Author: misbah116@hotmail.com

  • دل تو بچہ ہے جی — کنیز نور علی

    دل تو بچہ ہے جی — کنیز نور علی

    ی شنو تیری عمر کتنی ہے”
    تارہ نے پوچھا تھا.. اب وہ اتنی قریبی سہیلیاں تو تھیں کہ ایسے ذاتی اور خوفناک سوال بھی پوچھ سکیں۔…. شنو نے تیز نظروں سے تارہ کو دیکھا…….. جیسے کہنا چاہتی ہو "ایسا اپنے فٹے منہ جیسا سوال کر کے تجھے کیا ملنا ہے تارہ”…..مگر ضبط کرتے ہوئے سے بولی: ….” اٹھائیس……..” تارہ نے اس جواب پر اس کو ایک گھوری ڈالی…… شنو سٹپٹائی "دو سالوں سے تو اٹھائیس کی ہی ہے”….. کہہ کر وہ ڈھٹائی سے ہنس پڑی ..اور دہی بھلے کی پلیٹ میں سے آلو چن چن کر کھانے لگی……
    "وہ اپنا ابرار الحق نہیں کہتا کہ سولہ توں اٹھائییاں تک پیار والی رینج اے ………بس اسی لیے اب میں نے اگلے چار پانچ سال اٹھائیس کا ہی رہنا ہے ………” اونچا قہقہہ لگا کر اب شنو نے دہی بھلے کی پلیٹ میں مزید چاٹ مصالحہ چھڑکا…..
    تارہ نے منہ بنایا….. "نا وہ تو یہ بھی کہتا ہے کہ اوور ایج عاشقاں دا اپنا مقام اے ……..”تارہ نے آنکھیں نچا کر کہا تھا۔
    اسے اپنی چالیس کے پیٹے میں جاتی عمر اور پھیلے ہوئے تن وتوش پر شدید غصّہ آتا تھا….. جس کا علاج وہ مزید کھا اور ٹھونس کر کرتی تھی ……….
    "نا اور ایج ہوتی ہے میری جُتی…. میں کیوں ابھی سے ایسے بے برکتے فقرے اپنے لیے بولوں……..” شنو نے جھٹ توبہ توبہ کرتے کانوں کو ہاتھ لگائے….. اور سیون اپ کی بوتل کا بڑا سا گھونٹ بھرا….. وہ دونوں بازار آتے ہی اس دکان میں تارہ کے فیورٹ دہی بھلے کھانے بیٹھ گئی تھیں…..
    تارہ نے دہی بھلے کی دوسری پلیٹ اپنے آگے سرکاتے ہوئے اس کے دبلے وجود کو کھا جانے والی نظروں سے دیکھا تھا…… لیکن پھر وہ جو کہتے ہیں نا کہ "لو گوں کی فکر نا کریں وہ سب مر جائیں گے ” ایسے ہی تارہ بھی خود کو دل میں ایک تھپکی دے رہی تھی کہ اس شنو کی عمر اور جسامت نے بھی آخر بڑھنا ہی ہے …….کیسی بے ڈھنگی لگے گی یہ ……”چھوٹا قد اور موٹی……توبہ توبہ”….. ایسا سوچ کر ہی سینے میں ٹھنڈ پڑ گئی تھی………ایسے میں اُسے اپنی پھیلتی جسامت زرا یاد نہیں رہی تھی…. دہی بھلوں اور بوتلوں سے پیٹ پوجا کرنے کے بعد اب انہیں پورا بازار گھومنا تھا………
    ٭…٭…٭





    شنو اور تارہ کی دوستی فیس بک سے شروع ہوئی تھی…. پھر اتنی اچھی دوست بنیں کہ جب شنو کرائے پر گھر ڈھونڈ رہی تھی تو جھٹ تارہ نے بتایا کہ اس کے محلے میں بلکہ گلی بلکہ عین اس کے گھر کے سامنے والا گھر کرائے کے لیے خالی ہے….” مالکن مکان تھوڑی کپتی ہے، لیکن گھر اچھا ہے شنو آ جا….. قسم سے اکھٹے شاپنگ پر جایا کریں گی…. سموسے کھایا کریں گی…… بڑا مزہ آئے گا” تارہ نے چٹخارہ بھرا تھا……………
    شنو نے جھٹ اپنے گھر والے فرید اور اکلوتے چھے سال کے کاکے کے ساتھ آکر مکان دیکھا اور مالکن مکان خالہ خیرن نے اسے دیکھا……. خالہ کے گلی میں دو گھر تھے ایک میں خود رہتی تھیں اور دوسرا کرائے پر دے رکھا تھا…….خالہ نے بڑی فیملی کو کبھی مکان نہ دیا اور شنو کا گھرانا تو تھا ہی تین افراد کا…. کرایہ خالہ کی مرضی کا تھا اور مکان شنو کو پسند آگیا تھا.. دوسرے ہی دن اپنا سامان سوزوکی میں لدوا وہ تارہ کے سامنے والے گھر میں آگئی……..
    فیس بک پر سٹیٹس لکھا….” شفٹنگ از آمیس فیلنگ ٹائیرڈ……” (اپنی بی اے کی سپلی شدہ انگریزی کو وہ اب دھڑلے سے فیس بک پر چمکاتی تھی…..( بندہ پُچھے کم سارا فرید اور اس کے یاروں نے کیا تھا….. سامان گھسیٹ گھسیٹ کر چُک اس بے چارے کی کمر میں پڑ گئی اور یہ نری برتن ڈبے میں رکھ کر ہی فیلنگ ٹائیرڈ)………………..اس اسٹیٹس پر تارہ نے لائک کر کے ڈھیر سارے کومنٹ کیے…….. دونوں نے مل کر اتنے لطیفے اور چٹکلے چھوڑے کہ وہ پڑھ کر اگلا سارا دن دونوں کی فیس بُکی سہیلیاں جل جل کر کوئلہ ہوتی رہیں ……….
    ٭…٭…٭
    فیس بک دوستی اب ہمسائیگی میں بدلی تو دونوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا…….. اب ہر دوسرے تیسرے دن دونوں بازار کا رُخ کرتیں….. رج کر سموسے، پزا، شوارمے، دہی بھلے اورچاٹیں کھائی جاتیں اور سیل لوٹ کر دونوں گھر آتیں۔ سسرالیوں، رشتے داروں، سہیلیوں کی عیب جوئیاں اور اپنی تعریفیں کر کر کے خوشی کا ایک بے پایاں احساس ساتھ ساتھ رہتا۔
    شروع شروع میں تو محلے والیوں نے خاص نوٹس نہ لیا….. لیکن اب یہ کیا کہ ادھر تارہ ابھی شنو کے ٹیرس پر بیٹھی ہے دونوں باتیں بھگار رہی ہیں …..اور اب دونوں تیار شیار ہو کر کہیں سیر سپاٹے پر نکل کھڑی ہوئیں ہیں……
    تارہ کے ساتھ والی تسکین اس نظارے سے بڑی بد مزہ ہوئی ……اس کو رہ رہ کر جلن ہو رہی تھی کہ یہاں اس سے کوئی سیدھے منہ بات نہیں کرتا,سہیلیاں نری چنگاریاں ہیں جو بات بے بات بھڑک اٹھتی ہیں …کم بختیں واقف بھی سارے رازوں سے ہیں کہ ادھر کوئی دل کی بات وہ اپنی طرف سے "شئیر” کرتی اور اگلی بندی جھٹ طنز کی دال پر بِستی کا تڑکہ لگا کر سامنے رکھ دیتی ….
    فیس بک پر بھی وہ اپنے کاکے کاکیوں کی فوٹویں لگانے اور "واؤ”، "سو کیوٹ” کے کمنٹس لینے کے علاوہ کچھ نہ کر سکی کیوں کہ اس بے چاری کا سارا ٹبر وہاں پایا جاتا تھا.اور کسی انجان کو ایڈ کرنے پر ساری نندیں بہنیں اور کزنیں سیاپا ڈال دیتی تھیں یا….. ساری ہی اس نئی سہیلی کو ایڈ کر لیتیں…… ایسے میں نئی دوستیں کہاں سے بناتی جن سے دل کا بوجھ ہلکا کرتی …..اپنے غم میں ڈوبی وہ اداس اور چڑچڑی سی تھی …..ایسے میں شنو کا سامنے والے گھر آنے پر اس نے کچھ خاص نوٹس نہیں لیا تھا …لیکن تارہ اور شنو کی دوستی ….اور پھر پتا چلا کہ جی یہ تو فیس بک فرینڈز ہیں …..تسکین بڑی غمزدہ ہوئی …پھر ان کے پھیرے سیر سپاٹے ….وہ سوچتی اور کڑھتی: …..’’ادھر تو بسنت بہار چل رہی ہے ہائے ہائے……. کالج کی کڑیوں جیسی انجوائے منٹ”……..
    تارہ اور تسکین کی پرانی محلہ داری تھی۔ زبانیں دونوں کی تلوار تھیں سو آپس میں کبھی بن نہیں پاتی تھی……. فیس بک پر بھی دونوں ایک دوسرے کو دو تین بار ایڈ کرنے کے بعد ان فرینڈ کر چکی تھیں……. ظاہر ہے ایک دوسرے سے کچھ چُھپا ہوا تو تھا نہیں سو ڈینگیں مارنے پر دوسری کے چھوٹے چھوٹے طنز کھٹکتے تھے…….
    کچھ دن تو تسکین نے اس "محبتاں سچیاں پارٹ ٹو” کو دیکھا پھر اسے خیال آیا کہ نئے محلے داروں کی تو دعوت بھی کی جا سکتی ہے……. سو اس نے بریانی اور کھیر بنائی اور لے کر چل دی شنو کے چوبارے…… لیکن وقت کا دھیان پورا رکھا کہ تارہ آکر رنگ میں بھنگ نہ ڈال دے…….
    ٭…٭…٭
    "وہ تارہ باجی نے ذکر کیا تھا تمہارا….. میں نے سوچا اب ذرا ہمسائیوں کو ملنا ملانا ہی چاہیے…..” تسکین نے آنکھیں معصومیت سے پٹپٹاکر مسکراتے ہوئے کہا تھا۔
    شنو نے بریانی کی ڈش اور کھیر کا ڈونگا جھٹ وصول کیا اور تارہ "باجی” سُن کر تو اس کاتراہ ہی نکل گیاتھاجیسے….اس نے سوچا ..” میں آج تک اسے…… یعنی "انہیں” تارہ کیوں کہتی آئی…… جب یہ جو میری آپا لگ رہی ہے اسے باجی کہہ رہی ہے تو میری تو ابھی بالی عمریا ہے……..”
    ایک دوسرے کامکمل مطلوبہ انٹرویو لینے کے بعد اب وہ دل کھول کر ہنس رہی تھیں……. سسرال کی غیبتیں اور فیس بک کی دوستیاں …..پھر اپنے بچوں کی تعریفوں اور اپنے اپنے "ہبی” کے ذکرِ خیر کے بعد تسکین کو یوں لگا جیسے وہ دونوں تو ایک دوسرے کو کب سے جانتی ہیں …دل کا رشتہ ہے…..
    تارہ کی محلے بھر میں کی جانے والی جاسوسی کارروائیاں بتا کر تسکین نے اسے خبردار کیا تھا….. اور شنو نے اسے فیس بک پر ایکٹو رہنے کے انوکھے گر بتائے……گھر جاتے ساتھ ہی تسکین نے پہلا کام نیا اکاؤنٹ بنانے کا کیا تھا….. اور لاگ ان کرتے ساتھ ہی اس نے اپنے سارے خاندان کی اگلی پچھلی سات پشتوں کو بلاک لسٹ میں پھینکا تھا………. اس کے بعد اسے ایسی آزادی کا احساس ہوا جو کبھی کالج میں ہوا کرتی تھی…… کوئی دیکھ نہیں رہا، جو مرضی مذاق کرو….. کوئی زبان نہیں پکڑے گا………
    ٭…٭…٭
    تارہ نے فیس بک کھولی اور یہ کیا…… شنو اینڈ تسکین آر ناؤ فرینڈز…..اس کا دل جل کر کباب ہو گیا…اور یہ کیا…شنو کا اگلا سٹیٹس …جس میں تسکین کو ٹیگ کیا گیا تھا ….
    "یمی ڈیلیشس جسٹ واؤ…….. انجوائینگ بریانی ..تھینکس تسکین ………”
    یہ پڑھ کر تو دل کے ساتھ ساتھ جگر اور پھیپھڑے بھی دھواں چھوڑنے لگے تھے …..جوں جوں وہ ان کی کمنٹس میں ہونے والی گپ شپ پڑھتی جا رہی تھی اس کا سارا پنڈا تپ کر تندور ہوتا گیا…….. تارہ نے سامنے شنو کے چوبارے کی طرف دیکھا…. جیسے وہ سامنے کھڑی ہو گی اور یہ اس کو کھری کھری سنائے گی…….
    "یہ شنو اور تسکین کیسے مل گئیں… بڑی ہی کوئی مگرمچھ ہے یہ تسکینی…… شنو کے ساتھ میری دوستی پر نظر رکھی ہوئی تھی……”
    دو پلیٹیں پلاؤ کی ڈکار کر بھی اُس کا غصّہ ٹھنڈا نہیں ہوا …….. تو پھل کی ٹوکری آگے رکھ لی…. منہ کا ذائقہ بھی تو بدلنا تھا…….
    ٭…٭…٭
    شنو نے کام کاج نپٹائے ….
    "فرید کام پر …کاکا اِن سکول ……فیلنگ الون”
    کا اسٹیٹس لگا کر اس نے سب مارننگ شوز کو ایک ساتھ دیکھا…….. ادھر ایک چینل پر بریک آتی تو دوسرا …..پھر تیسرا……پھر چوتھا..
    پھر واپس پہلا……مارننگ شوز ختم ہوئے تو دوبارہ (repeat) والے ڈرامے چلنے لگے.. اس کے بعد وہ سچ میں بور ہونے لگی تو اٹھ کر تیار ہوئی اور تارہ کی طرف آگئی……..
    ” تارہ باجی…….یہ آپ کے ساتھ والی تسکین کل ملی تھیں…. آپ کی بڑی تعریفیں کر رہی تھیں…….”
    تارہ جو کل سے جلی بھنی بیٹھی تھی اس ” باجی ” کے اچانک ایڈیشن پر سڑ کر سواہ ہوگئی ….اور کڑی نظروں سے شنو کو دیکھا ……..شنو اپنی موج میں تھی …….
    ” کیوں آئی تھی وہ …..” تارہ نے بڑی سنجیدگی سے پوچھا
    "بس ویسے ہی ملنے ملانے …ہمسائیوں کے بھی حقوق ہوتے ہیں ……کہہ رہی تھیں میری طرف آنا”……شنو نے اٹھلا کر کہا ……
    تارہ ذرا رکی تھی……. "دھیان سے….یہ جادو ٹونے بھی کرتی ہے ………..آئندہ ندیدوں کی طرح کوئی چیز کھانے سے پہلے سوچ لیئں شنو…..”
    "ارے تارہ باجی …..ان توہمات پر آپ یقین کرتی ہیں؟…”
    شنو نے تو مانو تارہ کے ساتھ "باجی” کے لاحقے کو فیوی کول سے چپکا دیا تھا ……تارہ کے دل میں ایک گرہ ہی لگ گئی…….
    "یہ باجی باجی کیا لگا رکھی ہے ……..”
    ” جب آپ ٹی کے کی باجی ہیں تو میں کیوں نا کہوں …..میرا زیادہ حق بنتا ہے تارہ باجی .میری تو کوئی بہن بھی نہیں ہے …..”شنو نے بھول پن کی حد کی تھی۔
    "ٹی کے.؟” ……تارہ نے ناسمجھی سے اسے دیکھا …..
    "جی! ٹی کے ….یہ آپ کے ساتھ والی ٹی کے …… تسکین”…… شنو نے بڑی ادا سے اور نخرے سے مسکرائی۔
    "ٹیکے تو واقعی لگنا چاہیں اس میسنی کے ……اس کا تو کبھی گھر والوں نے نک نیم نہیں رکھا…… یہ تمہیں کہاں سے بھا گئی۔” تارہ فل گرم تھی۔
    "بس میری ماما کہتی ہیں شنو تمھاری ہنس مکھ نیچر ہے ہر ایک سے جلدی فرینڈشپ ہو جاتی ہے………” شنو کوئی ڈرتی تھی تارہ سے….. دوستی کی ہے تسکین سے تو ڈنکے کی چوٹ پر بھئی…..
    اس کے بعد تارہ کا دل یوں ٹوٹا جیسے کوفتہ ہانڈی میں ٹوٹ جائے……… شنو کچھ دیر بیٹھی…… اور پھر چل دی….. نہ تارہ نے روکا اور نہ ہی شاپنگ پر… نا شاپنگ پر جانے کے صلاح مشورے ہوئے……نہ کسی کو ڈسکس کرنے کا خیال آیا…….
    ٭…٭…٭
    "ارے ٹی کے تم پر پرپل کلر بہت سوٹ کرتا ہے سویٹی ……”شنو نے آتے ہی کہا….
    تسکین کی بڑے عرصے بعد کسی نے تعریف کی تھی… ایک اتنے وکھرے نک نیم "ٹی کے” کی ہی خوشی کم نہیں تھی۔ اس کا دل تو اُڑنے لگا تھا….. پرانی اداسی تو اب کہیں دور کھڑی تھی……..
    "اچھا شنو ڈئیر اٹھو ہم ابھی بازار جا رہے ہیں چلو …” تسکین نے بڑی ہی دل نشین مُسکراہٹ اور اپنائیت سے کہا اور ساتھ ہی اپنا پرس الماری میں سے نکالنے لگی……
    "کل چلیں گے یار…..” شنو نے صوفے پر پھیل کر بیٹھتے ہوئے سستی سے کہا……
    "زیادہ نخرے نہ دکھا…. اٹھو… تمھیں کب سے سستی ہونے لگی…..” تسکین نے لاڈ کیا تھا…..
    شنو مسکرائی…….
    "بچوں کے گھر آنے سے پہلے واپس بھی آنا ہے ….” تسکین نے یاد لایا تھا……” اٹھو بھی تھوڑا سا ہی کام ہے۔”
    "ایک تو تمہارے پروگرام بہت ہی فاسٹ ہوتے ہیں…… ’’جیو تیز‘‘ ہو پوری”…….. شنو اُٹھ کھڑی ہوئی تھی اور تسکین مسکرائی۔
    "بس میں ایسی ہی ہوں۔” اسے جیسے خود پر پیار آیا تھا ……
    "ہائے یہی تو دل چاہتا تھا میرا…… ہنسی مذاق، موج مستی…..یہ لاڈ نخرے سہیلیوں کے……. اور وہ تارہ عیاشیاں کر رہی تھی اور میں دیکھ دیکھ کُڑھا کرتی تھی…… اب کہاں تارہ…… ڈوب گیا تارہ….. ہاہاہا” بڑی ہی خوشی ہوتی تھی سوچ کر……..
    ٭…٭…٭
    "تارہ باجی…..آج تو میگزین اپ لوڈ ہونا ہے….” شنو نے نمکو کی پلیٹ سے آخری دانے اُٹھاتے ہوئے کہا…..
    آج کچھ دن بعد شنو اور تارہ پھر سے اکٹھی تھیں….. گپیں لگ رہی تھیں…….. تارہ آئی تھی شنو نے چائے بنائی اور اب دونوں نمکو اور بسکٹ کھا کر چائے پی چکی تھیں …..شنو اب تسکین کے ساتھ کافی گھل مل گئی تھی جو تارہ کے لیے ایک دکھ بھری داستان تھی ..
    باتوں کے دوران ہی تارہ نے مشورہ دیا….
    "بڑی پھاپھے کٹنی ہے یہ تسکین بچ کر رہنا…….میں نے تو اسی لیے ان فرینڈ کر دیا تھا ہمسائیگی کا بھی خیال نہیں کرتی یہ تو جس کے پیچھے پڑ جائے ……”
    "جی تارہ باجی بس مجھے لوگوں کی واقعی سمجھ نہیں ہے لیکن احتیاط کروں گی”….. شنو کا بھولپن افف…
    "میں نے تو مخلص دوست بن کر مشورہ دیا ہے آگے تم خود سمجھ دار ہو۔”
    "کہاں تارہ باجی…. میری ماما کہتی ہیں شنو ابھی تک تمھارا بچپنا نہیں گیا۔ تمھاری معصومیت کا لوگ ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں……….” باتیں شنو پہلے بھی ایسے ہی کرتی تھی…. لیکن تارہ کو آج احساس ہو رہا تھا کہ” یہ باندری کتنا بن بن کر بولتی ہے ڈرامے باز "…..
    "خیر شادی ہو گئی بچوں والی بن کر اب کوئی ننھی کاکی تو رہتی نہیں ہے کیا فائدہ خود کو دھوکا دینے کا……. حقیقت پسندی اچھی چیز ہے”……… تارہ نے صاف صاف لتاڑا تھا اسے۔
    "ہاں جی بڑی عمر کے ساتھ بندہ ایسی ہی سیانوں والی باتیں کرنے لگتا ہے …ٹھیک کہا آپ نے تارہ باجی…” شنو نے ریموٹ سے چینل بدلتے ہوئے کہا…. اس کا انداز ایسا تھا جیسے” اب تم دفع ہو جا تارہ باجی…….”
    تارہ نے کھا جانے والی نظروں سے اسے دیکھا اور دل ہی دل میں گالیوں سے نوازا….” اس کمینی کی باتیں صرف اس تسکینی کی خاطر سُننا پڑ رہی ہیں ورنہ اب ملتی تھی شنو سے میری جتی …….”
    تارہ بے چاری نے تو اب شنو کے باجی والے ٹائٹل پر بھی "کمپرومائیز” کرلیا تھا۔
    مجبوری یہ تھی کہ تارہ نہیں چاہتی تھی کہ وہ شنو کی دوستی سے پیچھے ہٹے اور تسکین شنو پرمکمل قبضہ جمالے……..” اور پھر یہ دونوں مل کر مجھ معصوم کو ساڑیں گی….. ناں ناں تسکینو بی بی…. میں تجھے یہ خوشی نہیں دیکھنے دوں گی۔” تارہ نے کڑھتے ہوئے سوچا۔
    سو اب پہلے جیسی بے لوث محبت بھری اپنی بلا وجہ کی تعریفوں اور دوسروں کی غیبتوں سے اٹی گپ شپ میں اک دوجے پر تاک تاک کر اٹیک ہونے لگے تھے……




  • سائبان — محمد عمر حبیب

    ’’گردن کو سیدھا کریںـ۔‘‘
    ’’اوپر دیکھیں۔‘‘
    ’’ہاتھ ذرا گود میں رکھ لیں۔‘‘
    یہ فوٹو گرافر کے الفاظ تھے، جن پر تیزی سے عمل کرتے ہوئے وہ خود کو سیٹ کررہا تھا۔سیاہ کپڑوں میں ملبوس وہ نوجوان خوب بن سنور کے شناختی کارڈ بنوانے کے لیے نادرا کے دفتر آیا تھا۔ بالوں میں تیل اور آنکھوں میں سرمہ خوب نمایاں تھا۔بہ غور جائزہ لیا جاتا تو کھلے گریبان سے نظر آتا پاؤڈر بھی بآسانی دیکھاجا سکتا تھا جو دفتر کے باہر شدید گرمی میں ایک گھنٹے تک طویل قطار میں کھڑے رہنے کے سبب جم کر پلستر کی صورت اختیار کر چکا تھا۔ اس وقت وہ اپنی آنکھیں کیمرے کے لینز کی طرف مرکوز کیے ہوئے تھا۔ آنکھیں تقریباً باہر کو اُبلی ہوئی تھیں، قیاس تھا کہ شاید اس نے زبردستی آنکھیں پھاڑ رکھی ہیں تاکہ کیمرے کی فلیش سے اس کی آنکھیں بند نہ ہو جائیں اور اگر اس کی بند آنکھوں والی تصویر شناختی کارڈ پر آگئی تو اُف۔۔۔اس کے ساتھی تو اسے اندھا اندھا کہہ کر پکارا کریں گے۔اسے یاد ہے کہ یونین کونسل کے انتخابات کے موقع پر ایک لیڈر کے خلاف مخالف پارٹی نے لنگڑا کہہ کہہ کر نعرہ بازی کی تھی کیوں کہ اس نے انتخابی مہم کے دوران تصاویر کھنچواتے ہوئے ایک ٹانگ پر زیادہ زور دے رکھا تھا۔ نوجوان نہیں چاہتا تھا اس کی تصویر میں کوئی ایسا نـُقص ہو جو اس کے لئے ایک پھبتی بن جائے تب ہی تو وہ خوب احتیاط سے بیٹھا تھا۔ ریاضی کے وہ کُلیے جن کے مطابق کسی بھی جسم کا وزن یکساں رکھا جاتا تھا اسے آج اچھی طرح یاد تھے۔حساب اور طبیعیات کے وہ فارمولے خودبہ خود اس کے ذہن میں چلے آرہے تھے، جواس نے کبھی پڑھے بھی نہیں تھے اور جن کی نشان دہی کرنے کے لیے ریاضی دانوں نے مدتیں کھپا دی تھیں۔بلاشبہ اس وقت وہ کسی الخوارزمی سے بھی بڑا ریاضی دان بنا ہوا تھا۔ وہ کچھ دیر بیٹھا رہا، خلاف توقع نہ توکوئی فلیش لائٹ چمکی اور نہ ہی کلک کی آواز آئی ، پھر یکایک فوٹو گرافر نے اسے اُٹھنے کا اشارہ دے دیا۔ وہ حیرت سے کبھی فوٹو گرافر کو دیکھتا، کبھی کیمرے کو اور کبھی خود کو۔ فوٹو گرافر بھی عاجز آگیا۔





    ’’باہر تشریف لے جائیے سرکار۔ لائن میں موجود اگلا شخص اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے۔ــ‘‘
    ’’مگر تم نے تو میری تصویر کھینچی ہی نہیں ۔ کیا تم مجھے الو سمجھتے ہو کہ بغیر تصویر کھینچے ٹرخا دو گے؟ـــ نہ کوئی فلیش، آواز اور نہ تصویر خدا جانے خود بہ خود کیسے کھنچ گئی۔ کیمرہ نہ ہوا کوئی منتر ہو گیا‘‘ نوجوان بپھر ا تو معاملہ مزید بڑھ گیا۔شور و غل بڑھا تو سیکیورٹی گارڈ بھی اندر آگیا۔ اس نے نوجوان کوسمجھا بُجھا کے باہر نکالا اور معاملہ رفع دفع ہوا۔پھر اس نے نوجوان کی رہنمائی ایک اور میز تک کی۔ساتھ ساتھ وہ بتا رہا تھا:
    ’’ارے میاں جدید ٹیکنالوجی آگئی ہے اب تم گھوڑوں اور خچروں والے دور میں نہیں ر ہ رہے ۔ دیکھتے نہیں کہ یہ انگوٹھے کے نشانات لینے کا کیسا جدید بائیو میٹرک سسٹم آگیا ہے۔ نہ روشنائی سے انگوٹھے گندے ہوتے ہیں اور نہ ہی کاغذ پر سیاہی پھیلتی ہے۔ اِدھر تم انگوٹھا سکینر پر رکھتے ہو اور اُدھر اُس کا نشان آناً فاناً کمپیوٹر میں محفوظ ہو جاتا ہے۔ــ‘‘
    نوجوان بھی سر ہلاتا رہا۔مختلف میزوں سے گزرتا ہوا وہ آخر میں ایک ایسے کاؤنٹر کے سامنے جا پہنچا جہاں حتمی معلومات کا اندراج کیا جانا تھا۔ کاؤنٹر کے پیچھے ایک قدرے پست قد کا مالک شخص بیٹھا ہوا تھا۔ جیسے ہی نوجوان کاؤنٹر کے قریب پہنچا تو وہ شخص کھڑا ہو گیا۔
    ’’شکریہ شکریہ بیٹھ جایئے۔ـــ‘‘ نوجوان سمجھا کہ شاید وہ اس کو عزت دینے کے لئے کھڑا ہوا ہے، اس لیے بلاساختہ بول پڑا۔ وہ شخص بھی سمجھ گیاکہ نوجوان نے یہ الفاظ کیوں ادا کیے ہیں، آخر اس کا روز کا کام تھا۔لہٰذا فوراً بولا:
    ’’میں آپ کے استقبال کے لئے نہیں بلکہ اس تصدیق کے لئے کھڑا ہوا تھا کہ آیا آپ ہی وہی آدمی ہیں، جن صاحب کی تصویر مجھ تک پہنچی ہے۔ــ ‘‘ یہ کہتا ہوا وہ شخص اپنی کرسی پر بیٹھ گیا اورنوجوان کھسیانا ہو گیا۔ کوائف کا اندراج ہونے لگا۔
    ’’نام بتائیے۔ــ‘‘اس نے پوچھا۔
    ’’نوید عارف۔ــ‘‘نوجوان نے جواب دیا۔کاؤنٹر کے پیچھے موجود شخص اس کے نام کے ایک ایک حرف کو چبا چبا کر دہرا تے ہوئے ٹائپ کرتا جا رہا تھا۔
    ’’والد کا نام؟ــ‘‘ پوچھا گیا۔ نوید کے چہرے کا رنگ بدلا۔ اس نے چند لمحوں کا وقفہ لیااوربڑی مشکل سے نام لکھوایا۔ اس کے باپ کے نام سُن کر کاؤنٹر کے پیچھے بیٹھا شخص چونکا۔
    ’’کہیں یہ وہی تو نہیں یا …پھر …ہو سکتا ہے کہ کوئی… ہم نام ہے؟‘‘ وہ شخص بُڑبُڑایا اور پھر نوید سے پوچھ ہی بیٹھا:
    ’’کیا یہ پورا نام ہے؟‘‘
    ’’ہاں۔‘‘
    ’’اس سے پہلے عبدالستارتو نہیں آتا؟‘‘ اس شخص کے لہجے میں ہلکے سے تجسس کی لہر نمایاں تھی۔
    نوید نے جواب نہ دیا اور پھر اس کے بیان کردہ نام کا اندراج کر لیا گیا۔
    ’’موجودہ پتا لکھوائیے۔ــ‘‘ اس نے فوراً اس کمرے کا پتا بتایا جو اس نے چار مزدوروں کے ہمراہ کرائے پر لے رکھا تھا۔ یہاں تک تو نوید کسی حد تک مطمئن سا کھڑا تھا مگر کاؤنٹر کے دوسری جانب سے برآمد ہونے والے نئے سوال نے اسے بے چین کر دیا، وہ سوال اس کے لئے کسی دھماکے سے کم ثابت نہ ہوا۔
    ’’مستقل پتا لکھوایئے!‘‘ اسے کہا گیا۔
    ’’مگر میرا تو کوئی مستقل پتا ہے ہی نہیں۔‘‘ اس نے کورا جواب دیا۔
    ’’اپنا نہیں تو والد کا لکھوا دیجیے۔‘‘ ٹھگنے قد کے آدمی نے جواب دیا۔
    ’’والد کا۔۔۔‘‘ یہ الفاظ اس کے دماغ میں ہتھوڑا بن کر برسنے لگے۔ باکل ویسے ہی جس طرح چودہ اگست کی شام کوآپ اپنی گلی سے گزریں اور شرارتی بچے آپ پر کوئی پٹاخہ اچھال پھینکیں جو آپ کے پاؤں تلے آ کر پھٹے اور پھر زمین ہل جائے، کان پھٹ جائیں ۔ اسے زمین گھومتی ہوئی محسوس ہوئی۔ زمین شاید مدار سے نکل چکی تھی اور اب لٹو کی طرح بے ہنگم گھومے چلی جارہی تھی۔اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا سا چھانے لگا تھا، اسے لگا سب کچھ سیاہ ہو گیا ہے، اور زمین بلیک ہول کی طرف کھنچی چلی جارہی ہے۔ سہارا لینے کے لئے اس نے قریب پڑی کرسی کو مضبوطی سے تھام لیا جب کہ کاؤنٹر کے دوسری طرف سے آواز آرہی تھی:
    ’’ جلدی بتائیے، وقت کم ہے۔ـ‘‘ اسے یہ آواز کسی گہری کھائی سے آتی ہوئی معلوم ہوئی۔
    ٭٭٭




  • خسارہ — تشمیم قریشی

    خسارہ — تشمیم قریشی

    کاروبار بُری طرح خسارے میں جارہا تھا اور بینک سے لئے جانے والا قرضہ ادا کرنے کی مدت ختم ہونے والی تھی جب کہ دوسری طرف سرمایہ لگانے والوں کی ایک بڑی تعداد اس کی اپنی برادری کی تھی، جو اپنے اپنے سرمائے پر منافع نہ ملنے پر رقم کی واپسی کا تقاضا کر رہے تھے۔ ان کے دن رات کا سکون برباد ہوچکا تھا اور اس سکون کی بربادی کے ذمہ دار وہ خود تھے۔ پیسہ والے گھر میں شادی ان کی بربادی بنی تھی۔مجتبیٰ زیدی کی بیوی کا انتقال ابھی حال ہی میں بلڈ کینسر کے سبب ہوا تھا۔ ان کے دو بیٹے تھے، جو امریکا میں اپنے ماموں کے پاس زیرِتعلیم تھے۔ وہ حالات سے بالکل مایوس ہوچکے تھے، مایوسی کفر ہوتی ہے اور کفر کا انجام موت ۔
    ’’ڈیفنس میں رہنے والے شخص مجتبیٰ زیدی نے مالی پریشانی سے تنگ آکر خودکشی کرلی۔‘‘
    اگلے دن شہر کے سب سے بڑے نیوز پیپر کی ہیڈلائن میں لگی خبر پڑھتے ہوئے لوگوں کے ذہن میں اُٹھنے والا پہلا سوال یہ تھا کہ جس کی ڈیفنس میں اتنی بڑی کوٹھی ہو اس کو بھلا کیا مالی پریشانی ہوسکتی ہے؟ وہ اتنے لوگوں کا قرضہ اپنے سر پر لے کر مرے تھے کہ ان کے مرنے کے بعد ان کے بیٹے چاہتے تو ڈیفنس والی کوٹھی بیچ کر باپ کا قرضہ اتار سکتے تھے لیکن ایسا نہیں ہوا ۔
    ان کے مرنے کے بعد فیکٹری بینک نے نیلام کی تھی۔ نیلامی میں فیکٹری خریدنے والے بدنصیب آج بھی کورٹ میں پیشیاں بھگتتے پھر رہے ہیں کیوںکہ انہیں فیکٹری کے متنازع ہونے کا علم نہیں تھا۔ اس میں ان سب لوگوں کی ہائے لگی تھی، جن سے سرمایہ کے لئے رقم لی گئی تھی اور یہ فیکٹری کسی کو راس آنے والی نہیں تھی کیوں کہ اس کے باہر سے کچرا اُٹھانے والے جمعدار سے بھی مجتبیٰ زیدی نے منافع کا لالچ دے کر قرضہ کی مد میں ساٹھ ہزار روپے لیے تھے۔





  • موبائل یاریاں — عرشیہ ہاشمی

    موبائل یاریاں — عرشیہ ہاشمی

    ’’ابرار… اٹھ جائو نا اب … کبھی تو وقت پر بات سُن لیا کرو۔‘‘
    امی کوئی پانچ بار اسے آواز دے چکی تھیں وہ موبائل فون پر مسلسل کچھ ٹائپ کرتا رہا اور امی کے کام کو ٹالتا رہا تو وہ سر پر آن پہنچی تھیں۔
    ’’اچھا امی… بتائیں کیا کیا لانا ہے…؟؟ ’’ابرار نے موبائل فون اپنی پینٹ کی جیب میں ڈالتے ہوئے امی سے پوچھا۔
    ’’صبح سے ہزار بار بتا چکی ہوں۔ دھیان کدھر رہتا ہے تمہارا… اور اس فون میں ایسا کیا ہے، جو اس کی جان نہیں چھوڑتے تم؟ امی نے پہلے اُسے ڈانٹا اور پھر اپنی توپوں کا رُخ موبائل فون کی طرف کرلیا۔
    ’’چلیں بتا دیں ناں اب پہلے ہی کافی دیر ہو گئی ہے۔‘‘ موبائل فون کی شامت آنے سے پہلے ہی اس نے بات بدل دی۔
    ٭٭٭٭
    اریبہ کچن میں مصروف تھی۔ پرات میں آٹا نکالنے کے بعد ڈونگے میں پانی ڈالا ہی تھا کہ سیل فون پر وائبریشن ہوئی۔ اس نے پہلے اِردگرد نظر دوڑائی پھر اپنے دوپٹے میں بندھے چھوٹے سے فون کو نکال کر میسج چیک کرنے لگ گئی۔
    ’’گڑیا! کیا کر رہی ہو؟‘‘ میسج پڑھتی اریبہ کے چہرے پر مُسکراہٹ در آئی۔
    ’’بریانی پکا رہی ہوں۔‘‘ اس نے تیزی سے بٹن پریس کرتے ہوئے جواب ٹائپ کیا۔
    ’’اپنا ہاتھ نہ جلا دینا۔ دھیان سے پکانا گڑیا۔‘‘ جھٹ سے جواب آن پہنچا جسے پڑھ کر اریبہ ایک بار پھر مسکرا دی۔
    ’’اتنا خیال ہے اسے میرا… ایک ہماری اماں ہیں، جن کو اپنی بیٹی کا ذرا بھی خیال نہیں۔ اتنی گرمی میں کچن میں لاکھڑا کیا اماں نے۔‘‘ موبائل فون کو واپس اپنے دوپٹے سے باندھتے ہوئے وہ سوچنے لگی۔
    ٭٭٭٭





    ’’تمہیںڈر نہیں لگتا اریبہ… تم نے گھر والوں سے چھپ کر موبائل فون رکھا ہوا ہے تو…؟؟‘‘
    ’’ڈر کیسا میری جان… یہ مائیں ناں بڑی سادہ ہوتی ہیں اور اولاد… بڑی چالاک… اماں کی نظروں میں کبھی میرا موبائل فون نہیں آئے گا۔‘‘ اس نے آنکھیں چلائی۔
    ’’کبھی پردہ اُٹھ بھی تو سکتا ہے اریبہ… تمہاری اماں کو کتنا دکھ ہو گا جب انہیں یہ سب پتا چلے گا۔‘‘ اس کی کلاس فیلو اور پڑوسی نائلہ نے اُسے آنے والے وقت سے ڈرانا چاہا۔
    ’’ایسا کبھی نہیں ہو گا نائلہ… اور میں کون سا ہمیشہ موبائل رکھوں گی۔ یہ تو کچھ وقت گزاری کے لیے رکھا ہے۔‘‘
    ’’کچھ بھی ہویہ غلط ہے۔‘‘
    ’’بس بس… اب تم اماں بننے کی کوشش مت کرو۔‘‘ نائلہ ابھی مزید کچھ کہنا چاہتی تھی لیکن اریبہ نے ہاتھ بلند کرتے ہوئے اُسے وہیں روک دیا۔
    ٭٭٭٭
    مسز احمد مہینے بھر کی دالیں صاف کر کے پلاسٹک کے بڑے بڑے جارز میں ڈالتی جا رہی تھیں۔ ابھی تقریباً آدھا کام باقی تھا۔ ابھی انہوں نے خشک دھنیا اور گرم مصالحے ٹرے میں نکال کر اُسے صاف کرنا چاہا کہ ڈیجیٹل فون کی گھنٹی بجنے لگی۔ وہ اپنا کام ادھورا چھوڑ کر فون کی طرف چلی گئیں۔
    ’’ہیلو‘‘ انہوں نے تقریباً پانچویں گھنٹی پر فون اُٹھایا تھا۔
    ’’جی‘‘
    ’’بات کیا ہے آپ صاف صاف بتائیں۔‘‘ فون کے دوسری جانب شاید کوئی غیر معمولی بات تھی۔ ان کے تاثرات میں پریشانی اور پھر غصہ واضح نظر آنے لگا تھا۔
    ’’میر ابیٹا ایسا نہیں ہے۔ میں اپنے بیٹے کو آپ سے زیادہ جانتی ہوں… خبردار جو آپ نے اب ابرار پر کوئی الزام لگایا۔‘‘ وہ غصے سے مخاطب پر برس پڑیں تھیں۔
    ’’ارے… آپ اپنی بیٹی کو سنبھال کر رکھیں۔ غیر مردوں کو ورغلانے کے لیے بیٹی نے ٹھیکا لے رکھا ہے اور ماں باپ ہیں کہ دوسروں کے شریف لڑکوں پر الزام دھرنے پہنچ جاتے ہیں۔‘‘ غصے میں انہوں نے جواب دیا اور فون کا ریسیو کریڈل پر رکھ دیا۔
    ’’حد ہوتی ہے بے حیائی کی… اپنی بیٹیاں تو سنبھالی نہیں جاتیں الزام لڑکوں پر دھر دیتے ہیں۔‘‘ انہوں نے باقی ماندہ کام نمٹاتے ہوتے خود کلامی کی۔ اب وہ دل ہی دل میں اس لڑکی کو کوسے جا رہی تھیں، جس کے موبائل سے ابرار کے میسجز پکڑے گئے تھے۔ پھر کچھ خیال آیا تو سیڑھیاں چڑھ کر اوپر اس کے کمرے میں جا پہنچیں۔
    ’’ابرار‘‘دروازے کے اندر قدم رکھتے ہی انہوں نے ابرار کو مخاطب کیا تو موبائل فون پر میسج کرتا ہوا ابرار اماں کی اچانک آمد پر بوکھلا اُٹھا۔ لیکن جلد ہی اپنی بوکھلاہٹ پر قابو پالیا۔
    ’’جی امی… آئیں ناں‘‘ موبائل فون کو دھیرے سے سرہانے کے نیچے سرکاتے فرماںبرداری سے اُس نے امی کی بات کاجواب دیا۔
    ’’یہ عاصمہ کون ہے…؟؟‘‘ ماتھے پر شکنیں ڈالتے ہوئے مسز احمد نے ابرار سے ڈائریکٹ اُس لڑکی کے بارے میں پوچھ لیا۔
    ’’عاصمہ کون عاصمہ…؟؟ مجھے کیا پتا کون ہے یہ عاصمہ میں تو نام ہی پہلی بار سن رہا ہوں‘‘ وہ اَن جان بن کر حیرت سے اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا۔
    اُس کی اس لاتعلقی اور لا علمی پر مسز احمد کے دل کو سکون سا ملا تھا۔
    ’’خوامخوا میرے بیٹے پر الزام دھر دیا۔ یہ تو اس کو جانتا بھی نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے دل ہی دل میں الزام لگانے والے کو بُرا بھلا کہا۔
    ’’کچھ نہیں بیٹا… پتا نہیں کون ہے یہ عاصمہ تم اپنا کام کرو۔‘‘ مسز احمد بات کو ٹالتی ہوئی واپس نیچے چلی گئیں۔
    ٭٭٭٭




  • لاپتا — سندس جبین

    جب سے ہادیہ سات سال کی ہوئی وہ اُس کے بارے میں بہت زیادہ محتاط ہو گئی تھی۔ ہر وقت دھیان رکھتی کہ وہ کہاں آجا رہی ہے۔ وہ کوئی چیز یا سودا سلف وغیرہ لینے قریبی دُکان پر بھی چلی جاتی تو صبیحہ کی تو جان حلق میں اٹک جاتی وہ دروازے کے ساتھ لگی رہتی جب تک کہ وہ واپس نہ آتی۔ ساس نے ٹوکا: ’’اتنا پریشان مت ہوا کرو اور بھی تو بچے باہر نکلتے ہیں۔ ابھی سے اپنا یہ حال کر لوگی تو آگے کیا ہو گا؟بچی ہے کل کلاں کو سکول کالج بھی تو جائے گی۔‘‘ وہ ساس کی بات سُن کر دل میں کہتی۔
    اماں! آپ تو پرانے زمانے میں رہ رہی ہیں۔ آپ کو کیا پتا آج کل کیسے کیسے غلیظ اور روح فرسا واقعات پیش آتے ہیں۔ ایسے ایسے بے رو ح اور بے ضمیر انسان جو بھیڑیئے کی مانند گھات لگا کر بیٹھے ہوں اُن کا کیا پتا؟ کسی کی شکل پہ تھوڑی لکھا ہوتا ہے کہ وہ کس مزاج اور فطرت کا ہے۔‘‘ وہ بُڑ بُڑاتی ہوئی اندر چلی آتی۔
    دور کیسا جا رہا ہے؟ آئے دن ٹی وی پہ نیوز الرٹ کے نام پر چلنے والی خبریں اُس کا خون خشک کیے دیتیں۔ محلے میں بھی وہ ہادیہ کو صرف اُنہی دکان داروں کے پاس بھیجتی تھی، جن کے بارے میں اُسے مکمل اعتماد تھا اور دوسرے وہ کافی پرانی جان پہچان والے تھے۔ برسوں کا ساتھ ہونے کی بنا پر ہی ارشد بھی اُسے یقین دلاتے تھے۔
    ’’صبیحہ! گلی میں جو دُکانیں ہیں وہاں بھیجنے میں کوئی حرج نہیں۔ وہ سب تقریباً ہمارے خاندان کی ہیں۔ سالوں سے یہاں ہیں، بال بچے دار ہیں۔ بھروسہ رکھو اللہ پہ اور دوسری بات میں خود بھی کوشش کروں گا کہ تمہیں ہفتہ وار سودا سلف لا دیا کروں تاکہ تمہیں کسی اور کو دکان پر نہ بھیجنا پڑے۔‘‘ ارشد کے کہنے پہ اُس نے سُکھ کا سانس لیا تھا۔
    ہادیہ اُس کی اکلوتی بیٹی تھی جو اُس نے بڑی دعائوں، منتوں مرادوں کے بعد پائی تھی۔ شاید اسی بنا پر وہ اس کے بارے میں اس قدرے حساس تھی۔ بہرحال اب اُسے سودے کا تو سکون مل گیا مگر ہادیہ ایک بچی تھی اُسے بھی دوسرے بچوں کی طرح ماں سے دس بیس روپے لے کر بسکٹس اور چپس کھانے کی عادت تھی۔ اس کے ایک دوبار کے پھیرے پہ صبیحہ کو بھی اعتراض نہ تھا۔





    وہ شاپر بھر کے سلانٹی، ٹافیاں، چپس اور چیونگم لے آتی اور بچوں کے ساتھ کھیلتی ہوئی کھاتی رہتی۔ یوں صبیحہ کے دن پُرسکون کٹنے لگے مگر زیادہ دن نہیں گزرے تھے کہ پُرسکون ندی میں ’’نئے دکان دار‘‘ کا کنکر آگرا۔
    اُن کے گھر سے تین گھر چھوڑ کر قاضی صاحب رہتے تھے اُن کے دونوں بیٹوں کے بیرونِ ملک چلے جانے کے بعد جب اُن کے ہاں ڈالرز کی بارش شروع ہوئی تو اُن کو ایک چھوٹے سے محلے میں موجود اپنا گھر گھٹن زدہمحسوس ہونے لگا۔ انہوں نے بہتر سمجھا کہ کسی نئی شروع ہونے والی ہائوسنگ سکیم میں شفٹ ہوا جائے۔ یوں اُن کے جانے کے بعد اُن کا مکان ایک میاں بیوی نے خرید لیا تھا۔ اُس آدمی نے بیٹھک میں چھوٹی سی پرچون کی دکان کھول لی۔
    اور یوں ہادیہ اب گلی کے کونے پہ جانے کی بہ جائے اُسی کریانے والے سے چیز لے آتی۔ اُس کے پاس بڑی مضبوط وجہ تھی۔ اُسے دور نہیں جانا پڑتا تھا۔ صبیحہ کو پتا چلا تو اوّل اوّل تو وہ فکر مند ہوئی مگر بعد میں اُس نے ارشد کو بتایا جنہوں نے حسبِ عادت اُسے تسلی دی کہ یہ قریب کی تو دُکان ہے اور وہ شریف آدمی ہے، ڈاڑھی رکھی ہوئی ہے، نماز پنج گانہ کا عادی ہے اور سب سے بڑھ کر وہ بھروسے کے آدمی کے توسط سے یہاں شفٹ ہوئے ہیں اس لئے یہ ممکن ہی نہیں کہ وہ غلط لوگ ہوں۔ اُن کی جانب سے ان دلاسوں کو سننے کے بعد وہ جواباً خاموش رہ گئی مگر درِ پردہ دل ہی دل میں اُس نے سوچا کہ ارشد کو کیا پتا؟ وہ تو سیدھے سادھے انسان تھے۔ جو اپنے اپنے کام سے کام رکھتے تھے۔ ٹی وی پر ایسی نیوز کتنی عام تھیں جن میں ایسے بہ ظاہر مظلوم نظر آنے والے اشخاص نہایت گھنائونے جرائم میں ملوث پائے گئے تھے۔
    اس بات کے لیے اُس نے یہ ترکیب نکالی کہ ہادیہ کو نزدیکی دُکان پر بھی تنہا نہ بھیجتی بلکہ ہمیشہ محلے کی کسی بچی کے ساتھ بھیجتی جس کی وجہ سے وہ کافی مطمئن بھی رہتی تھی۔
    اور یہ کافی دن بعد کی بات تھی جب ہادیہ دادی سے پیسے لے کر باہر نکل گئی، کپڑے دھوتے ہوئے صبیحہ کو ایک دم سے گھر میں غیر معمولی خاموشی کا احساس ہوا۔ اُس نے اِدھر اُدھر دیکھا تو ہلکی دھوپ میں اماں اونگھتی نظر آئیں، اُس نے ہاتھ روک کر ہادیہ کو آواز دی مگر جواب میں صرف خاموشی تھی۔ دو تین بار آواز دینے کے بعد اُس نے ہاتھ دھوئے اور تیزی سے صحن کی طرف آئی جو کہ خالی تھا۔ اُسے کچھ پریشانی سی ہوئی۔
    گھبرا کر واپس پلٹی اور تار پر لٹکا دوپٹہ اوڑھا اور گلی کے دروازے تک آگئی۔ ایک پٹ کھول کر جھانکا تو گلی خالی دیکھ کر اُس کا دل دَھک سے رہ گیا۔
    ’’اماں! ہادیہ کدھر ہے؟‘‘ اُس نے دروازے سے پلٹ کر تخت پوش پر لیٹی اماں کو جھنجھوڑا۔ وہ ہڑ بڑا کر جاگ اٹھیں۔
    ’’کیا ہوا؟ کیا بات ہے؟‘‘ اُن کی آواز میں تشویش تھی۔
    صبیحہ نے حواس باختگی کی حالت میں انہیں ہادیہ کی گم شدگی کا بتایا تو وہ بھی پریشان ہو گئیں۔
    ’’تم نے ساتھ والوں کے گھر دیکھا؟ انہوں نے فوراً پوچھا کیوں کہ ہادیہ عام طور پر اُنہی کے گھر کھیلنے کے لیے جایا کرتی تھی۔ صبیحہ نے انکار میں سر ہلایا تو وہ اُٹھ کر چپل پہننے لگیں پھر جیسے ہی وہ دروازے کے پار پہنچ کر باہر نکلیں۔ صبیحہ بھی دروازے سے لگ کر انہیں دیکھنے لگی۔ کچھ دیر بعد اماں وہاں سے نکلیں تو چہرہ اُترا ہوا اور مزید پریشان تھا۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ ناکام لوٹیں ۔ اُس کی بیٹی وہاں نہیں تھی۔
    صبیحہ کا رنگ اُڑ گیا۔
    ’’تم پریشان مت ہو بہو! میں باقی گھروں میں بھی دیکھتی ہوں۔ کہیں نہیںجاتی وہ اِدھر ہی کہیں ہو گی۔ ‘‘ وہ اُسے تسلی دیتی آگے بڑھ کر دوسرے ہمسائے کا دروازہ بجانے لگیں۔
    اور پھر ایک کے بعد ایک گھر دیکھنے کے باوجود جب ناکامی کا سامنا کرنا پڑا تو صبیحہ کے پیروں کے نیچے سے زمین نکل گئی۔ وہ دیوانہ وار فون کی طرف لپکی اور ارشد کو فون ملایا۔ رو رو کر اُنہیں ساری بات بتاتے ہوئے وہ نڈھال ہو رہی تھی۔ ارشد کے بھی ہاتھ پیر پھول گئے۔ اُس نے آنے کا کہہ کر فون بند کر دیا۔ بے چاری ساس بہو پریشان بیٹھی تھیں، جس لمحے ارشد نے دروازے سے اندر قدم رکھا، تب تک صبیحہ تقریباً بے ہوش ہونے والی تھی۔
    ’’ارشد!‘‘ وہ روتے ہوئے اُس کی جانب لپکی… ’’میری بچی‘‘۔ وہ سسکیاں بھرنے لگی۔
    ’’صبیحہ! مت پریشان ہو۔ میں دیکھتا ہوں۔‘‘ اُس نے اپنی پریشانی اور اضطراب چھپا کر کہا اور باہر نکل گیا۔
    ارشد پریشان سا گلی میں کھڑا تھا۔ کہاں جائے؟ کہاں سے شروع کرے؟ پوری گلی تو اماں دیکھ چکی تھیں… اب کدھر دیکھے؟؟؟
    وہ اُلجھن میں چند قدم آگے آیا جب اُس نے دیکھا کہ قاضی صاحب والے مکان میں بنی دُکان کا شٹر آدھا گرا ہوا تھا۔ اُسے کچھ عجیب سا لگا۔ ابھی ظہر کا وقت نہیں تھا پھر شٹر گرانے کا مقصد ؟؟ وہ ایک نامعلوم تجسّس سے بندھا اس کی جانب بڑھا اور اُن کے دروازے پر دستک دی۔ کوئی جواب نہ تھا… دوسری دستک ذرا تیز تھی۔
    اور پھر یک لخت اُسے ہلچل سی محسوس ہوئی۔ اندر سے دو افراد کی تیزتیز آوازیں آنے لگیں۔ ارشد کی بے چینی بڑھ گئی۔ اُس نے اس بار بُری طرح سے دروازہ دھڑ دھڑایا ۔ چند لمحوں بعد دروازہ کھلا اور ایک باریش آدمی باہر نکلا… جو بہت حواس باختہ نظر آتا تھا اور ارشد کو دیکھتے ہی ایک لمحے اُس کا رنگ فق ہوا ۔ اب تو ارشد کو یقین ہو گیا کہ لازماً کوئی گڑبڑ تھی۔
    ’’میری بیٹی… ہادیہ… اِدھر تو نہیں آئی؟‘‘ اُس نے اتنی بلند آواز میں پوچھا کہ اگر ہادیہ اندر ہو بھی تو اُس کی آواز سن لے اور شائد یہ اُس کی خوش قسمتی تھی کہ واقعتا ہادیہ نے اُس کی آواز سن لی تھی۔ وہ کہیں اندر سے بولی : ’’ابو! میں اِدھر ہوں۔‘‘ ہادیہ کی معصوم آواز نے اُس کے اندر بجلی سی بھر دی وہ بے ساختہ اندر بڑھا اور اُس آدمی کو دھکا دے گھر میں گھس گیا۔
    مگر ایک لمحے اُسے رُک جانا پڑا… منظر ہی ایسا تھا۔
    سامنے بچھی چار پائی پر ایک بجھی آنکھوں والی عورت ہادیہ کے ننھے ننھے ہاتھوں میں چوڑیا ں پہنا رہی تھی اور اُس کے گرد کھانے پینے والی چیزوں کا انبار لگا تھا۔
    ارشد کا ذہن جھنجھنا کر رہ گیا۔
    اُسے جیسے اس سارے منظر کی سمجھ ہی نہ آئی تھی۔
    وہ باریش آدمی اُس کے قریب آیا اور التجائیہ انداز میں اُس کا بازو تھام کر گویا ہوا تھا۔
    ’’بھائی صاحب! میری بات سُنیے، غلط مت سمجھیے گا۔ جیسا آپ سوچ رہے ہیں ویسا کچھ نہیں ہے میں آپ کو سب سچ بتاتا ہوں‘‘ اور ارشد نے اُس کے چہرے کو دیکھا تو وہاں انتہا ئی بے چارگی اور لجاجت تھی۔
    اور جو بات ارشد کو پتا چلی وہ کچھ اس طرح تھی۔
    ’’فرحان اور سکینہ کی شادی کے تین سال بعد اُن کے ہاں اقراء پیدا ہوئی تو اُس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔ اپنی پہلی اولاد کو انہوں نے بہت نازوں سے پالا… جب وہ چار سال کی ہوئی تو اسے سکول میں داخل کروا دیا گیا۔ خدا کا کرنا ایسا ہوا کہ اُس کے بعد اُن کے ہاں مزید اولاد نہ ہوئی تو اُن کی نگاہ کا مرکز صرف اور صرف اقراء ہی بن کر رہ گئی۔
    مگر پھر ایک دن ساتھ والی گلی میں موجود اسکول سے اقراء واپس گھر نہ لوٹی ۔
    ہر جگہ اعلانات کروائے، ٹی وی پر اشتہار ات دیئے گیے، اعلانات کروائے، پولیس میں رپورٹ کی مگر اُسے لاپتا ہوئے آج تین سال ہونے کو آئے تھے۔
    فرحان کی بیوی سکینہ کو ہر بچی اپنی اقراء لگتی وہ اُسے پیار کرنے کو لپکتی… ایسے میں ہادیہ دُکان پہ کوئی چیز لینے آئی تو اُس سے رہا نہ گیا… وہ اُسے اندر لے آئی… جب کہ فرحان اُسے سمجھا رہا تھا کہ بچی کو جانے دو اُس کی ماں پریشان ہو رہی ہو گی، اسی اثناء میں ارشد خود وہاں آگیا۔
    ارشد مائوف ذہن کے ساتھ یہ کہانی سنتا رہا اور مظلوم فرحان اپنے آنسو چھپا رہا تھا۔
    چار پائی پر موجود فرحان کی بیوی سکینہ ہادیہ کی دونوں کلائیوں میں چوڑیاں پہنا چکی تھی۔

    ٭٭٭٭




  • کرم جلی — فرح بھٹّو

    کرم جلی — فرح بھٹّو

    ’’آپ کو اپنی بیوی کی جان لینی ہے کیا؟‘‘
    لیڈی ڈاکٹر نے رضیہ کا مکمل چیک اپ کرنے کے بعد مبشر کو اندر کمرے میں بلایا۔
    اور عینک کی اوٹ سے مبشر کو کڑی نظروں سے گھورتے ہوئے بولی۔
    مبشر نے پہلو بدلا-
    ’’آپ کی مسز میں خون کی بے حد کمی ہے اور بھی کئی پیچیدگیاں ہیں۔ پانچواں حمل کسی طور مناسب نہیں تھا، جب کہ بچے بھی بڑے آپریشن سے ہوتے ہوں۔‘‘
    لیڈی ڈاکٹر کا سخت لہجہ مبشر کو خون کے گھونٹ بھرتے ہوئے سہنا پڑا۔ اس کے گھر کی کوئی عورت ایسے لہجے میں بات کرتی تو اس کی زبان گدی سے پکڑ کر باہر کھینچ لیتا ۔
    اس نے غصیلی نظر اپنی بیوی رضیہ پر ڈالی جو کالا نقاب لیے سر جھکا کر بیٹھی تھی۔
    ’’آپریشن کا ٹنٹنا نہ ہوتا تو گائوں کی دائی رحیمہ سے بھی کیس کروایا جاسکتا تھا۔‘‘
    مبشر نے رومال کندھے پر ڈالتے سوچا۔
    ’’اولاد اللہ کی رضا سے ہوتی ہے بیٹا ہو یا بیٹی۔ اس میں عورت کا کوئی قصور نہیں، لیکن تم لوگ یہ بات نہیں سمجھتے۔‘‘
    لیڈی ڈاکٹر نے مزید جلتی پر تیل چھڑکا ،اس بار مبشر بھڑک اٹھا۔
    ’’بات سُن بی بی! میں نے ادھر پیسے چیک اپ کے لئے جمع کروائے ہیں۔ مشورے سننے کے لئے نہیں ۔‘‘
    مبشر نے اتنا ہی کہا تھا کہ لیڈی ڈاکٹر اپنی سیٹ سے ایک دم کھڑی ہوگئی۔
    ’’اجڈ اور جاہل ہو تم لوگ ۔ عورت کو بچے پیدا کرنے کی مشین سمجھ رکھا ہے۔ فوراً نکلو یہاں سے! میں یہ کیس لینا بھی نہیں چاہتی جس میں تم نے بیوی کو مارنے کی پوری پلاننگ کر رکھی ہے۔‘‘
    ڈاکٹر نے بیل بجائی تو چپراسی دوڑا آیا۔
    ’’چل اٹھ اب منہ کیا دیکھ رہی ہے؟ اور بے عزتی کروانی ہے۔‘‘
    مبشر نے رضیہ کو بازو سے پکڑ کر کھڑا کیا اور تن فن کرتا باہر لپکا، ساتھ رضیہ بھی گھسٹتی جارہی تھی۔ ڈاکٹر کا نسخہ بھی ہاتھ سے چھوٹ کر گر پڑا تھا۔
    ٭٭٭٭





    سنبھال اس کو اماں۔ آج اس نے ڈاکٹرنی کے سامنے میری بے عزتی کروائی ہے۔‘‘
    گھر میں آتے ہی مبشر نے رضیہ کو زور دار قسم کا دھکا دیا تو وہ صحن کے بیچوں بیچ رکھی چارپائی سے جا ٹکرائی۔ ہاتھوں سے اگر چارپائی کا پایا نہ پکڑتی تو زمین پر گرتی مگر چوٹ پیٹ پر لگی۔
    دھکا لگنے کے سبب پیٹ میں موجود سانس لیتی جان مچھلی کی طرح تڑپ اُٹھی۔
    رضیہ وہیں لکڑی کے پائے کے ساتھ فرش پر بیٹھ گئی۔
    ’’کیا کردیا اس کرموں جلی نے؟‘‘
    اماں جو اسی چارپائی پر پیر لٹکائے بیٹھی تھیں، تنّفر سے پوچھنے لگیں۔
    ’’جب سے بیاہ کر آئی ہے کبھی سر اونچا بھی کیا ہے میرا ؟
    ہمیشہ بے عزتی کروائی ہے ۔‘‘ وہ منہ پھلا کر ماں کے برابر جا بیٹھا۔
    ’’ہک ہا،کیا کیا ارمان لے کر تیرا ویاہ اس کرم جلی سے کروایا تھا۔ کیا خبر تھی میرے لعل کو کم بخت جوانی میں ہی بوڑھا کردے گی۔ چار چار ڈائنیں پیدا کرکے،برادری میں ہماری گردن جھکا دی…قطار لگا دی لڑکیوں کی۔‘‘ اماں نے پیر سے رضیہ کو ٹھڈا مارا۔
    ’’اتنے پیسے خرچ کرکے اس کا آپریشن کرواتے ہیں۔ گھر لے کر آتی ہے منہ کی کالک۔‘‘
    ’’آس پڑوس کی عورتیں ہنسا کرتی ہیں کہ بھئی ہم نے تو دائیوں کے ہاتھوں جنے وہ بھی شہزادوں جیسے لعل اور تیری بہو اتنے روپے خرچ کرواکر سوکھی سڑی کڑیاںساتھ لاتی ہے ۔‘‘
    اماں سرد آہیں بھرنے لگی۔
    ’’اماں اس بار اگر لڑکا نہ ہوا تو دیکھنا کیسے اس کو دھکے مار کر گھر سے نکالتا ہوں۔ حاجرہ ویسے بھی میرے ساتھ نکاح کو ترس رہی ہے مگر تیری چاہت تھی کہ اپنی بہن کی بیٹی لانی ہے۔‘‘
    مبشر نے اپنے آئندہ لائحہ عمل سے آگاہ کیا تو رضیہ کا دل بیٹھ گیا۔ اسی دن کے خوف سے تو اس نے اپنے لاغر اور ناتواں وجود کو پانچویں بچے کے لئے آمادہ کیا تھا ورنہ تو اس میں تنکا اٹھانے کی بھی سکت نہ رہی تھی۔ پہ در پہ ضائع ہوتے حمل جب ٹھہرتے تو لڑکے کی اُمید بندھ جاتی لیکن پھر بھی لڑکی کا منہ دیکھنا پڑتا تھا۔ ایک لڑکی ہوتی تو پیچھے دو حمل ضائع ہوجاتے، علاج کون کرواتا یہی سلسلہ چلتا رہا۔
    ضائع ہونے والے حمل پر ساس دوہتھڑے سینے پر مار کر کہتی۔
    ’’ہائے ڈائن… جان کر لڑکے پیٹ میں مار دیتی ہے تاکہ میرے بیٹے کی نسل نہ چل سکے۔‘‘
    وہ عقل سے بالاتر الزامات لگایا کرتی تھی اور رضیہ سر جھکائے لعن طعن سہتی رہتی۔
    ٭٭٭٭
    ’’اے میرے اللہ! مجھے اس بار بیٹا دے دے… میری لاج رکھ لے۔‘‘
    رضیہ مصلّہ بچھائے، ہاتھ اٹھائے دعائوں میں مصروف تھی۔
    تھوڑی دور کھیلتی تینوں بچیوں نے بھی ہاتھ اٹھا کر بھائی کے لیے دعا مانگی۔ چھوٹی والی دو برس کی تھی، شعور رکھتی تو وہ بھی ہاتھ اُٹھا لتی کہ رضیہ اور بچیوں کو اپنی جان کی امان اسی صورت میں ملنی تھی جب ان کے ہاں لڑکے کی آمد ہوتی بہ صورت دیگر ماں کے ساتھ باپ اور دادی کا ناروا سلوک ان کے سامنے تھا۔ خیر بخشتی تو دادی ان کو بھی نہ تھی ہر بچی کو ’’کرم جلی‘‘ کے نام سے پکارتیں، اب تو رضیہ بھی اپنی بیٹیوں کے اصل نام بھول چکی تھی۔
    ٭٭٭٭
    پھر آخر کار شہر کے ایک سرکاری اسپتال میں رضیہ کو دردزہ سے تڑپتے لایا گیا۔ ساس وہیں برآمدے کے ایک کونے میں مصلّہ بچھا کر بیٹھ گئی اور رو رو کر اتنی رِقت سے دعا مانگنے لگی کہ پاس سے گزرتے لوگ اور نرسیں دل میں اس مریضہ کو خوش قسمت گرداننے لگے، جس کی خاطر یہ معمر عورت بے چین ہوکر خدا سے التجائیں کر رہی تھی ۔
    ’’اور دلوں کا حال تو اللہ ہی جانتا ہے ۔‘‘
    مبشر بھی آپریشن تھیٹر کے باہر ٹہل رہا تھا۔
    اتنے میں ایک نرس آپریشن تھیٹر کا دروازہ کھول کر باہر آئی اور پوچھا۔
    ’’رضیہ مبشر کے شوہر آپ ہیں۔‘‘
    ’’جی میں ہوں۔‘‘
    مبشر دوڑ کر آیا۔
    ’’کیا ہوا ہے بیٹی یا بیٹا؟‘‘
    وہ اشتیاق سے پوچھنے لگا۔
    ’’جی بیٹا لیکن افسوس آپ کی بیوی کا انتقال ہوگیا۔‘‘
    نرس بتانے لگی، مبشر نے تو بیٹا لفظ سن کر ایک نعرہ لگایا۔
    ’’اماں اماں سنتی ہو تیری دعا قبول ہوئی۔ مجھے بیٹا مل گیا… میری عزت اونچی ہوگئی۔‘‘
    وہ خوشی سے ناچنے لگا ۔
    اماں فوراً اُٹھ کر بیٹے کے گلے لگ گئی۔ ’’میرا بچہ …میرا لعل …تیری نسل چل پڑی۔‘‘
    ان دونوں کو خوشی سے بے قابو دیکھ کر اطلاع دینے والی نرس کا منہ کھلا رہ گیا۔
    ’’اماں تمہاری بہو دنیا میں نہیں رہی۔‘‘
    ہکا بکا سی نرس نے اونچی آواز میں بتایا تو رضیہ کی ساس پل بھر کو خاموش ہوئی۔
    ’’ہائے ہائے کیسی قسمت لے کر آئی کرمو جلی کہ اپنے بیٹے کا منہ بھی نہ دیکھ سکی۔‘‘
    اس نے افسوس سے سر ہلایا اور پھر سے پوتے کی خوشی میں مست ہوگئی۔

    ٭٭٭٭




  • گھر کا چراغ — شبانہ شوکت

    ’’روحان ! تنگ مت کرو، میںماروں گا اب۔‘‘
    فاران ٹی وی پر اہم خبریں سننے میں مصروف تھا اور روحان مسلسل آئس کریم کے لیے پیسے مانگ رہا تھا۔ چار بج چکے تھے، وہ اسے اکیلے جانے نہیں دینا چاہتا تھا اور خود جانے کا جی نہیں چاہ رہا تھا۔ اصل میں روحان ذہنی کم زور بچہ تھا۔ تقریباً بارہ سال کی عمر میں وہ آٹھ سال کا دکھائی دیتا تھا اور دماغ تو چھے سال کے بچے سے بھی گیا گزرا تھا۔ بولتابھی توتلا تھا۔ کھیل کود میں بھی کوئی خاص دل نہیں لگتا تھا سو ہر وقت باہر کی سوجھتی تھی۔ ’’مجھے پیچھے( پیسے) دے دیں، میں آئچھ کیم لائوں دا۔‘‘
    ’’بس تھوڑی دیر میںچلتے ہیں ۔‘‘ فاران نے تسلی دی۔’’نیئں ،نیئں‘‘ اس نے نیچے سے جوتی اٹھاکر فاران کو دے ماری۔ وہ غصے سے اُٹھا تو روحان منہ پر ہاتھ رکھ کر پھس پھس کر کے ہنسنے لگا۔ فاران اسے بے بسی سے دیکھ کر ہی رہ گیا۔ عرفہ سو نہ رہی ہوتی تو اسے بہلا سکتی تھی۔ تنگ آکر فاران نے اسے پچاس روپے پکڑائے اور وہ خوشی خوشی نکل گیا۔ فاران ٹی وی دیکھنے لگ گیا۔
    ’’روحان کہاں ہے فاران؟‘‘ عرفہ اُٹھ کر آئی تو اِدھر اُدھر دیکھتے ہوئے اس نے پوچھا۔
    ’’ہیں‘‘ وہ ہڑ بڑا کر اُٹھا، ٹی وی دیکھتے دیکھتے اس کی تو آنکھ ہی لگ گئی تھی اور اب عرفہ کی آواز پر کھلی ۔ وال کلاک پر نظر پڑتے ہی سر گھوم گیا، ساڑھے چھے۔
    ’’وہ ذرا باتھ روم میں دیکھنا وہاں تو نہیں ہے۔‘‘
    ’’نہیں۔ میں ہر طرف دیکھ کر ہی آئی ہوں۔‘‘
    ’’یا اللہ‘‘ فاران کو تو گھبراہٹ ہونے لگی۔ لاہور میں تو پہلے ہی اغوا کی خبریں سن سن کر دماغ گھومے ہوئے تھے اور یہ روحان ابھی تک واپس نہیں آیا۔ وہ تیزی سے گھر سے باہر آیا تھا۔ گلی میں موجود دکان دار سے روحان کا پوچھا۔
    ’’ہاں بھائی آیا تو تھا، آئس کریم لے کر آگے چلا گیا تھا۔‘‘
    فاران اتنی تیزی سے آگے بڑھا کہ دکان دار کی آدھی بات تو منہ میں ہی رہ گئی ۔ پھر رات ہو گئی پر روحان نہیں ملا۔ ارد گرد سب کو معلوم ہو گیا۔ سب ان کے گھر جمع ہو گئے۔ عرفہ کا تو رو رو کر برا حال تھا، سب خواتین اسے تسلیاں دے رہی تھیں۔ ہر ماں کا کلیجہ جل رہا تھا۔ چین کیسے آتا۔
    ’’پولیس میں فوراً رپورٹ کروا دینی چاہیے۔ دیر مناسب نہیں ہو گی۔ یہاں تو سمجھ دار بچوں کا نہیں پتا چل رہا تو یہ تو پھر …‘‘ کہنے والوں کو کوئی احساس نہیں ہوتا کہ وہ دکھی ماں باپ کے زخمی دل کو تیز نشتر سے چھیل رہے ہیں۔ اولاد تو اولاد ہے، کیا ذہین، کیا غبی، اور ان دونوں کا ایک ہی ایک بچہ، ان پر کیا گزر ہی تھی، یہ کوئی دوسرا کیسے جان سکتا تھا۔





    ’’ہے تو بڑا سوہنا، پر بولتا صحیح نہیں ہے۔‘‘
    ’’ تو کیا تو نے خبریں سننی ہیں اس سے؟‘‘
    اشفاق نے چڑ کر جواب دیا۔ نصیبو مسکرائی تھی، ’’میں تو اس لیے کہہ رہی تھی کہ اُستاد یہ نہ کہے مال صحیح نہیں ہے۔‘‘
    ’’اگر ہم یہی چھان ٹھیک کرتے رہیں تو خود نہ دھر لئے جائیں۔‘‘
    بچہ رو رہا تھا۔ ’’ماما، پاپا‘‘۔
    ’’اوئے چپ کر پاپا کا پتر، ایک لگائوں گا منہ پر۔‘‘
    وہ سہم کر دبک گیا پر سسکیاں لیتا رہا۔ ’’کھانا کھائو گے؟‘‘
    اُس نے روتے روتے اثبات میں سر ہلایا۔ ’’او نصیبو، اس کے لیے روٹی لے آ۔‘‘ نصیبو دال اور روٹی لائی تو وہ پیچھے ہو گیا۔
    ’’نیئں یہ نیئں، یہ اچھا نیئں۔‘‘
    ’’شاباشے… یہ اچھا نہیں؟ تیرے لئے ادھر بریانیاں دم کریں؟ کھانا ہے تو کھائو، نہیں تو بھوکے مرو۔‘‘ نصیبو بھڑکی تھی۔
    بچے کی سسکیاں تیز ہو گئیں۔
    رات بیت گئی تھی، ابھی تک روحان کا کوئی پتا نہیں چل سکا تھا۔ عرفہ پر غشی کے دورے پڑ رہے تھے۔ اس کی امی اور بہنیں بھی آگئی تھیں۔ فاران کے بھائی، بھابیاں سب آچکے تھے پر نہیں تھا تو ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک، دل کا چین روحان کہیں نہیں تھا۔ ہر کسی نے مقدور بھر ملامت کی کہ جب بچہ مکمل سمجھ دار بھی نہیں تھا تو پھر اسے اکیلا بھیجنے کی کیا تک تھی۔ وہ بھی ایسی جلتی دوپہرمیں جب ہر بندہ گھر میں آرام کو ترجیح دیتا ہے اور گلیاں سنسان پڑی ہوتی ہیں۔ حالاںکہ کہنے والے بھی جانتے تھے کہ اب یہ سب کہنے کا کوئی فائدہ نہیں اور یوں تو بچے بھی اغوا ہو رہے ہیں … ایک ابنارمل بچے کا اغوا کیا مسئلہ ہے۔ ’’چلو فاران پولیس اسٹیشن میں رپورٹ تو لکھوا دیں۔ اب تو بہت دیر ہو چکی ہے۔‘‘ کاشان بھائی نے نڈھال سے فاران کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اُسے اُٹھنے کا کہا۔ وہ اُٹھ گیا۔ ان کے بہنوئی ضیاء بھائی اور فاران کا سالا عامر بھی ساتھ چلے گئے۔
    ’’دیکھیں جی ماں باپ کو بہت محتاط ہو کر رہنا چاہیے۔ بچوں کو ہر ممکن حد تک گھر کے اندر مصروف رکھا جائے کیوںکہ یہ اغوا کی وارداتیں پنجاب بھر اور خصوصاً ہمارے شہر لاہور میں بہت زیادہ ہو رہی ہیں، روزانہ ہی کئی کیس رجسٹرڈ ہو رہے ہیں۔‘‘
    ایس ایچ او بہت سلجھا ہوا بندہ تھا، تدبر سے اُن کی بات سُنی اور اپنی سنائی تھی۔ دوسرے دن کئی چینل والے آگئے۔ فاران تو ان سے بات کرنے کے لیے تیار ہی نہیں تھا مگر ان کے نمائندے نے اسے سمجھایا ’’دیکھیں اس طرح آپ کے بچے کی تصویر ٹی وی پر بار بار دکھائی جائے گی تو اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ وہ کسی کو نظر آیا تو ہمیں اطلاع مل جائے گی، دوسرا اس سے یہ ہو گا کہ دیگر لوگ محتاط ہو جائیں گے۔‘‘ انہوں نے نہ صرف فاران کا انٹرویو لیا بلکہ بُری طرح روتی ہوئی عرفہ کو بھی کیمرہ بند کیا تھا۔
    ’’اس پاگل کے پیچھے اتنا رو رہی ہے، ہائے ہائے ماں جو ہوئی بے چاری۔‘‘ نصیبو نے ٹی وی پر عرفہ کو روتا دیکھ کر مصنوعی افسوس سے کہا۔
    ’’اچھا تو اس کا دھیان رکھ، میں ذرا کام سے جا رہا ہوں۔‘‘
    ’’نہ تو ہم کب تک اس کے ساتھ پریشانی بھگتیں گے؟ تو استاد کو فون کر کے کہہ لے جائے اس کو، اور ہمیں ہمارا حصہ دے جائے۔‘‘ وہ تنک کر بولی۔
    ’’زیادہ ہوشیار نہ بن، فون تو میں نے کر دیا تھا۔ اب کہیں آنے ہی والا ہو گا دِتہ، اُستاد نے طیفو اور دِتّے کو بھیجا ہے اسے لینے کے لیے۔‘‘
    ’’تو اب تو کہاں جا رہا ہے؟‘‘
    ’’ذرا آگے پیچھے جائزہ لے آئوں گا اگلے شکار کا۔‘‘
    وہ باہر کی طرف بڑھا کہ فون کی بیل بجنے لگی، اس نے اٹینڈ کیا ’’ہاں، اوئے ہوئے، چلو خیر ہے، چل فِر جب ٹھیک ہووے تو آجانا، ہاں ہاں‘‘ ۔
    ’’چلو ان کی گڈی خراب ہو گئی ہے، اب دیر لگ جانی ہے ان کو، تو اس کا خیال رکھ۔‘‘
    ’’یہ موبائل ہے‘‘ بچہ رونا بھول کر اس کے پاس آگیا۔
    ’’ہیں کیا؟‘‘ وہ سمجھ نہیں پایا۔
    ’’یہ فون ہے آپ کا؟‘‘
    ’’ہاں، کیا کرنا ہے تو نے؟‘‘
    ’’دیم (گیم) لا دو۔‘‘
    ’’گیم لگا دو۔ واہ جی واہ۔‘‘ اس نے گیم لگا کر فون بچے کے حوالے کر دیا۔
    ’’اسے کیوں دے رہا ہے۔ کسی کا فون آگیا تو…‘‘
    ’’تو تم لے کر بات کر لینا، میں بس گھنٹے میں آتا ہوں۔‘‘
    وہ چلا گیا، نصیبو نے بچے کو دیکھا، وہ گیم کھیل رہا تھا۔ وہ کمرے سے باہر آئی، دروازے کو کنڈی لگائی اور اپنے کاموں میں لگ گئی۔ بچہ نارمل ہوتا تو وہ کبھی اسے فون نہ دیتے مگر یہ تو بچہ ہے ہی بے چارہ…‘‘ اب ان کے فرشتوں کو معلوم نہ تھا کہ فاران اور عرفہ نے اپنے نمبر اُسے کتنی مشکل سے سہی مگر یاد کروائے ہوئے تھے اور فون بھی پرانے ہندسوں والا تھا، روحان نے گیم روکی اور جلدی جلدی فاران کے نمبر ملائے۔ ’’پاپا، پاپا‘‘ فاران کی آواز سنتے ہی وہ رونے لگا، ’’روحان، روحان میرا بچہ، کہاں ہو تم، کس کے ساتھ ہو، روحان‘‘ وہ اس کی آواز سنتے ہی پاگلوں کی طرح چیخنے لگا تھا، اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ فون سے روحان کو برآمد کر لیتا۔ روحان کا نام سنتے ہی سب ارد گرد بیٹھے افراد الرٹ ہو گئے۔ اندر عرفہ تک بھی یہ بات پہنچا دی گئی تھی، وہ ننگے پائوں دوڑتی ہوئی فاران کے پاس پہنچی۔ ’’پاپا، پاپا‘‘ وہ اسی طرح رو رہا تھا۔ آج پہلی بار فاران کو اپنے بچے کی بے بسی پر رونا آیا، اگر وہ صحیح ہوتا اور بولنے کے قابل ہوتا تو اسے سمجھا تو دیتا کہ وہ کس جگہ پر ہے؟ عامر نے فاران سے فون لیا اور خود نارمل ہو کر اس سے بات کی ’’روحان میں آپ کا عامر ماموں ہوں۔ آپ کیسے ہو، ٹھیک ہو؟ آپ کے پاس کون ہے، انکل ہیں اور آنٹی بھی ہیں، اور بچے بھی ہیں، نہیں ہیں۔ اچھا آپ روئیں نہیں ہم ابھی آتے ہیں۔ ابھی آپ کو وہاں سے لے آتے ہیں۔‘‘
    روحان نے فون بند کر دیا تھا۔ فاران خود پر قابو پاتے پاتے بھی شدتِ جذبات سے روپڑا تھا۔ اندر سے تو وہ ویسے ہی خود کو مجرم سمجھ رہا تھا۔ کیا تھا اگر وہ اپنے ساتھ جا کر اسے آئس کریم دلا کر لے آتا۔ اب اپنی غلطی کی کتنی بڑی سزا بھی تو بھگت رہا تھا۔ روحان کی آواز سُن کر اس کے دل پر چھریاں سی چل گئی تھیں۔ عامر اور کاشان بھائی نے اسے سمجھا بجھا کر ریلیکس کیا تھا۔ عرفہ کو بھی تسلی دی جو بے تحاشا رو رہی تھی۔
    ’’آپی، اب ہم لوکیشن ٹریس کروا کر وہاں پہنچ سکتے ہیں۔ آپ بس دعا کریں۔‘‘ وہ فاران کو لے کر پولیس اسٹیشن پہنچ گئے ’’دیکھیں یہ سب کرنے کے دوران دعا کریں، وہ بچے کو کوئی نقصان نہ پہنچائیں۔ ظاہر ہے انہیں فون کال کا پتا چلا تو کوئی رد عمل تودکھائیں گے۔‘‘
    ’’تو آپ جلدی کریں نا، وہ میرے بیٹے کو کچھ کر نہ دیں۔‘‘
    فاران تو ہراساں ہو کر کھڑا ہو گیا۔ ’’پلیز پلیز‘‘۔ ایس ۔ ایچ۔او کمال صاحب نے تحمل کا اشارہ کیا اور فون پر کسی سے بات کرنے میں مصروف ہو گئے۔
    ٭٭٭٭
    ’’ارے یہ تو فون پر کسی سے بات کرتا رہا ہے، یہ دیکھ یہ کسی کا نمبر بھی ملایا ہوا ہے اور چار منٹ بات بھی کی ہے۔‘‘
    اشفاق باہر سے آیا تو کھانا کھانے بیٹھ گیا، پھر کافی دیر بعد طیفو کا فون آیا کہ وہ آرہے ہیں تو اس کی نظر ڈائلڈ نمبر پر پڑی تو وہ بوکھلا کر اُٹھ گیا۔ ’’ہائے میں مر گئی، اس چول کو فون ملانا بھی آتا ہے۔ ’’اوئے بند کر اس فون کو‘‘۔
    اشفاق نے فون ہی آف کر دیا۔ نصیبو نے بچے کو دو تھپڑ مارے ’’اوئے سانوں کملا بن کے دکھاندا ایں، اندروں پورا ایں۔‘‘
    بچہ بُری طرح بلبلا رہا تھا۔ ’’جلدی جلدی یہاں سے نکلو۔ ہم اڈہ نمبر ۲ پر پہنچ کر طیفو کو بتا دیں گے، وہ وہاں سے اسے لے لے گا۔ جلدی نکل یہاں سے۔‘‘
    لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔ پولیس نے نہ صرف ٹریس کر لیا تھا بلکہ بچے کو نقصان سے بچانے کے لیے بغیر سائرن بہ جائے، بغیر دستک دیئے دیواریں کود کر اندر آئے اور بچے سمیت سب کو گرفتار کر لیا تھا۔ دھڑکتے ہوئے دل کے ساتھ فاران، روحان کو دیکھ کر دوڑ کر آیا اور اُسے بازوئوں میں بھینچ کر بے تحاشا چومنے لگا اور عرفہ کی تو حالت دیکھنے والی تھی جو روتی تھی، ہنستی تھی اور اسے ساتھ لپٹائے بار بار چومتی تھی۔ واقعی ان کی کوئی نیکی ہی کام آئی تھی ورنہ ٹی وی اینکر چیخ رہے تھے خدارا اپنے بچوں کی حفاظت کیجیے، خدارا انہیں گھروں کے اندر محفوظ رکھئے۔ بچو کسی انکل! کسی آنٹی !سے کوئی ٹافی، چپس یا جوس نہیں لینا، ایسے انکل اور آنٹی جنہیں آپ پہلے کبھی جانتے ہی نہیں۔ بوری بند بچوں کی لاشوں کی تصویریں دکھا دکھا کر عبرت دلا رہے تھے۔ اخبار خوف ناک خبروں سے بھرے پڑے تھے اور پھر بھی بچے غائب ہو رہے تھے۔ کیا واقعی آج کل کے ماں باپ بے پرواہ ہو گئے ہیں یا اتنے غافل کہ بچوں سے متعلق اتنے خوف ناک حقائق جان کر بھی ان کے تحفظ کے لیے کوئی لائحہ عمل اختیار نہیں کرتے، کتنے اشفاق اور نصیبو پکڑے جائیں گے۔دس میں سے ایک تو خدارا خود اپنے بچے اپنے گھروں میں، اسکولوں میں محفوظ رکھنے کا بندوبست کریں۔
    ٭٭٭٭




  • پہچان — صائمہ اقبال

    پہچان — صائمہ اقبال

    ’’میں تو وہاں ڈٹ کر کھڑی ہو گئی۔ کسٹم آفیسر اپنے آپ کو پتا نہیں کیا سمجھ رہا تھا۔ بھئی ایک گل دان ہی تو تھا۔ ایسے ٹھونک بجا کر دیکھ رہا تھا جیسے کئی کلو ہیروئن اس میں بھر کر سمگل کرنے والی ہوں۔‘‘
    فاطی نے اپنے شولڈر کٹ بالوں کو ایک جھٹکا دے کر رعونت سے پیچھے کیا تھا۔ وہ سب مسحورہو کر اُسے سُن رہی تھیں۔ گوری چٹی فاطی یہی کوئی چالیس سال کی ہو گی۔ اُس نے اپنے آپ کو کافی فٹ رکھا ہوا تھا اس لئے اپنی عمر سے کچھ چھوٹی ہی لگتی تھی۔ موضوع کوئی بھی ہو، کسی نے بھی شروع کیا ہو فاطی سے زیادہ معلومات کسی کے پاس تھیں اور نہ کوئی اس طرح دلیل سے بات کر سکتا تھا۔
    ’’سب کو عام عورتوں کی طرح ہی ٹریٹ کرتے ہیں۔ جو ان کی بات سُن کر کونوں کھدروں میں جھانکنے لگتی ہیں۔ ذرا انگلش میں بات کیا کی، میڈم میڈم کرنے لگا۔‘‘
    سب کھِی کھِی کرنے لگیں تھیں۔
    ’’یہاں ایسے ہی کرتے ہیں یہ کسٹم والے، تنگ کرنے کا کوئی موقع جانے نہیں دیتے ہاتھ سے۔‘‘
    یہ فارحہ تھی۔ فاطی اور فارحہ کی خوب بنتی تھی۔ خیالات جو ایک جیسے تھے۔ ایک دوسرے کی ہاں میں ہاں ملانا ان کا فرضِ اولین تھا۔
    یہ اپنے وطن سے کوسوں دور بیٹھی عورتوں کی ایک پارٹی کا احوال ہے۔ شاید اسے کِٹی پارٹی کہنا چاہیے ۔ ان کی تعداد یہی کوئی آٹھ دس رہی ہو گی۔ یہ کوئی ایلیٹ کلاس کی بیگمات نہیں ہیں لیکن ’’یہاں‘‘ وہ اپنے آپ کو اسی صف میں شامل کرتی ہیں۔ ان کی سب سے بڑی صفت اوورسیز پاکستانیہوتی ہے۔
    اُسے یہاں آئے ابھی کچھ مہینے ہوئے تھے۔ سب کچھ اُس کے لئے بہت نیا تھا۔ پاکستان سے دور ہونے کی اُسے کبھی خواہش تھی اور نہ ہی جستجو، لیکن شوہر کی جاب کی بدولت اِدھر آنا پڑا تھا۔ حسن علی (اُس کے شوہر کے دوست) کی بیگم شفق کے ساتھ وہ پہلی بار ون ڈش بنا کر اِدھر آئی تھی۔
    اُس کا دھیان باتیں کرتی فاطی سے ہٹ کر سفید پردوں پر جا پڑا تھا۔ پردے باہر سے آتی ہوا سے ہلکے ہلکے لرز رہے تھے۔ ایک گہرا سانس لے کر اُس نے ہوا کی شفافیت کو اپنے اندر اتارا۔
    ’’نقشین اگر نان تھوڑی دیر اور اوون میں رہنے دیتی ناں تو یہ بہت مزے کے بنتے۔‘‘
    کھانا کھل چکا تھا اوراب کھانے کا تیا پانچا ہو رہا تھا۔
    ’’نان تو شمائلہ ہی بناتی ہے اور سچ پوچھو تو اسی نے تو متعارف کروائے ہیں یہاں، اس سے اچھے نان کوئی نہیں بنا سکتا۔‘‘
    پتا نہیں نقشین کی برائی تھی یا شمائلہ کی تعریف، وہ کچھ سمجھ نہیں سکی۔ وہ اچانک ہی بے چینی کا شکار ہوئی تھی۔ اُس نے حلیم کے اوپر کتری ہوئی ادرک ڈالی ہی نہیں اور بھنی ہوئی پیاز اُسے یہاں نظر نہیں آرہی تھی۔ پتا نہیں کسی کا دھیان اس طرف گیا تھا یا نہیں لیکن وہ بے چینی سے کئی بار پہلو بدل بیٹھی تھی۔
    ’’یار تم کیسے رہ لیتی ہو گھر پہ، مجھ سے تو کبھی نہ رہا جائے بڑا مشکل کام ہے گھر پہ سارا سارا دن بھلا بندہ کرے تو کرے کیا اور کچھ کرنے کو نہ ہو تو، میں تو پھر بھی ونڈو شاپنگ کے لئے نکل جاتی ہوں۔‘‘
    اب نشانۂ مشقِ ستم اسی طرح کی کوئی اور بے چاری تھی یہ رِدا تھی جو کھانے کے ساتھ پورا انصاف کرتے، عابی کے بخیے اُدھیڑ رہی تھی۔ عابی بے چاری بغلیں جھانکنے لگی۔ عابی جاب نہیں کرتی تھی کوئی یونی ورسٹی بھی جوائن نہیں کی تھی اور اس کا گھر میں رہنا باقی خواتین کے لیے حیرت، استعجاب اور وحشت کی علامت تھا۔
    ’’ادرک‘‘ نہ ڈالے جانے کی بے چینی کی جگہ اب ’’فارغ‘‘ہونے کی بے چینی نے لے لی تھی۔ وہ بھی تو کچھ نہیں کرتی تھی۔ شکر تھا کہ اکیلے میں پوچھا جانے والا سوال۔
    ’’تم کیا کرتی ہو؟‘‘
    ابھی تک سب کے سامنے نہیں پوچھا گیا تھا۔
    ’’اگر مجھے سارا دن گھر میں رہنا پڑے تو میں تو پاگل ہی ہو جائوں۔‘‘
    حد سے زیادہ روکھے اور خشک بالوں والی ردا نے لمبے ناخنوں والے ہاتھ کچھ اوپر کرتے چہرے پر کچھ ایسے تاثرات سجائے تھے کہ باقی لوگوں کے ساتھ ساتھ اُسے عابی اور خود اپنا آپ بھی بے چارا سا لگنے لگا تھا۔
    جاب کرنا جبری بات نہیں تھی اسی طرح حجاب نہ کرنا بھی بُری بات نہیں تھی۔ لیکن یہاں بیٹھی ساری عورتوں کے لیے یہ بات کسی اچھنبے سے کم نہیں تھی کہ گھر کس طرح دیا جا سکتا ہے۔ کیا ان کے وطن کی ساری خواتین اور وہ خود بھی ایسی ہی تھیں جب وہ اُدھر تھیں۔
    مال میں پھرنا، ونڈو شاپنگ کرنا، کافی شاپ میں بیٹھ کر کافی کے ساتھ چار دوسری عورتوں کی برائیاں کرنا بھی تو ایک ’’بڑا کام تھا‘‘ اور وہ اسے بڑے ذوق و شوق سے انجام بلکہ سرانجام دے رہی تھیں۔
    ’’حارث ٹھیک ہی کہتے ہیں۔ یہ بے چارے گورے تو اپنے کام سے کام رکھتے ہیں۔ کبھی نظر اٹھا کر دیکھتے تک نہیں۔ پاکستانیوں سے اللہ بچائے۔ لڑکی بعد میں دیکھیں گے آنکھیں اُبل کر پہلے باہر آجائیں گی۔‘‘
    فاطی چکن سے انصاف کرتے ایک پھر ایکشن میں تھی۔ ناک سکوڑ کر ناگواری کا اظہار کرتے اُس نے اپنی ……حواریوں کی جانب دیکھا جو اس کی ہاں میں ہاں ملا رہی تھیں۔
    ’’گورے بھی بھلا مرد تھے۔ مرد تو صرف اس کے ہم وطن تھے جن سے ’’پردہ‘‘ جائز تھا۔ باقیوں کے سامنے تو سر جھاڑ منہ پھاڑ پھرا جا سکتا تھا۔‘‘
    ورطۂ حیرت میں غوطہ زن وہ ان مصنوعی خواتین کو سُن رہی تھیں۔
    ’’یاد نہیں وہ’’طوری‘‘ center میں سٹال لگایا تھا جب۔‘‘
    نقشین نے جانے کیا یاد کرانے کی کوشش کی تھی۔
    ’’اُف کیسا عجیب ڈرامہ ہوا تھا۔ اچھی خاصی چل رہی تھی نمائش، بس کچھ ہم وطن لوگوں نے آکر ہی سارا مزا کِرکرا کر دیا تھا۔ میں نے تو فوراً منہ پھیر لیا بھلا اب ان کے سامنے ہم ایسے ہی کھڑے رہیں۔‘‘
    وہ نمائش اس نے بھی دیکھی تھی۔ عین سینٹر میں فاطی اور اُس کی دو سہیلیوں نے سٹال لگایا تھا۔ بنی ٹھنی میک اپ زدہ چہرے لئے وہ جیولری بیچ رہی تھیں لیکن جونہی اُن کے ہم وطن ادھر آنکلے منہ پھیر کر ہی کھڑی ہو گئیں۔
    ’’آج ’’چوچی‘‘ نہیں آئی۔‘‘
    نقشین نے رِدا سے پوچھا تھا۔ ردا نے اپنے کھردرے بم پھٹے بالوں کو بڑی ادا سے سنوارنے کے ساتھ نفی میں جواب دیا ’’چوچی‘‘ کے نام پر باقی چہرے مسکرا اُٹھے تھے۔
    ’’چوچی‘‘ اس محفل سے غیر حاضر ایک ایسی خاتون کا ’’نامِ گرامی‘‘ تھا جو محفل میں موجود دوسری خواتین نے انہیں دے رکھا تھا اور ان کی عدم موجودگی میں انہیں اسی لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ ’’وجۂ تسمیہ‘‘ اُن کی اپنے آپ کو چھوٹے بنا کر پیش کرنے کی کوششیں تھیں۔
    ’’یار مزا نہیں آرہا کچھ ’’چوچی‘‘ کے بغیر۔ کچھ جان نہیں لگ رہی محفل میں۔ اب بھلا میں اپنے آپ کو سب سے چھوٹی بنا کر پیش کرتی اچھی لگوں گی۔‘‘
    یہ شمائلہ تھی جو کب کی چپ تھی۔ کچھ تو اس کا بھی حصہ ہونا چاہیے ناں۔
    ’’سولہ سال کی تھی جب شادی ہوئی تھی۔‘‘
    شمائلہ نے شاید چوچی کی نقل اتاری تھی۔ (اسے ابھی جو چی کا نام معلوم نہیں تھا)
    ’’تم بھول رہی ہو سولہ نہیں پندرہ سال کی تھی چوچی۔‘‘
    فاطی نے اتنی سنجیدگی سے تصحیح کی تھی کہ وہاں بیٹھی سب خواتین ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہی تھیں۔ اس نے سنجیدگی سے ان مہذب و پڑھی لکھی خواتین کو دیکھا جو اس وقت اپنی تہذیب بیگ میں رکھ کر اس کی زپ بند کر چکی تھیں۔
    ہمایوں کو آنے کا کہہ دینا چاہیے۔ بہت دیر ہو گئی ہے اب تو۔ سوچتے سوچتے اُس نے بیگ سے موبائل نکالا۔
    ’’رافعہ؟‘‘ یہ تمہارا شادی کا سوٹ ہو گا۔‘‘
    اُس کے سوچتے سوچتے شاید گفت گو کا موضوع بدل گیا تھا۔ موضوع بحث اب وہ خود ہی تھی۔
    ’’یعنی شادی کی سوٹوں میں سے ایک سوٹ۔‘‘
    فرحین نے تفصیل کے ساتھ تصحیح بھی کر دی۔
    ’’جی۔‘‘
    اس نے بڑے مرے مرے انداز میں جواب دیا تھا۔ اس کی قمیص کی لمبائی درمیانی تھی اور اب کافی لمبی قمیصیں چل رہی تھیں۔ کچھ عرصہ پہلے کا فیشن بکسر بدل گیا تھا۔ ساس اور اپنی امی کی اپنے لیے خریدی ہوئی چیزیں اُس نے اسی احتیاط سے استعمال کی تھیں، جس طرح وہ اپنی پسند کی چیزیں استعمال کرتی تھی۔
    فرحین اس سے سوال پوچھ کر لاتعلق ہو گئی تھی تعریف نہ تنقید، مقصد صرف اسے احساس دلانا تھا۔ باقیوں نے بھی بڑے غور سے اُسے عجوبے کی طرح اوپر سے نیچے تک دیکھا تھا۔
    اُسے ان کی سوچ پر افسوس ہونے لگا۔ عجیب سوچ کی حامل خواتین سے واسطہ بڑا تھا اس کا۔ اس کے بعد نہ کبھی وہ کسی پارٹی میں گئی تھی اور نہ ہی کبھی جانے کی خواہش رہی تھی۔ اُسے اپنا گھر اور گھر کا سکون بے حد عزیز تھا۔ گھر رہنے کی خواہش کو اس نے دل و جان سے پورا کیا تھا بچوں کی ذمہ داریاں اور شوہر کی خوش نودی اُسے ہر چیز سے زیادہ عزیز تھی۔ ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہوئے جہاں آپ کے اپنے جیسے لوگ اور ماحول نہیں ہوتا وہاں آپ کے گھر اور اپنے بچوں کو آپ کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے اور وہ اس ضرورت کو سمجھ گئی تھی۔’’فاطی کی بیٹی نے انگریز کلاس فیلو سے شادی کر لی تھی۔‘‘
    اس بات کا اندازہ اُسے پہلے نہیں ہوا تھا۔ لیکن اب ہو گیا تھا۔ کبھی وہ سوچتی اُسے بچوں کو چار سال کا ہونے سے پہلے ہی ڈے کیئر بھیجنا چاہیے تھا وہ یہاں کی زبان تو اچھے طریقے سے سیکھ لیتے۔ کبھی اُسے لگتا وہ بہت فارغ ہے گھر پر رہتی ہے۔ گھر پر رہنا اُس کی اپنی پسند تھی تو پھر وسوسے کیوں تھے۔ کبھی کبھار اُسے پاکستان والی جاب چھوڑنے کا افسوس ہوتا۔ لیکن اب اُسے احساس ہوا تھا کہ ونڈو شاپنگ، کافی، کِٹی پارٹیز اور پارلر کے چکر اتنے اہم نہیں ہیں جتنا بچوں کو وقت دینا اہم ہے۔
    جاب کے ساتھ آپ اپنی ذمہ داریاں بہت اچھے سے پوری کر سکتی ہیں لیکن بہت زیادہ سوشل ہونا باقی چیزوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیتا ہے۔
    عورت کی ایک ذمہ داری اُس کا اپنے مقام کو پہچاننا بھی ہے۔
    اوورسیز رہنا کوئی قابلیت نہیں نا ہی انگلش بولا قابلیت کے زمرے میں آتا ہے۔ اسی طرح جاب کرنا یا نہ کرنا آپ کی ذاتی پسند ، ناپسند یا حالات پر منحصر ہے۔ فیشن آپ کا شوق ہو سکتا ہے یا سادگی آپ کی ترجیح، سب سے بڑی بات عورت کا اپنے صحیح مقام کا تعین کرنا ہے۔ عورت چاہے وطن میں رہے یا وطن سے باہر، اس کی ذمہ داریاں ایک سی رہتی ہیں۔ ان ذمہ داریوں میں تصنع، بناوٹ، نمائش اور کھوکھلی قابلیت کہیں بھی نہیں ہے۔

    ٭٭٭٭




  • قرض — وقاص اسلم کمبوہ

    لاری اڈّے پر ہمیشہ کی طرح ٹریفک کی بہت گہما گہمی تھی۔ میں موٹر بائیک سے اُتر کر بک سنٹر سے دل والے لفافے خریدنے لگا۔واپسی پر روڈ کراس کرنے کے لیے مجھے انتظار کرنا پڑا۔ ایک بڑی شالیمار آکر رکی۔ جس کا سٹاپ پانچ منٹ تھا۔ مسافر ایک دوسرے کے اوپر سے ہوتے ہوئے باہر نکلنے کی کوشش کرنے لگے۔اندر والے باہر اور باہر والے اندر گھسنے کے لیے بھڑنے لگے ۔اس شالیمار بس سے ایک سادہ سی دیہاتی خاتون باہر نکلیں جنہوں نے ایک بڑی سی چادر سے جسم ڈھانپ رکھا تھا۔سادہ لوح خاتون نے اپنی آٹھ سالہ بچی کو کندھوں پر اٹھا رکھا تھا۔ ماں اور بچی کا تعلق کسی بہت غریب اور دکھی گھرانے سے لگ رہا تھا۔بس سے اترکر وہ ایک جانب سڑک پر کھڑے ہوکر آٹو رکشہ کا انتظار کرنے لگیں۔پاس ہی ریڑھی پر خوب صورتی سے سجے سیب دیکھ کر اس بچی کا جی للچایا۔وہ اس طرف اشارہ کرتے ہوئے دھیمی آواز میں بولی:
    ’’ امیمجھے سیب لے دو۔‘‘ ماں نے اس کی بات سُنی اَن سُنی کردی۔بچی کا والیوم اور اصرار بڑھنے لگا۔ماں کے پاس پیسے نہیں تھے اگر تھے بھی تو صرف کرایہ دینے کے لیے، اس لیے وہ بچی کی بات پر کان نہ دھررہی تھی لیکن بچی اپنی ضد کی پکی تھی۔
    ماں نے کہا: ’’بیٹا ہم آگے چل کر لیں گے۔‘‘
    ریڑھی والے کو جب معاملے کا علم ہو اتو اس نے ایک سیب کاٹ کر بچی کو دے دیا۔ماں نے پیسے دینے چاہے لیکن اس بھائی نے لینے سے انکار کردیا کہ میں نے اپنی بچی سمجھ کر دیا ہے۔ماں نے ممنونیت سے نظریں جھکالیں اور ایک شفقت بھری نظر اپنی بیٹی پر ڈالی ۔اتنے میں آٹو رکشہ آگیا۔ جس میں سوار ہوکر وہ آگے بڑھ گئیں۔
    ٭۔۔۔٭۔۔۔٭
    آج اجمل کے گھر میں چوتھی بیٹی کی پیدائش ہوئی۔ جس کا نام آمنہ رکھا گیا۔خاندانی رسم و رواج کے مطابق جب بیٹی کی عمر پانچ سال ہوئی تو اس کی منگنی کردی گئی۔اکبر ایک سال بعد روڈ ایکسیڈنٹ میں فوت ہوگیاتو چھوٹے سے گھرانے میں بڑی قیامت کا سماں تھا، گھر کا چولہا تک ٹھنڈا رہنے لگا۔سب سے بڑی بیٹی شادی کے لائق ہوچکی تھی۔بشریٰ بیگم نے اپنے خاوند کے ہوتے ہوئے جہیز کی کچھ چیزیں خرید لی تھیں۔ اب جب حالات بگڑتے جارہے تھے تو بشریٰ بیگم ایک سکول میں صفائی کا کام کرنے لگی تاکہ گھر کی چکی چلتی رہے۔
    کچھ عرصے بعد بشریٰ بیگم نے اپنی بڑی بیٹی کو بیاہنے کا سوچا ۔اس کے خرچے کے لیے اپنے کانوں کی بالیاں بیچ دیں۔لڑکے والوں سے بات کی گئی توانہوں نے سب سے پہلے جہیز کا پوچھا۔جہیز صرف ضروری اشیا پر مشتمل تھا۔اس بات کا علمہوتے ہی لڑکے والوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ جہیز ہماری مرضی کے مطابق ہوگا، ورنہ شادی نہیں ہوگی۔ دوٹوک جواب سُن کر بشریٰ بیگم کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا۔انہوں نے منت سماجت کی کہ جیسے ہی میرے پاس پیسے آئیں گے میں اپنی بیٹی کو اور سامان دیتی رہوں گی ،خدارا آپ رشتے سے انکار مت کریںلیکن ان کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔
    بیس سال پہلے کیا گیا یہ رشتہ پل بھر میں ٹوٹ رہا تھا۔ یہ ان کی خاندانی رسم تھی اگر ایک جگہ سے رشتہ ٹوٹ جائے تو پوری عمر لڑکی دوسری جگہ شادی نہیں کرسکتی ۔لڑکی اور والدین کی زندگی میں سوائے طعنوں کے کچھ نہیں بچتا۔ماں کو اس غم نے تقریباً ادھ موا کر دیا۔دن مہینوں اور مہینے سالوں میں کٹ رہے تھے۔اب دونوں چھوٹی بیٹیاں بھی بیاہنے کے لائق ہوگئیں۔ان کے ساتھ بھی اپنی بڑی بہن والا سلوک ہوا تھا۔بیٹیوں کا غم بشریٰ بیگم کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹنے لگا ۔وہ لوگوں کے مزید طعنے برداشت نہیں کرسکتی تھیکیوںکہ اب سوال اس کی ذات کا نہیں بلکہ بیٹیوں کی زندگی کا تھا۔
    وہ انہیں خیالوں میں گم تھی اچانک اس کے ذہن میں خیال آیا ۔ ایک نئے جذبے سے حالات کا مقابلہ کرنے کے لیے کھڑی ہوگئی۔
    ٭۔۔۔٭۔۔۔٭
    آٹو رکشہ نے انہیں ان کی منزل گو گو ہائوس تک پہنچادیا۔یہ ایک بڑی سی حویلی تھی۔ جس میں بندوقیں اٹھائے بھاری بھر کم چا ر گارڈ کھڑے تھے۔ بشریٰ بیگم نے ڈرتے ڈرتے پوچھا:
    ’’ج ۔۔۔جج۔۔۔جی وہ گو گو صاحب؟ ‘‘ایک گارڈ نے اپنے ساتھ والے کمرے کی طرف انگلی کے اشارے سے بتایا۔
    ’’آئو بی بی جی ۔۔۔گوگو نام ہے میرا۔۔۔بو لو کیا کام ہے؟۔‘‘ مسٹر گوگو نے اپنے مخصوص انداز میں پوچھا۔
    یہ بھاری بھر کم آواز ان کی سماعتوں سے ٹکرائی۔جس سے آمنہ تو سہم کر اپنی ماں کو چمٹ گئی۔بشریٰ بیگم نے آنے کی وجہ بتائی۔
    ’’جی بی بی! ہم نے آپ کا کام کردیا ہے۔اگر وعدہ کے مطابق واپسی نہ ہوئی تو ہم نکلوانا بھی اچھی طرح جانتے ہیں۔‘‘ہزارکے نوٹوں والے چھے پیکٹ کائونٹر پر رکھتے ہوئے گوگو نے مکروہ قہقہہ لگایا۔بشریٰ بیگم نے وہ پیکٹ کپڑے میں باندھ کر بغل میں چھپا لیے۔
    انہوں نے گھر آکر بتایا میں نے کسی سے قرض لیا ہے۔ شادی کے بعد آسان اقساط میں واپس کردیں گے۔ اتنے سارے پیسے دیکھ کر گویا مُردہ دلوں میں جان آگئی ۔ شادی کی تیاریں شروع ہوگئیں۔ کچھ جہیز پہلے بنا ہوا تھا۔ان پیسوں سے انہوں نے مزید سامان خرید لیا، جو لڑکے والوں کا منہ بند کرنے کے لیے کافی تھا۔
    ٭۔۔۔٭۔۔۔٭
    آج تینو ں بہنوں کی شادی ہوگئی تھی اور انہیں اگلے گھر عزت سے بیاہ دیا گیا تھا۔ انہوں نے یہ فرض نبھا کر اطمینان کا سانس لیا۔ان کو اب وعدہ کے مطابق قرض کی ادائیگی کرنا تھی۔ گو گو صاحب نے ڈاکٹر کے ساتھ ڈیل کر لی تھی۔ اس بدبخت ماں نے بالآخر بیگانے ہاتھوں میں جاکر ہسپتال میں آپریشن سے اپنا گردہ اس گو گو صاحب کے حوالے کرکے چھے لاکھ کا قرض اتار دیا۔اس کے بعد انہوں نے اپنی بڑی بیٹی کو فون کرکے بتایا میری طبیعت خراب ہے۔ ڈاکٹرنے کچھ دن آرام کا مشورہ دیا ہے مجھے گھر لے جائو۔ گردے کے بدلے قرض کا راز تب کھلا جب دو سال بعد وہ اپنی بیٹیوں کو روتا چھوڑ کر دنیا سے گذر گئیں۔

    ٭٭٭٭




  • اعتبار، وفا اور تم — نفیسہ سعید

    اعتبار، وفا اور تم — نفیسہ سعید

    ’’یہ مقیت کون ہے؟‘‘
    حور عین نے اپنا جھکا ہوا سر اُٹھا کر سامنے دیکھا جہاں دروازے کے عین درمیان میں کھڑا سعدی اُس سے جواب طلب کررہا تھا۔
    ’’میرا کلاس فیلو ہے۔‘‘ سامنے پھیلے کاغذ سمیٹتے ہوئے حور عین نے جواب دیا۔ اس کا انداز بالکل نارمل تھا۔
    ’’تم یونیورسٹی سے کلاسز بَنک کرکے اُس کے ساتھ باہر جاتی ہو۔‘‘
    ’’بَنک کرکے‘‘وہ حیرت سے سعدی کی جانب پلٹی۔
    ’’ایکس کیوز می میں کوئی اسکول یا کالج گرل نہیں ہوں جو بَنک کرکے لڑکوں کے ساتھ گھوموں اور یہ بات تم اچھی طرح جانتے ہو میں نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی۔‘‘ اس دفعہ اس کا جواب دینے کا انداز کچھ تیکھا تھا جسے سعدی نے شاید محسوس ہی نہیں کیا تھا۔
    ’’تو کل اس کی گاڑی میں کہاں گئی تھی؟‘‘
    ’’کم آن سعدی! آخر مسئلہ کیا ہے تمہارے ساتھ۔‘‘
    اس بار کیے جانے والے سعدی کے سوال نے اُسے قدرے چڑا دیا۔
    ’’ میری بات کا جواب دو تم کل مقیت کے ساتھ گاڑی میں کہاں گئی تھیں؟‘‘
    ’’صرف میں نہیں بلکہ ہم پانچ دوست باہر لنچ کرنے گئے تھے۔‘‘
    ’’تمہارے ساتھ اور کون گیا تھا مجھے اُس سے کوئی مطلب نہیں، میرا مسئلہ صرف تم ہو اور تم اچھی طرح جانتی ہو کہ مجھے لڑکیوں کا اس طرح غیر لڑکوں کے ساتھ گاڑیوں میں گھومنا پھرنا قطعی پسند نہیں لہٰذا آئندہ احتیاط کرنا۔‘‘
    اتنا کہہ کر وہ دروازے سے واپس پلٹ گیا جب کہ اُس کے اندازِ گفتگو نے اچھی بھلی حور عین کا پارہ ہائی کردیا۔
    ’’یہ اتنے غصے میں کیوں واپس گیا ہے؟‘‘
    سعدی کے باہر نکلتے ہی فرزین دروازے میں آکر کھڑی ہوگئی۔ ایک بار پھر وہی جواب طلبی جس نے حورعین کو مزید تپا دیا۔
    ’’پتا نہیں مجھے لگتا ہے کچھ پاگل ہوگیا ہے بلاوجہ ہی فضول بولے جارہا ہے۔‘‘
    سعدی کی باتوں نے اُس کے دماغ کو برُی طرح گھما دیا تھا۔’’ برُی بات ہے حورعین ایسے نہیں کہتے وہ تمہارا ہونے والا منگیتر ہے۔‘‘ فرزین نے چھوٹی بہن کو سمجھاتے ہوئے کہا۔
    ’’ہاں تو منگیتر ہی رہے نا کیا ضرورت ہے میرے باپ کی ذمہ داریاں پوری کرنے کی میں کس کے ساتھ کہاں جارہی ہوں، کیوں جارہی ہوں؟ یہ اُس کا مسئلہ نہیں ہے ابھی میں اپنے گھر پر ہوں اور یہ ذمہ داری میرے ماں باپ کی ہے عجیب فالتو آدمی…‘‘اُس نے برُی طرح غُصے سے بڑبڑاتے ہوئے بات ادھوری چھوڑی۔
    ’’اچھا یار ریلیکس ہوجاؤ کیوں بلاوجہ اتنی ٹینشن لے رہی ہو۔‘‘
    ’’آؤ مووی دیکھنے چلتے ہیں۔‘‘ فرزین نے اُسے کندھوں سے تھامتے ہوئے اُس کا غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔
    ’’میرا موڈ نہیں ہے۔‘‘ حورعین نے غصے سے کہا۔
    ’’موڈ بنا لو میں تیار ہونے جارہی ہوں اور تم بھی ہوجاؤ ابھی جان محمد گھر پر ہی ہے ہمیں سینما چھوڑ دے گا اور واپسی میں بابا پک کر لیں گے اگر وہ فیکٹری چلا گیا تو بہت مسئلہ ہوگا۔‘‘
    اُسے آرڈر دے کر فرزین باہر نکل گئی جب کہ اُس کے باہر جاتے ہی حورعین وہیں بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی۔ اس کا دماغ سوچ سوچ کر شل ہوگیا تھا کہ آخری سعدی میں اتنی بے اعتباری کیسے پیدا ہوگئی کہ وہ حورعین کی محبت پر شک کرنے لگا تھا اور اس بات نے اُسے بے چین کر دیا تھا۔
    ٭…٭…٭





    ’’تم گھر نہیں گئی ابھی تک؟‘‘
    وہ پچھلے ایک گھنٹہ سے گاڑی کے انتظار میں بیٹھی تھی ۔ مقیت اُسے تنہا بیٹھا دیکھ کر اُس کے پاس آگیا۔
    ’’گاڑی نہیں آئی۔‘‘
    ’’تو فون کرکے پتا کرو کیوں نہیں آئی۔‘‘ اس کے انداز میں فکر مندی در آئی۔
    ’’کیا تھا فون جان محمد کسی کام سے شیرشاہ گیا تھا واپسی میں ٹریفک میں پھنس گیا ہے اور کہہ رہا ہے ابھی بھی ٹائم لگے گا۔‘‘
    ’’اچھا! اگر تمہیں برُا نہ لگے تو آجاؤ میں چھوڑ دوں تمہارا گھر میرے راستہ میں ہی آتا ہے۔‘‘ مقیت نے کہا۔
    ’’شکریہ مقیت تم جاؤ میں بیٹھی ہوں جان محمد آجائے تو چلی جاؤں گی۔‘‘
    ’’ضد مت کرو حورعین تم اچھی طرح جانتی ہو میں تمہیں اس طرح تنہا بیٹھا چھوڑ کر نہیں جاسکتا۔‘‘
    حورعین جانتی تھی کہ وہ ایسا ہی ہے، مخلص اور ہر وقت لوگوں کے کام آنے والا۔
    ’’میں سعدی سے پوچھ لیتی ہوں اگر وہ فارغ ہے تو مجھے پک کرلے۔‘‘
    یہ کہہ کر حورعین نے جلدی سے اُس کا نمبر ملا لیا جب کہ مقیت بنا کوئی جواب دیے اُس کے قریب بینچ پر بیٹھ گیا۔ وہ شاید ابھی تک ناراض تھا یہی وجہ تھی جو حورعین کے کئی بار فون کرنے پر بھی اُس نے کال ریسیو نہ کی اور اب تو جان محمد بھی فون ریسیو نہیں کررہا تھا وہ بے زار ہوکر اُٹھ گئی۔
    ’’تم مجھے گھر چھوڑ دو کیوں کہ اب تو میں انتظار کرکے بھی تھک گئی ہوں۔‘‘ وہ جانتی تھی کہ اُس کا گھر جس پوش علاقے میں ہے وہاں کسی کو یہ فرق نہیں پڑتا کہ کوئی لڑکی کس کے ساتھ آتی ہے یا جاتی ہے بلکہ وہاں کے رہائشی تو آس پاس رہنے والوں سے بھی مکمل طور پر واقف نہ تھے اور جہاں تک اُس کے گھر کا معاملہ تھا تو اُس کی ممی اور دونوں بہنیں مقیت سے اچھی طرح واقف تھیں اور مقیت کی امی سے اُن کی ملاقات بھی ہوچکی تھی اس لیے کوئی مسئلہ نہ تھا۔
    ’’آجاؤ…‘‘
    اُس کے اُٹھتے ہی مقیت بھی اُٹھ گیا اور پھر اگلے پندرہ منٹ میں وہ سہولت سے اپنے گھر پہنچ گئی جب کہ جان محمد کو ٹریفک سے نکل کر گھر آنے میں رات کے نو بج گئے۔ اُس نے شکر ادا کیا جو اُسے مقیت جیسا پرخلوص دوست میسر تھا جو ہمیشہ وقت پڑنے پر اُس کے کام آیا کرتا تھا ورنہ وہ نو بجے تک یونیورسٹی میں ہی خوار ہوتی رہتی۔
    ٭…٭…٭
    ’’ارے یہ ہینڈسم کون ہے؟‘‘
    راشیل نے پلٹ کر اُس سمت دیکھا جہاں دانیہ نے اشارہ کیا تھا۔
    ’’میرا کزن ہے اچھا اب تم جاؤ کل کالج میں ملاقات ہوگی اور ہاں پلیز میرا سوٹ یاد سے لے آنا کیوں کہ مجھے پہننا ہے۔‘‘ صاف لگ رہا تھا کہ وہ اس لمحے دانیہ سے جان چھڑوانا چاہ رہی ہے۔
    ’’لے آؤں گی سوٹ، میں کون سا کھانے لگی ہوں۔‘‘
    جواب وہ راشیل کو دے رہی تھی مگر اس کی ساری توجہ کا مرکز گیٹ کے باہر کھڑا راشیل کا کزن تھا اور اس کی یہ دل چسپی چوں کہ راشیل محسوس کرچکی تھی اس لیے اُسے دانیہ کا اُس طرح سے تاڑنا سخت ناگوار محسوس ہورہا تھا۔
    ’’پلیز دانیہ اب تم جاؤ اگر کسی کو پتا لگ گیا نا کہ تم کو چنگ بَنک کرکے یہاں آئی ہو تو سچ جانو میری ماں نے مجھے ہی جان سے مار دینا ہے کہ یہ کیسی لڑکیاں تم نے دوست بنا رکھی ہیں۔‘‘
    ’’اوکم آن یار تم تو بہت ہی ڈرپوک ہو میں نے عبداللہ کو میسج کیا ہے وہ ٹریفک میں پھنس گیا ہے بس پندرہ منٹ میں پہنچ جائے گا تو میں نکلتی ہوں۔‘‘
    عبداللہ اس کا نیا بوائے فرینڈ تھا جس سے وہ چار ماہ قبل ملی تھی اور آج کل وہ اپنے وڈیرے باپ کی کمائی دونوں ہاتھوں سے دانیہ پر لٹا رہا تھا جب کہ دانیہ کا تو یہ معمول تھا۔ وہ اس طرح کے لڑکوں کو بے وقوف بناتے ہوئے ذرا نہ ڈرتی تھی۔
    ’’ویسے راشیل تم بڑی لکی ہو جس کا اتنا خوبصورت اور اسمارٹ کزن ہے۔ مجھے اب سمجھ آیا کہ تم لڑکوں سے دوستی کیوں نہیں کرتی، صحیح بات ہے یار جب گھر میں ایسا مال موجود ہو تو باہر کون منہ مارتا ہے۔‘‘
    ’’بکواس نہیں کرو، میرے لیے بھائیوں جیسا ہے۔‘‘ راشیل نے غصے سے جواب دیا۔
    راشیل نے کھڑکی سے باہر جھانکا اب وہ جگہ خالی تھی جہاں کچھ دیر قبل مقیت کھڑا تھا اُس کے حلق سے ایک گہری سانس خارج ہوئی ایسے جیسے وہ مطمئن ہوگئی ہو۔
    ’’چلو عبداللہ آگیا میں چلتی ہوں۔‘‘
    باہر سے سنائی دینے والے ہارن کی آواز سنتے ہی دانیہ بھی اُٹھ کھڑی ہوئی۔
    ’’کوئی اچھا سا پرفیوم تو دو ایسا جس کی خوشبو عبداللہ کو مزید میرا دیوانہ بنا دے‘‘ وہ ایک گہرا سانس خارج کرتے ہوئے بولی۔ کچھ دیر قبل مقیت کی پرسنیلٹی میں گم دانیہ نے ایک دم ہی اپنا زاویہ تبدیل کرلیا اور اُس کی اس تبدیلی پر بھی راشیل کو کوئی حیرت نہ ہوئی، اُس نے خاموشی سے اُٹھ کر اپنے ڈریسنگ ٹیبل پر موجود پرفیوم کی بوتل دانیہ کی جانب بڑھا دی جسے بڑی فراخ دلی سے خود پر انڈیلنے کے بعد اُس نے بوتل بند کرکے اپنے ہینڈ بیگ میں رکھ لی۔
    ’’بہت اچھی خوشبو ہے میں کل تمہیں کالج میں ہی واپس کردوں گی تمہیں برُا تو نہیں لگا۔‘‘
    ’’نہیں…‘‘