی حدود اور آزادی پر انگلی اٹھا رہی ہیں۔
    ’’حدود۔۔۔ آزادی۔۔۔‘‘ نسیم طنزیہ ہنسیں۔ ان کی آنکھوں میں ماضی کی پرچھائیاں سر اُٹھانے لگیں۔ ’’اوہوامی۔۔۔ کیا ہوگیا ہے اگر عمر نے مجھے فون کر لیا تو۔۔ وہ میرا کو لیگ ہے۔۔ ہم ساتھ کام کرتے ہیں۔ اُسے کچھ پوچھنا تھا مجھ سے تو اُس نے فون کرلیا اور لڑکے لڑکی کا صرف ایک ہی رشتہ نہیں ہوتا۔۔ تھوڑا سا دماغ کھولیں اپنا۔۔‘‘ وہ سر پر ہاتھ رکھ کر اپنی ماں سے کہہ رہی تھی۔
    ’’بس بس۔۔ مجھے سکھانے کی ضرورت نہیں۔۔ اُس کو منع کر دو کہ آئندہ ہمارے گھر فون نہ کرے۔۔
    دفتر کا کام دفتر تک ہی رہے تو اچھا ہے۔۔ تمہاری ضد تھی کہ تمہیں دفتر میں کام کرنا ہے ورنہ ہم نے کون سا تمہاری کمائیاں کھانی ہیں۔۔‘‘ ماں نے اُسے اچھا خاصا لتاڑ کررکھ دیا تھا۔
    ’’آپ بات کو سمجھتی نہیں ہیں اماں۔۔ اس میں کمائیوں والی کون سی بات ہے۔ میں نے بی اے بی ایڈ گھر بیٹھنے کے لیے نہیں کیا تھا۔‘‘ وہ دھپ کرکے کرسی پر بیٹھ گئی۔
    ’’پتر میری اور تیری سمجھ میں بہت فرق ہے۔۔ میں تیری طرح چیزوں کو نہیں سمجھ سکتی۔۔ جو ان بیٹیوں کی ماں ہوں۔۔‘‘ وہ سلائی مشین پر بیٹھ چکی تھیں۔ مشین پر دھاگا چڑھانے کے لیے انہوں نے نلکیوں والا ڈبہ کھولا۔
    ’’جوان بیٹیوں کی ماں ہونا کوئی ایسا گناہ نہیں کہ جس کے بوجھ تلے دب کر آپ خود بھی گھٹ گھٹ کر جئیں اور بیٹیوں کی آزادی بھی چھین لیں۔۔‘‘ اُس نے غصے سے بال جھٹکے۔۔ جو اُس نے تازہ تازہ کٹوائے تھے۔
    ’’آ۔۔ زا۔۔دی‘‘ اُس کے ماں نے ہونق بن کر اُسے دیکھا۔
    ’’ماں۔۔۔‘‘ نسیم کے لبوں سے ایک آہ نکلی تھی۔
    ’’اچھا اماں میں جارہی ہوں اب، مہوش کے کتنے ہی فون آچکے ہیں۔۔ میری سب سے اچھی سہیلی ہے اور آج اُس کی مہندی پر میں ہی لیٹ ہوں۔۔‘‘ وہ تیار ہوکر باہر نکلنے کو تھی کہ برآمدے میں رکھے تخت پر بیٹھی اپنی ماں کو سلائی مشین کے ساتھ مصروف دیکھا۔
    ’’ٹھیک ہے‘‘ اُس کی ماں نے لمحے بھر کو سر اُٹھایا۔
    ’’اے بات سُن۔‘‘ وہ ٹھٹکی۔۔۔
    ’’اب کیا ہے اماں۔۔‘‘ وہ تپ کر پلٹی۔
    ’’یہ اتنی تیز رنگ کی لپ اسٹک کیوں تھوپ لی چہرے پر۔۔۔ تجھے کتنی دفعہ منع کیا ہے۔۔۔ کہ۔۔‘‘
    ’’اماں بس کردو۔۔ شادی ہے۔۔ مہندی پر جارہی ہوں اگر وہی پرانے زمانوں کی ایک تبت سنو اور ہلکی سی یہ لپ اسٹک لگا لی تو کون سی قیامت آگئی۔۔ جارہی ہوں میں۔۔‘‘ وہ بات کاٹ کر چیخ کر بولی۔
    ’’تو اور تجھے کسی بیوٹی پارلر جانا تھا منہ سجانے۔۔۔ ستر دفعہ سمجھایا ہے کہ کنواری لڑکیوں کو لپ اسٹک لگانا اچھا نہیں لگتا۔‘‘ اماں نے ماتھا پیٹ لیا۔
    ’’ہونہہ۔۔ بھیج ہی نہ دیتیں پارلر۔۔ ویسے اماں مشین کی سوئی میں دھاگا تو ڈالا نہیں جاتا آپ سے اور اتنی دور سے میری لپ اسٹک خوب نظر آئی۔۔‘‘ نسیم چمک کر بولی۔۔
    ’’اماں اپنی اولاد کے قدم دیکھ کر بتا دیتی ہے کہ کسی کام کے لیے اُٹھ رہے ہیں۔۔ تیری لپ اسٹک تو چھوٹی بات ہے۔۔‘‘ اماں طنزیہ ہنسی تھی۔
    ’’ہونہہ۔۔ آپ اور آپ کی فلاسفیاں۔۔ میری سمجھ سے تو باہر ہیں۔۔۔‘‘ وہ پراندہ ہلاتی دروازے کی جانب بڑھ گئی۔ آج اُس نے اور اُس کی سب سہیلیوں نے رنگ برنگے پراندے باندھے تھے۔
    ’’سمجھ جائے گی بیٹا۔۔۔ جب ماں بنے گی، سب سمجھیں آجائیں گی۔۔‘‘ دروازہ پار کرتے کرتے اُس کے کانوں نے اماں کی بڑُ بڑُاہٹ سنی۔
    فون کی چنگھاڑتی بیل نے نسیم کو واپس حال میں لاپٹخا تھا۔
    ’’آپ نے کتنا صحیح کہا تھا اماں۔۔ آج میں بھی جوان بیٹی کی ماں ہوں۔۔ جس نے آپ کی روک ٹوک سے عاجز آکر دل میں ہمیشہ یہی عزم کیا کہ اپنی اولاد کو آزادی دوں گی۔۔ کوئی روک ٹوک نہیں کروں گی۔۔ وہ جو پہننا چاہیں۔ پہنیں۔۔ جیسا رواج ہو ویسا ہی لباس پہنیں گے۔ جہاں جانا چاہیں جائیں۔۔ اُن پر کوئی پابندی نہیں ہوگی۔۔ کیوں کہ جو خواہشیں مجھے اپنے دل میں دبانی پڑیں وہ میرے بچوں کو نہ دبانی پڑیں اور وہ اپنی زندگی اصل میں جئیں۔۔ پھر آج مجھے کیا ہورہا ہے۔۔ میں کیوں اپنی اماں کا ہی پر تو بنتی جارہی ہوں۔۔
    کیا میں نے ماہم کو آزادی دے کر غلط کیا۔۔۔؟
    کیا مجھے شروع سے ہی اُس پر روک ٹوک کرنی چاہئے تھی۔۔۔؟
    کیا ہمیشہ اُس کی مان کر اُس کی زندگی میں اُس کو پورا اختیار دینا میری غلطی ٹھہری۔۔؟
    یا پھر یہ ہر دور کی ماں کا المیہ ہے۔۔۔؟ وہ زمانے کی دوڑ میں بھاگتی بھاگتی ہانپ جاتی ہے اور زمانے کا ساتھ نہیں دے پاتی۔۔ تھک ٹوٹ کر بیٹھ جاتی ہے اور پھر اُس کے بچے اُس کو بتاتے ہیں۔۔ کہ وہ زمانہ اور تھا یہ زمانہ اور ہے۔۔۔ کیا کہتے ہیں اسے۔۔ ارے ہاں۔۔
    ’’جنریشن گیپ‘‘ بی اے، بی ایڈ نسیم کو ذہن پر زور دے کر یاد کرنا پڑا۔۔ یہ وہ دو لفظ تھے جن کا مطلب وہ اپنی ماں کو دن رات سمجھاتی تھی اور آج۔۔۔ نسیم نے اپنی آنکھیں مسلیں اور آگے بڑھ کر تیز آواز میں چیختے فون کا ریسیور اُٹھا لیا۔




  • کچھ باتیں دل کی — شاکر مکرم

    میں امجد عظیم پچھلے بارہ سال سے سعودی عرب میں محنت مزدوری کر رہا ہوں۔ سفر وہ واحد چیز تھی جس سے مجھے کوفت ہوتی تھی اور ہمیشہ سفر سے دور رہنے کی کوشش کی لیکن وہی سفر ایسا نصیب ٹہرا کہ اب اگر کسی دن سفر نہ ہو تو وہ دن ادھورا ادھورا سا لگتا ہے۔
    پردیس کے یہ بارہ سال ایسے گزرے کہ آج جب میں گزرے سالوں پہ نظر ڈال رہا ہوں تو پل دو پل کے سوا کچھ معلوم نہیں ہو رہا ،اس وقت میرے کمرے کے تمام ساتھی کام پہ گئے ہوئے ہیں اور میں کل پاؤں پہ چوٹ لگنے کی وجہ سے ایک ہفتے کے لئے بستر پہ لیٹ چکا ہوں کوئی کام کرنے کو نہ تھا تو سوچا کہ گزری ہوئی زندگی کے احوال ان صفحوں پہ بکھیر دوں کہ کچھ نہ کرنے سے بہرحال کچھ کرنا بہتر ہے۔
    زندگی کے ماہ و سال گزر رہے ہیں اور آرام و سکون دن بدن کم ہوتا جا رہا ہے بارہ سالوں میں یہ پہلا ہفتہ ہے کہ دوران کام پورا ہفتہ چھٹی کر رہا ہوں ورنہ ان بارہ سالوں میں صرف پانچ چھٹیاں کیں اور وہ دن بھی اپنی حسرتوں پہ ماتم کرنے اور پریشانیوں پہ آنسو بہانے کے لئے تھے۔
    جس گھر میں میری آنکھ کھلی وہاں غربت کے ڈھیر تھے پھلوں کی ریڑھی لگا کر کمانے والا ایک باپ تھا اور کھانے والے چار بچے اور ایک بیوی باقی ضرورتیں اس کے علاوہ زندگی آسائشوں سے خالی بغیر سہولتوں کے گزر رہی تھی، صبحیں اور شامیں تھیں جن کا کوئی پرسان حال کوئی دن ایسا نہ تھا کہ گھر میں کچھ پکتا نہ ہو پکتا ضرور تھا لیکن ہم جب کھانے بیٹھتے تو ماں جی ہمیں تو کھلاتی، خود نہ کھاتی اور کہتی تم لوگ کھاؤ میں کھا چکی ہوں اور ابا نماز کا کہہ کے نکلتے تو تب تک واپس نہ آتے جب تک ہم کھا کے سو نہ چکے ہوتے پھر اگر کچھ بچا ہوتا تو کھا لیتے ورنہ ایسے ہی سو جاتے۔
    ابا نے بڑے شوق سے ہمیں سکول میں داخل کیا میں اور آپا ایک ہی کلاس میں تھے۔ ابا، آپا سے ہمیشہ کہتے کہ میں تمھیں اس میڈم کی طرح بناؤں گا جو مجھ سے پھل لیتی ہے، ہم پڑھائی میں بہت اچھے تھے ہمیشہ اچھے نمبروں سے پاس ہوتے لیکن پھر یکے بعد دیگرے کچھ واقعات اور حالات ایسے آئے جس نے زندگی کا رُخ سوچوں کا زاویہ بدل دیا۔
    ہمارا گزارہ پہلے ہی بہت مشکل سے ہوتا تھا لیکن جب میں گیارہ سال کا تھا تو آپا کا ہاتھ ٹوٹ گیا اس وقت جتنا پریشان میں نے ابا کو دیکھا شاید اس سے پہلے نہ دیکھا تھا کیوں کہ جب پیسے بھی پاس نہ ہو اور پانچ لوگوں کی ذمہ داری سر پہ ہو تو پریشانیاں خود بہ خود دامن تھام لیتی ہیں علاج تو خیر آپا کا سرکاری ہسپتال میں ہو گیا تھا اگرچہ وقت زیادہ لگا لیکن تین دن ابا کے کام پہ نہ جانے کی وجہ سے جو پریشانیاں گھر میں آئیں اس نے مجھے بہت کچھ سوچنے پہ مجبور کیا بار بار ایک ہی سوال ذہن میں آتا تھا کہ کیا سب ایسے ہی چلے گا، ساری زندگی ایسے ہی خوف کے سائے میں گزرے گی، اگر ابا کام پہ نہیں جائیں گے تو کیا ہم بھوکے ہی رہیں گے ایسے بہت سے سوال پریشان کر رہے تھے اور وہ زندگی کا پہلا تجربہ تھا جب راتیں انہی سوچوں میں جاگتے گزرنے لگیں اور دن کو بھی یہی خیالات پریشان کرتے رہے لیکن زندگی اسی طرح چلتی رہی اور شاید ایسے ہی چلتی رہتی اگر اگلے سال ابا کو شدید بخار نہ ہوتا اور دو دن کے لئے وہ بستر پہ نہ لیٹتے، میں رات کو واش روم کے لئے اٹھا تو دیکھا کہ ابا سوکھی روٹی پانی میں بھگو کر کھا رہے ہیں اور والدہ سرہانے بیٹھی رو رہی تھی۔
    زندگی میں بعض لمحے بعض موڑ ایسے آجاتے ہیں جہاں فیصلے لینے پڑتے ہیں نقصان فائدے ہر چیز سے بے نیاز ہو کر، جہاں سوچنے کا وقت نہیں ہوتا فیصلہ کرنا ہوتا ہے اور وہ لمحہ میرے لئے بھی فیصلہ کرنے کا لمحہ تھا اور میں فیصلہ کر چکا تھا۔
    بارہ سال کے بچے کو حالات وقت سے پہلے بڑا کر رہے تھے، صُبح جب میں نے ابا سے کہا کہ میں سکول نہیں جاؤں گا تو ان کی آنکھوں سے جھلکتی حیرانی اور پریشان چہرہ اب بھی میرے سامنے آجاتا ہے۔
    بڑی حیرانگی سے انہوں نے پوچھا
    ’’کیوں‘‘
    ’’میں بھی کام کروں گا‘‘ میں نے جواب دیا





    میرے الفاظ بم بن کے ان پہ گرے تھے، ایک آنسو گال پہ بہا اور گہری کھائی سے ایک آواز آئی تھی۔ ’’بیٹا میں ہوں نا‘‘
    اور میں کچھ کہہ تو نہ سکا بس ان سے لپٹ کر زار وقطار رونے لگا اور جب ہچکیاں بند ہوئیں اور آنسو تھمے تو میں نے پھر کہا چلیں مجھے کام ڈھونڈ دیں ابا نے تو پہلے انکار کیا لیکن میرے اصرار کے سامنے انہوں نے گھٹنے ٹیک دئیے اور یوں گھر کا چھوٹا باہر کا چھوٹا بن گیا۔ میری محنت مزدوری سے کیا ہونا تھا ہاں اتنا ہوا کہ دسترخوان پہ بیٹھنے والے چھے ہو گئے پھر آہستہ آہستہ اور ضرورتیں بھی پوری ہونے لگیں۔
    میرے استاد بہت اچھے آدمی تھے وہ خود غربت دیکھ چکے تھے لہٰذا غریب کی قدر کرتے تھے انہوں نے کبھی میرا نفس مجروح نہیں کیا میری ہر ممکن مدد کی اور آج میرا یہاں تک پہنچنا انہی کی وجہ سے ہے وہ میرے ہر کام کو سراہتے، شاباشی دیتے انعام دیتے اپنے ساتھ بٹھا کے چائے پلاتے اور بہت خاموشی اور آہستگی سے انہوں نے میرے اندر یہ بات اتار دی کہ حوصلہ افزائی ضروری ہے، کسی کے اُبھار اور آگے بڑھانے کے لئے اسے cheer up کرنا، اسے تھپکی دینا ضروری ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ آپا کو جب میں نے فرسٹ آنے پر پین گفٹ کیا تھا تو وہ کتنا خوش ہوئی تھی اور پھر ہر امتحان سے پہلے مجھ سے پوچھتی کہ اس بار پوزیشن لینے پہ کیا گفٹ ملے گا اور پھر اس گفٹ کو پانے کے لئے دن رات کی وہ محنت میں ابھی تک نہیں بھول سکا اور اس سب کے پیچھے وہ پہلی تھپکی تھی۔
    پردیس آنا اپنوں کو چھوڑنا میرے لئے آسان فیصلہ نہیں تھا لیکن اوروں کا مستقبل محفوظ کرنے کے لئے مجھے یہ مشکل قدم اٹھانا پڑا، جس نے ایک دن بھی گھر سے باہر نہیں گزارا تھا پردیس اس کا نصیب ٹھہرا، شروع میں تو بہت مشکل ہوئی راتوں کو چُھپ چُھپ کے روتا، گھر والوں کی تصویریں دیر تک دیکھتا ان سے باتیں کرتا فرصت کے لمحات ان کی یادوں کی نذر کرتا لیکن پھر آہستہ آہستہ زندگی نارمل ہوگئی وقت اور مصروفیت مرہم بنتے چلے گئے اور میرے بھائی اور بہنوں کی ہر کامیابی میری ہمت بڑھاتی رہی۔ زندگی کمپرومائز کرتے کرتے گزری ہے لیکن میرا یقین ہے کہ یہ مختصر زندگی اپنے جینے کے لئے نہیں بلکہ اوروں کے لئے ہے، یہ تو کیش ہی تب ہوتی ہے جب بے لوث ہو کر اوروں پہ لٹائی جائے اور یہ بھی میں اپنے استاد کی زندگی سے سمجھا میرے استاد کی آمدنی زیادہ نہیں تھی بس نارمل زندگی گزر رہی تھی لیکن میں نے ہمیشہ انہیں اوروں سے بھلائی کرتے دیکھا ان کو دیکھ کے ہی میں یہ بات سمجھا کہ دلوں میں رہنے کے لئے پیسے کی نہیں اخلاق کی ضرورت ہوتی ہے دل پیسے سے نہیں اخلاق سے جیتے جاتے ہیں۔
    ایک دفعہ میں نے انہیں کہا کہ آپ کا یہ طریقہ ٹھیک نہیں جو ہاتھ آتا ہے اوروں پہ لٹا دیتے ہیں، ہر ایک کی مدد کرنا آپ پر فرض تو نہیں اور پھر جو آپ کے ساتھ برا کرتا ہے آپ اس سے اچھائی کیوں کرتے ہیں انتقام کیوں نہیں لیتے۔
    میری باتوں پہ تو پہلے وہ حیران ہوئے پھر مسکراتے ہوئے ہلکا سا تھپڑ مجھے مارا اور پاس بٹھا کے مجھے سمجھانے لگے مجھے ان کا یہ انداز بہت پسند تھا۔
    ’’بیٹا تم نے کبھی ان بادلوں کو فرق کرتے دیکھا ہے پھولوں اور کانٹوں میں یا یہ چمن پہ برسے ہوں اور صحرا پہ برسنے سے انکار کیا ہو بیٹا زندگی بے لوث ہو کر گزاری جاتی ہے اچھے برُے کی تمیز کے بغیر، اگر میرا برُا چاہنے والے کے ساتھ میں بھی برُا کروں تو کیا فرق رہ گیا مجھ میں اور اس میں تمھیں پتا ہے جب مکہ میں قحط آیا تھا اور آپ صلی للہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ سے درہم بھیجے تھے تو جان کے دشمن ابو سفیان نے کیا کہا تھا۔‘‘
    ’’کیا؟‘‘
    ’’قربان جاؤں محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہم اس کی جان کے درپے ہیں اور وہ ہمیں کھانا کھلاتا ہے۔‘‘
    بیٹا بس زندگی کا اصول بنا لو کہ یہ زندگی اوروں کے لئے ہے اور اسے اوروں کی مدد ان کی خیر خواہی اور ان کا دکھ درد بانٹنے میں گزار دو بیٹا یہ لوگ اللہ کا کنبہ ہیں تم ان کے ساتھ اچھا کرو وہ تمہارے ساتھ ضرور اچھا کرے گا وہ اپنے ذمے کسی کا قرض نہیں رکھتا۔‘‘
    وہ سمجھاتے گئے اور ان کی باتیں میرے دل پہ نقش ہوتی گئیں اور ان کی بات ختم کرنے سے پہلے میں اپنے ساتھ وعدہ کر چکا تھا کہ زندگی اوروں کے نام کرنی ہے۔
    اگر میں بارہ سال کی عمر میں مزدوری کے لئے نہ نکلتا، اچھا اسٹوڈنٹ ہونے کے باوجود سکول نہ چھوڑتا، اپنی ضروریات اور خواہشات کو قربان نہ کرتا، دیس کو چھوڑ کے پردیسی نہ بنتا تو شائد آپا آج انگلش میں گولڈ میڈلسٹ نہ ہوتی، بھائی c.s.s میں تیسری پوزیشن نہ لیتا اور شائد چھوٹی بہن آج ڈاکٹر نہ ہوتیں۔
    کمپرومائز کرکے تو میں نے کچھ نہیں کھویا بلکہ بہت کچھ پایا ہے عزت، احترام، محبت سب کچھ ان لوگوں کی خوشیوں اور پرُسکون زندگی سے بڑھ کے میرے لئے تو کچھ بھی نہیں۔
    ضروری تو نہیں کہ ہر خواب پورا ہو، ہر چاہت پوری ہو کچھ خوابوں کے ادھورا رہ جانے میں اپنا بھی فائدہ ہوتا ہے اور اوروں کا بھی الحمدللہ وقت گزر گیا کہ یہ گزر ہی جایا کرتا ہے محرومیاں، تنہائیاں، مشکلیں سب ختم ہوئیں وقت بدل جایا کرتا ہے کبھی ایک سا نہیں رہتا کبھی پانا کبھی کھونا تو زندگی کا حصہ ہے بس صرف ایک کمی محسوس ہوتی ہے کہ میں بیوی بچوں کو وہ توجہ وہ محبت وہ وقت نہ دے سکا جو دینا چاہئے تھا کبھی کبھار تو بہت احساس جرم ہوتا ہے، پیسہ ہر چیز کا بدل نہیں ہو سکتا پیسہ چیزیں تو دے دے گا لیکن محبت، توجہ، تعلق بازار میں بکنے والی چیزیں نہیں جو پیسے سے خرید لی جائیں۔
    شادی کے بعد کمپنی نے ایمرجنسی میں مجھے واپس بلایا تھا اور میں گھر میں صرف ایک ماہ گزار سکا، واپسی کی رات گھر سے نکلنے سے پہلے بہت پیار سے میری بیوی نے میرے ہاتھوں کو تھاما، لب خاموش تھے نظریں جھکی ہوئیں تھی اور میرے ہاتھوں کی پشت پر اس کے آنسو گر رہے تھے آنسوئوں کی حدت جذبات کی ترجمانی کر رہی تھی میں آج تک ان سُرخ آنکھوں، ان آنسوئوں سے پیچھا نہیں چھڑا سکا میں نے ان کی راحت اور آسائش کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے گرمی سردی، دن کے اجالوں رات کے اندھیروں سے بے نیاز ہو کر لیکن پھر بھی کبھی کبھی ان سے دوری بے چین کر دیتی ہے۔
    میں سفر کرتے کرتے تھک گیا ہوں جیسے ہاتھ لکھتے لکھتے تھک گیا ہے میں آرام کرنا چاہتا ہوں زندگی جن لوگوں کی خوشیوں کے نام کی میں ان کی خوشیوں کو ان کے پاس رہ کے محسوس کرنا چاہتا ہوں جن محبتوں کے لئے زندگی بھر ترسا ہوں خواہش ہے کہ باقی کی زندگی انہی محبتوں کی ٹھنڈی چھاؤں میں گزرے دیکھتے ہیں کہ زندگی نا پائیدار کی یہ خواہش کب پوری ہوتی ہے پوری ہوتی بھی ہے یا نہیں۔




  • بڑا افسر — صبا احمد

    لوگوں کی نظریں خود پر ٹکتی دیکھ کر اسے ایک عجیب سی کوفت کا احساس ہوتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لوگوں کی نظروں میں اس کے لیے کبھی حقارت ہوتی تو کبھی شرارت، کبھی دکھ ہوتا تو کبھی حیرت، کبھی ہمدردی ہوتی تو کبھی رحم دلی۔۔۔۔۔۔ مگر اسے کسی سے کچھ نہیں چاہیے تھا وہ زندگی جینا چاہتا تھا۔۔۔۔ زندگی پر بوجھ نہیں بننا چاہتا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔مگر نا جانے کیوں لوگ اسے زندگی پر بوجھ بنانے کو تلے ہوئے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ انہی سوچوں میں گھِرا وہ مطلوبہ بس کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔ اس کے آس پاس کئی چھوٹے چھوٹے بچے گھوم رہے تھے۔۔۔۔۔۔۔۔
    گندے میل سے بھرے کپڑے۔ پیلے زرد دانت۔ چہرے پر سیاہ دھبے۔ نا جانے ان کے اس حلیے کا ذمے دار کون تھا؟۔۔۔۔۔۔۔۔ ماں باپ۔۔۔۔۔۔ حالات یا کام چوری۔ کم عمر لڑکیاں بھی دوپٹے سے بے نیاز گھوم رہی تھیں۔۔۔۔۔ جو بھیک مانگتے ہوئے اس حد تک گر جاتی تھیں کے مانگنے والے کی جان پر بن آتی۔۔۔ ناجانے یہ کیسی ٹریننگ تھی ان کی۔۔۔ بچیوں میں جسم فروشی کے خیال کی پہلی کڑی یہیں سے ملتی ہے۔
    سب خیالات کو ذہن سے جھٹک کر وہ مطلوبہ بس میں سوار ہو گیا تھا۔
    ” السلامُ علیکم! میرے پیارے بہنوں اور بھائیوں!۔۔۔۔۔۔ خوش بو تو ہر کوئی پسند کرتا ہے۔۔۔ چاہے وہ بوڑھا ہو یا جوان۔۔۔۔۔۔۔ ہم میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو خوشبو کو پسند تو کرتے ہیں مگر ان کی قیمت زیادہ ہونے کی وجہ سے اسے خرید نہیں سکتے۔۔۔۔۔۔ تو ایسے سب بھائیوں اور بہنوں کے لیے میں خوشبو لایا ہوں جن کی جیب ان کو خوشبو خریدنے سے روکتی ہے۔۔۔۔۔ تو جی صرف اور صرف کمپنی کی مشہوری کے لیے یہ خوشبو صرف اور صرف پچاس روپے میں آپ کا خواب پورا کر سکتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی بھی بھائی بہن میرے بس سے اترنے سے پہلے پہلے مجھے آواز دے کر اس کو خرید سکتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔” اس نے بس پر سوار ہوتے ہی کاروباری انداز میں ہانک لگائی۔ بہت سے لوگ اچانک اس کی جانب متوجہ ہو گئے تھے۔۔۔۔۔۔۔
    کوئی ہمدردی کرنے کے لیے تو کوئی شرارت کرنے لیے۔۔۔۔۔۔۔۔۔تھوڑی دیر کی خاموشی کے بعد اسے آوازیں آنی شروع ہو گئی تھیں۔۔۔۔۔۔۔
    ” دو عدد مجھے بھی دیں بیٹا” بس کے کونے سے ایک بوڑھی عورت کی آواز آئی۔۔۔۔
    "جی ماں جی ضرور۔” وہ کہتے ہوئے گاہک کی طرف لپکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ بھی تو بھیک مانگ سکتا تھا۔۔۔۔ جب ہٹے کٹے لوگ بھیک مانگتے نظر آتے ہیں تو وہ کیوں نہیں۔۔۔۔۔ وہ تو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ایک دفعہ پھر کونے سے آواز آئی تھی "اوئے چھوٹے ادھر بھی آ ذرا”
    وہ کمال اعتماد سے چل کر ان کی طرف گیا تھا۔۔۔۔۔جیسے اسے کوئی دیکھ ہی نا رہا ہو۔۔۔۔۔ "جی صاحب آپ کو کتنے چاہیے؟؟؟” اس نے سرد لہجے میں کہا تھا۔۔۔۔ اس کی آنکھوں میں موجود شرارت وہ پڑھ چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    "یہ ذرا پانچ سو کے کھلے پیسے تو دینا۔” لہجے میں اشتیاق نمایاں تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو پل میں سمجھ چکا تھا۔۔۔۔۔۔۔ اس نے تحمل سے اپنے بازوئوں کو اپنی جیب کی طرف حرکت دی کہنیوں کی مدد سے پیسے جیب سے نکالے اور منہ میں ڈال کر ان کوکہنیوں سے گننے لگا۔۔۔۔۔۔
    دبے دبے قہقہے بس میں گونجے۔۔۔۔۔ جیسے سرکس میں کوئی انہونی چیز دِکھائی جا رہی ہو۔۔۔۔۔۔ وہ خاموشی سے ان تماش بینوں کی طرف دیکھنے لگا، جو اس کی بے بسی پر ہنس رہے تھے۔۔۔ ان کا ہنسنا اسے ماضی کی یادوں میں لے گیا تھا۔ جب اس کے ہاتھ سلامت تھے۔ کتنی ضد کی تھی اس نے بائیک کی۔۔۔۔۔کالج جانا بھی چھوڑ دیا۔۔۔۔۔۔ کہہ دیا ماں کو دوست میرا مذاق اڑاتے ہیں، جب میں ٹوٹی ہوئی سائیکل پر کالج جاتا ہوں ۔۔۔۔ وہ بچاری اپنے بیٹے کے بگڑے تیور دیکھ کر گھبرا گئی تھی۔۔۔۔۔۔ لوگوں کے گھروں میں برتن مانجھنے والی اس کی خواہش کیسے پوری کر سکتی تھی۔۔۔۔۔۔۔ شوہر کی موت کا دکھ الگ اسے گھن کی طرح چاٹ رہا تھا ۔۔۔اس نے اپنی دونوں بیٹیوں کے لیے جوڑا سامان چپکے سے بیچ کر اس کو سیکنڈ ہینڈ بائک خرید دی تھی۔۔۔۔۔۔۔ماں کے ارمان بیچ کر ان سے بے خبر بہت خوش تھا۔۔۔۔۔۔۔۔ خوبصورت خیالوں میں کھویا ہوا وہ بائیک پر سوار ہوا ۔۔۔۔۔۔۔ مگر بائیک پر سوار ہو کر وہ کالج نہ جا سکا بلکہ وہاں چال گیا جہاں اسے نہیں جانا تھا۔۔۔۔۔ ایکسیڈنٹ نے اس کی نئی نویلی بائیک کے پرخچے فضا میں بکھیر دئے تھے۔۔۔۔۔ ہوش سے بے گانہ ہونے سے پہلے اسے ایسا لگا جیسے کوئی بڑی سی گاڑی اس کو مسل کر آگے بڑھ گئی ہو۔۔۔۔۔۔ ہوش آیا تو اپنے دونوں کٹے ہوئے ہاتھ دیکھ کر وہ چیخ چیخ کر روتا رہا تھا۔۔ ماں تو اپنی پوری دنیا لٹ جانے کے بعد پاگلوں سی حالت میں بیٹھی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بیٹے کو پڑھا کر بڑا افسر بنانا تھا۔۔۔۔۔ مگر وہ بھی اسی زندگی کی طرف آگیا۔۔۔۔
    جو اس کے باپ کا مقدر تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔وہ ماضی میں ناجانے کتنی دیر کھویا رہتا۔۔۔۔۔۔ کہ اچانک ایک شفیق سی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔۔۔۔۔۔۔۔
    بیٹا ذرا ادھر آئیں”بس کی سب سے آخری سیٹ پر بیٹھی ایک عورت نے بہت پیار سے اسے اپنے پاس بلایا۔۔۔۔۔۔
    وہ اپنی تھوڑی دیر پہلے ہونے والی تذلیل کو بھول کر آخری سیٹ کی طرف بڑھا تھا۔۔۔۔۔۔
    "لیجئے بیٹا یہ رکھ لیں” اس عورت نے اپنی مٹھی میں دبا ہوا نیلا نوٹ اس کی طرف بڑھایا تھا۔۔۔۔
    "نہیں نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے بھیک نہیں چاہیے اللہ تعالی نے ہاتھوں سے محروم کردیا تو کیا ہوا؟ ابھی پائوں سلامت ہیں، زبان سلامت ہے۔۔۔۔۔۔۔ اور تو اور یہ بھی تو سلامت ہیں” اس نے اپنی کہنیوں تک کٹے ہوئے بازو کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔
    وہ عورت حیرت سے اس کی ہمت اور خودداری دیکھ رہی تھی۔۔۔۔۔۔ جو معذور ہونے کے باوجود بھیک لینے پر آمادہ نہ تھا۔۔۔ ’’ایسے لوگوں سے چیز ضرور خریدنی چاہیے چاہے وہ کام کی ہو یا نا ہو۔۔۔۔۔۔۔ کیوں کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنی عزتِ نفس بیچنا گوارا نہیں کرتے اور رزق حلال کماتے ہیں۔ نیم پاگل سی عورت بس پر سوار ہوئی اور آتے ہی اس نے ہانک لگانی شروع کی۔
    "میں بیوہ عورت! بیٹیاں جوان ہیں ایک ہی بیٹا ہے جس کا ایکسیڈنٹ ہوا اور وہ معذور ہوگیا۔۔۔ اللہ کے واسطے کوئی مجھ غریب کو صدقہ خیرات دے اللہ تم سب کو حادثوں سے بچائے۔۔۔۔ تمہارے بچوں کو افسر بنائے۔۔۔۔۔۔۔” وہ اس عورت کے قریب آیا اور کہنیوں سے پیسے نکال کر اس عورت کے ہاتھ میں تھما کر بس سے اتر گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس عورت کی آواز دور تک اس کا پیچھا کرتی رہی تھی۔۔۔ تمہارے بچوں کو افسر بنائے۔۔۔۔۔۔۔۔ بڑا افسر۔۔۔۔۔۔۔۔۔





  • کرتا — دلشاد نسیم

    چھوٹے سے لال اینٹوں کے بنے صحن کے ایک طرف کمرہ تھا اور اْس کے بالکل سامنے چولہا رکھا تھا۔ جسے باورچی خانہ کا نام دے دیا گیا تھااور اسی کے ساتھ دیوارپر لگی پیتل کی ٹوٹی ۔۔جس سے سرکاری پانی قطرہ قطرہ یوں بہتا رہتا جیسے کوئی بِرہن ہجر کی ماری بن بات رو پڑے۔۔ زمین میں عین اس جگہ سوراخ ہو چکا تھا معلوم ہوتازمین کی سختی بھی اِس مسلسل عذاب سے گھبرا چکی ہے ، تو پھر کچے دھویں میں روٹیاں پکاتی تاجی کا جی کیوں نہ گھبراتا۔۔
    تاجی کا آٹھ سالہ بیٹا معین جس کو غربت نے پھلنے پھولنے کا موقع ہی نہ دیا بہ مشکل پانچ ایک سال کا نظر آتا۔ صحن کی پیلی ،کمزور یرقان زدہ روشنی میں سکول کا کام کر رہاتھا، نذیر اپنے اطراف روز کی طرح بہت سے میلے، پرانے، گوٹے کناری والے مَسلے کپڑے لیے بیٹھا ،خوش ہو رہا تھا۔۔ تاجی کو ہمیشہ حیرت ہوتی نذیر اتنا خوش کیسے رہتا ہے اور وہ کیوں نہیں رہ سکتی یکدم روٹیاں سینکتی تاجی کے کان میں نذیر کی آواز آئی، کھردری بلغمی آواز جس کو سن کے ایک بار تاجی غیر ارادی طور پے اپنا گلا ضرور صاف کرتی مگر اس نے نذیر سے کبھی نہ کہاکہ اْس کی آواز تاجی کی ملائم سماعت پر خراشیں ڈالتی ہے اْسے نذیر سے محبت ہوتی تو اْسے کوئی صلاح دیتی ۔۔ نذیر بہت خوش تھا۔ ’’لے بھئی دیکھ ہم غریب مہنگائی کو روتے ہیں اور بابو لوگ نئے نکور کپڑے کچے پکے برتنوں کے لئے آرام سے بیچ دیتے ہیں ۔۔یہ دیکھ کیسا پیس ہے۔۔؟‘‘
    تاجی کو بات ہضم نہیں ہوئی اپنے دھیان میں روٹیاں دسترخوان میں لپیٹتے لپیٹتے بولی: ’’امیروں کو کیا پڑی ہے کچے برتن خریدنے کی وہ بھی پھیری والے سے وہ تو اپنی کام والیوں کو دے دیتے ہوں گے پرانے دھرانے کپڑے۔۔ وہی بیچ باچ دیتی ہوں۔۔۔۔۔‘‘
    بات کرتے کرتے تاجی نے سر اْٹھایا اس سے پہلے بھی کئی بار ایسا ہوا تھا وہ معین کے لئے پرانے کپڑوں میں سے کچھ رکھ لیتا کئی تاجی کو بھی دان مل جاتا مگر تاجی دیکھ کے بات کرنا بھول گئی وہ جسے پیس کہہ رہا تھا،۔۔ نذیر ہاتھ اْونچا کیے جو دِکھا رہا تھا ایک کُرتا تھا۔ پیلی روشنی کرتے کی سفیدی نگل چکی تھی۔۔۔ یا پھر کُرتا ہجر کے دکھ سے زرد پڑ چکا تھا۔۔۔
    نذیر نے بلغمی قہقہہ لگایا اور کرتا تاجی کی طرف بڑھا دیا۔۔ کہنے لگا ’’ مجھے پہلے ہی پتا تھا تُو دیکھے گی تو دیکھتی رہ جائے گی ہاتھ میں پکڑ کے دیکھ بزاری کڑائی (کڑھائی) نیئں لگتی۔۔ لگتا ہے کسی نے بڑی جان ماری ہے ۔۔ ‘‘ پھر بے پروا سی ہنسی ہنس کے بولا: ’’ہمیں اس سے کیا۔‘‘
    اُسے نذیر زندگی میں پہلی بار خوش قسمت لگا جس کو اس سے کچھ نہیں تھا کہ کس نے اس کُرتے کے لئے جان ماری ہے۔۔ اُس نے کُرتا گول مول کر کے اپنی لکڑی کی ٹانگ کے نیچے دبایا۔۔ ’’تُو کھانا لگا بڑی سخت بھوک لگی ہے چل معین بند کر اپنا بستہ تْو شام کو اپنا کام کیوں نئیں کر لیتااب کھانے کے ٹیم پہ تجھے سکول کا کام یاد آجاتا ہے۔۔ تاجی!‘‘ اْس نے تاجی کو دیکھا مگر محسوس کئے بغیر بولا: ’’کھانا لگا جلدی سے۔۔ معین میرے ہاتھ دُھلا دے۔۔‘‘
    تاجی کا سکتہ ٹوٹا وہ ایک پلیٹ میں سالن اور چنگیر میں روٹیاں لے کر خود کو گھسیٹتی ہوئی اْٹھی باپ بیٹے کے سامنے کھانا رکھ کے پلٹنے لگی کہ نذیرنے اْس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔اْسے جب تاجی پہ بہت پیار آتا وہ یہی کہتا: ’’جب تک تُو نیئں آئے گی میں کھانا نیئں کھاؤں گا۔ ‘‘
    ’’میں پانی لے آؤں۔۔‘‘ تاجی نے مری مری آواز میں کہا۔۔
    نذیر نے ہاتھ چھوڑ دیا اور ہنس کر بولا: ’’کل اسے بیچ کر جتنے پیسے ملیں گے سب تیرے ہاتھ پہ رکھ دوں گا کل تو نے مرغا پکانا ہے۔۔‘‘ پھر ہنستے ہوئے کہتا ہے۔۔ ’’اتنی دال کھلائی ہے تو نے اُس کو چُگنے کے لیے مرغا بہت ضروری ہے۔۔‘‘ وہ تاجی کا جواب لئے بغیر ہی ہنستا چلا گیا تاجی کا بس نہیں چل رہا تھا کہ اْس کے مْنہ پہ ہاتھ رکھ دے۔۔ نذیر سے آنے والے دن میں ملنے والی دھاڑی کی خوشی چُھپائے نہیں چُھپ رہی تھی۔۔
    کُھلے آنگن میں گرمیوں کا چاند بادلوں سے کھیل رہا تھا کبھی روشنی بہت تیز اور کبھی مدہم ہو جاتی پیتل کی ٹوٹی کی ٹپ ٹپ سکوت کو توڑدیتی تو کبھی اُس کی اپنی لا متناہی سوچیں۔۔۔ نذیر جاگ رہا تھا ورنہ اْس کے خراٹے اْس کی چھوٹی سی دنیامیں زلزلہ لانے کو کافی تھے۔۔ نذیر نے دیکھا تاجی کی چمک دار آنکھوں کی نمی چاند کی روشنی میں ستارے بنا رہی تھی نذیر کو ہمیشہ گُمان رہا کہ خاموشی تاجی کی عادت ہے وہ ہے ہی روکھی پھیکی اُس نے کبھی یہ نہ سوچا۔۔ دو وقت کی روٹی، ایک بچہ اور کچا پکا مکان زندگی نہیں ہوتا۔۔ زندگی جینے کے لئے کچھ اور بھی چاہیے لیکن نذیر ایسے لطیف احساس سے بہت دور تھا۔ ’’تاجی۔۔‘‘ نذیر نے بلایا تاجی نے کچھ کہے بغیر اس کی طرف کروٹ لی دونوں کی چارپائیوں کے بیچ بہ مشکل تین بالشت کا فاصلہ ہو گا لیکن یہ تین بالشت کا فاصلہ تاجی کو تین جنموں کا لگتا۔۔
    ’’کیا تو بھی وہی سوچ رہی ہے جو میں سوچ رہا ہوں؟‘‘
    ’’تم کیا سوچ رہے ہو ؟ ‘‘اْس نے اْلٹا سوال کیا ۔۔





    ’’میں سوچ رہا ہوں آج کل پہلے جیسے حالات نیئں رہے بڑی شو شا آگئی ہے لوگوں میں، کوئی پرانی چیزوں کو خریدتا ہی نہیں ۔۔ پھر بھی تیرا کیا خیال ہے کتنے میں بک جائے گا کُرتا۔۔۔ ؟‘‘
    ’’تمہیں کتنے میں ملا؟۔۔‘‘ سوال کرتے کرتے اْس نے اپنی دل کی دھڑکن کو اپنے کانوں میں سنا۔۔
    ’’شیدا بتا رہا تھا چار کچی مٹی کی پیالیاں دی تھیں اس نے ۔۔۔‘‘
    تاجی نے مارے دکھ کے اپنا نچلا ہونٹ دانتوں میں لے کر برُی طرح کچلا۔۔۔ ’’بس ۔۔ چار کچی مٹی کی پیالیاں؟ یہ قیمت لگی اُس کُر۔۔۔۔ تے کی۔۔‘‘ اْس نے اپنی آہوںکو خود محسوس کیا تاجی کی آنکھ سے پھر ایک تارہ ٹوٹا اور کان کی کٹوری میں غائب ہو گیا ۔۔۔
    میں بھی یہی سوچ رہا تھا جانے اْس کا اچھا مول لگتا ہے کہ نہیں سو روپے معین کی فیس جاتی ہے تم بتا رہی تھی سکول سے خط آیا ہے کہ فیس نہ دی تو وہ معین کو سکول سے نکال دیں گے اگر مرغا آگیا تو فیس۔۔۔ فیس کہیں رہ نہ جائے۔۔۔ سو ڈیڑھ سو سے زیادہ کا تو نہیں بک سکے گا۔۔۔‘‘
    تاجی نے دل کی دیواروں کو توڑتے طوفان کو بڑی مشکل سے روکا ۔۔’’اور اگر کل نہ بک سکا تو۔۔؟‘‘
    نذیر پھیکی ہنسی ہنس کے بولا ۔۔۔۔’’ مجھے پہلے ہی شک تھاتیری نیت ضرور خراب ہو جائے گی۔۔۔‘‘ تاجی نے اَن سنی کر کے پوچھا۔۔ ’’شیدے نے کہاں سے لیا۔۔۔ کُرتا‘‘ ۔۔ کرتا اُس نے زیرِلب ہی کہا۔۔ جیسے آہ بھری ہو۔
    نذیر نے خود کو گھسیٹا اور کروٹ بدلی: ’’مجھے کیا پتا کہاں سے لیا تھا۔۔۔ مجھے سونے دے۔۔۔‘‘
    اْسے نذیر کے سونے کا ہی تو انتظار تھا فضا میں ٹوٹی کے ٹپکتے قطروں کی جگہ اب نذیر کے خرّاٹوں نے لے لی تھی اُس نے سر اُٹھا کے اپنے ادھورے شوہر کو دیکھا اْسے خود پرترس آگیا ۔۔ معین کا ہاتھ پرے کیا اس کی شرٹ اوپر تک آئی ہوئی تھی اْسے معین کے کمر سے لگے پیٹ سے خوف محسو س ہوتا تھا۔۔ یہ وہ سکون تو نہیں تھا جس کا خواب ماں نے تاجی کی آنکھ میں رکھا تھا وہ تو خواب سے پہلے تعبیر کا غم ڈھو رہی تھی۔۔ تاجی نے معین کی شرٹ نیچے کی اور خود بے آواز اْٹھ کر کمرے میں چلی گئی کپکپاتے ہاتھوں سے کھٹکا دبا یا اندھیرے کمرے میں مردہ سی روشنی پھیل گئی تاجی نے بے تابی ے کپڑوں کی گٹھڑی کو کھولا اور کپڑوں میں ہاتھ ڈال کر کُرتے کی اپنائیت کو محسوس کیا۔۔ بے تابی مگر احتیاط کے ساتھ اُس نے ہاتھ کھینچا۔۔۔ کُرتا اُس کے ہاتھ میں تھا اْس نے پلکیں جھپکیں جانے کرْتا میلا تھا یا اْس کی آنکھوں میں بسی آنسوؤں کی دھند نے اسے ملگجا کر دیا تھا ۔۔ تاجی نے اپنے ہاتھ کی پشت سے اپنی آنکھیں صاف کیں۔۔ مگرآنسو اب کہاں رُکنے والے تھے۔۔ اُس نے کرتے پر یوں ہاتھ پھیرا جیسے کرتا اُس کے ہاتھ میں نہ ہومنوں نے پہن رکھا ہو اور تاجی اس سے شکوہ کر رہی ہو۔۔ ’’رے منوں تُو نے میرا پیار کچی مٹی کی چار پیالیوں کے عوض بیچ دیا ۔۔ تُو تو کہتا ہے تھا تُو مر جائے گاپر ساری عمر اِسے سینے سے لگا کے رکھے گا۔۔‘‘
    تاجی نے گٹھڑی دوبارہ باندھ دی اور کرتا تہ کر تے کرتے کئی بار اس کا ضبط ٹوٹا اْس نے کئی بار اْسے وارفتگی سے چوما، آنکھوں سے لگایا اور کمرے کی کھڑکی کے پیچھے پردے میں رکھتے رکھتے بھول گئی کہ نذیر جب صُبح اُسے گٹھڑی میں نہیں پائے گا تو ۔۔۔ تو کیا ہو گا۔
    اُس رات بھی چاند ایسے ہی چمک رہا تھا جب منوں نے اس سے کہا تھا۔۔ ’’تیرا پیار۔۔پیار تھوڑی ہے میرے لئے احسان ہے ۔جو احسان بھولے، کافر ہو کے مرتاہے۔‘‘
    تاجی کے سارے منظر ہی دھندلے ہو گئے۔ ہائے منوںمیرا پیا ربھول جاتا احسان تو نہ بھولتا۔
    اس رات نے تو جیسے پیروں میں لوہے کی زنجیریں پہن لی ہوں۔سرک ہی نہ رہی تھی۔ جیسے میّت کا گھر۔ساری رات بین کرتے گزر گئی۔اذانوں کے وقت ذرا سی جھپکی لگی کہ نذیر نے آواز دی ۔
    ’’چل اْٹھ اذانیں ہو رہی ہیں،نماز نہیں پڑھنی کیا ؟‘‘
    اسے یوں لگا جیسے نذیر نے کہا ہو، میّت نہیں دفنانی کیا۔ وہ رات کی جاگی وحشت سے نذیر کو دیکھے گئی۔
    ’ایسے کیا دیکھ رہی ہے ؟‘۔نذیر نے اِسے محبت جانا۔
    تاجی نے پلاسٹک کی چپل پیروں میں اــڑسی اور بنا کچھ کہے اٹھ کر چلی گئی۔
    معین نے سکو ل جانا تھا اور نذیر نے کام پہ ۔۔ آندھی ہو یا طوفان شیدا اپنے وقت پہ آجاتا تھا مگر پتا نہیں کیوں اُس دن وقت گذر ہی نہیں رہا تھا۔۔۔ شیدا آیا معین اور نذیر دونوں کو لے کے چلا گیا۔ تاجی نے دروازہ بند کر کے بھاگ کے کرتا نکا لا اور جلدی جلدی دھونے لگی۔ اسے اتنی محبت سے ایک بار پہلے بھی وہ دھو چکی تھی جب اس نے کاڑھ لیا تھا، سلائی سے پہلے۔ منوں سے چُھپ کر گرمیوں کی کتنی تپتی دوپہر یں اس نے کمرے میں بند ہو کے گزاریں۔۔ تب کہیں جاکر مکمل ہوا تھا۔ کُرتا تار پر ڈال کر اس نے جلدی جلدی ہانڈی چڑھائی۔ بار بار اس کی نظر ہوا کی شہہ پہ ہلتے کُرتے پہ جاتی اسے یوں لگتا منوں سینے پر ہاتھ باندھے اسے دیکھ رہا ہے۔ ایک بار تو اس نے منو کا ہاتھ بھی جھٹکا۔ ’مجھے کھانا پکانے دے شیداروٹی لینے آتا ہی ہوگا۔ کہہ کر جب اس نے سر اُٹھایا، وہاں کوئی نہیں تھا تار پر بے وفائی کھڑی تھی۔
    تاجی کو یاد آرہا تھا چھت پر سیمنٹ کی دیوار سے ٹیک لگائے لگائے اس نے کتنے نخرے سے پوچھا تھا۔’یہ تو بتاکتنا پیار کرتا ہے مجھ سے؟‘۔منوں سوچ میں پڑ گیا۔
    تاجی کا دل بُجھ سا گیا۔اس نے کتنے دنوں کی گرمی کھا کر اس کے لئے سفید لون کا کرتا کاڑھا تھا اور اس کو دینے آئی تھی۔
    منو کو یوں سوچ میں گُم دیکھا تو کرْتا دوپٹے کی آڑ میں چُھپا لیا اور اٹھنے لگی۔’’۔رہن دے پیارہوگا تو بتائے گا نا۔‘‘ وہ اُٹھ گئی۔۔ اٹھتے اٹھتے تاجی کی چوٹی منوں کے ہاتھ میں آگئی اس نے ہاتھوں پہ دو بل دے کہ اسے اور قریب کر لیا۔ ’میں تو یہ سوچ رہا تھا کاش میں اگلے چار سو سال تک تجھے اس طرح بیٹھ کر دیکھتا رہوں۔۔‘‘ اس کالہجہ مخمور ہونے لگا۔ تاجی کا دل زور سے دھڑکا۔ بے ساختہ اس کا سر منوں کے کاندھے پہ ٹک گیا۔ شور مچاتی دھڑکنوں کے سازپر سرگوشی میں بولی: ’چار سو ایک سال کیوں نہیں؟‘ منوں نے اس کے کان میں کہا ’’ہو سکتا ہے میں اتنا نہ جی سکوں۔‘‘
    تاجی ایک جھٹکے سے منو ںسے علیحدہ ہوئی ۔۔ ’’ شکل اچھی نہ ہو تو بات ڈھنگ کی کر لیا کرو۔۔‘‘ پھر اترا کے بولی: ’’اچھا خیر۔۔ چار سو سال ہی ٹھیک ہے‘۔یہ دیکھ۔۔‘‘، اس نے خوش ہو کر دوپٹے کی آڑ سے کر تا نکالا۔ ’تیرے لئے کاڑھاہے۔ سیا بھی خود ہے میں نے ۔‘‘
    منو ںنے کرتا آنکھوں سے لگا لیا۔ ’’میرے لئے؟‘‘۔ ناقابلِ یقین حیرت سے پوچھنے لگا تو تاجی مغرور سی ہو گئی۔ ’’ہاں تیرے لئے ۔۔بتایا تو ہے میں نے خود بنایا ہے۔‘‘
    منو ںنے کرتے پر ہاتھ پھیرا ’’اتنا خوب صورت، ایک ایک ٹانکے میں اپنا پیار پرو کے دے دیا تْونے تو ‘‘ اس نے کُرتا چوم لیا۔تاجی نے سخاوت سے کہا ’’تجھے اچھا لگا تو ایک اور بنا دوںگی‘‘۔ منوں گھبرا کر بولا ’’نہیں نہیں۔‘‘ اس نے تاجی کے ہاتھ سید ھے کئے جہاں سوئیوں نے چھوٹے چھوٹے سوراخ کر دیئے تھے ۔’’میں تجھے اور تکلیف نہیںدے سکتا‘‘۔ تاجی ہنس دی۔’’بہت پاگل ہے تو اس میں تکلیف کی کیا بات ہے۔ سو روپے کا کپڑا آیا بتیس روپے کا دھاگا اور دس روپے کی چھپائی، کل ملا کر کتنے ہوئے۔؟‘‘ ہنس دیتی ہے۔ ’’تو اسے تکلیف سمجھتا ہے۔‘‘ اس نے تکلیف پر زور دے کر کہا۔ ’’اتنا تو سستا بنا ہے۔‘‘
    منوں نے تاجی کی آنکھوں کو چوم لیا: ’’تیری آنکھوں کا نور ہے یہ سوچتا ہوں کیسے چکا پاؤں گا اس کی قیمت۔ اتنی محبت۔ اتنی چاہت۔‘‘تاجی منو ںکے ماتھے کی لٹ پیچھے کر کے وارفتگی سے بولی: ’’جب تو اسے پہنے گا تواس کی قیمت آپ ہی چکتا ہو جائے گی۔‘‘ پھر مِنت سے کہا: ’’پہن کر دکھا ناں۔‘‘
    منوں مُسکرا کے اسے دیکھ رہا تھا۔ ’’میں اسے تیرے بیاہ والے دن پہنوں گا۔‘‘ اْس نے تاجی کو چھیڑا۔۔
    تاجی یاد کرتے کرتے کیسے دنیا سے بے خبر لگ رہی تھی۔۔ کئی سالوں بعد وہ آپ ہی آپ ہنس رہی تھی دروازہ بج رہا تھا۔ تاجی ہوش کی دنیا میں واپس آگئی ہنڈیا کے جلنے کی بو سارے گھر میں پھیل چکی تھی۔تاجی نے جلدی سے ہنڈیا اُتاری اور دروازہ کھولا۔
    شیدا کھانا لینے کے لئے کھڑا تھا۔شیدے نے بھی جلنے کی بو محسوس کی۔’’پرجائی سالن لگ گیا لگتا ہے۔‘‘
    ’’ہاں‘‘ اس نے مختصراََ کہااورہمت کر کے کرتے کے مالکوں کا پتا پوچھا۔
    شیدا ہنس دیا۔ ’’استاد کہہ رہا تھا عورتوں کو تو کوئی اچھی شے دکھانی ہی نہیں چاہئے۔‘‘
    ’’خفا تو نہیں تھا۔‘‘ تاجی کا دل پھر زور سے دھڑکا۔شیدے نے بد رنگ مگر صاف دستر خوان کی گرہ لگائی اوراسے دیکھ کر روانی سے بولا: ’’پرجائی تجھ پہ خفا ہوتے کبھی دیکھا نہیں استاد کو۔‘‘ شیدا جاتے جاتے مڑا۔ ’’ویسے تم نے کیا کرنا ہے؟ گھر بہت دور ہے سواری کے بغیر کوئی نہیں جاسکتا وہاں۔‘‘ تاجی نے سر ہلایا۔ ’’تیری مرضی ہے میرا کام تھا صلاح دینا۔‘‘
    تاجی نے دروازہ بند کیا او ر رو پڑی۔ اس منحوس صلاح ہی نے تو مارا تھا مجھے۔
    تاجی نے اپنا صاف ستھرا دوپٹہ جستی ٹرنک سے نکالااور کرتا تہ کر کے اس میں یوں لپیٹا جیسے اس کا دوپٹہ دوپٹہ نہ ہو جزدان ہو اور کرتاکرتا نہ ہو کوئی صحیفہ ہو۔یکدم اْس پہ بے بسی کی کیفیت چھا گئی جیسے کوئی مرض الموت میں مبتلا اْس کے سامنے ہو اور اُس کی سارے دعائیں کہیں زمین آسمانوں کے درمیان رہ گئی ہوں۔۔ منوں تو نے کیوں بیچا میرا پیار۔اتنا سستا۔ اس کا سانس بند ہو رہا تھا۔ ایسی بھاری سل سینے پہ دھری تھی کہ جیسے اب جان نکلی کہ تب۔
    بے بسی نے ایڑھیاں رگڑنے کی سی حا لت کر دی تھی۔تمہیں تو یاد بھی نہیں ہوگا منوں جب تم نے مجھے اماں کی آرزو سنائی تھی۔میں تو اماں کو منع کر چکی تھی کہ مجھے کسی کے ساتھ بیاہ نہیں کرنا پر تیرے سامنے۔۔




  • ۱۳ ڈی — نفیسہ سعید

    ’’آپ کو پتا ہے جی‘‘… ڈسٹنگ کرتی فاطمہ کو جیسے اچانک کچھ یاد آگیا ہو۔
    ’’کیا‘‘…
    کچن میں مصروف کبریٰ نے چولہے کی آگ کم کرتے ہوئے اپنی بھرپور توجہ فاطمہ کی جانب مبذول کر دی کیوںکہ وہ جانتی تھی کہ فاطمہ کسی بھی اہم خبر کی ابتداء اسی ایک جملے سے کرتی ہے۔
    ’’وہ جو کونے والی باجی ہیں نا۔‘‘ ڈسٹنگ والا کپڑا ہاتھ میں لئے وہ تجسس پھیلاتی کچن کے دروازے پر ہی آن کھڑی ہوئی۔
    ’’کونے والی باجی…‘‘ کبریٰ کی سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کس کی بات کر رہی ہے۔
    ’’ارے وہی جی جن کا بڑا نخرہ ہے منیزہ باجی۔‘‘
    چوںکہ اسی گلی میں منیزہ سے تو کبریٰ واقف تھی اس لئے اُس نے تصدیق کی خاطر اس کی نوکری کا حوالہ دے دیا۔
    ’’وہی جو بنک میں ملازمت کرتی ہیں؟‘‘
    ’’ہاں وہی با جی…‘‘
    ’’کیا ہوا انہیں۔‘‘منیزہ کے نام کے ساتھ بھی کبریٰ کی دل چسپی تھوڑی بڑھ گئی۔
    ’’ان کو کیا ہونا ہے۔ ہوا تو ان کے میاں کو ہے، آپ کو نہیں پتا آج کل کسی لڑکی سے چکر چلایا ہوا ہے، بڑا فساد ڈالتا ہے اس کے پیچھے۔ دنوں میاں بیوی کل شام میرے سامنے ہی جھگڑ پڑے تھے۔
    ’’اچھا…‘‘
    یہ اطلاع کم از کم کبریٰ کے لئے خاصی حیران کن تھی کیوںکہ منیزہ اور معیز کی ابھی چھے سال قبل ہی شادی ہوئی تھی اور دونوں ایک ہی بینک میں جاب کرتے تھے اور اپنی محبت کی کہانیاں منیزہ پورے محلے کو ہی سُنا چکی تھی اور یہ محبت ان دنوں میں باقاعدہ دکھائی بھی دیتی تھی۔ پھر یہ جو کچھ فاطمہ انہیں بتا رہی تھی نا صرف حیران کُن بلکہ کافی حد پریشان کُن بھی تھا۔
    ہاں جی منیزہ باجی تو خوب رو رہی تھیں کیوںکہ سمیر بھائی سے شادی کے لئے انہوں نے اپنے پورے خاندان سے مخالفت مول لی، اپنی پہلی منگنی توڑی اور پھر دیکھیں انہیں صلہ کیا ملا وہ بھی ایک مرد کی بے وفائی۔
    ’’ہو سکتا ہے تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہو کیوںکہ ابھی دو دن قبل تو وہ مجھے عنبرین کے گھر میلاد میں ملی تھی بالکل خوش باش اپنی ٹپ ٹاپ کے ساتھ۔‘‘
    ’’آپ سے وہ گھر کے باہر ملی تو ظاہر ہے کہ گھر کا دُکھ اندر ہی چھوڑ کر آئی ہوں گی نا۔ ویسے بھی جی جو لڑکی ساری دنیا کو ناراض کر کے ایک بندے کو اپنا بنائے، بتائیں وہ بھلا کیسے اس بندے کی بے وفائی کا ذکر دنیا کے سامنے کرے گی؟‘‘
    مختلف گھروں میں کام کرنے سے فاطمہ کا انداز گفت گو خاصا سمجھ دارانہ ہو گیا تھا جس کا اندازہ پہلے ہی کئی بار کبریٰ کو ہو چکا تھا۔
    ’’پر میں تو ان کے گھر جاتی ہوں مجھ سے بھلا کیسے کچھ چھپا سکتی ہیں وہ؟
    بڑا رو رہی تھیں جی میرے سامنے سمیر بھائی کی بے وفائی پر۔‘‘





    ’’اچھا… چلو اب تم جلدی جلدی کام ختم کرو بچے گھر آنے والے ہیں اور میں کھانا لگاؤں۔‘‘
    باتوں کے دوران کبریٰ کو ٹائم کا پتا ہی نہ چلا۔ اب جو گھڑی پر نظر پڑی تو جلدی سے فاطمہ کو ٹوک دیا۔
    ’’میرا کام تو ختم ہو ہی چکا ہے۔ بس ذرا ڈسٹنگ رہ گئی ہے، وہ اب کل آکر کروں گی کیوںکہ مجھے روحی باجی کے گھر آج ذرا جلدی جانا ہے پھر وہ ناراض ہو جائیں گی۔‘‘
    ’’’اچھا ٹھیک ہے مگر کل آکر سارا کام ٹائم سے ختم کر لینا۔‘‘
    ٹھیک ہے باجی سالن پک گیا ہے تو کسی تھیلی میں ڈال دیں۔ روٹی میں باجی روحی کی باورچن سے لے لوں گی وہ سالن بڑی دیر سے پکاتی ہے جب کہ مجھے زوروں کی بھوک لگی ہے۔
    ’’تم روٹی بھی مجھ سے لے جاؤ۔‘‘
    یہ کہہ کر کبریٰ نے جلدی سے اُسے ایک تھیلی میں سالن اور دو روٹیاں لپیٹ کر دے دیں۔
    ویسے ایک بات ہے باجی جو ذائقہ آپ کے ہاتھوں سے بنے سالن کا ہے وہ تو مجھے باجی روحی کی باورچن کے ہاتھوں میں بھی نہیں ملتا بڑا سواد ہے جی آپ کے کھانے میں۔
    اچھا…
    اُس کی ذرا سی تعریف سے کبریٰ نے خوش ہو کر اسے تھیلا پکڑایا اور اُس نے جلدی سے فریج کھول کر دو آم بھی اسی تھیلی میں ڈال کر اُس کے حوالے کر دیئے۔
    ’’اللہ بہت دے آپ کو، بڑا خیال رکھتی ہیں میرا۔‘‘
    اسی طرح دعائیں دیتی وہ باہر نکل گئی تو کبریٰ کو یاد آیا کہ آج تو اُس نے فاطمہ سے پنکھے صاف کرنے کو بھی کہا تھا جو باتوں ہی باتوں میں دونوں ہی بھول گئیں جب کہ شام میں گھر کچھ مہمان آنے والے تھے اس لئے لازم تھا کہ پنکھے صاف ہوتے۔ اب چوںکہ فاطمہ جا چکی تھی اس لئے کبریٰ نے خود ہی جلدی سے سارے گھر کے پنکھے جھاڑ دیئے، مبادا انہیں دیکھ کر عزیز کو غصہ نہ آجائے۔
    ٭٭٭٭
    فاطمہ گلی نمبر ۱۳۔ڈی کے تقریباً تمام ہی گھروں میں کام کرتی تھی یہ ہی وجہ تھی کہ وہ ہر گھر میں موجود کوئی نہ کوئی ایسی کہانی ضرور جانتی تھی۔
    جس سے عام طور پر محلے کے دوسرے لوگ بے خبر ہوں۔ بہ قول فاطمہ کہ کبریٰ پوری گلی میں اُس کی سب سے اچھی باجی تھی جسے وہ سب کی باتیں بتایا کرتی۔
    ’’ویسے تو باجی جی اللہ معاف کرے میں کبھی کسی کی بات یہاں وہاں نہیں کرتی بڑا سخت گناہ ہے جی یہ، کبھی کبھی کسی کی کوئی بات بتا دیتی ہوں جس پر اللہ مجھے معاف کرے۔‘‘
    اور چاہ کر بھی کبریٰ نے کبھی اُس سے یہ نہ کہا کہ ’’کبھی کبھی‘‘ نہیں بلکہ تم تو روز ہی مجھیایک نئی داستان سناتی ہو وجہ شاید یہ تھی کہ اُسے بھی اس طرح محلے کی خبروں سیباخبر رہنا اُسے اچھا لگنے لگا تھا اور وہ خود فاطمہ کی سنائی ہوئی ہر بات بڑی دل چسپی سے سنتی اور ایسے میں اکثر ہی اُسے فاطمہ کے جانے کے بعد کئی ایسے کام کرنے پڑتے، جنہیں وہ اپنی باتوں میں ادھورا چھوڑ جاتی۔
    ٭٭٭٭
    ’’آمنہ باجی کے بیٹے نے پھوپھی کے گھر اپنی منگنی توڑ دی ہے۔‘‘
    یہ فاطمہ کی طرف سے آج کی تازہ خبر تھی۔
    ’’ارے وہ کیوں؟‘‘
    کبریٰ کو فاطمہ کا جملہ سنتے ہی حیرت کا جھٹکا لگا کیوںکہ وہ جانتی تھی کہ ولید نے یہ منگنی خود اپنی مرضی سے کی ہے جب کہ آمنہ کی تو اپنی نند سے پہلے بھی نہ بنتی تھی۔
    کہتا ہے کہ لڑکی اچھی نہیں ہے۔
    حیرت ہے آج سے دو سال قبل تو وہ لڑکی اتنی اچھی تھی کہ اس کی خاطر روز ماں سے جھگڑتا تھا اب ایک دم ہی اتنی بُری ہو گئی کہ منگنی بھی ختم کر دی۔
    ’’بس جی جو لڑکیاں، اس طرح لڑکوں سے یاریاں لگا کر منگنی کرتی ہیں۔ بھلا وہ کہاں کامیاب ہوتی ہوتی ہیں مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ جی جب تک باؤ ولید کا مطلب پورا نہیں ہوا تب تک وہ اچھی تھی جیسے ہی اپنا مطلب نکلا لڑکی میں کیڑے نظر آنے لگے۔‘‘
    ’’بری بات ہے فاطمہ بنا جانے کسی کے لئے اتنی بڑی بات نہیں کرتے۔‘‘
    کبریٰ نے اُسے ہلکی سی سرزش کے ساتھ اسے سمجھانا چاہا۔
    ’’ میں کہاں کر رہی ہوں جی کوئی بات۔ مجھے تو خود آمنہ باجی نے بتایا ہے ۔‘‘
    ’’اچھا…‘‘ظاہر ہے جب آمنہ نے خود بتایا تھا تو وہ بھلا کیسے فاطمہ کو غلط قرار دیتی۔
    ’’اور جی آپ کو ایک اور بات تو میں بتانا بھول ہی گئی۔‘‘
    ’’اچھا ذرا جلدی سے بتا دو جو بتانا ہے کیوںکہ آج عزیز نے بھی لنچ کرنے گھر آنا ہے دراصل ہانیہ یونی ورسٹی ٹرپ پر ترکی جا رہی ہے اُسے چھوڑنے ہم دونوں کو ایئرپورٹ جانا ہے۔‘‘
    ’’واہ جی ہانیہ باجی کے تو مزے ہی مزے۔‘‘
    ’’مفت میں مزے نہیں ہوئے۔ ہم نے پورے دو لاکھ یونی ورسٹی کو دیئے ہیں اس ٹرپ کے لئے۔‘‘
    سالن میں چمچ چلاتی کبریٰ بڑے فخر سے بولی۔
    ’’اب بتاؤ تم کیا کہہ رہی تھیں۔‘‘
    ’’وہ جی آنٹی قریشی کا بیٹا لڑکی بھگا کر گھر لے آیا ہے۔‘‘ اس نے اپنی گول گول آنکھیں نچائیں۔
    ’’ہیں یہ کب ہوا؟‘‘ آج تو شاید حیرتوں کا دن تھا۔
    ’’وہ تو بڑا سیدھا سادا اور بھلا مانس سا بچہ ہے، پانچ وقت کا نمازی اور پرہیزگار پھر بھلا کیسے وہ کسی کی بیٹی اس طرح بھگا لایا۔‘‘
    یہ پہلی ایسی خبر تھی جس پر یقین کرنے کو کبریٰ کا دل قطعی آمادہ نہ ہوا۔
    ’’یہ تو مجھے نہیں پتا جی بس آج میں نے دیکھا گھر میں ایک نئی لڑکی تھی خوب تیار شیار، میں نے آنٹی سے پوچھا تو انہوں نے بتایا کہ حماد کی گھر والی ہے۔‘‘
    ’’ہاں تو اس کا مطلب یہ تو نہ ہوا نا کہ وہ لڑکی بھگا کر لے آیا ہے۔‘‘
    ’’وہ لڑکی ڈری سہمی بیٹھی تھی اور آنٹی سارے گھر میں رولا ڈالتی پھر رہی تھیں کہ جانے کس کا گند گھر لا کر ڈال دیا۔‘‘ وہ مسز قریشی کے لہجے کی نقل اتارتے ہوئے بولی۔
    ’’چلو آج شام میں دیکھ کر آؤں گی۔‘‘

    ’’پر میرا نام نہ لیجیے گا آپ کو پتا ہے وہ بڑے غصے والی آنٹی ہیں۔ مجھے تو اس لڑکی پر ترس آ رہا تھا جو نومی بھائی کے عشق میں میں مبتلا ہو کر یہان آن پھنسی۔ اُسے کیا پتا کہ اُس کی ساس کیسی پٹاخا عورت ہے گھر میں کسی کی کیا مجال جو ان کے آگے بول جائے۔‘‘
    ’’ہاں یہ تو تم ٹھیک کہہ رہی ہو اور منیزہ کی سناؤ کیسی ہے؟ کافی دنوں سے نظر نہیں آرہی۔‘‘
    ’’پتا نہیں جی پر مجھے تو لگتا ہے کہ بھائی سمیر نے اب جلدی ہی دوسری شادی کر لینی ہے بلکہ ہو سکتا ہے کر بھی لی ہو۔‘‘
    ’’اچھا تمہیں ایسا کیسے لگا؟‘‘
    ’’آج کل گھر ہی نہیں ہوتے جب کہ میں صبح آٹھ بجے سب سے پہلے ان کے گھر جاتی ہوں۔ اب بتاؤ بھلا اتنا سویرے سویرے وہ کہاں چلے جاتے ہیں؟ مجھے تو لگتا ہے کہ وہ رات ہی گھر نہیں آئے۔‘‘
    ’’اوہ…‘‘ کبریٰ کو خاصا افسوس ہوا۔
    ’’اب منیزہ باجی بھلا کس کو اپنا دکھ سنائے؟ ایک مرد کے لئے تو سب کچھ چھوڑا، اب وہ ہی اپنا نہ رہا تو بچاری کیا کریں جی ۔‘‘
    ہاں کہہ تو تم ٹھیک ہی رہی ہو، بریانی پکائی ہے کھاؤ گی؟
    ’’جی آپ کے ہاتھ کی تو دال اتنی سواد کی ہوتی ہے کہ بندہ انگلیاں چاٹتا رہ جائے۔ میں بھلا بریانی سے کیسے منع کروں؟‘‘
    اور اسی خوشی میں مدہوش کبریٰ نے ڈبہ بھر کر بریانی کے ساتھ دو کباب اور رائتہ بھی فاطمہ کے حوالے کر دیا۔
    ’’اللہ آپ کو بہت دے جی۔‘‘ جاتے جاتے وہ دعا دینا نہ بھولتی۔
    ٭٭٭٭




  • الفاظ کا احتجاج — ہما شہزاد

    الفاظ کا احتجاج — ہما شہزاد

    رات کا آخری پہر تھا حرف اپنے بستر پہ لیٹا اونگھ رہا تھا۔ اس کے ساتھ والے بیڈ پہ لیٹا حرف کسی گہری سوچ میں ڈوبا ہوا تھا۔ نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ ان کے باقی ساتھی بھی ڈرائنگ روم میں بیٹھے پریشان دکھائی دے رہے تھے۔
    ’’میں نے منع بھی کیا تھا تم لوگوں کو کہ اب کوئی ایسا کام نہیں کرنا مگر تم لوگوں نے پھر حامی بھر لی۔ ابھی پچھلا غم نہیں بھولا اور چل پڑے نئے کام پہ۔‘‘ بڑے صوفے پہ بیٹھا حرف غصے سے بول رہا تھا۔
    ’’سارا دن فارغ بھی تو نہیں بیٹھا جاتا۔ میری تو ٹانگیں بھی اکڑ جاتی ہیں بیٹھ بیٹھ کے بے کار بیٹھنے سے بہتر ہے رسک لے لیا جائے۔‘‘ اس کے ساتھ ٹیک لگا کے بیٹھے حرف نے سر جھٹکتے ہوئے کہا۔
    ’’لیکن کہہ تو وہ بھی ٹھیک ہی رہا ہے یاد ہے پچھلی بار کا تجربہ کچھ حاصل نہیں تھا ہوا۔‘‘ سنگل صوفے پہ بیٹھے حرف نے پہلے والے کی حمایت کی۔
    ڈرائنگ روم میں عجیب ٹینس سا ماحول تھا۔ ہر حرف فکر مند دکھائی دیتا تھا۔
    ’’چلو ابھی کام کون سا شروع ہوگیا ہے آپس میں مت اُلجھو کل وہ لوگ آئیں گے تو پہلے ان سے بات کرلیں گے۔‘‘ ٹوسیٹر صوفے پہ بیٹھے حرف نے کافی کاسپ لیتے ہوئے متانت سے کہا۔ ’’مجھے تو پریشانی سے نیند بھی نہیں آئے گی۔‘‘ بڑے صوفے پہ بیٹھا حرف کچھ زیادہ ہی پریشان تھا۔
    ’’کچھ نہیں ہوتا جو ہوگا سب مل کے دیکھ لیں گے زیادہ مت سوچو۔ اب اُٹھ جاؤ رات بہت ہوگئی ہے۔‘‘ سنگل صوفے پہ بیٹھا حرف اسے تسلی دیتا ہوا اُٹھ گیا۔
    باقی سب حروف بھی اُٹھ کر اپنے اپنے بیڈ رومز کی طرف چل پڑے لیکن گہری نیند آج کسی کا مقدر نہیں تھی سب کو آنے والے کل کا انتظار تھا۔ ان کے دلوں میں نیا کام کرنے کا شوق بھی تھا اور اس کے مسترد ہونے کا خوف بھی۔
    ٭…٭…٭
    ’’مجھے سمجھ نہیں آتی تم لوگ میری بات مان کیوں نہیں لیتے؟‘‘ قلم نے چائے کاسپ لیتے ہوئے اپنے سامنے بیٹھے حروف کی طرف دیکھا۔
    تم نئے ہو قلم اور میرا تجربہ کہتا ہے کے نئے قلم کا کام مشکل سے ہی اپنی جگہ بنا پاتا ہے۔ پہلے بھی ہمیں ایک نیا قلم لے گیا تھا پھر کیا ہوا ہم سب بکھر گئے کسی رسالے کسی اخبار نے ہمیں ذرا سی بھی جگہ نہیں تھی‘‘ دانت سے بسکٹ کا کونا کتر کتر کرکھاتے حرف نے استہزائیہ انداز میں اپنی بات مکمل کی۔
    ’’ماں اور میں تو ابھی تک اسی صدمے سے سنبھل نہیں پائے۔ اب مجھ میں کوئی نیا غم سہنے کا حوصلہ نہیں ہے۔‘‘ چھوٹے دل کا حرف سٹرا سے تھوڑا تھوڑا فریش جوس پیتے ہوئے بولا۔
    ’’مانا کہ یہ قلم نیا ہے لیکن اس کے پاس بہت اچھے آئیڈیاز ہیں تم لوگ آزما کے تو دیکھو امید ہے اس مرتبہ ہمیں کامیابی مل ہی جائے۔‘‘ قلم کے ساتھ بیٹھے کاغذ نے اس کی حمایت کی اگر اس مرتبہ بھی کامیابی نہ ملی تو آئندہ میں کسی قلم پہ بھروسہ نہیں کروں گا۔‘‘ آنکھوں پہ عینک لگائے ہوئے حرف نے اپنی عینک اتار کے اس کے شیشے صاف کرتے ہوئے کہا اس کے انداز میں مایوسی تھی۔
    ’’تو پھر تم لوگ یہ آخری موقع مجھے ہی دے دو۔‘‘ قلم نے بڑی امید سے ان سب کی طرف دیکھا۔
    ’’ٹھیک ہے ایک آخری کوشش کرلیتے ہیں۔‘‘ ڈرائنگ روم کے کونے میں کرسی رکھ کے بیٹھے حرف نے بلآخر فیصلہ سنایا۔
    قلم کے چہرے پہ مسکراہٹ پھیل گئی۔ وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور ایک ایک حرف کو اٹھا کے کاغذ پہ ڈالنے لگا۔ قلم لکھتا گیا حرف لفظوں میں ڈھلتے گئے۔ کاغذ کی سطح پہ جملے ابھرنے لگے۔ اس کام میں کئی دن لگے اور آخرکار نئے قلم کی لکھی کہانی مکمل ہوئی مگر اب مرحلہ تھا اس کہانی کو شائع کرانے کا اور اسی مرحلے کی وجہ سے حروف الفاظ میں ڈھلنے سے ڈرتے تھے کہ جانے کوئی ان الفاظ کو اہمیت دے یا نہ دے۔ لیکن قلم نے ہمت کی اور اپنی کہانی ایک رسالے کو پوسٹ کردی۔ کاغذ پہ لکھے الفاظ کے دل بے ترتیب انداز سے دھڑکنے لگے…
    ٭…٭…٭
    میگزین انچارج نے ایک نظر کہانی پہ ڈالی اور اسے سائیڈ پہ رکھ دیا۔ نئے قلم کے کام کے لیے ابھی رسالے میں جگہ نہیں تھی۔
    قلم نے کہانی ایک اور جگہ بھیجی لیکن اس ڈائجسٹ نے بھی چھاپنے سے معذرت کرلی۔ وجہ وہی پرانی… نئے قلم کا کام ہے…
    پھر ایک اور جگہ قسمت آزمائی…، اس نے تو کہانی اٹھا کے ردی کی ٹوکری میں ہی پھینک دی…
    اور یہ بس حد تھی کاغذ پہ لکھے الفاظ کے صبر کی… بیش تر الفاظ اپنی تحقیر پر رونے لگے۔ ایک کی تو روتے روتے ہچکی سی بندھ گئی۔
    ’’روتے کیوں ہو؟ رونے سے کچھ نہیں بنے گا اٹھو اپنے حق کے لیے آواز بلند کرو۔‘‘ بلآخر ایک ہمت والے لفظ نے اپنے ساتھیوں کے آنسو دیکھتے ہوئے انہیں جینے کی نئی آس دلائی۔
    کون سا حق؟ ہماری غلطی تھی ہم نئے قلم کے کہنے پہ متحد ہو کے الفاظ میں ڈھل گئے۔ اب دیکھو ہمارا ٹھکانا یہ ردی کی ٹوکری ٹھہرا۔ نئے قلم کا کہیں کوئی حق نہیں۔‘‘ الفاظ کے اندر موجود ہر حرف آب دیدہ تھا۔
    ’’متحد ہونا تمہاری غلطی نہیں تمہاری قوت ہے اٹھو ہمت نا ہارو۔ آؤ مل کر احتجاج کریں۔ جگہ نہ بھی ملی تو اس بار ہماری آواز دور دور تک جائے گی۔‘‘ پہلا لفظ بول رہا تھا اور کاغذ پہ لکھے باقی الفاظ اپنے اندر ایک جوش اُٹھتا محسوس کررہے تھے۔
    ہمت والے لفظ کی بات مکمل ہوئی اور الفاظ نے نئے جذبے کے ساتھ احتجاج کا علم اٹھانے کا فیصلہ کیا۔ اب انہیں انتظار تھا قلم انہیں کسی نئی جگہ بھیجے اور وہ اپنے پلان پر عمل درآمد کریں۔
    ٭…٭…٭
    قلم نے کہانی ایک آخری امید پر ایک اور میگزین والوں کو بھیجنے کا سوچا۔ ادھر اس نے کہانی پوسٹ کی ادھر کاغذ پہ لکھے الفاظ تیزی سے اپنی جگہ بدلنے لگے۔ کہانی لگتا ہے کچھ اور بن گئی ہے… کیا؟…
    میگزین ایڈیٹر نے بے دلی سے نئے قلم کا کام کھولا۔ لیکن یہ کیا؟؟
    سامنے پہلے صفحے پر ہی الفاظ بازوؤں پہ کالی پٹیاں باندھے دھرنا دیے بیٹھے تھے۔
    ’’پرانے لکھاریوں کے ساتھ اپنے ڈائجسٹ میں تھوڑی سی جگہ ہمیں بھی دو‘‘… پہلی سطر میں بیٹھے الفاظ کا نعرہ تھا۔ ’’ہمارا قصور ہم نئے قلم کے ساتھی‘‘ الفاظ کے ہاتھوں میں موجود بینر پہ درج تھا۔
    ’’نئے قلم کی آواز بھی لوگوں تک پہنچاؤ۔‘‘ ’’ہمیں جگہ نہ ملی تو ہمارے احتجاج کے بعد ہماری ہڑتال ہوگئی۔‘‘
    مختلف پلے کارڈز اٹھائے الفاظ کاغذ پہ جگہ جگہ کہیں کھڑے تھے کہیں بیٹھے تھے۔
    ایڈیٹر نے ایک نظر پھر سے الفاظ کے احتجاج پر ڈالی اور سوچ میں پڑگیا۔ اگر الفاظ کی ہڑتال ہوگئی اور وہ حرف حرف بکھر کے گھر چلے گئے تو پھر وہ کبھی متحد ہوکے الفاظ کا روپ نہیں دھاریں گے۔
    تو پھر کیا سوچا آپ نے؟ آپ کا میگزین جگہ دے رہا ہے الفاظ کے احتجاج کو؟ یا پھر الفاظ کی ہڑتال کا انتظار ہے؟ کاغذ کے آخری کونے میں کھڑے چند الفاظ آخری سطر سے لٹکے ایڈیٹر سے سوال کر رہے تھے۔ سطر پہ ان کے ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی تھی۔ کیوں کہ وہ ہڑتال پہ جانے کے لیے تیار تھے۔ ادھر ایڈیٹر انکار کرتا۔ ادھر ان کے ہاتھ چھوٹتے اور وہ حرف حرف بکھر جاتے۔
    ٭…٭…٭




  • خوشی بادشاہ — افراح فیاض

    مبارک پور کی جنازہ گاہ میں بچوں کا بہت رش تھا۔ ظاہرہے کوئی فوت ہوا تھا۔ مگر فوت ہونے والا کون تھا۔۔۔ ؟ جنازہ گاہ میں بچوں کی موجودگی ایک انہونی بات تھی۔ ایک راہ گیر نے بڑی بے تابی سے پاس کھڑے بچے سے پوچھا:۔۔۔ ’’کون فوت ہوا ہے ؟ ‘‘
    بچے کی آنکھوں میںآنسو آ گئے۔۔۔ ، اس نے تھوک نگلا اور بولا: ’’خوشی بادشاہ‘‘ ۔۔۔ راہ گیر بچے کے جواب سے مطمئن نہ ہوا ، اس نے پھر پوچھا: ’’خوشی بادشاہ کون تھا ؟۔۔‘‘
    ’’ پاگل تھا ‘‘۔۔۔۔ بچہ جواب دے کر بھاگ گیا۔
    جی ہاں ، خوشی بادشاہ ایک پاگل تھا ، کو ئی نہیں جانتا تھا کہ اس کے پاگل ہونے کی وجہ کیا تھی۔ کوئی کہتا اس کے بڑے بھا ئی نے بجلی کے جھٹکے لگوا کر اُسے پاگل کیا۔ معلوم نہیں بجلی کے جھٹکوں سے کوئی پاگل ہوتا ہے یا نہیں مگر خوشی بادشاہ کے حوالے سے ایسی ہی باتیں مشہور تھیں۔ پتا نہیں جھوٹ تھا یا سچ مگر یہ سچ تھا کہ پاگل ہونے سے پہلے وہ بس میں کنڈ یکٹر ہوا کرتا تھا اور اس کا خاندان بہت بڑا اور پیسے والا تھا۔
    نہ جانے وہ کتنے عرصے سے ، شاید جوانی کے زمانے سے ہی مبارک پور محلے میں ایک کمرہ کے گھر میں رہ رہا تھا۔ سردی ہویا گرمی سب موسم وہ اسی کمرے میں گزارتا تھا۔ مٹی کا ایک چولہا، ٹوٹی ایک چارپائی ، اس پر میلا سا ایک گدا، اوڑھنے کے لیے ایک میلی سی چادر ، ایک ٹوٹی چپل ، ایک سٹیل کا ڈبہ ، ایک پیالہ اور کپڑوں کے دوجوڑے، یہ اس کی کل کائنات تھی۔ گھر کی دیواریں گر چکی تھیں ، کمرہ آگ کے دھویں سے کالا پڑ چکا تھا، برتنوں میں کتے بلی منہ مارتے پھرتے اور اس کے اردگرد مکھیاں بھنبھناتی رہتیں۔ مائیں بچوں کو سمجھاتیں اس پاگل کے گھر نہیں جانا بلکہ اس کے پاس سے بھی نہیں گزرنا۔۔۔ مگر بچے اس کی طرف ہی بھاگتے۔ ایک وجہ اس کے کھنڈر نما گھر کے بیچوں بیچ اونچا ، لہلہاتا کھجور کا درخت تھا، جو موسم میں کھجوروں سے لدا رہتا۔ ایسی میٹھی رسیلی کھجوریں کہ دیکھتے ہی منہ پانی سے بھر جاتا اور دوسری وجہ ٹافیاں تھیں۔





    اس کے عزیز رشتے داروں میں سے کبھی کوئی اس سے ملنے نہیںآیا تھا۔آتے بھی کیوں ، ظاہرہے پاگلوں کو ملنے یا یاد رکھنے کا وقت اس مصروف زندگی میں کس کے پاس ہے؟ اس نے تنہا ساری عمر ایک کمرے میں گزاردی۔ گرمیوں کی راتوں میں وہ بہت بے چین ہو کر چیختا ، اردگرد پنکھوں کے سامنے سوئے محلے دار اس کی آواز سے پریشان ہوتے ۔ وہ گرمی کے ساتھ ساتھ مچھروں کا مقابلہ کرتے کرتے کھلے آسمان تلے آجاتا۔ آسمان کی چھت اور باہر کی ٹھندی ہوا اسے اپنی آغوش میں لے کر تھپک تھپک کر سلا دیتے۔ سردیوں کی راتوں میں وہ ایک چادر میں کروٹیں بدلتا رہتا، کبھی اٹھ کر چولہا جلاتاکبھی گرم رہنے کے کوئی اور جتن کرتا۔ اڑوس پڑوس میں لوگ نرم گرم لحاف اوڑھے سوئے رہتے، کسی کو کسی کی کیا پروا۔۔۔ اور ایک پاگل کی پروا کرتا بھی تو کون۔۔
    خوشی بادشاہ بہت انا پرست اور سمجھ دار قسم کا پاگل تھا۔ زبان و بیاں اور عقل کی رُو سے یہ کتنی غلط سطر ہے مگر علم نفسیات اسے درست سطر تسلیم کرتا ہے۔
    اس نے کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا، کبھی بلا اجازت کسی کے گھر نہیں گھسا اور نہ ہی کبھی کسی کے ہا تھ سے کچھ چھینا۔
    ساجد ایک خدا ترس انسان تھا۔ موت تک بادشاہ کے لیے تین وقت کا کھانا اس کے گھر سے جاتا رہا۔ کبھی کبھار اس محلے کی ایک عورت سلامت بی بی بادشاہ کو کھانا بھجواتی ، پیسے دیتی اور کہتی بادشاہ اگر کچھ چاہیے ہو تو لے لیا کرو۔ وہ ان لوگوں سے بھی زیادہ تر ایک جگ پانی مانگنے آتا یا کبھی کبھار روٹی پر رکھ کر کھانے کو اچار۔
    ساجد اور سلامت بی بی سے ملنے والے پیسوں سے بادشاہ عیاشی کرتا۔ ایک سگریٹ کی ڈبی لیتا ایک سادہ کاغذ والا رجسٹر ، ایک بال پوائنٹ اور باقی بچنے والے سارے پیسوں کی ٹافیاں لے لیتا۔ دکان سے اس کے گھر تک کے راستے میں جتنے بچے ملتے وہ سب کو ایک ایک ٹا فی دیتا۔ باقی ٹافیاں وہ مٹھی بھر بھر کے ان گھروں کے صحنوں میں پھینک دیتا، جہاں بچے موجود ہوتے۔ یہ دنیا کا کیسا پاگل تھا۔۔۔۔۔۔ سمجھ سے باہر تھا۔ گھر پہنچ کر وہ سٹیل کے پیالے میں پانی اور پتی ڈال کر چائے بناتا، سگریٹ سلگاتا اور رجسٹر پر حساب کتاب لکھنا شروع کر دیتا۔ دیکھنے والے کہتے تھے کہ وہ ہر وقت صرف لکھتا ہے ، جب وہ گھر میں موجود نہ ہوتا تو بچے جاکر اس کا رجسٹر دیکھتے، ان میں سے جو زیادہ پڑھا لکھا ہوتا وہ کہتا: ’’او دیکھ اوئے! بادشاہ نے ریاضی کے سوال حل کیے ہیں اور سارے کے سارے ٹھیک ہیں ۔‘‘ بچوں کو یہ بات کبھی سمجھ نہ آئی کہ یہ پاگل آخر ریاضی کے سوال کیسے حل کرتا ہے؟
    اس سے متعلق اس طرح کے اور بہت سے معمے تھے، جو بچے کبھی سلجھا نہ سکے، وہ اپنی نوعیت کا ایک مختلف پاگل تھا، جس سے بچے محبت کرتے تھے۔ شاید دنیا کا پہلا اور آخری پاگل تھا جس نے کبھی کسی بچے سے کوئی پتھر نہیں کھایا، کبھی کسی سے گالی نہیں سنی۔ وہ واقعی بادشاہ تھا۔ گائوں کے نشئی اس سے پیسے مانگنے آتے۔ وہ جیب میں ہاتھ ڈالتا جو نکلتا پکڑا دیتا۔
    اور پھر وہ دن آگیا۔۔۔۔۔۔۔ وہ دن جو اس کائنات کے بنانے والے نے ہر انسان پر لازم کر دیا ہے۔ تو ثابت ہوا کہ خوشی بادشاہ جو دنیا کی نظر میں پاگل تھا حقیقت میں ایک انسان تھا۔ گرمیوں کی ایک سہانی صبح ایک بچہ بھاگتا بھاگتا سلامت بی بی کے پاس آیا:
    ’’اماں، اماں! بادشاہ کو کچھ ہوگیا ہے۔ اس کی آنکھیں بند ہیں اور تھوک اس کے منہ سے نکل کے باہر جمع ہوگیا ہے۔‘‘ سلامت بی بی ہاتھ پہ رکھی روٹی بڑھاتے بڑھاتے ٹھہر گئی۔ آٹا گول مول کر کے پرات میں پھینکا۔۔۔ یا اللہ خیر۔۔۔۔
    سلامت بی بی اور اس کا شوہر مشہود احمد بادشاہ کے گھر کی طرف بھاگے۔ جانے رات یا صبح کے کس پہر فرشتہ اجل نے اس کے گھر قدم رکھا تھا۔ بادشاہ کی آنکھیں بند تھیں۔۔۔ کس نے کیں۔۔۔۔ کسی کو معلوم نہیں۔۔۔۔ مشہود احمد نے خود ہی اندازہ لگایا کہ رات کے کسی پہر سوتے میں جان نکل گئی ہے۔ سلامت بی بی رو دی۔ بے چارہ۔۔۔ مر گیا۔
    سلامت بی بی نے بادشاہ کے بڑے بھائی رفیق محمد کو ٹیلی فون پر اطلاع دی۔ ساجد دکھ اور بے بسی سے رو دیا کہ کیوں اطلاع دی؟۔۔ اگر میں ساری عمر اسے کھلا پلا سکتا تھا تو اس کے کفن دفن کا انتظام بھی کر سکتا ہوں۔
    ’’خبردار۔۔ رفیق محمد کو کہہ دو اسے کفن نہ دے۔ آخر اسے اطلاع دی ہی کیوں؟‘‘۔۔ لوگوں نے کہا: ’’چھوڑو یار کیوں چیختے ہو، پاگل تھا، مر گیا۔ بڑا بھائی ہے رفیق محمد۔۔ بتانا ہم محلے والوں کا فرض بنتاتھا۔‘‘
    اور پھر بادشاہ کے بہت سارے رشتے دار اچانک کہیں سے آگئے۔۔۔ بہت سارے۔۔۔ بڑی بڑی گاڑیوں میں۔ محلے میں ہجوم اکٹھا ہو گیا۔ بادشاہ کی میت سلامت بی بی کے گھر رکھی گئی۔ محلے کی عورتوں نے پہلی بار بادشاہ کے رشتے داروں کو دیکھا تو دانتوں تلے انگلیاں داب لیں۔ ایک عورت سے رہا نہ گیا بالآخر طنزیہ بول اُٹھی:۔۔۔ ’’بادشاہ کے رشتے دار اتنے امیر تھے۔۔۔۔ اچھا۔۔۔۔ ہمیں تو آج پتا چلا۔‘‘ گائوں کی عورتیں آپس میں باتیں کرنے لگیں: ’’ان کے زیورات دیکھو، کپڑے دیکھو۔۔۔‘‘ لیکن بادشاہ کی رشتہ دار خاتون نے سنی ان سنی کر کے اپنے بچے کو آواز دی ـ’’ بیٹا باہر جا کر گاڑی دیکھو ٹھیک کھڑی ہے، بچے خراب تو نہیں کر رہے۔‘‘ میلے کچیلے بادشاہ کو اس دن نہلا دُھلا کر نئے کپڑے پہنائے گئے ، دیگیں چڑھیں اورگائوں کی مسجد سے بلند آواز میں اعلان نشر ہوا:
    ’’حضرات ایک ضروری اعلان سماعت فرمائیں۔۔۔۔رفیق محمد کا چھوٹا بھائی خوشی محمد المعروف خوشی بادشاہ جو بچوں میں ٹافیاں تقسیم کرتا تھا بہ قضائے الٰہی انتقال کر گیا ہے۔ اس کی نمازِ جنازہ ابھی کچھ دیر میں، بعد از نمازِ ظہر پڑھائی جائے گی۔ آپ احباب سے شرکت کی اپیل ہے ۔‘‘
    سلامت بی بی کا گھر گائو ں کے بچوں سے بھرا پڑا تھا۔ گلی میں چھوٹے چھوٹے قدموں کی کئی آوازیں تھی۔۔۔۔ ’’ او بادشاہ مر گیا، اوئے تجھے پتا ہے بادشاہ مر گیا۔ ۔۔۔ ‘‘
    محلے کے جوان جنازہ اٹھانے آئے۔۔۔۔ ننھی ننھی آنکھیں اشک بار تھیں ، ’’ادھر آئو بادشاہ کو دیکھ لو۔ وہ رہ گیا اس کو بلائو‘‘۔۔۔ یہ چھوٹے معصوم بچے بادشاہ کے وارث تھے، یہی بادشاہ کے رشتے دار تھے، انہی کا دل مغموم تھا۔ ان کا بادشاہ جو ٹافیوں کی شکل میں ان میں محبتیں بانٹتا تھا، مر چکا تھا۔
    اگلے کئی دن تک گائوں کے بچے بادشاہ کا گھر دیکھنے کے لیے آتے رہے، اس کے مرنے کے اگلے روزایک نوجوان نے بادشاہ کی یاد میں بچوں میں ٹافیاں بانٹیں۔ وہ اس گھر سے بچوں کو ملنے والی آخری ٹافیاں تھیں۔





  • عادت — ثمینہ سیّد

    تیزی سے چلتی گاڑی سست ہونے لگی بالکل غیر ارادی طور پر ٹائر چرچرانے لگے اسٹیرئنگ پہ ہاتھ جم گئے۔ سڑک پر بائیں ہاتھ کھڑی لڑکی، اس کے ہاتھ، نقاب سے جھانکتی اُس کی آنکھیں۔ ’’یہ آنکھیں مَیں کیسے بھول سکتا ہوں بھلا‘‘ زہیر بُڑبُڑایا۔ ’’شاید میرا وہم…‘‘ ’’یہ کیسے ممکن ہے جو مَیں سمجھ رہا ہوں وہ سچ ہو۔‘‘ اس نے گاڑی آگے بڑھانے اور گزر جانے کی پوری کوشش کی مگر گاڑی رُک گئی اور اندھیرے میں کھڑی لڑکی دروازہ کھول کر بیٹھ گئی۔ زُہیر کی رگوں میں خون منجمد ہونے لگا۔ اسے یاد آنے لگا۔ سات سال پہلے بھی اس کی گاڑی ایسے ہی رُکی تھی۔ ایک لڑکی دروازہ کھول کر بیٹھ گئی۔ وہ سمجھ ہی نہ سکا کہ کیا کرے۔ اسے اُتر جانے کا کہے یا آگے بڑھ جائے اور پھر ایک ہی لمحے میں اس کے متجسس ذہن نے فیصلہ کیا کہ وہ اسے گھر لے جائے گا۔
    گاڑی میں غیر معمولی سنّاٹا تھا۔ زُہیر اور اس نامعلوم لڑکی کا ذہن تیزی سے چل رہا تھا مگر دونون بالکل مخالف سمتوںمیں سوچ رہے تھے۔ زُہیر عباس ایک مشہور صحافی تھا۔ بہت پڑھا لکھا اور ذہین نوجوان ماں کے انتقال کے بعد عباس جعفری اور زُہیر دو ہی لوگ ایک بڑے گھر میں رہتے تھے اور کبھی کبھی تو زُہیراکیلا ہی رہ جاتا جب ابا اپنے آبائی گائوں دوستوں، یاروں سے ملنے چلے جاتے تو مہینوں واپس نہ آتے۔ زُہیر نے کبھی محبت نہیں کی تھی۔ وہ بے بسی سے کہتا: ’’مجھے محبت نہیں ہوتی یار‘‘ اسے ساری لڑکیاں عام سی لگتی تھیں اور سڑک کے کنارے کھڑی لڑکی کو گھر لے جانا تو اچنبھے کی بات تھی۔ کوئی دیکھ بھی لیتا تو یقین نہ کرتا۔
    ’’کیا آپ گونگے ہیں؟‘‘ لڑکی نے شوخی سے کہا تو پہلی بار زُہیر نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرانے کی ناکام کوشش کی۔ وہ بہ غور دیکھ رہا تھا لڑکی بہت خوب صورت تھی۔ اتنی کہ گاڑی میں روشنی سی بھر گئی تھی۔
    ’’مَیں زُہیر عباسی ہوں‘‘ زہیر نے تعارف کا مرحلہ طے کیا اور دانستہ اپنا پروفیشن بتانے سے گُریز کیا وہ ادا سے مُسکرائی۔
    ’’میَں نیناں، کام یہی ہے جس پر آن ڈیوٹی ہوں۔‘‘ نیناں کی آواز بھی اُس کے چہرہ کی مانند خوب صورت تھی۔ زہیر کے دل نے اعتراف کیا۔ وہ باہر سڑک پر گرتی، پھیلتی روشنیوں پر نظریں جمائے رہا۔





    ’’کب سے یہ کام کر رہی ہو؟‘‘ زہیر نے سپاٹ لہجے میں پوچھا تو کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔ اس کی بے انتہا دل کش ہنسی کے جل ترنگ بُجھتے رہے تو ہنسی قابو کرتی ہوئی بولی۔
    ’’جب سے ہوش سنبھالا ہے یہی کام کیا ہے۔‘‘
    ’’کچھ پڑھا وڑھا نہیں؟‘‘
    ’’میٹرک کیا تھا۔‘‘ وہ بولی پھر خاموشی فضا میں رقص کرتی جا رہی تھی۔ کافی دیر خاموشی رہی۔ گاڑی چلتی رہی۔ وہ برقعہ اتار کر لپیٹنے لگی پھر پرس اور برقعہ سیٹ پر رکھ کر سیدھی ہو کر ایک ادا سے بیٹھ گئی۔ زُہیر کی طرف ایک دوبار دیکھا وہ بالکل چُپ تھا وہ بھی باہر دیکھنے لگی۔ سڑکیں بھاگ رہی تھیں۔ گاڑی تیز تیز چلتی گھر کے سامنے آ رُکی۔
    ’’کون کون ہے گھر میں؟‘‘ نیناں نے چہک کر پوچھا زہیر اسے دیکھنے لگا۔ اس کا دل و دماغ جھکڑوں کی زد میں تھا۔ ’’مَیں نے ایسا کیوں کیا۔‘‘ بس ایک ہی سوال چیخ چنگھاڑ رہا تھا۔
    ’’چلو آرام سے اندر چلو۔ بس مَیں اور تم دونوں ہی ہوں گے۔‘‘ وہ بہ مشکل کہہ سکا تو وہ کھلکھلا کر ہنسنے لگی۔
    ’’تو ڈر کیوں رہے ہو؟‘‘
    ’’نہیں ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔ مَیں لایا ہوں تمہیں اپنی مرضی سے۔ ‘‘زہیر اس کے ساتھ اندر کی طرف جاتا اور لاک کھولتا بولنے لگا۔ ’’ابا اور مَیں ہوتے ہیں گھر میں۔ ابا گائوں گئے ہیں۔ زمینیں وغیرہ ہیں اور ان کے دوست یار۔‘‘
    ’’زمینوں کا رعب ڈال رہے ہو؟‘‘ نیناں نے ادا سے پوچھا۔
    ’’وہ کیوں تمہیں کیا لینا دینا کسی کی زمینوں سے، تم پر رعب ڈالنے کا فائدہ؟‘‘
    ’’اس لئے کہ میں متاثر ہو جائوں اور پھر تم سے روز روز ملوں۔ لیکن پہلے ہی سن لو میں کسی شخص سے کبھی دوبارہ نہیں ملتی۔ مجھے بالکل شوق نہیں چکر وکر چلانے کا، یا محبت وحبت کرنے کا۔ مَیں تو واقفیت تک کی قائل نہیں ہوں زہیر صاحب!‘‘
    ’’نہیں میرا بھی ایسا کوئی ارادہ نہیں بیوٹی فل۔‘‘ زہیر نے اسے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ خود اے سی آن کیا، پردے برابر کئے سامنے صوفے پر بیٹھ کر جوتے اتارنے لگا۔
    ’’تم آرام سے بیٹھو مَیں فریش ہو کر آتا ہوں، چائے پیو گی یا کافی؟‘‘
    ’’جوس اور پھل فروٹ پوچھتے ہیں لڑکیوں سے جناب‘‘ نیناں اسے دیکھ کر کمینگی سے مسکرا کر بولی توزہیر کو اس سے گھن آنے لگی۔
    ’’پرہیز گار نا بنو بیٹا عمر بھر کی عزت تو دائو پر لگا دی اب…؟‘‘ زہیر نے خود کو لعن طعن کی۔ نیناں اس کے جانے کے بعد گھر کا جائزہ لینے لگی۔ اسے خوشی یا دکھ نہیں ہوتا تھا۔ ہر طرح کے حالات اور لوگ اسے ایک جیسے ہی لگتے تھے۔
    ’’عجیب سڑوسا ہے، شکل سے نیک بھی لگتا ہے، لیکن … لیکن نیک ہوتا تو لڑکی کو گھر کیوں لاتا۔ اس بات کا فیصلہ کرنے کا بھی کوئی آلہ ہونا چاہئے تھا کہ کون نیک ہے اور کتنا؟‘‘
    نیناں چلتے پھرتے سوچ رہی تھی۔
    ’’لو جی یہ شامی کھائو، بوتل پیو، مَیں تو چائے کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔‘‘ زہیر نے مسکرا کر ٹیبل پر پلیٹیں اور گلاس رکھے اور اپنی چائے لے کر بالکل سامنے صوفے پر جا بیٹھا۔
    ’’تم کچھ بنا لیتی ہو؟‘‘ زہیر نے چائے کا گھونٹ گلے سے اتارتے ہوئے بات کا آغاز کیا۔ تو وہ ہنستے ہنستے بولی۔ ’’ہاں، الو…‘‘
    ’’خیر یہ کون جانتا ہے وہ الو بنا رہا ہے کہ بن رہا ہے۔‘‘ زہیر نے اسے گھورا تو وہ سنجیدگی سے اسے دیکھنے لگی۔
    ’’تمہارے خیال میں ہمیں کیا چیز اُلٹے سیدھے کاموں پر اُکساتی ہے۔ ضرورت یا پھر عادت؟‘‘
    ’’تم اتنے سوال کیوں کرتے ہو۔ اخبار والے ہو کیا؟‘‘ نیناں نے گھور کر کہا۔ وہ چُپ رہا تو بولی۔
    ’’زیادہ وقت نہیں ہے ہمارے پاس…‘‘
    ’’کتنا وقت ہے؟‘‘
    ’’جب سے مَیں تمہارے ساتھ ہوں تب سے حساب رکھوں گی۔ چالیس منٹ گزر گئے بس ایک گھنٹہ بیس منٹ ہیں تمہارے پاس۔‘‘
    ’’کافی ہیں۔ تم فکر نہ کرو۔ تمہارا معاوضہ اور وقت دونوں کا خیال رکھا جائے گا۔‘‘
    ’’لوگ ناز نخرے اٹھاتے ہیں۔ مرتے جاتے ہیں کہ وقت کم ہے اور تم …‘‘