عبداللہ – قسط نمبر ۰۱

” میری مجبوری یہ ہے کہ میں فضول خرچی نہیں کر سکتی۔ جہاں سے جو اچھی چیزملے لے لو ، بارگینگ کرنی پڑے تو کرو ، مارکیٹ ،کلاس ،جگہ
کے اسٹینڈرڈ کے چکر میں پڑو گے تو آہستہ آہستہ اپنی دنیا کو چھوٹا کر لو گے ۔تمہاری گردن میں سریا آجائے گا ، کم حیثیت بونے لگنے لگیں گے، آہستہ آہستہ وہ کیڑے مکوڑے لگنے لگیں گے ۔ اورانسان کو حق ہی نہیں ہے متکبر اور گھمنڈی ہونے کا ۔ انسان پہ کب کہاں کیسا وقت آجائے ،وہ نہیں جانتا ۔ بادشاہوں کو پابجولاں ہوتے دیکھا ،ان کی اولادوں کو نسلوں کو بھکاری بنتے دیکھے ۔ ”
”اتنا ہولناک نقشہ مت کھینچو اب ۔” آئمہ نے اس کے آگے ہاتھ جوڑے ۔اسے ایسے لیکچرز پسند نہ آتے تھے ۔
”چلیں اب ۔۔۔میریtoe rings لے لیں ۔” اس نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہوئے کہا تو نوین کے خاموشی کے ساتھ سر ہلا دیا ۔
یوں تو نوین کی شادی کے لیے اس کی شاپنگ ً مکمل ہو گئی تھی مگر صنف نازک عادت سے مجبور ہے ۔ کچھ نہ کچھ آخری وقت تک رہ جاتا ہے ۔ ابھی بھی اسے اچانک یاد آیا تھا کہ مہندی والے دن کے لیے ٹو رنگ (پیر کی انگوٹھی) تو لی ہی نہیں ،اس دن اس نے روایتی گوٹہ لگا شلوار قمیص اور دو پٹّی کی کولہا پوری چپل پہننی تھی۔ اس لیے پیر کی انگلیوں میں بھی رنگز کی ضرورت تھی۔ وہ چاہتی تو ڈیڈی گھر میں ہی اس کے لیے ڈھیر لگا دیتے لیکن ایسے شاپنگ کا مزا کب آتا تھا ۔ اسلام آباد کے اس بہترین شاپنگ مال میںجہانگیر عثمان کی ڈائمنڈا ینڈ گولڈ شاپ تھی ۔ اس نے نا صرف اپنے لیے گولڈ کی ٹو رنگز پسند کیں بلکہ نوین کو بھی زبردستی ائیر رنگز لے کر دیئے تھے ۔
”آئمہ کیا تمہاری شادی پر بھی مجھے اتنے ہی تحفے دینے ہوں گے ؟ اس دن اتنے مہنگے دو سوٹ،بیگ ،آج گولڈ کے ائیررنگز ، ابھی شادی پر بھی یقینا ً کچھ دو گی۔” وہ جو تحفے یوں گنوانے پہ نوین کو گھور رہی تھی ، آخری بات سن کر ہنس دی۔
”میری شادی پہ تم نے انگلینڈ سے تشریف لے آنا ، یہ ہی بہت ہے ۔” فوڈ کورٹ کی طرف آتے ہوئے و ہ بولی ۔
”میں تو سوچ رہی ہوں ،تمہیں ہی انگلینڈ بلا لوں ۔ میرا دیور ہے ناں ۔”
”ہاہا ۔۔۔چلیں دیکھ لیں گے تمہارے دیور کو بھی۔” جوس کا آرڈ ر کرتے ہوئے وہ ہنسی۔
”چلو دیکھ لینا ، ہینڈسم ہے بندہ۔”
”جیسے جیسے تمہاری شادی کے دن قریب آرہے ہیں ، تم دوسرے لڑکوں کو کچھ زیادہ غور سے نہیں دیکھنے لگیں ۔” جوس لے کر مناسب جگہ کی تلاش میں ادھر ادھر دیکھتے ہوئے آئمہ نے اسے گھورا ۔
”مشرقی لڑکی ہوں ناں ،پھر تو صرف ان کو دیکھوں گی۔” شرمانے کی نہایت عمدہ ایکٹنگ کی گئی۔ آئمہ عش عش کر اٹھی۔
”سنو ۔۔۔میں نے خاقان کو بھی انوائٹ کیا ہے ۔” لڑکوں کے ذکر پہ اسے یاد آیا ۔
”کیا ۔۔۔اس آفت کو بلانے کی کیا ضرورت تھی۔” آئمہ کی تیوری پہ بل پڑے ۔
” یار فرینڈ ہے ۔۔۔ اور مزے کی بات وہ صبیح کا کلاس میٹ اور فرینڈ بھی نکلا ۔” نوین نے اپنے کزن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا۔
”جس طرح زبردستی وہ دوستیاں کرتا پھرتا ہے ، صبیح کا دوست نکلا تو حیرت کیا ہے ؟ سامنے کے ایف سی والوں سے پوچھو گی تو وہ ان کا بھی دوست نکلے گا ، OPTPسے بھی پوچھ لو بھلے ۔وہ سامنے بیٹھی لڑکی سے بھی کنفرم کرنا ہے تو کر لو۔” آئمہ نے جل کر کہا ۔
نوین ہنس دی۔
”نخرہ نہیں ہے ناں اس کے اندر ۔۔۔ایسے لوگوں کے بہت دوست ہوتے ہیں ۔ اس کی سادگی پہ مت جاؤ۔ صبیح بتا رہا تھا کہ ادبی اور کاروباری گھرانہ ہے ان کا ۔ اس کے دادا کا تحریک پاکستان میں بڑا رول رہا ہے ۔ کئی کتابوں کے مصنف ہیں ۔”
”ہوں ۔۔۔ کاروباری گھرانے سے تعلق تو ہو سکتا ہے اس کا ، ادبی گھرانے سے نہیں ۔ دور دور تک ادب سے کوئی واسطہ نہیں لگتا اس کا ۔”
نوین اس کا طنز سمجھ کر ہنس دی۔
”کچھ بھی کہو ۔۔۔ بندہ زبردست ہے ۔”
”ہوں ۔۔۔جب تک منہ بند رکھے ۔”نوین پھر ہنس دی۔
”اس کی باتیں ہی تو مز ا دیتی ہیں ۔ کل تمہارے بارے میں پوچھ رہا تھا کہher highnessکیسی ہیں ؟”
اسٹرا منہ میں لیتے ہوئے آئمہ اب یوں لاتعلق بنی جیسے بات اس کے بارے میں نہ ہو ۔
٭٭٭٭٭



اب میں ایک ایسے گھر میں رہتا تھا جہاں ایک بہن ہوتی ہے ۔ایک بھائی ہوتا ہے ۔لیکن کچھ دن میں ہی مجھے سمجھ آ گئی تھی کہ مجھے صرف بھائی نہیں بننا بلکہ اپنی ننھی سی گڑیا کے لیے امی بھی بننا ہے ابو بھی بننا ہے ۔
میں بہت خوش تھا ۔اب میرا گھر کہانیوں والے گھر سے تھوڑا ملتا جلتا تھا ۔یہاں رشتے تھے ۔
شروع میں وہ بہت روتی تھی ۔شاید اسے وہ میک اپ والی امی یاد آتی تھی۔ آیا کو اس پہ بہت غصہ آتا مگر میںاپنی بہن پہ اسے غصہ نکالنے نہ دیتا ،میں جلدی سے اسے اٹھا لیتا ۔ وہ چپ ہوجاتی۔ اصل میں ، میں اس کا بھائی تھا ناں ،اس لیے وہ میری گود میں آ کر چپ ہو جاتی تھی۔ دوسرے کسی اور بچے کے پاس تو وہ جاتی بھی نہیں تھی۔وہ فیڈر بھی میرے ہاتھ سے لیتی تھی ، وہ کھاتی بھی میرے ہاتھ سے تھی۔ میں بھائی جو تھا ا س کا۔
اس گھر میں چھوٹے بچے کو دو ٹائم فیڈر ملتا تھا اور بڑے بچوں کو دودھ صرف ان دنوں میں ملتا تھا جن دنوں میں کوئی بڑا آدمی وزٹ پہ آتا اور بیگم شاہجہاں کے ہاتھ میںچیک دے کر جاتا ۔ ویسے تو کسی کی باتیں سننا بُری بات ہے مگر میں نے سنا ،آیا اور سویپرس ایک دوسرے سے کہہ رہی تھیں کہ بیگم شاہجہاں سارا پیسہ خود پہ لگا تی ہے ۔ پتہ نہیں وہ سچ کہہ رہی تھیں یا جھوٹ ۔مگر میں نے سوچا تھا کہ جس کے پاس بہت پیسہ ہوتا ہے وہ تو اچھے اچھے کپڑے پہنتا ہے ۔ جبکہ بیگم شاہجہاں کے پاس تو ہمیشہ تین ساڑھیاں دیکھیں ۔ ایک اور بھی تھی بنارسی ساڑھی جو وہ اس دن لگاتی تھیں جس دن کوئی بڑا صاحب وزٹ پہ آتا یا جب سال بعد گھر میں فنکشن ہوتا ۔ ہم سب بھی اپنا نیا والا جوڑا انہی موقعوں پر پہنتے تھے ۔ ہمارا سال میں ایک نیا جوڑا بنتا تھا اور ایک ایک نئی چپل یا بوٹ آتے تھے ۔ میٹھی عید اور بکرا عید پر بھی وہی پہنتے تھے ہم۔ عیدین ، فنکشن یا وزٹ کے موقع پر بہت خوش ہوتے تھے ہم۔ اچھے کپڑے پہنتے ، اچھا کھانا کھاتے ۔ اس دن ہم پہ کوئی روک ٹوک نہ ہوتی ۔ ہاں وزٹ والے دن ڈسپلن سے رہنے کا خاص حکم جاری ہوتا خاص طور پر جب کسی منسٹر کا دورہ ہوتا ۔ آیا اور سویپرس یہ بھی باتیں کر رہی تھیں کہ منسٹرز کے پاس اتنا پیسہ ہوتا ہے، اتنا پیسہ ہوتا ہے کہ روز نیا جوڑا پہنیں تو بھی پیسے ختم نہیں ہوتے اور ان کے گھر تین وقت کا کھانا بنتا ہے اور ہر کھانے میں ڈھیر ساری ڈشز ہوتی ہیں ۔ پھر بھی ان کے پیسے ختم نہیں ہوتے ۔
میں نے سوچا تھا ،میں بھی منسٹر بنوں گا ۔پھر میں اپنی بہن کے لیے روز نیا فراک خریدوں گا، نئے جوتے لوں گا ۔ اور دن میں بار بار دودھ سے بھر ا فیڈر پلایا کروں گا ۔ اسے بہت بھوک لگتی ہے ،اسی لیے تو وہ بار بار روتی ہے ۔آیا کو یہ بات سمجھ ہی نہیں آتی ۔کہتی ہے ،پانی بھر کر پلا دو۔ بھلا پانی سے بھوک اترتی ہے ۔
میں نے بیگم شاہجہاں سے آیا کی شکایت لگائی تھی ۔ انہوں نے بھی کوئی جواب نہ دیا تھا،بس میرے سر پہ ہاتھ پھیر دیا تھا۔ یہ تو میری بہن کی بھوک کا حل نہ تھا ناں ۔پھر میں نے ایک کام کرنا شروع کیا ۔جو کھانا مجھے ملتاتھا ،روٹی کے نوالے بنا کر سالن میں ڈبو کر اسے کھلانے لگا ۔مگر وہ تو باہر تھوک دیتی تھی۔ اس کا پیٹ بھی خراب ہوا۔ آیا نے مجھے تھپڑ لگایا تھا کہ اسی وجہ سے بچی کا بیٹی خراب ہوا ہے، وہ روٹی ہضم نہیں کر سکی ۔ آیا نے یہ بھی کہا کہ وہ باقی بچوں کو دیکھے یا ایک کو لے کر بیٹھی رہے ۔ میری وجہ سے بچی کا پیٹ خراب ہوا ہے تو اب میں ہی اسے صاف کروں گا ۔ میں نے ایسا کیا ، کیونکہ میں اپنی بہن کی امی بھی تو تھا ناں ۔ اور امیاں یہ کام بھی کرتی ہیں ۔ اسی لیے تو اسلامیات کی مس کہتی تھیں کہ امی کا بڑا رتبہ ہوتا ہے۔

Loading

Read Previous

چھوٹی سی زندگی

Read Next

عبداللہ – دوسری اور آخری قسط

Leave a Reply

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

error: Content is protected !!